پہلی اردو سخن کانفرنس 2017ء چوک اعظم

رپورٹ: ناصر ملک، محمد ندیم اختر، شبیر اختر قریشی پہلی اردو سخن کانفرنس2017ء چوک اعظم مورخہ 8 جنوری 2017ء کو گورنمنٹ کالج برائے خواتین چوک اعظم کے آڈیٹوریم میں ٹھیک […]

01

رپورٹ: ناصر ملک، محمد ندیم اختر، شبیر اختر قریشی

پہلی اردو سخن کانفرنس2017ء چوک اعظم

مورخہ 8 جنوری 2017ء کو گورنمنٹ کالج برائے خواتین چوک اعظم کے آڈیٹوریم میں ٹھیک 10 بجے صبح کانفرنس کے انتظامات مکمل ہو چکے تھے۔ قیصر وسیم گرواں نے اسٹیج کی نظامت کی ذمہ داری سنبھالی جبکہ عبدالرئوف نفیسی نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔

02

تلاوتِ کلام پاک کی سعادت کم سن طالبہ غلام عائشہ بنت جہانگیر احمد نےحاصل کی۔ نعتیہ اشعار عبدالرئوف نفیسی نے پڑھے جبکہ خطبہءِ استقبالیہ کیلئے ناظم قیصر وسیم نے ناصر ملک کو ڈائس پر آنے کی دعوت دی۔
ناصرملک نے پرجوش انداز میں مہمانوں کو خوش آمدید کہا اورمختصراً خطبہ دیا۔ اس کے ساتھ ہی کانفرنس کے دوسرے سیشن کا آغاز ہوا جس میں دو کتابوں کی رونمائی کا مرحلہ درپیش تھا۔
دوسرا سیشن
ناظمین ِ مسند قیصر وسیم گرواں اور عبدالرئوف نفیسی نے کانفرنس کے تینوں سیشنز کے صدور کو مسندِ صدارت سنبھالنے کی دعوت دی۔ معروف افسانہ نگار، محمد حامد سراج (کندیاں)پہلے دونوں سیشنز کے صدرِ محفل تھے۔حامد سراج افسانے کی دنیا کا معتبر نام ہیں۔ ان کے ناول ’’ میا ‘‘ نے عالمی شہرت حاصل کی۔ سرائیکی کے معروف شاعر، ڈاکٹر اشو لال (کروڑ لعل عیسن) ادبِ اطفال، عہدِ نو کی اہم ضرورت کے سیشن کے صدرِ محفل تھے۔ ’’سندھ ساگر نال ہمیشاں‘‘، ’’ کاں وسوں دا پکھی‘‘ اور ’’چھیڑو ہتھ نہ مرلی‘‘ و دیگر لازوال شعری مجموعے تخلیق کیے اور سرائیکی ادب کو دنیا بھر میں روشناس کرایا۔ دنیائے اردو کے معتبر شاعر اعتبار ساجد (لاہور) آخری سیشن، مشاعرہ کے صدرِ محفل تھے۔ بچوں کے لیے بھی انہوں نے بہت کام کیا۔ ’’مجھے اس قدر نہ چاہو‘‘، ’’وہی ایک زخم گلاب سا ‘‘، ’’کوئی بات کرنی ہے چاند سے‘‘، ’’ دل کی دہلیز پر‘‘، ’’ آدم زاد‘‘جیسی درجنوں کتابوں کے مصنف ہیں۔
کانفرنس کے پہلے مہمانانِ خصوصی رضی الدین رضی ( ملتان) تھے جن کو پاکستان کی تاریخ نویسی ، شاعری، کالم نگاری اور مضامین نگاری میں بڑا اہم مقام حاصل ہے۔
دوسری نشست پر محمد افضل چوہان( مظفر گڑھ) تشریف فرما ہوئے۔ ان گنت کتابوں کے خالق، گیت نگار، اردو اور پنجابی پر یکساں دسترس رکھنے والے، ڈرامہ رائٹرہیں۔
تیسری مسند پر منور خان بلوچ ( لیہ) براجمان ہوئے۔ ریٹائرڈ بینکر ہیں اور ان دنوں درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ شعر و ادب سے خصوصی شغف رکھتے ہیں۔
چوتھی مسند پر جبار واصف( رحیم یار خان) فائز ہوئے جن کے مجموعہ کلام ’’ میری آ نکھوں میں کتنا پانی ہے‘‘ کی رونمائی اس سیشن میں شامل تھی۔جبار واصف خوبصورت، منفرد اور تیکھے لہجے کے شاعر ہیں۔
پانچویں نشست پر عبدالماجد ملک( لاہور) تشریف فرما ہوئے۔عبدالماجد ملک بچوں کے ادب ، کالم نگاری اور شاعری میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔ سوچ نگر کے عنوان سے ان کی مضامین پر مشتمل کتاب شائع ہو چکی ہے۔
چھٹی مسند پرعبدالرشید فاروقی ( جھنگ) مجلس نشیں ہوئے۔ بچوں کا ادب ان کا حوالہ ہے۔ ان گنت بچوں کی کہانیاں پاکستان کے رسائل میں شائع ہو چکی ہیں۔ ’’ فور فائٹرز‘‘اور ’’ چکر باز‘‘ ان کے مشہور ناول ہیں۔
ساتویں نشست پر صابر عطا( چوک اعظم) براجمان ہوئے ۔ان کی کتاب ’’ ملاقاتیں اور باتیں‘‘ کی رونمائی کی تقریب بھی اس سیشن کا حصہ تھی۔
آٹھویں منزل پر خواجہ مظہر نواز صدیقی (ملتان) قیام پذیر ہوئے۔وہ بچوں کے ادب میں سراپا سرشارانسان ہیں۔ ان گنت کالم، مضامین، کہانیاں اور ادبی سرگرمیاں ان سے موسوم ہیں۔
نویں مہمانِ خصوصی سلیم فواد کندی( کندیاں ضلع میانوالی) تھے جو سہ ماہی ’’ آبشار ‘‘ کے مدیرِ اعزازی ہیں۔
دسویں نشست پر عبداللہ نظامی( کوٹ سلطان) فائز ہوئے۔وہ ماہنامہ ’’تعمیر ادب‘‘ کوٹ سلطان کے چیف ایڈیٹر ہیں۔
ززز
تقریبِ رونمائی:
کتاب؛ ’’میری آنکھوں میں کتنا پانی ہے‘‘ از :جبار واصف
اس سیشن میں مقالہ جات کی تعداد 2 تھی جبکہ اعتبار ساجد نے کتاب پر فی البدیہہ خراجِ تحسین پیش کیا اور جبار واصف نے کتاب سے متعلق گفتگو کی اور اپنی منتخب شاعری پیش کی۔

18-aitbar-sajid-and-jabbar-پہلا مقالہ: ناصر ملک :
جبار واصف ۔۔۔ عہدِ موجود کے دیمک زدہ معاشرے میں فکری لہو سے آبیاری کرتا ہوا ایک مضبوط اعصاب کا مالک شاعر ہے جو دیکھنے، محسوس کرنے، نتیجہ اخذ کرنے اور لکھ دینے کے جملہ مراحل کے دوران کہیں بھی مصلحت کوشی سے کام نہیں لیتاوہ سچ کے اصولوں سے انحراف نہیں کرتا اور اصلاح کے مروجہ پہلوئوں کو بھی نظر انداز نہیں کرتا مگر اپنے لہجے کے نشتروں کو چھپانے کی کوشش بھی نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے ہاں کاٹ دار سچائی اور طرہ دار کارِ اصلاح تمکنت کے ساتھ ہویدا ہے۔اسے پڑھتے ہوئے اس کا جو کردار تشکیل پاتا ہے وہ تصور کو کیف آور لمحات عطا نہیں کرتا بلکہ وہ ذاتِ انساں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے اور انسان کے پیروں سے لپٹے ہوئے مفاد پرست راستوں پر سے پردہ اٹھا دیتا ہے۔ اس نے شعر محض تفنن اور شگفتگی کے عناصر پیش کرنے کیلئے نہیں کہے بلکہ وہ انسان کی ارتقا کے نام پر پیدا کردہ وحشتوں سے نبرد آزما ہوتا ہے۔اسے یہ خوف لاحق نہیں کہ اس کے قاری کو اگر خواب نہ دکھائے جائیں، تصوراتی محلوں میں براجمان نہیں کیا جائے، انگلی پکڑ کر پھولوں بھری روش پر نہیں چلایا جائے تو وہ برا مانے گا یا ادھ کھلی کتاب کو بند کر کے آنکھیں موند لے گا اور اپنی لاتعلقی کا اعلان کر دے گا۔ اس کا لفظ لفظ یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ اس دنیا کی خود ساختہ خوش جمالیوں کو تراشنے والا شاعر نہیں ہے بلکہ اس عہد کی تمام مہیب بدصورتیوں کو احاطہ کرنے والا مصور ہے جس کے پیروں میں لغزش، قلم میں تردد اور بصارت میں شائبہ نہیں ہے۔وہ انسان کے باہمی تجرد اور تعلق کی ضمانت طلب کرتے ہوئے مذہب اور معاشرت پر رقم طراز ہوتا ہے اور فہم گیر لمحات کو جو بہ جو پیش کر دیتا ہے۔قلم کار اگر خود تذبذب کا شکار ہو تو وہ اپنے قاری کو گرداب میں ڈال دیتا ہے اور اس کے رہے سہے اوسان خطا کر دیتا ہے۔ اس پر آشکار ہوتی ہوئی دنیا کو بھی سات پردوں میں چھپا دیتا ہے۔ جبار واصف اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے ہوئے ایک راستے کا مسافر بنتا ہے اور ہر دوراہے پر دو گھڑی رک کر فیصلہ ساز لمحہ ڈھونڈ لیتا ہے۔ اس مرحلے کو طول نہ دیتے ہوئے اپنے قاری کو پڑائو کے فوری بعد سنبھال لیتا ہے۔وہ تخلیقِ انسان سے مطمئن، کردارِ انسانی سے شاکی اور سفرِ دشت سے دست و گریباں شخص ہے۔ اس نے اپنی دنیا کو جن فطری اور جبلی خوب صورتیوں سے آراستہ کر رکھا ہے، ان کا تذکرہ جا بہ جا اس کی شاعری میں میسر آتا ہے۔وہ انسان کی بقائے نسل کو چند دوست رویوں کے مرہون لکھتے ہوئے اپنے قاری پر فہم و فراست کا جہان آشکار کرتا ہے اور یہ باور کراتا ہے کہ سانسیں لینا، کھانا پینا، ہنسنا رونا اور رخصت ہو جانا ہی انسانی ماحصل نہیں ہے بلکہ ان مراحل کے دوران اس پر کچھ اور بھی فرائض عائد ہیں جن کی بجا آوری نہ صرف اسے مضبوط، پختہ، ابدی اور خوش بخت کر دیتی ہے بلکہ اس کے اطراف کی چیدہ چیدہ بدصورتیوں کو بھی چن لیتی ہے۔وہ لکھتے ہوئے الفاظ کو صرف و نحو کے ترازو میں تولتے ہوئے دل کی بات کو نقش کرتا ہے اور شعر کے حقیقی اور فکری محاسن سے روگردانی نہیں کرتا۔ وہ حسنِ بیان اور تلازمات کے زینوں پر بیٹھ کر بدیع و بیان کی ندی میں ہاتھ ڈالتا ہے اور سچے موتی چن چن کر اپنے قارئین کے سامنے رکھتا ہے۔ کسی کی تاب و تمکنت پر آنچ آئے، لفظ اپنا وقار کھونے لگے تو وہ مصالحت آمیز رویہ نہیں رکھتا بلکہ پوری درشتی کے ساتھ اپنے چنے ہوئے موتیوں کو ندی میں پھینک کر اگلی کوشش میں محو ہو جاتا ہے۔وہ جنسی ترغیب کو عشق، بے بسی کو ہجر، بکھرائو کو وصال اور تنہائی کو رات قرار نہیں دیتا بلکہ ان انسانی قدروں کو آفاقی پیراہن سے بچاتے ہوئے قدرت کے ہم رکاب چلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے ہاں ندرتِ خیال سیف الملوک سے نکلتے اجلے دھاروں کی طرح کسی نہ کسی پاکیزہ داستان کے امین ہوتا ہے۔ اس کی ترتیب دی ہوئی رومانی وادی میں گناہ پیر نہیں ڈالتا۔ اس وادی کا اقتدار کسی ہوس زادے کو نصیب نہیں ہوتا۔
ہاں ۔۔۔ وہ ایسا ہی ہے۔ جیسا میں اسے سوچتا ہوں۔ یعنی وہ ویسا ہرگز نہیں ہے، جیسا میں اسے نہیں سوچتا ہوں۔ وہ محبت کرنے والاانسان ہے۔ محبت کی داستانیں ثبت کرنے والا شاعر ہے۔ ابھی اسے وہ داستاں رقم کرنی ہے جس کی کائنات کو ضرورت ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ کچھ ہی عرصہ میں یہ امر ہو جانے والی کسک پہلو میں محسوس کرے گا اور وہ امر داستان صفحہءِ قرطاس پر لے آئے گا جس کا مجھے انتظار ہے۔ اس کا سفر ابھی بہت سا وقت، دورانیہ اور مراحل کا طلب گار ہے ۔ ادب کو اس کی اور اس کو ادب کی ضرورت ہے۔ یقینی طور پر اس کے امتیازی اوصاف اسے روبروئے منزل کرتے ہوئے کامران کریں گے۔ میری دعائیں جبار واصف کے شعری ذوق کے ساتھ ہیں۔

03

دوسرا مقالہ: احمد سجاد بابر( ڈیرہ غازیخان) :
شاعر کی آنکھ میں زمانہ اور ہتھیلی پر چاک دھرا ہوتا ہے،وہ بہتے سمے کے دھارے سے احساس کشید کرتا ہے،چاک چلاتا ہے، انگلیوں کی پوروںسے مصرعے تراشتا ہے،سوچوں کے گارے سے خوشنما،دیدہ زیب برتن ڈھالتا ہے اور صرف تحسین کی ایک نظر کی خاطر اپنا مال لے کر سڑک کنارے آ بیٹھتا ہے،غزل کا وہ زمانہ قصہِ ماضی ہوا جب یہ محض لب و رخسار،زلفوں کے پیچ و خم ،ہجر و وصال کے دائرے میں قید تھی۔۔۔۔۔داخلیت ہمیشہ خارجیت کا ہی ایک روپ ہے، شاعر آنکھ رکھتا ہے لہذا وہ دیکھتا ہے،وہ سماعت رکھتا ہے لہذا درد کی لہریں وصول کرتا ہے،اس کے سینے میں بھی دل دھڑکتا ہے جو کُرلاتا ہے،باہر ہوا کا شور ہو تبھی ڈرائنگ روم کے پردے ہلتے ہیں،باہر باد وباراں ہو تبھی کھڑکیاں بجتی ہیں،لہذا شاعر کبھی بھی ارد گرد سے غافل نہیں ہوتا بلکہ وہ تو واقعات سے زیادہ اثر لیتا ہے،دوسروں کے آنسو اس کی پلکوں پر اترتے ہیں تو قلم چلتا ہے۔۔۔ایسے ہی ایک شاعر کہ جن کی آنکھ کی پُتلی پروقت کی موجیں نقش ہیںاور جو ہتھیلی پر دیا رکھے اماوس کی تیرہ شبی اجالنے نکل کھڑے ہوئے ہیں،رحیم یار خاں کے جبار واصف ہیں،آپ کا شعری مجموعہ ’’میری آنکھوں میں کتنا پانی ہے‘‘پڑھتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ ان کے مصرعوں،ان کی تراکیب،خیال کی اٹھان،بنت کی گل کاری میں واقعی اتنی جان ہے کہ شبِ تیرہ و تار کا سینہ چاک کر سکتی ہے اوذہن کے بند دریچے کھول سکتی ہے ۔ان کے شعر ی مجموعے کا ہر لفظ دامن تھامتا ہے ،ہر سطر متوجہ کرتی ہے اور ہر غزل میں چونکاا دینے والے اشعار ہیں ۔آپ کا شمار ان ابھرتے ہوئے شعراء میں ہوتا ہے جو پہلے چونکاتے اور متوجہ کرتے ہیں اور پھر اپنا بنا کر چھوڑ دیتے ہیں،لفظوں سے جادو کی چھڑی کا کام لینا انہیں باخوبی آتا ہے،ان کے سخن کی طلسم ہوشربا میں جاکر انسان پتھر کا ہو جاتا ہے اور پتھر بھی ایسا کہ اس کا دل پہلے سے زیادہ تیز دھڑکنے لگتا ہے ،اس کے رگ و پے میں زندگی ہمکنے لگتی ہے اور حساسیت موم کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے۔جبار واصف کی حساسیت ان کے انتساب میں واضح دیکھی جا سکتی ہے۔وہ خود بھی اپنی حساسیت کا برملا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
میری تحریر میں کچھ یوں بھی اثر رکھا ہے
میرے قرطاس پہ احساس کا سر رکھا ہے
صاحبان کرام!شاعری احساس کے سمندر میں ڈوب کر لفظوں کے موتی چن لانے کا نام ہے،شاعری لفظوں کے دکھ جھیلنے کا نام ہے،جبار واصف نے ایک ایک لفظ کا کرب خود پر جھیلا ہے،لفظوں کو خود پر طاری کیا ہے،لفظوں کے ساتھ باتیں کی ہیں،لفظوں کے ساتھ روئے اور ہنسے ہیں،لفظوں کی کہکشاں سے روشن تر لفظ چننے کے عمل میں لہولہان ہوئے ہیں۔۔۔پھر کہیں جا کر لفظوں میں سانس پھونکا ہے اور اب یہ عالم ہے کہ ان کی شاعری کی ہر سطر میں لفظ مودب کھڑے نظر آتے ہیں،جیسے ان سے محوِ کلام ہوں،یہ اسمِ اعظم،یہ طلسم صرف اور صرف محنت کا اعجاز ہے،انگلیوں سے خیالات کے بیل بوٹے کاڑھنے کا فن تپسیا مانگتا ہے،ایک عمر کا دان دینا پڑتا ہے اور مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ ان کے ہاں وہ بات نظر آرہی ہے جس کے لئے دشت نوردی کرنی پڑتی ہے ،آنکھیں رہن رکھنا پڑتی ہیں،پھر بینائی ملتی ہے۔۔۔!!!
جبار واصف بھی آج کے خوف سے ہولتے معاشرے کی عکاسی کرتے ہوئے کہتے ہیں:
لوگ اک دور تھا،دروازے کھلے رکھتے تھے
آج ہر شخص کی دہلیز پہ ڈر رکھا ہے
اور پہلے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیے
چشمِ حسرت سرِ بازار نہ دیکھی جائے
غمزدہ صورتِ نادار نہ دیکھی جائے
ان اشعار میں گلی کوچوں میں چھائی غربت کا تذکرہ بھی ہے،تلمیح کے طور پر سانحہ مشرقی پاکستان کا ذکر بھی ہے اور ان کالے چہروں کا ذکر بھی ہے کہ جنہوں نے وطن بیچے مگر پھر بھی عزت پائی۔
اسی طرح مندرجہ ذیل اشعار میں آدمیت کا نوحہ بھی ہے اور فردا کی تصویر کشی بھی:
میں یہ کہہ رہا ہوں کہ سہمے سہمے ہیں لشکری
کسی اسپ کو میں ڈرا ہوا نہیں کہہ رہا
مری گریہ زاری ہے بس ضمیر کی موت پر
میں تو آدمی کو مرا ہوا نہیں کہہ رہا
جو ملنگ بیٹھا ہے لے کے فردا کی جنتری
مرے شہر کو وہ بچا ہوا نہیں کہہ رہا
جبار واصف وہ شاعر ہیں جن کا لہجہ الگ ہے،جن کے موضوعات میں ہمہ جہتی ہے،جن کے الفاظ میں اثر پذیری ہے،جن نے محض قافیہ پیمائی نہیں کی بلکہ اندر کے درد کو زیبِ قرطاس کیا ہے،خدا کرے کہ ان کا وہ سپنا پورا ہو جب وہ تھکنے کی بجائے ایک نئے عزم سے کہتے ہیں کہ:
گلی گلی یوں محبت کے خواب بیچوں گا
میں رکھ کے ریڑھی پہ تازہ گلاب بیچوں گا
رہی جو زندگی میری تو شہرِ ظلمت میں
چراغ بیچوں گا اور بے حساب بیچوں گا
04مقالہ جات کے بعد پہلی کتاب کی رسمِ رونمائی ڈسکہ سے تشریف لائے معتبر امین شاد نے کی جبکہ ان کا ساتھ اعتبار ساجد و دیگر صدورِ محفل و مہمانانِ گرامی نے دیا۔
جبار واصف، صاحبِ کتاب ، نے دلچسپ انداز میں فی البدیہہ گفتگو کی:
جناب صدر حامد سراج صاحب صاحب، مہمانانِ گرامی اور ہال میں تشریف فرما سامعین کرام! السلام علیکم۔ مقالہ نگار صاحبان، جناب احمد سجاد بابر، جناب ناصر ملک کا تہہ دل سے ممنون ہوں ۔ اردو سخن کے بہ حیثیت ادارہ تمام ممبران جنہوں نے اس کانفرنس کے انعقاد میں حصہ ڈالا ہے، ان سب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ مجھے خوشی ہے کہ آج اس سنہرے موقع پر میری کتاب کی اس قدر باوقار رونمائی منعقد ہوئی جس کیلئے میں آپ سب دوستوں کا احسان مند ہوں۔

