Ahmad Jahangeer | احمد جہانگیر کی شاعری سے ایک صفحہ

احمد جہانگیر غزلیں کبھی پیالے میں جھانکتی ہے، کبھی صحیفے کھنگالتی ہے یہیں سرائے میں ایک بڑھیا، سعید فالیں نکالتی ہے غلام گردش کا یہ تعفّن، جناب چربی کی مشعلوں […]

احمد جہانگیر

غزلیں

کبھی پیالے میں جھانکتی ہے، کبھی صحیفے کھنگالتی ہے
یہیں سرائے میں ایک بڑھیا، سعید فالیں نکالتی ہے

غلام گردش کا یہ تعفّن، جناب چربی کی مشعلوں سے
اذانِ مغرب جُھٹ پُٹے تک یہی نحوست اجالتی ہے

کسی نے پتّھر کا ہل بنا کر فلک پہ اپنی نگاہ ڈالی
درخت نذریں گزارتے ہیں، فضا ستارے اچھالتی ہے

زمین، پگھلی ہوئی حرارت کا ایک اندھا کنواں چھپائے
کرخت سینے سے زندگی کے ہزار سوتے نکالتی ہے

رسول زادے، سپاہیوں کی ہر ایک چوکی کا دھیان رکھنا
امام باڑے میں ایک دُکھیا نیاز بکسے میں ڈالتی ہے

روانگی کے مجادلے میں، اٹھاو خیمے، کا شور اُٹّھا
مگر مصوّر کی چشم حیرت فقط مناظر سنبھالتی ہے

بتاو مکّے کو جا رہے ہو، مرے لئے بھی دعا کرو گے
دعا جو رسّی کی گانٹھ کھولے، دعا جو مشکل کو ٹالتی ہے

کہیں سے ایندھن کا رزق اترا، کبھی توازن کا حکم پایا
تری مشیت، مرا ستارہ، کمال رحمت سے پالتی ہے
۔۔۔۔۔۔

پُشت پہ نیلی آگ اٹھائے، ہاتھ شہابی پھول دھرے
باغیچے کا شاہ اتر کر ‘ خاکستر کی فصل چَرے

کاندھے پر شہتوت کی بوری، دودھ کا مٹکا، ریشم تھان
آدم کا فرزند خدا کو، بھوگ چڑھائے، نذر کرے

سیّارے کے گھاٹ پہ روشن رکّھی جائے ایک مچان
کون خلا میں کشتی کھیتا ‘کیا جانے کب آن مَرے

چوکھٹ کے چوکور خلا میں صورت ابھری چاند سمان
سانسوں سے سارنگی پھوٹی، پھولوں سے دالان بھرے

خسرو اور خوش حال کا لہجہ، سَـچّل اور وارث کی تان
تیرے صادق پھول سلامت، تیرے سچّے پیڑ ہرے

ساقی بادہ خوار کھڑے ہیں، تشنہ، خواہاں اور ہلکان
خواجہ تیرا کوزہ رکّھے، صاحب تجھ فِنجان بھرے

تہہ خانے کے فرش پہ کَندہ فقرہ پڑھ لے گیتی بان
شہ زادی یہ زینہ اترے، دیوانے سے بات کرے

میلوں نیند کا کمرا پھیلا، سونے والے بے اوسان
تلواریں صندوق میں رکّھے، اور آنکھوں سے خواب پرے
۔۔۔۔۔۔

پُشت پہ نیلی آگ اٹھائے، ہاتھ شہابی پھول دھرے
باغیچے کا شاہ اتر کر ‘ خاکستر کی فصل چَرے

کاندھے پر شہتوت کی بوری، دودھ کا مٹکا، ریشم تھان
آدم کا فرزند خدا کو، بھوگ چڑھائے، نذر کرے

سیّارے کے گھاٹ پہ روشن رکّھی جائے ایک مچان
کون خلا میں کشتی کھیتا ‘کیا جانے کب آن مَرے

چوکھٹ کے چوکور خلا میں صورت ابھری چاند سمان
سانسوں سے سارنگی پھوٹی، پھولوں سے دالان بھرے

خسرو اور خوش حال کا لہجہ، سَـچّل اور وارث کی تان
تیرے صادق پھول سلامت، تیرے سچّے پیڑ ہرے

ساقی بادہ خوار کھڑے ہیں، تشنہ، خواہاں اور ہلکان
خواجہ تیرا کوزہ رکّھے، صاحب تجھ فِنجان بھرے

تہہ خانے کے فرش پہ کَندہ فقرہ پڑھ لے گیتی بان
شہ زادی یہ زینہ اترے، دیوانے سے بات کرے

میلوں نیند کا کمرا پھیلا، سونے والے بے اوسان
تلواریں صندوق میں رکّھے، اور آنکھوں سے خواب پرے
۔۔۔۔۔۔

