مہنگی کتب، سرکاری لائبریریاں اور ہمارے “علامے”

تحریر: ناصر ملک مہنگی کتب، سرکاری لائبریریاں اور ہمارے “علامے” ڈاکٹر گل عباس اعوان کی کتاب “کوہِ سلیمان کا علمی حاتم” میرے سامنے کھلی ہوئی ہے اور سوچ رہا ہوں […]

تحریر: ناصر ملک

مہنگی کتب، سرکاری لائبریریاں اور ہمارے “علامے”

ڈاکٹر گل عباس اعوان کی کتاب “کوہِ سلیمان کا علمی حاتم” میرے سامنے کھلی ہوئی ہے اور سوچ رہا ہوں کہ اس ایجاد کردہ ترکیب”علمی حاتم” سے کیا وہ مطلب لیا جا سکتا ہے جو  مصنف کتاب نے لیا ہے؟ حاتم کے معنی حتم کرنے والا یعنی پکا ارادہ کرنے والا ہے۔ اب کوہِ سلیمان کا پکا علمی ارادہ کرنے والا کیا ہوا؟ حاتم کا مرادی معنی آخری فیصلہ کرنیوالا بھی ہے۔ اس معانی کو بھی عنوان میں پرو دیکھا جائے تو مسئلہ جوں کا توں رہتا ہے۔ حاتم کا معنی منحوس آواز والا کوا بھی ہے۔ یہ معانی تو کسی بھی لحاظ سے عنوانِ کتاب سے تعلق نہیں رکھتا۔ اگر حاتم کو بطور اردو ادب کی مستعمل تلمیح کے لیا جائے تو پہلی بات یہ ہے کہ اس کے ساتھ پہچان مکمل کرنے والے لفظ “طائی” کا ہونا ضروری ہے اور دوسری بات یہ کہ حاتم طائی سخاوت اور مہمان نوازی کی تلمیح ہے نہ کہ علم کی فضیلت، عقل و خرد یا فلسفے کی۔ مصنف کے نزدیک “علمی حاتم” کی تعریف یوں ہے کہ “لاکھوں روپے کے اخراجات کے باوجود کوئی کتاب فروخت نہیں کی بلکہ مفت تقسیم کر کے اس کی قیمت صرف ایک بار پڑھنا مقرر کی جس کی وجہ سے میں نے انہیں علمی حاتم قرار دیا۔”(ص:10)۔ یہ تفہیم جب اردو زبان کا عالم دے رہا ہوتو مجھ جیسا شکی مزاج قاری چونک اٹھتا ہے کیونکہ اس طرح تو پاکستان کا ہر شاعر “علمی حاتم” کی مسند پر فائز ہے۔

دو مرتبہ (یعنی 2013ء اور 2015ء میں) چھپنے والی اس کتاب میں بہت سی غلطیاں ہیں۔ املاء اور گرامر کی یہ تمام غلطیاں کمپوزر کے کھاتے ڈال دی جائیں تب بھی نظر ثانی کی ذمہ داری مصنف کی تھی جو ٹھیک طرح نبھائی نہیں گئی۔ کاغذ ٹھیک ہے مگر طباعت اور سرورق غیر معیاری ہیں۔ یعنی ظاہری حسن مفقود ہے۔

فلیپ میں مصنف نہایت سطحی انداز میں نتیجہ اخذ کرتے نظر آتے ہیں ،”اونچا قد، بھرا بھرا جسم، بلوچکی پگڑی اور واسکٹ، ترشی ہوئی سفید داڑھی، سرخ و سپید چہرا ان کے باکردار اور باعمل صوفی ہونے کی دلیل ہے۔”

دو صفحات پر مشتمل “حرفِ آغاز” (دیباچہ) فاضل مصنف نے تحریر کیا ہے جس میں کوئی سخن گسترانہ بات نہیں البتہ کوہِ سلیمان کا افسانوی جبکہ غلام قادر خان بزدار کا ادبی تعارف اور اپنے احباب کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔ اگلے دو صفحات پر غلام قادر خان بزدار کی سوانح حیات اور علمی سفر کا احوال رقم ہے۔ پانچ سات صفحات پر ان کے کوائف اور 30 کتابوں کا تعارف غیر ادیبانہ انداز میں درج ہے۔ ایک کتاب کا تعارف بطور مثال ملاحظہ ہو، “صانع و شاہکار:حمدیہ و نعتیہ مجموعہ۔ بلوچی مع اردو منظوم ترجمہ، صفحات 116، اشاعتِ اول 2008ء”۔

