Dr. Syed Yahya Saba | لایموت؛ ایک لافانی پیشکش

ڈاکٹر محمد یحییٰ(صبا) سینئر اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اردو،کروڑی مل کالج دہلی یونیورسٹی،دہلی۔110007 ای میل:urisath@gmail.com urisath@yahoo.com موبائل:+91-9968244001 لَایَمُوْتْ :ایک لافانی پیش کش کلیدی الفاظ #لایموت#لافانی #پیش کش تلخیص: زیر نظر کتاب […]

ڈاکٹر محمد یحییٰ(صبا)
سینئر اسسٹنٹ پروفیسر
شعبۂ اردو،کروڑی مل کالج
دہلی یونیورسٹی،دہلی۔110007
ای میل:urisath@gmail.com
urisath@yahoo.com
موبائل:+91-9968244001

لَایَمُوْتْ :ایک لافانی پیش کش

کلیدی الفاظ #لایموت#لافانی #پیش کش

تلخیص:

زیر نظر کتاب پاکستان کے معرو ف اور مایاناز مصنف و فاضل ناصر ملک کی پیش کش ہے۔جو اپنے نام کی طرح ہمیشہ زندہ جاوید،غیر فانی رہنے والی ہے۔چوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے گرمی (ذاتی وصفاتی)کے منظوم ترجماتی تذکروں پر مشتمل ہے۔ بس یہی نسبت اس کے لیے کافی ہے۔فاضل مصنف نے نہایت عرق ریزی اور دقت نظر سے ’’لایموت‘کو ترتیب دیا ہے۔جس سے اچھوتے پن اورجدید تکنیک کا اندازہ ہوتا ہے۔کتاب کی ترتیب اس طرح ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک ایک نام کا اردو اورانگریز ی میںدرست تلفظ درج ہے پھر اس کا لغوی ترجمہ۔اس کے بعد اسمائے الٰہی میں اس کی ترتیب (نمبر)قرآن پاک کی مذکورہ سورۃ کا حوالہ۔اس کے بعد شعری عروض اور بحر ۔سب سے آخر میں اسی مناسبت سے ایک نظم۔جس میں متعدد صنائع بدائع اور اللہ تعالی کی ذات وصفات ،قدرت و کرامت ،حکم و بیان، انکشاف و حکایت کے ذکر کے حسین گلدستوں سے اسے سجایا ہے۔جس خوش اسلوبی ، حسن ترتیب اور جانفشانی سے مؤلف نے کتاب کو ترتیب دیا ہے اس سے ان کی مذہب پسندی،الٰہیات کے گہرے مطالعے اور شعری وجدان پر گہری نظر کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس طرح سے اپنے موضوع اور مواد پر مشتمل یہ کتاب نایاب اور بے مثال ہے جس کی اہمیت و افادیت بذات خود مسلّم ہے۔

ناصر ملک 15 اپریل 1972کو چوک اعظم(ضلع لیہ) میں پیدا ہوئے۔1987 میں میٹرک کا امتحان اعزازی نمبروں کے ساتھ پاس کیا۔ 1989 تک گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان میں زیرِ تعلیم رہے۔ انٹر میڈیٹ کے بعد گورنمنٹ ہیلتھ ٹیکنشن کالج ڈیرہ غازی خان میںداخلہ لیا اور 1991 میں پنجاب میڈیکل فیکلٹی ٹاپ کرتے ہوئے کالج سے فارغ التحصیل ہوئے۔ گریجویشن اور ایم اے (اسلامیات) کرنے کے بعد سلسلہ تعلیم کو خیرباد کہہ دیا۔ ناصرملک کے تعلیمی سفر پر اگرہم نظر ڈالیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ طالب علمی کے زمانہ سے ہی ذہین وفطین تھے اور اپنے ہم جماعت طلبا سے ہمیشہ ممتاز رہے۔دورانِ تعلیم اُن کا شمار اچھے اورباذوق طلبا میں کیا جاتا تھا۔
