Imran Aami | عمران عامی کی شاعری سے ایک صفحہ

عمران عامی راولپنڈی۔ پاکستان۔ فون 03357575750 غزلیں عجب مذاق رَوا ہے ‘ یہاں نظام کے ساتھ وہی یزید کے ساتھی ‘ وہی امام کے ساتھ میں رات اُلجھتا رہا ‘ […]

عمران عامی
راولپنڈی۔ پاکستان۔ فون 03357575750

غزلیں

عجب مذاق رَوا ہے ‘ یہاں نظام کے ساتھ
وہی یزید کے ساتھی ‘ وہی امام کے ساتھ

میں رات اُلجھتا رہا ‘ دِین اور دُنیا سے
غزل کے شعر بھی کہتا رہا ‘سلام کے ساتھ

سِتم تو یہ ہے کہ کوئی سمجھنے والا نہيں
مرے سکوت کا مطلب مرے کلام کے ساتھ

یہ جھوٹ موٹ کے درویش پھر کہاں کُھلتے
کہ میں شراب نہ رکھتا اگر طعام کے ساتھ

ضرور اس نے کوئی اِسم پڑھ کے پھونکا ہے
لپٹ رہی ہیں جو شہزادیاں غلام کے ساتھ
۔۔۔۔۔

مرے خلاف عدالت بھی تھی زمانہ بھی
مجھےتو جرم بتانا بھی تھا چھپانا بھی

اور اب کی بار تو ایسے کمان کھینچی ہے
کہ تیر لے اُڑا شانہ بھی اور نشانہ بھی

جو سانپ غیر ضروری تھے مار ڈالے ہیں
اب آستیں بھی سلامت ہے آستانہ بھی

یہ مَے کشوں کا توازن بھی کیا توازن ہے
کھڑے بھی رہنا سہولت سے لڑکھڑانا بھی

ہمارے شہر کے لوگوں کو خوب آتاہے
کسی کو سر پہ بٹھانا بھی اور گرانا بھی

ہماری کوزہ گری سے جہان واقف تھا
اور اب تو سیکھ لیے آئنے بنانا بھی

تم اس لیے بھی مجھے اجنبی نہيں لگتے
کہ تم سے ایک تعلق تھا غائبانہ بھی

مرا نہيں مرے ایمان کا تقاضا تھا
کہ مجھ سے عشق کرے کوئی کافرانہ بھی

یونہی تو میر کے در سے نہيں اُٹھائے گئے
ہمارے پاس غزل بھی تھی اور فسانہ بھی
۔۔۔۔

جو دیکھ سکتے نہ تھے ‘ آئنے بنا رہے تھے
یقین تھا نہيں ‘ لیکن یقیں دلا رہے تھے

طبیب چیخ رہا تھا کہ عشق لاحق ہے
مگر یہ لوگ مجھے اور کچھ بتا رہے تھے

مِلا رہا تھا میں دریا کو جب کناروں سے
بہت سے لوگ ابھی کشتیاں بنا رہے تھے

تمہاری نیند میں تھوڑا خلل تو پڑنا تھا
ہمارے خواب کسی اور کو بھی آ رہے تھے

یہ شہر آگ بجھانے میں جب لگا ہوا تھا
ہم اپنے گاؤں کو سیلاب سے بچا رہے تھے

اگر یہ سچ ہے کہ تُو محوِگفتگو نہيں تھا
تو پھر یہ تیر بتا، کس طرف سے آ رہے تھے

فقیر موج میں آئے ہوئے تھے رات گئے
خدا کے سامنے بیٹھے خدا بنا رہے تھے

یہی نہيں کہ درختوں پہ وجد طاری تھا
ہمارے شعر پرندے بھی گُنگنا رہے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جو سچ کہوں ‘ پسِ دیوار جھوٹ بولتے ہیں
مرے خلاف مرے یار جھوٹ بولتے ہیں

