اردو ناول ۔۔۔۔ بیقراری سی بیقراری ہے ۔۔۔۔۔ از: گوہر شہوار

گوہر شہوار gohareshahwar07@gmail.com بے قراری سی بے قراری ہے (حصہ اول) اٹھا نقاب اور تباہ کر دے۔ مجھے یہ بھی یاد نہ رہا کہ میں بے نقاب اور ننگے سر […]

گوہر شہوار
gohareshahwar07@gmail.com

بے قراری سی بے قراری ہے

(حصہ اول)

اٹھا نقاب اور تباہ کر دے۔
مجھے یہ بھی یاد نہ رہا کہ میں بے نقاب اور ننگے سر ہوں۔
اس کی صورت دیکھتے ہی میرے سینے میں ٹھنڈک پڑ گئی۔
میرا سارا ڈیپریشن ختم ہو گیا۔ دل چاہا، اس کے سینے سے لگ جاؤں۔
یہ سب خواب جیسا تھا۔
لیکن وہ واپس کیوں آیا؟
یقیناً اسے میری معصومیت کا دل سے یقین ہے۔ اسی لیے ساری مخالفتوں کے باوجود وہ مجھے اپنانے آیا ہے۔
ایک لمحے میں میرے سارے غم دھل گئے۔ تاریک نظر آنے والا مستقبل، سہانا ہو گیا۔
اس نے شاید کبھی میری تصویر دیکھی ہو۔ مگر یوں بے نقاب کبھی نہیں دیکھا۔ اس کی آنکھوں کے تاثرات بدل گئے۔ کچھ لمحوں کے لیے وہ پتھر کا بت بن گیا۔۔
میں اس کی آنکھوں کے تاثرات نہ سمجھ سکی۔ میری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت تواسے دیکھ کر ہی ختم ہو گئی۔ ایک خیال آیا کہ کاش وقت رک جائے۔
اسی لمحے اس کی آنکھوں میں فوراً شدید غصے کی لہر اٹھی۔
ایک زور دار تھپڑ مجھے خواب سے باہر لے آیا۔ اس کا چہرہ غصے سے لال تھا۔ یوں لگا کہ وہ بڑی مشکل سے خود کو کچھ کرنے سے روک رہا ہو۔
تھپڑ اتنی زور سے لگا کہ میں سائیڈ پر گر گئی۔ میرا سر جھن جھنا گیا۔ دکھ کے مارے میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔
میں تڑپ کر اٹھی اور اس سے کچھ کہنے ہی والی تھی، کہ اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے روکا۔
بس عبیر! کسی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ میں سب جان چکا ہوں۔ تمھاری کوئی وضاحت میرا دل صاف نہیں کر سکتی۔
میرا بس نہیں چل رہا کہ۔ ۔
یہ کہتے ہی اس نے سامنے دیوار پر زور سے مکا مارا۔ اس کی آنکھوں میں بے بسی صاف دکھنے لگی۔ جیسے کسی شیر کو جکڑ دیا ہو۔
عبیر! میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ کہ۔ ۔ ۔ کہ تم پیسے کی چکا چوند سے اتنی جلدی کرپٹ ہو جاؤ گی۔ اس کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی آ گئی۔
صحیح کہتے ہیں ! سب لڑکیاں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ بس ظاہری روپ بدلتے ہیں۔
تم تو اپنی پارسائی کی وجہ سے مجھے چہرہ بھی نہیں دکھاتی تھیں۔ پھر۔۔ پھر ایسا کیا ہو گیا کہ تم۔ ۔ ۔۔
اسے بھی تم نے اپنی معصومیت سے شکار کیا ہو گا۔ ہے نا؟
وہ دادی کا وعدہ، وہ پردہ داری!
کیا صرف امیر لڑکوں کو پھنسانے کے بہانے تھے؟
کاشف میری بات تو سنو۔
بس عبیر!
مجھے مزید غصہ مت دلاؤ کہ میں کچھ اور کر گزروں۔
میں گھر سے یہ فیصلہ کر کے نکلا تھا آج تمھاری بھی جان لوں گا اور اپنی بھی۔ تمھارا یہ خوبصورت چہرہ دیکھ کر میرا غصہ آدھا رہ گیا ہے۔
میں اس چہرے کو دیکھنے کے لیے کتنا تڑپتا رہا۔ آج اسے اپنے ہاتھوں سے کیسے مٹادوں۔
اس کی آواز بھرا گئی۔
تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیاعبیر۔۔
میں تم سے نفرت کرتا ہوں۔
یہ کہہ کر وہ تیزی سے دروازہ بند کر کے چلا گیا جیسے اگر مزید رکا تو اپنے جذبات پر قابو نہ کر سکے گا۔
اس کی باتیں میرے سینے میں گرم سلاخوں کی طرح گھستی گئیں۔
میرا سانس لینا محال ہو گیا۔
میرے ذہن میں بس ایک ہی جملہ گونجنے لگا
میں تم سے نفرت کرتا ہوں۔ میں تم سے نفرت کرتا ہوں۔
میری پاکیزگی سے اسے محبت تھی۔
اب اس کی نظروں میں میری پاکیزگی میں ختم ہو گئی ہے۔
آج اس نے اپنا فیصلہ سنا دیا
میری کوئی دلیل اس کے دل میں میری محبت بحال نہیں کر سکتی۔
میری پاکیزہ محبت ختم ہو گئی۔
محبت جو میری زندگی تھی۔
اب میری کوئی زندگی ہی نہیں۔
محبت کے بنا یہ زندگی کتنی بے معنی ہے
میں جیوں تو کس لیے؟
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا
میرا خود پر اختیار ختم ہو گیا۔
یوں لگا یہ چہرہ اور جسم میرا حصہ نہیں۔ میں اس چہرے اور جسم سے علیحدہ ایک وجود ہوں۔ یہ ناپاک جسم اور چہرہ سزا کا مستحق ہے۔ مجھے ان سے نجات پانی ہے۔
میں فوراً ہی کچن میں گئی اور چھری پکڑ کر ایک ہی سیکنڈ میں بائیں کلائی کی نس کاٹ دی۔
میں کچن کی دیوار سے لگ کر بیٹھ گئی، اور اپنی سفید کلائی سے خون کو نکلتے دیکھنے لگی۔ میرا دل بہت آہستہ آہستہ ڈوبنے لگا۔ آنکھیں کھولنا مشکل ہو گیا۔ ذہن یوں تاریک ہونے لگا جیسے کسی بلڈنگ کی لائٹس آف ہوتی ہیں۔ میری سوچیں بہت آہستہ ہو گئیں، جیسے وقت رک گیا ہو۔
آپ کو دلچسپی ہو گی کہ موت سے پہلے انسان کو کیا دکھائی دیتا ہے، موت کا فرشتہ دیکھنے میں کیسا لگتا ہے، غیب کے پردے ہٹتے ہیں تو اس کے پیچھے کیا ہوتا ہے۔ مگر ان باتوں سے پہلے کچھ عجیب ہوا۔
میری آنکھوں کے سامنے میری پوری زندگی فلم کی طرح چل پڑی۔ عجیب بات ہے کہمیں خود ہی اس فلم کی کردار ہوں اور فلم دیکھنے والی بھی۔ میں اس فلم کی کہانی جانتی بھی ہوں اور نہیں بھی جانتی۔ میں اس کہانی میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتی۔ اس فلم کے ختم ہوتے ہی میری زندگی بھی ختم ہو جانی ہے۔
پر آگے کیا ہو گا؟ کیا بس یہی میری زندگی کا مقصد تھا۔
میں تو خود کشی کر رہی ہوں۔ کہیں ابد تک اسی فلم کو دیکھنا ہی میری سزا تو نہیں؟
بچپن کتنی جلدی گزر گیا، کسی پریشانی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ چھوٹی چھوٹی خوشیاں اور مستقبل کے چھوٹے چھوٹے منصوبے تھے۔ گڑیوں کی شادی کرتے یہ خیال آتا جب میں دلہن بنوں گی تو کیسی لگوں گی۔ دادی کی باتیں کتنی انوکھی ہوتیں۔ زندگی دریا کے پرسکون پانی کی طرح ہی تو بہہ رہی تھی۔ پھر اچانک بھنور آ گیا۔ کچھ بھی پہلے جیسا نہ رہا۔
آغاز ایک خواب سے ہوا۔۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
کئی دنوں سے مجھے ایک ہی خواب بار بار دکھائی دے رہا تھا۔۔
جنگل کے بیچوں بیچ صدیوں ایک بہت پرانی حویلی تھی جس کیدیواروں میں دڑاڑیں پڑ چکی تھیں۔ اس کا زنگ آلود گیٹ بہت بھاری تھا۔ دیواروں پر جھاڑیاں اور بیلیں چڑھی تھیں۔ سارا ماحول ویرانی اور خوف میں ڈوبا تھا۔ کہیں کہیں الو بولنے کی آواز آ جاتی۔ جنگل کے گھنے پن کی وجہ سے سورج کی روشنی نیچے نہیں پہنچتی۔ میں جیسے ہی دروازے کے سامنے پہنچی، وہ خود بخود کھل گیا۔
اندر ہو کا عالم تھا۔ ہر طرف جھاڑیاں ہی جھاڑیاں تھیں۔ ایسا لگتا جیسے وہاں صدیوں سے کوئی نہیں آیا۔ میں سیدھا چلتے ہوئے ایک بڑے سے کمرے میں داخل ہوئی۔ وہاں ایک بھیڑیا زنجیروں سے بندھا تھا۔ وہ خود کو چھڑانے کے لیے غرا رہا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے حملہ کرنے کے لیے چھلانگ لگائی۔ مگر زنجیروں کی وجہ سے کچھ ہی فاصلہ پر رک گیا۔ اس کی آوازیں دل کو سہما دیتیں۔
میں نے دیوار پہ ٹنگا کوڑا اٹھایا اور غصے سے اسے مارنا شروع کیا۔ وہ درد کی شدت سے چیخنے لگا۔ بچنے کی پوری کوشش کرنے لگا۔ میں چاہتی تھی، وہ ایک پالتو کی طرح میرے پیروں میں سر رکھ کر اس تشدد روکنے کی فریاد کرے۔ اس چیخیں اور سسکیاں سن کر میرے جسم میں سرور کی لہر دوڑنے لگی۔۔ میں نے کبھی ایک چیونٹی بھی نہیں ماری پر اس بھیڑیے کو مارنے میں مجھے بہت مزہ آیا۔
میں نے اسے سخت برا بھلابھی کہا۔ اس کے جسم سے نکلتے خون کو دیکھ کر مجھے تسکین ملنے لگی۔
اس خواب کی کوئی سنس نہیں بن رہی تھی۔ میرے لاشعور میں ایسا کیا تھا کہ میں خواب میں اتنی تشدد پسند بن گئی۔ میں تو ایک معصوم سی نازک اندام لڑکی ہوں۔۔ میں نے صبح اٹھ کر فوراً اپنے خیالی گناہ معافی مانگی۔ دل پر اسی خواب میں اٹکا رہا۔
میں انھی سوچوں میں گم یونیورسٹی پہنچی۔ لائبریری میں بیٹھی اسی خواب کے بارے میں سوچنے لگی۔ خواب بھی بنا مقصد نہیں ہوتے ان کے خاص معنی ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں جب ہم سو جاتے ہیں تو ہماری روح جسم سے نکل کر انجانی دنیاؤں کی سیر کرتی ہے۔ اس کے لیے ماضی، حال اور مستقبل کی کوئی پابندی نہیں ہوتی۔
پتا نہیں میرے خواب کے پیچھے کیا ہو؟ یا شاید بے مقصد ہی ہو۔
عمارہ کی آواز مجھے حقیقت کی دنیا میں واپس لے آئی۔
عبیر! تم نے حجاب کے نئے ڈیزائن فائنل کر لیے کہ نہیں۔
میں اپنے خیالوں میں اتنی کھوئی تھی کہ اس کے سوال کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکی۔ میں نے خالی نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ اس نے میری آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلایا۔
او میڈم! کس کے خیالوں میں گم ہو۔
میں ٹرانس سے باہر آ گئی۔
عمارہ ییلو شرٹ اور بلیک ٹائٹس میں کمال لگ رہی تھی۔ اوپر سے لئیر کٹنگ نے غضب ڈھایا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر تل بہت ہی منفرد اور خوبصورت لگ رہا تھا۔
ہاں ڈیزائن فائنل ہو گئے ہیں۔ تم انھیں ایک بار دیکھ لو تاکہ کوئی چھوٹی موٹی غلطی نہ رہ جائے۔ ایک بار سوٹ بننے کے لیے چلے گئے تو پھر کوئی موڈیفیکیشن نہیں ہوپائے گی۔ میں اسے سافٹ وئیر میں ڈیزائنز دکھانے لگی۔ وہ جیسے ہی میرے قریب ہوئی کلون کی بھینی بھینی خوشبو میرے ذہن کو تر و تازہ کرنے لگی۔
عمارہ یہ کون سا پرفیوم لگایا ہے تم نے؟
اچھا ہے نا! اس نے چپکتے ہوئے کہا۔
مما کو ان کے بھائی نے سپیشل گفٹ بھیجا ہے فرانس سے۔ میں نے فوراً قبضہ کر لیا۔
تمھارے مزے ہیں بہن۔ ادھر ہمارے رشتے دار ہیں، قسم لے لو جو دس روپے کا عطر بھی گفٹ کر دیں۔
میری بات سن کر وہ ہنس دی، اور ڈیزائن دیکھنے لگی۔
واہ عبیر، یہ کلر کمبینیشن کتنا منفرد ہے۔ پر یہ عبایہ تھوڑا آڈ ہے، یہ منفرد تو ہے لیکن تنگ تنگ سا ہو گا۔
تمھاری بات ٹھیک ہے لیکن میں نے کئی ڈیزائن اس سے ملتے جلتے دیکھے ہیں۔
ٹھیک ہے۔ میں ابھی تمھیں دیکھ کر بتاتی ہوں۔ یہ کہہ کر وہ ڈیزائنز کے اندر گھس گئی۔
واہ عبیر! میں نے آج تک ایسے ڈیزائن نہیں دیکھے۔
میری جان! یہ انوکھے آئیڈیاز تم کہاں سے لاتی ہو۔ یہ کہہ کر عمارہ نے مجھے گلے لگانے کی کوشش کی۔
تمھیں معلوم ہے باقی لوگوں کو تو شہزادہ گلفام کے خواب آتے ہیں، مجھے کسی سائنسدان کی طرح فیشن سے متعلق خواب میں آتے ہیں۔
جی جی۔ ۔ اسی لیے آپ کی زندگی میں بھی کوئی شہزادہ گلفام نہیں آتا۔
وہ بھی آ جائے گا اتنی جلدی کیا ہے۔ ابھی میری عمر ہی کیا ہے۔
ہاں جی ابھی پچھلے سال ہی تو فیڈر پینا چھوڑا ہے ہماری گڑیا نے۔
بکو مت۔ اب ایسی بھی کوئی بات نہیں۔
عمارہ میری بچپن کی دوست تو نہیں تھی پر یونیورسٹی کے چار سالوں میں ہم اتنی پکی سہیلیاں بن گئی کہ لگتا ہمیشہ سے ساتھ ہیں۔ وہ اکثر کہتی
میری جان! تم اتنی خوبصورت ہو کہ کھا جانے کو دل کرتا ہے۔ اگر میں لڑکا ہوتی تو تم سے شادی کر لیتی۔
مگر تم جو خود کو اتنا چھپا کے رکھتی ہو، اس کی سمجھ نہیں آتی۔
یار حسن تو ہوتا ہی دکھانے کے لیے ہے۔ مجھے دیکھو! فقیروں میں اپنے حسن کا دیدار بانٹتی ہوں۔ بیچارے لڑکوں کے دلوں کو تھوڑا سکون تو ملتا ہے۔ تمھیں دیکھ کر تو وہ تصور کرتے رہتے ہیں۔ جانے اس نقاب کے پیچھے جانے کیا قیامت ہو گی۔ تم اس معاملے میں اتنی کنجوس کیوں ہو؟
آج ایسا کرو رخ سے پردہ ہٹاؤ اوریونیورسٹی میں قیامت برپا کر دو۔۔
مجھے ہنسی آ گئی، سوری میرا وقت سے پہلے قیامت برپا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔
عمارہ بہت جولی اور کانفیڈنٹ تھی۔ کسی کو خاطر میں نہیں لاتی۔ بڑوں بڑوں کو سیدھا کر دیتی۔ دل کی بہت اچھی تھی۔ اس کی بچپن کی محبت اس کا کزن ہے جس کے ساتھ اس کی شادی بھی ہو جانی تھی۔ وہ بیچارا ہر وقت عمارہ کے نخرے اٹھاتا رہتا۔ لیکن یہ اسے تڑپا تڑپا کر مزے لیتی۔ بعد میں کہتی، ہائے بیچارے کے ساتھ میں نے کتنا برا کیا۔
ہم دونوں فیشن ڈئزائننگ میں ماسڑ کر رہی تھیں۔ ابھی فائنل پروجیکٹ چل رہا تھا۔ مجھے ہمیشہ سے ہی اسلامی فیشن میں کچھ کرنے کا شوق تھا۔ ایسا فیشن جو حیا والا بھی ہو اور جدید بھی۔ میں ڈیزائن کے ساتھ کلر کمبینیشن میں کچھ جدت لانا چاہتی تھی۔ یہ مشکل کام اور ناکامی کا خطرہ زیادہ تھا۔ پر ہمارے حوصلے بلند تھے۔
عمارہ کا ذہن مارکیٹنگ میں خوب چلتا۔ نئے نئے لوگوں سے تعلق بنانا اس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ وہ تھیبھی اونچے گھر کی اسی لیے تعلقات بنانا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اس نے یونیورسٹی آتے ہی سوچا کہ اپنا برینڈ کھولے گی۔ اس کے مقابلے میں مجھ سے یہ میل ملاقات والے کام نہیں ہوتے۔ میں خاموشی سے کتابوں اور رنگوں کی دنیا میں رہنا چاہتی تھی۔ مجھے نئے نئے آئیڈیاز سوجھتے۔ فائنل پروجیکٹ کے لیے ہم نے اسلامی فیشن کو چنا۔ ہمارا پلان تھا کہ پاس آوٹ ہونے کے بعد اسے کمرشلی چلائیں گے۔ ( آہ ہمارے معصوم خیال)
ہمارے گھر کا ماحول ایسا نہیں تھا، کہ لڑکیوں کو باہر کام کرنے دیا جائے۔ ابا زیادہ مذہبی تو نہیں مگر عورتوں کے گھر سے نکلنے کے خلاف تھے۔ اورلڑکیوں کی شادی جلدی کر دینے کے حق میں تھے۔ میرے یونیورسٹی کے لیے بھی وہ بہت مشکل سے مانے۔
امی نے دلیل دی کہ کم پڑھی لکھی لڑکیوں کے اچھے رشتے نہیں آتے۔ پر مجھے ڈگری کسی اچھے رشتے کے لیے نہیں چاہیے تھی۔ میں کچھ خوبصورت کرنا چاہتی تھی۔
ہمارے خاندان نے دو ہجرتیں کیں۔ پہلی انڈیا سے مشرقی پاکستان، دوسری مشرقی پاکستان سے کراچی۔ خاندان کے بہت سے لوگ شہید ہوئے، جائدادیں لٹ گئیں۔ دادا کا سارا خاندان بلوائیوں کے ہاتھوں شہید ہو گیا۔ صرف دادی اور ابا ہی بچ پائے۔ دادی بہت ہمت والی خاتون تھیں۔ انھوں نے زندگی کی مشکلات کا بڑی دلیری سے سامنا کیا۔ کسی بھی موقع پر مایوسی کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ وہ اس زمانے میں روئی کا کاروبار کرتی تھیں، جب اس بزنس میں عورتوں کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔
دادی نے ابا کو پڑھانے کی ناکام کوشش کی۔ ابا میں پڑھائی والی بات ہی نہیں تھی۔ وہ بس کاروبار کرنا چاہتے تھے، تاکہ اپنی ماں کو سکھ دے سکیں۔ وہ نہیں چاہتے تھے، ان کی ماں مردوں کے درمیاں بیٹھ کر کاروبار کرے۔ وقت کے ساتھ وہ بہت کٹڑ ہوتے گئے۔ امی کوبھی گھر سے باہر نہ نکلنے دیتے۔ بلوائیوں کے ہاتھوں عورتوں کی عزتیں لٹتے دیکھ کر ان کے ذہن میں عجیب سا خوف بیٹھ گیا۔ انھیں ہر بندے کے اندر ایک درندہ نظر آتاجو کسی بھی وقت باہر نکل سکتا ہے۔
دادی کو روحانیت سے شغف تھا۔ ہر وقت تسبیح پڑھتی رہتیں۔ رسول پاکﷺ سے انھیں خاص محبت تھی۔ جب بھی نعت سنتیں بے اختیار رو پڑتیں۔ میرا سارا بچپن انھی کے ساتھ گزرا۔ وہ بڑے مزے مزے کی کہانیاں سناتیں۔ میرا نام “عبیر مستور” بھی انھوں نے ہی رکھا۔ کہتیں اس کا مطلب چھپی ہوئی خوشبو ہے۔ اوراسے ایک خزانے کی طرح چھپا رہنا چاہئے۔ اسی لیے انھوں نے مجھے خود برقع سی کر دیا۔
دادی کی باتیں انوکھی ہوتیں۔ جنھیں سنتے رہنے کا دل کرتا۔ وہ ہر وقت تسبیح پر کچھ پڑھتی رہتیں۔ پوچھنے پر کہتیں بس بس درود شریف پڑھتی ہوں۔ مجھے خیال آتا کہ وہ چھپ چھپ کر کوئی خاص وظیفہ پڑھ رہی ہیں۔ جس سے انھیں بہت بڑی روحانی طاقتیں مل جائیں گی۔ ہر رات سونے سے پہلے مجھ پر کچھ پھونکتیں۔
میرے اوٹ پٹانگ خوابوں پر بہت ہنستیں۔ جب میں نے پینٹنگ شروع کی تو مجھے انسانی چہرہ بنانے سے منع کر دیا۔ اسی لیے میرا فوکس لینڈ سکیپ اور دوسرے ڈیزائنز کی طرف چلا گیا۔
میں لینڈ سکیپس کو اس نظر سے دکھانا چاہتی جیسے خود دیکھتی اور محسوس کرتی۔
میں اس وقت میڑک میں تھی جب دادی کی فوتگی ہوئی۔ میں بہت دنوں تک روتی رہی۔ میری دادی سے محبت بہت گہری تھی۔ وہ ایک طرح سے میری دوسری امی تھیں۔ ان کے جانے کے بعد بھی یوں محسوس ہوتا وہ کہیں میرے ساتھ ہی ہیں۔
فائنل سمیسٹر میں پروجیکٹ کے علاوہ ایک آدھا سیبجیکٹ ہی پڑھنا پڑتا تھا۔ ہم سارا دن بیٹھ کر مستقبل کے منصوبے بناتیں۔ عمارہ مجھے اکثر ڈیفنس میں اپنے گھر لے جاتی۔ اس کے پاپا ایک ملٹی نیشنل فرم میں سی ای او تھے۔ بڑا بھائی US پڑھنے گیاپھر وہیں سیٹل ہو گیا۔ اس کی شادی پاکستان میں ہی ہوئی۔ کبھی کبھی وہ اپنے بیوی بچوں کو لے کر آتا تھا۔ اس کی مما ایک پرائیویٹ سکول سسٹم کی مینجمنٹ میں تھیں۔
اس سارے بیک گراؤنڈ کی وجہ سے عمارہ بہت کانفیڈنٹ تھی۔ پر اس میں امیر لڑکیوں والی برائیاں نہیں تھیں۔ اسے اپنے ماں باپ کے پیسے اڑانے سے زیادہ اپنے لیے کچھ کرنے کی خواہش تھی۔ وہ اپنی مما کو کچھ کر کے دکھانا چاہتی تھی۔ وہ سوشل گیدرنگز میں جاتی لیکن سپیشل والی پارٹیز میں جانا پسند نہیں کرتی۔ کہتی یہ بے فائدہ ہیں۔ فیک لوگ، فیک باتیں۔ کچھ بھی اوریجنل اور ڈیپ نہیں ہوتا۔ یہ لوگ ہر ٹرینڈ اور فیشن کے پیچھے جاتے ہیں اور تھوڑی دیر میں اس سے بور ہو کر کچھ اور کرنے لگتے ہیں۔
عمارہ کام بھی اپنی زندگی کو معنی دینے کے لیے کرنا چاہتی تھی۔ وہ کسی پر ڈیپینڈنٹ نہیں ہونا چاہتی تھی اور نہ ہی ایسی بیوی بننا چاہتی تھی جو صرف پارٹیز اور شاپنگ کر کے خوش ہوتی ہو۔
میرا بیک گراؤنڈ ایسا نہیں تھا کہ میں اتنی بڑی یونیورسٹی میں فیشن ڈیزائنگ جیسی ڈگری کر سکتی۔ خوش قسمتی سے مجھے مجھے سکالر شپ مل گیا جو اتنا تھا کہ میری پاکٹ منی بھی نکل آتی۔ اسی وجہ سے میں اس یونیورسٹی میں مس فٹ تھی۔ یہاں سب لڑکے لڑکیوں کے کپڑے، گاڑیاں اور شوق ہی احساس کمتری پیدا کرنے کے لیے کافی تھے۔
شروع شروع میں سب نے مجھے یوں دیکھا جیسے میں کوئی خلائی مخلوق ہوں۔ جو یونیورسٹی میں اڑن طشتری سے آتی ہے۔ ویسے کراچی کی بسیں کسی اڑن طشتری سے کم بھی نہیں ہیں۔ مجھے روزانہ ایک گھنٹا بسوں کے دھکے کھا کر جانا پڑتا۔ رش کی وجہ سے سیٹ بھی نہیں ملتی، اوپر سے چھچوروں کی حرکتیں۔ اللہ کی پناہ۔
اوپر سے میرا نقاب کے ساتھ عبایہ بھی ان کے لیے ایک عجوبہ ہوتا۔ ٹھیک ہے میں اپنی طرف سے بڑا اچھا عبایہ ڈیزائن کر کے پہنتی۔ پھر بھی بات نہ بنتی، مجھے عجیب عجیب سے کمنٹس سننے پڑتے۔ لوگ بھی کیا کریں پردہ بھی تو صرف غریب اور لوئر مڈل کلاس کے ساتھ منسوب ہو گیا ہے۔ اسی بات نے مجھے مجبور کیا کہ اسلامی فیشن میں کچھ ایسا کروں جسے امیر لڑکیاں بھی فخر سے پہنیں۔
جب عمارہ میری فرینڈ بنی، میری مصیبتیں کم ہونا شروع ہوئیں۔
میری کلاس پرفارمنس سب سے اچھی تھی۔ مجھے نئے نئے آئیڈیاز سوجھتے رہتے۔ جنھیں علمی جامہ پہنانے میں بہت مزہ آتا۔ اسی کام نے مجھے اتنا مگن کیا کہ لوگوں کی نظروں اور باتوں کی کوئی پرواہ نہ رہی۔ زیادہ تر لڑکیاں اور لڑکے ٹائم پاس کے لیے ہی آئے تھے جنھیں زندگی میں کچھ خاص کرنے کا خیال نہیں تھا۔ شاید میری یہی باتیں عمارہ کو پہلے میرے قریب لائیں۔
دھیرے دھیرے ہم پکی سہیلیاں بن گئیں۔
وہ مذاق میں کہتی جس دن تم اپنا نقاب اٹھاؤ گی، مجھے پورا یقین ہے تیس چالیس لوگ تو اسی دن جان سے جائیں گے۔
ویسے اس نقاب کے پیچھے “کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے “۔
بکومت۔ ایسی بھی کوئی بات نہیں، بس دادی نے قسم دی تھی۔ شادی سے پہلے نقاب نہیں اتارنا۔ اب میں دادی سے کیا ہوا وعدہ نہیں توڑ سکتی۔
اچھا تو جی پھر کون ہو گا ہماری دلہنیا کا گھونگٹ اٹھانے والا؟
جو ہماری حور پری کو بغیر دیکھے ہی شادی کے لیے مان جائے گا۔ وہ اگر سوچے کہ نیچے کوئی مونچھوں والی آنٹی ہوئی تو؟
عمارہ کی بچی ! دفع ہو جاؤ تم، کبھی تو اچھی بات کر لیا کرو۔ میں نے عمارہ کو ایک مکا لگایا۔
اچھا نہیں کرتی، یہ بتاؤ تمھارا یہ شہزادہ گلفام ہے کہاں؟ ابھی تک ڈھونڈنا سٹارٹ بھی کیا کہ نہیں؟
یار مجھے نہیں پتا لیکن دادی کہتی تھیں کہ مجھے ڈھونڈنے والا خود ڈھونڈتا ہوا آئے گا۔
اچھا تو دادی نے کوئی نشانی بھی بتائی تھی ہمارے شہزادے گلفام کی۔ تاکہ کراچی کی دو کروڑ آبادی میں ڈھونڈنے میں پریشانی نہ ہو۔
یار مجھے خود یہ باتیں سمجھ نہیں آتیں، جو قسمت میں لکھا ہو گا مل جائے گا۔ اسی لیے میں ان باتوں پر زیادہ پریشان نہیں ہوتی۔
سچ بات یہ تھی، مجھے کبھی کوئی لڑکا پسند بھی نہیں آیا۔ میں نے ہمیشہ خود کو بچا کے رکھا۔ سکول کالج میں کئی لڑکوں نے کوشش کی۔ میں نے کبھی اپنی نظریں نہیں اٹھائیں۔ مجھے بس کسی کا انتظار تھا۔ جب وہ آئے گا تو میرا دل گواہی دے گا کہ یہ وہی ہے۔ آج تک کسی کو دیکھ کر میری دھڑکن تیز ہی نہیں ہوئی۔ اگرچہ یونیورسٹی اچھے خاندان کے امیر لڑکوں سے بھری پڑی تھی اور کئی لڑکیوں کی سیٹنگ یہیں بن گئی۔
اس خواب کے آنے کے بعد میں کچھ بیچین سی رہتی۔ دل کہتا کچھ ہونے والا ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
عمارہ کا ذہن مارکیٹنگ میں بہت چلتا۔ وہ اپنے پاپا سے بھی بزنس ٹیکٹک ڈسکس کرتی رہتی، چھوٹی چھوٹی باریکیوں کو بھی مس نہیں کرتی۔ اسے اپنے پلان کے بارے میں کوئی خوش فہمی نہیں تھی۔ اس کے بقول اگر امریکہ میں صرف تین فیصد بزنس کامیاب ہوتے ہیں۔ تو پاکستان کا اللہ ہی حافظ ہے۔ اسی لیے وہ اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔ اپنے بہت سے پیسے بھی خرچ کر رہی تھی۔ ہمارا نوے فیصد وقت انھی باتوں کو ڈسکس کرتے گزرتا۔
اس کی یہ ساری کوششیں دیکھ کر شرمندگی ہوتی، کہ میں کیا کر رہی ہوں۔ کہنے کو تو ہم دونوں برابر کے حصہ دار تھیں۔ اس نے تو کمپنی کا نام اور ہماری پوسٹس بھی چوز کر لی تھیں
کمپنی کا نام ” مستور “رکھا۔ یعنی چھپی ہوئی۔
مجھے یہ نام پسند آیا تھوڑا نان ٹریڈیشنل سا تھا۔ اس نے مجھے ڈیزائن سیکشن کا ہیڈ بنایا اور خود سی ای او بن گئی۔ یہ باتیں ابھی تک کاغذوں پر ہی تھیں جانے کب یہ باتیں حقیقت بن جائیں۔
میں بھی فارغ نہیں بیٹھی۔ نئے ڈیزائنز اور رنگوں کی انسپائریشن کے لیے دنیا بھر کے فیشنز کو دیکھ رہی تھی۔ پاکستانی ڈیزائنرز نیا کام تو کرتے نہیں۔ بس باہر کے برینڈز کو تھوڑا سا موڈی فائی کر کے چلا دیتے ہیں۔ اس میں برائی یہ ہے کہ آپ مغربی ڈیزائن سے متاثر ہو کر ایسا کرتے ہیں۔ جبکہ ہماری روایت میں زیادہ خوبصورت چیزیں موجود ہیں۔ میں اپنی انسپائریشن اسلامی تہذیب سے لینا چاہتی تھی۔
میں دیکھتی رہتی کہ دنیا بھر میں مسلم لڑکیاں کیا نیا پہن رہی ہیں۔ خصوصی طور پر وہ کون سے رنگوں کو اپنا رہی ہیں۔ مجھے اردن اور ترکی کے فیشن ڈیزائنرز بہت پسند تھے۔ یہ لوگ جدت اور قدامت دونوں کو لے کر چل رہے ہیں۔ اوپر سے اپنی تہذیب پر فخر بھی کرتے ہیں۔
ہم دونوں دنیا سے بے خبر اپنی ہی دھن میں لگی رہیں۔ جبکہ باقی ساری لڑکیاں اپنا مستقبل محفوظ کرنے میں۔ ہر روز کسی نہ کسی لڑکی کی منگنی یا شادی ہو رہی ہوتی۔
ان کی ڈائمنڈ کی رنگز دیکھ کر دل میں عجیب سی بے چینی ہونے لگتی؟
جانے میرے ہاتھ میں ایسی رنگ کب آئے گی؟
میں ان آوارہ خیالوں میں کبھی کبھار کھو جاتی۔
ایسے میں کہیں سے عمارہ ڈرامہ کوین بنتے ہوئے کہتی۔ کوئی میری دوست کی بھی منگنی کرادے بیچاری کی عمر نکلی جا رہی ہے۔ دکھوں کی ماری بیچاری کیسے ساری زندگی اکیلے گزارے گی۔ یہ کہہ کر وہ رونے کی ایکٹنگ کرنے لگتی۔
قریب بیٹھی لڑکیاں چونک جاتیں۔ میں عمارہ کی کمرپر ایک گھونسا مارتی۔ عمارہ کی بچی تم کب سدھرو گی۔ بند کرو اپنا یہ ناٹک۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں انٹر میں تھی، جب میرے لیے پہلی بار رشتہ آیا۔ رشتہ بھیجنے والا مجھ سے پندرہ سال بڑا تھا۔ وہ اپنی دکان چلاتا تھا۔ مجھے تو سمجھ ہی نہیں آئی کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔
میں جیسے ہی کالج سے آئی، اماں نے مجھے کپڑے تبدیل کر کے تیار ہونے کا کہا۔ میرا تھکا ہونے کا بہانا بھی نہ چلا۔ جیسے تیسے تیار ہو کر کمرے میں ہی بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد اماں کے ساتھ ایک اجنبی خاتون کمرے میں آئیں۔۔ وہ خاتون مجھے پہلی ہی نظر میں زہر لگی۔ وہ چھچھورے انداز سے اپنے پیسوں کی نمائش کر رہی تھی۔ کوئی بیس تولے سونا اس نے پہنا ہو گا۔ کپڑے اتنے تنگ کے مجھے شرم آنے لگی۔ جب اس نے بولنا شروع کیا تو اس کا پینڈو پن کھل کر ظاہر ہو گیا۔
اس نے مجھے یوں دیکھنا شروع کیا، جیسے قصائی بکری کو دیکھتا ہے۔ اس کی نظریں میرے جسم کے ایک ایک حصے پر رک رک جاتیں۔ میں شرم سے خود کو چادر کے نیچے چھپانے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔
اس کے سوال بھی عجیب تھے۔ ایسے جیسے کوئی انسان نہیں سارے گھر کی نوکرانی ڈھونڈ رہے ہوں۔ میری تعلیم انھیں بہت زیادہ لگی۔ میں نے بھی کورے کورے جواب دیے۔ جن کو سن کر ان کا مزاج بگڑ گیا۔
بعد میں معلوم ہوا، یہ ابا کے دور پار کے رشتے دار ہیں۔ جنھوں نے کچھ عرصہ پہلے ہی ابا کو دریافت کیا ہے۔ انھوں نے جب ابا سے میرے رشتے کی بات کی تو ابا خوشی خوشی مان گئے۔ وہ تو پہلے ہی اپنی لڑکیوں کو جلدی بیاہ دینے کے حق میں تھے۔
اس دن کے بعد سے مجھے دھڑکا رہتا۔ کہیں ابا کسی بھی ایرے غیرے سے میری شادی نہ کر دیں۔ کیونکہ ابا کا تو ایک ہی پیمانہ ہے: لڑکا شریف خاندان سے ہو اور چار پیسے کماتا ہو۔
تعلیم، اخلاق، کردار، اور خوبصورتی ان کے نزدیک بے معنی ہیں۔ میں ایسے کسی آدمی سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔ جو مجھے پاؤں کی جوتی اور نوکرانی سمجھتا ہو۔ افسوس اکثر مردایسے ہی نظر آتے۔
پر دل کہتا، ایسا کوئی ضرور آئے گا۔ جو مجھے ایک دوست سمجھے گا۔
خوش قسمتی سے اس خاتون کو میں بالکل پسند نہیں آئی۔ اس کے بعد بھی تین چار خاندان آئے۔ کسی کو میں پسند نہ آتی، کسی کی جہیز کی ڈیمانڈ بہت ہائی ہوتی۔ میں ہر انکار کے بعد شکرانے کے دو نفل پڑھتی۔
ابا نے کبھی نہیں بتایامگر مجھے معلوم تھا۔ اس کی وجہ ان کا ایک خوف تھا۔ بنگلہ دیش میں ابا سے بڑی تین بہنیں تھیں۔ دادا سکول میں ٹیچر اور ترقی پسند خیالات رکھتے تھے۔ وہ اپنی بیوی اور بچیوں کو پردہ نہیں کروا تے۔ انھوں نے اپنی ساری بچیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوا ئی، نوکری کرنے کی بھی اجازت دی۔ ان کی دو بیٹیاں شادی سے پہلے بھی نوکری بھی کرتی تھیں۔ ابا سب سے چھوٹے تھے۔ باقی سب بہنیں ان سے پندرہ بیس سال بڑی تھیں۔ دادا نے اپنی دو منجھلی بیٹیوں کے رشتے طے کر دیے تھے۔ بڑی بیٹی نے مزید تعلیم حاصل کرنے اور نوکری کرنے کے چکر میں شادی سے انکار کر دیا۔ دادا پہلے ان کی شادی کرنا چاہتے مگر وہ خود منع کر دیتیں۔
سقوط ڈھاکہ سے ایک سال پہلے معلوم ہوا، بڑی پھپو کسی لڑکے سے محبت کرتی ہیں۔ دونوں کی محبت ابھی خفیہ اور خط و کتابہت تک محدود تھی۔ باہر کی دنیا میں نفرت کی دیواریں کھڑی ہو گئیں۔ وہ لڑکا کسی زمانے میں ان کا کلاس فیلو تھا۔ بعد میں مکتی باہنی میں شامل ہو گیا۔ اس نے پھپو کے محبت نامے پھیلا دیے۔ پھپو سمیت سارا خاندان بدنام ہو گیا۔ دادا پاکستانی حکومت کے حامی تھے اسی لیے ان کو بدنام کرنے کا کوئی بھی حربہ مخالفین ہاتھ سے نہ جانے نہ دیتے۔
کالج میں بھی دادا پر آوازیں کسی جانے لگیں۔ خاندان اور محلے والے بھی باتیں بنانے لگے۔ پھپو کو شدید صدمہ ہوا۔ وہ پڑھی لکھی اور بہت خوبصورت تھیں۔ وہ بے وفائی اور بدنامی کا یہ داغ برداشت نہ کر سکیں اور ان کا ذہنی توازن بگڑ گیا۔ وہ ہر وقت روتی رہتیں۔
ابا نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ وہ اس بات کا قصور وار دادا کی آزاد خیال سوچ کو ٹھہراتے۔ ابا نے جب آخری بار اپنی پاگل بہن کو دیکھا تو اس کی آنکھوں میں دکھ اور بے بسی تھی۔ ابا نے اپنا یہ دکھ سوائے دادی کے کسی سے شئیر نہیں کیا۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی بچیوں کے ساتھ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
میں بھی نہیں چاہتی تھی، میری وجہ سے کچھ بھی ایسا ہو جس سے امی ابا شرمندہ ہوں۔ دادی کو بھی اپنی تینوں بیٹیوں اور بیو گی کا شدید دکھ تھا۔ لیکن وہ اسے اللہ کی رضا سمجھ کر صبر کر گئیں۔ انھوں نے مجھے ہمیشہ اپنی بیٹی ہی سمجھا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یونیورسٹی میں آئے دن فیشن شو کروا ئے جاتے۔ یہ کوئی بہت بڑے پیمانے کے تو نہیں ہوتے لیکن ان میں باہر کے کافی لوگوں کو بلا یا جاتا۔ زیادہ تر لوگ صرف خوبصورت لڑکیوں کو دیکھنے آتے۔ ان میں فیشن آئیڈیاز بہت ہی سٹوپڈ ہوتے۔ جن میں ویسٹرن ڈیزائنز کی بھونڈی سی کاپی کی گئی ہوتی۔ جس کا مقصد صرف لڑکیوں کے جسم دکھانا ہوتا۔ کبھی کبھی تو یہ جان بوجھ کر کیا جاتا تاکہ انویسٹرز کو پیسہ لگانے پر قائل کیا جا سکے۔
فیشن میں صرف کیٹ واک نظر آتی ہے، اصل محنت بیک گراؤنڈ میں کرنی پڑتی ہے۔ ایک ایک ڈیزائن پر کئی کئی دن کی محنت۔ پھر ہر ویری ایشن کو بنوانا، اسے پہن کر دیکھنا، اس کے مختلف کومبینشن بنانا۔ یہ کام بس سننے میں ہی آسان ہے۔
فیشن شو کروا نے کاتو ہم نے ابھی تک سوچابھی نہیں۔ بس ایک دو ماڈلز کے ساتھ فوٹو شوٹ ہی کروا ئے تھے۔ اس کام کے لیے بھی عمارہ کے لنکس کام آئے۔ اس کے سوشل سرکل میں کئی لڑکیاں ایسپائرنگ ماڈل تھیں۔ جو مفت ہی اس کام پر تیار ہو گئیں۔ ہم نے اپنے سارے ڈیزائنز کی ایک بک بنوائی اور پریزنٹیشن بھی تیار کر لی۔ اب سب سے مشکل کام تھا کسی انویسٹر کو ڈھونڈنا جو ہمارے ان ڈیزائنز کو سپانسر کرے۔ ہم نے سوچا کہ یہ کام بہت آسان ہو گا۔ کیونکہ عمارہ اپنے تعلق داروں میں کسی نہ کسی کو قائل کرہی لیں گی۔
یہ بھی ہماری خوش فہمی ثابت ہوئی۔ یہ کام تو سب کاموں سے مشکل نکلا۔
میٹنگز کا کام میں نے عمارہ پر چھوڑ دیا کیوں کہ وہ ان کاموں میں اچھی تھی۔ ویسے بھی میٹنگز شام اور رات کو ہوتیں جن میں میرا جانا نا ممکن ہوتا۔ عمارہ نے بھی اصرار نہ کیا۔ مجھے تو جیسے یقین ہو گیا کہ بس کچھ ہی دنوں میں ہمارے ڈیزائنز مارکیٹ میں لانچ ہو جائیں گے۔
ہر میٹنگ کے بعد عمارہ کا پارہ چڑھا ہوا ہوتا۔ وہ نان سٹاپ صلواتیں سناتی۔ یہ سمجھتے کیا ہیں اپنے آپ کو، چار پیسے کیا آ گئے چلے ہمیں بتانے کہ فیشن کیسے ہوتا ہے۔
کہتے ہیں یہ اسلامی فیشن کیا ہوتا ہے؟
دنیا کپڑے اتارنے کی طرف جا رہی ہے اور آپ لوگ مزید کپڑے پہنا رہے ہیں۔
کوئی کہتا ہے کہ یہ رنگ اچھے نہیں ہیں، آپ وہ زارا کے ڈیزائن کی کاپی کیوں نہیں کرتیں۔
ایک نے تو کہا کہ پاکستانی فیشن پہنتا کون ہے۔ ہم نے تو آج تک پاکستان سے شاپنگ نہیں کی۔
ہر کوئی انڈین برائیڈل فیشن بنانے کو کہہ رہا ہے۔
کئی تو اتنے کمینے ہیں کہ کہتے ہیں۔ انھیں پیسے کے علاوہ بھی کوئی فائدہ ہو گا۔ یو نو واٹ اٹ مینز، یعنی ماڈلز کے ساتھ۔ ۔ ۔
میرا تو دل کیا کہ اتار لوں جوتا اور ان کی ٹنڈوں پر دو چار لگاؤں تاکہ ان کی عقل ٹھکانے آئے۔
یار یہاں چیزیں واقعی اتنی سیدھی نہیں ہیں۔ ہمارے اس اسلامی فیشن والے آئیڈیے میں کسی کو دلچسپی نہیں۔ ان کے خیال میں یہ پاکستان میں نہیں چلے گا۔ ابھی تک دس انویسٹرز نے انکار کر دیا ہے۔
جب تک ہمارے فائنل پیپر آئے پندرہ سولہ بڑے انویسٹرز جھنڈی دکھا گئے۔ ہم تقریباً مایوس ہو گئے۔ پروجیکٹ تک انیس لوگوں نے انکار کر دیا۔ عمارہ کا حال مجھ سے زیادہ برا تھا۔ اسے اپنی ناکامی پر بہت غصہ آیا۔ اس کو اپنے سارے سوشل لنکس سے کورا جواب مل گیا۔ سب لوگ اسے ایک چھوٹی بچی کے طور پر لیتے۔ اسے سمجھا تے کہ پاکستان میں یہ بزنس والا کام بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ یہاں کامیابی کے کوئی اور ہی طریقے ہیں۔ یہاں کامیابی محنت اور ٹیلنٹ سے نہیں ملتی۔
میری پریشانی کی وجہ وہ خواب بھی تھا۔ جو ہر دوسرے دن مزید تفصیل اور جذبات کے ساتھ دکھائی دیتا۔ جاگنے کے بعد بھی میری مٹھیاں بند ہوتیں جیسے ان میں ہنٹر پکڑا گیا ہو۔ اس بھیڑیے کی آنکھیں جاگتے میں بھی میری آنکھوں کے سامنے گھوم جاتیں۔ مجھے نہ جانے اس تشدد میں اتنا مزہ کیوں آ رہا تھا۔
سمجھ نہیں آ رہی اس ڈراؤنے خواب کے کیا معنی لوں؟ کہیں اس کا تعلق میری شادی سے تو نہیں؟ کیونکہ میری تعلیم ختم ہوتے ہی ابا نے میری شادی لازمی کروا دینی تھی۔ ایک بار میں شادی کے چکر میں پڑ گئی تو میرے سارے خواب چکنا چور ہو جائیں گے۔ میں کچھ بھی نہیں کر پاؤں گی۔ یہ خدشات کچھ ایسے غلط بھی نہیں تھے۔
ابا اور اماں کی حرکتیں ان دنوں مشکوک ہوتی جا رہی تھیں۔ میری چھوٹی بہن شگفتہ نے بتایا: گھر میں کئی رشتے والیوں کے چکر لگ رہے ہیں۔ بہت سے پرانے رشتے داروں کے ہاں اماں نے آنا جانا شروع کر دیا ہے۔
میرے دل میں ہول اٹھنا شروع ہو گئے۔۔ اماں کی پسند ہمیشہ سے اپنا خاندان ہے جس میں سارے ہی کپڑے کا کام کرنے والے ہیں۔ ان کے سارے لڑکے ایسے تھے جو بزنس ابا کے مشورے پر اور گھر اماں کی مرضی پر چلاتے تھے۔ ان کی بیویاں سونے میں لدی بس گھر بیٹھی موٹی ہوتی جاتیں۔ ان کی باتیں مجھ سے تو برداشت ہی نہیں ہوتیں۔ انھیں پتا ہی نہیں کہ دنیا میں ان کے گھر سے باہر بھی کچھ ہے۔
ایک دن وہی گھر میں بکرا منڈی لگی۔ یعنی مجھے دیکھنے کے لیے لوگ آئے۔ لڑکا مجھ سے دس سال بڑا اور بالوں سے محروم۔ کیونکہ وہ اپنی سیوک گاڑی میں آئے تھے۔ لڑکا اپنی دکان چلاتا تھا اسی لیے امی ابا کی تو پوری کوشش تھی کہ کسی طرح یہ رشتہ ہو جائے۔ میری متوقع ساس نے پان چباتے ہوئے یوں دیکھا جیسا پان کی طرح مجھے بھی چبا کر پیک باہر پھینک دیں گی۔ مجھے دیکھ کر ان کے چہرے پر پسندیدگی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ ہاں میری باقی باتیں انھیں پسند نہیں آئیں۔
لڑکی ماسٹر کر گئی ہے۔ گھر کے کاموں سے زیادہ کتابوں اور رنگوں میں مگن رہنا پسند کرتی ہے۔ ایسی لڑکیاں گھر کیا بسائیں گی۔ میرا لڑکا دیکھو میٹرک فیل ہے مگر دنیا جانتا ہے۔
ان کے جانے کے بعد اماں نے کہا، یہ تم ہر کسی کو اپنی تعلیم اور شوق کے بارے میں کیوں بتاتی ہو؟
اماں میں ایسی ہی ہوں، میں جھوٹ کیوں بولوں۔
اماں ناراض تو ہوئیں پر مجھ سے بحث نہ کی۔
نوجوانی میں اماں کو بھی پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا۔ اب بھی کبھی کبھی میری جمع کی ہوئی ڈھیر ساری کتابوں میں کوئی اٹھا کر پڑھتی ہیں۔ ان کی آنکھوں میں ایک اداسی ہوتی جیسے کوئی بھولا بسرا خواب یاد آ گیا ہو۔
کہتیں میں لٹریچر میں ماسڑ کر کے ٹیچر بننا چاہتی تھی۔ مجھے ناول اور کہانیاں بہت پسند تھیں۔ کبھی کبھار خود بھی کہانیاں لکھتی جو ایک دو بار ڈائجسٹ میں شائع ہوئیں۔ ہمارے خاندان میں لڑکیوں کو پڑھانے کا رواج نہیں تھا۔ کوئی کوئی لڑکی خوش قسمتی سے میڑک کرتی۔
ہماری بوڑھی عورتیں کہتیں: ببوا: ہم تو انڈیا میں پالکی کے بغیر کہیں جاتی ہی نہیں تھیں۔
ہمارا تعلق مغلیہ خاندان سے ہے، ہماری اتنی ساری جاگیریں تھیں کہ مردوں کو کوئی کام کاج کرنے کی نوبت ہی نہ آتی۔ ہم عورتوں کے لیے چار چار خاندانی ملازمائیں ہوتیں۔ ایک ایک وقت میں سو سو لوگوں کا کھانا پکا کرتا۔ پھر پتا نہیں پھر کس کی نظر لگ گئی۔ ہمارا سب کچھ ہی چھن گیا۔ یہ بٹوارا تو ہمیں راس نہیں آیا۔ ہمیں تو کراچی کا یہ موسم بھی زہر لگتا ہے۔ دہلی میں ہماری حویلی کے سامنے اتنا بڑا باغ تھا یہاں تو دڑبوں میں رہ رہے ہیں سارا دن نوکروں کی طرح کام کرنا پڑتا ہے۔ پان بھی اچھا نہیں ملتا۔ اوپرسے یہ لڑکیوں کا گھر سے باہر جانا۔
توبہ توبہ ہم نے تو نہ کبھی دیکھا نہ سنا۔
اماں کو میڑک کے بعد ہی سکول سے اٹھوالیا گیا۔ وہ سارا دن گھر کا کام کرتیں اورمستقبل کے سہانے سپنوں میں کھوئی رہتیں۔ چوری چوری رسالے اور ڈائجسٹ بھی پڑھ لیتیں۔ شاید اسی لیے وہ اپنی دونوں بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتیں۔ ابا کو بھی انھوں نے زبردستی منا لیا۔ مجھے یونیورسٹی جاتے دیکھ کر خوش ہوتیں۔ میری سہیلیوں کے بارے میں دلچسپی سے پوچھتیں۔ اپنی طرف سے لڑکوں سے بچنے کی نصیحتیں بھی کرتی۔
ایک دن ایک انوکھا سا رشتہ گھر آیا۔ ان لوگوں کو کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ پہلے اماں کو شک ہوا کہ کہیں میرا کوئی جاننے والا تو نہیں جو انجان بن کر آیا ہے۔ میں نے یہی سمجھا کہ یہ معمول کی کاروائی ہے۔ اماں نے کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔ مجھے اب تجسس ہوا۔ اماں کی یہ سیکریسی سمجھ نہیں آ رہی۔ پتا نہیں اماں کیا چاہ رہی تھیں۔ شاید رشتہ اتنا برا تھا کہ اماں نے بتانا بھی گوارا نہیں کیا۔ میں اپنے ذہن میں الٹی سیدھی چھلانگیں لگاتی رہی۔
یونیورسٹی تقریباً ختم ہو گئی پھر بھی ہم یونیورسٹی جاتیں اور اپنے بزنس پلان پر کام کرتیں۔ گھروں میں یہی بتایا کہ کلیرنس چل رہی ہے۔ اس دوران شگفتہ بھی یونیورسٹی جانے والی ہو گئی۔
شگفتہ کے شوق میرے جیسے نہیں تھے۔ وہ بہت زیادہ حسابی قسم کی لڑکی تھی۔ ہر چیز کو فائدے نقصان میں دیکھتی۔ شاید ابا کی لاڈلی ہونے کا اثر تھا۔ کہتی، فائنانس میں ماسٹر کر کے کسی ملٹی نیشنل میں جاب کرے گی۔ پڑھنے میں بہت تیز تھی اسی لیے سب سے اچھی یونیورسٹی جانا چاہتی تھی۔ مجھے یقین تھا اپنے ٹیلنٹ کی وجہ سے پہنچ جائے گی۔
اماں کے اصرار پر بھی برقع نہ پہنتی اور کہتی! آپی میں لوگوں کو احساس دلانا چاہتی ہوں: میری کوئی کمزوری نہیں ہے۔ میں عورت ہوں مگر کسی سے کم نہیں۔ یہ برقع پہننے کا مطلب ہی یہ ہو گا کہ میں کمزور ہوں۔ خود کو بچانے کے لیے یہ پہنتی ہوں۔ میں اپنی تہذیب کے مطابق دوپٹا اور مناسب لباس تو پہنوں گی، یہ عبایا والا کام مجھ سے نہیں ہو گا۔
میں اس سے بحث نہیں جیت سکتی تھی وہ اپنی عقلی باتوں سے مجھے قائل کر لیتی۔ وہ میری طرح خوابوں اور رنگوں میں رہنے والی نہیں، بلکہ تھوڑی سے زیادہ پریکٹیکل تھی اسی لیے کسی شہزادہ گلفام کی منتظر نہیں تھی۔ میری اس بات پر ہنستی کہ کوئی آئے گا جسے دیکھ کر میرا دل گواہی دے گا۔ وہ کہتی جس دن کسی بھی پڑھے لکھے اور سمجھ دار لڑکے کا رشتہ آئے گا وہ شادی کر لے گی۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ہم یونیورسٹی میں بیٹھے تھے کہ ہماری کلاس فیلو سارانئی کرولا گاڑی سے نکلی۔ اس کے ساتھ ایک بہت ہی ہینڈسم لڑکا تھا۔ وہ عمر میں ہم سے تین چار سال بڑا ہو گا۔ اس کی ڈریسنگ بہت اچھی اور کسی فارن برینڈ کی تھی۔ اس نے کالی گوگلز لگائی تھیں۔ اس کی شیو ایسے بڑھی ہوئی تھی جیسے فیشن کے طور پر بڑھائی ہو۔ اس کے بال بھی لیٹسٹ کٹ کے تھے۔ اس کی باڈی دیکھ کر یہی اندازہ ہوتا کہ کافی ریگولر جم کرتا ہے۔ سارا اور اس کی جوڑی بہت زبردست لگ رہی تھی۔ ہم نے ساراکو پہلے کبھی اس لڑکے کے ساتھ نہیں دیکھا تھا۔ ویسے بھی ساراکی تو پچھلے مہینے ہی منگنی ہوئی تھی، یہ اس کا منگیتر نہیں تھا۔ ۔
پھر یہ کون ہے؟
میں نے اس لڑکے کوئی اتنا زیادہ گھور کر تو نہیں دیکھا۔ پھر بھی عمارہ سے بھلاکوئی بات چھپتی ہے۔ اس نے فوراً ہی مجھے کوہنی ماری۔
بس بھی کرو، کیا نظروں سے کھاجاؤ گی۔
بکو مت!میرے کان فوراً شرم سے لال ہو گئے۔
عمارہ نے اس موقع کو ہا تھ سے جائے دیے بغیر شرارت سے ایک نعرہ لگایا۔ لو جی فائنلی وہ آ گیا، جس کا سالوں سے انتظار تھا۔ لوگو یہ دن نوٹ کر لو۔ ۔ ۔
میں نے فوراً اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور غصے سے کہا عمارہ! کیا بیہودگی ہے۔۔ کچھ تو شرم کرو،۔ میں تو بس ایسے ہی۔ ۔ ۔ اس کے کپڑوں کے ڈیزائن کو نوٹ کر رہی تھی۔ مجھے اپنا لہجہ کھوکھلا لگا۔
عمارہ کے ہونٹوں پر شرارتی ہنسی میرا منہ چڑانے لگی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو اتنا جان چکی تھیں، کہ ایسی معمولی باتیں بھی نہیں چھپتیں۔
بات یہی تھی کہ اس لڑ کے کو دیکھ کر مجھے دل میں ہلکی سی گدگدی ہوئی۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
وہ لڑکا سارا کو ڈراپ کر کے پارکنگ کی طرف چلا گیا اور وہ ہماری ہی طرف آنے لگی۔ ساراسے ہماری دوستی تو نہیں پر اچھی سلام دعا ضرور تھی۔ ایک دو پراجیکٹس میں ہم نے اکٹھے کام کیا تھا۔ عمارہ اور سارایونیورسٹی سے پہلے بھی ایک دوسرے کو جانتی تھیں۔ ان دونوں کی فیملیز سوشل گیدرنگ میں ملتی رہتی تھیں۔ ساراکے فادر کا اصل بزنس سٹیل تو کا تھا لیکن انھوں نے کافی جگہوں پر ہاتھ ڈالا ہوا تھا۔ اس کی مما بھی بزنس میں فلی انوالو تھیں۔ ساراکا ذہن بزنس میں نہیں چلتا۔ اسی لیے وہ ٹائم پاس کے لیے فیشن کی طرف آ گئی۔ وہ بڑی ہنس مکھ لڑکی تھی۔ ہر کسی کے ساتھ آسانی سے اس طرح گھل مل جاتی ہے جیسے بچپن کی دوست ہو۔ وہ ہم سے کچھ زیادہ ہی گرم جوشی سے ملی۔
ہماری رسمی سی باتیں ہوئیں۔ ماضی کے اچھے دنوں کی، فیوچر پلانز کی، وغیرہ وغیرہ۔
زیادہ باتیں عمارہ ہی کرتی رہی۔ اس کے انداز سے یہی محسوس ہو رہا تھا اصل بات کچھ اور ہے۔
پھر بات شادی پر آ گئی۔ اس نے بتایا کہ اس کا منگیتر تو فوراً شادی کے پیچھے پڑا ہے۔ لیکن میں نے کہا ہے کہ تھوڑا سا منگنی کے بعد کے ٹائم کو بھی انجوائے کرتے ہیں۔ پھر بعد میں تم نے کون سا میرے نخرے اٹھانے ہیں۔
ہاں یہ تو ہے اس کے بعد انھیں ہر وقت ہم سے دور بھاگنے کی پڑی رہتی ہے۔ عمارہ نے بھی ایک چٹکلہ چھوڑ دیا۔
عبیر تمھارا کیا ارادہ ہے؟ا سارانے اچانک مجھ سے پوچھا۔
میں اس کے ڈائریکٹ سوال پر گھبرائی اور سوچنے لگی کہ اسے کس طرح کا جواب دوں۔ جو جواب ہو بھی اور نہ بھی ہو۔ اس سے پہلے میں کچھ کہتی عمارہ نے سرد آہ بھری۔
آہ!مت پوچھو بہت درد بھری داستان ہے بیچاری کی۔ اور یہ کہہ کر روہانسی سی شکل بنا کر کہنے لگی۔
ایک لڑکا پسند آیا، لیکن وہ پہلے سے ہی۔ ۔ ۔
میں فوراً گھبرا گئی، یہ مذاق میں کوئی ایسی فضول بات نہ کہہ دے۔
میں نے فوراً بات کو ٹالتے ہوئے کہا۔ شادی بھی ہو جائے گی اتنی بھی کیا جلدی ہے۔ پہلے میں اپنے لیے فیشن میں کچھ کرنا چاہتی ہوں۔ ایک بار شادی ہو گئی تو پھر اس طرف فوکس مشکل سے ہو گا۔
ہاں یہ تو ہے۔ لیکن یاردیکھ لینا اس چکر میں عمر نہ نکل جائے۔
ویسے تمھاری کسی کے ساتھ انڈرسٹینڈنگ۔ ۔ یا دوستی۔ یو نو واٹ آئی مین۔
میں اس کی بولڈنس پر حیران رہ گئی۔ اتنا بولڈ سوال صرف عمارہ کو کرنے کی اجازت ہے۔
شاید وہ جس کلاس سے بی لونگ کرتی ہے وہاں یہ بات نارمل ہے۔ شاید وہ مجھے جج نہیں کر رہی۔ وہ خود بھی تو لڑکوں سے کھلم کھلا دوستی کرتی رہی تھی۔ ہم لوئر مڈل کلاس لوگ ان باتوں کو کچھ زیادہ ہی سیرس لیتے ہیں۔ اسے عزت غیرت کا مسئلہ بناتے ہیں۔
نہیں یار ایسا کچھ نہیں ہے۔ ہمارے ہاں لڑکیاں یہ فیصلے اپنے ماں باپ پر چھوڑ دیتی ہیں۔ وہ بہتر جانتے ہیں ہمارے لیے کیا بہتر ہے۔ میں نے روایتی جواب دیا۔
یار در اصل میں تم لوگوں سے ایک بہت اہم بات کرنے آئی ہوں۔ اس کا تعلق تمھارے ساتھ ہے عبیر۔
میں نے چونک کر اسے دیکھا۔ اس کو یونیورسٹی ختم ہونے کے بعد مجھ سے کیا کام پڑ گیا؟
تمھیں ہماری سینئر شمائلہ یاد ہے۔ جس نے ویلکم پارٹی میں ڈانس بھی کیا تھا۔
ہاں شمائلہ، وہ تو ہماری پروجیکٹ ایگزیبیشن میں بھی آئی ہوئی تھیں۔
شمائلہ کو ہم نے پہلی بار چار سال پہلے ویلکم پارٹی میں دیکھا تھا۔ اس نے ساری پہن کر انڈین گانے پر بہت اچھا ڈانس کیا تھا۔ اسے ڈانس اور ایکٹنگ کا بہت شوق تھا۔ بعد میں اس نے ایک دو فیشن شوز میں ماڈلنگ بھی کی۔ اس کی ساری فیملی ہی آرٹسٹ ٹائپ کی تھی۔ اس کی امی بنگالی ہونے کی وجہ سے گانے اور ڈانس کا شوق رکھتی تھیں۔ اس کے فادر بیورکریٹ تھے۔ نوجوانی میں بنگلہ دیش میں اس کی مما کے عشق میں ایسے گرفتار ہوئے کہ ساری مخالفتوں کے باوجود شادی کر لی۔ ان کے بچوں نے بھی آرٹیسٹک شوق پائے۔ شمائلہ شروع سے ہی آرٹسٹ طبیعت کی مالک تھی۔ یونیورسٹی میں اس کا سارا گروپ بھی ایسا ہی تھا۔ اس کی خوبصورتی اور شوق کو دیکھ کر یہی لگتا وہ ایکٹنگ یا سنگنگ میں ضرور نام بنائے گی۔
پچھلے سال سب کی امیدوں کے برعکس شمائلہ نے شادی کر لی۔ اس نے اپنے سارے شوق چھوڑ کر خود کو گھر تک محدور کر لیا۔ معلوم ہوا اس کی شادی کسی کاروباری خاندان میں ہوئی ہے جو کٹڑ مذہبی ہے۔ ان کی عورتیں پردہ کرتی ہیں۔ شمائلہ کا شوہر امریکہ سے ماسٹر کر کے آیا اور یہاں والد کا گارمنٹس بزنس ہینڈل کرنے لگا۔
اس کو شمائلہ اسی وقت پسند آ گئی، جب وہ ایک بار یونیورسٹی میں پروجیکٹ اییگزیبیشن پر آیا۔ وہ کافی عرصہ شمائلہ کے پیچھے پڑا رہا مگر شمائلہ نے انکار کر دیا۔ لیکن اس لڑکے کا اصرار جاری رہا۔ ایک سال بعد اچانک شمائلہ مان گئی۔ اب ان کی دو بیٹیاں ہیں جو اپنی ماں کی طرح بہت خوبصورت ہیں۔ شمائلہ نے اپنے شوق کو گھر اور شوہر تک محدود کر لیا۔
شمائلہ سے ہمارے فیملی ٹرمز ہیں۔ وہ اکثر ہمارے گھر آتی ہیں۔ آج کل وہ ایک مشن پر ہیں جس پر ہر بھابھی زندگی میں جلد یا بدیر ضرور نکلتی ہے۔ یعنی اپنے دیور کے لیے رشتہ ڈھونڈنا۔
ان کی نظر میں اچھی لڑکیوں کی کان تو صرف یہ یونیورسٹی ہے اسی لیے یہیں سے سٹارٹ کرنا چاہیے۔
سینکڑوں لڑکیوں میں ان کی نظر سب سے پہلے تم پر پڑی ہے۔ اس نے ہاتھ سے میری طرف اشارہ کیا۔
کیا!!
یہ بات میری سر پر ایک بم؂ کی طرح گری۔
مجھے یاد آیا، کچھ دن پہلے وہ پراجیکٹ ایگزیبیشن پر آئی تھیں۔ اس دن انھوں نے ہمارے پاس کافی ٹائم بتایا۔ ہمارے پراجیکٹ کی کافی تعریف بھی کی تھی۔
میرا ذہن اس دن بہت زیادہ مصروف تھا۔ اس لیے ان کی باتوں کو میں نے کوئی دھیان نہیں دیا۔ اچھا!! تو وہ مجھے رشتے کے لیے دیکھنے آئی تھیں۔
وہ خود تم سے ملنے آنا چاہتی تھیں مگر انھیں کچھ دنوں کے لیے لاہور جانا پڑ گیا۔ تو انھوں نے میرے ذمہ یہ کام لگایا کہ میں تم سے بات کر لوں۔ وہ ڈائریکٹ بات کرنے سے بھی کترا رہی ہیں، نہ جانے تمھارا ریسپانس کیا ہو۔
میرے ذہن میں بیک وقت کئی خیالات آئے۔ سمجھ نہیں آئی کہ کیا جواب دوں۔ میری کنفیوثن دیکھتے ہوئے عنبر خود ہی مزید انفارمینشن دینے لگی۔
ان کے دیور کا نام کاشف ہے۔ اس نے آئی بی اے سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسڑ کیا ہے۔ خاندانی بزنس کے بجائے اپنا کام کرنا چاہتا ہے۔ وہ آئی ٹی پراڈکٹس بنانے والی ایک کمپنی میں تجربہ حاصل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ کہتا ہے کہ بہت جلد اپنی کمپنی کھولوں گا۔ ابھی بھی اچھا کماتا ہے۔ ہینڈسم اور فنی ہے۔ اگرچہ خاندان کی کئی لڑ کیاں اس سے شادی کرنے کو تیار ہیں۔ پر اسے کوئی پسند ہی نہیں آتی۔ کہتا ہے یہ الیٹ کلاس کی لڑکیاں مجھے بور کرتی ہیں۔ یہ دکان پر پڑی سجی ہوئی گڑیوں جیسی ہیں۔
مجھے کچھ ایسا چاہیے جو فیشن کی اس گرد سے پاک ہو۔ جو پلاسٹک کی گڑیا نہ ہو۔ اسے آج تک ایسی لڑکی نہیں ملی۔ جب اس نے یہ بات اپنی بھابھی کو بتائی۔
شمائلہ کو یہ ساری خوبیاں تمھارے اندر نظر آئی ہیں۔
میں اپنی تعریف پر شرما گئی۔ یعنی لوگ مجھے اپنے گھروں میں اس طرح یاد کرتے ہیں۔
مجھے اب بھی سمجھ نہیں آیا، کیا کہوں؟
پہلے خیال آیا کہ فوراً انکار کر دوں۔ پھر سوچا، تھوڑا روڈ لگے گا۔
کوئی بہانہ بنا دیتی ہوں۔ کہہ دیتی ہوں کہ گھر والوں نے پہلے ہی لڑکا پسند کر لیا ہے۔
یہ شمائلہ کا حسن ظن ہے جو مجھے ایسا سمجھتی ہیں۔ مجھ میں ایسی کوئی خاص بات نہیں ہے۔ میں ایک سادہ سے لڑکی ہوں۔ ان کا دیور مجھ سے بات کرتے ہی بور ہو جائے گا۔
سارا کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آئی۔
اس بات کا تو یہیں پر پتا کرایا جا سکتا ہے۔
وہ کیسے؟
کاشف میرے ساتھ ہی یونیورسٹی آیا ہے، اور پارکنگ میں کھڑا ہے۔ میں اسے ہیلو ہائے کے لیے بلا لیتی ہوں۔
میں چونک گئی۔ یعنی وہ گاڑی والا لڑکا کاشف تھا۔
یا اللہ ! یہ آج دن کہاں سے چڑھا ہے جو ایک کے بعد ایک انکشاف ہو رہا ہے۔ میں شش و پنج کا شکار ہو گئی۔
مجھے جواب دینے کی کشمکش سے عمارہ نے نکالا۔
ہاں ہاں بلالو۔ صرف سلام دعا سے کوئی قیامت نہیں آئے گی۔
میں شرما گئی اور منع کرنا چاہا، لیکن نہ کرپائی۔
میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ میرا رشتہ دیکھنے کو ئی اس طرح بھی آئے گا۔
تھوڑی دیر میں کاشف آیا تو میرا کانفیڈنس بالکل لوز ہو گیا۔ مجھ سے اس کی طرف دیکھا بھی نہیں گیا۔ میرا دل بہت تیزی سے دھڑکنے لگا۔ یہ مجھے کیا ہو رہا ہے۔ میں اتنی کانفیڈنس لیس تو نہیں تھی۔
اس کا انداز بہت پولائٹ اور باتوں سے اعتماد پھوٹتا تھا۔ اس نے آتے ہوئے مجھے کچھ لمحوں لیے غور سے دیکھا۔ اس کی نگاہوں میں کوئی چھچورا پن نہیں، بس ہلکی سی دلچسپی دکھائی دی۔
اس نے کچھ رسمی سی باتیں کیں اس کی باڈی میری طرف رہی اور بات وہ عمارہ اور عنبر سے کرتا رہا۔ یعنی اس کی اٹینشن میری طرف ہی تھی۔ اس نے عمارہ سے ہمارے بزنس پلان کے بارے میں پوچھا، اور خوب دلچسپی ظاہر کی۔ اس کے مطابق یہ پلان کامیاب ہونا چاہئے۔ مارکیٹ میں اس وقت نئے آئیڈیاز کی ضرورت ہے۔ وہ جب بات کرتا تو اپنی باڈی لینگوج اور ایکسپریشنز سے اپنی بات کو پوری طرح واضح کرتا۔ اس کے انداز میں کوئی شوخی اور بڑائی کا ایلیمنٹ نہیں تھی۔ اس کاکلون بھی ایسا منفرد اور دھیما دھیما کہ حواس پر طاری ہو گیا۔
میں یہ تو نہیں کہہ سکتی کہ میں پہلی نظر میں اس سے محببت ہو گئی، لیکن وہ باقی لڑکوں سے بہت مختلف لگا۔
اس نے غیر محسوس انداز سے مجھ سے میرے بنائے ہوئے ڈیزائنز کے بارے میں پوچھنا شروع کیا اور جینوئن دلچسپی ظاہر کی۔ میں شروع میں تو نروس ہوئی۔ پر اس کے انداز نے میرا سارا ڈر ختم کر دیا۔
ہم اس گفتگو میں اتنا کھو گئے کہ خبر ہی نہ ہوئی، کب عمارہ اور ساراوہاں سے کھسک گئیں۔ میں اسے اپنی آئیڈیاز کے بارے میں بتانے لگی۔ میری فیشن کی فلاسفی کیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ وہ بہت انہماک سے سنتا رہا۔ کئی باتوں پر اس نے ایسے فنی جملے کہے کہ بے اختیار میری ہنسی نکل گئی۔ وقت گزرنے کا بھی احساس نہ ہوا۔
حیرت تھی کہ آج تک میں نے ایسا محسوس نہیں کیا۔ ہم پتا نہیں کتنی دیر تک باتیں کرتے رہے۔ تبھی مجھے عمارہ اور سارہ کی موجودگی کا احساس ہوا۔ کچھ دیر بعد دونوں اجازت لے کر رخصت ہو گئے۔
ساراکے جاتے ہی عمارہ تو جیسے تیار بیٹھی تھی۔ وہ کچھ کہتی میں نے فوراً اس کے منہ پر انگلی رکھی اور کہا کہ ایک لفظ مت بولنا۔ تم سوچ میں بہت آگے جاچکی ہو۔ ہماری ساری باتیں فارمل ہی ہوئی ہیں، ویسے تمھیں شرم نہیں آئی مجھے اکیلا وہاں چھوڑ کر بھاگتے ہوئے۔
اچھا جی فارمل باتوں یوں ہنسا جاتا ہے۔ اس نے شرارتی لہجے میں کہا۔
میرے کان لال ہو گئے۔
وہ باتوں کے درمیاں ایک آدھا چٹکلا چھوڑ دیتا تھا، میں کیا کرتی۔ میں نے چہرے کے تاثرات چھپانے کے لیے منہ پھیر لیا۔
یہ بتاؤ تمھیں پسند آیا کہ نہیں؟ عمارہ نے سنجیدہ انداز سے پوچھا۔
یار پتا نہیں لیکن وہ برا نہیں ہے۔ میں نے گول مول سا جواب دیا۔
یعنی اگر وہ لوگ تمھا رے گھر رشتہ بھیجیں تو تمھیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔
یار! میری مرضی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ فیصلہ تو امی ابا نے کرنا ہے۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ یونیورسٹی کے تعلق سے میرے گھر رشتہ گیا تو ابا یہی سمجھیں گے کہ میں پہلے سے کسی کو پسند کرتی ہوں۔ اس لیے تم سارہ کو انکار کر دو۔
میں نہیں چاہتی کوئی بھی ایسی بات ہو جس کی وجہ سے ابا کے مان کو ٹھیس پہنچے۔
ٹھیک ہے جیسے تمھاری مرضی۔۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اگلے کچھ دن بہت بے چینی سے کٹے، ہر وقت دھڑکا لگا رہتا کہیں شمائلہ رشتہ لے کر نہ پہنچ جائیں۔ مجھے مکس فیلنگ آ رہی تھیں جیسے میں چاہ بھی رہی ہوں کہ ایسا ہو اور نہیں بھی چاہ رہی۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔
امی کی سیکریسی کا راز بھی کھل گیا۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ ایک رشتے والی کی طرف سے ایک بہت اچھا رشتہ آیا تھا۔ تمھارے ابا اور مجھے وہ بہت پسند آیا، تمھارے ابا نے لڑکے اور اس کے خاندان کے بارے میں سب پتا بھی کروا کر رشتہ قبول کر لیا ہے۔ اگلے ہفتے وہ لوگ منگنی کرنے ہمارے گھر آ رہے ہیں۔
کیا!!
یہ خبر میرے لیے ایک دھماکے سے کم نہیں تھی۔ یعنی میری مرضی پوچھے بغیر کسی نتھو خیرے سے میری بات پکی کر دی ہے۔ مجھے شدید غم ہوا۔
لیکن امی میری مرضی۔ ۔
بیٹا لڑکا بہت اچھے گھرانے کا ہے اور بہت اچھا کماتا ہے۔ تم بہت سکھی رہو گی۔ یہ پسند نا پسند والی باتیں وقت ہوتی ہیں۔ سکھی زندگی کے لیے کچھ اور ہی چیزیں چاہئے ہوتی ہیں۔
مجھے ابا کی پسند کا پتا تھا۔ ہو گا کوئی میڑک فیل دکان دار۔
میں نے اماں سے کچھ پوچھنا یا بتانا مناسب نہیں سمجھا، اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔ میں بالکل ہی بے بس اور مجبور ہوں۔ ہم لڑکیوں کے بس میں کچھ ہے بھی یا نہیں۔
میں نے عمارہ کو فون کیا اور دیر تک اپنے دکھڑے سناتی رہی۔ اس کو بھی دکھ ہوا۔ اب وہ سوائے تسلی دینے کے کیا کر سکتی تھی۔
منگنی کا فنکشن بہت سادگی سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بہت قریبی افراد کے علاوہ کسی کو انوائٹ نہیں کیا گیا۔ مجھے اب کسی چیز سے کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی۔ میں کپڑوں اور جیولری کو ایسے دیکھنے لگی جیسے یہ کسی اور کی ہوں۔ شگفتہ نے مجھے تسلی دی، اور ہر کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
میں کیا کروں؟کہیں بھاگ چلوں، یا خود کشی کر لوں۔ یا اللہ ویسا سب نہ ہو جیسا میں سوچ رہی ہوں۔ یعنی اب میں بھی ساری زندگی اماں کی طرح گھر میں ہی مصروف رہوں گی۔ میرے سارے شوق دبے کے دبے ہی رہ جائیں گے۔ کہاں گئیں وہ دادی اماں کی باتیں، کیا وہ سب جھوٹ تھا؟ کہ کوئی شہزادہ مجھے ڈھونڈتا ہوا آئے گا۔
میں نے عمارہ کو اپنی منگنی پر آنے سے منع کر دیا۔ یہ منگنی نہیں میرا جنازہ تھا۔ میں اسے اپنا اداس چہرہ کیسے دکھاؤں۔
لیکن وہ زبردستی آ گئی۔ اور بہت قیمتی گفٹ بھی لے کر آئی۔ وہ آتے ہی اماں اور شگفتہ کے ساتھ گھل مل گئی۔ میرا روہانسا سا چہرہ دیکھ کر مجھے بار بار تسلی دیتی۔ پر مجھے چین نہ آیا۔
تب سمجھ آئی، میرے خواب کی تعبیر کیا ہے: میں ایک بھیڑیے کی قید میں جانے والی ہوں، جو مجھے ساری زندگی قید میں رکھے گا۔ میرے سارے شوق ختم ہو جائیں گے۔ میں بھی ایک جاہل قسم کی لڑاکا عورت بن جاؤں گی جو سارا دن ساس اور نندوں سے لڑتی رہے گی۔
زندگی کے کھیل بھی نرالے ہیں ہم جس خواب اور امید کے سہارے ساری زندگی گزارتے ہیں۔ وہی جھوٹا ثابت ہو جاتا ہے۔ اماں نے بھی اپنی شادی کے وقت ایسا ہی محسوس کیا ہو گا۔
کسی کے دکھ کا احساس بھی اس وقت ہوتا ہے جب آپ اسے خود محسوس کرتے ہیں۔ کتنی ہی لڑکیاں پاکستان اور دنیا بھر میں اس دکھ سے گزرتی ہوں گی۔
میری بڑی خالہ صبیحہ بانو بہت خوبصورت تھیں۔ میں نے جب انھیں دیکھا وہ اس وقت چالیس سال سے اوپر ہوں گی۔ انھیں دیکھنے والا دیکھتا ہی رہ جاتا۔ ان کے خوبصورت چہرے پر وقت اداسی چھائی رہتی۔ کبھی کبھی ان کے چہرے پر نیلے نشان بھی نظر آتے۔ اماں ان سے بہت محبت کرتی تھیں۔ نانی کی فوتگی کے بعد انھیں اپنی ماں جیسا سمجھتیں۔ مجھے اس وقت ان کی اداسی کی سمجھ نہیں آتی تھی۔ جب میں بڑی ہوئی تو معلوم ہوا کہ ان کی شادی زبردستی کی گئی تھی۔ وہ اپنے کزن کو پسند کرتی تھیں۔ غربت کی وجہ سے ان کی شادی اپنے سے بہت بڑی عمر والے شخص سے ہوئی۔
ان کے شوہر کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرتے تھے۔ کاروبار کے شروع میں انھوں نے کافی پیسے کمائے۔ اکثر نودلتیوں کی طرح ان سے بھی پیسے سنبھالے نہیں گئے۔ بہت جلد انھیں جوئے اور شراب کی لت پڑ گئی۔ شادی کے کچھ دن بعد ہی معلوم ہو گیا کہ دونوں میاں بیوی میں کوئی مطابقت نہیں ہے۔ صبیحہ خالہ کی محبت کا زخم ابھی تازہ تھا۔ کچھ دن بعد انھیں کچھ اور طرح کے زخم بھی ملنا شروع ہو گئے۔
خالو اکثر نشے میں دھت گھر آتے۔ ذرا ذرا سی بات پر خالہ کو مارنا شروع کر دیتے۔ شروع شروع میں خالہ روٹھ کر کئی کئی دن کے لیے گھر آ کر بیٹھ جاتیں۔ تب ان کی ساس انھیں منا کر لے جاتیں۔ ان کی مصیبتیں کسی صورت کم نہ ہوتیں۔ ان دنوں طلاق کا تو تصور بھی نہ کیا جاتا۔ یہی کہا جاتا: پیا گھر سے ہی جنازہ نکلے گا۔
خالہ چپکے چپکے روتی رہتیں، اور لوگوں سے اپنے چہرے کے زخم چھپاتیں۔ اس دوران ان کی دو بیٹیاں بھی پیدا گئیں۔ چھوٹی بچیوں کو دیکھ کر بھی خالو کی حرکتیں ٹھیک نہ ہوئیں۔ ان کی جوئے کی لت نے ان کی ساری کمائی چھیننا شروع کر دی۔ کچھ ہی سالوں میں وہ صرف ایک گھر رہ گیا۔ قریب تھا کہ وہ بھی بک جاتا۔ وہ مکان خاندانی ہونے کی وجہ سے ساس کے نام پر تھا۔ انھوں نے مرنے سے پہلے یہ مکان صبیحہ خالہ کے نام لگا دیا۔ یہ وصیت بھی کر گئیں کے اس مکان کو بیچا نہیں جا سکتا۔ وہ اپنے بیٹے کو جانتی تھیں۔ انھیں افسوس تھا کہ انھوں نے اتنی خوبصورت لڑکی کی زندگی برباد کر دی۔ یہ گھر خالہ کے نام لگانا بھی ایک طرح کا کفارہ تھا۔ خالو نے اس بات پر بھی بہت شور ڈالا۔
خالو کے مالی حالات دگرگوں ہو گئے۔ خالہ نے گھر کا خرچہ چلانے کے لیے ایک فیکٹری میں نوکری شروع کر دی۔ وہ جتنا کماتیں اس سے بمشکل دو وقت کی روٹی میسر آتی۔ ان کی تین بیٹیاں اور دو بیٹے تھے۔ خالو شہر میں آوارہ گردی کرتے رہتے۔ خالہ کو کام کرنے سے روکتے۔ کئی بار سڑک پر لڑائی بھی شروع کر دیتے۔ محلے کے بچے سارا دن خالو کو تنگ کرتے۔ خالہ کی غربت اور خالو کی حرکتوں کی وجہ سے کئی بری فطرت کے لوگوں نے خالہ کی طرف اپنے غلیظ ہاتھ بڑھائے۔ ان کی خوبصورتی کے چرچے تو تھے ہی۔ کئی نوکریوں میں انھیں لالچ دے کر قائل کرنے کی کوشش کی جاتی۔ اسی حالت میں خالو فوت ہوئے۔ ان کی فوتگی کے بعد لوگ اور شیر ہو گئے۔
خالہ نے بڑی دلیری سے ان ساری مصیبتوں کا مقابلہ کیا۔ وہ اندر سے ٹوٹ گئیں۔ ان کی تینوں بیٹیاں ڈاکٹر بن گئیں، اور بیٹوں نے اکاؤنٹس کی تعلیم حاصل کی۔ جب ان کا بیٹا نوکری پر لگا اس کے کچھ دن بعد وہ خاموشی سے فوت ہو گئیں۔ انھوں نے اپنے کسی بچے کی خوشی نہیں دیکھی۔ میں ان کے جنازے پر گئی تو ان کے چہرے پر ایک سکون نظر آیا۔ جیسے ان کے سر سے کوئی بوجھ اتر گیا ہو۔
کیا میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہو گا؟
مجھے شگفتہ نے بتایا کہ وہ لوگ آ گئے ہیں۔
اب مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ وہ کس گاڑی سے اور کتنے لوگ آئے ہیں وغیرہ۔
میری بلا سے سار اشہر آ جائے یا کوئی بھی نہ آئے۔
بعد میں پتا چلا کہ میرا منگنی کا سوٹ عمارہ اور شکفتہ نے بہت مہنگے ڈیزائنر سے بنوایا تھا۔ اس پر اتنا ڈیٹیل سے کام ہوا کہ دیکھتے رہ جاؤ۔ اپنے اس فنکشن کے مجھے کتنے ارمان تھے۔ ہم لڑکیوں کی زندگی میں یہ فنکشن ہی تو ہیں۔ جہاں ہم ساری توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ میں اپنی ساری کزنز کو بلانا چاہتی تھی۔ پر میری زندگی کا سب سے اہم فنکشن میرے لیے سب سے بڑا دکھ لے کر آیا۔
عمارہ سار وقت میرے ساتھ رہی، وہ اس فنکشن کو یوں انجوائے کر تی رہی جیسے بہت خوشی کی بات ہو۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر قہقہے لگاتی۔ صحیح کہتے ہیں سہیلیاں سب نام کی ہی ہمدرد ہوتی ہیں۔ بجائے اس کے کہ وہ میرے ساتھ اداس بیٹھے وہ میرے غم کو سیلیبریٹ کر رہی تھی۔
مجھے آوازیں آئیں کہ لڑکے کے گھر کی عورتیں مجھے انگوٹھی پہنانے آ رہی ہیں۔ میرا دل بہت زور زور سے دھڑکنے لگا۔ جی بے اختیار رونے کو چاہا۔ میں بس نظریں جھکائے بیٹھی رہی۔ میں نے یہ دیکھنے کی زحمت نہیں کی کہ مجھے کون انگوٹھی پہنا رہا ہے۔ میرا ذہن سائیں سائیں کرنے لگا۔ کوئی معجزہ نہیں ہوا اور مقدر کا لکھا پورا ہو گیا۔
مبارک مبارک کی آوازیں آئیں، مٹھائیاں کھلائی گئیں۔ اس دن مجھے پہلے بار مٹھائی کڑوی لگی۔
اسی دوران کھانا بھی لگا دیا گیا۔ میری بھوک پیاس سب مر گئی۔ عمارہ پلیٹ بھر کے میرے اور اپنے لیے لے آئی۔ یعنی کوئی حد ہوتی ہے۔ اس کو اس وقت بھی بھوک لگی تھی۔ ساتھ ساتھ کھانے کی تعریف بھی کرنے لگی، توبہ ہے۔
عبیر اپنے منگیتر کی لیٹسٹ تصویر تو دیکھ لو۔ کتنا ہینڈسم لگ رہا ہے۔
میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔ مجھے نہیں دیکھنی۔ ساری زندگی اب یہی چہرہ تو دیکھنا ہے۔
اچھا رونا بند کرو، اتنا بھی برا نہیں ہے۔۔
کہہ دیا نا نہیں دیکھنا مجھے کچھ بھی۔
دیکھ لونا عبیر، مجھے ایک جانی پہچانی آواز سنائی دی۔
سارہ یہاں کیا کر رہی ہے۔ اس کو کس نے انوائیٹ کیا ہے، تبھی میری نظر شمائلہ پر پڑی۔ مجھے انگوٹھی شمائلہ نے ہی پہنائی تھی۔ اس بات کا کیا مطلب ہے؟ کہیں میرا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا؟
شاید غم کی حالت میں ایسا ہو رہا تھا۔
یہ خواب نہیں، یہ لوگ حقیقت میں یہاں موجود تھے۔ میں نے فوراً عمارہ کو دیکھا وہ بڑے شریر انداز سے مسکرا ئی۔
اس کا مطلب تھا میری منگنی کاشف سے۔ ۔ ۔۔
اور عمارہ کو شروع سے سب کچھ پتا تھا۔ جان بوجھ کر میرے ساتھ مذاق کر رہی تھی۔
میں نے اسے مصنوعی غصے سے ایک چٹکی کاٹی اور وہ اچھل پڑی
یہ کس لیے؟
مجھے اندھیرے میں رکھنے کے لیے، یہاں اتنے دن سے میری جان پر بنی ہوئی تھی اور تم جانتے بھوجتے انجوائے کرتی رہیں۔
انجوائے تو میں نے خوب کیا۔ پچھلے سارے بدلے اتارے ہیں۔ ویسے تمھاری پریشانی دیکھ کر مجھے یہ تو سمجھ آ گیا تھا کہ تمھیں کاشف پسند آ گیا ہے۔
میں تھوڑا شرمائی، ایسی بات نہیں ہے۔ مجھے ڈر تھا کہ ابا کسی کے بھی ساتھ میری شادی کر دیں گے۔
اس کے بعد میں بھی کھانے کو انجوائے کرنے لگی۔ سارہ اور شمائلہ کے ساتھ ہنس ہنس کے باتیں شروع کیں۔ میں اپنی ڈائمنڈ کی انگوٹھی کو دیکھ کر خوش ہوئی۔ اچانک زندگی کی ساری خوشیاں لوٹ آئیں۔ کمرے میں روشنی تھوڑی زیادہ ہو گئی۔
میں نے امی کو دیکھا تو وہ بہت خوش نظر آئیں۔ جیسے میرے چہرے میں اپنی جوانی دیکھ رہی ہوں۔ جاتے ہوئے سارانے چپکے سے پوچھا کہ اگر کاشف تم سے رابطہ کرنا چاہے تو تمھیں اعتراض تو نہیں ہو گا۔ آئی مین تم لوگ اینگیج ہو گئے ہو پھر بھی تمھاری مرضی پوچھنا ضروری ہے۔
میں اس بات کا کیا جواب دیتی۔ اس وقت نہ کہنا بھی مناسب نہیں لگا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بعد میں عمارہ نے مجھے ساری کہانی سنائی۔ شمائلہ کو میں بہت پہلے ہی پسند آ گئی تھی۔ اس نے غیر محسوسانہ طریقے سے میرے بارے میں سب پتا کروا لیا۔ اسے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ میرے رشتے میں اصل فیصلہ کرنے والے امی ابا ہی ہیں۔ اگر یونیورسٹی کے ریفرنس سے رشتہ گیا تو معاملہ بگڑ سکتا ہے۔ انھوں نے دوسرے سوشل لنکس کا استعمال کیا۔ امی ابا کی طرف سے کچھ پوزیٹیو ریسپانس ملا تو پھر انھوں نے میری اور کاشف کی ملاقات کا بھی بندوبست کر دیا۔
اس دن ہونے والی ہماری ملاقات محض اتفاقیہ نہیں، پلانڈ تھی۔۔
عمارہ بھی اس منصوبے میں برابر کی شریک تھی۔ میں نے حیرانگی سے یہ کہانی سنی اور لوگوں کی چالاکی کی داد دی۔
اس دن کے بعد میرے سر سے بوجھ اتر گیا۔ عجیب سی خوشی محسوس ہونے لگی۔ میرا مستقبل اتنا بھی تاریک نہیں ہے۔ اماں ابا بھی خوش ہو گئے۔ انھوں نے اب شادی کی تیاریاں شروع کر دیں۔ ایک سال کے اندر اندر رخصتی کا پلان ہے۔ منگنی کے ایک دو دن کے بعد مجھے کاشف کا میسج آیا۔
اب میں اس سے کیا بات کروں۔ میں نے آج تک کسی لڑکے سے موبائل پر میسجنگ اور کال نہیں کی۔ پتا نہیں وہ میری باتوں سے کیا مطلب لے گا۔
میں شروع میں ریزرو ہی رہی۔ زیادہ ایڈوانس شو کرنا بھی مناسب نہیں۔ رفتہ رفتہ میری جھجک ختم ہونے لگی۔ اس کی باتیں بھی اتنی فنی ہوتیں کہ میرا سارا خوف دور ہو گیا۔ میں اس کے ساتھ بہت کمفرٹیبل ہو گئی۔
میں نے خود کو بھی قائل کیا، میں کچھ برا تو نہیں کر رہی، آخر وہ میرا منگیتر ہے۔ واقعی منگنی کے بعد کا پیریڈ بہت مزے کاہوتا ہے۔
میسج سے ہم کالز پر آ گئے۔ مجھے ہر لمحہ اسی کا خیال رہتا۔ ہر وقت موبائل پر اس کے میسج یا کال کا انتظار ہوتا۔ اگر ایک دن وہ کال نہ کرتا تو میں بے چین ہو جاتی۔ شرم کے مارے میں خود اسے کال نہیں کرپاتی۔ جانے میرے بارے میں کیا سوچے گا۔
ہر شام جب میں شگفتہ کو کمرے سے باہر جانے کا کہتی تو وہ انجان بن کر پوچھتی۔
کیوں باجی کس لیے؟
میں اسے زور سے تکیہ مارتی تو وہ ہنستے ہوئے باہر جاتی۔
ذرا سوچیں کچھ دن کے لیے فون سروس بند ہو گئی تو کیا ہو گا۔
یا آپ مرجائیں گی یا کاشف بھائی مر جائیں گے۔
اللہ نہ کرے انھیں کچھ ہو۔
اوہو ابھی سے کاشف بھائی کو نام کے بجائے “ان ” کہنا شروع کر دیا۔ ویسے اتنی دیر تک آپ لوگ کیا باتیں کرتے ہیں؟ بور نہیں ہوتے؟
ہوتی ہیں کچھ باتیں جو تمھارے پریکٹیکل ذہن کو سمجھ نہیں آئیں گی۔
کاشف اور میں کچھ دنوں میں بہت قریب آ گئے۔ میں نے اسے اپنے بارے میں سب کچھ بتا دیا۔ یہ بھی کہ شادی سے پہلے میں اسے اپنا چہرہ نہیں دکھاؤں گی۔
عبیر تمھارا یہ پردہ مجھے بہت تڑپاتا ہے۔ تم اگر مجھے برباد کرنا چاہتی ہو تو ایک بار ہی نقاب اٹھا کر برباد کر دو۔
یہ پردہ داری ہے یا تماشا مجھی میں رہ کر مجھی سے پردہ
تباہ کرنا اگر ہے مجھہ کو اٹھا نقاب اور تباہ کر دے
یہ سن کر مجھے بہت ہنسی آئی۔
سوری مجھے آپ کو تباہ کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے اسی لیے میں اپنا نقاب نہیں اٹھاؤں گی۔
وہ باہر ملنے کا اصرارکر تا لیکن میں اس پر تیار نہ ہوتی۔ کسی جاننے والے نے دیکھ لیا تو جانے میرے بارے میں کیا سوچے گا۔ فون پر بات کرنے کی تو خیر ہے میں اور کاشف شادی کے بعد کی زندگی کو بھی ڈسکس کرتے۔ اس نے ہنی مون بھی پلان کر لیا۔ ہر کچھ دن کے بعد اس کی طرف سے مجھے گفٹ آتے رہتے۔ میں اسے منع کرتی لیکن وہ باز نہ آتا۔ اس کی چاہت دیکھ کر مجھے اپنی خوش قسمتی پر یقین نہ آتا۔
کاشف عام لڑکوں جیسا چھچورا نہیں تھا۔ اس کے دل میں جو ہوتا ہے وہ بغیر جھجک کہہ دیتا۔ بولتا اتنے دھیمے اور میٹھے انداز سے ہے کہ خود بخود اس پر پیار آنے لگتا۔ میں گھنٹوں اس کی فیس بک پکس دیکھتی رہتی
تیری صورت کو دیکھ کر مری جاں
خود بخود دل میں پیار اٹھتا ہے
فنی باتیں کر کے مجھے بور نہ ہونے دیتا۔ اس کی ایکٹویٹیز بہت تھیں۔ میں سوچتی میرے لیے ٹائم کیسے نکالتا ہو گا؟
آوٹنگ کا بھی شوقین تھا۔ ہر وقت دوستوں کے ساتھ کسی نہ کسی ریسٹورنٹ میں ہوتا۔ فیس بک اور ٹوئٹر پر بھی بہت ایکٹو تھا۔ ایڈونچر اور تھرل والے کاموں میں آگے آگے ہوتا۔ کبھی بنجی جمپنگ تو کبھی ماؤنٹین کلائمبنگ۔ اس کے کولیگز میں ایلیٹ کلاس کی لڑکیاں بھی شامل تھیں۔ جب میں لڑکیوں کے ساتھ اس کی پرانی تصویریں دیکھتی تو عجیب سی جیلسی ہوتی۔ حیرت ہے ایسا لڑکا بغیر تصویر دیکھے یا ملے دیکھے شادی پر تیار کیسے ہو گیا۔
واقعی جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں۔
تجسس کے مارے ایک دن میں نے اس سے ڈائریکٹ پوچھ لیا۔ تم نے میرے ساتھ شادی کی حامی کیوں بھری۔ جب کہ تم نے میر اچہرہ بھی نہیں دیکھا۔
اس نے لمبی آہ بھری۔
عبیر یہ ایک لمبی کہانی ہے، جان کر کیا کرو گی۔ تم بس جان لو کہ ہمارا ملنا مقدر میں لکھا تھا۔
نہیں مجھے تمھاری کہانی سننا ہے۔ میں نے بھی تو تمھیں اپنی ساری باتیں بتا ئی ہیں۔
میری ضد کے سامنے اس نے گھٹنے ٹیک دیے۔ ویسے بھی وہ میری کسی بات کو نہیں ٹالتا۔
آہ! عبیر تمھارے ہونٹوں سے نکلی بات میرے لیے حکم کا درجہ رکھتی ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کاشف بچپن سے ہی لاڈلا اور شرارتی تھا۔ اس کے والد کاظم صاحب ایک سیلف میڈ انسان ہیں۔ باپ کا سایہ سر پر سے اٹھ جانے کی وجہ سے بہت چھوٹی عمر میں مزدوری کرنا پڑی۔ پڑھائی تو ان سے نہ ہوئی، البتہ زندگی کی یونیورسٹی سے ساری ڈگریاں لے لیں۔ کئی سال مختلف طرح کی مزدوریاں کرنے کے بعد انھیں کپڑے کے کام کی تھوڑی سمجھ بوجھ پیدا ہوئی۔ ایک کپڑے کے بیوپاری کے ہاں بہت چھوٹے لیول سے کام کرنا شروع کیا۔ طبیعت میں مستقل مزاجی اور ہار نہ ماننے کا جذبہ تھا۔ ان کے ساتھ کے سب لوگ کسی ایک کام میں نہ ٹکتے، چوری چکاری کرتے، نشہ پہ لگ جاتے۔
اپنی والدہ کی کی ہوئی تربیت کے زیر اثر ان کے دل میں دین سے محبت موجود تھی۔ جیسے بھی حالات ہوں وہ کبھی اللہ سے مایوس نہیں ہوئے۔ نماز روزہ کبھی نہ چھوڑتے۔ بھوکوں کو بھی کھانا کھلاتے۔
کہتے، میں تیس سال کا ہو گیا۔ سالوں کی مزدور کی باوجود حالات نہ بدلے۔ میں پھر بھی اللہ سے نا امید تو نہیں ہوا۔ ایک دن بیمار ہوا اور سخت سردی میں مزدوری کرنا پڑی۔ باقی سب مزدور چھٹی چلے گئے۔ میں نے اکیلے کپڑے کی ساری گانٹھیں اتار کر گودام میں رکھیں۔ شام کو گھر سے لایا ہوا کھانا کھولا۔ کھانا کیا تھا صرف دو سوکھی روٹیاں اور اچار تھا۔ میرے سارے پیسے گھر کے کرائے پر لگ جاتے۔ اماں بھی بیمار رہتیں۔ اس دن جب میں نے ٹھنڈی خشک روٹی کھانا شروع کی تو ایک شدید مایوسی کی لہر میرے دل میں اٹھی۔
دل سے ایک آواز نکلی کہ کیا اتنی محنت کے بعد بھی میری قسمت میں یہی ہے۔ اسی وقت مجھے ایک آواز نے چونکایا۔ وہ گودام کے پاس رہنے والی ایک پاگل بڑھیا تھی۔
وہ پاگل بڑھیا پتا نہیں کون تھی اور کہاں سے آئی۔ کئی مہینوں سے گودام کے پاس ہی گھومتی رہتی۔ ارد گرد کے لڑکے اسے پتھر مارتے۔ وہ بھی آگے سے صلواتیں سناتی۔ ایسا لگتا اس نے جوانی میں اچھا وقت دیکھا ہے۔ سخت سردی میں بھی وہ ایک میلی سی شلوار قمیص پہنے ہوئے تھی۔ وہ سامنے کوڑے سے کچھ اٹھا کر کھارہی تھی۔ اس کی حالت دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میں نے غیر ارادی طور پر اس کے پاس گیا اور اپنی روٹیاں اسے دے دیں۔ اس نے مجھے خالی نظروں سے دیکھا اور روٹی لے کر دور بیٹھ کر کھانے لگی۔ میں بھوکا ہی گھر چلا گیا۔