اُن کے ادبی سفر کا آغاز1985 میں ہوا۔بچوں کے ایک ماہنامہ میںپہلی کہانی شائع ہوئی جب وہ آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے۔پھردوسرے بڑے اور اہم رسالوں میں ان کے افسانے شائع ہونے لگے اور یہ سلسلہ قومی اخبارات تک پھیلتا چلا گیا۔1986میں لاہور کے ایک ادبی جریدے ’’آداب عرض‘‘ نے اُن کی فنی وتخلیقی کاوشوں کو نکھار ا ۔ ابتدا ہی میں ہی اُن کے معاشرتی ناول ’’سحر ‘‘ نے اُن کو ملکی سطح پر متعارف کرایااور مسلسل آج تک ناصر ملک آب و تاب کے ساتھ اردو کی خدمت کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایک ہی وقت میں اَدب کی کئی اصناف میں کام کرتے ہیں اور یقینا اُن کو ہر صنف میں غیر معمولی دسترس بھی حاصل ہے۔ناصر ملک کا تصنیفی سرمایہ بڑی تعداد میں موجودہے ۔ان کا شمار موجودہ دورکے کثیر التصانیف ادیبوں میں ہوتا ہے ۔
1993 کو اُن کی یادداشتوں پر مشتمل پہلی انگلش کتاب “Golden Memories” شائع ہوئی۔1993 میں اُن کا اردو ناول ’’پتھر‘‘ کتابی صورت میں شائع ہوا۔1995 میں ان کے شاعرانہ افکار پر مبنی پہلی اردوکتاب ’’یہ سوچ لینا‘‘ شائع ہوئی۔1996 میں اُنھوں نے اَدبی میگزین ’’شاہکار‘‘ کا ہر ماہ پابندی سے اجرا کیا جو سال بھرمسلسل شائع ہوا اورپھرمالی وسائل کی کمی کے باعث تعطل کا شکار ہوگیا۔ 2002 میں اُن کی تاریخی تحقیق پر مبنی ضخیم کتاب ’’انسائیکلو پیڈیا آف لیہ‘‘ شائع ہوئی۔ 2003میں اُنھوں نے پنجابی اَدبی بورڈ لاہور کے لیے اپنی مادری زبان پنجابی میں ’’لیہ دی تاریخ‘‘ لکھی جو کسی وجہ سے شائع نہ ہو پائی۔2008ء میں اس کو لہراں اَدبی بورڈ لاہور نے شائع کیا ہے جو تاریخ کے وسیع اور دقیق میدان میں اپنی مسلمہ حیثیت رکھتی ہے۔ 2008 میںہی اُن کا مجموعہ کلام ’’غبارِ ہجراں‘‘ شائع ہوا جس نے ملکی سطح پر بہت پذیرائی حاصل کی۔ اُن کے کلام کا مجموعے ’’جان، جگنو اور جزیرہ‘‘، ’’ہتھیلی‘‘، ’’سامعہ‘‘ اور ’’راکھ‘‘منظر عام پر آچکے ہیں۔ ان کے ناول ’’تماشائے عشق‘‘، ’’زادِ سفر‘‘، ’’پتھر‘‘، ’’جنت‘‘، ’’آتش زاد‘‘، ’’دل آشنا‘‘ اور چار جلدوں پر مشتمل ’’مسافر‘‘ شائع ہو کر ان کے ہنرسے لاکھوں قارئین کو مستفید کر چکے ہیں۔ اُن کی ایک کتاب ’’لیمپ والی لڑکی‘‘ جس میں فلورنس نائٹنگیل (جدید نرسنگ کی بانی) کی سیر حاصل بائیوگرافی دی گئی ہے،زیرِ طبع ہے۔ اس کے بعد آپ کے سامنے ان کی کتا ب’’لایموت‘‘پیش خدمت ہے جو ناصر ملک کی اعلا ذہانت کا ثبوت اور بیان ہے۔ناصر ملک کا قلم ابھی اور رواں ہے اور مزید کوئی اور شاہ کار کو منظر عام پر لانے کو تیار ہے۔
ہماری دنیا یعنی اردو دنیا میں آئے دن کتنی ہی کتابیں شائع ہوکر منظر عام پر آتی ہیں اور اپنے وجود کا احساس کراتی ہیں ۔ان پر تبصرے اور تجزیے ہوتے ہیں۔باتیں ہوتی ہیں۔تذکرے بھی ۔کچھ تو ان میںمعرکۃ الآرا ہوتی ہیں اور کچھ بہت دیر تک متعدد حلقوں میں موضوع گفتگو بنی رہتی ہیں ۔ مگر یہ حقیقت بھی ہے کہ ان میں بڑی تعداد ایسی کتب کی ہوتی ہے جو اکثر اپنے ناموں سے بھی انصاف نہیں کرپاتیں ،چہ جائے کہ عناوین اور مشمولات کی بات کی جائے۔یہی وجہ ہے کہ وہ بہت جلد نہ جانے کہاں غائب ہوجاتی ہیں اور ان کے دوسرے ایڈیشن تک کی نوبت بھی نہیں آتی ۔مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ سب کتابیں ہی ایسی ہیں ہوتی یا انھیں حقیقی مقبولیت حاصل نہیں ہوپاتی ۔سچی بات تو یہ ہے کہ ہمیں تلاش وجستجو کے بات ایسی کتابیں بھی مل جاتی ہیں جنھیں پڑھ کر ،دیکھ کر اور حاصل کر کے دلی مسرت کا احساس ہوتا ہے۔وہ پہلی ہی نظر میں ہمیں بھا جاتی ہیں اورمتاثر کرجاتی ہیںنیز دل و نگاہ اپنے آپ ان کی طرف کھنچتے چلے جاتے ہیں ۔ ان کا نادر اسلوب،انوکھا انداز، نئی سمت،جدید لب ولہجہ،نیا آہنگ ہمیں اپنی جانب متوجہ کرلیتاہے اور اپنی اہمیت کا خراج حاصل کرکے رہتا ہے۔
