Aitraf | کہانی ۔۔۔۔۔ اعتراف ۔۔۔۔۔ ناصر ملک

تحریر: ناصر ملک اعتراف صفدر بھائی کی موت نے ہم سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ اف کس قدر اذیت ملی ہو گی انہیں۔ موت اپنے ہاتھ سے رَگ و […]

تحریر: ناصر ملک

اعتراف

صفدر بھائی کی موت نے ہم سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ اف کس قدر اذیت ملی ہو گی انہیں۔ موت اپنے ہاتھ سے رَگ و پے میں اتاری جائے تو کس قدر اذیت ناک ہو جاتی ہے۔ وہ مر گئے مگر اپنے پیچھے درد آمیز کہانی چھوڑ گئے۔ خود کشی کرنا بزدلی سہی مگر یہ بزدلی بہادروں سے ہی سرانجام پاتی ہے ورنہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا آسان کام نہیں ہوتا۔ کون زندگی اور موت کے درمیان تمیز نہیں کر سکتا؟
کون زندگی پر موت کو ترجیح دے گا؟
صفدر بھائی سے میرا کیا رشتہ تھا ؟……شاید ایک کزن کا۔ او ر وہ بھی اتنا کہ جہاں دیکھا بس جھٹ سے سلام کہہ دیا اور آگے بڑھ گئے ۔ مجھے اپنے چھوٹے ہونے کا مکمل احسا س تھا اور اسی احساس کے تحت میں نے ان کی ہمیشہ عزت کی تھی۔ احترام سے زیادہ میرے دل میں کچھ بھی نہیں تھا ۔
میرے دو بھائی اور ایک بہن تھی ،یعنی ہم کل چار بہن بھائی تھے جبکہ صفدر بھائی چھ بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے اوراپنے خاندان کے اکلوتے چراغ تھے ۔اسی چراغ کی لو سے لو جلنا تھی اور نسل کو آگے بڑھنا تھا۔صفدر بھائی میری پھوپھو کے بیٹے تھے اور میرے سب سے بڑے بھائی بابر کے ہم عمر تھے ۔ اپنے گھر میں وہ پانچویں نمبر پر تھے ۔ ان سے بڑی چار اور چھوٹی دو بہنیں تھیں۔میری پھوپھو کے سسرال بہت سخت تھے۔ اسی وجہ سے ہمارا آنا جانا بھی قدرے کم تھا۔ میں نے پہلی مرتبہ صفدر بھائی کو اس وقت دیکھا تھا جب میں ساتویں میں پڑھتی تھی۔ ابو کی حیثیت بہتر نہ ہونے کی وجہ سے سارا خاندان ہم سے کٹ کر رہ گیا تھا۔
ریحانہ پھوپھو ویسے بھی ابو کی سگی بہن نہ تھی۔ چچا زاد بہن تھیں، اس لئے یہ دوری مزید بڑھ گئی اور رفاقتوں کا پودا پھل پھول نہ سکا۔ سسرال کی عدم پسندیدگی کی وجہ سے کم کم ہی ملاقاتیں ہوتیں تھیں۔ میل جول برائے نام ہی رہ گیا۔
’’امی !یہ کون ہیں؟‘‘ میں نے کمرے میں داخل ہوتے ہی چند اجنبی مہمانوں کو دیکھ کر پوچھا۔
امی نے مجھے بتایا’’بیٹی یہ تمہارے پھوپھا اور ان کا بیٹا صفدر ہیں۔‘‘
میرا چھوٹا سا ذہن یہ ہی سوچ رہا تھا کہ پہلے تو کبھی نہیں دیکھا۔ صفدر بھائی غیر معمولی خوبصورتی کے مالک تھے۔ گندمی رنگت، گھنگھریالے سیاہ بال،آنکھیں بڑی بڑی اور گہری سی…مناسب قدو قامت اور سلجھی سلجھی شخصیت۔ ان کااندازِ گفتگو بھی کافی دل پذیر تھا۔ میرا جی چاہتا تھا کہ وہ باتیں کرتے رہیں اور میں انکے پاس بیٹھی سنتی رہوں مگر وہ کچھ دیر بیٹھنے کے بعد چلے گئے ۔ ان کے جانے کے بعد میں کافی دیر تک ان کے بار ے میں سوچتی رہی ۔
کچھ دن گزرے تھے کہ صفدر بھائی دوبارہ آگئے۔ اب کے وہ اکیلے آئے تھے۔ ان کے ساتھ ان کے ابو نہیں تھے ۔ہم نے حسب سابق ان کی مہمان نوازی کی۔ پھر ان کا ہمارے گھر میںآنا جانا بڑھتا گیا ۔ وہ ہمیشہ اس انداز میں آتے کہ اُن کے پہلی مرتبہ آنے کا گماں ہونے لگتا۔ شرمائے شرمائے سے باتیں کرتے اور سوچ سوچ کر جواب دیتے بہت اچھے لگتے۔ یہ سب کچھ شاید ان کی عادات میں شامل تھا ۔
انہی دنوں ابو تک اڑتی اڑتی سی خبر پہنچی کہ وہ میری باجی کلثوم میں انٹرسٹڈ ہیں اوررشتے کی بات چلانا چاہتے ہیں ۔ یہ سنتے ہی ابو جان نے صفدر بھائی کے آنے جانے پر پابندی لگا دی اور کہہ دیا کہ اگرایسی ویسی کوئی بات ہے تو وہ خود آنے کی بجائے اپنے ماں باپ کو بھیجے ۔
بہ مشکل دوری سمٹ کر انگلیوں تک پہنچی تھی، پھر پھیل کر بازوئوں کی کھلی وسعت سے باہر نکل گئی۔ اس طرح وہ ہم سے ایک بار پھر دور ہو گئے۔
سننے میں آیا تھا کہ ان کے والدین مان نہیں رہے اور وہ برابر ان کو منانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پر امید تھے کہ ان کا رشتہ اُن کے کہنے پر من چاہی جگہ پر ہو جائے گا ۔ دنوں کا کب پتہ چلتا ہے، یہ تو پر لگا کر اڑجاتے ہیں اورہاتھوں میں سوائے اس کی پرچھائیوں کے کچھ بھی نہیں رہتا ہے ۔
میں آٹھویں میں تھی جب پہلی مرتبہ پھوپھو اور صفدر بھائی کے ابو جان ہمارے گھر آئے ۔ باجی کلثوم اس دن بہت خوش تھی اور بات بات پر اُس کے چہرے پر مسکان کی شفق پھوٹ اٹھتی تھی ۔ پھوپھا جان کو پورے خاندان میں سخت گیری کے حوالے سے جانا جاتا تھا اور حقیقت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ ان کی موجودگی میں پھوپھو کی جرات ہی نہ تھی کہ کوئی بات ہی کر جائیں یا اپنے طور پر کوئی فیصلہ کر لیں ۔ وہ خاموش اور افسردہ مسکراہٹ سے ہمیں اور باجی کلثوم کو دیکھتی رہیں مگر منہ سے کچھ نہ بولیں ۔ جانے وہ کیا کہنا چاہتی تھیں اور ان پر کیسی پابندی تھی ۔ وہ کافی دیر بیٹھے رہے اور پھر کچھ بھی بتائے، واضح کئے بغیر چلے گئے ۔ امی جان منتظر رہیں کہ وہ لوٹ کر آئیں گے مگر ایسا نہ ہوا ۔ جانے والے پھر لوٹ کر نہ آئے ۔ ایک دن صفدر بھائی خلاف توقع ادھر آ نکلے تو انہوں نے بتا یا کہ امی جان کو کلثوم بہت زیادہ پسند ہیں جبکہ ابو جان اس کو پسند نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ اس سے شادی کا خیال دل سے نکال دو اور کسی جگہ کے بارے سوچو۔
’’آخر اس کی کوئی وجہ بھی تو ہو گی ناں؟ ‘‘امی نے اس سے دریافت کیا ۔
