ناقابلِ شکست محبتوں اور گداز جذبوں کا شاعر۔۔۔ شجاع شاذ

ناصر ملک  شجاع شاذ سے میری پہلی ملاقات سلام اردو ڈاٹ کام کے ایگزیکٹو، اردو گیلری کے مہتمم ڈاکٹر شیراز مسعود ہاشمی کے ہاں ہوئی اور پہلی ملاقات کا مرکزی […]

ناصر ملک 
شجاع شاذ سے میری پہلی ملاقات سلام اردو ڈاٹ کام کے ایگزیکٹو، اردو گیلری کے مہتمم ڈاکٹر شیراز مسعود ہاشمی کے ہاں ہوئی اور پہلی ملاقات کا مرکزی تاثر یہی تھا کہ میں شجاع کو برسوں سے جانتا ہوں۔ وہ ایک مکمل شاعر ہے، شاعر ہے اور بس ۔۔۔۔۔۔ وہ چھپا ہوا نہیں، وہ ڈھکا ہوا نہیں، وہ تھکا ہوا نہیں بلکہ وہ عیاں تر شاعر ہے اور اس کے ہر شعر میں اس کا اپنا پیکر تمام تر لمس کی خوشبوئوں سمیت موجود ہے۔
shuja

مرا جنوں مری وحشت بدلتی رہتی ہے
ترے مریض کی حالت بدلتی رہتی ہے
مجھے یہ غم نہیں کوئی نہیں ہے ساتھ مرے
مجھے یہ غم ہے محبت بدلتی رہتی ہے

شجاع شاذ شہرِ اقبال کی فضائوں میں پروان چڑھنے والا معصوم فطرت، کم گو اور مسکراہٹیں سمیٹنے والا شاعر ہے جس کی زندگی محبت کے زینوں پر ایستادگی، محبت کی مسافتوں میں عافیت گاہیں ڈھونڈنے اور محبت میں درپیش ناکامیوں کے سنگلاخ دشت سے کامیابیوں کے پھوٹنے والے ننھے ننھے پودے چننے میں گزر رہی ہے۔ شجاع لفظوں میں خوشبوئیں سمونے اور پتیوں پر ثبت شبنمی عکس سے شعر کشید کرنے کے ہنر سے آشنا ہے۔ وہ ہر اس سکوت سے جھنک اتار لیتا ہے جو ہجر کی ہر اداسی کے بعد لمحہ بھر کے لیے فنکار کے رگ و پے میں اُترتا ہے۔ وہ اپنی لَے میں مست مگر اپنی بازگشت پہ حیراں ہے اور اس حیرت کو کسی نظریے میں ڈھال کر جب طشت ازبام کرتا ہے تو اس گھڑی بہت معتبر اور پر امید دکھائی دیتا ہے۔

اگر میں خواب کی تشکیل تک پہنچ جاؤں
تو کائنات کی تکمیل تک پہنچ جاؤں
کنول کا بیج ہوں اور خاک پر پڑا ہوا ہوں
دُعا کرو میں کسی جھیل تک پہنچ جاؤں

اس کے ہاں معصوم مطالبوں کا ایک الگ جہان میسر ہے۔

مالک الگ جہان بنا دے مرے لیے
مالک ترے جہان سے لگتا ہے ڈر مجھے

تُو سمندر ہے تو پھر ظرف ذرا سا کیوں ہے
دل ترے قرب میں رہتے ہوئے پیاسا کیوں ہے
شاذ ؔ بینائی مری چھین کے جو لے گیا تھا
پوچھتا ہے کہ مرے ہاتھ میں کاسہ کیوں ہے

مجھ کو تو ہوش نہیں کوئی کہاں کب روٹھا
کہتے ہیں روٹھ گیا مجھ سے خدا تیرے بعد

لمس ہاتھوں کا ابھی تک مرے ہاتھوں میں ہے
میرے ہاتھوں میں یہ خوشبوئے حنا اُس کی ہے

اس محبت نے اَمر کر دیا ہے مجھ کو بھی
کون کہتا ہے محبت میں فنا اُس کی ہے

پہچان کے عالمی بازار میں وہ اپنی صدائے تشنہ کام کو الگ کرنے کا شائق ہے اور یہ شوق اسے ایک کے بعد ایک پڑائو چھوڑنے پر اکساتا رہتا ہے۔ شعری ارتکاز اور اداسی کی محویت اس کا ادبی پیکر تراشنے میں مشغول ہیں اور یہیں کہیں اسے محبت کے تسلسل آمیز بدلائو کی شکایت کا مرحلہ درپیش ہوتا ہے اور وہ اپنا آپ شعروں میں ڈھالنے لگتا ہے۔

