Ehtisham Hassan | احتشام حسن کی شاعری سے ایک صفحہ

احتشام حسن۔ راولپنڈی غزلیں ہم نےپوچھا نہیں امکان کا ہنستے ہنستے سامنا کرلیا طوفان کا ہنستے ہنستے سرفروشوں نے ستمگر کو بھی حیران کیا راستہ پوچھ کے زندان کا ہنستے […]

احتشام حسن۔ راولپنڈی

غزلیں

ہم نےپوچھا نہیں امکان کا ہنستے ہنستے
سامنا کرلیا طوفان کا ہنستے ہنستے

سرفروشوں نے ستمگر کو بھی حیران کیا
راستہ پوچھ کے زندان کا ہنستے ہنستے

کاٹ لیں ہم بھی سفر میں وہ اگر ساتھ چلے
راستہ دشت و بیابان کا ہنستے ہنستے

زندہ رہنے کا یہ اک آخری حل ہوتا ہے
گھر پہنچنا تہی دامان کا ہنستے ہنستے

وقتِ رخصت کوئی رویا ترے دروازے پر
راستہ کٹ گیا دالان کا ہنستے ہنستے

ہائے وہ عشق میں خود اپنا تماشہ کرنا
چاک کر لینا گریبان کا ہنستے ہنستے

صحبتِ  ہمدمِ  دیرینہ میں ہو جاتا ہے
بھیگنا گوشہء ِ مژگان کا ہنستے ہنستے

اور پھر کارِ محبت کی سمجھ آتے ہی
ہم نے سودا کیا نقصان کا ہنستے ہنستے

یار تو یار ہیں پوچھیں گے سبب ہم سے حسن
ذکر کر بیٹھے ہیں ملتان کا ہنستے ہنستے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یوں سمایا ہے مرے سر سے نکلنے کا نہیں
میں جو چاہوں بھی تو اک ڈر سے نکلنے کا نہیں

وقت نے خوف پرویا ہے رگوں میں میری
اور اب یہ مرے اندر سے نکلنے کا نہیں

بعد کوشش کے نکالا یہ نتیجہ میں نے
زندگی میں ترے چکر سے نکلنے کا نہیں

کھینچ لاتے ہیں حقیقت میں حوادث ورنہ
آدمی خواب کے محور سے نکلنے کا نہیں

سر پٹختا نہیں پنجرے میں پرندہ یونہی
شوق_ پرواز کبھی پر سے نکلنے کا نہیں

اک سڑک اور مرا آٹھواں دسواں چکر
اور مجھے علم ہے وہ گھر سے نکلنے کا نہیں

اپنے اندر یوں چھپائے ہیں صنم پتھر نے
بت کوئی تیشہء آذر سے نکلنے کا نہیں

غم دوراں بھی ہے یوں جیسے مرا یومِ  حساب
میں تو دنیا میں بھی محشر سے نکلنے کا نہیں

دھونس دیتا ہے یہ سورج مجھے ہر شام حسن
وہ جو ڈوبا تو سمندر سے نکلنے کا نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پربت ترے پہلو میں اگر کھائی نہیں ہے
کاہے کی بلندی جہاں گہرائی نہیں ہے

اب کوئی وہاں اس لیے ہوتا نہیں رسوا
کوچے میں ترے کوئی تماشائی نہیں ہے

حضرت جو رواداری نظر آپ میں آئی
کیوں آپ کے بچوں میں نظر آئی نہیں ہے

دنیا نے تو اس میں بھی کئی نقص نکالے
تصویر جو میں نے ابھی بنوائی نہیں ہے

اس واسطے بھی روشنی ہے باعث_ وحشت
آنکھوں کی چراغوں سے شناسائی نہیں ہے

خود بانٹ کے آئیں گے وہاں اپنی صدا ہم
جس سمت ہواؤں نے یہ پہنچائی نہیں ہے

شاید کہ ہر اک شخص کو ہوتی ہے محبت
اور سب ہی یہ کہتے ہیں کہ دانائی نہیں ہے

لوگوں سے حسن کر کے کئی بار کنارہ
دیکھا ہے کسی کام کی تنہائی نہیں ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دشتِ سخن میں جب ہوا میرا حلیف عشق
پھر قافیہ ردیف ہوا اور ردیف عشق