وہ دن اور آج کا دن، میں نے کبھی بھوک نہیں دیکھی۔ جو دن چڑھتا ہے میری دولت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ شاید میرا اس دن اپنی بھوک کو بھلا کر اس پاگل کو کھانا کھلانا اللہ کو پسند آ گیا۔ میں چاہتا ہوں کہ قیامت میں اس واقعہ کے ذریعے میری مغفرت ہو جائے۔ یہ دنیا تو آنی جانی ہے۔
کاظم صاحب کا اللہ پر ایمان اور مضبوط ہو گیا اور انھوں نے زندگی کے ہر معاملے میں دین کو ہی آگے رکھا۔ بچوں کی بھی ایسی ہی تربیت کی۔ ان کی چار بیٹیوں کے بعد دو بیٹے پیدا ہوئے تھے۔ عاطف اور کاشف۔ دونوں نے بچپن سے ہی اچھے حالات دیکھے۔ بچیوں کو انھوں نے دینی تعلیم دلائی اور جلد شادیاں کر دیں۔ لڑکوں کی تعلیم اس طرح کی کہ وہ جلد بزنس سنبھال تاکہ وہ خود کاروبار چھوڑ کر اللہ کی یاد میں مگن ہو جائیں۔
بڑے بیٹے عاطف نے بہت جلد بزنس سنبھال لیا۔ لیکن کاشف چھوٹا اور لاڈلا تھا، اس پر پابندیاں اور ذمہ داریاں کم ڈالی گئیں۔
اس نے ہر وہ کام کرنا شروع کیا جو ہائی سوسائٹی میں ہوتا ہے۔ اپنی ذہانت کی وجہ سے پڑھائی نہ کرنے کے باوجود اس کے نمبر اچھے آتے۔ اس کا دل کسی کام میں دیر تک نہیں ٹکتا۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی اوٹ پٹانگ حرکت کرتا رہتا۔
او لیول میں اسے پہلی محبت ہوئی۔ لڑکی بھی بہت خوبصورت تھی۔ دونوں نے ڈیٹس پر جانا شروع کر دیا۔ کاشف نے محبت کی سرشاری میں جانے کیا کیا سپنے دیکھ لیے۔ اسے ابھی ہائی سوسائٹی کے چلن کی سہی سمجھ نہیں آئی تھی۔ اس لڑکی نے کچھ مہینوں بعد اسے ڈمپ کر دیا اور کسی دوسرے لڑکے دوستی کر لی۔ کاشف کی حالت دیوانوں جیسی ہو گئی۔ شاید وہ کوئی سٹوپڈ حرکت کربیٹھتا مگر اچھی تربیت نے اسے روکے رکھا۔
اس بے وفائی کے بعد اس کو اس سوسائٹی کی چمک دمک کے پیچھے اصل چہرہ نظر آنا شروع ہوا۔ اس نے اپنی صلاحیتوں کو کسی مثبت طرف لگانے کا فیصلہ کیا۔ بزنس ایڈمنسٹریشن کے دوران وہ یونیورسٹی کا پاپولر ترین لڑکا تھا۔ لڑکیاں اس کے آگے پیچھے رہتیں حالانکہ وہ ان سے بیزار تھا۔ اسے ان کے خوشنما چہروں کے پیچھے خالی پن نظر آتا۔ کئی لڑکیوں نے اسے خود پروپوز بھی کیا لیکن اس نے بات کو آگے نہیں بڑھنے دیا۔
کاشف کو اب کسی ایسی لڑکی کی تلاش تھی جو باقی سب کی طرح فیک نہ ہو۔ جو چھپے ہوئے ہیرے کی طرح ہو۔ جس کا حسن صرف اس کے لیے ہو۔ وہ اپنی ساری خوشیاں اس لڑکی پر وار دے۔ اسے بہت ڈھونڈنے کے باوجود بھی ایسی کوئی لڑکی نہیں ملی۔ اس کے گھر والوں نے اس پر شادی کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کیا۔ کوئی بھی اس کی کیفیت کو نہیں سمجھ پایا۔ اس کی ماں اور بہنیں تو مایوس ہو گئیں۔ جب اس کی بھابھی شمائلہ آئیں تو اسے ان کے اندر بھی ایک خالص پن نظر آیا۔ وہ ماڈرن ہونے کے باوجود دل سے اچھی تھیں۔ وہ بھی اپنا سب کچھ اپنے شوہر کے لیے وقف کر چکی تھیں۔
اسے بھی ایسی ہی لڑکی چاہیے تھی۔ اس نے اپنا دل بھابھی کے سامنے کھول دیا۔ انھوں نے اس سے وعدہ کیا کہ ایسی لڑکی وہ ڈھونڈ کے لائیں گی۔ ہاں، جب وہ ایسی لڑکی پسند کریں تو ٌپھر کاشف انکار نہیں کرے گا۔
کاشف کو جب میرا پتا چلا تو پہلے تو اسے یقین نہ آیا۔ اس نے سوچا یہ بھی کوئی اور ڈرامہ نہ ہو۔ اسی لیے انھوں نے ایک غیر رسمی ملاقات کا بندوبست کیا۔ مجھے پہلی نظر میں دیکھتے ہی اس کے دل نے گواہی دی کہ یہی وہ لڑکی ہے جس کی اسے تلاش تھی۔ مجھ سے بات کرتے ہوئے وہ اپنے آپ کو میری طرف کھننچتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ اس کے اندر کئی سالوں سے جو اداسی تھی وہ ختم ہو گئی۔ وہ بہت عرصے بعد ہنسنے لگا۔
عبیر تمھارے وجود اور باتوں سے میٹھی میٹھی پاکیزگی محسوس ہو تی ہے۔ تمھیں دیکھ کر میرے دل نے خود یہ گواہی دی۔ یہی وہ لڑکی ہے جس کی مجھے تلاش تھی۔
عبیر تم مجھ سے وعدہ کرو کے تم اپنی یہ پاکیزگی برقرار رکھو گی۔ تم کسی کا خیال بھی اپنے دل میں نہیں لاؤ گی۔ تم مجھے دھوکہ نہیں دو گی۔ اگر تم نے مجھے دھوکہ دیا تو یقین مانو میں تمھاری جان بھی لے لوں گا اور اپنی بھی۔
میں تم پر پابندی لگا کر گھر میں نہیں بٹھانا چاہتا، تم اپنے فیشن کے آئیڈیاز کو پرسیو کرو۔ ہاں بس فیشن کی اس دنیا کی چکا چوند سے متاثر نہ ہو جانا۔
اپنی تعریفیں سن کر بہت خوش ہوئی۔ یا اللہ تیرا شکر ہے۔ بس میری خوشیوں کو کسی حاسد کی نظر نہ لگے۔
وہ ڈراؤنا خواب مزید شدت سے نظر آنے لگا۔ مجھے اپنا ایک دوسرا چہرہ اس خواب میں نظر آتا۔ مجھے کس بات پر غصہ ہے؟ میں کیوں اس بھیٹریے کو مار رہی ہوں۔ کیوں اسے اپنے پیر چاٹنے پر مجبور کرنا چاہتی ہوں۔ وہ بھیڑیا مار کھا کھا کر سہما ہوا جانور بن جاتا۔ میں اس کے چہرے کو اپنے خوبصورت ننگے پیروں سے کچلتی اور وہ انھیں چاٹنے کی کوشش کرتا۔ جیسے وہ مجھے مالکن سمجھ رہا ہو۔
کچھ دن بعد دادی کی برسی پر سارے گھر والے قبرستان گئے۔ ہم نے فاتحہ پڑھی اور قبر پر پھول چڑھائے۔ فاتحہ پڑھتے میں رونے لگی۔ کاش آج دادی زندہ ہوتیں اور میری ان خوشیوں کو دیکھتیں۔
سب لوگ واپسی کے لیے چل پڑے لیکن میں قبر کے سرہانے بیٹھی رہی۔ مجھے دور ایک کالا کتا نظر آیا۔ قبرستان میں کتے ویسے ہی بہت پائے جاتے ہیں۔ میں نے اگنور کیا۔ یہ کتا تھوڑا مختلف لگا، بالکل کالا اور آنکھوں کے اوپر دو سفید نشان۔ اس سے نظریں ملتے ہی میرے جسم میں سردی کی ایک لہر دوڑ گئی وہ بجلی کی تیزی سے میری طرف لپکا۔ میرا تو سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ گھر والے کافی دور گیٹ پر پہنچ چکے تھے۔ یا اللہ خیر، کوئی لمحہ گزرتا اور اس نے مجھے چھلانگ لگا کر مجھے نیچے گرا لیتا۔ میں نے چیخنے کی کوشش کی مگر میرا گلا بند ہو گیا۔
قبر کے قریب پہنچتے ہی وہ پتا نہیں کس چیز سے ڈرا اور دم دبا کروا پس بھاگ گیا۔ میں تو جیسے سن وہاں بیٹھی رہی۔ ایک ہاتھ میرے کندھے پر آیا اور میں نے ڈر کر پیچھے مڑی۔
آپی! اب آبھی جاؤ سب لوگ تمھارا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ آپ کا چہرہ بالکل سفید کیوں ہو گیا ہے؟
کچھ نہیں ویسے ہی اور میں نے اپنے چہرے پر نقاب ڈال لیا۔ اور اردگرد دیکھا تو کتے کو کوئی اتا پتا نہیں تھا۔ میں نے اس واقعے کا کسی سے ذکر نہیں کیا۔
یہ واقعہ بہت کنفیوزنگ تھا۔ کیا وہ کتا ہی تھا کہ کچھ اور؟سنا ہے کہ ایسے کالے کتے جن کی آنکھوں کے اوپر تل ہو وہ شیطان ہوتے ہیں۔ شکر ہے اس نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔
۔ ۔ ۔
منگنی کے ہنگامے نے فیشن والے کام کو تو جیسے بھلا ہی دیا۔ عمارہ کچھ کام کرتی رہی۔ وہ پانچ چھ انویسٹرز سے ملی، مگر وہاں سے بھی ناکامی ہوئی۔ کاشف کی طرف سے اجازت ملنے کے بعد اب میں آزادی سے اپنا شوق پورا کر سکتی تھی۔
عمارہ تقریباً مایوس ہو گئی۔ وہ اپنے پاپا سے کافی پیسے ادھار لے کر لگا چکی تھی۔ پھر بھی کوئی امید نظر نہیں آئی۔ اب اس کے چہرے پر پریشانی نظر آنا شروع ہو گئی۔ ہمیں بالکل اندازہ نہ تھا کہ پاکستان میں کوئی نیا آئیڈیا لانچ کرنا کتنا مشکل ہے۔
اب کبھی کبھار میں بھی اس کے ساتھ میٹنگز میں چلی جاتی۔ وہاں جا کر اور لوگوں سے مل کر پہلی بار احساس ہوا کہ بزنس کی دنیا کس طرح چل رہی ہے۔ اس سے پہلے تو میں خیالی دنیا میں رہ رہی تھی۔ کسی سے پیسہ نکلوانا اتنا مشکل کام ہے کہ اس کے سامنے سارے کام مشکل لگنے لگے۔
ہر بار گھنٹوں تیاری کے بعد جب کسی بھی انویسٹر کے پاس جاتیں تو ہمیں دیکھتے ہی ان کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ بتا دیتی کہ یہ کیا فیصلہ کریں گے۔ سب نے کہا اس آئیڈیا کے کامیاب ہونے کی کوئی امید نہیں۔
واپس آ کر ہم انھیں خوب برا بھلا کہتیں۔ یہ الو کے پٹھے بزنس کیسے کر رہے ہیں۔
ایسے ہی چلا تو ہمارا پلان شروع ہونے سے پہلے ہی اپنی موت مرجائے گا۔ پھر ہماری قسمت میں کسی چھوٹے موٹے برینڈ کی نوکری کرنا ہی رہ جائے گا۔ ہم نے کچھ برینڈز کو بھی اپروچ کیا لیکن وہاں بھی ناسمجھ بچیاں سمجھ کر اگنور کر دیا گیا۔
میں اپنی مشکلیں کاشف سے بھی شئیر کرتی۔ وہ ہمیشہ پازیٹو رہنے اور کوشش جا رہی رکھنے کا کہتا۔ عمارہ نے تو مایوسی میں کچھ اور آپشنز پر غور شروع کر دیا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ پیرس سے فیشن ڈیزائننگ میں ایک سال کا ڈپلومہ کر کے آ جائے۔ انٹرنیشنل ایکپوژر بھی مل جائے گا اور واپس آ کر لوگ اسے سیرس بھی لیں گے۔
احساس کمتری ہمارے خون میں شامل ہے اسی لیے باہر سے آنے والوں کو ہی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کے پاپا سپانسر کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ اگر عمارہ چلی گئی تو میں اکیلے کچھ بھی نہیں کر پاؤں گی۔
ایک دن عمارہ نے بتایا کہ اسے اس کو ایک انویسٹر کا پتا چلا ہے جو نئے نئے آئیڈیاز پر انویسٹ کرتا ہے۔ اس کی شخصیت کے بارے میں لوگوں کو زیادہ نہیں پتا۔ لیکن پچھلے پانچ سات سال میں اس نے جس بزنس میں بھی ہاتھ ڈالا ہے وہ کامیابی کی بلندیوں پر چلا گیا ہے۔ لوگ سے بہت لکی کہتے ہیں۔ اس کی سٹریٹیجی بھی یونیک ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ وہ ملاقات کے لیے ٹائم نہیں دیتا۔ جو لوگ اس سے ملتے ہیں وہ اسے بالکل بھی پسند نہیں کرتے۔۔ اس کے اندر لوگوں کو دبانے اور ذلیل کرنے کی ایک عجیب عادت ہے۔ کئی نیا آئیڈیا لے کر جانے والے تو اس کے آفس سے روتے ہوئے نکلے ہیں۔ کیونکہ اس نے نہ صرف ان کے آئیڈیا کی بلکہ ان کی پوری شخصیت کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔
یہ ہمارا آخری چانس ہے، ایک بار اسے اپنا آئیڈیا بتائیں گے۔ اس کی رائے دیکھ لیں گے۔ اگر اس کی رائے کے تحت اپنے آئیڈیا کو تبدیل کرنے کا سوچیں گے۔ ابھی تک جتنے لوگوں سے بھی ملے ہیں ان میں سے کوئی بھی سنجیدہ نہیں تھا۔ عمارہ نے بڑی ہی مشکل سے میٹنگ طے کی۔
میں پوری تیاری کر کے عمارہ کے انتظار میں بیٹھی تھی کہ اس کی کال آئی۔ اس کی گھبرائی ہوئی آواز سن کر میں بھی ڈر گئی۔ اس کی فرسٹ کزن کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور اسے بلڈ ڈونیٹ کرنے وہاں جانا بہت ضروری ہے۔
عمارہ خیریت تو ہے نا؟ میں بھی آؤں تمھارے ساتھ؟
سیریس ہو سکتا ہے کیونکہ بلڈ بہت بہہ گیا ہے۔ میرا اور اس کا بلڈ گروپ ایک ہے، میر اجانا بنتا ہے۔ مجھے افسوس ہے میں میٹنگ اٹینڈ نہیں کرپاؤں گی۔
یار تمھارے بغیر میں کیسے ہینڈل کروں گی۔ مجھ سے نہیں ہوپائے گا۔ میٹنگ کو پوسٹ پون کر دیتے ہیں۔
نہیں یار ایک بار یہ میٹنگ کینسل ہو گئی تو پھر ہمیں دوبارہ موقع نہیں ملے گا۔ یہ ہماری آخری امید ہے۔ پلیز تم کسی طرح مینج کر لو۔
میرے دل میں ہول اٹھنے لگے۔ ایک تو اس نے تیمور درانی کی شخصیت کے بارے میں بتا کر ڈرا دیا ہے۔ اس کے سامنے ہمیں اپنا پلان بہت تفصیل سے بتانا تھا۔ اس کے سارے سوالوں کے ایسے جواب دینے تھے کہ وہ قائل ہو جائے۔ میں اکیلے یہ سب کیسے کروں گی۔ میرا ایریا تو صرف ڈیزائننگ ہے باقی اصل کام تو عمارہ کا تھا۔ اگر اس نے ہمارے پلان کا مذاق اڑایا تو میں کیا کروں گی۔
دفع کرو۔ میں جاتی ہی نہیں ہوں۔ بعد میں دیکھیں گے جو ہو گا۔ باقی بھی تو بے شمار لوگوں نے انکار کیا ہے، اس نے بھی انکار ہی کرنا ہے۔ اسی بہانے عزت تو بچی رہے گی۔ میں کپڑے چینج کرنے چلی گئی۔
اسی لمحے عمارہ کی دوبارہ کال آئی۔
تم ابھی تک نکلی ہو کہ نہیں؟
یار جلدی نکلو تم لیٹ ہو جاؤ گی۔ تیمور درانی لیٹ ہونے والوں سے بات بھی کرنا پسند نہیں کرتا۔
یارمجھ سے نہ ہوپائے گا۔
چلی جاؤ نا یار پلیز۔۔ میں نے تمھارے لیے گاڑی بھجوادی ہے۔
کیا عجیب کشمکش ہے، اگر میں نہ گئی تو عمارہ کو کتنا دکھ ہو گا۔ وہ بیچاری کتنی میٹنگوں میں اکیلی ہی گئی تھی۔ کتنی جگہ اس نے اکیلے ہی بے عزتی کروا ئی۔ کیا میں اس کے لیے ایک میٹنگ اکیلے نہیں بھگتا سکتی۔
میں ہمت کر کے گھر سے نکل پڑی۔
آفس آٹھ منزلہ بلڈنگ کے ٹاپ فلور پر تھا۔ بلڈنگ کی لفٹ میں داخل ہوتے ہی میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ معلوم نہیں کیا ہو گا۔
اللہ کرے وہ مجھ سے ملنے سے ہی انکار کر دے۔ میں نے دل یہ دل میں آیت الکرسی پڑھی۔
آفس کا ڈیزائن دیکھ کر میں حیران ہوئی۔ یہ عام ماڈرن آفسز سے بہت مختلف تھا۔ یہاں زیادہ کام لکڑی سے ہوا تھا۔ دیواروں پر لینڈ سکیپس کی پینٹنگز تھیں۔ روشنی آنکھوں کو سکون پہچانے والی تھی۔ سارا فرنیچر لکڑی کا تھا۔ فضا میں ایک عجیب سی تازگی ہے۔ میں جیسے ہی دروازے کے پاس پہنچی دروازہ خود بخود کھل گیا۔ میں ریسپنشنسٹ کو اپنی میٹنگ کے بارے میں بتایا۔
اس کو میٹنگ کے بارے میں علم تھا۔ اس نے مجھے اپنے ساتھ آنے کا کہا۔ میں اس کے ساتھ پورے آفس سے گزر کر ایک بہت بڑے ویٹنگ روم میں آئی۔ آفس میں کوئی بیس کے قریب لوگ ہوں گے، وہ بھی آدھی سے زیادہ لڑکیاں۔ سب لوگ بہت ہی پروفیشنل نظر آ رہے تھے۔ ماحول سارا مغربی طرز کا تھا۔ لوگ آپس میں انگلش میں بات کر رہے تھے۔ لڑکیوں میں سے اکثر نے پینٹ شرٹس پہنی تھیں۔ کئی فارنرز بھی نظر آئے۔ مجھے صرف اتنا اندازہ تھا کہ تیمور درانی کی فرم پاکستان اور ملک سے باہر انویسٹمنٹ کرتی ہے۔ ان کا زیادہ فوکس تو انٹرنیشل کمپنیز کے شئیرز اور بانڈز میں ہوتا ہے۔
میں جس ویٹنگ روم میں بیٹھی وہاں سامنے پینٹنگ میں ایک شخص پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا دور بادلوں کے پار دیکھ رہا تھا۔ دوسری طرف ایک پینٹنگ میں ایک مغل شہزادہ شیر کا شکار کر رہا تھا۔ تیسری طرف پکاسو کی مشہور پینٹنگ گرنیکا تھی جو سپین کی خانہ جنگی پر بنائی گئی تھی۔ کمرے میں ہر چیز کے رنگ انوکھے تھے۔ صوفوں کے رنگ ہلکے بادامی۔ ماحول میں ہلکی ہلکی خوشبو کچی لکڑی کے کٹنے جیسی تھی مگر بھینی بھینی۔ میں نیچے بچھے قالین کے ڈیزائنز پر غور کرنے لگی۔ ہر چیز جیسے چن کر رکھی گئی تھی۔
میں سوچنے لگی آج کل یہ انٹیرئر ڈیزائنز والوں کی تو موج ہے۔ یہ تیمور درانی شاید کوئی آرٹیسٹک ٹائپ کا بوڑھا ہے۔ یا شاید پیسہ آنے کے بعد یہ سارے ایسے ہو جاتے ہیں۔
آفس کے ماحول مجھ پر ایک سحر سا طاری کرنے لگا۔ رنگ اور خوبصورتی مجھے ویسے ہی اپنی طرف بہت زیادہ کھینچتی تھی۔ میں یہ بھول ہی گئی میں یہاں کس کام سے آئی ہوں۔ اسی وقت ایک لڑکی آئی جو شاید سیکریٹری تھی۔ حیرت کی بات ہے اس نے سکرٹ پہنی ہوئی ہے جو اس کے گھٹنوں سے تھوڑی نیچے تھی۔ ایسی لڑکیاں آفس کیسے آتی ہوں گی۔ بسوں اور ٹیکسیوں میں تو یقیناً نہیں آتی ہوں گی۔ اس سیکریٹری نے بتایا کہ باس کو اچانک ایک بہت ہی اہم کانفرنس کال کرنی پڑ گئی ہے جو ڈیلے نہیں ہو سکتی۔ آپ پلیز ایک گھنٹا ویٹ کریں۔ آپ کی تکلیف پر ہم معذرت خواہ ہیں۔
موقع اچھا ہے مجھے اسی بہانے یہاں سے نکل جانا چاہیے فوراً نکل پڑوں، لیکن میں بیٹھی رہی۔
شاید آفس کا ماحول ہی اتنا خوبصورت تھا کہ میں کچھ وقت وہاں گزارنا چاہتی تھی۔ کچھ دیر میں میرے لیے کافی اور سنیکس لاکر رکھ دیے گئے۔ کافی کا بڑا سا لال رنگ کا مگ بہت یونیک تھا۔ میں نے کافی کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں سمیٹا۔ پہلا سپ لیتے ہی میرے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ کیا کمال کافی تھی۔ ہر سپ کے ساتھ ذائقہ بڑھتا ہی گیا۔
عبیر، دیکھ لو پیسے کے ساتھ کیا کیا چیزیں آتی ہیں۔ میں نے کافی انجوائے کرتے کرتے اپنی ڈیزائنز کو دیکھنا شروع کیا۔ کہ میں کس طرح پریزنٹ کروں گی؟ اس دوران ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا ابھی نہجانے کتنا وقت لگے گا، میں اتنی دیر میں نماز نہ پڑھ لوں۔ لیکن یہاں قبلہ کس طرف ہو گا۔ اتنے میں وہ سیکریٹری وہاں آئی۔
ایکس کیوز می ابھی کتنا وقت لگے گا؟
آدھے گھنٹے سے زیادہ لگ سکتا ہے۔
یہاں قبلہ کس طرف ہے؟
اس نے مجھے یوں دیکھا جیسے اسے سمجھ ہی نہیں آئی کہ میں کیا پوچھ رہی ہوں۔ میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن ایسے لگا کہ جیسے اسے پتا ہی نہیں ہے قبلہ کیا ہوتا ہے۔
فور گیٹ اٹ کیا میں یہاں نماز پڑھ سکتی ہوں۔
شیور۔
اسی وقت مجھے خیال آیا کہ میرے موبائل میں تو قبلہ فائنڈ کرنے والی ایپلیکیشن موجود ہے۔ میں واش روم کی طرف وضو کرنے گئی۔ واش روم بھی بہت جدید قسم کا نکلا۔ جس میں سب کچھ آٹو میٹک تھا۔ جیسے ہی واش روم کا دروازہ بند ہوا ہلکی ہلکی موسیقی چلنا شروع ہو گئی۔ حد ہے لگژری کی بھی۔
میں نے بہت خشوع وخضوع سے نماز پڑھی۔ اور دعا کی کہ انویسٹمنٹ ملے یا نہ ملے یہاں بے عزتی نہ ہو۔ نماز پڑھتے پڑھتے مجھے ویسے بھی کسی چیزکا ہوش نہیں رہتا۔ جیسے میں اللہ تعالیٰ سے باتیں کر رہی ہوں۔
میں جب نماز پڑھ کر اٹھنے لگی تو ٹھٹک گئی، سامنے صوفے پر ایک شخص مجھے نماز پڑھتے دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ہلکی سی دلچسپی تھی۔ مجھے یکدم شدید شرم کا احساس ہوا۔ اس شخص کو مجھے ایسی حالت میں نہیں دیکھنا چاہیے تھا۔ میں خاموشی سے صوفے پر آ کر بیٹھ گئی۔ یہ شخص بھی شاید کسی میٹنگ کے لیے آیا تھا۔ دیکھنے میں تیس کے قریب ہو گا۔ لیکن چہرے پر سنجیدگی اور تاثرات عمر کو بڑھا رہے تھے۔ اس نے سلیٹی رنگ کا فٹنگ والا سوٹ اور کالی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔
اس کو پہلی نظر میں دیکھتے ہی میرے دل میں ایک خوف کا احساس پیدا ہوا۔ اگرچہ اس کے نین نقش خوبصورت تھے لیکن اس کی آنکھوں اور وجود سے ایک درندگی ٹپک رہی تھی۔ ایسے جیسے کوئی بھیڑیا ہو۔ مجھے تو ایک لمحے کے لیے جھرجھری سی آ گئی اور دوسری طرف دیکھنا شروع کر دیا۔
اسی لمحے اس شخص نے بولنا شروع کر دیا۔ اس کی آواز بھاری لیکن واضح تھی۔ اس میں ایک یقین اور طاقت جھلکتی تھی۔ ایسے جیسے یہ الفاظ پتھر پر لکیر ہوں۔
آپ کو نماز پڑھتا دیکھ کر میں یہ سوچ رہا تھا کہ سائنسی دور میں رہنے والا انسان خدا کو کیسے مان سکتا ہے؟ خدا تو غاروں اور جنگلوں میں رہنے والے انسان کا مسئلہ تھا۔
جنگلوں اور غاروں میں رہنے والا انسان اپنی دنیا اور کائنات کے بارے میں کچھ بھی نہیں معلوم تھا۔ آج کے انسان کو خدا کی کیا ضرورت ہے؟ صرف نفسیاتی سہارے کے طور پر؟
میں اس کے طنزیہ سوالوں پر چونک گئی۔ یعنی یہ شخص صرف دیکھنے میں ہی برا نہیں تھا اس کی باتیں اس سے بھی زیادہ کڑوی تھیں۔ میں اس کے فضول سوالوں کے جواب نہیں دینا چاہتی۔ لیکن پھر بھی بول پڑی۔
ایک سائنسی انسان ہی تو خدا کو صحیح طرح مان سکتا ہے۔ غاروں اور جنگلوں میں رہنے والا تو صرف ڈر کے مارے ہی مانے گا۔ آج کا انسان پوری کائنات کو دیکھ کر یہ مانتا ہے کہ یہ بے فائدہ نہیں بنی اور اس کا صرف ایک ہی خالق ہے۔ اور خدا صرف نفسیاتی سہار انہیں ہے۔ وہ کائنات کو بنانے اور چلانے والا ہے۔ جو اس یقین کے ساتھ زندہ رہتا ہے وہ اپنی حقیر سی زندگی کی حیوانیت سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔
میرے اس جواب پر اس کے چہرے پر ایک طنزیہ مسکراہٹ آئی۔
اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہو کہ اس کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے۔ یہ سب کچھ بے معنی ہے تو!
جو یہ سمجھنا چاہتا ہے سمجھتا رہے۔ ہر شخص کو آزادی ہے وہ جو مرضی سمجھے لیکن اس کے سمجھنے سے حقیقت تبدیل نہیں ہو جائے گی۔ میں نے بھی ترکی بترکی جواب دیا۔
وہ میرا جواب سن کر محضوظ ہوا۔ مجھے اس شخص سے وحشت سی ہوئی۔ میں اس کے پاس سے اٹھ جانا چاہا، مگر یوں لگا جیسے کسی نے باندھ کے رکھا ہوا ہے۔
اسی لمحے سیکریٹری آئی۔ اس نے اس شخص کو تیمور سر کہہ کر پکارا تو مجھے شاک لگا۔
یعنی میں اتنی دیر سے تیمور درانی سے گفتگو کر رہی تھی۔ لو جی عبیر صاحبہ واپس گھر چلنے کی تیاری کرو۔ تمھارا تو اصل بات کرنے سے پہلے ہی اختلاف ہو چکا ہے۔
وہ مجھے بہت غور سے دیکھنے لگا۔ اس کی نظریں میرے جسم کے آر پار ہوتی محسوس ہوئیں۔۔ اس کے دیکھنے میں کوئی شرمندگی، پردہ یا ڈر نہیں تھا۔ اس کی نظریں مجھے ایسے ٹٹول رہی تھیں جیسے ایک قصائی بکرے کو ٹٹولتا ہے۔ اس کے خیالات اور شخصیت دیکھ کر یہ تو اندازہ ہو گیا اس شخص کا خدا اور اخلاقیات سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ ہر چیز کو فائدہ نقصان میں دیکھتا ہے۔ اس کے لیے انسان اتنے ہی دلچسپ ہیں جتنا وہ فائدہ دے سکتے ہیں۔
میں نے بے دلی سے اسے اپنے بزنس پروپوزل کی فائل دی۔ اس نے پندرہ منٹ تک اسے بہت غور سے پڑھا۔ پھر اس نے سیکریٹری کو بلوایا اور یہ فائل اس کے حوالے کر دی اور کہا کہ اس کا ڈیپ اینالیسز کر کے رپورٹ کل تک مجھے دیں۔ اس کا انداز بہت ہی پروفیشنل تھا۔ میں اس کے چہرے سے یہ اندازہ نہیں لگا سکی وہ کیا سوچ رہا ہے۔
میں نے ایسا جذبات سے عاری شخص نہیں دیکھا۔ اس کی مسکراہٹ بھی آنکھوں تک نہیں جاتی تھی۔ جیسے وہ ایک رو بوٹ کی طرح مسکرا رہا ہو۔ مجھے کچھ ایسی فیلنگز آئیں جو میں آج تک محسوس نہیں کی تھیں۔ جیسے میں کسی درندے کے ساتھ بیٹھی ہوں۔ اور وہ پر تول رہا ہے کسی بھی وقت حملہ کرنے کے لیے۔
کیا یہ حقیقت ہے یا میرا ذہن ڈر کی وجہ سے یہ خیال پیدا کر رہا ہے۔
ہمارے درمیاں کی خاموشی اب مجھے چھبنے لگی۔ بہت ہی آکورڈ لگ رہا تھا۔ یہ کچھ کہہ کیوں نہیں رہا یا میرے بولنے کا انتظار کر رہا ہے؟
میں کیا بولوں؟اگر وہ ناراض ہو گیا توا؟
میں نے ہمت کر کے تھوڑا سا اپنے ڈیزائنز کی یونیکنس بتانا شروع کی۔ وہ آنکھیں جذبات سے عاری چہرے سے مجھے دیکھتا رہا۔ میں جیسے خود کلامی کر رہی ہوں۔ میں کوئی دس منٹ میں پتا نہیں کیا کیا بولتی رہی۔ اپنی طرف سے میں نے اسے متاثر کرنے کی پوری کوشش کر ڈالی۔
مگر وہ تو جیسے ایک پتھر ہو۔ مجال ہے جو ایک ذرا بھی پسندیدگی یا ناپسندیدگی کی لہر اس کے چہرے پر آئی ہو۔
یہ بندہ کیا چیز ہے؟
اچانک اس نے اسی بھاری آواز میں کہا۔
مس عبیر آپ کے ڈیزائن تو میں نے دیکھ لیے ہیں اور آپ کا پلان بھی میں نے سن لیا ہے۔ یہ سب باتیں تو آپ کی فائل میں بھی ہیں۔ آپ ان سے ہٹ کر اپنے بارے میں کچھ بتائیے۔
آپ کون ہیں؟ آپ کے اندر کیا خاص بات ہے جو اس پلان کو کامیاب بنا سکتی ہے؟
کاروبار کی کامیابی اور ناکامی کا اصل تعلق بندے سے ہی ہوتا ہے۔
میں اس کے ڈائریکٹ ہی اتنے ڈائریکٹ سوال پر گڑبڑا گئی۔ میں نے اپنی خوبیوں کے لیے جو خوبصورت الفاظ چنے تھے وہ سارے بھول گئے۔ میں تو کچھ لمحوں کے لیے خالی ذہن کے ساتھ بیٹھی رہی۔ اس بات کا کیا جواب دوں۔ کیا بتا دوں کہ میں ایک غریب سے گھر کی لڑکی ہوں جس کے اندرکوئی خاص خوبی نہیں ہے۔
میں نے جھوٹ بولنا چاہا، یوں لگا کہ وہ ایسا شخص نہیں جو جھوٹ سننا پسند کرتا ہو۔ کاش عمارہ ہوتی تو کتنی آسانی سے یہ صورتحال سنبھال لیتی۔
سر، میں ایک عام سے گھر کی عام سی لڑکی ہوں۔ اور میرے اندر کوئی خاص کوالٹی نہیں ہے۔ میں حقیقت سے زیادہ خوابوں خیالوں رہتی۔ مجھے خوبصورتی اور رنگوں سے دلچسپی ہے۔ یہی دلچسپی مجھے فیشن ڈیزائننگ میں لے آئی۔ میں اسلامی فیشن میں کچھ جدت پیدا کرنا چاہتی ہوں جس سے لڑکیاں بیک وقت فیشن ایبل بھی ہوں اور حیا دار بھی۔ بس اسی خواہش کی وجہ سے میں نے اور میری دوست نے یہ بزنس پلان بنایا۔ اس میں ڈیزائن تو سارے میں نے تیار کیے ہیں۔ البتہ باقی سار اکام عمارہ نے کیا ہے وہ آج ایمرجنسی کی وجہ سے نہیں آ سکی۔ ورنہ وہ مجھ سے بہت بہتر بیان کرتی، میں نے تو ویسے ہی خانہ پوری کی ہے۔
نہیں ایسی بات نہیں ہے۔ آپ نے بھی اپنا کیس اچھا ڈیفنڈ کیا ہے۔
مس عبیر کیا آپ اپنے چہرے سے یہ نقاب ہٹا سکتی ہیں تھوڑی دیر کے لیے۔
کیا!! میں تو جیسے صوفے سے اچھل ہی پڑی۔
میں کوئی جواب دے کر اسے ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔
مجھے آپ سے کمیونیکیٹ کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ آپ کے چہرے کے تاثرات کو سمجھنا مشکل ہو رہا ہے۔ اس نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا۔
سوری سر میں اپنا نقاب نہیں اتار سکتی ایک تو مذہبی وجہ ہے دوسرامیں نے اپنی دادی سے وعدہ کیا ہے کہ شادی سے پہلے میں نقاب نہیں اتاروں گی۔
آپ کے مذہب میں تو اور بھی بہت کچھ منع ہے؟
اس کی باتوں کا طنز میرے دل میں اتر گیا۔ میں اسے کیسے بتاؤں کہ میں سادہ سی مسلمان لڑکی ہوں۔ جو کم علم اور کم عمل ہے۔ اپنی طرف سے بڑے بڑے گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتی ہوں۔ باقی جہاں مجبوری ہو وہاں کیا کیا جا سکتا ہے۔
مزید بے عزتی کروا نے سے بہتر ہے فوراً اٹھوں اور چل پڑوں اس نے ویسے بھی ہمارے پلان کو ریجیکٹ کر دینا ہے۔ ایک انجانی قوت مجھے وہاں بٹھا کر رکھا۔
میری بات سن کر اس کے چہرے پر پہلی بار مسکراہٹ آئی، جیسے وہ اس بات سے بہت محظوظ ہوا ہو۔ آپ کی دادی ایسا کیوں چاہتی تھیں۔
پتا نہیں، شاید وہ چاہتی تھیں کہ مجھے وہی شخص حاصل کر کے جو میرے چہرے سے نہیں میری اندر کی خوبصورتی سے متاثرہو۔
تو کیا آپ کو کوئی ایسا مل گیا ہے؟ اس نے میری منگنی کی انگوٹھی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
یہ شخص تو حد سے ہی بڑھتا جا رہا ہے۔ میں یہاں بزنس ڈسکس کرنے آئی ہوں اور یہ میری ذاتی زندگی میں گھسے جا رہا ہے۔ میں بھی کتنی عجیب ہوں کہ اس کے سارے سوالوں کے سیدھے سیدھے جواب دے رہی ہوں۔ مجھے اسے فوراً شٹ اپ کال دینی چاہئے
جی ہاں الحمد للہ مل گیا ہے اور میں بہت خوش ہوں۔
اسے بھی آپ نے اپنا چہرہ دکھایا ہے یا نہیں؟
اس آدمی کو کوئی شرم حیا ہی نہیں ہے۔ یہ اپنے کام سے کام رکھے۔
نہیں میں نے اسے اپنا چہرہ نہیں دکھایا اور وہ شادی کے بعد ہی میرا چہرہ دیکھے گا۔ میں بے اختیاری سے بولی۔
یہ جو مجھ سے اتنے ذاتی قسم کے سوال پوچھ رہا ہے تو میں بھی کیوں نہ اس سے اس کے بارے میں پوچھوں۔
تیمور صاحب آپ کی باتوں سے لگتا ہے آپ خدا اور مذہب کو نہیں مانتے؟میں نے بھی وار کیا۔
وہ ہلکا سا چونکا لیکن کوئی تاثرنہ دیا اور اسی جذبات سے عاری آواز میں بولنے لگا۔
نہیں میں خدا کو نہیں مانتا اسی لیے مذہب کو ماننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ خدا انسان کے ذہن کی تخلیق ہے۔
میں زندگی میں پہلی بار کسی ایسے شخص سے مل رہی ہوں۔ اس کی باتوں سے دل میں خود بخود نفرت پیدا ہوتی ہے۔
تو پھر اس کائنات اور آپ کی زندگی کا کیا مقصد ہے ا؟
یہ سب چیزیں ایک اتفاق کا نتیجہ ہیں۔ زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے، ہم بے مقصد پید اہوتے ہیں اور بے مقصدمر جاتے ہیں۔
اللہ!! کتنا بے حس انسان ہے جو ایسی ظالمانہ باتیں کر رہا ہے۔
اگر زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے تو آپ زندہ کیوں ہیں؟ ختم کیوں نہیں کر دیتے اس بے مقصد زندگی کو؟
آہ ایک بار کوشش کی تھی۔ لیکن خیال آیا اگر یہ زندگی اتفاق ہی ہے، تو اس حسین اتفاق کو چلنے دیتے ہیں۔ اس کی آنکھوں پہلی بار کہیں دور دیکھنے لگیں، جیسے کچھ یاد کر رہی ہوں۔
آپ کو مرنے کے بعد کی زندگی کا خیال نہیں آتا؟
نہیں !
جب میں مرجاؤں گا تو صرف تاریکی ہی تاریکی ہے۔ کبھی خیال آتا تھا کہ کوئی خدا ہونا چاہیے، اب نہیں آتا۔
تو آپ کے خیال میں زندگی صرف پلیژر اور خوشی حاصل کرنے کا نام ہے۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے؟
آپ جب پلیژر کی بات کرتی ہیں تو لگتا ہے آپ کو پتا ہی نہیں پلیژر کیا ہے۔ آپ نے پلیژر کا نام صرف سنا ہے، اور اس سے نفرت کرتی ہیں۔ اس میں قصور آپ کا نہیں آپ کے بیک گراؤنڈ کا ہے۔
مجھے غصہ آ گیا۔
کیا مطلب ہے اس شخص کا کہ مجھے پلیژر کے بارے میں نہیں پتا۔ اس کو کس نے پلیثر پرا تھارٹی لگایا ہے۔ اس جیسے لوگوں نے دین کی نافرمانی کے سارے کاموں کو پلیثر کا درجہ دیا ہوا ہے۔ ہم لوگ جانتے ہیں پلیثر کیا ہے۔ صرف دین کی وجہ سے نہیں کرتے۔
مس عبیر کچھ عرصے کے بعد انسان پلیژر سے بھی اکتا جاتا ہے۔ پلیژر بہت سادہ سی چیز ہے اس میں کوئی کمپلیکسٹی نہیں ہے آپ کے پاس پیسہ ہو تو آپ بہت جلد پلیژر کے سارے ذائقوں سے آشنا ہو سکتے ہیں۔ انسانی ذہن ہر لمحے جدت چاہتا ہے اسی لیے ہر بار پلیژر کی زیادہ ڈوز چاہئے ہوتی ہے اور ایک وقت کے بعد آپ بے حس ہو جاتے ہیں۔ کوئی نشہ، کوئی جسم، اور کوئی کام بھی مزہ نہیں دیتا۔
پھر آپ کو کچھ اور چاہیے ہوتا ہے۔
کہیں یہ سب کچھ انھیں لوگوں کے ساتھ تو نہیں ہوتا جو یہ سمجھتے ہیں کہ زندگی بے معنی ہے، اور مرنے کے بعد کچھ نہیں ہو گا۔
میں نے تو کسی ایمان والے تو ایسا کہتے نہیں سنا۔ میں نے بھی طنز کے تیر چلائے۔
ایمان والوں پر اتنی پابندیاں ہوتی ہیں کہ وہ ان پابندیوں کی تھوڑی تھوڑی نافرمانی کرنے میں ہی مزہ لیتے رہتے ہیں۔ خود کو ایمان والا بھی ثابت کرتے ہیں اور نافرمانی کا مزہ بھی لیتے ہیں۔ اصل بات تو یہ ہے کہ کوئی روک ٹوک نہ ہو پھر وہ کام نہ کرو۔ کسی بھی کام میں آدھا مزہ تجسس اور ڈر سے پیدا ہوتا ہے۔
آپ ہمیشہ سے ایسے تھے یا کسی واقعے کی وجہ سے ایسے ہو گئے ہیں۔
یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ آپ کو اس سے دلچسپی نہیں ہو گی۔ ہو سکتا ہے اسے سن لر آپ کا ایمان ہی ڈگمگا جائے۔
ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ میں خدا پر پورے دل سے ایمان رکھتی ہوں۔ دنیا کی کوئی طاقت مجھ سے یہ میرا یمان نہیں چھین سکتی۔
اس کے چہرے پر ایک دلچسپ مسکراہٹ آئی۔
مس عبیر بہت کم لوگ مجھے سے اس طرح سے مخاطب ہو کر ایسے سوال کرتے ہیں۔ عموماًصرف میں ہی سوال کرتا ہوں اور لوگ جواب دیتے ہیں۔
میرے پاس لوگوں کی فضولیات کا وقت نہیں ہوتا۔ کیونکہ میں وقت کے ساتھ لوگوں کو جانچنا سیکھ لیا ہے۔ میرے سامنے لوگ بڑی بڑی بڑھکیں مارتے ہیں اور مجھے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اندر سے کھوکھلے ہیں۔
آپ نے خود کو ایک عام سی لڑکی کہا۔ لیکن مجھے آپ کے اندر کچھ خاص محسوس ہو رہا ہے۔
آپ کے بزنس پروپوزل کے بارے میں میں آپ کو واضح طور پر یہ بتا سکتا ہوں کہ یہ فیل ہو جائے گا۔ وہ یہ کہہ کر اٹھ گیا۔
مجھے تو کچھ کہنے اور سننے کا موقع ہی نہیں ملا۔ میں جب تک سمجھتی وہ اٹھ کر واپس اپنے کمرے میں جاچکا تھا۔ عجیب گھامڑ شخص ہے اتنی دیر تک فضول سی باتیں پوچھتا اور بتاتا رہا۔ اصل کام کی بات پر ایک لائن کہہ کر چلا گیا۔ ایڈیٹ۔۔
میں شدید غصے میں وہاں سے نکلی۔ میں بھی کتنی سٹوپڈ ہوں جو اتنے پرسنل سوالوں کے ایک فرمانبردار بچی کی طرح جواب دیتی رہی۔ آخر میں وہی ٹھینگا ملا۔
سارا راستہ میرا موڈ خراب رہا۔ مجھے ڈر تھا کہیں وہ ہمارا آئیڈیا چوری کر کے خود نہ استعمال کر لے۔ میں نے تو سارے ڈیزائنز کے بلیو پرنٹ بھی اسے دے دیے تھے۔
شام کو عمارہ کی کال آئی۔ اس کی کزن بچ گئی۔ دو بوتل خون دینے کے بعد بھی عمارہ کے لہجے میں تازگی تھی۔
ہم تو جن سے محبت کرتے ہیں ان کو اپنا خون کیا دل اور گردے بھی دینے کو تیار رہتے ہیں۔
آج کی میٹنگ کے بعد میرا دل آدھا رہ گیا ہے اپنا دل مجھے ڈونیٹ کر دو۔ تمھار ہی حوصلہ ہے جو ایسے لوگوں کو بھگتتی رہتی ہو اور تمھیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عجیب فضول آدمی ہے یہ تیمور درانی۔
میں نے اسے آج کی دکھ بھری کہانی سنائی۔ عمارہ سنجیدہ ہو گئی پہلی بار عمارہ کی آواز میں شکست محسوس ہوئی۔ یوں جیسے کوئی خواب ٹوٹ گیا ہو۔
میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ تیمور درانی ایک ایڈیٹ ہے۔ اس نے تو کوئی بڑا اینالیسز نہیں کیا۔
عمارہ کا لہجہ بہت ہی مایوسانہ ہو گیا۔ جیسے کوئی مر گیا ہو
۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
اس رات مجھے پھر وہی بھیڑیا دکھائی دیا۔ وہ خطرناک دانت نکالے میرے چہرے سے کچھ ہی فاصلے پر کھڑا حملہ کرنے کے لیے تیار تھا۔ اسی لمحے میری آنکھ کھل گئی۔ میں پسینے سے شرابور تھی۔ میں نے فوراً ہی اٹھ کر آیت الکرسی پڑھی، اور دوبارہ سونے کی کوشش کرنے لگی۔ میری نظر شگفتہ پر پڑی۔ سوتے ہوئے اس کی معصومیت اور خوبصورتی اور بڑھ جاتی تھی۔ میں نے اس کے چہرے کو سہلایا اور بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔ پھر میں نے جھک کر اس کے ماتھے پر بوسا لیا۔
اس نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں اور مجھے دیکھا۔
آپی بہت لاڈ آ رہا ہے مجھے پر، خیر تو ہے؟
تم سوتے ہوئے لگتی ہی اتنی خوبصورت ہو۔
میں خوبصورت لگ رہی ہوں یا۔ ۔ ۔ میرے چہرے میں کسی اور کا چہرہ نظر آ رہا ہے۔ شگفتہ نے اپنے شریر انداز سے کہا۔
میں شرم سے لال ہو گئی۔
شگفتہ کی بچی شرم کرو اپنی آپی سے ایسی باتیں کرتی ہو۔
اسی لمحے شگفتہ نے مجھے گلے لگا لیا۔ نہیں آپی ناراض نہ ہوں۔۔ اس نے میرے سینے پر سر رکھ دیا۔
میں اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔ بہت ہی سلکی اور گھنے بال تھے اس کے۔ اکثر میں اس کے بالوں میں تیل لگاتی تھی۔ جب بچپن میں اس کو جوئیں پڑتیں تو گھنٹوں دھوپ میں بیٹھ کر نکالا کرتی۔ اس کے بالوں سے بھینی بھینی سی خوشبو آتی تھی۔
شگفتہ میرے سینے سے سر لگائے میرے دل کی دھڑکن سننے لگی۔ آپی میں یہ سوچتی ہوں کہ آپ تو جلد ہی اپنے گھر جانے والی ہیں پھر میں تو اکیلی رہ جاؤں گی۔ اس نے تھوڑی اداسی سے کہا۔
میں بھی تھوڑی اداس ہو گئی۔ اور اسے مزید زور سے اپنے ساتھ لپٹالیا۔ اکیلی کیوں، اماں اور ابا ہیں نا؟
آپی آپ کی بات اور ہے نا۔ اب میں اماں سے تو اپنے دل کی بات نہیں کر سکتی
میں چونک گئی۔
شگفتہ کیا بات ہے کھل کر بتاؤ۔ کہیں کوئی لڑکا تو نہیں ہے تمھاری زندگی میں؟
ارے نہیں باجی۔ کیسی باتیں کر رہی ہیں۔ کوئی نہیں ہے میری زندگی میں۔ ہاں میں یونیورسٹی جانے والی ہوں، وہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
نہیں شگفتہ! تمھیں کسی قیمت پر ایسا کوئی کام نہیں کرنا جس سے ابا کو تکلیف ہو۔ اللہ نے چاہا تو تمھارا نصیب بھی بہت اچھا ہو گا۔
جی بالکل، ایک شہزادہ گھوڑے پر مجھے ڈھونڈنے کے لیے اپنے محل سے نکل پڑا ہے۔ ۔
اس کی یہ بات سن کر مجھے ہنسی آ گئی۔۔
اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے۔ جب وقت آئے گا سب ٹھیک ہو جائے گا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کاشف کی آوٹنگ کی تصویریں دیکھ کر میرا دل چاہتا، جلدی سے ہماری شادی ہو اور میں بھی بغیر کسی ڈر کے اس کے ساتھ باہر جا سکوں۔ اس کی کولیگ لڑکیاں مجھے زہر لگتیں۔ ان کے کپڑے ان سے بھی زیادہ واہیات ہوتے۔ مجھے کاشف پر پورا یقین تھا کہ وہ کسی ایسی ویسی لڑکی کے چکر میں نہیں پڑے گا۔ پھر بھی سٹوپڈ سے خیال آتے رہتے۔
ہے تو وہ بھی انسان ہی۔ اگر بہک گیا تو۔ ۔ اللہ نہ کرے۔۔ ایسی سوچیں بھی برا شگن ہوتی ہیں۔
امی فل ٹائم شادی کی تیاریوں میں مصروف تھیں۔ ابا کی تو خواہش تھی کہ شادی سادگی سے ہو۔ مگر اماں نہیں مانتیں۔ کہتی ان کے گھر کی پہلی خوشی ہے۔ وہ اپنی ساری خاندانی رسمیں پوری کریں گی۔
ان کے خاندان میں ہجرت سے پہلی کی شادیوں میں پورا پورا ہفتہ شادی کے فنکشن چلتے تھے۔ اس دور میں شادی کی رسمیں نہ کرنے سے عزت پر حرف آ جا تا تھا۔ کئی بار تو گھر آئی باراتیں واپس چلی جاتیں۔
ایک دن اماں نے مجھے اپنے خاندانی زیور دکھائے جو انھوں نے میرے اور شگفتہ کے لیے رکھے تھے۔ اماں بہت محبت سے ان زیوروں کو دیکھتی رہیں جیسے ان کی ساری تہذیب صرف زیوروں میں بند ہو۔
اماں اب ان ڈیزائنوں کو کون پہنتا ہے۔ آپ ایسا کریں انھیں دے کر نئے ڈیزائن والے سیٹ خرید لیں۔ میں آپ کو انٹرنیٹ سے لیٹسٹ ڈیزائن دکھاتی ہوں۔
خبردار ہمارے خاندانی زیوروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی۔ ہماری خاندانی روایات کی آخری نشانی یہی تو ہے۔ تمھاری پڑنانی کے زمانے میں بنے تھے زیور۔
میں نے بحث کرنا مناسب نہ سمجھا۔
اماں کی ساری باتیں نانی جیسی ہوتی جا رہی تھیں۔ صحیح کہتے ہیں ہم وہ بن جاتے ہیں جو ہمارے ماں باپ ہوتے ہیں۔ ان کا دکھ اور محبت ہمیں اسی وقت محسوس ہوتی ہے جب ہم اس سٹیج پر خود پہنچتے ہیں۔
دہلی میں ایک امام مسجد تھے جن کے علم اور تقویٰ ٰ کی لوگ مثالیں دیتے۔ انھوں نے اپنی بڑی بیٹی شائستہ کو بہت اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ اسے نہ جانے کہاں سے ڈانس کرنے کا شوق پڑ گیا۔ اس نے گھر والوں سے چھپ کر اپنے شوق کو پروان چڑھایا۔ یونیورسٹی جاتے ہی اس نے کھل کر اپنے فن کا مظاہرہ کرنا شروع کیا۔ اس کی کئی مداح پیدا ہو گئے۔ انھی مداحوں میں سیاحت پر آیا امریکی ہینری بھی تھا۔ وہ اس کی اکثر پرفارمنسز میں آتا اور کھل کر داد دیتا۔ دونوں کے بیچ محبت کا جذبہ پروان چڑھنے لگا۔
کچھ عرصہ بعد وہ ہینری کے ساتھ بھاگ کر امریکہ چلی گئی۔ اس کے گھر سے بھاگنے اور ڈانس کا جب شہر کے لوگوں کو پتا چلا تو امام صاحب شرمندگی کے مارے کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔ انھوں نے خاموشی سے کسی دور دراز علاقے میں ہجرت کر لی۔ بیٹی تمام باتوں سے بے پرواہ اپنی آزادی کو انجوائے کرتی رہی۔ اس کے بوائے فرینڈ نے اس کی خوشی کے لیے دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح پڑھ لیا۔
شائستہ نے امریکہ میں کچھ محفلوں میں اپنی ڈانس پرفارمنس دکھائی۔ مگر زیادہ پذیرائی نہ ملی۔ اسی دوران شوہر سے تعلقات خراب ہونے لگے۔ بیٹی کی پیدائش کے بعد اس کے شوہر نے اسے بتایا کہ وہ شادی سے اکتا گیا ہے۔ شائستہ کو معلوم ہوا کہ ان کا قانونی نکاح تو طور پر ہوا ہی نہیں۔ اسی لیے اس کے اور اس کی بیٹی کے کوئی قانونی حقوق نہیں ہیں۔ شوہر بے سر و سامان چھوڑ کر چلا گیا تو خرچہ چلانے کی فکر ہوئی۔ کام ہنر کوئی آتا نہیں تھا اسی لیے فیکٹری میں مزدوری کرنا پڑی۔ اس نے بیٹی کی پرورش میں کوئی کسر نہ چھوڑی، سارے شوق بھول گئے۔ یہ بھی یاد نہ رہا کہ کبھی ڈانس کا بھی شوق تھا۔ بیس سال سخت محنت کرتے گزرے۔ ساری خوشیاں چھوٹ گئیں۔ بیٹی کو اچھے کالج اور ہوسٹل میں داخل کروا یا۔ وہاں جا کر بیٹی کو ماڈلنگ کا شوق چڑھ گیا۔ پتا نہیں کیوں اسے بیٹی کا یہ ماڈلنگ کرنا پسند نہ آیا۔ یہ بھی کوئی شوق ہوا کہ اپنی کم کپڑوں والی تصویریں پوری دنیا کو دکھا کر داد وصول کرو۔ یہ بھی ایک طرح کا جسم بیچنا ہی ہوا۔ یہ ہماری تہذیب کے خلاف ہے۔
بیٹی نے ماں کی نصیحت کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیا۔ اٹس آ فری کنٹری موم۔
ایک دن بیٹی نے پلے بوائے میگزین میں اپنی نیوڈ فوٹوز بڑے فخر سے اپنی ماں کو بھجوائیں۔ ان تصویروں کو دیکھ کر شائستہ کو پہلی بار احساس ہوا کہ اس کے گھر سے بھاگنے پر اس کے باپ پر کیا گزری ہو گی۔ اسے شدید شرم آنے لگی۔ جیسے یہ تصویریں اس کی بیٹی کی نہیں اس کی ہوں۔ یہ صدمی اتنا شدید تھا کہ اس نے چھت سے چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
جب میں نے کاشف کو اپنی تیمور درانی کے ساتھ میٹنگ کابتایا تو وہ چونک گیا۔ اس کو بھی تیمور درانی کے بارے میں پتا تھا۔
عبیر اس کی شہرت اچھی نہیں ہے۔
تمھیں اس سے نہیں ملنا چاہیے تھا۔ وہ شخص ایک جانور ہے۔ اس نے کئی لوگوں کے بزنس بہت بے دردی سے تباہ کر دیے ہیں۔ اسے لوگوں کے مان توڑنے میں مزہ آتا ہے۔اوپر سے وہ اخلاقی طور پر بھی اچھا انسان نہیں ہے، بری شہرت کی لڑکیاں اس کے ساتھ نظر آتی ہیں۔
اچھا ہوا اس نے خود تمھارا پروپوزل ریجیکٹ کر دیا۔ ورنہ اگر اس سے رابطہ رہتا تو نہجانے کیا کرتا۔
کاشف کی باتیں سن کر میرا دل تیزی سے دھڑکنا لگا۔ شکر ہے، میں نے کاشف کو یہ نہیں بتایا کہ میری تیمور درانی سے بات کیا ہوئی۔ میں نے بھی کتنے یقین سے یہ دعوی ٰ کیا تھا کہ میرا ایمان کبھی نہیں ڈگمگائے گا۔ او میرے خدا کہیں وہ میرے مان کو توڑنے کے پیچھے تو نہیں پڑے گا؟
عمارہ کو پورا یقین ہو گیا کہ ہمیں انویسٹر نہیں ملے گا۔ اس کو اس ملک کے سسٹم سے ہی نفرت ہو گئی ہے۔
عبیر۔۔ یہاں کوئی بھی تخلیقی اور تعمیری کام نہیں کیا جا سکتا۔ میں پیرس جا رہی ہوں۔ وہیں پر تخلیقی کام کرنے کی آزادی ہے۔ میں نے ڈپلومہ کے لیے اپلائی کر دیا ہے۔
میں اداسی سے اس کی یہ ساری باتیں سنتی رہی، اب نوکری ڈھونڈنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا۔ ایک مہینے سڑکوں پر دھکے کھانے کے بعد احساس ہوا، میری کوئی مارکیٹ ویلیو ہی نہیں ہے۔
اپنا کام کرنے کا خواب بغیر پیسوں کے ممکن نہیں تھا۔ جو لوگ یونیورسٹی سے مر کر پاس ہوئے تھے وہ اپنے ممی پاپا کی سفارشوں سے کہیں نہ کہیں ایڈجسٹ ہو گئے۔ جبکہ میں گولڈ میڈل لے کر بھی دھکے کھانے لگی۔
میری مایوسی دن بدن بڑھتی گئی، کیا میں بھی ساری زندگی گھر میں بیٹھی رہوں گی۔
کاشف میری پریشانی کو سمجھتا ہے۔ ہر ناکامی کے بعد اس کی باتیں مجھے دوبارہ سے حوصلہ دیتیں۔
عمارہ کا ایڈمیشن ہو گیا، کچھ ہی دنوں میں اس نے فرانس چلے جانا تھا۔
ہم دونوں ہی اداس تھیں۔ مگر میں اس کے بہتر مستقبل کی راہ میں حائل نہیں ہونا چاہتی تھی۔ اس نے اپنے لیے بہت سے خواب دیکھ رکھے ہوں گے۔ اگر ہمارا بزنس پلان چل جاتا تو بات کچھ اور ہوتی۔
میں اداسی سے اپنے بنائے ہوئے ڈیزائنز کو دیکھتی رہتی۔
———–
عمارہ کو گئے ہوئے ایک مہینہ ہو گیا۔ میں اپنی فیلڈ کی نوکری کے بجائے دوسری نوکریاں کرنے کے لیے اپلائی کرنے لگی۔ زندگی بھی ہمارے ساتھ کیسے کیسے کھیل کھیلتی ہے۔ کاشف کے گھر والوں کو شادی کی جلدی تھی۔ وہ چاہ رہے تھے کہ کچھ ہی مہینوں میں شادی ہو جائے۔ اماں ابا کی اگرچہ تیاری پوری نہیں تھی، پھر بھی انھوں نے ہامی بھر لی۔
ایک دن کاشف بہت ایکسائیٹڈ نظر آیا۔ میں نے وجہ پوچھی تو بولا۔
عبیر مجھے امریکہ میں چھہ مہینے کی سپیشل ٹریننگ کے لیے نومینیٹ کر دیا گیا ہے۔ پورے پاکستان سے صرف میرا ہی سلیکشن ہوا ہے۔ لیکن ایک مسئلہ ہے۔
وہ کیا؟
اگر میں ٹریننگ پر جاؤں گا تو شادی چھ مہنے لیٹ ہو جائے گی۔ اسی لیے مجھے شادی اور ٹریننگ کے بیچ میں ڈیسائیڈ کرنا ہے۔
میں نے بہت سوچنے کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ تمھیں پانا ٹریننگ سے زیادہ ضروری ہے۔
مجھے دل میں خوشی محسوس ہونے لگی۔
کاشف میرا خیال ہے یہ کوئی عقلمندانہ فیصلہ نہیں۔ آپ کو ٹریننگ کا اتنا اہم موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
عبیر تمھیں حاصل کرنے کے لیے میں دنیا بھی چھوڑ نے پر تیار ہوں۔ یہ ٹریننگ تو معمولی سی چیز ہے۔
اچھا اب باتیں نہ بنائیں۔
میں نہیں چاہتی آپ اتنا بڑا موقع ضائع کریں۔ شادی چھ مہینے لیٹ ہونے سے کوئی قیامت نہیں آئے گی۔ اسی بہانے دونوں فیملیز کو تیاری کا موقع بھی مل جائے گا۔
عبیر ! اب مجھ سے اور دور نہیں رہا جاتا۔ مزید کتنی دوریاں بڑھاؤ گی۔ ایک تمھارا چہرہ تک تو میں دیکھ نہیں سکتا۔
کاشف میں دل وجان سے آپ کی ہی ہوں۔ بس تھوڑے دنوں کی ہی تو بات ہے۔
مجھے بہت شرم آئی۔
دیکھ لو اتنے دنوں میں اگر کہیں میں مر مرا گیا تو تمھارا چہرے کے دیدار کے بغیر ہی اس دنیا سے چلا جاؤں گا۔
قیامت تک یہی حسرت رہے گی کہ کاش ایک بار وہ چہرہ دیکھ لیتا۔
مرتے ہوئے میرا دل کہہ رہا ہو گا
مرنے والا ہے بیمار حسرت اب کہا مان جا حسن والے
دیکھ آنکھوں میں تھوڑا سا دم ہے اب تو چہرے سے پردہ ہٹا دے
کاشف نے جیسے ہی مرنے کی بات کی میری تو جیسے جان ہی نکل گئی۔
اللہ نہ کرے کاشف، کچھ تو سوچ کر بولا کریں۔ کبھی کبھی کہی وہی باتیں بھی صحیح ہو جاتی ہیں۔
اگر آپ کو کچھ ہو گیا تو یقین مانیں میں۔۔ میں۔۔ ویسے ہی مر جاؤں گی۔
میں نے روہانسی سی آواز میں کہا۔
اور اگر آپ کو میرا چہرہ دیکھنے کا اتنا ہی شوق ہے تو اپنا سکائپ آن کریں میں ابھی آپ کو اپنا چہرہ دکھاتی ہوں۔ میں دادی سے معافی مانگ لوں گی۔ یہ کہہ کر میں نے فوراً اپنا فرنٹ کیمرہ آن کیا۔
نہیں عبیر میں کچھ دن صبر کر لیتا ہوں۔ تم اپنا وعدہ نہ توڑو۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شادی لیٹ ہونے سے مجھے تشنگی کا احساس ہونے لگا۔ اتنے قریب آ کر بھی دوریاں بڑھ گئیں۔ جانے سے پہلے کاشف ہمارے گھر آیا۔ اب ہمارے گھروں میں یہ رواج تو ہے نہیں کہ شادی سے پہلے یوں علیحدہ ملنے دیا جائے۔
یہ ویسے بھی آڈ لگتا ہے۔ وہ اماں اور ابا کے ساتھ گپ شپ لگاتا رہا۔ شگفتہ اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے لگی۔
میں چھپ کر اسے دیکھتی رہی۔ اس کی بیچینی یہی بتارہی تھی کہ وہ اصل میں مجھ سے ملنے آیا ہے۔ اس بات کو شگفتہ بھی خوب جان گئی اسی لیے اس نے راستہ نکالا۔
ابا کو اچانک محلے کی ایک میٹنگ میں جانا پڑا۔ اماں خالہ کا فون سننے میں مگن ہو گئیں۔ شگفتہ فوراً کاشف کو میرے کمرے میں لے آئی۔
میں اسے یوں سامنے دیکھ کر شرما گئی۔
میری طلب اور جذبات کی شدت میری باڈی لینگوج سے ظاہر ہونے لگی۔
میرے دل میں شدید خواہش اٹھی کہ میں اس کے سینے سے لگ جاؤں اور رونا شروع کر دوں۔ میں اسے نہیں جانے دینا چاہتی۔
میرے دل میں عجیب سے ہول اٹھنے لگے، اگر اسے وہاں کچھ ہو گیا۔ یا اسے کوئی گوری پسند آ گئی، یا مجھ سے زیادہ اچھی لڑکی پسند آ گئی تو؟
میں نے نمناک نظروں سے اسے دیکھا اور اپنا چہرہ پھیر لیا۔
وہ خود پر کنٹرول کر کے کھڑا رہا۔ تاکہ کوئی چھچھوری حرکت نہ ہو جائے۔
اس نے مجھے سونے کا بریسلیٹ گفٹ دیا۔
میں بھی کتنی سٹوپڈ تھی کہ اپنے جذبات میں یہ بھول ہی گئی کہ مجھے بھی اسے کوئی گفٹ دینا چاہیے۔
ہم دونوں نے بہت مختصر سی بات کی۔ فون پر بات کرنے میں سامنے بات کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ پردے کے پیچھے ہم کتنے کانفیڈنٹ ہوتے ہیں۔ میں اس کی آنکھوں میں بھی نہیں دیکھ پائی، بس اس کی شرٹ کے بٹنوں کو دیکھتی رہی۔
اس کی پرتجسس آنکھیں میری چادر کے پیچھے سے میرا چہرہ دیکھنے کی کوشش کرتی رہیں۔
میرا دل چاہا غلطی سے ہی چادر کا پلو ڈھلکا دوں۔ وہ جیسے میری سوچیں پڑھ رہا ہو۔ اس نے فوراً میرا ہاتھ پکڑ لیا۔
سنسنی کی ایک لہر میرے جسم میں دوڑ گئی، اور میں شرم سے لال ہو گئی۔
کیا اسے بھی میرے جسم کی سنسنی محسوس ہوئی ہو گی؟
جب وہ جانے لگا تو میں اپنے آنسو نہ روک سکی۔ اس نے میرا ہاتھ چھوڑا تو دل چاہاوہ تھوڑی دیر کے لیے اسے پکڑ کر رکھے۔
اس کے جانے کے بعد بھی میں کافی دیر روتی رہی۔ شگفتہ نے مجھے تسلی دینے کی کوشش کی۔ پر میرے دل کو چین نہیں آ رہا تھا۔
دل میں برے برے وسوسے اٹھ رہے تھے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کاشف کے جانے کے دو ہفتے بعد کسی غیر معروف فیشن ڈیزائننگ کی کمپنی سے انٹرویو کی کال آئی۔ میں نے اتنی جگہ اپلائی کیا تھا کہ کمپنیوں کے نام بھی یاد نہیں رہے۔ میں بڑی تیاری کے ساتھ انٹرویو کے لیے گئی۔ کمپنی کا نام پہلی بار سنا تھا۔ میں نے ان کی ویب سائٹ دیکھی تو حیران رہ گئی کہ یہ تو ملٹی نیشنل کمپنی ہے جو زیادہ کام باہر کرتی ہے۔ اس کمپنی کی مارکیٹ جنوبی ایشیا اور سنٹرل ایشیا میں تھی۔
میں انٹرویوز میں اپنے ڈیزائنز کو بھی لے گئی۔ انٹرویو لینے والوں میں زیادہ تر فارنرز تھے۔ میرا کانفیڈنس آدھا تو ادھر ہی لوز ہو گیا۔ لیکن ان لوگوں کا انداز بہت ہی پروفیشنل تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ میرے علاوہ وہاں کوئی انٹرویو دینے بھی نہیں تھا۔ شاید مختلف ٹائم اور دنوں میں بلایا گیا ہو۔
میرا انٹرویو کافی اچھا ہوا۔
ان لوگوں نے بتایا کہ وہ اسلامی فیشن کا ایک برینڈ لانچ کرنے والے ہیں۔ اسی سلسلے میں وہ ایسے لوگوں کی تلاش میں ہیں جن کے پاس نئے آئیڈیاز ہوں۔ انھوں نے مجھے اپنے آفس کا ٹور بھی کروا یا۔ میں جتنا دیکھتی گئی اتنا ہی متاثر ہوئی۔
آفس کا ماحول بہت ہی آرٹسٹک تھا۔ ہر بندے کو ایک چھوٹا سا کمرہ الاٹ تھا جسے وہ اپنی مرضی سے سجا سکتا تھا۔ ہر جگہ پینٹنگز اور ڈیزائنز لٹکے ہوئے تھے۔ کہیں میوزک چل رہا تھا تو کہیں لوگ آرام سے بیٹھے تھے۔ یہ آفس کم اور انٹرٹینمنٹ کی جگہ زیادہ تھی۔ تخلیق اور نیا خیال پابندیوں کے ماحول میں پیدا نہیں ہو سکتا۔ آفس میں پاکستانی لوگوں سے زیادہ لوگ فارنر تھے۔ پاکستانی لوگوں میں زیادہ تر ہائی سوسائٹی کے لگ رہے تھے۔ ان لوگوں میں میری جیسی لڑکی جانے کیسے ایڈجسٹ ہو گی؟
یاللہ! کسی طرح یہ جاب مجھے مل جائے۔ اتنا زبردست ماحول مجھے کہیں نہیں مل سکتا۔
دو دن کے بعد مجھے انھوں نے سیکنڈ انٹرویو کے لیے بلایا۔ مجھے بتایا گیا کہ انٹرویو کمیٹی نے میری سلیکشن ریکیمنڈ کر دی ہے۔ مگر پیکج اور سلیکشن کمپنی کے باس ہی فائنل کریں گے۔ آپ کا ان کے ساتھ انٹرویو ہے۔
میں ڈرتے ڈرتے کمپنی کے سی ای او کے کمرے میں داخل ہوئی۔ میں اس کا چہرہ نہیں دیکھ پائی کیونکہ وہ دیوار پر لگی ایک بڑی سی پینٹنگ کو دیکھنے میں مصروف تھا۔
اس پینٹنگ میں ایک شخص ویرانے میں اداس بیٹھا ہے۔ ایسے جیسے پوری کائنات میں وہ صرف تنہا انسان ہو۔ اس تصویر میں ایک کائناتی تنہائی، خاموشی اور اداسی دکھائی دیتی تھی۔ اس پینٹنگ کو جتنا دیکھتے جاؤ اتنا اس منظر کی گہرائی اور اداسی آپ کے اندر اترتی جاتی۔ مجھے بھی کچھ دیر کے لیے احساس ہوا کہ جیسے وقت رک گیا ہو۔ وہ سی ای او بھی اس پینٹنگ میں کھویا رہا۔ پھر مجھے آواز آئی۔
اس پینٹنگ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔؟
اس کے ساتھ ہی وہ شخص میری طرف متوجہ ہوا۔
سر یہ منظر دیکھنے والے کو کسی اور ہی دنیا میں لے جاتا ہے۔ یہ ہمیں اپنے اور کائنات کے بارے میں گہرے سوال اٹھانے پر مجبور کرتا ہے۔ ۔
اس لمحے اس کے چہرے نے مجھے چونکایا
وہ تیمور درانی تھا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
تو یہ سب کھیل تیمور درانی کا کھیلا ہوا تھا۔ پہلے اس نے ہمارے پلان کو فیل قرار دیا اور پھر مجھے ہی نوکری دے کر ہمارے آئیڈیا زکو اپنے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔
مجھے خود پر شدید غصہ آیا۔ ہمیں ایسے شخص پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے تھا۔
میری آنکھوں اور باڈی لینگوئج دیکھ کر وہ بولا۔
آپ سوچ رہی ہیں کہ میں نے جان بوجھ کر آپ کے پلان کو فیل کیا تاکہ آپ کے کو نوکری دے کر آپ کا آئیڈیا چوری کروں۔ آپ غلطی پر ہیں۔ آپ کے ڈیزائنز میں جدت تھی لیکن انھیں ابھی مزید ریفائن کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی کے لیے آپ کو ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔ دوسرا آپ کا مارکیٹنگ اور انویسٹمنت کا پلان بہت ہی ویک تھا۔ پاکستان کی مارکیٹ دیکھتے ہوئے آپ کو کبھی پرافٹ نہ ہوتا۔
ایک دو سال کے اندر ہی اس بزنس بند ہو جاتا اور آپ بہت بڑے قرضے کے نیچے آ جاتے۔ اگرچہ مجھے کسی بزنس آئیڈیا کی ناکامی پر افسوس نہیں ہوتا، یہ تو روز کا ہی معمول ہے۔
آپ کے کام کو دیکھ کر مجھے آپ کے اندر پوٹینشل نظر آیا جسے پالش کیا جا سکتا ہے۔
سب بکواس! یہ سارے بزنس مین ایسے ہی ہوتے ہیں۔ اس جیسے غیر اخلاقی بندے سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ مجھے یہ نوکری کی آفر ٹھکرا کر اٹھ جانا چاہیے۔ لیکن میں جیسے سیٹ سے چپک گئی۔
دیکھوں تو سہی یہ چاہتا کیا ہے؟
میری کمپنی ایک اسلامی فیشن کا برینڈ لانچ کرنا چاہتی ہے۔ یہ پاکستان سے زیادہ سنٹرل ایشیا اور یورپ میں ہو گا۔ یہ برینڈ لانچ کرنے کا فیصلہ میرا نہیں میرے ایڈوائزرز کا ہے۔ اسی لیے مجھے آپ کا خیال آیا۔
آپ کی سلیکشن میں میرا کوئی ہاتھ اتنا نہیں۔ وہ آپ نے اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر حاصل کی ہے۔ میں چاہتا ہوں آپ اپنے آئیڈیاز کو ایکسپلور کریں جو آپ کے لیے اور ہماری کمپنی کے لیے فائدہ مند ہو۔
میرے آئیڈیاز۔۔ مائی فٹ۔۔ میں دیتی ہوں تمھاری کمپنی کو اپنے آئیڈیاز۔
اس کی آواز اسی طرح بھاری اور سرد تھی جس میں جذبات کی ذرا بھی رمق نہیں تھی۔ وہ آنکھیں بھی بہت کم جھپکاتا تھا۔ دیکھنے میں وہی گہری چھبن، جیسے کپڑوں کے اندر میرے جسم تک کو دیکھ رہا ہو۔
مجھے ایک عجیب سے بے حجابی محسوس ہوئی۔ میں نے اپنا عبایہ درست کیا اور اپنا نقاب مزید آنکھوں کے اوپر چڑھا لیا۔
ہماری کمپنی کا ورکنگ انوائرمنٹ تو آپ نے دیکھ لیا ہو گا، میں یہ تو نہیں کہتا کہ یہ سب سے اچھا انوائرمنٹ ہے لیکن تخلیقی کام کے لیے اس کے اچھا انوائرمنٹ آپ کو پورے پاکستان میں کہیں نہیں ملے گا۔
بات تو سنو اس کی یعنی تھوڑا سا اچھا انوائرمنٹ دے دو اور لوگوں کا ٹیلنٹ کوڑیوں کے مول لے لو۔ یہ لوگ کبھی نہیں چاہتے کہ ہم جیسے لوگ خود اپنی تقدید کا فیصلہ کر سکیں۔
واپس جا کر کس کمپنی میں اپلائی کروں؟۔ یہاں تو کسی قیمت کام نہیں کرنا۔
وہ جیسے میری سوچوں کو پڑھ رہا تھا۔۔
مس عبیر میں لوگوں کو ایکسپلائٹ نہیں کرتا۔ آرٹ کے ساتھ میری خاص محبت ہے۔ اسی لیے آرسٹسٹ لوگوں کی میں خاص قدر کرتا ہوں۔ یہ لوگ اس بے معنی دنیا میں خوبصورتی پیدا کرتے ہیں۔
اس نے اپنی وہی ملحدانہ سوچ دہرائی۔
عجیب آدمی ہے آرٹسٹوں سے محبت کرتا ہے لیکن خدا جو سب سے بڑا تخلیق کار ہے اسے ہی نہ مانتا۔
میری باڈی لینگوج چیخ چیخ کر کہتی رہی کہ میں اس کی کسی بات میں دلچسپی نہیں۔
مس عبیر میں یہ نہیں چاہتا کہ پیسے کی لالچ دے کر آپ کو اس جاب کے لیے قائل کروں۔ میری سلیکشن ٹیم نے 50 ٹیلنٹڈ لوگوں کے انٹرویوز کے بعد آپ کا سلیکشن کیا ہے۔ اسی لیے مجھے ان کے فیصلے کا احترام کرنا ہے۔ یہ انٹرویو اسی لیے رکھا گیا ہے کہ میں آپ سے سیلری اور بینیفٹ کی بات کر سکوں۔
اگر آپ اس جاب میں انٹرسٹڈ نہیں ہیں تو۔ ۔
میں اٹھنے ہی لگی تو خیال آیا۔ ذراد یکھوں تو سہی کیا سیلری اور بینیفٹ کیا ہے۔
مس عبیر میں سیلری سے زیادہ بینیفٹ کی بات کروں گا۔ اس کمپنی میں آپ کو یہ آزادی ہو گی کہ آپ بغیر کسی پابندی کے اپنے آئیڈیاز پر کام کرسیکیں۔ سیلری پر ہم بات کر لیتے ہیں کہ آپ کتنی سیلری لینا چاہیں گی۔
آزادی سے کام کرنے والی بات اگر سچ ہو تو بہت اچھا ہے۔ پر مجھے یقین نہیں تھا کہ کمپنیاں اتنی اچھی ہوتی ہیں کہ آرٹسٹوں کو ان کی مرضی سے کام کرنے دیں۔ اتنے پیسے مانگ لیتی ہوں جو نا ممکن سے بھی زیادہ ہو۔
میں نے جیسے ہی اپنی ایکسپیکٹڈ سیلری بتائی تو اس کی آنکھوں میں ہلکی سی دلچسپی کی لہر اٹھی۔ وہ بالکل بھی اس سے حیران نہ ہوا۔ اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
مس عبیر میں جانتا ہوں تخلیقی کام انمول ہوتا ہے۔ آپ کو نہیں لگتا کہ جو سیلری مانگ رہی ہیں یہ تھوڑی غیر حقیقی ہے۔
ہے تو ایسا ہی۔ کیونکہ میرے دل میں یہ شبہ ہے کہ آپ نے ہمارا بزنس آئیڈیا جان بوجھ کر فیل کیا ہے اسی لیے میں اپنی من مانی سیلری لوں گی۔
وہ اگر میری اس بات سے ناراض بھی ہوا تھا تو اس نے اظہار نہ کیا۔
میرا اس طرح کی بات کرنا ہی مجھے فیل کر دینے کے لیے کافی تھا۔
مس عبیر جتنی سیلری آپ نے مانگی ہے اس کو آدھا کر دیں تو بات قابل قبول ہو سکتی ہے۔
سوری تیمور صاحب یہ ممکن نہیں ہے یہ کہہ کر میں اٹھ گئی۔ میں نے اس کے ساتھ وہی کیا جو اس نے میرے ساتھ بزنس پلان والی میٹنگ میں کیا تھا۔ میں دروازے تک پہنچی تو پیچھے سے اس کی آواز آئی۔
مس عبیر۔۔ جذباتیت میں ہم لائف ٹائم موقعوں کو کھو دیتے ہیں، کچھ دن ٹھنڈے دل سے اس آفر کے بارے میں سوچیں۔ پھر بھی آپ سمجھتی ہیں کہ آپ نہیں آنا چاہتیں تو آپ کی مرضی ہے۔
آپ جب بھی آنا چاہیں میری ٹیم آپ کو ویلکم کرے گی۔ لیکن میں اس ایروگنس کی کچھ سزا بھی دوں گا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
میں بیک وقت اداس اور خوش باہر نکلی۔ اداسی اس بات کی کہ ایک ہی موقع ملا اور وہ بھی ایک برے شخص کی وجہ سے ضائع ہو گیا۔
خوشی اس بات کی تھی کہ میں دوسری بار اس کی چالوں کا شکار نہیں ہوئی۔ وہ بھی کیا سوچتا ہو گا کہ کس سے پالا پڑا ہے۔ میں اپنے بچکانہ خیالات پر میں گم گھر پہنچ گئی۔
عمارہ سے سکائپ پر بات کرتے ہوئے میں نے اسے آج کی کہانی سنائی۔ وہ ان دنوں پیرس گھوم رہیتھی۔ ہر روز مجھے وہاں کی نئی نئی باتیں بتاتی۔ آرٹ گیلریز کی تصویریں شئیر کرتی۔
عبیر یہ شہر ہی آرٹ کا ہے۔ یہاں لوگ آرٹ کو اور آرٹسٹ لوگوں کی بہت قدر کرتے ہیں۔ عمارہ اب وہ پہلی والی عمارہ نہیں رہی تھی۔ یوں محسوس ہوتا، وہ وہاں کے کلچر کی چکا چوند سے متاثر ہو گئی ہے۔ فارن ٹرپس پر وہ پہلے بھی جاتی تھی لیکن اتنے لمبے عرصے کے لیے پہلی بار گئی تھی۔ اب اسے ہماری ساری لوکل چیزیں کم تر لگنے لگتیں۔ وہ پہلے کی طرح میری باتیں نہیں سنتی، بس اپنی ہی سناتی۔ مجھے اس کی تبدیلی پر دکھ ہوا۔
اسے کیا ہوتا جا رہا ہے۔ مانا پیرس بہت اچھا ہے۔ پر اتنی جلدی تبدیلی؟
جب میں نے اسے تیمور درانی کے ساتھ میٹنگ کا بتایا تو اس نے ایسے سنا جیسے یہ واقعہ کوئی اہمیت ہی نہ رکھتا ہو۔ اسے اپنا بزنس پلان والا آئیڈیا بھی سٹوپڈ سا لگنے لگا۔
جیسے جیسے دن گزرتے گئے ہماری بات بھی کم سے کم ہوتی گئی۔ وہ اکثر مصروفیت کا بہانہ کرتی، اس کی اپنی نئی سہیلیوں کے ساتھ تصویریں آتیں۔ ان میں پاکستانی کم اور باہر کی لڑکیاں زیادہ ہوتیں۔ وہ ان کے ساتھ آؤٹنگ اور فیشن شوز میں جاتی، ایک دو بار دو ڈانس کلب میں بھی گئی۔ مجھے اس کی اس تبدیلی کی سمجھ نہیں آئی۔
شاید ہم سب نئے ماحول اور نئے دوستوں کے ساتھ تبدیلی ہو جاتے ہیں اور ہمارے پرانے دوست عزیز ہمیں دیکھ کر حیران ہوتے ہیں۔ بہر حال میں اس کے لیے خوش بھی تھی کہ وہ اپنا مستقبل بنارہی ہے۔
عبیر تم بزنس پلان کو بھول جاؤ اور تیمور دارنی کی فرم میں جاب کر لو۔ کسی ملٹی نیشنل برینڈ کے ساتھ کام کرنا چھوٹے موٹے لوکل کام کرنے سے ہزار گنا بہتر ہے۔ پوری دنیا آپ کے ڈیزائنز پہنتی اور تعریف کرتی ہے۔
حیرت ہے مجھے اپنے بزنس کی کہانیاں سنانے والی اتنی جلدی تبدیل ہو گئی۔
کاشف سے بھی لمبی بات نہ ہوپاتی، ایک تو ٹائمنگ کا فرق آ گیا دوسرا سارا دن تو اس کے سیمینار چلتے رہتے۔ مجھ سے بات کرتے ہوئے بھی اس کی آواز سے تھکاوٹ ہوتی۔ میں نے اسے انٹرویو کے حوالے سے صرف اتنا بتایا کہ میں سلیکٹ نہیں ہو سکی۔ تیمور درانی والی بات میں نے گول کر دی۔ وہ اس بات کا پتہ نہیں کیامطلب لیتا۔ ویسے بھی میرا اب تیمور درانی اور اس کی کمپنی سے کیا لینا دینا۔
اماں اور ابا شادی کی تیاری میں لگے رہتے، ابا کے چہرے پر خرچوں کی ٹینشن ہوتی۔ اکثر فون پر دوستوں اور رشتے داروں سے پیسوں کو تقاضہ کرتے۔ اگرچہ کاشف کے گھر والوں کی خواہش یہی ہے کہ سادگی سے سب کچھ ہو۔ پہلے مجھے بھی دھوم دھام سے شادی کرنے کا شوق تھا۔ لیکن جیسے جیسے مجھے شادی کے خرچوں کو علم ہونا شروع ہوا۔ میں زیادہ جہیز اور خرچوں کے خلاف ہو گئی۔
اماں کہتیں جو لڑکی اچھا جہیز نہیں لے کر جاتی اس کی سسرال میں عزت نہیں ہوتی۔
ابا کی پریشانی صرف میری شادی کا خرچہ نہیں تھا۔
پچھلے ایک سال سے دکان کی سیل کچھ اتنی اچھی نہیں رہی تھی، جب سے کیش اینڈ کیری کا رواج چل پڑا تھا گروسری کی چھوٹی موٹی دکانوں کا کام کم ہو گیا تھا۔ پچھلے بیس سال سے ابا یہ دکان چلا رہے تھے، میری پیدائش سے پہلے وہ کئی سال کسی دوسرے کی دکان پر کام کرتے تھے۔ میری پیدائش کے ساتھ ہی انھوں نے اپنی دکان خریدی۔ اس دن کے بعد ان کی ترقی کا سفر شروع ہوا۔ انھوں نے دادی کو حج کروا یا، مکان بنوایا، اور ایک سیکنڈ ہینڈ گاڑی خریدی۔ بزنس کے حالاتمگر سدا ایک جیسے نہیں رہتے، سیل کم سے کم ہونے لگی اور گھر کے خرچے مہنگائی کے ساتھ بڑھتے ہی گئے۔ پچھلے ایک سال میں ان پر کئی لاکھ کا ادھار بھی چڑھ گیا۔ ابا کی ساکھ کی وجہ سے لوگ اب بھی ان پر بھروسہ کرتے ہوئے ادھار دے دیتے۔ معلوم نہیں یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔ اماں ان کی حالت کو دیکھتے ہوئے پریشان ہوتیں تو کہتے کہ بہت سے برے وقتوں کی طرح یہ بھی گزرجائے گا۔
گھر میرے جہیز کے سامان سے بھر گیا، اماں سامان دیکھتیں اور ان کے چہرے سے خوشی اور اندیشے نظر آتے۔ میرے جوڑے بن کر آئے تو اماں نے مجھے پہن کردکھانے کو کہا۔ جب میں نے پہنے تو انھوں نے آنکھوں میں آنسو لیے میری نظر اتاری اور پیسے مدرسے بھجوادیے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں اور شگفتہ کمرے کے کونے میں خوف سے دبکی کھڑی تھیں۔ میں نے چادر میں اپنے چہرے اور جسم کو چھپا لیا۔ جب ڈاکو نے میری طرف دیکھا تو میں نے فوراً انگوٹھی، بالیاں، اور چوڑیاں اتار کر اس کے ہاتھ میں رکھ دیا، کہ کہیں یہ تلاشی کے چکر میں میری بے حرمتی نہ کرے۔
زیور لے کر بھی اس کا گھورنا بند نہ ہوا۔ میں نظریں نیچی کیے دعائیں مانگنے لگی۔ ابا تو بے بسی کی حالت میں ایک کونے میں کھڑے ڈاکوؤں کو گھر کا صفایا کرتے دیکھتے رہے، اماں ان کی منتیں کرنے لگیں کہ وہ کچھ رحم کریں اور شادی کا زیور اور سامان لے کر نہ جائیں۔ انھوں نے ایک نہ سنی۔ کوئی بھی مزاحمت یا منت بے فائدہ تھی۔ اسی لیے ابا نے ڈاکوؤں کو آتے ہی کہا کہ انھیں جو چاہیے وہ لے جائیں، کوئی تشدد یا بدتمیزی نہ کریں۔ ہمیں بھی انھوں نے کہا کہ سب کچھ حوالے کر دو۔ مجھے سب سے زیادہ دکھ اپنی منگنی کی انگوٹھی اور شادی کے زیوروں کا ہوا۔
یہاں تک تو ٹھیک تھاپر لیکن جبب وہ سارے گھر کا صفایا کر کے جانے لگے تو نہجانے کیوں وہی ڈاکو میرے پاس آیا اور مجھے بہت ہی ہوس ناک نظروں سے دیکھنے لگا۔ اس کے منہ سے آنے والی بدبو سے مجھے قے آ گئی۔
میں نے منہ پھیر لیا۔ اس نے زبردستی میرے چہرے سے چادر کھینچنا شروع کی۔ یا اللہ مجھے بچائیں۔ بے بسی سے میرے آنسو نکل پڑے۔ وہ مجھے کھینچ کر کمرے میں لے جانے لگا۔ ایک اور بنت حوا کی عزت آج لٹنے والی تھی۔ اماں چیختی ہوئی بچانے آئیں تو کلاشنکوف کے ایک بٹ ان کے سر پر لگا۔ ابا جیسے پتھر کے بن گئے یہ تو وہی سالوں پہلے کا منظر تھا۔
کئی سال پہلے سردیوں کی ایک رات ابا نے اپنی دونوں بہنوں کو بندوق کی نوک پر کمرے میں لے جاتے دیکھا تھا۔ دادا پتھر کے بنے کھڑے رہے۔ ان کی مزاحمت پر ان کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ علیحدگی پسندوں میں اتنی نفرت آ چکی تھی کہ وہ بدترین مظالم بھی قومی خدمت سمجھ کر کر رہے تھے۔ دادا پر الزامات کی فہرست لمبی تھی۔ ایک مہاجر، دوسرا پاکستانی حکومت کے حمایتی، تیسرا کالج میں اردو زبان کے استاد۔ ان کے بدترین مخالف بھی یہ مانتے کہ انھوں نے کبھی کسی کے خلاف تعصب نہیں پھیلایا، مکمل دیانت داری سے پڑھایا۔ ہاں ان کا جرم بنگلہ دیش کی علیحدگی کی مخالفت تھا، جس کے باعث انھیں قوم کا غدار کہا گیا۔ کہتے ہیں خانہ جنگیوں میں آبرو ریزی ہوس کی تسکین کے لیے نہیں بلکہ مخالفین کی انا کو توڑنے کے لیے کی جاتی ہے۔ جنگ انسان کے اندر کا حیوان جگا دیتی ہے۔ ایسی صورتحال میں وہ ایسے کام کر دیتا ہے جو وہ عام حالات میں کرنے کا سوچتا بھی نہیں ہے۔ سالوں سے ساتھ رہنے والے اجنبی بن گئے اور لوٹ مار شروع کر دی۔
دادا کے گھر حملہ کرنے والے کوئی اجنبی نہیں اسی شہر اور محلے کے نوجوان تھے، جنھیں دادا پڑھاتے رہے۔ ابا بھی بے یقینی سے ان لوگوں کو دیکھتے رہے جو کبھی ان کے دوست تھے۔
اس دن ابا کا یقین انسانیت سے اٹھ گیا۔ جلتے گھر میں اپنے باپ اور بہنوں کی لاشیں چھوڑ کرجاتے ہوئے انھیں دل پر پتھر رکھنے پڑے۔ ان کی بڑی بہن کا ذہنی توازن اس حد تک خراب ہو گیا کہ انھوں نے جلتے گھر سے نکلنا گوارا نہ کیا اور راکھ ہو گئیں۔ ان کی آنکھوں کا دکھ ابا ساری زندگی نہ بھول سکے۔ کبھی کبھی ابا نیند میں رونا شروع کر دیتے۔ صبح اٹھ کر انھیں یاد نہ ہوتا۔ دادی کی ہمت تھی کہ وہ اتنے غموں کے بعد بھی زندہ رہیں اور ان کا اللہ پر ایمان مضبوط ہو گیا۔
ابا کی آنکھوں سے یہی لگا کہ وہ آج تاریخ کو دہرانے نہیں دیں گے۔ وہ اس انداز سے ڈاکو پر جھپٹے جیسے زخمی شیر شکار پر جھپٹتا ہے۔ ابا کی اور اس ڈاکو کی لڑائی شروع ہوئی اور آوازیں سن کر باہر گاڑی میں موجود دو ڈاکو اور آ گئے۔ ابا نے کوشش کی کہ وہ گن چھین لیں، ان پر ہوش سے زیادہ اور جوش حاوی ہو گیا۔ اسی دوران دو گولیاں چلیں اور ابا کراہ کر زمین پر گر گئے۔ اندھیرے میں یہ نہیں معلوم ہوا کہ گولی کس نے چلائی۔ اماں اور ہماری چیخیں نکل گئیں۔ ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور ڈاکو فوراً وہاں سے کھسک لیے۔ ڈاکوؤں کے جاتے ہی شور سن کر محلے کے لوگ بھی پہنچنا شروع ہوئے۔ ابا کو فوری ہسپتال لے کر گئے ڈاکٹروں نے بتایا گولیاں سینے میں دل کو زخمی کر گئی ہیں اور خون بھی کافی ضائع ہو گیا ہے۔ ہسپتال پہنچنے کے کچھ دیر بعد ہی ابا کا انتقال ہو گیا۔
چالیس سال پہلے وہ اپنی بہنوں کے لیے کچھ نہ کر سکے۔ چالس سال وہ ایک کرب سے گزرتے رہے۔ اپنی بیٹیوں کے ساتھ وہی ہوتے دیکھنا اور زندہ رہنا ان سے نہ ہوپاتا۔ یہ ایک ہارے ہوئے شخص کی ماضی کو تبدیل کرنے کی کوشش تھی۔
سال ہا سال اور اک لمحہ
کوئی بھی تو نہ ان میں بل آیا
خود ہی اک در پہ میں نے دستک دی
خود ہی لڑکا سا میں نکل آیا
یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ ہم سب کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ہی ماؤف ہو گئی۔ میں خالی ذہن سے سب ابا کی میت اور قبر کو دیکھتی رہی۔ کون لوگ آ کر تعزیت کرتے رہے مجھے کوئی علم نہ ہوا۔
مجھے جب کچھ سمجھ آنا شروع ہوئی کہ یہ سب خواب نہیں حقیقت ہے تو ابا کو دفنائے دس دن سے زیادہ گزر گئے تھے ابا کو دادی کے پہلو میں دفنایا گیا۔ اماں بھی شاک کی کیفیت میں تھیں۔ شگفتہ نے خود کو سنبھالا اور گھر کے سارے معاملات دیکھنے لگی۔
ابا کے جانے کے بعد کچھ حقیقتیں ہم پر کھلنا شروع ہوئیں۔ ابا پر مختلف لوگوں کا چالیس لاکھ سے اوپر کا قرض تھا۔ جس کی ادائیگی کے تقاضے دبے اور کھلے انداز میں آنا شروع ہو گئے۔ میری شادی کا سارا سامان اور گھر کی کافی قیمتی چیزیں بھی چلی گئیں۔ فوری طور پر خرچہ چلانے کے بھی پیسے نہیں تھے۔ ابا کے سب پرانے عزیز دوست گدھے کے سر پر سینگ کی طرح غائب ہو گئے۔ اماں کے رشتے دار سب ماضی کے ہی نواب تھے، حالتیں سب کی پتلی ہیں۔
ہم نخلستان سے نکل کر سخت دھوپ میں آ گئے۔
سب سے افسوس ناک بات کچھ اور بھی ہوئی۔ اگرچہا س رات ڈاکؤوں نے میرے یا شگفتہ کے ساتھ کچھ نہ کیا تھا۔ پھر بھی نہ جانے کیوں محلے کی عورتوں میں کچھ باتیں پھیلنا شروع ہو گئیں۔ جیسے اس رات کچھ ہوا تھا جو چھپایا جا رہا ہے۔ ہم نے اس رات کے ڈاکے کی ایف آئی آر بھی درج کروا ئی، مگر کوئی خاص پیش رفت نہ ہوئی۔
ایف آئی آر میں یہ بات درج ہوئی: ڈاکوؤں نے گھر کی عورتوں کے ساتھ بدتمیزی کی جس کے باعث گھر کے سربراہ کو اشتعال آیا اوراس نے ڈاکوؤں پر حملہ کیا۔ اسی دوران ڈاکؤں کی فائرنگ سے گھر کے سربراہ کی جان چلی گئی۔ محلے کی عورتیں کرید کرید کر اس رات کے واقعات پوچھتیں پر انھیں تسلی نہ ہوتی۔
میں شاید اس بات کو زیادہ توجہ نہ دیتی۔ پر جب شمائلہ نے بھی اس بات کو دو تین بار پوچھا تو مجھے شدید غم ہوا۔ شمائلہ بھی لوگوں کی باتوں کو سچ سمجھنا شروع ہو گئی ہے۔
اس نے اس اہم موقع پر ہماری امداد بھی کی۔ پر اس کا رویہ کچھ بدل گیا۔ میں نے کاشف کے سامنے اپنا غم شئیر کیا۔ وہ فوراً پاکستان پہنچنا چاہتا تھا لیکن ٹریننگ کی وجہ سے مجبور تھا۔
میں اور شگفتہ سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ اب کیا کیا جائے۔ لاکھوں کا قرضہ اور گھر کا خرچہ۔ گھر میں صرف میں جاب کر سکتی ہوں۔ شگفتہ نے تو ابھی یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا۔
او مائی گاڈ شگفتہ کی تعلیم کا خرچہ کون اٹھائے گا۔ ابا کی دکان کا کیا بنے گا۔ زندگی کے پریکٹیکل معاملات ہمارے سر پر پہاڑ کی طرح آن پڑے تھے۔
جلد از جلد کوئی نہ کوئی فیصلہ لینا تھا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
سچ بات یہ ہے ٹویشنوں سے گھر نہیں چلتے۔ سادہ سے سادہ گزارے کے لیے بھی مستقل آمدنی چاہیے۔ ٹیوشن کی آمدن ہوائی قسم کی ہوتی ہے۔
جلدی میں ابا کی دکان اور گاڑی بھی اونے پونے بیچنی پڑی۔ چالیس لاکھ کا قرضہ کسی بھی طرح اتارنا نا ممکن تھا۔ قرضہ چکانے کے بعد صرف اتنے پیسے بچے کہ تین چار مہینے گھر کا خرچہ چل جاتا۔ اور میری شادی؟
میری خوشیوں کو واقعی نظر لگ گئی تھی۔ زندگی بھی عجیب ہے اتنے قریب آ کر خوشیاں دور ہو جاتی ہیں۔ کل تک سب کچھ روشن تھا۔ آج سر پر ابا کا سایہ نہیں رہا، بزنس کا آئیڈیا چلنے سے پہلے فلاپ ہو گیا، منگیتر دور ہو گیا، اب نوکری اور گھر چلانے کے لالے پڑ گئے۔
میں اب خالی ہاتھ زندگی کی نئی شاہراہ پر کھڑی تھی۔ مجھے نہیں معلوم میں نے کہاں جانا اور کیا کرنا ہے۔ میرے دل میں ایک شدید غم اور مایوسی کی لہر اٹھی۔ یا اللہ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں؟ میں نے کونسے گناہ کیے ہیں جس کی یہ سزا ملی۔ کیا ٹریجیڈیزہمارے خاندان کی قسمت میں لکھ دی گئی ہیں؟
آخر ہم پر مشکلیں اور آزمائشیں کیوں آتی ہیں۔ ان کی کیا حکمت ہے۔ ہم بے نام ونشاں مارے جاتے ہیں۔ ہمارے دکھ کو سمجھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ یہ بھی تو سمجھ نہیں آتی کہ کوئی مشکل آزمائش ہے یا سزا؟