اس سلسلے کی ہمیں ایک کتاب ملتی ہے جس کا نام ہے ’’رَبَّنَا‘‘ اس کے مرتب کشمیر کے معروف قلم کار و مؤرخ عبد الرحمان کوندو ہیں۔ اس کتاب کے تعارف میں سہ روزہ دعوت نئی دہلی میںلکھا ہے:
’’اس کتاب میں قرآن کریم کی وہ چالیس دعائیں مع ترجمہ جمع کی کی گئیں جن میں’’رَبَّنَا‘‘ (اے ہمارے رب!)کا لفظ آیا ہے ۔ابتدا میں مصنف کے قلم سے 55صفحات پر مشتمل مفصل پیش لفظ ہے جس میں دعا کی فضیلت ،دعا کے دستیاب مجموعوں کا تذکرہ ،لفظ’’رَبَّ‘‘ کے لغوی واصطلاحی تشریح،قرآن پاک میں مذکورانبیائے کرام کی دعائیں اور احادیث کی روشنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چند جامع اور پر اثر دعائیں درج کی گئی ہیں ۔کتاب کے آخر میں تفاسیر کی مدد سے ا ن چالیس دعائوں کی مختصر مگر جامع تشریح کی گئی ہے ۔جس سے ان دعائوں کے موقع ومحل اور معانی کی وضاحت ہوتی ہے۔‘‘(1)
اسی قبیل کی نئے پن اور جدید انداز و اسلوب سے لیس ایک کتاب’’لایموت‘‘آئی ہے۔جو99 اسمائے الٰہی (ذاتی وصفاتی)کے منظوم بیان پر مشتمل ہے۔اس کے مصنف /مؤلف پاکستان کے معروف شاعر اور مفکر ناصر ملک ہیں۔یہ کتاب ’’اردو سخن ڈاٹ کام،پاکستان ‘‘نے شائع کی ہے۔کتاب کی اہم ترین خوبیاں یہ ہیں:اسمائے الٰہی کو منظوم کیا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالی کے 99؍اسمائے گرامی کو شعری ،فنی،تحقیقی، حوالہ جاتی(قرآن کریم میں اس کا ذکر کس سورۃمیں ہوا ہے نیزاس سورۃ کا نمبر کیا ہے) عروضی،معنوی، لسانی،تلفظ و ادائیگی تمام انداز میں بیان کیا ہے۔ یہ کتاب 208صفحات پر مشتمل ہے۔
اسمائے الٰہی کی خاصیت اور تاثیر کا بیان قرآن اور حدیث اور مذہبی کتب میں بار بار آیا ہے چنانچہ ان سے بند گان خدا نے اپنے بہت سے اہم مسائل حل کیے ہیں چاہے وہ مالی ہوں،معاشرتی ہوں ،سماجی ہوں یا کسی بھی نوعیت کے مسائل اور مشکلات میں ان اسمائے گرامی سے تبرک حاصل کیا ہے۔قرآن کریم میں بھی اس کی خصوصی ہدایت موجود ہے ۔چنانچہ سورۃ الاعراف کی آیت :180؍میں بیان کیا گیا ہے:’’اللہ ہی کے اچھے نام ہیں تو تم اس کو ان ناموں سے پکارو۔‘‘اسی طرح مسند امام احمد و صحیح ابن حبان و حاکم میں اللہ کے نبی محمد الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا موجود ہے:’’اے اللہ! میں تجھ سے تیرے ہر اس نام سے سوال کرتا ہوں جس سے تو نے خود کو موسوم کیا ہے، یا اس کو اپنی کتاب میں نازل کیا ہے یا اپنی کسی مخلوق کو سکھایا ہے۔ یا اپنے پاس کے علم غیب میں تو نے اس کو خاص کیا ہے۔‘‘اور یہ سب نام وہی ہیں جو اسمائے الٰہی ہیں یعنی اللہ تعالی کے 99؍نام ۔جن کا وجود اور احساس ہی بندوں کی توفیق و ہدایت کے لیے کافی ہے۔اللہ کے بندے ان کے ذریعے خدائے بزرگ کی نعمتیں اور عطائیں طلب کر تے ہیں نیز انھیں اس کی تاکید بھی کی گئی ہے۔چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’ولِلّٰہٖ الْاَسْمَائُ الْحُسْنیٰ فَادْعُوْا بِھَا!‘‘(سورۃالاعراف:180)
اور اللہ کے لیے ہیں اچھے اچھے نام ۔پس ان ناموں کے ساتھ اسے پکارا کرو!