تقریبِ رونمائی
کتاب؛ ’’ملاقاتیں اور باتیں‘‘ از : صابر عطا،
اس کتاب پر 2 مقالہ جات پیش کیے گئے اور صاحبِ کتاب نے کتاب سے متعلق گفتگو کی۔

پہلا مقالہ: منور خان بلوچ(لیہ):
محمد صابر عطا اور میرا رشتہ اتنا قدیم ہے جتنا انسان کی عمر لیکن یہ مجھ سے بہتر ہے او ر بڑا انسان ہے۔ وہ اس لیے کہ وہ اس خود غرض دور میں دوستوں کی تلاش میں رہتا ہے۔ ان سے ملتا ہے۔ باتیں کرتا ہے۔ ان سے سوال کرتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ صداقتوں کی تلاش میں نکلا ہے۔ صابر عطا سمجھتا ہے کہ کائنات کی صداقت کہیں 05گم ہو گئی ہے۔ اگر انسان صحیح راستوں پر چل رہا ہوتا تو دنیا کے سات ارب انسان ہر خوف سے آزاد ہوتے لیکن ایسا نہیں ہے اور ہر شخص بے چین ہے اور ایک دوسرے سے متصادم ہے۔ اسی بے چینی میں زمین پر اتنا ایٹمی اسلحہ بنا چکا ہے کہ یہ زمین یکسر 57 بار تباہ ہو سکتی ہے۔ صابر عطا صاحبِ کتاب ہے۔ اس حوالے سے میرا رشتہ ان کے ساتھ پانچ صدی قبل مسیح سے ہے جب پہلی کتاب لکھی گئی۔ جب سیاہی اور قلم ایجاد ہوا۔ میرا اور صابر عطا کا رشتہ 105 سال قبل مسیح کا ہے جب کاغذ ایجاد ہوا۔ میں اور صابر عطا ایک ہی خاندان کے فرد ہیں۔ جن کی تعداد 129864880 ہے جن لوگوں نے کتابیں لکھیں۔ صابر عطا کی صداقتوں کا سفر اگر کلومیٹر میں ناپا جائے تو ہزاروں میلوں پر محیط ہے۔ کچھ دن پہلے فیس بک پر توانائیوں سے بھرے اس نوجوان نے ایک پیغام لکھا کہ میں بیمار ہوں لیکن میں ادب کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ قدرت کو جانے کیا منظور ہے۔ میں نے ان کے لیے دعا کی۔ ان کا قلم کے ساتھ تعلق پر مجھے پروین شاکر کا یہ شعر یاد آنے لگا:
چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا
عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا
آئیے! محمد صابر عطا کی زیرِ بحث کتاب کا جائزہ لیتے ہیں جس کا نام ’’ملاقاتیں اور باتیں‘‘ ہے جو 109 صفحات پر مشتمل ہے۔ دستک پبلی کیشنز ملتان نے شائع کی ہے۔ اس کا فلیپ ایکسپریس کے میگزین ایڈیٹر جناب عبداللطیف ابو شامل نے لکھا ہے۔ اس کتاب میں 29 انٹرویوز شامل ہیں جو مختلف اوقات میں صابر عطا نے کیے۔ صابر عطا نے نام نہاد اشرافیہ جن میں سیاست دان، حکمران، جاگیردار اور سرمایا دار کا انٹرویو شامل نہیں کیا کیونکہ صابر عطا سمجھتا ہے کہ سچ لوگوں کے اندر ہوتا ہے۔
صابر عطا زندگی اور موت کے فلسفہ سے آگاہ دانشور ہے۔ جانتا ہے کہ زندگی مختصر عرصہ پر محیط ایک عمل کا نام ہے لیکن صابر عطا نے ہمیشہ زندہ رہنے کا فن سیکھ لیا ہے۔ مصنف بن کر زندگی کی راہ کا انتخاب کیا۔ صابر عطا بین الاقوامی ادب سے ماخذ کہانی کو پڑھ چکا ہے جس میں ایک امیر آدمی تھا جس کی خواہش تھی کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے اس لیے اس نے دنیا کا سفر کیا تاکہ وہ وہاں جا کر رہ سکے جہاں کوئی مرتا نہ ہو۔ سفر کے دوران اس کو ایک بات کا احساس ہوا کہ ہر شہر کے تمام راستے قبرستان سے ہو کر شہر کے اندر جاتے ہیں۔ آخر کار وہ ایک ایسے شہر میں پہنچا جس کے چاروں طرف کوئی قبرستان نہیں تھا۔ وہ خوش ہوا کہ یہاں موت کا نشان نہیں۔ آخر کار اس نے اس شہر میں رہنے کا پروگرام بنالیا۔ کچھ دن بعد اس نے وہاں کے لوگوں سے پوچھا کہ کیا یہاں کے لوگ مرتے نہیں تو انہوں نے حیرانی کا اظہار کیا کہ موت کیا چیز ہے؟ اس کو بہت خوشی ہوئی کہ یہاں موت واقعی نہیں ہے۔ کچھ دن بعد اسے احساس ہوا کہ اس شہر میں بزرگ نظر نہیں آتے جو مرنے کی عمر کے نزدیک ہوتے ہیں۔ آخر وہ جاتے کہاں ہیں؟ پھر نہ مرنے والے شخص نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ بتائو کہ آپ کے شہر کے بزرگ لوگ کہاں جاتے ہیں؟ لوگوں نے اس کو بتایا کہ یہ جو آپ کو دو پہاڑ نظر آ رہے ہیں، ان کے پیچھے سے آواز آتی ہے اور جس کا نام لیا جاتا ہے، وہ اس سمت چلا جاتا ہے اور پھر کبھی لوٹ کر نہیں آتا۔ چنانچہ اسی لمحے اس شخص کا نام پکارا گیا جو مرنا نہیں چاہتا تھا۔ چنانچہ وہ بوجھل قدموں سے عدم کے سفر پر روانہ ہو گیا۔ اس کہانی کے تناظر میں صابر عطا کو معلوم تھا کہ دنیا میں موجود تقریباً سات ارب لوگ مر جائیں گے کیوں نہ میں زندہ رہنے کی راہ اپنائوں۔
صابر عطا کے انٹرویو میں کیے گئے سوالوں میں اتنی اپنائیت، علم، شعور اور دانش ہوتی ہے کہ انٹرویو دینے والا اپنے اندر کے سچ کو کھول کر رکھ دیتا ہے۔ تحریروں کے علاوہ صابر عطا ولی صفت انسان ہے۔ میں نے ولی کی ایک تعریف پڑھی تھی کہ وہ ہر جگہ اور ہر وقت موجود رہتا ہے اور یہ خوبی صابر عطا میں مکمل طور پر موجود ہے۔
صابر عطا صداقتوں کا متلاشی ہے۔ یہ ایک انسان دوست شخص ہے۔ انسان کو انسان کے حوالے سے پڑھتا ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی پر امن معاشرہ کا متمنی ہے۔ یہ سمجھتا ہے کہ انسان پیار اور دھرتی تقسیم نہیں ہو سکتی۔ صابرعطا سمجھتا ہے کہ انسان اللہ کا کنبہ ہے اور اس لیے انسانی کنبہ کو یکجا کرنا چاہتا ہے۔
جغرافیہ نے کاٹ دیے راستے مرے
تاریخ کو گلہ ہے کہ میں گھر نہ آ سکا

دوسرا مقالہ: پروفیسر عمران میر( کوٹ ادو):
راست فکر اور عملیت پسندی ہر عہد کے باضمیر لکھنے والوں کا وصف خاص رہی ہے ۔ ادیب یا تخلیق کار محض معاشرے کا فرد ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ ایسا بلند فکر انسان ہو تا ہے جو سماجی قدروں کی سطح سے اوپر اٹھ کر پورے معاشرے کا عمیق نگاہ سے مشاہدہ کرتا ہے ۔ جذبے اور احساس سے معاشرتی بدہیتی کو ہیت آشنا کرنے کی مساعی کرتا ہے ۔ جہالت کو تدبر میں ڈھال کر کائناتی حسن کو بحال بھی کرتا ہے اور فروغ جمال کے لیے بھی جتن کرتا ہے ۔ بدقسمتی سے ہماری قومی تاریخ ایک طرح سے بوالعجمی کا شکار ہے ۔ بے سمت اسفار سے لے کر رویوں کا کھردرا پن ، شخصی کھوکھلے پن سے لے کر اجتماعی شکستگی داخلی انتشار سے لے کر خارجی تشکیک ریاستی ڈھانچے سے لے کر فردی مزاج پر محیط ہے ۔ جہاں درویشی بھی عیاری ٹھہرے اور سلطانی بھی ، جہاں نہ جام جم کی وقعت ہو نہ جام سفالی کی عظمت تو وہاں ادب یا آرٹ کی اہمیت رہتی بھی ہے یا نہیں ۔۔۔ ؟یہ ایک روح فرسا سوال ہے ۔ جس کا جواب بھی کوئی مشکل یا ناممکن نہیں ۔۔ موجودہ عہد کی ابتری ، تنزلی اور پستی یکبارگی آسمان سے نہیں ٹپکتی بلکہ ریاست کے صدیوں کے منافقانہ چلن کا نتیجہ ہے ۔ جاگیردارانہ نظام معاشرت 06نے ہماری قومی دانشوری کی روایت ہی نہیں پنپنے دی دربار سے یا ریاستی اداروںسے منسلک ہونے پر کوئی ادیب کھرا سچ لکھ سکتا ہے ؟ وہ ہیت اجتماعیہ کا علمبردار ہو سکتا ہے ؟ وہ شخصی احترام اور مساوات کا پرچار اپنی تحریروں میں کیسے کر سکتا ہے ؟ جبکہ وہ تو ریاست کا نمک فوار اور مراعات یافتہ ہے ۔ ہر عہد کے طالع آزمائوں نے ہر عہد میں ادیبوں کو نہ صرف خریدا بلکہ اپنے طول اقتدار کے بھی استعمال کیا ۔ رائٹر گلڈ کے قیام کے حرکات ایوب خانی آمریت کی یادگار باتیں ضیاء الحق کے عہد کی اہل قلم کانفرنسیں اور اکادمی ادبیات آف لیٹرز کا فعال ہونا کس مقصد کے لیے تھا ۔ اہل علم بخوبی واقف ہیں ۔ قدرت اللہ شہاب کا دیوقامت ادبی بت کیسے گھڑا گیا ۔ اشفاق احمد کے گفتار ی تصوف کو زاویے تک رسائی ، راجہ گدھ کی اشاعت اور اکرام اللہ کے ناول ’’گرگ شب ‘‘ کی بندش …یہ حق بینوں اور نو ر چشموں میں حد فاضل قائم کرنے والی بنیادی لکیریں ہیں ۔
آمدم برسر مطب محمد صابر عطا بنیادی طور پر ایک روشن فکر اور مسلسل متحرک رہنے والا باہمت تخلیق کار ہے ۔ مجھے ذاتی طور پر ایسے لوگ بھلے لگتے ہیں ۔ جو آوازوں کے اژدہام میں اپنی آواز کی لے کو احساس باطن سے ہمہ گیر کرتے چلے جاتے ہیں ۔ جو قلم کو تیشہ بناتے ہیں ۔ ضمیر آدمیت کو جھنجھوڑتے ہیں ۔ ہر کس و ناکس سے مرعوب نہیں ہوتے اپنی زیست اپنی دھن میں بسر کرنے کی ٹھانتے ہیں ۔ جو ناہموار رڑررستوں پہ پابجولاں چلتے اور مست و رقصاں گزرتے ہیں ۔ صابر عطا کئی جہتوں کا حامل تخلیق کار ہے ۔ اس سے قبل وہ گیت نگاری میں اپنی شناخت متعین کر چکے ہیں ۔ ’’جوگی پہلے منتر کو سمجھے‘‘ اس کی سرائیکی شاعری کا مجموعہ بھی سرائیکی وسیب سے بھرپور پذیرائی حاصل کر چکا ہے ۔ گیت کا صابر عطا جس طرح ہجر ووصال کی گوناگوں کیفییتوں کو مصور کرتا ہے یوں لگتا ہے کہ اس کا داخلی کرب گیتوں کے لفظ لفظ میں ڈھل کر ایک مسلسل جدائی کا بیانیہ بن گیا ہے ۔ اس کی سرائیکی غزلیں کافیاں اور متفرقات سائیکی کلچر اور تہذیب کے پرگداز اظہاریے ہیں ۔ اس کی شاعری کسی طرح کی تصنع یا بناوٹ کا شکار نہیں بلکہ وسیبی اقدار کی پروقار سوغات ہے ۔ بطور شاعر صابر عطا نے جومقام حاصل کیا ہے یہ اس کی بلندحوصلگی اور طویل ریاضت اور اساتذہ سے فیض کشی کا نتیجہ ہے ۔ بطور نثر نگار اس کی پہلی کاوش جو ملاقاتیں اور باتیں ‘‘کے نام سے منظر عام پر آئی ہے ۔ یہ کتاب صابر عطا کی ادب سے والہانہ جڑت کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے اور اس کے شجر علمی کا شکار بھی …ملاقاتیں اور باتیں ‘‘ بنیادی طور پر ایک حساس دل ادیب کا اپنے عہد کے سینئر لکھنے والوں کی بارگاہ میں پیش کیاگیا حرفوں کا ایک ایسا گلدستہ ہے جس کی مہک سے مفر نہیں ۔ ملاقاتیں اور باتیں کا نثر نگار اپنی سادہ اور دل پذیر نثر سے جہاں اردو ادب کو ثروت مند بنا رہا ہے وہیں اپنے حقیقی تخلیق کاروں کو تاریخ ادب کے ماتھے کا جھومر بھی بناتا چلا جارہا ہے ۔کوئی بھی فن پارہ چاہے وہ منظو م ہو یا منثور لکھنے والے کے اظہار ذات کا ذریعہ ہوتا ہے ۔ لیکن اچھا اور باشعور لکھنے والے محض اپنی ذات کی بھول بھلیوں میں گم نہیں ہوتا بلکہ جذبے سے تعقل کی طرف تخلیقی اصول سے تنظیمی اصول کی طرف ، تجسیمی فکر سے تجریدی فکر تک شاعرانہ طرز احساس سے سائنسی می کات تک اس کی فکر رسا اپنے گلوکاروں اور اپنی دھرتی کے مقامی ہنر مندوں جیسا کہ مسنجف اور پرویز بھٹی کی خوبصورت اور دلا آویز داستان ہے ۔ صابر عطا اس حوالے سے بھی لائق توصیف ہے کہ اس نے بڑے مراکز کے نام نہاد بڑوں کی قصیدہ خوانی نہیں کی بلکہ اپنے تھل اپنے صحرا اپنے گوٹھ اور اپنے وسیب کے شاعروں ، قلمکاروں ، نغمہ نگاروں ، اداکاروں اور حقیقی فنکاروں پر لکھ کر ایک وقیع کام کیا ہے اور یہی کام اسے اپنے عہد کے دیگر اہل قلم سے متاز کرتا ہے ۔

