Farkhanda Razvi | فرح ملک کی کتاب ۔۔۔ اک لمبی جدائی ۔۔۔ پرفرخندہ رضوی کا تبصرہ

کتاب کا عنوان: اک لمبی جدائی مصنفہ: فرح ملک مبصر: فرخندہ رضوی۔ ریڈنگ(انگلینڈ) اِک لمبی جدائی کا بہاؤ سمندر جیسا کہتے ہیں خیالات جب بکھرنے اور دل بے چین ہونے […]

کتاب کا عنوان: اک لمبی جدائی
مصنفہ: فرح ملک
مبصر: فرخندہ رضوی۔ ریڈنگ(انگلینڈ)

اِک لمبی جدائی کا بہاؤ سمندر جیسا

کہتے ہیں خیالات جب بکھرنے اور دل بے چین ہونے لگے تو کتاب کا مطالعہ خیالات کے مدوجزر پر قابو پا لیتا ہے ۔پھر کسی اور دنیا کے دروازے کھلنے اور ایسی کہاوتیں سو فیصد خود پر پوری اُترنے لگتی ہیں میرے جیسے تخلیق کار ہمیشہ پرواز میں رہتے ہیں ۔
قلم کی طاقت کو آزمانا ،آرٹ کی تکمیل سے بُرش سے کھیلنا اور انگلیوں کی جُنبش سے سارا وقت کمپوٹر سے کھیلنا ،یہ شوق پرانے ہیں لکھنے کا عمل اچھی سوچ کو جنم دیتا ہے ،کتابوں سے محبت تو بچپن و لڑکپن کی حدیں پھلانگتی ہوئی جوانی سے بڑھاپے کی سٹرھیوں پر قدم رکھ چکی ہے ۔کہتے ہیں بڑھاپے میں انسان کمزور ہوجاتا ہے مگر قلم و سوچ کا تجربہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اور طاقتوار و مضبوط ہونے لگتا ہے ۔ایسی ہی محبت میں کتابوں سے کرتی ہوں پہلے وہ کتابیں جنہیں میں خریدتی ہوں انکا مطالعہ مجھ پر فرض ہو جاتا ہے ۔دوسری اُن کتابوں کا جو بہت محبت و احترام سے میرے قریبی دوست پوسٹل ایڈریس سے مجھے ارسال کرتے ہیں میرا ایمان ہے میں شکریے کی ادائیگی میں اُن کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بعد چند لفظ اپنے خیالات کے جو تحریر کرتی ہوں انہیں ہدیہ تشکر کے ساتھ پیش کرتی ہوں ۔۔۔۔