اس آیت کریمہ میں ’’امر ‘‘کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے اورعربی قواعد/گرامرکے اعتبار سے’’ امر‘‘ وجوب کا تقاضا کرتا ہے۔یعنی اللہ تعالی سے اس کے اچھے اچھے ناموں کے ذریعے مانگنا اور طلب کر نا واجب ہے۔نیز فقہی نقطۂ نظر سے ’’نص قطعی‘‘ یعنی قرآن کا حکم فرض کے درجے میں ہوتا ہے جس پر عمل کرنا بندوں کے لیے نہایت ضروری اور مفید تر ہوتا ہے۔چنانچہ اللہ کے نیک بندے اس حکم اور وجوب کا تقاضا پورا کرتے ہیں اور اپنی مرادیں بر لاتے ہیں۔ان کی جھولیاں بھر جاتی ہیں اور وہ دنیا وجہان میں اللہ تعالیٰ کے انعامات کی عطا کے احساس سے سرشار پھر تے ہیں ۔
یوں تو اسمائے الٰہی کے بیان اور ترتیب ،ان کے فوائد و اثرات اور طریقہ تلقین و ادائیگی سے متعلق متعدد کتابیں اور رسائل اردو میں بھی ترتیب دئیے گئے ہیں جن کی مقبولیت بند گان خدا میں ناقابل بیان ہے تا ہم زیر مطالعہ کتاب ’’لایموتْ‘‘ کی بنیادی خوبی یہ ہے کہ پوری کتاب میں اللہ تعالی کے ا سی قسم کے نناوے اسمائے الٰہی (ذاتی وصفاتی)کی منظوم ترجمانی اور بیان کو تحریر کیا گیا ہے جس سے جہاں کتاب کی چمک دمک اور رونق بڑھی ہے وہیں اسمائے الٰہی کو ایک نئے انداز اور نئی طرح میں دیکھنے کا موقع بھی ملا ہے ۔فن شاعری کا یہ انداز نہ صرف بے نظیر اور لا جواب ہے بلکہ اس سے اس فن کے تعلق سے کہی جانے والی غیر ضروری و غیر مناسب باتو ںکا جواب بھی مل جاتا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ شاعری صرف توہم،وہم،خام خیالی اور محض محبوب کے جفا ووفا کے ذکر تک محدود و مخصوص ہے بلکہ اس سے قرآن وحدیث اور الٰہیات و نبیات کو بھی سمجھنے اور سمجھانے کے کام بھی لیے جاتے ہیں ۔اس کی نادر مثال ’’لایموتْ‘‘ہے جس کے ورق ورق میں یہ انداز موجود ہے۔
مؤلف نے اپنے بیان میں قرآن کریم کے طرز صنائع و بدائع کو خصوصی خیال رکھا ہے ۔اسی طرح درمیان میں احکامات قرآن و فرامین ،ہدایات و مناہی،اوامر و منافی تمام باتوں کا خصوصی لحاظ تلمیحی انداز واسلوب میں رکھا گیا ہے۔جس سے کتاب کی شان دوبالا ہوگئی ۔نہ صرف یہ بلکہ دل چسپی اور تاثر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔اس سے مؤلف کے وسیع مطالعہ اور فکرکی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے اور قاری ایک اپنے ہی ارد گرد کے اندیکھے جہانوں کی سیر کرتا ہے۔جہاں اس کی حیر انی و استعجاب کی انتہا نہیں رہتی بلکہ وہ ایک خوشگوار احساس سے بھی دوچار ہوتا ہے ۔اسے بہت اچھا لگتا ہے بلکہ اسے پڑھتے ہوئے اپنے ہی وجود سے روشنی سی پھوٹتی محسوس ہوتی ہے۔یہ ہے وہ کمال جو مؤلف ناصر ملک نے اس کتاب کے وجود میں بھر دیا ہے۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کتاب میں موجود منتخب اسماتی نظموں کا مختصر تجزیہ و تبصرہ پیش کیا جائے جس سے کتاب کے اندرموجود مواد کا اندازہ ہوسکے۔ نیز مصنف کی محنت و کوشش کا بھی اندازہ ہو سکے۔

