ًًًً ًگلہ تو ہیـ:ًکی تقریب رونمائی

ًًًً ًگلہ تو ہیـ:ًکی تقریب رونمائی زیر انتظام پاکستان ایسو سی ایشن قطر

رپورٹ؛مرادعلی شاھد دوحہ قطر
پاکستان ایسوسی ایشن قطر واحدادبی تنظیم جو ماہانہ ادبی پروگرام و تقریبات کے تسلسل کی روایت کو جاری رکھے ہوئے ہے۔اس سلسلہ کی ماہ اکتوبر کی تقریب الدعوت پاکستانی ریسٹورنٹ کے خوبصورت ہال میں منعقد پزیر ہوئی۔محفل دو حوالوں سے منفرد ٹھہری۔ایک تو ماہ محرم اطہر کے تقدس کے پیش نظر حمد،نعت،سلام اور منقبت کے نذرانوں کے پھول بارگاہ اقدس سرور کونین و نواسہ رسول جگر گوشہ بتول امام حسینؑ کے حضور نچھاور کئے گئے اور دوسرا حوالہ اس لئے قابل تعظیم و تکریم ٹھہرا کہ دوحہ کے بزرگ اور کہنہ مشق استاد شاعر محمد شفیق اختر کی شائع کردہ چوتھی کتاب ًگلہ تو ہے ً کی تقریب رونمائی بھی تھی۔

IMG_20170930_220827008
پروگرام کی صدارت کے فرائض پاکستان سے تشریف لائے سینئر شاعر محمد ممتاز راشد لاہوری نے اد ا فرمائے جبکہ مہمان خصوصی کی نشست کی زینت رانا محمد ایوب اور قمرالزمان بھٹی بنے۔محفل کے مہمان اعزازی صاحب کتاب محمد شفیق اختر تھے۔پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن سے ہوا جس کی سعادت سید فیضان کو حاصل ہوئی۔تلاوت کے فوراً بعد راقم الحروف کو شفیق اختر کی شخصیت و فن کے حوالہ سے خیالات کا اظہار مضمون کی صورت میں سامعین کے گوش گزار کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔
دوسرا مرحلہ تہنیت و تشکر اور مشاعرہ پر مشتمل تھا جس میں مہمان خصوصی قمرالزمان بھٹی اور رانا ایوب نے شفیق اختر کی چوتھی کتاب کی اشاعت پر تہنیتی کلمات ادا فرمائے۔شفیق اختر نے بعد ازاں مبارکباد وصول کرتے ہوئے تمام احباب خصوصاً سید فہیم الدین،اعجاز حیدر،قمرالزمان بھٹی کے تعاون اور خلوص و ہمدردی کا شکریہ ادا کیا اور نعت رسول مقبول ﷺ ترنم سے سامعین کی نذر کرتے ہوئے سامعین سے داد و تحسین وصول فرمائی۔
پروگرام کے آخر میں صدر مجلس محمد ممتاز راشد لاہوری نے صاحب کتاب سے دیرینہ تعلقات کی یادوں کو بیان کرتے ہوئے nostalgic
ماحول پیدا کر دیا۔مزید انہوں نے شاندار پروگرام منعقد کرنے پر پاکستان ایسوسی ایشن قطر کو مبارکباد پیش کی اور توقع ظاہر کی کہ ایسے پروگرام کے انعقاد کا سلسلہ رکنے نہ پا ئے IMG_20170930_222025612گا ۔پروگرام کبھی بھی پایہ تکمیل تک نہ پہنچتا اگر اس کے منصرم سید فہیم الدین نہ ہوتے۔جنہوں نے نہ صرف انتظام و انصرام بلکہ سٹیج سیکرٹری اور نظامت مشاعرہ کے فرائض بھی سر انجام دئے۔مشاعرہ سے قبل انہوں نے خصوصی شرکت پر عدیل اکبر،عبید طاہر ،عتیق الرشید،سٹاف پاک شمع کالج اور شریک تعاونW.W.I.C.S کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ جن کا تعاون ہمیشہ شامل حال رہتا ہے۔
کلام پیش کرنیوالے شعراء حضرات کے وہ اشعار جن پر انہیں بے حد داد و تحسین سے نوازا گیا۔
سارے چمن میں آج کچھ بات ہے مگر
لگتا کہ نور میں وہ نظارہ حسینؑ ہے (عبدالوکیل)

در پہ تیرے ہی میرا سر خم ہو
اشک سے اپنے دل کی بات لکھوں (محمد طاہر جمیل)

آپ کے واسطے ہر خوشی چھوڑ دی
ہو عنایت وہ شوق بلالی مجھے (راقم اعظمی)

اگرچہ زیست کو دیکھوںتو غم بھی کم نہیںہے
غم حسینؑ سے بڑھ کر تو کوئی غم نہیں ہے (سید فہیم)

ہم بھی تعلیم مصطفے کے طفیل
ا آج دانشوروں میں رہتے ہیں (منصور اعظمی)

کون منکر حسینؑ سے آصفؔ
وہ تو اک جاوداں حقیقت ہے ( آصف شفیع)

روداد کربلا سے ہے روداد اہل بیت
تفسیر اہل بیت ہے تفسیر کربلا (شوکت علی ناز)

ہیں پر کیف لمحے ہیں پر کیف گھڑیاں
جو شہر نبی میں بسر کر رہا ہوں (شفیق اختر)

ریزہ سنگ ہوں سرکار نگینہ کر دیں
میرے افکار کے یثرب کو مدینہ کر دیں (ممتاز راشد لاہوری)

Viewers: 143
Share