Murad Ali Shahid | سرپرائز ۔۔۔۔ از: مراد علی شاہد

مراد علی شاہد۔ دوحہ قطر سرپرائز خلیجی ریاستوں میں مقیم افراد بخوبی جانتے ہیں کہ کم و بیش ہر کوئی سال میں دو بار نہیں تو کم از کم ایک […]

مراد علی شاہد۔ دوحہ قطر

سرپرائز

خلیجی ریاستوں میں مقیم افراد بخوبی جانتے ہیں کہ کم و بیش ہر کوئی سال میں دو بار نہیں تو کم از کم ایک بار ضرور اپنے ملک کا چکر لگا لیتا ہے۔جسے ہم پردیسی لوگ فیول کہتے ہیں کہ سال بھر اپنوں سے دوری کے جان لیوا لمحات کے کرب سے گزر کر جب سال بعد ایک یا دو ماہ اپنوںکے ساتھ بسر کر کے آتے ہیں تو ایک نیا عزم،ولولہ،حوصلہ،جوش اور جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔اگرچہ آج کے دور میں میڈیا بہت ایڈوانس ہو گیا ہے کہ آپ مختلف ایپس کے ذریعے ہر لمحہ اپنی فیملی اور بزرگوں سے بات بھی کر سکتے ہیں اور ان کی تصویر بھی دیکھ سکتے ہیں۔
مگر یہ ان دنوں کی بات ہے جب ماسوا لینڈ لائن فون اور پوسٹل رابطہ کے دیگر وسائل بطور رابطہ استعمال نہیں ہوتے تھے۔اور وہ بھی اگر ایک ہفتہ خط موصول نہ ہوتا تو فون کرنا پڑ جاتا وگرنہ ہر پندرہ دن یا ایک ماہ بعد ہی گھر بات ہو پاتی تھی۔اور اس کے لئے بھی جو مشقتیں اور تکالیف برداشت کرنا پڑتی ہم پردیسی ہی جانتے ہیں۔یعنی پہلے محلے میں جس گھر فون ہوتا انہیں فون کرتے کہ میرے گھر سے کسی کو بلا دیں۔پھر دوبارہ فون کیا جاتا تو پتہ چلتا کہ بیوی تو بچوں سمیت میکے گئی ہوئی ہے۔اب جو سسرال فون کیا تو خبر ملی کہ سب لوگ فلاں کی شادی پہ گئے ہوئے ہیں اور گھرمقفّّل ہے۔
اکرم جو میرا ہم منصب ہے آج روش سے ہٹ کر بہت خوش و خرم دکھائی دیا تو میں نے پوچھ لیا کہ خیر ہے آج بہت چہک رہے ہو تو اس نے بتایا کہ میری چھٹی منظور ہو گئی ہے۔خوش ہونا اس لئے بھی اکرم کا بنتا تھا کہ وہ پورے دو سال چند دنوں کی چھٹی جا رہا تھا۔اگرچہ وہ ہمیشہ ہی ہر سال جایا کرتا تھا مگر اس سال اس نے بتایا تھا کہ چند گھریلو مسائل کی وجہہ سے پاکستان نہ جا سکا تھا۔خیالوں ہی خیالوں میں بہن،بھائی،بیوی اور سب سے بڑھ کر مقدس رشتے “ماں” سے ملاقات جو کہ اکرم کے بچپن ہی سے والد کے دار فانی سے کوچ کرنے کے بعد واحد سہارا تھیں کہ جنہوں نے اپنا پیٹ کاٹ کر تمام بہن بھائیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔خاص کر دونوں بھائیوں کو یونیورسٹی کی تعلیم دلوائی جو ا’س دور میں جان جوکھوں سے کم نہ تھا۔اور اس بات کا ذکر اکرم مجھ سے کئی بار کر بھی چکا تھا کہ آج میں جو بھی ہوں ماں کے دم بقدم سے ہوں۔