وہ اس سوال کا کوئی خاطر خواہ جواب نہ دے سکے اور ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے ۔ ممکن ہے وہ اس ضمن میں کوئی بات چھپا بھی رہے ہوں مگر اس کا کیا کہ اصل مقصد ہی نا پید تھا ۔
میں دیکھ رہی تھی کہ باجی کلثوم کیلئے یہ صورت حال کافی پریشان کن تھی ۔ میں نے ایک دو مرتبہ دریافت کیا کہ وہ کیوں افسردہ سی رہتی ہیں تو وہ مجھے ٹال گئیں ۔
و ہ سردیوں کے دن تھے ایک شام صفدر بھائی آئے تو باجی کلثوم نے ان کو چائے بنا کر دی۔ یہ معمول کی بات تھی۔ وہ جب بھی آتے تو ان کو چائے یا شربت بنا کر پلایا جاتا۔ میں چائے لے کر اندر گئی اور وہیں ان کے پاس ہی بیٹھ گئی۔ ادھر ادھر کی باتیں ہونے لگیں۔ اچانک امی جان نے اس سے کہا ’’صفدر!لڑکی والوں کے سر پر سفید چادر قسمت ڈال دیتی ہے۔ اِس پر لگے داغ دور سے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ تم مجھے بہت پیارے ہو مگر چادر پر تمہارے قدموں کے نشان پڑ جاتے ہیں جو ہر دیکھنے والے کی آنکھوں میں شہتیر بن جاتے ہیں۔ اس لئے تم یہاں نہ آیا کرو۔‘‘
وہ پریشان ہو کر بولا’’لوگوں سے کہہ دیا کریں کہ میں آپ کا رشتہ دار ہوں۔میرے آنے جانے پر بدنامی کیا کیا سوال؟‘‘
امی جان نے دکھ سے کہا ’’لوگ باتیں کرتے ہیں اس لئے تمہارا یہاں آنا کسی طور پر بھی مناسب نہیں ہے۔ ہاں جب تمہاری امی یہاں آکر ہمارے ساتھ بات پکی کر لے گی توپھر کسی کو بھی اعتراض نہیں ہو گا۔ بیٹے! تم ہماری پوزیشن کو سمجھنے کی کوشش کرو۔‘‘
اس کے چہرے پر مایوسی اور ندامت کے گہرے پَرتو پھیل گئے۔ وہ قدرے بے بسی سے بولا ’’ممانی!امی تو راضی ہیں مگر…‘‘
امی جان نے کندھے اچکا کر کہا’’بیٹا! کون راضی ہے، کون راضی نہیں ہے ، یہ تو سراسر تم لوگوں کا اندرونی مسئلہ ہے۔جو نہیں مانتا اُسے منانے کی کوشش کرو۔ہمیں پریشان نہ کرو۔ہم تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتے۔‘‘
امی نے حتمی فیصلہ سنا دیا۔
میں باہر نکلی تو باجی کلثوم کو دروازے کے پردے کی اوٹ سے اندر ہونے والی گفتگوکو سنتے دیکھا۔ میں ٹھٹک گئی ۔ باجی کی آنکھوں کے گوشے بھیگے ہوئے تھے اور چہرے پر دکھ کے اتھاہ سائے لرزاں تھے۔ میں ان کو کوئی تسلی کوئی دلاسہ نہ دے سکی اور برتن اٹھائے آگے بڑھ گئی ۔
صفدر بھائی چلے گئے اور پھر کافی دن تک ان کا کوئی پتہ نہ چلا۔
باجی میٹرک کر چکی تھیں اور میں نویں میں تھی۔ بیری جوان ہوکر چاردیواری کے باہر سے دکھائی دینے لگی تھی۔ ان کیلئے رشتے آنے شروع ہو گئے۔ امی ابو کی یہ خواہش تھی کہ کلثوم صفدر بھائی کے گھر میں جائے مگر صفدر بھائی کے ماں باپ کی عدم دلچسپی کے باعث ایسا ممکن دھکائی نہیں دیتاتھا۔ ہم تک برابر یہ خبریں پہنچ رہی تھیں کہ صفدر بھائی مسلسل ہاتھ پائوں مار رہے ہیں اور اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے ابو اُن کی ضد کے آگے ہتھیار ڈال دیں۔ مگر ان کے ابو ٹس سے مس نہیں ہو ئے تھے۔
یہ سننے میں بھی آیا کہ صفدر بھائی نے گھروالوں کو دھمکی بھی دی تھی کہ اگر انہوں نے صفدر بھائی کی شادی کلثوم سے نہ کی تو وہ کوئی غلط قدم اٹھا لیں گے۔ دھمکی کارگر ثابت نہ ہوئی اور پھوپھا نے مان کر نہیں دیا۔
صفدر بھائی نے ابو جان سے کہا کہ ’’ماموں ! آپ کچھ عرصہ انتظار کر لیں۔ویسے بھی کلثوم آگے پڑھنا جاہتی ہے۔ میں اسی دوران میں امی ابو کو منا لوں گا۔‘‘
ان کے لہجے سے عیاں تھا کہ وہ کھوکھلے دعوے کی کچی چھڑی پر ٹیک لگائے کھڑے تھے۔ ان کی باتوں میں ربط نہیں تھا حالانکہ وہ ٹھہر ٹھہر کر بولنے کے عادی تھے ۔
’’ٹھیک ہے بیٹے!‘‘ ابو نے قدرے شفقت سے کہا ’’تم کہتے ہو تو مان لیتا ہوں۔ ہمارا تو کوئی ارادہ نہیں تھا اسے آگے پڑھانے کا مگر ممکن ہے کہ اس طور پر تمہارے ابو مان جائیں۔ تم بھی اسی دوران بی۔ اے کر لو گے اور وہ بھی کچھ دن اور پڑھ لے گی۔‘‘
صفدر بھائی جب گئے تو بہت مطمئن تھے ۔ میں نویں میں تھی کہ باجی نے ایف۔ اے میں داخلہ لے لیا ۔ دن گزرتے گئے اور احساس ہی نہ ہوا کہ میں نے کب جوانی میں قدم رکھ لیا۔ اب والدین کو دو لڑکیوں کی فکر ہو گئی۔ وہ بظاہر مطمئن تھے مگر اندرہی اندر پریشانی میں گھلتے جارہے تھے۔
’’ممانی !میری تو بہنیں بھی میری دشمن ہوگئی ہیں۔‘‘صفدر بھائی کی بات پر میں چونک اٹھی۔
’’نہیں بیٹا! ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ کوئی بہن اپنے بھائی کی دشمن نہیں ہو سکتی ۔ تمہیں ضرور غلط فہمی ہوئی ہوگی۔‘‘ امی نے اسے سمجھایا۔
’’ممانی ! یہ سچ ہے ۔ میں جب بھی کلثوم کا نام لیتا ہوں تو وہ کہتی ہیں کہ جس سے کہو گے شادی کریں گے مگر اس سے نہیں۔ پھر بتائیں، وہ میری دشمن ہیں یا نہیں۔‘‘ انہوں نے بڑے کرب سے کہا۔
امی کافی دیر تک بیٹھی کچھ سوچتی رہیں، پھر بولیں ۔’’مگر کلثوم میں کیا خامی ہے جو تمہارا خاندان اُسے یوں رَد کرتا چلا آرہا ہے۔اگر اَب وہ مان بھی جاتے ہیں تو بھی مجھے یہ نائو پار لگتی دکھائی نہیں دیتی۔ تم ہی ان کی بات مان لو۔‘‘
’’میں ایسا نہیں کر سکتا!‘‘
امی جان نے بات ختم کرتے ہوئے کہا ’’خیر ابھی تو وہ خود پڑھنا چاہتی ہے اور ہم بھی نہیں چاہتے کہ اس کی اتنی جلد شادی کر دی جائے۔‘‘
میں نے تنہائی میں سوچا’’کیا بہنیں اپنے بھائیوں کی دشمن ہو سکتی ہیں؟‘‘