لاو مرے عدو کو سخن کی بساط پر
اس کو بھی ہو خبر کہ ہے کیسا حریف عشق

اس میں فراق و ہجر ہیں اکسیر کی طرح
ہوتا ہے فاصلوں سے توانا نحیف عشق

پابندیء خیال اذیت ہے عشق میں
جتنا خیالِ یار ہو اتنا لطیف عشق

کرنے لگے ہو عشق تو پہلے یہ سوچ لو
کیسے کرے گا جذب یہ قلبِ  کثیف عشق

میعارِ عشقِ یار کھلا وصل میں حسن
تھا اپنی انتہا پہ بظاہر خفیف عشق

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیرے پیکر کے اجالے کا فسوں کافی ہے
شبِ تیرہ میں ترے پاس رہوں کافی ہے

دستکوں سے جو نکل آیا ہتھیلی پہ مری
نام دیوار پہ لکھنے کو یہ خوں کافی ہے

ترک اس واسطے کی وصل کی خواہش میں نے
جو تری یاد سے ملتا ہے سکوں کافی ہے

قوت_لوح و قلم موت ہے زنجیروں کی
اے ستم گر تجھے اک حرفِ جنوں کافی ہے

چاہیے اور محبت وہ کرے مجھ سے سوال
کیسے ممکن ہے جوابا” میں کہوں کافی ہے

مجھکو درکار ہے اب وحشتِ شب اک حد میں
لیٹ کر چھت پہ ستارے نہ گنوں کافی ہے

کسی منتر کا اثر اب نہیں ہو گا مجھ پر
میں ترے پیار کی آغوش میں ہوں کافی ہے

اس کی آنکھوں میں غمِ زیست بظاہر کم ہے
ہاں مگر سوختہ سینے کے دروں کافی ہے

اپنی مدہوش نگاہوں سے پلا ئے وہ حسن
جتنی پی کر نہ میں بہکوں نہ گروں کافی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ جو واقف ہی نہیں کون ہے کیا ہے شاعر
یہ نہ سمجهیں کہ انہیں بھول گیا ہے شاعر

یہ وہ منزل نہیں جو کھیلتے ہنستے آجائے
وحشت وکرب سے گزرا تو ہوا ہے شاعر

سنگ باری سے رویوں کی اے دنیا والو
تم نے توڑا نہیں دل توڑ دیا ہے شاعر

بند الفاظ کے کوزے میں سمندر کر کے
اپنے احساس کے شعلوں میں جلا ہے شاعر

پھونک سے گرد اڑا کرکبهی ڈهونڈو تو سہی
شیلف کے کون سے حصے میں دبا ہے شاعر

سر_راہے تو وہ نظریں بھی چرا جاتے ہیں
محفلوں میں جو یہ کہتے ہیں بلا ہے شاعر

بھیج دینا مجھے واپس وہاں “میرا” لکھ کر
خط کے جس آخری کونے پہ لکھا ہے شاعر

میرے اندر تھی حسن بھیڑ جو کرداروں کی
منتشر اس کو کیا جب تو بچا ہے شاعر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہیں چراغ بجھانا پڑا کہ میں بھی ہوں’
کہیں پہ خود کوجلانا پڑا کہ میں بھی ہوں!

میرے گلے میں جوڈالامیرے حریفوں نے ‘
مجھےوه ڈھول بجانا پڑا کہ میں بھی ہوں !

تری عطاء وه تجسس هےجس کے بڑهنےپر’
تجھےبھی طور پہ آنا پڑا کہ میں بھی ہوں!

وه بار بار مجھے بھولتا تھااورمجھے’
یه باربار بتانا پڑا کہ میں بھی ہوں!

سنا تھا آئیں گے محفل میں دل دریده لوگ’
مجھے بھی زخم دکھانا پڑا کہ میں بھی ہوں!

وہاں په خودکودکھایاجہاں میں تھا ہی نہیں’
کہیں یه سچ بھی چھپانا پڑا کہ میں بھی ہوں !

میں مانتا هوں که خاموش هےمگر’تو هے’
مجھے تو شورمچانا پڑا کہ میں بھی ہوں !

ہوا نهیں تو بھی ثابت کرونگا ہونے کو’
اگریقین دلانا پڑا کہ میں بھی ہوں !

حسن هے اتنا ضروری وجود کا اظہار’
ہوا کو پیڑ ہلانا پڑا کہ میں بھی ہوں !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہو رہی ہیں دستکیں ایسا لگا دونوں طرف
بند دروازے سے ٹکرائی ہوا دونوں طرف!

پھر کبھی باہم یوں تجدید وفا نہ ہو سکی
ہو گئی حاوی محبت پر، انا دونوں طرف!

بارہا زنجیر نےکھلنےکی کوشش خود بھی کی
بارہا اک ہاتھ بڑھ کر رک گیا دونوں طرف!

جانتا تھا دونوں جانب سے پکارا جائوں گا
اس لیے تقسیم ہو کر، چل پڑا دونوں طرف!

