Zareen Munawar | زرین منور کی شاعری سے ایک صفحہ

زرین منور میاں چنوں (پنجاب)۔ پاکستان ای میل: zareenmunawar133@gmail.com غزلیں ایسے موسم میں بھلا کون جدا ہوتا ہے جیسے موسم میں تُوہر روز خفا ہوتا ہے روز چھن جاتا ہے […]

زرین منور
میاں چنوں (پنجاب)۔ پاکستان
ای میل: zareenmunawar133@gmail.com

غزلیں
ایسے موسم میں بھلا کون جدا ہوتا ہے

جیسے موسم میں تُوہر روز خفا ہوتا ہے
روز چھن جاتا ہے جینے کا سہارا ہم سے
روز آنکھوں میں کوئی خواب نیا ہوتا ہے
آئو تاریک گزرگاہوں میں ڈھونڈیںانکو
جن کی پلکوں پہ محبت کا دِیا ہوتا ہے
اور بڑھ جاتا ہے نادان محبت پہ یقیں
جب کسی بات پہ وہ شخص خفا ہوتا ہے
تمکو معلوم ہے دنیا میں فقیروں کا زریںؔ
اور کوئی بھی نہیں صرف خدا ہوتا ہے

میرے دل میں ہے یہ خیال سا
کہ وصال ہو بے مثال سا
مجھے شائبہ کہ یہ عشق ہے
تبھی دل ہوا ہے نڈھال سا
سبھی درد اپنے بھلا دیے
اسے جب بھی دیکھا نہال سا
کیوں فصیلِ جاں پہ ہے بوجھ سا
کیوں ہے چاہتوں پہ زوال سا
تجھے عشق کرنا نہ راس تھا
تو نے کیوں یہ پالا وبال سا
تجھے پیار کرنا بھی جرم تھا
مجھے آج تک ہے ملال سا

شہرت کی محبت کی جاناں! قیمت تو چکانا پڑتی ہے
اپنوں کی عنایت کی جاناں! قیمت تو چکانا پڑتی ہے
جب عقل و جنوں میں ٹھن جائے اور دنیا دشمن بن جائے
تب دل کی بغاوت کی جاناں! قیمت تو چکانا پڑتی ہے
ان کہنہ رواجوں سے تم کو، نفرت ہے مگر یہ یاد رہے
دنیا سے عداوت کی جاناں! قیمت تو چکانا پڑتی ہے
سانپوں کو دودھ پلانے کی، عادت یہ تمہاری ٹھیک نہیں
اس درجہ سخاوت کی جاناں!قیمت تو چکانا پڑتی ہے
وہ لوگ جو من کے سچے ہوں اور قول و عمل کے پکے ہوں
ایسوں سے بطالت کی جاناں!قیمت تو چکانا پڑتی ہے

درد کے گہرے سمندر سے نکالے مجھ کو
کوئی تو آئے اذیّت سے بچا لے مجھ کو
کوئی تو بانٹے میرے دردِ مسافت آکر
کوئی تو ہجر کی وحشت میں سنبھالے مجھ کو
وہ گیا ایسا کہ صبحوں کی نمو ماند ہوئی!
کون لوٹائے شبِ غم میں اجالے مجھ کو
کس کو معلوم کہ وہ کب کا مجھے چھوڑ گیا
دنیا جس شخص کے دیتی ہے حوالے مجھ کو
یہ گیا وقت تیرے ہاتھ نہ آئے گا کبھی
یوں نہ دے جانِ جہاں دیس نکالے مجھ کو
بھرم کچھ میری محبت کا بھی رکھ لے آکر
میں اگر اس سے خفا ہوں تو منالے مجھ کو
اس کو رسوا نہ کروں، روز تماشا بھی بنوں
دے گیا جاتے ہوئے شوق نرالے مجھ کو

غم گساروںکی خیر ہو بابا
اِن سہاروں کی خیر ہو بابا
جِن کو ترسے ہیں ڈوبنے والے
اُن کناروں کی خیر ہو بابا
یہ دعا ہے سیاہ بختوں کی
چاند تاروں کی خیر ہو بابا
ہم کہاں التفات کے قابل
تیرے پیاروں کی خیر ہو بابا
جو نشیمن جلانے آئے ہیں!
اُن شراروں کی خیر ہو بابا

 

Viewers: 1653
Share