مجھے ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا تھا۔ میرے دو بھائی تھے اور ہم ان کو کتنا چاہتی تھیں، یہ تو ہم کوہی معلوم تھا۔ وہ بھی ہماری کوئی بات نہیں ٹھکراتے تھے۔ صفدر بھائی تو اپنی چھ بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔ پھر کیوں ان کی بات نہیں مانی جا رہی تھی؟… میں جتنا اس بارے میں سوچتی، اتنا ہی الجھ جاتی تھی۔
صفدر بھائی کا آنا جانا بدستور جاری رہا۔
ایک دن اس نے میرے ابو سے کہا’’ماموں! آپ کچھ پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ کیا بات ہے، خیر تو ہے ناں؟‘‘
’’ہاں صفدر بیٹا! میری خواہش تھی کہ میری بیٹی میری بہن کے گھر جائے مگر شاید قسمت کو منظور ہی نہیں ہے۔ تمہارا باپ بے وقوف ہی نہیں ، بہت ظالم بھی ہے۔ اس کو اپنی اولاد کی خوشیوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ نہ جانے اس نے کیا سوچ کر یہ فیصلہ کر رکھا ہے۔ بہرحال یہ آپ لوگوں کا دردِ سر ہے۔ زمانے میں تو لڑکی والے نخرے دکھاتے ہیں اور اپنی شرائط منواتے ہیں مگر یہاں ہم لڑکی والے ہوکر بھی تمہارے ناز نخرے اٹھاتے چلے آرہے ہیں۔اس میں ہماری سبکی ہے مگر جہاں گھر کی بات ہو، وہاں ایسی باتوں کو مد نظر نہیں رکھا جاتا۔ اب چونکہ کلثوم کے رشتے آرہے ہیں اور میں زیادہ انتظار بھی نہیں کرسکتا کیونکہ مجھے اس کے بعد دوسری لڑکی بھی گھر سے اٹھانی ہے ۔ ہم نے اس کا بھی کچھ کرنا ہے۔‘‘
ابو کی بات درست تھی۔ ان کی بات سن کر صفدر بھائی کے چہرے پر ایک دکھ کا دبیز سایہ سا لہرا گیا۔
’’ماموں! میں کوشش تو کر رہاہوں ۔‘‘ ان کا لہجہ…اُف! کس قدر دکھ تھا ان کے لہجے میں۔
’’وہ سب ٹھیک ہے مگر صفدر بیٹے! تم خود سوچو کہ میں لڑکی کا باپ ہو کر کتنا انتظارسکتا ہوں؟وہ بھی ایک ایسے رشتے کا جسے پاکر بھی میں ساری عمر سکھی نہیں رہ سکوں گا۔ مجھے معلوم ہے کہ ریحانہ کو اس گھر میں ملے ہوئے مقام کو دیکھ کر بھی اپنی لڑکی دینے کو تیار ہوں مگر اب شاید ایسا نہ ہو سکے گا کیونکہ میں تمہارے باپ کی طرح ظالم نہیں ہوں۔ میں نے بھی اپنی اولاد کو دیکھنا ہے اور ان کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا ہے۔‘‘
ریحانہ میری پھوپھو، صفدر بھائی کی امی جان کا نام تھا۔
انہوںنے مزید کہا’’ایک بہت ہی اچھا رشتہ آیا ہے اور میری خواہش ہے کہ اس جگہ پر کلثوم کی بات پکی ہو جائے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اس گھرمیں خوش اور مطمئن زندگی بسر کرے گی۔‘‘
’’ٹھیک ہے ماموں جان ! مگر پلیز مجھے ایک موقع اور دے دیں۔میں اپنی آخری کوشش کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
صفدر بھائی چلے گئے۔ بدقسمتی سے ان کی آخری کوشش بھی کامیاب نہ ہو سکی۔گھر میں کلثوم باجی کیلئے رشتے پر رشتہ آرہا تھا۔ لڑکی کی ایک خاص عمر ہوتی ہے جب اس کیلئے رشتے آتے ہیں۔ مانجھے ہوئے پیتل کے برتن پر میل جم جائے تو آنکھوں کو بھلا نہیں لگتا۔ جوانی بھی ایسی ہی ہوتی ہے۔ ہاتھ سے ایک بار نکل جائے تو پھر پچھتاوے ہی رہ جاتے ہیں۔ امی ابو کی پسند اور شاید باجی کی اپنی پسند بھی صفدر بھائی ہی تھے مگر قسمت میں ایسانہ تھا۔ ابو نے ایک مہینے بعد صفدر بھائی سے خود فون پر بات کی کہ شاید کوئی صورت نکل آئی ہو مگر ایسا نہ ہو سکا اور صفدر بھائی یہ بازی ہار گئے۔
بڑے سوچ و بچار کے بعد کلثوم باجی کیلئے ایک رشتہ پسند کر لیا گیا۔ عدنان بھائی انجینئر تھے۔ خاندان بھی بہت اچھا تھا۔ اس طرح کلثوم باجی کی آنکھوں میں صفدر بھائی کی دلہن بننے کے سپنے ادھورے رہ گئے۔کلثوم باجی کی منگنی کے بعد صفدر بھائی اور انکے گھر والوں سے ہمارے تعلقات بالکل ختم ہو گئے ۔ صفدر بھائی نے بھی آنا جانا چھوڑ دیااور شاید یہ ہم سب کیلئے بہتر ہی تھا۔
میں دسویں کے امتحان کی تیاری کر رہی تھی جب باجی نے ایف اے کر لیا۔ شادی کی بات چلی تو میں نے ضد کر دی کہ میں امتحانات سے فارغ ہو جائوں، پھر تاریخ رکھی جائے۔ شاید چھوٹی ہونے کے ناطے میری یہ ضد مان لی گئی۔
’’امی ! آپ سے ایک بات کہنا ہے۔‘‘ بابربھائی کے لہجے نے مجھے چونکا دیا اور میں کمرے میں داخل ہوتے ہوتے رک گئی۔
’’کیا بات ہے بیٹا؟‘‘ امی نے خوش دلی سے کہا۔
’’امی !وہ آنٹی فضیلہ کی نند ہیں ناں…رابعہ۔ وہ…‘‘
’’ کیا ہوا اُسے ؟‘‘ امی چونک گئیں۔
’’امی! وہ مجھے بہت اچھی لگتی ہے۔‘‘ بابر بھائی کی آواز پر ، اس جملے پر اور اس کے انداز پرمیں نے بڑی مشکل سے خود پر قابو پائے رکھا۔
’’کیا واقعی ؟‘‘ امی کے لہجے میں محبت کی مٹھاس کے ساتھ ساتھ تعجب کا تاثر تھا۔
’’جی امی جان!‘‘ بابر بھائی نے کہا۔
’’اس کا مطلب ہے کہ ہمیں وہاں جھولی پھیلا کر جانا ہوگا۔‘‘ امی نے کہا۔
’’میری اچھی سی امی!‘‘ بابر بھائی کی آواز پر میں کمرے میں داخل ہو گئی اورمصنوعی خفگی سے چلاتے ہوئی بولی’’اس کا مطلب ہے کہ بالا بالا ہی سب کچھ طے ہوگیا ہے اور ہم کو خبرتک ہی نہیں ہوئی۔‘‘
بابر بھائی کے چہرے پر اسے سمے مجھے مصنوعی غصہ بہت ہی اچھا لگا۔ انہوں نے کہا’’اری چڑیل! تم کہاں سے اتنے اچھے موقع پر ٹپک پڑیں؟‘‘
میں بے اختیارہنسے چلی گئی۔
’’تم کہاں سے ہماری باتیں سن رہی تھیں؟‘‘
میں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا’’لازمی بات ہے کہ اپنے ان دو بڑے بڑے کانوں سے ہی سنناہے۔‘‘
میری اس بے ساختہ سی بات پر دونوں ہنس دیے۔
میں نے امی جان کے پاس بیٹھتے ہوئے دریافت کیا’’امی جان کب جان ہے ان کے گھر؟‘‘
