امین شاد ۔۔۔ اب ہم میں نہیں رہے

 آہ ۔۔۔۔ امین شاد ۔۔۔ اب ہم میں نہیں رہے
کیا رشتے اسی طرح وقت برد ہو جایا کرتے ہیں؟!!
دو فروری 2017ء کی شب 10 بجے دل کا دورہ ان کیلئے جان لیوا ثابت ہوا

وہ کیوں مر گیا؟ ۔۔۔۔۔۔ مرنے کیلئے طبعی عمر کے اختتام کا انتظار اُس نے کیوں نہیں کیا؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کیا مرنے کیلئے طبعی عمر کا انجام ضروری ہے؟

ہاں ۔۔۔۔ ضروری ہے۔ کل نفس ذائقۃ الموت کا فلسفہ یہی بتاتا ہے کہ ہر ذی نفس کو مرنا ہے، تاآنکہ وہ اپنی جان کی حفاظت کرتا رہے، جیتا رہے اور زندگی سے لطف اندوز ہوتا رہے ۔۔۔۔۔۔ تو طبعی عمر کیا ہے؟۔۔۔۔۔۔ طبعی عمر اگر 60 سال ہے تو کیا اس شخص کی طبعی عمر پوری ہو جاتی ہے جو 30 سالوں میں 60 سالوں کا مجوزہ کام پورا کر چکا ہوتا ہے؟اس لحاظ سے امین شاد تو اپنی جوانی میں ہی طبعی عمر پوری کر چکا تھا۔ پھر وہ کئی سال موت کا انتظار کیوں کرتا رہا؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یا موت اس سے گریزاں کیوں رہی؟

07ہاں! وہ زندہ تھا بھی کہ نہیں، مگر ہمارے درمیان اس کا وجود ایستادہ تھا۔ اس کے زندہ شعروں کی صورت میں، اس کی تخلیقات کی صورت میں، اس کی شعری کتب کی شکل میں ۔۔۔۔۔۔ لامتناہی غربت میں وہ شہنشاہ مزاج انسان کتنا دلیر تھا کہ جس کے ہونٹوں پر ایک جواں سال مسکراہٹ ہمیشہ میرا استقبال کرتی رہی۔ وہ ڈسکہ میں رہتا تھا مگر مجھے اپنے اطراف میں محسوس ہوتا رہتا تھا۔ اس نے اپنے شعروں کی صورت اپنے ننھے سے گھر کو جنت نما بنا رکھا تھا، مسکراہٹوں سے، قہقہوں سے اور اپنی بیٹیوں کی نازبرداریوں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افتخار شاہد اور شبیر بلو سے ہمہ وقت مائل بہ جنگ ۔۔۔۔۔۔۔ ان کے بغیر رہنے کا تصور بھی مگر نہ تھا اس کے ہاں ۔۔۔۔۔۔ شعروں کی ساخت، ہئیت اور ندرتا پر مائل بہ تکرار ۔۔۔۔۔۔ اسے کتنا مان تھا اپنے شعروں پر، اپنے لفظوں پر اور اپنے معصوم خیالات پر ۔۔۔۔۔۔۔۔

کل رات 11 بجے سیالکوٹ سے ڈاکٹر شیراز مسعود ہاشمی نے فون پر جب کہا کہ ناصر بھائی آپ کیلئے بری خبر ہے، اور خبر یہ ہے کہ امین شاد ہمیں چھوڑ گئے ہیں۔ سانس سینے میں گھٹ گئی۔ کوئی جواب نہ سوجھا ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر، جو ہر وقت موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر زندگی کا ساتھ دیتا ہے، اس کا لہجہ موت کی خبر سناتے ہوئے بھرایا ہوا کیوں تھا؟

اپنی بیٹیوں اور اکلوتے بیٹے کیلئے ہر وقت مضطرب رہنے والا امین شاد اتنا پرسکون ہو گیا ہے کہ اسے موسم، دوست، آواز، الفاظ اور محبت کا احساس بھی نہیں رہا۔ مگر یہ کیسے ممکن ہے؟ امین شاد نے 8 جنوری 2017ء کو پہلی اردو سخن کانفرنس کے موقع پر مجھے کہا تھا کہ مجھے وقت کی کمی اور افتخار شاہد کی ناسازی ءِ طبیعت کے سبب چوک اعظم یاترا کا مزہ نہیں آیا۔ میں عنقریب آئوں گا ۔۔۔۔۔ دو چار دن یہاں گھوموں گا ۔۔۔۔۔ تھل دیکھوں گا ۔۔۔۔۔

امین شاد ۔۔۔۔۔ سعد نے ڈسکہ سے میرا رشتہ جوڑا تھا۔ امین شاد نے اس رشتے کی آبیاری کی۔ سعد نہیں رہا، شاد نہیں رہے، میں نہیں رہوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو کیا رشتے اسی طرح وقت برد ہو جایا کرتے ہیں؟

(ناصر ملک)

Viewers: 108
Share