فہمی فردوس کا ناول “کربِ محبت” اور اعجاز احمد راحیل کا حاصلِ مطلعہ

ناول: کربِ محبت مصنفہ: فہمی فردوس مبصر: اعجاز احمد راحیل اردو ادب کی ترقی و ترویج کے سفر میں مرد مصنفین کے علاوہ خواتین مصنفات نے بھی اہم کردار ادا […]

ناول: کربِ محبت

مصنفہ: فہمی فردوس

مبصر: اعجاز احمد راحیل

ijaz-ahmad-raheel

اردو ادب کی ترقی و ترویج کے سفر میں مرد مصنفین کے علاوہ خواتین مصنفات نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔یہ سفر ماضی سے حال تک آ پہنچا ہے۔عصر حاضر میں کئی مصنفات اردو ادب کو، اردو کو زندہ رکھنے کی اپنی سی کوشش کر رہی ہیں۔۔۔ان میں ایک نام فہمی فردوس صاحبہ کا بھی ہے۔

کچھ عرصہ پہلے فہمی فردوس صاحبہ کی طرف سے بھیجا گیا، ان کا خوب صورت ناول کرب محبت موصول ہوا تھا۔ میں نے پہلی فرصت میں کرب محبت کا مطالعہ شروع کیا۔۔۔یہ حقیقت ہے کہ جوں جوں ناول پڑھتا گیا۔۔۔ایک انوکھا کرب دل میں جا گزیں اور رگ و پے میں سرایت کرتا چلا گیا۔بلامبالغہ فہمی لفظوں کو برتنے کے ہنر سے آشنا ہیں۔الفاظ کو درد کا پیراہن پہنانا جانتی ہیں۔

ناول کا ابتدائیہ سسپنس سے بھر پور ہے۔۔۔قاری متجسس ہو کر ایک ان دیکھی ڈور سے بندھا آغاز سے انجام کی طرف محو سفر ہو جاتا ہے۔ناول پڑھتے ہوئے جا بجا ان کی تحریر و ہنر کا معترف ہوتا چلا جاتا۔ان کی خوب صورت لفاظی، دیدہ زیب منظرکشی، جزئیات نگاری اور لفظوں کا جادو سے قاری متجسس ہو کر سطر سطر آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔۔۔میں نے ایک بات شدت سے محسوس کی کہ فہمی فردوس صاحبہ قوت مشاہدہ اور قوت تخیل کے بل بوتے پر جس معاشرے میں رہتی ہیں، جس فضا میں سانس لیتی ہیں۔یہیں سے کردار منتخب کرتی ہیں۔قوت احساس کی بدولت کردار سازی پر بھر پور توجہ دے کر لفظ لفظ، سطر سطر آگے بڑھتی ہیں۔ان کے تخلیق کردہ کردار سانس لیتے محسوس ہوتے ہیں۔۔۔حساس دل و ذہن کے
مالک قارئین ناول کے کرداروں کی خوشی، غم ، کرب محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔کیونکہ یہ کردار ماورائی نقوش، غیر حقیقی اختیارات اور ناقابل یقین قوت کے مالک نہیں۔۔۔بلکہ عام انسانوں جیسے ہیں۔۔۔جو کھاتے ، پیتے، سوتے، جاگتے بھی ہیں اور کرب و اضمحلال سے نبرد آزما رہتے ہیں۔

ناول پڑھتے ہوئے کہیں کہیں فہمی فردوس صاحبہ کی شگفتہ بیانی کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔۔۔نانی کا کردار اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔۔۔ناول کی یاسیت بھری فضا میں رہتے ہوئے قاری بے ساختہ قہقہے لگانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ کرب محبت کی کہانی نورین اور خاور کی سسکتی، تڑپتی زندگی کے گرد گھومتی ہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ دونوں شادی شدہ ہیں۔ ایسی کون سی مجبوری تھی جو انھیں ایک دوسرے کے قریب لے آئی ؟؟؟ نورین زندگی کے صحرا میں برہنہ پا سفر طے کرتی رہی، آبلہ پائی کی مسافتیں اسے جب نڈھال کرنے لگیں تو خاور اس کے راستے میں سایہ دار شجر کی مانند کھڑا نظر آیا۔اذیت بھری اور لمبی مسافت نے اسے تھکا دیا تھا۔وہ ہانپ چکی تھی، تھک چکی تھی۔۔۔نارسائی کی دھوپ نے اسے جھلسا دیا تھا۔۔۔وہ اسی محبت بھری،مہرباں چھائوں تلے بیٹھ کر سستانے لگی۔
حسن اور عشق ہمکلام ہوئے۔حسن نے اپنی منطق پیش کی۔ ”میرے خیال میں نہیں۔۔۔جس بندے کو انسان جانتا نہ ہو، سمجھتا نہ ہو، اس سے محبت کیسے ہو سکتی ہے؟“ عشق بساط بچھانے لگا۔ ”یہ وہ جذبہ ہے جس پر کسی کا اختیار نہیں ہوتا، کوئی بھی انسان کسی وقت،کسی بھی عمر میں اس جان لیوا روگ میں مبتلا ہو سکتا ہے۔“

