Shab Guzeedah | ناصر ملک کا افسانہ ۔۔۔۔ شب گزیدہ

شب گزیدہ ناصر ملک ’’صاحب جی! آپ کے پائوںدبا دوں؟‘‘ ’’کیوں؟‘‘ میں نے حیرانی سے دریافت کیا ’’کیا ہوا میرے پیروں کو؟‘‘ ’’تم اتنی دور سے آئے ہو، تھک گئے […]

شب گزیدہ
ناصر ملک

’’صاحب جی! آپ کے پائوںدبا دوں؟‘‘
’’کیوں؟‘‘ میں نے حیرانی سے دریافت کیا ’’کیا ہوا میرے پیروں کو؟‘‘
’’تم اتنی دور سے آئے ہو، تھک گئے ہوگے ناں!‘‘
میں نے اس کی معصوم سی توجیہہ سنی ان سنی کردی۔ اس وقت کھانا کھا کر لیٹ چکا تھا اور وہ میرے سامنے کرسی پر بیٹھی بڑی معصومیت سے پیردبانے کیلئے دریافت کررہی تھی۔ پندرہ سولہ سال کی یہ خوبصورت سی بچی جو اب تک شہر کی مکر و فریب سے آلودہ فضا سے محفوظ رہی تھی، لیلیٰ تھی۔ اس کا بابا اس ڈاک بنگلے کا چوکیدار تھا جو کسی کام کے سلسلے میں شہر گیا ہوا تھا۔ سیدو شہر یہاں سے تقریباً تیس چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ اس دور افتادہ ڈاک بنگلے میں ویسے بھی کم افسران قیام کرتے تھے۔ کبھی کبھار کوئی آگیا تو آگیا ۔
میں بھی مجبوراً ہی ادھر آنکلا تھا۔

nightمیں دوائیوں کی جس فرم میں کام کرتا تھا اس کے ڈسٹری بیوٹر نے یہ رپورٹ بھیجی تھی کہ ہیڈ آفس سے آنے والے دوائیوں سے بھرے ٹرک میں موجود تمام ادویات ٹرک والے کی بے احتیاطی کی وجہ سے اور کچھ اچانک ہونے والی بارش کی وجہ سے خراب ہوگئی ہیں۔ اب اسے ضائع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ فرم مال ضائع ہونے کی بدولت ہونے والے حتمی چار پانچ لاکھ روپے کے نقصان کو برداشت کرنے کیلئے تیار تھی مگر تصدیق بھی لازمی تھی۔ اس کام کیلئے مجھے اس قہر کی سردی میں سیدوشریف کے اس دورافتادہ علاقے میں آنا پڑا۔ اس سالخورہ ڈاک بنگلے میں قیام کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
’’میں بہت اچھے پیر دباتی ہوں۔ ساری تھکن اتر جائے گی۔‘‘ اس نے مجھے خاموش دیکھ کر کہا۔ شاید اس بے چاری کو اس خدمت کے عوض کچھ پیسے ملنے کی توقع رہی ہو اور اسی لالچ پر وہ پیردبانے پر مصر تھی مگر مجھے پیردبوانے کی ہرگز عادت نہیں تھی۔ جس زندگی کو اس نے بسر کرنا شروع کیا تھا، وہاں یہی چلتا تھا۔ میں ان معاشی ناہمواریوں سے سخت نالاں تھا۔ میں خود بھی تو کچھ عرصہ قبل ہی امارت اور غربت کی جنگ سے عمربھر نبردآزما رہنے کے بعدقدرے فتح یاب ہوا تھا۔ زمانۂ طالب علمی میں طبقاتی تفریق کے خلاف تقریروں میں کافی نام کما چکا تھا۔ اگر شائستہمیری زندگی میں نہ داخل ہوتی تو میں ایم بی اے کی بجائے سیاسی میدان کی طرف جانکلتا اور الیکشن لڑتا پھرتا یا پھر الیکشن لڑنے والوں کا آلۂ کار بن کرمارا مارا پھرتا۔ وہ امیر گھر کی بیٹی تھی۔ سیٹھ منور حسین صاحب کی اس لاڈلی بیٹی نے مجھے کچھ اس طرح اپنے حصار میں جکڑا تھا کہ میں اپنے لئے کچھ بھی نہ کرسکا اور پیروں پر کھڑا ہونے کیلئے مجھے ملازمت اختیار کرنا پڑی۔
لیلیٰ خاموشی سے میری جانب دیکھ رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ شاید میرا انکار اسے اچھا نہیں لگا اس لئے افسردہ ہوگئی ہے۔ میں نے اس کی اس کیفیت کو ختم کرنے کیلئے کہا ’’پہلی بات تو یہ ہے کہ میں ہرگز تھکا ہوا نہیں ہوں اور دوسری بات یہ کہ اگر میں تھکا ہوا ہوتا بھی تو تم سے پیر نہ دبواتا۔‘‘
’’کیوں بابو؟‘‘ وہ اچنبھے سے بولی’’کیا میں تمہیں اچھی نہیں لگی ؟‘‘
’’تم تو بہت اچھی ہو لیلیٰ!‘‘ میں نے ایک طویل سانس لے کر کہا ’’بھلا کبھی بھائیوں نے بھی اپنی بہنوں سے پیر دبوائے ہیں؟‘‘
اس نے اچانک سراُٹھا کر مجھے دیکھا۔ میں اس کی آنکھوں میں تیرتی ہوئی حیرانی کو کوئی مفہوم نہ دے سکا۔ اک عجیب سی نامانوسی کمرے کی فضا پر مسلط ہوگئی۔
’’کیا تم نے واقعی مجھے بہن کہا ہے؟‘‘ اس کا حیران اور مرتعش سا لہجہ میری فہم سے بالاتر تھا۔
’’کیا تمہیں کوئی اعتراض ہے؟‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔
وہ خاموشی سے بیٹھی اپنے ناخنوں سے کھیلتی رہی۔ چہرے پر کشمکش کے آثار صاف دکھائی دے رہے تھے۔
وہ قہوہ بنا کر لائی تو اس نے کہا ’’بابوجی!…… قہوہ پی لو۔‘‘
میں نے کپ تھاما اور قہوے کا گھونٹ حلق میں اتارا۔
وہ مجھے بہت اچھی لگی تھی۔ پھول سی! مجھے اس سے عجیب سی انسیت پیدا ہونے لگی تھی۔ کوئی لازم تو نہیں کہ محبت صرف محبوبہ ہی کے حصے میں آتی ہے۔ کچھ اور رشتے بھی ہوتے ہیں جو انتہائی معتبر ہوتے ہیں۔ وہ میری کچھ نہ تھی مگر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہم نے ایک ہی ماں کے بطن سے جنم لیا تھا۔ اس کی من موہنی اور معصوم سی صورت میری آنکھوں کے رستے دماغ کے دریں خانوں میں ثبت ہورہی تھی۔ مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے میں برسوں سے اس شکل کا عادی ہوں۔
وہ باتیں کرتے کرتے کھو سی جاتی تھی۔ خلائوں میں دیکھتی تھی۔ یہ بات اس کی عمر سے قطعی طور پر میل نہ رکھتی تھی۔ پندرہ سولہ کے سن میں یہ فلسفیانہ انداز بہت عجیب لگتا تھا۔
میں چائے کا عادی تھا۔ کافی یا قہوہ مجھے اچھا نہیں لگتا تھا۔ تبھی میں نے اس سے پوچھا’’کیا یہاں دودھ مل سکتا ہے؟‘‘
’’دودھ پینا ہے؟‘‘
’’نہیں چائے پینے کا ارادہ ہے۔‘‘ میں نے کہا ’’کیا یہاں یہ انتظام ہوسکتا ہے؟‘‘
’’وہ بھی چائے کا عادی تھا۔‘‘
اس کے منہ سے یہ الفاظ بے ساختگی سے نکلے۔ میں نے چونک کر پوچھا’’وہ کون؟‘‘
’’تھا ایک……‘‘ اس نے کہا ’’بابوجی! یہاں پتہ نہیں کتنے لوگ آتے جاتے رہتے ہیں ۔ وہ بھی ان میں سے کوئی تھا۔‘‘
اس نے بات کو غیر اہم بنا کر بات ٹال دی۔
’’میں ابھی آئی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھی اور میرے روکتے روکتے قلانچیں بھرتی ہوئی باہر کی طرف بھاگ گئی۔ اس کے روئیں روئیں میں بچپنے کی چوڑیاں کھنک رہی تھیں۔ تصنع یا کسی قسم کی بھی بناوٹ کا اس کی ذات میں شائبہ تک نہیں تھا۔ شہر میں رہنے والی اس عمر کی لڑکیاں اپنی عمر سے کہیں بڑی ہوتی ہیں اور ان میں نسوانی ادائیں رچ چکی ہوتی ہیں جو ان کے بچپنے کی معصومت کو نگل جاتی ہیں۔ وہ انسانوں کے نام نہاد معاشرے سے کہیں دور …تصنع کی بستی سے کہیں باہر… نہائت قدرتی ماحول کی پروردہ تھی جس نے ابھی دو چار سال اور بھی بچپنے کی معصومیت ، لاپرواہی اور من چلی کیفیت سے لطف اندوز ہونا تھا۔
مقامی زبان میں ’’لالہ‘‘ بڑے بھائی کو کہا جاتا تھا۔ وہ بھی مجھے اب لالہ کہنے لگی تھی۔ بہن بھائی کا رشتہ ہی ایسا ہوتا ہے کہ خواہ کسی بھی زبان میں کسی کو بہن یا بھائی کہا جائے، خواہ کسی بھی معاشرے اور ثقافت میں کسی کو بہن کا پیار دیا جائے یا بھائی ہونے کا احساس دلایا جائے، اچھا لگتا ہے۔ وہ میری بہن بن کر مجھے زندگی کی اک نئی جہت سے آگاہ کررہی تھی۔