میرے نانی نیک خاتون تھیں، ساری زندگی انھوں نے کبھی نماز روزہ قضا نہیں کیا۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ باقائدگی سے تہجد پڑھتی تھیں۔ انھوں نے پانچ حج بھی ادا کیے۔ سب لوگ دینداری کی وجہ سے ان کی بے حد عزت کرتے۔ ان کی زبان پر ہروقت صرف ایک دعا رہتی، یا اللہ مجھے زندگی میں کسی کا محتاج نہ کریں اور چلتے پھر تے اس دنیا سے لے جائیں۔
ان کی سب خوبیوں کے ساتھ ان میں ایک خامی تھی کہ وہ دل کی بہت سخت اور زبان کی کڑوی تھیں۔ انھوں نے اپنی بہوؤں کی زندگی اجیرن بنائے رکھی۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا بڑھاپے میں انھیں فالج ہوا اور کئی سال شدید تکلیف میں گزارے۔ ان کی حالت دیکھ کر ان کے بچے بھی دعا کرتے کہ یا اللہ ان کی مشکلیں آسان کر دے اور انھیں اٹھا لے۔ وہ ہر وقت درد سے چلاتیں اور روتیں۔ ان کی حالت دیکھ کر سب سوچتے کہ یہ سزا ہے یا آزمائش؟
اپنی حالت دیکھ کر بھی یہی خیال آتا ہے۔ یا اللہ یہ سزا ہے یا آزمائش؟
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مجھے اس وقت ایک اچھی جاب چاہیے تھی جو اتنے پیسے دے کہ باعزت طریقے سے گھر چل سکے۔ شادی کا خیال فی الحال ذہن سے نکل ہی گیا۔ میں کسی بھی قیمت ہر اماں، اور شگفتہ کو بے آسرا نہیں چھوڑ سکتی۔ اچھا مستقبل تو ایک طرف ہماری بقا خطرے میں پڑ گئی ہے۔
دو تین مہینوں سڑکوں اور دفتروں کے دھکے کھاتے میں مایوس ہو گئی۔ ابھی تک سوائے تیمور درانی کی کمپنی کے کسی نے سیریس ہی نہیں لیا۔ تیمور درانی کی شخصیت اور باتیں مجھے زہر لگتی تھیں۔ میں اس احساس کو کیسے مٹاتی کے وہ خدا کو نہ ماننے والا ایک پتھر دل انسان ہے جس سے کسی قسم کی اخلاقیات کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
ایک مہینے تک میں نے ہر اس جگہ اپلائی کیا جہاں سے کچھ پیسے مل سکتے۔ اول تو نوکری ملتی نہیں۔ اگر ملتی بھی تو اتنے کم پیسے ہوتے کہ میرا آ نے جانے کا خرچہ بھی پورا نہ ہوتا۔ شگفتہ کی پڑھائی بھی خطرے میں پڑ گئی۔ کیونکہ اتنی مہنگی یونیورسٹی کا ایک مہینے کا خرچ بھی ہم نہیں دے سکتے۔
پہلی بار احساس ہوا کہ میں شدید دھوپ میں ننگے پیر کھڑی ہوں اور کسی نے میرے سر سے سایا چھین لیا ہو۔
لوگ اب بھی گھر آتے اور زبانی تسلیاں دے کر چلے جاتے۔ اماں کو تو چپ ہی لگ گئی، اور وہ زندہ لاش جیسی لگنے لگیں: نہ کچھ کھاتیں نہ پیتیں بس گم سم بیٹھی رہتیں۔ بیٹھے بیٹھے ان کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑتے۔ راتوں کو ان کی سسکیاں ہم سنتیں اور اپنے بستروں میں رونا شروع ہو جاتیں۔ اس سارے غم کے باوجود ہر آنے والا دن مستقبل کی تاریکی ہم پر واضح کرنے لگا۔
ایک دن یونیویرسٹی سے واپس آتے ہوئے کچھ لڑکوں نے شگفتہ کے ساتھ چھیڑ خانی کرنے کی کوشش کی۔ ایک دو نے اپنے نمبر پھینک اور آوازیں بھی کسیں۔ شگفتہ کی ڈریسنگ عموماًاچھی ہوتی، کبھی کبھی لونگ شرٹ کے ساتھ جینز پہن لیتی۔ اسے آنکھیں جھکا کر اور ڈرے سہمے رہنا پسند نہیں تھا۔ لوگ جب اسے گھور کر دیکھتے ہیں تو وہ اگنور کرنے کے بجائے انھیں غصے سے دیکھتی۔ اس کی یہی باتیں چھچھوروں کو اکساتی تھیں۔
چھیڑنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ اب ہمارے سر پر سایہ نہیں رہا۔ ابا کے ہوتے کسی کی ہماری طرف آنکھ اٹھا نے کی ہمت نہ پڑتی تھی۔ اب لوگوں کی نظریں بدل گئیں، ان میں بیباکی آ گئی تھی۔
شگفتہ میری طرح حساس نہیں، کہ ہر بات دل پہ لے۔ اس نے اس واقعہ کا ذکر بھی ایسے کیا جیسے عام سی بات ہو۔
یہ بات میرے ذہن میں گہرے خوف اٹھانے کے لیے کافی تھی۔ میں نے اسے اپنی ڈریسنگ موڈیسٹ کرنے اور نظریں جھکا کر چلنے کو کہا۔ پر مجھے معلوم تھا وہ اپنی عادت اتنی جلدی تبدیل نہیں کر سکتی۔
میں اس کے علاوہ کہہ بھی کیا سکتی تھی۔ بے بسی سے میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
یا اللہ یہ دنیا عورتوں اور بے سہارا لوگوں کے لیے کتنی مشکل جگہ ہے۔ میری نمازیں اور دعائیں طویل ہونے لگیں۔ اب صرف اللہ ہی کا آسرا تھا۔
دعا کے ساتھ دوا بھی جاری رہیں۔ میں نے عمارہ سے کہا کہ وہ اپنے پاپا یا کسی لنک کے ذریعے میری کہیں بھی جاب کروا دے۔ اس نے کئی جگہ میری سی ویز بھیجیں۔ چار پانچ جگہ انٹرویوز بھی ہوئے لیکن کوئی بات نہ بنی۔
مجھے شدید فریسٹریشن ہونے لگی۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا، کیا کروں؟
مجھے رہ رہ تیمور درانی کی کمپنی کی جاب کا خیال کر آتا، مگر میں اسے ریجیکٹ کر دیتی۔
ابا کا چالیسواں ہو گیا اور لوگوں کو چیزیں بھولنے لگے۔ پر ہمیں ہر گزرتا دن ابا کی یاد دلاتا۔ انھوں نے آج تک ساری مشکلات خاموشی سے سہیں۔ ہمیں کسی گرمی سردی کی ہوا نہ لگنے دی۔ اس دوران عید آ گئی۔ ہمارا غم مزید گہرا ہو گیا۔
بچپن سے ہی ہر چاند رات پر ابا ہمیں چوڑیاں پہنانے اور مہندی لگوانے لے جاتے۔ ہم اس ایونٹ کو خوب انجوائے کرتے اور ابا کے ڈھیر سارے پیسے خرچ کروا تے۔ میں جس سوٹ کو پسند کر لیتی چاہے جتنا بھی مہنگا ہوتا ابا کبھی انکار نہ کرتے۔ ہم عید سے زیادہ چاند رات کو انجوائے کرتے، عید والے دن تو بس مہمانوں نے آنا ہوتا اور کھانے پہ کھانے بنتے۔ اس عید پر لوگ ہم سے افسوس کرنے آئے۔ میں دیر تک ابا کی قبر کے سرہانے بیٹھ کر روتی رہی۔
ایسے وقت میں صرف کاشف ہی میری مشکل سمجھ رہا تھا۔ اس کا ساتھ میرے ساتھ نہ ہوتا تو میں پتہ نہیں کیا کر بیٹھتی۔ اس نے کہا کہ وہ واپس آ کر سارے معاملات ٹھیک کر دے گا۔ اس نے بھی ایک دو جگہ میری جاب کی کوشش کی لیکن کوئی سلسلہ نہ بن سکا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
دو مہینے بعد میں شرمندگی سے اسی صوفے پر بیٹھ گئی جہاں سے بڑے تکبر سے اٹھ کر گئی تھی۔ مجھے اپنی صلاحیتوں اور مارکیٹ ولیو پر کتنا مان تھا۔ آج اسی جاب کے لیے ایک طرح سے منت کرنے پہنچی تھی۔
” زندگی میں واقعی واپسی کا راستہ کھلا رکھنا چاہیے۔ وہ محاورہ ہے نا، ہاتھوں سے باندھی گھٹانیں دانتوں سے کھولنی پڑتی ہیں۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔
میں نے ہر کوشش کر کے دیکھ لی، دو تین نوکریوں میں ہفتہ ہفتہ بھی گئی۔ ہر جگہ یہی معلوم ہوا کہ چھوٹی نوکریوں میں انسان ایک غلام سے بھی بدتر ہوتا ہے۔ وہاں اوپر جانے کے لیے جس طرح کے حربے اپنانے پڑتے وہ ضمیر کی موت کے بغیر ممکن نہیں۔ اوپر سے تنخواہ اتنی کم ہوتی ہے کہ کرپشن کرنا مجبوری بن جاتا ہے۔ مالک اس بات کو سمجھتے ہوئے تنخواہ کو کم رکھتے ہیں۔
شگفتہ اور میں جب سودا سلف لینے جاتیں تو ہم سے عجیب عجیب سے باتیں کی جاتیں۔ وہی لوگ جو کبھی بیٹی بیٹی کہتے تھے اب ہاتھ پکڑنے اور اشارے کرنا شروع ہو گئے۔ نہ جانے اکیلی عورتوں کو دیکھ کر مردوں کے اندر سے بھیڑیے کیوں نکل آتے ہیں۔
محلے کی دکانوں والے ادھار تو دے دیتے لیکن اس کے بعد ان کی بدتمیزیاں بہت بڑھ جاتیں۔
شگفتہ کے لیے ایک دو ادھیڑ عمر لوگوں کے رشتے بھی آ گئے۔ شگفتہ کو تو جیسے سانپ ہی سو نگھ گیا۔
مجھے تیمور درانی کی فرم میں نوکری وہ واحد ذریعہ نظر آئی جو مجھے اور میرے گھر والوں کو فاقوں اور لوگوں کے رحم و کرم پر رہنے سے بچا سکتی تھی۔ مجھے علم تھا کہ تیمور درانی خود ایک بھیڑیا ہے جو کسی کو بھی اپنے فائدے کے لیے استعمال کر کے پھینک سکتا ہے۔ لیکن یہ بھیڑیا ہی اس وقت باقی کتوں سے بچا سکتا تھا۔
کیا تیمور درانی میرا یوں واپس جاب کے لیے آنا ایکسپٹ کر لے گا؟ کہیں وہ میری مجبوری کا فائدہ تو نہیں اٹھائے گا؟
اس نے کہا تھا کہ اگر میں واپس آئی تو میری ایروگنس کی سزا دے گا۔ اس بات کا کیا مطلب تھا۔ کہیں وہ۔ ۔ ۔۔
میں اپنے ذہن میں اٹھنے والے خدشات سے خود آنکھیں پھیرنے لگی۔ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہو سکتی، وہ آخر اتنی بڑی کمپنی چلا رہا ہے، اپنے ملازمیں سے کوئی بھی غیر قانونی اور غیر اخلاقی کام نہیں کروا سکتا۔
اگر وہ ایسا کر بھی لے تو اسے کون روکے گا؟ اگر اس نے ایسی ویسی بات کی تو میں نوکری کرنے سے ہی انکار کر دوں گی چاہے جو مرضی ہو۔ میں اپنی عزت آبرو اور اخلاق سے گری ہوئی کوئی حرکت نہیں کر سکتی۔
مجھے انتظار کرتے ایک گھنٹے سے زیادہ ہو گیا۔ اس کے آفس میں داخل ہوتے میرا ایک ایک قدم احساس شرمندگی سے بھاری ہونے لگا۔ میں اس کی جانب دیکھ بھی نہ پا ئی۔
میں ایک معصوم ہرنی تھی جو تاک میں بیٹھے بھیڑیے کی جانب جا رہی تھی۔ مجھے ایک لمحے کے لیے اس کے چہرے پر ایک تمسخرانہ مسکراہٹ نظر آئی۔ جیسے کسی کا مان اور اصول ٹوٹنا اسے اچھا لگا ہو۔
مسکرا لو مسٹر تیمور۔۔ جس دن مجھے موقع ملا میں بھی یہ نوکری چھوڑنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگاؤں گی۔ پر اس وقت مجھے اس نوکری کی ضرورت ہے۔
ہماری باقی ساری گفتگو رسمی اور پروفیشنل رہی۔ اس نے مجھے ایک لمحے کے لیے بھی احساس نہ ہونے دیا کہ وہ میری تذلیل کر رہا ہے۔ شاید مرے ہوئے کو ما رنا اس کا انداز نہیں تھا۔
آخر میں وہ ایروگنس والی بات پر آ گیا۔
مس عبیر کیونکہ آخری بار آپ اس نوکری کو ٹھکر اکر گئی تھیں۔ میں نے آپ سے کہا تھا اگر آپ واپس آئیں تو میں آپ کو ایروگنس کی سزا دوں گا۔
اللہ کتنا ظالم شخص ہے کچھ بھولتا ہی نہیں۔ اب یہ مجھے کیا سزا دے گا؟ نوکری پر تو رکھ لیا ہے۔
آپ کو نوکری کے علاوہ مجھے ایکسٹرا فیورز دینی ہوں گی جس کا ذکر آپ کسی سے نہیں کر سکتیں۔
میرا دل یکدم سے ڈوب گیا۔ اس نے وہی بات کر دی جو میرا بدترین خوف تھا۔
میں نے وضاحت کے لیے کچھ کہنا چاہا پر گلہ خشک ہو گیا۔ میری آواز خود مجھے سنائی نہ دی۔ میں نے ذرا زور لگا کر اس سے پوچھا۔
تیمور صاحب ! ایکسٹرا فیورز سے آپ کی کیا مراد ہے؟ مجھے اپنی آواز اجنبی محسوس ہوئی۔
اس کے انداز سے کچھ بھی مطلب لینا نا ممکن تھا۔ وہ اپنی باڈی لینگوج سے کوئی کلیو نہیں دیتا تھا۔
ایکسڑا فیورز کی تفصیل آپ کو ابھی نہیں بتائی جا سکتیں۔ یہ شرط آپ کو بلائنڈلی ماننی پڑئےگی۔
یہ کیا بات ہوئی، میں بغیر جانے کسی بھی بات کو کیسے مان لوں؟ مجھے پہلے اس کے بارے میں پتا ہونا چاہیے۔
مجھے افسوس ہے، یہ ایسا ہی ہے۔ یہ آپ کی ایروگنس کی پنشمنٹ ہے۔ آپ کی مرضی ہے آپ اسے قبول کریں یا نہ کریں۔
اگر آپ نے یہ جاب کرنی ہے تو آپ کو بلائنڈلی اس بات کو قبول کرنا پڑے گا۔
اس کا ایک ایک لفظ مجھے مزید مایوسی میں دھکیلنے لگا۔ ایک آخری امید تھی سو وہ بھی بجھ گئی۔
میں آپ کو صرف ایک بات بتا سکتا ہوں کہ یہ فیورز اس نوعیت کی ہرگز نہیں ہوں گی جس طرح کی فیورز لوگ خوبصورت لڑکیوں سے مانگتے ہیں۔ میں کسی کو مجبور کر کے اس کی عزت لوٹنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ یہ میرا انداز نہیں۔ باقی آپ سوچ لیں۔
اگر عزت و آبر و محفوظ رہے گی تو پھر یہ کس طرح کی فیورز ہیں جو یہ سے مانگنا چاہتا ہے۔ ان کو چھپانے میں اتنی سیکریسی کیسی؟ میں کنفیوز ہو گئی۔
پہلے سوچا اس نوکری کو لات مار کر اٹھ جاؤں۔ پھر باہر جبڑا پھاڑے کھڑی حقیقت یاد آ گئی۔ میرے پاس کوئی بھی تو راستہ نہیں ہے۔
آپ کے پاس سوچنے کے لیے ایک گھنٹا ہے۔ ٹھنڈے دل سے سارے پہلؤوں پر غور کر لیں۔ اس کے بعد کوئی تیسرا چانس نہیں ملے گا۔
میں کنٹریکٹ کی کاپی اٹھا کر باہر ویٹنگ روم میں بیٹھ گئی۔ میں نے کنٹریکٹ کو پڑھا۔ کنٹریکٹ میں بہت زیادہ تفصیلات تھیں۔ سیلری، ورکنگ ایتھک، ٹائمنگز، رولز، سروس سٹرکچر وغیرہ۔ سیلری دیکھ کر ایک لمحے کے لیے میں دنگ رہ گئی۔ میں نے دو تین بار دوبارہ دیکھا۔ یہ ابا کی مہینے کی آمدن سے تین گنا سے بھی زیادہ ہے، مجھے یقین نہ آیا۔
میں کافی دیر شش و پنج میں بیٹھی رہی۔ میں کاشف سے نہیں پوچھ سکتی کہ وہ اس بات کو نہیں سمجھے گا۔ عمارہ سے رابطہ نہ ہو سکا۔ میں نے نماز پڑھ کر دعا مانگنے کا سوچا۔ نماز پڑھ کر مجھے کچھ سکون آیا یا اللہ میری رہنمائی فرما۔
اسی لمحے محسوس ہوا میں کسی اندھیری غار میں ہوں اور خطرناک بھیڑیوں اور سانپوں سے ڈر رہی ہوں۔ غار میں بہت دور کہیں ہلکی سی روشنی بھی ہے۔ میں نے اس تصور کو بھی ایک اشارہ ہی سمجھا اور اس نوکری کو کرنے کا فیصلہ کیا۔ میرے دل میں ابھی بھی ایکسڑا فیورز کھٹک رہیں ہیں۔
کنٹریکٹ سائن کرنے کے بعد میں نے تیمور درانی کے حوالے کر دیا جو اس نے اپنی سیکریڑی کے ذریعے ایچ آر میں بھجوا دیا۔
سر اب تو ایکسٹرا فیورز کی ڈیٹیل بتا دیں، مجھے ایسا کیا کرنا ہو گا۔ میں نے شرم سے نظریں جھکا لیں۔
وہ فیورز جب چاہیے ہوں گی آپ کو اسی وقت ان کے بارے میں بتایا جائے گا۔
میں مزید بے چین ہو گئی۔
آخر یہ شخص کیا چاہتا ہے؟ ایسی کون سی بات ہے جو یہ بتا نہیں سکتا؟
میں نے اسی دن سے نوکری کو جوائن کر لیا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مجھے نوکری پر جاتے ایک مہینے سے زیادہ ہو گیا۔ اب کام کرنے میں اتنا مزہ آتا کہ ٹائم گزرنے کا احساس ہی نہ ہوتا۔ ابھی تو میرا سیکھنے کا ہی پیریڈ تھا۔ میں جلدی جلدی سب کچھ سیکھنا چاہتی تھی تاکہ آزادی سے کام کر سکوں۔ یہاں زیادہ تر لوگ اکیلے ہی کام کرتے تھے۔ بعد میں ان کے کام کو بعد میں کمبائین کیا جاتا۔ مجھے ڈیزائن سیکشن میں ڈالا گیا۔ میں نئے پرانے سارے ڈیزائن کو ٹیکنیکلی دیکھتی۔ یہ ایک مشکل لیکن دلچسپ کام تھا۔ مجھے گھنٹوں ایک ہی ڈیزائن میں کھوئے رہنا اچھا لگتا۔
یہ کام دیکھنے اور سننے میں آسان ہے۔ جب آپ تخلیقی کام کرتے ہیں تو کوئی آسمان سے خیالات نہیں آتے۔ آپ سارا دن بیٹھ کر سوچتے ہیں اور تھوڑی سی امپرومنٹ کرتے ہیں۔ ڈیزائن دیکھنے میں کچھ نہیں ہے صرف پیڑن ہے۔ ایک ایسا نیا پیٹرن بنانا جسے دیکھ کر لوگ رک جائیں۔ جو دیکھنے میں سادہ ہو اور غور سے دیکھنے میں گہرا۔ میری ٹیچر اور سینئر ایلف تھیں۔
ایلف اگرچہ چالیس سے اوپر کی تھیں پر اپنے بلونڈ بالوں اور دودھ جیسے رنگ کی وجہ سے اتنی خوبصورت لگتی ہیں کہ دیکھتے ہی رہ جاؤ۔ ایلف دو سال سے اسی فرم کے ساتھ اٹیچ تھیں۔ ان کی اردو سننے کا بھی بہت مزہ آتا۔ ایلف انقرہ میں پیدا ہوئیں۔ جب یہ دس سال کی تھیں تو ان کی فیملی جرمنی چلی گئی۔ ان کی ساری تعلیم جرمنی میں ہوئی۔ بعد میں انھوں نے سالوں پیرس میں بڑے بڑے برینڈز کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ حاصل کیا۔ سب سے زیادہ وقت انھوں نے شنیل کے ساتھ گزارا۔
وہ کو کو شنیل کو اپنا آئیدیل سمجھتی تھیں جس نے غربت سے اٹھ کر فیشن کی دنیا پر راج کیا۔ فرانس میں کئی سال انھوں نے گلمیر کی دنیا کو دیکھا۔ وہ اس دوران سنگل مدر بھی بن گئیں۔ اتنے سال پیرس کے کلچر میں رہنے کے باوجود ان کے اندر کی مشرقی ترک عورت نہیں مری۔ وہ پیرس اور فیشن کی چکا چوند میں بھی بے چین رہتیں۔ پیسہ اور شہرت کے باوجود کچھ خالی پن تھا۔
اسی خالی پن میں گھومنے پھرنے نکل پڑیں، نہ چاہتے ہوئے بھی ترکی چلی گئیں۔ بچپن کی یادیں تو واپس نہ آئیں۔ ہاں کچھ اپنا اپنا سا لگا۔ وہ اپنے دور کے رشتے داروں کے گھر ٹھہریں۔ سارا دن لڑکیوں اور عورتوں کے ساتھ گزارتیں۔ ان کے ساتھ کھانا بناتیں، کپڑے سیتیں، ان کی یونیورسٹیوں میں جاتیں، جی بھر کر ترکی کھانے کھاتیں، ترکی کی فلمیں اور گانے سنتیں۔ ترکی کے کلبوں میں بھی جاتیں اور مسجدوں، خانقاہوں کے بھی چکر لگاتیں۔ لڑکیوں کو دیکھتیں جو جینز اور سکرٹ پہنتی,ساتھ میں سکارف بھی لیتیں۔ جو اپنی نسوانیت اور مشرقیت کے ساتھ مردوں کی برابری کرتیں۔ یہیں انھیں ایک لڑکے سے محبت بھی ہو گئی۔ یہ لڑکا استنبول میں پراپرٹی انویسٹمنٹ کی کمپنی چلاتا تھا۔ دونوں ایک شادی میں ملے اور کچھ ہی مہینوں بعد ان کی اپنی بھی شادی ہو گئی۔ ترکی آ کر جو خلا تھا بھر گیا۔ یوں لگا مچھلی دوبارہ پانی میں واپس آ گئی ہو۔ ترکی میں رہتے رہتے انھوں نے اپنے کلچر کے فیشن پر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ مستقل مزاجی نہیں تھی اسی اپنا برینڈ نہ کھول سکیں۔ کبھی فری لانس تو کبھی مختصر کنٹریکٹ پر کام کرتی رہیں۔ کئی ملکوں میں گھومتی۔ جب بور ہو جاتی ہیں واپس ترکی چلی جاتیں۔
کیا انھیں بھی تیمور درانی کو ایکسٹرا فیورز دینی پڑتی ہوں گی؟ بہر حال ان کا رویہ بہت ہی پروفیشنل تھا۔ سکھانے میں کبھی کنجوسی نہیں کرتیں۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ سیکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ غلطی کی نشاندہی بھی اتنے پیار سے کرتییں کہ بندے کو شرمندگی بھی نہیں ہوتی۔ میری کوشش ہوتی ان سے زیادہ سے زیادہ سیکھوں۔ مجھے اپنا ایک چھوٹا سا کمرہ بھی دے دیا گیا جسے میں آزادی سے سجا سکتی ہوں۔ سارا خرچہ بھی دفتر دے گا۔
واؤ مزہ ہی آ گیا۔
اس دوران میری تیمور درانی سے کوئی ملاقات نہ ہوئی۔ وہ تو جیسے اس آفس میں آتا ہی نہیں تھا۔ صرف فون پر ہی کام چلاتا۔ کمپنی کو مینیجرز چلاتے تھے۔ یہاں تیمور درانی کا ذکر کم کم ہی ہوتا۔ میں اس صورتحال سے مطمئن ہو گئی مجھے اب وہ ایکسٹرا فیور والی بات بھی بھولنے لگی۔ مجھے آفس کی طرف سے آنے جانے کے لیے چھوٹی سی لڑکیوں والی جیپنیز کار بھی مل گئی۔ میں تو خوشی سے پھولی نہیں سما ئی۔ اب میں صبح شگفتہ کو یونیورسٹی ڈراپ کرنے کے بعد آفس جاتی۔
جس دن میرے اکاؤنٹ میں پہلی تنخواہ آئی تب مجھے یقین ہوا کنٹریکٹ میں لکھی باتیں ٹھیک تھیں۔ پہلی بار مستقبل تھوڑا سا سیف لگنے لگا۔ میں نے پہلی تنخواہ پر کیک گھر لے کر گئی اور کافی مہینوں بعد ہمارے گھر میں خوشی نظر آئی۔ کیک کھاتے ہوئے پھر ابا کی یاد آئی اور سب کے آنسو نکل آئے۔
اس رات میں نے کافی دنوں بعد کاشف سے لمبی بات کی۔ میری خوشی میری آواز سے چھلکنے لگی۔ کاشف کہنے لگا جب تم خوش ہوتی تو تمھارا ارد گرد کا سار ماحول خوشی سے بھر جاتا ہے۔
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کرتے دیکھتے ہیں
کسے نصیب کے بے پیرہن اسے دیکھے
کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں
اب باتیں مت بنائیں میں شرما گئی اور وہ سرد آہ بھر کر رہ گیا۔
کاشف کی ٹریننگ ختم ہونے میں بھی بس دو ماہ رہ گئے تھے۔ اس کی ٹریننگ میں پرفارمنس بھی آؤٹ کلاس تھی۔ اسے ضرور کوئی نہ کوئی ایکسڑا بینیفٹ ملنا تھا۔ میں نے کاشف کو صرف یہ بتایا کہ میں کسی فیشن کی کمپنی میں جاب کر رہی ہوں، تیمور درانی والی بات گول کر دی۔ پتا نہیں وہ کیا سوچے گا۔
یہ جاب میری خواہش سے زیادہ مجبوری تھی۔ میں ہی امی اور شگفتہ کا آخری سہارا تھی۔ میں جب آگے کے بارے میں سوچتی تو پریشان ہو جاتی۔ جب میری شادی ہو جائے گی تو پھر کیا ہو گا؟امی اور شگفتہ کا کیا بنے گا۔ اس سوال کو میں بغیرجواب کے چھوڑ دیتی۔ پر یہ سوال دبتا نہیں۔ کاشف چاہے کتنا بھی سپورٹیو ہو، وہ میرے پورے گھر والوں کا ساری زندگی خیال تو نہیں رکھ سکتا۔
ہمارے ہاں کے عزیز اقارب کسی بات پر خوش نہیں ہو سکتے۔ جب ہمارے حالات خراب تھے تو کوئی مدد کو نہ آیا۔ جب ہمیں تنگ کیا گیا اور آوازیں کسی گئیں، تب کوئی بچانے نہ آیا۔
جیسے ہی میری نوکری ہوئی اور لوگوں نے میرے پاس گاڑی دیکھی تو انھیں حسد کے مارے یقین ہی نہ آیا۔ تبھی عورتوں نے مزید باتیں بنانا شروع کیں۔ محلے کی عورتیں سامنے تو بہت متاثر ہوتیں، مگر ساتھ میں کرید کرید کر سوال پوچھتیں۔ انھیں یقین ہی نہ آتا کہ میں خود کما کرگھر کیسے چلا سکتی ہوں۔ وہ میرے آفس کا ایڈریس پوچھتیں میرے باس کا یوں پوچھتیں جیسے وہ مجھے پتا نہیں کس کام کے پیسے دیتا ہے۔
میں نے ان سوالوں سے بچنے کے لیے یہ بتا دیا کہ میرے منگیتر نے میری جاب کروا ئی ہے۔ جس کے بعد عورتیں یہ سمجھنے لگیں کہ میرے سسرالی اس نوکری کی آڑ میں ہماری امداد کر رہے ہیں۔ میں نے ان کی غلط فہمی کو ٹھیک نہیں کیا۔ شمائلہ اور میرے سسرال کی عورتوں کا آنا جانا کم ہو گیا۔ میری جب بھی شمائلہ سے بات ہوتی وہ روکھی پھیکی سی لگتی۔ سمجھ نہ آتا، ایسا کیا ہو گیا ہے۔
اس کی باتوں میں شادی کی تیاریوں کا کوئی ذکر نہ ہوتا۔ میں نے کئی بار اس سے پوچھنے کی کوشش کی کہ کوئی مسئلہ ہے تو بتائے۔ میں اسے گھر دعوت دیتی تو وہ گھریلو مصروفیت کا بہانہ کر دیتی۔
میرے دل میں عجیب سے وسوسے اٹھنے لگے۔ میں نے شمائلہ کو کئی بار بتایا کہ اس رات کچھ نہیں ہوا۔ ابا کی موت اس بات کی گواہی ہے کہ اس رات ہماری عزتیں محفوظ رہیں تھیں۔ کیا کسی ڈاکو کا میرا ہاتھ پکڑنا میری عزت کو مجروح کرتا ہے کیا۔ شمائلہ کی آنکھوں میں بے یقینی ہوتی جیسے میں کچھ کچھ چھپا رہی ہوں۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جمعہ کے دن چھٹی سے ایک گھنٹا پہلے تیمور درانی آفس میں آیا۔ اس کو آفس سے گزرتے دیکھ کر دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اس کا چہرہ دیکھتے ہی نہ جانے کیوں برے برے خیال آنے لگتے تھے۔ اس کی موجودگی میں سب کو سانپ سونگھ جاتا۔ آفس میں ایک سردی کی لہر پھیل جاتی۔ وہ کسی سے بات نہ کرتا اور نہ ہی کسی کو کچھ کہتا۔ میں نے خود کو کام میں چھپا لیا۔ سوچنے لگی کہ چھٹی کہ دن جا کر اپنے لیے کچھ اچھے سوٹ خریدوں گی اور موبائل بھی چینج کروں گی۔ شگفتہ کتنے دنوں سے پیچھے پڑی ہے کہ آپی مجھے ثنا سفیہ اور کھاڈی کے سوٹ لے کر دیں یونیورسٹی میں سارے لوگ نوٹ کرتے ہیں۔
ٹھیک ہے جی! ہم نے تو یونیورسٹی لائف سادگی سے گزاردی۔ شگفتہ آئی بی اے جیسی یونیورسٹی میں کسی سے کم نہیں لگنا چاہتی۔ وہ کہتی یہ چیزیں لنکس بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ ورنہ لوگ آپ کو غریب اور نیڈی سمجھتے ہیں۔
میں اس کی باتوں کا کیا جواب دیتی، میں نے بھی تو چار سال گزارے تھے، مجھے لوگوں کی پرواہ نہیں رہی۔
شگفتہ میرے جیسی نہیں تھی۔ اور میں نہیں چاہتی تھی وہ کسی بھی کمپلیکس کا شکار ہو۔ ویسے بھی میرے پاس اتنے ہیسے ہوتے ہیں کہ اس کے خرچے اٹھا سکوں۔
میرے شوق اتنے زیادہ نہیں تھے۔ اسی لیے میں سیونگ کر کے فیوچر کے لیے کچھ بچانے لگی۔ ابا تو رہے نہیں ایسے میں میری شادی اور شگفتہ کی شادی پر خرچہ کون کرے گا۔
میں انھی سوچوں میں گم تھی کہ تیمور درانی کا بلاوا آ گیا۔ میرے پیروں کے نیچے سے زمیں کھسکنے لگی۔
اس نے مجھے کیوں بلوالیا ہے اور وہ بھی چھٹی سے پہلے؟
میں ڈرے سہمے انداز سے اس کے کمرے کی طرف گئی۔ ایک ایک قدم کے ساتھ دل میں ہزار اندیشے سر اٹھانے لگے۔
میں اجازت لے کر اندر گئی تو آج بھی وہ اسی پینٹنگ میں کھویا ہوا نظر آیا۔ نہ جانے اس پینٹنگ میں اسے کیا کشش محسوس ہوتی تھی جو یہ ہر وقت اسے ہی دیکھتا رہتا تھا۔ میں ٹیبل کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی، پر بیٹھی نہیں۔ وہ خود کلامی کے انداز سے شعر پڑھتا ہوا مڑا
کرب تنہائی ہے وہ شے کہ خدا
آدمی کو پکار اٹھتا ہے
یہ پہلی بار ہوا کہ اس نے کوئی شعر پڑھا ہو۔ ویسے بھی آفس میں ایسی نان پروفیشنل باتیں نہیں ہوتیں۔
مس عبیر آپ نے کبھی ایسی کائناتی تنہائی اور بے معنویت کو محسوس کیا ہے؟ اس نے پینٹنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک مشکل سوال پوچھ لیا۔
میں اس کے سوال کا کیا جواب دیتی۔ دوسرا میں نہیں چاہتی وہ ناراض ہو۔
نہیں سر میں نے کبھی ایسی تنہائی محسوس نہیں کی۔
اس کے چہرے پر کوئی تاثرات نہ ابھرے۔ تو آپ کیا محسوس کرتی ہیں؟
اسے کیا پروا ہے کہ میں کیا محسوس کرتی ہوں؟
سر مجھے لمبے لمبے فلسفے تو نہیں آتے۔ ہاں میں نے ساری زندگی اللہ کے ساتھ ایک گہرہ کنکشن محسوس کیا ہے۔ مجھے اپنی زندگی اس کائنات میں اکیلی محسوس نہیں ہوتی۔
اس کے چہرے پر بہت ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ اس نے اس بات پر مزید کوئی تبصرہ نہ کیا۔
آپ کی پرفارمنس رپورٹ میرے پاس آئی ہے۔ اس کے مطابق آپ کی پرفارمنس کافی اچھی ہے۔ آپ بہت جلدی سیکھ رہی ہیں۔ امید ہے کچھ ہی دنوں میں آپ انڈیپینڈینٹلی کام کرنا شروع کر دیں گی۔ آپ نے دیکھ لیا ہو گا کہ جو بھی باتیں میں نے آپ سی انٹرویو کے دوران کہیں وہ ٹھیک ہیں، یہاں کوئی بھی ایکسپلائیٹیشن نہیں ہے۔
میں اس کی باتوں سے اتفاق کرنے لگی۔
مس عبیر آپ کو یاد ہو گا کہ ہم نے کچھ ایکسٹرا فیور زکی بات کی تھی۔
اللہ یہ اس بات کو بھول کیوں نہیں جاتا۔ اب میں کیسے بچوں گی؟
جی سر۔ اور میں نے انتہائی شرم کے ساتھ سر جھکا لیا۔
اس کی نظریں میرے نقاب اور عبایہ کے اندر گھستی محسوس ہوئیں۔ میں جیسے اپنے ہی وجود میں سمٹتی چلی گئی۔
مس عبیر میں چاہتا ہوں آپ کل دوپہر میرے گھر آئیں۔
میرا دل چاہا میں رونا شروع کر دوں۔ آج تک کسی نے مجھ سے ایسی بات نہیں کی۔ یہ کس بے شرمی سے میری مجبوری کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔
انٹیرئر ڈیزائنرز کی ایک ٹیم آ رہی ہے آپ ان کے سے ملیں اور اپنے آئیڈیاز دیں۔
شکر ہے۔ کوئی ایسی ویسی بات نہیں ہے۔ مجھے تھوڑا سا اطمینان ہوا۔
یعنی ایکسٹرا فیور اس نوعیت کی ہوں گی جس میں مجھے اس کے گھر کوڈ یزائن اور ڈیکوریٹ کرنا ہو گا۔
اگر یہ ایک بہانہ ہوا تو؟
میں کنفیوز ہو گئی۔ اسے فوراً انکار کرنا مناسب نہیں ہے میں ایک بار چلی جاتی ہوں اگر اس نے ایسی ویسی حرکت کی تو یہ میرا مرا ہوں منہ ہی دیکھے گا۔
ٹھیک ہے سر آپ مجھے ایڈریس دے دیں میں پہنچ جاؤں گی۔
اس نے ایڈریس میرے طرف بڑھا دیا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ویک اینڈ کا سارے پلان کا بیڑا غرق ہو گیا۔ میں صبح سے نماز کے بعد پریشان بیٹھی سوچنے لگی کہ آج کیا ہو گا۔ شگفتہ سے بھی بہانہ کرنا پڑا کہ مجھے آفس والوں نے بلالیا ہے۔ اس کا موڈ بھی آف ہو گیا پر کیا کرتی۔ کام تو کام ہوتا ہے۔
ایڈریس تو کلفٹن کا ہے، میں ٹینشن میں ایک گھنٹا پہلے ہی وہاں پہنچ گئی۔ دو کنال سے بڑے گھر کو دیکھ کر دل بیٹھ سا جاتا ہے۔ ہم ساری زندگی بھی محنت کرتے رہیں توایسا گھر نصیب نہ ہو۔ یہاں رہنے والے کیا انسان ہی ہوتے ہیں؟
تیمور درانی نے گھر بھی اپنی طرح اداس بنایا تھا۔ باقی سب گھروں کو دیکھ کر زندگی کا احساس ہوتا تھا۔ اسے دیکھ کر ایک مایوسی اور اداسی ہوتی۔ جیسے پرانی حویلی ہو۔ جس کی تاریک گردشوں میں کئی راز ہوں۔ پینٹ بھی ایسی رنگوں کا جن سے اداسی ٹپکتی ہے۔
یہ شخص زندگی سے اتنا بیزار کیوں ہے۔ ٹھیک ہے یہ خدا کو نہیں مانتا۔ پھر بھی اتنی اداسی کس لیے۔ کیا کہانی ہے اس کے پیچھے؟
مجھے اپنے خوف کے ساتھ ساتھ ایک تجسس بھی محسوس ہونے لگا۔ میں نے فوراً اپنے آپ کو سمجھایا، عبیر اس شخص کے بارے میں سوچنا بھی خطرناک ہے۔ پتا نہیں یہ آج میرے ساتھ کیا کرتا ہے۔ میں نے گلی میں گاڑی پارک کی اور بوجھل قدموں سے بنگلے کی طرف چل پڑی۔ دوخطرناک قسم کے چوکیدار مجھے سخت نظروں سے دیکھنے لگے۔
میرا حلیہ وہاں آنے والے عام لوگوں جیسا نہیں تھا۔ اس سوسائٹی میں شاید ایسے حلیے میں صرف بھیک مانگنے والیاں ہی آتی تھیں۔ شاید انھیں میرے آنے کے بارے میں علم تھا۔ آٹو میٹک گیٹ خود بخود کھل گیا۔
میرا ستقبال ایک بہت بڑے جرمن شیفرڈ نے کیا جس کے بھونکنے نے ایک منٹ کے لیے میرا سانس ہی بند کروا دیا۔ لیکن پھر ایک آواز نے کتے کو خاموشی سے ایک کونے میں سہم کر بیٹھنے پر مجبور کر دیا۔
گھر کا لان بہت ہی بڑا اور ویل مینٹینڈ تھا۔ کئی ایسے پھول اور پودے بھی نظر آئے جو پاکستان میں نظر نہیں آتے۔ گھاس بھی اتنی ملائم کہ ننگے پیر ہی چلتے رہو۔ لان کے درمیاں میں ٹیبل کے ساتھ کرسیاں پڑی تھیں۔ تبھی میں نے کرسی پر بیٹھے تیمور درانی کو اپنی طرف گھورتے دیکھا۔
تیمور درانی آج انفارمل ڈریس میں تھا، شاید گالف کھیل کر آ رہا تھا۔ اس نے مجھے کرسی پر بیٹھنے کو کہا۔ اس کی نظریں ویسی ہی چبھتی ہوئیں۔ اس نے رسمی طور پر حال احوال پوچھا اور ملازم سے کہہ کر میرے لیے کافی منگوا لی۔ میں کہتی رہی کہ مجھے طلب نہیں ہے۔ اس نے سنی ان سنی کر دی۔ کافی آنے تک وہ خاموشی سے بیٹھا مجھے دیکھتا رہا۔
مجھے بہت ہی آکورڈ لگا۔ اس کی موجودگی اور دیکھنا کبھی بھی نارمل لوگوں جیسا نہ لگتا۔ میں ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ کوئی نہ کوئی بات چھیڑنا ضروری تھی ورنہ میرے لیے بیٹھنا مشکل ہو جاتا۔ سوچا اس سے پودوں اور پھولوں کے بارے میں پوچھتی ہوں۔ اس سے پہلے ہی وہ خود بول پڑا۔
مس عبیر میں لوگوں کو بہت جلدی جان لیتا ہوں۔ اسی لیے ان کے بارے میں میرا تجسس ختم ہو جاتا ہے۔ آپ کے بارے میں میرا تجسس ختم نہیں ہو رہا۔ کیا کہیں اس نقاب اور سادگی کے پیچھے کوئی خاص بات ہے؟
مجھے کافی پیتے ہلکی سی کھانسی آئی۔ یعنی یہ میرے بارے میں پر تجسس ہے۔
نہیں سر! ایسی کوئی خاص بات نہیں ہے، شاید نقاب کی وجہ سے ایسا تاثر آتا ہے۔ میں نے بھی عاجزی سے کہا۔
مس عبیر میں سائنسی قسم کا بندہ ہوں اور کسی بھی قسم کی روح کو نہیں مانتا۔ لیکن میں ہر شخص کی موجودگی میں اس کے اندر کے جانور کو جاننے کی کوشش کرتا ہوں۔ لوگوں کی موجودگی اور رویہ چیخ چیخ کر ان کے اندر کے جانور کے بارے میں بتاتا ہے۔ اکثر لوگوں کو میں نے گدھے کی طرح پایا ہے۔ جن پر جتنا زیادہ وزن ڈالو، جتنی سختی کرو اتنا ہی کام کرتے ہیں۔
کچھ لوگ چالاک لومڑیوں کی طرح ہوتے ہیں اور کچھ شیروں جیسے ہوتے ہیں۔ کچھ بھیڑیے ہوتے ہیں اور کچھ کتے ہوتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر شیروں سے زیادہ بھیڑیوں کو پسند کرتا ہوں۔ اسی لیے میں نے جرمن شیفرڈ کتا رکھا ہے۔ جرمن شیفرڈ کتے بھی بھیڑیے کی نسل سے ہیں۔
تو اپنے بارے میں اس کا کیا خیال ہے؟ لیکن میں ڈر کے مارے چپ رہی۔
میں آپ کے اندر کے جانور کو صحیح طرح جان نہیں پا رہا۔ کبھی مجھے ایک سہمی ہوئی ہرنی نظر آتی ہے تو کبھی ایک شیرنی اور کبھی ایک مورنی۔ آپ اصل میں کیا ہیں۔
ایک ہی سانس میں اس نے مجھے شیرنی، ہرنی اور مورنی بنا دیا۔ یہ شخص کسی چڑیا گھر میں تو نہیں رہا۔ اس کا دماغ واقعی خراب ہے، کونسا جانور؟ کیسا جانور۔
سر! آپ کی باتیں مجھے سمجھ نہیں آ رہیں، میں ایک عام سی لڑکی ہوں کوئی ہرنی، شیر یا مورنی نہیں۔
وہ ہلکا سا مسکرا کر خاموش ہو گیا اور کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اسی دوران انٹیرئر ڈیزائنر کی ٹیم آ گئی۔ دو آرٹسٹ قسم کی لڑکیاں اور ایک لڑکی نما لڑکا تھا۔ یہ آرٹسٹ لوگ ایسی ہی ہوتے ہیں۔ لڑکیوں نے جینز اور شرٹس پہنی تھیں جب اس لڑکے نے ہینڈ شیک کرنا چاہا تو میں نے ہاتھ پیچھے کر لیا۔ اس نے تھوڑا مائنڈ کیا، پھر نارمل ہو گیا۔ ان کی ساری گفتگو انگریزی میں ہونے لگی۔ تبھی مجھے معلوم پڑا کہ گھر باقی تو ڈیکوریٹ ہے بس ایک لائبریری ڈیکوریٹ کرنی ہے۔ تیمور درانی ہمیں گھر کے اندر لے گیا۔
گھر کا سٹرکچر عام گھروں سے ذرا سا مختلف تھا لیکن رنگوں اور لائٹنگ کی سکیم بہت یونیک تھی۔ پینٹنگز، سکلپچر، اور آرٹ پیسز بہت زیادہ تھے۔ ایک کونے میں بدھا کا مجسمہ بھی نظر آیا۔ یہ شخص تو روحانیت کو نہیں مانتا، پھر بدھا کے مجسمے کو کس لیے رکھا ہے۔ وہاں انڈین پینٹنگز بھی نظر آئیں۔ جس میں میرا بائی گلیوں میں پھر تی دکھائی گئی۔
محلوں میں پلی، بن کے جوگن چلی
میرا رانی دیوانی کہانے لگی۔
یہ شخص بھی عجیب ہے، مذہب کو مانتا نہیں اور مذہب سے متعلق تہذیبی چیزوں کو یوں خوبصورتی کے طور پر رکھتا ہے۔ ایک پینٹنگ میں مغلوں کی فوج کو لڑتے دکھایا گیا۔ ایک پینٹنگ تباہ حال دہلی کی۔ حیرت انگیز طور پر گھر میں تیمور درانی یا اس کی فیملی کو کوئی تصویر نہیں تھی۔ گھر میں ملازمین کے علاوہ بھی کوئی نہیں تھا۔ اتنے بڑے گھر میں یہ اکیلا کیسے رہ لیتا ہو گا۔
اتنا پیسہ لگانے کا کیا فائدہ؟ یہ تو بے روح ایک مکان ہے کوئی گھر نہیں۔
صحیح کہتے ہیں، “اصل چیز ہمارے اندر ہی ہوتی ہے جسے ہم باہر نکالتے ہیں”۔ تیمور درانی کے اندر کا خلا اور تنہائی دیواروں سے ٹپکتا تھا۔ اس کے اندر بھی ایک ویرانہ تھا۔ وہ آرٹ کے پیچھے اپنا اصل چھپانے کی کوشش کر رہا تھا مگر دیکھنے والی آنکھ سمجھ سکتی تھی۔
گھر میں ایک بڑی لائبریری پہلے سے موجود ہے۔ پھر بھی وہ ایک اور لائبریری بنوانا چاہ رہا تھا۔ ان امیروں کے شوق بھی نرالے ہیں۔ پہلے والی لائبریری دیکھ کر میں دنگ رہ گئی۔
اتنی زیادہ کتابیں، انھیں پڑھتا کون ہو گا۔ لائبریری کی فضا میں کاغذوں اور لکڑی کی مسحور کن خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ نیچے ایرانی قالین، مجسمے اور پینٹنگز یہاں بھی نظر آئیں۔ ایک طرف ٹیبل پر گرامو فون اور پرانا ٹائپ رائٹر پڑا تھا۔
جلد ہی ہم کام کی طرف آ گئے۔ تیمور درانی نے ہمیں اپنی پسند بتائی اور چلا گیا۔ میں خاموشی سے اس ٹیم کو کام کرتے دیکھنے لگی، تھوڑی بہت سجیشنز میں نے دیں۔ زیادہ کام وہی کرتے رہے۔ میں ان کی ایکسپرٹیز سے امپریس ہوئی۔ یہ لوگ صرف دکھنے میں ہی لاپرواہ ہوتے ہیں۔ کام کرنے لگیں تو پھر انھیں کسی بات کا ہوش نہیں رہتا۔ مجھے ان کے ساتھ کام کرنے کا مزہ آیا۔
بریک کے دوران ان لڑکیوں سے گپ شپ ہوئی۔ سب نے باہر سے کورسسز کیے تھے۔ دونوں لڑکیوں نے سگریٹ بھی پینا شروع کر دیا۔ جس سے مجھے بہت آلکس آئی۔ پتا نہیں کیوں لڑکیاں سگریٹ پیتی اچھی نہیں لگتیں۔ ایک چیپنس کا احساس ہوتا ہے۔ پر میں کسی کی پسند ناپسند کو کیا کہہ سکتی تھی۔
یہ کام کافی دن چلنا تھا، تو کیا میں بار بار یہاں آؤں گی؟
میرا یہاں کام ہے کیا؟ تیمور درانی نے مجھے کیوں بلایا ہے۔ یہ لوگ تو مجھ سے بہتر کام جانتے تھے۔ میں تو صرف ان کا کام دیکھ رہی تھی۔
لیکن میں تیمور درانی سے کیا کہہ سکتی تھی۔ شام کے وقت وہ ٹیم چلی گئی مگر مجھے تیمور درانی نے کافی کے لیے روک لیا۔ میں انکار کرتی رہی کہ میرے گھر والے انتظار کر رہے ہوں گے۔ لیکن اس نے میری ایک نہ سنی۔
اس کے سامنے بیٹھ کر نقاب میں کافی پینے میں مجھے کوفت ہوتی۔ شاید وہ اس کوفت کو انجوائے کرتا تھا۔ نوکری کے لیے بھی کیا کیا کرنا پڑتا ہے۔
میں نے اس سے پوچھ ہی لیا کہ انٹیریر ڈیزائننگ کی ٹیم کافی کمپیٹنٹ ہے انھیں میری ضرورت نہیں۔
نہیں آپ کی فیڈ بیک بھی ضروری ہے۔ اس نے کوئی وضاحت نہ کی۔ عجیب بندہ ہے؟
آپ کو اگلے دو تین ہفتے بھی آنا پڑے گا۔
مجھے شدید غصہ آیا، یہ سمجھتا کیا ہے خود کو؟
میں کیا اس کی خریدی ہوئی لونڈی ہوں جو نوکری سے باہر اس کے گھر کو ڈیکوریٹ کرتی پھروں؟
اس دن رات کو میرا موڈ اس وقت مزید خراب ہو گیا جب کاشف نے بتایا کہ اس کا امریکہ کی ٹور چھ مہینے مزید ایکسٹینڈ ہو گیا ہے۔ اسے چھ مہینے ایک کنسلٹنٹ کمپنی کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔
اس نے تو فیصلہ کیا کہ واپس آ جائے، پر اس کے سب سینئرز نے مشورہ دیا: یہ موقع پوری دنیا میں کسی کسی کو ملتا ہے اس لیے اسے ضائع نہ کرو۔
میرے آنسو نکل آئے۔ میں کاشف سے مزید دوور نہیں رہنا چاہتی۔
یہ دوریاں کیوں بڑھتی جا رہی ہیں؟
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اس رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک ویرانے میں بیٹھی ہوں اور دور دور تک کوئی چیز نہیں ہے۔ آسمان پر کالے بادل ہیں، اور ہوا بالکل ہی بند ہے۔ بادل کسی بھی لمحے برسنے والے تھے۔ میرے پاس بارش سے بچنے کے لیے کوئی پناہ گاہ نہیں تھی۔ میں اس تاحد نگاہ پھیلے ویرانے میں اکیلی تھی۔ میں پریشانی میں مدد کے لیے آوازیں دیتی ہوں لیکن کوئی نہیں آتا۔ تبھی دور ایک ٹیلے کے اوپر ایک بھیڑیا نظر آتا ہے۔ میرا سانس خشک ہو گیا۔
میں یہاں سے کیسے بھاگوں گی۔ وہ بھیڑیا حملہ کرنے کے بجائے، مجھے اداسی سے دیکھنے لگا۔ اسی کے ساتھ میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ ہا اللہ یہ مجھے کیسے خواب آ رہے ہیں۔ وہ سب اچھے خواب کہاں گئے؟
کیا باہر کی دنیا سے خوشیاں چلی جائیں تو خوابوں سے بھی خوشیاں چلی جاتی ہیں؟
اگلے تین ہفتے تک میں وہاں جاتی رہی۔ کام مکمل ہو گیا اور کتابیں بھی لگادی گئیں۔ میں نے تو سارا وقت انھی تینوں کو کام کرتے دیکھا۔ ان لوگوں نے بہت محنت کی۔ ہر چیز پرفیکٹ۔ میری انپٹ صرف اتنی تھی کہ اس کمرے سے اداسی، تنہائی اور موت کے بجائے خوشی اور زندگی کا تاثر آئے۔
ایک جیسی چیزوں سے دونوں باتیں کی جا سکتی ہیں۔ میری فنشنگ ٹچ کے بعد جب تیمور درانی نے لائبریری کو دیکھا تو میں نے پہلی بار اس کے چہرے پر ہلکی سی اطمینانیت نظر آئی۔ اگرچہ میں نے اس کی انسٹرکشنز کے برعکس اداسی کے بجائے خوشی کو ایلیمنٹ ڈالا۔
اس شام کافی پر پھر ہماری بات ہوئی۔ یہاں کافی بھی ہر بار مختلف فلیور کی ملتی۔ میں اس کی باتوں سے زیادہ کافی میں دلچسپی لیتی۔ لائبریری کا نرم صوفہ، ہلکی سی لائٹنگ، ساتھ میں کافی، بہت مزہ دیتی۔ مجھے خیالوں سے تیمور درانی کی آواز نے نکالا۔
مس عبیر آپ ہر چیز میں خوشی کا رنگ کیوں بھرنا چاہتی ہیں جبکہ زندگی میں خوشی بہت ناپائیدار سی چیز ہے۔
لاکھ تم جاذب و جمیل سہی
زندگی جاذب و جمیل نہیں
کیا یہ میری تعریف کر رہا ہے یا طنز؟
اسے معلوم تھا کہ میں نے لائبریری کی سیٹنگ میں خوشی کا رنگ بھرا ہے۔ پر اس نے اعتراض نہیں کیا۔ اب یہ مجھ سے اس کی وجہ کیوں پوچھ رہا ہے۔
کیا بتاؤں اسے؟
سر میرے خیال سے زندگی اتنی مختصر اور خوبصورت ہے کہ اسے رونے دھونے اور اداسی میں گزارنا ٹھیک نہیں۔ مجھے زیادہ فلسفیانہ باتیں تو نہیں آتیں لیکن میں ایک بات مانتی ہوں۔ کچھ لوگ بہت پرامید ہوتے ہیں۔ وہ ہر بات میں خوبصورتی اور خوشی ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے برعکس کچھ لوگ یاسیت پسند ہوتے ہیں جو ہر چیز میں نا امیدی اور اداسی تلاش کرتے ہیں۔ میں نے کس کتاب میں ایک کہانی پڑھی جو مجھے بہت اچھی لگی۔ اگر آپ ناراض نہ ہوں تو سنا دیتی ہوں۔
خوشی سے سنائیے۔ میں اتنی جلدی ناراض ہونے والوں میں سے نہیں ہوں۔
امید پرست اور یاسیت پسند
ایک باپ کے دو بیٹے تھے، بڑا بیٹا بہت یاسیت پسند تھا اور چھوٹا بہت پرامید۔ باپ کو بڑے بیٹے سے زیادہ محبت تھی اسی لیے وہ آئے دن اسے تحفے دیتا رہتا۔ ایک دن باپ نے دونوں بیٹوں کو مختلف تحفے دیے۔ اس نے بڑے بیٹے کو ایک بہت مہنگی گھڑی اور سوٹ بھیجا۔ جبکہ چھوٹے بیٹے کے کمرے کو اس نے گھوڑے کی لد سے بھروادیا۔
شام کو جب باپ گھر آیا تو بڑے بیٹے کو بہت ہی اداس اور مایوس دیکھا۔ گھڑی اور سوٹ اس کے سامنے پڑے تھے۔ باپ نے مایوسی کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا، مجھے ہمیشہ سے ایسے تحفے ملتے ہیں جو مجھے پسند نہیں ہوتے۔ اب نہ تو سوٹ کا کلر مجھے پسند ہے اور گھڑی میرے ہاتھ میں چبھتی ہے۔ میری قسمت ہی پھوٹی ہے جو میرے ساتھ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے۔ یہ کہہ کروہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ باپ نے اسے تسلی دی کہ وہ اگلی بار اس کی پسند کے تحفے بھیجے گا۔
وہاں سے اٹھ کر وہ چھوٹے بیٹے کے پاس گیا۔ وہ کدال لے کر لد کے اندر گھسا ایکسائیٹمنٹ کے ساتھ کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا تھا۔ باپ نے اس کی خوشی کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ گھو ڑے کی اتنی ساری لد ہے تو اس میں کہیں کوئی گھوڑے بھی تو ہونا چاہیے۔
میں کہانی ختم کر کے خود ہی کھلا کھلا کر ہنس پڑی۔ میں جب بھی یہ کہانی سناتی ہوں میرا ہنس ہنس کر برا حال ہو جاتا ہے۔ تیمور درانی کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی جیسے وہ بھی اس کہانی کو سن کر محظوظ ہوا ہو۔ اس نے اس کہانی کے جواب میں کوئی بات نہ کی۔
میں تیمور درانی کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ اس کی پروفیشنل لائف سے باہر کسی کو اس کے بارے میں کچھ نہیں پتا۔ آخر اس کی کہانی کیا ہے۔ اس نے شادی کی کہ نہیں؟اس کے بچے کتنے ہیں؟ اس کی فیملی میں اور کون کون ہے؟ اتنی چھوٹی عمر میں اس نے سارا کچھ کیسے بنا لیا۔
تیمور صاحب آپ کے بیوی بچے کہاں ہوتے ہیں؟ میں نے بھی ڈائریکٹ سوال داغ دیا۔
اس نے ہلکہ سا چونک کر مجھے دیکھا، میں نے شادی نہیں کی؟
میرے اندر اتنی ہمت نہ ہوئی کہ پوچھتی کیوں نہیں کی۔ وہ خود بھی بول پڑا۔
شادی ایک ایگریمنٹ اور سماجی ضرورت کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس کا خوشی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ شادی صرف سماجی اور معاشی طور پر مجبور لوگ ہی کرتے ہیں۔
اللہ کتنی فضول باتیں کرتا ہے۔ اس جیسے بندے کے ساتھ کوئی لڑکی کیسے رہے گی؟ محبت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
پیار، محبت اور عشق سب قدرت کا بنایا کھیل ہے جس سے وہ لوگوں کو بیوقوف بناتی ہے۔ ان لفظوں کے پیچھے کچھ نہیں ہے۔ اس کا ثبوت بھی یہی ہے کہ شادی کے بعد یہ بھاپ کی طرح اڑ جاتی ہے۔
عجیب خیالات ہیں اس کے۔ یقیناً کوئی ذہنی مسئلہ ہو گا۔ جسے محبت ہوئی نہ ہو وہ کیا جانے محبت کیا ہوتی ہے۔
مسٹر تیمور آپ یہ بات اس لیے تو نہیں کر رہے کہ آپ کو کبھی محبت نہیں ہوئی؟
اس نے چونک کر میری طرف دیکھا جیسے اسے ہلکہ سا نشتر چبھا ہو۔
اچھا تو یہ بھی ناکام محبت کا ڈسا ہوا ہے۔
نہیں مجھے کبھی محبت نہیں ہوئی اور نہ ہی میں کبھی محبت کرنا چاہتا ہوں۔ پہلی بار اس کے لہجے میں ہلکا سا غصہ نظر آیا۔
میں ڈر کے مارے خاموش ہو گئی اور مزید سوال کرنے سے گریز کیا۔
اسی لمحے لائبریری کا دروازہ کھلا اور ایک لڑکی اندر داخل ہوئی۔ وہ بڑی ادا سے چلتی ہوئی آ کر تیمور درانی کے صوفے کے بازو پر بیٹھ گئی۔ اس کا انداز میں ایسی بے تکلفی تھی جسے میں کوئی نام نہیں دے پائی۔ میرے صوفے کی بیک دروازے کی جانب ہونے کی وجہ سے باہر سے آنے والا پہلی نظر میں یہ نہیں جان پاتا کہ صوفے پر کوئی بیٹھا ہے۔ اس لڑکی نے جب مجھے دیکھا تو اس کو حیرت کا جھٹکا لگا۔
اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ اٹھ کر جانے لگی۔ تیمور درانی نے اسے روک دیا اور سامنے صوفے پر بیٹھنے کا کہا۔ وہ خوبصورت لڑکی شرمندگی سے سامنے صوفے پر بیٹھ گئی۔
اس نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بہت شرمندگی سے کہا۔ ۔ وہ آپ نے پانچ بجے کا ٹائم دیا تھا تو۔۔ میں سمجھی آپ ہمیشہ کی طرح اکیلے ہوں گے۔ آئی ایم سوری۔ ۔
اس لڑکی کا حسن اور ڈریسنگ دیکھ کر میں بہت متاثر ہوئی۔ لیکن اس کے انداز میں کچھ عجیب سی بات تھی۔
جیسے وہ عام لڑکی نہ ہو، کوئی چیز ٹھیک نہیں تھی۔
یہ میری دوست فائقہ ہے۔
میں صرف ہیلو کہہ کر خاموش ہو گئی۔ پہلی بار تیمور درانی کی کسی دوست کا پتہ چلا تو مجھے دلچسپی ہوئی۔ مگر اس لڑکی کے انداز میں دوستی والی کوئی بات محسوس نہیں ہوئی۔
میں جلدی جلدی رخصت لے کر واپس گھر آ گئی۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اگلے ہفتے میرا تیمور درانی سے کوئی ٹاکرا نہ ہوا۔ میں نے سکون کا سانس لیا کہ اب کوئی ایکسٹرا فیور نہیں ہو گی۔
میں اب گھر آ کر بالکل بور ہوتی۔ نہ ہی عمارہ سے بات ہوتی اور کاشف بھی بس تین چار دن کے بعد ٹائم دیتا۔ کہتا روز 18 گھنٹے کام کرتا ہوں اسی لیے سوائے سونے کے اسے کوئی ٹائم نہیں ملتا۔
اماں کی عدت ختم ہو گئی، پھر بھی غم ان کی آنکھوں سے ٹپکتا رہتا۔ میں خود کو کتابیں پڑھنے اور کھانا بنانے میں مصروف رکھتی۔ کھانا میں بہت اچھا بناتی ہوں اور یہ اماں سے ہی سیکھا تھا۔ ان کے ہاتھ میں ایک ٹیسٹ ہے جو صرف خلوص اور محبت سے آ سکتا ہے۔ انھیں لوگوں کو کھانا کھلانے کا شوق تھا۔ ابا کے سارے دوست بھی بہانے بہانے سے ہمارے گھر کھانا کھانے آتے تھے
اماں کی کچھ تو خاندانی ڈشیں ہیں جو انھوں نے مجھے سکھائیں۔ بریانی بنانے کی خاص ریسیپی انھوں نے مجھے کافی عرصہ بعد سکھائی۔
میں کھانوں کے ساتھ ایکسپیریمنٹ کرتی رہتی تھی۔ میرا کنسرن صرف ٹیسٹ سے ہوتا۔ جہاں سے اور جیسے بھی ملے۔ میں زیادہ تو نہیں کھاتی پر مختلف طرح کے چیزیں ٹرائی کرتی رہتی۔ شگفتہ اور عمارہ دونوں ہی ڈائیٹ کانشیس تھیں اسی لیے بہت ہی کم کھاتیں۔ پھر بھی ان پر ویٹ چڑھ جاتا۔ وہ مجھے حسد سے دیکھتی کہ اتنا کھانے کے باوجود مجھ پر ویٹ کیوں نہیں چڑھتا۔ شاید میرا میٹابولزم کافی تیز تھا۔
خالی ذہن شیطان کا گھر ہوتا ہے۔ مجھے تیمور درانی کے کے ساتھ اس دن والی ڈسکشن یاد آنے لگی۔
عجیب آدمی ہے محبت کو فراڈ سمجھتا ہے اور شادی کو ایکمجبوری۔ اوپر سے خد اکو نہیں مانتا۔
لوگ کہتے ہیں خدا کو نہ ماننے والے کو دنیا میں چھوٹ ملتی ہے۔ لیکن تیمور درانی کو دیکھ کر لگتا ہے اسے اس دنیا میں ہی تنہائی اور اداسی کی سزا مل گئی تھی۔
میں اس کے بارے میں کیوں سوچ رہی ہوں؟۔ میرے لیے اس کی کیا حیثیت ہے؟ میں اسے ابھی تک سمجھ نہیں سکی۔ اس کی یہ مسٹری مجھے چبھتی تھی۔ میرے اندر ایک فضول سی خواہش اٹھتی کہ جانوں تو سہی سنجیدگی، تنہائی اور اداسی کے خول کے نیچے کیا کہانی ہے۔
اس کی اندر کے جانور والی بات کے پیچھے کیا ہے؟ کیا واقعی میرے اندر کوئی خاص بات ہے۔
وہ لڑکی فائقہ کون ہے؟ کیا وہ تیمور درانی کی گرل فرینڈ ہے یا ہونے والی بیوی؟ وہ لڑکی تو کسی ملاذمہ کی طرح بے ہیو کر رہی تھی۔ گرل فرینڈ تو ایسی نہیں ہوتیں۔ میں اپنے ہی سٹوپڈ سی سوچوں میں ڈوبتی نہ جانے کس وقت سو گئی۔
اگلے دن میں اور شفگتہ شاپنگ کے لیے چلے گئے جو کئی دنوں سے ملتوی ہوتی جا رہی تھی۔ شاپنگ پر تو ہم لڑکیاں یوں نکلتی ہیں جیسے شیرنیاں شکار کے لیے۔ کسی بات کا ہوش نہیں رہتا۔ خریدنے سے زیادہ ونڈو شاپنگ پر زور ہوتا ہے۔ ایک سوٹ لینے کے لیے دس برینڈز کی شاپس پر جاتی ہیں۔ شگفتہ کو تو ہر چیز پرفیکٹ چاہیے، فیشن ڈیزائنر میں تھی۔ پر خریدنے میں جتنی باریکی وہ دکھاتی توبہ ہے۔ شاپنگ کے دوران اپنے بالوں کی سیٹنگ اور ڈائی کروا نے کے لیے ہم پارلر بھی چلے گئے۔ میں اپنی باری کے بعد شگفتہ کا ویٹ کرنے لگی۔ اسی دوران ایک لڑکی ایک لڑکے کی بانہوں میں بانہیں ڈالے وہاں آئی۔ صاف دکھ رہا تھا کہ دونوں بہت قریبی ہیں۔ لڑکا اس لڑکی کو پارلر کے باہر چھوڑ کر چلا گیا۔
میں چونک گئی، وہ فائقہ تھی۔
مجھے بہت حیرانی ہوئی، کل یہ تیمور درانی کے ساتھ ایسے بے تکلف تھی آج کسی اور کے ساتھ؟ وہ بے دھیانی سے میرے ساتھ آ کر بیٹھی۔
ہائے فائقہ ہاؤ آر یو۔
وہ فوراً ہی مجھے پہچان گئی۔
اس کے چہرے پر کئی رنگ آ کر گزر گئے۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ میں اسے دوسرے لڑکے کے ساتھ دیکھ چکی ہوں۔
او ہائے، آئی ایم فائن۔ سوری فور یسٹرڈئز مس انڈرسٹینڈنگ۔
ڈونٹ وری میں نے بالکل بھی مائنڈ نہیں کیا۔ میں بھی بس جانے ہی والی تھی۔ در اصل وہ لائبریری کی انٹیرئر ڈیزائننگ میں نے ہی کی ہے۔
میں نے اسے یہ نہیں بتایا کہ میں تیمور درانی کے آفس میں جاب کرتی ہوں۔ ہم ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے پھر میں نے اس سے وہ بات پوچھ لی جو میرے دل میں چبھ رہی تھی۔
آپ تیمور صاحب کو کب سے جانتی ہیں؟ اس سے میری مراد یہی تھی کہ وہ کب سے تیمور درانی کی گرل فرینڈ ہے۔
وہ تھوڑی گھبرائی جیسے اس کی چوری پکڑی گئی ہو۔
میں نے اسے تسلی دی، دیکھیں میں اس لیے پوچھ رہی ہوں کیوں کہ جتنا میرا ان سے رابطہ ہوا ہے وہ مجھے بہت ہی تنہا اور اداس شخص لگتے ہیں۔ آپ ان کی دوست ہیں تو آپ بتائیں ایسے کیوں ہیں۔
وہ میرے سوال پر بہت ان کمفرٹیبل محسوس کرنے لگی، جیسے میں نے کوئی عجیب سی بات پوچھی ہو۔
دیکھیں آپ وعدہ کریں آپ تیمور درانی کو یہ نہیں بتائیں گی کہ آپ نے مجھے فرحان کے ساتھ دیکھا ہے۔ اس کے لہجے میں شدید پریشانی تھی۔
میں نے اسے تسلی دی، آپ بے فکر رہیں آپ کی اور تیمور صاحب کی ذاتی زندگی سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔
در اصل میں ان کی دوست نہیں ہوں، اس نے ہلکی سی شرمندگی سے کہا۔
کیا!!! میں چونک گئی۔
لیکن۔ تیمور صاحب نے تو یہی کہا کہ آپ ان کی گرل فرینڈ۔۔ سوری آئی مین۔ ان کی فرینڈ ہیں۔
نہیں۔۔ ایسی بات نہیں ہے۔۔ در اصل۔۔ میں وہاں کسی اور کام سے جاتی ہوں۔ یہ کہہ کرا س نے شرم سے سر جھکا لیا۔
مجھے جب بات سمجھ آئی میں فوراً سمٹ گئی۔۔
اچھا!!! اب سمجھ آئی کہ یہ خوبصورت لڑکی کون ہے اور وہاں کیا کرنے جاتی ہے۔ یعنی تیمور درانی اتنا غلیظ شخص ہے کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میرے ردعمل کو دیکھ کر اس لڑکی کی آنکھوں میں تھوڑی سی اداسی آئی۔ دیکھیے وعدہ کریں کہ آپ کسی سے اس بات کا ذکر نہیں کریں گی کہ آپ نے مجھے اس گھر میں دیکھا ہے یا میں وہاں کیا کرنے جاتی ہوں۔ فائقہ نے منت کرتے ہوئے کہا۔
میں نے اسے تسلی دی کہ میں ایسا نہیں کروں گی۔ تبھی اس نے مجھے اپنی کہانی سنائی۔
فائقہ کا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے تھا، اس کے فادر ایک بینکر تھے اور مدر ہاؤس وائف۔ فائقہ کی ایجوکیشن ساری اچھے سکولوں اور یونیورسٹیوں میں ہوئی۔ وہ دو بہنیں اور دو بھائی تھے۔ باقی سب بہن بھائی اس سے چھوٹے تھے۔ فائقہ کے والد بینک میں ایک اچھے سکیل پر تھے جس کی وجہ سے ان کا لائف سٹائل بھی کافی اچھا تھا۔ فائقہ نے اکونومکس میں ماسٹر کیا اور پرائیویٹ اینویسٹمنٹ کپمنی کو جوائن کر لیا۔ اسی دوران اس کے فادر پر کرپشن کا الزام لگا اور ساری جائداد اور اثاثے ضبط ہو گئے۔ گھر کیوں کہ والدہ کے نام تھا اسی لیے بچ گیا۔ گھر کی آمدن یکدم صفر پر آ گئی۔ سب بہن بھائیوں کی عادتیں بگڑ چکی تھیں۔ خود فائقہ کی تنخواہ تو اس کے سوٹوں اور پارٹیز میں ہی نکل جاتی۔ وہ تو اپنی تنخواہ سے زیادہ پیسے اپنے فادر سے لیتی تھی۔
اسی دوران فادر کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ چل بسے۔ بھائی، ماں پر زور ڈالنے لگے کہ مکان بیچ کر انھیں پیسے دیے جائیں تاکہ وہ بزنس کر سکیں۔ ماں نے بیٹوں کی ضد کے سامنے ہار مان لی۔ بیٹوں کو اپنے بارے میں شدید قسم کی خوش فہمی تھی کہ ایک بار ان کے ہاتھ میں پیسے آئے تو وہ بہت کامیاب بزنس مین بن جائیں گے۔ کچھ ہی مہینوں میں بعد بزنس میں نقصان کے بعد سارے پیسے ہوا میں اڑ گئے۔ پوراخاندان سڑک پر آ گیا۔ ماں نے ناکامی کا ذمہ دار بچوں کو ٹھہرایا۔ بھائی ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔ کرائے کا مکان روزانہ میدان جنگ بنا ہوتا۔ کوئی بھی ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں تھا۔
فائقہ اس صورتحال میں گھر چھوڑ کر اپنی ایک سہیلی کے ہاں رہنے چلی گئی۔ دونوں کو ہائی سوسائٹی میں اٹھنے بیٹھنے کی عادت پڑ چکی تھی۔ یہ ایسی لت ہے کہ چھڑائے نہیں چھٹتی۔ اسے ہائی برینڈ کے کپڑے، جوتے، پرس، موبائل، پارلر، جم، اور ہوٹلنگ کرنا ہوتی۔ اس کی تنخواہ میں کچھ بھی نہ ہوپاتا۔ تب اس کی سہیلی نے اسے وہ راستہ دکھایا جس پر وہ خود چل رہی تھی۔ ہائی سوسائٹی میں ایسی کئی لڑکیوں کی ڈیمانڈ ہے جو پڑھی لکھی اور ویل مینرڈ ہوں۔ جو اچھے گھروں سے ہوں، ایک اچھی کمپنی دینے والی ہوں۔ آہستہ آہستہ ایسی لڑکیوں کے بارے میں شوقین مزاج لوگوں کو پتا چل جاتا ہے۔ انھیں بلانے والے انھیں جسم فروش نہیں سمجھتے بلکہ ایک اچھی کمپنی سمجھتے ہیں۔ اسی لیے ان کا وہ مقام نہیں ہوتا جو عام جسم فروشوں کا ہوتا ہے۔
ایسی ہی ایک پارٹی میں اس کی ملاقات تیمور درانی سے ہوئی۔ اس کا رویہ باقی لوگوں سے بہت مختلف تھا۔ بعد میں اس نے ایک دن اسے اپنے گھر بلایا۔
وہ دیر تک اس سے گپ شپ کرتا رہا جیسے جاننے کی کوشش کر رہا ہو کہ وہ کیسی لڑکی ہے۔ اس نے فائقہ سے کہا کہ اسے اس کی اندر ایک خاص بات نظر آئی ہے۔ اس نے آفر کی کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور کے پاس نہ جایا کرے۔ اسے جتنے پیسے کماتی ہے وہ اس سے لے لیا کرے۔ فائقہ نے یہ آفر قبول کر لی۔ اب وہ صرف اس کے پاس ہی جاتی تھی۔
تیمور بہت ہی مختلف قسم کہ انسان ہیں۔ میں نے ایسے لوگ بہت کم دیکھے ہیں۔ انھیں سمجھنا نا ممکن ہے۔ انھیں لڑکیوں میں وہ انٹرسٹ نہیں ہے جو باقی لوگوں کو ہوتا ہے۔ انھیں کسی اور ہی چیز کی تلاش ہے۔ مجھے کہتے ہیں کہ تمھارے اندر ایک مورنی ہے۔ بھلا بتاؤ اس کا کیا مطلب ہے۔ میں جانتی ہوں وہ مجھ سے محبت نہیں کرتے۔ پھر بھی جتنے پیسے وہ مجھے دے دیتے ہیں مجھے سمجھ نہیں آتی۔ ایسے۔ جیسے ان کے نزدیک پیسے کی ویلیو ہی نہ ہو۔
جو کام وہ کروا تے ہیں وہ بھی عجیب ہیں۔ کبھی کبھی مجھے سامنے بٹھا کر بس دیکھتے رہتے ہیں۔ میرے چہرے میں شاید کسی کا چہرہ تلاش کرتے ہیں۔ پہلے میں سمجھتی تھی کہ شاید صرف میں ہی واحد لڑکی ہوں۔ پھر پتا چلا کہ ماضی میں میری جیسی کئی تھیں، اب نہ جانے مجھے کب چھوڑ دیں۔ اسی لیے میں جلد از جلد شادی کر کے سیٹل ہونا چاہتی ہوں۔ مجھے بھی تیمور درانی سے محبت ہوتی جا رہی ہے۔ پر میں جانتی ہوں یہ ممکن نہیں۔
تیمور نے مجھے وارن کیا کہ میں اس کے علاوہ کسی سے نہیں ملوں گی۔ پر میں لالچ میں آ گئی۔ اگر تیمور کو پتا چلا تو وہ بہت ناراض ہوں گے۔ پلیز آپ تیمور سے کچھ ذکر نہ کریں۔۔
فائقہ آپ بے فکر رہیں، آپ کا راز میرے سینے میں دفن ہے۔
اس کے چہرے پر ہلکا سا اطمینان آیا، مگر شک کے بادل بھی چھائے رہے۔
کیا آپ بھی تیمور صاحب کے ساتھ۔ ۔ ۔۔
مجھ پر یکدم ایک بجلی گری۔ نہیں۔۔ نہیں۔۔ اللہ نہ کرے۔۔
کیسی باتیں کر رہی ہو، میں تو صرف انٹیرئر ڈیزائنز ہوں میرا تیمور صاحب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
مجھے بہت ہی شرم آئی۔ ایک ایسی لڑکی میرے بارے میں ایسا سوچ رہی تھی۔ مجھے اب تیمور درانی کے گھر جانے سے ڈر لگنے لگا۔ یا اللہ وہ مجھے آئندہ نہ بلائے۔
پر وہ لڑکیوں سے ایسے کیا کام کروا تا ہے جو باقی لوگ نہیں کروا تے۔ کہیں اسے باندھ کر مارتا تو نہیں ہے۔ ہائے اللہ۔
ایسے لوگ سیڈیسٹ ہوتے ہیں جنھیں لوگوں کو اذیت دینے میں مزہ آتا ہے۔ اس نے تو کہا تھا کہ کچھ عرصہ بعد کسی چیز میں مزہ نہیں رہتا۔
یہ شخص بھی عجیب ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ہمارے حالات بہتر ہونے لگے۔ امی کو اب میری شادی کی فکر بھی رہتی۔ انھوں نے شمائلہ کے ہاں کئی بار چکر لگائے۔ ہر بار واپسی پر ان کے چہرے پر ایک پریشانی ہوتی جس کا وہ ذکر نہ کرتیں۔ مجھے نہیں معلوم امی کیا چھپا رہی ہیں۔
ویک اینڈ پر کاشف کی کال آتی تو میں جیسے زندہ ہو جاتی۔ کبھی کبھی تو رو بھی پڑ تی۔ مجھ پر اتنی ساری مشکلیں آئیں اور وہ مجھ سے دور تھا۔ وہ ہر ممکن کوشش کرتا کہ مجھے تسلی دے سکے۔ اس کی زیادہ تر باتیں اپنی ٹریننگ کے متعلق ہوتیں۔ اب وہ امریکہ میں نیا بزنس کرنے کی باتیں کرنے لگا۔
عبیر پاکستان میں کچھ نہیں رکھا، یہاں نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی مواقع۔ کامیابی کے لیے الٹے حربے استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ امریکہ میں مسلم کمیونٹی بھی بہت اچھی ہے۔ یہ لوگ پاکستانیوں سے زیادہ پکے مسلمان ہیں۔ میں تمھیں بھی اپنے ساتھ امریکہ لے جاؤں گا۔
میں پہلے تو خوش ہوئی، پھر گھر والوں کی فکر ہوئی، ان کا کیا بنے گا؟
شگفتہ کو ان دنوں ڈرائیونگ سیکھنے کا شوق پڑ گیا، میں نے اسے کہا کہ کسی ڈرائیونگ سکول میں جائے اورمیری طرح لائسینس لے۔ ابا نے مجھے بھی گاڑی اسی وقت چلانے دی جب میں نے لائسنس لے لیا۔ مگر شگفتہ کو جلدی پڑی تھی، کہتی، میں بھی کچھ دن یونیورسٹی میں گاڑی چلا کر جانا چاہتی ہوں۔ اس نئی نسل کے شوق بھی عجیب ہیں۔ اب گاڑی چلا کر جانے میں کونسی بڑائی ہے۔ میں بھی تو روز جاتی ہوں ایک عذاب ہی لگتا ہے۔ گھنٹا پورا ٹریفک میں پھنسے رہو۔
اس کی ضد کے سامنے ہار مانتے ہوئے میں اور وہ ہر دوسرے دن گاڑی سیکھنے جاتے۔ اس کا شوق اتنا زیادہ تھا کہ دو ہفتوں میں ہی سڑک پر گاڑی چلانا شروع کر دی۔ اس کی گرپ ابھی اتنی اچھی نہیں تھی۔ اوپر سے اسے تیز گاڑی چلاناپسند تھا۔ میں اسے کہتی ہوں کہ ذرا احتیاط کیا کرے۔ پر وہ باز نہیں آتی۔ بہر حال میں نے اس سے کہا ہے کہ جب تک وہ ڈرائیونگ لائسنس نہیں بنواتی میں اسے یونیورسٹی گاڑی لے کر جانے نہیں دوں گی۔ خدا نخواستہ کوئی حادثہ ہو گیا تو مصیبت ہی پڑ جائے گی۔
آفس میں میری ٹریننگ ختم ہوتے ہی مجھے انڈیپینڈنٹ کام اسائن کر دیا گیا۔ اگلے ایک سال میں ہم نے ڈیزائنز فائنل کر کے مارکیٹ میں لانچ کرنے تھے۔ یہ کام بھی بس کہنے سننے میں ہی آسان تھا۔ میں جیسے جیسے اس کے اندر گھستی گئی مجھے احساس ہوا ہمارا اسلامی فیشن کا بزنس کھولنے کا پلان واقعی بہت بچکانہ تھا۔ جس لیول کی مہار ت، ٹیم ورک اور پیسہ چاہیے وہ ہم سے کبھی بھی مینج نہ ہوپاتا۔ میں نے اپنے پرانے ڈیزائنز کو امپرو کرنا شروع کیا۔۔ میری ساری انرجی اسی کام میں لگنے لگی۔
میں بھی ایک آرٹسٹ کی طرح کمرے میں گھسی بیٹھی ہوتی۔
ایک ایک پیٹرن کی چالیس چالیس موڈیفیکیشنز بنانا پڑتیں۔ اب تو سافٹ وئیر بھی بہت آ گئے ہیں۔ مگرسافٹ وئیر بھی اسی بندے کو ہیلپ کرتا ہے جسے پہلے سے کچھ کرنا آتا ہو۔
یہ بات نہیں ہے کہ میں تیمور درانی یا اس کی کمپنی کے لیے یہ کر رہی تھی۔ زندگی میں پہلی بار مجھے اپنے آپ کو ایکسپریس کرنےک آزادی ملی تھی، جسے میں کھونا نہیں چاہتی تھی۔ پیسہ بہت ضروری ہے، پر مجھے پیسے سے زیادہ خوبصورتی سے دلچسپی تھی۔ ایلف میرے کام میں بہت دلچسپی لیتیں۔ اگرچہ میرا کام ابھی بہت ہی رف تھا۔ اس میں کافی امپرومنٹ کی ضرورت تھی۔ پھر بھی مجھے ریکیگنیشن مل رہی تھی۔
ایلف نے اپنے کمرے کو اپنی بیٹی کی تصویروں سے بھرا ہوا تھا۔ ان کی بیٹی میری ہم عمر ہو گی۔ کہتی ہیں میں اس وقت صرف بائیس سال کی تھی جب میری بیٹی پیدا ہوئی۔ ان دنوں میں اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑ چکی تھی۔ میرا بوائے فرینڈ بھی مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔ شادی کے بجائے بیٹی کا تحفہ دے گیا۔ بے روزگاری اور جذباتی صدموں کی وجہ سے میری صحت بھی کافی خراب ہو گئی۔ ایک موقع پر میں نے خود کشی کا بھی سوچا۔
جس دن میری بیٹی پیدا ہوئی مجھے محسوس ہوا کہ ساری دنیا کی خوشیاں مجھے مل گئیں ہیں۔ اس کو سینے سے لگاتے ہی میری ساری بے چینی دور ہو گئی۔ مجھے اپنی صحت، بے روزگاری اور بوائے فرینڈ کی بے وفائی کا غم بھی بھول گیا۔ میں نے اپنی بیٹی کے لیے خود کو زندہ رکھا۔ ان کی بیٹی کا نام آسیہ تھا۔ ان کے شوہر نے بھی ان کی بیٹی کو قبول کر لیا۔ ان دنوں وہ آرٹیکٹ کی ڈگری لینے کے بعد اپنے باپ کے ساتھ کام کر رہی تھی۔
مجھے تیمور درانی کے خیال سے ہی وحشت ہوتی۔ اس شخص کو کسی قسم کی اخلاقیات کا پاس نہیں۔ اس شخص سے کچھ بعید نہیں جو شادی جیسے پاکیزہ رشتے کو مجبوری اور محبت جیسے انمول جذبے کو ڈرامہ سمجھتا ہو۔ اوپر سے عورتوں کو کھلونوں کی طرح استعمال بھی کرتا ہو۔
لڑکیوں کے اندر مورنیاں، ہرنیاں، اور شیرنیاں ڈھونڈتا ہو۔ اسے چاہیے کہ کسی سائیکالوجسٹ سے اپنا علاج کروا ئے۔ اللہ کرے وہ کبھی مجھے دوبارہ اپنے گھر کسی کام سے نہ بلوائے۔۔
کچھ دن بعد تیمور درانی غیر متوقع طور پر آفس آ گیا۔ مجھے اس بات کا پتہ اس وقت چلا، جب اس نے مجھے آفس میں بلایا۔ میں ہمیشہ کی طرح ڈری ڈری اس کے آفس میں گئی۔ یقیناً اب کوئی نیا حکم ملنے والا ہے۔
مس عبیر ہم تھوڑی دیر میں ایک اہم میٹنگ میں جا رہے ہیں۔
میں نے اس سے تفصیل پوچھنا چاہی جو اس نے سرسری سی بتائی۔
مجھے توقع تھی کہ ایلف یا کوئی اور سینئر ساتھ ہو گا۔ مگر میرے اور تیمور درانی کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ وہ مجھے اپنی پراڈو گاڑی میں بٹھا کر چل پڑا۔ میٹنگ کسی فارن انویسٹر کے ساتھ ہوئی۔ وہ ہمارے پروجیکٹ میں کچھ انویسٹ کرنا چاہ رہا تھا۔ زیادہ تر باتیں ان دونوں کے درمیاں فائنانس کے ایشوز پر ہوئیں۔ میں نے کچھ ٹیکنیکل باتیں کہیں۔ میں یہی سوچتی رہی کہ تیمور درانی مجھے اس میٹنگ میں کیوں لایا ہے۔ وہ خود یا کوئی سینئر یہ کام زیادہ بہتر انداز سے کرتا۔
میں پوری میٹنگ میں تیمور درانی کو نوٹ کرتی رہی، وہ جو بھی بات کرتا اتنے اعتماد سے کرتا کہ اگلے بندے کو یقین ہو جاتا۔ اس نے کسی موقع پر یہ ظاہر نہیں کیا کہ اسے اس انویسٹمنٹ کی ضرورت ہے۔ نہ ہی اس نے اگلے بندے کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔ ورنہ عموماًہمارے ہاں لوگ فارنرز کو دیکھ کر بچھے چلے جاتے ہیں۔ میٹنگ ختم ہونے تک اس فارنر کے چہرے سے لگا، وہ مطمئن ہے۔ میٹنگ ختم ہوتے ہی میں ریلیکس ہو گئی کہ میری طرف سے کوئی بلنڈر نہیں ہوا۔۔
میں نے میٹنگ کے دوران سرو کی گئی کافی اور سنیکس کو خوب انجوائے کیا۔ میٹنگ دو تین گھنٹے سے زیادہ چلی۔ میٹنگ ختم ہونے تک میں سیدھا بیٹھ بیٹھ کر تھک گئی۔ میٹنگ ختم ہوتے ہی تیمور درانی نے وہیں کھانا کھانے کا ارادہ کیا اور میں رسماً منع کرتی رہ گئی۔
اب مجھے تو فائیو سٹار میں آرڈر کا کوئی ایکسپیرنس نہیں ہے، تیمور درانی نے اپنے لیے روسٹ بطخ منگوائی تو میں نے سوچا میں بھی چکھوں، کیسی ہوتی ہے۔
مجھے آرڈر کرتے ہوئے ایمبیرسمنٹ ہوئی۔ جانے وہ میرے بارے میں کیا سوچے گا کہ اس کے آرڈر کی کاپی کر رہی ہوں۔ اسی لیے میں نے چکن سٹیک منگوالیا۔ ہیں تو ہم بھی مڈل کلاسیے، کوئی سہیلی ساتھ ہوتی تو ہم دونوں چیزیں ہی ٹیسٹ کر لیتیں۔ اب میں تیمور درانی کو تو یہ نہیں کہہ سکتی: سر تھوڑی بطخ ٹیسٹ کرنے دیں۔
میں نے سٹیک پہلے بھی کھایا تھا لیکن یہاں کے سٹیک کی تو بات ہی کچھ اور تھی۔ اب مجھے لوگوں کے سامنے برقع میں کھانا کھانے کی پریکٹس بھی کافی ہو گئی تھی۔ اسی لیے مجھے کچھ آکورڈ نہیں لگا۔ باقیوں کو لگتا ہے تو لگتا رہے۔
ایک ایک لقمے پر میری منہ میں ٹیسٹ بھرنے لگا۔ میں للچائی ہوئی نظروں سے روسٹڈ بطخ کو بھی دیکھ لیتی۔ کرسپی کرسپی اور خوشبو ایسی کہ چھین کے کھالو۔ میں نے بڑی مشکل سے خود پر کنٹرول کیا۔ میری کیفیت کو تیمور درانی بھانپ گیا۔ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگا: مس عبیر یہ بطخ ٹرائی کریں بہت ٹیسٹی ہے۔
میں شرم سے لال ہو گئی۔ ۔
ہماری بڑی مائیاں ٹھیک کہتی تھیں: عورتوں کو مردوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا نہیں کھانا چاہیے۔
وہ میرے بارے میں کیا سوچتا ہو گا۔ خیر اس کے بے حد اصرار پر میں نے تھوڑی سی چکھ لی۔
واؤ کیا ٹیسٹ تھا۔ میں کاشف کے ساتھ یہاں ضرور آؤں گی۔
کھانے پر انسان ویسے ہی تھوڑا ریلیکس ہوتا ہے اسی لیے میں نے بہانے بہانے سے تیمور درانی کے بارے میں جاننے کی کوشش کی۔
وہ بھی بہت چالاک نکلا اس نے اپنی تعلیم اور خاندان کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا۔ جنرل سی باتیں کرتا رہا جو کتابوں میں بھی مل جائیں گی۔ وہ کسی طرح بھی اپنے بارے میں کوئی کلیو نہیں دے رہا تھا۔ مجھے تو انٹرسٹ ہے کہ اس کا بچپن کہاں گزرا، اس کو کیسے تجربے ہوئے جس کے نتیجے میں ایسا بن گیا۔ کافی کوششوں کے بعد میں نے ہار مان لی تو اس نے اپنے مخصوص انداز سے کہا کہ مس عبیر آپ میری شخصیت اور میرے ماضی کے بارے میں کیوں جاننا چاہتی ہیں؟
میں اور خود کو تجھ سے چھپاؤں گا، یعنی میں
آدیکھ لے شخص میرے اندر بھی کچھ نہیں
میں گڑبڑا گئی، وہ بیوقوف نہیں تھا۔
مجھے سے کوئی اچھا جواب نہ بن پایا۔ میں تو یہی سمجھی کہ کھانے کی میز پر لوگ ریلیکس ہو کر اپنے بارے میں بات کرنا پسند کرتے ہیں۔ اس کے انداز میں کوئی ناراضگی نظر نہ آئی۔
مس عبیر کچھ چیزوں کا نہ جاننا ہی بہتر ہوتا ہے۔
سوری سر! اگر آپ کو برا لگا۔ میں تو بس آپ کی انوکھی شخصیت اور انوکھے خیالات کو سمجھنا چاہتی تھی۔ شاید آپ کی اتنی کامیابی کی سمجھ آ سکے۔
اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ چلیں فرض کریں میں آپ کو اپنی کہانی سناتا ہوں، بدلے میں آپ مجھے کیا دے سکتی ہیں؟؟
میں گڑبڑاگئی۔ میں اسے کیا دے سکتی ہوں؟
کیا آپ بدلے میں اپنا چہرہ دکھا سکتی ہیں؟ اس نے معنی خیز نظروں سے دیکھا۔
اپنا چہرہ !۔ میں۔۔ میں کیسے دکھا سکتی ہوں۔
بات تو ایک ہی ہے مس عبیر آپ مجھ سے میری شخصیت اور ماضی پر اسے نقاب اٹھانے کا کہہ رہی ہیں۔ یعنی آپ بھی میرا اصل چہرہ دیکھنا چاہتی ہیں۔ اگر یہی چیز میں آپ سے ایکسپیکٹ کروں تو۔ ۔ حیرانگی کیسی؟
مجھ سے اس کی باتوں کا کوئی جواب نہ بن پڑا۔ میری مشکل کو اس نے خود آسان کیا۔
ٹھیک ہے مس عبیر میں آپ کو آپ کے چہرے کا نقاب اٹھانے کا نہیں کہتا کیوں کہ آپ نے اپنی دادی سے وعدہ لیا ہے۔ پر آپ کی نیچر کو ضرور ڈسکور کرنا چاہوں گا۔
میں چونکی، کیا مطلب میری نیچر؟
جیسے میری شخصیت اور ماضی کے بارے میں جاننا آپ کی دلچسپی ہے اسی طرح آپ کے اندر کے جانور یا نیچر کے بارے میں جاننا میری دلچسپی ہے۔
اوہ میرے خدا یہ پھر میرے اندر شیرنی، ہرنی یا مورنی تو نہیں ڈھونڈنے کا سوچ رہا۔ اس شخص کو واقعی کو سیریس مسئلہ ہے۔ ایسے لوگ سائیکوپاتھ ہوتے ہیں، کیا پتہ کسی دن میری بھی بوری بند لاش کہیں سے ملے۔
مس عبیر میں کوئی زبردستی نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ آغاز آپ نے کیا تھا اسی لیے میں نے کہہ دیا۔
تواس کے لیے مجھے کیا کرنا پڑے گا؟ میں نے ہلکی سی پریشانی سے کہا
کچھ خاص نہیں، بس کچھ وقت ساتھ بتانا پڑے گا جس میں آپ کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔
شکوک کے سانپ سر اٹھانے لگے۔ کیا کروں؟ اس کی بات مانوں یا نہ مانوں؟
مجھے ایسی کسی مشکوک حرکت میں نہیں پڑنا چاہیے۔
مجھے نہیں جاننا تیمور درانی کے بارے میں۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اگلے ہفتے کو میں بھاری قدموں کے ساتھ بنگلے کے اندر داخل ہوئی۔ میں نے خود کو بہت سمجھانے کی کوشش کی۔ مجھے نہیں جانا چاہیے۔
لیکن میرا تجسس مجھ پر حاوی آ گیا۔ تیمور درانی کی شخصیت اور ماضی سے زیادہ مجھے اس بات کو جاننا ہے، میری اصل نیچر کیا ہے؟
اب تھی تو یہ سٹوپڈ سی بات، جس کا کوئی معنی نہیں تھا۔
تجسس ہم سے بہت کچھ کروا لیتا ہے۔ تیمور درانی نے کہا کہ میں اگلے ہفتے اس کے گھر آؤں تو بات ہو گی۔
مجھے ایلیس ان ونڈر لینڈ جیسی فیلنگ آنے لگی، جس میں ایک لڑکی خرگوش کے بل میں جاتی ہے اور اسے ایک انوکھی دنیا سے پالا پڑتا ہے۔ میں بھی تیمور درانی کی انوکھی دنیا میں قدم رکھنے جا رہی تھی۔ مجھے بیک وقت ڈر بھی تھا اور تجسس بھی۔ نہ جانے وہاں میرے ساتھ کیا ہو گا۔ گھر میں تو میں نے یہ بتا یا کہ آفس میں ورک لوڈ زیادہ ہے۔
ویسے تو وہ ہر چیز سے اکتایا ہوا اور سرد مزاج لگتا تھا۔ پر آج تیمور درانی کے انداز سے بہت ہلکی سی ایکسائیٹمنٹ نظر آئی۔
میں خوفزدہ ہو گئی۔ نہ جانے اسے کس بات کی ایکسائیٹمنٹ ہے۔ لائبریری کا وہی ماحول جہاں وقت رک سا جاتا ہے۔ ایسا ماحول کہانیاں سننے اور سنانے کے لیے بہت اچھا ہوتا ہے۔
اس نے بغیر کسی تمہید کے بات کرنا شروع کی۔
مس عبیر! اگر آپ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا چاہتی ہیں تو کر لیں۔ کیوں کہ، آج کے بعد آپ کے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہو گا۔
اس بات کا کیا مطلب ہے تیمور صاحب؟ میں نے تھوڑی تشویش سے پوچھا۔
مس عبیر یہاں آپ جو باتیں سنیں گی۔ یا جو کام کریں گی۔ ان کا ذکر مرتے دم تک کسی سے نہیں کر سکتیں۔ اگر آپ نے ایسا کیا تو مجھے افسوس ہے اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ اس نے سرد لہجے میں کہا۔
میرا سانس خشک ہو گیا۔ دل کی دھڑکن اپنی فل سپیڈ پر چلی گئی۔
عبیر! یہاں سے چلے جانا ہی مناسب ہے۔ لیکن کسی نے مجھے باندھ کر بٹھادیا۔
میرا تجسس اور بڑھ گیا۔ وہ کہتے ہیں نا، تجسس اور خوف کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جتنا خوفناک کوئی کام ہو اس میں اتنی ہی تھرل محسوس ہوتی ہے۔
میں نے رکنے کا فیصلہ کیا۔
اس کے چہرے پر کچھ طمانیت آئی۔
مس عبیر اس گھر میں آپ جب تک ہیں آپ کو میری کہی ہوئی باتوں کو بغیر کسی حجت یا سوال کے ماننا ہو گا۔ اگر آپ کو یہ منظور ہے تو ٹھیک ورنہ واپسی کا دروازہ ابھی کھلا ہے۔
اس کی شرطیں بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔ کیا کروں میں؟
جو ہو گا دیکھا جائے گا۔
پہلی بات ہم یہاں باس اور ملازم کا رول ادا نہیں کریں گے۔ آپ مجھے صرف تیمور کہیں گی۔ جیسے کسی بھی عام آدمی کو کہتی ہیں۔ میں بھی آپ کو صرف عبیر کہوں گا۔
کیونکہ، لوگ اپنا اصل چہرہ مختلف رولز کے پیچھے چھپاتے ہیں۔
ہیں !! یہ کیا بات ہوئی؟ یہ یہاں باس نہیں بننا چاہتا تو پھر کیا کرنا چاہتا ہے۔
ٹھیک ہے تیمور صاحب۔ آئی مین۔۔ تیمور۔ ۔ ۔۔ بہت ہی عجیب لگ رہا تھا۔
باقی باتیں وقت کے ساتھ کھلیں گی۔
تو عبیر کہاں سے شروع کریں؟
میں چونک گئی ! تیمور صاحب۔ آئی مین تیمور۔ ۔ آپ۔ ۔ سوری۔ ۔ تم۔ ۔ اپنی کہانی سناؤ۔
تم ایسے کیوں ہو جیسے تم ہو؟
تمھارا ماضی کیا ہے اور تم خود کیا محسوس کرتے ہو؟
میں ابھی تک اس کے ساتھ اس برابری اور بے تکلفی کو ہضم نہ کر سکی تھی۔۔
میری کہانی؟؟؟
میں کیا محسوس کرتا ہوں؟؟
اس کی نظریں خلا میں کچھ ڈھونڈنے لگیں۔۔
جیسے لائبریری کی چھت پر اس کی زندگی کہ فلم چل رہی ہو۔ یہ فلم مجھے ایک انجان دنیا میں لے گئی۔ ایک ایسی دنیا جس کے بارے میں صرف تیمور درانی جانتا ہے۔ اس کہانی نے وقت کا پہیہ اپنی مرضی سے گھمانا شروع کیا۔
میں اس کہانی میں ڈوبتی چلی گئی۔
٭٭٭