’’تم خواہ مخواہ ہی فری ہوئی جارہی ہو۔ جب جانا ہو گا، ہم چلے جائیں گے ۔تمہیں بتانا ضروری ہے کیا؟‘‘ بابر بھائی نے شوخی سے کہا۔
میں نے منہ بنا کر کہا’’فری تو آپ ہو رہے ہیں۔ یہ ہمارا معاملہ ہے ناکہ آپ صاحب بہادر کا!‘‘
تھوڑی دیر کے بعد باجی تک یہ خوش خبری پہنچ گئی اور وہ بھی اس ادھوری خوشی میں شامل ہو گئیں۔ جب ابو اور علی بھائی گھر آئے تو یوں دکھائی دینے لگا جیسے کوئی غیر معمولی واقعہ رُوپذیر ہوگیا ہو۔جیسے آج ہی گھر سے بارات جانی ہو اور آ ج ہی بابر بھائی کی شادی ہو رہی ہو۔ بہنوں کو خوش کرنے کیلئے بھائیوں کی اتنی خوشی ہی کافی تھی۔
میں جب رات کو اپنے بستر میں لیٹی تو میری آنکھوں کے سامنے رابعہ کا چہرہ آگیا۔ سانولا سلونا سا رنگ اور خوبصورت آنکھوں والی وہ لڑکی یقینا بابر بھائی کے ساتھ بہت سجے گی ۔ میں مسلسل رابعہ اور بابر بھائی کا موازنہ کر رہی تھی۔ نیند آنکھوں سے کوسو ں دور تھی۔ خیالوں میں گھر آنے والی بھابھی کے بارے میں سوچ ہی رہی تھی کہ اچانک صفدر بھائی چشم تصور میں آن کھڑے ہوئے۔
’’بہنیں تو میری دشمن ہیں!‘‘
اُف!یہ جملہ کیوں یاد آگیا مجھے۔ میں تڑپ کر رہ گئی۔ بہنیں کب دشمن ہوتی ہیں۔ میں نے اُنہیں مخاطب کرتے ہوئے سوجا ’’مجھے دیکھو! میں نے جب سے بابر بھائی کی زبانی یہ جملہ سنا ہے کہ وہ رابعہ باجی کو پسند کرتے ہیں، خوشی کے مارے میرے پائوں زمین پر ٹک نہیں رہے۔ اس لئے کہ مجھے وہ عزیز ہیں اوران سے وابستہ چیزیں بھی آپو ں آپ اچھی لگتی ہیں۔‘‘

جانے صفدر بھائی کی بہنیں کیسی تھیں جو ان کی خواہشات کا احترام نہ کر سکیں۔ یہ سوچ کر میری آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آگئے اور میں نے تکیے پر سر رکھ دیا۔ انہی سوچوں میں جانے کب مجھے نیند آگئی اور میٹھے سپنوں کی گود میں سر رکھ کر سو گئی۔
’’امی! میںنے ہر صورت میں آنٹی کے گھر میں آپ کے ساتھ جانا ہے۔‘‘ میں نے ضد کی۔
امی نے مجھے سمجھایا ’’نہیں…تم ہمارے ساتھ نہیں جار ہی ہو۔ میں کلثوم کو لے کر جا رہی ہوں۔ دوسری مرتبہ تم ساتھ آجانا۔ تمہارے امتحان سرپر ہیں۔ اپنے وقت کا ضیاع نہ کرو۔‘‘
بادلِ نخواستہ میں نے ان کی بات مان لی۔
وہ جب واپس آئے تو میں نے جھٹ سے پوچھا’’کیسا رہا دورہ؟‘‘
’’ایک دم فنٹاسٹِک میری جان!‘‘ باجی نے چہک کر کہا۔
ان کے چہرے سے جھلکتے خوشیوں کے سچے پَرتو دیکھ کرمیں نے کئی باتیں یونہی اپنے طور پر فرض کر لیں ’’کیا واقعی؟‘‘
’’ہاں بھئی!‘‘ امی جان نے پیار کرتے ہوئے کہا۔
’’امی جان !اَب دوبارہ کب جانا ہوگا ان کے گھر؟‘‘ میں نے بے چینی سے دریافت کیا۔ میرے دل میں کئی امنگیں اور خوشیاں ناچنے لگی تھیں۔
’’بہت جلد!‘‘ باجی نے کہا۔
شام کو ابو اور بھائیوں کے آنے پر ساری باتیں ایک بار پھر دہرائی گئیں اور اس معاملے کی تمام تر جزیات کو بھی مد نظر رکھ کر غوروخوض کی میز آباد کی گئی۔ ہم ابھی کھانا کھا کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی ۔ میں دروازے پر آئی۔
’’کون ؟‘‘ میں نے اپنی عادت کے مطابق کافی اونچی آواز میں دریافت کیا۔
’’میںہوں!‘‘ آواز صفدربھائی کی تھی جسے میں ہزاروں میں پہچان سکتی تھی۔
میں نے دھڑکتے دل سے دورازہ کھولا اور ان کی طرف دیکھا۔ مجھے ان کے آنے کی توقع نہیں تھی کیونکہ جب سے باجی کلثوم کارشتہ کیا گیا تھا، تب سے وہ آج پہلی مرتبہ ہمارے گھر میں آئے تھے۔ میں نے پوچھا’’کیسے ہیں صفدر بھائی آپ؟‘‘
’’درست ہوں۔تم کیسی ہو؟‘‘
’’آئیں اندرآجائیںناں!‘‘
وہ اندر داخل ہوتے ہوئے بولے’’زندگی ہے، گزر ہی جائے گئی۔ ہاں البتہ یہ طے نہیں ہو رہا کہ اس کو کس ڈھب سے گزارنا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ میری بجائے زندگی مجھے گزارنے لگی ہے۔‘‘
اس دوران ہم اندر پہنچ گئے۔ میں نے ان کو بیٹھک میں بٹھایا اور امی جان کو بلانے کیلئے چلی گئی۔ کچن میں امی جان کو اُن کی آمد کی اطلاع دیتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ اچھا ہوا جو باجی کلثوم گھر میں نہیںہیں ورنہ انہوں نے صفدر بھائی کو دیکھ کر پریشان ہواُٹھنا تھا۔
میں نے سوچا ’’ یہ ہی وہ صفدر بھائی ہیں جن کی خوبصورتی کی ہم اکثر باتیں کرتی تھیں۔‘‘
کس قدر بدل گئے تھے وہ ان چند دنوں میںکہ پہچانے ہی نہیں جارہے تھے۔ بڑھی ہوئی شیو،الجھے الجھے بال اور پثرمردہ سا وجود! وہ تو کوئی اور ہی صفدر بھائی دکھائی دے رہے تھے ۔ حالتِ زار دیکھ کر پتہ چلتا تھا کہ وہ کافی دنوں سے نہ تو نہائے ہیں اور نہ ہی انہوں نے لباس چینج کیا ہے۔ اُن کے بارے میں سوچتے ہوئے چائے بنانے میں مصروف ہو گئی۔ اُن کی اس بدلی ہوئی حالت کے بارے میںجتنا سوچتی، اتنا ہی دکھ ہونے لگتا تھا۔
میں چائے بنا کر اند ر گئی۔چائے رکھ کر ایک طرف کھڑی ہو گئی۔ غیر متوقع طور پر امی جان نے مجھے باہر جانے کا اشارہ نہیں کیا اور نہ ہی استفہامیہ نگاہوں سے میری طرف دیکھا جن کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ’’ کیوں کھڑی ہو؟ جائو اور جا کر اپنا کام کرو۔‘‘
صفدر بھائی نے امی جان سے پوچھا’’کلثوم تو خوش ہے ناں؟‘‘
’’لڑکیوں کا کیا ہے۔ جہاں ماں باپ ان کی قسمت کا فیصلہ کر دیتے ہیں، وہ وہیں کی ہو کر رہ جاتی ہیں۔ میں نے تو اپنے طور پر کوشش کی تھی کہ وہ ڈولی میں بیٹھ کر تمہارے آنگن میں اُترے مگر قسمت نے ساتھ نہیں دیا۔ تمہارے ابو نہیں مانے۔ بہرحال جو بھی ہوا ،اچھا ہوا۔‘‘