دائیں بائیں دیکھنے کا فائدہ بازار میں؟
مل رہا ہے جب ہمیں اچھا برا دونوں طرف!

ہائے جو احباب مجبورا” ہماری صف میں تھے
بھانپ کر یہ ماجرا ان کو گنا دونوں طرف!

گردشیں اک سمت کی تھیں اس لیے چکرا ئے ہم
اب ذرا سا روک کر دنیا گھما دونوں طرف!

آئینے کے سامنے روشن کیا خود کو حسن
بجھ گئے سارے دیئے جب میں جلا دونوں طرف!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عقب میں درمیاں اور سامنے والی نشستوں پر
جو دیکھا ہر طرف تھےآپ ہی ساری نشستوں پر

انہیں ہر معاملے پر شاہ کی تائید کرنی تھی
ریاضت کاٹ کر پہنچے جو درباری نشستوں پر

گلے میں دل اچھل کرآ گیا سب اہلِ محفل کا
جب اس نے بے نیازی سے نظر ڈالی نشستوں پر

خبر تھی ہی نہیں ان کو تماشا ختم ہونے کی
تماشائی جھگڑتے رہ گئےخالی نشستوں پر

یہاں پر ہر کسی کو حکمراں ہونے کی خواہش ہے
نظر حزب_مخالف کی ہے سرکاری نشستوں پر

وہ جب اسٹیج پر آیا تو پیچھے بیٹھنے والے
چلے آئے قطاریں توڑ کر اگلی نشستوں پر

بڑی حیرت ہے ان لوگوں پہ جو شہروں میں رہ کر بھی
الیکشن جیت جاتے ہیں مضافاتی نشستوں پر

جو دیکھی زیست کے اسٹیج پر اپنی اداکاری
میں رویا باری باری بیٹھ کر خالی نشستوں پر

حسن ہم کو بھی اپنی شاعری پر داد مل جاتی
ہمارے دوست جا کر سو گئے پچھلی نشستوں پر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوں سمایا ہے مرے سر سے نکلنے کا نہیں
میں جو چاہوں بھی تو اک ڈر سے نکلنے کا نہیں

وقت نے خوف پرویا ہے رگوں میں میری
اور اب یہ مرے اندر سے نکلنے کا نہیں

بعد کوشش کے نتیجہ یہ نکالا میں نے
زندگی میں ترے چکر سے نکلنے کا نہیں

کھینچ لاتے ہیں حقیقت میں حوادث ورنہ
آدمی خواب کے محور سے نکلنے کا نہیں

سر پٹختا نہیں پنجرے میں پرندہ یونہی
شوقِ پرواز کبھی پر سے نکلنے کا نہیں

اک سڑک اور مرا آٹھواں دسواں چکر
اور مجھے علم ہے وہ گھر سے نکلنے کا نہیں

اپنے اندر یوں چھپائے ہیں صنم پتھر نے
بت کوئی تیشہء آذر سے نکلنے کا نہیں

غم دوراں بھی ہے یوں جیسے مرا یومِ حساب
میں تو دنیا میں بھی محشر سے نکلنے کا نہیں

دھونس دیتا ہے یہ سورج مجھے ہر شام حسن
وہ جو ڈوبا تو سمندر سے نکلنے کا نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی ہمراہ نہ ہونا کبھی ہونا سمجھ آیا
تعلق رفتہ رفتہ واجبی ہونا سمجھ آیا

شعور و فہم کی بھی اہمیت اپنی جگہ لیکن
ہمیں تو سب سے بہتر آگہی ہونا سمجھ آیا

یہ دعوی تو نہیں وہ چاند کی تمثیل ہے لیکن
اسے مل کر مجسم روشنی ہونا سمجھ آیا

ادھر وہ سامنے آیا ادھر اتری غزل ہم پر
کسی کو دیکھتے ہی شاعری ہونا سمجھ آیا

ہمیں پردیس میں جس شام اپنے گھر کی یاد آئی
پرندوں کی گھروں کو واپسی ہونا سمجھ آیا

وہ یاد آیا بے تو بے ساختہ ہم مسکرائے ہیں
اسے سوچا تو دل میں گدگدی ہونا سمجھ آیا

اثر دیکھا حسن آنکھوں کی رنگت کا مزاجوں پر
سیاہ نیلا ہرا اور شربتی ہونا سمجھ آیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قید میں رہ کر بھی جن کے دل رہائی میں رہے
چاہتے ہیں آسماں ان کی رسا ئی مین رہے

خلد میں محسوس کرتا ہوں میں اپنے آپ کو
ہاتھ جب تک آپ کے دستِ حنائی میں رہے!