farah-malik
کچھ عرصے سے ویسے یہ سلسلہ میں نے منقطع کر رکھا تھا کیونکہ چند ادیب و شاعر اس محنت کا حق چند لفظ شکریے میں کہنے کی بجائے احسان سمجھ کر پڑھتے ۔ایک ہفتے پہلے بہت پیاری دوست جو کہ گلاسگو (سکاٹ لینڈ ) میں مقیم ہیں انہوں نے اپنا پہلا شعری مجموعہ (اِک لمبی جدائی ) بہت محبت سے مجھے ارسال کیا،حالانکہ اس سے پہلے پاکستان پر طویل سفر نامہ کتابی صورت میں شائع کروا چکی ہیں ،میں بھی اپنی کتاب کی اشاعت میں مصروف ہونے کی وجہ سے اُس کتاب پر اظہار خیال نا لکھ سکی ۔ کافی عرصہ گزرجانے کے بعد مجھے مناسب نا لگا اور دل و ذہن نے اجازت ہی نا دی کہ اُس پر کچھ لکھوں ۔
فرح ملک پاکستان میں ایک تعلیم یافتہ خاندان میں پیدا ہوئیں اپنے ملک میں ہی ماسٹر بزنس ایڈمنسٹریشن (ایم۔بی۔اے) تک تعلیم حاصل کی ۔ہومیو پیتھک ڈاکٹرہونے کے ساتھ ساتھ فلپائن اور سری لنکا کے سرٹیفکیٹ کورسز کئے۔پچھلے بیس سال سے یوکے میں مقیم ہیں ۔میرا اور ان کا تعارف ۲۰۰۹ میں کمپیوٹر کی دنیا سے شروع ہوا ۔فون پر کبھی کبھی بات بھی ہونے لگی ۔پھر ۲۰۱۲ میں مجھے گلاسگو (سکاٹ لینڈ )میں عالمی مشاعرے میں شرکت کرنے کا موقع ملا تو وہیں فرح ملک سے میری پہلی روبرو ملاقات ہوئی ۔لگا فون سے نکل کر ہم آمنے سامنے آکھڑی ہوئی ہیں بہت اچھا لگا ان سے مل کر ۔مشاعرے کے بعد میرا دو دن کا مزید وہاں ہوٹل میں قیام تھا ۔۔۔پھر وہ دن ہمارے ایک ساتھ گلاسگو کی سیر میں گزرے ۔اس خوبصورت سفر اور گلاسگو کی سیر میں وہاں کے بہت اچھے شاعر امتیاز گوہر اور صفدر جعفری اہم شخصیت کا نام نا لینا نا لکھنا سب سے بڑی ناانصافی ہو گی ۔۔اس خوبصورت گزرے وقت کا لمس ابھی تک ذہن کے ہر گوشے کو معطر کرتا ہے ،فرح ملک اور گوہر امتیاز کے ساتھ بڑا اچھا وقت گزرہ جس میں زیادہ تر ہماری گفتگو ادبی حوالے سے رہی ساتھ ساتھ ہم نے گلاسگو کی خوب سیر کی ۔فرح ملک ؔ کی شخصیت کو سمجھنے کا جتنا وقت میسر آیا میں نے اسے پُرخلوص و محبت کرنے والی نہایت مخلص،منسکرالمزاج دوست پایا ۔سو فیصد تو کسی کی شخصیت کی عکاسی تو نہیں کی جا سکتی مگر جتنا وقت گزرہ اُس کی یادیں آج بھی مسرور کرتی ہیں ۔۔آج میرے سامنے فرح ملک کا پہلا شعری مجموعہ اِک لمبی جدائی موجود ہے کتاب کا سرورق نام کی مناسبت سے اچھا ہے ۔دریا پر تعمیر ایک لمبا پُل اس بات کی گواہی دیتا ہوا کہ اپنے دیس سے پردیس کی مسافتوں کا منظر کچھ ایسا ہی ہوتا ہے ۔اس کتاب کی اشاعت کس پبلیشرکے تعاون سے تکمیل تک پہنچی کیونکہ عموماََ کتاب کے سرورق یا اختتامی صفحات پر مکمل تفصیل درج ہوتی ہے ۔مصنفہ کی زبانی کلامی معلوم ہوا کہ ان کے دونوں بیٹوں نے اِس شعری مجموعے کو شائع کروانے میں تعاون کیا مگر اشاعت کے سلسلے میں بلکل انجان تھے ،خیر اس شعری مجموعے ” اِک لمبی جدائی”، کا انتساب فرح ملک جو کہ کتاب کی مصنفہ ہیں نے اپنے محترم والد صاحب کرم شاہ علوی اور والدہ محترمہ رحمت بی بی کے نا م کیا ہے ۔اِس سے پہلے کہ کتاب کے اندر جھانکتی یہ بہت اچھا لگا کہ والدین کی محبتوں کو کس کس تحفے سے نواز سکتے ہیں ۔زیادہ لوگوں سے فرح ملک نے کتاب میں رائے لینے سے اجتناب کیا ہے ۔ آرا میں پروفیسر قیصرہ علوی صاحبہ اورانجم خلیق نے اظہار خیال کیا ہے ،پیش لفظ میں فرح ملک کہتی ہیں ایک بہت اچھے بزرگ شاعر نے میرا کلام پڑھنے کے بعد داد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب پڑھنے والوں میں مقبول و گھر کرے گئی اللہ کرے ایسا ہی ہو آجکل ناقدری دنیا میں یہ صیغے کار آمد ہو جائیں تو ادیب و شاعر اور زیادہ محنت کریں لگیں گے ۔۔۔
حمد باری تعالیٰ سے بقاعدہ اِک لمبی جدائی کا آغاز کیا گیا ہے سبحان اللہ !
دامن میرا خالی دیکھا
پھول دو اُس میں ڈالے
چاندنی بن کر ٹھنڈک بخشی
مَن کے ہیں یہ اُجالے
خوبصورت عقیدت ،دل کش لب و لہجے میں شاعرہ نے خدا ِ برتر کا شُکر ادا کیا ،منقبت میں سیون لال شہباز قلندر سے یوں مخاطب ہیں ۔
عرش پہ نوبت کے بجنے کی سنے جہاں آواز
لال علی جب مانگے رب سے برسے نور پھوار
آل نبی اولاد علی ہے حسن ؓ ،حسین کے روپ
لاج رکھے تُو سب کا سائیں سب کا تُو غم خوار
لکھاری کی بات سے مکمل اتفاق کرنا اس لیئے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ لکھنے کا عمل کوئی آسان کام نہیں اکثر ہی لفظوں کا کمال آسانی سے حیرت میں ڈال دیتا ہے