حصہ دوم

جیئے جانا بھی کیا روایت ہے۔۔
میں کیا محسوس کرتا ہوں؟
میں اپنے اندر ایک خلا محسوس کرتا ہوں، ایک ایسا خلا جو وقت کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔ میں ساری زندگی مختلف چیزوں سے اس خلا کو بھرنے کی کوشش کرتا رہا۔ پر یہ نہیں بھرتا۔ زندگی کی ہر کامیابی اس خلا کو بھرنے میں ناکام رہی ہے۔
پہلی بار یہ خلا اس وقت محسوس ہوا جب میری ماں مجھے چھوڑ کر گئی۔ پانچ سالہ بچے کے ذہن میں یہ منظر نقش ہو گیا۔ اپنے دوپٹے سے آنسو پونچھتی وہ بھاری قدموں سے مجھے چھوڑ کر گئی۔ میں کئی دن روتا رہا، وہ کئی بار مجھ سے ملنے آئی۔
اب میری ضدیں کوئی پوری نہ کرتا۔ میں گھر کے دروازے پر بیٹھا آنسو بہاتا رہتا۔ وقت کے ساتھ یہ آنسو تو خشک ہو گئے، پر اندر کا خلا بڑھنے لگا۔ میرا کسی چیز میں دل نہ لگتا۔ گھر میں دل لگانے کے لیے سوائے کتابوں کے کچھ تھا بھی نہیں۔ میں دادا کی بڑی سی لائبریری میں گھسا کتابوں کو دیکھتا رہتا۔
میرے دادا سلیمان درانی بھی وہیں ہوتے۔ وہ ہر وقت کچھ نہ کچھ سوچتے رہتے۔ ان کی شخصیت میں بھی ایک اداسی اور مایوسی تھی۔ بہت سالوں بعد مجھے معلوم ہوا کہ وہ برصغیر کی تاریخ لکھ رہے تھے جو کبھی شائع نہ ہوئی۔ دادا مجھ سے محبت کرتے تھے یا نہیں اس کا تو نہیں پتا۔ کیونکہ انھوں نے اس کا کھل کر اظہار نہیں کیا۔
انھوں نے میری خدمت کے لیے آیا رکھی اور میری اچھی تعلیم کا بھی بندوبست کیا۔ میرا سکول اور مدرسہ میں دل نہ لگتا۔ میں سارا وقت کتابوں میں بتانا چاہتا۔ لائبریری کی دنیا میں وقت رک جاتا۔ یہاں ہر کتاب مجھے ایک نئے دور میں لے کر جاتی۔ میں ہر روز ایک نیا کردار بن جاتا۔ کرداروں کا یہ ماسک پہن کر، میں وقتی طور پر خود کو اور اپنے خلا کو بھول جاتا۔ کبھی کبھی کتابوں کی اس خوشبو میں ایک روتا ہوا چہرہ نظر آ جاتا۔ میں کتابوں کے ہر افسردہ کردار میں اپنی ماں کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتا۔
دادا میرے ماں باپ کا ذکر کم ہی کرتے۔ شاید وہ کسی بھی چیز کا ذکر کم ہی کرتے تھے۔ انھیں بھی کسی چیز کی تلاش تھی۔ شاید ان کے اندر بھی ایک خلا تھا۔ انھوں نے ہوش سنبھالا تو انگریز کی حکمرانی کا عروج تھا۔ باپ کی تھوڑی بہت جاگیر سے ٹھاٹ بھاٹ چل رہے تھے۔ دادا نے اعلیٰ تعلیم کے لیے کلکتہ بھیجا تاکہ وکیل بن سکیں۔ کلکتہ کی رونقیں دل کو بھاگئیں۔ باپ سے پیسہ منگوا کر اڑاتے رہے۔ اسی دوران ہندوستان میں مارکسسٹ تحریک عروج پر تھی۔ بہت سے امیر خاندانوں کے نوجوان اس سے متاثر ہو کر مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق کی بات کرنے لگے۔ ایک عجیب انقلابی فضا قائم ہو گئی۔
کہا جاتا، اگر آپ اٹھارہ سال سے کم ہیں اور مارکسسٹ نہیں ہیں تو آپ کے پاس دل نہیں ہے۔ اگر آپ چالیس سال سے زیادہ ہیں اور مارکسسٹ نہیں ہیں تو آپ کے پاس دماغ نہیں ہے۔
غریبوں اور محنت کشوں سے زیادہ جاگیردار اور انڈسٹرلسٹ طبقے کے جوان اس میں شامل ہوئے۔ اس میں حقیقت پسندی سے زیادہ رومانس کا غلبہ تھا۔
دادا نازونعم میں پلے تھے، پر مارکسسٹ تحریک میں اتنی کشش نظر آئی کہ سب کچھ چھوڑا اور مزدوروں کے کپڑے پہن کر محنت کشوں کے لیے جد و جہد میں مصروف ہو گئے۔ ان کے والد کو پتا چلا تو فوراً بلا کر سرزنش کی کہ مانا درانی خون میں بغاوت ہے۔ مگر تھوڑا ہوش سے کام لو۔
لیکن بات نہ ماننا بھی درانیوں کی ہی ایک خاصیت رہی ہے۔
دادا نے کسی مصلحت کو سامنے نہ رکھا۔ اپنے والد سے کہہ دیا کہ اپنی زمینیں غریبوں میں بانٹ دیں ورنہ جس دن انقلاب آیا ان کے ساتھ وہی سلوک ہو گا جو روس میں جاگیرداروں کے ساتھ ہوا۔
اپنے جوش میں وہ دہشت گرد کاروائیوں میں مصروف ہو گئے۔ کبھی ٹرینیں لوٹتے تو کبھی سرکاری املاک کو نقصان پہنچاتے۔ اسی دوران انھیں روس جانے کا موقع ملا، تاکہ وہاں مزید انقلابی بن کر آ سکیں۔ ماسکو یونیورسٹی میں تاریخ اور فلسفہ کا مضمون اٹھایا اور بڑی محنت سے پڑھنے لگے۔ ساتھ ساتھ وہاں کے انقلاب کے اثرات کا بغور مشاہدہ کیا۔
دو سال کے دوران انھوں نے روس کو گھوم پھر کر دیکھا۔ وہاں کے سردی سے ان کی جان جاتی۔ پر وہاں کی خوبصورتی کے وہ قائل ہو گئے۔ وہیں ایک خوبصورت روسی دوشیزہ پر دل بھی دے بیٹھے۔ ان کی ملاقات یونیورسٹی میں ہوئی جہاں وہ ادب کی طالبہ تھی۔ ہندی سمیت کئی زبانیں روانی سے بولتی۔ اس کی باتوں میں شاعری اور موسیقی ہوتی۔ بات بات پر شعر پڑھتی۔ دادا نے ساری نوجوانی انقلاب کے خواب کے پیچھے لگا دی۔ محبت جیسے جذبے کو کبھی سمجھا ہی نہیں۔
شاید محبت کرنا صرف آزاد لوگوں اور آزاد معاشروں کو آتا ہے۔ ہم پسماندہ لوگ صرف نفرت کر سکتے ہیں۔
دادا اس کے شہد جیسے بالوں اور نیلی آنکھوں کو دیکھ دیکھ حیران ہوتے۔ اس کی باتوں کی مٹھاس اوردھیمی دھیمی موسیقی میں انقلاب کی گن گرج مدھم پڑنے لگی۔ ایسی بات نہیں کہ دادا عورت ذات سے نا آشنا تھے۔ بچپن کی شادی سے ان کے پانچ بچے تھے۔ لیکن محبت انھیں پہلی بار محسوس ہوئی۔
کئی شامیں دونوں کی لمبی واک کرتے گزرتیں۔ اس لڑکی کے ماں باپ انقلاب کی جد و جہد میں مارے گئے تھے۔ اسی لیے وہ خود کمیونزم سے متنفر ہو گئی۔ وہ حکومتی خوف کی وجہ سے کھل کر اس کا اظہار نہ کرتی۔ وہ کسی آزاد ملک میں آزادی سے زندگی گزارنے کے خواب دیکھتی۔ جہاں آپ کی زندگی میں حکومت اور سماج مداخلت نہ کرے۔ اسے ایسا ملک صرف امریکہ نظر آتا۔ دادا اس کی باتوں کو حیرانی سے سنتے اور انھیں ایک نئی دنیا نظر آتی۔
شاید دادا کو اپنا انقلاب بھول جاتا لیکن ہندوستان سے ان کے دوستوں کے خط انھیں واپس حقیقت کی دنیا میں لے آتے۔ روس میں کمیونزم کی سختیاں اور قتل و غارت گری دیکھ کر ان کے ذہن میں مارکسسزم کے خلاف کئی سوال اٹھتے جنھیں وہ سختی سے دبا دیتے۔
وہ لڑکی انھیں ہندوستان واپس نہ جانے پر مناتی رہی۔ کہتی میرے ساتھ یورپ اور امریکہ چلو۔ اپنے سر سے یہ انقلاب کا بھوت اتار دو، انقلاب نہ تو تمھاری زندگی میں خوشی لائے گا نہ ہی ہندوستان کے لوگوں کی زندگی میں۔
مگر دادا کے سر پر تو انقلاب کا بھوت ایسا سوار تھا کہ مارکسسزم کے خلاف کچھ بھی سننے سے انکار کر دیا۔ اپنی محبت کو روتا چھوڑ کر چل پڑے۔ وہ لڑکی رو رو کر کہتی: اپنی محبت کو چھوڑ کر تمھیں ایسے انقلاب میں کیا ملے گا۔
کچھ دیر کے لیے دادا کا دل بھی ڈگمگایا مگر ہمت کر کے چل پڑے۔ وہ لڑکی سٹیشن کے بنچ پر بیٹھ کر رونے لگی۔ یہ ٹرین کی کھڑکی سے اسے دیکھتے رہے۔ رونا تو مرد کو ویسے ہی زیب نہیں دیتا اوپر سے درانی پٹھان!
لیکن اس دن دادا کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل آئے۔ انھیں خود پر بھی حیرت ہوئی۔ ایک خلا ان کے دل میں بھی پیدا ہو گیا۔
اس وقت انھیں نہیں معلوم تھا کہ یہ خلا اب کبھی نہیں بھرے گا۔ واپس ہندوستان آتے ہی وہ دوبارہ اپنی سرگرمیوں میں شامل ہو گئے۔ پر وہ جوش جذبہ محسوس نہ ہوا۔ شاید نوجوانی ختم ہو گئی تھی۔ تاریخ اور فلسفہ کی تعلیم نے ان کا ویژن بہت بڑھادیا۔ اب تھوڑے حقیقت پسند ہو گئے۔ اسی لیے نوجوانوں کی تخریب کارانہ کاروائیوں کو اچھا نہ سمجھتے۔ ان کے نزدیک ہندوستان میں فضا ابھی کمیونسٹ انقلاب کے لیے سازگار نہیں اس کے لیے سالوں ذہن سازی کرنا پڑے گی۔
ان کی یہ باتیں لوگوں کو سمجھ نہ آتیں۔ وہ حیران ہوتے، ایک شخص کمیونزم کو اتنے قریب سے دیکھنے کے بابوجود ایسی باتیں کر رہا ہے۔
ان کا تحریک کے بڑوں اور چھوٹوں سے اختلاف رہنے لگا۔ جب ان کی گرفتاری ہوئی تو قریب قریب تحریک سے متنفر ہو چکے تھے۔ انھوں نے چار سال سے زیادہ جیل میں گزارے۔ جیل کی اذیتوں میں بھی انھیں صرف ایک چہرہ یاد آتا۔
چار سال میں انقلاب کا خواب ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو گیا۔ باہر نکلے تو تقسیم کے ہنگامے شروع ہو گئے۔ انھیں کسی چیز سے دلچسپی نہ رہی۔ دور دراز کے ایک سکول میں بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا۔ سالوں گزر گئے اور ملک تقسیم ہو گیا۔ ادھیڑ عمری میں ہجرت کرنا پڑی۔ ہجرت کی ہولناکیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، ہر طرف انسان رائیگاں نظر آیا۔
زندگی اپنا معنی کھوبیٹھی۔ اسی مایوسی میں گاؤں کا رخ کیا۔ باپ کو بستر مرگ پر پایا۔ باپ نے گدی سنبھالنے کو کہا اور یہ انکار نہ کر سکے۔
رہ رہ کر اپنے فیصلوں کی ناکامی کا احساس ہوتا، ہر گزرتا دن تنہائی، اداسی اور مایوسی میں اضافہ کرتا گیا۔ کسی شخص سے کوئی تعلق محسوس نہ ہوتا۔ کسی پل چین نہ آتا۔ اکثر تنہائی میں چھوٹی سے بلیک اینڈ وائٹ تصویر کو دیکھ دیکھ کر روتے رہتے۔ ان کی فوتگی کے بعد وہ تصویر میرے قبضے میں آئی جس میں ایک بہت ہی خوبصورت روسی لڑکی کھلکھلا کر ہنس رہی تھی۔ اس کے بالوں میں ایک پھول تھا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
دادا نے میری دیکھ بھال کے لیے ایک آیا رکھی۔ تھوڑا بڑا ہوا تو اپنے سارے کام خود کرنا شروع کر دیے ۔ دادا سارا دن لکھنے پڑھنے میں مصروف رہتے۔ مجھے دادا کی فوتگی کے بعد ان کتابوں کے چلے جانے کا دکھ ہوا۔ ان کی ہزاروں کتابوں کو کوڑیوں کے مول خریدتے ہوئے کباڑیا بہت خوش نظر آیا۔۔ میں نے بچپن اور لڑکپن کے کئی سال انھیں کتابوں کو پڑھتے ہوئے گزارے۔ وہاں طلسم ہو شربا، عمرو عیار، سند باد، جاسوسی ناول، تاریخی ناول، آپ بیتیاں اور نہ جانے کیا کیا خزانہ تھا۔ سکول اور پڑھائی میں میرا دل نہ لگتا۔ میں سکول سے جان چھڑا کر لائبریری میں گھسا رہتا۔ دادا مجھے پڑھائی کا تو کہتے لیکن ان کے نزدیک بھی ڈگریوں سے زیادہ علم کی اہمیت تھی۔
دادا نے کبھی مذہب پر بات نہیں کی۔ کئی بار میں انھیں تسبیح پڑھتے دیکھتا، صوفیانہ کلام سنتے ان کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔ کبھی کبھار ان کے مرشد بھی آتے، جن کی وہ بہت عزت کرتے۔ ان کے مرشد حاجی فقیر علی عجیب سی شخصیت تھے۔ بہت بوڑھے، آنکھیں ہلکی ہلکی بند رہتیں، پر ہونٹ ہلتے رہتے۔ میں انھیں چھپ کر غور سے دیکھتا رہتا۔ وہ دادا سے بڑی مشکل مشکل باتیں جن میں وحدت الوجود، تزکیہ نفس، مشاہدہ حق وغیرہ کا ذکر ہوتا۔ مجھے ان کی سمجھ نہ آتی۔ مجھے تو تذکرۃ اولیا پڑھ کر صوفیوں کی کرامتوں میں دلچسپی تھی۔ میں چھپ چھپ کر دیکھنے کی کوشش کرتا کہ باباجی کب کوئی کرامت دکھائیں گے۔ پر انھوں نے کبھی کوئی کرامت دکھائی ہی نہیں۔
ایک بار دادا نے ان سے میرے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے دیر تک آنکھیں بند کیں جیسے کچھ دیکھ رہے ہوں۔ مجھے نہیں معلوم انھوں نے میرے بارے میں جو دادا کو کیا بتایا۔ لیکن اس دن کے بعد دادا میرے بارے میں کافی پریشان رہتے۔ انھوں نے اس سے پہلے مجھ پر سیپارہ یاد کرنے اور نماز پڑھنے پر زور نہیں دیا تھا۔ لیکن اب وہ اس معاملے میں سختی کرنے لگے۔ مجھے چھ کے چھ کلمے زبردستی یاد کروا ئے۔ قرآن پاک پڑھنے کے لیے روزانہ مدرسہ بھیجنا شروع کیا۔
مجھے مدرسہ کا ماحول بہت عجیب لگا، ہر بات پہ سختی اور مار پیٹ۔ پینٹ شرٹ پہن کر آنے پر مار پیٹ، ذرا سی غلطی پر مار پیٹ، نماز میں لیٹ ہونے پر مار پیٹ۔ ایسا محسوس ہوتا کہ قاری صاحب کو تشدد کرنے میں مزا آتا ہے۔
مجھے زیادہ مار نہیں پڑتی کیوں کہ میں سبق ٹھیک سے یاد کر لیتا۔ لیکن اکثر بچے اتنے خوش قسمت نہیں تھے۔ وہ بری طرح پٹتے۔ کچھ عرصہ مار کھانے کے بعد ان کا جھاکا کھل جاتا اور وہ ڈھیٹ ہو جاتے۔
سختی ایک حد تک ہی چلتی ہے اس کے بعد لوگ اپنے لیے حل نکالنا شروع کر دیتے ہیں۔
میں کئی سال تک سکول کے بعد مدرسہ جاتا رہا۔ اس ماحول نے میرے ذہن پر گہرا اثر ڈالا۔ میں غریب بچوں کو بے دردی سے پٹتے دیکھتا۔ وہ مار کھانے کے بعد روتے ہوئے ایک کونے میں بیٹھ جاتے۔ ان کی آنکھوں کی بے بسی، شرمندگی اور غصہ مجھے کبھی نہ بھولتا۔
یہ غصہ ان کے اندر ٹپک ٹپک کر ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتا۔ وہ وقت کے ساتھ بے حس اور ظالم بن جاتے۔ اب انھیں اپنے اوپر ہونے والے تشدد کی بھی پروا نہ رہتی۔ وہ اپنے سے چھوٹوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کرتے۔ کئی بچے مستقل طور پر معذور بھی ہو جاتے۔ زیادہ تر کی نفسیاتی کیفیت نارمل نہ رہتی۔
مدرسہ میں سب سے مزے کا کام لوگوں کے گھروں میں میلاد اور ختم پر جانا ہوتا۔ تمام لوگوں کی خواہش ہوتی، کسی امیر گھر میں ہی جائیں، تاکہ کچھ اچھا کھانے کو تو مل سکے۔ ختم کے دوران کوئی لڑکا بھی سیپارہ سہی طریقے سے نہ پڑھتا۔ سب صرف سر اور ہونٹ ہلاتے۔ سب کی نظریں ادھر ادھر دیکھ رہی ہوتیں، ناک کھانوں کی خوشبو سونگھتے۔
کھانا کھلتے ہی سب جانوروں کی طرح ٹوٹ پڑتے اور سب چٹ کرجاتے۔ جو بچ جاتا شاپروں میں بھر کر لے آتے۔ غریب گھرانوں کے ان بچوں اور قاریوں کے اندر صدیوں کی بھوک کھل کر دکھائی دیتی۔ کبھی کبھی کھانا کھاتے ان کے چہروں پر ہلکی سی شرمندگی کی لہر بھی اٹھتی۔ جو سب کو اس حمام میں ننگا دیکھ کر فوراً ختم ہو جاتی۔
زیادہ تر بچے دور دراز پسماندہ علاقوں سے آئے تھے۔ اسی لیے ان کی رہائش اور کھانے کا انتظام مدرسہ میں ہی ہوتا۔ دال روٹی پر مشتمل یہ کھانا بھی دن میں صرف دو بار ملتا۔ مدرسہ میں روزانہ صدقے کی کئی چیزیں آتیں، جو قاری صاحبان کے گھروں میں تقسیم ہو جاتیں۔ بچوں کو سب سے ناقص چیز دی جاتی۔ یہ دیکھتے ہوئے بچوں میں چوری چکاری کا رواج بھی پڑ جاتا۔ وہ صدقے کی کئی چیزوں کی مولوی صاحب کو خبر بھی نہ ہونے دیتے۔
رہائش کے نام پر کچھ کمروں میں چھوٹے بچوں اور بڑے لڑکوں کو اکھٹے ہی سلایا جاتا۔ اسی وجہ سے کئی چھوٹے بچے زیادتی کا شکار ہوتے۔ لڑکے کئی قاری صاحبان کی دست درازی کا چھپ چھپ کر ذکر کرتے۔
مدرسہ ہمیشہ زیر تعمیر ہی رہتا۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے ساتھ کی کئی زمینوں پر قبضہ کر کے ان پر بھی کمرے تعمیر کر دیے گئے۔ وہ زمینیں ایک بیوہ کی تھیں، جب اس نے شور مچایا تو اسے کہا گیا تمھاری عاقبت سنور جائے گی۔ پر وہ خاموش نہ ہوئی اور عدالت چلی گئی۔ اسی دوران پتا نہیں کیسے اس کے بیٹے کے خلاف قرآن پاک کے مقدس اوراق کی بے حرمتی کا الزام لگا۔ اسے مار پیٹ کر شدید زخمی کر دیا گیا۔ بات کافی بڑھ گئی، لوگ اس نوجوان کے قتل کی بات کرنے لگے۔ ایک رات مشتعل ہجوم نے اس بیوہ کے گھر حملہ کیا۔ پر گھر میں کوئی نہ تھا۔ اس دن کے بعد کسی کو اس بیوہ اور اس کے بچے کا پتہ نہیں چلا۔ لوگ کہتے وہ بیوہ بیٹے کو لے کر لاہور چلی گئی جہاں اس کا بیٹا مزدووری کرتا ہے۔
دادا شاید مجھے مدرسہ بھیج کر ایک اچھا مسلمان بنانا چاہتے تھے۔ لیکن مدرسہ جا کر میرے دل میں مولویوں سے شدید نفرت پیدا ہو گئی۔ میں نے قرآن پاک بڑی مشکل سے ختم کیا۔ دادا سے کہہ دیا اب میں مدرسہ نہیں جاؤں گا۔ مدرسہ میں گزارے دن اب بھی مجھے نہیں بھولتے۔ ان بچوں کی آنکھیں اب بھی میرا پیچھا کرتی ہیں۔
میں اس وقت بارہ سال کا تھا جب دادا فوت ہوئے۔ زندگی کے آخری کچھ مہینے ان کی طبیعت کافی خراب رہنے لگی۔ انھوں نے چچا کو بلوایا جو عموماًسال میں ایک آدھ چکر لگاتے تھے۔ چچا کی دادا سے کبھی نہیں بنی۔ دونوں کی شخصیتوں میں زمیں آسمان کا فرق تھا۔ دونوں جب بھی مل بیٹھتے لڑائی چھڑ پڑتی۔ چچا کہتے: گاؤں کی ان زمینوں اور حویلی کو بیچیں اور شہر چلیں۔
دادا کو اس حویلی سے عشق تھا۔ وہ کراچی شہر کے شور سے گھبراتے۔ کہتے جو سکون یہاں ہے وہ شہر میں میسر نہیں ہو سکتا۔ وہاں لے جا کر بھی تو تم نے مجھے ایک کمرے میں ہی ڈال دینا ہے۔ یہاں آزاد تو ہوں، چار لوگ مجھے جانتے اور عزت تو کرتے ہیں۔
فوتگی سے کچھ عرصہ پہلے چچا کو بلوایا اور ساری جائداد ان کے نام کر دی۔ چچا کی آنکھوں میں ایک عجیب کشش نظر آئی جیسے کوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا ہو۔ دادا نے صرف ایک شرط رکھی کہ میری تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ان کی ہو گی۔ چچا کو اس وقت سبھی باتیں قبول تھیں۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میرا باپ بابر درانی بہت شاعرانہ مزاج رکھتا تھا۔ باپ کی طرف سے پڑھنے لکھنے کا شوق ورثہ میں ملا۔ اسی لیے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ٹیچر بننے کا فیصلہ کیا۔ مزاج میں باپ کی طرح آئیڈیلزم تھا۔ اسی لیے قوم کے بچوں کو پڑھانا چاہتے تھے۔ اپنی جوانی اسی کام میں لگادی۔ بیوروکریٹک سسٹم سے لڑتے رہے۔ دور دراز کے دیہاتوں میں جا کر پڑھاتے رہتے۔ ان کی کئی سال کی انتھک محنت سے نہ ہی سسٹم بدلا اور نہ ہی بچوں کا مستقبل۔
دنیا نے جو دکھ دیے اسے شاعری کی شکل میں لوٹانا شروع کیا۔ یہ شاعری مختلف اخباروں اور ادبی جریدوں میں چھپتی جسے عوام و خواص نے بہت سراہا۔ شہرت نے دل کے زخموں پر مرہم تو رکھا، مگر اپنے خوابوں سے مایوس ہونا شروع ہو گئے۔ نہ ہی ان کی پروموشن ہوئی، نہ ہی کسی نے ان کے کام کوسراہا اور نہ ہی قوم کے معمار پیدا ہوئے۔
شاعری میں غم شدید ہوتا گیا۔ ایک مشاعرے کے سلسلے میں کراچی آنا ہوا۔ یہیں مختلف ہائی کلاس پارٹیوں میں انھیں اپنی شہرت کی وجہ سے مدعو کیا گیا۔ وہیں ان کی ملاقات ایک بہت ہی خوبصورت شاعرہ سے ہوئی۔ اس شاعرہ کا نام بھی اس کی شاعری اور شخصیت کی طرح خوبصورت تھا۔
“غزل”۔۔
غزل کا تعلق ایک بہت اچھے علمی خاندان سے تھا۔ اس کے والد کا اپنا پبلشنگ ہاؤس تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے کلام کو پسند کرتے تھے۔ پھر مشاعروں کی ملاقات محبت میں بدل گئی۔ یہ دھیمی دھیمی آگ بھڑک کر دونوں کے وجود کو جلانے لگی۔ عشق میں ایسے پاگل ہوئے کہ سب کچھ بھول گیا۔ غزل کے خاندان کی طرف سے اس شادی کی خوب مخالفت ہوئی۔ مخالفت کی بنیاد ابا کی باغیانہ فطرت، دگرگوں مالی حالات اور عمروں میں بیس برس کا فرق تھا۔
باپ نے بیٹی کو بہت سمجھایا: یہ بے جوڑ رشتہ ہے۔ شاعر لوگ کبھی کامیاب گھر نہیں بسا سکتے۔
“مگر وہ عشق ہی کیا جو بغاوت نہ کرے ”
تمام مخالفتوں کے باوجود شادی ہو گئی۔ ایسی آگ جتنی جلدی بھڑکتی ہے اسی جلدی سے بجھ بھی جاتی ہے۔ معلوم ہوا
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا
شاعری اور سہانے خواب دیکھنے سے واقعی گھر نہیں بستے۔
“لازمی نہیں الفاظ کی خوبصورتی کے پیچھے شخصیت کی خوبصورتی بھی ہو”
کچھ ہی ماہ بعد جھگڑے شروع ہو گئے۔ اسی دوران میری پیدائش ہوئی اور جھگڑے بڑھتے ہی چلے گئے۔ زیادہ مسائل پیسوں کے تھے۔ ابا کی آزاد منش طبیعت پر گھر کی ذمہ داریاں گراں گزرتیں۔ اماں چاہتیں، ابا ڈھنگ سے کوئی کام کریں، انھوں نے ابا کو کسی سرکاری محکمے میں اچھا عہدہ دلوانے کی بھی کوششیں کی۔
ہر بار ابا کی انا آڑے آ جاتی۔ میں جب پانچ سال کا ہوا تو دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔ اماں نے مجھے حاصل کرنے کی بہت کوشش کی۔ ابا نہ مانے۔ انھوں نے علیحدگی کے لیے یہی شرط رکھی کہ میں ان کے پاس رہوں گا۔ اماں کئی بار مجھے ملنے آئیں۔ ہر بار ان کی صحت خراب سے خراب تر ہوتی۔ جیسے اسے اندر سے کوئی چیز کھائے جا رہی ہے۔
بہت سالوں بعد میں اپنی ماں کو ڈھونڈتا ہوا ان کے گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ علیحدگی کے کچھ عرصہ بعد ہی اماں کا انتقال ہو گیا تھا۔ ان کا ذہنی توازن بتدریج خراب ہوتا گیا۔ اس دوران انھوں نے بہت ہی دکھ بھری شاعری کی۔ فوتگی سے پہلے اپنا سارا کلام منگوا کر جلادیا۔
آخری وقت میری تصویر ہاتھوں میں لیے رو رہی تھیں۔ ایک حساس دل خاموشی سے دھڑکنا بند ہو گیا۔
علیحدگی کے بعد ابا کی شخصیت بھی بکھر گئی۔ وہ گھنٹوں کاغذ لے کر بیٹھے رہتے۔ ان سے ایک لفظ نہ لکھا جاتا۔ خیالات مرکوز ہی نہ ہوتے۔ ایک اداسی اور غم ان کو گھیرے رکھتا۔
زندگی میں ہمیشہ ان کی اپنی تصور پرستی نے ہی انھیں دھوکہ دیا۔ وہ تصوراتی چیزوں کو حقیقی سمجھ کر ان کے پیچھے بھاگتے رہے اور کچھ حاصل نہ ہوا۔
میں نے سہے ہیں مکر اپنے
اب بیچارہ لگتا ہوں
اسی غم میں انھوں نے نشہ کرنا شروع کر دیا۔ کچھ ہی سالوں میں یہ نشہ انھیں لے ڈوبا۔ دادا نے اپنے بڑے بیٹے کو نشے کے دھویں میں ضائع ہوتے دیکھا اور کچھ نہ کر سکے۔ وہ خود بھی تو ساری زندگی ایسے ہی تھے۔
میرے چچا آصف درانی کی طبیعت اپنے باپ اور بھائی سے بہت مختلف تھی۔ ان کے نزدیک دادا اور ابا نے اپنی ساری زندگی اپنی ہی غلطیوں کی وجہ سے برباد کی۔ یہ لوگ خوابوں خیالوں کو حقیقی زندگی سے زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ ان کے قریبی لوگ ان کی وجہ سے ساری زندگی دکھ اٹھاتے رہے۔ آخر میں خود انھیں بھی احساس ہو گیا کہ یہ شروع سے ہی غلط تھے۔
چچا بچپن سے ہی حقیقت پسند اور دنیا دار تھے۔ انھوں نے زیادہ وقت اپنے دادا کے ساتھ گزارا۔ ان سے زندگی اور لوگوں کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔ انھوں نے سیکھ لیا کہ اس دنیا میں طاقت ہی سکہ رائج الوقت ہے۔ اسی لیے ہمشہ طاقت حاصل کرنے کوشش کرو باقی چیزیں خود آتی جاتی ہیں۔
سیاست کا صرف اور صرف ایک مقصد ہے: طاقت حاصل کرنا۔ اس کے علاوہ جو ہے وہ صرف باتیں ہیں۔
چچا جان گئے، جدید دور میں گاؤں کی زمینوں میں کچھ نہیں رکھا۔ اسی لیے وہ قسمت آزمانے کراچی چلے آئے۔ ان کا ذہن پڑھنے لکھنے سے زیادہ سازشوں اور دونمبریوں میں چلتا۔ انھوں نے دونمبر طریقے سے ماسڑ کیا۔ بیک ورڈ ایریا کے کوٹے پر جیل خانہ جات میں اچھے عہدے پر لگ گئے۔
ان کے نزدیک جائز ناجائز کی باتیں کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھیں۔ انھیں صرف اور صرف پیسہ اور طاقت سے غرض تھی۔ یہاں آ کر ان کی دونوں خواہشیں پوری ہونے لگیں۔ جیل کا انچارج بن کر وہ خود کو چھوٹا موٹا خدا سمجھنے لگے۔
پروموشن اور بڑی سیٹوں کے لیے بڑوں کا خوش ہونا بہت ضروری ہے۔ اسی لیے انھوں نے سیاست دانوں اور ادارے کے بڑوں سے تعلق قائم کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔ ان کی دعوتیں کرتے، تحفے تحائف بھیجتے، انھیں شکار پر لے جاتے، غرض یہ کہ ان کی خواہشوں کی تکمیل کے لیے کسی بھی حد تک چلے جاتے۔
بڑوں کا حصہ تھوڑا زیادہ پہنچاتے۔ ان کی یہی خوبیاں بڑوں کو اچھی لگتیں۔ ان کے خیال میں ایسا شخص سسٹم چلانے کے لیے بہت ضروری ہے۔ انھیں ہمیشہ بہتریں قسم کی جیلیں دی جاتیں، جہاں کھانا پینا اور سیاسی اثر رسوخ سب سے زیادہ ہوتا۔
چچا نے شادی کے لیے بھی محبت اور مطابقت جیسی فضولیات کو مد نظر نہ رکھا۔ بلکہ ایک اعلیٰ افسر کی طلاق یافتہ بیٹی سے شادی کر لی۔ وہ لڑکی ان سے عمر میں پانچ سال بڑی اور ایک لڑکی کی ماں تھی۔ چچا نے ان سب باتوں کو قبول کر لیا۔ اس شادی کا فائدہ بھی انھوں نے جلد ہی اٹھالیا اور سب سے اچھی جیل کا چارج سنبھال لیا۔
میری چچی نے پہلی شادی اپنی پسند سے اور گھر سے بھاگ کر کی۔ ان کی اس شرمناک حرکت نے کمیونٹی میں ان کے خاندان کی ناک کٹوا دی۔ چچی کے والد بیوروکریٹ تھے۔ ان کا بیٹی کے ذریعے بڑے خاندانوں تک رسائی کا خواب چکنا چور ہو گیا۔
لڑکے غریب اور معمول خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ جب عشق کی شدت میں کمی آئی تو زندگی کی تلخ حقیقتیں نظر آنا شروع ہوئیں۔ ناز و نعم اور نوکروں چاکروں میں پلی لڑکی کا معمولی سی تنخواہ میں کہاں گزارا ہوتا۔ اپنی غلطی کا احساس ہونے تک کافی دیر ہو گئی۔ بیٹی کی پیدائش سے پہلے ناقص دیکھ بھال کی وجہ سے مرتے مرتے بچیں۔ بیٹی کی پیدائش کے فوراً بعد اپنے باپ کے گھر چلی گئیں اور باپ سے اپنے کیے کی معافی مانگ لی۔
“باپ بہر حال باپ ہوتا ہے “، اس نے معاف کر دیا۔ کچھ ہی عرصہ میں طلاق کے کاغذات بھی پہنچ گئے۔ احساس ندامت چھپانے کے لیے چچی نے اپنی ساری توجہ بچی کی تربیت پر لگادی۔ اپنی غلطی کے بعد انھیں دوبارہ شادی کی توقع نہ رہی۔ لیکن باپ کی پوسٹ کی وجہ سے قسمت ان پر مہربان ہوئی۔ ان سے پانچ سال چھوٹا لڑکا ان سے شادی پرتیار ہو گیا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
چچا کے بنگلے میں داخل ہوتے ہی میری نظر لان میں بیٹھی ایک لڑکی پر پڑی۔ اس نے ایک لوز ٹراؤزر اور ٹی شرٹ پہنی تھی۔ وہ اپنے پیروں کے ناخنوں پر نیل پالش لگا رہی تھی۔ اس کو پہلی نظر میں دیکھ کر ہی احساس ہوا کہ میں نے آج تک اس سے زیادہ خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی۔ مجھ جیسے گاؤں سے آئے نوجوان سے کے لیے یہ لڑکی کسی حور سے کم نہیں تھی۔ اس کا گورا رنگ نین نقش اتنے منفرد تھے کہ میں کچھ دیر تک دیکھتا ہی رہ گیا۔ وہ دور بیٹھی بالکل ایک “ایرانی بلی” لگتی۔
بعد میں معلوم ہوا کہ وہ واقعی ایرانی بلی جیسی ہے۔ جو معصوم اداؤں سے دل موہ لیتی ہے پھر گھات لگا کر بے دردی سے شکار کرتی ہے۔ اس کا نام عنبر تھا۔ وہ چچا کی سوتیلی بیٹی اور چچی کی پہلی اولاد تھی۔ چچی کو میرا گھر آنا بالکل اچھا نہ لگا۔ انھوں نے بہت کوشش کی کہ میں اس گھر میں نہ رہوں پر چچا کے غصے کے سامنے انھیں ہار ماننا پڑی۔ دادا نے مرتے وقت انھیں وصیت کی کہ اب تیمور کی دیکھ بال تمھارے ذمہ ہے۔ چچا کو برا تو لگا ہو گا، لیکن باپ کی آخری خواہش کو رد کرنا مناسب نہ سمجھا۔ دادا نے اسی لیے خاندانی حویلی اور زمینیں ان کے نام لگا دی تھیں۔ انھوں نے اپنی بہنوں کا حصہ بھی ہڑپ کر لیا۔
مجھے چچا کا گھر اجنبی اجنبی محسوس ہوا۔ یہاں پہلے دن سے ہی میری حیثیت ایک کم تر انسان جیسی تھی۔ چچی مجھے بالکل بھی قبول نہ کر سکیں۔ اسی لیے مجھ سے دور دور رہتیں۔ ان کی لگائی گئی شکایتوں کی وجہ سے آئے دن چچا میری پٹائی لگاتے۔ مجھے مدرسہ کے علاوہ کبھی پٹائی کا تجربہ نہیں تھا۔ چچا کو معلوم نہیں کیوں بہت غصہ آتا۔ یہ غصہ صرف چیخنے چلانے سے کم نہ ہوتا۔ وہ مارنا شروع کرتے تو ان کی آنکھوں میں عجیب سی لذت نظر آنا شروع ہو جاتی۔
مار کھانے کے بعد میں خاموشی سے اپنے کمرے میں بیٹھ کر روتا رہتا۔ مجھے ماں یاد آتی۔ ایک ایسی تنہائی کا احساس ہوتا کہ دم گھٹنے لگتا۔ اس گھر میں سب ہی میرے دشمن تھے۔ چچا کی بیٹی عنبر مجھ سے چار سال بڑی تھی۔ وہ بھی مجھ سے اپنی نفرت کے اظہار کو کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیتی۔ چچی اور عنبر کو یوں لگتا جیسے کوئی شودر ان کے گھر میں گھس کر ان کے گھر کو ناپاک کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
میں نے کئی بار سوچا بھاگ جاؤں، مگر ہمت نہ پڑتی۔
میرا کمرہ سب سے الگ اور گھر کی پچھلی طرف تھا جہاں کوئی نہ آتا جاتا۔ اس گھر میں کوئی کتابیں نہ پڑھتا۔ پھر بھی پر مہینے ڈھیروں نئی کتابیں خریدی جاتیں، یا تحفے میں آتیں۔ یہ کتابیں صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے ہوتیں۔ امیر گھرانوں میں ایسے شوق بھی ہوتے ہیں۔ مجھے پورے گھر میں صرف اسی جگہ سکون ملتا۔ میں چپکے سے جا کر اپنی پسند کی کتابیں لے آتا۔ شروع شروع میں نوکروں نے میری شکایتیں لگائیں۔ ان کا خیال تھا میں کتابیں چوری کر کے بیچتا ہوں۔
ایک دن چچا غصے سے میرے کمرے میں آئے اور مجھے کتاب پڑھتا دیکھا۔ ان کا غصہ تھوڑا ٹھنڈا ہوا۔
کہنے لگے، تو بھی اپنے باپ اور دادا پر گیا ہے جنھیں ان فضول کتابوں میں دلچسپی محسوس ہوتی تھی۔ تم کتابیں پڑھنے والے اصل زندگی سے فرار حاصل کر کے سمجھتے ہو، تمھیں زندگی کے بارے میں بہت پتا ہے۔
تو آج سے ہر ہفتے میرے ساتھ جیل جایا کرے گا تاکہ تجھے اندازہ ہو سکے، اصل زندگی کیا ہے اور انسان کیا ہوتے ہیں۔
مجھے یقین تھا تو کبھی کتابوں کو نہیں بیچ سکتا۔ تجھے جو کتاب چاہیے ہو لے لیا کر۔ ہاں پڑھنے کے بعد وہیں رکھ دینا۔
اس دن کے بعد مجھے لائبریری میں بیٹھ کر پڑھنے کی اجازت مل گئی۔
میں کتابیں پڑھنے کے علاوہ اس گھر کی دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتا۔ چچا ایک سرکاری ملازم ہونے کے باوجود کروڑوں کماتے۔ چچی ان کے پیسے کو خرچ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتیں۔ ہر وقت شاپنگ اور سوشل گیدرنگز میں مصروف رہتیں۔
آئے دن گھر میں پارٹیاں ہوتیں، جن میں شہر کی سیاسی و سماجی شخصیات مدعو ہوتیں۔ یہ دولت کی نمائش اور گوسپ کا موقع ہوتا۔ جس میں دیکھا جاتا: کس نے پلاسٹک سرجری کروا ئی ہے، کس نے ویٹ لوز کیا ہے، اور کون ینگ لگ رہی ہے۔
50 سال کی عورتیں بھی ایسا لباس پہنتیں کہ بیس سالہ لڑکی شرما جائے۔ یہ ڈسکس کیا جاتا کہ: کون ہوٹ ہے اور کون ہٹ جا رہا ہے۔ کون سی فلم اچھی ہے۔ کس عورت کا کس سے چکر چل رہا ہے۔ کون کس سے شادی کرنے جا رہا ہے۔
مردوں کی باتیں بھی گوسپ ہی ہوتیں۔ مگر ان میں بزنس اور پالیٹکس زیادہ ہوتی۔ عورت ہو یا مرد ہر کوئی طاقت ور اور مشہور شخصیات کے آگے پیچھے ہی گھومنے کی کوشش کرتا۔ یہ پارٹیاں تعلقات بنانے اور لوگوں سے کام نکلوانے کا ایک اچھا ذریعہ ہوتیں۔
مجھے ان پارٹیوں میں شامل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ اس بات کا ڈر تھا، کہیں میں اپنے پینڈو پن سے ان کا امیج خراب نہ کر دوں۔ میں نوکروں کی طرح ان پارٹیوں اور لوگوں کو دلچسپی سے دیکھتا۔ ویسے تو کبھی کسی نے مجھے نوٹ نہیں کیا۔ اگر کر بھی لیتا تو یہی سمجھتا: کوئی نوکر ہے۔
رات گئے تک یہ پارٹیاں چلتیں۔ گلاسوں میں بچی ہوئی ڈرنکس کو نوکر پیتے۔ بچا ہواکھانا نوکر کھاتے اور گھروں کو لے جاتے۔ میں حیرت سے ان ساری کاروائیوں کو دیکھتا اور ان کی سینس پیدا کرنے کی کوشش کرتا۔
یہ سارے لوگ، اتنی دولت، اتنی خوبصورتی، اتنا کھانا اور اتنی شراب اور اتنی باتیں کس لیے ہیں۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آتی۔ یہ دنیا بھی الف لیلا کی طرح انوکھی تھی۔ ہر بات کا ظاہری مطلب کچھ اور ہوتا اور حقیقی مطلب کچھ اور۔ مسکراہٹ کے پیچھے طنز ہوتا اور سنجیدگی کے پیچھے بیوقوفی۔ کسی کی سخت ترین بات کو بھی ہنس کر سہا جاتا اور کسی کی خوشامد پر بھی غصہ دکھایا جاتا۔
کیونکہ یہ محفلیں چچی کی جانب سے دی جاتیں اسی لیے وہ ہی محفل کی جان ہوتیں۔ چچا ان پارٹیوں میں کسی نہ کسی اہم سیاسی و سماجی شخصیت کی خوشامد کرتے نظر آتے۔ یقیناً ان پارٹیوں سے انھیں کافی فائدہ ہوتا ہو گا اسی لیے تو اتنے پیسے خرچ کرتے تھے۔
ینگ لڑکے لڑکیاں ان پارٹیز میں کم ہی آتے۔ اسی لیے عنبر ان پارٹیز سے بور ہو جاتی۔ چچی اسے پارٹیز میں لوگوں سے سوشلائز کرنے کا کہتیں۔ پر وہ جلد بور ہو کر چلی جاتی۔ اسے اپنے ہم عمر لوگوں کے ساتھ ہینگ آوٹ کا شوق تھا۔ ان لڑکے لڑکیوں کی مجھے تو سمجھ نہ آتی۔ یہ لوگ صرف انگریزی میں بات کرتے۔ فارن برینڈ سے کم کی کوئی چیز نہ تو پسند کرتے اور نہ ہی استعمال کرتے۔ یہ اس ملک کی ہر چیز کو پرایا سمجھتے ہوئے باہر زندگی گزارنے کی خواہش ظاہر کرتے۔
ان کی شاپنگ اور ہولی ڈیز دبئی، فرانس اور سوئزرلینڈ میں ہوتے۔ مذہب اور اخلاقیات ان نوجوانوں کے لیے اجنبی چیزیں تھیں۔ یہ لوگ چھپے کھلے وہ سب کرتے جو حرام اور برا ہے۔ پتا نہیں کیوں عنبر کو ان لڑکی نما لڑکوں کے ساتھ دیکھ کر مجھے اچھا نہ لگتا۔ میں اپنے جذبات کو اس وقت کوئی نام نہ دے سکا۔
مجھے اس گھر میں آئے کافی مہینے ہو گئے۔ اس دوران میری اور عنبر کی گفتگو کبھی نہیں ہوئی۔ البتہ جب بھی میں اسے دکھائی دیتا، وہ حقارت کی ایک نگاہ مجھ پر ضرور ڈالتی۔ ہمیشہ طنزیہ انداز سے کوئی نہ کوئی جملہ ضرور کستی۔ ہمیشہ مجھے پینڈو کہہ کر ہی پکارتی۔ یہ بات میرے دل میں کھب جاتی۔ پر جس دن وہ مجھ پر حقارت کی نگاہ ڈالے بغیر گزر جاتی، مجھے ہلکی سی خلش بھی محسوس ہوتی۔ جیسے اس نے مجھے حقارت کے قابل بھی نہیں سمجھا۔
وہ مجھ سے جتنی نفرت کرتی اتنا ہی میرا دل اس کی جانب کھنچتا چلا گیا۔ میں چھپ چھپ کر اس کو دیکھنے کی کوشش کرتا۔ جب وہ گھر میں نہ ہوتی تو بیچینی سے اس کا انتظار کرتا۔ میں جان بوجھ کر اس کے سامنے آنے کی کوشش کرتا تاکہ وہ مجھے نوٹس تو کرے۔
وہ مجھ سے پانچ سال بڑی تھی لیکن مجھے اس بات کی کوئی فکر نہیں تھی۔ مجھے نہیں معلوم یہ محبت تھی کہ نہیں، پر میں نے ایسے جذبات کبھی کسی کے بارے نہیں محسوس کیے۔ وہ سامنے آتی تو میرے دل کی دھڑکن خود بخود تیز ہو جاتی۔ اس کے چہرے کو دیکھنے کے علاوہ کسی بات کا ہوش نہیں رہتا۔ اس کی بے پرواہی میرے جذبات پر پڑول چھڑک دیتی۔
وہ اپنے تمام دوستوں میں سب سے زیادہ پراؤڈی اور نخرے والی تھی۔ اسے ہر وقت توجہ کا مرکز بننا پسند تھا۔ اگر کوئی اسے توجہ نہ دیتا تو شدید ناراض ہو جاتی۔ اپنے دوستوں پر بھی یوں رعب جھاڑتی جیسے وہ اس کے ماتحت ہوں۔ یہ بات شاید اس نے چچا اور چچی سے سیکھی تھی۔ اپنی سہیلیوں کو ذلیل کر کے بہت انجوائے کرتی۔
ان سب برائیوں کے باوجود میں دن بدن اس کا دیوانہ ہوتا گیا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
ہر صبح ڈرائیور مجھے سکول چھوڑ کر آتا۔ یہ سکول شہر کے بڑے پرائیویٹ سکولوں میں سے ایک تھا۔ یہاں میرے پرانے سکول جیسے مار پیٹ اور سختیک کے کوئی آثار نہ تھے۔ سٹوڈنٹ ٹیچر سے زیادہ پاور فیل تھا۔ تقریباً سارے سٹوڈنٹس ہی بڑے گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ٹیچر اپنی نوکری اور عزت بچانے کے لیے دبے دبے سے رہتے۔ ویسے بھی ان سٹوڈنس کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کتنے نمبروں سے پاس ہوتے ہیں۔ ان کے ماں باپ نے ان کے پیدا ہوتے ہی ان کے لیے نوکریاں اور کاروبار بنا رکھے تھے۔
یہاں آ کر مجھے احساس ہوا کہ انسان کی اوقات بھی خوشبو کی طرح خاموشی سے پھیل جاتی ہے۔ آپ کو اعلان کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ آپ کا بیک گراؤنڈ آپ کے چہرے پر لکھا ہوتا ہے۔ دیکھنے والا ایک ہی نظر میں سمجھ جاتا ہے: آپ کتنے پانی میں ہیں۔
لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ میں ایک یتیم لڑکا ہوں۔ جس کی کفالت اس کا چچا کر رہا ہے۔ ان کے نزدیک میری کوئی حیثیت نہیں تھی۔ زیادہ سے زیادہ خیرات کی تعلیم سے کوئی اچھی نوکری کر لوں گا اور بس۔
سکول کے کئی سال میرا کوئی دوست نہ بن سکا۔ میں خاموشی سے جاتا اور خاموشی سے واپس آ جاتا۔ مجھے سکول میں نمبر لینے بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ بس پاسنگ مارکس لیتا۔ میں نے گاڑی پر آنا جانا بھی چھوڑ دیا اور پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنا شروع کر دی۔ ویسے بھی گاڑی پر آنے سے کونسا میری شان میں اضافہ ہوتا۔
میرے اندر کا خلا اب بڑھ گیا۔ اس کے ساتھ کڑواہٹ بھی شامل ہو گئی۔ لوگ جو نفرت اور حقارت مجھے دیتے، میرے اندر جمع ہو جاتی۔ میں سامنے سامنے مؤدب بنا رہتا۔ پر میرے دل سے لوگوں کا عزت و احترام ختم ہو گیا۔ میری کوئی حیثیت نہیں تھی۔ نہ ہی میں کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچا سکتا تھا۔ اسی لیے لوگ میرے سامنے کوئی منافقت نہ دکھاتے۔ ان کا اصل چہرہ میرے سامنے عیاں ہوتا۔ ان کی حقارت اور طنز میں کوئی منافقت نہ ہوتی۔ مجھے بھی لوگوں کے ظاہری چہروں سے زیادہ لوگوں کے اصلی چہروں میں دلچسپی تھی۔
میں سکول میں بھی لوگوں کی باتوں اور حرکتوں سے ان کی شخصیت کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا۔ میں پہچاننے کی کوشش کرتا کہ کون مسکین، چالاک، منافق، بہادر، اور لیڈر ہے۔ انھی دنوں میں مجھے نفسیات کی کتابوں میں دلچسپی ہوئی۔ میں نے انسانی شخصیت کے متعلق کئی کتابیں پڑھیں۔ مجھے کارل ینگ کی کتابیں بہت اچھی لگیں۔
میں نے اپنی سمجھ کے لیے لوگوں کی شخصیت کے بارے میں ایک تھیوری بنائی۔ اس کے مطابق ہر شخص کے اندر کسی نہ کسی ایک جانور کی خصوصیت مضبوط ہوتی ہے۔ جیسے کچھ لوگ شیروں جیسے ہوتے ہیں، کچھ گیدڑ ہوتے ہیں، کچھ الو ہوتے ہیں تو کچھ بندر۔ میری یہ تھیوری میری حد تک تو کام کر رہی تھی۔ میں اپنے خیالات میں لوگوں کو اسی پیمانے پر جج کرتا۔ اب یہ میرا بچپنا تھا یا کچھ اور آہستہ آہستہ مجھے اس میں مزا آنے لگا۔ مذاق مذاق میں شروع کیا گیا یہ کام مستقلاً میری عادت بن گیا۔ اب میں لوگوں کو ان کے اندر کے جانور سے ہی پہچانتا ہوں۔
کسی کے اندر کا جانور مجھے سمجھ نہ آئے تو کنفیوژن ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ یہی کنفیوژن مجھے تمھارے کے اند رکے جانور کے بارے میں بھی ہے۔
سوال یہ ہے: کیا مجھے اپنے اندر کے جانور کے بارے میں بھی پتا ہے؟
ہاں مجھے وقت کے ساتھ اندازہ ہونا شروع ہوا کہ میں اندر سے بھیڑیا ہوں۔ ایک اداس بھیڑیا جسے باندھ دیا گیا ہے۔ وہ بھیڑیا جس نے ابھی اپنا آپ نہیں پہچانا۔ عنبر کے اندر مجھے ایک بے رحم بلی نظر آتی۔ جو اپنی قاتل اداؤں سے شکار کرتی ہے۔ میرے چچا کے اندر ایک مردار کھانے والا گنجا گدھ تھا۔ جو ہر وقت اس انتظار میں رہتا، کوئی شکار کرے اور وہ اس کو ہڑپ کرجائیں۔
یہ آگہی کوئی روحانی یا سفلی نہیں تھی۔ کیونکہ میرا ماننا ہے کہ ایسی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ میں نے چھوٹی عمر میں ہی ادب، سائنس، فلسفہ اور تاریخ کی کتابیں پڑھنا شروع کر دیں جن کی وجہ سے میری سوچ میں وقت سے پہلے ہی پختگی آ گئی۔ میں ہر بات کو سائنسی اور لاجیکل انداز سے دیکھتا۔
مذہبی لوگوں سے میرا دل پہلے ہی اٹھ چکا تھا۔ رہی سہی کسر سائنس اور فلسفہ نے پوری کر دی۔ میں اب دنیا کو مذہبی آنکھ سی نہیں سائنسی آنکھ سے دیکھنے لگا۔ میرے اندر ہر طرح کی توہمات ختم ہو گئیں۔ اب کسی غیر مرئی چیز کا خوف محسوس نہ ہوتا۔
عنبر کا خیال میرے حواس پر دھیرے دھیرے یوں چھایا کہ میں خود کو بے بس محسوس کرنے لگا۔ اس کا چہرہ، اس کی خوشبو اور اس کی آواز ہی میری بیچینی کا علاج بن گئی۔ میں چاہتا کہ اس کے بارے میں نہ سوچوں۔ پر خود پر قابو نہ رہتا۔
وہ تو میرے وجود کو کسی ذرے سے زیادہ اہمیت نہ دیتی۔ اپنے نام نہاد دوستوں کی محفل سجا کر بیٹھی رہتی۔ میں اس کے کمرے کے باہر سے اس کی آواز سن کر تھوڑی تسلی محسوس کرتا۔ کبھی کبھی میں چھپ چھپ کر اس کے کمرے میں جھانکتا کہ وہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ انھیں سگریٹ پینے فلمیں دیکھنے، وڈیو گیمز کھیلنے اور باتیں کرتے سے فرصت ہی نہ ملتی۔ ان ساری محفلوں کی جان عنبر ہی ہوتی۔ اس کی پسند اور رائے حتمی ہوتی جس پر بحث نہ ہوپاتی۔ اگر کوئی بحث کرتا بھی تو وہ اتنی چالاکی سے اپنی بات منوالیتی کہ ماننے والا بھی حیران پریشان رہ جاتا۔
عنبر ایک بلی کی طرح ہر نئی چیز سے دلچسپی لیتی، پھر بہت جلد اس سے بور ہو جاتی، اسے خوش رہنے کے لیے ہر وقت کوئی نہ کوئی نئی سرگرمی چاہیے ہوتی۔ اس کی طبیعت کی بے چینی اس سے ایسی ایسی چیزوں کی خریداری کروا تی جو اس کے کسی کام کی نہ ہوتیں۔ وہ انھیں کچھ دن کے بعد کوڑ کباڑ میں پھینک دیتی۔ اس کے پاس الماریوں کے حساب سے کپڑے، جوتے، میک اپ اور دوسری الا بلا چیزیں پڑی تھیں۔ ایک سوٹ وہ پہن لیتی تو دوسری بار اس کی باری پورا سال نہ آتی۔ پھر بھی وہ ہر وقت میچنگ کپڑوں، بیگز اور جوتوں کی کمی کا رونا روتی۔ اس کی مما اور پاپا اسے پیسوں کے معاملے میں کبھی نہ ٹوکتے۔ ان کے پاس بھی تو پیسہ بوریوں میں بھر کر آتا تھا۔
چچا کی شادی کو پندرہ سال سے زیادہ ہو گیا لیکن ان کی کوئی اولاد نہ ہوئی، کئی ڈاکٹروں کو دکھایا۔ پھر بھی مسئلہ کی نشاندہی نہ ہو سکی۔ چچا کا رویہ عنبر کے ساتھ کہیں سے بھی سوتیلوں جیسا نہ تھا۔ وہ اس کی ہر خواہش کی تکمیل کرتے ہوئے کبھی ماتھے پر شکن نہ لاتے۔ شاید وہ اسے ہی اپنی اولاد سمجھنا شروع ہو گئے تھے۔ شاید انھیں کبھی افسوس ہوتا ہو کہ ان کی نسل کبھی آگے نہ بڑھ سکے گی۔ مجھے کبھی کبھی لگتا کہ میری کفالت کی ذمہ داری چچا نے اس لیے بھی لی تھی کہ میں دادا کا اکلوتا پوتا ہوں۔ اگر وہ ایک سوتیلی بیٹی کی پرورش کر سکتے ہیں تو اپنے سگے بھتیجے کی کیوں نہیں؟ جب کبھی ان کا موڈ اچھا ہوتا تو خود کلامی کے سے انداز میں باتیں کرتے۔ مجھے زندگی کی تلخیوں کے بارے میں بتاتے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جیل کی دنیا بھی نرالی ہے۔ یہاں بھی انسان اپنے اوپر کا خول اتار دیتا ہے۔ قید ہونے والے انسانوں کے درجے سے نیچے چلے جاتے ہیں اور قید کرنے والے انسانوں کے درجے سے اوپر۔ باہر کے ماحول کی سب پہچانیں ختم ہو جاتی ہیں۔ یہاں آ کر معلوم ہوا کہ چچا سارا وقت جیل میں کیوں بتاتے ہیں۔ جیل میں وہ ایک ناخدا ہوتے جو لوگوں کی تقدیر کا فیصلہ کرتا ہے۔ ان کے گناہوں کی سزا انھیں دیتے، ان کی التجائیں سن کر انھیں معاف کر دیتے۔ جس کا جرم ناقابل معافی ہوتا اسے پھانسی چڑھا دیتے۔ چچا نے پتا نہیں کیا سوچ کر مجھے ہر چھٹی کے دن اپنے ساتھ جیل لے جانا شروع کر دیا۔ انھیں کسی اجازت کی ضرورت نہیں تھی۔ میں سارا دن جیل میں بتاتا۔ میں بھی خود کو ایک قیدی محسوس کرنے لگتا جو ایک چھوٹی قید سے نکل کر ایک بڑی قید میں آ گیا ہے۔
“یہ دنیا بھی تو ایک جیل ہے اور زندگی ایک سزا”
قیدیوں کو جب ٹارچر کیا جاتا تو ٹارچر کرنے والا اتنے سکون سے مار رہا ہوتا جیسے کسی انسان کو نہیں کسی پتھر کو مارہا ہے۔ قیدیوں کی چیخیں دل دہلا دیتیں، پر ٹارچر کرنے والوں پر کوئی اثر نہ ہوتا۔ لوگوں کی ہڈیاں ٹوٹ جاتیں، وہ بیہوش ہو جاتے، کئی تو مر بھی جاتے۔ کسی کے ماتھے پر شکن نہ آتی اور روٹین کا کام کہہ کر سائیڈ پر کر دیا جاتا۔ ٹارچر کرنے والا بڑے اطمینان سے اپنے گھر جاتا جیسے وہ کسی انسان کو نہیں کسی چیونٹی کو مار کر گھر جا رہا ہے۔
یہاں آ کر حقیقی معنوں میں معلوم ہوا انسان کتنا بے وقعت ہے۔ اس کی خوشی، اس کا غم اور اس کی تکلیف کتنی بے معنی سے ہے۔ یہ صرف ہماری خوش فہمی ہے کہ انسان کی کوئی حیثیت ہے۔
جس دن کسی کو پھانسی دینا ہوتی۔ چچا مجھے رات کو بھی روک لیتے۔ کچھ قیدی بہت اطمینان سے پھانسی گھاٹ پر آتے اور خاموشی سے جان دیتے۔ اکثر قیدیوں کا خوف سے برا حال ہو جاتا۔ ان کے بال سفید ہو جاتے، صحت بالکل ڈاؤن ہو جاتی، وہ گڑگڑاتے اور التجائیں کرتے آتے، کئی بیہوش ہو جاتے اور انھیں اسی حالت میں پھانسی دینا پڑتی۔ اگر جان جلدی نہ نکلتی تو نیچے سے ٹانگیں کھینچی جاتیں سب کے جسم کچھ دیر تڑپتے اور پھر ساکن ہو جاتے۔
یہاں بھی انسان رائیگاں ہی نظر آیا۔ ایک دن میں بھی تو ایسے ہی مارا جاؤں گا پھر کیا ہو گا؟
اس چیز کا کیا معنی ہے کہ میں زندگی میں کیا کرتا ہوں۔ جبکہ میں نے اتفاق سے مر جانا ہے۔
قیدیوں پر تشدد دیکھ کر مجھے مدرسہ کے بچے یاد آتے۔ اپنے اوپر ہونے والا تشدد یاد آتا۔ یہ گھروں، مدرسوں، اور جیلوں میں تشدد کیوں ہے۔ شاید اکثر انسان کسی نہ کسی صورت میں تشدد کو انجوائے کرتے ہیں۔ گھر میں عنبر کو بھی اپنی پالتو بلیوں پر تشدد کر کے مزہ آتا۔ وہ مہنگی سے مہنگی بلی خریدتی اسے کچھ دن بہت لاڈ پیار سے رکھتی جب اس کا دل اکتا جاتا تو اسے قید میں ڈال دیتی۔ انھیں بھوکا رکھتی، چھڑیوں سے مارتی اور بلیوں کی بے بسی دیکھ کر خوش ہوتی۔ مجھے یہ بہت برا لگتا اور میں نے ایک دو بار اسے منع کرنے کی کوشش کی تو الٹا میری شامت آ گئی کہ میری اوقات کیا ہے ایسی بات کرنے کی۔
وہ صرف جانوروں پر ہی نہیں، انسانوں پر بھی ایسا ہی تشدد کر دیتی۔ کئی بار اس نے اپنی سہیلیوں کے منہ ناخن سے نوچ لیے۔ کئی لڑکوں پر وزنی چیزیں اٹھا کر پھینکیں۔ لوگوں کی تکلیف دیکھ کر اس کے چہرے پر عجیب سی لذت نظر آتی جس کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہوتا۔
ایک بار میں اس کے کمرے کے پاس سے گزرا، دروازہ ہلکا سے کھلا ہونے کی وجہ سے اندر کا منظر دکھائی دیا۔
میں چونک گیا!
اندر بیڈ پر ایک لڑکا الٹا لیٹا تھا۔ اس کے ہاتھ پیر بیڈ کے کونوں سے بندھے تھے۔ اس کا منہ کپڑا ڈال کر بند کیا گیا تھا۔ بیڈ کے ساتھ عنبر ہاتھ میں چمڑے کا کوڑا لیے اس لڑکے کو مار رہی تھی۔ اس کے مارنے میں اتنی شدت تھی کہ اس لڑکے کی کمر پر نشان بن جاتے۔ وہ لڑکا چیخنے چلانے اور چھڑوانے کی کوشش کرتا۔
اس کیبے بسی دیکھ کر عنبر ہنس دیتی جیسے اس منظر کو خوب انجوائے کر رہی ہو۔
مجھے تو سمجھ ہی نہ آئی کہ یہ سب کیا، اور کیوں ہو رہا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد عنبر نے اس لڑکے کو کھول دیا اور وہ روتا ہوا اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اور پتا نہیں کس جرم کی معافی مانگنے لگا۔ عنبر نے بھی سخاوت دکھاتے ہوئے اسے معاف کر دیا۔
کافی دنوں تک میں اس واقعہ کے بارے میں سوچتا رہا۔ نہ جانے کیوں مجھے عنبر کا یہ روپ بھی اچھا لگنے لگا۔
ایک دن خواب میں دیکھا، وہ مجھے بھی باندھ کر مار رہی ہے۔ لیکن مجھے تکلیف کے بجائے سکون مل رہا ہے۔ ساتھ ساتھ وہ میری بے عزتی بھی کر رہی ہے۔ وہ جتنا میری بے عزتی کرتی اور مارتی مجھے مزید سکون ملتا۔
مجھے اس بات کی سمجھ نہ آئی۔ میں خواب سے بیدار ہونے پر حیران پریشان بیٹھا رہا۔ کہیں یہ میرے ذہن کا ڈرامہ تو نہیں۔
مجھ اس بات میں کوئی شبہ نہ رہا کہ مجھے عنبر سے شدید محبت ہو گئی ہے۔ پہلی محبت ویسے بھی شدید ہوتی ہے۔ میں کسی نہ کسی طرح اسے دیکھنا اور اس کے پاس رہنا چاہتا تھا۔ مجھے ہر لڑکی میں اسی کا چہرہ نظر آتا۔ میں اپنی محبت کے اظہار کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا: یوں لوگوں پر تشدد کرنا عنبر کی ہابی ہے۔ وہ لوگوں سے شرطین لگاتی اور ہارنے کی صورت میں انھیں باندھ کر مارتی ہے۔ اپنی اس تشدد پسند فطرت میں وہ اپنے ماں کے بجائے اپنے سوتیلے باپ پر گئی تھی۔ چچا کو بھی قیدیوں کو یوں سسکتا دیکھنا اچھا لگتا۔ دونوں کو ہی شدید نفسیاتی مسائل تھے۔
قسمت کی ستم ظریفی کہ عنبر کی بلی جیسی فطرت کو بوریت میں کچھ خیال آیا اور وہ بغیر بتائے میرے کمرے میں گھس آئی۔ وہاں وہ پتا نہیں کیا کیا دیکھتی رہی۔ اسی دوران اسے سرہانے کے نیچے سے میری ڈائری بھی مل گئی جس میں میں کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا۔ یہ ڈائری ایک خود کلامی تھی۔
عنبر کے ہاتھ تو جیسے خزانہ لگ گیا۔ اس نے ساری ڈائری پڑھ ڈالی۔ میں شام کو اپنے کمرے میں آیا، تو اسے وہاں بیٹھا دیکھ کر ٹھٹک گیا۔ اتنے سالوں میں وہ کبھی میرے کمرے میں نہیں آئی۔
وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
یوں اچانک اس کا آنا اور میرے ہی بیڈ پر بیٹھ کر میری ڈائری پڑھنا مجھے خواب سا لگا۔
اس کے چہرے ہر ایک شیطانی مسکراہٹ ابھری۔ جیسے کوئی بلی چوہے کو اپنے جال میں پھنستا دیکھتی ہے۔ میں نے اسے کہنا چاہا کہ وہ میرے کمرے میں کیا کر رہی ہے۔ اس نے بغیر اجازت میری ڈائری کیوں پڑھ رہی ہے؟لیکن الفاظ میرے میرے گلے میں پھنس گئے۔
میں اس سیچوئیشن میں بھی چاہتا تھا، وہ کچھ دیر مزید میرے کمرے میں رہے۔ وہ وہ بڑی ادا سے چلتی ہوئی میرے قریب آئی اور میرا طواف کرنے لگی۔ اس کی آنکھوں میں مستقبل میں ہونے والے واقعات کا خاکہ تھا۔
تو پینڈو! تم دل ہی دل میں مجھ سے محبت کرتے ہو۔ مجھے چھپ چھپ کر دیکھنے میں تمھیں مزہ آتا ہے۔ اس کی آواز میں ہلکا یلکا سرور محسوس ہوا۔
مجھے شدید شرمندگی ہونا شروع ہوئی۔ جیسے مجھے کوئی جرم کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہو۔
میں تمھیں ایک ایرانی بلی کی طرح لگتی ہوں، دیٹس انٹرسٹنگ۔
میں جتنا ظلم کرتی ہوں اتنا ہی تمھارے دل میں میری طلب بڑھتی ہے۔ واؤ
تم خواب میں مجھے تشدد کرتا دیکھ کر سکون محسوس کرتے ہو۔ آہ ہا
وہ راز کھولتی گئی اور میں زمین میں دھنستا چلا گیا۔
تم پینڈو لوگ بھی کیسی کیسی تمنائیں پالتے ہو۔
آؤ میں پاپا کو بتاتی ہوں کہ آپ نے تو گھر میں سانپ پالا ہوا ہے جو آپ کو ہی ڈسنے کا سوچتا ہے۔ اس نے تھوڑے ڈرامائی انداز میں کہا۔
وہ صورتحال ہی ایسی تھی، میں ڈر گیا۔ ڈر اس بات کا نہیں تھا کہ چچا مجھے ماریں گے۔ ڈر صرف اس بات کا تھا کہ وہ گھر سے نکال دیں گے۔۔
میں فوراً اس کے پیر پڑ گیا کہ وہ ایسا نہ کرے۔ چچا مجھے جان سے ہی مار ڈالیں گے۔ میں نے ڈائری میں یہ سب باتیں صرف لکھی ہیں انھیں کبھی کیا تو نہیں ہے۔
تم جو کہوں گی میں کروں گا۔
اس نے چہرے ہر ایک شیطانی مسکراہٹ آئی جیسے اس کا منصوبہ کامیاب ہو گیا۔
ویسے دل تو نہیں کرتا، تم جیسے پینڈو کو گھر سے نکالنے کا اتنا سنہری موقع ہاتھ سے کھودوں۔
پر اب تم اتنی منت کر رہے ہو تو کچھ رحم کرنا ہی پڑے گا۔
آج سے تم چپ چاپ وہ کرو گے جو میں تم سے کہوں گی۔ اگر تم نے کوئی چالاکی دکھانے کی کوشش کی تو وہ اس گھر میں تمھارا آخری دن ہو گا۔ یہ کہہ کر وہ ڈائری ہاتھ میں لے کر کمرے سے جانے لگی۔
مجھے لگا میں کسی شکنجے میں پھنس گیا ہوں۔ میں اس دن کو کوسنے لگا جس دن میں نے ڈائری لکھنا شروع کی۔ کم از کم ڈائری تو چھپا کر رکھنی چاہیے تھی۔ مگر میرے تو فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی، کہ عنبر یوں میرے کمرے میں آدھمکے گی۔
میں مستقبل کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان ہونے لگا۔ دل میں یہ بھی خیال آتا، چلو اسی بہانے اس کے قریب رہنے، اسے دیکھنے، اس کی خوشبو محسوس کرنے، اور اس کی آواز سننے کا تو موقع ملے گا۔
اس کی محبت نہ سہی اس کا ستم تو ہو گا۔ محبت کی لاجک بھی عجیب ہے، یہاں ستم بھی کرم کی طرح محسوس ہوتا ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
چمڑے کا کوڑا جیسے ہی میری کمر پر پڑتادرد کی ایک شدید لہر اٹھتی۔ اس کی شدت کافی دیر تک رہتی، پہلے ایک دو کوڑوں تک تو میں نے تکلیف برداشت کرنے کی کوشش کی۔ پھر میری برداشت جواب دے گئی۔ میں نے چیخنا چاہا لیکن منہ میں کپڑا ٹھنسا ہوا ہونے کی وجہ سے میری آواز منہ میں ہی گھٹ کر رہ گئی۔ درد تھا کہ کم ہی نہ ہوتا۔ میری آنکھوں کے سامنے بچوں اور قیدیوں پر تشدد کے سارے واقعات گھومنے لگے۔
وہ کیا محسوس کرتے ہوں گے مجھے بھی محسوس ہونے لگا۔ بے بسی کی وہ شدت پہلے کبھی محسوس نہ ہوئی۔ حد یہ کہ اس ظلم کی کہیں التجا بھی نہ کر سکتا۔
عنبر کو اپنی من پسند ہابی کے لیے ایک غلام مل گیا جسے مارنے کے لیے اسے کسی اجازت کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ عمل اس کا کیتھارسس بن گیا۔ اس کی ٹینشنز کا علاج۔ وہ مجھے مارتے ہوئے عجیب سی لذت محسوس کرتی۔ ساتھ ساتھ میری تذلیل بھی کرتی۔ وہ چاہتی کہ میں اس سے معافی مانگوں، اپنا سر اس کے قدموں میں رکھ دوں۔
میری انا کے لیے یہ امتحان بہت کٹھن تھا۔ مجھے معلام ہوا: فینٹسی اور حقیقت میں کتنا فرق ہے۔ میں اس کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہتا تھا۔ پر تکلیف انسان سے وہ بھی کروا لیتی ہے جس کا وہ سوچتا بھی نہیں ہے۔ ہر تشدد کے بعد ایک ہفتہ جلد ہر جلن ہوتی رہتی۔ وہ بھی اتنی ایکسپرٹ تھی کہ صرف اتنا ہی مارتی کہ تکلیف ہو مگر زخم نہ ہو۔
اس ساری تکلیف کے باوجود اس کا قرب قیامت سا لگتا۔ اس کی آنکھوں کا غصہ دیکھنے، اس کے حقارت بھرے جملے سننے کا بہت لطف آتا۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس کے خوبصورت ہاتھوں سے دی گئی تکلیف بھی مجھے اچھی لگتی تو غلط نہ ہو گا۔ ہر چوٹ پر اس کی محبت کی شدت بڑھتی جاتی۔ سنا تھا کہ اردو شاعری کا محبوب بہت ظالم ہستی ہوتا ہے جو بیچارے عاشق کو اپنی نظروں کے تیروں سے گھائل کرتا ہے، اسے اپنی زلفوں کے پھندوں میں پھنسا کر رکھتا ہے اس کا دل اپنے قبضے میں کر کے بھول جاتا ہے۔ محبوب کے ستم سے جان جاتی ہے لیکن یہی ستم ہی زندگی بن جاتا ہے۔
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
وہ جانتی تھی، میں اس پہ دل و جان سے فدا ہوں۔ اسی لیے وہ مجھے تڑپانے میں بھی مزہ لیتی۔ اپنے کسی بوائے فرینڈ کو بلاتی اور مجھ دکھا دکھا کر اس سے محبت کی باتیں کرتی۔ میرے دل پہ چھریاں چلتیں۔ میں چاہ کر بھی کچھ نہ کر پاتا۔ کبھی کبھی وہ مجھے اپنا چہرہ نہ دکھاتی۔ نہ ہی اپنی آواز سننے دیتی۔ میں التجائیں کرتا کہ پلیز اپنا چہرہ تو نہ چھپاؤ۔
مجھے ایسی پیاس محسوس ہوتی جیسے میں کسی صحرا میں ہوں۔ یہ سوچ میری بے بسی میں اضافہ کرتی کہ میں اسے کبھی حاصل نہیں کرپاؤں گا۔
پھر عنبر کی زندگی میں بھی بھونچال آ گیا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
یونیورسٹی کے چاروں سال عنبر لوگوں کے دلوں سے کھیلتی رہی۔ وہ لوگوں کو اپنے حسن سے ایسا گھائل کرتی کہ بیچارے اس کے بے دام غلام بن جاتے۔ وہ ان کے ارمانوں پر نمک چھڑکتی اور وہ تڑپتے رہتے۔ کئی لوگ تو نفسیاتی مریض بن گئے۔ مگر اس کے دل پر کبھی رحم نہ آیا۔ اس کے نزدیک یہ پیار محبت صرف ڈرامہ ہے۔ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اس کے سامنے اس کی ماں کی مثال موجود تھی جس نے یونیورسٹی میں اپنے کلاس فیلو سے سے ٹوٹ کر پیار کیا۔ ان کا پیار چار سال چلتا رہا۔ وہ لڑکا ایک لوئر مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھتا تھا، ٹیویشنز پڑھا کر اپنی فیس پوری کرتا۔ شکل و صورت اور باتیں بنانے میں اچھا تھا۔ کچھ مہینوں میں عشق کی آگ دونوں طرف لگ گئی۔ اس کی ماں نے اس لڑ کے پر پیسے لٹانا شروع کیے، حد یہ کہ لڑکے کی اکیسویں سالگرہ پر اسے اکیس گفٹ دیے۔
جب شادی کی باری آئی تو دونوں گھر والے صاف مکر گئے۔ دونوں نے بھاگ کر شادی کر لی۔ ایک ہی سال میں عشق بھاپ کی طرح اڑ گیا اور زندگی کی حقیقتیں منہ پھاڑے سامنے آ گئیں۔
ہم جتنا لوگوں کو جان جاتے ہیں ان کی کشش ختم ہوتی جاتی ہے۔
ہم نے جانا تو ہم نے یہ جانا
جو نہیں ہے وہ خوبصورت ہے
اس کی ماں اس عشق کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی قرار دیتی۔ وہ کہتی، اس بدنامی کا داغ آج تک میری اور میرے خاندان کی زندگی سے نہیں نکل سکا۔ میرے والدین میری شادی ایک بہت بڑے بزنس ٹائیکون کے بیٹے سے کروا نا چاہتے تھے۔ میں نے خود اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری۔ آج وہ بزنس ٹائیکون منسٹر ہے، سارا شہر اس کی بیوی کی عزت کرتا ہے۔ میں جتنا بھی پیسہ خرچ کر لوں، وہ عزت اور مرتبہ نہیں مل سکتا۔
اسی لیے میری بیٹی تمھارے لیے میں کوئی بہت ہی اچھے خاندان کا لڑکا ڈھونڈوں گی۔ تم اپنی دل لگی کے لیے جہاں مرضی محبت کرو۔ شادی تم نے میری مرضی سے کرنی ہے۔ یہ مردوں کی میٹھی میٹھی باتیں صرف وقتی دھوکہ ہوتی ہیں۔ ہمیشہ ان کی میٹھی باتوں کے پیچھے ان کی اصل حیثیت دیکھا کرو۔
بچپن سے ہی ماں کی یہ باتیں سن سن کر اس کے ذہن میں محبت اور مردوں کے خلاف عجیب سی نفرت پیدا ہو گئی۔ وہ محبت کا ڈرامہ کر کے ان کو تڑپاتی، انھیں ترساتی۔ پر اپنا دل کسی کو نہ دیتی۔ اسے کبھی ایسا کوئی ملا ہی نہیں جس کو دیکھ کر اس کے دل کے تار ہل گئے ہوں۔ حالانکہ اس کے اردو گرد سب لوگ بہت ہی اچھے گھرانوں کے تھے۔ جن کے ساتھ شادی کرنے پر اس کی ماں باپ کو کوئی اعتراض نہ ہوتا۔
بچپن کے پانچ سال اس نے باپ کی شفقت کے بغیر ہی گزارے، وہ اپنی سہیلیوں کے باپوں کو دیکھ کر اپنی ماں سے باپ کے بارے میں سوال کرتی۔ اس کی ماں یہ کہہ کر اسے خاموش کروا دیتی کہ اس کا باپ مرچکا ہے۔ اگرچہ اس کا باپ کئی بار بیٹی کو ملنے آیا لیکن اس کی ماں نے ملنے نہ دیا۔ علیحدگی سے پہلے حالات اس نہج پر پہنچ گئے تھے کہ اس کی ماں نے اپنے شوہر پر تشدد کے ذریعے بیوی اور ہونے والی بچی کو قتل کرنے کا الزام لگایا۔ اس کے پاس جان بچانے کی صرف ایک ہی شرط رکھی گئی کہ طلاق دے دے۔ عنبر جب بڑی ہوئی تو اسے گھر کے ملازمین سے اپنے باپ کا پتا چلا۔ اس وقت تو اس نے کچھ نہ کیا لیکن یونیورسٹی کے دوران وہ ایک بار وہ اپنے باپ سے ملنے گئی۔
اس کا باپ کافی عرصہ بے روزگار رہنے کے بعد کسی سرکاری محکمے میں کلرک بھرتی ہو گیا تھا۔ ا س نے اپنے خاندان کی ایک بیوہ لڑکی سے شادی کر لی۔ جس سے چار لڑکے اور دو لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ عنبر اپنے اندر کی خواہش کو نہ سمجھ سکی کہ وہ اپنے باپ سے کیوں ملنا چاہتی ہے۔
” ہماری اکثر خواہشیں ایسی ہی ہوتی ہیں جن کی کوئی وجہ نہیں ہوتی”
وہ اپنی گاڑی میں اس پرانے علاقے میں پہنچی تو اسے ہر طرف بوسیدگی اور شکست و ریخت نظر آئی۔ ہر چیز پرانی اور ٹوٹی پھوٹی تھی۔ وہ پوچھتی پچھاتی ایک پرانے سے مکان میں پہنچی۔ اندر چھوٹے سے مکان کی سیلن زدہ آب و ہوا نے اس کا استقبال کیا۔ اسے دیکھنے کے لیے پورا گھر امنڈ آیا۔ سب کی نظروں میں احساس کمتری تھی۔ اپنے باپ کو دیکھ کر تو وہ حیران رہ گئی۔ اس کی عمر پینتالیس کے لگ بھگ ہو گی، دیکھنے میں وہ ساٹھ سے زیادہ لگتا۔ کمزور سی صحت، سستی سی شلوار قمیض، سر پر ٹوپی اور پیروں میں پلاسٹک کی چپل۔ اس کے کپڑوں سے پسینے کی بو آ رہی تھی۔ وہ حیران ہوئی کہ اس شخص میں ایسی کیا بات تھی جس کی وجہ سے اس کی ماں اس کے عشق میں پاگل ہو گئی تھی۔
جب اس نے اپنا تعارف کروا یا تو اس کے باپ کے چہرے پر ہلکی سی خوشی نظر آئی پھر وہ بھی غائب ہو گئی۔ جیسے چھ بچوں کے بعد اسے ایک اور لڑکی کا وجود بوجھ محسوس ہوا ہو۔ اس نے دوتین گھنٹے وہاں گزارے اور اس کمرے کو بھی دیکھا جہاں اس کی پیدائش ہوئی تھی۔ اس کے باپ کی بیوی کی آنکھوں میں تھوڑی سی جلن تھی۔ شاید وہ سوچنے لگی کہ اپنے بچوں کو چھوڑ کر اس کا شوہر کہیں اپنی پہلی بیٹی کے پاس ہی نہ چلا جائے۔
عنبر اس گھر میں نہ جانے کیا ڈھونڈنے گئی تھی؟اسے وہ چیز وہاں نہیں ملی۔ اس کی ماں کا فیصلہ ٹھیک تھا۔ ورنہ وہ بھی اسی گھر میں پڑی سسک رہی ہوتی۔ وہ دوبارہ کبھی اس گھر میں نہیں گئی۔ اس کے باپ نے تین چار بار کال کر کے حال احوال پوچھنے کی کوشش کی۔ پر اس نے فون نہ اٹھایا۔
یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد عنبر کچھ مہینے گھر میں رہ کر بور ہو گئی۔ اس کی ساری فرینڈز اپنی اپنی لائف میں بزی ہو گئیں۔ تبھی اس نے سوچا، اسے بھی ٹائم پاس کے لیے جاب کرنی چاہیے۔
اس نے اس بات کا ذکر اپنی مما سے کیا۔ انھوں نے اسے ایک ابھرتی ہوئی ڈیری پروڈکٹس کی کمپنی میں پی آر آفیسر لگوادیا گیا۔ اسے یہ جاب دینے کی وجہ یہی تھی، کہ وہ اپنے فیملی لنکس استعمال کرتے ہوئے کمپنی کے لیے نئے کلائنٹس لائے۔ شروع میں تو سارا دن آفس کی پابندی کا سوچ کر ہی اس کا دم گھٹنے لگا۔ جلد اسے معلوم ہوا، اس پر آفس میں آنے کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ اس کا تو کام ہی پارٹیاں اٹینڈ کرنا، گالف کھیلنا، اور گھومنا پھرنا ہے۔ اسے یہ کام مزے کا لگا۔ نئے نئے لوگوں سے ملو اورصرف لنکس بناؤ۔
یہیں وہ کمپنی کے سی ای او بابر ہمدانی سے قریب ہو گئی۔
بابر ہمدانی نے لندن سکول آف اکنومکس سے ایم بی اے کیا۔ دو تین سال ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں تجربہ لینے کے بعد پاکستان میں اپنی کمپنی کھول لی۔ پانچ سالوں میں اس کی کمپنی کافی کامیاب ہو گئی۔ بابر ہمدانی کا خواب ڈیری پراڈکٹس میں لیڈنگ کمپنی بننا ہے۔ اس کی عمر ابھی تیس کے قریب بھی نہیں ہوئی اور اس کی خود کی کمپنی کی ویلیو اربوں میں چلی گئی۔ اس کی خوبصورتی اور ہینڈسمنس دیکھ کر لوگ کچھ دیر کے لیے رک جاتے۔ اس کی آواز میں ہمیشہ ایک تازگی اور زندگی کا احساس ہوتا۔
وہ ہر وقت فنی بات کر کے کسی کو بور نہ ہونے دیتا۔ عنبر اسے دیکھ کر حیران ہوئی۔ اس جیسے لا پرواہ نظر آنے والے بندے نے اتنی کامیاب کمپنی کیسے کھڑی کر لی۔
بابر ہمدانی صرف دیکھنے میں ہی لاپرواہ تھا۔ اس کا ذہن ہر وقت بزنس کے بارے میں ہی سوچ رہا ہوتا۔ اس کا یہ بہروپ اپنے اوپر سے توجہ ہٹانے کے لیے تھا۔ عنبر جتنا اس کے ساتھ میٹنگز میں جاتی گئی اس پر بابر کی شخصیت کھلتی گئی۔ بابر وہ واحد شخص تھا جس نے ایک لمحے کے لیے بھی اسے اہمیت نہ دی۔ اس کا رویہ انتہائی پروفیشنل ہوتا۔ اس نے کبھی کسی امپلائی میں ڈسکریمینیٹ نہیں کیا۔ خصوصاً اس نے کبھی لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیاں فرق نہیں رکھا۔ انھوں نے اکٹھے کئی میٹنگز میں کھانا کھایا لیکن بابر ہمدانی اسے ہمیشہ ایک ایمپلائی کی حیثیت ہی دیتا۔ شاید یہ ایتھکس اس نے باہر رہ کر سیکھے تھے۔
عنبر کو اس بے پرواہی سے چڑ ہونے لگی۔ وہ باقی لوگوں کی طرح ضرورت مند نہیں۔ ایک بہت اچھے گھرانے سے ہے۔ اسی لیے بابر ہمدانی کو اس کے ساتھ مختلف رویہ رکھنا چاہیے۔ باقی لوگوں کو تو وہ یہ بات جتاتی رہتی جو اس سے دبے دبے رہتے۔ خود بابر ہمدانی کے سامنے وہ کچھ نہ کہہ پاتی۔ اس کی شخصیت میں ایک کرشمہ تھا جو لوگوں کو متاثر کرتا۔ یہ جادو عنبر پر بھی چل گیا۔
آج تک باقی لوگوں نے ہی عنبر کا دل جیتنے کی کوشش کی۔ اسے خود کبھی ایسا کرنا ہی نہ پڑا۔ ہر لڑکے کا دل خود اس کے قدموں میں آ جاتا، جسے کچل کر وہ پھینک دیتی۔ پہلی بار اسے کسی بے پرواہ سے پالا پڑا تواحساس ہوا، اس کے عاشقوں پر کیا بیتتی رہی۔
وہ ہر روز گھنٹوں تیار ہونے کے بعد آفس جاتی، پر مجال ہے سوائے لاپرواہی کے کچھ نصیب ہوتا۔ اسے شدید غصہ آتا، ساتھ ساتھ بے بسی محسوس ہوتی۔ اس نے اپنے سارے لنکس استعمال کر کے بہت سے کام کے کلائنٹس ڈھونڈے، مگر سوائے پروفیشنل شاباش کے کچھ نہ ملا۔
اگر ذرا سا بھی اشارہ ملتا تو وہ خود بات کو آگے بڑھاتی۔ ہر روز غصے میں آفس سے واپس آتی۔ جو سامنے آتا اس کی بے عزتی کرنا شروع کر دیتی۔ ایک بار میرے پوچھنے پر اس نے میر امنہ ہی نوچ لیا۔
اس کو شک ہوا، شاید بابر ہمدانی کی کوئی گرل فرینڈ ہو۔ مگر کتنے مہینوں سے وہ دیکھ رہی تھی کہ بابر ہمدانی صبح سے لے کر آدھی رات تک کمپنی کے کاموں میں ہی مصروف رہتا ہے۔ کبھی کبھی تو آفس میں ہی سوجاتا۔ اس نے کبھی کسی گرل فرینڈ کو دفتر آتے یا اس کا فون آتے نہیں دیکھا۔ فیمیل ایمپلائیز اور کلائنٹس سے بھی اس نے کبھی فلرٹ کرنے کی کوشش نہیں کی۔
کہیں یہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو نہیں۔
نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔
لیکن وہ باہر رہا ہے، وہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
اس مفروضے کا بھی کوئی ثبوت نہ ملا۔
دن بدن اس کی بیچینی بڑھتی گئی۔ اس کے سب شوق چھٹ گئے۔ بس بابر ہمدانی کی توجہ حاصل کرنا اس کا مقصد بن گیا۔ کہاں لوگوں کو دبانے والی اب خود دبی دبی رہتی۔ بابر ہمدانی کی ایک ایک بے پرواہی اس کے دل پر کوڑے چلاتی اور وہ درد سے تڑپ اٹھتی۔
اللہ !کوئی اتنا بھی ظالم نہ ہو۔
ایک دن تو حد ہی ہو گئی۔ عنبر کی برتھ ڈے ہمیشہ سے ایک اہم ایونٹ ہوتا جس میں گرینڈ پارٹی ہوتی اور ساری فرینڈز آتیں۔ اس نے بابر ہمدانی کو بھی بلایا، اس نے سنی ان سنی کر دی۔ برتھ ڈے پر وہ توقع کرتی رہی کہ بابر ہمدانی پارٹی میں شامل ہو گا، اور اسے کوئی سرپرائز گفٹ دے گا۔ حیرت انگیز طور پر کچھ نہ بھولنے والا شخص اس کی برتھ ڈے بھول گیا۔ وہ پارٹی میں بھی نہیں آیا۔ وہ آخری دم تک یہی سمجھتی رہی، شاید بابر ہمدانی اسے سرپرائز کرنے کے لیے ایسا کر رہا ہے۔
اس رات کئی سالوں بعد وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی۔ اس نے اپنے سارے گفٹ ضائع کر دیے۔ برتھ ڈے کی ساری چیزیں اس کا مذاق اڑانے لگیں۔ ایک شدید غم اس کے دل پر چھا گیا۔
آخر وہ میری طرف توجہ کیوں نہیں کرتا۔
مجھ میں کیا کمی ہے؟
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کچھ دن وہ بنا بتائے چھٹی کر کے بیٹھ گئی۔ پھر بھی اس سنگ دل نے خود فون تک نہ کیا، بلکہ ایچ آر سے خیریت پوچھنے کا فون کروا یا۔
اس کا دل چاہا کہ نوکری چھوڑ کر گھر بیٹھ جائے۔ لیکن یہ بھی اس کے اختیار میں نہ رہا۔ بابر ہمدانی کو بغیر دیکھے اس کے دل کو بھی چین نہ پڑتا۔ مجبوراً وہ آفس چلی گئی۔ اگلے کچھ دن اس نے اپنی طرف سے روکھا روکھا رویہ رکھا، کوئی فرق نہ پڑا۔
بابر ہمدانی کا رویہ بالکل نارمل رہا۔
ایک شام کلائنٹ نے میٹنگ کینسل کر دی تو وہ اکیلے ہی گالف کلب میں بیٹھے رہے۔ بابر ہمدانی میٹنگ کینسل ہونے کے باوجود ریلیکس موڈ میں تھا۔ اس نے عنبر سے پرسنل باتیں پوچھنا شروع کر دیں جو اس نے پہلے کبھی نہیں پوچھیں۔ جیسے وہ وکیشنز کے لیے کہاں جاتی ہے؟ اسے کون سی موویزاچھی لگتی ہیں۔ پہلے پہلے تو اس نے سوچا کہ ایک کورا سا جواب دے دے۔
آج پہلی بار اس نے مجھ میں دلچسپی دکھائی ہے کیسے منع کر دوں۔ وہ بڑی دلچسپی سے اسے اپنے بارے میں بتانے لگی۔ ساتھ ساتھ اس کے بارے میں بھی پوچھ لیتی۔ اس کے اندر کی ساری اداسی ختم ہو گئی، وہ بے وجہ ہنسنے لگی۔ بابر ہمدانی کی توجہ نے اس کے اندر ایک خوشی کا طوفان اٹھادیا۔
اسے حیرت ہوئی ہم دونوں کی لائکنگ ڈسلائکنگ کتنی ملتی ہیں۔ شام ختم ہونے تک عنبر خود کو ایک لوہا سمجھنے لگی جو مقناطیس کی طرف کھنچ رہا ہے۔
اس دن کے بعد عنبر کی فیلنگز بہت بڑھ گئیں۔ جیسے ہی بابر ہمدانی سامنے آتا اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگتا۔ وہ جتنا قریب آتا اس کے اندر کے تار اتنی تیری سے ہلتے۔ وہ بہانے بہانے سے اس کے قریب رہنے کی کوشش کرتی۔
بابر ہمدانی کے رویے میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ یوں لگتا کہ جیسے وہ شام ایک خواب تھی۔ یہ شخص آخر دلچسپی دکھانے کے بعد پیچھے کیوں ہٹ گیا ہے۔ وہ جان بوجھ کر اس کے ساتھ پرسنل باتیں چھیڑ دیتی مگر وہ دلچسپی نہ دکھاتا۔ وہ جتنا روکھا ہوتا اتنا اسے اچھا لگتا۔ وہ اگر ذرا سا اشارہ بھی کرتا تو وہ اس کے قدموں میں بچھ جاتی۔
کئی مہینے جب ایسے ہی گزرے تو ایک شام اس نے بہت ہمت کر کے اس کے سامنے اپنی محبت کا اقرار کر لیا۔ یہ اقرار کرتے ہی اس کی آنکھیں شرم سے جھک گئیں۔ اس کے جسم میں چیونٹیاں رینگنے لگیں۔
دوسری طرف کافی دیر تک گہری خاموشی رہی۔ اس نے تھوڑی دیر بعد گھبرا کر آنکھیں اوپر کیں۔ تو بابر ہمدانی کی آنکھوں میں محبت کی کوئی رمق نظر نہ آئی۔
عنبر مجھے افسوس ہے میں تمھاری محبت قبول نہیں کر سکتا۔
لیکن کیوں؟
میں اس کی وجہ نہیں بتا سکتا۔
کیا کسی اور سے محبت کرتے ہو، عنبر نے مایوسانہ لہجے میں کیا
نہیں۔ اس نے یقین سے کہا۔
تو میری محبت قبول کرنے میں کیا حرج ہے
بات ایسی نہیں ہے۔ تم اس کمپنی کی ایمپلائی ہو اور ایک ایمپلائی کے ساتھ ایسا تعلق رکھنا پروفیشنل ایتھکس کے خلاف ہے۔
مجھے اس جاب کی کوئی پروا نہیں ہے۔ میں ابھی تمھارے لیے یہ نوکری چھوڑنے کو تیار ہوں۔
میں صرف تمھارے لیے دفتر آتی ہوں۔
عنبر۔۔ عنبر، پلیز ٹرائے تو اینڈرسٹینڈ یہ نہیں ہو سکتا۔
کیوں نہیں ہو سکتا۔
تمھیں کس چیز نے روکا ہے؟
کیا تم اپنی پہلی محبت میں دل ٹوٹنے کی وجہ سے ایسا کر رہے ہو؟
میں اس بارے میں بات نہیں کر سکتا۔
تم پلیز آئندہ اس ٹاپک کو مت چھیڑنا۔
عنبر تڑپ کر رہ گئی۔
کیوں نہ چھیڑوں میں اس ٹاپک کو؟
پچھلے کئی مہینوں سے میرے دل و دماغ میں صرف تمھارا خیال ہے۔
میں اس دفتر کا ہر کام صرف تمھاری خوشی کے لیے کرتی ہوں۔
میں۔۔ میں زندہ ہوں تو صرف تمھاری وجہ سے ہوں۔
اور تم کہہ رہے ہو کہ میں اس ٹاپک پر بات نہ کروں؟ عنبر نے غصے اور بے بسی سے پوچھا۔
عنبر تم بہت اچھی لڑکی ہو۔۔ لیکن میں تم سے محبت نہیں کرتا
میں۔ ۔ میں تمھاری خاطر ہر حد تک جانے کو تیار ہوں۔ یہ الفاظ کہتے اسے بہت شرم آئی۔
عنبر ! تم پر اس وقت عشق کا بھوت سوار ہے۔ کچھ دن چھٹی لے کر گھر بیٹھو۔ تمھیں احساس ہو جائے گا کہ تم غلطی پر ہو۔
نہیں ! مجھے کسی بات کی پروا نہیں ہے۔ مجھے صرف اور صرف تم چاہیے ہو۔
میں تمھیں اپنا جواب بتاچکا ہوں۔
ایسا نہیں ہو سکتا۔ یہ کہہ کر وہ آفس سے باہر چل پڑا۔
اگلا پورا مہینہ بابر ہمدانی ملک سے باہر رہا۔
عنبر بنا پانی کی مچھلی کی طرح تڑپتی رہی۔ اس کا کھانا پینا بند ہو گیا۔ کسی کام میں دل نہ لگتا۔ چچی نے کئی بار پوچھا، مگر اس نے ٹال دیا۔ اسے کچھ سمجھ نہ آتا کہ کیا کرے۔ وہ کیسے بابر ہمدانی کی ہمدانی کی محبت حاصل کرے۔ ایک مہینہ جیسے کئی صدیوں کے برابر ہو گیا۔
پہلے اس کا دیدار تو نصیب ہوتا تھا اب وہ بھی چھن گیا۔
اس سے کہیو کہ دل کی گلیوں میں
رات دن تیری انتظاری ہے
ایک مہینہ پتا نہیں کیسے کٹا۔ جس دن بابر ہمدانی نے آنا تھا وہ گھنٹوں پہلے ائیر پورٹ پہنچ گئی۔ اسے دیکھتے ہی اس کا دل چاہا کہ اس سے لپٹ کر رونا شروع کر دے۔ وہاں بابر ہمدانی کے ساتھ کچھ جاننے والے بھی موجود تھے اسی لیے اس نے اپنے جذبات کو بڑی مشکل سے روکا۔ صرف ہینڈ شیک کرنے پر اکتفا کیا۔ لیکن جیسے ہاتھ ٹکرائے اس کے جسم میں کرنٹ سا لگا۔ اس کے لمس کے احساس کو وہ کافی دیر تک محسوس کرتی رہی۔
دفتر کی زندگی معمول پر آ گئی۔۔ ایک دن پھر اس نے جان بوجھ کر محبت کا ذکر چھیڑ دیا۔
عنبر ہمارے درمیاں طے پایا تھا کہ ہم اس بات کا ذکر نہیں کریں گے۔ اس نے تھوڑے غصے سے کہا
کیسے چھوڑ دوں اس بات کو؟ عنبر نے تڑپ کر کہا۔
بابر ہمدانی نے بحث سے جان چھڑانے کے لیے اٹھنا چاہا تو پتا نہیں کیا سوچ کر وہ اس کے پیروں میں گر گئی۔
اس کے اندر کوئی چیز ٹوٹ گئی۔
بابر پلیز سمجھنے کے کوشش کرو۔۔ تمھاری محبت کے بغیر میں زندہ نہیں رہ پاؤں گی۔ اس کی آنکھوں سے بے بسی کے آنسو نکل پڑے۔
عنبر! اٹھو کیا کر رہی ہو۔ لوگ دیکھیں گے تو کیا کہیں گے۔
مجھے تمھارے علاوہ کسی کی پرواہ نہیں ہے۔
مجھے ہر قیمت پر صرف تمھاری محبت چاہیے۔
یہ ممکن نہیں ہے۔
وہ بڑی مشکل سے پیر چھڑا کر چل پڑا۔
اس دن کے بعد عنبر نے بابر ہمدانی کی زندگی اجیرن بنا دی۔ یوں لگتا وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی ہے۔ آفس میں بھی لوگوں کو پتا چل گیا۔ سب لوگ باتیں بنانے لگے۔ مجبور ابابر ہمدانی نے ناصرف اسے نوکری سے نکالابلکہ اس کا دفتر آنا بھی بند کروا دیا۔
عنبر پھر بھی باز نہ آئی۔ وہ سار دن دفتر کے باہر بیٹھی رہتی اور زبردستی بھی اندر گھس جاتی۔ ایک عجیب تماشا لگ گیا۔ عنبر کو جیسے بابر کو حاصل کرنے کے علاوہ کسی چیز کی پرواہ نہ رہی۔ اس نے ایک دو بار بابر ہمدانی کو خود کشی کرنے کی دھمکی دے کر منانے کی بھی کوشش کی مگر کوئی کامیابی نہ ہوئی۔
ایک دن عنبر زبردستی آفس میں گھس گئی اور خوب ہنگامہ کیا۔ بابر ہمدانی کو کلائنٹس کے سامنے بہت شرمندگی اٹھانی پڑی۔ اس نے غصے میں عنبر کو تھپڑ مارا اور دھکے دے کر آفس سے نکال دیا۔
اس شام میں نے عنبر کو بہت ہی اداس دیکھا۔ وہ میرے کمرے میں آئی اور میری ڈائری مجھے واپس کر دی۔ میں نے اسے بیٹھنے کے لیے کہا تو وہ خالی ذہن کے ساتھ میرے بستر ہر بیٹھ گئی۔ اب وہ پہچانی ہی نہ جاتی۔ آنکھوں میں حلقے۔ بغیر میک ایک روکھا سا چہرہ۔ اجڑے بال اور ڈھانچہ جسم۔
مجھے اس کی حالت دیکھ کر رونا آ گیا۔ مجھے روتا دیکھ کر وہ مجھ سے لپٹ گئی اور خود بھی رونا شروع کر دیا۔ وہ خود کلامی کے انداز سے پتا نہیں کیا کیا بولتی رہی۔
میں سمجھ گئی ہوں تیمور، تم کیا محسوس کرتے ہو۔
مجھے ایک پل چین نہیں آتا۔ ایک آگ ہے جو میرے سینے میں لگی رہتی ہے۔
وہ کٹھوڑ کسی صورت نہیں مانتا۔ ۔
پتا نہیں اسے ایسا کیا چاہیے، جو مجھ میں نہیں ہے۔
آج اس نے مجھے سب لوگوں کے سامنے تھپڑ بھی مارا۔
تھپڑ کی خیر ہے۔ وہ اپنا حق جتانے کے لیے میری جان بھی لے لے۔ اس نے مجھے نفرت کے قابل بھی نہیں سمجھا۔ اس کی آنکھوں میں صرف بیزاری تھی۔ ایسے جیسے میں کوئی گندی مکھی ہوں جو اسے تنگ کر رہی ہوں۔ یہ میری برداشت سے باہر ہے۔ اس نے آج اپنی آنکھوں سے اپنا آخری فیصلہ سنا دیا ہے۔ یہ کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
میں اپنی طرف سے اسے تسلی دیتا رہا۔ اس کا یوں لپٹنا مجھے بہت اچھا لگا اور میں دعا کرنے لگا۔ کاش! وقت تھم جائے۔ پتا نہیں کتنی دیر بعد وہ اٹھی اور میرے چہرے کی جانب دیکھنے لگی۔
تیمور۔۔
یوں مجھے کب تک سہو گے تم
یوں کب تک مبتلا رہو گے تم
درد مندی کی مت سزا پاؤ
اب تو تم تم مجھ سے تنگ آ جاؤ
میں کوئی مرکز حیات نہیں
وجہے تخلیق کائنات نہیں
عنبرغم کے ہجوم سے نکلے
اور جنازہ بھی دھوم سے نکلے
جنازے میں ہو یہ شور حزیں
آج وہ مر گئی جو تھی ہی نہیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اسی رات عنبر نے بلیڈ سے اپنی نسیں کاٹ لیں۔ اگلے دن دوپہر کو ہم سب گھر والوں کو اس کی موت کا علم ہوا۔ اس کا چہرہ سفید پڑ چکا تھا۔ مجھے اس کی آنکھوں میں ایک خالی پن نظر آیا، جس نے میرے سینے کے خالی پن کو اور بڑھا دیا۔ میرے سینے میں شدید درد اٹھا اور میں اپنے کمرے میں آ کر نہ جانے کتنی دیر روتا رہا۔
