Asim Tanha | عاصم تنہا کی شاعری سے ایک صفحہ

عاصم تنہا چاندنی چوک کلورکوٹ ضلع بھکر۔پاکستان رابطہ نمبر : 03450484873 غزلیں جب کبھی درد کے ماروں کی طرف دیکھتا ھوں میں حقیقت میں ستاروں کی طرف دیکھتا ھوں ڈوبتا ھوں […]

عاصم تنہا
چاندنی چوک کلورکوٹ ضلع بھکر۔پاکستان
رابطہ نمبر : 03450484873

غزلیں

جب کبھی درد کے ماروں کی طرف دیکھتا ھوں
میں حقیقت میں ستاروں کی طرف دیکھتا ھوں

ڈوبتا ھوں تو مجھے ہاتھ کئی ملتے ھیں
کتنی حسرت سے کناروں کی طرف دیکھتا ھوں

چادریں ان کو میسر ہیں مگر مجھ کو نہیں
میں تو سردی میں مزاروں کی طرف دیکھتا ھوں

کیوں روانی لئے آیا ہے یہاں پر دریا
فکر ہوتی ھے سواروں کی طرف دیکھتا ھوں

اب مرے گھر سے کہاں چاند دکھائی دے گا
میں یہ حسرت لئے تاروں کی طرف دیکھتا ھوں

ہاں مصیبت کوئی آ جائے اچانک مجھ پر
تو کہیں بھی نہیں یاروں کی طرف دیکھتا ھوں
۔۔۔۔۔
زندہ رہتے ھوئے زندگی چھوڑ دی
اک خوشی کے لیے ہر خوشی چھوڑ دی