میں اسے آوازیں دیتا ہی رہ گیا۔ ’’عجیب جذباتی لڑکی ہے!‘‘ میں نے سوچا۔ اب شاید وہ چائے کے چکر میں آبادی تک جائے گی۔ مجھے اپنے آپ پر غصہ آنے لگا۔ نہ میں یہ فضول سی فرمائش کرتا اور نہ ہی وہ بے وقوف لڑکی اپنے لالہ کی فرمائش پوری کرنے کیلئے رات کے ا س پہر میں اتنی سردی میں باہر جاتی۔ خود پر لعنت ملامت کرتا ہوں میں باہر برآمدے میں آبیٹھا۔ باہر کا بلب خراب تھا اس لئے باہر روشنی نہیں تھی۔ اس کے باوجود چاندنی میں ہر چیز صاف دکھائی دے رہی تھی۔ لمبے لمبے درختوں کے پیچھے جلنے والی روشنیاں آبادی کا پتہ بتا رہی تھیں۔ ڈاک بنگلہ بنانے والوں کی منطق میری سمجھ سے بالاتر تھی کہ انہوں نے بستی سے اتنی دور ڈاک بنگلہ تعمیر کیا تھا۔ اگر سڑک پر مجھے لیلیٰ نہ مل جاتی تو میں شاید یہاں پہنچ بھی نہ سکتا۔ سوچتے سوچتے خیالات کی رو اُن مشکلات کی طرف مڑ گئی جن سے میں گزر کر یہاں پہنچا تھا۔
پشاور سے صبح سویرے سیدوشریف کیلئے نکلتے ہوئے میں نے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ میرا کن کٹھنائیوں سے پالا پڑے گا۔میں اگر اکیلا نہ ہوتا تو شاید ویگن کے سفر کو ترجیح نہ دیتا۔ سرحد میں سڑکوں کی حالتِ زار کا تذکرہ تو میں سن چکا تھا مگر عملی طور پر اس خستہ حال سڑک سے پہلی مرتبہ واسطہ پڑا تھا۔ ویگن ابھی ادھ رستے میں ہی تھی کہ اس کا ٹائی راڈ ٹوٹ گیا۔ خیریت گزری کہ کسی پہاڑی کھوہ میں گرنے سے بچ گئی ورنہ ہماری ہڈیاں بھی دستیاب نہ ہو پاتیں۔ اب سفر جاری رکھنے کی ایک ہی صورت تھی کہ دوسری ویگن کے آنے کا انتظار کیا جاتا۔ دوسری ویگن آتی تو سفر آغاز ہوتا۔ مقامی باشندوں کیلئے تو یہ معمول کی بات تھی لیکن مجھے سخت کوفت ہورہی تھی۔ ڈرائیور لفٹ لے کر قریب ترین جگہ سے پشاور ٹیلی فون کرنے چلا گیا اور سواریاں خوش گپیوں میں یوں مصروف ہوگئیں جیسے کچھ بھی نہ ہوا ہو۔ میں ایسے میں ماسوائے بور ہونے کے اور کر بھی کیا سکتا تھا،سو ہوتا رہا ۔کئی گھنٹوں کے بعد نئی گاڑی پہنچی اور سفر دوبارہ شروع ہوا۔ لیکن ابھی بمشکل تیس پینتیس کلومیٹر ہی طے ہوئے ہوں گے کہ اس نے بھی فنی خرابی کے باعث آگے جانے سے انکار کردیا۔ ڈرائیور اور کلینر شام ہونے تک اس کی خرابی تلاش کرنے اور ٹھیک کرنے میں جتے رہے۔ آخر کار انہوں نے تھک کر اعلان کردیا کہ گاڑی ٹھیک نہیں ہوسکتی۔ رات میں چونکہ ویسے بھی سفر جاری نہیں رکھا جاسکتا اس لئے تمام سواریاں ساتھ والے گائوں میں چلی جائیں اور رات گزاریں۔ صبح پھر سفر کا آغاز ہوگا۔
میں جتنی جلدی کام نمٹا کر واپس جانے کا خواہاں تھا، میری راہ میں اتنی زیادہ رکاوٹیں حائل ہورہی تھیں اور میرا وقت ضائع ہورہا تھا۔ اس علاقے کی دلکشی مجھے بالکل اچھی نہیں لگ رہی تھی کیونکہ کراچی میں میرے اور شائستہ کے معاملات کا اس کے والد کو علم ہوگیا تھا اور تین دن پہلے انہوں نے مجھے اپنے بھانجے کی راہ سے ہٹ جانے کا مشورہ دیتے ہوئے شائستہ سے دور رہنے کا حکم صادر کیا تھا۔ دوسری صورت میں خطرناک نتائج بھگتنے کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔ خود شائستہ پر انہوں نے ایسی پابندیاں عائد کردی تھیں کہ وہ مجھ سے رابطہ نہ کرسکتی تھی۔ اس کے باوجود وہ کسی نہ کسی طرح مجھ تک اپنا پیغام پہنچا دیتی تھی۔ ان نامساعد حالات میں میرا کراچی میں رہنا بہت ضروری تھا۔ اس لئے میں اس خوبصورت علاقے سے جلد از جلد نکلنے کی کوشش کررہا تھا مگر میری ہر کوشش ناکام ہورہی تھی۔ دو دن کا کام چار دن میں ہوتا دکھائی پڑ رہا تھا۔ دیگر افراد کی طرح مجھے بھی اس گائوں کے مہمان خانے میں رات گزارنا تھی۔ کوئی اور چارہ نہ دیکھ کر مجھے خود کو وہاں رہنے کیلئے آمادہ کرنا پڑا۔
اسی اثناء میں وہاں ایک جیپ آگئی جسے ایک فوجی ڈائیو کررہا تھا۔ میں نے اس کے عقب میں دیکھا تو اور بھی فوجی دکھائی دیے۔ ان کی منت سماجت کرنے پر انہوں نے میری حالت پر ترس کھایا اور مجھے لفٹ دے دی۔ انہوں نے شاید یہ خیال کیا ہو کہ کہاں میں شہری بابو اور کہاں اس دور افتادہ گائوںکا مہمان خانہ جس کے زمین پر بچھے ہوئے بستر سے کہیں میری کمر ہی میرا بوجھ اٹھانے سے انکاری ہوجائے۔ نسبتاً تیز رفتاری سے چلنے کے باوجود پہنچتے پہنچتے رات ہوگئی۔ فوجیوں نے مجھے سیدو سے تیس پینتیس کلومیٹر دور سڑک پر ہی اتار دیا۔
’’وہ سامنے جو روشنیاں نظر آرہی ہیں، وہ ایک گائوں کی ہیں۔ سیدھے چلے جائو۔اس گائوں میں ایک ڈاک بنگلہ ہے۔ کوئی بھی شخص تمہیں ڈاک بنگلے تک پہنچا دے گا۔صبح اٹھ کر پہلی گاڑی سے سیدو چلے جانا۔ ‘‘ ایک فوجی نے مجھے خداحافظ کہتے ہوئے بتایا۔ ڈرائیور نے گاڑی آگے بڑھا دی۔
روشنیاں کافی دور تھیں۔ ابھی چند قدم ہی چلا ہوں گا کہ میری نظر کچھ فاصلے پر جاتی ہوئی لڑکی پر پڑھی۔
’’اے لڑکی! ذرا بات سن۔‘‘
میں نے اسے آواز دی تو وہ رک گئی۔
’’ڈاک بنگلہ کس طرف ہے؟‘‘میں نے پوچھا۔
’’میرے پیچھے پیچھے چلے آئو۔‘‘ اس نے کہا اور ایک طرف چل دی۔ میں اس کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے آدھے گھنٹے میں یہاں پہنچا تھا۔ وہ سارا راستہ باتیں کرتی رہیں اور میں سنتا رہا ۔
’’اچھا ہوا تم آگئے ورنہ اکیلے میں مجھے بہت ڈر لگتا، پہلے ماں تھی تو ٹھیک تھا لیکن جب سے اس کا انتقال ہوا ہے مجھے اکیلے میں بہت ڈر لگتا ہے۔ پتہ نہیں بابا وہاں کیوں رک گیا ہے؟‘‘
وہ مستقل بولتی رہی اور میں اس کی معصوم باتوں سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ سردی کا احساس بھی نہ ہوا۔ مجھے کمرے میں بیٹھا کر وہ یہ کہہ کر گئی تھی کہ میرے لئے کھانا پکانے جارہی ہے لیکن جانے سے پہلے وہ آتش دان میں لکڑیاں جلانا نہیں بھولی تھی۔ کمرہ بھی اجلا اجلا اور صاف ستھرا تھا۔ پرانی طرز کے پلنگ پر بے داغ سفید چادر موجود تھی۔ میں بنگلے کے چوکیدار کی محنت اور نفیس مزاجی کی داد دیتا ہوا غسل خانے میں گھس گیا۔
لیلیٰ کی عمر دیکھتے ہوئے مجھے اچھے کھانے کی تو قع تو بالکل نہ تھی لیکن بھوک اتنی شدید تھی کہ میں منع بھی نہ کرسکا۔ مجھے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا۔ آدھے گھنٹے میں ہی وہ گرم گرم سالن اور روٹیاں لے کر آگئی۔ میرے اصرار کے باوجود وہ میرے ساتھ کھانے میں شریک نہ ہوئی۔
’’میں نے شام کو ہی کھا لیا تھا۔ یہ تو بابا کیلئے رکھا تھا۔ وہ ابھی تک نہیں آیا تو میں تمہارے لئے گرم کرکے لے آئی ہوں۔ ‘‘
’’تمہارا با با کیا کھائے گااب؟‘‘
’’دیر سے آنے والے کوسزا تو ملے گی ناں!‘‘ اس نے مسکرا کر کہا ’’بابو! تم بے فکر ہو کر کھائو۔ میں بابا کیلئے اور ر وٹیاں پکالوں گی جب وہ آئے گا۔‘‘
کھانا صرف بھوک کی شدت کی وجہ سے ہی اچھا نہیں لگ رہا تھا بلکہ وہ واقعی اتنا مزیدار تھا کہ میں نے ایک لقمہ بھی باقی نہ چھوڑا۔ میں نے پوچھا’’یہ کھانا تم نے بنایا ہے؟‘‘
’’تو اور کون بناتا؟‘‘
وہ واقعی سچ کہہ رہی تھی۔ اس کے علاوہ یہاں تھا ہی کون؟۔ اس کے بابا کو اس طرح بچی کو تنہا چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا۔میں نے اپنے تئیں سوچا کہ جب وہ کل آئے گا تو اس سے بات کروں گا۔
’’ارے لالہ! یہاں باہر بیٹھے ہوئے کس کی راہ دیکھ رہے ہو؟‘‘ لیلیٰ کی آواز سن کر میں چونک گیا۔
’’تیری اور کس کی؟‘‘ میں نے مصنوعی غصہ سے اسے دیکھ کر کہا۔
’’میری یا چائے کی؟‘‘ اس نے میرے سامنے تھرماس اور کپ لہراتے ہوئے کہا۔ معصوم سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر اور بھی گہری ہوگئی۔
’’میں آوازیں دیتا رہا اور تم بھاگ گئیں!‘‘ میں نے اپنے بناوٹی غصے کو بمشکل برقرار رکھتے ہوئے کہا۔