انسانی زندگی بھی عجیب ہے ہم کبھی ظالم ہوتے ہیں تو کبھی مظلوم۔
عنبر کی زندگی کا کیا مقصد تھا، وہ کیوں مری؟ کیا اس کا جینا اور مرنا کسی مقصد سے تھا؟ میری ماں کیوں پاگل ہوئی، میرا باپ کیوں آئیڈیلیسٹ تھا۔ یہ سب سوال پھر پوری شدت سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ میں کیوں زندہ ہوں؟
عنبر نے اپنے نوٹ میں لکھا۔۔
” ممی! آپ ٹھیک کہتی تھیں یہ عشق ہر حال میں انسان کو برباد کرتا ہے۔ اگر محبوب مل جائے، تو عشق بھاپ کی طرح اڑ جاتا ہے۔ محبوب نہ ملے تو کسی پل چین نہیں آتا۔ محبوب کے بنا جینا فضول لگتا ہے “۔
چچی یہ نوٹ پڑھ کر غم سے نڈھال ہو گئیں۔ وہ عنبر کی چیزوں کو دیکھ دیکھ کر روتی رہتیں۔ ان کی جوان بیٹی نے عشق میں ناکامی پر اپنی جان ہی لے لی۔ چچی کی ساری نصیحتیں بے اثر رہیں۔ ان کی بیٹی خود کو جان لیوا عشق سے نہ روک سکی۔ یہ عشق چیز ہی ایسی ہے۔
عنبر کا اصل باپ بھی جنازے پر آیا اور خاموشی سے آنسو بہاتا رہا۔
عنبر کی فوتگی کے بعد چچی کی مجھ سے نفرت اور بڑھ گئی۔ میرا اس گھر میں رہنا محال ہو گیا۔ وہ کچھ وہمی سی ہو گئیں۔ میری نحوست کو عنبر کی موت کا ذمہ دار قرار دیتیں۔ ان کے مطابق میری نحوست کی وجہ سے میرے ماں باپ کا گھر نہ بسا، ان دونوں کی موت وقت سے پہلے ہو گئی۔۔
اگر میں مزید اس گھر میں رہا تو نہ جانے کیا ہو گا۔ ہر روز وہ گھر میں لڑائی ڈال کر بیٹھ جاتیں۔ چچا کو اتنی ٹینشن دیتیں کہ وہ کئی کئی دن گھر نہ آتے۔ آخر کار چچی جیت گئیں۔ میں چھت سے بھی محروم ہو گیا۔
یہ جو ہر موڑ پر آملتی ہے مجھ سے فرحت
بد نصیبی بھی کہیں میری دیوانی تو نہیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شنو ہر روز اپنے نابینا باپ کے ساتھ مارکیٹ میں بھیک مانگنے آتی۔ میں اسے کچھ نہ کچھ ضرور دیتا۔ اس کا مارکیٹ میں آنا تازہ ہوا کے جھونکے جیسا ہوتا۔ برقع میں اس کی آنکھیں بہت ہی خوبصورت لگتیں۔ میں اس کے نقاب کے پیچھے اس کے چہرے کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا۔ یہ تخیل مجھے حقیقت سے زیادہ اچھا لگتا۔ میں ہر دوپہر اس کے آنے کا بے چینی سے انتظار کرتا۔ کئی مہینے ہونے کو آئے، مگر میں نے اس سے کبھی بات نہ کی۔ اس کا نام بھی اس کے باپ کے پکارنے کی وجہ سے معلوم ہوا۔
مارکیٹ کے لوگ اسے بڑی بے شرمی سے اشارے کرتے۔ پیسے دیتے ہوئے کبھی اس کا ہاتھ پکڑ لیتے، تو کبھی اس کا نقاب اتارنے کی کوشش کرتے۔ وہ بڑی بے بسی سے یہ سب سہتی۔ ایک دو بار میں نے اس کی آنکھوں میں آنسو بھی دیکھے مگر کچھ نہ کرپایا۔
اس کا ادھیڑ عمر باپ گلاب خان سب باتوں سے بے پرواہ بھیک کی صدائیں لگاتا جاتا۔ اسے نہیں معلوم ہوتا کہ اس کی بیٹی کے ساتھ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ یا جان کر بھی انجان بن جاتا۔ وہ مقدر کے جبر کے سامنے کر بھی کیا سکتا تھا۔ چار سال پہلے اس نے تصور بھی نہ کیا تھا۔ وہ کبھی اسی مارکیٹ میں بھیک مانگ رہا ہو گا جہاں کبھی اس کی اپنی دکان تھی۔
گلاب خان کی اپنی کپڑے کی دکان تھی۔ جسے اس نے ساری جوانی کی محنت کے بعد بنایا تھا۔ اس کی شادی ادھیڑ عمری میں ہوئی۔ پانچ بیٹیاں کی نعمت ملی۔ پانچویں کی پیدائش پر بیوی کا انتقال ہو گیا۔ دوسری شادی سے پہلے ایک حادثے میں اس کی آنکھیں ضائع ہو گئیں۔ کاروبار پر اس کے ایک ملازم نے قبضہ کر لیا۔ گلاب خان کا کوئی عزیز رشتہ دار نہیں تھا جو اس کی مدد کو آتا۔ کچھ ہی مہینوں میں وہ سڑک پر آ گیا۔ گھر کا خرچہ چلانے کے لیے بھیک مانگنا شروع کر دی۔ میں نے گلاب خان کی اسی دکان پر کام کرنا شروع کیا۔
ہر روز اس دکان کے سامنے آ کر گلاب خان کے قدم رک جاتے۔ تاریک آنکھوں کے پیچھے ماضی کے کچھ مناظر چلنا شروع ہو جاتے۔ وہ نہیں جان پایا، اسے کس چیز کی سزا ملی۔ یہ کیسی آزمائش ہے۔ گلاب خان کے بجائے میں یہ سوچتا کہ یہ نہ کوئی آزمائش، نہ ہی کوئی سزا ہے۔
یہ محض اس اتفاقیہ زندگی کا بھیانک مذاق ہے۔ یہ بھیانک مذاق روز ان گنت لوگوں کی زندگی کے ساتھ کھیلا جاتا ہے۔ جن کے غموں کا حساب رکھنے والا کوئی نہیں۔ یہاں کسی کا قصور نہیں۔
گلاب خان اور اس کی بیٹی شنو کو دیکھ دیکھ کر میں مزید اداس ہو جاتا۔ دادا بھی بے وجہ اپنی محبوب کو روتا چھوڑ آئے، ابا بھی بے وجہ آئیڈلیسٹ تھے، اماں بھی بے وجہ ہی پاگل ہوئیں، عنبر نے بھی بے وجہ ہی خود کشی کی۔ میں بھی بے وجہ ہی یتیم ہوا۔ کوئی نہیں ہے جو یہ سب کروا رہا ہے، کوئی نہیں ہے جو اسے روک سکتا ہے۔ یہ فقط ایک تماشا ہے جو بنا کسی مداری کے چل رہا ہے۔
ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے
میں کچی بستی میں ایک گندے سے کمرے میں رہتا۔ میری تنخواہ میں اتنا ہی ہو پاتا۔ تعلیم چھٹ گئی، مستقبل کے سارے خواب بھی چلے گئے۔ میں اپنے ارد گرد انتہائی غریب لوگوں کو دیکھتا جنھوں نے زندگی کی لڑائی میں شکست تسلیم کر لی تھی۔ ان کی زندگی سے یہی سبق ملتا،
“انسانی منصوبے اور خواہشیں سب دھری کی دھری رہ جاتی ہیں اور وقت کا ریلہ اپنے ساتھ سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے ”
میں بھی بس زندہ تھا۔ بستی کے ایک کچے مکان میں شنو بھی رہتی، جو سارا دن بھیک مانگ کر تھک چکی ہوتی۔ اس کے اندر روٹی بنانے کی ہمت بھی نہ ہوتی۔ اس کا باپ چارپائی پر لیٹ کر اپنے اندر کی ازلی تاریکی میں کھوجاتا۔ شنو اداسی سے سوچتی: میری زندگی کیا تھی اور کیا بن گئی۔
وہ سڑکوں پر غیر محفوظ ہوتی اور اس کی چھوٹی بہنیں گھر میں۔ کبھی وہ اچھے کپڑے پہنے سکول جاتی تھی۔ اب سکول سے واپس آتی اپنی سہلیوں سے خود کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتی۔ اس کا برقع میلا اور پھٹا ہوا ہوتا۔ نیا خریدنے کے پیسے نہ ہوتے۔
اسے پروفیشنل فقیروں کی طرح بھیک مانگنا نہ آتی۔ تمام فقیروں نے اپنے اپنے علاقے بانٹے ہوتے۔ جس میں کسی دوسرے کو داخل نہ ہونے دیا جاتا۔ تمام پیسے والے اشاروں، مارکیٹوں اور علاقوں پر بڑے بڑے بدمعاشوں کا قبضہ تھا۔ جہاں وہ بھتا لے کر اپنے منتخب فقیرون کو بھیک مانگنے دیتے۔ دوسرے کسی فقیر کا وہاں داخلہ بھی ممنوع ہوتا۔ وہ جتنا بھی کماتے اس میں سے آدھا تو بھتے میں چلا جاتا۔ شنو کو ابھی تک پروفیشنل فقیروں کی طرح مانگنا نہیں آیا تھا۔ مظلوم ہوتے ہوئے بھی مظلومیت کی ایکٹنگ نہ کرپاتی۔
چچا نے گھر سے کیا نکالا، میں حالات کے بھنور میں پھنس کرسب بھول گیا۔ میری تعلیم چھٹ گئی، سر سے چھت چھن گئی، کھانے تک کے لالے پڑ گئے۔ میری انا اور خود داری کو اتنے لوگوں نے پیروں تلے روندا کہ مجھے یاد ہی نہ رہا مجھ کوئی انا بھی ہے۔ میرے بڑے بڑے خیالات بھاپ کی طرح اڑ گئے۔ میں روٹی کپڑا اور مکان کی تلاش میں سرگرداں ہجوم کا حصہ بن گیا۔
پہلے میں صرف سوچتا تھا، انسانی زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے۔ اب احساس کی شدت کے ساتھ اس بات کو جان گیا۔
مجھے اپنی اس حالت کا ذمہ دار بھی کوئی نظر نہ آتا۔ بس حالات کا سیلاب مجھے بہائے لے گیا۔ شنو ابھی نا سمجھ تھی، اسی لیے اس کی آنکھوں میں معاشرے کے خلاف شکوہ نظر آتا۔ شاید وقت کے ساتھ وہ سمجھ جائے کہ زندگی میں شکوے اور شکائتیں کام نہیں آتیں۔
میں نے مزدوری کرنے سے لے کر ٹیوشنیں پڑھانے تک سب کام کیے۔ میری باہر کی چمڑی سخت ہونے لگی۔ اب میری دل میں کسی کے بارے میں رحم دلی کے جذبات نہ ابھرتے۔ میں کسی کو لٹتا دیکھ کر بچانے کی کوشش نہ کرتا۔ بلکہ یہ دکھتا کہ اس میں میرا کیا فائدہ ہے۔ میں اپنے کام میں ڈنڈی مارتا، پیسوں میں ہیر پھیر کرتا۔ دکان میں آنے والے لوگوں الو بنانے کی پوری کوشش کرتا۔ میں نے یہ سب باتیں اپنے ارد گرد ملازمین سے سیکھیں۔ وہاں مجھے احساس ہوا کہ اخلاقیات اور حرام حلال کے جو باتیں ہمیں مسجد اور سکولوں میں سکھائی جاتی ہیں۔ حقیقی زندگی میں کامیابی کے لیے ان کی کوئی حیثیت نہیں۔
ایک شخص ساری زندگی کی محنت سے دکان بناتا ہے۔ کوئی دوسرا اس پر قبضہ کر کے امیر ہو جاتا ہے۔ کوئی قانون اور مذہب اس کا ہاتھ نہیں روکتا۔ قانون کے رکھوالے پیسے لے کر ظالم کا ہی ساتھ دیتے ہیں۔ گلاب خان کی دکان پر قبضہ کرنے والا شیر علی ایک معمولی سا ملازم تھا۔ گلاب خان کے حادثے کے بعد اس نے پتا نہیں کیسے دکان کے کاغذ اپنے نام ٹرانسفر کروا لیے۔ گلاب خان کہتا رہا، اس کو تو شیر علی نے صرف اتنا کہا تھا کہ وہ اس کے کاروبار میں شراکت کے کاغذات پر انگوٹھا لگوا رہا ہے۔ کچھ مہینوں تک شیر علی نے گلاب خان کو پیسے دیے۔ پھر اس نے لوگوں میں اعلان کر دیا کہ گلاب خان نے یہ دکان اس کے نام فروخت کر دی ہے۔ گلاب خان کو اصل بات کا علم اس وقت ہوا جب شیر علی نے پیسے دینے سے مکمل انکار کر دیا۔
پورے دن میں صرف وہی لمحہ سکون کا ہوتا جب شنو مارکیٹ میں آتی۔ اس کا برقع پھٹا پرانا ہوتا۔ نقاب کے پیچھے اس کی آنکھوں میں ایک خالی پن ہوتا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ خالی پن بڑھتا ہی جاتا۔ اس نے لوگوں کی چھیڑ چھاڑ پر احتجاج بھی چھوڑ دیا۔ وہ پلاسٹک کی گڑیا بن گئی جس کے محسوسات نہیں ہوتے۔ اس کی آنکھیں مجھے ایک کائناتی بلیک ہول لگتیں، جس کی گہرائی اور خلا میں پوری کائنات سما سکتی ہے۔ میں اس خلا میں ڈوب جانا چاہتا۔
مہینوں گزرنے کے باوجود میں اس سے بات نہ کر سکا۔ میری آنکھیں تو نہ جانے اس سے کیا کیا کہتیں مگر الفاظ میرا ساتھ چھوڑ دیتیں۔ کبھی کبھی میں شام کو اس کے گھر کے پاس کھڑا ہو جاتا اور اسے اپنے باپ کے ساتھ واپس آتے دیکھتا۔ وہ مجھے دیکھتی بھی تو اس کی آنکھوں میں کوئی تاثرات نہ آتے۔
پھر یوں ہو اکہ، شنو اور گلاب خان کافی عرصہ بھیک مانگنے نہیں آئے۔ میں کچھ دن بہت بے چین ہوا۔ اس کی اک جھلک دیکھنے کے لیے کئی بار اس کے گھر اور محلے کے چکر لگائے۔ کچھ عجیب طرح کے لوگوں کو اس کے گھر آتا جاتا دیکھا۔ ادھر ادھر سے پتا کرویا تو معلوم ہوا۔ شنو اب پرانی والی شنو نہیں رہی۔ اس نے اپنی طرف بڑھتی ہوئے ہاتھوں سے قیمت وصول کرنا شروع کر دی تھی۔
کل جنھیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر
آج وہ رونق بازار نظر آتے ہیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
میرے اندر کے خلا کے ساتھ ایک بے حسی بھی آ گئی۔ اب میر اکسی سے بات کرنے کو دل نہ کرتا۔ میں صرف لوگوں کو دیکھتا۔ ان کی باتوں اور حرکتوں سے ان کی شخصیت کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا۔ دکان پر بیٹھ کر دو سالوں میں زندگی اور کاروبار کے بارے میں جو میں نے سیکھا۔ وہ میری سالوں کی پڑھائی اور کتابوں سے اوپر تھا۔
میں ہر بات کے پیچھے مفاد کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتا۔ ہر بات میں چالوں کی تلاش کرتا۔ اپنے غلط اندازوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا۔ میرے اندر بھی پیسہ کمانے اور طاقت حاصل کرنے کی خواہش اٹھنے لگی۔ میں پیسہ صرف اس لیے کمانا چاہتا کہ میں لوگوں کا محتاج نہ رہوں۔ ان کے سہاروں سے اوپر اٹھ جاؤں۔ تمام قسم کے رشتوں سے میرا دل اٹھ گیا۔
میرا ذاتی تجربہ یہی بتاتا ہے: دوستیاں اور رشتے صرف ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ کبھی جسم کی ضرورت، کبھی تنہائی کاٹنے کی ضرورت، کبھی دیکھ بال کی ضرورت۔ وغیرہ وغیرہ۔ جب ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں تب وہ رشتے بھی بے معنی ہو جاتے ہیں۔
میاں بیوی کا رشتہ بھی کئی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ایک ایگریمنٹ ہے۔ اسی کے لیے پیار محبت جیسے خوبصورت الفاظ ایجاد کیے گئے ہیں۔ ضرورتیں پوری ہونے کے بعد یہ خوبصورت الفاظ بھاپ کی طرح اڑ جاتے ہیں۔ ماں باپ بھی اسی وقت تک اچھے لگتے ہیں جب تک ان کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس دن کوئی باپ اپنی ساری جائدار اور کاروبار بچوں کے نام لگاتا ہے اسی دن بچوں کا رویہ بدل جاتا ہے۔ فالج زدہ بوڑھوں کی زندگی بھی اسی لیے مظلوم ہوتی ہے۔
اسی لیے مجھے کسی رشتے کے جال میں نہیں پھنسنا۔ میں اپنی ہر ضرورت کو قیمت لگا کر خریدنے کا قائل ہو گیا۔ کسی چیز پر میرا حق اتنا ہی ہے جتنی میں اس کی قیمت دے سکوں، یا طاقت سے چھین سکوں۔ اس حق کو میں کسی اخلاقی و مذہبی قانون کے تحت چھوڑ نہیں سکتا۔
تمام ضابطے اور اصول بھی غریب اور کمزور لوگوں نے اپنے لیے بنائے ہیں۔ طاقت ور اور آزار بندے کی دنیا الگ ہے۔ وہ صرف طاقت کے اصول کو مانتا ہے۔ وہ مانگتا نہیں چھین لیتا ہے۔
ثابت ہُوا سکونِ دل و جان نہیں کہیں
رشتوں میں ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی
میں نے یونیورسٹی میں پارٹ ٹائم بزنس ایڈمنسٹریشن میں داخلہ لے لیا۔ اگرچہ چار سالوں کے بعد میں نے ڈگری تو لے لی۔ میں نے یونیورسٹی میں اتنا بھی نہیں سیکھا جتنا میں نے دکان میں ایک مہینے میں سیکھا۔ یونیورسٹی میں مجھے سوائے انگریزی میں بولنے اور لکھنے کے کچھ بھی نہیں سکھایا گیا۔ کاروبار کیسے لگانا اور چلانا ہے، اس کی تو الف بے بھی نہیں سکھائی گئی۔ اسی لیے پاکستان میں سارے کامیاب بزنس مین انگوٹھا چھاپ ہی ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ انھوں نے اپنی اگلی نسل کو اچھی یونیورسٹیوں سے پڑھا کر اپنا امیج بہت اچھا بنا لیا ہے اصل میں ان کی سوچ انگوٹھا چھاپ جیسی ہی ہے۔ انگوٹھا چھاپوں کے پاس ایسا کیا ہوتا ہے جو یونیورسٹی سے پڑھے لکھوں کے پاس نہیں ہوتا؟
انگوٹھا چھاپ بہت ہی سیدھا ذہن رکھتا ہے۔ وہ ہر چیز میں اپنے فائدے اور نقصان کو سب سے اوپر رکھتا ہے۔ وہ اپنے ذہن کو بڑی بڑی مذہبی، اخلاقی اور عقلی باتوں میں نہیں لگاتا۔ وہ صرف پیسے کو دیکھتا ہے۔
پیسہ کہاں سے اور کیسے آتا ہے؟ یہی اس کا دین ایمان ہے باقی سب فضولیات ہیں۔
انگوٹھا چھاپ کی عزت اور ذلت کے پیمانے بھی وہ نہیں ہیں، جو پڑھے لکھے عزت داروں کے ہوتے ہیں۔ اسی لیے وہ کسی کام میں عار محسوس نہیں کرتا۔
اس کے مقابلے میں یونیورسٹی کا پڑھا لکھا بندہ اپنے ذہن میں بہت بڑے بڑے خیالات رکھتا ہے۔ وہ ہر بات کو بہت خوبصورت انداز سے سمجھتا اور کہتا ہے۔ اس کے پاس بہت بڑے بڑے الفاظ ہوتے ہیں۔ جن کو استعمال کر کے وہ سمجھتا ہے اس نے خزانہ دریافت کر لیا ہے۔ وہ لفظوں کے پیچھے حقیقت کو کبھی سمجھ نہیں پاتا۔ اسی لیے کسی نہ کسی انگوٹھا چھاپ کی نوکری کرنے میں ساری عمر گزار دیتا ہے۔ وہ انگوٹھا چھاپ کی طرح رسک لینے کی صلاحیت نہیں رکھتا کیوں کہ وہ ڈھیر ساری سہولتوں کا عادی ہے۔ وہ اپنی سفید پوشی کا بھرم برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اسی لیے روز ہی اپنی عزت نفس کی قربانی دیتا ہے۔
مجھے بزنس کی ڈگری نے بزنس کرنا اور زندگی میں کامیاب ہونا تو نہیں سکھایا لیکن یہ سمجھا دیا کہ اگر میں نے کامیاب ہونا ہے تو ایک انگوٹھا چھاپ ہی بننا ہے۔ مجھے پڑھے لکھوں کی طرح غلامی نہیں کرنی۔ مجھے پھر کسی کا مجبور نہیں بننا۔ مجھے آزادرہنا ہے۔
میں نے پیسے کمانے کے لیے ہر چھوٹا بڑا کام کیا، کئی چھوٹے موٹے کاروبار چلانے کی کوشش کی، جن میں انوسٹمنٹ بھی کم تھی اور منافع بھی کم۔ اس سے مجھے سیکھنے کا کافی موقع ملا۔ میں ہر ناکامی کے بعد اپنی غلطیوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا۔ ہر بار میرے ساتھ کام کرنے والے دھوکہ کرتے۔ میں ہر بار نئے لوگوں کے ساتھ کام کرتا۔ شروع شروع میں ہر ناکامی کے بعد میں بہت مایوس ہوتا۔ رفتہ رفتہ یہ کام ایک کھیل بن گیا۔
مجھے نفع نقصان سے زیادہ اس کھیل کو کھیلنے میں مزا آنے لگا۔ میں نے سیکھنے کا عمل نہیں چھوڑا۔ میں کامیاب کاروباری لوگوں سے ملاقاتیں کرتا۔ ان کی باتوں کو بہت دھیان سے سنتا۔ ان کے کاروباری فیصلوں کی گہرائی کو سمجھتا۔۔ ان کی ناکامیوں تک کا جائزہ لیتا۔ بزنس کی پاپولر اور اچھی کتابیں بھی پڑھتا جس سے میرا ذہنی کینوس بڑا ہوتا گیا۔
میرے پاس اب اتنا پیسہ آ گیا کہ نارمل سے علاقے میں کرائے پر گھر لے سکوں۔ ساتھ میں ایک سیکنڈ ہینڈ گاڑی بھی رکھ لی۔ گاڑی پر آنی جانی ہی ہوتی۔ جب بزنس میں فائدہ ہوتا گاڑی آ جاتی، نقصان ہوتا بک جاتی۔ اچھے علاقوں میں اکیلے بندے کو کوئی گھر کرائے پر نہں دیتا۔ اسی لیے کسی معمولی علاقے میں گھر لینا پڑتا۔ جہاں چوری چکاری بھی بہت ہوتی۔ آئے دن پولیس تفتیش کے لیے آئی رہتی۔ ایک دوبار شناخت کے لیے تھانے بھی جانا پڑا۔ اب میں اس چیز کو سمجھ گیا۔ میں نے کبھی اسے انا کا مسئلہ نہیں بنایا۔ مجھے معلوم ہو گیا، وہ پولیس والا اپنے طاقت کے حق کو استعمال کر رہا ہے۔ میں اسے اس کا حق ادا کر دیتا۔ اگرچہ میں کوئی ایسا غیر قانونی کام نہ کرتا۔ پھر بھی ان کی جیب میں کچھ نہ کچھ ڈال دیتا۔ اسی لیے مجھے تنگ نہ کیا جاتا۔
جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، میری بزنس سینس اچھی ہوتی گئی۔ میں نے لوکل اور انٹرنیشنل سٹاک مارکیٹ میں انویسٹ کرنا شروع کیا۔ سالوں کے مشاہدے کے بعد میرے اندر منافع کو سونگھنے کی حس پیدا ہو گئی۔ یہ واقعہ ایک ہی رات میں نہیں ہوا۔ نہ ہی یہ کوئی لاٹری نکلی۔
میں غیر محسوسانہ طریقے سے جتنا اپنی اور لوگوں کی ناکامیوں کو سمجھتا گیا میری ناکامیاں کم ہوتی گئیں۔
مجھے پتا لگنا شرع ہو گیا۔ کون سا بزنس کامیاب ہو گا، کون سا سٹاک اوپر جائے گا اور کونسا نیچے۔ میرے ذہن میں سٹاک کے بارے میں بھی ایک تھیوری بن گئی کہ وہ کیسے اوپر اور نیچے جا تے ہیں۔ کافی مہینوں تک میں اپنی اس تھیوری کو ٹیسٹ کرتا رہا۔ میرے زیادہ تر فیصلے ٹھیک ہی ہوتے۔ تھیوری میں خامیوں کی بھی نشاندہی ہونے لگی۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ میرا کوئی اندازہ غلط نہ ہوتا۔ میں جس سٹاک کو بھی اٹھاتا وہ چڑھ جاتا، جس کو بیچتا وہ گر جاتا۔
میں نے صحیح معنوں میں نوٹ چھاپنا شروع کر دیے۔ جب تک میں چھوٹی چھوٹی انویسمنٹس کرتا رہا کسی کو کچھ پتا نہ چلا۔ لیکن جب میں نے بڑا ہاتھ مارنا شروع کیا تو میرے ارد گرد بیٹھے لوگ چونک گئے۔ ایک تیس سال کا خاموش رہنے والا نوجوان، جس کا نہ تو کوئی خاندان ہے اور نہ ہی کوئی حثیت۔ جسے پورے شہر میں چار لوگ نہیں جانتے اسے سٹاک مارکیٹ کے بارے میں اتنا کیسے پتا۔
لوگوں کو لگا کہ میرے پاس کوئی روحانی یا سفلی علم ہے جس کی وجہ سے میں صحیح اندازے لگا لیتا ہوں۔ کئی نے کہا میں نے جن رکھے ہوئے ہیں۔
کسی بھی کام میں اعلیٰ لیول کی ایکسپرٹی جادو کی طرح کی محسوس ہوتی ہے۔ مگر اس کے پیچھے سالوں کی ریاضت ہوتی ہے۔ مجھے کئی بڑے بڑے بروکرز نے اپنے سائے میں لینے کی کوشش کی مگر میں کسی کا پٹھو بن کر نہیں جینا چاہتا تھا۔ میں نے لوکل مارکیٹ کے بجائے انٹرنیشنل مارکیٹس اور بزنس میں انویسٹ کرنا شروع کر دیا۔ میری نظریں ہر وقت مار کیٹ پر لگی رہتیں، دنیا کس طرف جا رہی ہے، لوگ کیا پسند کر رہے ہیں، نئی ٹیکنالوجی کونسی آ رہی ہے، کون سا بزنس اگلے پانچ سالوں میں اوپر جائے گا اور کون سا بزنس بند ہو جائے گا۔ میں گھنٹوں بیٹھ کر کمپنیوں اور سٹاک مارکیٹ کو دیکھتا۔
میں انویسٹمنٹ کی فیلڈ میں ایکسپرٹ لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنی ٹیم میں شامل کیا۔ ان کی ایڈوائز کو ہمیشہ مد نظر رکھتا۔ مجھے علم ہے کہ ایک بندے کی صلاحیت محدود ہے اور ٹیم کی صلاحیت زیادہ۔ لوگ میری کامیابی کا راز جاننے کی کوشش کرتے۔ صحافی اور بزنس مین مجھ سے ٹائم لینے کے لیے لڑتے۔ سب کی خواہش ہوتی میری کامیابی کا راز جان سکیں۔ میں جب انھیں حقیقت بتاتا تو وہ کہتے میں مذاق کر رہا ہوں۔
حقیقت میں میری کامیابی کا کوئی سیکریٹ نہیں ہے۔ یہ بھی اس کائنات اور زندگی کے وجود کی طرح ایک اتفاق ہے۔ ہاں تھوڑی محنت میں نے کی لیکن زیادہ تر یہ ایک حسین اتفاق ہی ہے۔
میں ایک کے بعد ایک بزنس میں شئیر ہولڈر بننے لگا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ میرے پاس پیسے اور طاقت میں اضافہ ہوتا گیا۔ مجھے سمجھ نہ آتی کہ میں اتنی طاقت اور پیسے کا کیا کروں۔ میں نے وہ کرنا شروع کیا جو میرے جیسے سارے لوگ کرتے ہیں۔ پارٹیوں میں جانا، فضول چیزیں خرید کر پھینک دینا، مہنگے سے مہنگے کپڑے، گاڑیاں، گھر، پینٹنگز، وغیرہ وغیرہ۔
میں یہ سب کرتے ہوئے بھی خود کو اجنبی محسوس کرتا۔ میرے اندر کاخلا اور اداسی کم نہ ہوتی۔ پارٹیز میں اعلیٰ خاندانوں کی کم عمر اور حسین ترین لڑکیاں میری توجہ حاصل کرنے کے لیے مری جاتیں۔ مجھے ان میں کوئی دلچسپی محسوس نہ ہوتی۔ میں نے مجبوراً یک دو افئیر چلائے۔ ہر لڑکی اندر سے خالی ہوتی۔ ان کے ظاہری روپ کے پیچھے کچھ نہ ہوتا۔ ان کے پاس کوئی ایسی چیز ہی نہ ہوتی جو مجھے متاثر کرتی۔ وہ سمجھتیں، ان کا جسم مجھے متاثر کر دے گا۔ لیکن اس میں بھی کشش محسوس نہ ہوئی۔
جیسے جیسے میری ظاہری طاقت میں اضافہ ہوتا گیا میرے اندر کا ہر ذائقہ، ہر رنگ اور ہر فیلنگ مرتی چلی گئی۔ میں اپنی اندر فیلنگ جگانے کے لیے لوگوں پر طاقت کا رعب جھاڑتا۔ انھیں بے عزت کرتا اور ذلیل کرتا۔ یہ سب کرتے ہوئے بھی مجھے کچھ محسوس نہ ہوتا۔ میں ایک ربوٹ بن گیا جو بغیر کسی محسوسات کے جی رہا ہے۔
مجھے لوگوں سے بھی کوئی مطلب نہ رہا۔ انھیں دیکھتے ہی ان کی شخصیت اور مطلب کو سمجھ جاتا۔ کوئی بھی شخص بغیر مطلب کے کبھی نظر نہ آتا۔ اپنی غرض کے لیے وہ کتوں کی طرح میرے پیروں میں لیٹ جاتے۔ مطلب پورا ہونے کے بعد شیر بننے کی کوشش کرتے۔
لوگوں سے مایوس ہو کر تھوڑا بہت سکون صرف کتابوں اور آرٹ میں ملتا۔ میں فارغ وقت میں شاعری اور ادب کو پڑھتا اور تھوڑ دیر کے لیے خود فراموشی کا شکار ہوتا۔ اچھی پینٹنگ کر دیکھ کر مجھے اپنے اندر کا خلا کم لگنے لگتا۔ لفظوں اور خیالات کا حسن حقیقت سے زیادہ محسوس ہوتا۔ میں نے ڈرنک کرنے کی بھی کوشش کی لیکن نشے کی حالت میں پتا نہیں کیوں میں زارو قطار رونے لگتا۔ میرے ملازمین پریشان ہو جاتے اسی لیے اگر میں نے پینی بھی ہوتی تو کمرے میں خود کو بند کر کے پیتا۔
پارٹیز میں اب بھی مجبور ا جاتا، وہاں خالی نظروں سے تماشے کو دیکھتا۔ ایک پارٹی میں مجھے مورنی نما لڑکی نظر آئی۔ اس کے انداز میں کوئی منافقت نہیں تھی۔ اس کی آنکھوں میں دعوت اور اس کے چہرے پر اس کی قیمت لکھی تھی۔۔ میں اسے گھر لے آیا۔
اس کے انداز میں کوئی ڈر یا شرم نہیں تھی۔ اس نے مجھے اس طرح ٹریٹ نہیں کیا جیسے باقی لڑکیاں کرتیں۔ اس کو دیکھ کر کچھ لمحوں کے لیے عنبر یاد آ گئی۔ اس کی موجودگی میں میرے مردہ جذبات جاگنا شروع ہوئے۔ لیکن یہ سب بھی کسی سودے کی طرح تھا۔ آپ قیمت دیتے ہیں، اور کچھ دیر کے لیے محسوسات خریدتے ہیں۔ میں اس کاروبار کو بھی سمجھ گیا۔ مجھے ان دکانوں کا بھی پتا چل گیا جہاں سے یہ سودا خریدا جا سکتا ہے۔ میرے نزدیک یہ لڑکیاں ایک ایکٹر ہوتیں جنھیں میں اپنی مرضی کا کردار دیتا۔
میں انھیں کبھی عنبر بن کر خود پر تشدد کا کہتا، تو کبھی شنو کی طرح نقاب پوش بن کر بھیک مانگنے کا۔ وہ یہ سب خوشی سے کچھ کرتیں کیوں کہ انھیں اس چیز کے توقع سے زیادہ پیسے ملتے۔ حیرت انگیز طور پر جب یہ بدنام زمانہ عورتیں مجھ پر تشدد کرتیں تو میرے مردہ جذبات جاگ اٹھتے۔ میں ایک رو بوٹ سے انسان بن جاتا۔
ہر لڑکی سے میرا دل کچھ عرصے بعد بھر جاتا۔ کیوں کہ وہ بھی ایک رو بوٹ بن کر یہی کام کرنا شروع ہو جاتی۔ میری یہ کیفیت نفسیاتی بھی نہیں تھی کیونکہ کسی نفسیات دان کو میری کیفیت سمجھ نہ آتی۔ وہ مجھے حیرت سے دیکھتے کہ میں کیا بات کر رہا ہوں۔
ہائی سوسائٹی کے لوگوں میں نفسیاتی مسائل کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ میں اپنے ارد گرد ہر شخص کو ڈپریشن کا مریض پاتا۔ ہر شخص نفسیات دان سے سیشن لے رہا ہوتا۔ کچھ لوگ نشے کی وجہ سے بھی ذہنی امراض کا شکار ہو جاتے۔ پیسے کمانا اور لوگوں پر اپنی طاقت برقرار رکھنا اتنا آسان کام نہیں۔ انسان کے اعصاب جواب دے جاتے ہیں۔ اسی لیے یہ لوگ مذہب اور روحانیت کے بھی قریب ہو جاتے ہیں۔
خود کو مذہبی ظاہر کرنے کا ایک فائدہ یہ ہے، کہ عوام میں آپ کی اور آپ کے بزنس کی شہرت اچھی رہتی ہے۔ دوسرا روحانی سکون تو ملتا ہی ہے۔ امیر اور مشہور لوگوں کی اکثریت کو میں نے بہت زیادہ وہمی دیکھا۔ وہ بات بات پر پریشان ہو جاتے، انھیں لگتا کوئی ان کے خلاف جادو ٹونہ تو نہیں کر رہا۔ وہ اپنی کامیابی کو کسی نہ کسی دعا اور مرشد کی نظر کرم کا نتیجہ سمجھتے۔ اسی لیے سب نے کوئی نہ کوئی روحانی مرشد رکھا ہوتا۔ جو ان کی ترقی، شہرت اور روحانی سکون کے لیے وظائف بتاتا۔ جسے یہ لوگ بہت پابندی سے پڑھتے۔
کبھی کبھی تو کئی بزنس مین اپنے روحانی بابوں کو میٹنگوں میں بھی لے آتے۔ بابا جی کی موجودگی سے میٹنگ میں برکت ڈل جاتی۔ میں ان باتوں کو کسی مذاق سے زیادہ حیثیت نہ دیتا۔
یہ بابے مجھے بھی اپنے کشف سے متاثر کرنے کی کوشش کرتے۔ کبھی شفقت بھری نگاہ ڈالتے، کبھی مجھ پر روحانی پھونکیں مارتے۔
بہت سالوں پہلے مجھے بہت تلخ طریقے سے بابوں کی حقیقت کا علم ہوا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بہت سال پہلے عنبر کی بے وجہ موت نے میری سوچ مکمل طور پر تبدیل کر دی۔ میں اپنی زندگی کے واقعات کو کسی اور ہی طرح دیکھنے لگا۔ میرے ذہن میں زندگی کے مقصد کے بارے میں شکوک و شبہات اٹھنے لگے۔
ہماری اس زندگی کا مقصد کیا ہے؟
ہم کیوں، بے وجہ اتنے دکھ سہتے ہیں؟
اس سارے کام میں خدا کی کیا حکمت ہے؟ اگر کوئی حکمت ہے تو ہمیں بتائی کیوں نہیں جاتی؟
خدا اس سارے ظلم و ستم کو روکتا کیوں نہیں؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ خدا صرف ایک تصور ہے؟ جسے مذہبی پیشواؤں نے لوگوں کو دلاسا دینے کے لیے بنایا ہے؟
میں نے اس بارے میں سیرس انداز سے سوچنا شروع کیا۔ اس سوچ کے لیے میں نے فلسفہ اور سائنس کا سہارا لیا۔ میں نے شروع میں خدا کو ثابت کرنے کی دلیلیں ڈھونڈنا شروع کیں۔ مجھے جو بھی دلیل ملتی اس کے جواب میں اتنی ہی بڑی دلیل کھڑی ہوتی۔ میں جتنا گہرائی سے سوچتا گیا مجھے ساری دلیلیں خدا کے خلاف ہی ملتا شروع ہوئیں۔ جیسے جیسے میرا مطالعہ گہرا ہوتا گیا مجھے معلوم ہوا: تمام جدید علوم، مذہب اور خدا کے باغی ہو چکے ہیں۔
تمام بڑے سائنسدان، سائیکالوجسٹ، فلسفی، تاریخ دان وغیرہ ملحد ہی ہیں۔ موجودہ زمانے کا علم اپنی حقیقت میں خدا سے منہ موڑ چکا ہے۔ جدید انسان آزادی پسند ہے۔ وہ کسی الہامی چیز کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔
اب خدا پر صرف بغیر دلیل کے ایمان لایا جا سکتا ہے۔ عقلی طور پر نہیں؟
میں ذہنی طور پر متشکوک ہو گیا۔ یعنی جو کسی بات پر یقین نہیں رکھتا بلکہ ہر بات پر شک کرتا ہے۔
میں نے کئی سال تک خدا کو عقلی و روحانی طور پر ماننے کی اپنے حد تک کوشش کی۔ مجھے صرف یہی خیال تھا کہ خدا ہی ہے جو میری زندگی اور کائنات کو معنی دے سکتا ہے۔ اگر خد انہیں، تو میرا دکھ بے معنی ہے۔ میرے اندر کا خلا بے معنی ہے۔ ایسی زندگی کو جینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
کوئی خدا ہونا چاہیے۔
مذہبی لوگوں سے میرا دل اکتاچکا تھا۔ ہاں روحانیت اور بابوں کے بارے میں کچھ نرم گوشہ موجود تھا۔ وہ بھی شاید اس لیے کہ دادا کہ مرشد کا بہت اچھا خاکہ میرے ذہن میں موجود تھا۔ یا پھر بچپن میں پڑھے ہوئے اولیاءاللہ کے واقعات میرے لاشعور میں موجود تھے۔
میں نے سوچا، اگر مجھے کوئی صحیح ولی کامل مجھے مل جائے، تو میری زندگی سنور سکتی ہے۔ میرے سوالوں کے جواب مجھے مل سکتے ہیں۔ میرے اندر کا خلا ختم ہو سکتا ہے۔
میں نے مزدوری کے ساتھ ساتھ روحانی بابوں کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ میں ہر جمعرات کو عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر جاتا اور بڑے خلوص سے اپنی روحانی منزل کو پانے کی دعا کرتا۔ میں نے اپنے دل کو صاف کرنا شروع کیا۔ اپنے چچا چچی سمیت تمام لوگوں کو معاف کر دیا۔ میں صرف اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہتا تھا۔ قریب قریب ہر مجذوب کے پیچھے چل پڑتا کہ شاید اس کی ایک نظر سے میرے رستے کھل جائیں۔
لیکن نہ میرے اندر کوئی تبدیلی آئی اور نہ ہی میرے راستے کھلے۔
ایک دن میں دکان پر بیٹھا اردو اخبار پڑھ رہا تھا کہ ایک مشہور صحافی نے کسی بہت بڑے بزرگ کا ذکر کیا۔ اس صحافی کے بقول یہ بزرگ اس دور کے مجدد اور عارف ہیں۔ وہ ہر ہفتے کو کراچی میں محفل لگاتے ہیں جہاں عوام کا جم غفیر حاضری کے لیے حاضر ہوتا ہے۔ میں بہت خوش ہوا اور اگلے ہی ہفتے بزرگ سے ملنے پہنچ گیا۔
بابا جی ڈیفنس کی کسی کوٹھی میں محفل لگاتے تھے۔ میں وہاں آنے والے لوگوں کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ ان سب کی گاڑیاں اور حلیے دیکھ کر میں یہ سوچنے لگا کہ اتنے امیر لوگوں کو کیا مسائل ہو سکتے ہیں۔ ہر ایک کے ہاتھ میں تسبیح نظر آئی۔ جسے وہ مسلسل کر رہا تھا۔ لوگوں کے بیٹھنے کے لیے کرسیاں رکھی تھیں۔ ایک اسسٹنٹ لوگوں کو باری باری اندر بھیجتا۔ اندر کا کوئی ٹائم فکس نہیں تھا کوئی پندرہ منٹ لگاتا تو کوئی پندرہ سیکنڈ میں باہر آ جاتا۔ میرا حلیہ اور لباس اتنا معمولی تھا، کہ سب لوگوں نے عجیب نظروں سے دیکھا، جیسے میں کوئی جانور ہوں۔
پتا نہیں اسسٹنٹ لوگوں کو کس حساب سے اندر بھیجا جا رہا تھا۔ میرے بعد میں آنے والے بھی اندر چلے گئے۔ میں صبح سے شام تک وہاں انتظار کرتا رہا۔ جب سب لوگ چلے گئے تو پھر میری باری آئی۔ مجھے اندر بھیجتے ہوئے نوجوان اسسٹنٹ کے چہرے پر عجیب سی بیزاری تھی۔ اندر کا ماحول ایسا تھا، جیسے کسی بہت بڑے افسر کا کمرہ ہو۔
بابا جی ایک بہت بڑی میز کے پیچھے بیٹھے تھے۔ انھیں دیکھ کر میں چونکا۔۔
میں سمجھا کوئی سفید داڑھی اور جبے کلے والے بزرگ ہوں گے۔ یہ تو کلین شیو اور پینٹ کوٹ پہنے ہوئے تھے۔ ان کی عمر کوئی ستر کے لگ بھگ ہو گی۔ آنکھوں میں چمک اور چہرے پر تازگی۔ میں نے بڑے مؤدبانہ انداز سے انھیں سلام کیا جس کا انھوں میں بے رخی سے جواب دیا۔
انھوں نے مجھے بیٹھنے کے لیے نہیں کہا۔ اسی لیے میں نے کھڑے کھڑے ہی اپنا نام اور مدعا بیان کیا۔ بابا جی نے اپنی تسبیح پھیرتے ہوئے آنکھیں بند کیں۔ کچھ دیر بعد خود کلامی کے انداز میں بولنے لگے۔
انھوں نے مجھے میرے بارے میں کچھ موٹی موٹی باتیں بتائیں۔ تو میں بہت متاثر ہوا کہ بابا جی کو تو سب کچھ معلوم ہے۔ بابا جی ہر بات ڈھکے چھپے انداز میں کرتے۔ جس کی مکمل سمجھ ہی نہ آتی۔ انھوں نے مجھے پڑھنے کے لیے کافی لمبی چوڑی تسبیح بتا دی۔
میں ان سے بہت کچھ پوچھنا چاہا لیکن بابا جی کے اسسٹنٹ نے پیچھے سے آ کر مجھے ملاقات ختم کرنے کا حکم دیا۔ مجھے ابھی اندر گئے ہوئے ایک منٹ ہی ہوا تھا۔ مجھے شدید تشنگی محسوس ہوئی۔
واپس آ کر میں نے بابا جی کی بتائی ہوئی باتوں کو سوچنا شروع کیا۔ مجھے بابا جی کی باتوں سے تھوڑی تسلی ہوئی۔ میں نے بابا جی کا بتایا ہوا ذکر با قاعدگی سے کرنا شروع کیا۔ ایسا لگنے لگا کہ بس کچھ ہی عرصہ میں میری روحانی منزمل کھل جائے گی۔ میں ہر وقت اپنے آپ کو عبادات اور ذکر ازکار میں مصروف رکھتا۔ میری زبان پر ہر وقت ذکر اور میری سوچ میں صرف اللہ کاہی خیال رہتا۔
میں نے اللہ کو محبوب حقیقی کے طور پر یاد کرنا شروع کیا۔ مجھے ہر شعر کا حقیقی مفہوم سمجھ آتا۔ میں نے یہ جان لیا: خدا ہی محبوب حقیقی ہے۔ ساری محبتیں اور چاہتیں اسی کے لیے ہونی چاہئیں۔ بازاری گانوں کو سن کر بھی خدا ہی یاد آتا۔
تیرا میرا رشتہ ہے کیسا اک پل دور گوارا نہیں
تیرے لیے ہر روز ہیں جیتے تجھ کو دیا میرا وقت سبھی
کوئی لمحہ میرا نہ ہو تیرے بنا، ہر سانس پہ نام تیرا
کیوں تم ہی ہو، اب تم ہی ہو، زندگی اب تم ہی ہو
ایک سال گزر گیا۔ میرے اندر کوئی تبدیلی نہ آئی۔ میری زندگی ویسی ہی رہی۔ نہ اندر کا خلا ختم ہوا اور نہ ہی باہر کی زندگی میں کوئی تبدیلی آئی۔ میں یہ سوچنے لگا کہ شاید میں ہی کوئی چیز غلط کر رہا ہوں۔ میں نے سوچا کہ بابا جی سے ہدایت لینے دوبارہ جاتا ہوں۔ اس بار پھر کافی رش تھا، جیسے ساری دنیا ہی روحانی مسائل کا شکار ہو۔
چلو میرے جیسے غریب بے گھر انسان کو تو مسائل ہو سکتے ہیں ان بڑے لوگوں کو کیا تکلیف ہے۔ مجھے بابا جی کے پاس جانا تو اچھا لگتا۔ پر وہاں آئے لوگ اپنی نظروں سے مجھے دفع ہو جانے کا اشارہ کرتے۔ میں ان نظروں کو اگنور کرنے کی پوری کوشش کرتا۔
اس بار میری باری جلدی آئی، مگر یہ کیا۔۔
بابا جی نے مجھے اس طرح دیکھا جیسے میں پہلی بار آیا ہوں۔ انھیں جیسے اس بات کا بھی علم ہی نہ ہو کہ میں پچھلے ایک سال سے کتنے خشوع و خضوع سے ذکر کر رہا ہوں۔
میں نے انھیں روحانی اور مادی مسائل بتائے۔ بابا جی نے حکم دیا: بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر کر لو تو سارے معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔ ساتھ ساتھ یہ ذکر جاری رکھو۔
اس بار بھی بابا جی کے اسسٹنٹ نے مجھے ایک منٹ کے بعد باہر نکال دیا۔
یہ کیا بات ہوئی، باقی لوگوں کے لیے آدھا گھنٹہ اور میری بات بھی مکمل نہیں ہونے دی جاتی۔
میں نے واپس آ کر کچھ دن کے بعد بزنس ایڈمنسٹریشن میں داخلہ لے لیا۔ میری زندگی میں تھوڑی مصروفیات بڑھ گئیں۔ دن میں دکان اور شام میں یونیورسٹی اور ساتھ میں اتنا ڈھیر سارا وظیفہ۔ میں کسی بات سے مایوس نہیں ہوا۔
میں نے عہد کیا: اللہ کی یاد کو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ میری ذہن پر صرف اور صرف ایک خیال چھایا رہتا۔ میرے ہونٹ ہلتے رہتے اور میں اپنے ہی اندر ڈوبتا جاتا۔ لیکن سال گزرنے کے ساتھ ساتھ میرے اندر کوئی تبدیلی نہ آئی۔
کیا میرے اندر کوئی خرابی ہے؟
میں ہر کچھ عرصے کے بعد بابا جی کے بعد ملنے کی کوشش کرتا، پر ان سے ملاقات نہ ہوپاتی۔ ان کا اسسٹنٹ ہمیشہ کہتا، وہ کسی بڑی شخصیت کے ساتھ میٹنگ میں ہیں۔
یہ بڑی شخصیات مشہور صحافی، سیاست دان، جرنیل، اور بزنس مین ہوتیں۔ یہ لوگ اپنی بڑی بڑی گاڑیوں میں بابا جی کو ملنے آتے۔ تحفے تحائف بھی لے کر آتے۔ میرے دل میں بابا جی کی عظمت کم نہ ہوتی۔ میں یہی سمجھتا: بابا جی ایک حقیقی ولی اللہ ہیں جو دنیا کو چھوڑ چکے ہیں۔ وہ ان بڑے لوگوں سے بھی اسی لیے ملتے ہیں تاکہ انھی بھی دین کا پیغامد ے سکیں۔ میں گھنٹوں باہر بیٹھا میٹنگ ختم ہونے کا انتظار کرتا، جیسے ہی میٹنگ ختم ہوتی بابا جی گاڑی میں بیٹھ کر چلے جاتے۔ میں دور کھڑا تکتا رہتا۔
مجھے شدید ذلت اور دھتکارے جانے کا احساس ہوتا۔
کبھی مختصر سی ملاقات ہوبھی جاتی، تو بابا جی میرے سوالوں کا جواب دینے کے بجائے دوبارہ سے وہی تسبیح پڑھنے کو دے دیتے۔ میں انھیں بتانے کی کوشش کرتا: میں نے اسم اعظم سوا کروڑ بار پڑھ لیا ہے لیکن میرے اندر تبدیلی نہیں آ رہی۔۔
مجھے بتائیں کے میری اندر خرابی ہے یا میری تسبیح پڑھنے میں۔
بابا جی کسی بات کا سیدھا جواب نہ دیتے۔ ان سے ہر ملاقات کے بعد میں زیادہ شدت سے ذکر ازکا رشروع کر دیتا۔ شاید اب کچھ تبدیلی آ جائے اور میرے اندر کی آنکھ کھل جائے۔
اب میں نے سوچنا شروع کیا کہ بابا جی کے علاوہ بھی تو اللہ کے ولی ہوں گے۔۔ انھیں بھی تو ڈھونڈنا چاہیے۔ اردو ناول نگاروں اور صحافیوں کو ہر وقت بابے ملتے ہیں، مجھے کیوں نہیں ملتے؟
ایک بندے سے ایک اور بابا جی کا پتا چلا جو بہت بڑے صاحب کشف و کرامت ہیں۔ وہ بندے کو دیکھتے ہی اس کے مسائل جان لیتے ہیں۔ ان کی ایک دعا سے سارے مسئلے حل ہو جاتے ہیں۔
میں ان کے پاس پہنچ گیا۔ یہاں بھی گاڑیوں کی لائن اور امیر لوگوں کی بہتات نظر آئی۔ یہ روحانی دنیا پر بھی امیر لوگوں کا ہی قبضہ ہے۔ میرے جیسے غریبوں کے لیے تو روحانی دنیا کے دروازے بھی بند تھے۔ خیر یہاں بھی گھنٹوں انتظار کے بعد باری آئی تو اندر ایک بیوروکریٹ نما صوفی کو بیٹھے دیکھا۔
ان کے چہرے ہر غصہ ان کی جلالی طبیعت کو ظاہر کرتا تھا۔ بابا جی نے بھی سلام کا جواب نہ دیا اور نہ ہی بیٹھنے کو کہا۔ میں تھوڑی دیر خاموش رہا کہ شاید بابا جی میری شکل دیکھ کر ہی میرے سارے مسائل کو سمجھ کر شفقت فرمائیں گے۔
کچھ دیر گزری تو بابا جی نے کہا
ہاں جی کیوں آئے ہو؟ مجھے ان کے لہجے کی سختی اور حقارت بہت چھبی۔
بس شاہ جی حاضری دینے آیا ہوں۔ باقی باتیں آپ جانتے ہی ہیں
نام بتاؤ اور مسئلہ کیا ہے؟
میں پریشان ہوا! بابا جی تو شکل دیکھتے ہی مسئلہ سمجھ جاتے ہیں۔ اب میں انھیں کیا بتاؤں کہ میرے اندر کی آنکھ کھول دیں۔
بس بابا جی زندگی ساری ہی مسئلوں سے بھری ہوئی ہے کیا بتاؤں۔
اوے نام کیا ہے تمھارا؟ بابا جی نے غصے اور بیزاری سے کہا۔
میں پریشان ہوا۔۔
میں نے اپنا نام بتایا تو انھوں نے پوچھا کہ میں نے تعلیم کتنی حاصل کی ہے؟
بابا جی نے تو انٹرویو ہی شروع کر دیا ہے۔
جی میں بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کر رہا ہوں۔
انھوں نے آنکھیں بند کر کے کشف لگایا۔
تمھارے لیے بزنس ایڈمنسٹریشن ٹھیک نہیں ہے تمھیں انگلش میں ماسڑ کر کے ٹیچنگ کرنی چاہیے۔
مجھے حیرت کا جھٹکا لگا۔۔
ایک بابا جی نے کشف سے یہ بتایا کہ مجھے بزنس ایڈمنسٹریشن کرنا چاہیے۔ دوسرے نے کہا انگلش میں ماسڑ کرو۔ اگر دونوں ہی ٹھیک ہیں تو پھر میں کیا کروں؟ کیا بزنس ایڈمنسٹریشن ادھورا چھوڑ کر انگلش میں ماسٹر شروع کر دوں۔
بابا جی نے بھی مجھے پڑھنے کے لیے کئی وظائف دیے۔ جو میں نے اپنی روٹین میں شامل کر لیے۔
میں نے ان بابا جی کے دربار پر بھی کئی بار حاضری دی۔ ہر بار وہ پہلے سے زیادہ غصے میں ہوتے۔
میں نے دیکھا کسی بھی امیر بندے کے ساتھ غصے والا رویہ نہ رکھا جاتا۔ اسی لیے کئی صحافی اخبار کے کالموں میں بابا جی کے اچھے اخلاق کی تعریفیں کرتے۔ انھیں بڑی عزت سے بٹھایا جاتا ان کے مسئلے کو بڑے دھیان سے سنا جاتا اور پھر تبرک کے طور پر چیزیں دی جاتیں۔
میری باری آتی تو بابا جی کیا، دروازے پر کھڑا اسسٹنٹ بھی بیزرا دکھائی دیتا۔ تین چار ملاقاتوں کے بعد میں ان بابا جی کے پاس جانا چھوڑ دیا کہ کہیں اپنے جلال میں مجھے جلا کر بھسم ہی نہ کر دیں۔
بابوں کی تلاش میں کئی شہروں اور مزاروں کی بھی خواری کاٹی۔ ایک بابا جی کا سنا جنھوں نے اپنی آپ بیتی میں دعوی کیا کہ ان کے پاس اسم اعظم ہے۔ ان کو فون کیا کہ روحانیت کے معاملے میں رہنمائی کریں۔ جواب ملا:
او جاہل انسان !۔۔ میرا قیمتی وقت ضائع نہ کر، پہلے میری شہرہ آفاق کتاب خرید کر پڑھ۔
میں نے فوراً بابا جی کی کتاب پڑھی۔ اس میں بابا جی نے اپنی ایسی ایسی کشف و کرامات لکھیں کہ یقین ہو گیا کہ ان سے بڑا ولی اللہ کوئی نہیں ہے۔ کتاب پڑھنے کے بعد بابا جی سے ملاقات کی کوشش شروع کر دی۔ پر بابا جی ہاتھ ہی نہ پکڑاتے۔ کئی مہینوں کی کوشش کے بعد بابا جی نے لاہور میں اپنے گھر پر آنے کو کہا۔ کئی گھنٹوں کا سفر کر کے جب لاہور پہنچا تو بابا جی نے ملاقات سے انکار کر دیا اور وجہ بھی نہیں بتائی۔
پانچ سال گزر گئے۔ ذکر اور وظائف کا سلسلہ جاری رہا۔ تعلیم بھی مکمل ہو گئی۔ مگر زندگی میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ وہی دکان کی نوکری، اندر وہی خالی پن۔ میں پہلے والے بابا جی کے پاس پہنچا، تاکہ ان سے آگے کی رہنمائی لوں۔ بابا جی اس بار بھی بہت ہی مشکل سے ملے۔
پہلے تو پہچانے نہیں، پھر ذکر ازکار کے معاملے میں وہی گول مول باتیں کرنا شروع کیں۔ انھیں معلوم ہی نہ ہوا کہ میں کروڑوں مرتبہ پابندی سے درود شریف اور اسم اعظم پڑھ چکا ہوں۔
بابا جی میں نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر کر لیا ہے اب آگے کی رہنمائی کریں۔
یہ کرنے کا تمھیں کس نے کہا تھا؟ یہ تو بالکل بھی تمھارے مزاج کے مطابق نہیں ہے۔
ایک بجلی گری۔
لیکن۔ ۔
آپ ہی نے تو۔ ۔ ۔ میری زبان رک سی گئی۔
اس سے پہلے کے میں ان سے کچھ کہتا ان کا اسسٹنٹ مجھے اٹھانے آ گیا اس دن میں اٹھنے کے موڈ میں نہیں تھا، میں نے اسسٹنٹ کا ہاتھ جھٹک دیا۔
بابا جی یہ کیا بات ہوئی، پانچ سال بعد آپ مجھے کہہ رہے ہیں کہ بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر کرنے کا کس نے کہا تھا۔
آپ۔۔ آپ نے ہی مجھے ایسا کرنے کو کہا تھا۔
بابا جی نے میرا احتجاج سنا ان سنا کر دیا۔
ان کا اسسٹنٹ مجھے زبردستی اٹھانے کے لیے آگے بڑھا۔
بابا جی یہ کیا ڈرامہ ہے، یہ کیسا کشف ہے جہاں آپ کو یہ بھی نہیں پتا: میں کتنے سالوں سے راہ حق کا مسافر ہوں۔
آج مجھے جواب چاہیے، یہ کیا مذاق ہے کہ ہر بار زبردستی اٹھا دیا جاتا ہوں۔
کبھی تو میرے سوالوں کا جواب دیں۔ میرے اندر کا غصے باہر نکل آیا۔ میری آواز اونچی ہو گئی۔
میں کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا۔ مگر اس سے پہلے میری منہ پر ایک زور دار گھونسا پڑا۔ میں منہ کے بل نیچے گر پڑا۔ پھر دو بندوں نے مجھے لاتوں اور مکوں سے مارنا شروع کر دیا۔ یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ مجھے کچھ سوچنے سمجھنے کا ٹائم نہ ملا۔ بابا جی خاموشی سے تسبیح کرتے رہے۔ ان کے چہرے پر کوئی تاثر نظر نہ آیا۔ میرے ناک سے خون نکلنے لگا اور پسلیوں کے ٹوٹنے کا احساس ہوا۔
مجھے یہ سزا بابا جی کے دربار میں گستاخی پر دی گئی۔ جب وہ مجھے مار مار کر تھک گئے تو لوگوں سے چھپ چھپا کر پچھلے دروازے سے باہر لے جا کر گھر سے دور ایک ویران جگہ پر پھینک دیا۔
کافی دیر نیم بیہوشی میں رہنے کے بعد میں آہستہ آہستہ اٹھا اور قریب موجود بیچ پر بیٹھ گیا۔
اس دن کئی سالوں بعد میں پھوٹ پھوٹ کر رویا۔
دکھ اس بات کا نہیں تھا کہ بابا جی نے جلال دکھاتے ہوئے میرا پٹائی کروائی۔
اس دن ساری امیدیں دم توڑ گئیں۔
میرا ایمان مجھ سے چھن گیا۔
مجھے اپنے ایمان کے ختم ہونے کا بہت دکھ ہوا۔ اس دن میرے اندر پوری کائنات کا خلا سما گیا۔ ایک ایسا خلا جو کائنات کی طرح پھیلتا ہی جاتا ہے۔ ایسی کائنات جس کا کوئی خدا نہیں ہے۔ جو خود بخود پیدا ہوئی ہوئی اور خودبخود قائم ہے۔
خدا کے خیال سے محروم ہونا ایک کرب انگیز تجربہ ہوتا ہے۔ ایک لمحہ آپ کے سینے میں خدا کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ اگلے ہی لمحے آپ کا سینہ خالی ہو جاتا ہے۔ آپ کے اندر ایک لامتناہی خلا پیدا ہو جاتا ہے۔ پھر کوئی دلیل آپ کو خدا کے بارے میں قائل نہیں کر سکتی۔
اس بے مقصد زندگی کے کھیل بھی نرالے ہیں میرا خدا اسی جگہ چھنا جہاں میں اسے ڈھونڈنے گیا تھا۔
دادا انقلاب کی خاطر محبت کو روتا چھوڑ آئے، ابا ناکام زندگی کے بعد نشہ کرنے لگے، اماں میری تصویر دیکھ کر روتی تھیں، عنبر نے محبت میں ناکامی کے بعد اپنی نسیں کاٹ لیں، چچی عنبر کی یاد میں پاگل ہو گئیں۔ چچا سوتیلی بیٹی کے غم میں قیدیوں کو مارتے رہتے، گلاب خان نابینا آنکھوں سے اپنی دکان تلاش کرتا، شنو رونق بازار بن گئی اور میں سالوں خدا کو ڈھونڈنے کے بعد اس سے محروم ہو گیا۔
اس دن کے واقعات نے میرے اندر بہت سی چیزیں ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیں۔ میں نے فیصلہ کیا اب کسی کے آگے سر نہیں جھکاؤں گا، چاہے اس میں زندگی برباد ہو جائے۔
کسی وہم، جادو ٹونے اور روحانی بات کو نہیں مانوں گا
کسی سے نہیں پوچھوں گا میں نے کرنا کیا ہے بلکہ اپنا مقدر خود بناؤں گا۔
اپنے اندر کے خلا اور زندگی کی بے مقصدیت کو حقیقت مان کر زندگی گزاروں گا۔
اس دن کے بعد میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اور ایک کے بعد ایک کامیابی میرے قدم چومتی گئی۔ میں کئی سال تک روحانی بابوں کے پیچھے لگا رہا کہ یہ مجھے بتائیں گے کہ میرا مقدر کیا ہے جبکہ میرا مقدر تو ہر وقت میرے اپنے ہاتھ میں تھا۔
ہر طرح کی پابندی صرف کمزور لوگوں کے لیے ہے۔ طاقت ور انسان کو کسی چیز کا لحاظ نہیں ہوتا۔ جب آپ کے پاس پیسہ اور طاقت ہو تو یہ مذہبی و روحانی لوگوں کو خود بخود آپ کے قریب ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔
کئی سال بعد وہی بابے مجھے وقت دینے کو تیار رہتے۔ مجھے خاص روحانی محفلوں میں شرکت کی دعوتیں ملتیں۔ اب مجھے ان چیزوں میں کوئی کشش نہیں رہی۔
میں نے بابا جی اور ان کے کارندوں سے اس شام کی پٹائی کا بدلہ نہیں لیا۔ کیونکہ میرے نزدیک یہ میرے محسن ہیں جنھوں نے میری پٹائی کر کے عقیدت اور جہالت کا جن میرے اندر سے نکال دیا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو میں باقی عوام کی طرح ساری زندگی ان کے قدموں میں بیٹھا خدا کو ڈھونڈ رہا ہوتا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مجھے اتفاق اور اپنی محنت سے پیسہ، طاقت اور عزت مل گئی۔ پر میری زندگی کی بے معنویت اور خلا بہت بڑھ گیا۔ میں غربت میں بھی اتنا ہی خالی تھا، جتنا پیسہ آنے کے بعد خالی ہوں۔ مجھے اپنے انسان ہونے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ مجھے کسی کامیابی پر خوشی نہیں ہوتی۔ کسی چیز کے چھن جانے پر دکھ نہیں ہوتا۔ کوئی چیز خالص اور پاکیزہ نہیں لگتی۔ کسی شخص، جگہ، یا چیز سے تعلق ہی محسوس نہیں ہوتا۔ میں ایک رو بوٹ کی طرح ہر کام کرتا اور کامیاب ہوتا جاتا۔
لیکن یہ کامیابی اور ناکامی کس لیے ہے۔ ڈاکٹروں اور سائیکیٹرسٹس اس کی کوئی تشخیص نہیں کرپاتے۔ ایک مذہبی سے سائکیٹریسٹ کو جب یہ پتا چلا کہ میں ملحد ہوں تو اس نے کہا کہ میری بیماری کا تعلق جسم سے نہیں ہے بلکہ روح سے ہے۔
یہ سائیکٹرسٹ مجھے کسی عقل مند الو کی طرح لگتا تھا۔
تیمور میرا خیال ہے تم اگر دل سے خدا کو مان لو تو تمھاری یہ بیماری ٹھیک ہو سکتی ہے۔
میں نے بڑی حیرانی سے اس سائیکیٹرسٹ کو دیکھا جو امریکہ سے پڑھے ہونے کے باوجود ایسی دقیانوسی باتیں کر رہا ہے۔ کیا اس کی تعلیم اسے یہ نہیں بتاتی کہ مادے سے آگے کوئی چیز وجود نہیں رکھتی۔
اشفاق صاحب میں نے کئی سال خدا کو سچے دل سے ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔ بابوں کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق دل کی گہرائیوں سے کروڑوں مرتبہ خدا کو پکارا ہے۔ مجھے کچھ محسوس نہ ہوا۔
میرے اور خدا کی تلاش کے درمیاں تو مولوی اور بابے خود آ کر کھڑے ہو گئے۔ انھیں دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ خدا موجود نہیں ہے
ادھیڑ عمر سائکیٹرسٹ میری بات سن کر مسکرایا
نئے دیوانوں کو دیکھیں تو خوشی ہوتی ہے
ہم بھی ایسے ہی تھے جب آئے تھے ویرانے میں
تیمور! کیا تم نے خدا کو صرف اس لیے چھوڑ دیا کہ اس کے نام پر لوگوں نے مذہب و روحانیت کا کاروبار چلایا ہوا ہے؟ سائیکریٹرسٹ نے ہمدردانہ لہجے میں پوچھا۔
ہاں ! یہ وجہ بھی ہے۔ زیادہ مسئلہ اندر کا ہے۔ مجھے اپنے اندر کبھی بھی خدا کے ساتھ کوئی تعلق محسوس نہیں ہوا۔ اسے کروڑوں مرتبہ پکارنے کے باوجود رائی برابر بھی اس کا قرب نہیں ملا۔
مجھے اپنے ارد گرد صرف ظلم، دکھ اور پریشانیاں ہی نظر آتیں ہیں۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ خدا اتنا رحم دل ہونے کے باوجود اس ظلم کو کیوں نہیں روکتا۔ اکثرلوگ اپنے دل میں خدا کے ساتھ ایک مضبوط تعلق محسوس کرتے ہیں۔ وہ خدا سے اپنا دکھ درد شئیر کرتے ہیں۔ وہ اس سے دعائیں مانگتے ہیں اس سے شکوے کرتے ہیں۔ میں نے کبھی اتنا مضبوط تعلق محسوس نہیں کیا۔۔
مجھے اپنے اندر صرف ایک خلا محسوس ہوتا ہے جیسے میں صرف خول ہوں اور اندر کچھ نہیں ہے۔
تیمور میرے خیال سے تمھیں اپنے تمام رشتوں سے ہمیشہ دھوکہ ملا ہے اسی لیے تم خدا سمیت کسی سے بھی کوئی تعلق محسوس نہیں کرتے۔
شاید ایسا ہی ہو۔ تو کیا آپ کہنا چاہتے ہیں میرے الحاد کی بنیادیں عقلی نہیں جذباتی ہیں۔
تیمور ہماری جدید ریسرچ تو یہی کہتی ہے کہ عقل جذبات کی لونڈی ہوتی ہے۔
میں آپ کے علم سے اختلاف نہیں کر سکتا۔ مگر میں نے کئی سال خدا کو ماننے کی سنجیدہ کوشش کی ہے۔ اس وقت بھی میرے اندر کا خلا ختم نہیں ہوا۔ شاید آپ کہہ سکتے ہیں میرا ایمان اتنا مضبوط نہیں تھا۔
تیمور میں کسی حد تک تمھاری بات سمجھ سکتا ہوں کیوں کہ جوانی میں کئی سال میں بھی خدا کے وجود کا منکر رہا ہوں۔ تمھیں خالی پن محسوس ہوتا ہے مجھے بے چینی محسوس ہوتی تھی۔
لیکن پھر اللہ کے فضل سے یہ کفر ٹوٹا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں کئی سال تک اپنے اندر بے چینی محسوس کرتا رہا
(سائیکیٹرسٹ اشفاق نے خدا کو کیسے کھویا اور پایا)
میری ساری تربیت مذہبی ماحول میں ہوئی، اسی لیے میں بہت کٹر مذہبی تھا۔ میں نے کبھی نماز روزہ نہیں چھوڑا، روزانہ قرآن پاک کی تلاوت اور ترجمہ پڑھتا۔ میں بچپن اور نوجوانی میں ان تمام فضول حرکتوں سے باز رہا، جن میں میری عمر کے سارے لوگ مشغول رہتے۔ میں نے بہت چھوٹی عمر سے ہی ڈاکٹر بن کر انسانیت کی خدمت کا فیصلہ کیا۔
میرے والد یونیورسٹی میں اردو کے استاد تھے اور والدہ گائیناکالوجسٹ۔ میں نے اپنی زندگی میں اپنی والدہ سے زیادہ اچھے رحم دل اور اچھے اخلاق والی خاتون نہیں دیکھیں۔ وہ اپنے پیشے کو انسانیت کی خدمت سمجھ کر کرتیں۔ کبھی کبھی تو چوبیس گھنٹے بھی ڈیوٹی پر رہتیں۔ اپنی ساری مصروفیت کے باوجود وہ عبادتوں میں کبھی کوتاہی نہ کرتیں۔ اپنی تنخواہ سے غریبوں کی چھپ چھپ کر مدد کرتی رہتیں۔
میرے والد جوانی میں اتنے مذہبی نہیں تھے لیکن میری والدہ کے ساتھ رہ کر ان میں بھی تبدیلی آ گئی۔ میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا۔ میری پیدائش کے وقت جو کملیکیشنز آئیں اس کے بعد میری والدہ کے ہاں دوسری اولاد نہیں ہوئی۔ اس کمی پر بھی میری والدہ نے کبھی شکوہ شکایت نہیں کی۔ انھوں نے میرے والد سے کہا کہ وہ مزید اولاد کے لیے دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں تو خوشی سے کر لیں۔ والد صاحب نے ایسا نہ کیا۔
میں نے اپنی اپنی والدہ سے انسپائر ہو کر ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھا۔ ہر امتحان میں کامیابی حاصل کی اور کنگ ایڈورڈ سے ایم بی بی ایس کر لیا۔ یونیورسٹی کے دوران میرا شوق سائیکیٹری کی طرف ہوا۔ میں نے اس شعبہ میں مزید تعلیم حاصل کرنے کا سوچا۔ میری والدہ نے مجھے سپانسر کیا اور میں امریکہ چلا گیا۔
جیسے جیسے اپنی فیلڈ کا علم حاصل کرتا گیا، میرا ایمان کمزور ہونے لگا۔ سائکیٹری فیلڈ ہی ایسی ہے انسانی دماغ اور نفسیات میں جتنا گھستے جاؤ ہمارے ارد گرد پھیلی توہمات سے دل اٹھ جاتا ہے۔ انسان بہت عقلی ہو جاتا ہے۔ ایک سٹڈی کے مطابق سب سے زیادہ ایتھسٹ بننے کا رجحان سائیکیٹرسٹ اور رائٹرز میں ہوتا ہے۔
میں ہر چیز کو سائنس کے پیمانے سے دیکھنے لگا۔ سائنس نے مذہب اور خدا پر جو اعتراضات اٹھائے وہ مجھے صحیح لگے۔ میرا دنیا دیکھنے کا زاویہ اور زندگی کا مقصد بھی تبدیل ہو گیا۔ اب میں انسانیت کی خدمت کے بجائے صرف پیسہ کمانا چاہتا تھا۔ میرے لیے صرف اپنی خوشیوں کی اہمیت رہ گئی۔ میں نے مذہب و اخلاقیات کی ساری حدیں پا رکرنا شروع کر دیں۔ میں ہر رات آفس سے تھکا گھر آتا اور شراب کے نشے میں دھت ہو جاتا۔ میری زندگی میں کئی لڑکیاں آئی گئیں لیکن کسی سے محبت نہیں ہوئی۔
کچھ سال امریکہ میں پریکٹس کرنے کے بعد میں وہاں کی زندگی کی تیزی اور بے معنویت سے تنگ آ گیا۔ مجھے اپنی آزادی بھی چھبنے لگی۔ میرے والدین بوڑھے ہو گئے۔ وہ اصرار کرتے میں پاکستان واپس آ کرشادی کروں اور گھر بساؤں۔ وہ بڑھاپے میں اپنے پوتے پوتیوں کو کھلانا چاہتے تھے۔ خاص طور پر میری والدہ بہت اصرار کرتیں۔ وہ کئی بار میرے پاس امریکہ آئیں۔ میری تنہائی اور الحاد دیکھ کر پریشان ہو جاتیں۔ پر ان کی محبت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ کہتیں جوانی میں اکثر لوگ مذہب سے بغاوت کرتے ہیں، لیکنعمر گزرنے کے ساتھ سب ٹھیک ہو جاتے ہیں۔
میں ان کے بے حد اصرار پر پاکستان آ گیا۔ یہاں بھی میرا دل نہ لگا۔ پتا نہیں مجھے کس چیز کی تلاش تھی۔ میں نے ڈیفنس میں اپنی پریکٹس شروع کی۔ جلد ہی میرا کام زور و شور سے چل پڑا۔ میرے سارے کلائنٹس بہت امیر ہوتے جو پرائیوسی کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ امیر لوگوں میں ڈرگز اور ورک لوڈ کی وجہ سے ذہنی مسائل زیادہ ہوتے ہیں۔ میری والدہ مجھے رشتے کے لیے لڑکیاں دکھاتی رہتیں۔ ساری الیٹ فیملیز سے ہو تیں مگر میر ادل کسی پر بھی نہ آتا۔
مہینے اور سال گزرتے گئے۔ میرے اندر بھی کچھ عجیب سی بیچینی تھی جو مجھے کسی بھی حال میں خوش نہ رہنے دیتی۔
کسی این جی او نے کچی بستی میں ذہنی مسائل کے حل کے لیے فری کیمپ لگایا۔ میں ایسے کاموں سے دور ہی رہتا تھا۔ میری والدہ نے مجھے زبردستی حکم دیا کہ وہاں جاؤں اور پورا ہفتہ غریبوں کا مفت علاج کروں۔ میں نے سوچا، چلو کچھ تبدیلی آباو ہوا ہی ہو جائے گی۔ اب والدہ کو کیا ناراض کروں۔ میں نے اپنی ساری اپوائنٹ منٹس آگے کیں اور چل پڑا۔
وہاں زیادہ تر ایسے لوگ تھے جو نشے کی وجہ سے ذہنی مسائل کا شکار ہوئے۔ مجھے پہلے تو ان لوگوں سے آلکس آئی۔ بعد میں احساس ہوا یہ لوگ اتنے برے بھی نہیں ہیں بس حالات کے ستائے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کی زندگی دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ وہ لوگ روٹی کپڑا اور مکان کو ترستے۔ ان کے بیمار بغیر علاج کے ہی مر جاتے۔ میں نے ایک ہفتے کے بجائے دو ہفتے وہاں لگائے۔ کئی لوگوں کو ری ہیبی لیٹیشن سینٹر میں داخل کروا یا۔ کئی عورتوں کو بتایا کہ ان کے اندر کوئی جن نہیں ہے۔ نہ ہی کسی نے ان پر جادو کیا ہے۔
آخری شام میں اکیلا بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔ ایک دبلا پتلا بوڑھا شخص اندر آیا۔ اس کے کپڑے میلے تو نہیں پر بہت پرانے تھے۔ اس کی شخصیت میں کوئی بھی خاص بات نظر نہیں آئی۔ میں نے یہی سمجھا کہ کوئی مریض ہے۔ ایسے بوڑھوں کو گھر والے سٹھیا یا ہوا سمجھتے ہیں۔ ان کی سوچ بھی پرانی ہو جاتی ہے اور مزاج میں چڑچڑاپن آ جاتا ہے۔ انھیں غصے اسی بات کا ہوتا ہے، کہان کے پیاروں نے انھیں اہمیت دینا چھوڑ دی ہے۔ اور اب ان کی زندگی کسی کام کی نہیں ہے۔
میں نے اس بابے کو غور سے دیکھا اور کچھ سوالات کیے۔ اس نے کسی بات کا جواب نہیں دیا اور مجھے خاموشی سے دیکھتا رہا۔ میں نے اسسٹنت کو آواز دی کے دیکھے اس بابے کے ساتھ کوئی آیا ہے کہ نہیں۔
معلوم ہوا کہ وہ اکیلا ہی ہے۔ میں یہی سمجھا کہ اس بابا جی کا ذہنی توازن بگڑا ہوا ہے۔ اس کی تشخیص کرنی پڑے گی۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کرتا۔ وہ بابا بڑے دھیمے لیجے میں بولا۔
میری بیماری کی تشخیص کرنا چاہتے ہو اور اپنی بیماری کو بھول جا تے ہو۔
میں ٹھٹک گیا۔
لوگوں کی ذہنی بیماری کا علاج کر رہے ہو، پر اپنا علاج نہیں کرپاتے۔ تمھاری یہ تعلیم تمھاری بیچینی کا علاج کیوں نہیں کر دیتی۔
میں نے حیرانگی سے اس پاگل نظر آنے والے بابے کی بات سنی۔۔
پاگل بہت سی باتیں کرتے ہیں جن کا کوئی مطلب نہیں ہوتا۔
اس سے پہلے کہ میں اس کے سوال کا جواب دیتا یا اس سے کچھ پوچھتا۔ اس نے میری ذہنی و جذباتی کیفیت کے بارے میں وہ باتیں بتانا شروع کیں، جو شاید میں خود سے بھی چھپاتا ہوں۔ وہ بے تکان بولتا چلا گیا اور اس کی باتیں میرے ذہن کو کھولتی گئیں۔
مجھے یوں محسوس ہوا، جیسے وہ بہت ہی بڑا سائیکالوجسٹ ہے۔
اشفاق! خدا کوئی سائنسی یا فلسفیانہ مسئلہ نہیں ہے جو اتنی آسانی سے کہ حل ہو جائے۔ یہاں مسئلہ خدا نہیں انسانی ذہن ہے۔
انسان کا ذہن ایسا بنا ہے کہ یہ کبھی بھی موجود پر راضی نہیں ہوتا۔ اسے موجود سے باہر کی تلاش رہتی ہے۔
خدا کی لامتناہیت انسان کے ذہن میں نہیں سما سکتی۔
جس دن انسانی ذہن خدا کے مقابل اپنی لاچارگی مان لیتا ہے اس کے اندر کا انتشار اور کنفیوژن ختم ہوتی ہے۔
خدا کو مانے بغیر انسان کی زندگی میں سکون نہیں آ سکتا۔
یہ زندگی اور پوری کائنات خدا کے بغیر بے معنی ہے۔
اپنے سائنسی دماغ سے کہو: میں بغیر دلیل کے خدا کو مانتا ہوں۔
ہمیشہ امام رازی کے واقعہ کو یاد رکھو۔
امام رازی اور شیطان
امام رازی اسلامی تاریخ کے بڑے اماموں میں سے ایک ہیں۔ ان کی تفسیر کبیر اپنے درجے کی آخری کتاب ہے۔ آج بھی ہر اہل علم اسی کی طرف رجوع کرتا ہے۔ امام صاحب عقلیت پسند ہونے کی وجہ سے دین کو عقل کے پیمانے پر مانتے۔ ان کے پاس خدا کے وجود کی سینکڑوں عقلی دلیلیں تھیں۔ جب ان کی وفات کا وقت آ یا تو شیطان ان کو بہکانے کے لیے آن پہنچا۔ شیطان نے خدا کے بارے میں عقلی شبہات اٹھانا شروع کیے۔ جوابا امام راضی نے خدا کے حق میں عقلی دلیلیں دیں۔
امام صاحب کی ہر عقلی دلیل کو شیطان رد کر دیتا۔ ایک وقت آیا کہ امام صاحب کے پاس خدا کے حق میں دلیلیں ختم ہو گئیں۔ عجیب مشکل وقت پیش آ گیا۔ ساری زندگی جس عقل پر بھروسہ کیا آج وہی دغا دینے لگی۔ ایسے وقت میں انھیں اپنے مرشد کی آواز سنائی دی۔
رازی یہ مزدور عقل کا دام پھیلا کر تجھ سے آخری وقت میں ایمان کی دولت چھیننا چاہتا ہے۔ یہ شیطان بہت عقل مند ہے۔ اس کا انسان کو بہکانے کا صدیوں کا تجربہ ہے۔ اس کا مقابلہ عقل سے نہیں صرف اللہ کی مدد اور اس پر ایمان سے ہی ہو سکتا ہے۔ اس مردود سے کہہ کہ میں خدا کو بغیر دلیل کے مانتا ہوں۔ امام صاحب نے ایسا ہی کیا اور اپنا ایمان بچایا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اشفاق میاں اپنے عقلی دماغ کو بھی یہی کہو: ” میں خدا کو بغیر دلیل کے مانتا ہوں ”
میرے ساتھ بولو: ” میں خدا کو بغیر دلیل کے مانتا ہوں ”
میں اسے ایسے ہی مانتا ہوں جیسے ماننے کا حق ہے۔
اپنا عقلی غرور توڑ کر بولو: میں اسے سب سے بڑا مانتا ہوں۔
بولو: اس کے علاوہ کوئی موجود نہیں ہے
بولو: وجود صرف اسے ہی ثابت ہے
اس کی باتیں سن کر میرا اپنے اوپر کنٹرول ختم ہو گیا۔ اس بابے کے الفاظ اور لہجے میں کوئی ایسی بات تھی کہ میرے ارد گرد اور اندر کا موسم تبدیل ہو گیا۔ میرے اندر کی بے چینی اپنے عروج پر چلی گئی۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوتی محسوس ہوئی۔
میرے منہ سے صرف یہ جملہ نکلا: میں خدا کو بغیر دلیل کے مانتا ہوں۔
یہ الفاظ جیسے ہی میرے منہ سے نکلے میرے سینے میں ٹھنڈک پڑنا شروع ہو گئی۔ یوں جیسے کسی نے برف کی سل میرے سینے پر رکھ دی ہو۔ میری سوچوں کا گنجل پن اور جذبات کی بے چینی بھاپ کی طرح اڑ گئے۔ کئی سال بعد مجھے دنیا کسی اور طرح نظر آنے لگی۔
اس شخص نے میرے اندر ایمان کا ایسا بیج بویا جو ہر گزرتے دن کے ساتھ تناور درخت بنتا گیا۔
الف اللہ تے چنبے دی بوٹی
مرشد من وچ لائی ھو
ایمان کی پہلی سٹیج شک ہوتی ہے۔ انسان ہر بات ہر شک کرتا ہے۔ اپنے ذہن میں چھوٹی چھوٹی دلیلوں سے خدا کو رد کر کے خوش ہوتا ہے۔ اس کا علم جیسے جیسے بڑھتا جاتا ہے اس پر اپنی جہالت واضح ہوتی جاتی ہے۔۔ علم کی ایک خاص سطح پر جا کر اسے کامل ایمان حاصل ہو جاتا ہے جس کے بعد وہ کسی دلیل کو نہیں سنتا۔
وہ دن اور آج کا دن مجھے خدا کے بارے کوئی شبہ نہیں ہوا۔
میں نے خدا کی رضا کے سامنے اپنا سر جھکا لیا۔ وہ مالک کائنات ہے اور ہم حقیر سی مخلوق۔ ہمیں یہ زیب نہیں دیتا کہ اس کے کسی بھی کام پر سوال کریں۔
مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ شخص اسی بستی میں ایک کرائے کے مکان میں رہتا ہے۔ گزر بسر کے لیے پرانی کتابوں کی ایک دکان چلاتا ہے۔ اس کے ماضی کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔ کئی سال پہلے وہ اکیلا اس بستی میں آیا۔ تبھی سے یہیں رہ رہا ہے۔ اس دن کے بعد میں نے انھیں اپنا مرشد تسلیم کر لیا۔ مجھے جب بھی کوئی علمی یا نفسیاتی مسئلہ ہوتا ہے میں ان کے پاس چلا جاتا ہوں۔ نہ جانے وہ میرے بغیر کہے ہی سب سمجھ جاتے ہیں۔ اور اس مسئلے کو حل کر دیتے ہیں۔ میرے نزدیک اس سے بڑی کرامت کوئی نہیں ہو سکتی۔
کئی سالوں سے میں انھیں اسی مکان اور اسی چھوٹی سے دکان میں دیکھ رہا ہوں۔ میں نے کئی بار ڈھکے چھپے ان کی مدد کی کوشش لیکن انھوں نے بڑے واضح انداز میں منع کر دیا۔ میں جب بھی جاتا ہوں چائے پلاتے ہیں یا کھانا کھلاتے ہیں۔ کہتے ہیں کھانا کھلانا اللہ کو بہت پسند ہے، اسی لیے فقیروں نے ہمیشہ لنگر کا انتظام کیا ہے۔ ان کی شفقت دیکھ کر مجھے اپنی والدہ یاد آ جاتی ہیں۔
میں بھی نام نہاد مولویوں اور بابوں سے تنگ ہوں، جن کے دربار میں جاؤ تو مجبوراً احترام کرنا پڑتا ہے، جو چندے اور نذرانے لے کر خوش ہوتے ہیں۔ جو عزت وصول کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ جو خدا کا نام استعمال کر کے دنیا میں ایک خدا بنے بیٹھے ہیں۔ جو نام تو میرے پیارے رسولﷺ کا لیتے ہیں لیکن سیرت پاکﷺ کی خاک تک بھی نہیں پہنچتے۔ انھیں صرف طاقت اور پیسے سے غرض ہے۔ انسانوں اور علم سے محبت کہیں دور دور تک نظر نہیں آتی۔ مجھے بابا جی نے یہی سکھایا کہ خدا کی رحمت و شفقت کا دنیا میں اصل اظہار صرف رسول پاکﷺ کی بعثت سے ہوا ہے۔ آپﷺ ہی رحمت العالمینﷺ ہیں۔ آپﷺ ہی خاتم الا انبیا ء ہیں۔ آپﷺ کے وسیلے سے ہی ہم نے خدا کو جانا اور مانا ہے۔ دعا یہی ہے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہمارا خاتمہ ایمان پر فرما دے اور نبی پاکﷺ کے وسیلے سے نجات عطا فرما دے۔
یہ کہہ کر سائکیٹرسٹ اشفاق کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔
میں تمھیں ان کے پاس لے کر جاتا ہوں۔ شاید بابوں پر تمھارا غصہ کم ہو جائے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں سائکیٹرسٹ اشفاق کی جذباتیت دیکھ کر متاثر ہوا۔ لیکن اس کے بابا جی سے ملنے کی کوئی خواہش میرے دل میں پیدا نہ ہوئی۔ میں بابوں سے اکتا چکا تھا، ہر مرید اپنے بابے کے بارے میں زمین آسمان ایک کرتا ہے۔ میں نے ملاقات سے معزرت کرنا چاہی لیکن وہ ملاقات پر بضد رہا۔
تم کسی بابے کے طور پر نہیں ایک سائکیٹرسٹ سمجھ کر ہی مل لو۔ ہو سکتا ہے تمھارے مسئلے کی صحیح نشاندہی وہ کر دیں۔
میں نے مذاقاً کہا، ایک امریکہ سے آیا ہوا سائکیٹرسٹ مجھے نفسیاتی تجزیے کے لیے کچی بستی کے ایک غریب کتب فروش کی طرف ریفر کر رہا ہے۔ کیا سائکیٹری اس مقام پر پہنچ گئی ہے۔
اس نے میری بات کا برا نہیں منایا۔
تیمور ! علم عاجزی کا نام ہے۔
” علم کے میدان میں صرف اور صرف دلیل کی حکمرانی ہے ”
اگر ایک ان پڑھ کتب فروش کا نفسیاتی تجزیہ مجھ سے بہتر ہے تو مجھے تسلیم کرنا چاہیے کہ میرا علمابھی ناقص ہے۔ تم تو اس بات کو بہتر جانتے ہیں۔ ایک انگوٹھا چھاپ اچھا بزنس مین ہوتا ہے یا ایک بزنس سکول سے پڑھا ہوا؟
اس کی یہ بات میرے دل کو لگی۔ واقعی کسی یونیورسٹی سے نفسیات کی اعلیٰ ڈگری لے لینا، لوگوں کے نفسیاتی مسائل کو حل کرنے کی گارینٹی نہیں ہے۔ میں مجبوراً اس کتب فروش احمد عزیز سے ملنے کو تیار ہو گیا۔
ہم اورنگی میں موجود اس پرانی سی کتابوں کی دکان پر پہنچے تو وہاں کتابیں زیادہ اور جگہ کم تھی۔ وہاں ہر طرح کی پرانی کتابیں موجود تھیں۔ مگر کتابوں پر موجود گرد یہ بتاتی کہ دکان پر مہینوں سے کوئی نہیں آیا۔
کاؤنٹر کے پیچھے ایک بوڑھا شخص جس کے بال اور لمبی داڑھی سفید ہو چکی تھی۔ اس کے کپڑے بہت ہی پرانے تھے۔ وہ آنکھوں پر موٹے شیشوں والی عینک لگا کر بڑے ہی انہماک سے کوئی انگریزی کتاب پڑھ رہا تھا۔ وہ ہماری موجودگی سے بے خبر رہا۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نے کتاب پر سے نظریں اٹھائیں تو اسے ہماری موجودگی کا احساس ہوا۔
اسے دیکھ کر مجھے ایک بوڑھے کچھوے کا احساس ہوا۔ ایک ایسا کچھوہ جو زمانے سے بے خبر اپنی ہی چال چلتا رہتا ہے۔
سائیکیٹرسٹ اشفاق کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں چمک آئی۔ اس نے ہمیں سامنے پڑی ٹوٹی ہوئی کرسیوں پر بیٹھنے کو کہا۔ فوراً ہمارے لیے سامنے والے کھوکے سے چائے منگوائی۔ میں نے سوچا پہلی بار کسی نام نہاد بابے نے اپنی جیب سے کچھ کھلایا پلایا تو سہی۔
اشفاق نے میرا تعارف کروایا تو بابا احمد عزیز تھوڑی دیر کے لیے مجھے غور سے دیکھتے رہے پھر ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری۔ دھیمے سے لہجے میں کہنے لگے۔
تیمور تلاش حق اتنا آسان نہیں ہے۔ اس راستے ہیں بہت دشواریاں اور پریشانیاں آتی ہیں۔ اس راہ میں انسان کبھی مایوس ہو کر اور کبھی غصے میں آ کر منزل کو چھوڑ دیتا ہے۔
داتا صاحب نے بھی یہی لکھا: تلاش حق میں انھیں کوئی کامل استاد نہ ملا تو وہ مایوس ہو گئے۔ تبھی ان کے دل میں خدا کی طرف سے خیال آیا کہ اگر ساری دنیا خدا کو چھوڑ دے گی تو کیا تو بھی خدا کو چھوڑ دے گا۔
جو شخص بھی خدا کی راہ میں صدق دل سے کوشش کرے گا خدا اسے کسی نہ کسی انداز میں اپنا قرب عطا فرمائے گا۔
تیمور مسئلہ یہ ہے: ہم بہت جلد باز ہو گئے ہیں۔ ہمیں دنوں اور مہینوں میں نتائج چاہیں۔ خدا کو پانا بھی ہمارے لیے کسی دنیاوی کامیابی جیساہی بن جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں دو چار وظیفے اور چلے کریں اور خدا کو پالیں۔ ایسا کرتے ہوئے، ہم در اصل خدا کے بجائے اپنی خواہش نفس کی پیروی کرتے ہیں۔
یوں خواہش نفس ہی ہمارا خدا بن جاتی ہے۔ ایسا ہی ایک درباری صوفی کے ساتھ ہوا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
درباری صوفی کی مشاہدہ حق کی کہانی
پرانے دور میں ایک شخص تھا، جس نے سالوں کی محنت کے بعد ایک ایسا مخفی علم حاصل کیا، جس کے ذریعے وہ لوگوں کے ذہن میں آنے والے مناظر کو کاغذ پر دکھا سکتا تھا۔ لوگ اس سے ڈرنے لگے، کیوں کہ ان کی وہ باتیں بھی سامنے آ جاتیں، جو وہ خود سے بھی چھپاتے تھے۔ اس شخص نے لوگوں کو ڈرا دھمکا کر پیسہ وصول کرنا شروع کر دیے۔ اسی دور میں ایک درباری صوفی نے ” مشاہدہ حق” یعنی دیدار الٰہی کرنے کا دعوی کیا۔
یہ دعوی سن کر اس شخص نے اعلان کیا: میں اس صوفی کے کیے ہوئے مشاہدہ حق کو کاغذ پر دکھا دوں گا۔ درباری صوفی صاحب سمیت کئی لوگ پریشان ہو گئے۔
” کیا اب سب لوگ مشاہدہ حق کر سکیں گے؟
کیا راز ازل قیامت سے پہلے ہی فاش ہو جائے گا؟
عوام الناس میں شدید اشتیاق پیدا ہو گیا۔ پورے ملک میں بس ایک ہی بات کا ذکر ہونے لگا۔ بادشاہ کے مشیروں نے مشہو رہ دیا: اس کام کو رکوایا جائے۔ مگر عوام کا دباؤ اتنا بڑھ گیا کہ یہ ممکن نہ رہا۔
لوگوں کا ایمان بہت بڑھ گیا۔ ہر گھر میں دیدار الٰہی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ مسجدیں نمازیوں سے بھر گئیں۔ بڑے بڑے گناہ گار توبہ تائب ہو گئے۔ عالم دین یہ بحث کرنے لگے: جب طور پہاڑ تجلی الٰہی کی ایک جھلک برداشت نہ کر سکا تو ایک معمولی کاغذ کی کیا حثیت۔ اگر تجلی الٰہی سے ساری دنیا ہی تباہ ہو گئی تو کیا ہو گا۔ اسی ڈر سے فقیہ شہر نے اس کام کو رکوانے کا حکم دے دیا۔ مگر لوگ اب کسی بات کو سننے کو تیار نہیں تھے۔ وہ ہر قیمت پر محبوب حقیقی کا دیدار کرنا چاہتے تھے۔
انھی دنوں ایک مجذوب شہر کی گلیوں میں پھرا کرتا تھا۔ یہ مجذوب کبھی بہت بڑا عالم اور فقیہ شہر کا استاد تھا۔ اپنے علم کی انتہا پر اس کے دل میں خواہش اٹھی کہ مشاہدہ حق نصیب ہو جائے۔ اسی خواہش میں علم، عزت، مرتبہ، اور خاندان سب لٹا دیا۔ کہتے ہیں: مشاہدہ حق کے بعد وہ جذب کی حالت میں چلا گیا۔ فقیہ شہر نے اس مسئلے کے سلسلے میں اپنے مجذوب استاد سے رابطہ کیا۔
مجذوب یہ بات سن کر بہت ہنسا۔ کہا، فکر کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اب یہ راز فاش ہوہی جانے دو۔
مقر رہ دن پورا شہر ایک بڑے میدان میں اکٹھا ہوا۔ حیرت انگیز طور پر کاغذ کے اوپر درباری صوفی کی اپنی تصویر بنی ہوئی آئی۔ یعنی درباری صوفی نے اپنے ہی نفس کو خدا سمجھنا شروع کر دیا تھا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
خدا کی راہ میں پہلا قدم اپنے نفس کو پہچان لینے سے شروع ہوتا ہے۔
“جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا”
آج کل تو نفسیات ہمیں انسانی فطرت کے متعلق بہت زیادہ رہنمائی کرتی ہے۔ یہ ہمیں ہماری صدیوں پرانی جبلتوں کے بارے میں بتاتی ہے۔ ہمارے نفس کی اصل فطرت جانوروں جیسی ہے۔ اسے اپنی بقا، اپنی بھوک، اور اپنی خوشی سے زیادہ کسی چیز کی فکر نہیں یہ کسی طرح کی پابندی برداشت نہیں کرتا۔
یہ نفس ہر شخص میں مختلف روپ میں ہوتا ہے۔ ہر شخص کے رجحانات، خامیاں اور کمزوریاں مختلف ہوتی ہیں۔ جیسے کچھ لوگوں میں شہرت کی خواہش بہت شدید ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کی جنسی بھوک بہت ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں میں مال کی حرص، کسی میں کنجوسی اور کسی میں سرکشی وغیرہ۔ ہماری تمام خواہشوں کی جڑیں انھیں کمیوں اور کمزوریوں تک جاتی ہیں۔
پم اپنی تمام صلاحیتیں انھی خواہشوں کو پورا کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ اور اسی خوش فہمی مہں رہتے ہیں کہ ہم شاید بہت نیک کام کر رہے ہیں۔
جب تک ہم اپنی نفسانی کمزوریوں اور خامیوں کو سمجھ کر انھیں ٹھیک نہیں کرتے۔ سادہ لفظوں میں جب تک ہم اپنے نفس کو نہیں مارتے، ہم خدا کا قرب نہیں حاصل کر سکتے۔
خدا بہت غیرت والا ہے وہ کسی ایسے دل میں حکمرانی نہیں کرتا جس میں پہلے سے ہی خواہش نفس موجود ہو۔
جس دن دل ہر شہ سے خالی ہو گا اسی دن خدا کا گھر بن جائے گا۔
تیمور تمھارے اندر اٹیچ منٹ ڈس اورڈر ہے، تمھیں کبھی کسی سے محبت نہیں ملی۔ تمھیں بہت چھوٹی عمر سے ہی رشتوں کی سرد مہری کا سامنا کرنا پڑا۔ تمھاری پہلی محبت نے خود کشی کر لی۔ تمھیں گھر سے نکال کر زمانے کے تھپڑوں کا سامنا کرنے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا گیا۔ تم نے انسانوں سے مایوس ہو کر خدا کی محبت تلاش کرنے کی کوشش کی۔ تم خدا میں وہ چیز حاصل کرنا چاہتے تھے جو تمھیں انسانوں میں نہیں ملی۔
یاد رکھو خدا صرف اسے ملتا ہے جو اسے اپنی زندگی کی ترجیح اول بناتا ہے۔ خدا کو گڑی پڑی چیز نہیں ہے کہ اچانک مل جائے۔ خدا نے خود فرمایا”میں چھپا ہوا خزانہ تھا، میں نے چاہا کہ جانا جاؤں، میں نے کائنات بنا دی”
اوپر سے تمھارا واسطہ بھی نام نہاد درباری صوفیوں سے پڑا۔ جو خدا کے نام پر دکان چلا رہے ہیں۔ ان لوگوں کے منافقانہ رویے نے تمھیں خدا سے بھی متنفر کر دیا۔ خدا کو پانے کے لیے تمھیں اپنے کمپلیکسس کو دور کرنا پڑے گا۔
تیمور بیٹا جو کچھ تمھارے ساتھ ہوا، اس میں تمھارا کوئی قصور نہیں۔ یہ سب بھی ایک آزمائش تھی جس سے اوپر اٹھ کر تمھیں روحانی طور پر مزید مضبوط ہونا تھا۔ یہ بھی تو دیکھو کہ انھی آزمائشوں کی وجہ سے تم اس مقام پر پہنچ گئے ہو۔
بابا جی کا میرے ماضی اور نفسیات کے بارے میں اتنی تفصیل سے جاننا مجھے عجیب لگا۔ پر میرے سائنسی دماغ نے مجھے یہی کہا: بہت سی چیزیں آنکھوں اور دماغ کا دھوکہ ہی ہوتی ہیں۔ اس کائنات میں کوئی بھی غیر فطری کام نہیں ہو سکتا۔ سب کچھ فطرت کے قوانین کے اندر ہوتا ہے۔
بابا جی میں اس مقام تک پہنچا ہوں توا س میں کسی خدائی طاقت کا کوئی کمال نہیں ہے یہ صرف اتفاق اور تھوڑی بہت میری محنت کا نتیجہ ہے۔
بابا جی ہنس پڑے۔
تیمور یہ جو اتفاق یا رینڈمنس ہے اس کا راز بھی تو کوئی نہیں جان سکا۔
سائنسدان ہر کیوں کہ جواب میں یہی کہتے ہیں یہ بے بے معنی اور اتفاقیہ ہے۔
یہ کائنات ایک اتفاق ہے۔
اس دنیا کا اتنا پرفیکٹ ہونا ایک اتفاق ہے۔
دنیا میں زندگی کا آغاز ایک اتفاق ہے۔
مادیت کے سارے کے قوانین ایک اتفاق ہیں۔
زندگی کی بقا ایک اتفاق ہے۔
زندگی کی ہر کامیابی اور ناکامی اتفاقیہ ہے۔
عرج و زوال بھی اتفاق ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ۔
کیا کبھی یہ بھی سوچا، ہو سکتا ہے بنانے والے نے یہ سب کچھ ڈیزائن ہی ایسا کیا ہو۔
میں چونکا، میں نے اس اینگل سے کبھی سوچا نہیں تھا۔
ایسا ہو سکتا ہے لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
تیمور ایک ہی بات کو دیکھنے کے دو زاویے ہو سکتے ہیں۔ ایک ہی ڈیٹا پر دو مخالف نظریات بن سکتے ہیں۔ جو چیز اتفاقیہ نظر آتی ہے وہ اس طرح ڈیزائن بھی تو ہو سکتی ہے۔ یہ بھی مائنڈ سیٹ کی بات ہے۔ اس بات کو میں تمھیں ایک کہانی کے ذریعے سمجھاتا ہوں۔

