Bilqees Khan | بلقیس خان کی شاعری سے ایک صفحہ

بلقیس خان۔ میانوالی Guria10098@gmail.com غزلیں لگا کے نقب کسی روز مار سکتے ہیں پرانے دوست نیا روپ دھار سکتے ہیں ہم اپنے لفظوں میں صورت گری کے ماہر ہیں کسی […]

بلقیس خان۔ میانوالی

Guria10098@gmail.com

غزلیں

لگا کے نقب کسی روز مار سکتے ہیں
پرانے دوست نیا روپ دھار سکتے ہیں

ہم اپنے لفظوں میں صورت گری کے ماہر ہیں
کسی بھی ذہن میں منظر اتار سکتے ہیں

بضد نہ ہو کہ تری پیروی ضروری ہے
ہم اپنے آپ کو بہتر سدھار سکتے ہیں

وہ ایک لمحہ کہ جس میں ملے تھے ہم دونوں
اس ایک لمحے میں صدیاں گزار سکتے ہیں

ہماری آنکھ میں جادو بھرا سمندر ہے
ہم اس کا عکس نظر سے نتھار سکتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دشمن بنامِ دوست، بنانا مجھے بھی ہے
اس جیسا روپ اس کو دکھانا مجھے بھی ہے

میرے خلاف سازشیں کرتا ہے روز وہ
آخر کوئی قدم تو اٹھانا مجھے بھی ہے

انگلی اٹھا رہا ہے تو کردار پر مرے
تجھ کو ترے مقام پہ لانا مجھے بھی ہے

نظریں بدل رہا ہے اگر وہ، تو غم نہیں
کانٹا اب اپنی رہ سے ہٹانا مجھے بھی ہے

میں برف زادی کب سے عجب ضد پہ ہوں اڑی
سورج کو اپنے پاس بلانا مجھے بھی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمھاری یاد کا اک دائرہ بناتی ہوں
پھر اس میں رہنے کی کوئی جگہ بناتی ہوں

وہ اپنے گرد اٹھاتا ہے روز دیواریں
میں اس کی سمت نیا راستہ بناتی ہوں

زمانہ بڑھ کے وہی پیڑ کاٹ دیتا ہے
میں جس کی شاخ پہ اک گھونسلہ بناتی ہوں

وہ گھول جاتا ہے نفرت کی تلخیاں آ کر
میں چاہتوں کا نیا ذائقہ بناتی ہوں

خیال و حرف تغزل میں ڈھال کر بلقیس
میں اپنے درد سبھی غزلیہ بناتی ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سو صدیوں کا نوحہ ہے
تم کہتے ہو نغمہ ہے

دھول اڑاتی جھریوں میں
تہذیبوں کا ملبہ ہے

مٹی کے دو کوزوں میں
کچھ خوابوں کا گریہ ہے

ریشم ہی سے ادھڑے گا
یہ پھولوں کا بخیہ ہے

جتنا بھی تم صاف کرو
دھبہ آخر دھبہ ہے

اس گھر کی ویرانی کا
جنگل جیسا حلیہ ہے

در آتی ہے چپکے سے
یاد پہ کس کا پہرہ ہے

آنکھوں کی ویرانی سے
دل کو لاحق خطرہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمارے دل کا نہ در کھٹکھٹا پریشانی
ہزار غم ہیں یہاں ، لوٹ جا پریشانی

میں اپنا درد سنا ائی ہوں درختوں کو
مجھی کو کیوں رہے لاحق سدا پریشانی

میں اپنے آپ سے الجھی ہوئی ہوں مدت سے
مزید آ کے نہ الجھن بڑھا پریشانی

کسی بھی طور نہ خاطر میں لاؤں گی تجھ کو
مجھے نہ اپنے یہ تیور دکھا پریشانی

عجب سوار ہے وحشت ، سو مجھ سے بچ کے گزر
میں نوچ ڈالوں گی چہرہ ترا پریشانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خالی کاغذ پہ کیا گر ا آنسو
داستاں نقش کر گیا آنسو

ضبط کو ہی بہا نہ لے جائے
مدتوں سے رکا ہوا آنسو

اس نے پوچھا کہ زندگی کیا ہے
میں نے بے ساختہ کہا آنسو

کتنے حصوں میں بٹ گئی دنیا
میرے حصے میں آ سکا آنسو

مجھ کو تصویر جب کیا اس نے
کینو س سے ابل پڑا آنسو

آنکھ خالی ہوئی ہے دل کی طرح
آنکھ سے ہو گیا جدا آنسو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تجھے پکار رہی ہوں یہی مری حد ہے
اب اس سے بڑھ کے بھلا اور بھی کوئی حد ہے ؟

تمہاری شرطوں پہ جیتے رہے ہیں ساری عمر
تمہاری نظروں میں کیا یہ بھی سرسری حد ہے ؟

تو یعنی ہاتھ اٹھائے گا اب کے تو مجھ پر !
تو یعنی گرنے کی تیری یہ آخری حد ہے

کسی کے پیار میں اقدار بھول سکتی نہیں
میں جانتی ہوں یہ دہلیز ہی مری حد ہے

یہ میری آنکھیں جوپتھر کی ہو گئیں بلقیس
یہ انتظار مرے اعتبار کی حد ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنی جنگ ہی لڑ تی ہے
لاکھ کہو وہ باغی ہے

باپ کے زندہ رہنے تک
ہر بیٹی شہزادی ہے

راحت جس کو کہتے ہیں
ماں کی گود میں ہوتی ہے

اب سمجہیں گے دکھ میرا
اب ان کی بھی بیٹی ہے

تیز ہوا کی جانے بلا
پیڑ پہ جو بھی گزرتی ہے

تم ہو فلک ۔کب سمجھو گے
دھرتی کیا کچھ سہتی ہے

غم کی موجوں میں دل کی
ناؤ بہتی جاتی ہے

ایک ہی شخص کو چاہو سدا !!!
یہ کیسی مجبوری ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Viewers: 135
Share