’’ہونہہ… ممانی آپ ان کی بات میرے سامنے مت کریں۔ جو والد اپنے بیٹے کی خواہش پوری نہ کر سکے، اس نے اس دنیا سے کیا لیناہے سوائے پچھتاوے کے۔ دیکھنا ایک دن اسے پچھتانا پڑے گا۔ اس کا حشر یہ ہو گا کہ ُاس کو میری قبرپرآکر سَر میں خاک ڈال کر رونا پڑے گا۔ اپنے ظلم پر ماتم کرے گامگر اس وقت سوائے رونے کے اس کے بس میں کچھ نہیں ہو گا۔‘‘ صفدر بھائی کے لہجے سے مایوسی پوری طرح جھلک رہی تھی۔ وہ رو تو نہیں رہے تھے مگر ان کے ایک ایک لفظ میں موت کی سی دکھن تھی۔
امی جان نے اس کو تسلی دیتے ہوئے کہا’’صفدر بیٹے ! تم ایسی باتیں کیوں کرتے ہو۔ اگر تمہاری کلثوم سے شادی نہیں ہو سکی ہے تو اس میں کیا ہے؟ اس سے بہتر ہزار لڑکیاں ہیں جو تمہیں مل سکتی ہیں۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ یہ باتیں ایک وقت تک محسوس ہوتی ہیں، پھر بھلا دی جاتی ہیں۔‘‘
’’نہیں ممانی! ہر بات بھلا دینے والی نہیں ہوتی۔‘‘ صفدر بھائی نے زہر خند لہجے میں کہا ’’ جب سب ٹھیک ہو گا تب تک کچھ نہیں بچے گا۔‘‘
اس کے جواب پر امی جان خاموش ہو گئیں اور مزید کچھ بھی نہ کہا۔ کہنے کو رہا بھی کیا تھا۔ صفدر بھائی کچھ دیر بیٹھے دل کے دُکھڑے روتے رہے، پھر چلے گئے۔ ان کی آمد کا ہم نے باجی کلثوم سے کوئی ذکر نہ کیا کہ سُن کر شاید زیادہ دکھی ہو جائیں گی۔
د ن مہینے اور سال لمحوں کے زینے پر قدم رکھتے ہوئے یوں گزر جاتے ہیں کہ پتہ ہی نہیں چلتا۔ میرے امتحانوں کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد ہی باجی کلثوم کی شادی کی تاریخ رکھ دی گئی۔ سوچا تھا کہ امتحان کی کوفت چھٹیوں میںختم ہو جائے گی مگر شادی کی مصروفیات نے ہلا کر رکھ دیا۔ کلثوم باجی کی شادی پر ہم نے بہت انجوائے کیا۔ خاص کر مہندی ،مایوں اور شادی کی دوسری رسومات پر ۔ نکاح کے موقع پر باجی فرطِ غم سے بے ہوش ہو گئی۔ ہمارے آنسو تھے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ برسوں منسلک رہنا، پھر ایک آدمی کیلئے یکسر کٹ جانا… کھلونا جگہ بدل لے، دکھ ہوتاہے۔ انسان اپنا مقام بدل جائے، آنکھ سے اوجھل ہوجائے، برداشت نہیں ہوتا۔ ہماری کیفیت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔
نجانے کیوں اس موقع پر صفدر بھائی شدت سے یاد آئے حالانکہ اُن سے ہماری کوئی توقع وابستہ نہیں رہی تھی۔ انہوںنے باجی کو سوائے دکھ دینے کے کچھ نہیں دیا تھا۔ میں شاید اپنے طور پر ہی سوچتی رہی کہ ’’ کاش یہ سب کچھ اُن کیلئے ہوتا۔ ‘‘
عدنان بھائی بتہ اچھے آدمی ثابت ہوئے۔ انہوںنے باجی کو ہرطرح سے مطمئن رکھا مگر جانے کیوں مجھے محسوس ہوتا تھا کہ باجی اُداس سی رہتی ہیں۔ یہ میرا واہمہ بھی ہوسکتا تھا مگرکبھی کبھی ان کی آنکھیں اُن کے دل کے اندر چھپے کسی غم کو اجاگرکرنے لگتی تھیں۔ اداسی کے ان سایوں کو دیکھ کر میں اکثر گھبرا سی جاتی تھی۔
کلثوم باجی کی شادی سے تقریباً تین ماہ بعد ہی بابر بھائی اور رابعہ کی منگنی بڑے دھوم دھام سے کر دی گئی۔ بابر بھائی کے ڈاکٹر بن جانے کے بعدشادی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ رزلٹ آنے کے بعد میں نے کالج میں داخلہ لے لیا اور ایف ایس سی میں اچھے نمبر لینے کا تہیہ کرتے ہوئے دلجمعی سے پڑھنے لگی۔ کالج میں میری سب سے پہلی دوست زرینہ بنی۔ اتفاق سے وہ صفدر بھائی کے پڑوس میں رہتی تھی۔ میں نے ایک دن اس سے کہا’’میں نے تمہیں کبھی صفدر بھائی کے گھر میں نہیں دیکھا۔‘‘
میری بات پر وہ افسردہ سی ہو گئی اور بولی’’ میں نے بھی توآپ کو پہلے نہیں دیکھا ناں اور ویسے بھی آپ لوگ ان کے گھر کم کم ہی آتے ہیں۔‘‘
میں نے کہا’’بات دراصل یوں ہے کہ ہمارا ملنا جلنا صفدر بھائی کے خاندان سے بہت کم ہے۔‘‘
وہ کافی دیر تک بیٹھی کچھ سوچتی رہی، پھر بولی ’’فرحانہ! تمہیں معلوم ہے کہ صفدر بھائی نشہ کرنے لگے ہیں؟‘‘
میرے لئے یہ خبر کسی دھماکے سے کم نہیں تھی’’کیا؟…ایسا نہیں ہو سکتا۔‘‘
’’ایسا ہو چکا ہے فرحانہ!‘‘زرینہ جسے کلاس میں ہم سب جینا کے نِک نیم سے پکارتی تھیں، نے افسردگی سے کہا ’’پرسو ں رات میرے بڑے بھائی نے گلی میں اس کو نشے میں دھت دیکھا اور اس کو اٹھا کر اس کے گھر لے گئے۔ بتا رہے تھے کہ اس کے ماں باپ نے اس کو بہت برا بھلا کہا تھا۔‘‘
’’اف میرے خدا!‘‘ میرا سر چکرا گیا ۔ کافی دیر تک سر تھام کر بیٹھی رہی ۔عملی طور پر میرا کسی نشہ کرنے والے سے واسطہ نہیں رہا تھا مگر میں نے سُن رکھا تھا کہ نشہ پورے خاندان کو تباہ و برباد کردیتا ہے۔گھر میں کسی کو بتانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ خواہ مخواہ سب کو بھی پریشان کرنے کے مترادف تھا، اس لئے میں خاموش رہی۔
جینا سے دوستی کیا ہوئی، صفدر بھائی کے پل پل کی خبریں مجھ تک پہنچنے لگیں۔ چند دن کے بعد جینا نے ایک اور خبر سنائی۔
’’یار فرحانہ!صفدر بھائی نے نشہ چھوڑ دیا ہے۔‘‘
میں نے خوشی سے کہا’’کیا سچ؟‘‘
’’ہوں… ٹھیک کہہ رہی ہوں۔‘‘اس نے کہا۔
میں نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ شاید مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ سچ کہہ رہی ہے کیونکہ اس کی باتوں میں بجائے خوشی کے دکھ کا شائبہ تھا۔ میں نے اس سے کہا’’پھر تم خوش ہونے کی بجائے رونی صورت کیوں بنائے بیٹھی ہو۔‘‘
اس نے کہا’’اس نے اس سے بھی خطرناک کام شروع کردیا ہے۔ سنا ہے کہ وہ جادو ٹونے کے اور کالے علم کے چکر میں پڑ گیاہے۔ فرحانہ!مجھے یقین تو نہیں آتا مگر صفدر بھائی کی ذہنی حالتِ زار سے کچھ بعید بھی تو نہیں ہے۔ وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ اللہ کرے یہ سچ نہ ہو۔‘‘