اس نے تاریکیوں میں جو چھوڑا مجھے
میں نے ایسا کیا روشنی چھوڑ دی

ایسا چھوڑا کہ سارا جہاں لٹ گیا
ہاں میں زندہ رہا عاشقی چھوڑ دی

میں تو پتھر نہیں آدمی ھوں میاں
کیوں مرے نام کی دشمنی چھوڑ دی

رنج و غم سے ملایا تھا تو نے مجھے
تو بتا درد میں کیوں کمی چھوڑ دی

جب بلایا مجھے میری مٹی نے تو
میں بھی تنہا چلا بے رخی چھوڑ دی
۔۔۔۔

صبح مٹی ہے شام ہے مٹی
یعنی اپنا مقام ہے مٹی

کس جگہ پر کروں بسیرا میں
جو بھی ہے وہ قیام ہے مٹی

دائمی کچھ نہیں ہے رہنے کو
جس کو دیکھو ،دوام ہے مٹی

اب تو آ،اور تو سنبھال اسے
دیکھ لے یہ غلام ہے مٹی

لغزش زندگی سے علم ہوا
موت کا ہی پیام ہے مٹی

میں نے دفنا دیا ہے خواہش کو
کیونکہ خواہش کا نام ہے مٹی

مٹی ہے بے زباں ،مگر تنہا
بے زباں کا کلام ہے مٹی
۔۔۔۔۔

ملنے کا امکان بنائے بیٹھے ھو
کس کو دل اور جان بنائے بیٹھے ھو

برسیں آخر بارش جیسے کیوں آنکھیں
تم بادل مہمان بنائے بیٹھے ھو

دشت کی خاک سمیٹی میں نے پلکوں سے
گھر اپنا دالان بنائے بیٹھے ھو

کس کے آنے کی امید میں آخر یوں
رستے کو گلدان بنائےبیٹھے ھو

کون کس کی یاد بھلائے جانے کو
تم آنگن شمشان بنائے بیٹھے ھو

قسمیں وعدے جھوٹے جس کی خاطر تم
دل اپنا ویران بنائے بیٹھے ھو

تنہا تنہا رھتے ھو عاصم تنہا
یہ کیسی پہچان بنائے بیٹھے ھو
۔۔۔۔۔

عجب سی گرد جمی ہے یہاں فضاوں میں”
کہ جیسے دھند ملی ھو کہیں ھواوں میں

جو منزلوں کے نشانات دے رہی ہیں تمھیں
ہماری گونج بھی شامل ہے ان صداؤں میں

کسی کے ہجر میں آنکھیں نکھر گئیں اپنی
یہ بھیگ بھیگ کے ڈوبی رہی دعاؤں میں

انہی کے یاد میں رہتا ہے چاند بھی شاداں
وہ جن کی خوشبو ابھی تک ہے میرے گاؤں میں

وہ جس کو کہتے تھے تہذیب، مر چکی عاصم
پناہ ڈھونڈھیے جاکر کہیں گپھاؤں میں
۔۔۔۔

سمجھ رہے تھے کہ اب آسمان برسے گا
یہ سوچ کب تھی،کہ وہ مہربان برسے گا

وہ وقت دور نہیں،جب زمین والوں پر
مکان ٹوٹے گا اور لامکان برسے گا

تمہارے ظلم کی آندھی میں سراٹھاتے ھوئے
تمہارے سر پہ ہر اک بے زبان برسے گا

گمان کہتا ہے میرا کہ ایک دن مجھ پر
تری وفا، تری چاہت کا مان برسے گا

کسی کی آس میں تنہا جو دیپ جلتا ہے
اسے بجھانے کو اک امتحان برسے گا
۔۔۔۔

تمہارے شہر میں کیوں خامشی ہے
یہاں ہر آنکھ میں کیسی نمی ہے

کہیں سے ڈھونڈ کر لاؤ وہ لمحہ
ہماری زیست میں جس کی کمی ہے

ترا معصوم لہجہ کون بھوُلے
ترا تو بولنا ہی سادگی ہے

کہیں سورج نظر آتا نہیں ہے
حکومت شہر میں اب دھند کی ہے

کسی کو جان دینے پر مسرت
کسی کو جان لینے کی خوشی ہے

جدائی کا تصور ساتھ رکھنا
محبت میں جدائی لازمی ہے،
۔۔۔۔

کھا رہی ہے نوچ کر، دل کی صدا میرا وجود
کیا اسی خاطر بنایا تھا خدا میرا وجود

دیکھ لے یہ ہجر ہے ہر سمت ہی پھیلا ہوا
اور اس کے درمیاں جلتا ہوا میرا وجود

دل پہ یادیں ہیں تمہاری، اک اذیت کی طرح
کاٹتا ہے اس لیے تنہا سزا، میرا وجود

زندگی کی راہ پر ٹکرائے چاہت سے ہوا
لے کے زخمی پھر رہا ہے اب انا میرا وجود

بجلیاں بن کر تری یادیں گریں تنہائی پر
اور غم کی سہہ رہا ہے انتہا میرا وجود

سامنے کتنے ہی لشکر پیاس کے موجود ہیں
بن کے رویا نوحہ نوحہ کربلا میرا وجود

روح تک پھیلا ہوا تنہا عجب اِک دشت ہے
ہو رہا ہے جس میں مجھ سے ہی جدا میرا وجود
۔۔۔۔

کچھ اس لیے بھی تو اپنا خیال رکھا ہے
وہ لوٹ آئے گا قائم جمال رکھا ہے

میں چھین لوں گا تجھے فاصلوں کی قربت سے
یہ سوچ ہے تبھی میں نے دھمال رکھا ہے

مرا وجود ہی کیا تیری آرزو کے بغیر
تری طلب نے ہی مجھ کو سنبھال رکھا ہے

بھلا سکیں گئے بھلا کب ہم ایک دوجے کو
دلوں میں ہجر جو دونوں نے پال رکھا ہے

بچھڑ گیا تھا جو پچھلے برس اچانک ہی
وہ کس لیے گیا سکہ اچھال رکھا ہے

وہ اس لیے تجھے آسانیاں میسر ہوں
خود اپنے آپ کو جوکھوں میں ڈال رکھا ہے

بھُلا دِیا نہ کہیں جاؤں مٓیں ، اِسی لیے تو
ہر ایک شخص سے رشتہ کمال رکھا ہے

سمجھنے والو مجھے ناتواں ،ادھر دیکھو
خدا نے مجھ میں بھی آخر جلال رکھا ہے

نجانے کیسے وفا کر گئ مجھے تنہا
بس اپنے سامنے اک یہ سوال رکھا ہے
۔۔۔۔۔

اس کے معیار سے گرا ہوں میں
گویا مینار سے گرا ہوں میں

پاؤں ایسے نہیں کٹے میرے
تیکھی تلوار سے گرا ہوں میں

تیری نفرت سے گر نہیں نہیں پایا
تیرے اظہار سے گرا ہوں میں

شام کے سرمئ اندھیروں میں
یار کے وار سے گرا ہوں ہوں میں

طالب موت ہوں زمانے میں
کیونکہ انکار سے گرا ہوں میں

آئینے سے بھی شرم آتی ہے
اپنے کردار سے گرا ہوں میں

اونچے پربت مرے کھلونے تھے
گھر کی دیوار سے گرا ہوں میں

کب سنبھلنے دیا زمانے نے
ایک ہی وار سے گرا ہوں میں

منظرِ خواب سے نہیں تنہا
چشم بیدار سے گرا ہوں میں
۔۔۔۔

میں کیا کہوں کہ یہ کیونکہ اداس رہتا ہے
تمہارے بعد تو دل محوِ یاس رہتا ہے

میں کیا کروں گا بھلا زیست بن ترے جاناں
کہیں رہوں میں یہ دل بد حواس رہتا ہے

نجانے کیسے اذیت سمیٹتا ہی رہا
وفا شناس جو دل کی اساس رہتا ہے

میں کیوں کہوں کہ میں تنہا ہوں ہجر کا مارا
وہ بن کے خوشبو یہیں آس پاس رہتا ہے

میں بن کے اس کی تمناّ،اُڑا پھروں تنہا
وہ بن کے میری وفا کا لباس رہتا ہے
۔۔۔۔

جب ترے ساتھ ساتھ کھیلے تھے
ہائے کیا زندگی کے میلے تھے

تیری چاہت میں، تیری ہجرت میں
ہم نے کیا کیا عذاب جھیلے تھے

کیا ہوا، دوست چھوڑ دیں تنہاؔ
ان کے ہوتے بھی ہم اکیلے تھے

اس قدر روشنی تھی یادوں میں
وہ تھی اور اُس کے ہی جھمیلے تھے

رات بھر آنکھ تھی، کہ روتی رہی
صبح تک پانیوں کے ریلے تھے

ایک بس ہم تھے دشت میں تنہاؔ
رشتے اطراف میں سوتیلے تھے
۔۔۔۔۔۔

Viewers: 267
Share