الرَّزَّاقْ
AR-RAZZAQ
عدم دستی سر افلاس الرَّزَّاق دیتاہے
کسی بھی ہاتھ کو الماس الرَّزَّاق دیتاہے
فرات اپنی بساط فیض میں سمٹے تو مومن کو
صدائے العطش کا پاس الرَّزَّاق دیتاہے(2)
مذکورہ بالا اشعار(پوری نظم) میں نئی لفظیات و ترکیب میں اللہ تعالیٰ کی صفت ’’رزاق‘‘ اوراس دست روی کا تذکرہ اس انداز سے کیا گیا ہے کہ اس سے جہاں اللہ تعالیٰ کی صفت رزاقیت پر ایمان و اعتقاد بڑھتا ہے وہیں اردو شعرو ادب کو نئے اور اچھوتے الفاظ و تراکیب حاصل ہوتی ہیں۔
فرات اپنی بساط فیض میں سمٹے تو مومن کو
صدائے العطش کا پاس الرَّزَّاق دیتاہے
اس شعر میں رب کریم کی اس طاقت اور قدرت کا ذکر ہے کہ جس کااندازہ ہمیں زمین و آسمانوں میں اس کی کارفرما ئی سے ہو تا ہے۔گویا اگر فرات اپنا پانی روک لے،بندوں پر نہریں سوکھ جائیں اور وہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کی پیاس ماردی،ان پر پانی روک دیاایسے وقت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت کا مظاہرہ ہوتا ہے اور بندے کی اس صدائے العطش کا پاس پھر وہ رکھتا ہے جس کے قبضہ قدرت میں سب چیزیں ہیں۔
چند مثالیں اور ملاحظہ کیجیے:
الوَدُوْدْ
AL-WADOOD
دے کر الگ طلسم وکمالات اَلْوَدُوْدَ
کرتا ہے دوستوں سے ملاقات اَلْوَدُوْدَ
پُرسان حال جس کو دکھائی نہیں دیا
اس پر بھی کررہا ہے عنایات اَلْوَدُوْدَ
اس کی سخاوتیں ہیں گھٹائوں کے روپ میں
ہر دم رکھے نظام مساوات اَلْوَدُوْدَ(3)
مذکورہ بالا نظم میں اللہ تعالیٰ کی صفت محبت جو وہ اپنے بندوں کے تئیں کرتا ہے اور انھیں اس سخت گیر دنیا میں اپنے دست قدرت سے بڑھتا ہے اس کا نام الودود یعنی بے تحاشا محبت کر نے والا ہوتا ہے۔ الودود کا مطلب ہی ہے ٹوٹ کر چاہنا،بکھر کر چاہنا،اپنے دوست کے لیے فکر مندرہنا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ اس کام کو نہایت اہتمام سے کرتے ہیں اور اپنے بندوں کی خبر گیری کرتے ہیں ۔اس کی مثالیں سینکڑوں کی تعداد میں ہمارے سامنے موجود ہیں ۔
اس نظم کا دوسرا شعر تو ایقان افروز او راللہ پاک کے تئیں ہمارے جذبۂ یقین کو بڑھا تا ہے ۔جب ہمیں یا کسی انسان کو دنیا میں کوئی یار و مدد گار نہیں ملتا اور جب ہم کسی کو اپنا ہم نوا نہیں پاتے ،اس وقت اللہ تعالیٰ کی مودت،دوستی،محبت اور شفقت و عنایت ہی ہمارے کام آتی ہے۔جب کوئی ہمارا پرسان حال نہیں ہوتا،اس پر بھی اللہ تعالیٰ کی عنایات ہوتی ہیں اور اس کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں۔ہزاروں بندے اس صفت ربانی کی گواہی دیں گے اور بے شمار مصیبت زدہ کہیں گے کہ ہاں! ہمیں رب کریم نے اس وقت نوازا جب ہم ہر طرف سے مایوس و نامراد ہوچکے تھے۔اس وقت اس کی محبت و دوستی نبھی جب ہمارا کوئی پرسان حال نہ تھا۔جس کے بعد یہ بات تو طے ہوجاتی ہے کہ دنیا میں کوئی دوستی نبھائے یا نہ نبھائے مگر اللہ تعالیٰ ضرور اپنے بندوں سے دوستی نبھاتے ہیں اور اس وقت نبھاتے ہیں جب واقعی بندے کو اس کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔
اَلْکََرِیْمْ
AL-KAREEM
دل کی شوریدہ سری کا آسرا ہے اَلْکَرِیْمْ
عاصیوں پر باب رحمت کھولتا ہے اَلْکَرِیْم
وہ سخی ہے، مہرباں، داتا، کشادہ دل، ولی
ایک ماں کی آنکھ سے بھی دیکھتا ہے اَلْکَرِیْم
میری توفیق خطا سے بڑھ گئی ہے در گزر
میری سوچوں سے تو ناصرؔ ماورا ہے اَلْکَرِیْم(4)
اس پوری نظم کا مطالعہ ہمارے اوپر کئی انکشافات کرتا ہے۔اللہ تعالی کا کرم اپنے بندوں پر کس کس طور ہوتا ہے اور کیسے اس کی رحمت کے در اور بام بندوں پر کھلے رہتے ہیں ۔مشکلوں میں وہ کیسے آسانیاں پیدا کرتا ہے اور گناہ گار بندوں کو اس کے رحم وکرم پر کیسا یقین ہے ۔
وہ سخی ہے، مہرباں، داتا، کشادہ دل، ولی
ایک ماں کی آنکھ سے بھی دیکھتا ہے اَلْکَرِیْم
اس شعر میں مؤلف نے یقینا رحمت رب متعال اور اس کے عرش اعظم تک کو ہلا دیا ہوگا۔یقینا وہ رب العالمین اور ہزارمائوں سے بھی زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرنے والی ہستی ایسی ہی ہے۔ وہ سخی بھی ہے،مہرباں بھی ہے،داتا بھی ہے،کشادہ دل وکشادہ فکرو نظر بھی ،اسی طرح اپنے بندوں کا ولی وارث اور نگہبان اور سب سے بڑی بات وہ ایک ماں کی نظروں سے اپنے بندوں کو دیکھتا ہے۔ایک ماں کا کرد ار اگر دیکھنا ہوتو مرغی، بطخ ،چڑیا،کبوتر،ہرن، کنگارو کے کرداروں میں دیکھیے یہ کس طرح اپنے بچوں کو پالتے ہیں اور ان کا کس قدر خیال رکھتے ہیں یہاں تک کہ اپنے سے بھی زیادہ طاقت ور دشمنوں سے بے دریغ لڑجاتے ہیں ۔اس کا انجام چاہے ان کی موت ہی کیوں نہ ہو،یہ عالم ہے ہوتا ہے ایک شفقت مادر کا اور اس کی مہربانیوں کا ۔
اللہ تعالیٰ تو ان سے بھی ہزار گنا زیادہ اپنے بندوں اور اپنے ہاتھوں(حکم) سے بنائے ہوئے بندوں کی خبر گیری کرتا ہے ۔یہ نظم اسی فکر اور احساس کی غماز اور بیان ہے۔ایک اور رنگ دیکھیے:
اَلْوَاحِدْ
AL-WAHID
دھڑکنوں میں رہتا ہے دلنواز اَلْوَاحِدْ
وحدہٗ عقیدے کا بے نیاز اَلْوَاحِدْ
لم یلد وہی تو ہے، لا شریک بھی وہ ہے
ہے اکیلے پن کا خود ہی جوازاَلْوَاحِدْ
ابتدا سے محشر تک بندگی پکارے گی
سرنگوں زمانے ہیں ،سرفرازاَلْوَاحِدْ(5)
مذکورہ بالا نظم نادر تلمیحات وتعبیرات کا ایسا نمونہ ہے جو پڑھتے ہی بنتا ہے۔لفظیات اور محل استعمال نے ان کی عظمت و شان بلند کردی ۔ایک ایک شعر ایمان افروز اور عقیدگی کی پختگی کا ضامن ہے ۔
قافلے مناجاتوں کے روا اسی کو ہیں
غم شناس اَلْوَاحِدْ غم طراز اَلْوَاحِدْ