’’ارے لالہ! باہر بڑی سردی ہے، ٹھنڈ لگ جائے گی۔اندر چلو، چائے پیو ، آگ تاپو اور پھر غصہ کرنا۔‘‘ وہ ستانے کے موڈ میں تھی۔ مجھے اس کا یہ انداز بہت بھلا لگا۔
’’کاش! یہ واقعی میری بہن ہوتی۔‘‘ میں نے سوچا۔ ’’یا پھر خدا کبھی بیٹی دے تو بالکل ایسی ہی دے۔‘‘
وہ میرا ہاتھ پکڑ کر اندر کھینچ لائی۔ شروع میں تو صرف اس کا دل رکھنے کیلئے بہن کہہ دیا تھا لیکن اس کا برتائو دیکھ کر مجھے اپنی سگی بہن نہ ہونے کااحساس شدت سے ہوا۔ ویسے تو یہ احساس ہم تینوں بھائیوں کو شروع سے ہی تھا لیکن آج لیلیٰ کو دیکھ کر اس میں اضافہ ہوگیا۔
’’ارے لالہ! کیاسوچنے لگ گئے؟ چائے ٹھنڈی ہوجائے گی۔‘‘ وہ چائے تھرماس سے انڈیل کر میرے سامنے رکھ چکی تھی۔
ایک کپ دیکھ کر میں نے پوچھا’’ تم نہیں پیو گی؟‘‘
اس نے نفی میں سر ہلا یا ’’بابا کہتا ہے کہ چائے پینے سے تم کالی ہوجائو گی…‘‘
’’تو کیا ہوا؟‘‘ میں نے چائے کا کپ ہونٹوں سے لگالیا۔ کھانے کی طرح چائے بھی بہت اچھی تھی۔
’’کالی ہوجائوں گی تو مجھ سے کوئی بیاہ جو نہیں کرے گا۔‘‘اس نے یہ بات اتنے معصوم انداز سے کہی کہ میرے منہ سے ہنسی کا فوارہ چھوٹ پڑا۔ شکر ہوا کہ اچھو لگتے لگتے رہ گیا۔
’’پگلی ابھی سے بیاہ کے چکروں میں پڑگئی، ابھی تو تیرے کھیلنے کودنے کے دن ہیں…‘‘
’’میں کہاں چکر میں پڑی ہوں۔ بابا کہتا ہے کہ پندرہ کی ہوئی ہے ایک دو سال میں تیری ذمہ داری سے فارغ ہوجائوں گا۔‘‘ اس نے ایسے کہا جیسے اسے شادی سے کوئی دلچسپی نہ ہو۔
’آنے دے تیرے بابا کو، میں اس سے بات کروں گا۔‘‘ میں نے کہا پھر اچانک مجھے وہ بات یاد آگئی جو مجھے بتاتے بتاتے وہ بات بدل کر بھاگ گئی تھی۔ ’’ارے لیلیٰ! تو نے بتایا نہیں وہ کون تھا؟ وہ جو میری طرح چائے پینے کا عادی تھا۔ ‘‘
میرا سوال سن کر اس کے چہرے کے تاثرات عجیب سے ہوگئے۔ لیکن اگلے ہی لمحے اس نے اپنی بدلتی ہوئی کیفیت پر قابو پالیا اور معمول پر آگئی۔
’’بتائوں گی لالہ! جلدی کاہے کی ہے؟ پہلے کچھ اپنے بارے میں توبتائو…‘‘ اس نے ہاتھ نچا کر کہا۔
’’کیا بتائوں؟‘‘ میں نے حیرانی سے پوچھا۔
’’سب کچھ!‘‘ اس نے کہا ۔
’’تم پوچھتی جائو میں بتاتا جاتا ہوں…‘‘ میں نے کہا۔
’’لالہ! ٹالو مت، ابھی میں چائے لے کر آرہی تھی میں نے سوچا کہ میں نے تمہارے بارے میں تو کچھ پوچھا ہی نہیں اور نہ ہی تم نے بتایا ۔ یہاں تک کہ مجھے تو تمہارا نام بھی معلوم نہیں ہے۔‘‘
’’میرا نام اتنا اچھا بھی نہیں ……‘‘
میں نے اسے چھیڑنے کے سے انداز میں کہا مگر میرے فقرے نے نہ جانے اس پر کیا اثر ڈالا کہ وہ یکدم افسردہ ہوگئی۔ خوشگوار ماحول ایک ساعت میں بدل کر رہ گیا۔
اس میں ایسی کوئی بات ضرور تھی کہ میں متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا، اس کے ملول چہرے پر چھائے غم آلود تاثر کو توڑنے کیلئے میں نے کہنا شروع کیا۔
’’ہم تین بھائی ہیں۔ سب سے بڑا میں خالد، مجھ سے چھوٹا طاہر اور سب سب سے چھوٹا امجد۔ ابا کے انتقال کو دس سال ہوگئے ہیں۔ امی نے سکول کی ملازمت کی اور کچھ ابا کی پنشن سے گھر کی دال روٹی چلائی۔ ہمیں پڑھایا ۔ میں نے ایم بی اے کرکے نوکری کرلی ہے۔ طاہر ایک مہینہ ہوا ہے ڈاکٹر بن گیا ہے اور امجد ابھی میڈیکل کے تھرڈ ائر میں ہے یعنی دو سال کے بعد وہ بھی ڈاکٹر بن جائے گا۔ آیا کچھ سمجھ میں؟‘‘
’’اوربھابھی؟ میرا مطلب ہے …‘‘ شاید اسے مناسب الفاظ نہیں مل سکے تھے اس لئے خاموش ہوگئی۔
’’بھابھی ایک دیو کے قبضے میں ہے۔‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ اس نے نہ سمجھتے ہوئے چونک کر پوچھا۔
’’مطلب یہ ہے کہ جس لڑکی سے میں شادی کرنا چاہتا ہوں ، اس کا باپ لکھ پتی نہیں بلکہ کروڑ پتی ہے۔ میاں بیوی راضی ہیں مگر قاضی ہے کہ روڑے پہ روڑا اٹکائے جارہا ہے۔ دیکھیں! آگے کیا ہوتا ہے؟‘‘
’’اور بھابھی کیا کہتی ہے؟‘‘ اس نے ہتھیلیوں کا پیالا بناکر اس میں اپنا بھولا بھالا چہرہ ٹکاتے ہوئے پوچھا۔
’’شائستہ ہر طرح سے تیار ہے سوائے کورٹ میرج کے؟‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’یہ کورٹ میرج کیا شئے ہے؟‘‘ اس نے اچنبھے سے دریافت کیا۔
’’یعنی گھر سے بھاگ کر عدالت میں جاکر شادی کرنے پر تیار نہیں ہے۔‘‘ میں نے وضاحت کی۔
’’تو اس کا باپ کیوں نہیں مانتا؟‘‘ اس کے چھوٹے سے دماغ میں طبقاتی تقسیم کا مسئلہ کسی طور پر نہیں سمارہا تھا۔ ’’تم اتنے خوبصورت ہو اور امیر بھی ہو۔ شاید بہت بڑے افسر بھی ہو۔‘‘
’’ارے پاگل! شائستہ کا باپ اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی اپنے جیسے کسی امیر آدمی کے بیٹے سے کرنا چاہتا ہے ناں کہ مجھ جیسے کنگلے اور ایک عام سی استانی کے بیٹے سے ۔اسے یقین کی حد تک شبہ ہے کہ میں اس کی دولت ہتھیانے کیلئے اس کی بیٹی کو پھانس کر شادی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ ‘‘ میں نے اسے سمجھانے کے سے انداز میں کہا۔
’’اچھا تو یہ بات ہے!‘‘ اس نے بڑی بوڑھیوں کے سے انداز میں کہا۔ ’’لالہ ! تمہیں شائستہ بہت اچھی لگتی ہوگی۔‘‘
اس کے اس سوال پر میرا جی چاہا کہ اس سے پوچھوں کہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو کیا مجھے کسی پاگل کتے نے کاٹا تھا کہ میں اتنے بڑے سرمایہ دار سے ٹکرا گیا تھا؟ لیکن میں نے اس سے یہ نہیں کہا بلکہ کچھ بھی کہنے سے احتراز کیا۔ کیونکہ اس کی شعوری سطح بہت کم تھی۔
’’اچھا میں سمجھ گئی۔‘‘ اس نے ایسے کہا جیسے بہت بڑی دانشور ہو۔ ’’لیکن فرض کرو لالہ! اگر تمہاری اس سے شادی نہ ہوئی تو؟‘‘
اس کا سوال واجبی اور نہایت رسمی تھا مگر میں یہ بات کسی بھی حال میں کسی کے منہ سے سننے کا روادار نہ تھا۔
’’تب میں خودکشی کرلوں گا اور شاید شائستہ بھی ایسا ہی کرے!‘‘ میں نے کہا۔ میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ بری طرح تڑپ اٹھی۔
’’نہ لالہ! ناں، یہ کبھی مت کرنا۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے ، یہ اسے بھی سمجھا دینا۔ اللہ نے چاہا تو سب ٹھیک ہوجائے گا لیکن لالہ! ایسا منحوس لفظ دوبارہ کبھی بھی اپنے منہ سے نہ نکالنا۔‘‘ وہ کرسی سے اٹھی اورعین میرے سامنے آکر بیٹھ گئی۔ ’’وعدہ کرو لالہ! تم آئندہ ایسا خیال بھی دل میں نہ لائوگے۔‘‘
وہ یکایک بے چین سی ہوگئی تھی۔ میں نے سوچا، بہن بھی کتنی عجیب نعمت ہوتی ہے۔ نہ کوئی ملمع، نہ پیوند۔ بالکل پہاڑی چشمے کے پانی کی طرح شفاف محبت!نہ جانے اوپر والے کی کیا مصلحت تھی کہ اس نے ہمیں دنیا کی اس بے بدل شئے سے محروم رکھا تھا۔ میں نے خودکشی والی بات تو روایتی عاشقوں کی طرح کردی تھی ورنہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہ تھا۔ اس کے ردِ عمل کو دیکھ کر مجھے پشیمانی ہوئی۔ میں نے جلدی سے اس کی بات مان لی’’ٹھیک ہے لیلیٰ…‘‘
لیکن اس نے میری بات بیچ میں سے اچک لی۔
’’ایسے نہیںایسے!‘‘ اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے سر پر رکھتے ہوئے کہا ’’اب کھائو قسم……‘‘
میں نے زندگی میں اس سے پیشتر کبھی کسی سے کوئی وعدہ اس انداز میں نہیں کیا تھا اس لئے ہچکچا کر رہ گیا۔ اس کی آنکھوں میں تیرتی ہوئی نمی دیکھ کر میں نے جلدی سے اپنا داہنا ہاتھ اس کے سر پر رکھ دیا۔