2013ء میں مصنف کتاب نے غلام قادر خان کی لیہ میں دستاربندی کی اور اس کتاب کے صفحہ 39 پر اس کی رپورٹ چھاپ دی۔ لکھتے ہیں، “پنجاب کے کونے کونے سے شعرائے کرام اور سامعین حضرات مشاعرہ میں حصہ لینے اور تیس کتب کے مصنف سے ملنے کیلیے لیہ میں جمع ہوئے۔” غلو اور نرگسیت کی یہاں چنداں ضرورت نہیں تھی۔ اسی رپورٹ کے آخری حصہ میں خود ہی آشکار کر دیتے ہیں کہ بہاولپور کے دو تین مہمانوں اور مقامی پندرہ سولہ شعرا نے اپنا کلام پیش کیا۔

صفحہ 18 سے 35 تک اخبارات میں غلام قادر خان کے جو مضامین شائع ہوئے، ان کی سادہ فہرست شائع کی گئی ہے۔۔ صفحہ 43 سے 58 تک قادر بزدار کا کلام شاملِ اشاعت ہوا۔ صفحہ 59 سے 121 تک مختلف شعراء و ادبا کی طرف سے غلام قادر خان بلوچ کیلئے توصیفی بیانات، نظمیں اور پیراگراف اور رائے دہندگان کی تصاویر شامل ہیں۔ صفحہ 122 تا 128 پر ڈاکٹر صاحب کی اپنی تحریر موجود ہے جس کا آغاز یوں ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔ “عظیم دانشور ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے فرمایا کہ “فطرت خود بخود لالے کی حنا بندی کرتی ہے۔” ۔۔۔۔۔۔ اگر ڈاکٹر کا اردو میں ترجمہ “علامہ” یا “عالم فاضل” کے علاوہ کچھ ہوتا، “لالے کی حنا بندی” بھی کوئی تاریخی واقعہ ہوتا تو ہم پر اردو دانی کی دھاک بیٹھ جاتی۔ یہ مضمون ڈاکٹر غلام قاسم، دلبر حسین مولائی، واحد بزداراور غلام قادر بزدار کے حوالوں اور مطبوعہ کلام کی مدد سے پورا کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر گل عباس اعوان (لیہ) جنہوں نے "اردو شاعری اور انسان دوستی" کے موضوع پر مقالہ لکھا اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

ڈاکٹر گل عباس اعوان (لیہ) جنہوں نے “اردو شاعری اور انسان دوستی” کے موضوع پر مقالہ لکھا اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

 اس کتاب میں ڈاکٹر گل عباس اعوان نے انتساب، حرفِ آغاز، تعارف، رائے دہندگان کے تعارف اور اپنے مضمون سمیت 20 صفحات بہ قلمِ خود تحریر کیے۔ 108 صفحات پر غلام قادر خان بزدار کا کلام، کوائف، تصویریں، دوستوں کی آراء اور خالی صفحات ہیں۔ قیمت 350 روپے فائز کی گئی ہے یعنی کتاب خریدنے والا ڈاکٹر گل عباس اعوان کے تصنیف کردہ بیس صفحات پینتیس روپے فی ورق خریدتا ہے اور یقینی طور پر خسارے کا سودا کرتا ہے۔ معاشرے کو کتاب سے دوری کا گلہ دیتے ہوئے ہم  ادیبوں اور شاعروں کو یہ تکلیف دہ حقائق بھی مدنظر رکھنے چاہئیں۔ ڈاکٹر گل عباس اعوان کو بہرحال کتاب کی عدم فروخت کا گلہ نہیں ہے کیونکہ وہ خوش قسمتی سے ایک سرکاری تعلیمی ادارے کے سربراہ ہیں، معاصر سربراہوں اور سرکاری لائبریرینز سے گہرے تعلقات بھی رکھتے ہیں، اس لیے ان کی کتاب دو مرتبہ شائع ہوئی اور دو مرتبہ ہی “ہاتھوں ہاتھ” بک کر سرکاری لائبریریوں کی زینت بن گئی ہو گی۔

اس کتاب نے ان کے ادبی و علمی قامت میں کوئی اضافہ کیا ہے یا نہیں، اس ضمن میں تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا البتہ یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ ان کی تحریر میرے ذہن پر کوئی اچھا تاثر چھوڑنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔

اس کتاب کو اگر تالیف، تدوین یا ترتیب کے زمرے میں رکھا جاتا تو شاید صورت حال زیادہ تکلیف دہ نہ ہوتی ۔ اس پر مستزاد ان کا عالمانہ اظہار بہ آوازِ بلند کہہ رہا ہے کہ “میں اس وقت تک سات کتابوں کا مصنف بن چکا ہوں۔”
(ص:38)

Viewers: 375
Share