مِلی ہے جب سے اِنھیں بولنے کی آزادی
تمام شہر کے اخبار جھوٹ بولتے ہیں

میں مَر چکا ہوں مجھے کیوں یقیں نہیں آتا
تو کیا ‘ یہ میرے عزادار جھوٹ بولتے ہیں

یہ شہرِ عشق بہت جلد اُجڑنے والا ہے
دُکان دار و خریدار جھوٹ بولتے ہیں

بتا رہی ہے یہ تقریب ِ منبر و محراب
کہ متقی و رِیا کار جھوٹ بولتے ہیں

میں سوچتا ہوں کہ دم لیں تو میں اِنھیں ٹوکوں
مگر یہ لوگ ‘ لگا تار جھوٹ بولتے ہیں

ہمارے شہر میں عامی منافقت ہے بہت
مکین کیا ‘ دَر و دیوار جھوٹ بولتے ہیں
۔۔۔۔۔

نہ کوئی رابطہ ‘ مسیج نہ کال خیر تو ہے
کہاں پہ گُم ہو مرے خوش جمال ‘ خیر تو ہے

ابھی تو عمر نہيں تھی تمھارے جَھڑنے کی
ابھی سے ڈھلنے لگے خدوخال ‘ خیر تو ہے

مری تو خیر ہے تم کیوں اُٹھائے پھرتے ہو
کسی کا ہجر ‘ کسی کا وصال خیر تو ہے

ہمیں تو اِک بھی میسر نہيں تھا صحرا میں
تمھارے شہر میں اِتنے غزال خیر تو ہے

وہ جن کے دَم سے چمکتا تھا آسمان ِ سُخَن
کہاں گئے وہ ستارہ مثال ‘ خیر تو ہے

اور اِتنی دیر میں آنکھیں چَھلک پڑیں اُس کی
میں پوچھنے ہی لگا تھا سوال، خیر تو ہے

تُو بات بات پہ کہتا تھا تیری خیر نہيں
کہاں گیا ترا جاہ و جلال خیر تو ہے

فقیر موج میں آئے نہيں کئی دن سے
اور اُس پہ رقص ‘ نہ کوئی دھمال ‘ خیر تو ہے

ہمارے ہوتے ہوئے اُس پہ اِن دنوں عامی
یہ کون پھینکتا پھرتا ہے جال ‘ خیر تو ہے
۔۔۔۔۔