میں دم بخود سی رہ گئی۔
ایک لمحاتی خوشی ملی تووہ بھی اپنے جلو میں ایک بہت بڑے دکھ کو لے آئی تھی۔ چند دن کے بعد اس نے مزید بتایا کہ صفدر بھائی پو ری پوری رات کوئی عجیب سے عمل کرتے رہتے ہیں۔ایک رات وہ کسی عمل میں مصروف تھے کہ کسی نے ان کی چارپائی الٹ دی۔ یہ بات سارے محلے میں پھیل گئی اور صفدر بھائی کے ابو اور دادا ابو نے گالیاں دیتے ہوئے ان کو گھر سے نکال دیا ۔
میں نے طویل سانس لے کر کہا’’اب وہ کہاں ہے؟‘‘
’’خدا جانے کہاں گئے ہیں…ایک دن گھوم پھر کے واپس آجائیں گے اور کیا؟‘‘
جینا نے اور بھی بتایا ’’تمہیں پتا ہے کہ ریحانہ آنٹی وہ واحد ہستی ہیں جو صفدر بھائی کے ہر دکھ کو سمجھتی ہیں۔ وہ رات کوتب تک جاگتی رہتی ہیں، جب تک کہ وہ واپس نہیں آجاتے۔ کبھی کبھی یوں ہوتا ہے کہ باپ اگر پہرہ لگا دے تو ماں انہیں چھت سے بلا لیتی ہے۔ فرحانہ! سگے باپ اپنی اولاد کے ساتھ کیا ایسا ہی سلوک کرتے ہیں؟‘‘
’’پتہ نہیں!‘‘ میں بھلا کیا جواب دیتی۔ اس بات کا جواب خود مجھے بھی کئی برسوں سے نہیں ملا تھا، اسے کیسے دیتی۔
ایف ایس سی کے دو سال پلک جھپکنے میں گزر گئے۔ وہ کالج میںپڑھائی کے آخری دن تھے۔ پڑھائی اپنے پورے عروج پر تھی اور فرصت ہی نہ تھی کہ کچھ اور سوچا جاتا مگر صفدر بھائی ایسے وقت میں بھی اکثر یاد آجاتے تھے۔ میں نے ایک دن جینا سے پوچھ ہی لیا’’جینا! بہت دن ہوئے ہیں تم نے صفدر بھائی کی کوئی اطلاع نہیں دی۔‘‘
’’ہاں فرحانہ! صفدر بھائی اب کافی بدل گئے ہیں۔ انہوں نے نشہ بھی چھوڑ دیا ہے اورعاملوں کے چکر سے بھی نکل آئے ہیں۔بہت خاموش طبیعت ہو گئے ہیں۔‘‘
جینا نے یہ سب بتایا تو دل ڈوبنے لگا کہ نہ جانے یہ خاموشی کیا رنگ لائے گی۔
ایف ایس سی کے امتحانات ہو گئے۔ تمام پیپر ز بہت اچھے ہوئے تھے ۔ پریکٹیکل کے بعد ہم لوگ گھر بیٹھ گئے ۔ بابر بھائی کی شادی کی باتیں ہونے لگیں اور پھر ایک دن تاریخ ر کھ دی گئی۔ جینا کے کارڈ کے ساتھ ساتھ میں نے امی سے کہہ کر پھوپھو کا کارڈ بھی لکھ دیا۔ وہ دن میری زندگی کا یادگار دن تھا جب میں پہلی مرتبہ پھوپھو کے گھرکارڈ دینے کی غرض سے گئی۔ دو چھوٹے چھوٹے کمروں پر مشتمل یہ گھر جو یقینا اتنی بڑی فیملی کیلئے ناکافی تھا، پہلی مرتبہ دیکھا۔ پہلی مرتبہ اپنی کزنز سے ملی تو یوں لگا جیسے واقعی رشتے دارکتنی کشش رکھتے ہیں۔ان سب نے بہت محبت دی اور اس لمحے مجھے یوں لگا جیسے صفدر بھائی جھوٹے ہوں۔ اتنی محبت کرنے والے لوگ کیسے اُن سے زیادتی کرسکتے ہیں۔
میں سوچتی رہی۔پہلے لمحے میں جھوٹے دکھائی دینے والے صفدر بھائی اگلے ہی لمحے میںسچ کی مسند پر براجمان ہوگئے جب میں نے اپنی کزنز سے دریافت کیا ’’صفدر بھائی کہاں ہیں؟‘‘
پوچھنا غضب ہو گیا۔
’’وہ کم بخت کب ہوتا ہے گھر پر… اُسے فرصت ملے تو آئے ناں؟ زندگی حرام کر رکھی ہے اس نے۔‘‘نجانے کیا کیا کہاانہوں نے۔ وہ پل میں کبھی نہ بھول پائوں گی جب میں نے پھوپھو کے چہرے پر وہ الفاظ لکھے ہوئے دیکھے جو عمر بھر کی محرومیوں کے بعد ابھرتے ہیں۔ ان کے اداس چہرے کا دیدار زیادہ دیر تک برداشت نہ کر پائی اور فوراً امی کو گھر اُٹھنے کی ضد کرنے لگی۔وہاں سے اُٹھ کر جینا کے گھر آکر دم لیا ۔ وہ میری حالت سے واقف تھی اس لئے اس نے کوئی سوال نہ کیا۔
شادی پر بہت سارے مہمان آئے تھے۔ جینا تو تما م فنکشن میں میرے ساتھ ساتھ رہی۔ پھوپھو اور ان کی بیٹیاں بھی آئی تھیں۔ ان کارویہ ہمارے ساتھ بہت اچھا رہا۔ پھوپھو کی نظریں بار بار کلثوم باجی کی طرف اٹھتیں۔ ایک خواہش، ایک تمنا تھی ان کے دل میں جو پوری نہ ہو سکی تھی۔ کلثوم باجی بھی سب کچھ بھلا کر اپنے گھر، اپنے شوہر اور پیارے سے بیٹے کے چونچلوں میں مصروف ہو چکی تھیں۔
رابعہ باجی جب بھابھی کے روپ میں ملیں تو یوں لگا کہ جیسے کلثوم باجی مل گئی ہوں۔ انہوں نے نند کی بجائے مجھے بہن کا پیار دیا ۔وہ امی اور ابو کی بہت عزت کرتیں۔ وہ پڑھی لکھی تھیں اس لئے بہ آسانی ہمارے ماحول میں ایڈجسٹ ہو گئیں۔ ان کے آنے کے بعد گھرکی رونق میں اضافہ ہوگیا۔ شادی کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد وہ اور بابر بھائی گھومنے پھرنے چلے گئے ۔ تقریباً ایک ماہ بعد آئے۔ ان کی غیر حاضری میں گھر کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا۔ ان کے آنے پر پھر وہی شب و روزکا خوشیوں بھرا چکر قائم ہوگیا۔ ایف ایس سی کا رزلٹ آگیا۔ میں اچھے نمبروں میں پاس ہوئی تھی۔ بی ایس سی میں آسانی سے داخلہ مل گیا اور کسی قسم کی کوئی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ جینا میرے ساتھ تھی۔ اس طرح پھر وہی معمول بندھ گیا کہ اکٹھے کالج جانا اورسارا دن اکٹھے رہ کر ایک ہی طرح کی باتیں کرنا۔ کیا پکا، کیا کاڑھا، کیا بنایا۔ کس نے کیا کہا؟ کس نے کیا سنا اور کیا جواب دیا؟ وغیرہ ۔ گھر آتی تو رابعہ بھابھی میری منتظر ہوتیں۔ میں ان کا بے حد احترام کرتی تھی۔ وہ بھی مجھ سے بے حد مانوس ہوگئی تھیں۔ آج کل گھر میں نئے مہمان کی آمد آمد تھی اس لئے بھابھی کا پہلے کی نسبت کچھ زیادہ ہی خیال رکھا جانے لگا۔ امی جان ان کو کوئی کام نہیں کرنے دیتی تھیں مگر وہ خود کو کسی نہ کسی کام میں الجھا کر مصروفیت بنائے رکھتی تھیں۔
ایک دن!
