Naeem Gillani | نعیم گیلانی کی شاعری سے ایک صفحہ

نعیم گیلانی شیخوپورہ۔ پاکستان غزلیں دھیان جو رکھّا نہیں تھا وقت کی آواز کا ہمرہاں ! اب شور سُنئے آخری آواز کا لِکھ لئے تھے بام و دَر نے خاص […]

نعیم گیلانی
شیخوپورہ۔ پاکستان

غزلیں

دھیان جو رکھّا نہیں تھا وقت کی آواز کا
ہمرہاں ! اب شور سُنئے آخری آواز کا

لِکھ لئے تھے بام و دَر نے خاص دونوں واقعے
ایک میری خامشی کا ، اِک تِری آواز کا

خوش گمانی طاقچوں میں حوصلے رکھتی رہی
جب نشاں بدلانہیںتھاشام کی آواز کا

ڈوبتی کشتی کہیںدریاسے مل ہی جائے گی
ہو سکے تو دھیان رکھیئے ڈوبتی آواز کا

شور بنتی جارہی بے نام آوازوں کے بیچ
فیصلہ ہو بھی نہیں سکتا کسی آواز کا

خواب کی گلیوں میں بیٹھے لوگ پتھر ہوگئے
راستہ جو کھو گیا تھا دوسری آواز کا

آخِرش جاتی رہی گویائی ہی میری نعیم
ایسا گرویدہ ہوا میں دشت کی آواز کا
۔۔۔۔

ایک تو عِشق کی تقصیر کئے جاتا ہوں !
اُس پہ مَیں پیروی ئِ میر کئے جاتا ہوں

یعنی تصویرِ زَماں پر ہے تصرّف اِتنا
دیکھتا جاتا ہوں ، تحریر کئے جاتا ہوں

مَعذرت گھر کے چراغوں سے کروں گا کیسے؟
مَیں جو تاخیر پہ تاخیر کئے جاتا ہوں

باغباں ! تجھ سے تو میں داد طلَب ہوں بھی نہیں
پیڑ سُنتے ہیں ، مَیں تقریر کئے جاتا ہوں