چار مرغابیوں کا خوشی سے کوئی تعلق نہیں
سائبیریا ایک برفیلی دوزخ ہے۔ سردیوں میں درجہ حرارت منفی پچاس سے اوپر چلا جاتا۔ وہاں زندگی کا وجود بھی ایک عجوبہ ہے۔ وہاں ٹائے گا قبائل کے لوگ صدیوں سے رہ رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے آپ کو اس سخت ماحول کا عادی بنایا ہوا ہے۔
روسی انقلاب کے بعد لاکھوں لوگوں کو قید با مشقت کے لیے سائبیریا بھیجا گیا۔ اکثر لوگ ان سختیوں کو برداشت نہ کر سکے اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سائبیریا کی جیلیں دنیا کی سب سے غیر روایتی جیلیں ہیں۔ جہاں کوئی سلاخیں نہیں ہوتیں۔ یہ سرد جہنم کسی بھاگنے والے کو زندہ رہنے ہی نہیں دیتی۔ ہزاروں اسی کوشش میں مارے جاتے ہیں۔ معدودے چند ہی زندہ بھاگنے میں کامیاب ہوئے۔ انھی بھاگنے والوں میں ایک سابقہ انقلابی فیبی اوف بھی تھا۔
کہتے ہیں انقلاب اپنے بچوں کو کھا جاتا ہے۔ حیرت ہے کہ ہر انقلاب کے کچھ عرصہ بعد انقلاب لانے والوں کو غدار کہہ کر مار دیا گیا۔ فرانسیسی، روسی، چینی، سمیت بے شمار انقلابوں میں ایسا ہوا۔ روسی انقلاب کے بعد جب سٹالن نے اقتدار سنبھالا تو سب سے پہلے انقلابیوں کی گردنیں اتاریں۔ فیبی اوف بہت ہی عقلی دماغ رکھنے والا مارکسسٹ تھا۔ اس نے مارکس کو پڑھنے کے بعد کبھی خدا کے بارے میں نہیں سوچا۔ قید میں بھی وہ کبھی مایوس نہیں ہوا۔ کئی بار بھاگنے کی کوشش کی۔ پر ہر بار پکڑا جاتا۔ شدید تشدد اور قید تنہائی بی اس کا عزم کم نہ کرپاتی۔
آخر کار اس کی کوشش کامیاب ہو گئیں۔ سخت سردی میں اس کا پیچھا کرنے والے تو اس کی موت کا یقین کر کے واپس چلے گئے۔ وہ کسی طرح چھپتا چھپاتا ا یورپ سے ہوتا ہوا امریکہ پہنچ گیا۔
قید سے آزادی نے اس کا خود پر اعتماد اور زندہ رہنے کی بھوک بڑھا دی۔ اس نے سیلز مین کا کام شروع کیا۔ کچھ ہی سالوں میں اپنے سٹور کا ملک بن گیا۔ مارکس کی باتیں اور محنت کشوں کے انقلاب پر سے تو یقین اٹھ گیا۔ لیکن خدا کو وہ اب بھی نہیں مانتا تھا۔
اس کی ملاقات ایک بہت ہی خوبصورت جرمن لڑکی اینجیلا سے ہوئی۔ دونوں کی مذاج بالکل مختلف تھے، پھر بھی انجانے طریقے سے دونوں میں محبت پیدا ہو گئی۔ یہ پکا ملحد تھا اور وہ پکی خدا پرست۔ اس لڑکی کو فیبی اوف کا خدا کو نہ ماننا کھٹکتا۔ وہ کہتی تم ایک بار ایمان لاکر تو دیکھو تمھاری دنیا بدل جائے گی۔ مگر فیبی اوف بہت شائستگی سے بات کو بدل دیتا۔
ایک سہانی شام دونوں جھیل کے کنارے خاموش بیٹھے تھے۔ فضا میں مرغابیوں کی پھڑپھڑاہٹ اور پانی کا شور تھا۔ جھیل کی شفاف سطح پر بیٹھی چار مرغابیوں کو دیکھ کر فیبی اوف کے دل میں عجیب سی خوشی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ اس نے سوچا
چار مرغابیوں کا خوشی سے کیا تعلق ہے؟
میں نے آج تک اتنی خوشی محسوس نہیں کی۔ یہ اتفاقیہ لمحہ شاید پھر زندگی میں کبھی نہ آئے، مجھے اینجیلا کو شادی کے لیے پروپوز کرنا چاہیے۔
اینجیلا کو بہت خوشی محسوس ہوئی۔ مگر اس نے پروپوزل کی قبولیت کے لیے خدا کو دل سے ماننے کی شرط عائید کی۔ اینجیلا نے چار مرغابیوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
فیبی!تم خدا کو مان کیوں نہیں لیتے؟
کیا ان چار مرغابیوں کا خوشی سے تعلق محض اتفاقیہ ہے؟
کیا ہم دونوں محض اتفاق سے ملے ہیں؟
کیا تمھارا سائبیریا کی قید سے بچ جانا اور میرا جرمن کنسنٹریشن کیمپ سے بچ جانا محض اتفاقیہ ہے؟
نہیں فیبی! مان لو کہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔
سنو پیاری !میں تمھارے جذبات کو سمجھتا ہوں۔ ایسی بات نہیں ہے کہ میں نے کبھی سچے دل سے خدا کو ماننے کی کوشش نہیں کی۔ میں جیسے ہی سائبیریا کی قید سے بھاگا، تو ایک رات برف کے طوفان میں بری طرح پھنس گیا۔ میرا پیچھا کرنے والے بھی بڑی مشکل سے جان بچا کر بھاگے۔ مجھے کوئی راستہ یا محفوظ ٹھکانہ نظر نہ آیا۔ میں سمجھ گیا، اب موت یقینی ہے۔
اس لمحے میں نے سچے دل سے خدا کو پکارا” اے خدا اگر تو مجھے غیبی انداز سے مدد بھیج کر موت سے بچا لے تو میں ساری عقلی دلیلیں رد کر کے تجھے مان لوں گا۔ پر غیب سے کوئی آواز یا مدد نہیں آئی۔ میں مایوس ہو گیا”۔
تھوڑی دیر بعد ٹائے گا قبیلے کے کچھ شکاری وہاں سے گزرے اور مجھے بچا کر اپنی بستی میں لے آئے۔ اس وقعہ کے بعد مجھے کامل یقین ہو گیا کہ خدا نہیں ہے۔
اینجیلا حیرانی سے چلائی۔ ۔ ۔ کیا مطلب ہے؟ کیا تمھیں اب بھی سمجھ نہیں آئی؟خدا نے ہی ان شکاریوں کو تمھاری مدد کے لیے بھیجا تھا۔
نہیں اینجیلا! وہ لوگ تو اتفاق سے شکار سے لوٹ رہے تھے۔ اور ان کا خدا سے بھی کوئی تعلق نہیں تھا۔ خدا انھیں کیسے بھیج سکتا ہے۔ یہ محض ایک حسین اتفاق تھا۔
اینجیلا نے اس سے بحث کرنا مناسب نہ سمجھا۔ اس نے خاموشی سے انگوٹھی لوٹادی۔ فیبی اوف کبھی انگوٹھی کو اور کبھی جھیل کی سطح کو دیکھتا۔
جھیل کی سطح سے چار مرغابیاں اڑ گئیں،
چار مرغابیاں جو اتفاق سے آئیں
چار مرغابیاں جو اتفاق سے اڑ گئیں۔
چار مرغابیاں جن کا خوشی سے تعلق تھا،
چار مرغابیاں جن کا اب خوشی سے کوئی تعلق نہیں۔
محبت جس کا خوشی سے تعلق تھا
محبت جس کا اب خوشی سے کوئی تعلق نہیں
زندگی جس کا خوشی سے تعلق تھا
زندگی جس کا اب خوشی سے کوئی تعلق نہیں

اک حویلی تھی دل محلے میں
اب وہ ویران ہو گئی ہو گی۔
فیبی اوف نے اسی جھیل کے ٹھنڈے نیلے پانی میں ڈوب کر خود کشی کر لی۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اس کائنات میں ہونے والے ہر واقعہ کی دو تعبیریں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ خدا ہے اور وہ ہر چیز کا خالق، مالک اور رازق ہے۔ کوئی پتہ بھی اس کی مرضی کے بغیر نہیں ہلتا۔
دوسری یہ کہ کائنات خود اپنی خالق، مالک اور رازق ہے۔ یہ سب کچھ اتفاقیہ اور خود بخود ہو رہا ہے آپ کو دونوں میں سے کسی ایک بات کو ماننا پڑتا ہے۔
لوگ کہتے ہیں خدا دنیا میں ہونے والے ظلم و ستم، جنگوں، حادثوں، اور بیماریوں کو کیوں نہیں روکتا؟
سوال یہ ہے: آخر ہم کون ہوتے ہیں خدا کے کاموں میں دخل دینے والے؟ ہم کیوں خدا کو اپنی خواہشات کے تحت چلانا چاہتے ہیں۔
کیوں چاہتے ہیں خدا ویسا ہی رحم دل ہو جیسا ہم اسے چاہتے ہیں۔ کیا ایک خالق کو اس بات کا حق بھی نہیں ہے کہ وہ اپنی مرضی کی کائنات بنا سکے۔
جس عقل و جذبات کے تحت ہم ایسا سوچتے اور محسوس کرتے ہیں وہ بھی تو خدا کی ہی دی ہوئی ہے۔
ہم بہت محدود سوچ رکھتے ہیں جو اپنی خوشی اور اپنے غم سے شروع ہو کر اپنے آپ پر ہی ختم ہو جاتی ہے۔ ہم اگر اس کی حکمتیں نہیں سمجھتے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر کام کے پیچھے کوئی حکمت ہے ہی نہیں۔
خدا کو جھٹلانے سے کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ سب کچھ ویسا ہی رہتا ہے۔ ہاں مان لینے سے علم کے راستے کھل جاتے ہیں۔
نفسیات کی جدید ریسرچ اسی بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ ایمان والے اور ملحد علیحدہ علیحدہ ذہنی ساخت رکھتے ہیں۔ دونوں کسی دلیل کے تحت ایسا نہیں کرتے بلکہ ہر بات کو پہلے سے تہ شدہ مائنڈ سیٹ کے تحت دیکھتے ہیں۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ خدا کو ماننے کا معاملہ دلیل کا نہیں ہے۔
تمھار مسئلہ بھی عقل سے زیادہ جذبات کا ہے۔ تمھارے زخم ابھی تک ہرے ہیں۔ تم انھیں بھرنے نہیں دیتے، انھیں بار بار کریدتے رہتے ہو۔ تمھارا رویہ ایبارمل ہوتا جا رہا ہے۔ اسی لیے جسمانی اور ذہنی تکلیف تمھیں لذت دیتی ہے۔ لوگوں کی دی ہوئی سزائیں کم ہوئیں تو تم نے خود کو سزا دینا شروع کر دی۔
بیٹا خود کو معاف کر دو۔
میرے ذہن میں بہت عرصے بعد آندھیاں چلنا شروع ہوئیں۔ اس شخص کی باتوں میں عجیب سا جادو ہے، جو جذبات پر اثر کرتا ہے۔ میں نے کچھ کہنا چاہا پر خاموش رہا۔
جس دن تم اپنی نفسیاتی کمزوریوں سے اوپر اٹھ کر لوگوں سے پیار کرنا شروع کر دو گے، تمھارے اندر کا خلا ختم ہو جائے گا۔ سب انسان ہی خامیوں والے ہیں۔ ان کی خامیوں سے نفرت کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اچھی خوبیوں والوں سے تو سارے ہی محبت کرتے ہیں۔ اصل بڑائی تو یہ ہے کہ انسان بروں سے محبت کرے۔ اللہ کو یہ بہت پسند ہے۔ اس کو صرف اخلاص چاہیے۔ تم اپنی مرضی کے خلاف اپنا پیسہ غریبوں پر خرچ کرنا شروع کرو۔ لوگوں کو کھانا کھلا یا کرو۔ تمھارے اندر کا خلا کچھ کم ہو گا۔
لیکن تم مکمل طور پر اس وقت ٹھیک ہو گئے جبکسی ایمان والی لڑکی کی محبت تمھاری دل میں سما جائے گی۔ وہ ایمان والی ہی اپنے ساتھ ایمان لے کر آئے گی۔ تم نے انسان اور خدا دونوں پر اپنے دل کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ وہ چوری چھپے داخل ہو گی۔ ایسا ہونا بظاہر نا ممکن ہے، لیکن میں دعا کروں گا اللہ اپنی رحمت سے ایسا کروا دے۔
یہ کہہ کر بابا جی خاموش ہو گئے۔ مجھے اپنے اندر جو تھوڑی بہت جذباتی ہلچل محسوس ہوئی۔ میں نے اس پر زیادہ توجہ دینا مناسب نہ سمجھا۔ اس کے بعد بابا جی ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے۔ اس دوران دکان میں کوئی گاہک نہ آیا۔ بابا جی کی باتوں میں ایک انوکھی تازگی تھی، جو ان کی عمر کے بابوں میں مفقود ہوتی ہے۔
باتوں کے دوران میں نے بابا جی سے پوچھا۔
بابا جی آپ کو خدا کیسے ملا؟
بابا جی میرا سوال سن کر تھوڑی دیر خاموش رہے۔ میرے چہرے کو غور سے دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہنے لگے۔
یہ بہت ہی پرسنل سی بات ہے اور اس میں اپنی ذات کی بڑائی کا ایلیمنٹ بھی آ جاتا ہے۔ میں نے آج تک یہ بات کسی کو نہیں بتائی۔ پر تمھیں بتا دیتا ہوں شاید تم میری کہانی سن کر ہی خدا کی طرف آ جاؤ۔

یا اللہ: مجھے اپنی ذات کی آگہی کا ایک قطرہ عطا فرما دے
(بابا احمد عزیز کی کہانی)
میرا تعلق کسی مذہبی و روحانی خاندان سے نہیں ہے۔ نہ ہی میرے خاندان میں کوئی صاحب نظر و کرامت بزرگ گزرا۔ بس سیدھے سادے غریب مسلمان تھے جن کی خواہش تھی: بس خاتمہ ایمان پر ہو جائے۔ میں نے اپنے دادا کے بارے میں سنا کہ انھیں پیر مہر علی شاہ سے خاص عقیدت تھی۔ اکثر ان کے پاس حاضری دینے جاتے۔ س
ہمارا گاؤں پنجاب کا ایک دور دراز پسماندہ علاقہ ہے۔ میرا بچپن اور لڑکپن انتہائی سادگی اور گمنامی میں گزرا۔ گھر میں سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے لاڈلا تھا۔ طبیعت میں بے چینی اور شوخی بہت تھی۔ میری شرارتوں سے محلے والے پریشان رہتے۔ چھوٹی عمر سے مجھے شاعری اور مطالعہ کی لت لگ گئی۔ میں دنیا جہاں کی الم غلم کتابیں پڑھ کر لوگوں پر اپنے علم کا رعب جھاڑتا، لیکن سکول کی پڑھائی مجھ سے نہ ہوتی۔ سکول کالج میں صرف اتنا ہی پڑھتا کہ پاس ہو جاؤں۔
میں نے چھوٹی عمر سے ہی مشاعروں میں جانا شروع کیا۔ میرے کلام کی تعریف اس وقت کے مشہور شعرا نے بھی کی۔ اپنے کلام پر واہ واہ سن کر میرا نفس غبارے کی طرح پھول جاتا۔ یہ تعریف بھی عجیب شہ ہے انسان خود کو وہ سمجھنا شروع کر دیتا ہے جو وہ نہیں ہوتا۔ انھی دنوں مجھے مخفی علوم حاصل کرنے کا چسکا چڑھا۔ میں نے پامسٹری، آسٹرالوجی اور اس قسم کے علوم کو سیکھنا شروع کیا۔ اس سلسلے میں جو بھی کتاب یا استاد ملا اس سے فیض حاصل کیا۔ کچھ سالوں میں اتنی مہارت حاصل ہو گئی کہ لوگ دور دور سے میرے پاس آنے لگے۔
اب یہ علوم کوئی سائنسی تو ہیں نہیں بس ایک قیافہ اور انسانی نفسیات کا علم چاہیے ہوتا ہے۔ لوگ پہلے ہی اس ذہنی کیفیت میں ہوتے ہیں، انھیں جو بھی بتاؤ مان لیتے ہیں۔ میرے قیافے صحیح ہونے لگے۔ لوگ دور دور سے مستقبل جاننے کے لیے آتے۔ جلد اس کام سے میرا دل اکتا گیا۔ لوگوں کو بیوقوف بنانے میں کوئی لذت نہیں ہے۔
میں پڑھائی کے بہانے لاہور چلا گیا۔ وہاں فلسفہ اور ادب کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔ میں جتنا جانتا گیا اتنی ہی پیاس بڑھتی گئی۔ میری حالت ایک سمندر کے سامنے پیاسے جیسی تھی۔ فلسفہ و ادب کے گہرے مطالعے نے وجود خدا سے میرا دل اٹھا دیا۔ میرے پاس خدا کو ماننے کی کوئی عقلی دلیل نہ رہی۔ اس دور میں پڑھے لکھے لوگوں کی اکثریت مارکسسٹ اور مذہب بیزار تھی۔ بوڑھے اور نوجوان کھل کر مذہب کو ایک افیون کہا کرتے۔ میں فکری طور پر تو الحاد کا شکار ہو گیا مگر میری باغیانہ طبیعت مارکسسزم پر بھی راضی نہ ہوئی۔ مجھے کسی انقلاب کی خواہش نہیں تھی۔
خدا کے وجود پرشک کرنے کے باوجود دل کہیں خدا کے ساتھ ہی اٹکا ہوا تھا۔ خیال آیا کہ علم محدود ہے اس لیے مطالعہ بہت زیادہ بڑھا لیا۔ کوشش کی، بڑے علوم میں سے کچھ نہ کچھ سیکھ لیا جائے۔ شاید کچھ یقین میسر ہو جائے۔ میں جتنا زیادہ پڑھتا گیا اتنا ہی کم مائیگی کا احساس ہوا۔ فلسفہ میں ماسٹر کیا اور ایک سرکاری کالج میں لیکچرر لگ گیا۔ میں پڑھانے سے زیادہ خود پڑھتا رہتا اسی لیے اچھا استاد بھی نہ بن سکا۔ استاد بننے کے لیے اپنے علم پر جو اعتماد چاہیے وہ مجھ میں تھا ہی نہیں۔ میں ہمیشہ اپنے علم کو شک کی نگاہ سے دیکھتا۔
میں نے باقی سب شوق چھوڑ کر علم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ علم کے ساتھ شکوک مزید بڑھ گئے۔
میں عقلی طور پر اس بات کو مان گیا: یہ زندگی ایک بے مقصد اتفاق ہے۔
اس آگہی نے مجھے مزید اداسی کر دیا۔
میری عمر اس وقت تینتیس چونتیس سال ہو گی، جب میری بے یقینی اپنے عروج پر تھی۔ پچھلے کچھ سالوں سے میں باہر کی بجائے اندر کی دنیا میں زیادہ رہنے لگا تھا۔ میں نے اپنے شکوک و شبہات کا ذکر کسی سے نہیں کیا۔ لوگ مجھے ابھی تک ایمان والا ہی سمجھتے۔ میں خود سے سوال کرتا کہ میں یہ منافقت کب تک چلاؤں گا۔ میں کب اتنی ہمت پاؤں گا کہ کھل کر کہہ سکوں: میں خدا کو نہیں مانتا۔
ایک شام چائے خانہ میں وہی خدا، مذہب، معنی، اور مارکسسزم کی بات چھڑ گئی۔ محفل میں اکثریت پکے مارکسسٹوں کی تھی۔ میں نہ چاہتے ہوئے بھی میں اس بحث میں کود پڑا۔ میں نہ جانے کیوں خدا کے وجود کو ڈیفنڈ کرنے لگا حالانکہ میں خود ایمان نہیں رکھتا تھا۔
بحث وتکرار میں وہی ہوا جو ہر بحث میں ہوتا ہے یعنی تلخ کلامی، جذباتی دعوے اور اپنے مؤقف کی سچائی کا حد سے زیادہ یقین۔ میں نے دلیلوں سے سب کے منہ بند کرادییے۔ حالانکہ مجھے خدا کے حق میں دی گئی دلیلوں کے جوابی دلائل بھی پتا تھے۔ میرے مخالفین میں کوئی بھی اتنا پڑھا لکھا نہیں تھا۔ جب عقلی دلیلیں ختم ہو گئیں تو وہ ذاتی حملوں پر اتر آئے۔ مخالفین نے مجھ سے پوچھا: اگر میں خدا کو مانتا ہوں تو پھر نماز کیوں نہیں پڑھتا۔ میں نے جھوٹے منہ کہہ دیا کہ میں چھپ کر عبادت کرتا ہوں تاکہ کسی قسم کی ریا کاری نہ ہو۔
رات گئے جب بحث بے نتیجہ ختم ہوئی تو دلوں میں تلخیاں بڑھ گئی تھیں۔ میں غصے میں وہاں سے اٹھا اور پیدل ہی رہائش گاہ کی جانب چل پڑا۔
مجھے اپنے رویے پر حیرت ہوئی۔ میں خدا کو نامانتے ہوئے بھی اس کے وجود کا دفاع کیوں کر رہا تھا؟
کیا میں مارکسسٹوں پر اپنی علمی برتری جتانا چاہتا ہوں یا کوئی اور بات ہے؟
میں نے خدا کے حق میں دلیلوں سے پکے ملحدوں کے منہ بند کر دیے لیکن کیا خود میرے پاس خدا کے حق میں کوئی پکی دلیل ہے؟ اگر نہیں تو یہ منافقت کس لیے؟ میں نے یہ ظاہری خول کیوں چڑھا رکھا ہے؟
میں نے اپنی جذباتی کیفیت کو جانچنا شروع کیا۔ میں جتنا غور کرتا گیا مجھے احساس ہوا کہ میں اتنے سال سے خود کو دھوکہ دے رہا ہوں۔ میں خدا کے خلاف ہر طرح کی عقلی دلیل جاننے کے بعد بھی جذباتی طور پر اسی کے حق میں سوچتا ہوں۔ مجھے خدا کے خیال سے ایک اندھی محبت ہے جو کسی دلیل کو نہیں مانتی۔

ہیں دلیلیں تیرے خلاف مگر
سوچتا ہوں تیری حمایت میں
یہ احساس ہوتے ہی میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو ٹپک پڑے۔ ایک بے بسی اور لاچارگی کے احساس نے مجھے اپنے گھیرے میں لے لیا۔ اس لمحے میں نے سچے دل سے ایک بار خدا کو پکارا۔
” اے خدا اگر تو واقعی موجود تو مجھے اپنی ذات کی آگہی کا ایک قطرہ عطا فرما دے، میں عہد کرتا ہوں کہ ساری زندگی تجھ سے کچھ اور نہیں مانگوں گا”
شاید وہ قبولیت کا لمحہ تھا۔ اکثر صوفیاء نے ایسے قیمتی لمحات کا ذکر کیا ہے۔ ولیم جیمز کی Varieties of religious experiences ایسی صوفیانہ واقعات اور تبدیلیوں سے بھری پڑی ہے
یہ لمحہ انسان کو سراسر اللہ کی رحمت سے نصیب ہوتا ہے، انسان کا اس میں کوئی کمال نہیں ہوتا۔ اس لمحے کے بعد انسان کا خدا پر کامل یقین ہو جاتا ہے۔ وہ پھر کوئی دلیل نہیں مانگتا۔ اسے ہی یقین کامل کہتے ہیں۔
وہ دن اور آج کا دن مجھے خدا کے بارے میں کسی قسم کا شک نہیں ہوا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے علم کے دروازے مجھ پر کھل گئے ہوں، واقعی
” نظر بدل جانے سے نظارہ بدل جاتا ہے ”
بس آج تک خدا سے کیے عہد کو نبھانے کی کوشش میں ہوں۔ اسی لیے یہاں بیٹھا اللہ کو یاد کرتا رہتا ہوں۔ خود سے تو بہت سے شکوے ہیں، مگر خدا کی ذات سے کوئی شکوہ نہیں ہے۔ اس کی رضا کے سا منے سر تسلیم خم کر دیا ہے۔ دعا یہی ہے کہ خاتمہ ایمان پر ہو جائے کیوں کہ نبی پاکﷺ کا فرمان ہے کہ
(ایک بندہ اہل جہنم کے اعمال کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے اور ایک بندہ اہل جنت کے عمل کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جہنمی ہوتا ہے۔ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْم یعنی عمل کا اعتبار خاتموں پر ہے۔ )
(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الایمان، باب الایمان بالقدر، الفصل الاول)
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بابا جی کی کہانی میں مجھے خلوص نظر آیا۔ پر میرا دل پھر بھی خدا کے وجود کے بارے میں کسی طور قائل نہ ہوا۔ ان کی کہانی سے تو یہی معلوم ہوا: صرف سیے شخص کو خدا کو ماننا چاہیے جسے کوئی ذاتی روحانی تجربہ ہوا ہو۔
بابا جی مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھتے رہے۔ انھوں نے کوئی اور نصیحت نہ کی۔ ہم چائے پی پر وہاں سے رخصت ہو گئے۔ بابا جی سے ملاقات نے میری سوچ پر تو کوئی اثر نہ ڈالا لیکن اس ملاقات سے میرے اندر کا خلا کچھ کم ہوا۔ شاید ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی موجودگی کا لوگوں کی جذباتی کیفیت پر اثر ہوتا ہے۔ میں یہ مانتا ہوں کہ اس کا روحانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ سب کچھ بھی مادی ہے۔
گھر آ کر میں نے بابا جی بتائی ہوئی باتوں کے بارے میں سوچا تو مجھے ہنسی آنے لگی۔ یعنی کوئی ایمان والی چوری چھپے میرے دل میں ایمان لے کر داخل ہو گی اور میرا کفر لوٹ کر چلی جائے گی۔ یہ بھی اپنی نوعیت کی انوکھی چوری ہو گی۔
جب وہ ایمان والی میرے دل میں قبضہ کر کے بیٹھ جائے گی تو میرے اندر کا خلا ختم ہو جائے گا۔ کمال ہے؟
یہ بابے بھی عجیب ہوتے ہیں۔ پہلے کئی بابوں نے مجھے اسم اعظم پڑھنے پر لگائے رکھا۔ آخر میں پٹائی کر کے خدا کا خیال ہی میرے اندر سے نکال دیا۔ اب یہ بابا جی ہیں جو کسی ایمان والی کو ڈھونڈنے کے پیچھے مجھے لگانا چاہتے ہیں۔ میں نے اس پورے واقعہ کو ہی اپنی یاداشت سے نکال دیا اور اپنے خالی پن کو لے روز مرہ کی مصروفیات میں گم ہو گیا۔ دن مہینے اور سال گزرتے گئے۔ میں ایک بزنس کے بعد دوسرے بزنس میں کامیاب ہوتا گیا۔ زندگی بس عادتا ہی گزر رہی ہے۔
سانس لینا بھی کیسی عادت ہے
جیئے جانا بھی کیا روایت ہے
کوئی آہٹ نہیں بدن میں کہیں
کوئی سایہ نہیں ‌ ہے آنکھوں میں
پاؤں بے حِس ہیں چلتے جاتے ہیں
اِک سفر ہے جو بہتا رہتا ہے
کتنے برسوں سے کتنی صدیوں سے
سانس لیتے ہیں، جیتے رہتے ہیں