ik-lambi-judai
بے ساختگی اور سلسلہ بدرجہ اُتم موجود ہو تو اشعار خودبخود داد کے طلب گار ہونے لگتے ہیں ۔اسی طرح فرح ملک صاحبہ کی شاعری کو پڑھنے کا بے شک پہلا موقع ہے نا کبھی باضابطہ طور پر مشاعرے میں سُنا نا ہی دیکھا ،کبھی کبھار فیس بک میں کسی مشاعرے میں کلام پڑھتے ہوئے کلِپ دیکھنے اور سُننے کا اتفاق ہوا ۔ایک خوبصورت غزل کے اشعار میں اپنے جذبوں اور احساسات کو شاعری کی زبان عطا کچھ یوں کی ہے ۔۔
دِل کو خیال ِیار سے بہلا کے رو پڑے
ہم اپنے دِل کو آپ ہی سمجھا کے رو پڑے
جانے کو کوئے یار کو بیتاب تھے بہت
اُس بُت کدے کو سامنے ہم پاکے روپڑے
جب تھے برہنہ پا تو یہ پتھر بھی گرم تھے
یکدم مِلا جو سایہ تو گھبرا کے رو پڑے
اِن کے خیالات اور سوچ کا مختلف انداز منفرد تراکیب کے ساتھ یکجا احساس شدت پیدا ہی کرتا چلا گیا ۔ غزلیں ،نظمیں شاعر کی داخلی کیفیات کا ایک خوبصورت آئینہ ہوتی ہیں ،شاعر اسی آئینے میں خود کو بار بار دیکھتا ہے لکھتے ہوئے جس اذیت سے وہ گزرتا ہے وہی جانتا ہے تب غزل کی تخلیق ہوتی ہے ۔ایسی ہی تیس غزلیں ،سترہ نظمیں اور حمد و نعت کا خزانہ اس کتاب میں موجود ہے ۔شاعر کو اپنا ہر کلام بچوں جیسابے حد عزیز ہوتا ہے ،میں نے سرورق سے اختتامی صفحے تک پڑھنے کا سفر جاری رکھا میں نے آج تک کسی کتاب پر بینا پڑھے کچھ نہیں لکھا میں سمجھتی ہوں ایک مصنف کے ساتھ سرا سر بے ایمانی ہوتی ہے کہ دوستی کی آڑھ میں تعریف و تنقید کا سلسلہ باندھا جائے ۔۔فرح ملک کی اِس کتاب اِک لمبی جدائی کا مطالعہ دل سے کیا مجھے لگا مصنفہ کو اپنی سَر زمین سے دیار غیر میں بسنے میں کتنا کٹھن فاصلہ طے کرناپڑا،ایک زمین جہاں اُس کی شاخیں زمیں میں پیوست اور دوسری وہ زمین جہاں کئی بہاریں سالوں کی چادر میںلپٹی ہوئیں ۔؎
جس طرح اس غزل میں کچھ یوں کہتی ہیں
پرندوں کی اُڑانوں میں سبق آزادی کا پہناں
زمیں و آسماں اپنے ، ہے گھر اپنا جہاں اپنا
جہاں چاہیں قدم رکھ دیں جہاں چاہیں نظر رکھ لیں
فلک اپنا زمیں اپنی ہے زر اپنا زماں اپنا