ہر اِک پہ نہيں کُھلتیں ‘ مناجات ہماری
مجبوری سمجھتے ہیں ‘ یہ سادات ہماری

اِس شعرِ فراموش میں کیا اِتنا بھی کم ہے
اب تک جو اِسے یاد ہے ‘ اوقات ہماری

دیوار سے آگے بھی تو دیوار سا کچھ ہے
تم تک بھی پہنچتی ہے اگر بات ہماری

اِس دولت ِ غم نے تو کہیں کا نہيں چھوڑا
اب خود کو بھی لگتی نہيں ‘ خیرات ہماری

یہ روشنی گر ہے تو نہيں چاہیے ہم کو
اِس دن سے تو اچھی ہے کئی رات ہماری

صحرا ہو کوئی ‘خواب سرائے ہو ‘ کہ دل ہو
اب جائے اَماں ہیں ‘ یہی باغات ہماری

ہم زندہ فروشوں کے قبیلے سے ہیں عامی
اور اصل کمائی ہیں ‘ مزارات ہماری
۔۔۔۔۔

شہر کے سارے دادا گیروں سے
اَپنی بنتی نہیں ہے ‘ پِیروں سے

مشورے ٹھیک دینے لگ گئے ہیں
اِن دنوں تنگ ہوں ‘ مشیروں سے

شُکر ہے راستہ نہيں پوچھا
رائے مانگی تھی ‘ راہ گیروں سے

یہ تو بہلَول آ گئے ورنہ
شاہ پِٹ جانا تھا ‘ وزیروں سے

بد دعا تک تو دے چکے تجھ کو
اور کیا چاہیے ‘ فقیروں سے

کتنا سَستا پڑا ہے مت پوچھیں
دل خریدا تھا ‘ بےضمیروں سے

اِس کے مرنے کا اِنتظار کرو
خُودکشی کر رہا ہے ‘ ہِیروں سے

یہ ترے ہاتھ کاٹ کھائیں گی
اِتنا اُلجھا نہ کر لکیروں سے

شاہ کی خلعتیں بُنی گئی ہیں
ہم فقیروں کی چند لِیروں سے
۔۔۔۔۔

اب اور کتنی بتا ہم تجھے صفائی دیں
تُو اپنے زعم سے نکلے تو ہم دکھائی دیں

تمہیں تو ٹھیک سے دل مانگنا نہيں آتا
تمہارے ہاتھ میں کیا کاسہ ِگدائی دیں

کہیں سے ڈھونڈ کے لاؤ ذرا سی خاموشی
اب اِتنے شور میں ہم کیا تمہیں سُنائی دیں

خدا گواہ تم اِتنے حسین ہو کہ تمہیں
ہمارے بس میں اگر ہو تو ہم خدائی دیں

ہمارا لکھا غلط پڑھ رہے ہیں لوگ ابھی
کہاں سے لا کے اِنہیں حرف آشنائی دیں

یہ ٹھیک ہے کہ کریں وقف ِعیش ِدُنیا بھی
مگر خدا کے لیے گھر بھی کچھ کمائی دیں

ہمارے دل کے در و بام تک تو آ گئے ہو
تمہی کہو کہ تمہیں اور کیا رسائی دیں

وہ جا چکا ہے اگر شہر چھوڑ کر عامی
تو کیا ضروری ہے اب ہر جگہ دُہائی دیں
۔۔۔۔

ہم پہ تہمت نہيں ‘ الزام لگا سکتے ہو
اور اِس کام سے شہرت بھی کما سکتے ہو

تم اگر بچوں کو اسکول نہيں دے سکتے
کم سے کم چار کتابیں تو دِلا سکتے ہو

اِک نجومی نے مرے ہاتھ پڑھے اور کہا
تم کسی کو بھی کہیں ہاتھ دکھا سکتے ہو

رزق اور عشق کمانا تمہیں کیا مشکل ہے
شعر کہہ لیتے ہو ‘ تصویر بنا سکتے ہو

اِس قدر زور سے ہم بات نہيں کر سکتے
جتنی خاموشی سے ‘ تم شور مچا سکتے ہو

بیٹھ سکتے ہو مرے پاس اگر دل چاہے
دل نہ مانے تو کسی وقت بھی جا سکتے ہو

بات کر سکتے ہو تم مجھ سے محبت کے عوض
اور مصیبت میں مجھے کال مِلا سکتے ہو

تم مری آنکھ نہيں دل میں رُکے ہو عامی
اب مجھے چھوڑ نہيں ‘ توڑ کے جا سکتے ہو
۔۔۔۔

خرید کر جو پرندے اُڑائے جاتے ہیں
ہمارے شہر میں کثرت سے پائے جاتے ہیں

میں دیکھ آیا ہوں اِک ایسا کارخانہ جہاں
چراغ توڑ کے سورج بنائے جاتے ہیں

اے آسماں تجھے اُن کی خبر بھی ہے کہ نہيں
جو دن دیہاڑے زمیں سے اُٹھائے جاتے ہیں

یہ کون لوگ ہیں پہلے کبھی نہيں دیکھے
جو کھینچ تان کے منظر پہ لائے جاتے ہیں

یہ ساری فلم ہی اچھی طرح بنی ہوئی ہے
مگر جو سِین اچانک دِکھائے جاتے ہیں

میں اِس لیے بھی سمندر سے خوف کھاتا ہوں
مجھے نصاب میں دریا پڑھائے جاتے ہیں

یہ روشنی تو کسی اور شَے کی روشنی ہے
اور آپ ہیں کہ سِتارے بُجھائے جاتے ہیں

کہیں مِلیں گے تو ‘ پھر جان جاؤ گے عامی
ہم ایسے ہیں نہيں ‘ جیسے بتائے جاتے ہیں
۔۔۔۔

Share