مقالہ جات کے بعد بھکر سے آئے ہوئے معروف شاعر شاہد بخاری نے کتاب کی رسمِ رونمائی ادا کی جبکہ ان کا ساتھ حامد سراج و دیگر صاحبانِ مسند نے دیا۔
اس کے ساتھ ہی پہلی اردو سخن کانفرنس کا دوسرا سیشن دو کتابوں کی تقریبِ رونمائی کے جلو میں تمام ہوا۔

تیسرا سیشن:
پہلی اردو سخن کانفرنس 2017ء چوک اعظم کا تیسرا سیشن ’’اردو سخن ایوارڈ‘‘ کے تعارف اور ایوارڈ حاصل کرنے والوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے پر مشتمل تھا۔ ایوارڈ کا تعارف پیش کرتے ہوئے قیصر وسیم نے کہا:
’’اردو سخن ایوارڈ ایک ایسی مضبوط اور توانا روایت ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔یہ اردو ادب کی نمائندہ ویب سائیٹ اردو سخن ڈاٹ کام میں شائع ہونے والی تحریروں ، تخلیقات اور کتب کی دنیا بھر میں عوامی پسندیدگی کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔اس سلسلے میں آٹو کائونٹنگ کا سسٹم رائج ہے اور ویب سائٹ پر روزانہ کی بنیاد پر تحریر پسند کرنے والوں کی تعداد ظاہر ہو جاتی ہے۔ اس فقید المثال سلسلے کا پہلا ایوارڈ 2010ء میں امین شاد کو دیا گیا جن کا تعلق ڈسکہ سے ہے۔ معروف شاعرہیں۔ دوسرا ایوارڈ 2011ء میں ڈاکٹر اسلم جمشید پوری (میرٹھ یونیورسٹی انڈیا) کو دیا گیا۔ 2012ء میں نامور افسانہ و ناول نگار امجد جاوید کو اس ایوارڈ سے نوازا گیا۔‘‘
اس کے بعد پہلے اردو سخن ایوارڈ یافتہ شاعر محمد امین شاد (ڈسکہ) کو اسٹیج پر آ کر اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی۔

گفتگو: محمد امین شاد (ڈسکہ):
’’جس حوالے سے مجھے یہاں دعوتِ کلام دی گئی ہے، وہ بہت اہم بات ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہم میں ہر ایک کے علم میں یہ بات آنی چاہیے کہ ہم روزِ اول سے ایوارڈز کی تقسیم اور شاباشیوں کا سلسلہ دیکھتے چلے آئے ہیں۔ میں نے کبھی کہیں سنا نہیں تھا کہ جس آدمی کا نہ کوئی تعلق ہو اور نہ اس سے علیک سلیک ہو، اسے ایوارڈ سے نواز دیا گیا ہو۔ میں آپ دوستوں کو ایک عظیم شخص کی عظیم ٹیم کا عظیم کارنامہ بتانے جا رہا ہوں۔ اس عظیم شخص کا نام ناصر ملک ہے۔ جب انہوں نے اردو سخن ڈاٹ کام ویب سائٹ کا آغاز کیا، تو اس سائٹ پر شائع ہونے والی پہلی پانچ یا تین کتابوں میں سے ایک کتاب میری بھی تھی۔ یعنی میرا ناصر ملک سے اس ویب سائٹ کےابتدائی دنوں کا ساتھ ہے۔ ویب سائٹ چلنے لگی۔ ابتدا میں کچھ مسائل پیدا ہوئے ، کچھ پریشانیاں بھی آئی ہوں گی جن سے ہم قطعی طور پر لاعلم ہیں۔ یہ 2011ء کے اوائل کی بات ہے کہ میرے دوست افتخار شاہد نے مجھے بتایا کہ امین شاد! تمہاری کتاب کو اردو سخن ای07وارڈ کا حقدار ٹھہرایا گیا ہے۔ میں بڑا حیران ہوا اور پوچھا کہ وہ کیسے اور کیوں؟ میں نے تفصیل جاننی چاہی۔ یہ تفصیل ہم نے ناصر ملک صاحب سے پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ ہم یہ چیک کرتے ہیں کہ ایک سال میں شائع ہونے والی تحریروں کو کتنے لوگوں نے ٹچ کیا، کتنے لوگوں نے پازیٹو کمنٹس دیے، کتنوں نے نیگیٹو۔ پازیٹو کمنٹس کے نمبر ملتے ہیں جبکہ نیگیٹو کے کٹتے ہیں۔ تمام تحریروں کو اس لحاظ سے مارکس دیتے ہیں۔ اور جس کے مارکس زیادہ ہوتے ہیں، اس تحریر کو، اس کتاب کو یا شخصیت کو ایوارڈکا حقدار ٹھہراتے ہیں۔ اس میں ہماری پسندیا ناپسند کا ہرگز کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ میرے لیے بہت بڑی بات ہے، اعزاز ہے کہ 2010ء کا ایوارڈ یعنی پہلا اردو سخن ایوارڈ مجھے نصیب ہوا۔ ایوارڈ ملنے کی خوشی اپنی جگہ، حقیقی خوشی اس بات کی ہے کہ مجھے بغیر کسی تردد، بغیر کسی تعلق ، بغیر کسی سفارش کے اس ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان لوگوں کی عظمت کو سلام کہ جن کی اپنی کوئی پسند یا ناپسند نہیں ہے۔ یہ ہر تحریر کو پوری دنیا میں پھیلا دیتے ہیں اور بیٹھ کر دیکھتے ہیں کہ کون سی تحریر کس کو اچھی لگ رہی ہے، کون پڑھ رہا ہے اور کون ان لائک کر رہا ہے۔ میرے بعد اسلم جمشید پوری جن کا تعلق انڈیا سے ہے، کو اردو سخن ایوارڈ 2011ء ملا۔ اس کے بعد جناب امجد جاوید کا ناول کیمپس اردو سخن ایوارڈ 2012ء کیلئے مستحق ٹھہرایا گیا۔ میں امید کرتا ہوں کہ یہ ادارہ اپنی اس خوبصورت روایت کو قائم رکھے گا۔ ‘‘
ززز

چوتھا سیشن
’’ ادبِ اطفال ؛ عہدِ نو کی اہم ضرورت ‘‘

اس سیشن میں ادبِ اطفال پر مختلف قلم کاروں نے اظہارِ خیال کیا اور اپنے مقالے پیش کیے جنہیں کانفرنس کے شرکاء نے بہت سراہا۔ ان مقالہ جات کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