شِیراز کی مے, مرو کے یاقوت سنبھالے
میں کوہِ دماوند سے آ پہنچا ہمالے

ہووے تو رہے شیشہ و آہن کی حکومت
کانسی کی مری تیغ ہے مٹی کے پیالے

ہر شخص بہ اندازِ دگر واصلِ شک تھا
اٹّھا میں تری بزم سے ایقان سنبھالے

اب عشق نوردی ہی ٹھکانے سے لگائے
شعلہ نہ جلائے مجھے گرداب اچھالے

ہونے کی خبر بھی نہ ترا ہجر زدہ دے
بھر لیوے کبھی آہ کبھی شمع جلا لے

بوسے کا تلذّذ ہو کبھی طوف کی راحت
ارمان مرا یہ دلِ کافر بھی نکالے

اِبہام کے ریشوں سے بُنا باغِ تخیّل
ہو جائے کبھی چشمِ تحیّر کے حوالے
۔۔۔۔۔۔

تو زبان دلی و لاہور کا پروردگار
میں سکوت گلگت و اسکردو و پارہ چنار

بکریاں روز ازل سے کوہ کی رستہ شناس
اے سنہری زین والے، نقرئی رتھ کے سوار

گلشن اظہار کے دو، خسرو و سر مست پھول
رنگ سے روشن زمین ہند از تا کوہ سار

یار، ہم دو مختلف دنیاؤں کے تشریح گر
تو کسی فرقے کا شاعر، میں لسان کردگار

انگلیوں میں روشنی دیتے زمرد کے چراغ
مرمریں بازو کا حلقہ، سرخ یاقوتی حصار

روشنی تاریک رستے سے زمیں تک آ گئی
بیج کو شوق نمو نے کر دیا ہے آشکار
۔۔۔۔۔۔

رک، دیکھ، یار کھینچ لے تصویر وقت پر
اخروٹ توڑتی ہے گلہری درخت پر

شاید کہیں سے ابر کرم کا ظہور ہو
دریا پہ ایک آنکھ لگا، ایک دشت پر

کھڑکی میں صبح وادیء کیلاش کا ظہور
اترے اودھ کی شام کسی روز تخت پر

رتھ سے ہتیلیوں پہ اترتی، ارے غضب
مخمل گھسیٹتی ہے زمین کرخت پر

گل سرخ رنگ، گھاس ہری، نیلگوں فلک
اے کردگار، شکر، ترے بند و بست پر

تخلیق کا طلسم کبھی دیکھنے چلیں
ہم آخر الزمان بھی باب الست پر
۔۔۔۔۔۔

خُسرو کا رنگین سِنگھاسن، جھومر شاہ بھٹائی کا
تہذیبوں کے رنگ سے روشن چہرہ سندھو مائی کا

تو موہن جو داڑو کا گُل، خاک ہڑّپہ نگری کی
یعنی ایک تسلسل پیہم ہے جلوہ آرائی کا

تو باغِ لاہور کا سبزہ، خوشبو تخت کلاچی کی
اور شرف اس باغیچے میں مجھ کو شعر سرائی کا

گلگت اور کیلاش دریچے خُلد کی جانب کھلتے ہیں
مالا کنڈ کی جھیل میں تاباں منظر خواب کُشائی کا

گھاس کے میدانوں سے ابھریں ست رنگے پنجاب کے سُر
اک تارے کی تان سے پھوٹے نغمہ مجھ صحرائی کا

کھیت میں ہوں یا سرحد پر سب، میرے پاکستان کے حُر
ہر گلفام کا ماتھا روشن، دل پیارا ہر بھائی کا
۔۔۔۔۔۔

گاتھا پڑھ کر آتش دھونکی، گنگا سے اشنان
میں نے ہر یُگ نذر گُزاری، ہر پیڑھی میں دان

دھیان لگا کر آنکھیں موندیں، بیٹھا گھٹنے ٹیک
میٹھا لفظ بھجن بن اترا، سچّا شعر گنان

ماں دھرتی کو پیش سخن کے رنگ برنگے پھول
بھاگ بھری کو بھینٹ سنہرے مصرعے کا لوبان

سایہ سچّل شاہ کی اجرک، روشن میر چراغ
امروہے سے اٹھ کر آئے ہم باغِ ملتان

سیّارے پر زردی اتری دریا مٹی خشک
ہاتھی پر ہودج کسواو، ناقے پر پالان

اے دھرتی کے تیاگی اٹھ کر گھور خلا میں بیٹھ
اگلی گاڑی کی گھنٹی تک، تو ہے اور رحمان

فرش لپیٹے، تارے جھاڑے، نرسنگے کی پھونک
پالن ہارا، تو داتا ہے، کر جو چاہے ٹھان

منظر آب و تاب سمیٹے شاید ہے موجود
لمس حقیقت، عکس مجسّم، آوازوں پر کان
۔۔۔۔۔۔

خشک روٹی توڑنی ہے ‘ سرد پانی چاہیے
کیا کسی گِرجے کی کُنڈی کھٹکھٹانی چاہیے

اے سماعت! اِس فَضا میں آج بھی موجود ہے
ہاں نواے نغمہء کُن ۔۔، تجھ کو آنی چاہیے

رنج کے پھاٹک سے نکلے ہیں ضـریح و ذوالجناح
کوچۃ غم سے برابر سُوز خوانی چاہیے

کاہنا! ہم سے روایت کا مکمّل متن سُن
بطن میں جلتی ہوئی شمعِ معانی چاہیے

سابقہ نقشے پہ تازہ سلطنت ایجاد ہو
آسماں نیلا بنانا ‘ گھاس دھانی چاہیے

گم شدہ سورج کو روتا ہے مِرا یوم ِ سپید
سُرمئی شب کو چراغِ آں جہانی چاہیے

حُسن کے گارے میں آبِ عشق کی چِھینٹیں مِلا
چمپئی رنگت میں آتش سنسنانی چاہیے

جسم کی گوشہ نشینی اور کتنے روز ہے
بندۃ ربّ ِعلی کو لا مکانی چاہیے
۔۔۔۔۔۔

Viewers: 225
Share