شائد اکرم کا معمول سے ہٹ کر اتنا خوش ہونا اسی احسان مندی کا نتیجہ ہی تھا ۔کہ ماں کیسے زندگی کے نشیب و فراز اور موسموں کے گرم و تر دنوں میں اپنے بچوں کو کس طرح بازئوں میں سمیٹ کر تمام تلخی ایام کو اپنے اوپر سہہ لیتی ہے جیسے مرغی چیل کے خوف سے اپنے بچوں کو اپنے پروں میں چھپا لیتی ہے۔کہ چیل بھلے میرے جسم کو نوچ نوچ کھا جائے مگر میرے بچوں کو کچھ نہ ہونے پائے۔
ماں سے ملاقات کے تصور سے ہی اکرم کے رخساروں کی سرخی کھلتے تازہ گلاب کی مانند ظاہر ہونا شروع ہو جاتی۔ایک روز ایسے ہی میں نے پوچھ لیا کہ کیا گھر اطلاع کر دی ہے کہ تم کچھ روز پاکستان چھٹی آ رہے ہو تو روائتی مسکراتی آنکھوں اور شرارتی نیم متبسم لبوں سے گویا ہوا کہ نہیں مراد میرا ارادہ ہے کہ اس بار میں گھر والوں کو سرپرائز دوں۔۔۔۔۔۔ایک دم جب گھر پہنچوں تو سب لوگ مجھے اچانک دیکھ کر خوش ہو جائیں گے خاص کر “میری ماں” کی خوشی تو دیدنی ہوگی۔میں نے ایک بار پھر دوستانہ اور سمجھانے انداز میں کہا کہ نہیں بتا دو کبھی کبھار ایسے سرپرائز مہنگے پڑ جاتے ہیں۔خاص کر مائوں کے دل اپنی اولاد کے بارے میں بڑے “چڑیا دل” ہوتے ہیں۔اُن سے نہ اولاد کا دکھ اور نہ ہی انتہائی خوشی برداشت ہوتی ہے۔دکھ مصیبت اور پریشانی میں تو آیت الکرسی پڑھ پڑھ پھونکتی ہی ہیں مگر اولاد کی خوشی میں یہ عمل دوگنا ہو جاتا ہے۔کہ نہ میرے بیٹے کی خوشی کو کہیں نظر نہ لگ جائے۔اکرم کا وہی معصومانہ انداز کہ نہیں اس بار سرپرائز ہی دونگا۔
دو سال بعد اکرم اسلام آباد ائیر پورٹ کے باہر کھڑا تھا ۔وہاں سے ہری پور ہزارہ کے لئے ٹیکسی کروائی اور خوشی خوشی میں بھائو تائو کئے بغیر ہی منہ مانگے دام دئیے اور سیدھا آبائی گائوں کی طرف رواں دواں۔۔۔۔۔یونہی گلی کی نکر پر ٹیکسی پہنچی تو گلی کو قناط لگا کر بند کیا ہوا دیکھ کر جیسے اکرم جاں بلب ہو گیا کہ ایسا تو صرف تب ہی ہوتا ہے جب گلی میں کوئی فوتگی ہو جائے۔سامان اتار، گلی میں داخل ہوا تو اپنے ہی گھر کے باہر بچھی دریاں دیکھ کر ساکت وجامد ایسے کھڑا ہو گیا گویا پائوں زمین میں دھنس گئے ہوں۔یا کسی غیر مرئی طاقت نے اسے زور سے پکڑ رکھا ہو۔وہم و گمان اور سوچوں کے بھنور میں جکڑے گھر کے سامنے پہنچتے ہی جب بھائی کا اترا چہرہ دیکھا تو سب سمجھتے ہوئے اکرم کے منہ سے بس اتنا ہی نکل سکا کی ‘ماں” اوربھائی گلے ملتے ہی بس یہ کہہ پایا کہ “ماں نے آج بڑے مان سے کہا تھا کہ اکرم آئے تو میرا جنازہ اٹھانا” شائد ماں کو بیٹے کے سرپرائز کا پہلے سے ہی علم تھا۔

Viewers: 168
Share