’’اچھا بابا! میں وعدہ کرتا ہوں کہ نہ میں خود کشی کروں گا اور نہ ہی اس قسم کی کبھی بات کروں گا۔ اب تو خوش ہوناں؟‘‘
’’اورشائستہ کو ایسا نہیں کرنے دوگے۔‘‘
’’ہاں بھئی! اسے بھی ایسا نہیں کرنے دوں گا۔‘‘
وہ خوش ہوگئی۔ ’’اب باقی کام تم مجھ پر چھوڑ دو۔‘‘
اس نے ایسے کہا جیسے یہ اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہو۔
’’تم کیا کرلوگی؟‘‘ میں ہنسا۔
’’جو بھی کروں گی تم دیکھ ہی لو گے۔‘‘ اس نے قدرے شوخی سے کہا ’’لیکن ایک شرط ہے۔‘‘
’’وہ کیا؟‘‘ میں نے لطف اندوز ہوتے ہوئے کہا۔
’’تم دونوں اپنی پہلی بیٹی کا نام لیلیٰ رکھو گے، بولو منظور؟‘‘
’’ارے بیٹی تو تب ہوگی جب شادی ہوگی۔ ابھی بڑے میاں وارننگ پر وارننگ دے رہے ہیں۔ نہ وہ مانتا ہے نہ مرتا ہے۔اس کی بیٹی ہے کہ باپ کو راضی کئے بغیر شادی کرنے پر ہرگز تیار نہیں۔ کہتی ہے کہ مرجائوں گی مگر نہ تو کورٹ میرج کروں گی اور نہ کسی اور کی دلہن بنوں گی۔وہ بوڑھامجھے اپنی بیٹی سے شادی کی اجازت دے گا تو تب ناں!‘‘ میں نے اس کی تھوڑی کو دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے ہلاتے ہوئے ہنس کر کہا۔
’’شادی بھی ہوگی اور بیٹی بھی ہوگی۔‘‘ اس نے کچھ اس وثوق سے کہا کہ میں حیران رہ گیا۔ اس کے معصوم لہجے میں پروئے ہوئے یقینِ کامل نے مجھے اس لمحے کافی تقویت دی۔
’’تو میں اپنی بیٹی کا نام لیلیٰ ہی رکھوں گاپیاری گڑیا!‘‘ میں نے کہا’’خدا کرے کہ تمہاری معصوم دعا میری زندگی کو گلزار بنادے۔‘‘
خوشی ایک بار پھر اس کی آنکھوں سے چھلکنے لگی ’’میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گی کہ دس دن کے اندر اندر تم دونوں کا بیاہ ہوجائے اور سال کے اندر اندر اللہ تمہیں بیٹی دے۔‘‘
میں بڑے انہماک سے اس کے معصوم چہرے کی تلاوت کرتا رہا۔یہ اس کی کج فہمی اور معصومیت ہی تھی ورنہ دس دن میں کہاں شادی ممکن ہوسکتی تھی۔میری پوزیشن بھی ایسی تھی کہ میں اس سے کسی قسم کی کوئی بحث نہیں کرسکتا تھا۔ وہ کہہ رہی تھی’’مجھ سے ایک خواہش ضرور پوچھی جائے گی اور میں کہہ دوں گی کہ میرے لالہ کو اس کی محبت مل جائے۔‘‘
میں اس کی بچپنے بھری باتوں پر سوائے محظوظ ہونے کے کیا کرسکتا تھا۔ اچانک مجھے یاد آیا کہ لیلیٰ نے وہ بات تو بتائی ہی نہیں جو میں نے اس سے پوچھی تھی۔ بلکہ اس نے مجھے باتوں میں لگا لیا تھا۔
’’لیلیٰ! تم نے بتایا نہیں کہ وہ چائے پینے والا کون تھا؟‘‘
میرے استفسار پر اس نے کہا ’’تم دکھی ہوجائو گے لالہ!‘‘
’’تم میری فکر چھوڑو اور شروع ہوجائو۔‘‘ میں نے بچی ہوئی چائے پیالی میں انڈیلتے ہوئے کہا۔ کچھ دیر تو وہ خاموش بیٹھی چھت کو گھورتی رہی۔ شاید اپنی یادداشت کو تازہ کررہی تھی۔ پھر جب مجھ سے مخاطب ہوئی تو اس کے لہجے میں عجیب سی یاسیت بھری تھی۔
’’یہ دراصل ایک معصوم لڑکی اور ایک ظالم درندے کی کہانی ہے۔ میں تمہیں شروع سے سناتی ہوں۔‘‘ اس کی بھرائی ہوئی آواز رکی تب بھی میں نے مداخلت مناسب نہ سمجھی۔
’’ایسا ہی ایک ڈاک بنگلہ تھا بالکل یہی سمجھ لیں۔ آج ہی کی طرح کی رات تھی ۔ لڑکی کا باپ جو ڈاک بنگلے کا رکھوالا تھا، آج ہی کی طرح شہر گیا ہوا تھا۔ وہاں ایک مہمان آگیا جو کوئی بڑا افسر تھا۔ اپنی جیپ پر اکیلا آیا تھا۔ اس نے لڑکی کو بتایا کہ وہ ایک رات ٹھہرے گا اور صبح چلا جائے گا۔ وہ بھوکا تھا۔ لڑکی نے اس کیلئے کھانا پکایا، پھر اس نے چائے کی فرمائش کی تو لڑکی نے اس کیلئے چائے بنائی۔ جب وہ چائے دینے اس کے کمرے میں گئی تو اس نے اسے وہیں بیٹھا لیا۔ لڑکی کو بھی اکیلے گھر میں ڈر لگ رہا تھا اس لئے وہ وہاں بیٹھ گئی۔ پھر باتیں کرتے کرتے اس نے لڑکی سے کہا کہ میری ٹانگیں دبا دو۔
لڑکی کئی مرتبہ اپنے ماں باپ کی ٹانگیں دبا چکی تھی اور وہ شخص بھی عمر میں اس کے باپ کے برابر تھا۔ وہ اس کی ٹانگیں دبانے لگی مگر افسر پر شیطان سوار تھا۔ اس نے اپنی بیٹی برابر لڑکی سے وہ کیا جو اسے نہیں کرنا چاہیے تھا۔ صبح وہ شخص تو چلا گیا لیکن لڑکی کی دنیا اندھیر ہوگئی۔ کوئی اور راہ نہ پاکر اس نے کنویں میں چھلانگ لگا کر اپنی جان دے دی۔‘‘
لیلیٰ خاموش تھی لیکن اس گفتگو کا اثر سحر کی طرح مجھے اپنی قوی گرفت میں جکڑے ہوئے تھا۔ بہت دیر بعد کہیں اس نادیدہ آسیب سے جان بخشی ہوئی تو میں نے اس سے دریافت کیا۔’’اس کے گھر والوں نے کچھ نہیں کیا؟ میرا مطلب ہے بھائی، باپ وغیرہ نے؟‘‘
’’باپ تو صدمے سے ہی ادھ موا ہوگیا تھا۔ اس واقعہ سے کوئی ایک مہینہ پہلے اس کی بیوی یعنی لڑکی کی ماں انتقال کرگئی تھی۔ بھائی اس بیچاری کا کوئی تھا نہیں، اور رہی سہی کسر غربت نے پوری کرکے رکھ دی تھی۔ بات جہاں سے شروع ہوئی تھی وہیں پہ ختم ہوگئی۔ یہ کہتے ہوئے کچھ دیر پہلے کی شوخ لیلیٰ نہ جانے کہاں کھو گئی تھی۔
میں اس تبدیلی پر غور کرنے کی بجائے اس مظلوم لڑکی پر ہونے والے ظلم پر افسردہ ہورہا تھا۔ میری زبان سے بے ساختہ ایک کمزور سا جملہ نکلا ’’انسانی روپ میںوہ درندہ چاہے قانون کی پکڑ سے بچ نکلے لیکن قدرت کا انصاف اسے کبھی بھی معاف نہیں کرے گا۔‘‘
’’میں نے کہا تھا ناں لالہ کہ تم دکھی ہوجائوگے۔‘‘
وہ خود بھی اداس تھی۔ معلوم نہیں اس لڑکی سے اس کا کیا رشتہ تھا؟ پہلے میں نے سوچا کہ اس سے دریافت کروں پھر یہ سوچ کر خاموش ہوگیا کہ پہلے ہی انجانے میں اس کے زخموں پر لگے کھرنڈ کھرچ چکا ہوں اب جان بوجھ کر اسے مزید اذیت پہنچانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ میں خاموش رہا۔
’’لالہ ایک بات پوچھوں؟‘‘ لیلیٰ نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’ہاں ہاں! بولو کیا بات ہے؟‘‘ میں نے کہا۔
’’تم ناراض تو نہیں ہوجائو گے؟‘‘ اس نے اسی یاسیت بھرے لہجے میں کہا۔
’’نہیں بابا! میں تم سے کیوں ناراض ہونے لگا؟ تم تو میری بہنوں جیسی ہو۔ بہنیں تو لڑتی ہوئی بھی پیاری لگتی ہیں۔‘‘ میں بولا تو مجھے اپنی آواز بھی غمزدہ اور شکستہ سی محسوس ہوئی۔
’’وعدہ؟‘‘
’’ہاں بھئی! وعدہ ہے کہ ناراض نہیں ہوں گا۔‘‘ میں نے اسے اطمینان دلاتے ہوئے کہا۔
’’لالہ! اگر اس لڑکی کی طرح میرے ساتھ بھی ایسا ہوجائے تو تم کیا کروں گے؟ کیا میرا بدلہ لوگے؟‘‘
ایک چلبلاتی، چیختی چنگھاڑتی لہر میری سماعت سے اٹھ کر میرے تن بدن میں سرایت کرگئی۔ یوں لگا جیسے جسم میں کرنٹ لگا ہو۔ یہ بات میرے دماغ کے نہاں خانوںمیں پہلے بھی تھی، اب لیلیٰ نے اسے تختۂ سماعت پر چڑھا دیا تھا۔ میں کچھ دیر تک اس کے افسردہ و ملول چہرے کو دیکھتا رہا، اس کے چہرے پر سائے کی طرح پھیلے اضطراب اور سانس سانس مرتی آس کو دیکھتا رہا پھر بولا ’’تو یقین کرے گی لیلیٰ! میں ابھی یہی سوچ رہا تھا کہ تیرا یہاں اس طرح رہنا ٹھیک نہیں ہے۔ اس لئے تیرے باپ کے آنے تک میں یہیں رہوں گا اور اسے اچھی طرح سمجھائوں گا۔ پھر تم دونوں کو اپنے ساتھ کراچی لے جائوں گا۔‘‘
’’یہ ممکن نہیں ہے۔‘‘ اس نے کہا ۔
’’کیوں ممکن نہیں ہے؟ ‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’بس ہے کوئی وجہ۔ تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا؟‘‘ اس کی آواز مزید ڈوب گئی اور یوں محسوس ہوا جیسے کسی گہرے کھڈ سے آرہی ہو۔