فرح ملک ؔ نے اپنی غزلوں میں جو اخلاقی اور معاشرتی سچائیاں بیاں کی ہیں وہ فکرو خیال کے مختلف زاویوں کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ان کے شعری منصب کو بھی احاطہ ٔ واقفیت میں لا کھڑا کرتی ہیں ۔۔اسی طرح ایک غزل کے اشعار اپنی طرف متوجہ کرتے ہی چلے جاتے ہیں ۔۔
نظر آیا کرو ہم کو خدا کیوں بن کے بیٹھے ہو
یہ زیبا تو نہیں تجھ کو ہمیں ناشاد کر کے یوں
اگر تُم جا رہے تھے یاد اپنی ساتھ لے جاتے
ملا ہے تُم کو کیا جانم ہمیں برباد کر کے یوں
دعائیں روز کرتی ہوں ترے آباد رہنے کی
تمہیں حاصل بھی کیا ہو گا ہمیں آزاد کر کے یوں
غزلوں کے بعد میرا سفر نظموں کے شہر سے بھی ہوا ،بلاشبہ مجھے غزل سے زیادہ خود بھی نظم لکھنا زیادہ پسند ہے ۔۔فرح کی نظمیں بھی اپنی اپنی جگہ ایک مقام رکھتی ہیں مگر ایک نظم بے حد اچھی لگی ۔جدید نظم کی طرح محض الفاظ کے انبار نہیں مثلاََ :
وہ خواب تھا
یا کوئی حقیقت
کہ ماں کو دیکھا
خوشی خوشی وہ کہہ رہی تھی
یہ گھر ہے میرا
سجا سجایا
آڑھائی گز کا ۔۔۔
ہے اِس کو میں نے ہی
خود سجایا ۔۔۔۔۔۔
نہ باپ ،شوہریا بیٹے کا گھر
یہ گھر ہے میرا ۔۔۔۔۔
کہ اِس پہ لکھا ہے نام میرا
قبر کا گھر ہے مقام میرا
بس پھر اِس نظم کے بعد میرے قلم کی رفتار خودبخود آہستہ ہی ہوتی چلی گئی ۔ اِس کتاب میں کچھ پنچابی کا بھی کلام شامل کیا گیا ہے ۔اِک لمبی جدائی فرح ملک جو کہ اس کتاب کی مصنفہ ہیںاِس تخلیق کار کا سرمایہ ہے یہ کتاب ،اللہ کرے اُس بزرگ کی دعا سچی ہو جائے ،فرح ملک کی اس کتاب کو بہت پذیرائی ملے قلم کی طاقت میں اضافہ ہو ۔غزل کا مزاج اپنا اور نظم کی خوبصورتی اپنا انداز رکھتی ہے ۔۔جس طرح میرا اظہارخیال کا طریقہ و انداز اپنا ہے ،میں سمجھتی ہوں قلم کا بہاؤ سمندر جیسا ہو تو سفر جاری و ساری رہتا ہے۔ اجازت کے کلمات ادا کرنے سے پہلے میری بہت سی دعائیں فرح ملک صاحبہ کے لیئے کہ وہ اور خوبصورت غزلیں اور نظمیں تخلیق کرتی رہیں ادب کی دنیا میں ان کی روشنی چاند ستاروں سی ہو ۔کامیابی و کامرانی کی بیشمار دعاؤں کے ساتھ ۔۔
مجھے اپنی دعا میں یاد رکھیے گا میری اس تحریر کا ہر لفظ ایمانداری کی ضمانت ہے ۔

Share