یہ علاقہ نہ ہو دَریا کی عمل داری میں
مَیں جہاں نائو کو زَنجیر کئے جاتا ہوں

آخِرش خاک اُڑا کر سرِ راہے دِل کی
ایک دُنیا کو مَیں دل گیر کئے جاتا ہوں

اِس کی بُنیاد میں اِک خام خَیالی ہے نعیم
شہر جو خواب میں تعمیر کئے جاتا ہوں
۔۔۔۔

طلوعِ صبحِ سفر کی گھڑی تھی ، یاد آیا
جدائی راستہ روکے کھڑی تھی ، یاد آیا

کسی کی خندہ لبی سے بھی کھل نہیں پائی
گرہ تو اب کے دِلوں میں پڑی تھی ، یاد آیا

یہ دِل کے زخم اُسی جنگ میں عطا ہوئے ہیں
جو تیرے نام پہ دِل سے لڑی تھی ، یاد آیا

جو میرا وقت مِرے ہاتھ آ نہیں رہا تھا
مِری کلائی پہ تیری گھڑی تھی ، یاد آیا

گلے ملے تھے بچھڑتے سمے جب آخری بار
وہ شام دونوں پہ کتنی کڑی تھی ، یاد آیا

رگیں بدن کی یونہی تو نہیں کھنچی ہوئی تھیں
کوئی صلیب سی دِل میں گڑی تھی ، یاد آیا

ہوئی ہے صرف نہ جانے کہاں کہاں اے نعیم
درونِ چشم نمی تو بڑی تھی یاد ، آیا
۔۔۔۔

یوں سنگِ انتظار سے کب تک بندھے رہیں
دِیوارِ نارسائی ہی کیوں دیکھتے رہیں ؟

گزرے نہ کوئی زُود فراموش عمربھر
اور بے سبب گلی کے دریچے کھلے رہیں

تم سے گلہ گزار ہے اپنی یہ بے گھری
کب تک تمہارے خواب سے باہر پڑے رہیں

حالت وہی ہے آج بھی ہم سنگ و خِشت کی
رکھ دے جہاں پہ کوئی ، وہیں پر دھرے رہیں

یونہی کھڑے رہیں کسی منزل کی آس میں
گردِ ملالِ ہجر سے رستے اٹے رہیں

پوچھے مِرے مسیحا نفس سے کوئی نعیم
طاقِ بدن میں زخم کہاں تک جلے رہیں ؟
۔۔۔۔۔

سکوتِ شام کے سارے نشاں لِئے پھرا مَیں
بُجھے چراغ تو آخر دُھواں لئے پھرا میں

نشیبِ عمر میں ممکن ہے کام آجائے
وہ ایک زخم ، جسے رائیگاں لئے پھرا میں

تمام عمر تِرے شہرِ نارسائی میں !
قدیم خواب کی اِک داستاں لئے پھرا میں

سرائے دہر میں جائے قیام تھی ہی نہیں
جو ایک ہجر کراں تا کراں لئے پھرا میں

اُٹھا کے دوش پہ اپنے ، تمہارے ہجراں میں
کوئی خسارہ ، کہ اے رفتگاں ! لئے پھرا میں

قرار جائے فنا میں نہ تھا ، سو حسبِ حال !
یہ مُشتِ خاک یہاں سے وہاں لئے پھرامیں

سجا کے آنکھ کی خاموش پُتلیوں میں نعیم
نگارخانہ ئِ سود و زیاں لئے پھرا میں
۔۔۔۔

گزرتے وقت کی شائد تجھے خبر کم ہے
تِرے سفر میں کوئی مجھ سا ہمسفر کم ہے

گلہ معاف ، مگر مَیں جہاں پڑا ہوا ہوں
مِرے چراغ ! تِری روشنی اِدھر کم ہے

شریکِ حال ہوئی تھی جہاں کہیں دُنیا
فقط وہیں سے تِرا ہجر معتبر کم ہے

گئی رتوں میں بہت گفتگو رہی جس سے
بھرے چمن میں وہ بس ایک ہی شجر کم ہے

تِری خبر میں نہ ہوں گی وہ منتظر شمعیں
کہ دِل گلی سے تو یوں بھی تِرا گزر کم ہے

بدن سے آگے جو بڑھتا نہیں طبیب مِرے !
سو ، دِل کے زخم کی جانب تِری نظر کم ہے
۔۔۔۔

مثالِ موجہ ئِ خوشبو بکھر گئے مِرے دن !
گزر گئیں مِری راتیں ، گزر گئے مِرے دِن

دُعائے نیم شبی بے اثر گئی میری
تمہارے ہوتے ہوئے بے ثمر گئے مِرے دِن

جواب ارض و سما سے نہ بن پڑا کوئی
میں اُن سے پوچھ رہا تھا کِدھر گئے مِرے دِن

بس ایک بار محبت سے دِل ہوا خالی
پھر اُس کے بعد اُداسی سے بھر گئے مِرے دِن

میں مبتلائے غمِ رفتگاں ہوا ایسا
مجھے خبر نہ ہوئی اور مَر گئے مِرے دِن

یہی ملال مجھے صبح و شام لاحق ہے
مِرے ثبات سے کیسے مُکر گئے مِرے دِن ؟

وفورِ ہجر میں حد سے گذر گیا تھا نعیم
مجھی پہ دیکھئے اِلزام دھر گئے مِرے دِن
۔۔۔۔

حسبِ معمول ہوا خاتمہ میرے ، دن کا
شام تک بار اٹھا لایا میں اپنے دن کا

کیا بُرے دن ہیں کہ گھر کے کسی کونے میں پڑا
دیکھتا رہتا ہوں رستہ کسی اچھے دن کا

غمِ امروز سے فرصت ہو تو اے دیدہءِ نم !
ہجر ویسے ہی پڑا ہے ابھی کل کے دن کا

رات آنے پہ درِ خواب کھُلے گا ، لیکن
رات آنے میں ابھی وقت ہے سارے دن کا

وقت سے پہلے جو منظر میں زوال آیا تھا
دیکھ اُترا ہوا چہرہ مر ے ڈھلتے دن کا

راستہ شام کا روکے جو کھڑا ہے کب سے
کون یہ کوہِ گراں آکے ہٹائے دن کا؟
۔۔۔۔

Viewers: 225
Share