’’اگر تیرا کراچی جانا ممکن نہ ہوا اور خدا نہ کرے ایسا کوئی وقت آجائے تو لیلیٰ اپنی جانب قدم بڑھانے والے کو یہ ضرور بتا دینا کہ تو تین ہٹے کٹے بھائیوں کی اکلوتی بہن ہے۔ تین ایسے بھائی جو تجھے چھونے والے ہاتھوں کو پاتال سے بھی کھینچ نکالیں گے لیکن تجھے بھی وعدہ کرنا ہوگا کہ تو جان نہیں دے گی۔ اپنے بھائیوں کا انتظار کرے گی کیونکہ جن بہنوں کے بھائی زندہ ہوں وہ خودکشی نہیں کرتیں۔ سمجھی؟‘‘
میں نہ جانے اور بھی کیا کچھ کہتا مگر اس کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسوئوں کو دیکھ کر خاموش ہوگیا۔
’’تم نے مجھے امر کردیا لالہ!‘‘ اس نے روتے روتے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا۔
’’پاگل ہوگئی ہے کیا؟‘‘ میں نے اس کے سر پرہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تو وہ شدتِ کرب سے میرے سینے سے لگ کر رونے لگی۔ اس کا ہچکیوں کی تال پر ہچکولے لیتا بدن مجھے غیر معمولی حد تک سرد لگا۔ شاید ماحول کی خنکی نے اس کے جسم کی قدرتی حرارت کو کم کردیا تھا۔
’’ارے پاگل میں تیرے بابا سے بات کروں گا پھر سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ میں نے تسلی دی۔
’’سب ٹھیک ہوگیا ہے لالہ……بالکل ٹھیک ہوگیا ہے۔‘‘ اس نے روتے ہوئے کچھ اس انداز سے کہا کہ میری سمجھ میں اس کا یہ جملہ نہیں آیا لیکن اسے چپ کروانے کی خاطر میں نے کہا۔’’جن کے بھائی سلامت ہوں وہ بہنیں رویا نہیں کرتی بلکہ اپنے دکھ بھائیوں کے کندھوں پر ڈال دیتی ہیں۔ جھلیے! بھائی تو ہوتے ہیں بھار اُٹھانے کیلئے ہیں۔‘‘
وہ چپ ہوگئی۔ میں نے رومال سے اس کے آنسو صاف کئے ۔ رخساروں پر اشکوں کے دھاروں کو صاف کیا۔ اس کا چہرہ اس کے بدن کی طرح سرد تھا۔
’’سچ ہے لالہ! جن کے بھائی سلامت ہو ں وہ نہ تو آنسو بہاتی ہیں اور نہ ہی خودکشی کرتی ہیں۔‘‘
میں نے اس کے چپ ہوجانے پر گھڑی کی طرف دیکھا تو تین بج رہے تھے۔ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا تھا۔
’’چل اب سوجا۔ صبح ہونے میں اب زیادہ وقت نہیں ہے۔ ‘‘
وہ جانے کیلئے اٹھی تو میں نے کہا ’’باہر کہا ںجارہی ہو؟ یہیں سوجائو۔‘‘
میں نے تکیہ اور کمبل اس کی طرف بڑھایا۔
’’یہاں؟‘‘
’’ہاں ہاں! وہاں اکیلے میں پھر ڈرتی پھرو گی۔‘‘ میں نے پلنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’مگر پھر تم؟‘‘
’’پھر وہی……‘‘میں نے غصہ دکھاتے ہوئے کہا۔ ’’جو کہتا ہوں وہی کرو سمجھی؟‘‘
وہ چپ چاپ پلنگ پر چڑھ کر لیٹ گئی جیسے اس نے اگر دیر کی تو میں ناراض ہوجائوں گا اور وہ میری ناراضی سے ڈرتی ہو۔
تھوڑی دیر تو وہ میری طرف دیکھتی رہی پھر آنکھیں بند کرتے ہوئے بولی ’’تم بہت اچھے ہو مگر تم نے آنے میں بہت دیر کردی۔‘‘
میں کچھ نہیں سمجھا۔ وہ پرانے انداز کے بڑے پلنگ کے ایک کونے میں آگئی تھی۔ اسے سوجانے کا کہہ کر میں اس کرسی پر آبیٹھا جس پر کچھ دیر پہلے وہ بیٹھی ہوئی تھی۔ کچھ دیر میں اس کی سنائی ہوئی کہانی میں الجھا رہا ۔ مجھے یاد آیا کہ اس نے کہانی تو سنادی مگر اس لڑکی کا نام نہیں بتایا تھا جس کے ساتھ اس بوڑھے افسر نے زیادتی کی تھی اور اسے مرنے پر مجبور کردیا تھا۔چلو صبح معلوم کروں گا۔ میں نے بے خود سوتی ہوئی لیلیٰ کو جگانا مناسب نہ سمجھتے ہوئے سوچا۔ کمرے میں اس کے سانسوں کی ہلکی ہلکی آواز گونجنے لگی۔
صبح کے تصور کے ساتھ ہی میرا ذہن ڈسٹری بیوٹر سے نمٹنے میں الجھ گیا۔ انہی سوچوں میں جانے کب نیند کی دیوی مہربانی ہوئی اور میں دنیا و مافیہا سے غافل ہوگیا۔
وہ کرسی کی بے آرامی تھی یا کوئی اور وجہ کہ جلد ہی میری آنکھ کھل گئی۔ روشنی پوری طرح نہیں پھیلی تھی البتہ ملجگا سا اجالا ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔ جہاں رات کو لیلیٰ سوئی تھی وہ جگہ خالی تھی۔ باقی ہر چیز معمول کے مطابق تھی۔ وہ شاید ناشتہ بنانے کے چکر میں جلد اٹھ کر باہر نکل گئی تھی اور جاتے ہوئے دروازے کوبند کرنا بھول گئی تھی تبھی تو سرد ہوا کھلے دروازے سے اندر داخل ہوکر جسم کو یخ کررہی تھی۔ پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں اس قدر بھلی معلوم ہورہی تھیں کہ میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور اٹھ کر انگڑائیاں لیتا ہوا باہر برآمدے میں آگیا۔ میں مبہوت سا تھا کیونکہ اونچے اونچے پیڑوں سے نیچے سرکتی ہوئی روشنی کا منظر اورپرندوں کی میٹھی میٹھی بولیاں نویدِ نو دیتی محسوس ہورہی تھیں۔ ایسے مناظر بھلا ہم شہریوں کے نصیب میں کہاں تھے؟
تھوڑی سی چہل قدمی کیلئے میں اس پگڈنڈی پر چل نکلا جس سے رات لیلیٰ مجھے یہاں تک لائی تھی۔ پگڈنڈی آگے جا کر درختوں کے جھنڈ کے قریب ٹرن لے کر بڑی سڑک کی طرف جانکلتی تھی۔ چلتے ہوئے ابھی چند قدم ہی آگے بڑھا تھا کہ سامنے سے سات آٹھ افراد کا ایک گروہ قطار کی صورت میں آتا دکھائی دیا۔ سب سے آگے سفید داڑھی والے ایک پرنور بزرگ تھے۔ مجھے اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ سب رک گئے۔ میں نے ان سب کواپنی طرف بڑی حیرت سے دیکھتا پایا۔شاید ایک اجنبی کی آمد پر حیرت زدہ ہوں۔ میں نے سوچا ا ور اطمینان سے چلتا ہوا ان کے قریب پہنچ گیا۔ ان کے چہرے حیرت اور خوف کے ملے جلے تاثرات سے بگڑ رہے تھے اوران کی آنکھیں کبھی مجھ پر اور کبھی میرے عقب میں ایستادہ ڈاک بنگلے پر مرکوز تھیں۔
’’السلام علیکم!‘‘ میں نے قریب پہنچ کر کہا۔
’’وعلیکم السلام!‘‘ انہوں نے آہستگی سے مگر باجماعت جواب دیا۔ اس سے زیادہ کسی نے کوئی بات نہیں کی بلکہ ایک ٹک مجھے دیکھتے رہے۔ میں اس صورت حال سے خاصا پریشان ہورہا تھا۔
آگے آگے کھڑے بزرگ نے روایتی قبائیلیوں والے اکھڑے اکھڑے لہجے میں مجھے مخاطب کیا’’تم کون ہو جوان؟‘‘
’’میرا نام خالد ہے۔ رات ہی آیا تھا ادھرڈاک بنگلے میں۔‘‘ میں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا۔
’’شام کی ویگن میں تو تم نہیں آیا تھا؟‘‘ اسی شخص نے دوبارہ کریدا۔
جواب میں میں نے گاڑی خراب ہونے سے لے کر یہاں تک تمام قصہ ان کے گوش گزار دیا۔
’’اچھا تو تم کو کوئی لڑکی ڈاک بنگلے میں لے کر گئی تھی؟‘‘
’’جی ہاں!‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’تمہیں اس کا حلیہ یاد ہے؟‘‘
’’ہاں کیوں نہیں؟‘‘ میں نے زچ ہو کر کہا’’میں کیوں جھوٹ بولوں گا۔ وہ پندرہ سولہ سال کی لڑکی تھی۔ بھورے کالے ملے جلے لمبے بال پیشانی پر سے کاٹے ہوئے تھے۔ اتنا قد تھا…‘‘ میں نے اپنے سینے پر گردن کے نیچے ہاتھ رکھ کر اشارہ کرتے ہوئے بتایا ’’بڑی بڑی آنکھیں، نہ کالی نہ بھوری۔ بڑی بڑی پلکیں اوررنگ گلابی مائل بہت سفید۔ گورا دودھ کی طرح… نام لیلیٰ!‘‘
انہوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔
’’بات کیا ہے بھئی! مجھے کھل کر کچھ بتائیں تو میں بھی کچھ کہوں۔‘‘ میرے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہونے کو تھا۔
’’ابھی تم کو بستی جاکر سارے جواب مل جائیں گے۔آئو ہمارے ساتھ۔‘‘ میرے مخاطب بزرگ نے مجھ سے کہا اور وہ سب جانے کیلئے مڑ گئے۔ میں وہیں کھڑا رہا۔ مجھے کھڑا دیکھ کر اس نے پوچھا ’’کیا ہوا؟‘‘
’’میرا سامان وہیں رکھا ہوا ہے۔‘‘ میں نے کہا ۔