کم تھے جو ظاہر ہوئے ہوکر نمایاں خود بخود
بیشتر ایسے ہی تھے جو خود نمائی میں رہے!

ناگ بن کر ڈس لیا نیندوں کو اس کی فکر نے
روگ کھٹمل بن کے اسکی چارپائی میں رہے

راہِ حق کو چھوڑ کر دار و قفس کو بھول کر
کچھ سخنور شاہ کی مدحت سرائی میں رہے!

سیکھ لی ہے ہم نے اس کی خامشی سے گفتگو
کوئی کب تک انتظار ِ _لب کشائی میں رہے؟

لفظ تیرے تیرگی میں چاند تارے ہوں حسن
روشنی تیرے قلم کی روشنائی میں رہے!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی ستارہ اگر رہنمائی دیتا ہے
تو اس کے ڈر سے اندھیرا دہائی دیتا ہے

ہٹا کے گرد بڑھا لی ہے اپنی حدِ نظر
میں دیکھتا ہوں جہاں تک دکھائی دیتا ہے

مجھے بھی علم ہے اتنا ہی اس کےبارے میں
نظر کو رات میں جتنا سجھائی دیتا ہے

وہ فاصلہ نہیں آنکھوں کا نور ہے شاید
مری نظر کو جو تم تک رسائی دیتا ہے

کہیں پہ چل کے تسلی سے بات کرتے ہیں
یہاں تو شور ہے اونچا سنائی دیتا یے

مشقتوں کو وہ بچپن بھی دے چکا اپنا
جو ماں کو جیب کی ایک ایک پائی دیتا ہے

کمال یہ ہے کہ الزام ہی نہیں جس پر
وہ بات بات پہ اپنی صفائی دیتا ہے

کیا ہے عشق سے پہلے ہی احتیاط حسن
وگرنہ بعد میں یہ کب رہائی دیتا ہے

جب اس نے بات کو رسما” سنا ہے
تو ظاہر ہے سنا بھی ان سنا ہے

تھی جو بھی بات جس کے فائدے کی
اسے اس شخص نے فورا”سنا ہے

ہمارا ذکر اس نے محفلوں میں
سنا ہے، طوعا”وکرہا” سنا ہے

بسوں میں بجنے والا گیت ہے تو
تجھے اے زندگی جبرا” سنا ہے

سنی ہے ہم نے سناٹوں کی شورش
کچھ آوازوں کا خالی پن سنا ہے

جو ہے خاموش اب اس دل کا نوحہ
ہوا کرتی تھی جب دھڑکن سناہے

یہ خالی دل بہت آواز دے گا،
کبھی بجتا ہوا برتن سنا ہے؟

حسن اس نے ہمارا قصہ غم
زبانِ غیر سے قصدا” سنا ہے .

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیدھے سادھے لوگ تھے پہلے، گھر بھی سادہ ہوتا تھا
کمرے کم ہوتے تھے اور ، دالان کشادہ ہوتا تھا

دیکھ کے وہ گھر گاؤں والے سوگ منایا کرتے تھے
صحن میں جو دیوار اٹھا کر آدھا آدھا ہوتا تھا

مستقبل اور حال کے آزاروں کے ساتھ نمٹنے کو
چوپالوں میں ماضی کی یادوں کا اعادہ ہوتا تھا

دکھ چاہے جس کا بھی ہو وہ ملک کر بانٹا جاتا تھا
غم تو آج کے جیسے تھے احساس زیادہ ہوتا تھا

لڑکے بالے میلوں پیدل پڑھنے جایا کرتے تھے
پاس ہے جو اسکول وہ پہلے دور افتادہ ہوتا تھا

تھک جاتا کوئی تو مل کر بوجھ کو بانٹا کرتے تھے
دوست نے دوست کا بستہ اپنے اوپر لادا ہوتا تھا

اتنی شرم تو ہوتی تھی آنکھوں میں پہلے وقتوں میں
گلی میں سر نیچا رکھتا جو باہر دادا ہوتا تھا

سوچ سمجھ کر ہوتے تھے تب ساتھ نبھانے کے وعدے
لیکن جو کر لیتے تھے وہ وعدہ، وعدہ ہوتا تھا

خط میں دل اور تیر بنا کر منت کرنی پڑتی تھی
یار بہت مشکل سے ملنے پر آمادہ ہوتا تھا

دیکھ حسن کس منصب سے لے آیا عشق فقیری تک
جس سے پوچھا اپنے دور میں وہ شہزادہ ہوتا تھا

 

Viewers: 228
Share