پہلا مقالہ: عبدالماجد ملک(لاہور):
صاحبِ صدر، مہمانِ خصوصی ، ذی وقار سامعین و ناظرین! بچے کسی بھی معاشرے یا قوم کی ہمہ جہت ترقی میں شاہ کلید خیال کئے جاتے ہیں بشرطیکہ ان کی ذہنی ،علمی اورادبی نشوونما بہتر انداز میں کی جائے ، ادب اطفال ان معمار مستقبل کے لیے نہایت ہی ضروری ہوتا ہے یہ کہنے یا بتانے کی قطعاًضرورت نہیں کہ بچوں کے ادب پر جتنی زیادہ توجہ دینے کی ضرورت آج محسوس ہو رہی ہے ،اس سے پہلے کبھی اتنی زیادہ نہ تھی ،کیونکہ اس وقت جس معاشرے میں ہم سانس لے رہے ہیں یہ ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے ،ترقی کی اس دوڑ میں جہاں وقت کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے ،وہیں یہ المیہ بھی رہا ہے کہ ہم بچوں کو جہاں ٹیکنالوجی سے لیس کر رہے ہیں وہیں ہم انہیں کتب بینی سے دور کر رہے ہیں۔کتب بینی سے دوری درحقیقت ادب سے دوری ہے اور ادب سے دوری دراصل علم سے دوری ہے ، میرے ناقص خیال میں اس کی دو وجوہات ذہن میں آتی ہیں ۔اول یہ کہ کیا یہاں بچوں کے لیے جدت سے لیس نت نئے موضوعات پ08ر مبنی تخلیقی ادب پر توجہ دی جا رہی ہے؟؟؟دوسری بات یہ ہے کہ بچوں کی تعلیم وتربیت میں اس معاشرے نے کوئی کردار ادا کیا ہے؟اگر میں اول الذکر کی بات کروں تو میرا جواب ہاں میں ہو گا کیونکہ اس وقت بچوں کے ادب پر کافی زیادہ کام ہو رہا ہے ،ادب اطفال کا تناور پودا مختلف تنظیموں کی بدولت پہلے سے زیادہ پھل پھول رہا ہے ،جو کہ ایک مثبت بات ہے ،بچوں کے ذہن کے مطابق معیاری ادب تخلیق کیا جا رہا ہے ،اور میں یہ بات فخریہ انداز میں کہہ سکتا ہوں کہ ہر علمی و ادبی کانفرنس میں یہاں بچوں کا ادب کا سیشن ضروری سمجھا جاتا ہے ،جو کہ حالات حاضرہ میں بچوں کے ادب پرہونے والی پیش رفت میں ایک مثبت بات ہے ،مجھے ہر وہ کانفرنس ادھوری محسوس ہوتی ہے ،جس میں ادب اطفال کا سیشن نہ ہو،کیونکہ یہ مستقبل کے معماروں کا حق بھی ہے اور ہمارا فرض بھی ،اردو سخن کانفرنس نے بھی پہلی کانفرنس میں یہ ضروری سمجھا کہ ادب اطفال نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ یہ ہم سب کی ذمہ داری بھی ہے کہ ہم بچوں کے ادب کے لیے اچھوتے موضوعات کا انتخاب کرتے ہوئے معیاری ادب پر دلجمعی سے کام کریں ۔
اگر میں اپنی دوسری بات کو بیان کروں کہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں اس معاشرے نے کوئی توجہ دی بھی ہے کہ نہیں ؟اس پر میرا جواب ہاں بھی ہے،اور نفی میں بھی۔یہ دوہرا جواب کنفیوژن پیدا کر رہا ہے تو غور فرمایئے کہ بچوں کے لیے جہاں نصابی تعلیم ضروری ہے ،اس کے ساتھ سکولز میں اس طرح کی لائبریریز بھی قائم ہونی چاہئے جس میں بچوں کے رسائل و جرائد اور خوبصورت کتب کا ذخیرہ ضروری ہونا چاہیئے تاکہ بچے اس سے مستفید ہو سکیں ،مگر بدقسمتی سے حکومت اس کی طرف توجہ نہیں دے رہی ،کوئی ایسی لائبریریاں بن رہی ہیں نہ ہی ماہانہ بنیادوں پہ بچوں کے رسائل سکولز میں مہیا کیئے جا رہے ہیں اور افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ نسلِ نو کی آبیاری کے لیے سرکاری سطح پر کوئی بھی خاطر خواہ انتظامات نہیں کیے جا رہے ہیں جو کہ نہ صرف یہ مستقبل کے معماروں کے ساتھ ظلم ہے بلکہ حکومتی نااہلی بھی۔البتہ پرائیویٹ سیکٹر میں کہیں کہیں یہ مثبت سرگرمی پروان چڑھ رہی ہے کہ بچوں کو اس حوالے سے گائیڈنس دی جا رہی ہے جو کہ اچھی روایت ہے مگر یہ کام آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔میری اہل قلم سے درخواست ہے کہ زمانہ تبدیل ہو گیا ہے ،انٹرنیٹ،کیمپیوٹر اور موبائل کا دور ہے ،اس لئے پرانے رجحانات کے ساتھ نئے آئیڈیاز اور سائنسی موضوع کا انتخاب کیا جائے اور سادہ پیرائے میںآسان الفاظ کا استعمال کیا جائے ۔ہمارے ہاں کچھ سینئر قسم کے ایسے ادیب بھی پائے جاتے ہیں جو بچوں کے لئے لکھنے سے دور بھاگتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جن کے نزدیک ادب اطفال ایک معمولی کام ہے جس کے کرنے سے ان کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے ،میرے خیال میں بڑا ادیب وہ ہے جو ادب اطفال تخلیق کرتا ہو،اور بچوں کا ادب تخلیق کرنا بچوں کا کھیل نہیں۔ادب اطفال پر اگر حکومت کی بات کی جائے تو یہ جان کر افسوس اور مایوسی ہوتی ہے کہ سرکاری سطح پر بچوں کے ادب کووہ پذیرائی نہیں ملی ہے جو کہ اس کا حق تھا اور نہ ہی بچوں کے ادیبوں کے لیے کچھ سرکاری حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے ،مراعات تو دور کی بات ہے ۔سرکاری سرپرستی میں ادب اطفال پر توجہ وقت کی ضرورت ہے کیونکہ یہ قوم کے معماروں کے مستقبل کے لیے نہایت ضروری ہے ،حکومت کو سرکاری سطح پر بچوں کی بہترین ذہنی نشوونما کے لئے ٹی وی پر پروگرام ترتیب دینے چاہئیں اور کارٹونز بنانے چاہئیں تاکہ میرے ملک کے مستقبل کی بہترین پرورش اورذہن کے بند دروازے کھل جائیں اور وہ حقیقی معنوں میں ایک روشن ستارہ بن کر ملک کا نام روشن کریں۔
دوسرا مقالہ: عبداللہ نظامی (کوٹ سلطان):
ناصر ملک کے نام او رکام سے بھلا کون واقف نہیں۔وہ تھل کے ریگزاروں میں بیٹھ کر ملکی اور بین الاقوامی سطح کے ادب کی تخلیق و ترویج کر رہے ہیں۔وہ بیک وقت نظم و نثر پر مکمل عبور رکھتے ہیں۔ ان کی پاکستان بھر کے رسائل وجرائد میں تحریریں تواتر کے ساتھ شائع ہو تی ہیں۔ارود سخن ڈاٹ کام ہو یا آرٹ لینڈ ،ہر فورم سے وہ صدائے علم وادب بلند کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔چوک اعظم کی سرزمین پر پہلی ارود سخن کانفرنس کے انعقادکا بیڑا بھی انہوں نے اٹھایا اور ملک بھر سے نامور ادیبوں کی کہکشاں سجا ئی جس میں دور و نزدیک سے سیکڑوں ادیبوں اورشعراء نے شرکت کر کے ان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے جو کہ ان کی ادب پروری اور لازوال محبتو ں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اردو سخن کانفرنس میں جہاں کتابو ں کی رونمائی ،شعری نشست ،مقالہ نگاری اور تقسیم ایوارڈز کے سیشن رکھے گئے ہیںوہاں خوش آئند بات یہ ہے کہ کانفرنس کے موقع پر بچوں کے ادب پر بھی ایک سیشن مختص کیا گیا ہے جو کہ ناصر ملک اور ان کی ٹیم کی بچوں کے ادب سے محبت اور شفقت کا مظہر ہے ۔
بچوں کے دب کے سیشن کا موضوع ’’ادب اطفال عہد نو کی ضرورت‘‘ رکھا گیا ہے جو کہ تلخ حقیقت ہےمگر بدقسمتی سے جہاں ہمارے بڑے ادیبوں نے اسے نظر اندازکر کھا ہے وہاں حکمران طبقہ بھی ہر دور میں اس شعبہ کے ساتھ بے اعتنائی برت رہا ہے۔ یہ ایک المیہ ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران طبقہ سکولز میں نرسری کلاسز سے لیکر پرائمری ومڈل اور ہائی کلاسز میں باقاعدہ ایک پیریڈ مختص کریں جہاں بچوں کو لٹریچربالخصوص کہانی نویسی کی طرف رغبت دلائی جائے۔بچوں میں کہانی لکھنے اور کتب بینی کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ وہ قلم اور قرطاس سے جڑ کر م09ستقبل میں اچھے لکھاری اورمحب وطن شہری بن کر ملک و قوم کا نام روشن کر سکیں ۔ حکومتی اداروں کو چاہئے کہ سکولزکے نصاب میں باقاعدہ ایک کتاب متعارف کروائیں جس میں بچوں کے لئے سبق آموز کہانیاں ہوں جس کے مطالعہ سے بچوں میں اسلام اور پاکستان کی محبت فروغ پا سکے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں کو کہانی کے انداز میں ایسا لٹریچر اور سوچ فراہم کی جائے جس کے نتیجہ میں وہ ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدو ں کے محافظ بن سکیں ۔
ناصر ملک نے پہلی اردو سخن کانفرنس میں بچوں کے ادب کی سرپرستی کر تے ہوئے باقاعدہ سیشن کا اعلان کر کے بچوں کے لکھاریوں کے دل جیت لیے ہیں۔آج کی اس کانفرنس کے بچوں کے ادب کے سیشن کی صدارت جناب اشو لال فقیر نے کی۔ بچوں کے ایوارڈ یافتہ ادیب جناب عبدالرشید فاروقی ،جناب خواجہ مظہر نواز صدیقی اورجناب عبدالماجد ملک نے شرکت کر کے کانفرنس کی رونقیں دوبالاکر دی ہیں۔ اسٹیج پر جلوہ افروز نامور ادیبوں و شعراء کی کہکشاں جناب حامد سراج ،جناب اشو لال فقیر، جناب اعتبار ساجد ،جناب رضی الدین رضی ،جناب جبار واصف ،جناب ناصرملک ،جناب مظہر نیازی ،جناب احمد سجاد بابر اور دیگر کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خاکسار حکومتی ایوانوں سے ملتمس ہے کہ خدارا اربوں کھربوں روپے سے جاری ترقیاتی منصوبوں میں سے محض چند لاکھ روپے کے فنڈز کے ساتھ بچوں کے ادب کی آبیاری اور سرپرستی کر کے قومی فریضہ ادا کریں۔
آخر میں ایک بار پھر میں ارود سخن کانفرنس کے انعقاد پر منتظم جناب ناصر ملک اور جناب شبیر اختر قریشی کا شکر گزار ہوں اور توقع کرتا ہوں کہ وہ آئندہ بھی بچوں اور بڑوں کے ادب کی سرپرستی کرتے رہیں گے ۔
تیسرا مقالہ: محمد ندیم اختر (چوک اعظم):
سب سے پہلے تو ادارہ اردو سخن خصوصاََ ناصر ملک صاحب کا مشکور ہوں کہ نہ صرف انہوں نے تھل کے ریگزاروں میں ادب کے فروغ کے لیے قومی سطح کی کانفرنس کے لیے اقدام اٹھائے بلکہ میری تجویز کو زیر غور لاتے ہوئے اور ادب اطفال کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے پہلی اردو سخن کانفرنس میں ادب اطفال کا بھرپور سیشن کو بھی حصہ بنایا ۔ جس میں ادب اطفال کے سرخیل جناب خواجہ مظہر نواز صدیقی، جناب عبدالرشید فاروقی ، جناب عبدالماجد ملک کی شرکت سے یہ سیشن اپنی اہمیت جتوانے میں کامیاب رہا ۔
اردو میں بچوں کا ادب ہمیشہ سے اہمیت سے ہمکنار رہا ہے ۔ انیسویں صدی کے اوائل سے انگریزی زبان و ادب کی تعلیم و ترویج کے زیر اثر بہر مند ہونا شروع ہوا۔اس ضمن میں محکمہ تعلیم کے علاوہ بھی بعض اداروں ، انجمنوں اور سوسائٹیوں مثلا فورٹ ولیم کالج کلکتہ ، وتی کالج اور وتی وینکز ایجوکیشن سوسائٹی ، انفنس ایجوکیشن انسٹی ٹیوشن اور ہنری کنگ کمپنی اور بعدا زاں انجمن پنجاب وغیرہ نے نہایت اہم کردار ادا کیا ۔ علاوہ ازیں بعض انفرادی کاوشیں بھی اہمیت رکھتی ہیں ۔ یہ سلسلہ بیسویں صدی کے اوائل تک جاری رہا ۔ اس دوران بچوں کے مختلف تعلیمی اور تفریحی مرحلوں کو پیش نظر کر ان کے نفسیاتی تقاضوں کے مطابق اور زندگی سے ہم آہنگ درسی و نصابی کتب بھی تیار کی گئیں ۔ اور غیر نصابی کتب بھی تخلیق ہوئیں ۔ نصابی کتب میں مسٹرلاری کی کتابوں کے ترجمے اور محمد حسین آزاد اور اسماعیل میرٹھی کی کتابیں بطور خاص قابل ذکر ہیں ۔ غیر نصابی مواد کے حوالے سے بھی اس عہد میں ڈپٹی نذیر احمد ، حالی اور آزاد اور بعد ازاں اقبال وغیرہ کے ذریعے بچوں کو منظوم اور منثور ادب سامنے آیا ۔ جس کی اہمیت محض تاریخی ہی نہیں بلکہ علمی و ادبی بھی ہے ۔ قیام پاکستان سے پہلے کا دور ہو یا بعد کا، دونوں ادوار میں بچوں کا ادب بہت تواتر اور فروانی سے لکھاگیا ۔ اور یہی معاملہ اکیسویں صدی10 کے بیتے ہوئے چند برسوں کا بھی ہے ۔ بلکہ حجم ترازوکے ایک پلڑے میں گزشتہ سالوں میں لکھاگیا اور دوسرے پلڑے میں اس سے پہلے کی چار صدیوں میں تحریر کیا گیا ۔ بچوں کا ادب رکھ دیں تو ثانی الذکر کا وزن نسبتا ہلکا ہی رہے گا۔ یہاں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ مسئلہ مقدار نہیں معیار کا ہے ۔ جب سے پریس اور نشرواشاعت کی سہولتوں میں اضافہ ہوا ۔ بچوں کی کتابیں اور رسالے دھڑا دھڑ چھپنے لگے ۔ یہ درست ہے کہ طباعت کا معیار پہلے سے بہت بہتر ہو گیا ۔ تصویروں کی شمولیت اور رنگوں کی آمیزش نے مطبوعات کی کشش میں خاصہ اضافہ کیا ۔ اب سوال یہ ہے کہ ہمارے بزرگ اہل قلم موجودہ دور کے اہل ادب سے خصوصا بچوں کے ادیبوں اور بچوں کے ادب کے فروغ کے لیے کوشاں اداروں اور ادبی تنظیموں سے سوال کرتے نظر آتے ہیں ۔مثلا الحمرا کانفرنس ہو یا کراچی آرٹس کونسل میں منعقدہ اردو کانفرنس ہو یا اکادمی ادبیات پاکستان کی کانفرنس جن میں گزشتہ چندسالوں سے دیکھنے میں آرہا ہے کہ ان کانفرنسوں میں بھی اردو سخن کانفرنس کی طرز پر خصوصی طور ادب اطفال کے سیشن رکھے جاتے ہیں ۔ جہاں ایسے ادیب بچوں کے ادب پرمقالہ جات پیش کرتے ہیں جن کا موجودہ دور میں ادب اطفال سے اتنا سا تعلق ہے کہ وہ آدھی صدی قبل ادب اطفال سے وابستہ تھے ۔ آدھی صدی قبل وابستہ اہل قلم ہی سوال اٹھاتے ہیں کہ ’’کیا اکیسویں صدی قبل میں بچوں کے ادب کے معنوی تقاضے پورے ہوگئے ہیں ؟‘‘ پھر خود ہی اپنے سوال کا جواب دیتے نظر آتے ہیں کہ ’’ظاہر ہے اس بات کاجواب دینا بہت مشکل ہے ۔ ہمارے یہاں جگہ جگہ اشاعتی ادارے قائم ہوچکے ہیں لیکن کتنے ادارے ہیں جو دارلاشاعت پنجاب کی طرح بچوں کے لیے تعمیر ی ادب کی اشاعت کا اہتمام کرتے ہیں ۔ ہمارے بزر گ ادیب کہتے کہ شاید ہی کوئی ادار ہ ہو جو کاروباری مصلحتوں کا شکار ہو کر قومی تقاضوں کو نظر انداز کرنے کے جرم سے محفوظ ہو۔ ان کی طرف سے ایک اور سوال جو بار بار سننے کو ملتا ہے کہ مختلف شہروں سے بچوں کے بیسیوں رسائل شائع ہوتے ہیں لیکن کیا ان رنگ برنگے رسالوں میں کھلونا ، تعلیم و تربیت اور پھول جیسا کوئی ایک رسالہ بھی موجود ہے ۔ پھر وہ اداروں سے مصنفین کے حوالے سے سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں کہ شاید ہی کوئی ایسا شخص دکھائی دے جیسے محمد بیگم ، امتیاز علی تاج ، صوفی تبسم ، احمد ندیم قاسمی ، غلام عباس ، مرزا ادیب جیسے ادیبوں کی صف میں کھڑا کیا جائے ۔ میرا قطعاً اس موضوع کو پھیلانے کا مقصد نہ تھا لیکن یہ تمہید باندھنا ضروری تھا ۔ کہ ان سوالوں کے جوابات کی بجائے موجودہ دور کے ادیبوں کے بھی سوالات ہیں تاکہ موازنہ کرنا آسان ہو سکے ۔ کہ یہ غلطی موجودہ دور کے ادیبوں ، یا بچوں کے ادب پر کام کرنے والے اداروں ، یا اپنی مدد آپ کے تحت کام کرنیوالی ادبی تحریکوں و تنظیموں یا ہمارے حکمرانوں ، نصاب ساز اداروں ، اشاعتی اداروں یا بزرگ ادیبوں کی ہے ۔ چلیں ہم اس آسان طریقے سے موجودہ دور میں ہونے والے کام پر ایک نظر ڈالتے ہیں ، یوں سمجھ لیں یہ ہی موجودہ دور کے ادیبوں کے سوالات ہی ہیں ۔ موجودہ دور میں بیسوں رسائل ہر ماہ تواتر سے شائع ہوتے ہیں ۔ کھلونا ، تعلیم و تربیت پھول سے بہتر طباعت اور بچوں کی نفسیات کے پیش نظر شائع ہوتے ہیں ۔ مثلا موجودہ دور میں جگ مگ تارے ، اقرا ، تعلیم و تربیت ، ساتھی و دیگر رسائل قابل ذکر ہیں ۔
حکومتی سطح پر تین دہائیوں سے بچوں کا ادب بے اعتنائی کا شکار نظر آرہا ہے ۔ لیکن پھر بھی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے تحت دعوۃ اکیڈیمی کے شعبہ بچوں کا ادب جس کے انچار ج ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر تھے انہوں نے 25سال تک مسلسل بچوں کے ادیبوں ، مدیران رسائل کی جدید خطوط پر نہ صرف رہنمائی کی بلکہ ان کی فکری سطح پر تربیت کو یقینی بنایا اور ان کے لیے ایوارڈ ز اور رسائل کے مابین خاص نمبرز کے ذریعے سالانہ مقابلہ جات اور بچوں کی معیاری کتب کی اشاعت کویقینی بنایا ۔بعدازاں فیصل آباد ، ملتان ، لاہور ، کراچی ، گوجرانوالہ اور کوئٹہ میں بچوں کے ادب کے فروغ کے لیے ادبی تنظیموں نے نئے ادیبوں کی آبیاری کے لیے نہ صرف کانفرنسوں ، تربیتی ورکشاپس کا انعقاد ممکن بنایا بلکہ ان کے لیے مجلاتی صفحات و رسائل کی اشاعت کو بھی یقینی بنایا۔ مسعود برکاتی ، نوشاد عادل ، ابن آس ، محبوب الہی مخمور ، عبدالرشید فاروقی ، اشفاق احمد خان ، اختر عباس ، احمد حاطب صدیقی ، علی اکمل تصور ، نذیر انبالوی ، ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر ، معروف احمد چشتی ، احمد حاطب صدیقی و دیگر بہت سے ادیب تین دہائیوں سے بچوں کے ادب کو اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہیں ۔ گزشتہ چار سالوں سے کاروان ادب اطفال پاکستان نے اس وقت اپنی ادبی سرگرمیوںکا آغاز کیا جس وقت پاکستان میں بچوں کے ادب پر ایک جمود طاری تھا ۔ یہ وہ واحد ادبی تحریک ہے جس نے قومی و عالمی سطح کی کانفرنسوں کے ساتھ ساتھ کتب کی تقریب رونمائی ، ادیبوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کے اعزازمیں تقریب پذیرائی جبکہ امسال بچوں کے رسائل کے مابین خاص نمبرز کے مقابلہ جات کو یقینی بناتے ہوئے لاکھوں روپے کے انعامات رسائل اور مصنفین تک پہنچائے ۔ مختلف اشاعتی اداروں جن میں خصوصا رابعہ بک ہائو س جیسے شہرت یافتہ ادارے نے بیک وقت اکتیس بچوں کے ادیبوں کی کتابوں کی اشاعت کو یقینی بنایا ۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر موجودہ عہد میں ہم ادب اطفال کی وقت کی اہم ضرورت سمجھتے ہیں تو ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر کچھ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ مثلا سکولوں کی سطح پر بزم ادب کا نئے سرے سے اجرا، سکول لائبریوں سمیت سکول میگزینوں کی اشاعت ، حکومتی سطح پر بچوں کے ادیبوں کی حوصلہ افزائی کے ایوارڈز کا اجرا، بچوں کے رسائل کو سرکاری سطح پر اشتہارات کی ترسیل ، اکادمی ادبیات کو ادبیات کی طرز پر ادبیات اطفال کا اجراکو یقینی بنانا ، سرکاری سطح پر سالانہ کتب و کہانیوں و نظم وغیرہ کے مقابلہ جات کا اجرا، نیشنل بک فائونڈیشن جو فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے بچوں کے ادب سے اپنا ہاتھ اٹھا چکی ہے ۔ وہ از سر نو بچوں کے ادیبوں کے مابین مسودات پر مقابلہ جات کو یقینی بنائے ۔ کیونکہ موجودہ دور میں گزشتہ ادوار سے زیادہ کام ہو رہا ہے ۔ اب یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ حکومتی ایوانوں اور بزرگ ادیبوں کو بھی اب اپنا کردار ادا کرنا ہوگا وہ بھی موجودہ دور میں ہونے والے کام کو جانچیں اور اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے قومی سطح پر موجودہ دور کے کام کو پھیلانے میں معاونت کریں ۔ تاکہ مختلف کانفرنسوں میں سوال اٹھانے کی بجائے موجودہ دور کے کام کی بہتری کی بات کی جائے۔ تب جا کر ممکن ہو گا کہ محمد بیگم ، امتیاز علی تاج ، مرزا ادیب ، حالی ، اسماعیل میرٹھی اور احمد ندیم قاسمی جیسے گوہر نایاب تلاش دنیاکے سامنے لانے میں کامیاب ہوںگے ۔ پھر یہ سوالا ت جنم نہیں لیں بلکہ ہماری نسل ملکی یگانگت ، امن کی داعی اور مذہب سے انسیت رکھنے والی ابھر کر سامنے آئے گی ۔
چوتھا مقالہ: خواجہ مظہر نواز صدیقی (ملتان):
خاکسار ادبِ اطفال کا ایک ننھا سا ساتھی ہے۔ بچوں کے لیے لکھنا، بچپن کا سپنا تھا۔ خواہش تھی کہ تحریر کے میدان میں اپنے جوہر آزمائوں۔ ہر وقت تصنیف و تالیف کے لیے پر تولتا رہتا تھا۔ یوں بچپن کا زیادہ وقت تحقیقی و مطالعے کے گلستانوں کی سیر کرنے میں گزر گیا۔ علم و قلم کی جولانیاں دکھانے کے لیے یہ دل بس امنگوں، آروزوئوں اور آشائوں کی آماج گاہ ہی بنا رہا۔ اس عرصے میں بچوں کے لیے کہانیاں لکھیں، مضامین رقم کیے اور تقریری مقابلوں میں حصہ لینا محبوب مشغلہ رہا۔ خاکسار اپنے نئے دوستوں کو بتانا چاہتا ہے کہ میں ماورائی مخلوق ہوں اور نہ کوئی عبقری شخصیت۔11 جب اردو سخن کانفرنس 2017ء چوک اعظم کے منتظمین کی جانب سے مقالہ پڑھنے کی دعوت ملی تو دل ڈوب سا گیا۔ میں نے سوچنا شروع کیا کہ میرے پاس تو علم و فنون کا کوئی بڑا ذخیرہ ہی نہیں۔ مگر حکم حاکم کی تکمیل میں مقالہ لکھنے بیٹھا تو ذہن زرخیز ہونے لگا۔ طبیعت میں میلان آنے لگا اور قلم بھی روانی پکڑنے لگا۔
میرے اس ادبی مقالے و فکری مقالے کا عنوان ’’ادبِ اطفال، عہدِ نو کی اہم ضرورت‘‘ ہے۔ پہلے ادبِ اطفال کی تعریف پیش کرنا چاہوں گا۔ بچوں کی ضروریات اور ان کی دلچسپیوں کو ذہن میں رکھ کر تخلیق کیا گیا ادب، ادبِ اطفال یا بچوں کا ادب کہلاتا ہے۔ یہ تو آپ بھی جانتے ہوں گے کہ دنیا کی ہر زبان میں ادبِ اطفال تخلیق کیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ اردو زبان میں ادبِ اطفال کی جانب قدرے کم توجہ دی گئی ہے۔ پاکستان میں بچوں کا ادب ہر تحقیقی کام کرنے والے ممتاز سکالر، ڈاکٹر محمود الرحمان لکھتے ہیں کہ اردو میں بچوں کے ادب کا آغاز اورنگزیب عالمگیر کے عہد سے ہوتا ہے۔ اس زمانے میں نوعمر افراد کے لیے متعدد کتابیں تصنیف کی گئیں۔ جو زیادہ تر نعت پر مشتمل تھیں۔ ان تمام کتابوں کی غرض و غایت یہ تھی کہ بچوں کو نہایت آسان اور دلچسپ اشعار کے ذریعے عربی و فارسی کے الفاظ کے معنی سے آشنا کرایا جائے۔ بچوں کے ادب میں 1857ء کی جنگِ آزادی ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں اس ناکام انقلاب نے جہاں زندگی کی قدروں کو بدل ڈالا، وہاں یہ اردو زبان و ادب پر بھی خاصا اثر انداز ہوا۔ ان بدلتے ہوئے حالات نے بچوں کے ادب کو بھی متاثر کیا۔ محمد حسین آزاد ، الطاف حسین حالی، اسماعیل میرٹھی، ڈپٹی نذیر احمد، علامہ راشد الخیری اور دیگر ممتاز علمی و ادبی شخصیات نے نظم و نثر کے ذریعے بچوں کے ادب کو زیب و زینت بخشی۔ اس کے اگلے مرحلے میں علامہ اقبال، تاجور نجیب آبادی، اختر شیرانی، منشی پریم چند، عبدالمجید سالک، چراغ حسن حسرت، محمدی بیگم، حامد اللہ افسر، شفیع الدین منیر، الیاس احمد، عبدالواحد سندھی، حفیظ جالندھری، غلام عباس، راجہ مہدی خان، ڈاکٹر ذاکر حسین اور دیگر بے شمار اہلِ قلم نے بچوں کے ادب کو پروان چڑھایا۔
ہندوستان میں بچوں کے ادب پر پی ایچ ڈی کرنے والے ممتاز علمی و ادبی شخصیت ڈاکٹر خوشحال زیدی کے مطابق برصغیر میں ادبِ اطفال کے آغاز و ارتقا کے تریخی پس منظر کو واضح کرنے کے لیے ابتدا ہی سے 1857ء تک اور 1947ء سے آج تک دو ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ راقم 1990ء سے 2016ء تک تیسرا دور قرار دیا جا سکتا ہے۔ بچوں کے ادب کے ایک اور محقق پروفیسر معین الدین کے مطابق بچوں کے ادب کی تاریخ اردو کی تاریخ سے کہیں زیادہ مختصر ہے۔ ان کے بقول اردو میں علمی و ادبی کتابوں کا سلسلہ تو انیسوی صدی کے آغاز سے ہی شروع ہو چکا تھا لیکن بچوں کے ادب کی جانب توجہ بہت بعد میں ہوئی۔ ایک مقام پر ڈاکٹر محمود الرحمان لکھتے ہیں کہ قیامِ پاکستان کے بعد بچوں کے ادب کا جائزہ لیا جائے تو یہیں قطعاً مایوسی نہیں ہوتی۔ اس مختصر عرصے میں ادبِ اطفال نے جو غیر معمولی ترقی کی ہے۔ اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ بچوں کے ممتاز ادیب اور ادارہ فیروز سنز کے وابستہ سعید بخت لکھتے ہیں کہ وطنِ عزیز پاکستان میں کچھ دستور سا بن گیا ہے کہ اردو کا کوئی ناقد بچوں کے ادب پر تبصرہ کرنے بیٹھتا ہے تو اس جملے سے شروع کرتا ہے کہ اردو میں بچوں کا معیاری ادب سرے سے ہے ہی نہیں۔ اب تک جتنی کتابیں چھپی ہیں وہ معنوی اعتبار سے گھٹیا، صورتی لحاظ سے غیر عمدہ اور غیر دلکش ہیں۔ ایسا کہنا ان ناشرینِ کتب کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے جو نقصان کا خطرہ مول لے کر تندہی اور مستقل مزاجی سے بچوں کے لیے اعلیٰ ادب پیش کر رہے ہیں۔ ان مطبوعات کا نفسِ مضمون اور گیٹ اپ بہت اعلیٰ اور معیاری ہے۔ ممتاز ادیب سعید بخت کی اس رائے کو تقویت پہنچاتے ہوئے بچوں کے ادب میں نصف صدی سے زیادہ عرصے سے سرگرم ماہنامہ ہمدرد نونہال کے مدیر اعلیٰ مسعود احمد برکاتی کہتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد مسائل زیست کے ہنگاموں اور معاشی تقاضوں کی وجہ سے کتابوں کی رفتار اشاعت بہت کم تھی۔ قدرتی طور پر بچوں کے لیے کتابوں کی تالیف و اشاعت بھی محدود تھی۔ لیکن سیاسی عدم استحکام کے باوجود معاشرتی استحکام اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ علمی و ادبی مشاغل میں بھی اضافہ ہوا۔ اس کے زیر اثر بچوں کی کتابوں اور رسالوں کی اشاعت میں بھی اضافہ ہوا۔
تاریخ اس امر کی گواہ ہےکہ زندہ قومیں کبھی بھی اپنی آنے والی نسلوں کی کردار سازی سے غافل نہیں رہیں۔ لہٰذا ضرورت ایک ایسے نظامِ تعلیم کی ہے کہ جو نئی نسل میں مطالعے کی عادت پیدا کرے۔ کیونکہ کتاب میں انسان کو صاحبِ کردار ، فرض شناس ، صاحبِ عقل، صاحبِ گفتار اور ذمہ دار شہری بناتی ہے۔
بیرونی دنیا میں بچوں کے رسائل لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں بچوں کے رسائل کی تعداد اشاعت ہزاروں سے تجاوز نہیں ہوتی۔ وطنِ عزیز پاکستان میں بچوں کے ادب کے فروغ کے حوالے سے حکومتی اور نجی سطح پر کبھی بھی مسلسل اور مربوط کوششیں نہیں کی گئیں۔ کبھی بھی اہم اور بنیادی کام کے لیے مربوط اور منظم کوشش نہ کی جائے تو اس کے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں کے ادب کے فروغ کے لیے بھرپور اور موثر ہمہ جہت کوششیں کی جائیں۔ چونکہ ہمارے ہاں بچوں کے ادب کو بے اعتنائی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے ہمارے ہاں بچوں میں تخلیقی قوتیں بیدار نہیں ہوپاتیں۔ اس میدان میں د نیا بہت آگے نکل چکی ہے اور یوں لگت ہے کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ جن تھوڑے بہت ادیبوں اور شاعروں کو بچوں کے لیے لکھنے میں دلچسپی ہے اور جو مصلحت کی پروا کیے بغیر بچوں کا ادب تخلیق کر رہے ہیں، انہیں اپنا کام آگے بڑھانے کے مواقع فراہم کیے جائیں ۔ جب تک جڑوں کی مسلسل آبیاری نہ کی جائے، درخت مضبوط اور بلند نہیں ہو سکتے۔ تاریخ ساز اور عہد ساز فیصلوں کی اس وقت ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
پانچواں مقالہ: عبدالرشید فاروقی (جھنگ):
چچا ایوب کا رنگ تو سیاہ تھا لیکن اُن کی باتیں ہمارے لیے دلچسپی کا باعث تھیں۔ ہم بچے بڑی توجہ سے اُن کی باتیں سنا کرتے تھے اور پتا نہیں کیا تھا ان میں کہ آج بھی وہ سب یاد ہیں۔ تایا جی اور ماسی اکبری کے طویل قصے ، کہانیاں نہیں بھولے۔ ہم سب بھائی اور کزنز روزانہ عشاء کی نماز کے بعد بیٹھک میں جمع ہوتے اور چچا ایوب بڑی دلچسپ کہانیاں سنا کرتے تھے۔ کالا چور، اچھی پری، عقل مند شہزادہ جیسی کہانیاں کئی کئی دن چلا کرتی تھیں۔ تایا یعقوب، عنبر ، ناگ اور ماریا کے دلچسپ ناول لے کر بیٹھ جاتے تھے۔ گائوں میں جاتے تو ماسی اکبری شہزادیوں کی مزے مزے کی ک12ہانیاں اور قصے سناتی تھیں۔ میرے بچپن کے دن، کتنے اچھے تھے وہ دن۔ یہ میری ہی یادداشت نہیں ہے، آپ کے پاس بھی ایسی کہانیاں، باتیں اور قصے بڑی تعداد میں ہوں گے۔ بچپن اور اس کی باتیں بھلا کون بھلا سکتا ہے۔ ایک کروڑ لوگوں سے سوال کیاجائے تو سبھی پہلے مسکرائیں گے اور پھر مزے لے لے کر اپنے بچپن میں کھو جائیں گے لیکن شاید کچھ سال بعد لوگ ایسی باتیں کرنے کے قابل نہیں ہوںگے ، اس لیے کہ آج ان کے بڑوں کے پاس اُن کے لیے وقت کی وہ مقدار نہیں ہے جو انہیں اپنے بچپن میں دستیاب تھی۔ آج ’ بڑے‘ اپنے بچوں کو زندگی کی وہ وہ سہولت دینے کی آرزو کرتے ہیں، جن کا خود انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ وہ اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے دن رات ایک کیے ہیں۔ ان کی خوراک کے لیے ہر جائز و ناجائز کام کرنے سے گریز نہیں کرتے ہیں۔ ان کے لیے عمدہ سے عمدہ لباس خریدنا چاہتے ہیں۔ سفری سہولتوں کے لیے گاڑیوں کا بندوبست کرتے ہیں۔ غرض آج کے ’بڑے‘ گدھوں کی طرح اپنے بچوں کے لیے محنت و مشقت کر رہے ہیں۔ ان کا بس چلے تو بچوں کو دُنیا کا مالک بنا دیں … اتنی محنت و جاں فشانی کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے کہ بچے اُن کے احسانات کو سر آنکھوں پر رکھیں لیکن مشاہدہ یہ ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ معذرت کے ساتھ، تعلیمی معیاری تو شاید آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگا ہے لیکن بچے بہت سی’ بیماریوں‘ کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہم نے ترقی کے نام پر انہیں دُنیا جہاں کی آسائشیں تو دی ہیں لیکن ان کی فکری تربیت سے غافل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دُنیا میں پڑھے لکھے جاہلوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے ۔ لطف کی بات تو یہ ہے کہ کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔
ایک مستری جب مکان بناتا ہے تو سب سے پہلے اس کی بنیاد کھڑی کرتا ہے۔ بنیاد کو ہر طرح مضبوط سے مضبوط بنانے کی کوشش کرتا ہے، اس لیے کہ اسی بنیاد پر اسے ایک شان دار عمارت کھڑی کرنی ہوتی ہے۔ گویا وہ اس بات سے با خبر ہے کہ ایک اچھی ، مضبوط اور شان دار عمارت بنانے کے لیے ’ تگڑی‘ بنیاد ضروری ہے ۔ بقول شخصے، بچے کسی بھی قوم کے مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ مستقبل کے ان معماروں کی ’تگڑی‘ بنیاد کا خیال نہیں رکھا جا رہا ہے۔ مستقل کو شان دار دیکھنا ہے تو اس کی بنیادوںمیں لگنی والی اینٹوں کا خصوصی خیال رکھنا ہوگا۔ ان کی مضبوطی میں تربیت کا بہت دخل ہے ۔ دُکھ و افسوس کی بات یہ ہے کہ تربیت کی طرف کسی کا دھیان نہیں ہے۔ہمارے پاس بچوں کی تعلیم و دیگر ضروریات کے لیے تو سبھی کچھ ہے لیکن ان کی تربیت کے لیے ہمارے پاس قطعی وقت نہیں ہے۔ ہمارے گھروں میں ماضی کی طرح تربیت کرنے کی ’ پرانی چیزیں‘ تو اب شاید دوبارا نہ آئیں لیکن عصر حاضر میں تربیت کا کام ادب اطفال سے لیا جا سکتا ہے۔تربیت کا وہ کام جو گھر کے بڑے کہانی کہانی میں، بات بات میں انجام دے لیا کرتے تھے ، والدین ہی نہیں، لکھنے والے بھی فراموش کیے بیٹھے ہیں۔ گویا سبھی نے اپنے مستقبل کو شتر بے مہار کی مانند چھوڑ دیا ہے۔ اِس لیے ادب اطفال کی جتنی ضرورت اس عہد نو میں ہے، پہلی کبھی نہیں رہی۔ ادب اطفال پر کام کرنے والے لوگ اور ادارے دن رات اپنی مساعی میں لگے ہیں۔ ملک بھر میں قائم ادب اطفال پر کام کرنے والی تنظیمیں مثلاً کاروان ادب اطفال، اکادمی ادبیاب اطفال و دیگر آئے روز کوئی نہ کوئی کانفرنس، اجلاس یا پروگرام منعقد کیے رکھتی ہیں۔بچوں کے ادیبوں کی کتب کی تقاریب رونمائی کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ خوش آئند بات یہ کہ اب تو بڑوں کے ادب کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں و ادارے بھی اپنی کانفرنسز میں ادب اطفال کا سیشن رکھنے لگی ہیں۔ چوک اعظم ،لیہ میں ایک عظیم الشان پہلی اردو سخن کانفرنس 2017ء میں بھی ادب اطفال کی ترویج و ترقی کے لیے ایک خصوسی سیشن رکھا گیا۔ اس کے دورس نتائج آئیں گے، ان شاء اللہ۔ ماضی قریب کی نسبت آج ادب اطفال پر کافی کام ہو رہا ہے۔ بچوں کے ادیبوں کی کتابیں اچھی بھلی تعداد میں چھپنا شروع ہو گئی ہیں۔ اخبارات و ٹی وی چینل بھی ادب اطفال و ادیبوں کو کوریج دینے لگے ہیں۔گویا لوگ تیزی سے یہ بات سمجھنا شروع ہوگئے ہیں کہ اصل لکھنا تو بچوں کے لیے لکھنا ہے۔ یقینابچوں کے لیے لکھنا ، بچوں کا کھیل نہیںہے اور بہت سے بڑے یہ کھیل، نہیں کھیل سکتے ۔ آپ میں دم ہے تو آئیے! ادب اطفال کے ذریعے ، بچوں کی عمدہ تربیت کرنے کا بیڑا اُٹھا لیجیے اور یقین رکھیں، بچوں کے لیے لکھنا کوئی معیوب بات نہیں، اِس سے تو نسلوں کو سنوارا جا سکتا ہے، نکھارا جا سکتا ہے۔ گویا ادب اطفال… نسلوں کا نکھار ہے۔
چھٹا مقالہ: سلیم فواد کندی (میانوالی):
صاحبِ صدر، صاحبانِ علم و دانش، احبابِ ادارہ اردو سخن و حاضرینِ محفل!زیرِ بحث عنوان ایک طویل گفتگو کا متقاضی ہے۔ میں چند اہم نکات کا احاطہ کر کے اپنی بات کو مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔ موجودہ دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ایجادات، ترقیات اور مسائل نے انسانی اذہان کو اپنی طرف بڑی سرعت کے ساتھ متوجہ کیا ہے جس کی وجہ سے نئی نسل کے بچوں میں ادب سے عدم رغبتی جنم لے رہی ہے جبکہ ہم سب اس روشن حقیقت سے آشنا ہیں کہ ادب اہم اور ناگزیر ہے جو انسانی ذوق کو سنوارنے، نکھارنے اور زندگی کے متعلق عملی تدابیر کا شعور اور سلیقہ عطا کرتا ہے۔ اس اعتبار سے اگر غور کیا جائے تو بچے کی نشوونما میں دیگر ضروریات کی طرح ادب کی ضرورت بھی درپیش ہوتی ہے لیکن جدیدیت زدہ معاشرے میں اس ضرورت کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
حضراتِ گرامیءِ قدر! اگر ہم گزشتہ منظر نامے کو اپنے ذہن میں دہرائیں تو یاد آ ئے گا کہ ہمارے گھروں میں بڑے بزرگ وقتاً فوقتاً قدیم ادبیات س13ے دلچسپ قصے اور سبق آموز کہانیاں بچوں کے گوش گزار کیا کرتے تھے تاکہ بچوں کے ذہن میں زندگی کو برتنے اور سمجھنے کا شعور پیدا ہو سکے۔ یہ حقیقت ہے کہ بچوں کا ذہن چیزوں کو براہِ راست جذب کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔ اس لیے انہیں ادبی کتب سے استفادہ کی جانب توجہ دلانی ضروری ہے ۔
سماجی برتائو، رویوں میں اعتدال و توازن اور اپنی بات میں گہرائی اور وسعت پیدا کرنے کا سلیقہ بھی ادب کے ذریعے ہی پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کی معلومات میں اضافے کے لیے معلوماتی کتب کے ساتھ ساتھ دلچسپ مصروفیات کے لیے مختصر حجم کی وہ کہانیاں، قصے، ڈرامے پڑھائے جائیں جو ان کی اخلاقیات پر مثبت اثرات مرتب کریں۔
حاضرینِ محفل! والدین پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچوں میں ادبی کتب کے مطالعہ اور ایسے شغل کی عادت ڈالیں جو ان کی زندگی اور فکر میں گہرائی اور وسعت پیدا کر سکیں کیونکہ انسانی تجربوں اور خیالوں کو مکمل، ہمہ جہتی اور ہمہ گیر زبان ’’ادب‘‘ نے ہی عطا کی ہے۔ تخلیقی لفظ کی رسائی زمین و آسمان کے تمام علاقوں تک ہے۔ علوم مادی دنیا اور تاریخ کے حصار سے آگے نہیں جا سکتے۔ اسی طرح انسانی رہائش تاریخ کے مضافات سے آگے نہیں جا سکتی۔ اس لیے والدین کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ یہی بچہ آ گے چل کر کامرانیوں اور ارتقا کی منازل طے کرے گا۔ صرف سائنس اور مادی ترقیات سے اسے ذہنی تسکین نہیں مل سکتی۔ زندگی کے ہر دشوار گزار مرحلے میں اسے ذہنی آسودگی کی ضرورت ہو گی۔ اس لیے نوعمر بچے کو ادب پرکشش اور طاقت ور کرشمہ نوازتا ہے۔ میں اپنی گفتگو کو سمیٹتے ہوئے عرض کروں گا کہ ہمارے آج کے زیرِ بحث موضوع کے تین اہم کردار ہیں۔ اطفال، والدین اور ادیب۔ اس محفل میں موجود اکثریت ان احباب کی ہے جو والدین بھی ہیں اور ادیب بھی۔ اگر ہم والدین کے ساتھ ساتھ ادیب بھی ہیں تو پھر اس موضوع کے کردار تین کی بجائے دو رہ جاتے ہیں۔ اطفال اور ہم۔ پس دوستو! ہم پر اب بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم باقی جہان کے غم کو چھوڑ کر اگر صرف اپنے بچوں کے لیے توانا ادب تخلیق کریں گے تو دراصل وہ سارے جہاں کے اطفال کے لیے ممدومعاون اور رہبر ثابت ہو گا۔ اس دنیا کو انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نجات دلانی ہے تو سب سے پہلے ہمیں اطفال کو امن پسند اور اعتدال پسند ادب سے نوازنا ہو گا۔