’’کچھ دیر تک وہ کھڑے سوچتے رہے پھر انہوں میں اپنی زبان میں ایک دوسرے سے کچھ کہا جو میرے پلے نہ پڑا۔ پھر بزرگ نے میری طرف رخ کرتے ہوئے کہا ’’آئو چل کر اپنا سامان اٹھالو۔‘‘
باقی تمام افراد وہیں رک گئے۔ صرف بزرگ میرے ساتھ چلنے لگے۔ چلنے سے پہلے انہوںنے کچھ پڑھ کر مجھ پر پھونکا بھی تھا۔ میں حیران تھا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے۔ بزرگ کسی صورت بھی ستر سے کم نہ تھے مگروہ میرے قدموں سے قدم ملا کر چل رہے تھے۔ درختوں کے جھنڈ کے قریب ہم جونہی موڑ مڑ کر ڈاک بنگلے کے سامنے پہنچے تو مجھ پر حیرت کا ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ وہ ڈاک بنگلا تو کسی طور پر نظر نہیں آرہا تھا جو میں کچھ دیر پہلے چھوڑ کر گیا تھا۔ عمدگی سے تراشی ہوئی گھاس کی جگہ جھاڑ جھنکار نے لے لی تھی۔ کھڑکیوں کے ٹوٹے ہوئے شیشے ،ٹوٹے ہوئے دروازے، پرندوں کی بیٹ سے اٹا ہوا برآمدہ اور شکستہ دیواروں والی عمارت کسی طور پر بھی رات والا بنگلہ نظر نہیں آرہی تھی۔ اگر آس پاس کوئی اور عمارت ہوتی تو میں سوچتا کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے ۔ پوری طرح یقین کرلینے کے باوجود کہ میں غلط عمارت میں نہیں آیا ہوں ، میری زبان سے بے ساختہ نکلا’’محترم رات کو تو یہ عمارت……‘‘
میرے مزید کچھ کہنے سے پہلے ساتھ آنے والے بزرگ نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر مجھے بولنے سے منع کردیا۔ وہ اونچی آواز میں آیۃ الکرسی کی تلاوت کررہے تھے۔ ان کی دیکھا دیکھی میں نے بھی آیت الکرسی پڑھنا شروع کردی۔
ہم جھاڑ جھنکار اور دوسری آلائشوں سے بچتے بچاتے اس کمرے تک پہنچ گئے جس میں میں نے لیلیٰ کی معیت میں شب بسر کی تھی۔ کمرے کی ہر چیز پرانی، بوسیدہ اورٹوٹی پھوٹی تھی۔ برسوں کی گرد آلود دکھائی دیتی تھی۔ کمرے میں صرف میرا بریف کیس،میرا کھونٹی پر ٹنگا ہوا لباس، چائے والا تھرماس اورکپ ہی ایسے تھے جو شکستہ اور گرد آلود نہ تھے۔
خوف کے ابتدائی جاں گسل لمحات بیتے تو میں نے کمرے میں آکر کھونٹی سے کپڑے اتارے اور انہیں تہہ کرکے بریف کیس میں رکھا۔ تینوں چیزیں اٹھا کر باہر نکل آیا۔ اس دوران میرے ساتھ آنے والے بزرگ نے منہ سے تو کچھ بھی نہیں کہا مگر ان کی آنکھوں میں میرے لئے عجیب سی ستائش تھی جسے میں سمجھنے سے قاصر تھا۔ میں زیر ِ لب آیت الکرسی پڑھ رہا تھا۔
باہر نکلتے ہی نہ جانے میرے دل میں کیا آئی کہ میں نے بلند آواز میں ڈاک بنگلے کی طرف منہ کرکے ، ہاتھ لہرا کے کہا ’’خداحافظ لیلیٰ!‘‘
میری توقع کے مطابق اس کی آواز سنائی دی ’’اللہ تمہیں سلامت رکھے اور تمہاری حفاظت کرے لالہ!‘‘
اس کی آواز شاید میں ہی سن سکا تھا کیونکہ ساتھ آئے بزرگ ہرگز نہیں چونکے تھے۔ وہ شب بہت طویل تھی، وہ صبح بہت گہری تھی۔
تمام واقعات کا مجھے کچھ اندازہ تو ہوگیا تھامگر مکمل کہانی مجھے آبادی میں جاکر ہی معلوم ہوئی۔ لیلیٰ کی سنائی ہوئی کہانی کسی اور کی نہیںبلکہ خود اس پر بیتنے والی پُراندوہ داستان تھی۔ اس واقعہ کو بیتے ہوئے بیس سال ہوچکے تھے۔ لیلیٰ کا بابا عجب گل اس وقت زندگی کے آخری ایام گزار رہا تھا۔
ہمارا مختصر سا قافلہ جس وقت بزرگ کی معیت میں بزرگ کے محلے میں داخل ہوا تو بہت سے افراد ہمارے ساتھ شامل ہوگئے۔ ایک اچھا خاصا قافلہ بن چکا تھا۔ ہر آدمی پر مجھے دیکھنے کے بعد حیرت طاری ہوجاتی تھی۔ ہمارا سفر محلے کی مسجد پر ختم ہوا۔ وہ بزرگ جو اس وقت تک قافلے کے سربراہ تھے، اسی مسجد کے امام تھے اور بہت ہی نیک آدمی تھے۔ صحن میں پہلے سے بھی کچھ لو گ موجود تھے۔ ہمیں آتے ہوئے دیکھ کر وہ کھڑے ہوگئے اور پھر امام صاحب کے بیٹھنے کے بعد سب لوگ ایک دائرے کی صورت میں بیٹھ گئے۔
’’جوان اگر تم ہاتھ منہ دھونا چاہو ، غسل کرنا چاہو تو غسل خانہ اس طرف ہے۔‘‘ ایک ادھیڑ عمر باریش شخص نے مجھے مخاطب کرکے کہا۔
’’میں ٹھیک ہوں۔‘‘ تجسس نے مجھے ہر کام سے روک رکھا تھا۔ میں جلد از جلد یہ عجیب شاخسانے کے پراسرار مناظر ہویدا ہوتے دیکھنا چاہتا تھا۔
’’اگر مناسب سمجھو تو جو تم پر بیتی ہے ہمیں بھی سنائو۔‘‘ امام صاحب نے مجھے مخاطب کیا۔
مجھے کیا اعتراض ہوسکتا تھا۔ میں نے اپنے مکمل تعارف کے ساتھ بیتی ہوئی داستانِ شب سب کے گوش گزار دی۔ میری بات مکمل ہونے تک تمام مجمع پر سکوت طاری تھا۔
گہری سانس لے کر امام صاحب نے مجھ سے کہا ’’جوان! ایک بار پھر اس لڑکی کا حلیہ تو بتائو جسے تم نے رات کو دیکھا۔ ‘‘
میں نے پھر لیلیٰ کو تصور میں رکھا اور اس کے نقوش بیان کردیے۔
’’وہی ہے……اللہ کی قسم وہی ہے۔ میری لیلیٰ۔ ہائے میں بدنصیب مر کیوں نہ گیا تھا اسی دن…‘‘ ایک بوڑھا شخص اپنی آنکھوں پر بڑی سی چادر رکھے اٹھ کر میرے قریب آیا اور اس نے میرے پائوں چھونے کی کوشش کی۔ میں جلدی سے پیچھے ہٹ گیا ’’کیا کرتے ہیں آپ؟ کون ہیں آپ؟‘‘
لیکن بوڑھا آدمی بڑی رقت سے روئے جارہا تھا۔ امام صاحب نے اٹھ کر اسے کندھوں سے پکڑ کر سہارا دیا ’’عجب گل! انسان بن۔ دیکھ آج سے تمہاری ساری تکلیف جاتی رہی۔ تم پر اللہ نے کرم کردیا ہے عجب گل! اللہ کا شکر ادا کر۔‘‘
مجھے بتایا گیا کہ یہ لیلیٰ کا بدنصیب باپ عجب گل تھا۔ میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔ یا خدا یہ میں کس طلسم کدے میں آگیا ہوں؟
’’جوان ! یہ ڈاک بنگلہ نجانے کتنے افراد کی جان لے چکا ہے۔ اس کا استعمال تو بہت پہلے سے ہی ترک کیا جاچکا ہے۔اور کسی بھولے بھٹکے مسافر کو اس طرف جانے سے روکنے کیلئے ہمارے ایک دو آدمی بدل بدل کر راستے کا پہرہ دیتے ہیں۔ اس کے باوجود کبھی نہ کبھی حادثہ ہوجاتا ہے۔ ہم نے اپنے طور پر اس کا توڑ کرنے کی بہت کوشش کی لیکن مستقل کامیابی نہ ہوسکی۔ بہت عرصہ پہلے ایک پیر صاحب نے بتایا تھا کہ حرام موت کو گلے لگانے کے بعد لیلیٰ کی روح بھٹک رہی ہے اور اسے اس وقت تک سکون نہیں ملے گا جب تک اسے کوئی یہ احساس نہ دلا کہ وہ بدنیت نہیں ہے۔ اسے یہ بتلانا ہے کہ ہر کوئی ہوس زدہ درندہ نہیں ہے۔ یہ کام اللہ کی ہدایت سے تم نے انجام کو پہنچایا ہے ورنہ تم سے پہلے جو شخص بھی آیا اس نے ڈاک بنگلے میں تنہا لڑکی کو پا کر اپنی نیت خراب کرلی اوروہی کیا جس کے بعد لیلیٰ کو خودکشی کرنا پڑی تھی۔ نتیجتاً ہمیں اس مسافر کی لاش اس ڈاک بنگلے سے اٹھانا پڑتی تھی۔ ‘‘
تمام تر وضاحتوں کے باوجود ایک سوال ابھی تشنہ جواب تھا۔ ’’تمہیں کیسے معلوم ہوتا تھا کہ کوئی شخص ڈاک بنگلے میں ہلاک ہوگیا ہے؟‘‘
ضعیف عجب گل کی موجودگی میں میں نے ایسے الفاظ استعمال کرنے سے گریز کیا جن سے اس کی دل آزاری ہوتی۔
’’لیلیٰ کی لاش کنویں سے نکالنے کے بعد مسجد کے باہر اس جگہ پر رکھی تھی جہاں تم نے ابھی پانی دیکھا ہوگا۔ جس رات بھی پرانے ڈاک بنگلے میں کوئی شخص ہلاک ہوتا، اس جگہ پانی بھر جاتا تھا اور اس میں خون کی آمیزش بھی ہوتی تھی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ صرف پانی ہے مگر اس کا رنگ سرخ نہیں ہے۔‘‘ امام صاحب نے میرے سوال کا وضاحت سے جواب دیتے ہوئے کہا۔