یہ اللہ تعالیٰ کی وہ شان زیبا ہے جس کا اعتراف ہمارا ایمان اور یقین ہے اور اسی پر ہمارے اعمال کی تسلیم و قبولیت مبنی ہے ۔یقینا وہ’’واحد‘‘ غم شناس بھی ہے اور وہی ’’واحد ‘‘غم طراز بھی ہے۔اس کے علاوہ دنیا و جہان میں کوئی ہستی ایسی نہیں ہے جو یا تو درد دے یا درد کا مداوا کرسکے ،کوئی مجاز ہی نہیں ہے اور نہ کسی کو یہ اتھارٹی یا ادھیکار ہے۔اسی لیے تو وہ
دھڑکنوں میں رہتا ہے دلنواز اَلْوَاحِدْ
وہ ہماری دھڑکنوں میں بسا ہے اور اس طرح بسا ہے کہ ہم اسے اپنی ذات میں محسوس کرسکتے ہیں ۔بندے کا خدا ہوجانا یا خدا کا بندے کے دل میں بس جانے کے ایک معنیٰ یہ بھی ہیں ۔
اس نظم میں اللہ تعالی کے لم یلد اور لاشریک ہونے کی بات بھی درج ہے اور دوسرے مصرع میں ہے کہ اس اکیلے پن کا جواز الواحد خود ہی ہے۔اسے یہی زیبا ہے کہ وہ اکیلا رہے،اس کی شان یہی ہے کہ اور کوئی اس جیسا نہ ہو وہ یکتا و تنہا رہے ۔مجازی سلسلوں میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ عالی مرتبت اور بلند مرتبہ افراد اکیلے ہی ہوتے ہیں یا ان کا دائرہ مخصوص و محدود ہوتا ہے،ان کے اپنے نجی مشغلے ہوتے ہیں اورمتعینہ زاویہ ہائے نگاہ۔ پھر وہ ذات جو اس کاینات کی خالق و مالک ہے اس کے یکتا ئی و تنہائی کے لیے کس جواز کی تلاش ؟؟بندوں کے لیے تو لازم یہ ہے کہ وہ اس کو مانیں اور بسروچشم تسلیم کریں ۔آخری شعر تو اس نظم کی ہی جان نہیں بلکہ پوری انسانیت کی جان اوراس کا ایمان ہے نیز اس کا وہ فریضہ ہے جس سے وہ عہدہ برآ نہیں ہوسکتی۔ اسے وہ تسلیم ہی کرنا ہے اور اپنے دل میں بٹھا لینا ہے:
ابتدا سے محشر تک بندگی پکارے گی
سرنگوں زمانے ہیں ، سرفرازاَلْوَاحِدْ
یقینا زمانے سرنگوں ہیں اس کے سامنے اور وہی سرفراز ہے۔وہی سربلند ہے۔ وہی اعلا مرتبوں کا حامل ہے۔یہ آواز آج کی بھی ہے،کل کی بھی تھی اور حشرتک رہے گی ۔یہی آواز ہر بام و فلک سے گونجتی ہے اور گونجے گی۔تمام بندگی یہی پکارے گی ،یہی پکارتی بھی ہے۔
لایموت کا ایک اور رنگ دیکھیے:
اَللَّطِیْفْ
AL-LATEEF
اک خدائے لم یزل ہے اَللَّطِیْفْ اور کون ہے؟
ہاں!وہی تابہ ازل ہے،اَللَّطِیْفْ اور کون ہے؟
وہ خطا سے پاک ہے، وہ دیدہ ور مشکل کشا
ہر عمل ہی برمحل ہے،اَللَّطِیْفْ اور کون ہے؟
نرم خوہے، کارساز و دل کشا بھی ہے وہی
آپ ہی اپنی مثل ہے،اَللَّطِیْفْ اور کون ہے؟(6)
اس نظم کا تقریباً ہر شعر صفات الٰہی کا بیان اور ترجمان ہے۔اس کی لطافت اور رحم کی کہانی سناتا ہے ۔اس کی ہستی اور ذات کے متعلق بیان ہے اور اسی کے احوال کا حقیقت بیان کرتا ہے۔اس طرح یہ نظم شروع سے آخر تک ان ہی زرین خیالات پر مشتمل ہے جو اس واجب الوجود ہستی کے لائق اور شایا ن شان ہیں ۔ وہ تابہ ازل ہے،وہ لم یزل ہے، وہ ہر طرح کی خطا،بھول چوک،غفلت،بے دھیانی، غرض ہرطرح کی برائی سے مبرا ہے۔اس کی ایک صفت اورہے ،وہ ہے اس کامشکل کشا ہونا۔