بچوں کے ادب کے لیے مختص سیشن کے اختتام پر جناب غلام شبیر قریشی جو ایکسین سوئی گیس کوٹ ادو ہیں، اس تقریب کے چیف آرگنائزر بھی تھے، نے مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کی رسم ادا کی اور اپنی خوبصورت، برجستہ اور فی البدیہہ گفتگو سے کانفرنس کے شرکاء کے دل موہ لیے۔
’’جو ہمارے اصحاب، مہمان تشریف لائے ہیں میں ان کو خوش آمدید کہتا ہوں جنہوں نے ہماری آواز پر لبیک کہا اور پہلی اردو سخن کانفرنس 2017ء کو کامیاب بنانے میں ہمارا ساتھ دیا۔ ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ یہ کاوش، جو میرے بھائی ناصر ملک نے کی ہے، یہ پہلی کاوش ہے۔ یقینی بات ہے کہ آپ کو بہت ساری چیزوں میں بھرپور لطف نہیں ملا ہو گا، اس میں موسم کی وجہ سے سامعین کی کمی پیش پیش ہے مگر یہ بھی یقینی بات ہے کہ جب بھی کوئی اولیں کوشش کی گئی، خواہ وہ اسلام کی تبلیغ کی ہی کیوں نہ ہو یا کسی تحریک کی ہو، پہلے چند لوگ شامل ہوں گے۔
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے، اور کارواں بنتا گیا
میں ناصر ملک کی اس کاوش پر اور دوستوں کے اس خلوص پر میں اتنا پرامید ہوں کہ بیاں سے باہر ہے۔ علامہ اقبالؒ نے کہا تھا:
نومید نہ ہو ان سے اے رہبرِ فرزانہ!​
کم کوش تو ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی​

14میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں یقینی طور پر کام کرنا ہے۔ دور سے آنے والے عظیم قلم کاروں نےہماری شان بڑھائی ہے، ان کی ناصر ملک سے دوستی اور ناصر ملک کا خلوص دیکھتا ہوں کہ احباب اپنی گوناں گوں مصروفیات کو ایک طرف رکھ کر پانچ پانچ، چھ چھ سو کلومیٹر دور کا سفر طے کر کے یہاں آئے۔ میں ناصر بھائی سے کہتا تھا کہ ناصر بھائی! شعراء کرام نہیں پہنچیں گے، موسم خراب ہے۔ ناصر بھائی کہتے تھے کہ دوست ضرور آئیں گے۔ اب میں کہتا ہوں کہ ہمارے مہربانوں نے ہمارا بھرم رکھا لیکن ہمارے موسم اور ہمارے مقامی دوستوں نے ہمارا بھرم نہیں رکھا۔ ناصر ملک سے جس کا بھی رشتہ ہے، وہ رشتہ مضبوط تر ہے۔ وہ صحیح کہتے تھے کہ کچے دھاگے سے بندھے آئیں گے سرکار ہم ۔۔۔میں اعتبار ساجد صاحب کا متشکر ہوں کہ انہوں نے ہمارے اعتبار کا بھرم رکھا اوروہ لاہور سے تشریف لے آئے۔ اسی طرح ملتان سے جناب رضی الدین رضی بے تحاشا صحافتی مصروفیات کے باوجود تشریف لائے، ڈاکٹر اشو لال اور حامد سراج تشریف لائے، ان لوگوں کی سرپرستی ہمیں حاصل ہوئی جو یقینی طور پر ہماری کامیابی کا پہلا زینہ ہے۔ میں تین حیثیتوں سے ، یعنی بطور ایکسین سوئی گیس کوٹ ادو، بطور کانفرنس آرگنائزر و بانی و صدر بزمِ علم و دانش کوٹ ادواور بطور میزبان ادارہ آپ لوگوں کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ اس ادارے، یعنی گورنمنٹ کالج برائے خواتین چوک اعظم میں میری رفیقہ ءِ حیات مسز ساجدہ شبیر قریشی صاحبہ پرنسپل کے طور پر اپنے فرائضِ منصبی ادا کرتی ہیں۔ ناصر ملک بھائی کے میں شانہ بشانہ چل رہا ہوں اور سب قلم کاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ ادبِ اطفال سیشن کے مقررین نے بچوں میں ادبی رغبت کی کمی اور والدین کی عدم توجہی کی طرف اشارہ کیا۔ میں عرض گزار ہوں کہ اس ادارے میں جس کی ایڈمنسٹریشن میری اہلیہ سنبھالتی ہیں، میں آپ دوستوں کو خوش آمدید کہتا ہوں اور بچوں کی علمی و ادبی آبیاری کا عہد کرتا ہوں۔ میں آئندہ بھی آپ دوستوں کا ساتھ دیتا رہوں گا۔ اس ضمن میں جو بھی سہولیات مجھے میسر ہو سکیں، آپ کو بہم پہنچائوں گا تاکہ ہماری نئی نسل کی علمی و ادبی آبیاری ہو سکے۔ ہم آئندہ بھی یہ کوشش کریں گے کہ انتظامات میں کسی قسم کی کمی پیش نہ آئے۔ اگرچہ میں پیشہ کے لحاظ سے انجینئر ہوں مگر سخن فہم ہوں۔
اس کانفرنس کا نام ’’اردو سخن کانفرنس‘‘ رکھا گیا۔ احباب سوچتے ہوں گے کہ ’’اہلِ قلم کانفرنس‘‘ کیوں نہیں رکھا گیا کیوں کہ یہاں سرائیکی شعراء نے بھی شرکت کی، پنجابی شعراء نے بھی اور اردو زبان والوں نے بھی شرکت کی ہے۔ اردو ہماری قومی زبان ہے۔ میں نے پڑھا ہے کہ ایک انگریز افسر کے پاس ایک نوجوان نے انگریزی میں درخواست پیش کی تو اس افسر نے کہا کہ تم نے درخواست انگریزی میں کیوں لکھی؟ کیا تم گونگے ہو؟ تمہاری اپنی کوئی زبان نہیں ہے؟جب انڈو پاک کی پارٹیشن ہوئی تھی تو ایک بڑا محرک اردوزبان بھی تھی۔ اس وقت انڈیا میں اردو بولنے والے معتوب تھے۔ آج انڈیا میں اردو بولنے والے اتنے مضبوط ہیں کہ وہاں مشاعرے اردو زبان میں ہی ہوتے ہیں لیکن جس ملک کی قومی زبان اردو ہے، وہاں یہ زبان یتیم ہے۔ یہاں آج بھی انگریزی کا بول بالا ہے۔
سچ یہی ہے کہ علم و محبت کو سمجھنے اور سمجھانے والی یہی زبان اردو ہی ہے جو اہلِ قلم کا ہر موقع پر ساتھ دیتی ہے۔ ہمارا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے۔

اردو سخن کانفرنس کے انعقاد پر گفتگو کرتے ہوئے رضی الدین رضی (ملتان) نے کہا:

15جناب شبیر اختر قریشی نے مجھے بہت دور سے آنے والا کہا ہے مگر دور سے نہیں آیا۔ میں یہاں آصف کھتران کے حوالے سے آیا ہوں، رانا اعجاز کے شہر آیا ہوں اور ناصر ملک کے پاس آیا ہوں۔ میں تو بہت قریب سے آیا ہوں، اس لیے مجھے دور سے آنے والا نہ سمجھا جائے۔ اردو سخن کانفرنس کے بارے میں چند باتیں کرنا چاہوں گا۔ ناصر ملک نے جب مجھے پہلی اردو سخن کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی، اس وقت تک مجھے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ مل چکا تھا۔ اس موقع پر مجھے یہ طے کرنا تھا کہ میرا تعلق اسلام آباد کے ساتھ ہے یا ناصر ملک کے ساتھ ہے۔ تو مجھے اس بارے میں زیادہ سوچنا نہیں پڑا کہ جب مجھے ناصر ملک نے کہا تو میں نے فوراً کہہ دیا کہ میں آ پ کے ہاں آئوں گا، اور آئوں گا۔ اور پھر یہاں آ گیا۔ یہاں اردو سخن کانفرنس میں جن ہستیوں سے ملاقات ہوئی، ان سے ہم نے آج دن بھر جو کچھ سنا، جو شاعری سنی، تو مجھے احساس ہوا کہ میں آج یہاں آ کر اس طرح نہیں پچھتایا جس طرح اسلام آباد کی کانفرنس میں شرکت کرنے والے پچھتا رہے ہیں۔

16-ashu-lal-faqeer-and-hami

چوتھے سیشن کے اختتام پر جناب ڈاکٹر اشو لال فقیر (کروڑ لعل عیسن) اور جناب حامد سراج (کندیاں) نے اپنے صدارتی خطبات دیے جنہیں بڑے انہماک سے سنا گیا۔ (

پانچواں سیشن
اردو سخن مشاعرہ

پہلی اردو سخن کانفرنس 2017ء چوک اعظم کا پانچواں اور آخری سیشن مشاعرے پر مشتمل تھا۔ یہ سیشن آدھا گھنٹہ کی تاخیر سے شروع ہوا۔ سردیوں کے مختصر دن کے سبب وقت کی شدید قلت اور مہمان شعرا کی زیادہ تعداد کے سبب ناظمِ مشاعرہ صابر عطا نے اختصار سے کلام پیش کرنے کی استدعا کی جسے قبول کرتے ہوئے تمام شعراء کرام نے تعاون کرتے ہوئے کم کلام سنانے کو ترجیح دی۔
مشاعرے کی صدارت اعتبار ساجد (لاہور) نے کی جبکہ اشو لال فقیر(کروڑ)، رضی الدین رضی (ملتان) ، ریاض راہی (لیہ)اورشاہد بخاری( بھکر) مہمانِ خصوصی تھے۔ مہمانانِ اعزازکی مختص نشستوں پر مظہر نیازی( میانوالی)، توقیر عباس ( لاہور)، خالد ندیم شانی( ترگ عیسیٰ خیل)، شجاع شاذ( سیالکوٹ)، جبار واصف( رحیم یار خان)،افضل صفی( مظفر گڑھ) اور عمار یاسر مگسی (کبیر والا)براجمان ہوئے۔
مشاعرہ میں دور دراز سے آئے ہوئے شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔ تمام شعراء کرام کا پیش کردہ کلام قارئین کے مطالعہ کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔

17

رضی الدین رضی (ملتان):
اگر پاس ہوتا تو تجھ کو سناتا
دکھوں کی کہانی
کہانی کہ جس میں بہت ہے روانی
کہانی کہ جو یاد آئے کبھی تو
ٹپکتا ہے آنکھوں سے
مصرعوں کی صورت معطر سا پانی
مری نظم ہوتی ہے پھر جاودانی
اگر پاس ہوتا تو تجھ کو بتاتا
کہ جیون ترے سنگ جتنا گزارا
وہ جیون ہی جیون کا اب ہے سہارا
وہ پلکوں پہ ٹھہرا ہوا اک ستارا
مری نظم کااک حسیں استعارا
اگر پاس ہوتا تو تجھ کو دکھاتا
وہ کاغذ قلم
جن کو تُو نے چھوااور
مرے دل پہ سب کچھ رقم ہو گیا تھا
مجھے غم ملا اور
زمانے میں مَیں محترم ہو گیا تھا
تجھے میں دکھاتا
وہ کاپی وہ بستہ
وہ بستہ بنا جو محبت کا رستہ
وہ رستہ کہ جو راستہ تو نہیں تھا
مگرہم کبھی اُس پہ تھکتے نہیں تھے
بھٹکتے تھے لیکن بھٹکتے نہیں تھے
یہ پلکوں سے موتی چھلکتے نہیں تھے
اگر پاس ہوتا۔۔۔
مگرپاس ہوتا تو پھر میرے دامن میں
اشکوں بھری یہ کہانی نہ ہوتی
مری نظم میں گو روانی نہ ہوتی
مگر ہر طرف رائیگا نی نہ ہوتی

اعتبار ساجد (لاہور):
شکر ہے خداوندا ! انکسار قائم ہے
ہم نیاز مندوں کا اعتبار قائم ہے
اہلِ دل کی محفل میں، اہلِ فن کی مجلس میں
اعتبار ساجد کا اعتبار قائم ہے

صدا لگائے کہاں یہ گدا کی مرضی ہے
اب آگے جائے نہ جائے صدا کی مرضی ہے
درِ قبول سے پہلے بھی کچھ مراحل ہیں
کہاں ٹھہرتی ہے جا کر دعا کی مرضی ہے
بجھائے کس کا دیا، کس دیے کو جلنے دے
مری تمہاری نہیں، یہ ہوا کی مرضی ہے
نجانے کس پہ کہاں مہربان ہو جائے
یہ کائنات کے مالک خدا کی مرضی ہے
بٹھائے تخت پہ یا خارو خس میں گم کر دے
خدا کے بعد یہ خلقِ خدا کی مرضی ہے
میں ریگِ جسم ہوں اور آندھیوں کی زد میں ہوں
کہاں بکھیرے، اڑائے ہوا کی مرضی ہے

اسی پہ نان و نمک کا مدار تھوڑی ہے
یہ شاعری ہے کوئی کاروبار تھوڑی ہے
یہ عشق ہے تو رہے گا مدام ساتھ مرے
یہ تھوڑی دیر کا رقصِ غبار تھوڑی ہے
بس اک جنوں ہے سمو دیں لہو کو لفظوں میں
یہ خون ریزی کوئی بیوپار تھوڑی ہے
خریدتے ہیں محبت سے جو کتاب مری
تو ان میں کوئی میرا رشتہ دار تھوڑی ہے

رضا کاظمی (لیہ):
کوئی مصور یا فلسفی ہو
ادیب، شاعر یا پھر کوئی ہو
اسے نہ دیکھو
یہ ذائقے بانٹنے سے پہلے
سواد تقسیم کر رہا ہے
تم اس کو دیکھو
جو سچ کی آنکھوں میں مرچیاں ڈال کر
فضائوں کو ماتحت جان کر
ہوا میں نئی پتنگیں اڑا رہا ہے
کسی کو غم ہو یا پھر خوشی ہو
میں جانتا ہوں
کہ تم تو ہر غم سے اجنبی ہو
تمہارا کیا ہے؟
کہ تم تو صاحب کے آدمی ہو

عمران عاشر (فتح پور):
اب تو دھند بھی اتنی ساری ہوتی ہے
پھر بھی ملنے میں دشواری ہوتی ہے

فیصلہ یوں پلک جھپک نہ دے
ہجر مجھ کو تُو یک بہ یک نہ دے
بارشو ں کا ہنر جو دیتا ہے
کیسے ممکن ہے وہ،دھنک نہ دے
لا کھ چپ سا دھ ہے کہاں ممکن
ٹو ٹتا دل کوئی کھنک،نہ دے
خو ف رہتا ہے یہ سر ِمنزل
وہ کہیں ہاتھ کو جھٹک نہ دے
ایسے سورج کو اب کر یں مسمار
جو تمازت تو دے،چمک نہ دے

محمد اقبال بالم (منکیرہ):
اج ولاہک خان دی بانی ہتھوں خالی گھر ول آئی ہے
وت کہیں بال اج بستہ ویچائے شام دا اٹا گھنن کیتے
دل نس منگدا پنن کیتے

وفا کی جب سے بیماری لگی ہے
ہمیں یہ زندگی پیاری لگی ہے
ابھی مت چھوڑ کر جا جانے والے
اَبھی تو آپ سے یاری لگی ہے
سُنا ہے آپ کو بھی شوقِ گل ہے
میرے دل میں بھی پھلواری لگی ہے
بدن کیا کانپ اُٹھی روح تک بھی
جگر پہ ضرب یوں کاری لگی ہے
نہ جانے کب یہ بالمؔ راکھ ہو گی
جو دامن میں یہ چنگاری لگی ہے

مظہر نیازی (میانوالی):
سجڑاں دی گلی اے
جَنج آئی کھلی اے
سہرے آلا ھور اے
ساتھے تھڑ تھلی اے
رُوح لگی آئی
مَسیں گھر وَلی اے
وَل کو نی تِھیونڑیں
صدیاں دی مَلی اے
چہرے تبدیل ھَن
بَتی جڈاں بَلی اے
ما ٹُری وِیندی اے
دِھی گھر وَلی اے
اَگے ساڈے چُلہیاں اِچ
بھا کڈاں بَلی اے
مظہراؔ پَچائوں آ
سٹ جو کُللی اے

کٹھا کِیتَم دل کوں کچرا پُورا کِیتَم
اَپڑیں آپ کوں گِھیلَم رستہ پُورا کِیتَم
اَپڑاں گھر وِی ڈُوں بھائیاں دے ناں کر چھوڑم
پِیو نَل کیتا ہویا وعدہ پُورا کِیتَم
زندگی دے سَرنانویں میڈا ناں وِی لکھو!
موت دے مُنہ اِچ وَڑ کے مصرع پُورا کِیتَم
کُجھ ڈِیہاں توں بُٹی بُٹی پَئی لگدی ہا
تیکوں ڈِیکھ کے اکھ دا سُرمہ پُورا کِیتَم
بارش تَھئی تاں ھِک کچّی دیوار دَھڑَم تھَئی
پردہ لا کے گھر دا وِیہڑا پُورا کِیتَم
ھِک موقعے تے بالاں کِیتے فِیساں کونَن
گھر دے بھانڈے وِیچ کے خرچہ پُورا کِیتَم
ھِک دُشمن دے بارے ڈَسیا بابے ھوراں
ڈُوں بندیاں کو ں مار کے بدلہ پُورا کِیتَم
تھل مارُو دی تَس ہا تَس اِچ ڈاڈھی چَس ہا
قطرہ قطرہ پِیتَم صحرا پُورا کِیتَم

شاہد بخاری (بھکر):
روواں دھوواں پیا
اینویں ہوواں پیا
آپ کوں کھاندا رہواں
آپ کوں کوہواں پیا
زندگی ہر دم تیڈے
پیریں پوواں پیا
جے تئیں در نئیں کھلدا
باہر کھلوواں پیا
اچھا! توں ول آسیں
مہندیاں لوواں پیا

درد اندر دے بھلوں نئیں
یار انھائیں جلوں نئیں
عشق بزار ءِچ آ گئے ہیں
کئیں تکڑی تے تلوں نئیں
یاد جو چیتا کھاندی ہے
ہک ڈوجھے کوں بھلوں نئیں
اکھ کوں ہنجوں آدھا ہے
نکل کے تیتوں رُلوں نئیں
ہس تھی گئی ہے ہر پاسوں
تھوڑا تھوڑا گھلوں نئیں

شاکر حسین کاشف (لیہ):
ہتھ ریہے التجا دے قابل نئیں
دل ہے پر دل ربا دے قابل نئیں
حسن ہن امتحان بند کر ڈے
عشق ہن کربلا دے قابل نئیں

توڑے لحظے دا پیار توں ہاویں
زندگی دا معیار توں ہاویں
ساری وستی حسین وستی ہائی
صرف یوسف دی کار توں ہاویں
پاگلاں وچ شمار میں ہامی
پتھراں وچ شمار توں ہاویں
نیزیاں تے سوار میں ہامی
مونڈھیاں تے سوار توں ہاویں
تیڈے پیریں پازیب میں ہامی
میڈے گل دا تاں ہار توں ہاویں
ہن تاں کاشف خزاں دی وٹھ ءِچ ہے
ایندھی سانول بہار توں ہاویں

افضل چوہان (مظفرگڑھ):
جانے وہ کیوں ہو گئے میری نگاہوں سے پرے
وہ پرندے، وہ کنول کے پھول ، وہ پتے ہرے
آج بوڑھے پیر کی آغوش ہلکی ہو گئی
اڑ گئے رہتے تھے جتنے بھی پرندے خود سرے
وحشیوں نے آج یوں شب خون مارا ہے کہ بس
رہ گئے تیروکماں سب ہوشیاروں کے دھرے
ہم تو چھوڑ آئے وہ جھنجٹ ہی جو تھااک عشق کا
کون روزانہ جیے اور کون روزانہ مرے
نظم:
اس سے کہنا پھولوں پر اب جوبن آنے والا ہے
اس سے کہنا برساتوں کا بادل چھانے والا ہے
اس سے کہنا ندی کا ٹھنڈا پانی شور مچاتا ہے
اس سے کہنا راگ بھیرویں اور سنجوگ سناتا ہے
اس سے کہنا پنگھٹ تیری راہیں دیکھتا رہتا ہے
اس سے کہنا چھن چھن کرتی بانہیں دیکھتا رہتا ہے
اس سے کہنا چھن چھنا چھن پائل کی جھنکار تری
اس سے کہنا میں سنتا ہوں ندیا کے اس پار تری
اس سے کہنا پربت پیپل بستی کھیت اداس ہوئے
اس سے کہنا سب سکھ چین ہمارے تو بن باس ہوئے
اس سے کہنا اب تو آ جا اب تو ضد کو چھوڑ بھی دے
اس سے کہنا اب تو افضل گھر کو باگیں موڑ بھی دے