عادتیں بھی عجیب ہوتی ہیں !
٭٭٭

حصہ سوئم

یہ نہ تھی ہماری قسمت ….
تیمور درانی کی کہانی الف لیلا جیسی تھی۔ میں اس کی کہانی میں کھو گئی۔ ہر کردار کے ساتھ میرے جذبات میں بھونچال آتا۔ میں شروع میں عنبر سے نفرت کرتی رہی۔ پر اس کی خود کشی پر روپڑی۔
کہانی کے دوران میں کئی بار روئی اور کئی بار اپنے آنسو روکے۔ میرا دل بہت ہی نازک ہے۔ میں تو کسی جانور کی تکلیف بھی نہیں دیکھ سکتی۔ کئی بار سوچا: تیمور درانی سے کہوں کہ کہانی روک دے۔ مگر کہانی سننے کی چاہ نے مجھے روکے رکھا۔
میرے دل میں تیمور درانی کے بارے میں مکس سی فیلنگ آنے لگی۔ میں اس کی شخصیت کو اس کے کاموں سے دیکھوں یا اس کے ماضی کے الم ناک واقعات سے۔
مجھے اس سے شدید ہمدری محسوس ہوئی۔ مگراس کا خدا کو نہ ماننا مجھے بہت برا لگا۔ ایسا لگا جیسے کوئی ناپاک چیز میرے ساتھ بیٹھی ہوں۔
کہانی کے آخر میں بابا جی کی بتائی ہوئی بات مجھے یاد رہ گئی۔ یعنی تیمور درانی کو خدا کے راستے پر کوئی ایمان والی ہی لا سکتی ہے۔ مگر کون ایمان والی ہو گی جو اس کے دل میں سما جائے اور وہ لڑکی بھی اسے قبول کرے۔
اس جیسے شخص کو جانتے بھوجتے سچے دل سے پیار کرے گی۔
اللہ کرے اسے کوئی ایسی لڑکی مل جائے۔
مجھے وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا۔ پتا نہیں کتنے گھنٹوں سے صوفے پر ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی رہی۔ میرے سامنے پڑے کپ کی تہہ میں موجود کافی جم چکی تھی۔ لائبریری کی فضا میں ٹھنڈک مزید بڑھ گئی۔ مدھم سی لائٹوں میں لائبریری کی فضا مزید اداس ہو گئی۔
تیمور صاحب۔ آئی مین تیمور مجھے تمھاری کہانی سن کر بہت افسوس ہوا ہے۔
مجھے سمجھ نہ آئی کہ میں اور کیا کہوں۔
اس کے چہرے پر ایک ناپسندیدگی کی لہر اٹھی۔ میں نے یہ کہانی اس لیے نہیں سنائی کہ تم میرے ساتھ ہمدردی کرو۔
مجھے کسی کی ہمدردی نہیں چاہیے۔ اس نے خشک لہجے میں کہا۔
میں نے تمھارے تجسس کو ختم کرنے کے لیے تمھیں اپنے بارے میں بتا دیا۔ یہ ساری باتیں کوئی ایسا راز بھی نہیں ہیں۔ مگربہتر ہےم کہ تم کسی سے ان کا ذکر مت کرنا۔
میں اپنے صوفے پر سمٹ سی گئی۔ اس شخص کا کوئی بھروسہ بھی نہیں، جانے کب نقصان پہنچا دے۔
عبیر! میں نے تمھارے لیے اپنی ذات سے نقاب اتار دیا ہے۔ اب تمھاری باری ہے۔
میری باری؟ یہ مجھ سے کیا چاہتا ہے؟ میں اپنے ذہن میں برے برے وسوسے اٹھنے لگے۔
تیمور۔ تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ میں نے تشویش زدہ لہجے میں کہا۔
میری پریشانی دیکھ کر وہ تھوڑا محظوظ ہوا۔ مجھے ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔
یہ شخص کیا کرنے والا ہے؟ اگر اس نے کوئی زور زبردستی کرنے کی کوشش کی تو میں کیسے خود کو بچاؤں گی۔
میرے ساتھ آؤ! یہ کہہ کر وہ اٹھ پڑا اور مجھے بھی صوفے سے اٹھنا پڑا۔
بیٹھے بیٹھے میری ٹانگیں سن سی ہو گئی۔
تیمور درانی اٹھ کر لائبریری کے ایک کونے میں گیا۔ اس کے ہاتھ کے ایک دھکے سے وہ جگہ کسی ریوالونگ ڈور کی طرح گھوم گئی۔ پیچھے ایک کمرہ دکھائی دیا۔
اچھا تو تیمور درانی نے ایک خفیہ کمرہ بھی بنا رکھا ہے۔ حیرت ہے اس لائبریری کی ڈیزائننگ کے دوران مجھے اس کا بالکل بھی پتا نہیں چلا۔ مجھے اس خفیہ کمرے کے بارے میں خوف آنے لگا۔ نہ جانے اس میں کیا ہو گا۔
میرے پاس چوائس ہی کیا تھی؟۔ میں بھاری قدموں سے اس کمرے میں داخل ہوئی، ہر قدم میرے دل کی دھڑکن بڑھادیتا۔
میں جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی تیمور درانی نے دروازہ بند کر دیا۔ میری پریشانی مزید بڑھ گئی۔
کمرہ کشادہ اور ہوا دار تھا۔ حالانہ اس میں کوئی کھڑکی یا روشن دان دکھائی نہیں دی۔ کمرے کی فضا میں بہت بھینی بھینی خوشبو پھیلی تھی بالکل ہلکی بارش کے بعد گیلی مٹی کی خوشبو جیسی۔ کمرے میں فرش سمیت سار اکام خوبصورت لکڑی کا تھا۔ اس کمرے میں کونے میں بیڈ کے علاوہ کوئی فرنیچر نظر نہ آیا۔
مجھے اس کمرے میں ہونے والے کاموں کا سوچ کر ہی شرم آ گئی۔
میں یہاں کیا کر رہی ہوں؟
اگر یہ مجھے یہاں بند کر کے۔۔ کچھ بھی کر دے؟ میری امی اور بہنیں مجھے کہاں ڈھونڈیں گی۔
دیواروں پر پینٹنگز بھی بڑی خوفناک تھیں۔ ہر پینٹنگ میں لوگوں پر مختلف انداز سے تشدد ہوتے دکھایا گیا تھا۔ میں تو یہ سب دیکھ کر بہت ڈر گئی۔
جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ ڈرایا وہ سامنے دیوار کے ساتھ لمبی لوہے کی چینز اور ہتھکڑیاں تھیں۔ ساتھ والی دیوار پر مختلف ایسی چیزیں لٹکی نظر آئیں۔ جن کے نام تو کیا شکلیں بھی پہلی بار دیکھی ہے۔ صرف ایک کوڑے جیسے چیز کو میں پہچان پائی۔ باقی چیزیں بھی شاید اسی کیٹیگری کی ہیں۔
اس کمرے میں ایسا کیا ہوتا ہے؟
کچھ ہی لمحوں میں حقیقت مجھ پر واضح ہو گئی۔
میری کمر میں سرد لہر دوڑ گئی اور ذہن سائیں سائیں کرنے لگا۔
یہ۔ یہ سب کیا ہے تیمور؟ میں نے ڈرے ڈرے انداز سے پوچھا۔
وہ ہلکے سے طنزیہ لہجے میں بولا۔
یہ چینز اور ہتھکڑیاں ہیں جن سے باندھا جاتا ہے، یہ سامنے موجود سامان اسی لیے ہے کہ ہتھکڑی میں بندھے ہوئے کو ان سے مارا جائے۔ وہ کونے میں فرسٹ ایڈ باکس اس لیے ہے کہ اگر چوٹ شدید لگ جائے تو مرہم پٹی کی جا سکے۔
میرے تو پیروں کے نیچے سے زمین ہی نکل گئی۔ یعنی میرے بدترین خدشات درست تھے۔
ایک بھیڑیے مجھے گھیر کر اپنی کچھار تک لے آیا تھا۔ اتنے دن سے یہ سب ایک پلان کا حصہ تھا۔ میں اتنی بے وقوف ہوں کہ خود بخود جال میں پھنستی چلی گئی۔
اب یہ مجھے باندھ کر۔ ۔ ۔ اف میرے خدا ! میں کہاں پھنس گئی ہوں۔ میں نے بھاگنے کے لیے دروازے کی طرف دیکھا مگر آٹو میٹک دروازہ میرا منہ چڑانے لگا۔ میرا گلا خشک ہو گیا۔ میں نے دل ہی دل میں آیت الکرسی پڑھنا شروع کی۔ یا اللہ مجھے بچائیں۔
میں نے اپنے خوف پر تھوڑا سا قابو پاتے ہوئے۔ ۔ ۔ سہمے سے انداز میں پوچھا۔ تیمور ! تم مجھے یہ سب کیوں دکھا رہے ہو؟
دیکھو۔۔ تم۔ تم نے ایگریمنٹ کیا تھا: کوئی ایسا ویسا کام نہیں کرواؤ گے۔ آخر میں میری آواز روہانسی ہو گئی۔
کیا میں تمھیں ایسا شخص لگتا ہوں جو کسی اصول کو مانتا ہو؟ اس کے لہجے میں سفاکی در آئی۔
میں سہم کر دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔ یہ شخص تو واقعی سائیکوپاتھ ہے۔
میں نے ایک فلم دیکھی تھی جس میں ایک سائیکوپاتھ لڑکیوں کو اغوا کر کے قید کرتا ہے۔ یہ تمام لڑکیاں کمسن اور معصوم ہوتیں۔ وہ شخص ان کی بے بسی اور بیچارگی دیکھ کر لطف اندوز ہوتا ہے۔ ان کی منتیں اور رونا دیکھ کر اسے سکون ملتا ہے۔ وہ لڑکیوں کو دھیرے دھیرے ذہنی اور جسمانی ٹارچر سے گزارتا۔ لڑکیاں خود کشی کی کوشش بھی کرتیں۔ پر کامیاب نہ ہوتیں۔ آخر میں وہ انھیں بھیانک طریقے سے مار دیتا۔ کیا میرا انجام بھی ایسا ہی ہو گا؟
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی کوڑے کو ہلکے سے انداز سے مارا۔ ڈر کے مارے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ کوڑا جیسے ہی اس کے جسم سے ٹچ ہوا ایک سسکی سنائی دی۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سا سرور دکھا۔ عجیب شخص ہے جو تکلیف کو بھی انجوائے کر رہا ہے۔
میرا ڈر اس وقت حیرت میں بدل گیا جب تیمور درانی نے بتایا، یہ ہتھکڑیاں اور کوڑے مجھے باندھ کر تشدد کرنے کے لیے نہیں۔ بلکہ وہ چاہتا تھا میں عنبر کی طرح اسے باندھ کر اس کے اوپر تشدد کروں۔
میں بات کو سمجھ نہ سکی۔ اس نے سمجھانا بھی مناسب نہ سمجھا۔
یہ کہتے ہی اس نے اپنی شرٹ اتاردی۔ میں نے شرم سے نظریں جھکا لیں۔ یہ شخص کتنا بے شرم ہے۔
وہ میرے سامنے صرف پینٹ میں میرے سامنے کھڑا ہو گیا۔
میں نے جھجکتے جھجکتے اس کی طرف ایک نگاہ ڈالی تو چونک گئی۔ اس کے جسم پر بے تحاشا زخموں کے نشان تھے، جیسے بہت زیادہ تشدد کیا گیا ہو۔ اس کی مضبوط مسلز دیکھ کر یہی لگتا کہ ریگولر ہارڈ ایکسرسائز کرتا ہے۔
میں کچھ لمحوں سے زیادہ اس کے جسم کو نہ دیکھ سکی اور شرم سے اپنی نظریں پھیر لیں۔
عبیر تم کیا کر رہی ہو؟ ایک غیر محرم بندے کے ساتھ، اکیلے اس حالت میں؟ فوراً یہاں سے نکل پڑو۔
میں ایسا نہ کر سکی۔ میرے تجسس نے مجھے ایک بہت ہی غیر اخلاقی صورتحال میں ڈال دیا تھا۔
میں نے اپنی شرمندگی، کنفیوژن اور گھبراہٹ دور کرنے کے لیے ان زخموں کے بارے میں پوچھا۔
تیمور یہ زخم کیسے ہیں؟تم کیوں چاہتے ہو میں تمھارے اوپر تشدد کروں۔
وہ میری بات کا جواب دیے بغیر اس نے کوڑا میرے ہاتھ میں پکڑایا اور اپنے آپ کو ہتھکڑیوں کے ساتھ باندھ کر بیٹھ گیا۔
جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہو گا
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
عبیر اب یہ زخم ہی مجھے کچھ سکون دیتے ہیں۔ میں انھی زخموں کو تازہ رکھ کر خود کو انسان ہونے کا یقین دلاتا رہتا ہوں۔
یاد ہے ! میں نے تمھیں کہا تھا کہ کسی بھی طرح کا پلیژر ہو انسان بہت جلد اکتا جاتا ہے۔ پھر اسے کسی اور چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے بھی طاقت اور کامیابی کے نشے میں ہر چیز کی انتہا کو چھوا۔ مگر کچھ عرصہ بعد ہر چیز بے ذائقہ ہو گئی۔ مجھے درد اور غم کی کمی چھبنے لگی۔ میں جتنا طاقت ور ہوتا گیا میرے اندر ایک عجیب خواہشیں اٹھنے لگیں۔
کوئی مجھے اسی طرح بے عزت کرے جیسے مجھے مدرسے اور چچا کے گھر میں کیا جاتا تھا۔
جب مجھے لڑکیاں رشک اور محبت سے دیکھتیں، تو میرے اندر یہ خواہش اٹھتی: کوئی لڑکی ہو جو عنبر کی طرح مجھے حقارت سے مارے۔
مجھے نہیں معلوم میرے اندر یہ خواہشیں کیوں اٹھنا شروع ہوئیں۔ نفسیات اس بارے میں کچھ کہتی ہے مگر مجھے اس کو جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں۔
مجھے اس کام کے لیے خاص طرح کی لڑکیاں چاہیے ہوتی ہیں۔ ایسی لڑکیاں جو اندر سے خالی نہ ہوں۔ جن کی شخصیت ادھوری نہ ہو، جن کی موجودگی میرے اندر کچھ احساسات جگائے۔ جو مجھے رو بوٹ سے دوبارہ انسان بنادے۔
میں ایسی لڑکیوں سے محبت نہیں نفرت چاہیے ہوتی ہے۔ میں چاہتا ہوں یہ مجھے ماریں اور میری تذلیل کریں۔ یہ میرے جسم اور دل پر زخم لگائیں۔ یہ میرے پرانے زخموں کو بھرنے نہ دیں۔
یا اللہ تیرے کام نرالے ہیں۔ جو تجھے چھوڑتا ہے، تواسے کیسے کیسے امتحانات میں ڈالتا ہے۔
یہ شخص دنیا کے سارے سکون اور عزت چھوڑ کر چاہتا ہے، اس کو دکھ اور ذلت دی جائے۔ اسے سمجھ کیوں نہیں آتی؟ یہ بھی خدا کی طرف سے ایک سزا ہے۔
تیمور تو کیا تم اسی لیے لڑکیوں کے اندر کبوتریاں، مورنیاں اور شیرنیاں تلاش کرتے ہو؟
ہاں ! ایسی لڑکیاں جو پلاسٹک کی گڑیاں نہ ہوں۔ ایسی گڑیاں جن کے اندر کچھ نہیں ہے۔ بس باہر سے ہی سجی سنوری رہتی ہیں۔
تو تم اپنے اس کھیل کے لیے لڑکیوں کو مینوپلیٹ بھی کرتے ہو؟
ہاں کسی حد تک۔۔
میں ان کے ساتھ زور زبردستی نہیں کرتا اوراس کام میں ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔
میں چاہتا ہوں وہ یہ کام اپنی مرضی سے کریں ورنہ اس کام میں کوئی مزہ نہیں ہے۔
لڑکیاں اپنی مرضی سے ایسا کرنے پر کیوں تیار ہو جاتی ہیں۔
شاید ایک طاقت ور شخص کو یوں مارنے، دبانے اور ذلیل کرنے میں انھیں بھی مزہ آنے لگتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں طاقت کا یہ احساس انھیں ساری زندگی نہیں مل سکتا۔ اوپر سے انھیں اس کام کے اچھے خاصے پیسے بھی ملتے ہیں۔
مجھے تیمور درانی پہلے سے بھی زیادہ عجیب لگا۔
تیمور میں تمھارے اس کھیل میں شامل نہیں ہونا چاہتی۔
اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ عبیر تمھارے پاس کچھ گھنٹے پہلے یہ چوائس تھی۔ اب نہیں ہے۔
میرے گلے میں کوئی چیز اٹک گئی، یہ میں کیا کربیٹھی ہوں؟
میں پھر بھی اصرار کروں گی۔ پلیز۔۔ تم مجھے اس کھیل میں مت گھسیٹو، مجھے یہ سوچنا بھی عجیب لگ رہا ہے۔
میں بے وجہ ایک انسان پر تشدد کیسے کر سکتی ہوں؟
عبیر ہم نہیں جانتے، کل ہمارے محسوسات کیا ہوں گے۔ مختلف حالات ہمارے اندر مختلف جذبات جگاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے تم اس کام کو باقی لڑکیوں کی طرح انجوائے کرنا شروع کر دو۔
نہیں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔
میں تو ایک بلی کی تکلیف نہیں دیکھ سکتی۔ ایک جیتا جاگتا انسان کو دور کی بات ہے۔
ایسا کرنے والے بیمار ذہن کے لوگ ہوتے ہیں۔
عبیر! اپنے محسوسات پر اتنا اعتبار نہ کرو۔
ہیں باشندے اسی بستی کے ہم بھی
سو خود پر بھی بھروسہ کیوں کریں ہم
تم ایک بار یہ تجربہ کر کے تو دیکھو تمھارے محسوسات تبدیل ہو جائیں گے۔
میرے بہت کنفیوز ہو گئی۔ کیا کروں، اسے کس طرح منع کروں؟
اسی دوران اس نے پھر کہا کہ اٹھاؤ کوڑا اور مارنا شروع کرو۔
میں بھی کیا کرتی۔ مجبوراً چمڑے کا کوڑا ٹھایا اور بھاری قدموں سے اس کے قریب گئی۔
یوں لگا میں اپنے خواب کو کی تعبیر دیکھ رہی ہوں۔ ایک بھیڑیا، میرے سامنے بندھا ہے۔ اور میں اسے کوڑے سے مارنے جا رہی ہوں۔ کتنی عجیب بات ہے۔ پر مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا۔
اس کے چہرے پر پہلی بار مجھے جذبات کی لہر نظر آئی۔ جیسے وہ اندر سے ایکسائیٹڈ ہو۔
میں نے بہت مجبوری اور بے دلی سے کوڑا مارا۔ ہلکی سی آواز کے ساتھ کوڑا جیسے ہی اس کی نشانات کے بھری کمر پر پڑا تو لگا جیسے یہ کوڑا میرے جسم پر پڑا ہے۔
اس نے ہلکی سی سسکی لی۔
زور سے مارو۔۔ اس نے سرور بھرے لہجے میں کہا۔
ذہنی توازن بگڑنے کی بھی حد ہے۔
میں نے اس بار ذرا زور سے مارا کوڑا مارا۔ اس کے درد کا سوچتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ مگر اسے تو جیسے یہ تکلیف اچھی لگ رہی تھی۔ اگرچہ میں اپنی طرف سے آہستہ ہی مار تی، پھر بھی اس کی کمر پر لال نشان پڑ جاتے۔
ہر بار وہ اور زور سے مارنے کا کہتا۔ یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔
دس منٹ بعد اس کی کمر پر ہلکے ہلکے زخم دیکھ کر میں ہانپتے ہوئے رک گئی۔ وہ آنکھیں بند کیے سرور کی کیفیت میں بیٹھا رہا۔
اس نے مجھے ہتھکڑیاں کھولنے اور فرسٹ ایڈ کا سامان لانے کا کہا۔ اس کے زخموں پر کریم لگاتے ہوئے مجھے بہت عجیب لگا۔ زخم پر جیسے ہی ٹھنڈی کریم لگتی تو وہ ہل سا جاتا۔
تھوڑی دیر کے بعد ہم دوبارہ لائبریری میں آ کر بیٹھ گئے۔ میری گھٹن کچھ کم ہوئی۔ تیمور درانی کی حالت سے معلوم ہوتا جیسے نشہ کر کے آیا ہو۔ کچھ ہی دیر میں وہ دوبارہ نارمل ہو گیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ البتہ چہرے پر تازگی تھی۔ اس نے مجھ سے مزید کوئی بات نہیں کی۔ میں جلدی جلدی گھر سے باہر نکل آئی۔
شام ہو گئی، اور چڑیاں اپنے گھونسلوں کو جا رہی تھیں۔
سارا راستہ میں یہی سوچتی رہی: یہ میں کیا کر کے آ رہی ہوں۔
شگفتہ نے بھی پوچھنے کی کوشش کی۔ میں نے کام کی پریشانی کا بہانہ بنا کر ٹال دیا۔ اپنی پسند کے دال چاول بھی تھوڑے سے کھائے۔ میں کس جال میں پھنس گئی ہوں؟
تیمور درانی میری زندگی کو غیر محسوس انداز سے کنٹرول کر رہا تھا۔ اس کی کمپنی کی جاب سے میرا اور میرے گھر والوں کا مستقبل وابستہ تھا۔ اسی نوکری کی خاطر میں ایکسٹرا فیور والی بات بھی مان چکی تھی۔ وہ بہانے بہانے سے مجھے اپنے گھر بلاتا ہے اور عجیب عجیب سے کام کرنے کو کہتا ہے۔ میں اسے انکار بھی نہیں کر سکتی۔
کیا مصیبت ہے۔ کاش کاشف جلدی سے آ جائے اور میں یہ نوکری چھوڑ کر اپنا گھر بساؤں۔
میرے گھر سے جانے کے بعد امی اور شگفتہ کا کیا بنے گا؟
کیا کاشف ان کی دیکھ بھال اور کفالت کا ذمہ اٹھائے گا؟
اگر وہ مجھے اپنے ساتھ امریکہ لے گیا تو میں کروں گی۔ انھی سوچوں کے ساتھ میں نیند کی وادیوں میں اترتی چلی گئی۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
امی پریشان تھیں کہ میرے سسرال والے اتنے لاتعلق کیوں ہو گئے ہیں۔ نہ ان کا کوئی فون آتا ہے۔ نہ عید شب برات پر کوئی تحفہ۔ یہ سب کوئی خاندانی باتیں تو نہ ہوئیں۔ جب امی ان کے ہاں جاتیں، تو گھر کی عورتیں بھی روکھے روکھے انداز سے ملتیں۔
شمائلہ تو بالکل ہی اجنبیوں ہو گئی۔ ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانہ کر کے نکل جاتی۔
کہیں یہ لوگ منگنی توڑنے کے چکر میں تو نہیں؟
امی کہتیں، میرے سسرال والے لوگوں کی باتوں میں آ گئے ہیں۔ ڈاکے والی رات کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ لوگوں کو تو مرچ مصالہ لگا کر بات کرنے کا شوق ہے۔
مجھے کاشف پر اور اپنی محبت پر پورا اعتماد تھا۔ وہ جب واپس آئے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔
کاشف سے اب دنوں کے بعد بات ہوتی۔ اس کی آواز میرے کانوں میں رس گھولتی۔ وہ میری باتیں سننے سے زیادہ بزنس سے متعلق باتیں کرتا۔ اس کی باتوں میں بس امریکہ میں سیٹل ہونا ہوتا۔
فیس بک پر اس کی اپنے نئے کولیگز کے ساتھ تصویریں ہوتیں۔ جہاں وہ کبھی ہائیکنگ کر رہا ہوتا، تو کبھی بنجی جمپنگ۔ ایڈونچر کا تو وہ ویسے ہی شوقین تھا۔ اس کی تصویروں پر کمنٹ کرنے والی لڑکیاں مجھے زہر لگتیں۔
بھلا تمھارا کیا کام ہے کسی کے ہونے والے شوہر سے اتنا فری ہونے کا؟
یہ کاشف بھی عجیب ہے ابھی تک اپنا ریلیشن شپ سٹیٹس تبدیل نہیں کیا۔
ان مردوں کو بھی کام کی باتوں کا خیال ہی نہیں رہتا۔
کئی بار سوچا اسے کہہ دوں۔ پربات چیت کے دوران ہمیشہ بھول جاتی۔ بھلا مذاق میں ایسی بات کہہ دینے میں کیا حرج ہے۔
میں اس کی فیس بک وال پر زیادہ لگاؤ نہیں دکھاتی۔ پتا نہیں لوگ کیا سوچیں گے۔
اس کی فرینڈ لسٹ میں شامل لڑکیوں بڑی بے حیا تھیں۔ ایسے ایسے کمنٹس کرتی ہیں جیسے کاشف ان کا بوائے فرینڈ ہو۔ یہاں ایسے لوگوں کے لیے ان لائیک کا آپشن بھی ہونا چاہیے۔
کاشف جب امریکہ سیٹل ہونے کی بات کرتا تو میں بھی کچھ دیر کے لیے خوابوں میں کھوجاتی۔ ایک نیا ملک اور ایک نئی زندگی نہ جانے کیسی ہو گی؟ میں وہاں کیسے ایڈجسٹ کروں گی؟ ہمارے خاندان میں آج تک کوئی لڑکی ایسے باہر نہیں گئی۔ میں تو کبھی کراچی سے باہر نہیں گئی۔ ملک سے باہر تو دور کی بات ہے۔ البتہ شگفتہ کے پلان کچھ عجیب تھے۔ وہ باہر سے ڈگری لینے اور جاب کرنے کی بات کرتی رہتی۔ شاید وہ کر بھی سکتی تھی۔ میرے اندر تو اتنی ہمت نہیں تھی۔
آفس میں ہمارے کام میں بہت تیزی آ گئی۔ صبح سے شام تک سر کھجانے کی فرصت نہ ملتی۔ مجھے اس کام میں مزا بھی خوب آتا۔ تخلیق سے زیادہ مزے کی چیز کوئی نہیں۔ میرے ارد گرد رنگ ہی رنگ ہوتے اور میں رنگوں میں ڈوب جاتی۔
میرے آفس میں لٹکتی امپریشنسٹ پینٹگز مجھے کچھ بڑا کام کرنے پر اکساتیں۔ ایک آرٹسٹ کیسے رنگوں سے دنیا کو مختلف طریقے سے دکھا دیتا ہے۔ آپ گھنٹوں ان تصویروں کو دیکھتے رہیں دل نہیں بھرتا۔ آپ جتنا غور سے دیکھیں، اتنی زیادہ باریکیاں نظر آتی ہیں۔ میرے نزدیک پینٹنگز زندگی کی خالص خوبصورتی کو دکھاتی ہیں۔
ایکسپریس کرنے کی تمنا بھی عجیب ہے۔ سب سے پرانی پینٹگز تیس چالیس ہزار سال پرانی ہیں۔ جنھیں غاروں میں رہنے والے انسانوں نے بنایا۔ اتنے سخت حالات میں بھی انسان کو اگر پینٹگ کا خیال آ سکتا ہے تو اس کا مطلب ہے: انسان میں اظہار کی تمنا بہت شدید ہے۔
آرٹ ہمیشہ اپنی مٹی اور تہذیب سے جڑا ہوتا ہے۔ خوبصورتی کو ڈھونڈنے اور ایکسپریس کرنے کی تمنا تو تمام انسانوں میں ہے مگر بیوٹی کے پیمانے ہر قوم اور ہر دور میں مختلف رہے ہیں۔ انسانی جبلت تو ایک ہی رہی ہے مگر اس کے مظاہر بدلتے رہتے ہیں۔
مغربی لباس کی خوبصورتی مشرقی معاشروں میں مقبول نہیں ہو سکتی۔ ہمارے ہاں جینز بہت ہی دھیرے دھیرے آئی۔ وہ بھی شہروں میں۔ سکرٹ اور فراکس کا تو سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ ہماری شرٹس کی لمبائی کم یا زیادہ ہوتی ہے۔ دوپٹے بڑے چھوٹے ہو جاتے ہیں، شلواروں کے پائنچے کھلے اور تنگ ہو جاتے ہیں۔ کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی۔ ہمارے سب سے مقبول لباس اب بھی روایتی ہی ہیں۔
حیا ہماری اسلامی تہذیب کا بنیادی جزو ہے۔ البتہ اس کے مظاہر ہر دور میں بدلتے ہیں۔ میں یہ مانتی ہوں کہ حیا آنکھ میں ہی ہوتی ہے مگر انسان کی نیت اور خیالات کو ٹھوس مادی اظہار بھی چاہیے ہوتا ہے۔ ورنہ ذہن کی بات ذہن میں ہی رہ جاتی ہے۔
اسی لیے پردہ ایک اہم چیز ہے۔ ہماری بڑی بوڑھیاں پالکیوں میں جاتی تھیں۔ میری امی کبھی برقع اور کبھی لمبی سی چادر سے خود کو ڈھانپتی ہیں۔ ہمارے دور تک آتے آتے بہت خوبصورت عبائے، سکارف اور نقاب آ گئے ہیں۔ اصل مقصد پردہ کرنا ہے وہ خوبصورت انداز سے ہو تو سونے پہ سہاگا۔
آج کے دور میں عبایہ، سکارف اور نقاب مسلم خواتین کی پہچان بن چکا ہے۔ یہ کسی مذہبی جبر یا کمزوری کا نتیجہ نہیں۔ بلکہ ایک طاقت کے اظہار کے طور پر ابھرا ہے۔ اب ساری دنیا کی مسلم خواتین ایک دوسرے کو دیکھتی اور فالو کرتی ہیں۔ ترکی اور مصر میں رہنے والی لڑکیاں اس بات سے بے خبر نہیں ہو سکتیں کہ پاکستانی لڑکیاں کیا پہن رہی ہیں۔۔ ٹیکنالوجی کی وجہ سے مسلم فیشن کسی ایک ملک تک محدود ہو کر نہیں رہ سکتا۔ حجاب مسلم خواتین میں ایک پہچان کے طور پر مزید مقبول ہو گا۔
ایلف کہتیں، فیشن کبھی بھی اپنی تہذیب سے کٹا ہوا نہیں ہو سکتا۔ ہم مغربی فیشن انڈیسٹری سے بہت متاثر ہو سکتے ہیں، مگر یہ متاثر ہونا ہمارے کسی کام نہیں آتا۔ ہم جب بھی ان کے جیسا کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ اسے کاپی پیسٹ، ان اوریجینل، اور سب سٹینڈرڈ کہہ کر رد کر دیتے ہیں۔ اصل مسئلہ تہذیبی ہے۔ وہ ہمیں سیاسی اور معاشی شکست کے بعد تہذیبی شکست بھی دینا چاہتے ہیں۔ ہم جب تک اس بات کا ادراک نہیں کریں گے آگے نہیں بڑھ سکتے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دفتر میں کام کے دوران تو مجھے کوئی خیال نہ آتا۔ پر جب بھی فارغ ہوتی تو تیمور درانی کے بارے میں ہی سوچتی۔ اب وہ مجھے کب بلائے گا اور کیا کرنے کو کہے گا۔ آگے کیا ہو گا؟ یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟
مجھے یہ بھی ڈر رہتا: اگر دفتر میں یا میرے سسرال والوں میں سے کسی کو پتا چلا کہ میں تیمور درانی کے گھر جاتی ہوں تو کتنا برا ہو گا۔
میں تو کسی کو سمجھا بھی نہ پاؤں گی، میں وہاں کیا کرنے جاتی ہوں۔ میں نے چپکے چپکے دوسری نوکریوں کے لیے بھی اپلائی کرنا شروع کیا۔ ایک دو جگہ انٹرویو بھی دیے۔ مگر سیلری بہت کم ہوتی۔
تیمور درانی نے مجھے سونے کے پنجرے میں قید کر لیا تھا۔ کاش کاشف جلدی سے پاکستان آ جائے۔
کارپوریٹ سیکٹر کا ماحول عجیب ہوتا ہے۔ یہاں پر آئے دن پارٹیز، گیٹ ٹو گیدر، ٹرپس چلتے ہیں۔ شروع شروع میں تو میں ان سب کاموں سے دور رہتی، گھریلو مصروفیت کا بہانہ بنا دیتی۔ پھر مجھے احساس ہوا، لوگ میرے ساتھ روکھے روکھے سے رہتے۔ وہ سمجھتے: میں بہت پراؤڈی ہوں اسی لیے ایسا کرتی ہوں۔
میں ان پارٹیز اور گیٹ ٹو گیدرز میں بہت بور ہو جاتی، اوپر سے خرچہ بھی کافی ہو جاتا۔ ہر بار نیا سوٹ، عبایہ، میچنگ نقاب، جیولری، جوتے اور بیگز لینے پڑتے۔ میں اگر یہ سب نہ کرتی تو لوگ طنزیہ نظروں سے غریب کہتے۔ وہاں ماحول بھی کافی لبرل ہوتا جس میں ڈرنکس لازما سرو کی جاتیں۔ مجھے تو شراب دیکھ کر ہی متلی ہونے لگتی۔ وہاں سب لوگ شراب پینا معمولی بات سمجھتے۔
ان گیٹ ٹو گیدرز میں تیمور درانی بھی شریک ہوتا۔ تمام لوگ اس کی خوشامد اور توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔ وہ جذبات سے عاری چہرے کے ساتھ کسی کونے میں بیزار بیٹھا ہوتا۔ میں نے ان پارٹیز کے دوران اسے کبھی ہنستے نہیں دیکھا۔
مجھے اب اس پر ترس آنے لگا۔ یہ عجیب شخص ہے۔ نہ جانے اسے کس بات کی سزا ملی ہے۔
کیا کسی کو یہ بات معلوم ہے کہ یہ طاقت ور شخص اندر سے ذلت اور درد کی خواہش رکھتا ہے؟
یہ نازک سی لڑکیوں کو بلاتا ہے اور ان کے ہاتھوں تشدد کروا نا پسند کرتا ہے۔
میں سارا وقت چھپ چھپ کر تیمور درانی کو دیکھتی رہتی۔ اس نے مجھ سے بات کرنے اور توجہ دینے کی کوشش نہیں کی۔
شکر ہے۔ جتنا اس سے دور رہوں بہتر ہے
مگر چھپ چھپ کر کن اکھیوں سے دیکھتی بھی رہتی۔ کہیں وہ مجھے دیکھ تو نہیں رہا۔ کافی دیر بعد خیال آتا، آخر یہ مجھے دیکھ کیوں نہیں رہا۔ اتنا بھی کیا اگنور کرنا؟
کچھ دنوں بعد تیمور درانی کے گھر کی طرف جاتے ہوئے میرا خوف کم تھا۔ میں اس کے گھر سے آشنا ہو گئی تھی۔ اس کا جرمن شیفرڈ کتا مجھے دیکھ کر سکون سے بیٹھا رہتا۔ میں البتہ پھر بھی ڈرتی۔ کتوں کا کیا بھروسا کب بھونکنا چھوڑ کر کاٹنا شروع کر دیں۔
گھر کے نوکر بہت فرمان بردرا تھے۔ وہ نظریں نیچی کر کے آتے اور اسی طرح چلے جاتے۔ مجھے اس گھر کے خانساماں سے ملنے کی خواہش تھی جو اتنے مزے کے کھانے اور کافی بناتا ہے۔ میں لائبریری میں موجود کتابوں کی بھی ورق گردانی کر لیتی۔ مجھے کتابوں کے آئیڈیاز سے زیادہ کتابوں کی خوشبو اچھی لگتی۔ کئی کتابیں تو میں نے صرف ان کی خوشبو کی وجہ سے پڑھیں۔
ہماری اس طرح کی دوسری ملاقات تھی۔ اس نے گرین پولو شرٹ اور خاکی کاٹن ٹراؤزر پہن رکھا تھا۔ لگتا تو یہ ینگ اور ہینڈسم ہے۔ پر اس کے خیالات ستر سال کے بوڑھوں جیسے ہیں۔ زندگی سے یوں مایوس پھرتا ہے جیسے کل ہی قیامت آنے والی ہو۔
اس کے چہرے پر وہ پرانی والی سختی نظر نہ آئی جو وہ باقی لوگوں کے ساتھ رکھتا تھا۔ شاید وہ یہاں کسی قسم کی ایکٹنگ نہیں کرنا چاہتا۔ میں نے کافی پیتے پیتے اس سے پوچھا۔
تم نے ان ساری کتابوں میں سے کتنی کتابیں پڑھی ہوں گی۔
کوئی آٹھ سو نو سو کتابیں تو پڑھی ہوں گی۔ لیکن گن کون رہا ہے۔
نو سو کتابیں ! تم اپنی مصروفیت سے اتنا ٹائم نکال کیسے لیتے ہو؟
بزنس اب میرا اتنا ٹائم نہیں لیتا، زیادہ کام تو میری ٹیم ہی کرتی ہے، میں صرف اوور ویو کرتا ہوں۔ میری نیند بہت تھوڑی ہے۔ رات گئے تک میں ہوتا ہوں اور کتابیں ہوتی ہیں۔
کتابیں مجھے کچھ دیر کے لیے کسی اور دنیا میں لے جاتی ہیں۔ میں کہانیوں کے کرداروں کی زندگی بسر کرتا ہوں اور اپنے اندر کے خلا کو بھول جاتا ہوں۔
میں کسی حد تک اس کی بات سمجھ سکتی ہوں کیوں کہ میں نے بھی کئی بار ایسا محسوس کیا ہے۔ ہمیں ایک نامعلوم دنیا کا احساس صرف کتابوں سے ہی ملتا ہے۔
تمھیں کس طرح کی کتابیں پسند ہیں۔
میں نے خود پر کوئی قید نہیں لگائی کہ کیا پڑھنا ہے اور کیا نہیں پڑھنا۔ جو موضوع بھی دلچسپ لگے اس پر کتاب پڑھ لیتا ہوں۔ اچھا ادب اور تاریخ میرے پسند کے مضامین ہیں۔ کسی بھی اچھے شعر، افسانہ اور ناول میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ یہ زندگی کی خوبصورتی اور بدصورتی کو بالکل نئے زاویے سے دکھا دیتا ہے۔ ایک اچھی کتاب میں ایسا جادو ہوتا ہے کہ آپ چاہ کر بھی اسے چھوڑ نہیں سکتے۔
تم شعر بہت پڑھتے ہو۔ تمھیں کس قسم کی شاعری اچھی لگتی ہے؟
مجھے اردو کلاسیکی شاعری زیادہ پسند ہے جس میں جدائی، غم، مقدر کا جبر اور حزن کی کیفیت ہوتی ہے۔ میر، غالب اور جون ایلیا کے ہاں یہ کیفیت اپنے عروج پر ہے۔ جون مجھے اس لیے زیادہ پسند ہے۔ اس کی ساری شاعری چلا چلا کر کہتی ہے: وہ بھی میری طرح ایک رائیگاں شخص تھا۔
اپنا خاکہ لگتا ہوں
ایک تماشا لگتا ہوں
اب میں کوئی شخص نہیں
اس کا سایہ لگتا ہوں
میں نے سہے ہیں مکر اپنے
اب بیچارہ لگتا ہوں
جون بھی خدا کو بھلا بیٹھے تھے
ہم وہ ہیں جو خدا کو بھلا بیٹھے ہیں
تو میری جان کس گمان میں ہے
کون سے اردوافسانے اور ناول تمھیں اچھے لگتے ہیں؟
مجھے منٹو اور غلام عباس کے افسانے ہیں۔ ان دونوں کی حقیقت نگاری آپ کا دل چیز دیتی ہے۔ میں منٹو کے کردار وں کو سمجھ سکتا ہوں۔ اس نے اپنے کرداروں کی نفسیات کو جس گہرائی سے بیان کیا ہے، وہ آرٹ کا ایک ماسٹر پیس ہے۔
ناولوں میں قراۃ العین حیدر کے ناول مجھے ڈبو دیتے ہیں۔ عینی آپا کی تحریریوں کے علاوہ اگر کوئی ناول اچھا لگا ہے تو وہ مستنصر حسین تاڑڑ صاحب کا “راکھ” ہے۔
پھر وہ بڑی دیر تک ادب، شاعری اور پینٹنگز کے بارے میں بات کرتا رہا۔ ان چیزوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس کا انداز بڑا دلچسپ ہوتا جیسے اسے خود بھی اچھا لگ رہا ہو۔ ویسے تو اس کے چہرے سے ہر دم بیزاری ہی نظر آتی تھیمگر یہاں معاملہ الٹ ہوتا۔
یہ موضوعات میرے بھی پسندیدہ تھے اسی لیے میں بھی اپنی رائے بتاتی رہی۔ ہم دونوں کی پسند کافی حد تک ایک ہی تھی مگر مجھے ادب میں زندگی اور خوشی کی تلاش ہوتی تھی۔ جبکہ اسے موت اور غم کی۔
ایک جیسی بات سے ہم دونوں مختلف مطلب لیتے تھے۔ کہیں خدا کو ماننے کے متعلق بھی یہی بات تو نہیں؟
جب اس نے پینٹنگز کے بارے میں بات کرنا شروع کی تو مجھے لائبریری اور گھر میں موجود مختلف پینٹگز دکھانے لے گیا۔ وہ ہر پینٹنگ کے پاسرک کر اس کی گہرائی بیان کرتا۔
وہاں خطاطی کے اعلیٰ نمونے بھی موجود تھے۔ عجیب بندہ ہے اللہ کو نہیں مانتا مگر اس کے پاک ناموں کو اپنے گھر میں خوبصورتی سے سجایا ہوا ہے۔
ہماری دلچسپ گفتگو کو ایک کال نے انٹرپٹ کیا۔ کال ختم کرتے ہی اس نے مجھ سے کہا کہ اسے ایک ایمرجنسی میں کہیں جانا ہے اس نے تفصیل تو نہیں بتائی اس کے چہرے کی ناگواری سے یہیلگا، جیسے اسے اپنی پسندیدہ ایکٹیوٹی چھوڑ کر جانا پڑا ہو۔
میں نے شکر ادا کیا کہ آج مجھے اس خوفناک کمرے میں نہیں جانا پڑا۔
تیمور درانی بھی تضادات سے بھرپور شخصیت تھا۔ ظاہری طور پر اسے طاقت اور پیسہ حاصل کرنے سے دلچسپی تھی اسی لیے وہ آئے دن نئے بزنس کھولتا ہے۔ مگر یہی طاقت ور شخص اپنی تنہائی میں معصوم لڑکیوں کے ہاتھوں تشدد کروا نا پسند کرتا تھا۔
اپنی باتوں اور خیالات سے خدا کو ریجیکٹ کرتا تھامگر اس کے پاک ناموں کو خوبصورتی کے طور پر گھر میں سجا کر بھی رکھتا تھا۔
مادہ پرست تھا لیکن اسے شعر و ادب سے اسے ایک روحانی خوشی ملتی تھی۔
زندگی کی تلخیوں نے بیچارے کو تضادات کا مجموعہ بنا دیا تھا۔ کوئی ایمان والی لڑکی اسے کیسے ٹھیک کر سکتی ہے؟ ٹھیک ہے محبت میں بہت طاقت ہوتی ہے پھر بھی یہ شخص ناقابل اصلاح لگتا ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
شگفتہ خدا کے لیے آہستہ گاڑی چلاؤ، تم ایکسیڈینٹ کروا ؤ گی۔ میں نے پریشانی سے کہا۔ میری پریشانی دیکھ کر شگفتہ ہنسنے لگی۔
آپی آپ بھی ویسے ہی پریشان ہوتیں ہیں۔ دیکھیں میری گرپ کتنی اچھی ہو گئی ہے۔ یہ کہتے ہی اس نے ایک خطرناک کٹ مار کر ایک گاڑی کو اوور ٹیک کیا۔
شگفتہ کی بچی ابھی تمھار الائسنس نہیں بنا اگر کسی گاڑی کو ہلکا سے بھی ٹچ ہو گیا تو تمھارا ہی قصور ہو گا۔ میں نے غصے سے کہا۔
شگفتہ نے گاڑی کی سپیڈ تھوڑی کم کر لی۔
اس کے ذہن سے گاڑی لے کر یونیورسٹی جانے کا بھوت ابھی تک نہیں اترا کہتی وہ مجھے خود آفس ڈراپ کر دیا کرے گی۔ پہلے تو میں نہ مانی۔ لیکن اس کی منتوں اور پھر جذباتی بلیک میلنگ نے مجھے ماننے پر مجبور کر دیا۔ اس کے بقول میں نے تو سارا دن آفس سے نکلنا نہیں ہوتا۔ گھر میں سو کام پڑتے ہیں۔
اس کی باتدل کو لگی چھوٹے موٹے کاموں کے لیے بھی شگفتہ کوہی جانا پڑتا تھا تو گاڑی میں جانا اس کے لیے سیف تھا۔ یونیورسٹی سے آتے ہوئے بھی اسے کوئی تنگ نہیں کرے گا۔
اس کی ڈرائیونگ دیکھ کر مجھے بہت ڈر لگتا۔ وہ میری لڑکیوں والی چھوٹی سی گاڑی کو بھی ریسنگ کار کی طرح چلانے کی کوشش کرتی۔ کبھی کبھی میں سوچتی کہ اس کے اندر کسی لڑکے کی روح گھسی ہوئی ہے۔ یونیورسٹی میں بھی وہ ہر کام میں آگے آگے ہوتی کبھی فنکشنز آرگنائز کروا رہی ہوتی۔ کبھی گیموں میں حصہ لیتی۔ ٹیبل ٹینس اور بیڈ مینٹن کا تو اسے بچپن سے ہی شوق تھا۔ سکول کالج میں کئی مقابلوں میں انعام بھی لیتی رہی۔ اب کچھ عرصے سے شطرنج کا شوق بھی چڑھ گیا تھا۔
کہتی ہے دماغ کے لیے بہت اچھا کھیل ہے۔
اتنے دماغ کا اس نے اچار ڈالنا ہے۔
آپی، ہمارے معاشرے کی لڑکیوں نے خود کو ویسے ہی چھوئی موئی بنایا ہوا ہے۔ وہ ہر کام کے لیے مردوں کی محتاج ہیں۔ مرد ان کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اب اگر آپ ابا کی بات مان کر اپنی تعلیم چھوڑ دیتیں تو آج ہمارا کیا حال ہوتا۔ ابا اور اماں کے خاندان میں سے کوئی بھی ہماری مدد کو نہیں آیا۔ سب لوگ زبانی تسلیاں دے کر چلے جاتے تھے۔ ابا کے دوستوں نے بھی قرضہ کی ادائیگی کے لیے کتنا پریشر ڈالا۔
اسی لیے میں مانتی ہوں، لڑکیوں کو شادی سے پہلے اور بعد میں انڈیپینڈنٹ ہونا چاہیے۔ اس کے لیے انھیں تعلیم یا ہنر سیکھنا چاہیے۔
اس کی باتوں میں وزن تھا۔ پھر بھی شوق اور مجبوری میں تو یہ سب ٹھیک ہے۔ اگر ساری لڑکیاں ہی یہ کرنے لگیں تو گھروں کا نظام کیسے چلے گا؟ بچوں کا کیا ہو گا؟ مجھے اپنا کام پسند ہے پھر بھی جب میرے بچے ہوں گے تو میں زیادہ وقت ان کے ساتھ بتانا چاہوں گی۔ میں انھیں سارا دن کسی آیا کے پاس چھوڑ کر کیسے کام کر سکتی ہوں۔
شام کو میں نے فیس بک کھولی۔ سب سے پہلے کاشف کی اپ ڈیٹس کے بارے میں دیکھا۔ وہ اسلامک سینٹر میں کسی شادی میں شریک ہوا تھا۔ شادی میں مختلف ممالک کے مسلمان نظر آئے۔ لڑکیاں نے بہت خوبصورت عبایوں میں تھیں۔ یہ تصویریں کاشف نے اپ لوڈ نہیں کیں تھیں بلکہ کاشف کو صرف ٹیگ کیا گیا تھا۔ کاشف ان تصویروں میں کافی خوش نظر آیا۔ اس کی خوشی دیکھ کر میں اداس ہو گئی۔
یعنی وہ وہاں ہماری جدائی کو انجوائے کر رہا تھا۔ میں نے غور کیا تو کئی تصویروں میں کاشف ایک ہی حجاب والی لڑکی کے ساتھ تھا۔ سائیڈ سے لی گئی تصویر میں تو دونوں ہنس بھی رہے تھے۔ مجھے شدید جلن ہوئی۔
میں نے غصے میں لیپ ٹاپ ہی بند کر دیا۔ پھر تھوڑی دیر بعد بے چینی ہوئی۔ دیکھوں تو سہی یہ لڑکی کون ہے۔
میں نے ٹیگز والی پروفائلز دیکھنا شروع کیں تو امیرہ نام کی لڑکی نظر آئی۔ وہ لڑکی ہر تصویر میں عبایہ میں تھی۔ اس کے چہرے کی خوبصورتی دیکھ کر میرے منہ سے سبحان اللہ نکل گیا۔ اللہ تعالیٰ نے بھی کیسا کیسا حسن بنایا ہے۔ اس کے چہرے پر نظر نہیں ٹھہرتی تھی۔ دودھ جیسا سفید رنگ، نیلی آنکھیں۔
میرے ذہن میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔
یا اللہ کاشف کو بچائیں۔ اس حسن پر کون نہ قربان جائے۔
میں نے فوراً کاشف کو کال ملائی۔ اس کی آواز میں وہ پہلے جیسی تازگی نہیں تھی۔ جیسے اسے اس وقت کال کرنا برا لگا ہو۔ حالانکہ آج تو چھٹی کا دن تھا۔ ہمارے درمیاں بھی زمینی فاصلوں نے کیسی دوریاں پیدا کر دی تھیں۔
اس کی بے رخی مجھے بہت چھبی۔ میں نے بھی روٹھنے کی کوشش کی۔ اس نے بھی لاپرواہی دکھائی۔ اس نے وہی اپنی ٹریننگ اور مصروفیت والی رسمی باتیں کرنا شروع کیں۔ میرا دل بالکل اچاٹ ہو گیا۔ میں چاہتی وہ ہماری زندگی اور مستقبل کی باتیں کرے۔ میری زندگی کے بارے میں پوچھے کہ میں کیا کر رہی ہوں۔ میں کیا محسوس کرتی ہوں۔ وہ الٹا ان خشک سی باتوں کو لے کر بیٹھ گیا۔
میں نے شادی میں اس کی شرکت کا پوچھا تو اس کے لہجے میں تھوڑی سی خوشی چھلکی۔ وہ ایکامیریکن نومسلم لڑکی اور ٹرکش لڑکے کی شادی تھی۔ دونوں کے مسلم فرینڈز نے شرکت کی۔
عبیر یہاں کی مسلم کمیونٹی بہت متحد ہے۔ یہاں مسلمان ہونے والے لڑکے لڑکیاں اسلام کو خوب سوچ سمجھ کر اپناتے اور عمل کرتے ہیں۔ یہ ہماری طرح پیدائشی اور روایات کے غلام مسلمانوں نہیں ہیں۔
ان مسلمانوں کو کسی روایت اور رسم کی پروا نہیں ہے۔ یہ لوگ ہماری طرح کسی کنفیوژن کا شکار نہیں ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں: اسلام ایک جدید مذہب ہے جو آج کے دور کے تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔
میں نے ظاہری لاپرواہی سے امیرہ کا پوچھا۔
امیرہ کا ذکر کرتے ہوئے کاشف کا لہجہ بدل گیا۔ اس نے امیرہ کے بارے میں یوں بتایا، جیسے وہ سالوں سے اسے جانتا ہوں۔
مجھے کاشف کا کسی اور لڑکی کو اتنا جاننا اچھا نہ لگا۔
امیرہ نومسلم تھی۔ اس کا پرانا نام کیرن تھا۔ اس کے پردادا 1850 آئیرلینڈ سے امریکہ مزدوری کرنے آئے اور یہی سیٹل ہو گئے۔ امیرہ کا باپ پہلی گلف وار میں مارا گیا۔ اس کی ماں نے اکیلے ہی اسے پالا۔ امیرہ نے سائیکالوجی پڑھنے کے بعد اپنی پریکٹس شروع کی۔ امیرہ کی ماں ایتھسٹ تھی۔ اسی لیے اس نے گھر میں خدا کا ذکر نہیں سنا۔ اسے ہمیشہ سے ہی انسانیت کو اپنا مذہب ماننے کی تربیت دی گئی۔ یونیورسٹی میں اس کی دوستی عربی لڑکیوں سے ہوئی۔ ان کے لباس، تہوار، کھانے، اور فیملی ویلیوز اسے بہت اچھی لگیں۔ اس نے مڈل ایسٹ کے کئی چکر لگائے۔ وہاں اپنی دوستوں کے گھروں میں گئی۔ اس نے ہمیشہ سنا تھا مسلمان بہت بیک ورڈ ہوتے ہیں۔ مسلم عورتیں بیچاری بے بسی کی تصویر ہیں۔ جب اس نے خود عرب ملکوں میں جا کر دیکھا تو اسے معلوم ہوا: مسائل تو ہیں، مگر مسلم تہذیب میں ایک عجیب گہرائی اور کشش ہے۔ لوگ بے تحاشہ مسائل اور غربت کے باوجود خوش ہیں۔ وہ اپنے مسائل کو عارضی اور اس دنیا تک سمجھتے ہیں۔
اللہ پر ایمان انھیں مسائل سے نبٹنے کی طاقت دیتا ہے۔ اس کا اسلام کے بارے میں انٹرسٹ پیدا۔ اس کئی سال سنجیدہ انداز سے اسلام اور مسلمانوں کو سمجھنے کی کوشش کی۔ جس کے بعد اس کا کامل یقین ہو گیا: خدا موجود ہے، اور اسلام ہی سچا دین ہے۔ کیرن نے اپنے پاکستان کے ٹور کے دوران اسلام قبول کر لیا۔
اپنی ٹریننگ کی دوران کاشف پر ورک لوڈ اتنا پڑا کہ اسے ڈپریشن ہو گیا۔ کانسلنگ کے سلسلے میں اس کی ملاقات امیرہ سے ہوئی۔ امیرہ مسلم کمیونٹی سینٹر کے کاموں میں بھی کافی ایکٹیو ہے اسی لیے کاشف کی ملاقات اس سے رہتی تھی۔
مجھے امیرہ کی ایمان افروز کہانی تو اچھی لگی۔ لیکن اس کا کاشف کے ساتھ انٹیریکشن میرے ذہن میں خطرے کی گھنٹیاں بجانے لگا۔
میں نے پو چھا، وہ پاکستان کب واپس آئے گا۔
ابھی تین مہینے ہیں۔ اس کے بعد ہی کچھ پتا چلے گا۔
کیا مطلب اس کے بعد کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ تم واپس نہ آؤ؟ میں نے پریشانی سے پوچھا۔
اس کے بعد میری پرفارمنس دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جائے گا: مجھے پاکستان میں بھیجنا ہے یا امریکہ آفس میں ہی سیٹل کرنا ہے۔
مگر تم انھیں بتا کیوں نہیں دیتے، تم پاکستان میں ہی اپنی فیملی کے ساتھ رہنا چاہتے ہو۔ میں نے تھوڑا جذباتی انداز سے کہا
عبیر میں انھیں کیسے کہہ دوں، یہ ونس ان آ لائف ٹائم آپرٹیونٹی ہے۔ یہاں میں نے اگر کچھ سال بھی لگا لیے تو میرے کیرئیر کو پر لگ جائیں گے۔ دوسرا مجھے یہاں کا ماحول بہت اچھا لگا ہے۔ یہاں وہ مسائل نہیں ہیں جو پاکستان میں ہیں۔ وہاں مذہبی منافقت، دہشت گردی اور فساد اتنا زیادہ ہے، کہ انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کی خراب ہوتی ہیں۔
میرے دل پر چوٹ لگی۔ اس نے ایک لمحے کے لیے بھی مجھے سے میری پسند نہیں پوچھی۔ آیا میں امریکہ میں سیٹل ہونا چاہتی بھی ہوں؟۔
اس کی باتوں سے میرا ذکر بہت ہی کم ہو گیا۔
اسی دوران اس نے کسی ضروری کام کا بہانہ کر کے فون کال ختم کر دی۔ مجھے بہت دکھ ہوا۔ پہلی تو وہ ایسا کبھی نہیں کیا۔ کہیں اس کے دل میں میری محبت ختم تو نہیں ہو گی؟ اللہ نہ کرے۔
شکوک و شبہات کے سانپ سر اٹھانے لگے۔ اگر امیرہ نے کاشف کو مجھ سے چھین لیا تو میں کیا کروں گی۔ اگر کاشف نے شادی کو کچھ سال مزید روک دیا تو کیا ہو گا۔
او میرے خدا میں یہ برداشت نہیں کرپاؤں گی۔
وہ کون سا لمحہ تھا جب میں نے کاشف کو امریکہ جانے کی اجازت دی!
کاش میں اسے اس وقت روک لیتی۔
مجھے پتا ہوتامرد کی چاہت ہمیشہ ایک سی نہیں رہتی تو کبھی اسے جانے نہ دیتی۔ میں بھی کتنی سٹوپڈ ہوں۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں نے جیسے ہی زور دار ضرب لگائی، تیمور کے جسم کو ایک جھٹکا لگا۔ یوں محسوس ہوا اسے تکلیف ہوئی ہو۔ اس کے منہ اسے ہلکی سی آہ نکلی جس میں درد زیادہ تھا۔ اس کی کمر پر گہرا لال نشان پڑ گیا۔
کیا رک جاؤں؟؟
اس نے کہا کہ مارنا جاری رکھو۔ میں نے پہلے سے زیادہ زور سے مارا۔
کاشف کی بے رخی نے کئی دن تک میرا موڈ خراب کیے رکھا۔ میں نے رابطہ نہ کیا تو اس نے بھی بے رخی دکھائی۔ میری بے بسی اور بے چینی بہت بڑھ گئی۔
مجھے ہر وقت برے برے خیالات آتے۔ اس وقت وہ امیرہ کے ساتھ ہو گا۔ دونوں کی محبت بڑھ رہی ہو گی۔ اللہ میں اڑ کراس کے کیوں نہیں پہنچ جاتی۔
دفتر میں بھی کام میں میرا دل نہ لگتا۔ ہر وقت بے بسی اور غصہ طاری رہتا۔ جب ویک اینڈ پر تیمور درانی نے مجھے بلایا تو میرا پارہ چڑھ گیا۔ میں اپنے کمرے میں بند ہو کر وقت گزارنا چاہتی تھی۔ مجبوراً مجھے تیمور درانی کے پاس جانا پڑا۔
میں نے چھڑی جیسے ہی پکڑی مجھے طاقت کا احساس ہوا۔ کاشف کی بے رخی اور ویک اینڈ خراب ہونا میرے ذہن میں گھومنے لگے۔ میں کسی پر اپنا غصہ اتارنا چاہتی۔
میں نے بہت ہی غصے سے تیمور درانی کو مارنا شروع کیا، میرا غصہ مزید بڑھ گیا۔ میں نے آنکھیں بند کر کے زور زور سے چھڑی چلانا شروع کی۔ تیمور درانی شروع میں تو چپ رہا لیکن میرے مارنے کی شدت میں اضافہ ہوتے ہیں اس کی تکلیف بھری آہوں میں اضافہ ہونے لگا۔
میری اس حالت کا ذمہ دار یہ بھی ہے۔ اس کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے۔
ہر چوٹ کے ساتھ میری بے چینی میں کمی ہوتی گئی۔ کچھ منٹوں بعد تیمور درانی کی چیخیں کمرے میں سنائی دینے لگیں۔
غصہ ٹھنڈا ہوا تو دیکھا، تیمور درانی نیم بے ہوش ہے اور اس کی کمر پر زخموں سے ہلکا ہلکا خون رس رہا تھا۔
او میرے خدا ! یہ میں نے کیا کر دیا۔۔
میں نے اسے کھولا تو معلوم ہوا کہ وہ ہوش میں ہے اور اس نے مجھے صرف اتنا کہا کہ پریشان نہ ہو۔ ایسا ہوتا ہے۔
مرہم پٹی کرنے کے کچھ دیر بعد ہی وہ یوں اٹھ کر بیٹھ گیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ اس کے چہرے پر تھوڑی سی تکلیف کے ساتھ تازگی نظر آئی جیسے اپنی مرضی کی چیز اسے حاصل ہو گئی ہو۔
اس کے چہرے میں آسودگی دیکھ کر مجھے شدید شرم آئی۔ آج میں نے یہ کیا کر دیا۔ میں ایسی تو نہیں تھی کہ اپنا غصہ اتارنے کے لیے کسی کو پیٹنا شروع کر دوں۔
کیا تیمور درانی کی میرے بارے میں پیشن گوئی ٹھیک ہو گئی؟ کیا میں نے اس کام کو انجوائے کرنا شروع کر دیا تھا۔
نہیں ! میں آئندہ ایسا کبھی نہیں کروں گی چاہے جو مرضی ہو۔
تیمور میں سمجھ نہیں سکی کہ تمھیں اس کام میں کیسے سکون ملتا ہے۔ میں نے اپنی ذہنی کشمکش کو دباتے ہوئے کہا۔
اس نے ایک آہ بھری۔
معلوم نہیں، عبیر !
انسانی نفسیات بڑی کمپلیکس ہے۔ میں خود کو بھی سمجھ نہیں پایا۔ ہر کچھ عرصہ بعد مجھے عنبر کا زندگی سے محروم چہرہ بہت شدت سے یاد آتا ہے۔ میرے جسم میں چیونٹیاں رینگنے لگتی ہیں۔ جب میرے جسم سے تشدد کے بعد خون نکلتا ہے، تو یہ چیونٹیاں بند ہوتی ہیں۔ عنبر کو یوں نہیں مرنا چاہیے تھا۔
یہ درد مجھے واپس انسانوں کی دنیا میں لے آتا ہے۔ میں بھی خود کو مدرسے کا مار کھاتا بے سہارا بچہ سمجھتا ہوں۔ میں جس کا اس دنیا میں کوئی رشتہ نہیں ہے۔ درد کے اس رشتے سے بہت سے لوگوں سے جڑ جاتا ہوں۔ میں کچھ دیر کے کے لیے زندہ ہو جاتا ہوں۔
میرے اندر کا خالی پن کم ہو جاتا ہے۔
عبیر! جب زندگی میں کسی چیز کا کوئی مقصد ہی نہیں، تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے، میں خود پر کیوں تشدد کروا تا ہوں؟
میری اس حرکت کے پیچھے بھی کوئی مطلب و مقصد نہیں ہے۔ یہ ایسے ہی بے مقصد ہے جیسے میری ماں کا مجھے چھوڑ کر جانا، جیسے میری ماں کا پاگل ہو کر روتے رہنا، جیسے میرے باپ کا نشہ کرنا، جیسے عنبر کی خود کشی، جیسے گلاب خان کا اندھا ہو جانا، جیسے شنو کا رونق بازار بن جانا، جیسے چچا کا قیدیوں کو مارنا، جیسے میرا خدا مجھ سے چھن جانا۔ یہ کہتے ہوئے تیمور درانی کی آواز میں اداسی اتر آئی۔
میں جانتا ہوں کہ میری یہ حرکتیں پاگل پن ہیں۔ نارمل لوگ ایسا نہیں کرتے۔ مگر کیا اپنے سکون اور خوشی کے لیے دنیا سے سرٹیفیکیٹ لینا ضروری ہے۔ کیا سائیکالوجی کا بنایا ہوا نارمل انسان بننا ضروری ہے؟
یہ دنیا عقل مندوں کی وجہ سے نہیں بلکہ پاگلوں، مجذو بوں، باغیوں، جنونیوں، عاشقوں، انقلابیوں، آئیڈلسٹوں کی وجہ سے ترقی کر رہی ہے۔ یہی لوگ نئے نظام، نئے خیالات، نئی دریافتیں اور نئی دنیائیاں دریافت کرتے ہیں۔ اسی لیے ہر دور میں مقتدر طبقے ان کی مخالفت کرتے ہیں۔
انھی کے فیض سے بازار عقل روشن ہے
جو گاہے گاہے جنوں اختیار کرتے رہے
تم جدید عربی شاعری کے امام نزار قبانی کی ہی مثال لو۔ وہ بھی ایک ایسا باغی تھا۔ اس نے مذہب و سماج سے بغاوت کی۔ مقدر نے اسے ایک کے بعد ایک غم دیا۔۔ زندگی میں پہلی محبت بلقیس سے ہوئی، مگر سماج نے ملنے نہ دیا۔ مجبوراً اپنی کزن سے شادی کی۔ جوان بیٹا ایک حادثے میں مارا گیا۔ پہلی بیوی بہت جلد ایک مہلک عارضے کے باعث چل بسی۔ کافی عرصہ بعد بلقیس سے شادی ہوئی۔ خوشی کے یہ لمحے بھی مختصر نکلے۔ کچھ ہی سالوں بعد بلقیس بمباری میں ماری گئی۔ ایک کے بعد ایک فتوی اس کا نصیب بنا۔ ہر رنج و غم کے بعد اس کے قلم سے شاعری کے موتی نکلے۔ اپنے ذاتی غم کو اس خوبصورتی سے کائناتی بنایا کہ زندگی میں ہی امر ہو گیا۔
اس کے لہجے کی اداسی دیکھ کر مجھے اس سے ہمدردی ہوئی۔
اب میں کیا کہہ سکتی تھی۔ اس شخص کے پاس زندگی کی ہر بدصورتی اور بے معنویت کے بارے میں دلیل موجود تھی۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
تیمور درانی کی بات ٹھیک ثابت ہوئی۔ مجھے نہ چاہتے ہوئے بھی ایک عجیب سی طاقت اور سرور محسوس ہونے لگا۔ میں نے اپنے آپ کو یہ کہہ کر مطمئن کر لیا: ہ اگر تیمور درانی کو اس طرح انسان ہونے کا احساس ہوتا ہے تو مجھے افسردہ ہونے کی کیا ضرورت ہے۔
مجھے یوں لگتا جیسے میں مالکن ہوں اور وہ غلام۔ میں اسے جیسے مرضی سزا دوں۔ میں اس کام کو ایک کھیل سمجھنا شروع ہو گئی۔ مجھے یہ پرواہ نہ رہی کہ تیمور درانی کیا سوچتا اور محسوس کرتا ہے۔ میں تو اپنے ذہن میں اسے کاشف سمجھ کر سزار دے رہی ہوتی۔
میں نے اسے کھلے عام کاشف کہنا شروع کر دیا
کاشف! بتاؤ تم میرے ساتھ بے رخی کیوں برتتے ہو؟
کیا تمھیں مجھ سے بہتر کوئی مل گئی ہے؟
تیمور درانی بھی اس رول پلے کو برا نہ مناتا۔ وہ مجھے اکسانے کی کوشش کرتا
ہاں۔۔ ہاں۔۔ میں تمھیں بھول گیا ہوں۔
مجھے تم سے بہتر کوئی مل گئی ہے۔
کون ہے وہ؟ میں نے غصے سے ایک کوڑا اس کی کمر پر لگایا۔
وہ خاموشی رہا۔۔
میں کہتی ہوں نام بتاؤ اس کا؟ میں نے مزید غصے سے کوڑا مارا
نہیں بتاؤں گا ورنہ تم اسے تنگ کرنا شروع کر دو گی
میں کہتی ہوں، نام بتاؤ مجھے اس حرافہ کا، جو میرا منگیتر مجھ سے چھین رہی ہے۔ میں نے ایک اور کوڑا لگایا۔
آہ۔ میں کتنی بار تمھیں بتاؤں کہ میر اتم سے دل بھر چکا ہے،
مجھے تمھاری جیسی سیدھی سادھی لڑکی نہیں چاہیے۔ مجھے ایک قاتلہ چاہیے۔
اک قاتلہ چاہیے ہم کو
ہم یہ اعلان عام کر رہے ہیں
تم اپنی قاتلہ کو ملنے سے پہلے میرے ہاتھ سے قتل ہو جاؤ گے سمجھے، میں نے شدید غصے سے اسے ایک اور کوڑا مارا۔
دھیان سے سن لو، تم صرف میرے ہو۔
اگر تم نے کسی اور کی طرف دیکھنے کی بھی کوشش کی تو میں تمھاری اور اس لڑکی دونوں کی جان لے لوں گی۔
ہر رول پلے کے بعد میں شرمندہ ہوتی۔
یہ میں کیا کر رہی ہوں؟
مگر ہر بار خود پر کنٹرول کھول دیتی۔
کیا سیچیوشن انسان پر اتنا زیادہ اثر کرتی ہے؟
جیسے ڈرامے اور موویز ہوتی ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں، یہ سچ نہیں ہوتیں۔ پر ان کی بنیاد گہرے سچ پر ہوتی ہے۔ ہم ڈرامے میں ایک معصوم لڑکی کے ساتھ برا ہوتے دیکھتے ہیں اور رو پڑتے ہیں۔ کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ارد گرد ہر روز ایسا ہوتا ہے۔ وہ ڈرامے والی ایکٹرس ہمارے ہی جذبات کی عکاسی کر رہی ہوتی ہے۔
ہمارا غم ذاتی اور چھپا ہوا ہوتا ہے۔ ڈرامہ اور فلم بننے کے بعد لاکھوں لوگوں تک ہمارا غم کمیونیکیٹ ہو جاتا ہے۔
زندگی کے ہر لمحے ہم کوئی نہ کوئی رول ہی تو پلے کر رہے ہوتے ہیں۔ بیٹی، بہن، ماں، ساس، اور نند وغیرہ یہ رول ہی تو ہیں جو ہمیں نبھانے پڑتے ہیں۔ ان رولز کے بیچ ہمارا اصلی روپ کیا ہے یہ بھی ایک سوال ہے؟
شیکسپئیر نے بھی اسی لیے کہا کہ دنیا ایک سٹیج ہے اور ہم سب ایکٹر ہیں۔
میرے رول پلے مجھے کچھ دیر کے لیے اپنی زندگی سے دور لے جاتے۔ میں کچھ دیر کے لیے آزادی سے وہ باتیں کہہ پاتی جو ہمیشہ سینے میں ہی دفن رہ جاتی تھیں۔ میں کاشف کی بے رخی کی بھڑاس کبھی نہ نکال پاتی۔
ہر ہفتے کی ہمارے ملاقات ایک نیا رول پلے ہوتی۔
ایک دفعہ میں نے اسے ایسا ڈاکو سمجھ کر بھی مارا جس نے میرے باپ کی جان لی تھی۔ ایسا کرتے ہوئے میں زار و قطار رونے لگی۔ کاش میں ابا کا بدلہ لے سکتی۔
یہ میرا نفسیاتی کیتھارسس بن گیا۔ میں سارے ہفتے کی ٹینشنز اور غصے کو تیمور درانی پر نکالتی۔ کبھی کبھار کھل کر اسے بھی برا بھلا کہتی۔
تم بھی کتنے کمینے ہو مجھ جیسی معصوم لڑکی کو اس طرح کے فضول کاموں میں انوالو کر لیا ہے۔ جب وہ میرے پیروں میں سر رکھ کر معافی مانگتا تو مجھے عجیب سا سکون آتا۔ جیسے میرے اندر کچھ مکمل ہو گیا ہو۔
اس کمرے سے باہر آتے ہی ہم دونوں اپنے پرانے رولز میں واپس آ جاتے۔ اس کے چہرے پر وہی سنجیدگی لوٹ آتی اور میں وہی چھوئی موئی سی لڑکی بن جاتی۔
شروع میں لگا کچھ ہی ہفتوں بعد اس کا مجھ سے دل بھر جائے گا۔ مگر ایسا نہ ہوا، وہ ہر ہفتے شدت سے میرا انتظار کرتا۔
اس کے علاوہ ہماری ساری باتیں کتابوں، فلموں، گانوں اور پینٹنگز کے بارے میں ہوتیں۔ ان چیزوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے وقت رک جاتا۔
اس نے مجھ سے میری پسندیدہ فلم کے بارے میں پوچھا تو میں نے اسے بتایا۔ مجھے گلزار کی بنائی ہوئی لو سٹوری ” اجازت” بہت پسند ہے۔ نصیر الدین شاہ اور ریکھا کی یہ فلم اپنی کہانی اور موسیقی سے میرا دل چیر دیتی۔ شادی کے بعد کی محبت اور پھر جدائی جیسے اس فلم میں دکھائی گئی ہے وہ کمال ہے۔ مجھے تو ہر بار رونا آ جاتا۔
میرا کچھ سامان تمھارے پاس پڑا ہے
ساون کے کچھ بھیگے بھیگے دن رکھے ہیں
میرے اک خط میں لپٹی رات پڑی ہے
وہ رات بجھا دو، میرا وہ سامان بھجوا دو
تیمور درانی کو ہالی وڈ کی سائنس فکش فلم “Inception” بہت پسند تھی۔ یہ آئیڈیا کتنا زبردست ہے، کہ آپ کسی کے ذہن میں ایک چھوٹا سا آئیڈیا بیج کی طرح لگاتے ہو اور وہ خیال وقت کے ساتھ اتنا مضبوط ہوتا جاتا ہے، کہ آپ کی پوری شخصیت کو تبدیل کر دیتا ہے۔
میں اور تیمور درانی آپس میں کس رشتے سے جڑے تھے۔ نفرت کے رشتے سے؟
نہیں ہمارا آپس میں کوئی رشتہ نہیں۔ اس نے میری مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مجھے وہ سب کرنے پر مجبور کیا جس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔
یہ سب جاننے کے باوجود مجھے اس کھیل میں اتنا مزہ کیوں آ رہا ہے؟ میں خوشی خوشی ہر ہفتے اس کے گھر کیوں جاتی ہوں؟ مجھے اس کے ساتھ کتابوں اور فلموں کی باتیں کرنا کیوں اچھا لگتا ہے۔
ہماری موجودگی میں کمرے میں ہلکی آواز میں جو کلاسیکی غزلیں چل رہی ہوتیں
دیکھ کے دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
گور کس دل جلے کی ہے یہ فلک
شعلہ ایک صبح یاں سے اٹھتا ہے
مجھے نہیں معلوم تھا اب یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چلے گا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
میں پراگندہ ذہن کے ساتھ گھر پہنچی تو شمائلہ کی گاڑی کھڑی دیکھ کر چونک گئی۔ آج وہ کئی مہینوں بعد ہمارے گھر آئی تھی۔ شاید وہ شادی کی تاریخ کے بارے میں ڈسکس کرنا چاہتی ہو۔ میں خوشی خوشی اندر داخل ہوئی تو گھر کی فضا ٹینس تھی۔ اماں کے چہرے پر شدید پریشانی تھی اور شگفتہ کی آنکھوں میں غصہ اور بے بسی۔
اللہ خیر کرے ایسا کیا ہو گیا۔
شمائلہ کے چہرے پر بیزاری اورلاتعلقی تھی۔ اس نے میرے سلام کا بے رخی سے جواب دیا، اٹھ کر گلے بھی نہ ملی۔ شمائلہ کے سامنے چائے ٹھنڈی ہو گئی تھی۔
اللہ خیر کرے۔۔ کس کی فوتگی ہو گئی؟
میرے حال احوال پوچھنے پر بھی روکھا سا جواب ملا۔ کچھ تو خرابی تھی۔
اس دوران اماں کے چہرے پر بے چینی بہت بڑھ گئی جیسے کچھ کہنا چاہتی ہوں لیکن کہہ نہ پارہی ہوں۔
میں نے شگفتہ کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں سے بھی کچھ نہ سمجھ پائی کہ بات کیا ہے۔
عبیر۔ شمائلہ منگنی کی انگوٹھی واپس کرنے آئی ہے۔ یہ کہتے ہی اماں رونے لگیں۔
کیا! میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔
لیکن کیوں؟ میں نے پلٹ کر شمائلہ کی طرف دیکھا۔ اس نے فوراً کوئی جواب نہ دیا۔
شمائلہ نے ہمیں بھی وجہ نہیں بتائی۔ کہتی ہے، آپ عبیر سے خود پوچھیں۔
کہیں کاشف اور امیرہ! او میرے خدا مجھے پہلے ہی سمجھ لینا چاہیے تھا۔
مجھے شدید غصہ آیا۔ کاشف اتنی چچھوری حرکت کرے گا۔ ہماری اتنے عرصے کی محبت کو ختم کر دے گا۔ یہ مرد سارے ہوتے ہی ایسے ہیں۔ پہلے محبت کے بڑے بڑے دعوے اور جیسے ہی کوئی دوسری ملی پرانی کو بھول گئے۔
اچھا تو کاشف نے امیرہ کی وجہ سے مجھے چھوڑ دیا ہے۔ میں نے بڑی مشکل سے یہ الفاظ ادا کیے۔
امیرہ کا نام سن کر شمائلہ چونکی۔ کون امیرہ؟
وہی جس کے ساتھ کاشف امریکہ میں رنگ رلیاں منا رہا ہے۔
اماں اور شگفتہ بھی میری جانب دیکھنے لگیں۔
تم کیا بات کر رہی ہو عبیر؟ کاشف کوئی رنگ رلیاں نہیں منا رہا بلکہ تم منارہی ہو۔ کاشف کو تو ابھی ہم نے تمھاری حرکتوں کے بارے میں بتایا بھی نہیں۔ جب اسے پتا چلے گا تو بیچارہ کتنا دکھی ہو گا۔ اسے ہمیشہ ہی بے وفا لڑکیاں ملتی ہیں۔
تم پیسہ دیکھ کر اتنی جلدی بہک جاؤ گی، میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ نوکری کرنا تو ٹھیک ہے، پر اس حد تک گر جانا، یہ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ مجھے اپنی چوائس پر افسوس ہے۔
شمائلہ پتا نہیں کیا کیا بولتی رہی۔ مجھے کچھ سنائی نہ دیا۔ میں تو یہی سمجھی کہ منگنی کاشف نے توڑی ہے
یہ آپ کیا بات کر رہی ہیں میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔ میں نے کنفیوژن سے پوچھا۔
تم سب جانتی ہوں کہ میں کیا بات کر رہی ہوں۔ نوکری کے نام پر تم جو کر رہی ہو۔ ۔ ۔
چھی۔۔ وہ شریف گھروں کی لڑکیاں ایسا سوچ بھی نہیں سکتیں۔
میں مزید کنفیوز ہو گئی۔ آپ کھل کر بات کریں آپ کہنا کیا چاہ رہی ہیں۔ ؟
اچھا یہ بتاؤ تم چھٹی والے دن کہاں سے اور کیا کر کے آ رہی ہو؟
اس کا ڈائیریکٹ ایسا سوال سن کر تو میرے ہوش اڑ گئے۔ مجھ سے تو کوئی بہانہ نہ بن پایا اور میں خاموشی سے شمائلہ کا منہ تکنے لگی۔
جواب دو عبیر شمائلہ کیا پوچھ رہی ہے؟ اسے بتاؤ کہ تم کام کا لوڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے دفتر گئی تھیں۔ بڑی محنت کر رہی ہے میری بچی۔ اماں نے میری سائیڈ لیتے ہوئے پریشانی سے کہا۔
میں نے شمائلہ کی نظروں میں طنز کو پڑھ لیا، جیسے وہ جانتی ہو میں کہاں سے آ رہی ہوں۔
مگر وہ کیا جانتی تھی؟
آج کل کام زیادہ ہے تو کبھی کبھار ویک اینڈ پر بھی آفس جانا پڑتا ہے۔ میری ٹیم کے سب لوگ ہی آتے ہیں۔ میں نے اپنی طرف سے پورے یقین سے جھوٹ بولا۔
پر جب آپ نے کبھی جھوٹ بولا نہ ہو تو آپ کو لہجہ آپ کا ساتھ نہیں دیتا۔
میری بات ختم بھی نہ ہوئی کہ شمائلہ بولی۔
جھوٹ مت بولو عبیر، میرے پاس ثبوت ہیں۔ کیا تم چاہتی ہو کہ میں تمھاری ماں اور بہن کے سامنے وہ دکھاؤں۔ اس نے غصے سے کہا۔
میں پریشان ہو گئی۔ ایسا کیا کر دیا میں نے جس کا اس کے پاس ثبوت ہے؟ میں نے پریشانی سے اس کی طرف دیکھا۔
آپ کیا بات کر رہی ہیں شمائلہ۔ ایسا کیا کر دیا ہے عبیر نے؟ اماں کی پریشانی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔
کہیں کسی نے مجھے تیمور درانی کے گھر جاتے اور وہاں سے آتے تو نہیں دیکھ لیا؟ صرف یہی ہو سکتا ہے۔ اس کا جواب بھی میں یہ دے سکتی ہوں: وہاں انٹیرئر ڈیزائننگ کا کام ہو رہا ہے۔
شمائلہ کی آواز کا کانفیڈنس مجھے چبھنے لگا۔
دیکھو عبیر میں تمھیں واقعی پسند کرتی تھی۔ میں نے منگنی سے پہلے تمھارے بارے میں ہر ذریعے سے پتا کروا یا۔ حتکہ کہ تمھارا موبائل اور انٹرنیٹ ڈیٹا بھی چیک کروا یا۔ تمھارا کردار بالکل ٹھیک تھا۔ کاشف کے نزدیک صرف کردار کی اہمیت ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے خاندان میں کوئی ایسی لڑکی آئے جس کے کردار پر کوئی ایک انگلی بھی اٹھا سکے۔
اس رات مجھے نہیں معلوم تمھارے اور ڈاکوؤں کے بیچ کیا ہوا۔ مگر لوگ باتیں کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ منظور نہیں ہے کہ ہمارے گھر کے لڑکیوں کے بارے میں لوگ ایسی باتیں کریں۔
لیکن شمائلہ آپ جانتیں ہیں اس رات کچھ نہیں ہوا، اسی عزت کو بچانے کی خاطر تو ابا اپنی جان پر کھیل گئے۔ کم از کم آپ تو ایسی باتیں نہ کریں۔ میں نے غصے سے کہا۔
شمائلہ خود کو کیا سمجھتی ہے، شادی سے پہلے پوری یونیورسٹی کے سامنے ڈانس کرنا اورکھلم کھلا لڑکوں کے ساتھ دوستی۔ یہ سب ان کے خاندان کو قبول ہے، اور مجھ جیسی معصوم لڑکی کے کردار پر انگلیاں اٹھا رہی ہیں۔ میں نے بڑی مشکل سے خود کو یہ سب کہنے سے روکا۔
شمائلہ نے میری بات کا کوئی جواب نہ دیا مگر اسے میرا غصہ برا لگا۔
چلو اس رات کو چھوڑوں اس کے بعد تم کیا کرتی رہی ہو۔
میں کیا کرتی رہی ہوں؟ میں نے بھی ذرا ڈٹ کر پوچھا۔
یہ سنتے ہی شمائلہ نے اپنا موبائل نکالا اور ایک وڈیو چلا کر اماں کو دکھائی۔ ساتھ ہی اس نے موبائل کو لاؤڈ سپیکر پر لگا دیا۔ مجھے وڈیو تو نظر نہ آئی لیکن معلوم ہو گیا کہ یہ میری اور تیمور درانی کی بزنس میٹنگ والے دن کی خفیہ وڈیو تھی۔
لیکن کسی نے چھپ کر ہماری وڈیو کیوں بنائی؟ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ میری حیرانگی شرمندگی میں بدلنے لگی۔ ایسے جیسے کسی نے مجھے چوری کرتے پکڑ لیا ہو۔ میں شمائلہ، اماں اور شگفتہ کو کیسے سمجھاتی کہ یہ وڈیو اور آڈیو آؤٹ آف کنٹیکسٹ ہے۔ مجھے تو زبردستی بزنس میٹنگ میں لے جایا گیا تھا۔ میں نے وہاں جو باتیں کیں ان کا مطلب وہ نہیں ہے جو سمجھا جا رہا ہے۔ ہر بات کے ساتھ اماں کا چہرہ شرم سے لال ہوتا گیا۔
شگفتہ بے یقینی سے کبھی مجھے دیکھتی اور کبھی وڈیو کو۔ شمائلہ کے چہرے پر غصے کے ساتھ ہلکی سی فاتحانہ مسکراہٹ نظر آئی جیسے اس نے میری بدتمیزی کا جواب دے دیا ہو۔ کمرے میں صرف میری اور تیمور درانی کی آواز گونج رہی تھی۔
تیمور درانی: ” مس عبیر آپ میری شخصیت اور میرے ماضی کے بارے اتنی متجسس کیوں ہیں۔ کچھ چیزوں کا ناجاننا ہی بہتر ہے؟
عبیر: سوری سر اگر آپ کو برا لگا ہے، میں تو بس آپ کی انوکھی شخصیت اور انوکھے خیالات کو سمجھنا چاہتی تھی، شاید آپ کی اتنی کامیابی کی سمجھ آ سکے۔
تیمور درانی: چلیں فرض کریں میں آپ کو اپنی کہانی سناتا ہوں، بدلے میں آپ مجھے کیا دے سکتی ہیں؟؟کیا آپ بدلے میں اپنا چہرہ دکھا سکتی ہیں؟
عبیر: اپنا چہرہ !۔ میں۔۔ میں کیسے دکھا سکتی ہوں۔
تیمور درانی: بات تو ایک ہی ہے مس عبیر آپ مجھ سے میری شخصیت اور ماضی پر اسے نقاب اٹھانے کا کہہ رہی ہیں۔ یعنی آپ بھی میرا اصل چہرہ دیکھنا چاہتی ہیں۔ اگر یہی چیز میں آپ سے ایکسپیکٹ کروں تو حیرانگی کیسی؟
عبیر: سر! میں۔ میں آپ کو کیا دے سکتی ہوں؟
تیمور درانی: ٹھیک ہے مس عبیر میں آپ کو آپ کے چہرے کا نقاب اٹھانے کا نہیں کہتا کیوں کہ آپ نے اپنی دادی سے وعدہ لیا ہے۔ پر آپ کی نیچر کے بارے میں میں ضرور جاننا چاہوں گا؟
عبیر: کیا مطلب میری اصل نیچر؟
تیمور درانی: جیسے میری شخصیت اور ماضی کے بارے میں جاننا آپ کی دلچسپی ہے اسی طرح آپ کے اندر کے جانور یا نیچر کے بارے میں جاننا میری دلچسپی ہے۔
خاموشی۔ ۔ ۔
تیمور درانی: مس عبیر میں کوئی زبردستی نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ آغاز آپ نے کیا تھا اسی لیے میں نے کہہ دیا۔
عبیر: تو مجھے کیا کرنا پڑے گا؟
تیمور درانی: کچھ خاص نہیں، بس کچھ وقت ساتھ بتانا پڑے گا جس میں آپ کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ اگر آپ تیار ہیں تو ویک اینڈ پر میرے گھر آ جائیں۔
عبیر: سر میں سوچ کر بتاؤں گی۔
خاموشی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ٹیپ ختم ہوتے تک اماں تقریباً بے ہوش ہو گئیں۔ میں نے آگے بڑ ھ کر اماں کو سنھالنا چاہا تو انھوں نے میرا ہاتھ جھٹک دیا۔ مجھے تو 11000 ولٹ کا جھٹکا لگا۔ اماں کے چہرے پر نفرت کے آثار ایسے تھے جیسے میں کوئی ناپاک چیز ہوں۔
اماں ! شمائلہ، آپ لوگ جو کچھ سمجھ رہے ہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔ میں کبھی تیمور درانی کے گھر ایسے ویسے کام سے نہیں گئی۔ میں تو صرف۔ ۔
میرے لہجے میں شدید بے بسی آ گئی۔
میں ان لوگوں کو کیسے سمجھاؤں کے جو کچھ دکھائی اور سنائی دے رہا ہے وہ سب ویسا نہیں ہے۔
شمائلہ کے چہرے پر طنز مزید بڑھ گیا۔
عبیر تم جتنا جھوٹ بولو گی اتنا پھنستی جاؤ گے۔ میں یہ سب تمھیں اور تمھارے گھر والوں کو بتاکر شرمندہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اسی لیے میں نے خاموشی سے منگنی توڑ دی۔ تم خاموشی سے سب سمجھ جاتیں تو بہتر تھا۔
میں خاموشی سے کیسے سمجھتی۔۔ میرے تو فرشتوں کو بھی علم نہیں تھا، آپ کیا کہنے والی ہیں۔
شمائلہ آپ میرا یقین کریں ایسا کچھ نہیں ہے جیسا آپ سمجھ رہی ہیں۔ میں ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں؟ میں تقریباً رو پڑی۔
میرے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا، مجھے کبھی ایسی صورتحال کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ سب سے افسوس ناک بات اماں اور شگفتہ کے چہروں پر شرمندگی تھی۔ جیسے یہ سب میں نے نہیں انھوں نے کیا ہے۔
میں التجا بھری نظروں سے کبھی اماں کو اور کبھی شگفتہ کو دیکھتی۔ دونوں نے تو میرے ساتھ آنکھیں ملانے سے انکار کر دیا۔
شمائلہ پلیز سمجھنے کی کوشش کریں۔ ۔
اچھا تم ہی بتاؤ کے اس دن کے بعد تم اتنی بار تیمور درانی کے گھر کیا کرنے گئی تھیں؟ شمائلہ نے بے زاری سے کہا جیسے اسے پہلے سے ہی جواب معلوم ہو۔
میں۔۔ میں اس کے گھر لائبریری ڈیزائن کرنے جاتی ہوں۔ میں نے ہلکی سی شرمندگی سے کہا۔ اب میں کیسے بتاؤں کہ میں وہاں تیمور درانی پر تشدد کرنے جاتی ہوں۔ کیا بتاؤں کہ میں نے اپنے کنٹریکٹ میں ایکسڑا فیور دینے کا ایگریمینٹ کیا ہوا ہے۔
مزید جھوٹ بول کر مجھے غصہ مت دلاؤ عبیر، کہ میں ساری باتیں بتاکر تمھیں مزید شرمندہ کروں۔
آپ میرا یقین کریں شمائلہ۔ میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا سکتی ہوں۔ میں نے ایسا ویسا کوئی کام نہیں کیا۔ یہ کہہ کر میں رونے لگی۔
میرے رونے کا شمائلہ پر الٹا اثر ہوا اور اسے مزید غصہ آ گیا۔
ٹھیک ہے جیسے تمھاری مرضی۔
تو پھر تم بھی سنو، اور آنٹی آپ بھی سنیں۔ تاکہ بعد میں آپ لوگ لوگوں کو یہ نہ کہتے پھریں کہ ہم نے کسی اور وجہ سے منگنی توڑی ہے۔ مجھے کئی مہینوں سے اس بات کا علم تھا۔ پر میں ششو پنج کا شکار رہی۔
میں تیز دھڑکن کے ساتھ شمائلہ کی بات سننے لگی۔ پتا نہیں وہ کیا انکشاف کرنے والی ہے۔ میں اپنی صفائی پیش بھی کرپاؤں گی یا نہیں؟
عبیر نے جب نوکری کرنا شروع کی تو مجھے بہت اچھا لگا۔ چلو اسی بہانے اس کا دل بھی بہل جائے گا، اور گھر کو بھی سپورٹ کرے گی۔ اگر آپ لوگ ہم سے بات کرتے تو ہم آپ کا خرچہ بھی اٹھا لیتے۔ آپ نے خود درای کا مظاہرہ کیا جو کہ اچھے خاندانوں کی نشانی ہے۔
کاشف کی تمھارے ساتھ منگنی کا ہمارے سوشل سرکل میں سب لوگوں کو پتا ہے۔ کئی لوگ جیلس بھی ہیں۔ کیونکہ ہم نے اپنے ان کی بیٹیوں کو ٹھکرا کر اپنے سے نیچے لوگوں میں رشتہ جوڑ لیا ہے۔ پر ہمیں لوگوں کی کوئی پرواہ نہیں۔ ہمارے نزدیک صرف کردار کی اہمیت ہے۔
ایک سوشل گیدرنگ میں میری ایک فرینڈ نے بتایا: عبیر کچھ ہفتوں سے اس کے پڑوس میں آتی ہے اور سارا دن وہیں گزراتی ہے۔ پہلے تو میں نے اس بات کو اہمیت نہ دی۔ جب اس نے عبیر کی اور اس کی گاڑی کی فوٹو بھیجی تو میں چونک گئی۔ میری فرینڈ کے بقول یہ گھر تیمور درانی نام کے کسی شخص کا ہے۔ شوشل حلقوں میں اس شخص کی شہرت اچھی نہیں ہے۔ بری شہرت کی لڑکیاں اس کے گھر ریگولر آتی جاتی ہیں۔ سنا ہے وہ اپنی پسند کی لڑکیوں پر خوب پیسے لٹاتا ہے۔
اب عبیر کا ایسے شخص کے گھر میں یوں جانا مجھے بالکل سمجھ نہ آیا۔ میں نے تمھارے ساتھ بات کرنے سے پہلے بات کی مکمل تحقیق کرانے کا سوچا۔ آج کل کے دور میں کسی کے بارے میں کچھ معلوم کروا نا زیادہ مشکل نہیں۔ میں یہ کام انتہائی رازداری سے کرنا چاہتی تھی۔ تاکہ یہ بات لوگوں میں نہ پھیلے۔
کچھ ہفتوں بعد مجھے تمھارا موبائل ڈیٹا، تمھاری آفس، پارٹیزاور ویک اینڈ کی مصروفیات کی وڈیوز اور تصویریں مل گئیں۔ تیمور درانی جیسی بری شہرت کا شخص تمھاری کمپنی کا مالک ہے۔ اس کا تمھیں اتنی زیادہ تنخواہ پر نوکری دینا سمجھ سے بالا تر ہے۔ تیمور درانی اکثر تمھیں اپنے کمرے میں بلاتا ہے جس کا تمھارے کام سے کوئی لینا دینا نہیں۔ کام کے بہانے وہ تمھیں ڈیٹ پر لے کر جاتا ہے۔ اس ڈیٹ پر جو باتیں ہوئیں وہ میں نے آپ لوگوں کو سنوا دی ہیں۔
تم اکثر ویک اینڈ پر بار تیمور درانی کے گھر جاتی ہو۔ یہ کہہ کر اس نے موبائل پر تصویریں کھول کر دکھائیں۔ اماں کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ جیسے انھیں یقین ہی نہ آ رہا ہو، وہ کیا سن رہی ہیں۔ انھوں نے موبائل کو یوں دیکھا جیسے کوئی سانپ ہو۔
شگفتہ نے مجبوراً موبائل پکڑا اور تصویروں کو دیکھنے لگی۔ اماں کی تصویروں کو دیکھنے کی ہمت نہ پڑی۔ وہ دوپٹا منہ پر رکھ کر رونے لگیں۔ ان کا رونا دیکھ کر میرے بھی آنسو نکل پڑے۔
میں اماں کو کیسے سمجھاؤں؟۔
کہیں کسی نے تیمور درانی کے گھر کے اندر کی وڈیوز تو نہیں بنالیں؟
اللہ نہ کرے ایسا ہو۔
شگفتہ نے تصویریں دیکھنے کے بعد موبائل میری طرف بڑھا دیا۔ میں نے جلدی سے موبائل پکڑا۔
دیکھوں تو سہی، ان میں ایسا کیا ہے۔
ایک آفس پارٹی میں میرے ٹیبل پر شراب کی بوتلیں پڑیں تھیں۔ جنھیں میں نے چکھنا تو دور کی بات دیکھا بھی نہیں تھا۔ میں تو اپنا اورینج جوس پی رہی تھی۔ تصویر سے یہی لگا کہ میں بھی ڈرنک کر رہی ہوں۔ پھر مختلف ڈیٹس پر مجھے تیمور درانی کے گھر جاتے دکھایا گیا۔ ایک تصویر میں وہی انٹیرئر ڈیزائنگ والی ٹیم کے ساتھ میری تصویر تھی جہاں لڑکے لڑکیاں بریک میں سگریٹ پی رہے تھے۔ اب میں تو صرف ان کے ساتھ کھڑی تھی۔ اس منظر کو دیکھ کر یہی اندازہ ہوا: ہم سب سموکنگ بڈی ہیں۔
ایک تصویر جو ساتھ والے کسی گھر کی چھت سے لی گئی تھی۔ اس میں مجھے تیمور درانی کے ساتھ لان میں کافی پیتے دکھایا گیا۔
حیرت انگیز طور پر آج شام، جب تیمور درانی کھلی شرٹ کے ساتھ مجھے باہر چھوڑنے آیا تو وہ تصویر بھی موجود تھی۔ اپنے زخموں کی وجہ سے اس نے ٹی شرٹ نہیں پہنی۔ بلکہ بٹنوں والی کیژول شرٹ پہنی تھی۔ جس کے سامنے کے آدھے بٹن کھلے تھے۔ اب دیکھنے والا اس منظر سے کیا مطلب لیتا۔
ہر تصویر کے ساتھ میرا دل ڈوبتا گیا۔ ہر منظر آوٹ آف کنٹیکسٹ تھا۔ میں اگر تفصیل بتاتی بھی تو میرے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا۔
میں نے بولنا چاہا، پر جیسے مجھ سے بولنے کی صلاحیت ہی چھن گئی ہو۔ مجھ پر شدید بے بسی اور شرمندگی چھاگئی۔ خیالات گنجل ہو گئے۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آئی، کیا کروں۔
میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
او میرے خدا! یہ کیا ہو گیا ہے۔ ۔ میں تو بس عزت سے نوکری کرنا چاہتی تھی۔
میری عزت اور محبت دونوں ایک ہی دن چھن گئے۔
شمائلہ نے کچھ کہنا سننا مناسب نہ سمجھا۔ اس نے خاموشی سی انگوٹھی میرے حوالے کی اور گھر سے نکل گئی۔ میں خالی نظروں سے اسے جاتا دیکھتی رہی۔ اماں سکتے میں چلیں گئیں۔ ان کی آنکھیں کھلی اور چہرہ پتھرایا ہوا تھا۔
یہ ضرور کوئی ڈراونا خواب تھا۔
مگر یہ خواب طویل ہی ہوتا گیا۔ گھر میں ایسی خاموشی رہتی، جیسے کسی کا جنازہ اٹھا ہو۔
میرے ساتھ ہمیشہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
جب بھی معاملات ٹھیک ہونے لگتے ہیں، یا تھوڑی خوشی ملنے لگتی ہے۔ ساتھ ہی غم کا ایک جھٹکا لگتا ہے۔
یا اللہ تیری حکمتیں نرالی ہیں۔
ہم کمزور بندوں سے یہ کس چیز کی آزمائش ہے؟
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کئی دن تک ہمارے گھر میں سوگ رہا۔ اماں نے تو میری طرف دیکھنا بھی چھوڑ دیا۔ میں دو ہفتے آفس نہیں گئی۔ سارا دن کمرے میں پڑی روتی رہتی۔ میں نے کئی بار کاشف سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار آٹو ریپلائے آتا، ڈونٹ ڈسٹرب آئی ایم بزی۔
شاید اس کی مصروفیت کافی بڑھ گئی ہے۔ ایک بار اس سے رابطہ ہو جائے میں اسے سب کچھ بتا کر سمجا لوں گی۔
صرف کاشف تھا جو میری بات کو سمجھ سکتا تھا۔
کہیں ایسا تو نہیں شمائلہ نے اسے بھی سب بتا دیا ہو۔ اور اس نے غصے میں میری کالز اور میسیجز کا ریپلائے کرنا چھوڑ ریا ہو۔
میں سارا دن وسوسوں اور خدشات میں گھری رہتی۔
زندگی میں پہلی بار مجھے ٹوٹ کر محبت ہوئی، میرے لیے یہ تصور کرنا بھی محال تھا، کہ میں کاشف کے علاوہ کسی کے ساتھ زندگی گزاروں گی۔ میں نے تو کبھی کسی اور کے بارے میں سوچا بھی نہیں۔
مجھے شدید بے چینی ہونا شروع ہو گئی۔ نہ کھانے کا دل کرتا، نہ کچھ کرنے۔ خیالات و جذبات کا طوفان میرے ذہن میں برپا رہتا۔ نظر ہر وقت فون پر رہتی کہ شاید کاشف کو ترس آ جائے اور وہ میری بات سن تو لے۔
میری جذباتی حالت ایسی نہیں رہی کہ میں مستقبل کے بارے میں کچھ سوچتی یا پلاننگ کرتی۔ مگر شگفتہ کا پریکٹیکل ذہن آگے کے بارے میں سوچنا شروع ہو گیا۔
اس نے مجھ سے صرف ایک شکوہ کیا۔ آپی مجھے نہیں معلوم آپ وہاں کیا کرنے جاتیں تھیں۔ کم از کم یہ تو سوچ لیتیں کہ آپ کے کسی ایکشن کا لوگ کیا مطلب لے سکتے ہیں۔
شگفتہ تم بھی مجھے قصور وار سمجھتی ہو؟۔۔ میرے اندر کوئی چیز ٹوٹ گئی۔
تمھیں اپنی آپی پر اعتبار نہیں ہے۔ میری ساری زندگی تمھارے سامنے ہے۔
آپی مجھے آپ پر یقین ہے۔ پر لوگ تو ثبوتوں کو دیکھتے ہیں۔ سارے شواہد آپ کے خلاف جاتے ہیں۔
یہ سن کر میں رونے لگی۔
اب میں اپنی بے گناہی کیسے ثابت کروں۔
آپی اب کسی پر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جو ہونا تھا ہو گیا۔ اب آگے کی سوچیں۔
آگے کیا سوچنا ہے؟ زندگی تو ختم ہو گئی ہے۔ میں نے مایوسی سے کہا۔
آپی ذرا خود کو سنبھالیں اور زیادہ بڑے مسائل کی طرف توجہ دیں۔
اب اور کون سا بڑا مسئلہ آنا رہ گیا ہے؟ مجھے تو دنیا پورہ تباہ ہوتی محسوس ہو رہی ہے۔
شگفتہ نے افسوس کے ساتھ میری طرف دیکھا اور بولی۔
میں نے شمائلہ کی منت کی ہے کہ۔ ۔ ہماری عزت رکھ لیں۔
کیا مطلب ہماری عزت رکھ لیں؟ میں چونگ گئی۔
شمائلہ وہ تمام تصویریں اور وڈیوز کو ڈیلیٹ کر دے گی۔ اور ان ساری باتوں کو ہمیشہ کے لیے اپنے سینے میں دفن کر لے گی۔ ابھی کچھ عرصہ تک منگنی ٹوٹنے کا ذکر ہم دونوں خاندان کسی سے نہیں کریں گے۔
کچھ عرصہ بعد ہم لوگوں کو یہی بتائیں گے کہ منگنی ہم نے توڑی ہے۔ وہ بھی اس لیے کہ عبیر گھر کی اکیلی کما نے والی ہے جس کے چلے جانے سے گھر کا نظام دھرم بھرم ہو جائے گا۔
منگنی توڑنے کا سار الزام ہم پر آئے گا۔ ہم شمائلہ اور کاشف کے خاندان کی کوئی برائی نہیں کریں گے۔ بدلے میں وہ ہماری عزت بچائیں گے۔
نہیں مجھے یہ منظور نہیں ہے۔
ہم کیوں جھوٹ بولیں۔ جبکہ انھوں نے مجھ پر بے بنیاد لگا کر منگنی توڑی ہے۔۔ مجھے اپنی صفائی کا موقع بھی نہیں دیا۔ کیا صرف شک کی بنیاد کر کسی کی زندگی تباہ کر دینا کونسا انصاف ہے۔ میں نے تڑپ کر کہا۔
شگفتہ نے میری طرف یوں دیکھا جیسے میرے بچگانہ پن پر افسوس کر رہی ہو۔
آپی! آپ شاید معاملے کی نزاکت نہیں سمجھ رہیں۔
آپ صرف اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کے لیے معاملے کو اچھالنا چاہتی ہیں۔ جبکہ یہ بھول رہی ہیں، ہمارے سر پر ہاتھ رکھنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔
شکر کریں !ابا یہ سب دیکھنے سے پہلے ہی فوت ہو گئے۔ ورنہ وہ آپ کی بات بعد میں سنتے، کو غیرت کے نام پر قتل پہلے کرتے۔
میں سہم گئی۔
آپی میں آپ کا دکھ سمجھتی ہوں۔
مگر جذباتیت سے باہر آ کر یہ سوچیں۔ آپ کی وہ وڈیو اور تصویریں غلطی سے بھی کسی کے ہاتھ چڑھ گئیں تو۔ ۔ ۔۔
ہم کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔
لوگ پتا نہیں کیسی کیسی غلیظ باتیں کریں گے۔ ان کی دیدہ دلیری بڑھ جائے گی۔ ہم اکیلی عورتوں کو پہلے ہی کوئی بچانے والا نہیں ہے، اس کے بعد کیا ہو گا؟
منگنی ٹوٹنے کی خبر بہت بری ہے۔ لوگ طرح طرح کی افواہیں اڑائیں گے۔ لیکن کچھ عرصہ بعد بھول جائیں گے۔
خاندان اور محلے کے لوگ یہی کہیں گے نہ ہم نے آپ کو قربانی کی بکری بنایا ہے۔ اس سے آپ کی عزت میں اضافہ ہی ہو گا، کمی نہیں۔
میں نے اماں کو بھی سختی سے کہہ دیا ہے: وہ کسی سے بھی کچھ مت کہیہں۔ سب کچھ یوں چلتا رہنے دیں جیسے چل رہا ہے۔
دوسری طرح سے دیکھیں تو، لاکھ کوشش کے باوجود شمائلہ آپ کو قبول نہیں کرے گی۔
فرض محال، انھوں نے قبول کر بھی لیا تو بھی آپ کی اپنے سسرال میں کوئی عزت نہیں ہو گی۔ آُ کو ساری عمر لوگوں کی نظروں کی حقارت اور طعنے سننے پڑیں گے۔ آپ کے بچوں تک کی زندگی اجیرن ہو جائے گی۔
میں مردوں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتی۔ پر اتنا پتا ہے، مرد اس معاملے میں بہت حساس ہوتا ہے۔ ایک بار شک اس کے ذہن میں آ جائے تو ساری دلیلیں بے اثر ہیں۔ اس کے دل میں پہلی جیسی محبت پیدا نہیں ہو سکتی۔
اگر بات پھیل گئی تو۔ آپ کی کہیں بھی شادی ہونا نا ممکن ہو جائے گا۔۔
ذرا سوچیں آپ بدنامی کا داغ لے کر ساری زندگی اکیلی کیسے گزاریں گی۔ اسی لیے بہتر ہے، ہم بات کو اس طریقے سے دبائیں کہ لوگوں کا دھیان اصل بات کی طرف سے ہٹ جائے۔
میں کافی سوچنے کے بعد اسی نتیجے پر پہنچی ہوں۔ ہمیں جلد از جلد یہ گھر اور محلہ چھوڑ کر کسی پوش علاقے میں شفٹ ہو جانا چاہیے۔ جہاں کے لوگوں کو ہماری ذاتی زندگی کے بارے میں جاننے کا شوق نہ ہو۔ یہاں کے لوگ جتنے ہمارے خیر خواہ اور چاہنے والے ہیں اس کا اندازہ ہمیں ابا کی فوتگی کے بعد ہو گیا تھا۔
میں ہر روز ایک عذاب سے گزرتی ہوں۔ جتنا چھوٹا علاقہ اتنی چھوٹی سوچ۔
میں حیرت سے اس کی باتیں سنتی رہی۔ میں نے تو اس اینگل سے سوچا ہی نہیں۔ یہ چھوٹی سی بچی کتنی سمجھدار ہو گئی ہے۔
میری ایک دوست کا بھائی پراپرٹی ڈیلر ہے۔ اس نے کلفٹن میں ایک بہت مناسب فلیٹ دیکھ لیا ہے۔ قیمت تھوڑی زیادہ ہے مگر اس مکان، اور اماں کے زیوروں کو بیچ کر کچھ نہ کچھ ہو جائے گا۔
کیا مطلب ہے؟
تم نے اس مکان کو بھی بیچنے کی بات کر لی، جسے ابا نے اتنی محبت سے بنایا، جہاں دادی اور ابا کی یادیں ہیں۔ ہم اس مکان کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟
آپی آپ اور امی صورتحال کا صحیح ادراک نہیں کر رہیں۔
وہی عورتوں والی مخصوص باتیں کر رہی ہیں۔ وہی مکان گھر کہلاتا ہے جو آپ کو تحفظ اور خوشیاں فراہم کرے۔ ہم اکیلی عورتیں اگر ایسے محلے میں رہیں گی تو یہاں کے لوگ ہمیں کبھی بھی چین سے جینے نہیں دیں گے۔ ہمارا یوں مردوں کے تحفظ کے بغیر جینا ان کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔ وہ یہی سمجھتے ہیں، ہماری یہ آزادی ان کی عورتوں کو بھی شہہ دے گی کہ وہ بھی مردوں کی برابری کا سوچیں۔
بہت جلد یہہمیں رسوا کر کے مثال بنانے کی کوشش کریں گے۔ ہمارے معاشرے میں یہ مان لیا گیا ہے: باہر کی دنیا مرد کی ہے اور گھر کے اندرکی دنیا عورت کی۔ جو عورت بھی گھر سے باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہے۔ اسے مردوں کی دنیا میں در اندازی کرنے والی سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے ایسی عورتوں کو ہراساں کر کے، نیچا دکھا کر، اور ڈرا دھمکا کر واپس گھروں کی طرف دھکیلا جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے عورت کا خوف مرد کے دماغ پر سوار ہے۔ ہمیشہ سے ہمیں بہکانے والی، سازشی اور مکار کہا گیا۔
میں اس چیز کے خلاف ہوں۔ میں مرد کی برابری چاہتی ہوں، محبت میں بھی، گھر میں بھی، اور نوکری میں بھی۔ مجھے کسی کی ہمدردی اور محتاجی نہیں چاہیے۔ اور میں یہ بات دنیا پر ثابت کر کے رہوں گی۔
ابا کی فوتگی کے بعد اس محلے میں ہم پر زندگی تنگ سے تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ مشکل ترین وقت میں بھی کوئی ہماری مدد کو نہیں آیا۔ بلکہ انھوں نے بری بری باتیں پھیلا کر ہمارے لیے مزید مسائل کھڑے کرنا شروع کر دیے۔
آپ کی منگنی ٹوٹنے کی خبر اگر یہاں رہتے ہوئے لوگوں کو ملی تو پتا نہیں کیا کیا باتیں کریں گے۔ مجھے تو ڈر ہے، اگر شمائلہ کے سسرال سے کوئی افواہ اڑ گئی تو پتا نہیں کیا ہو گا۔ بہتر ہے کہ ہم خاموشی سے کسی دوسری جگہ چلے جائیں۔
اس کی باتوں نے دماغ کو تو متاثر کیامگر دل نہیں مان رہا۔ پتا نہیں ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟
فی الحال تو ہم فوری طور پر اس مکان کو بیچ کر کرائے کے مکان میں شفٹ ہو رہے ہیں۔ کچھ ہی مہینوں میں اپنا مکان بھی خرید لیں گے۔
شگفتہ پتا نہیں کیا کیا بولتی رہی۔ میرا ذہن اس کی باتوں سے ہٹ کر ابھی بھی اپنی منگنی ٹوٹنے اور کاشف کی جدائی پر اٹکا ہوا ہے۔
میں اسے کس طرح بھول جاؤں؟
کیا ہماری محبت اتنی کمزور تھی کہ حالات کا ایک جھٹکا بھی برداشت نہ کر سکی؟
کیا میں اسے حقیقت بتاؤں گی تو پھر بھی وہ میری بات کا یقین نہیں کرے گا؟
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میری شب وروز خواب کی کیفیت میں گزرنے لگے۔ مجھے کچھ بھی حقیقی نہ لگتا۔ مجھے علم نہ ہوا ہم کب کلفٹن کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں شفٹ ہوئے۔ سب کچھ اتنی تیزی اور خاموشی سے ہوا کہ میں تماشائی بنی دیکھتی رہی۔ ساری بھاگ دوڑ اور ٹینشن شگفتہ نے لی۔
اس کا اعتماد اور ہمت دیکھ کر میں حیران ہوتی۔ آخر میں ایسی کیوں نہیں ہوں؟ میں اتنی چھوئی موئی سی کیوں ہوں؟
میری چھٹیاں بڑھتی ہی گئیں میرا آفس جانے کو بالکل بھی دل نہ کرتا۔ کئی بار ایلف کی کال آئی۔ میں نے گھر کے شفٹ ہونے اور طبیعت کی خرابی کا بہانہ کر دیا۔ تیمور درانی نے اس دوران کوئی رابطہ نہ کیا۔
میں ایک عجیب کشمکش کا شکار تھی۔
آفس جاؤں یا نہ جاؤں؟
اب کیا آفس والے بھی میرے بارے میں جانتے ہوں گے۔ ویسے تو آفس کا ماحول کافی لبرل تھا۔ لوگ کسی کے ایسے معاملات میں دخل نہیں دیتے۔ پھر بھی لوگوں کا کیا بھروسا۔
میراد ل چاہا: سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر گھر بیٹھ جاؤں۔
اماں بھی مجھ سے ناراض تھیں۔ میں نے انھیں کئی بار سمجھانے کی کوشش کی۔ پر ان کا رویہ پہلے جیسا نہیں رہا۔
میں ان کے گلے لگ کر رونا چاہتی تھی مگر وہ مجھ سے یوں دور رہتیں، جیسے میں ناپاک ہوں۔
اماں سارا دن گم سم بیٹھی رہتیں، نہ کھاتی نہ سوتیں۔ کبھی کبھی مجھے ان کے کمرے سے چھپ چھپ کر رونے کی آواز آتی۔ انھیں روتا دیکھ کر میں اپنے آنسو بھی نہ روک پاتی۔
پچھلے ایک مہینے کے واقعات نے مجھے اس قدر ہلادیا کہ مجھے اپنا آپ اپنا نہ لگتا۔ راتوں کو نیند نہ آتی۔ کبھی تھوڑی سی اونگھ آبھی جاتی تو ایسے برے برے خواب آتے کہ میں ڈر کے مارے اٹھ بیٹھتی رونا شروع کر دیتی۔
کبھی میں دیکھتی کہ میری لاش پڑی ہے اور ایک بھیڑیا اسے نوچ نوچ کر کھا رہا ہے۔ کبھی ایسا لگتا، میں ایک ہرنی ہوں اور کئی لگڑ بھگے میرا پیچھا کر رہے ہیں۔ ان کے قہقے بالکل انسانوں جیسے ہوتے۔ میں دور سے کاشف کو دیکھتیاور وہ بے رخی سے چہرہ پھیر لیتا۔
کبھی شمائلہ نظر آتی ہے جو غصے سے انگوٹھی میرے منہ پر مار کر چلی جاتی۔ کبھی عمارہ مجھے دیکھ کر بھی اگنور کر کے کسی پارٹی میں چلی جاتی۔
ایک ویرانے میں اماں زارو قطار رو رہی تھیں۔ میں ان کے پاس گئی تو وہ مجھ سے ایسے ہٹ گئیں جیسے مجھے کوڑھ کی بیماری ہو۔ اس بیماری سے میرا جسم گلنا شروع ہو گیا۔
کتوں نے مجھے گھیرلیا۔ کسی بھی وقت وہ مجھے نوچنے والے تھے۔ ایک بھیڑیا آیا اور اور سب بھاگ گئے۔ اس بھیڑیے نے میرے ارد گرد چکر لگانا شروع کر دیے۔ میں سہمے ہوئے انداز سے اسے دیکھتی رہی۔ وہ بھیڑیا خود بھی زخمی تھا۔ اس کی کمر خون سے بھری ہوئی تھی۔ میں ڈر کے مارے اٹھ بیٹھی۔
میں نے حقیقت محسوس کرنے کے لیے خود کو چٹکی کاٹی۔
یا اللہ ہمارے ساتھ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے۔ مجھے نہیں یاد پڑتا، ابا نے کبھی حرام کھایا ہو یا اماں نے کسی کا دل دکھایا ہو۔ اماں تو سارے زندگی لوگوں کی ہی خدمت کرتی رہیں ہیں۔ پھر بھی ہمارے اوپر اتنی آزمائشیں کیوں آئیں؟
کوئی تو وجہ ہونی چاہیے۔ ایک ہی سال میں ہمارے زندگی ایک بھگولے میں داخل ہو گئی۔ ہمارا انجر پنجر ڈھیلا ہو گیا۔ آگے بھی پتا نہیں کیا ہونا تھا۔
جانے ہماری خوشیوں کو کس کی نظر لگ گئی۔
ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کسی نے جادو کروا یا ہو؟
میں کچھ دنوں سے بہت شکی اور وہمی ہو گئی تھی۔ ہر بات سے ڈر جاتی۔ مجھے مستقبل کے بارے میں برے برے وسوسے آتے۔ دروازہ کھٹکتا تو لگتا ڈاکو آئے ہیں۔ کھانا کھانے لگتی تو محسوس ہوتا کوئی مردار چیز کھا رہی ہوں۔
ہر وقت کمرے میں سہمی سہمی بیٹھی رہتی۔ اماں کی حالت بھی میری جیسی ہی تھی۔ شگفتہ کی ہمت کی داد تھی کہ وہ اکیلی ہی سب کچھ کر رہی تھی۔
مجھے شدید ڈیپریشن کے دورے بھی پڑنے لگے۔ مجھے اپنی حالت کی خود بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔
بس یوں لگتا کہ سب کچھ ختم ہونے والا ہے۔ ایک ویرانی اور مایوسی تھی۔۔
میں بہت خشوع و خضوع سے نماز اور قرآن پڑھنے لگی۔ اس سے مجھے تھوڑا سا سکون ملتا۔ پر اس کے بعد پھر وہی حالت ہو جاتی۔ کسی پل چین نہ آتا۔
کروں تو کیا کروں؟
میں نے کئی بار رو رو کر اپنی اس حالت کے ٹھیک ہونے کی دعا مانگی۔ پر کوئی فرق نہ پڑا۔
ایسا بات نہیں تھی کہ مجھے خدا کے بارے میں کوئی شک تھا۔ مگر خدا میری دعا سنتا کیوں نہیں؟
یا اللہ تو میری حالت ٹھیک کیوں نہیں کر دیتا؟ میں عجیب سی تکلیف کا شکار تھی۔ مجھے ایک پل چین نہیں آتا۔
ایک صبح یہ کیفیت اپنے عروج پر چلی گئ اور میرا خود پر کنٹرول ختم ہو گیا۔ میں نے کچن سے چھری اٹھائی اور پتا نہیں کیا سوچ کر اپنے کمرے کی طرف چل پڑی۔
یہ چھری کچھ ہی دیر میں میری ساری مشکلیں اور پریشانیاں دور کر سکتی تھی۔ میرے جانے کے بعد اماں اور شگفتہ کو طعنے دینے والا کوئی نہیں ہو گا۔ میں خود کشی نہیں کر رہی بلکہ ان لوگوں کی خاطر قربانی دے رہی ہوں۔ میرے مر جانے سے بدنامی دبی رہے گی۔
کوئی اماں کو طعنہ نہیں دے گا کہ آپ کی بیٹی نے ایسا کام کر دیا ہے۔ شگفتہ بہت سمجھ دار ہے۔ وہ خود کو اور اماں کو کسی نہ کسی طرح سنبھال لے گی۔ مجھے اکوئی مس نہیں کرے گا۔
کاشف اپنی نئی محبوبہ کے ساتھ کتنا خوش ہو گا۔ کیا میں اسے بالکل بھی یاد نہیں آؤں گی۔
تیمور درانی میرے بارے میں کیا سوچے گا؟ کیا میری موت سے اسے میرے اندر کے جانور کے بارے میں علم ہو جائے گا؟
کیا وہ میری خود کشی سے مجھے کبوتری سمجھے گا؟ مورنی سمجھے گا؟ شیرنی تو ہرگز نہیں سمجھے گا؟
کیا مجھے بھی وہ عنبر جیسا سمجھے گا؟
کیا وہ پھر یہی کہے گا، میری خود کشی بھی بے مقصد تھی؟
کیا میرا چہرہ بھی مرنے کے بعد سفید ہو گا؟
کیا میری آنکھیں بھی بھی خالی ہوں گی؟
میرے اندر مختلف آوازیں آنے لگیں میرے اندر ایک چھوٹی بچی اور ایک بوڑھی عورت بولنے لگی۔
کیا میرا ذہنی توازن خراب ہو گیا ہے؟کیا میرے اوپر آسیب کا سایہ ہو گیا ہے یا کسی نے جادو کروا دیا ہے؟
میں نے چھری اپنی کلائی پر رکھی۔ مجھے اپنی کلائی پر ایک ٹھنڈک کا احساس ہوا۔
۔ ۔ ۔ ۔
آپی۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
شگفتہ بھاگتی ہوئی میرے پاس آئی۔ میرے ہاتھ سے چھری پکڑی کر ایک زور دار تھپڑ میرے منہ پر مارا۔
یہ کیا بیوقوفی کرنے جا رہی ہیں آپ؟
تھپڑ لگتے ہی میں اپنی ٹرانس جیسی کیفیت سے باہر نکل آئی۔
شگفتہ نے مجھے گلے کر رونے لگی۔
آپی ابا کے بعد آپ بھی ہمیں اکیلا چھوڑ کر جانا چاہتی ہیں۔
میں جیسے خواب کی دنیا سے واپس آ گئی۔ یہ میں کیا کرنے لگی تھی۔ یہ میرا خود پر کنٹرول کیوں ختم ہو گیا؟
بے بسی اور شرمندگی سے میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
اسی دن شگفتہ مجھے سائیکیٹرسٹ کے پاس لے کر گئی، جس نے مجھے کچھ اینٹی ڈیپریسنٹ دیں اور کونسلنگ کی۔ سائیکیٹرسٹ کی باتوں سے زیادہ مجھے شگفتہ کی باتوں نے حوصلہ دیا۔ وہ سارا وقت میرے ساتھ گزارتی۔ اس نے مجھے مشورہ دیا۔ میں آفس جانا شروع کروں تاکہ میرا دھیان بٹا رہے۔
نہیں شگفتہ! میں اب اس دفتر میں دوبارہ نہیں جا سکتی۔ اس دفتر میں جانے سے ہی تو یہ دن دیکھنے پڑے ہیں۔
آپی !آپ کی بات ٹھیک ہے۔ لیکن اتنی جلدی دوسری نوکری کیسے ملے گی۔ کرائے کا گھر لینے سے خرچے مزید بڑھ گئے ہیں۔
آپ دفتر جا کر کچھ کسی دوسری نوکری کی کوشش جاری رکھیں۔ اس دوران میں بھی کچھ کرنے کا سوچتی ہوں۔
تم کیا کرو گی؟ تمھاری تعلیم تو ابھی شروع ہوئی ہے؟ میں اس کے بارے میں پریشان ہو گئی۔
اب کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑے گا۔ میں چار سال ڈگری ختم ہونے کا انتظار نہیں کر سکتی۔ دیکھتی ہوں، شام کو کہیں پارٹ ٹائم جاب کر لوں۔
میں مزید ڈیپریس ہو گئی۔ یہ بیچاری کیا کیا کرے گی؟ میں نے دفتر جانے کا فیصلہ کر لیا۔
دفتر جاتے ہوئے میری شرمندگی عروج پر چلی گئی۔ جیسے ہر شخص کی نظروں میں طنز ہو، لوگ چھپ چھپ کر مجھ پر ہنس رہے ہوں۔
میری ٹیم نے خیرت پوچھی اور پھر سب لوگ کام میں مصروف ہو گئے۔ ایلف نے ڈھیر سارا پینڈنگ کام مجھے پکڑا دیا۔ کام کی وجہ سے میں سب کچھ بھول گئی۔ اینٹی ڈیپیسنٹ کی وجہ سے جلد ہی میں تھک جاتیتھی۔ ہمت کر کے پھر بھی لگی رہی۔
معلوم ہوا، تیمور درانی دو مہینے کے لیے یورپ گیا ہے۔ تبھی تو میں کہوں اس نے مجھے سے رابطہ کیوں نہیں کیا۔
شکر ہے دو مہینے تو سکون سے گزریں گے۔
میں نے فیصلہ کر لیا ہے، تیمور درانی کے آنے سے پہلے پہلے میں اس نوکری کو چھوڑ دوں گی۔ میں نے کافی جگہ سی ویز بھیجنا شروع کیا۔ میرا ایک سال کا تجربہ ہونے والا تھا اسی لیے مجھے کچھ امید تھی۔
ایک دن ایلف میرے کمرے میں آئیں تو انھوں نے میرے لیپ ٹاپ پر سی وی کھلی دیکھی۔ انھوں نے مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو میں شرمندہ ہو گئی۔
وہ کیا سوچ رہی ہوں گی؟ میں چھپ چھپ کر دوسری کمپنیوں میں جاب کے لیے اپلائی کیوں کر رہی ہوں؟ انھوں نے مجھے اتنی محنت سے کام سکھایا اور میں کام سیکھنے کے بعد کسی اور کمپنی میں جانا چاہ رہی ہوں۔
ایلف نے اس وقت کچھ نہ کہا۔ بریک ٹائم میں انھوں نے بڑی شفقت سے پوچھا کہ مجھے اس کمپنی میں کوئی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے میں ایسا کر رہی ہوں؟
اگر کوئی بھی ایسا مسئلہ ہے تو وہ مینجمنٹ سے بات کر کے اسے حل کروا سکتی ہیں۔
ان کے لہجے کی شفقت نے مجھے بہت شرمندہ کیا۔ وہ واقعی نہیں چاہتیں میں ان کی ٹیم چھوڑ کر جاؤں۔
اب میں عجیب کشمکش میں پھنس گئی۔ انھیں کیسے سمجھاؤں۔ میں نے اسی لمحے ایک کہانی گھڑی جس میں تیمور درانی کے علاوہ باقی تفاصیل وہی تھیں۔
ایلف!میں آپ کا خلوص دیکھ کر آپ کو اپنی کہانی سناتی ہوں۔ آپ اس کے بعد فیصلہ کیجئے کہ میرے پاس اور کونسا راستہ ہے۔
یونیورسٹی میں مجھے بہت ہی اچھے استاد ملے جنھوں نے مجھے آرٹ اور ادب کی گہرائی سے آگاہ کیا۔ باقی لوگ تو مجبوراً کلاسوں میں آتے تھے پر میں بڑے شوق سے ان کلاسوں میں جاتی۔ ان میں آرٹ کی ہسٹری پر بات ہوتی۔ مجھے آرٹ کی فلاسفی بہت اچھی لگتی تھی۔ قمر فانی میرے پسندیدہ ٹیچر تھے۔ وہ عمر میں کافی سینئر ہونے کے باوجود نوجوانوں سے زیادہ تر و تازہ اور فنی تھے۔ وہ آرٹ کی تاریخ اور فلاسفی کو بھی اتنی خوبصورتی سے بتاتے کہ بندہ بور نہ ہوتا۔ میرا ان سے یونیورسٹی کے دوران اور بعد میں بہت اچھا تعلق رہا۔ فانی صاحب کی شخصیت تو بہت اچھی تھی۔ لیکن لوگ انھیں نا پسند کرتے۔ شاید اس کی وجہ ان کی باغیانہ طبیعت اور غیر شادی شدہ ہونا تھا۔ ان کی کبھی کسی سے لڑائی تو نہیں ہوئی، پر ان کے طنزیہ جملے سب کو چبھتے۔
ان کے بارے میں بری بری باتیں پھیلائی جاتیں۔ کہ وہ معصوم لڑکیوں کو متاثر کر کے اپنے دفتر اور گھر میں بلاتے ہیں۔ مگر میں نے اتنے سال کبھی کوئی چھچوری حرکت تو کیا کوئی چھچوری نظر بھی محسوس نہیں کی۔ وہ ہمیشہ مجھے بیٹیوں کی طرح ٹریٹ کرتے تھے۔ میں ان کے گھر بھی گئی جہاں بے تحاشا کتابیں اور پینٹگز مجھے اچھی لگتیں۔
یونیورسٹی ختم ہوتے ہی میری منگنی ایک بہت اچھی جگہ ہوئی۔ مجھے اپنے منگیتر سے شدید محبت ہو گئی۔ پھر بدقسمتی سے ہمارے درمیاں دوریاں بڑھ گئیں۔ میرا منگیتر امریکہ ٹریننگ پر چلا گیا۔ پیچھے ہم پر قیامتیں ٹوٹ پڑیں۔ ہمارے گھر میں ڈاکا ڈلا، میرے ابا ہماری عزت بچاتے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس واقعہ نے ہماری زندگی تہہ و بالا کر دی۔ ساری دنیا ہماری دشمن بن گئی۔ ہمارے بارے میں عجیب عجیب باتیں کی جانے لگیں۔ گھر کا خرچ چلانے کے لیے مجھے نوکری کرنا پڑی۔
خوش قسمتی سے مجھے اس کمپنی میں جاب مل گئی۔ میں کبھی کبھار چھٹی کے دن فانی صاحب کے ہاں بھی جاتی۔ ان سے ادب اور آرٹ کے موضوع پر باتیں کرنا مجھے اچھا لگتا۔
دفتر کی پارٹیز میں مجھے آنا بالکل اچھا نہ لگتا۔ لیکنمجبوراً سوشالائزیشن کے لیے آ جاتی۔ میرے سسرال والوں کو پتا نہیں کیا شک ہوا اور انھوں نے میری جاسوسی کروا ئی۔ دفتر کی پارٹیز اور فانی صاحب کے گھر جانے کی تصویریں بنالیں۔ اب ان تصویروں کو دیکھ کر انھوں نے یہ مطلب لیا کہ میں اچھے کردار کی لڑکی نہیں ہوں۔
میرے سسرال والوں نے میری وضاحت سنے بغیر منگنی توڑ دی۔ میرا منگیتر بھی میری بات سننے کو تیار نہیں۔ بدنامی سے بچنے کے لیے ہم نے وہ محلہ چھوڑ دیا۔ اسی وجہ سے میں شدید ڈیپریشن کا شکار ہو گئی ہوں۔ ایک بار خود کشی بھی کرنے والی تھی۔ اسی وجہ سے میں نے فیصلہ کیا ہے، یہ کمپنی چھوڑ کر کسی اور شہر میں نوکری کر لوں۔
ایلف نے میری کہانی بڑے دھیان سے سنی اور اس پر یقین بھی کر لیا۔ میری کہانی ختم ہوتے ہی مجھے گلے لگا کر تسلی دی۔ ان کا خلوص دیکھ کر میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ انھوں کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو وہ میرے لیے کچھ کر سکتی ہیں۔
تمھیں کسی اور ملک جانے میں کوئی ایشو تو نہیں ہے؟
میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ کوئی اور ملک؟
یورپ یا ترکی؟ میرے کچھ کمپنیوں میں اچھے تعلقات ہیں جو میری ریکیمینڈیشن پر تمھیں سیلیکٹ کر سکتے ہیں۔
اوف کورس کام اور ماحول ایسا نہیں ہو گا جیسا یہاں ہے۔ تمھیں شروع میں ایڈجسٹ ہونے کے لیے بہت محنت کرنا پڑے گی۔ وہاں کوئی تمھیں لڑکی سمجھ کر رو رعایت نہیں دے گا۔ ہاں تمھیں سیکھنے کے موقع بہت ملیں گا۔
میں سوچ میں پڑ گئی کہ کیا کروں؟ کیا کچھ عرصے کے لیے باہر چلے جانا مناسب ہے یا نہیں؟
ویسے بھی یہاں ہمارا کون تھا؟ صرف اماں اور شگفتہ ہی تو تھیں۔ شگفتہ تو ویسے بھی باہر پڑھنے جانا چاہتی تھی۔ اسی بہانے ہم تینور ماں بیٹیاں اکٹھی تو ہوں گی۔
میں نے گھر واپس آ کر کر شگفتہ سے بات کی تو وہ بہت ہی ایکسائیڈڈ ہو گئی۔
آپی اس سے بہتر تو کوئی بات ہو ہی نہیں سکتی۔ آپ کی منگنی ٹوٹنے اور دوسری باتیں دب جائیں گی اور کچھ عرصہ بعد ہم واپس آ کر اپنی نئی زندگی کا آغاز کر سکیں گے۔
میں اس کی باتوں سے کنونس ہونے کے بعد بھی شش و پنج کا شکار رہی۔
کیا کروں؟
ایک نیا ملک، نئی کمپنی اور نئی زندگی۔ میں یہ سب کیسے کرپاؤں گی؟
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں نے ایلف کو ہاں کہہ دی۔ انھوں نے کچھ ہی دنوں میں دو یورپین اور ایک ترکش کمپنی میں میرا سکائپ انٹرویو رکھوادیا۔ دو کمپنیاں فرانسیسی تھیں اور ایک ترکش۔ انٹرویو تو بہت ہی لمبے اور ٹف ہوئے۔
ان کا سارا فوکس اس بات پر تھا، میں ان کے لیے کیا کر سکتی ہوں؟
شکر ہے ایلف نے میری اچھی خاصی تیاری کروا ئی، ورنہ میری تو ایسی صورتحال میں سانس ہی پھول جاتی تھی۔ اتنے اچھے انٹرویو کے باوجود دونوں فرانسیسی کمپنیوں نے مجھے ریجیکٹ کر دیا۔ البتہ ترکی کی کمپنی نے مجھے جاب آفر کر دی۔
پے پیکج ابتدائی طور پر کم تھا۔ لیکن پرفارمنس کے ساتھ بڑھنے کے چانسس بہت تھے۔ میں نے جیسے ہی آفر ایکسیپٹ کی، ویزہ پراسس سٹارٹ ہو گیا۔ کچھ ہی ہفتوں میں مجھے جانا تھا۔
مجھ سے زیادہ تیاریاں شگفتہ نے کرنا شروع کر دی تھیں۔ گھر کی فروخت سے آنے والے پیسوں کو فلفور اکاؤنٹ میں رکھ دیا۔ ترکی جا کر ان کی ضرورت پڑسکتی تھی۔ اماں نئے علاقے میں ابھی تک ایڈجسٹ نہیں ہو پائیں، نئے ملک کا سن کر تو ان کے ہوش ہی اڑ گئے۔ پے درپے صدموں نے ان کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت چھین لی تھی۔ انھیں لگتا کہ ان کا کسی بات پر اختیار ہی نہیں رہا۔
حقیقت میں ہم سب گھر والوں کی زندگی خس و خاشاک جیسی ہو گئی تھی۔ حالات و واقعات کا ایک طوفان ہمیں بہائے لے جا رہا تھا۔
فلائٹ سے دو دن پہلے میں نے آفس میں خاموشی سے ریزائن دے دیا۔ ایلف کے علاوہ کسی کو کچھ علم نہیں تھا۔ میں نے اس بات کا زیادہ ڈھنڈورا پیٹنا مناسب نہ سمجھا۔ ایلف نے نیک تمناؤں کے سے ساتھ مجھے رخصت کیا۔ یہی کہا کہ وہاں جاتے ہی رابطے میں رہوں۔
اسی شام میں آفس سے گھر آئی تو دیکھا، شگفتہ اور امی گھر پر نہیں تھیں۔ پریشان ہو کر فوراً شگفتہ کو کال ملائی۔ اس نے بتایا، امی کا بلڈ پریشر بہت لو ہو گیا تھا اسی لیے وہ ہسپتال آئی ہے۔ پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے وہ کچھ دیر میں گھر پہنچ جائیں گے۔
مجھے تسلی نہ ہوئی۔ عجیب عجیب سے وسوسے آنا لگے جیسے اماں کو کچھ ہو گیا ہے اور شگفتہ مجھ سے اصل بات چھپا رہی ہے۔
میں نے کچھ دیر بعد پریشانی سے دوبارہ شگفتہ کو کال کی۔
شگفتہ سچ سچ بتاؤ امی ٹھیک تو ہیں نا۔ ۔ میری آواز رندھ گئی۔
اس نے غصے اور کوفت سے کہا: آپی پریشان نہ ہوں کچھ نہیں ہوا۔ ہم لوگ کچھ دیر میں گھر آ رہے ہیں۔
میں نے ایک ہفتے سے ڈیپریشن کی میڈیسن لینا بھی چھوڑ دی تھی۔ کیا اسی وجہ سے تو ایسا نہیں ہو رہا؟
کچھ دیر بعد دروازے پر گھنٹی بجی۔ میں پریشانی میں ننگے سر اور ننگے پاؤں ہی دروازہ کھولنے چلی گئی۔ صرف اماں کی صورت ہی مجھے تسلی دے سکتی تھی۔
دروازہ کھولتے ہی کاشف پر نظر پڑتے ہی میری سانس اٹک گئی۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مجھے یہ بھی یاد نہ رہا کہ میں بے نقاب اور ننگے سر ہوں۔
اس کی صورت دیکھتے ہی میرے سینے میں ٹھنڈک پڑ گئی۔
میرا سارا ڈیپریشن ختم ہو گیا۔ دل چاہا، اس کے سینے سے لگ جاؤں۔
یہ سب خواب جیسا ہے۔
لیکن وہ واپس کیوں آیا؟
یقینا! اسے میری معصومیت کا دل سے یقین ہے۔ اسی لیے ساری مخالفتوں کے باوجود وہ مجھے اپنانے آیا ہے۔
ایک لمحے میں میرے سارے غم دھل گئے۔ تاریک نظر آنے والا مستقبل، سہانا ہو گیا۔
اس نے شاید کبھی میری تصویر دیکھی ہو۔ مگر یوں بے نقاب کبھی نہیں دیکھا۔ اس کی آنکھوں کے تاثرات بدل گئے۔ کچھ لمحوں کے لیے وہ پتھر کا بت بن گیا۔۔
میں اس کی آنکھوں کے تاثرات نہ سمجھ سکی۔ میری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت تو اسے دیکھ کر ہی ختم ہو گئی۔ ایک خیال آیا کہ کاش وقت رک جائے۔
اسی لمحے اس کی آنکھوں میں فوراً شدید غصے کی لہر اٹھی۔
ایک زور دار تھپڑ مجھے خواب سے باہر لے آیا۔ اس کا چہرہ غصے سے لال تھا۔ یوں لگا کہ وہ بڑی مشکل سے خود کو کچھ کرنے سے روک رہا ہے۔
تھپڑ اتنی زور سے لگا کہ میں سائیڈ پر گر گئی۔ میرا سر جھن جھنا گیا۔ دکھ کے مارے میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔
میں تڑپ کر اٹھی اور اس سے کچھ کہنے ہی والی تھی، کہ اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے روکا۔
بس عبیر! کسی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ میں سب جان چکا ہوں۔ تمھاری کوئی وضاحت میرا دل صاف نہیں کر سکتی۔
میرا بس نہیں چل رہا کہ۔ ۔
یہ کہتے ہیں اس نے سامنے دیوار پر زور سے مکا مارا۔ اس کی آنکھوں میں بے بسی صاف دکھنے لگی۔ جیسے کسی شیر کو جکڑ دیا ہو۔
عبیر! میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ کہ۔۔ کہ تم پیسے کی چکا چوند سے اتنی جلدی کرپٹ ہو جاؤ گی۔ اس کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی آ گئی۔
صحیح کہتے ہیں ! سب لڑکیاں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ بس ظاہری روپ بدلتے ہیں۔
تم تو اپنی پارسائی کی وجہ سے مجھے چہرہ بھی نہیں دکھاتی تھیں۔ پھر۔۔ پھر ایسا کیا ہو گیا کہ تم۔ ۔ ۔۔
اسے بھی تم نے اپنی معصومیت سے شکار کیا ہو گا۔ ہے نا؟
وہ دادی کا وعدہ، وہ پردہ داری!
کیاصرف امیر لڑکوں کو پھنسانے کے بہانے تھے؟
کاشف میری بات تو سنو۔
بس عبیر!
مجھے مزید غصہ مت دلاؤ کہ میں کچھ اور کر گزروں۔
میں گھر سے یہ فیصلہ کر کے نکلا تھا آج تمھاری بھی جان لوں گا اور اپنی بھی۔ تمھارا یہ خوبصورت چہرہ دیکھ کر میرا غصہ آدھا رہ گیا ہے۔
میں اس چہرے کو دیکھنے کے لیے کتنا تڑپتا رہا۔ آج اسے اپنے ہاتھوں سے کیسے مٹادوں۔
اس کی آواز بھرا گئی۔
تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیاعبیر۔۔
میں تم سے نفرت کرتا ہوں۔
یہ کہہ کر وہ تیزی سے دروازہ بند کر کے چلا گیا جیسے اگر مزید رکا تو اپنے جذبات پر قابو نہ کر سکے گا۔
اس کی باتیں میرے سینے میں گرم سلاخوں کی طرح گھستی گئیں۔
میرا سانس لینا محال ہو گیا۔
میرے ذہن میں بس ایک ہی جملہ گونجنے لگا
میں تم سے نفرت کرتا ہوں۔ میں تم سے نفرت کرتا ہوں۔
میری پاکیزگی سے اسے محبت تھی۔
اب اس کی نظروں میں میری پاکیزگی میں ختم ہو گئی ہے۔
آج اس نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے
میری کوئی دلیل اس کے دل میں میری محبت بحال نہیں کر سکتی۔
میری پاکیزہ محبت ختم ہو گئی۔
محبت جو میری زندگی تھی۔
اب میری کوئی زندگی ہی نہیں۔
محبت کے بنا یہ زندگی کتنی بے معنی ہے
میں جیوں تو کس لیے؟
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
میرا خود پر اختیار ختم ہو گیا۔
یوں لگا یہ چہرہ اور جسم میرا حصہ نہیں۔ میں اس چہرے اور جسم سے علیحدہ ایک وجود ہوں۔ یہ ناپاک جسم اور چہرہ سزا کا مستحق ہے۔ مجھے ان سے نجات پانی ہے۔
میں فوراً ہی کچن میں گئی اور چھری پکڑ کر ایک ہی سیکنڈ میں بائیں کلائی کی نس کاٹ دی۔
میں کچن کی دیوار سے لگ کر بیٹھ گئی، اور اپنی سفید کلائی سے خون کو نکلتے دیکھنے لگی۔ میرا دل بہت آہستہ آہستہ ڈوبنے لگا۔ آنکھیں کھولنا مشکل ہو گیا۔ ذہن یوں تاریک ہونے لگا جیسے کسی بلڈنگ کی لائٹس آف ہوتی ہیں۔ میری سوچیں بہت آہستہ ہو گئیں، جیسے وقت رک گیا ہو
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
مجھے ہوش آیا، تو انجان کمرے میں دوائیوں کی بو کے ساتھ میری پہلی نظر شگفتہ پر پڑی۔
اس کی آنکھوں میں شدید پریشانی اور غصہ تھا۔ مجھے اپنے جسم میں بالکل بھی جان محسوس نہ ہوئی۔ مجھے دوبارہ شدید ڈیپریشن محسوس ہوا۔ پاس بیٹھی اماں کی آنکھوں میں شدید غم تھا۔ میرے ہوش میں آتے ہی اماں فوراً میرے پاس آئیں اور میرا ہاتھ تھام کر رونے لگیں۔ انھوں نے کچھ نہ کہا لیکن ان کے آنسوؤں اور ہاتھ کی گرمی نے میرے اندر ایک سکون سا ڈال دیا۔ وہ سب کچھ ہونے کے بعد بھی مجھے کھونا نہیں چاہتیں۔
پھر بھی مجھے اپنے بچ جانے کا شدید غم ہوا۔
آخر مجھے کیوں مزید تکلیف سہنے کے لیے زندہ رہنے دیا؟
اماں نے فوراً مجھے گلے لگایا، اور میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اماں کے گلے لگانے نے جیسے میرا سار اڈیپریشن دور کر دیا ہو۔ جیسے میں دوبارہ چھوٹی سی بچی بن گئی ہوں۔ پتا نہیں اس میں کتنا وقت گزر گیا۔ لیڈی ڈاکٹر نے آ کر ہمیں جدا کیا۔
جس وقت میں نے اپنی نس کاٹی، شگفتہ نے کاشف کو بلڈنگ سے نکلتے دیکھا۔ کاشف نے انھیں سلام کرنا گورا نہ کیا اور تیزی سے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا۔ کاشف کا یوں غصے سے جانا شگفتہ کے ذہن میں خطرے کی گھنٹی بجا گیا۔ وہ یہی سمجھی کہیں کاشف مجھے کوئی نقصان پہچانے نہ آیا ہو۔
وہ بھاگتی پہنچی تو دروازہ کھلا تھا اور میں کچن مین اپنے ہی خون کے تالاب میں بیٹھی تھی۔
اس نے فوراً میری کلائی پر کس کے کپڑا لپیٹا اور قریبی ایمرجنسی میں لے گئی۔ کئی گھنٹوں اور خون کی کئی بوتلوں کے بعد میری حالت خطرے سے باہر ہوئی۔ شگفتہ کو تھوڑا بہت اندازہ ہو گیا کہ کیا ہوا ہو گا۔
میری رپورٹس میں یہی آیا کہ مجھے ڈیپریشن کا شدید اٹیک ہوا تھا۔ میری ذہنی حالت نارمل نہیں تھی۔ جس کی وجہ سے میں آگے بھی خود کشی کی کوشش کر سکتی تھی۔ اسی لیے مجھے انتہائی نگہداشت میں رکھنے کی ضرورت تھی۔
اماں اور شگفتہ کے چہروں پر پریشانی مجھے مزید پریشان کرنے لگی۔ وہ زبانی طور پر تو مجھے تسلی دیتی رہیں۔ میرے ساتھ اچھی اچھی باتیں کرتیں مگر خود ان کے چہروں پر کوئی اور ہی کہانی دکھتی۔ جب وہ کمرے سے باہر سائیکیٹرسٹ سے باتیں کر رہی ہوتیں تو مجھے برے برے خیال آتے۔
دوائیوں کے زیر اثر مجھے ہر وقت غنودگی اور نیند آئی رہتی۔ جب میں جاگی بھی ہوتی تو یوں لگتا جیسے خواب میں ہوں۔ کسی بھی چیز پر زیادہ دیر سوچ نہ پاتی۔ کبھی کبھی تو یہ بھی یاد نہ رہتا کہ میں کہاں ہوں۔ کب سے ہوں، اور کیوں ہوں۔
جب دوائیوں کا اثر تھوڑا کم ہوتا تو کاشف کی باتیں مجھے دوبارہ یاد آنے لگتیں، اب تو کاشف کے سسرال اور ہمارے محلے میں سب لوگوں کو پتا چل گیا ہو گا۔ وڈیوز اور تصویریں گھر گھر پھیل گئی ہوں گی۔
ہا ہا ہا۔ اچھا تو اس نقاب کے پیچھے یہ راز تھا۔
لوگ سالوں تک میری کہانی سنا کر اپنی بچیوں کو عبرت دلائیں گے۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک نقاب پوش لڑکی تھی۔۔ اس کا نام عبیر تھا، وہ لوگوں کے سامنے بہت نیک اور پارسا بنتی تھی، اپنے منگیتر تک کو اپنا چہرہ نہ دکھاتی۔ لیکن یہ سب ڈرامہ تھا، وہ اندر سے لالچی تھی۔ وہ پیسوں کے لیے کسی بھی حد تک چلی جاتی۔ اس کی ہوس ختم ہی نہ ہوتی۔ لیکن خدا نے اس نے انتقام لیا۔۔
تو میری پیاری بچیو تم نے عبیر جیسا نہیں ہونا۔ ۔ ۔
میرے چہرے پر ایسی کالک لگ گئتھی جو اب نہیں اتر سکتی۔
کاشف امریکہ میں امیرہ کو میری تصویریں دکھا کر رو رہا ہو گا۔ اسے ہمیشہ بے وفا لڑکیاں ملتی ہیں۔ امیرہ اسے تسلی دینے کے لیے گلے سے لگا لیتی ہو گی۔
میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے اور سینے میں آگ لگ گئی۔
تیمور درانی نے بھی میری جگہ کسی لڑکی کو نوکری دے دی ہو گی۔ اسے بھی اپنی لائبریری میں لے کر جاتا ہو گا۔ اسے بھی اپنی دکھ بھری کہانی سنا کر تشدد کرنے کے لیے کہتا ہو گا۔ وہ اسے بتاتا ہو گا کہ ایک لڑکی تھی عبیر جو بے وجہ ہی پاگل ہو گئی۔ وہ لڑکی عجیب تھی، بہت پارسا بنتی تھی لیکن پھر۔ ۔ ۔ ۔
کیا وہ لڑکی بھی نقاب لیتی ہو گی؟
مجھے اللہ تعالیٰ نے سزا دی ہے۔ یقیناً میرا تیمور درانی کے ساتھ وہ سب کام کرنا کسی طور بھی ٹھیک نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ ضرور مجھ سے ناراض ہے۔ یا اللہ مجھے معاف کر دے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پتا نہیں کتنا وقت گزر گیا ہے۔ میں ہر وقت نیگیٹو ہی سوچتی رہتی۔ میرا دل چاہتا، اپنے سر پر بندوق رکھ کر گولی مار لوں، یہ سوچیں تو بند ہوں۔
میں اپنی سوچوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی، تو میرے جسم میں شدید کپکپاہٹ شروع ہو جاتی۔ ایسے میں مجھے فوراً میڈیسن دی جاتیں۔ جن کے زیر اثر میں غنودگی کی حالت میں چلی جاتی۔
پہلے ہفتے تو اماں اور شگفتہ میرے ساتھ ہی رہیں۔ جب مجھے مستقل وارڈ میں منتقل کر دیا گیا تو وہ دن کے کسی ٹائم آتیں اور چلی جاتیں۔
کیا وہ بھی مجھے بھول گئی تھیں؟ لوگ پاگلوں سے یوں دور بھاگتے ہیں، جیسے انھیں اچھوت کی بیماری لگی ہو۔ لوگ اپنے پیاروں کو پاگل خانے میں داخل کروا کے بھول جاتے ہیں۔ پاگلوں کو ایک بار الیکٹرک شاک ٹریٹمنٹ ہو جائے تو پھر ریکوری کا چانس بہت کم ہو جاتا ہے۔ انسان پھر پہلے جیسا نہیں رہتا۔ اللہ نہ کرے مجھے الیکٹرک شاک ٹریٹ منٹ سے گزارا جائے۔
بچپن میں جب کبھی اماں ہمیں نانی کے ہاں لے کر جاتیں تو وہاں ان کے ڈھیر سارے رشتے داروں سے مل کر بہت مزہ آتا۔ وہاں میری عمر کے اتنی ساری کزنز ہوتیں۔ ہمارا کھیل کود کبھی ختم ہی نہ ہوتا۔ وہاں گھر کا انتظام امی کی بڑی بھابی سکینہ نے سنبھالا تھا۔ ان کا رعب دبدبہ بہت تھا۔ حتیٰ کہ ان کے شوہر یعنی میرے ماموں بھی ان سے دبے دبے رہتے۔ کھانا پکانے سے لے کر شادیوں تک کے سارے معاملات میں حتمی فیصلہ انھی کا ہوتا۔ اماں بھی ڈر کے مارے ان کا بہت احترام کرتیں۔
انھیں اپنے تینوں بیٹوں سے بہت پیار تھا۔ وہ ان کی کسی خواہش کو رد نہ کرتیں۔ ہمارے یہ تینوں کزن بہت ہی بدتمیز اور منہ پھٹ تھے۔ ہر وقت اوٹ پٹانگ حرکتیں کر کے سب کی ناک میں دم کیے رکھتے۔ آنٹی سکینہ کے خوف سے کوئی کچھ نہ کہتا۔ لاڈ پیار نے ان تینوں کو اچھا خاصا خراب کر دیا۔ پڑھائی انھوں نے کی نہیں، اور ہنر انھیں کوئی آتا نہیں تھا۔ بس باپ کے پیسوں پر عیاشی کرتے رہتے۔
گھر میں روز ان کی شکائتیں آنے لگیں۔ تنگ آ کر بڑے بیٹے کو غیر قانونی طور پر یورپ بھجوایا۔ اس نے وہاں جا کر پیسے بھجوانا شروع کیے، تو چھوٹوں نے مزید عیاشی شروع کر دی۔ کچھ عرصہ بعد منجھلے بیٹے نے بھی غیر قانونی طور پر باہر جانے کی کوشش کی۔ بدقسمتی سے ترکی کے بارڈر پر گارڈز کی فائرنگ سے مارا گیا۔
ابھی اس غم سے فرصت نہیں ملی تھی کہ، چھوٹے بیٹے کو ایک لڑائی میں کسی نے چھرا مار دیا۔ رات کا وقت تھا کوئی بچانے نہ آیا۔ سڑک پر ہی موت ہو گئی۔
آنٹی سکینہ پے در پے دکھ برداشت نہ کر سکیں۔ ان کی ذہنی حالت بگڑ گئی۔ کئی بار ان کا علاج کروا یا مگر حالت بہتر نہ ہوئی۔ ان کے غصے اور رونے دھونے سے تنگ آ کر انھیں مستقل طور پر پاگل خانے داخل کروا دیا گیا۔ کئی سال تک کوئی ان کا پوچھنے نہ گیا۔ ان کا ذکر ہوبھی جاتا تو ایک آدھا افسردہ جملہ کہہ کر کوئی دوسری بات کر دی جاتی۔ کئی سال بعد پاگل خانے میں ہی ان کا انتقال ہوا۔ ان کے جنازے پر بہت ہی کم لوگ تھے۔
کیا میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہو گا؟
مجھے اپنی ذہنی حالت خود بھی ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔ میری یاداشت ختم ہوتی جا رہی تھی۔ کبھی کبھار میں اپنے بستر کے پاس ایک عورت اور لڑکی کو اداس کھڑا دیکھتی۔
کافی غور کرنے کے بعد پہچانا جاتا یہ تو اماں اور شگفتہ ہیں۔ کیا واقعی وہ ہی ہوتیں یا میرا ذہن مجھے دھوکہ دے رہا تھا۔
میرے لیے حقیقت اور خواب میں فرق ختم ہو گیا۔ وقت میرے لیے سیدھا چلنا بند ہو گیا۔ مجھے اپنی عمر کا بھی اندازہ نہیں رہا۔ میرے وارڈ میں کوئی شیشہ نہیں تھا۔ پتا نہیں اب میں کیسی دکھتی ہوں گی۔
کیا میں جوان ہی ہوں یا بوڑھی ہو چکی ہوں۔ میرا نام عبیر ہی ہے یا میں کسی کہانی کا کردار ہوں۔
اندھیرے بڑھتے ہی جا رہے تھے۔ میری پہچان کھوتی جا رہی تھی؟
یا اللہ مجھے پاگل پن کی اس بے خودی سے بچا لے۔ یا اللہ میں اس مد ہوشی میں نہیں مرنا چاہتی۔
میں اپنے اندر کے اندھیروں میں ڈوب رہی تھی۔ روشنی کے سارے دروازے بند ہو رہے تھے۔
اماں اور شگفتہ مجھے ملنے کیوں نہیں آ رہیں؟
کیا انھوں نے بھی مجھے آنٹی سکینہ کی طرح چھوڑ دیا ہے؟
میری زندگی میں ویسا کچھ بھی نہیں ہوا جیسا سوچا تھا۔ کیا سب کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔
زندگی بھی عجیب ہے۔
میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ کیا یہ میری آزمائش ہے یا سزا؟
اگر یہ سزا ہے تو کس بات کی؟ آزمائش ہے تو اس کے بعد مجھے کیا ملنا ہے؟
کہیں ایسا تو نہیں نہ ہی یہ آزمائش ہو اور نہ ہی سزا۔ یہ سب بے مقصد ہی ہو رہا ہو؟
ہو سکتا ہے میری یہ سب دکھ اور تکلیفیں بے معنی ہی ہوں۔
شاید میری زندگی ہی بے معنی ہو۔
خدا اگر سنتا ہے تو وہ میرے درد کم کیوں نہیں کر دیتا؟
کہیں تیمور درانی ٹھیک تو نہیں کہتا تھا؟ اسے بھی تو اپنے دکھوں اور تکلیفوں کا کوئی مقصد نظر نہیں آتا تھا۔
لیکن ان سب دلیلوں کے باوجود میرے دل میں خدا کی موجودگی کا ناقابل تردید احساس تھا۔
ایسا لگتا جیسے صرف وہ ہے جو میری ان تکلیفوں کا دیکھ رہا ہے۔ جیسے وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔ اس پوری کائنات میں صرف وہ ہے جو میرے دکھ تو ویسے ہی سمجھتا ہے جیسے میں سمجھتی ہوں۔
میں اس گہرے احساس کو کسی بھی دلیل کے تحت رد نہیں کر سکتی۔ پاگل پن میں بھی مجھے صرف ایک احساس ہی باقی تھا۔ اس احساس کے سامنے سب کچھ ہیچ لگتا تھا۔
کیا خدا کی موجودگی کا یہ جذباتی احساس کوئی معنی نہیں رکھتا۔
میں سب کچھ کھو کر بھی اس احساس کو نہیں کھونا چاہتی۔
یا اللہ میں تجھے کھونا نہیں چاہتی۔
یا اللہ تو ہی میرا آخری سہارا ہے
یا اللہ مجھ پر جو بھی مشکلیں آئیں۔ میں پھر بھی سمجھتی ہوں کہ ان میں ضرور تیری حکمت ہے۔ یا اللہ یہ کائنات بے مقصد نہیں ہے۔ یا اللہ میں اپنے دل میں تجھے محسوس کرتی ہوں۔ کوئی دلیل مجھے اس سے باز نہیں رکھ سکتی۔
میری اپنے ہوش و حواس کی آخری کرن تک تجھے یاد رکھنا چاہتی ہوں
میں چاہتی ہوں کہ مجھے پاگل پن بھی ایمان کی حالت میں آئے۔
اشھد ان لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہﷺ
پھر مجھے شدید دورے پڑنا شروع ہو گئے۔ جن کے علاج کے لیے مجھے کئی بار الیکڑک شاک دیے جاتے۔ یہ عمل بہت ہی تکلیف دہ تھا، اوپر سے ہر الیکڑک شاک کے ساتھ میرے اندھیرے بڑھتے گئے۔
٭٭٭