شہزاد نیر کہتے ہیں کہ “شاعری شجاع شاذ کے اندر رچ گئی ہے۔ وہ اپنی گفتگو، رویے اور وضع قطع سے بھی شاعر نظر آتا ہے۔”

لبوں سے چُوم کے گوہر بنا گیا کوئی
میں خاک تھا مجھے پتھر بنا گیا کوئی
ہوا گزر رہی تھی اشک کو مسلتے ہوئے
کسی کے درد کو منظر بنا گیا کوئی

شاہد ذکی ان کے بارے اپنی رائے دیتے ہیں “محبت نہ صرف شجاع شاذ کا محبوب موضوع ہے بلکہ اردو غزل کی روحِ رواں ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہی وہ زینہ ءِ اول ہے جس سے شاعر ادب کی مختلف کہکشاؤں کی طرح گامزن ہوتا ہے۔ “

کتنے رشتوں کو کچل آیا میں
تیرے معیار تک آنے کے لیے

رفیق لودھی انہیں یوں سراہتے ہیں ” شاذ کے ہاں سخن کے کئی چشمے ہیں اور اس نے ان کو جھیل سے ہم کنار کیا ہے اور اس نے جھیل میں کئی بیج بوئے ہیں جو پہلے کہیں خاک پر پڑے ہوئے تھے۔ اور اب وہی بیج وا ہو کر کنول کھلے ہیں۔ میں جب بھی شجاع شاذ کا چہرہ دیکھتا ہوں تو یہ کنول اور بھی خوب صورت لگتے ہیں۔”

اور پھر رُک گئی گردشِ وقت بھی
عشق اپنی حدیں پار کرنے لگا
آخری سانس تھی زندگی کی مری
جب محبت کا اظہار کرنے لگا

صدیق صائب ان کو تغیر و تبدل کا شاعر قراردیتے ہیں “شجاع شاذ کی شاعری میں تغیر وتبدل کو بہت اہمیت حاصل ہے اور کیوں نہ ہو کہ یہی تغیر و تبدل کائنات کے فطری حسن میں نکھار پیدا کرتا ہے۔”

تعبیر کی شدید اذیت میں مر گیا
مرتا تھا خواب پر جو حقیقت میں مر گیا
دیمک سا کھا رہا تھا جدائی کا غم اُسے
چُپ چاپ دل کسی کی محبت میں مر گیا
اپنے وجود سے تھی شکایت اُسے بہت
وہ خود ہی اپنے آپ سے نفرت میں مر گیا
پھر عمر بھر نہ بات کسی سے بھی ہو سکی
یہ دل کسی سے ملنے کی حسرت میں مر گیا
اب میں ہوں شاذ ؔاور گنہگار زندگی
جو مجھ میں تھا وہ کارِ عبادت میں مر گیا

افضل شریف صائم لکھتے ہیں ” شجاع کی غزل پڑھتے ہوئے مراذہن یوں منتشر ہونے لگا جیسے کسی خاموش تالاب میں کنکر پھینک دیا گیا ہو۔محبت کی وہ ساری باتیں یاد آنے لگیں جو کسی نہ کسی حوالے سے مرے ذہن پر نقش تھیں یا ہیں ۔”

پسِ پردہ کوئی مہتاب بھی ہو سکتا ہے
وہ ستاروں بھرا آنچل ہو ضروری تو نہیں

ڈاکٹر شیراز مسعود ہاشمی کہتے ہیں “یہ ایک ایسا کنول ہے جس کو بیج کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی جھیل کی۔ میں شجاع کے شعر کی تفریق نہیں کر رہا بلکہ اس بات کو ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ ایسے کنول جا بجا کھل اٹھتے ہیں جہاں شجاع کی شاعری ڈیرے ڈالتی ہے۔ کیونکہ اس میں مٹی، ہوا اور پانی جیسے عناصر و عوامل وافر مقدار میں موجود ہیں۔”

میری دعا ہے کہ میرا دوست، میرا چھوٹا بھائی شعری افق پر مہتاب بن کر جگمگائے اور محبتوں کی ایسی شجرکاری کر جائے جو رہتی دنیا تک اس کے ہنر پر گواہ بنتی رہے۔

Viewers: 1923
Share