وہ قرب کے لمحے تھے۔دونوں حالات سے مجبور کٹی پتنگ کی مثل فضائوں میں، نیلگوں آسمان کی وسعتوں میں بھٹکتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب ہوئے۔دونوں کی ڈوریں ایک دوسرے سے الجھیں تو الجھتی چلی گئیں۔دلگداز واردات عشق نمو پانے لگی۔وہ یہ بات بھول گئی کہ ہمارا معاشرہ اصل میں مرد کا معاشرہ ہے۔۔۔اولاد کو اگر باپ کے معاشقوں کا علم ہو جائے تو اسے معمولی بات سمجھا جاتا ہے۔لیکن ماں کی اس خطا کو غیرمعمولی سمجھ کر کبھی معاف نہیں کیا جاتا۔

عورت کی چھوٹی سی لغزش زندگی بھر کے لیے طعنہ بن جاتی ہے۔لیکن مرد کے گناہ کو بہت ہلکا لیا جاتا ہے۔ ناول پڑھتے ہوئے ذہن میں کئی سوال اٹھتے ہیں۔ کیا دونوں کا جرم ایک جیسا نہیں ہوتا ؟ شادی شدہ مرد ہو یا عورت جیون ساتھی کے ہوتے ہوئے کسی اور سے تعلق کیوں قائم کرتے ہیں؟؟؟؟

کیا اس جرم کی سزا صرف عورت کو ملنی چاہیے؟
کیا مرد کو مذہبی رو سے اس گناہ کی سزا معاف ہے؟
عورت کو عورت ہونے کی سزا کب تک ملتی رہے گی؟

karb-e-mohabbat-by-fehmi-fi
ان سوالوں کے جواب یقینا کسی کے پاس نہیں ہوں گے،نہ کوئی دے سکتا ہے۔ یہ صرف ایک سادہ سی عشق و محبت کی داستان نہیں۔بلکہ ہمارے معاشرے کےدہرے فرسودہ قوانین اور گلے سڑے جاگیردرانہ نظام کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔جن کی عورتیں گھر کی چار دیواری میں مقید زندگی کی آخری سانسیں گن رہی ہوتی ہیں۔مجھے ذاتی طور پر نورین کا کردار بے حد پسند آیا ہے۔۔۔ہاں نورین جس کا دامن انمٹ پچھتاوئوں سے بھر چکا ہے۔اس کی بس اتنی خطا ہے کہ وہ محبت کے جرم کی سزا یافتہ ہے۔یہ سزا اس کی زندگی کے چراغ گل ہونے تک برقرار رہنی ہے۔ کرب محبت کا انجام بہت ہی دلفگار ہے۔مصنفہ عورت کی مجبوریوں، معاشرتی رسم و رواج اور عورت کے انجام سے بخوبی آگاہ ہیں۔جن کا اظہار وہ ان الفاظ میں
کر رہی ہیں۔ ’’عورت مینا کماری ہو یا نورین فلک ناز،ان کی قسمت میں کوئی خاص فرق نہیں
ہوتا۔ایک اپنے دور کی سپراسٹار اور لاجواب اداکارہ تھی۔ایک زمانہ اس کا پرستار تھا۔دوسری ایک روایت پسند اور قدامت پسند گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔مگر گھٹ گھٹ کر جینا اور سسک سسک کر مرنا دونوں کا مقدر ٹھہرا۔‘‘

بلاشبہ یہ ایک کہانی نہیں ڈار سے بچھڑی کونج کا نوحہ ہے۔۔۔جو کہ دل سے لکھا گیا ہے اور دل سے پڑھا جائے گا۔اس کے مرکزی کرداروں کے محبت کا کرب قارئین محسوس کریں گے اور شدت سے کریں گے۔

فہمی فردوس صاحبہ کے لیے دعا گو ہوں کہ ان کا نام آکاش ادب پر ہمیشہ پورے چاند کی طرح جگمگائے۔اور اللہ پاک انھیں من چاہی کامرانیاں عطا کرے۔‎)‎آمین‎(‎

 

Viewers: 342
Share