’’ایک آخری بات۔ لیلیٰ کا اصل مجرم کہاں ہے؟‘‘ میں نے دریافت کیا۔ اس سوال کے عقب میں شاید وہ وعدہ کارفرما تھا جو گزری رات میں نے لیلیٰ سے کیا تھا کہ میں اس سے زیادتی کرنے والے درندے سے انتقام لوں گا۔ میری رگ رگ میں اک عجیب سا خوف جاگزیں ہوگیا کہ مجھ پر لیلیٰ کی طرف سے ایک بدلہ قرض ہے اور میں نے اس کا وعدہ بھی کیا ہے۔ کہیں ……
’’اس ڈاک بنگلے میں سب سے پہلے اسی کی لاش پائی گئی تھی۔‘‘ امام صاحب نے کہنا شروع کیا ’’جب اس کا پتہ چل گیا اور یہاں کی پولیس اسے گرفتار کرنا چاہتی تھی تو وہ خود ہی یہاں پہنچ گیا۔ وہ فرعون تھا۔ اس نے پتہ نہیں کیا چکر چلایا کہ پولیس نے اس کو گرفتار کرتے ہی چھوڑ دیا۔ وہ بڑی اکڑ کے ساتھ بات کرتا تھا۔ بڑا افسر تھاناں! یہاں اسے دیر ہوگئی تو وہ پھر رات کو اسی بنگلے میں ٹھہر گیا۔ عجب گل اسے قتل کرنا چاہتا تھا مگر ہم نے تمام رات جاگ کر عجب گل کو اپنی تحویل میں رکھا اور اسے ڈاک بنگلے کی طرف نہیں جانے دیا۔ وہ بڑا افسر، وہ فرعون رات میں جانے کس وقت ہلاک ہوگیا۔ صبح اس کی لاش بنگلے کے اسی پلنگ پر ملی جہاں تم نے رات گزاری تھی۔‘‘
خوف کی ایک لہر میری شریانوں میں سرایت کرگئی۔ میرے ذہن میں یہ خیال برق کے کوندے کی لپکا تھا کہ اگر مجھے سے بھی فطری غلطی سرزد ہوجاتی تو……
جب تمام عقدہ وَا ہوگیا تو میں نے امام صاحب سے اجازت طلب کی۔ اطمینا ن تھا کہ لیلیٰ پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والا قاتل اپنے کیفرکردار کو پہنچ چکا تھا اور میں اس وعدے سے یکسر بری الذمہ ہوچکاتھا جو میں نے اپنی بہن سے کیا تھا۔
’’نہیں خالد بیٹا! ایسا نہیں ہوسکتا۔تم پورے محلے کے مہمان ہو۔‘‘ ان کے اندر روائتی قبائلی مہمان نواز جاگ اٹھے۔ میرے بہت اصرار کے باوجود انہوں نے مجھے چار پانچ دن وہاں سے جانے نہیں دیا۔ میں نے اس دوران اپنا دفتری کام بھی مکمل کرلیا۔
بمشکل اجازت حاصل کرکے جب میں پانچویں چھٹے روز کراچی پہنچا تو امی ، طاہر اور امجد کو اپنے استقبال کیلئے ائر پورٹ پر موجود دیکھ کر حیران رہ گیا۔ عمومی طور پر امجد ہی مجھے ریسیو کرنے کیلئے آیا کرتا تھا۔ میری حیرت اس وقت پریشانی کی صورت اختیار کرگئی جب طاہر نے گاڑی گھر کی طرف نہیں موڑی۔ میرا پریشان ہونا لازمی امر تھا۔
’’آپ بتاتے کیوں نہیں کہ کہاں جارہے ہیں؟‘‘ میں نے سٹ پٹا کر قدرے سخت لہجے میں پوچھا’’آخر بات کیا ہے؟‘‘
’’خالد میری بات سنو اور پوری سنجیدگی سے اس پر غور کرو۔‘‘ امی نے اس طرح بات شروع کی کہ میں ذہنی طور پر کسی بھی بری خبر کو سننے کیلئے اپنے آپ کو تیار کرنے لگا۔ قدرتی طور پر میرا ذہن شائستہ کی طرف ہی گیا کیونکہ اس کے علاوہ میرے اپنے میرے سامنے موجود تھے۔ امی، طاہر اور امجد۔ ان کے علاوہ میرا دنیا میں کوئی بھی نہ تھا۔
’’شائستہ اب بالکل خیریت سے ہے اور فکر کرنے کی کوئی بات نہیں۔‘‘ امی نے کہا تو میں نے مشکوک انداز سے انہیں دیکھا۔ یعنی شائستہ کے ساتھ کچھ ہو گیا ہے۔ میرے دل نے آپوں آپ ہی دعا مانگ لی ’’یااللہ خیر…‘‘
’’تمہارے جانے کے بعد اس نے ایک دن نیند کی گولیاں کھالی تھیں۔‘‘ امی یوں اطمینان سے بتا رہی تھیں جیسے اس نے سلیپنگ پلز نہیں بلکہ پونسٹان کی دو چار گولیاں سرد رد کیلئے کھائی ہوں۔ میرے دماغ میں سوئیاں چبھنے لگیں۔
’’اس رات کو ایسا بھی ہوا کہ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھا لیکن پھر صبح تک اس کی حالت سنبھل گئی۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ یہ ایک کرامت ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ شائستہ اب بالکل ٹھیک ٹھاک ہے۔ تم خود چل کر اسے دیکھ لو گے۔ہم ادھر ہی جارہے ہیں۔‘‘
امی نہ جانے اورکیا کہتی رہی۔ میری توجہ ان کی باتوں پر نہیں تھی بلکہ میں شائستہ کی بے وقوفی کے بارے میں سوچ کر تلملا رہا تھا۔ ابھی تو میرے ذہن سے لیلیٰ کے ساتھ بسری شب اور اس کی جزیات بھی محو نہ ہوئی تھیں کہ یہ سانحہ درپیش ہوگیا۔
طاہر ہمیشہ سے ہی رش ڈرائیونگ کا عادی تھا۔ کئی بار میں نے اسے تیز رفتاری کی بدولت ڈانٹا بھی تھا مگر وہ باز نہیں آیا تھا۔ آج اپنی عادت کے برعکس اس نے گاڑی کی رفتار ازحد آہستہ رکھی ہوئی تھی۔ مجھے غصہ آنے لگا۔ قریب تھا کہ میں اس سے کہتا کہ گاڑی آہستہ کیوں چلا رہے ہو لیکن اچانک میری نظر میٹر پر پٹری۔ رفتار بتانے والی سوئی نوے اور سو کے درمیان تھرک رہی تھی۔ جانے مجھے کیوں ایسا لگ رہا تھا کہ میں رک گیا ہوں اور زمانہ تیزرفتاری سے آگے بڑھتا ہوا میرے ہاتھوں سے نکلا جاتا تھا۔ ہسپتال پہنچے تو اسپیشل وارڈ میں شائستہ کے کمرے کے باہر سیٹھ منور حسین اپنی تمام تر رعونت کے ساتھ موجود تھے۔
’’اس سے پہلے کہ آپ لوگ شائستہ سے ملاقات کریں، خالد تمہیں اور تمہاری والدہ کو میری بات سننا ہوگی۔ میں تم سے علیحدگی میں ایک اہم بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
سیٹھ صاحب کی بات سن کر طاہر اور امجد پیچھے ہٹ گئے۔ امجد جانا نہیں چاہتا تھا لیکن طاہر اس کا ہاتھ دبا کر لے گیا۔ وہ جانتا تھا کہ سیٹھ صاحب کے ذرا سے تلخ جملے کا جواب کوئی اور دے نہ دے، امجد ضرور دے گا۔ یہ بات تو مجھے بعد میں معلوم ہوئی تھی کہ جب شائستہ کی حالت خراب ہوئی تھی تو امجد نے تمام افراد کے سامنے سیٹھ منور حسین کو دھمکی دی تھی کہ اگر شائستہ کو کچھ ہوا تو وہ انہیں زندہ نہیں چھوڑے گا۔ دراصل امجد سیٹھ منور حسین کے ملازموں سے یہ بات کسی نہ کسی طرح اگلوانے میں کامیاب ہوگیا تھا کہ شائستہ کے باپ نے اس رات اپنا آخری فیصلہ سنایا تھا کہ وہ صبح شائستہ کی شادی اپنے بھانجے سے کردیں گے۔ لیکن شائستہ نے صبح ہونے سے پہلے ہی یہ حرکت کرڈالی تھی جو سیٹھ صاحب کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔ جب شائستہ کو ہسپتال لایا گیا تو طاہر اس وقت ڈیوٹی پر موجود تھا۔ اس نے اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے اقدام خودکشی کو فوڈ پوائزننگ میں تبدیل کروا دیا تھا۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ شائستہ اخباروں کی سرخیوں کی زینت بنے۔ وہ میرے اور اس کے درمیان موجود جذباتی وابستگی کو بخوبی جانتا تھا۔
’’جی فرمائیے!‘‘ میں نے طاہر اور امجد کے ہٹ جانے کے بعد کہا۔
’’مجھے تمہارے آنے کی اطلاع مل چکی تھی اس لئے میں نے تمام انتظامات مکمل کر رکھے ہیں۔‘‘
سیٹھ منور حسین جب بولتے ہوئے رکے تو میں نے امی کی طرف دیکھا۔ ان کے چہرے پرتشویش اور ناگواری کے اثرات پیدا ہورہے تھے لیکن میری طرح مصلحتاً خاموش تھیں۔
’’ڈاکٹروں نے آج صبح شائستہ کو گھر جانے کی اجازت دے دی تھی۔ لیکن میں نے اسے گھر لے جانا مناسب نہیں سمجھا۔ میں نے سوچا کہ یہیں سے ہی اسے رخصت کردوں۔ مجھے تمہاری اور شائستہ کی شادی پر کوئی اعتراض نہیں ہے مگر پہلے تمہیں ان کاغذات پر دستخط کرنا ہوں گے اور شائستہ سے بھی دستخط کرانا ہوں گے۔‘‘
انہوں نے اپنے کوٹ کی اندرونی جیب سے کاغذات نکال کر مجھے دیتے ہوئے کہا۔
’’کیا ہے ان کاغذات میں؟‘‘ میں نے کاغذات پکڑے اور نہ سمجھتے ہوئے دریافت کیا۔ ان کی سوچ بہت منفی تھی اس لئے میں اندیشوں میں مبتلا ہوگیا کہ جانے ان کاغذات میں اس نے کونسی قانونی پیچیدگیاں سمو رکھی ہیں۔