توقیر عباس (لاہور ):
مرتی ہوئی تہذیب بھی اور اس کے نشاں بھی
صدیوں سے یہاں ہم بھی ہیں یہ خستہ مکاں بھی
انجان زمانوں کی روایت بھی سفر میں
ہمراہ مرے ہے خس و خاشاک و جہاں بھی
تم نے تو بچھڑنے میں ذرا دیر نہیں کی
کچھ دیر تو اٹھتا ہے چراغوں سے دھواں بھی
ممکن ہے کہ مصرعے میں یہی بات اٹھا دوں
اک ساتھ گرا ہے تیرا ملبہ بھی مکاں بھی
زندگی کی نبض گٹھتی جا رہی تھی
اک ندی ساحل سے ہٹتی جا رہی تھی
کوئی مجھ کو یاد آتا جا رہا تھا
بیل پتھر سے لپٹتی جا رہی تھی
روح پر بھی لاکھ شکلیں پڑ رہی تھیں
دھول سے چادر بھی اٹتی جا رہی تھی
چھو رہی تھی سوئی خطرے کے نشاں کو
ایک منزل تھی سمٹتی جا رہی تھی
اس کی باتیں دوستوں پر کھل رہی تھیں
ایک چادر تھی جو پھٹتی جا رہی تھی
میں اسے اپنی محبت کہہ رہا تھا
وہ کئی رستوں میں بٹتی جا رہی تھی
کشتیوں کے بادباں لہرا رہے تھے
ساحلوں سے دھند چھٹتی جا رہی تھی
سانس کا توقیر آرا چل رہا تھا
زندگانی اپنی کٹتی جا رہی تھی

مظہر یاسر (کوٹلہ حاجی شاہ):
کل اتھاں راج ہوسی خوشیاں دا
ایہہ جیہڑا ڈکھ تے وین دا گھر ہے
بال وی بھن بھروڑ سگدے ہن
میڈا گھر تاں گھرین دا گھر ہے
نہ ہے کندھلی نہ در نہ کوئی چھپر
میکوں ڈسدئے وسین دا گھر ہے

اندری اندر مچیاں مونجھاں
لوں لوں دے وچ رچیاں مونجھاں
یاسر ٹر کے گول گھنائوں ہا
رس گئیں ساں کن سچیاں مونجھاں
صابر حسین صابر (لیہ):
آ ہم سے بجھا پیاس کہ ہم ٹھنڈے گھڑے ہیں
کب سے تیری دیوار کے سائے میں پڑے ہیں
لینی تھیں جنہیں دامنِ گلشن میں پناہیں
سوکھی ہوئی ٹہنی سے وہی پھول جھڑے ہیں
بے کار نہ ہو جائیں کہیں کرب کے موتی
معصوم تو سیپی کے پنگھوڑے میں پڑے ہیں
پلکوں پہ مری شبنمی آنسو تو نہیں ہیں
کچھ موتی ہیں جو آس کی اطلس میں جڑے ہیں
خود آئے گا چل کر کبھی دیوار کا سایہ
اس آس پہ ہم دھوپ کے آنگن میں کھڑے ہیں
چپکے سے ہر اک وار سہا گردشِ غم کا
مفلس کی طرح حوصلے صابر کے بڑے ہیں

پروفیسر ظہور حسین (ملتان):
A song of a fatherless child
I am innocent,
I am naive
I cannot recognise people
I cannot read faces
I am small
I am weak
I am tired
I cannot collect
Garbage any more
Tell me please ! who is my father?
I cannot walk any more
I cannot bear the hot sun
I am partially naked
It is the month of December
I am as cool as cucumber.
Please! pall me
Please ! warm me up
And for God is sake
Tell me please ! who is my father?
He hates me
She kicks me
They despise me
They dislike me
Papa! my feet are bleeding
papa! my nose is ogling
papa! people do not love me
Papa! It is very cold out
Papa! the sun is scorching
Papa! I am very hungry
Papa! My bag is heavy
Papa! I am very small
Papa! The world is very big
Papa! I know you will not come
Because I am a faterless child.

ڈاکٹر اشو لال فقیر (کروڑ):
پھول تتلیوں کا جہیز ہوتے ہیں
راستے گھوڑوں سے تیز ہوتے ہیں
جتنا آگے آگے روز جاتے ہیں
اتنا پیچھے پیچھے لوٹ جاتے ہیں
اس زمیں اس آسماں کے ساتھ ساتھ
کہکشاں در کہکشاں کے ساتھ ساتھ
رقص میں کیا جھومتے رہتے ہیں ہم
دائروں میں گھومتے رہتے ہیں ہم

ارغوانی شام کا
آنکھ سے تعلق ہے
آنکھ کھل گئی تو کیا
تیری بے نیازی بھی
شام سی تو ہو گئی
میں رہوں یا نہ رہوں
تو جیے یا نہ جیے
تیری بے نیازی بھی
شام سی تو ہو گئی

اڈوں خوشی ہائی
جیہڑی اپنے نال منائی نئیں
کوئی غم ہا
جیہڑا دل اپنے تے دھریا نئیں
کوئی تارا ہا
وڈے ویلے دا
ایہہ تھل اپنا
اینویں اکھ اپنی چوں
ٹمک پیا
کیں تکیا نئیں

جبار واصف (رحیم یار خان):
اے خدا! فاقہ کشوں پر مہربانی کیجئے
رزق کی تقسیم پر کچھ نظرِ ثانی کیجئے
اے خدا! ہم بھی یہاں مہمان ہیں دو چار دن
اپنے مہمانوں کی یکساں میزبانی کیجئے
بے یقیں جھولی میں بھر کے کچھ یقیں کی روٹیاں
دُور مفلس کے شکم کی بدگمانی کیجئے
خود کشی کر لی ہے پھر اِک ماں نے سب بچوں سمیت
جا کے بھوکی میّتوں پر گُل فشانی کیجئے
زیست کے زندان میں اب کوئی بھی زندہ نہیں
آپ قبرستان پر اب حکمرانی کیجئے
عمر بھر قرآں سے جو اِک خاص دُوری پر رہا
اُس کی بخشش کے لیے قرآن خوانی کیجئے
رو رہا ہے رفتگاں کی یاد میں بوڑھا شجر
پاس اُس کے بیٹھ کر باتیں پرانی کیجئے
بیٹھ کر ساحل پہ لکھئے داستانِ تشنگی
اور بہتے پانیوں کو پانی پانی کیجئے
کار گر زورِ قلَم سے زورِ بازو ہے یہاں
چھوڑ کر فکرِ سخن اب پہلوانی کیجئے
دفن کر کے قبر میں قرطاس کی الفاظ کو
اپنے زندہ شعر واصفؔ آنجہانی کیجئے
نظم:
سنو بیٹی!مجھے تم سے ضروری بات کہنی ہے
تمہیں معلوم ہے بیٹی!!
تمہارا باپ شاعر ہے
کہ جس نے عمر بھر الفاظ کے سکّے کمائے ہیں
وہی سکّے جو اُس بازار میں چلتے نہیں جس میں
سبھی ایسی دکانیں ہیں
جہاں کاغذ کے ٹکڑوں کے عوَض کچھ خواب بکتے ہیں
جہاں پر بیٹیوں کے قیمتی ارمان بکتے ہیں
سنو بیٹی!تمہارے خواب اور ارمان
اُن لفظوں کے سکّوں سے خریدے جا نہیں سکتے
جو میرا کل اثاثہ ہیں
سنو بیٹی! تمہارا باپ شاعر ہی نہیں ، مجرم بھی ہے جس نے
وہ سب سکّے کمائے ہیں
جو دنیا کے کسی بازار میں بھی چل نہیں سکتے
خوشی میں ڈھل نہیں سکتے!!!
سنو بیٹی!مرا اے کاش! لفظوں سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا
میں منڈی میں تجارت کر کے وہ کاغذ کماتا جو
ہر اک ارمان، ہر اِک خواب کی قیمت چکا سکتے
تمہارا گھر سجا سکتے
تمہیں دلہن بنا سکتے
سنو بیٹی!مجھے تم سے ضروری بات کہنی ہے
عمار یاسر مگسی (کبیر والا):
پہلے کاغذ پہ ترا نام لکھا جاتا ہے
اور پھر گھول کے پانی میں پیا جاتا ہے
آپ جس بات پہ اترائے ہوئے پھرتے ہیں
ہم فقیروں میں اسے عیب گنا جاتا ہے

جو آگ تم لگاتے ہو اس دل کو توڑ کر
مجھ کو بجھانا پڑتی ہے آنکھیں نچوڑ کر
کچھ سایہ دار پیڑ ہیں، بابا کی قبر ہے
کیسے رہوں میں شہر میں گاؤں کو چھوڑ کر
اک جرمِ زندگی کہ نہیں ہو رہا معاف
بیٹھا ہوں کتنے برسوں سے ہاتھوں کو جوڑ کر
قبول ہے ترے قدموں کی دھول ہونا بھی
ہے کتنا قیمتی اتنا فضول ہونا بھی
صراطِ عشق ہے صاحب! یہ پل صراط نہیں
جزائے عشق ہے رستے کا طول ہونا بھی
ہمیشہ کانٹوں میں رہ کر بکھیرنا خوشبو
ہے گویا کارِ رسالت یہ پھول ہونا بھی

میاں شمشاد حسین سرائی (لیہ):
وہ جو آنکھوں کو خواب دیتا ہے
خزاں کی رُت میں گلاب دیتا ہے
جُدا ہو مجھ سے تو ایسا لگتا ہے
لمحہ لمحہ عذاب دیتا ہے

میں قلب و نظر میں وہ ضیاء لے کے چلا ہوں
احساس کے ہونٹوں پہ صدا لے کے چلا ہوں
مرقد میں فرشتے مری تعظیم کریں گے
محرابِ جبیں ، خاکِ شفا لے کے چلا ہوں
تاریخ میری کل کا مورخ بھی لکھے گا
میں وقت کی سولی پہ اَنا لے کے چلا ہوں
اب گردشِ حالات کا کچھ خوف نہیں ہے
ہر گام پہ یوں نامِ خُدا لے کے چلا ہوں
شمشادؔ میری فکر میں جِدّت کی جھلک ہے
اسلوب ادیبوں میں نیا لے کے چلا ہوں

خالد ندیم شانی (عیسیٰ خیل):
بٹیا رانی سے جھوٹ بولتے ہو
زندگانی سے جھوٹ بولتے ہو
تب کناروں پہ کیا گزرتی ہے
جب روانی سے جھوٹ بولتے ہو
زندگی موت کے معاملے پر
دارِ فانی سے جھوٹ بولتے ہو
تم زمینی خدا کے ڈر سے کیوں
آسمانی سے جھوٹ بولتے ہو
پڑھتے رہتے ہو جون کو پھر بھی
یار جانی سے جھوٹ بولتے ہو
تم ترقی کرو گے تیزی سے…
تم روانی سے جھوٹ بولتے ہو
اس کی آنکھوں میں دیکھ کر خالد
گہرے پانی سے جھوٹ بولتے ہو
ساری دنیا کا دکھ نہیں مجھ کو
تم بھی شانی سے جھوٹ بولتے ہو

دین دنیا خدا تماشا ہے
یار آخر یہ کیا تماشا ہے
روز جینا ہے روز مرنا بھی
یعنی یہ روز کا تماشا ہے
سر اٹھایا نہیں گیا مجھ سے
جب کہ سب نے کہا تماشا ہے
ہاں تماشا ہے زندگی لیکن
موت اس سے بڑا تماشا ہے
اس کا جانا ٹھہر گیا خالد
اور یہ دوسرا تماشا ہے

موسیٰ کلیم (کوٹ سلطان):
شام تھیون دا ڈر ہے کیہاں
ڈینہہ تھیسی ول شیہہ تھی ویسوں
او جے بارش بن کے وٹھا
ساوے کڑب کرینہہ تھی ویسوں
ڈو ترے پھینگاں ودھدیںودھدیں
بھوئیں تے ہک ڈینہہ مینہ تھی ویسوں

سبھ توں پہلے آپ اپنی ذات کوں پڑھنا تاں ہے
ول حیاتی دے ستم سہہ سہہ کرائیں کڑھنا تاں ہے
شام تھی گئی ہے تاں کیہڑا فرق پئے گے محترم
روشنی دا تاج پا کے سجھ سبھائیں ولنا تاں ہے
ہن تاں بس ڈو چار قدمیں دا سفر باقی کھڑے
اپنی منزل توں اگیں ڈکھ دا بدل ٹلنا تاں ہے
ڈیکھ کے تیڈے قیامت خیز چہرے دا جمال
کہیں نہ کہیں ہک تیر تیڈے عشق دا جھلنا تاں ہے
سوچنا کیا ہے شعور زندگی ڈے کے کلیم
اج تے بھانویں کل اساں سولی اتے چڑھنا تاں ہے

شاکر خان (میانولی):
میں انا میں قید ہوں اس بات میں بھی شک نہیں
یہ بھی سچ ہے دوستوں نے حال پوچھا تک نہیں
میں مزاجاً اس طرح کا ہوں سو ہوں اب کیا کروں
میرا شیوہ صرف اک آواز ہے دستک نہیں
آپ کو دعوت نہیں دیتا خود آ سکتا نہیں
معذرت یارو یہ میری قبر ہے بیٹھک نہیں
آج اپنی پارسائی کے لیے درکار ہے
ہائے پیشانی پہ سجدوں کی وہی کالک نہیں
دل بہت خستہ ہے اس کے ختم ہونے کے لیے
عشق کا گھن ہی بہت ہے یاد کی دیمک نہیں

ہم باندھ چکے سب سروسامان، اجازت !
ویسے بھی تو ہم لوگ تھے مہمان ، اجازت !
آنکھیں تو نہیں تھکتی ہیں دل ویسے بضد ہے
میں تھک سا گیا ہوں سو مری جان، اجازت !
میں زادسفر چھوڑ کے جانے کا نہیں تھا
یہ میرے خسارے مرے نقصان ، اجازت !
جو مدمقابل ہو مرے بچ نہیں سکتا
ہے اب کے یہاں جنگ کا امکان .. اجازت !!

منور خان بلوچ (لیہ):
جسم کی دھرتی اب تو ہے بارانی زمینوں جیسی
زوال کی فصلیں پکی ہیںکبھی دیکھنے تو آ
آنکھوں کے سمندر اب تو خشک ہو چکے
اڑتی پھرتی ہے ان میں دھول کبھی دیکھنے تو آ
عمرِ دراز تھی کٹ گئی انتظار کی آگ میں
بیتے دنوں کے خواب کبھی دیکھنے تو آ
خوشیاں تو اب نصیب میں ہیں بھیک کی مانند
خالی پڑا کشکول کبھی دیکھنے تو آ
کمزور ہو گیا ہوں کوئی پوچھتا نہیں
تنہائیوں کا رقص ہے کبھی دیکھنے تو آ
طاہر مسعود مہار (کوٹ سلطان):
وہ ہے نورنگِ موسیقی جیسا
عودِ ہندی کی نغمگی جیسا
اس کی آنکھوں میں ڈوب کر دیکھو
سارا منظر ہے زندگی جیسا
وہ ہے کلیاتِ میر کا عنواں
مرزا غالب کی شاعری جیسا
مشرقی حسن کا مجسم وہ
ولی دکنی کی ریختی جیسا
وہ فنونِ لطیفہ کی ابجد
انگ جس کا کتھا کلی جیسا
وہ جو چلمن کے پار ہالا ہے
ماہِ کامل کی چاندنی جیسا
وہ ہے ٹیگور کی گیتانجلی
غزلِ حافظ شیراز کی جیسا
عمرِ خیام کی رباعی وہ
اور رومی کی مثنوی جیسا
تان سین کا وہ راگ ملہاری
میر خسرو کی راگنی جیسا
ہر زباں کی وہ شاعری طاہر
عربی، اردو بھی فارسی جیسا

عابد کھوکھر (فتح پور):
پرانے گھر دی ہک ہک سل دا نقشہ یاد ہے میکوں
اکھیں کوں بنھ وی چھوڑو تاں اوہ رستہ یاد ہے میکوں
میڈے بابے کو چا چے سئیں ایویں گھر توں ٹرایا ہا
میں نکا ہم مگر ہن تائیں اوہ دِھکا یاد ہے میکوں
میںروندا ہم میڈی امڑی میکوں چم چم سویندی ہئی
میں بڈھڑا تھی گیاں پر قصہ یاد ہے میکوں
اُہ سر تے آئے تاں ساہ نکلئے
اِڈوں ساہ نکلئے اُڈوں آ نکلئے
اُڈوں آ نکلئے تاں راہ نکلئے
اِڈوں راہ نکلئے تاں کیا نکلئے

سمیع نوید (کالاباغ):
مزے کی آپ سے اک بات پوچھنی ہے مجھے
مزے کی بات ہے وہ بات پوچھنی بھی نہیں
خزاں رسیدہ شجر کے اداس پتوں سے
ہر ایک دور کا موسم گریز کرتا ہے

تو بھی اب ہم سے یہ پوچھے گا کدھر جاتے ہیں
تجھ سے ملنے ہی تو جاتے ہیں جدھر جاتے ہیں
ہم کو بزدل تو سمجھتے ہو مگر کیا سمجھو
ایسے حالات میں سب لوگ ہی ڈر جاتے ہیں
ہم کو آوارہ اگر جانو تو پھر تم جانو
ورنہ ہم لوٹ کے تو اپنے ہی گھر جاتے ہیں
اچھی صورت ہی یہاں جلد بگڑ جاتی ہے
اچھے موسم ہی یہاں جلد گزر جاتے ہیں
تم اگر جاؤ بھی تو چھپ کے چلے جاتے ہو
ہم اگر جائیں تو پھر پیشِ نظر جاتے ہیں
تم بکھرنے سے ذرا اور سنور جاتے ہو
ہم سنورنے سے ذرا اور بکھر جاتے ہیں

