Murad Ali Shahi | دھیمے لہجے کا شاعر؛ سید فہیم ہاشمی ۔۔۔۔ از: مراد علی شاہد

مرادعلی شاھدؔ۔ دوحہ قطر دھیمے لہجہ کا دبنگ شاعرسید فہیم ہاشمی میری شوخ بیانی میں لہجے سب ملال کے ہیں شعر کی گہرائی اور گیرائی سے پتہ چلتا ہے کہ […]

مرادعلی شاھدؔ۔ دوحہ قطر

دھیمے لہجہ کا دبنگ شاعرسید فہیم ہاشمی

میری شوخ بیانی میں
لہجے سب ملال کے ہیں
شعر کی گہرائی اور گیرائی سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا تخلیق کار جنید بغدادی کے ملامتی فلسفہ و فکر کا راسخ العقیدہ پیرو کار ہو یا پھر ایسے قبیل تصوف سے وابستہ خیال ہر جو اپنی خوش بیانیوں،شوخ بیانیوں سے بنی نوع انسانیت کی زیست کے آنگن میں ہر سو خوشیاں بکھیر دے۔اور ان کے تمام مصائب و آلام کو اپنی ذات کا کرب بنا لے کی زندگی کی معراج دراصل خدمت خلق اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سے ہی نصیب ہوتی ہے۔سخنوری کی معراج پہ نظر آنے والا ہی سخن طراز ہے۔سید فہیم ہاشمی۔۔۔۔۔میری ادبی فلک کے اس انجم تاباں سے پہلی بار دیدار ملاقات ہوا تو اس کے پر سکون اور ٹھہرے ٹھہرے لہجے سے یوں محسوس ہوا کہ جیسے “اداس شہر میںشام”ابھی گزار کے لوٹا ہو۔اور اپنے” پل پل بکھرے جیون” کو سمیٹنے میں مصروف عمل ہو۔ملاقات اول چہرے کی سنجیدگی،متانت،ذہانت اور پر درد سے لہجہ نے مجھے یہ سوچنے پہ مجبور کر دیا کہ کسی گہری چوٹ کے درد کو ” بدن سے لپٹا کرب” اپنے شخصیت کا حصہ لازمہ بنائے ہوئے ہو۔مصداق ان کے اس شعر کے
اپنا تو عشق عزت سادات لے گئے
کچھ ایسے واقعات میں آگے نکل گئے
مگر میرا یہ خیال اس وقت باطل ٹھہرا جب ملاقاتوں کا سلسلہ طویل ہوا۔دو چار ملاقاتوں میں خوش گفتاری و خوش بیانی کا یہ عالم کہ” نقطے حرف اور حرف دائرے” اور دائرے پھیلتے پھیلتے ایسے ادبی افق پہ لے گئے جہاں سید فہیم اپنی آٹھ ادبی تصانیف کے ساتھ تاباں و رخشندہ دکھائی دیتا ہے۔فہیم کو میں شاہ جی کہہ کے پکارتا ہوں اس لئے کہ آپ ہیں ہی دبی دنیا کے” شاہ”
کسی بھی ادبی شخصیت کا فن و ادب کے میدان میں مقام متعین کرنا اتنا آسان اور سہل نہیں ہوتا جب اسکی ذات کے ایک سے زائد حوالے ہوںاور شخصیت بھی کثیرالجہات ہو۔مولانا ابوالکلام کے بارے میں شورش کاشمیری کہا کرتے تھی کہ۔”دنیا میں بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں شاعری اور نثر میں ید طولیٰ حاصل ہو مگر شاہ کی شخصیت نہ صرف دونوں اصناف پہ گرفت رکھے ہوئے ہیں بلکہ تیسرا حوالہ ان دو پر بھی بھاری ہے اور وہ ہے ان کی شعلی بیانی”مجھے دوحہ میں مقیم” شاہ جیـ”کے ادبی و فنی مقام کا تعین بھی مجھے اس وقت مشکل لگا جب ان کے ادبی حوالوں کا سوچا اور جانا کہ
شاعری نثر سے پختہ تر ہے یا
نثر کا حوالہ ان کی شاعری سے مظبوط یا پھر
نثرپاروں کے ساتھ ساتھ طنزو مزاح میں میدان مارنے میں ماہر۔
ان سب سے ہٹ کر ان کی شخصیت کی ایک پہچان ان کا زیر لب مسکرانا بھی ہے ۔اور مسکراہٹ میں پوشیدہ ان گنت ادبی راز ۔جیسے آتش فشانی علاقہ میں زیر زمین خاموش لاوا۔فرق صرف اتنا ہے کہ لاوا باہر نکلتا ہے تو ہر طرف تباہی و بربادی اور حیات و نباتات کی موت کا پیامبر۔جبکہ شاہ جی کے اندر چھپے ادبی راز لفظوں کی صورت میں منظم ہو کر ہاتھ باندھے ہم تک پہنچتے ہیں تو کئی کئی غزلوں،نظموں اور مضامین کا ایسا روپ دھار لیتے ہیں جیسے “لفظ در لفظ “لکھی داستان ہو.شاہ جی کا قلم جب چلتا ہے تو بہت سو کے ادبی سر قلم ہو جاتے ہیں۔اس لئے کہ جب بھی لکھتے ہیں قلم اٹھا کے لکھتے ہیں اور ایسا لکھتے ہیں کہ مخالفین اپنا قلم توڑ دینے پہ مجبور ہو جاتے ہیں۔اس لئے کہ اپنے قلم سے حق اور سچ کی حمائت میں خامہ فرسائی فرماتے ہیں۔دعا ہے کہ ادبی افق پہ ان کا قلم جاری رہے۔گویا ادبی و فنی میدان میں انہیں تین حوالوں سے جان پایا کہ۔
ادبی ظلم و جبر کے صحرا میں کھڑا تنہا چھتناور۔
طنزو مزاح اور فکاہیہ ادب کا ماہر جراح۔
لفظوں سے موسیقیت پیدا کرنے والا خسرو۔
پھر اس کے بعد میرا سر قلم بھی کر دینا
ابھی نکال نہ تلوار مجھے ناچنے دے مجھے
ادبی منظر نامہ پر نظم،غزل،نثر پر مشتمل آٹھ تصانیف کے ساتھ شاہ جی دوحہ کی ادبی دنیا پہ راج کر رہے ہیں۔ان کی آٹھویں کتاب جو حال ہی میں طباعت کے بعد قارئین کی توجہ کا مرکز بنی” یہ عشق پہلا نہیں ہے” اس سے چند اشعار قارئین کی نذر.
میں ترے عشق میں تجھ کو ہی بھول جائوں گا
تو ایسا سوچ میرے یار کیسے سکتا ہے
میرے سفر سے جدا پنی راہ کر لینا
تمہیں گوارا نہیں اگر نباہ کر لینا
میری غزل نے جونہی ترے ہونٹ چھو لئے
لفظوں سے بن گئی ہے کتھک ناچنے لگی

Viewers: 219
Share