Aziz Belgaumi | استقبالِ رمضان ۔۔۔۔ از: عزیز بلگامی

عزیز بلگامی بنگلور…انڈیا…919900222551 اِستقبالِ رمضان ہم اِستقبال کرتے ہیں بلند اِقبال کرتے ہیں اے رمضاں !تیری آمد کا ہم اِستقبال کرتے ہیں نکو کاروں کی خاطر تیری آمد ایک مژدہ […]

عزیز بلگامی
بنگلور…انڈیا…919900222551

اِستقبالِ رمضان

ہم اِستقبال کرتے ہیں بلند اِقبال کرتے ہیں
اے رمضاں !تیری آمد کا ہم اِستقبال کرتے ہیں

نکو کاروں کی خاطر تیری آمد ایک مژدہ ہے
رضائے رب کی جانب لے کے جائے، تُووہ جادہ ہے
ترے روزوں کے ہاتھوں کس قدر محفوظ فردا ہے
نہیں جس میں محبت تیری، ایسا قلب مردہ ہے
دِلوں کا تجھ پہ ظاہر آج پھر احوال کرتے ہیں
اے رمضاں… !تیری آمد کا ہم اِستقبال کرتے ہیں

جو تُو آجائے گا تو،رونقیں چھا ئیں گی ہر جانب
غذا وقتِ سحر کھائے گا روزہ دار متناسب
گھٹا چھائے گی رحمت کی سحر سے لے کے تا مغرب
شبوں میںبیچ سجدہ ریزیوںکے،ہوں گے سب تائب
تری خدمت میں اے رمضان عرضِ حال کرتے ہیں
اے رمضاں !تیری آمد کا ہم اِستقبال کرتے ہیں

تراویح و نمازو اعتکاف ونفل کے چرچے
زکوٰۃ و فطرہ و صدقات وعید الفطر کے تحفے
نمازیں قدر کی شب میں ،تلاوت آفریں لمحے
کتابِ حق کے پڑھنے کی صدا، قرآن کے نغمے
اِنہیں کے درمیاںہم نیتِ اعمال کرتے ہیں
اے رمضاں !تیری آمد کا ہم اِستقبال کرتے ہیں

بڑھاپا عیش میں ڈوباہوا ہے،تیری آمد ہے
جوانی بدچلن ہے،بے حیا ہے ، تیری آمد ہے
خود اِنساں آدمیّت کا خدا ہے، تیری آمد ہے
خدا ناراض ہے ، ہم سے خفا ہے، تیری آمد ہے
جرائم کا ہم اپنے سارے، پھر اِقبال کرتے ہیں
اے رمضاں !تیری آمد کا ہم اِستقبال کرتے ہیں

مرے اللہ!تُو ایمان والوں کو ہدایت دے
اِنہیں روزوں کی برکت دے، انہیں تقویٰ کی دولت دے
اِنہیں تُو خدمتِ اِنسانیت کی پھر سعادت دے
اگر ہو مقصدِ خدمت گزاری تو حکومت دے
ہمارے حکمراں تہذیب کو پامال کرتے ہیں
اے رمضاں… !تیری آمد کا ہم اِستقبال کرتے ہیں

Viewers: 246
Share