ملک شجاع شاذ (سیالکوٹ):
طے شدہ عشق سرِ دار نبھانا ہو گا
جو بھی لکھا ہے مرے یار نبھانا ہو گا
تم نے دیوانے کو ہنستے ہوئے دیکھا ہے کبھی
اب کہانی میں یہ کردار نبھانا ہو گا
وہ جو اک شخص پراسرار نظر آتا ہے
میری وحشت کا خریدار نظر آتا ہے
دلِ درویش صفت شور نہ کر چپ ہو جا
جب تو روتا ہے گنہ گار نظر آتا ہے
یا کسی اور کے ہیں نقش مرے چہرے پر
یا مجھے آئینے کے پار نظر آتا ہے
جب سے میں تیرا طلبگار ہوا ہوں اے دوست
ہر کوئی میرا طلب گار نظر آتا ہے
دکھ تو یہ ہے وہ مرے ساتھ نہیں رہ سکتا
جو مرے ساتھ لگاتار نظر آتا ہے
جو ترے شہر میں بنیادِ محبت تھا شاذ
آج وہ شخص بھی مسمار نظر آتا ہے

شہزاد شہظل (کوٹ ادو):
اپنے ہر ظلم کو یہ اپنا ہنر گنتے ہیں
آج کے شمر بھی کا ٹے ہوے سر گنتے ہیں
ہم کو پاگل نہ کہیں لوگ تو کیا اور کہیں
ہم جو صحراؤں میں پھرتے ہیں شجر گنتے ہیں

افضل صفی (مظفرگڑھ):
دستار بچاتا ہوں تو سر بچ نہیں سکتا
اس کربِ مسلسل میں ہنر بچ نہیں سکتا
ہر موڑ پہ میں مدمقابل ہوں صفی کے
بچتا ہوں بہت خود سے مگر بچ نہیں سکتا

عکس کھل جاتا ہے لیکن دائرہ کھلتا نہیں
سامنے چہرہ نہ ہو تو آئینہ کھلتا نہیں
روپ سے محروم بینائی پہ منظر کیا کھلے
آنکھ کی دہلیز پہ تو رت جگا کھلتا نہیں
مصلحت کے جگنوئوں کو ساتھ رکھتے ہیں میاں
رنجشوں کے درمیاں تو راستہ کھلتا نہیں
زندگی اور موت دونوں ہی انوکھے بھید ہیں
ایک کھل جاتا ہے لیکن دوسرا کھلتا نہیں
عشق سے واقف نہیں ہے نکتہ چیں تیرا صفی
شعر کیا کھلتا کہ اس پر قافیہ کھلتا نہیں

شوکت عاجز (کوٹ ادو):
توں حاکم ہیں بے حالاں دا توں کیا سوچئے
انھاں کاغذ چندے بالاں دا توں کیا سوچئے
جیہڑے ڈکھ درداں وچ لنگھدے پئے ہن شوکت دے
اونھاں ڈینہاں، ہفتاں، سالاں دا توں کیا سوچئے

اساں ٹر ٹر اوکھیاں راہواں تے بے حال تھیوسے کیا پچھدئیں
اساں سب کجھ چھوڑ کے بس اوندھے دکھ نال تھیوسے کیا پچھدئیں
اساں دھپ تے سڑ کے چھاں کیتی اوندھی ڈھال تھیوسے کیا پچھدئیں
اساں چُن دے چُن دے ڈکھ شوکت ڈکھ پال تھیوسے کیا پچھدئیں

عمر تنہا (فتح پور):
میں پانی جب بھی دیکھوں تو لہو آ نکھوں میں آ تا ہے
مجھے ہر گھونٹ میں کر بل ہمیشہ یاد آ تا ہے

حسینی عزم سینے میں سدا بیدار رہتا ہے
یزیدِ وقت کی بیعت کبھی میں کر نہیں سکتا
مرے شعروں میں کربل کا نمایاں عکس ملتا ہے
مری تخلیق ایسی ہے میں تنہاؔ مر نہیں سکتا

ہم تو وہ ہیں کہ جن کی آنکھوں میں
زندگی کا سراغ ملتا ہو
ہم تو وہ ہیں کہ جن کے سینے میں
دل کے بدلے وفا دھڑکتی ہو
ہم تو وہ ہیں کہ جن کے لفظوں سے
سب کو چاہت کی باس آتی ہو
بعد مرنے کے خون کے آنسو
ہم کو کامل یقیں رلائے گا
ہم کو کیسے کوئی بھلائے گا

قیصر عباس صابر (ملتان):
یہ خوف جان ہتھیلی پہ ہے دعا کرنا
بلا کی آنکھ حویلی پہ ہے دعا کرنا
بوجھ لوں تو سلامت وگرنہ سر دے دوں
حیات و موت پہیلی پہ ہے دعا کرنا

ظفر حسین ظفر (لیہ):
مشکلوں کا ہے موجزن دریا
قوم کے ہاتھ میں ہے بھیڑ کی دم
دیکھیے پار کیسے لگتے ہیں
جھوٹی جمہوریت کے متوالے
کچھ تو رکھتے بھرم ترانے کا
اس ریاست کے بھیڑیے سارے
خون پیتے رہے خزانے کا
آبروئے وطن یہ کیا جانیں
کتنی ذلت سے لوگ جیتے ہیں
آپ ساروں کی حکمرانی میں
کتنی لاشیں اٹھائی ہیں ہم نے
کتنی شمعیں جلائی ہیں ہم نے
شیعہ سنی کی جگ ہنسائی میں
بش اسامہ کی اس لڑائی میں
کتنی جانیں گنوائی ہیں ہم نے
اتنی قربانیوں پہ بنیے سے
اپنا کشمیر چھین لیتے ہم

ان کے علاوہ شعراء کرام عتیق گرواںاور انس ظفر نے بھی اپنا کلام پیش کیا اور سامعین سے داد سمیٹی۔
ززز

تواضع

مشاعرہ سے قبل، تقریباً دوبجے مہمانانِ گرامی و کانفرنس میں شریک سامعین و ناظرین کی چائے اور دیگر لوازمات سے خاطر خواہ تواضع کی گئی۔ اس موقع پر تمام قلم کار حضرات اور کانفرنس کے تمام شرکاء نے چائے سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف گروپس کی شکل میں فوٹو گراف بنائے۔ ہر طرف کیمروں کی فلش لائٹس چمک رہی تھیں۔کالج کے ایڈمن بلاک کی وسیع چھت پر لائبریری کے پہلو میں اس محفل کا بندوبست کیا گیا تھا۔ سردیوں کی چمکیلی دھوپ اور یخ بستہ ہوا میں چائے کے ساتھ سموسے، پکوڑے، مٹھائی، نمکو اور بیکری لوازمات پیش کیے گئے ۔ اس دوران قلم کار خوش گپیاں لگاتے رہے، اپنے اپنے ادبی حلقوں کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے رہے اور تصاویر کے ذریعے اپنی ان ملاقاتوں کو محفوظ کرتے رہے۔

ززز

ناخوشگوار واقعہ

پہلی اُردو کانفرنس 2017ء چوک اعظم میں شرکت کیلئے بہ اصرارِ خاص ڈسکہ (پنجاب) سےمعروف شاعر افتخار شاہد، امین شاد، شبیر بلو اور نصیر احمد تشریف لائے۔ بدقسمتی سے 8 جنوری کی صبح افتخار شاہد صاحب طویل سفر اور آب و ہوا کے تغیر کے سبب شدید علیل ہو گئے۔ انہیں ہیضہ کا مرض لاحق ہو گیا جس کے سبب انہیں ہاسپٹل داخل ہونا پڑا۔ ان کی طبیعت قدرے سنبھل گئی مگر وہ اس قابل نہ ہو سکے کہ کانفرنس میں شرکت کرتے۔ مشاعرہ کے آغاز سے قبل انہوں نے بہ امرِ مجبوری واپسی کا قصد کیا جس کی وجہ سے وہ مشاعرہ میں اپنا کلام نہ پیش کر سکے۔
یار زندہ صحبت باقی!

سوشل میڈیا (فیس بک) پر شائع ہونے والاخالد ندیم شانی کا محبت بھرا اسٹیٹس (روئیداد)

پہلی اردو سخن کانفرنس چوک اعظم
خالد ندیم شانی ( عیسیٰ خیل)

میانوالی سے روانہ ہوئے تو ہم چار تھے . میں، سمیع نوید، شاکر خان اور مظہر نیازی۔ دورانِ سفر ہر پندرہ منٹ بعد عمار یاسر کی کال آتی اور ہمیںسرشار کرتی۔ وہ پوچھتا ’’ کہاں پہنچے ہو یار؟‘‘۔ حالانکہ وہ خود بھی ابھی راستے میں تھا ۔چوک اعظم میں رات ہو چلی تھی جب ہم وہاں طلوع ہوئے۔اردو سخن ڈاٹ کام کے آفس میں ندیم اختر، شبیر قریشی، عمار یاسرمگسی اور ناصر ملک کا والہانہ اور دلبرانہ استقبال دیدنی تھا۔ وہاں کچھ دیر بعد جبار واصف محترم اعتبار ساجد کے ہمراہ آ پہنچے ۔یہ جبار واصف سے میری پہلی اور اعتبار ساجد صاحب سے میری دوسری خوشگوار ملاقات تھی۔کچھ لمحے تو یہیں محفل جمی پھر اس قافلے کوعنایت ریسٹ ہاؤس چوک اعظم لے جایا گیا جہاں اعتبار ساجد صاحب اپنی یادوں کے باغیچے سے خوشبو کشید کر کے ہماری سماعتوں کو تا دیر معطر کرتے رہے۔کچھ دیربعد ڈسکہ سے امین شاد،شبیر بلو، نصیر احمد اور افتخار شاہد کا قافلہ بھی وہیں آ پہنچا ۔ان کے بعد محبوب صابر کےشہر سیالکوٹ سے شجاع شاذ بھی آ گئے۔عدم، طفیل ہوشیار پوری، فیض، فراز، عباس تابش، ناصر کاظمی، میر اور غالب ہمارے ساتھ رات گئے تک جاگتے رہے ۔جب سب نے آرام کا فیصلہ کیا تو شاکر خان، عمار یاسر، سمیع نوید، مظہر نیازی، شجاع شاذ، ناصر ملک اور میں الگ کمرے میں آ گئے۔ یہاں اس طوفان بدتمیزی کا آغاز ہوا جو ہم یاروں کا خاصہ ہے ۔عمار یاسر نے حسبِ روایت اساتذہ کے مصرعوں کی ایسی ایسی پیروڈیاں کیں کہ ویرانہ قہقہوں سے آباد ہو گیا ۔چائے اورلطائف کے بعد شاعری کا دور چلا ۔شاکر خان، عمار یاسر اور شجاع شاذ کی غزلوں نے سرشار کر دیا تو رات کے آخری پہر ہم سب نے مظہر نیازی بھائی سے ترنم کے ساتھ کلام کی فرمائش کی۔ شاعری اور سر ایک ساتھ محو رقص ہو گئے ۔
صبح ناشتے کی میز پر میں ڈر رہا تھا کہ ہماری رات کی ہڑبونگ پر اعتبار ساجد صاحب ضرور سرزنش کریں گے مگر انھوں نے کہا ’’ بھئی یہی تو زندگی ہے … مجھے بہت اچھا لگا ‘‘ تو میرا دل باغ باغ ہو گیا۔ بھرپور ناشتے کے بعد ہم سب کانفرنس کے لیے گورنمنٹ گرلز کالج چوک اعظم پہنچے تو لان میں بہت سے ادباء پہلے سے موجود تھے ۔ جناب اشو لال، افضل صفی، افضل چوہان، رضی الدین رضی ،ریاض راہی، سلیم اختر ندیم اور کچھ اجنبی دوست۔جنوری کی دھوپ اور اشو لال فقیر کی پر لطف گفتگو یکساں طور پر دلوں کو گرماتی رہی۔ ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ اچانک گورنمنٹ گرلز کالج کے در و دیوار جھوم اٹھے۔ ہوا نے کان میں سرگوشی کی ’’ وہ دیکھو کون آیا ہے؟‘‘
میں نے فورا” پلٹ کے دیکھا ۔ جناب حامد سراج کو لیے ناصر ملک ہماری طرف آ رہے تھے ۔لان ان کے بیٹھتے ہی رنگوں سے بھر گیا ۔میں نے محترم حامد سراج ایسا مکمل ادیب اور کوئی نہیں دیکھا ۔ ان کو پڑھنے والے انھیں لفظوں کا جادوگر سمجھتے ہیں لیکن ان سے ملنے والے ہی جانتے ہیں کہ ان کی شخصیت کا سحر کتنا قاتل ہے ۔
کانفرنس کا آغاز دس بجے کے بجائے بارہ بجےکلام پاک اور نعت رسولؐ سے ہوا۔کانفرنس کے چار سیشن تھے ۔ پہلا سیشن دو کتابوں کی رونمائی، جبار واصف کا مجموعہ کلام ’’ میری آنکھوں میں کتنا پانی ہے’’ اور صابر عطا کی کتاب ’’ باتیں ملاقاتیں ‘‘ کی تقاریب منعقد ہوئیں۔ دوسرا سیشن اردو سخن ایوارڈ کا تعارفی سیشن تھا ۔ تیسرا سیشن بچوں کے ادب پر مشتمل تھا جبکہ چوتھا سیشن محفل مشاعرہ کی صورت میں انعقاد پذیر ہونے والا تھا۔
کانفرنس روم کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ جبار واصف کی کتاب پر گفتگو شروع ہوئی تو میں اسٹیج بینر پر موجود تصاویرکو دیکھنے میں مگن ہو گیا کہ دیکھوں کہ کون کون نہیں آیا؟ پہلی نظر توقیر عباس پر پڑی ۔ میں نے اس سے کہا ’’ مجھے پتہ تھا تو نہیں آئےگا‘‘۔ دوسری نظر عاطف مرزا پر پڑی۔ میں نے کہا ’’ مرزایار! تیرا تو مجھے ناصر ملک نے یقین دلایا تھا کہ وہ تو ضرور آئے گا۔‘‘ عاطف مرزا سے میں نے بہت سی باتیں کیں جو یہاں لکھوں تو آپ ہنسیں گے اور عاطف مرزا اپنی رجمنٹ لے کر مجھ پہ حملہ آور ہو جائے گا۔ خیر یار زندہ صحبت باقی۔۔۔ پہلے سیشن میں دو افراد نے قابل ذکر بات چیت کی .
جناب رائو احمد سجاد بابر، جناب ناصر ملک اور جناب اعتبار ساجد نے جبار واصف کی کتاب پر سیر حاصل گفتگو کی اور یہ ساری گفتگو نستعلیق اردو اور خلوص سے بھری ہوئی تھی۔ جناب عمران میر اور جناب منور بلوچ نے صابر عطا کی کتاب پر بھرپور مقالہ پیش کیا ۔ مقالہ جات کے بعد کتابوں کی باقاعدہ رونمائی کی گئی۔دوسرا سیشن اردو سخن ایوارڈ کا تعارفی سیشن تھا جس میں ڈسکہ کے اولیں انعام یافتہ شاعر امین شاد نے اردو سخن ایوارڈ کا تعارف پیش کیا اور ڈاکٹر اسلم جمشید پوری اور امجد جاوید کو ایوارڈ کے حصول کی مبارک باد پیش کی۔ تیسرا سیشن شروع ہی ہوا تھا کہ مجھے موبائل پر میسج موصول ہوا ’’یار! پیچھے مڑ کر بھی دیکھ لیا کرو۔‘‘ فون نمبر توقیر عباس کا تھا۔ میں نے جھٹ سے پیچھے مڑ کر دیکھا تو توقیر آخری نشست پر اپنی اونی ٹوپی میں لپٹا بیٹھا تھا ۔ میں فورا” اٹھ کر اس کے پاس گیا اور ساتھ ہی سمیع نوید، شاکر خان، مظہر نیازی اور عمار یاسر کو پیغام بھجوایا کہ باہر آ جاؤ توقیر عباس صاحب تشریف لا چکے ہیں۔ہم سب اٹھ کر باہر آ گئے ۔توقیر ہمارا بہت بیبا دوست ہے۔اس کی شخصیت کو اگر ایک فقرے میں بیان کرنا ہو کہ کون توقیر عباس ؟تو میں کہوں گا ’’ مستقل مسکراہٹ ضرب مستقل بہار برابر ہے توقیر عباس۔‘‘
گرلز کالج کے ایک کلاس روم میں ہم دوستوں نے تب تک گپیں ہانکیں ،سیلفیاں بنائیں جب تک ہمیں یہ خبر نہ ہو گئی کہ کانفرنس میں چائے کا وقفہ ہو گیا ہے ۔ چائے ، سموسے، بسکٹ، مٹھائی، ناصر ملک، ندیم اختر اور شبیر قریشی صاحب کے ڈھیر سارے خلوص سے ہماری تواضع کی گئی ۔اب باری تھی جناب حامد سراج کے صدارتی خطبے کی جس کا ہمیں شدت سے انتظار تھا۔
حامد سراج صاحب نے بولنا شروع کیا تو کانفرنس میں موجود ہر فرد ہمہ تن گوش تھا ۔لفظوں کی ایک آبشار تھی جس نے سبھی کو بھگو دیا۔ موجودہ پاکستانی حالات اور ہماری ذمہ داری پر ان کی مدلل گفتگو جب تمام ہوئی تو سبھی کی آنکھوں میں پانی تھا۔
چوتھا اور آخری سیشن مشاعرے کا تھا ۔پہلی اردو سخن کانفرنس کا یہ پہلا غیر روایتی مشاعرہ تھا جس میں مقامی شعراء کو بعد میں اور مہمانوں کو پہلے دعوت کلام دی گئی کہ جس مہمان کو جانے کی جلدی ہو اسے پریشانی نہ ہو۔مشاعرے کی نظامت معروف صحافی اور شاعر صابر عطا کے حصے میں آئی اور صدارت محترم اعتبار ساجد نے فرمائی ۔رضی الدین رضی، ریاض راہی، اشو لال فقیر، منور بلوچ، افضل چوہان، رانا محمد افضل ، جبار واصف و دیگر ممتاز شاعر اسٹیج پر جلوہ افروز تھے۔ مشاعرے میں تمام شعراء نے خوبصورت کلام پیش کیا اور خوب داد سمیٹی۔ساڑھے پانچ بجے یہ مشاعرہ اپنے اختتام کو پہنچا اور ہم لوگ ناصر ملک ، ندیم اختر اور شبیر اختر قریشی کی محبتوں اورخلوص سے سرشار اپنے گھروں کو روانہ ہوئے۔
اس کامیاب اور یادگار کانفرنس کے انعقاد پر ناصر ملک، ندیم اختر اور شبیر قریشی صاحب مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اللہ ان کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔

Viewers: 2154
Share