جب انسان ہر طرف سے مشکلات اورپریشانیوں میں پھنس جاتا ہے،اس وقت دست قدرت اسے نجات دیتا ہے اور اس کی مشکلوں کا پردہ چاک کرکے اسے راحتیں دیتا ہے۔مذکورہ شعر میں اسی صفت کا تذکرہ کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفت لطافت کے شایان شان ہے۔بات یہیں تک نہیں رک جاتی ،اس سے آگے وہ نرم خو ہے،یعنی اپنے بندوں کے ساتھ نہایت نرمی اور آسانی سے پیش آتا ہے،وہ کار ساز بھی اور اس سے بڑی بات یہ ہے دل کشا بھی ہے اور کسی کے دل کا کھلا ہونا سب سے بڑی بات ہے۔
لطف بھی جس کی ضیا سے ہوگیا ہے منعکس
بس وہی ربِ کنول ہے،اَللَّطِیْفْ اور کون ہے؟
یہ ہے اس کی شان ۔اس کا لطف اسی کی ضیا سے منعکس ہے۔اس کی ذات کنول کنول اور گلزار ہے۔اس شعر میں غور کرنے سے ہمیں ایک ایسے راز کا پتا چلتا ہے جو عموماً ہماری نظروں سے چھپا رہتا ہے اور ہم اسے دیکھ نہیں پاتے یا وہ ہمیں دکھائی نہیں دیتا۔حالاں کہ ہم اس صفت سے متصف ہوتے رہتے ہیں اور اس کی بدولت ہمارے کام بنتے ہیں اور ہم زندگی کی راہوںمیں کامیاب ہوتے چلے جاتے ہیں ۔مگر اس میں برا کیا ہے کہ ہمیںاس کا ادراک اور احساس ہوجائے ۔ہم اس جوہر کو جان جائیں اور اس پر صدق دل سے ایمان لے آئیں ۔
پوری کتاب اسمائے الٰہی اور صفات الٰہی کی مخفی حقیقتوں کو قارئین پر منکشف کرتے ہوئے ان کے ایمان و یقین کو بڑھاتی ہوئی چلتی ہے یہاں تک کہ تتمہ آجاتا ہے اور قاری کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ جنت کے باغوں سے ہوکر گزرا ہے اور خدا تعالیٰ کی رحمت بہت قریب سے اس کے پاس سے ہوکر گزری ہے۔جہاں اس کا ایمان تازہ ہوتا ہے وہیں اس کے یقین کا دائرہ بھی وسیع ہوتا ہے۔’’لایموت ‘‘ ایک ایسا نادر تحفہ اور سوغات ہے جس کا ہر ہاتھ میں ہونا اور ہر نظر میں ہونا ناگزیر امر ہے۔
٭٭٭
مآخذو مراجع:
1۔ الاسماء الحسنیٰ۔مولانا ابوالاعلی مودودی۔ادارہ معارف اسلامی،منصورہ ۔لاہور۔1986(نیا ایڈیشن)
2۔ اسماء الحسنیٰ :اہمیت وفضیلت۔عبد الحمید صغیر۔قلعۂ اسلام۔لاہور/راولپنڈی/کراچی
3۔ اسماء اللہ الحسنی۔قواعد،معارف اور ایمانی اثرات۔شفیق الرحمان الدراوی۔مدرسہ ام المؤمنین حفصہ بنت عمرفاروق۔جدہ (سعودی عرب)
4۔ اسمائے حسنی اور ان کی معرفت وقواعد۔مضمون:مقبول احمد سلفی۔اسٹار نیوز
5۔ سہ روزہ دعوت۔دعوت نگر ۔ابو الفضل انکلیو ،جامعہ نگر۔ نئی دہلی
6۔ لایموت۔ملک ،ناصر۔اردو سخن۔آرٹ لینڈ گرلز کالج روڈ،اردو بازار،چوک اعظم۔لیہ
7۔ معارف الاسماء الحسنی شرح اسماء الحسنیٰ۔قاضی سلیمان منصور پوری۔مکتبہ نذیریہ ،لاہور۔
8۔ المعجم الاوسط ۔امام طبرانی۔دارحرمین،قاہرہ۔1995(نیا ایڈیشن)
9۔ لایموت۔ناصر ملک۔اردو سخن ڈاٹ کام،پاکستان
10۔ Zola’s Introduction to Hebre Hebrew. capt. Name of God: by Shemot Ha-Fluhim-
٭٭٭

Viewers: 156
Share