’’ان کاغذات پر دستخط کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا اور شائستہ کا زندگی بھر میری دولت جائیداد سے کسی بھی قسم کا کوئی واسطہ تعلق باقی نہ رہے گا۔‘‘ سیٹھ منور حسین نے یوں انکشاف کرنے کے سے انداز میں کہا جیسے وہ کوئی بہت بڑی بات کرنے والے ہوں۔
’’ٹھیک ہے۔ مجھے منظور ہے۔‘‘ میں نے کہا کیونکہ میرے نزدیک اس کی جائیداد او ر دھن دولت کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ ’’کیا میں ان کاغذات کو دیکھ سکتا ہوں؟‘‘
سیٹھ منور حسین کا چہرہ ناکامی کے احساس سے پھیکا پڑگیا۔ ’’تم شاید سمجھے نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ شائستہ ایک مفلس اورقلاش لڑکی بن کرتمہاری زندگی میں آئے گی۔‘‘ انہوں نے مجھے سمجھانے کے سے انداز میں کہا۔
’’اس سے اچھی اورکیابات ہوگی۔‘‘ میں نے پر مسرت لہجے میں کہا ’’میرے اور شائستہ کے درمیان یہ آخری فاصلہ بھی ختم ہوجائے گا ۔ ہم آپ کے شکرگزار ہیں کہ آپ نے ہم پر اتنی بڑی مہربانی کی۔ کیوں امی؟‘‘
امی فوراً بول پڑیں’’ہم آپ کے مشکور ہیں سیٹھ صاحب کہ آپ نے اپنی بیٹی کو ہم غریبوں کے قابل بنا کر ہمیں نواز دیا۔‘‘
اس دوران میں نے کاغذات کا سرسری مطالعہ کرلیا اور قلم نکال کر ان پردستخط کرنے ہی والا تھا کہ سیٹھ صاحب بول پڑے ’’ایک صورت یہ ہے کہ……‘‘
’’کوئی آفر مت کیجئے گا سیٹھ صاحب! آپ نے مجھ پر احسانِ عظیم کیا ہے اور کوئی پیش کش یا سودے بازی کرکے آپ اپنا قد چھوٹا مت کیجئے گا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے میں نے کاغذات پر دستخط کردیے۔
سیٹھ صاحب کا وکیل جو طاہر اور امجد کی طرح دور کھڑا دیکھ رہا تھا، قریب آگیا اور بولا’’آئیے شائستہ بے بی سے بھی سائن کروا دیجئے۔‘‘
میں وکیل اورسیٹھ صاحب کی معیت میںوارڈ میں داخل ہوکر شائستہ کے بیڈ کے پاس آیا۔ وہ ہوش میں تھی۔ اس کے ہونٹوں پر پھیکی سی ہنسی زندگی کی لہر بن کر ثبت ہوگئی۔
’’کیسے ہو؟‘‘
’’تم میں تو حوصلہ ہی نہیں شائستہ !‘‘ میں نے شکوہ کیا۔’’میرے آنے تک انتظار ہی کرلیا ہوتا۔‘‘
’’پھر کیا ہوتا۔‘‘ وہ آنکھیں موند کر بولی’’مجھے اپنے حصے کا کام خود ہی انجام دینا تھا۔ میں کورٹ میرج نہیں کرسکتی تھی اور نہ ہی تمہارا ساتھ چھوڑ سکتی تھی۔ دنیا چھوڑنے کا حق تو صرف اور صرف میرا پرسنل ہے ۔ وہ میں نے استعمال کرلیا۔ ‘‘
’’شائستہ ! یہاں سائن کردو۔‘‘
’’میں یہاں سائن نہیں کروں گی۔ پاپا کی تمام جائیداد کل بھی میری تھی، آج بھی میری ہے اور آئندہ بھی میری ہی رہے گی۔ کیوں پاپا!‘‘ شائستہ نے میری توقع کے برخلاف انتہائی پختہ لہجے میں کہا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ وکیل اورسیٹھ صاحب پہلے بھی اس سے دستخط کرانے کی کوشش کرچکے تھے۔ اسی لئے وہ فاتحانہ نظروں سے مجھے دیکھ رہے تھے۔
’’شائستہ پلیز! میرا مان رکھو اور جائیداد سے دستبردار ہوجائو۔میں نے تمہارے پاپا کا فیصلہ مان لیا ہے۔ مجھے شائستہ چاہیے نہ کہ شائستہ کی دولت بس!‘‘ میں نے سختی سے کہا اور اس کے ہاتھ میں قلم تھما دیا۔ اپنی انگلی رکھ کر جہاں اسے دستخط کرنا تھے، اسے دستخط کرنے کا اشارہ کیا۔
وہ اپنے چہرے پر دونوں ہاتھ رکھ کر بلک بلک کر رونے لگی۔’’پاپا! مجھ سے اگر آپ کو اپنی دولت پیاری ہے تو لے جائیں۔نہیں چاہیے مجھے آپ کی جائیداد۔ آپ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔‘‘
پھر بیڈ کا سہارا لے کر وہ اٹھی اور اس نے دستخط کردیے۔ اسٹامپ پیپرز پر اس کا تمام تر ماضی آنسو بن کر ٹپک گیا اور گیلے کاغذ وکیل کی ایک فائل میں داخل ہوگئے۔
اسی کمرے میں دو گھنٹے کے بعد ہمارا نکاح ہوا اور شائستہ میری دلہن بن کر میرے چھوٹے سے گھر میں روشنی پھیلانے آگئی۔ سہاگ رات میں میں نے اسے سیدو شریف کے نواح میں ملنے والی لڑکی لیلیٰ کی داستان سنائی تھی اور اسے وہ دعائیں بھی من و عن بتائی تھیں جو اس دریدہ دامن نے مجھے اورشائستہ کو دی تھیں۔
’’کاش کہ میں اس ہستی کا دیدار کرلیتی!‘‘ شائستہ نے آہ بھری۔
’’تم ایسا کرلو گی۔ اس نے کہا تھا کہ دس دن کے اندر اندر شائستہ تمہاری بیوی بن جائے گی اور تم بن گئی ہو۔ اس نے کہا تھا کہ ایک سال کے اندر اندر اللہ مجھے ایک بیٹی دے گا اور مجھے یقین ہے کہ ایسا ہی ہوگا۔ جانے کیوں دل کہتا ہے کہ ہماری لیلیٰ بالکل ویسی ہی ہوگی جیسی میں نے ڈاک بنگلے میں دیکھی ہے۔ میں اس کا نام لیلیٰ رکھوں گا خواہ تمہیں اعتراض ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ میں نے اسے کہا۔
پھر ایک سال بیت گیا۔ ایک شب کی طرح۔
خدا نے مجھے ایک خوبصورت سی گڑیا سے نوازا جس کا نام میں نے لیلیٰ ہی رکھا۔ میں کسی صورت میں وعدہ خلافی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی تھی کہ میں ابھی تک اس معصوم صورت پری کو فراموش ہی نہیں کرپایا تھا جو ایک رات کی بہن بن کر مجھے ساری عمرکا بھائی بنا گئی تھی۔
لیلیٰ کی پیدائش نے سکوت توڑ ڈالا۔ سیٹھ منور حسین صاحب نے سال بھر ہماری شکل بھی نہ دیکھی تھی مگر اپنی نواسی کی پیدائش کا سن کر بے چین ہوگیا۔ وہ اپنی بیٹی سے دور تورہا مگر نواسی سے دور رہنے پر قدرت حاصل نہ کرسکا۔ اسے دیکھنے کیلئے آگیا۔ یوں باپ بیٹی میں بھی فاصلے ختم ہوگئے۔
آج اس بات کو برسوں بیت گئے ہیں۔ لیلیٰ کے بعد اللہ نے مجھے دو بیٹوں وقاص اور عمیر سے نوازا۔ طاہر کو اللہ نے تین بیٹے عطاء کئے اور امجد کے حصے میں رحمتِ خداوندی سے دوبیٹے آئے۔
ہم تینوں بھائیوں کی ایک ہی بیٹی ہے
لیلیٰ!
اس کے بغیر کسی کا بھی ایک پل نہیں گزرتا۔ ہر کوئی اس کی خوش قسمتی پر رشک کرتا ہے۔
میرے سسر سیٹھ منور حسین حج کی سعادت حاصل کرنے کے بعد گوشہ نشیں ہوچکے ہیں۔ ان کا تمام کاروبار میں نے سنبھال لیا ہے۔ لاکھوں کروڑوں کی گتھیاں منٹوں میں سلجھالیتا ہوں۔ لیکن دو گتھیوں کو آج تک نہیں سلجھا پایا ہوں۔
لیلیٰ کا اپنے بھائیوں کی ذرا سی تکلیف پر غیرمعمولی حدتک بے چین ہونا تو سمجھ میں آتا ہے مگر تمام کوششوں کے باوجود یہ سمجھ میں نہیں آسکا کہ وہ اتنی ماڈرن ہونے کے باوجود اپنے بھائیوں کو ، چھوٹے بھائیوں کو ’’لالہ‘‘ کیوں کہتی ہے جبکہ ہمارے خاندان میں لالہ کہنے کا ہرگز کوئی رواج نہیں ہے۔ ہمارے خاندان کی لڑکیاں اپنے بھائیوں کو بھائی جان یا بھیا کہتی ہیں۔
دوسری بات شاید بہت کم لوگوں کے دائرۂ یقین میں آئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری لیلیٰ اور اس لیلیٰ کی شکل میں ذرا بھر فرق نہیں ہے۔ وہی بال، وہی نین نقش، وہی جسم، وہی رنگت الغرض یوں محسوس ہوتا ہے کہ پندرہ برس کی عمر تک پہنچنے پر وہی لیلیٰ نظر آئے گی جسے میں نے سیدو شریف کے اجاڑ ڈاک بنگلے میں دیکھا تھا۔
یہ گتھی تو شاید عمر بھر نہ سلجھے۔
یہ معمہ تو شاید صدیوں میں حل نہ ہو۔
یہ عقدہ تو شاید انسانی عقلوں سے وَا نہ ہو۔
مگر یہ حقیقت ہے کہ
میرے اندر، میرے باہر ہر سمت! ہر سو
لیلیٰ ہی لیلیٰ ہے اور وہ اپنے تمام تر بچپنے کے ساتھ میرے آنگن میں کھیلتی کودتی ہے۔
٭٭٭

(شائع شدہ ماہنامہ ’’نازنین‘‘ کراچی۔ ماہِ جنوری ۲۰۰۷ء )

Viewers: 1389
Share