’’امی جان!آپ نہیں گئیں؟‘‘ علی بھائی نے پوچھا تو ہم سب چونک اٹھے۔
’’کہاں بیٹا!‘‘ امی جان نے حیرانی سے کہا۔
’’وہ صفدر بھائی ہیں ناں؟ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ اب تک تو ان کو دفنا بھی دیا گیا ہو گا۔‘‘ان کے لہجے میں گہری اداسی تھی۔
ہم منہ پھاڑے علی بھائی کو دیکھنے لگے۔
امی جان نے کہا ’’مگر یہ سب کیسے ہوا؟‘‘
علی بھائی نے بتایا ’’پتہ نہیں ۔ بس یہی سنا ہے کہ ان کو دل کا دورہ پڑا تھا۔‘‘
’’انتقال کب ہوا ہے؟‘‘ امی نے دریافت کیا۔
’’کل شام کو۔ ‘‘
’’مجھے جانا چاہئے۔ میں جانتی ہوں کہ میرے سسرال مجھے اس کی فوتیدگی کی اطلاع نہیں دیں گے۔‘‘ امی نے دکھی لہجے میں کہا اور تیاری کرنے لگیں۔ میں نے بھی ان کے ساتھ جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو وہ رد نہ کر سکیں۔

میں اور امی جان علی بھائی کے ساتھ پھوپھو کے گھر میں پہنچیں جہاں سوائے آنسوئوں اور آہوں کے کچھ نہ تھا۔ امی جان اُن کے گلے لگ کر بری طرح رونے لگیںمگر یوں محسوس ہوتا تھا کہ پھوپھو کے آنسو خشک ہو چکے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں سوائے دکھ کے کچھ بھی باقی نہیں بچا تھا۔ میں بھی رونے لگ گئی۔ صفدر بھائی کی بہنوں کے بین سنے نہیں جاتے تھے۔ وہ میرے گلے لگ کر یوں پھوٹ پھوٹ کر روئیں کہ مجھے اپنا دل رکتا محسوس ہوا۔
وہ مسلسل ہاتھ مسل رہی تھیں لیکن مجھے غم کے ان شدید لمحوں میں بھی ان بہنوں سے نفرت محسوس ہو رہی تھی جو اپنے اکلوتے بھائی کو سنبھال نہ سکی تھیں۔ وہاں ابو کا پورا خاندان موجود تھا لیکن میں کسی سے بات نہ کر سکی۔ شاید دور رہ کر محبتوں کے تما م جذبے ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔
جتنی دیر ہم لوگ وہاں رہے، میرے آنسو نہ تھمے۔ سب لوگ دل کا دورہ ہی بتلا رہے تھے مگر بعد میں پتہ چلا کہ رات کمرے میں سوئی گیس کھلی رہ گئی تھی جو صفدربھائی کی ہلاکت کا باعث بن گئی ۔
جب میں پہلی مرتبہ بابر بھائی کی شادی کا کارڈ دینے کے لئے یہاں آئی تھی تو یہ گھر کافی چھوٹا تھا مگر اب اس میںقدرے توسیع کر دی گئی تھی۔ اُنہوں نے اپنی آبائی زمین بیچ کر اپنا گھر از سر نو تعمیر کیا تھا۔ انہوںنے کافی مقدمات لڑنے کے بعد ااِس اراضی کو حاصل کیا تھا مگر کیا فائدہ؟ اس جائیداد کا مالک ہی منہ موڑ گیا تھا۔
دوسرے دن ہم لوگ دوبارہ وہاں گئے۔ صفدر بھائی کا سوئم تھا۔ جینا بھی آئی ہوئی تھی۔ میں اس کو دیکھ کر رو پڑی۔ اچھے انسان کی موت پر سب روتے ہیں، شاید وہ بھی رو رہی تھی۔
’’صفدر بھائی نے خود کشی کی ہے۔‘‘ اس نے سرگوشی کے سے انداز میں ہولے سے کہا۔
’’کیا واقعی؟‘‘ میں یہ بات اس سے پہلے بھی کافی آدمیوں کے منہ سے سن چکی تھی۔
’’ہاں !‘‘ جینا نے پُر یقین لہجے میں کہا ’’صفدر بھائی جب رات کو گھر آئے تو انہوں نے اپنی امی سے کہا کہ آج میری طبیعت بہت خراب ہے اس لئے صبح مجھے جلدی نہ جگانا، میں خودہی جاگ جائوں گا۔ یہ بات کہتے ہوئے انہوںنے دل پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔ امی نے ان سے کہا بھی کہ یہیں سو جائو مگر انہوں نے کہا کہ میں اپنے کمرے میں سونا چاہتا ہوں۔ جانتی ہو فرحانہ! ان کا کمرہ کون ساہے۔ ‘‘
میں نے انکار میںسر ہلایا۔
’’وہ والا…وہ آخری ۔ اور پتہ ہے جب وہ دوپہر تک نہ جاگے تو آنٹی کو تشویش ہوئی۔ انہوں نے کمرے کے دروازے پر دستک دی، آوازیں دیں مگر صفدر بھائی نے کوئی جواب نہ دیا۔ دوپہر بھی کیا تھی، ساڑھے تین بجنے کو تھے۔ آنٹی نے دروازہ زور سے ہلایا تو اندر کی کنڈی گر گئی اور دروازہ کھل گیا۔ سامنے زمین پر صفدر بھائی پڑے ہوئے تھے اور ان کے منہ سے خون نکل کر جم چکا تھا۔ ہاتھ پائوں مڑ چکے تھے اور رنگت بھی تبدیل ہو گئی تھی۔
گھر اور محلے میں کہرام مچ گیا۔ انہیں مرے ہوئے تقریباً چھ گھنٹے ہوگئے تھے جب کسی نے پولیس کو اس واقعے کی اطلاع کر دی ۔ پولیس آئی اور انہوں نے پورے وثوق سے اِسے خودکشی کا کیس قرار دیا۔وہ لے جا کر پوسٹ مارٹم کرانا چاہتے تھے مگر محلے داروں اور صفدر بھائی کے ابو نے ایسا نہ ہونے دیا۔سُنا ہے تھانیدار کو بہت سارے پیسے دے کر چُپ کرایا گیا ہے۔
’’پھر پوسٹ مارٹم ہوا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
کافی دیر تک خاموشی رہی، پھر جینا نے مجھ سے دریافت کیا’’تم نے محلے کی مسجد دیکھی ہے؟‘‘
میں نے کہا’’ہاں دیکھی ہے۔ وہی ناں جو سڑک کے پار واقع ہے۔‘‘
’’ہاں وہی۔ میت کو نہلانے کے بعد گھر میں زیادہ سے زیادہ دس منٹ تک رکھا گیا پھر اس مسجد میں لے جایا گیا۔ میں نے توان کو آخری مرتبہ بھی دیکھا تھا۔ ہائے فری! اتنی بے بسی… اتنا دُکھ… لگتا تھا جیسے دنیا جہان کا کرب اُن کے چہرے پر جم گیا ہو۔ ماں بہنیں تڑپتی رہیں کہ اب تو وہ چند گھڑی کا مہمان ہے، اس کو گھر لے آئیں مگر کسی نے ان کی ایک نہ سنی ۔ بہنیں تو جا کر ان کی میت کو دیکھ آئیں مگر ماں نہ جاسکی۔ فرحانہ! یہ بہت ہی ظالم لوگ ہیں۔ انہوں نے صفدر بھائی کو اپنے ہاتھوں قتل کیا ہے۔‘‘
اس کے آنسو پھر بہنے لگے۔ میں بھی تڑپ اٹھی۔ ’’جینا ! صفدر بھائی کی بہنیں کیسی ہیں؟‘‘
’’بہنیں تو بہت ہی اچھی ہیں مگر انہوں نے بھی صفدر بھائی کے کاز کی حمایت نہیں کی بلکہ اپنے ابو کی ہی فیور کرتی رہی ہیں۔ اب وہ پچھتا رہی ہیں مگر اب کیا فائدہ ؟ جب وہ محبت مانگتے تھے تو ان کو جواب میں نفرت ملتی تھی۔ دورجا چکے ہیں تو یہ ان کو پکارتی ہیں۔‘‘ جینا کا لہجہ قدرے تلخ ہو کر رہ گیا ’’ایک مرتبہ مجھ سے صفدر بھائی نے کہا تھا کہ وہ کسی سے محبت کرتے ہیں اور مرتے دم تک کرتے رہیں گے ۔نام تو مجھے نہیں بتا یا تھا انہوں نے اس لڑکی کا لیکن کئی مرتبہ انہوں نے یہ ضرور کہاتھا کہ میں اُس کے بنا کسی اور کا کبھی نہیں ہو سکوں گا۔ ایک بار یہ بھی کہا تھا کہ مجھے اس کا کوئی نعم البدل نہیں ملتا۔ ان کو کسی نے محبت نہیں دی اور نہ ہی وہ کسی سے مطمئن ہو سکے۔ سب ان سے نفرت کرتے تھے حالانکہ وہ بہت نائس تھے۔ یہ درست ہے کہ میں لڑکی ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ زیادہ فری نہیں تھی مگر جن دنوں میں ان سے میٹرک کی ٹیوشن پڑھتی تھی، انہی دنوں ان کے افکار و عادات کا پتہ چلاتھا۔فری! وہ بہت آئیڈیل پرسنالٹی رکھتے تھے۔‘‘
وہ کچھ دیر کو خاموش رہی، پھر بولی’’جب وہ لڑکی ان کی نہ ہو سکی تو وہ ذہنی طور پر کافی کمزور ہو گئے۔ انہوں نے ایک دن مجھے بتا یا کہ میںکالا جادو سیکھ رہا ہوں۔ میں ہنسنے لگی تو انہوں نے کہا کہ میں اس لڑکی کے حصول اور اپنے باپ کو منانے کیلئے جادو سیکھ رہا ہوں۔ تم دیکھنا کہ میں ایک نہ ایک دن اپنے قدموں میں پورے زمانے کو جھکا کر اُسے حاصل کرلوں گا۔ لڑکی کے باپ سے میں نے کہا ہے کہ اگر وہ اپنی لڑکی مجھے دے دیں تو میں جادو کے زور پر کمرے کی ہر شئے سونے کی بنادوں گا۔‘‘
’’کیا واقعی؟‘‘ میں نے حیرانی سے کہا۔
’’ہاں !کچھ دنوں کے بعد ان سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگے کہ اس کے باپ نے کہا ہے کہ سونے کے پہاڑ نہیں چاہئے، اگر ہو سکے تو اپنے باپ کو راضی کر کے بھیجو ورنہ ہم لوگ اپنی لڑکی کی بات کہیں اور پکی کر دیں گے۔ کچھ دنوں کے بعد اس لڑکی کی کہیں منگنی ہو گئی۔ اس دن سے صفدر بھائی تو بالکل ہی بدل سے گئے۔ ہر وقت خاموش رہنے لگے۔ پھر مجھے پتہ چلا کہ انہیں دل کی تکلیف ہو گئی ہے اور ڈاکٹر نے بہت مہنگے انجکشن لکھ کر دیئے ہیں۔ انہوں نے گھر آکر بتایا تو آنٹی بہت پریشان ہوئیں مگر انکل کو یقین نہ آیا۔ وہ خو د صفدر بھائی کو لے کر ڈاکٹر کے پاس گئے جہاں انہیں تصدیق ہوئی کہ واقعی دل کی تکلیف ہے۔
ڈاکٹر نے واضح طور پر تنبیہ کی تھی کہ انجکشن کے ساتھ ساتھ ان کو خوش رکھنا بھی ضروری ہے۔ ہر ممکن کوشش کی جائے کہ اُن کو کوئی دکھ نہ ملے اور وہ پریشان نہ ہوں۔ گھر آکر انکل نے صفدر بھائی کو خوب گالیاں دیں کہ اس کو کون سے دکھ ملے ہیں۔ انہیں خوش رکھنے کی بجائے ان کو آتے ہی ٹارچ کرنا شروع کر دیا گیا۔ جانے وہ اس سے کیا چاہتے تھے۔ جس کسی نے بھی ان کی بات سنی اس نے ہی ان کو برا کہا کیونکہ وہ سب ان کو جانتے تھے۔‘‘
میں ہونق بنی اس کی باتیں سن رہی تھی۔
’’ان کو گھر سے علاج کیلئے پیسے نہ ملے تو وہ ایک دن اپنی ایک کزن کے پاس گئے جو شادی شدہ تھی۔ اس سے انہوں نے کہا کہ انجکشن لگوانے کیلئے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے۔ وہ بے چاری خود غریب سے گھر میں تھی، کہاں سے اس کو پیسے دیتی مگر اس نے ہمسائی سے اُدھار لے کردے دیے۔ صفدر بھائی نے اس سے کہا کہ اگر زندگی رہی تو یہ قرض چکا دوں گا ورنہ مجھے بخش دینا۔ وہ بنا قرض چکائے ہی رخصت ہو گئے۔ ‘‘
’’جینا ! اُن کا کمرہ کونسا ہے؟‘‘ عجیب مہمل سا سوال میرے لبو ں پر مچل گیا ۔
اس نے بتایا ’’ بتایا تو تھا۔کمرہ کیا ہے اچھا خاصہ کباڑ خانہ ہے۔ نجانے کب سے وہاں صفائی نہیں ہوئی۔ ایک باریک سی دری پر لحاف اوڑھ کر سوتے تھے اور یقین مانو کہ جس وقت پولیس آئی اور انہوں نے چیزیں الٹ پلٹ کر دیکھیں تو سینکڑوں کیڑے مکوڑے نکلے۔ خود سوچو فرحانہ! جس کے ساتھ مرنے کے بعد یہ سلوک ہوا ہو کہ ماں آخری دیدار کیلئے تڑپتی رہی ہو مگر باپ نے اسے وہاں مسجد میں جانے کی اجازت نہ دی ہو، اس کے ساتھ بھلا زندگی میںکیا بھلائی کی گئی ہو گی۔ وہ بہت مظلوم تھے۔ بہت زیادہ! ہمارے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔ صفدر بھائی کا سلوک سب کے ساتھ بہت ہی اچھا تھا اور وہ اکثر کہتے تھے کہ شاید میرا سلوک لوگوں کا رویہ بدل دے لیکن فرحانہ! ہم لوگوں میں سے کوئی بھی انہیں نہ سمجھ سکا۔ آنٹی نے کئی مرتبہ کہا کہ تیری شادی کردوں… وہ جواب دیتے کہ میری عمر کم ہے۔ آپ کیوں کسی کو دکھ دینا چاہتی ہیں؟ فرحانہ !وہ یہ سب کچھ کیوں کہتے تھے؟… مجھے معلوم نہیں مگر میںاتنا جانتی ہوں کہ وہ بہت زیادہ دل برداشتہ ہو چکے تھے۔ اور انسان سہے بھی تو آخرکب تک؟ ماں اس کے حق میں لڑتی تو ظلم کا نشانہ بنتی تھی۔ ‘‘
جینا رو رہی تھی اور مجھے اس شخص کے بارے میں بتا رہی تھی جو ہمارا ہی خون تھا۔ ہم میں سے ہی تھا۔ شاید ہم بھی اس کی موت پر مختتم ہونے والی کہانی کاہی کردار تھے۔
وہ بتا رہی تھی ’’صفدر بھائی تو یہ اکثر کہتے تھے کہ میں جو اس گھر میں دکھائی دیتا ہوں تو صرف اور صرف اپنی ماں کی وجہ سے۔ میں اگر مر جائوں گا تو وہ کہاں جائیں گی؟‘‘
جینا خاموش ہو گئی۔
کہنے کو اب تھا ہی کیا۔ سب کچھ ہی تو ختم ہو چکا تھا۔
وہ شخص جا چکا تھا جس کے لئے اس دنیا میں شاید کچھ بھی نہ رہا تھا۔ ان کی موت کے بعد میں سوچتی رہی کہ اگر انہیں کوئی سہارا دے دیتا تو شاید وہ یوں دنیا سے مایوس نہ جاتے ۔ ان کے قتل میں کسی ایک کا نہیں، ہم سب کا ہاتھ تھا۔

میں بھی تو عورت تھی، عورت ہی عورت کے زخم پر مرہم رکھ سکتی ہے۔ مجھے بھی کبھی خیال نہ آیا تھا کہ میں اُن کے شخصیت میں پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرسکتی ہوں… اگر میں ہی ان کو وہ محبت دے دیتی جس کی ان کو تلاش تھی تو کبھی نہ کبھی وہ کلثوم کو بھول کر زندگی سے نباہ کر لیتے ۔ اور نہیں تو کم ازکم وہ آج ہم میں موجود تو ہوتے ۔ کاش اتنی بہنوں میں سے کوئی ان کو بھائی سمجھ لیتی اور اس کے دکھ کو شیئر کر لیتی مگر یہ نہ ہونا تھا نہ ہوا۔
پھر برس ہا برس بیت گئے۔پھوپھو زندہ ہیں مگر مردوں سے بدترہیں۔ صفدر بھائی کے دادا اور والد کا انتقال ہو چکا ہے۔
گھر یوں ویران ہے جیسے وہاں کوئی مردتھا ہی نہیں ۔ رونق تو باپ، بھائی اور شوہر سے ہوتی ہے۔ سائباں تو وہی ہوتے ہیں ۔میں جب بھی پھوپھو کو دیکھتی ہوں اور ان کے جھریوں بھرے چہرے پر نظریں پڑتی ہیں تو میرا دل جیسے مٹھی میں آ جاتا ہے۔ میں ان کو تسلی بھی نہیں دے سکتی۔
٭٭٭

Viewers: 186
Share