حصہ چہارم

بے قراری سی بے قراری ہے
کہتے ہیں خود کشی ہی واحد سنجیدہ فلسفیانہ مسئلہ ہے۔ کافی سوچنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ مجھے اب خود کشی کر لینی چاہیے۔ مجھے اپنی زندگی یونانی دیو مالا کے کردار سسی فس جیسی لگنے لگی۔
سسی فس کو دیوتاؤں نے یہ سزا دی کہ وہ بہت مشقت کر کے پتھر پہاڑ کی چوٹی تک لے جائے۔ جیسے ہی وہ چوٹی پر پہنچتا ہے اسے نیچے لڑھکا دیا جاتا۔ اس کی ساری محنت اور کوشش بے معنی ہو جاتی۔ پھر بھی وہ باز نہیں آتا۔ جانتے بھوجتے دوبارہ صفر سے سٹارٹ کر دیتا۔ سنا ہے سسی فس اس کام میں خوش ہے۔
سسی فس تو شاید خوش ہو گا، میں نہیں ہوں۔
میں نے شعوری طور پر تسلیم کر لیا کہ میرا ہونا یا نہ ہونابے معنی ہے۔
کئی سال تک میرے اندر ایک کائناتی خلا تھا۔ پھر اچانک ایسی بیچینی نے گھیر لیا ہے۔ میں مستقبل میں کسی بہتری کی خاطر خود کو مزید دھوکے میں نہیں رکھ سکتا۔ اپنے اندر کے خلا کے ساتھ تو شاید میں زندہ رہ لیتا۔ پر اس بے چینی کے ساتھ مشکل ہے۔
ہر واقعہ میری بے چینی کو بڑھاتا ہی چلا گیا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں یورپ کے ٹرپ کے بعد میں تھک گیا۔ یہاں کے پینڈگ کاموں نے مجھے کئی ہفتوں تک الجھائے رکھا۔ اس دوران ہمارے اسلامی فیشن والے بزنس کی لانچنگ بھی ہو گئی۔ لانچنگ کی تقریب دبئی میں ہوئی اور بہت ہی کامیاب رہی۔ لوگوں کا ریسپانس بہت ہی حوصلہ افزا تھا۔ اس سارے عرصہ میں مجھے عبیر کا خیال کئی بار آیا، پر ہمیشہ مصروفیت کی وجہ سے بھول جاتا۔
مجھے اپنی ہفتہ وار میٹنگز کی کمی تو محسوس ہوتی پر بزنس کی اپنی مجبوریاں تھیں۔ میں نے سوچا ایک بار آرام سے بیٹھ کر بات کریں گے۔ جب لانچنگ سیریمنی میں بھی عبیر کہیں نظر نہ آئی تو مجھے عجیب لگا۔ اس سے پہلے کئی اہم ٹیکینکل میٹنگز میں بھی وہ غائب رہی۔ ایسے موقع پر غائب ہونا بنتا نہیں ہے۔
کچھ عرصہ بعد میں نے اسے کال ملائی تو اس کا نمبر بند تھا۔ ضرور کوئی گڑ بڑ تھی۔
ایلف اور اس کی ٹیم ممبرز مصروفیت کی وجہ سے دن رات کام میں لگے ہوئے تھے۔ لانچنگ کے بعد بہت بڑی تعداد میں آرڈر ملنا شروع ہو گئے۔ چھوٹی سی ٹیم بڑھ کر چار پانچ گنا ہو گئی۔ ایسے میں ایلف سے میٹنگ ہی نہ ہو پاتی۔
کافی دنوں بعد ایک میٹنگ کے بعد کیژول گپ شپ چل پڑی۔ ایلف کے چہرے پر کام کی وجہ سے تھکن تھی۔ میں نے اس کے کام کی جینؤین تعریف کی تو وہ کھل اٹھی۔ یہ آرٹسٹ ٹائپ کے لوگ پیسے سے زیادہ اپنے کام کی پزیرائی چاہتے ہیں۔
تھوڑی دیر بعد میں نے لاپرواہی سے وہ بات پوچھی جو میں کافی عرصہ سے پوچھنا چاہ رہا تھا۔
ایلف یہ عبیر کہاں ہے؟ میں کافی عرصہ سے دیکھ رہا ہوں وہ نہ کسی میٹنگ میں نہیں ہوتی۔
میرا سوال سنتے ہی ایلف کا مسکراتا چہرہ بجھ گیا۔ اس کی آنکھوں میں ایک اداسی کی لہر اٹھی۔
سر عبیر اب ہمارے ساتھ نہیں رہی۔
کیا مطلب ہمارے ساتھ نہیں رہی؟ کیا اس نے ریزائن کر دیا ہے؟ میں نے اپنی آواز کو اونچا ہونے سے روکا۔
نہیں سر! عبیر اب اس دنیا میں ہی نہیں رہی۔
یہ کہتے ہی ایلف کی آنکھوں سے آں سو چھلک پڑے۔
یہ بات سن کر میرے دل میں اداسی کی ایک لہر اٹھی۔ اکثر ہم کئی تعلقات کو معمولی جانتے ہیں۔ سمجھتے ہیں، ان کی ہماری زندگی میں کوئی اہمیت نہیں۔ جب وہ شخص ہماری زندگی سے چلا جاتا ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی شدید غم ہمیں اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
یہ تو بہت افسوس ناک بات ہے۔ پر یہ اچانک ہوا کیسے؟ میں نے پوری کوشش کی کہ میری آواز سے جذبات نہ چھلکیں۔
ایلف نے اپنے آنسوؤں کو پوچھا اور رندھی ہوئی آواز میں بتانے لگی۔
آپ کے جانے کے بعد عبیر کافی دن دفتر نہیں آئی۔ کئی بار کال کی تو اس نے گھر شفٹ ہونے کا بہانہ کیا۔ کام کے پریشر کی وجہ سے میں چاہتی تھی وہ جلد از جلد آفس آئے۔ جب کچھ دن بعد وہ آفس آئی تو بجھی بجھی تھی۔ اس کی وہ پہلے والی شوخی اور انرجی ختم ہو گئی۔ میں نے پوچھا تو اس نے گھریلو ٹینشنز کا بہانہ کر کے ٹال دیا۔
کچھ دن بعد میں نے اسے کسی جاب کے لیے سی وی بھیجتے دیکھا۔
میں سمجھ گئی، عبیر کی پریشانی کا تعلق اس جاب سے بھی ہے۔
عبیر ہماری سب سے ٹیلنٹڈ ممبر تھی، میں اسے ہر قیمت پر رکھنا چاہتی تھی۔ اگر اسے اس جاب میں پیسوں کا یا کوئی اور مسئلہ تھا۔ تو میں آپ سے بات کر کے حل کرادیتی۔ میرے بے حد اصرار پر اس نے اپنی دکھ بھری داستاں سنائی۔
بیچاری عبیر نے پے درپے غموں کو سہا۔ پہلے اس کی شادی لیٹ ہوئی، اس کا منگیتر ٹریننگ کے لیے امریکہ چلا گیا۔ اسی دوران ان کے گھر ڈاکا ڈلا جس میں اس کے والد ہلاک ہوئے۔ لوگوں نے عبیر اور اس کی بہن کی طرف غلط نظریں اور ہاتھ بڑھانا شروع کیے۔ گھر کا خرچہ چلانے کے لیے عبیر نے نوکری کرنا شروع کی۔ اسی دوران پتا نہیں کیوں اس کے سسرال والوں نے اس کی جاسوسی شروع کروا دی۔
عبیر بہت معصوم اور سیدھی سادھی لڑکی تھی۔ اس نے تو اپنا چہرہ بھی کسی کو نہیں دکھایا۔ بس ویک اینڈ پرکبھی کبھار اپنے یونیورسٹی ٹیچر کے گھر آرٹ پر ڈسکشن کرنے جاتی تھی۔
اس کے سسرال والوں نے عبیر پراس شخص کے ساتھ ناجائز تعلقات کا الزام لگا کر منگنی توڑ دی۔
عبیر یہ صدمہ نہ سہہ سکی اور اس کا نروس بریک ڈاؤن ہو گیا۔
بدنامی کے خوف سے انھوں نے گھر چھوڑ دیا۔
عبیر اب یہ شہر چھوڑ کر کسی دوسری جگہ جانا چاہتی تھی۔ اسی لیے مختلف نوکریوں پر اپلائی کر رہی تھی۔ مجھے اس سے شدید ہمدردی ہوئی۔ میں نے اسے کئی کمپنیوں میں ریکیمنڈ کیا۔ اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر وہ ایک ٹرکش کمپنی میں سلیکٹ ہو گئی۔
ترکی جانے سے کچھ دن پہلے اس نے نوکری سے ریزائن کر دیا۔ میں نے اسے کہا کہ ترکی جا کر بھی رابطے میں رہے۔
اس کے بعد میں اپنے کاموں میں اتنا پھنسی کہ کچھ خیال نہ رہا۔
اس نے جب دو مہینوں تک رابطہ نہ کیا، تو میں نے پریشانی میں اس کی کمپنی والوں سے اس کے بارے میں معلومات لیں۔
انھوں نے بتایا کہ عبیر نے تو جوائننگ ہی نہیں دی۔
مجھے شدید پریشانی لاحق ہو گئی۔ اس کی بہن کا نمبر بھی مسلسل آف جا رہا تھا۔ انھوں نے کرائے کا مکان بھی ترکی جانے سے پہلے چھوڑ دیا تھا۔
میں نے پریشانی میں پولیس رپورٹ درج کروا نے کا سوچا۔ پر لوگوں نے مجھے سمجھایا کہ پولیس کے جھمیلے لمبے ہو جاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے عبیر بغیر بتائے کہیں روپوش ہو گئی ہو۔ اگر ایسی بات تھی تو کم از کم ایک میسیج ہی چھوڑ جاتی کہ میں جہاں بھی ہوں خیریت سے ہوں۔
بہرحال میرے ایک جونئیر نے یہ ذمہ داری لی کہ وہ اپنے کسی ذریعے سے پتہ کروا لے گا۔ کچھ دنوں بعد اس نے یہ افسوس ناک خبر دی کہ ائر پورٹ جاتے ہوئے عبیر اور اس کی فیملی ایک خطرناک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گئی تھی۔
حادثہ شام کے وقت ہائی وے پر مسافر بس اور ٹیکسی کے درمیاں ہوا۔ تیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ عبیر اور اس کی فیملی کی لاشیں کوئی کلیم کرنے نہ آیا اور انھیں لاوارث کہہ کر دفنا دیا گیا۔ یہ کہہ کر ایلف پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
وہ بالکل میری بیٹی جیسی تھی، پتہ نہیں اسے کس جرم کی سزا ملی۔
آخر زندگی میں ایسا کیوں ہوتا ہے؟
اس فقرے نے وقت کا پہیا الٹا گھما دیا۔
دادا کیوں محبت سے محروم رہے، اماں کیوں پاگل ہوئیں، ابا کیوں نشہ کرنے لگے۔ عنبر کیوں عشق کی ناکامی نہ سہہ سکی، گلاب خان کیوں اندھا ہوا، شنو کیوں رونق بازار بن گئی، میں کیوں خدا سے محروم ہوا، اور اب عبیر کیوں مر گئی۔
ہر کیوں کے پیچھے ایک اور کیوں پھن پھیلائے کھڑی ہوتی ہے۔ کوئی بھی حتمی جواب نہیں ملتا جو تسلی دے دے۔
پھر اک دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
لوگ ہر چیز کو خدا کی حکمت اور شیطان کی سازش قرار دے کر خوش ہولیتے ہیں۔ پر سوچنے والا ذہن اس پر نہیں رک سکتا۔ اگر خدا کی مصلحت پر سوال اٹھانا منع ہے تو پھر اس نے ہمیں سوال کرنے والا یہ ذہن کیوں دیا ہے۔
میرے دل میں شدید بے چینی اور بے قراری پیدا ہوئی۔ میرے اندر کے خلا میں بگ بینگ دھماکہ ہو گیا اور لاموجود کا سکوت ٹوٹ گیا۔
پہلے نہ کسی خلا پر اختیار تھا، نہ اب کسی بے قراری پر اختیار رہا۔
سالوں سے خشک پڑے میری آنکھوں کے چشمے جاری ہو گئے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
عبیر کی موت کوئی بھلا دینے والا واقعہ نہ ثابت ہوئی۔ میری چھوٹی سی کائنات تہہ و بالا ہو گئی۔ ہر دم اس کا خیال کسی آسیب کی طرح مجھ پر سوار رہتا۔ میری بے چینی بے سبب نہیں تھی۔
عبیر کا مرنا اتفاق ہو سکتا تھا۔ پر اس کا بدنام ہونا، اس کی منگنی ٹوٹنا، اس کا نروس بریک ڈاؤں ہونا، اس کا نوکری چھوڑنے کا سوچنا یہ سب محض اتفاق نہیں تھا۔ شاید اس نے ایلف کو اصل بات نہیں بتائی، وہ اپنے کسی یونیورسٹی ٹیچر سے ملنے پر بدنام نہیں ہوئی۔
وہ میرے مجبور کرنے پر میرے گھر آتی تھی۔ وہ میری وجہ سے ہی یہ نوکری چھوڑنا چاہتی تھی۔ وہ مجھ سے دور جانا چاہتی تھی۔ وہ مجھ سے ملنے پر بدنام ہوئی تھی۔
نہ جانے کیوں میں خود پر اختیار کھو گیا تھا۔
میں نے خود سے عہد کیا تھا کبھی پروفیشنل اور پرسنل لائف کو مکس نہیں کروں گا۔ کبھی کسی معصوم لڑکی کو اپنے اندر کی تاریکیوں کا راز دار نہیں بناؤں گا۔ کبھی کسی کو محبت کا فریب نہیں دوں گا۔
پر اس کی شخصیت اور تیکھی تیکھی باتیں مجھے اس کے ساتھ وقت بتانے پر اکساتیں۔
کبھی وہ ایک سہمی ہوئی ہرنی ہوتی تو کبھی غصیلہ شیرنی۔ اسے اکسانے میں مزا آنے لگا۔
اس کے نقاب کی وجہ سے اس کا چہرہ تو نہ دکھتا۔ پر اس کی باڈی لینگوج اس کے سارے جذبات کا اظہار کر دیتی۔ وہ ان لوگوں میں سے تھی جو اپنی بات چھپا ہی نہیں سکتے۔
میں نے درمیاں میں کئی بار سوچا کہ بس اس سے آگے نہیں بڑھنا۔ میں جیسے ہی پیچھے ہٹا تو اس نے میری ذات کو کریدنا شروع کیا۔
مجھے اسی وقت اسے روک دینا چاہیے تھا۔ پر میں نے بہت بڑی بے وقوفی کی اور اپنی تاریک دنیا کے دروازے اس کے لیے کھول دیے۔
میں اب بھی حیران ہوں میں نے ایسا کیوں کیا؟ شاید اندر سے مجھے بھی سمجھے جانے اور چاہے جانے کی خواہش ہے۔
کہیں میرا لاشعور یہ تو نہیں چاہتا کہ کوئی مجھے میری خامیوں کے باوجود قبول کرے۔
کہیں میں لاشعوری طور پر اس بے معنی زندگی کے خلا کو کم کرنے کا خواہش مند تو نہیں ہوں۔
میں شعوری طور پر جانتا تھا یہ ممکن نہیں۔ ہھر بھی خود کو بے مقصد ہاتھ پیر مارنے سے نہ روک سکا۔
میری تاریک دنیا سے آگاہ ہونے کے بعد اس کی میرے بارے میں نفرت برقرار رہی۔ اس کے لیے میں ایک بھیڑیا ہی رہا۔ ایسا بھیڑیا جس پر صرف تشدد کیا جا سکتا ہے۔ جو خود سے قریب ہونے والے کو نقصان پہچاتا ہے۔ وہ جان گئی کہ بدنصیبی میرے مقدر میں لکھ دی گئی ہے۔ جو بھی میرے قریب ہوتا ہے یہ بدنصیبی اس کے حصے میں بھی آ جاتی ہے۔
اس کی موجودگی میں میرے اندر کی دنیا تبدیل ہو جاتی۔ جب وہ غصے سے مجھ پر تشدد کرتی تو درد کی انتہا پر سکون کی لہریں اٹھتیں۔ یہ زندہ ہونے کا احساس کافی دیر تک مجھ پر چھایا رہتا۔ اس کی کپکپاتی انگلیاں جب میرے زخموں پر مرحم لگاتیں تو جلن سے آگے کچھ محسوس ہوتا۔
میرے لیے یہ آگہی عذاب بن گئی کہ عبیر کے ساتھ جو ہوا اس کا ذمہ دار میں ہوں۔ ایک پچھتاوا مجھے ہر دم اپنی لپیٹ میں لیے رکھتا، کاش میں ایسا نہ کرتا۔ میں نے کئی بار سوچا کہ جو ہونا تھا ہو گیا اب کچھ نہیں کیا جا سکتا، پر میری ساری دلیلیں میری جذباتی کیفیت کو ٹھیک کرنے میں ناکام رہیں۔ جیسے پہلے اپنے اندر کے خلا کا کوئی علاج نہ ملا ایسے ہی اس بے چینی کا بھی کوئی حل نہیں تھا۔
آخر میرا یہ سارا پیسہ اور طاقت کس کام کا جب کہ میں اندر سے ویسا ہی ہوں جیسا پیسہ آنے سے پہلے تھا۔ ہم اپنے اندر کی کا قیدی کیوں ہوتے ہیں۔ میں اپنی قید سے کیوں نہیں نکل جاتا۔ میں کیوں اپنے ماضی کا اسیر ہوں۔ میرا خود پر اور اپنے حالات پر کوئی اختیار کیوں نہیں ہے؟
اگر یہ جبر ہے تو میں کس لیے یہ جبر برداشت کروں؟ اس تماشے کو ختم کیوں نہ کر دوں۔ اپنی جان لے کر ایک کائناتی خاموشی اور بے معنویت کا حصہ کیوں نہ بن جاؤں؟
میں نے اس کا چہرہ بھی کبھی نہیں دیکھا، جانے وہ کیسی دکھتی ہو گی۔ میں چشم تصور سے دشت امکاں میں چہرے تراشتا، ہر چہرے میں کہیں نہ کہیں عنبر کا عکس جھلکتا۔ اسی لیے مجھے کسی بھی تصور پر یقین نہ رہا۔ میری یاداشت بھی تو دھوکہ کھا سکتی تھی۔ میرا اور اس کا نفرت کا رشتہ بھی کتنا خالص تھا۔
کتنی ہی لڑکیاں اس کمرے میں آئیں مگر اس جیسی کوئی نہ تھی۔ سب مجھے ایک کلائنٹ کے طور پر ٹریٹ کرتیں جو انھیں پیسے دے کر خود ازیتی کہ لذت اٹھاتا ہے۔ انھیں اس بات میں رتی بھر بھی دلچسپی نہ تھی، کہ میں ایسا کیوں کرتا ہوں۔ ان کے بیشتر امیر کلائنٹ اس سے بھی عجیب حرکتیں کروا تے۔ ان کے سینوں میں دفن رازوں کو کھول دیا جائے تو قیامت برپا ہو۔
ہم جب ان جسم فروشوں کو دور سے دیکھتے ہیں تو ان کے بارے میں عجیب سی ہمدردی محسوس کرتے ہیں۔ ہماری یہ ہمدردی بھی در اصل اپنی برتری کا اظہار ہوتی ہے۔ ہم ہمدردی محسوس کر کے خود کو بہت اچھا سمجھتے ہیں۔ شکر ادا کرتے ہیں کہ ہم ان جیسے نہیں ہیں۔
کیوں بھئی ان ذلیل لوگوں کا کیا قصور ہے جو انھیں یہ عذاب سہنے کے لیے منتخب کیا گیا۔ ایسا ہی شکر ایک ایسے بندے نے بھی ادا کیا تھا جس کے بیوی بچے اس کی آنکھوں کے سامنے مر گئے مگر وہ بچ گیا۔
شکر ہے میں بچ گیا
دوسری جنگ عظیم سے پہلے کی بات ہے۔ جرمنی میں دو یہودی دوست تھے۔ ایک کا نام آرون اور دوسرے کا ڈینیل تھا۔ دونوں ہی شیوا (یہودیوں کی درس گاہ) میں مذہبی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ آرون بہت تیز ذہن کا تھا، تعلیم حاصل کرتے وہ یہودیت اور خدا سے متعلق ایسے ایسے سوال اٹھاتا کہ ٹیچر بھی لاجواب ہو جاتے۔ اپنی باغیانہ طبیعت کی وجہ سے تعلیم مکمل کرنے سے پیہلے ہی اسے شیوا سے نکال دیا گیا۔ شیوا سے نکلنے کے بعد آرون نے لٹریچر کی تعلیم حاصل کی اور شاعر بن گیا۔
اس کا دوست ڈینیل اتنا ذہین نہیں تھا، مگر اس نے اعزاز کے ساتھ مذہبی تعلیم مکمل کی اور شیوا میں ہی استاد لگ گیا۔ کچھ سالوں میں دونوں نے ہی اپنی اپنی فیلڈ میں نام بنا لیا۔ اسی دوران دوسری جنگ عظیم چھڑ گئی۔ جرمنی کی فضا یہودیوں کے لیے ناموافق ہو گئی۔ لاتعداد یہودی چن چن کر کنسنٹریشن کیمپس میں ڈال دیے گئے۔ بیشتر کی موت گیس چیمبرز میں ہوئی۔
آرون خود تو گرفتاری سے بچ کر فرانس بھاگ گیا۔ اس کے بیوی بچے گیس چیمبر کا مقدر بنے۔ اس واقعہ نے آرون کا خدا پر یقین مکمل طور پر اٹھادہا۔
ڈینیل اور اس کی فیملی بھی گرفتار ہو کر کنسنٹریشن کیمپ پہنچی۔ کچھ ماہ بعد سوائے ڈینیل کے کوئی بھی نہ بچ سکا۔ ڈینیل نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بیوی بچوں کو راکھ بنتے دیکھا اور اس کا خدا پر ایمان مزید پختہ ہو گیا۔ وہ اسی ایمان کے ساتھ کئی سال بامشقت قید کاٹ کر چھوٹا۔
جنگ کے بہت سالوں بعد دونوں اتفاق سے امریکہ میں ملے۔ پرانی خوشیاں اور تلخیاں لوٹ آئیں۔ مسئلہ پھر خدا کے وجود تک آپہنچا۔ ڈینیل نے بڑے فخر سے کہا کہ میرا کنسنٹریشن کیمپ میں زندہ بچ جانا ایک معجزہ تھا۔ اسی وجہ سے میرا ایمان خدا پر پختہ ہو گیا۔
آرون نے چلا کر کہا ” تمھارے بیوی بچوں کا معجزہ کدھر ہے؟ کیا وہ صرف اسی لیے مرے کہ تمھارا خدا پر یقین پختہ ہو جائے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہ جسم فروش ہمارے رحم کی بھیک کے مستحق کیوں ہیں۔ ہم انھیں مکمل جذبات و احساسات والا برابر انسان کیوں نہیں تسلیم کرتے۔ جس کا یہ حق ہے وہ زندگی کے ہر رنگ کو سب انسانوں کی طرح محسوس کرے۔
میں نے ان جسم فروشوں کو جتنا قریب سے دیکھا میرا احساس برتری ختم ہو گیا۔ میں ان پر رحم نہیں کھا سکتا۔ مجھے وہ بھی خامیوں، خوبیوں، نیکیوں، اور بدیوں کا مجموعہ نظر آئے۔ وہ نہ تو فرشتہ ہوتے اور نہ ہی شیطان۔ بس سب کی طرح مجبوریوں میں جکڑے ہوئے زندگی گزارتے لوگ ہوتے۔ شاید وہ زندگی کو ہم سے زیادہ گہرائی سے گزارتے ہیں۔
میرے کمرے میں آنے والی لڑکیاں کوئی غریب اور مجبور نہ ہوتیں۔ نہ تو یہ ان کا خاندانی پیشہ ہوتا اور نہ ہی کسی نے انھیں اغوا کر کے اس کام پر ڈالا ہوتا۔ وہ یہ کام اپنی بڑی بڑی خواہشات کی تکمیل کے لیے کرتیں۔ وہ اچھے لائف سٹائل کی اتنی رسیا ہوتیں کہ ان کے بغیر ان کا گزرار مشکل ہوتا۔
تھائی لینڈ کے قحبہ خانے بڑے ہی ایڈوانس ہیں جہاں لڑکیاں سجی سنوری شیشے کے باکس میں ایسے بیٹھی ہوتی ہیں جیسے انسان نہیں کوئی ربڑ کی گڑیا ہو۔ ان کی بولیاں لگتی ہیں۔ وہ خود کو مظلوم نہیں سمجھتیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی کوشش کرتی۔ تاکہ اپنی مارکیٹ ویلیو کم ہونے سے پہلے کچھ بچا سکیں۔
یہ رزیل کام کرنے والے بھی انوکھے ہوتے ہیں۔ طوائفوں، زنخوں، خاکرو بوں، گورکنوں، جلادوں، اور غسالوں وغیرہ کا ذکر بھی بہت شرمندگی سے کیا جاتا ہے۔ جیسے ان کا وجود دھرتی پر ایک بوجھ ہو۔ ہم اپنی بدصورتی اور گند ان لوگوں سے منسوب کر دیتے ہیں۔ کیا غلیظ مگر ضروری کام بھی انتہائی دیانت داری سے نہیں کیا جا سکتا۔ کیا اس میں بھی اعلیٰ درجے کی مہارت نہیں ہو سکتی۔
میں ایک ارزل نسل سے کیوں ہوں؟
معاشرے کے ارزل لوگوں سے مجھے خاص دلچسپی رہی۔ بچپن میں انھیں دیکھ کر سوچتا ,آخر یہ کیا سوچتے اور محسوس کرتے ہوں گے۔ ان کے خواب,امیدیں اور امنگیں کیسے ہوں گے۔ ہمارے گاؤں سے باہر خاکرو بوں کے کچھ کچے گھر تھے۔ جو بارشوں اور سیلاب میں بہہ جاتے۔ ان لوگوں کی بہت عجیب زندگی تھی۔ گندگی اور غلاظت سے منسلک ہر کام ان لوگوں کے سپرد تھا۔ یہ سارے گاؤں کا گند اٹھاتے اور لوگوں کے ٹکڑوں پر جیتے۔ جب کوئی جانور مر جاتا تو انھیں بلایا جاتا۔ یہ اسے اٹھا کر لے جاتے۔ چمڑہ بیچ کر مردار گوشت خود کھا لیتے۔ لوگوں کو ان کے وجود سے ایک عجیب قسم کی آلکس آتی۔
انھیں کبھی گھر کے برتنوں کو ہاتھ نہیں لگانے دیا جاتا۔ ان کی عورتیں بچے بھی مزدوری کرتے۔ یہ لوگ پڑھائی لکھائی کی طرف کم ہی آتے۔ پھر بھی کبھی کبھار ایک آدھا ذہین بچہ پیدا ہوہی جاتا تھا۔ ایسا ہی ایک لڑکا جوزف بھی تھا۔
جوزف حد درجے کا ذہین تھا۔ وہ مزدوری بھی کرتا اور پڑھائی بھی۔ اس کے پاس پہننے کو صاف یونیفارم بھی نہ ہوتا۔ لڑکے اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھتے۔ کبھی کبھار تو پٹائی بھی لگاتے۔ اسے نلکے والا گلاس استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ جوزف ان سب باتوں کے باوجود ہنس مکھ تھا۔ اس کے مذاق لوگوں کو ہنسنے پر مجبور کر دیتے۔ اس نے اپنی محرومیوں اور تلخیوں کو مزاح کا رنگ دے دیا۔
نہ جانے کیسے ہم ایک دوسرے کے دوست بن گئے۔ شاید میں نے کبھی اسے باقی لوگوں کی طرح ناپاک نہیں سمجھا۔ میرا ذہن شروع سے ہی الٹا تھا۔ باقی لوگوں کو سمجھ آنے والی باتیں مجھے سمجھ ہی نہ آتیں۔
ایک بار سکول کے پاس کنسٹرکشن کا کام ہو رہا تھا، جس میں اس کی بہن اور ماں مزدوری کر رہی تھیں۔ اس کی ماں خوشی خوشی اسے دیکھنے کلاس میں آئی۔ اہنی ماں کو ان گندے کپڑوں میں دیکھ کر اس کا رنگ اڑ گیا۔ شرمندگی کے شدید جذبات اس کے چہرے پر آ کر مستقل طور پر ٹھہر گئے۔
انھی دنوں ایک اور حادثہ بھی ہوا۔ اسے ساتھ والے سکول کی ایک لڑکی پسند آ گئی۔ جوزف اور میں ہر روز اس لڑکی کی راہ تکا کرتے۔ سکول کے سفید کپڑوں میں وہ بالکل ایک کبوتری لگتی۔ اس کی آنکھوں کی معصومیت اور حیرانگی جوزف کا سکون چھین کر لے گئی۔ وہ عمر ہوتی بھی ایسی ہے جب کسی پر قربان ہونا اچھا لگتا ہے۔ جوزف ہر دم اسے دیکھنے کو بے چین رہتا، ہر اس کے سامنے کبھی نہ آتا۔ اسے لگتا کہ اس کا کالا رنگ اور پھٹے پرانے کپڑے اسے پہلی ہی نظر میں ناپسندیدہ بنا دیں گے۔
اس کی صرف ایک خواہش تھی کسی طرح نیا سوٹ پہن کر اس لڑکی کے سامنے جائے۔ مہینوں گزر گئے اور اس کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی۔ مجھ سے وہ پیسے نہ لیتا، کہتا جس دن میں نے تجھ سے پیسے لے لیے ہمارے دوستی ختم ہو جائے گی۔ اس کی اپنی ہی منطق تھی۔ اچانک جوزف نے سکول آنا چھوڑ دیا اور اپنے باپ کے ساتھ مزدوری کرنے لگا۔ اس کا پورا رویہ تبدیل ہو گیا۔ اب اس کے چہرے سے شرمندگی کی جگہ مردگی آ گئی۔ وہ مجھے ایسے ملا جیسے کوئی لاش ہو۔ میں نے اسے بہت کریدا مگر وہ کچھ نہ بولا۔ بہت سالوں بعد مجھے حقیقت معلوم ہوئی۔
ایک دن سکول سے جاتے ہی جوزف کے باپ نے اسے حکم دیا کہ اس کے ساتھ چلے، ایک گھر کا گٹر بند ہو گیا ہے۔ ایسے کاموں سے جوزف ہمیشہ بھاگتا تھا۔ مگر اس دن باپ کی طبیعت بھی خراب تھی اور گھر میں پیسے بھی نہیں تھے۔ کچھ پیسے ملتے تو رات کی روٹی بنتی۔ مجبوراً وہ چل پڑا۔ اس نے باپ سے نہیں پوچھا وہ کہاں جا رہے ہیں۔
کام شروع کرتے ہی اسے شدید شرمندگی ہوئی کہ لوگ اس کے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے: یہ تو وہی لڑکا ہے جو سکول بھی جاتا ہے۔ مگر باپ کی ڈانٹ ڈپٹ نے اسے کام میں مگن کر دیا۔ تین گھنٹے بعد جب گٹٹر اور نالی صاف کر کے وہ فارغ ہوئے تو ان کے چہرے اور جسموں پر گند ہی گند تھا۔ سب اہل خانہ ناکوں پر کپڑے رکھ کر ان سے پرے ہٹ گئے۔ تبھی اس کی نظر اوپر چھت پر پڑی تو اس کا وجود کٹ کر آدھا رہ گیا۔
وہی کبوتری اوپر اپنی بہنوں کے ساتھ کھڑی آلکس سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کی نظروں میں وہی کراہت تھی جو کسی غلیظ چیز کو دیکھ کر آتی ہے۔ اس دن اس کی دنیا لٹ گئی۔ وہی نظریں جس کے سامنے وہ سب سے اچھے کپڑے پہن کر آنا چاہتا تھا اسے گند میں لتھڑا دیکھ رہی تھیں۔ وہ چاہ کر بھی اس کی نظروں میں مقام نہیں پیدا کر سکتا تھا۔
شاید وہ چاہ کر بھی کسی شخص کی نظروں میں مقام نہیں پیدا کر سکتا۔ لوگ اسے ہمیشہ ایک گند اٹھانے والا ہی سمجھیں گے۔ اس کی ساری تعلیم اور ڈگریاں فضول ہیں۔ یہ معاشرہ پہلے ہی اس کے مقام کا تعین کر چکا ہے۔ اس نے بھی سوچا آخر میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟
میں ایک ارزل نسل سے کیوں ہوں؟ کیا میں اسلیے برا ہوں کہ لوگوں کا گند اٹھاتا ہوں؟ یہ طبقاتی نظام خدا کا بنایا ہوا ہے یا انسانوں کا؟
کیا میری اس ذلت بھری زندگی کا کوئی مقصد ہے؟
نہیں تیمور میری اس زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے۔ یہ ایک بھیانک مذاق ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں نے ذاتی طور پر ترس کھا کر کسی کو خیرات نہیں دیتا، میرے نزدیک ایسا کرنا بے معنی ہے، اگر مجھے اس کام سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اور نہ ہی کوئی دلی سکون ملتا ہے تو میں اسے کیوں کروں۔ پر میری کمپنیاں ٹیکس سے بچنے اور مارکیٹنگ ٹیکٹک کے طور پر ایسا کرتیں۔ وہ کسی نہ کسی ادارے کو خیرات کے چیک دیتیں۔ اس میں بھی بہت دو نمبری ہوتی، پیسے کم دیے جاتے اور مارکیٹنگ کیمپین کے ذریعے لوگوں کو یہ باور کرایا جاتا کہ ہم لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ مجھے بھی مجبوراً ان تقریبات میں شرکت کرنا پڑتی، فیک مسکراہٹ کے ساتھ چیک تقسیم کرنا پڑتے، غریب بچیوں کی اجتماعی شادیوں میں جانا پڑتا، مریضوں کی عیادت کرنا پڑتی، غریب خاندانوں میں راشن تقسیم کرنا پڑتے۔
اپنی بے چینی کے بعد نہ جانے کیوں میں ایسی تقریبات میں زیادہ شرکت کرنے لگا۔ میں نے اپنے پیسے بھی خرچ کرنا شروع کر دیے۔ اپنے ایڈوائزرز کے مشورے کے خلاف خیراتی بجٹ بڑھا دیا۔
مجھے اپنے اس رویے کی بالکل سمجھ نہ آئی۔ پر ایسا کرتے مجھے تھوڑا سا سکون ملتا۔ میں نے سب سے پہلے یتیم، بے سہارا بچے اور بچیوں کے لیے ایک ادارہ بنایا۔ شاید میرے فیصلے کا سبب میرے بچپن کی پرچھائیاں تھیں۔ میں نے یہ ادارہ کسی کو دکھانے یا ٹیکس سے بچنے کے لیے نہیں بنایا۔ اس بے مقصد زندگی میں ایک یہی ایسا کام نظر آیا جسے میں بغیر کسی فائدے کے کر سکتا ہوں۔
اس ادارے کی تعمیر سے لے کر آغاز تک سارے کاموں کی نگرانی میں نے خود کی۔ میرے ایڈوائزرز بھی میرے اس رویے پر کچھ پریشان ہوئے، کہ آخر میں ایسا گھاٹے کا سودا کیوں کر رہا ہوں۔ میں اس کام میں کسی عبادت کی طرح مگن ہو گیا۔ میرے کئی امیر دوستوں نے اس کام میں تعاون کرنے کی کوشش کی مگر میں نے سب سے معزرت کر لی۔
میں نے اس ادارے کا نام آشیانہ رکھا۔
میری سوچ تھی کہ یہاں موجود بچوں اور عورتوں کو گھر جیسا تحفظ ملے۔ انھیں زندگی کی بنیادی سہولیات کے لیے بھیک اور جسم فروشی نہ کرنی پڑے۔ وہ جب تک چاہیں یہاں رہیں اور یہ کوئی جیل نہ ہو۔ اس کا انتظام بھی ایسے لوگ چلائیں جو اس کام کو مجبوری سمجھ کر نہ کریں۔
اگرچہ ہمارے معاشرے میں بہت خرابی ہے، برائی زیادہ اور اچھائی کم ہے۔ پر کہیں کہیں کچھ ہیرے بھی مل جاتے ہیں۔ پہلے خیال تھا شاید مجھے ادارے کو چلانے والے مخلص لوگ نہ ملیں لیکن یہ میری خام خیالی ثابت ہوئی۔
کہیں بھی سب لوگ مکمل اچھے یا برے نہیں ہو سکتے۔
آشیانہ کی افتتاحیہ تقریب بہت سادگی سے ہوئی۔ کسی سیاسی و سماجی شخصیت یا میڈیا کو نہیں بلایا گیا۔ کوئی لمبی لمبی تقیریریں نہیں ہوئیں۔ جب تک میں اس آشیانے کو بناتا رہا حیرت انگیز طور پر مجھے کسی بے چینی اور بے مقصدیت کا احساس نہ ہوا۔ افتتاحیہ تقریب میں ایک انجانی خوشی میرے اندر پھوٹنے لگی۔ یہ محسوسات میرے اختیار میں نہیں۔ میں انھیں کسی ریموٹ کنڑول کی طرح آن آف نہیں کر سکتا۔ یہ بھی پرندوں کی طرح اپنی مرضی سے آتے ہیں اور اپنی مرضی سے اڑ جاتے ہیں۔
یہ چھوٹا سا ادارہ جس میں کچھ یتیم بچے اور کچھ بے سہارا خواتین تھیں میرے سکون کا خوشی کا ذریعہ بن گیا۔ میں جب بھی فارغ ہوتا، وہاں چلا جاتا۔ بچے اور عورتیں حیرانگی اور پریشانی سے مجھے دیکھتیں۔ شروع شروع میں شرم، ججھک اور ادب آڑے آتا۔ وہ میرے شرمندہ شرمندہ ہوتے، جیسے میں انھیں جج کر رہا ہوں۔ رفتہ رفتہ ان کا رویہ نارمل ہو گیا۔ میں خاموشی سے ان کی باتیں سنتا، وہ اپنی دکھ بھری کہانیاں سناتے روپڑتیں۔ زیادہ تر کا تعلق معاشرے کے انتہائی پسے ہوئے طبقے سے تھا۔ انھیں کبھی دو وقت کی روٹی اور کپڑے میسر نہیں آئے۔ ان کی گفتگو میں بھی وہ شائستگی نہ ہوتی۔ ان کا اپنی بھوک، نفرت، خوشی اور غم کا اظہار بڑا ہی کھلا اور نفیس طبیعت پر گراں گزرنے والا ہوتا۔ یہاں وہ سب انسانی ڈرامہ ہوتا جو کہیں اور ہو سکتا ہے۔ یہ لوگ آپس میں لڑائیاں کرتے، الزامات لگاتے، ایکدوسرے کا حصہ چھیننے کی کوشش کرتے، حتکہ ایک دوسرے کو جان سے مارنے کی بھی کوشش کرتے۔
میں نے ہدایات جاری کی تھیں کہ ان لوگوں کو قبائلی انسان یا جانور نہ سمجھا جائے۔ انھیں سدھار کر تہزیبی انسان نہ بنایا جائے۔ ان لوگوں کی اچھایاں برائیاں ہماری معاشرے کی دی ہوئی ہیں۔ ان لوگوں نے ساری عمر دیکھا ہی یہ سب ہے، تو اس سے باز کیسے آئیں۔ یہ اپنے پیاروں کے ڈسے ہوئے ہیں تو اجنبیوں پر اعتبار کیوں کریں۔
حالات انسان کی شخصیت پر بہت گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ہماری شخصیت کی تعمیر میں ان کا رول نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جس نے ساری زندگی نفرت اور دھوکہ دیکھا ہو وہ محبت اور شفقت کو بھی شک کی نگاہ سے ہی دیکھے گا جیسے یہ حقیقی نہ ہوں۔
کچھ مہنیوں کی فراوانی اور سکون دیکھنے کے بعد ان لوگوں کے رویے میں نمایاں تبدیلی آنے لگی۔ وہ اپنے قریبی انسانوں پر بھروسا کرنے لگے۔ انھوں نے کھانے پر چھینا چھپٹی چھوڑ دی۔ ان کے لہجوں کا کھردرا پن نرمی میں بدلنے لگا۔ وہ بے وجہ کا غصہ کہیں دھیما پڑھ گیا۔ ہر کچھ عرصہ بعد کوئی نہ کوئی گھر سے بھاگی، یا نکالی ہوئی خاتون ادارے میں پناہ لیتی۔ مجھے اتفاق یا خوش قسمتی سے ادارہ چلانے کے لیے بہت ہی مخلص اور قابل ٹیم ملی۔ میں تو بس پیسہ ہی دیتا ان کے ذہن میں کچھ نئے آئیڈیاز ہوتے۔
وہ عورتوں بچوں کو ایسا بنانا چاہتے کہ وہ کسی پر بوجھ نہ رہیں۔ عورتوں کو اپنی صلاحیت کے مطابق ٹیلرنگ، میک اپ، نرسنگ، آئی ٹی، کوکنگ، وغیرہ کی تربیت دی جاتی۔ کئی کو تو یونیورسٹی بھی بھیجا جاتا۔ سب سے بڑھ کر انھیں موٹی ویشنل لیکچرز سے یہ باور کرایا جاتا کہ وہ اتنی بے سہارا نہیں ہیں جتنی وہ خود کو سمجھتی ہیں۔ وہ اگر عزم کریں تو اس معاشرے میں بھی وہ ایک کامیاب زندگی گزار سکتی ہیں۔ میں نے کچھ ہی مہینوں میں کئی خواتیں کو اپنے پیروں پر کھڑے ہوتے اور ادارہ چھوڑتے دیکھا۔ ان کے چہروں سے یوں محسوس ہوتا انھیں نئی زندگی مل گئی ہو۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔

اپنی اس ننھی سی دنیا میں مصروف ہو کر مجھے بزنس کے علاوہ دوسری مصروفیات بھول گئیں۔ ایک دو بار اپنی پرانی فرینڈز کو بلایا پر ان کا ساتھ مجھے مزید بے چین کرگیا۔ جیسے میرے اندر کسی لڑکی کی طلب رہی ہی نہیں۔
کسی کا حسن، کسی کی ہنسی، کسی کی خوشبو، کسی کی کھنکھناہٹ مجھے متاثر ہی نہ کرتی۔ کیا میں اندر سے مرچکا ہوں۔ ہر چہرے میں عبیر کا چہرہ ہی دکھتا۔ مجھے ان تیکھی باتوں کی طلب ہوتی۔ میں عبیر کے علاوہ کسی سے تشدد نہ کروا پاتا۔ اب میرے جسم پر کیڑیاں رینگنا بند ہو گئیں۔
مجھے شدت سے اس کی نفرت کی کمی محسوس ہوتی۔ اتنے عرصے میں بھی اس کی یاد کی آگ مدھم نہیں ہوئی۔ میں ہر چہرے میں اسی کا عکس ڈھونڈتا۔ اسی کی انگلیوں کا لمس میری کمر پر محسوس ہوتا۔
میں لائبریری میں بیٹھے خالی صوفے پر عبیر کو بیٹھا محسوس کرتا۔ یاد آتا، کہ اس کی موجودگی کا میٹھا میٹھا احساس میرے لیے کتنا اہم تھا۔ اس کے ہوتے میں نے کبھی اس طرح نہیں سوچا، کہیں یہ سب میرے اس بے چین ذین کا تماشا تو نہیں۔ وہ لائبریری جو کبھی زمانے سے میری پناہ گاہ تھی اب اس کی ویرانی اور تنہائی کاٹ کھانے کو دوڑتی۔
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
کیا میرے جذبات کو محبت کا نام دیا جا سکتا ہے؟
پر عبیر کی محبت، عنبر کی محبت اور یاد جیسی کیوں نہیں ہے۔ کیا ہر محبت کا رنگ مختلف ہوتا ہے؟
مجھے عنبر سے پہلی نظر میں ہی محبت ہو گئی تھی۔ میرے لیے وہ کسی شہزادی جیسی تھی، ایک ایسی شہزادی جو مجھ جیسے غلام کے نصیب میں نہیں آ سکتی۔ میں چھپ چھپ کر اس کی پوجا کرتا۔ میں اپنے خوابوں میں بھی صرف اس کے قدموں میں بچھا رہنے کا سوچتا۔ اس محبت میں شروع سے ہی لاحاصل پن شامل تھا۔ تشدد کے بہانے اس کے قریب رہنا میری سب سے بڑی سعادت تھی۔ اس کی موجودگی میں میرے اندر کا خلا کم ہو جاتا۔ زندگی اتنی بے معنی نہ لگتی۔ اس کے جاتے میرے اندر کا خلا بڑھ کر مجھے ہی بے وقعت کرگیا۔ میری ساری کائنات خالی ہو گئی۔
اس کے مقابلے میں عبیر خاموشی سے میری زندگی میں آئی۔ جیسے کوئی چور چپکے سے گھر میں داخل ہوتا ہے۔ میں نے اس کی موجودگی کو کبھی اس طرح سے محسوس نہیں کیا۔ وہ تو کسی اور کی زندگی میں شامل ہونے والی تھی۔ وہ بہت کم عرصہ میں میری زندگی کے تاریک گوشوں سے بھی آگاہ ہو گئی۔ میں خود کو یہی سمجھاتا رہا کہ باقی لڑکیوں کی طرح میرا اس سے بھی دل بھر جائے گا۔ پر ہر ملاقات کے بعد اس سے ملنے کا اشتیاق بڑھ جاتا۔ اس کی انگلیوں کا لمس میری کمر سے میرے دل میں اتر گیا۔
اس کی موجودگی میں تو میں نے اپنے جذبات کو کوئی نام نہ دیا۔ پر اس کے جانے کے بعد احساس ہوا، دل میں کوئی گوشہ اس کے نام سے دھڑکتا تھا۔ اس کے جاتے ہی مجھے شدید بے چینی شروع ہو گئی۔ ایسی بے چینی جس میں بے بسی، پچھتاوا، اور لاحاصل محبت سب شامل ہو۔ ایسی بے چینی جس کی وجہ آپ جانتے بھی ہیں اور نہیں بھی جانتے۔ یہ احساس عنبر کی جدائی کے احساس سے بھی بڑھ گیا۔
تیرے جاتے ہی اس خرابے سے
شور گریہ ہزار اٹھتا ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ویک اینڈ پر میں اپنی تنہائی اور بے چینی سے بھاگتا آشیانے میں پہنچ جاتا۔ ان لوگوں کی موجودگی ہی میرے زخموں کا مرہم ہوتی۔ میں انھی کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتا۔ کھانے سے متعلق میری ہدایات یہی تھیں کہ ہمیشہ اچھا بنایا جائے۔ ان عورتوں بچوں کو احساس کو کبھی یہ احساس نہ دلایا جائے کہ ان پر ترس کھاکر ایسا کیا جا رہا ہے۔ کھانا بنانے کا کام بھی انھی عورتوں کے ذمہ تھا۔ کئی تو ان میں پروفیشنل کوکنگ کے کورس کر کے ہوٹلوں میں شیف کے طور پر کام کر رہی تھیں۔
انھیں معلوم ہوتا کہ میں نے آنا ہے تو ہر بار کوئی نہ کوئی انوکھی ڈش کا تجربہ کیا جاتا۔ میں ان کی ان کوششوں کو دلچسپی سے دیکھتا۔ یہ بھی گھر جیسا ہی لگتا۔ انھی دنوں میرے برسوں کے شیف ارشد کو ہارٹ اٹیک ہوا اور اس کی ڈیتھ ہو گئی۔ سالوں سے اس تعلق کی وجہ سے مجھے دکھ ہوا۔
ارشد بھی انوکھا کردار تھا۔ اس سے میری ملاقات اس دور میں ہوئی جب میں کاروبار میں ٹھوکریں کھا رہا تھا۔ وہ اس وقت ایک تھری سٹار ہوٹل میں باورچی تھا۔ ارشد کی شخصیت بجھی بجھی اور اداس سی تھی۔ وہ بہت کم باتیں کرتا۔ اس کے پاس اظہار کا ذریعہ صرف اس کی کوکنگ تھی۔ وہ معمولی سے معمولی چیز میں بھی ایسا ذائقہ پیدا کر دیتا کہ آپ سوچیں میں نے یہ چیز پہلے کبھی کھائی ہی نہیں۔ ارشد کی خاموشی کی وجہ اس کا سقوط ڈھاکہ کے بعد اکیلے پاکستان آنا بھی تھا۔ اس نے اپنی کہانی میرے اصرار کرنے کے باوجود بھی نہیں سنائی۔ جب میری ملاقات اس سے ہوئی تو اس کی عمر پچاس کے قریب تھی، اس نے دوبارہ کبھی شادی نہیں کی۔
وہ شخص صرف کھانوں کے ذائقوں اور خوشبوؤں میں جیتا تھا۔ اسے کھانا بنانے اور کھلانے کا جنوں تھا۔ مگر زندگی میں آگے بڑھنے اور کچھ کرنے کا جذبہ اس کے اندر مرگیا تھا۔ اسی لیے گزر اوقات کے لیے ایک تھری سٹار ہوٹل میں کوکنگ کرتا تھا۔ مجھے اس کے ہاتھوں بنے کھانے کا چسکا پڑ گیا۔ میرے پاس جب پیسے آئے تو میں نے سب سے پہلے ارشد سے کہا کہ وہ ہوٹل کی مشکل نوکری چھوڑے اور اس سے زیادہ پیسوں پر میرے پاس آ جائے۔ پہلے تو ارشد نے ٹال مٹول سے کام لیا۔ میرے بار بار اصرار پر مان گیا۔ میں نے کبھی اسے ملازم کے طور پر نہیں سمجھا۔ اس نے آخری وقت تک مجھے اپنے کھانوں سے سرپرائز کرنا نہیں چھوڑا۔ کاش وہ کوئی اپنا شاگرد ہی چھوڑ جاتا۔
ارشد کی فوتگی پر مجھے دلی طور پر افسوس ہوا۔ اس کے ساتھ بھی ایک انوکھا تعلق تھا۔ اس کی اداس شخصیت گھر کی اداسی میں گھل مل سی گئی تھی۔ شاید ہم دونوں ایک دوسرے کے دکھ کو بنا کہے سمجھ چکے تھے۔
آشیانے میں لذید قیمہ کریلے کھاتے میں نے ویسے ہی کہہ دیا: ایسا کھانا بنانے والا کوئی مجھے بھی ڈھونڈ دو۔ بہت دنوں سے ہوٹل کے کھانے کھا کھا کر تنگ آ گیا ہوں۔
ادارے کی ہیڈ لبنی شمسی بہت بے تکلف تھیں۔ انھوں نے مجھے اکساتے ہوئے کہا۔ تیمور یہ شیف ویف کا جنجھٹ چھوڑو اور مستقل طور پر ایک کھانا بنانے والی لے آؤ۔ تمھیں اب ایک اچھی لڑکی کی شدید ضرورت ہے۔
میں نے ہنس کر لبنی کی بات کو ٹال دیا۔
وہ بھی لے آئیں گے بھابھی آپ فی الحال تو کسی اچھے شیف کا بندوبست کریں۔
بھائی ہمارے پاس اتنی لڑکیاں پروفیشنل شیف بن رہی ہیں، تم جسے چاہو پسند کر لو۔ ۔ اگر کھانا پسند آیا تو آگے بھی بات چلا لیں گے۔۔
ان کی بات سن کر ساری عورتیں ہی ہنس پڑیں۔
انھیں تو جیسے ایک اور موضوع مل گیا۔ یعنی تیمور درانی جیسا شخص غیر شادی شدہ ہے۔
اب میں ان کے سٹوپڈ مگر پرخلوص سوالوں اور مشوروں پر انھیں شٹ اپ بھی نہیں کہہ سکتا۔ سمجھانا اس سے بھی زیادہ مشکل تھا۔
لبنی شمسی نے میرے لیے بہت مصیبت کھڑی کر دی۔ اب میں جب بھی ادھر آؤں گا، کسی نہ کسی بہانے سے یہی بات چھیڑی جائے گی۔ ویسے بھی شادی اور بچے ایسا موضوع ہے کہ عورتیں ان سے کبھی بور نہیں ہوتیں۔
لبنی شمسی نے کہا ہر لڑکی آپ کے شیف بننا پسند کرے گی، آپ اپنی مرضی سے منتخب کر لیں۔
بھابی پلیز مجھے اس انتخاب کرنے کی مصیبت میں نہ ڈالیں۔ جو بھی اچھی شیف ہو اسے بھیج دیں اور اس کی تنخواہ بھی سیٹ کر لیں۔ ارشد کے جانے کے بعد اس کا کمرہ خالی ہے وہ وہاں رہے۔ پر دیکھیے کوئی ایسی لڑکی نہ بھیجیے گا جس کی وجہ سے بعد میں کوئی پرابلم ہو، یو نو واٹ آئی مین۔ میری ریپوٹیشن کی تو خیر ہے یہ ادارہ بدنام نہیں ہونا چاہیے۔
میں سمجھ گئی تیمور صاحب۔ آپ بے فکر رہیں ایسی لڑکی آئے گی جو کھانا بھی عمدہ بنائے اور آپ کی پرائیویٹ لائف میں دخل بھی نہ دے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اگلے ہی دن ایک لڑکی شیف کے طور پر میرے گھر پہنچا دی گئی۔ لبنی نے بتایا یہ لڑکی پچھلے چھ مہینے سے ادارے کے ساتھ ہے۔ اس کے بیک گراؤنڈ کے بارے میں صرف اتنا پتا ہے کہ یہ دو تین خیراتی مینٹل ہاسپٹلز میں رہی ہے۔ کسی صدمے یا ٹریٹمنٹ کی وجہ سے اس کی یاداشت چلی گئی۔ اپنے کام سے کام رکھتی ہے۔ آج تک اس کے بارے میں کوئی شکایت یا ایبنارملٹی نظر نہیں آئی۔ بس کبھی کبھی سوتے ہیں کلمہ پڑھتے اٹھ پڑتی ہے۔ کوکنگ کورس بھی کمپلیٹ کر چکی ہے اور کمال کی شیف ہے۔ ایک دو ہوٹلوں میں اس کی نوکری کی بات بھی چل رہی ہے۔
اسے یہاں بھیجنے والے نے اس کا نام کوئی نہیں بتایا۔ ہم اس کے کھانوں کی مہک کی وجہ سے اسے مہک بلاتے ہیں۔
یہ نام سنتے ہی مجھے ایک جھٹکا لگا۔
عبیر کے نام کا مطلب بھی تو خوشبو ہی تھا۔
یہ کیا تماشا ہے کہ میں اس نام کو جتنا بھلانے کی کوشش کرتا ہوں یہ کسی نہ کسی حوالے سے میرے سامنے آ جاتا ہے۔
یادوں کا ایک سیلاب امنڈ آیا، ارد گرد اداسی چھا گئی۔
میری بے چینی پھر لوٹ آئی۔
ایک نیزہ میرے دل کو چیر گیا۔
نہیں۔ ۔ یہ لڑکی اگر میرے گھر میں رہی تو دن رات مجھے اس کا نام میرے زخم ہرے کرتا رہے گا۔
میں نے لبنی شمسی کو سمجھانے کی ایک ناکام سی کوشش کی۔
میرے سارے اعتراضات خود مجھے فضول لگے۔ دلیلیں میرا ساتھ چھوڑ گئیں۔ پتا نہیں وہ میرے بارے میں کیا سوچ رہی ہو گی۔
تیمور میں نے بہت سوچ سمجھ کر اس لڑکی کا انتخاب کیا ہے۔ ایک تو اس کی کوکنگ بہت اچھی ہے، دوسرا یہ اپنے کام سے کام رکھتی ہے باقی لڑکیوں کی طرح کسی کی ٹوہ میں نہیں رہتی۔ یہ تمھاری پرسنل لائف میں انٹرفئیر نہیں کرے گی۔ یہ گوں گی تو نہیں پر گونگوں جیسی ہی ہے۔
میں خود اس کے بارے میں پریشان تھی کہ اس کا کیا بنے گا، اس میں انڈیپینڈنٹ رہنے والی بات ہی کوئی نہیں۔ تمھارے گھر میں یہ سکون سے رہ لے گی۔
میں اپنے تمام اعتراضات اندر ہی اندر دبا کر رہ گیا۔ مجھے اس لڑکی کو برداشت کرنا ہی پڑے گا۔
میں نے حتی الامکان کوشش کی کہ ناپسندیدگی کے تاثرات میرے چہرے پر نہ ابھریں۔ پھر بھی عورتیں کچھ نہ کچھ بھانپ لیتی ہیں
تیمور میری خاطر کچھ عرصہ کے لیے اسے اپنے گھر رکھ لو۔ اگر اس کی کوکنگ یا رویہ تمھیں پسند نہ آیا تو میں تمھارے لیے اس سے بہتر شیف ڈھونڈ دوں گی۔
میں سرد آہ بھر کر رہ گیا۔
بھابھی اب آپ کی بات کو کون ٹال سکتا ہے۔
تھوڑی دیر بعد لبنی شمسی کے ساتھ چادر میں لپٹی ایک سہمی ہوئی لڑکی اندر داخل ہوئی۔ اس نے ایک سیفد رنگ کی کھلی ڈلی شلوار قمیص پہن رکھی تھی۔ چادر سے پلو ایسے نکالا تھا کہ چہرہ ڈھکا ہوا تھا۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا اور مؤدبانہ انداز سے کھڑی ہو گئی۔ لبنی شمسی نے اسے صوفے پر بٹھایا۔ وہ صوفے پر بیٹھ کر بھی نیچے دیکھنے لگی۔ مجھے چادر سے باہر اس کی خوبصورت انگلیاں نظر آئیں جنھیں اس نے فوراً اندر کر لیا۔
اسے مہک کہتے نام میری زبان پر اٹک گیا۔ ۔
اسے ضروری باتیں لبنی شمسی نے پہلے ہی سمجھا دی تھیں، میں نے بھی زیادہ اصرار نہ کیا۔ خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
پتا نہیں اس نے بات سمجھی بھی ہے کہ نہیں؟
مجھے اس لڑکی سے اچھے کھانے کی کچھ زیادہ توقع نہیں تھی۔ پتا نہیں کیسا بناتی ہو گی۔ اب کچھ دن تو برداشت کرنا پڑے گا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
رات میں گھر کتنا ویران سا لگتا جیسے کوئ آسیب زدہ حویلی۔ اس گھر میں بھی تو میرے ماضی کے آسیب اور خوف راج کرتے ہیں۔ انھوں نے مجھے قید کر کے رکھا ہے۔ نہ ہی مارتے ہیں اور نہ ہی چھوڑتے ہیں۔ اس گھر کے درو دیوار صرف نوحہ کرتے ہیں۔ نہ کوئی سوال پوچھتا ہے نہ کوئی جواب دیتا ہے۔ ایک کونے میں کہیں تیمور درانی اپنے دادا کی طرح بیٹھا بے مقصدیت کی بے چینی کو برداشت کرتا ہے۔
زندہ اور خوش گھر ایک سے ہوتے ہیں، ویران اور اداس گھروں کا اپنا اپنا علیحدہ رنگ ہوتا ہے۔ اداسی اور ویرانی کے بھی درجے اور قسمیں ہوتی ہیں۔
اس گھر میں رات شب ہجراں کی طرح لمبی ہی ہو جاتی۔ پتا نہیں کس بات کا انتظار تھا۔ ایک ایسی بے چینی ہے جو کسی حال میں خوش نہیں رہنے دیتی۔
کوئی مل جائے تب بھی بے چینی، نہ ملے تب بھی بے چینی۔
غریبی تھی تب بھی بے چینی تھی، امیری ہے تب بھی بے چینی ہے۔
محبوب پاس تھا تب بھی بے چینی تھی۔ بچھڑ گیا ہے تب بھی بے چینی ہے۔
خدا کو ماننے میں بھی بے چینی، اور نہ ماننے میں بھی بے چینی۔
یہ وجودی مسئلہ کب حل ہو گا
بے قراری سی بے قراری ہے
وصل ہے اور فراق جاری ہے
اس سے کہیو کے دل کی گلیوں میں
رات دن تیری انتظاری ہے

ہم انسان بھی اس کائناتی تنہائی میں کسی نامعلوم چیز کے انتظار میں ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم وہ چیز کیا ہے۔
وہ ہمیں کب اور کیسے ملے گی۔
مل جائے گی تو پھر کیا ہو گا؟
ہم انسان بس زندگی کی بے منزل شاہراہ پر کھڑے مختلف کھیلوں اور کھلونوں سے جی بہلاتے رہتے ہیں۔
رات کے وقت گھر میں داخل ہوتے ہی بریانی کی خوشبو نے میرا استقبال کیا۔ مجھے یاد آیا میں نے تو ناشتے کے علاوہ کچھ کھایا ہی نہیں۔ فریش ہو کر جیسے ہی کھانے کی ٹیبل پر پہنچا تو مہک بڑی نفاست سے کھانا سجا رہی تھی۔ کھانے کی گرم گرم مہک نے اشتہا بڑھا دی۔ میرے سامنے پلیٹ رکھتے اس کے کی بائیں کلائی پر کسی پرانی زخم کا نشان نظر آیا۔ پتا نہیں زخم تھا یا اس نے کبھی خود کشی کی کوشش کی تھی۔ وہ کھانا لگا کر چلی گئی۔
میں نے جیسے ہی بریانی کو چھکا تو چودہ طبق روشن ہو گئے۔ کوکنگ بھی ایک کمال فن ہے۔ ہر ہاتھ کا ذائقہ مختلف ہوتا ہے، میں یہی مانتا تھا کہ ارشد کے بعد مجھے کوئی اچھا شیف نہیں مل سکتا، مگر یہاں اسی کے مقابلے کی خاتون آ گئ۔ فرائڈ فش اور مونگ کی دال نے بھی رنگ جمایا۔ میں نہ چاہتے ہوئے بھی ضرورت سے زیادہ کھا گیا۔
اس کھانے کی ذاتی طور پر تعریف بنتی تھی۔
جب وہ برتن اٹھانے آئی تو میں نے اسے بیٹھنے کو کہا۔
وہ تذبذب کا شکار ہوئی پر بیٹھ گئی۔ چادر کی وجہ سے اس کا چہرہ اور آنکھیں تو نظر نہ آئیں۔ اس کی انگلیوں کی جکڑ اور پاؤں کی حرکت یہ بتانے لگی وہ اندر سے بے چین اور ڈری ڈری ہے۔
میں نے اسے تسلی دی۔
ڈرو مت ! میں نے صرف یہ بتانا ہے کہ کھانا بہت عمدہ ہے، آئندہ بھی ایسا ہی بنانا۔
مینو ارشد خود بناتا تھا، اب تمھاری مرضی ہے۔
کسی بھی نوکر سے کہہ کر سامان منگوالو یا خود چلی جایا کرو۔ جس دن میں نے گھر نہ آنا ہوا یا نہ کھانا ہوا تو میں تمھیں پہلے ہی بتادوں گا۔ تمھیں فون بھی مل جائے گا۔ کوئی ضرورت یا مسئلہ ہو مجھے بتا دینا۔
تمھیں یہاں کوئی مسئلہ تو نہیں ہے۔
اس نے نفی میں سر ہلایا۔
یہ بول نہیں سکتی یا بولنا نہیں چاہتی؟
صدمے بھی انسانون پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔
بہر حال کچھ دن اس پر نظر رکھنی پڑے گی۔
کچھ دن بعد اس لڑکی نے کچن کا سارا کام سنبھال لیا۔ میں جس وقت بھی گھر آتا، گرم کھانا میری ٹیبل پر پڑا ہوتا، یہ شیف بھی لوگوں کو اپنے ہاتھ کے ذائقے کے عادی کرنے میں ماہر ہوتے ہیں۔ ان کے ہاتھ کا ڈسا پانی بھی نہیں مانگتا۔ ایک ہی مہینے میں مجھے اس کے ہاتھوں کھانے کی اتنی عادت ہو گئی کہ ارشد کے ہاتھ کا ٹیسٹ بھی بھولنے لگا۔
لبنی شمسی مذاقاً کہتی، تیمور اب تم ہمارے ساتھ کھانا بھی نہیں کھاتے۔ کیا جادو چلایا ہے مہک کے کھانوں کی مہک نے؟
میں مسکرا کر خاموش ہو جاتا۔
دوسرے ملازمین نے بھی اسے قبول کر لیا۔ میری پرانی ملاذمہ آسیہ کو میں نے اس پر نظر رکھنے کو کہا۔
صاحب جی! یہ لڑکی بہت بھولی بھالی ہے، سوائے کام کے کوئی بات نہیں کرتی، اتنا کم بولتی ہے کہ لگتا ہے گوں گی ہے۔ اپنے ماضی اور زندگی کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتی۔ میں نے کئی بار کر دینے کی کوشش کی مگر کہتی ہے اسے اپنی زندگی کے بارے میں کچھ یاد نہیں۔ پتا نہیں کیا کہانی ہے اس کی۔ میرے ساتھ مل کر گھر کی صفائی بھی کر دیتی ہے۔ میں ویسے بھی زیادہ کام سے تھک جاتی ہوں۔ پہلے میں اسے لائبریری میں جانے نہیں دیتی تھی کہ آپ نے کسی بھی چیز کو چھیڑنے سے منع کیا ہے۔ میں نے اسے بھی سمجھا دیا۔ وہ بس کتابوں کو دیکھ کر ادھر ہی رکھ دیتی ہے۔ شاید یاداشت کھونے سے پہلے اسے پڑھنے کا شوق ہو۔ پر میں نے اسے کہا کہ وہ صاحب کی کسی کتاب کو ہاتھ نہ لگائے۔
نہیں اسے منع نہ کیا کرو۔۔
کتاب پڑھنے سے ویسے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے، اتنی کتابیں گلنے سڑنے کے لیے تو نہیں منگوائیں۔ ویسے بھی سارا دن گھر میں بور ہو جاتی ہو گی۔ تم اسے کہہ دو لائبریری میں بیٹھ کر پڑھ لیا کرے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
عبیر کی گمنام قبر پر پھول پھینکتے ایک شدید اداسی میرے دل پر چھاگئی۔
کیا اس کی زندگی تب بھی ایسی ہی ہوتی۔ ۔
اگر وہ ترکی چلی گئی ہوتی۔۔
اگر وہ بدنام نہ ہوتی۔۔
اگر وہ میری زندگی کی تاریکیوں کو نہ جانتی۔۔
اگر وہ اس دن میری کہانی سنے بغیر ہی لائبریری سے نکل جاتی۔۔
اگر اس دن عبیر کے بجائے ایلف میٹنگ میں جاتی
اگر سلیکشن کمیٹی اس کی جگہ کسی اور کو سلیکٹ کر لیتی
اگر اس کو نوکری ہی نہ کرنی پڑتی
اگر اس کا منگیتر امریکہ نہ جاتا
اگر اس کا باپ ڈاکوؤں کے ہاتھوں ہلاک نہ ہوتا
اگر وہ فیشن ڈیزائننگ ہی نہ کرتی
اگر وہ پیدا ہی نہ ہوتی۔
ہوئی مدت کے غالب مرگیا پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پہ کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
زندگی کا ہر واقعہ شطرنج کی چال جیسا ہے جس کے بعد سوچنے کی حد تک تو لاتعداد امکانات اور چالیں ہوتی ہیں مگر حقیقت میں ایک ہی غلط چال آپ کی قسمت کا فیصلہ کر چکی ہوتی ہے۔
رئیالٹی اور اکٹیولیٹی میں بہت فرق ہوتا ہے۔
عبیر ! ہر گزرتا دن میری بے چینی اور پچھتاوے میں اضافہ کرتا ہے۔ میں جو بھی کروں یہ پچھتاوا میری جان نہیں چھوڑتا۔ میں چاہ کر بھی تم سے معافی نہیں مانگ سکتا۔
میں خود کو یہ بھی یقین نہیں دلا سکتا کہ تم کسی دوسرے جہاں میں دکھوں سے آزاد خود ہو گی۔
تمھارا شعور اس کائناتی تاریکی میں گم ہو گیا ہے۔ تم صرف میرے تصور کی تخلیق رہ گئی ہو۔
میں اپنی تصور میں تم سے ہر وقت معافی مانگتا ہوں مگر تم پتھر کی بت بنی کھڑی رہتی ہو۔ میں تصور میں بھی تمھارا چہرہ نہیں دکھ پاتا۔ کاش کوئی یوم حشر ہوتا جہاں تم مجھے سزا دے سکتیں۔
غم اور بے بسی سے میری آںکھوں سے آنسو نکل پڑے۔ میرے آنسو اس کی قبر کے پیروں کی مٹی میں جذب ہو گئے۔
میں خیالوں میں گم جیسے ہی لائبریری میں داخل ہوا تو سامنے صوفے پر آنکھیں موندے ایک انتہائی خوبصورت وجود بیٹھا تھا۔ اس کی چادر ڈھلکنے کی وجہ سے اس کی کالے بالوں کی ایک لٹ اس کے چہرے پر ناگن کی طرح لٹک رہی تھی۔ میں کچھ لمحوں کے لیے اس کے خوبصورت چہرے میں کھو سا گیا۔ میں دھیمے پاؤں چلتا اس کے پاس کے صوفے پر بیٹھ گیا۔ اس کی سانس بہت دھیمے انداز سے چل رہی تھی جیسے کوئی ندی بہتی ہو۔
ایسا حسن ایسی معصومیت۔
اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت
مکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں
اس کے سامنے شاعری کی کوئی کتاب کھلی پڑی تھی جسے پڑھتے پڑھتے شاید اس کی آنکھ لگ گئی۔
پتا نہیں میں کتنی دیر تک بت بنا اس کو دیکھتا رہا۔ میں نے سانس بھی دھیرے دھیرے لی کہ کہیں وہ اٹھ کر اس جادوی لمحے کو ختم نہ کر دے۔ میں تو اس لمحے کو ختم نہ کرتا مگر اس کے چہرے پرسکون تاثرات بگڑنے لگے جیسے کسی چیز سے ڈر رہی ہو۔
اس کے ہونٹ کچھ بڑبڑانے لگے۔ کچھ دیر بعد یہ بڑبڑاہٹ واضح ہوئی تو معلوم ہوا یہ کلمہ پڑھ رہی ہے۔ اس کی آنکھوں سے آںسو نکلنے لگے۔ یہ کیفیت جب اپنے عروج پر پہنچی تو اس کی آنکھیں کھل گئیں۔
مجھے اپنے سامنے پا کر تو کچھ دیر کے لیے وہ سکتے میں چلی گئی۔ پھر جیسے ہی ہوش آیٰا سب سے پہلے اپنا سر اور چہرہ چادر میں ڈھانپ کر جلدی سے کھڑی ہو گئی۔ اس نے کچھ بولا تو نہیں مگر اس کے انداز سے شرمندگی تھی۔ میں نے اس ہاتھ کے اشارے سے بیٹھنے کو کہا۔
وہ سمٹ کر چھوئی موئی کی طرح بیٹھ گئی۔
یہ تمھیں سوتے میں ایسا کیوں ہوتا ہے؟ میں نے ہمدردانہ انداز سے پوچھا۔
پر وہ نہ بولی۔
کیا ہوا تھا تمھارے ساتھ؟ کہاں سے آئی ہو تم؟
میرے بار بار اصرار پر بھی وہ کچھ نہ بولی۔
اچھا ٹھیک ہے تمھاری مرضی، پر مجھے تمھارا لائبریری میں آنا بالکل برا نہیں لگا۔ تم جب چاہے مرضی یہاں آو اور اپنی مرضی کی کتاب پڑھ لیا کرو۔
اس نے میری بات پر سر ہلایا اور خاموشی سے لائبریری سے چلی گئی۔
میں اس کے حسن کا ڈسا مفلوج بیٹھا رہا۔ یہ حسن بھی کیا چیز ہے۔ اس کی آنکھیں کتنی جانی پہچانی لگتی ہیں۔ بالکل عبیر جیسی۔
یعنی مہک نامی لڑکی کی آںکھیں عبیر جیسی لگتی ہیں۔ واہ تیمور درانی واہ۔ ۔
تمھیں پہلے ہر چہرے میں عنبر کا چہرہ دکھتا تھا اب ہر چہرے میں عبیر دکھتی ہے۔ یہ ذہن پر بھی بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔ کب کوئی بھی خواب اس طرح دکھائے کے حقیقت سے بھی زیادہ حقیقی لگے۔ عبیر مرچکی ہے اور میری خواہش اسے واپس نہیں لا سکتی۔
عبیر اب نہیں ہے۔ ۔
وہ بالکل ایسے ہی نہیں ہے جیسے عنبر نہیں ہے
جیسے اماں نہیں ہے
جیسے کچھ ہفتوں بعد میں بھی نہیں رہوں گا۔
شاید اب مزید زندہ رہنے کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ مجھے جانے سے پہلے کچھ ضروری کام نپٹانے ہیں۔ اپنی ساری کمپنیاں ایک ٹرسٹ کے نام لگانی ہیں۔
مجھے جلد از جلد خود کشی کرنی ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مجھے کافی عرصہ بعد اپنے کلینک میں دیکھ کر سائکیٹرسٹ اشفاق کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔
تیمور اس دن کے بعد جب تم نہیں آئے تو مجھے یقین ہو گیا، بابا جی سے ملاقات نے تمھارا ڈیپریشن کم کر دیا ہے۔
آج سناؤ کیسے آنا ہوا؟ کیا اندر کا خالی پن لوٹ آیا۔۔
آہ ! اشفاق صاحب آُپ کے بابا جی کی ایک بات پر مجبوری سے عمل شروع کیا تو تھوڑا بہت سکون ملا۔ یعنی مخلوق کی بے لوث خدمت۔
میں نے سوچا اپنی بے مقصد مصروفیات میں ایک یہ مصروفیت بھی سہی۔ میں نے غریب اور بے سہارا بچوں اور عورتوں کا ایک ادارہ بنایا جہاں جا کر تھوڑی سی خوشی ملتی ہے۔
باقی مسائل ویسے کے ویسے ہی ہیں۔ بابا جی کی بات ٹھیک نہیں ہوئی۔ میرا کفر لوٹنے والی لڑکی شاید ابھی پیدا نہی ہوئی۔
ناخدا ہی ملا نہ وصال صنم، نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے
رہے دل میں ہمارے یہ رنج و الم، نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے
میرے شعر پر اشفاق نے قہقہہ لگایا۔
ضرور ملے گی تیمور، تھوڑا صبر تو کرو۔ یہ اللہ والوں کی باتیں ایسی سیدھی نہیں ہوتیں۔ یہ کالے بادل کی طرح اوپر چلتی رہتی ہیں اور تب برستی ہیں جب ہمیں یقین ہی نہیں ہوتا۔
اشفاق صاحب یہ مذہب کا کاروبار انتظار پر ہی تو چل رہا ہے۔ اچھے زمانے کا انتظار، قیامت کا انتظار، حساب کتاب کا انتظار، جنت کا انتظار، اسم اعظم ملنے کا انتظار، مشاہدہ حق کا انتظار۔
یہ مذہبی پیشوا اور بابے پیسے لیتے ہوئے کبھی نہیں کہتے کہ اس کام میں بھی انتظار کیا جا سکتا ہے۔ یہ ہماری پوری زندگی انتظار ہی تو ہے۔ لیکن معلوم نہیں کس چیز ہے۔
میں نے اس بے مقصد انتظار کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
میری بات سن کر اشفاق کی آںکھوں میں سنجیدگی آ گئی۔ تیمور کیا تم مجھے اپنے خود کشی کے فیصلے سے آگاہ کر رہے ہو۔
اشفاق صاحب اب یہ باتیں بے معنی ہیں۔ میں آپ کے پاس اپنے سلسلے میں نہیں آیا۔
تیمور ! مجھے افسوس ہے میں تمھارے مسئلے کا حل نہیں کر سکا۔ میرا علم ابھی ناقص ہے۔ میری دوائیں تمھیں وقتی سکون تو دے سکتی ہیں مگر تمھارے مرض کے بارے میں میرا علم محدود ہے۔ سائکیٹری کا تعلق ہی مادے سے ہے اور مادے سے آگے کی باتوں کو یہ بغیر سنے ہی رد کر دیتی ہے۔
بہر حال میری گزارش ہے کہ کچھ بھی کرنے سے پہلے آخری بار بابا جی سے ضرور مل لینا، شاید ان کی دعا ان ہونی کو ہونی میں بدل دے۔
اس کے علاوہ بتاؤ میں تمھاری کیا خدمت کر سکتا ہوں؟
میں نے آپ کو آشیانہ کے بارے میں بتایا تھا۔ وہاں ایک بے گھر لڑکی آئی، جو ویسے تو نارمل ہے اور ایک پروفیشنل شیف بھی ہے۔ اس کے ماضی کے بارے میں اسے خود بھی نہیں معلوم۔ اس کو داخل کروا نے والے نے صرف اتنا بتایا کہ یہ لڑکی کچھ عرصہ مینٹل انسٹی ٹیوٹس میں رہی جہاں ٹریٹمنٹ کی وجہ سے اس کی یہ حالت ہو گئی۔ وہ بولتی بھی نہیں ہے، شاید صدمے کا اثر ہے یا کچھ اور۔ اسے کبھی کبھار دورے بھی پڑتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں آپ اس کا علاج کریں۔
انفیکٹ وہ ابھی باہر ہی بیٹھی ہے، آپ کہتے ہیں تو اسے اندر بھجوا دیتا ہوں۔
مہک کو اندر بھیج کر میں خود باہر بیٹھ گیا۔
پچھلے کچھ دنوں سے مہک کے دورے بڑھ گئے۔ وہ راتوں کو روتے ہوئے اٹھ بیٹھتی۔ پہلے تو مجھے خیال آیا اسے واپس ادارے میں بھجوا دوں کہ لبنی شمسی اس کیس کو خو ددیکھیں۔ پر مجھے اس لڑکی سے شدید ہمدردی ہو گئی۔ پتہ نہیں شاید میں آج کل ویسے ہی وہ نہیں رہا جو پہلے تھا۔ اب لوگوں کا دکھ دیکھ کر مجھے رحم آنے لگا ہے۔
کبھی اکیلے بیٹھے میرے آنکھوں سے آنسو بھی نکل پڑتے ہیں۔ بے چینی اور غم کی یہ کیفیت کئی کئی گھنٹے مجھ پر طاری رہتی ہے۔
اس لڑکی کا خوبصورت چہرہ اور ایسی حالت میرا دل چیر گئی۔ اس کے ساتھ ایسا کیا ہوا جو یہ اس حال تک پہنچ گئی۔ کیا اس کا کوئی بھی عزیز اقارب اس دنیا میں نہیں ہے۔
ہمارے ارد گرد پاگل بھی ایک مظلوم مخلوق ہیں۔ انھیں اچھوت سمجھ کر پاگل خانوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔ جیسے ان کے پاگل پن سے معاشرے کو خطرہ ہے۔ زیادہ تر پاگل کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے۔
المیہ یہ ہے کہ انھیں پاگل نہیں کہا جاتا جو کوئی نہ کوئی مذہب یا نظریہ لوگوں پر زبردستی تھوپتے ہیں اور پھر اس کی خاطر لاکھوں کی جانیں لے لیتے ہیں۔ ان کو کوئی پاگل نہیں کہتا، ان کو ہیرو اور لیڈر کا مرتبہ دیا جاتا ہے۔ ان کی تصویریں ہر جگہ فخر سے لگائی جاتی ہیں۔ بے گناہوں کے خون کا حساب کوئی نہیں لیتا
کب نظر آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھنے دھلیں کے کتنی برساتوں کے بعد
فیض صاحب کی تو خواہش تھی کہ خون کے دھبے کسی برسات میں دھل جائیں مگر شاید۔ ظلم و ستم کا حساب اس دنیا میں ممکن نہیں ہے۔
فیض صاحب آپ نے تو چاہا تھا لیکن
خون کے دھبے نہیں دھلتے کسی برسات میں
اس لڑکی کو بھی اس کے گھر والے پاگل سمجھ کر چھوڑ گئے ہوں گے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میرا خود کشی کا پلان لیٹ ہی ہوتا گیا۔ اس کی وجہ مہک کا علاج تھا۔ اشفاق صاحب نے ابتدائی طور پر تشخیص کی کہ مہک کی یہ حالت مستقل نہیں ہے۔ اسے کوئی شدید صدمہ پہنچا تھا جس کی وجہ سے اس کے ذہن پر گہرا اثر پڑا۔ زیادہ مسئلہ الیکٹرک شاک ٹریٹمنٹ سے ہوا۔ ہمارے ہاں کے ڈاکٹر بھی اپنی جان چھڑوانے کے لیے ہر مریض کو بنا تشخیص کے الیکٹرک شاک ٹریٹمنٹ کروا دیتے ہیں۔ اس سے ذہن کے نیورونز جل جاتے ہیں اور کئی کیسسز میں تو ریکوری ممکن نہیں رہتی۔ مہک کے نیورونز پرماننٹ ڈیمج نہیں ہوئے۔ یہ ریگولر میڈیسن اور کونسلنگ سے ٹھیک ہو سکتی ہے۔ اس کے کے علاوہ اسے ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں اسے محبت اور شفقت سے اس کا ماضی یاد دلایا جائے۔
اشفاق صاحب کی باتیں سن کر میں اس دن پر پچھتانے لگا جب میں نے لبنی شمسی سے شیف کی بات کی تھی۔ اب میں اس لڑکی کا کیا کروں۔ آشیانہ میں طرح طرح کی عورتوں میں اس کو ٹینشن فری ماحول مل بھی پائے گا یا نہیں۔ اب میں اسے گھر جیسا ماحول کیسے فراہم کروں۔ نوکروں پر بھی کام نہیں چھوڑا جا سکتا۔
مجھے شش و پنج میں دیکھ کر اشفاق صاحب مسکرائے۔ تیمور میں سمجھتا ہوں تم پریشان ہو اور اس لڑکی کو مصیبت سمجھ رہے ہو، جو تمھاری زندگی میں بلا وجہ گھس آئی ہے۔ تم چاہو تو اسے مینٹل ہاسپٹل میں داخل کروا دو۔
نہیں ایسی بات نہیں ہے۔ میں بس یہ سوچ رہا تھا کہ اگر اسے ایسی کئیر مل بھی جائے تو یہ کتنی دیر میں ٹھیک ہو جائے گی۔ میرا مطلب ہے اس کی یاداشت واپس آ جائے تو شاید یہ اپنے گھر والوں کے بارے میں بتا سکے۔
تیمور شفا تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کی تمام رپورٹس دیکھ کر مجھے یقین ہے یہ بہت جلد ٹھیک ہو جائے گی۔ میں جانتا ہوں تم خدا کو نہیں مانتے۔ پر شاید اس معصوم کی خدمت کرنے سے ہی اللہ تم پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔
آہ ! پھر وہی خدا کا مسئلہ۔
تین ہزار سال ہو گئے یہ مسئلہ انسان کے سر پر سوار ہے۔ مشہور فلسفی نٹشے نے سوا صدی پہلے یہ اعلان کیا تھا
“خدا مرگیا ہے ”
اب اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ واقعی خدا مرگیا ہے۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ انسان مرگیا ہے جس میں خدا کو ماننے کی صلاحیت تھی۔ پرانے انسان کی راکھ سے ایک جدید انسان نکلا جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ خود خدا ہے۔
لیکن ستم زریفی یہ ہے کہ قدیم انسان کے مزار پر بھی یہی خدا کا سوال مجاور بنا بیٹھا ہے۔
مجبوراً مجھے ہی اس لڑکی کو ٹھیک کروا نا پڑے گا تاکہ میں سکون سے مر سکوں۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میرے ذاتی شوق پہلے ہی ختم ہو چکے، کچھ عرصہ سے میں نے اپنے بزنس معاملات کو بھی محدود کر لیا۔ اب میں کسی نئے بزنس کے بارے میں نہیں سوچ رہا۔ اپنی بیشترا تھارٹی میں نے بورڈ آف ڈائریکڑرز اور مینیجرز کو ٹرانسفر کر دی۔ اب میں سارا دن گھر پر ہی ہوتا۔
میڈیسن کے زیر اثر مہک پر کافی غنودگی طاری ہوتی۔ میں نے تمام ملازمین سے کہا کہ اسے سوتے میں کوئی نہ جگایا کرے۔ اور اسے کام کے لیے بھی مجبور نہ کیا جائے۔ جب وہ چاہے تو خود ہی کھانا بنائے۔
صبح کا ناشتہ ایک گھنٹے لیٹ بنا۔ مہک نے انتہائی شرمندگی سے میرے سامنے ناشتہ رکھا۔ اس کی آنکھوں سے غنودگی اب بھی واضح تھی۔
وہ۔۔ میں۔ آنکھ۔۔ ہی نہیں کھلی۔۔
اس کی آواز اتنی جانی پہچانی کیوں لگتی ہے۔۔ میں نے فوراً ہی اپنے خیالات کو جھٹکا۔ مجھے اپنے ذہن پر کوئی بھروسا نہیں رہا۔ ہر چہرے میں عبیر کا چہرہ ڈھونڈتا ہوں۔ ہر آواز پر اس کی آواز کا گمان ہوتا ہے۔
اٹس او کے۔ تمھاری طبیعت کیسے ہے؟
جی ٹھیک ہے۔۔ اس نے انتہائی آہستگی سے کہا۔ اس کی چادر اب بھی اس کا چہرہ ڈھانپ ہوئے تھی۔
آج سے تم میرے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاؤ گی۔
جی۔ یی ی۔ ۔ ۔ پر میں کیسے۔
اس نے حیرت سے کہا۔
ہاں آج سے تم نہ صرف میرے ساتھ کھانا کھاؤ گی بلکے میرے ساتھ واک پر بھی جایا کرو گی۔ تازہ ہوا ویسے بھی تمھاری صحت کے لیے بہتر ہے۔
پر وہ گھر کے کام۔
کام ہوتے رہیں گے۔ ویسے بھی یہاں کونسا اتنے کام ہوتے ہیں۔ باقی لوگ ہیں نہ یہ سب کرنے کے لیے۔
ڈاکٹر نے تمھیں کسی بھی قسم کی ٹینشن لینے سے منع کیا ہے۔
پر۔۔ میں۔ وہ۔ کیسے۔ میرا۔۔ مطلب۔ میڈم لبنی۔ ۔ کہا۔۔ آپ کی زندگی۔ ۔ اپنے کام سے کام۔ ۔
میں تو۔ کوکنگ۔ آپ پر بھوج۔ ۔ ۔ مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔ آپ مجھے واپس بھیج دیں۔
اس کی باتیں بے ربط سی تھیں۔ جیسے خیالات مجتمع نہ ہوں۔
نہیں تم ٹھیک ہونے تک کہیں نہیں جاؤ گی۔ یہ بھی ایک آرڈر ہے۔ ۔
وہ خاموشی سے پاس بیٹھ پتا نہیں نیچے کیا دیکھتی رہی۔ میرے اصرار کرنے پر اس نے بہت تھوڑا سا کھایا۔ جیسے بھوک نہ ہو۔ میں نے اسے زبردستی جوس پلوایا۔ اس کے انداز میں عجیب سی شرمندگی تھی۔
میں نے زندگی میں کبھی کسی کی دیکھ بھال نہیں کی۔ خود میری بھی دیکھ بھال کسی نے نہیں کی۔ مجھے نہیں معلوم یہ سب کیسے کرتے ہیں۔ مجھے معلوم ہی نہیں محبت اور شفقت کیا چیز ہوتی ہے۔ مجھے تو بچپن میں ہی ماں چھوڑ گئی۔ باپ نشہ کر کے پڑا رہتا، دادا اپنی محبت کے غم میں روتے رہتے۔ میرے لیے جو ملاذمہ تھی وہ مجھے بوجھ سمجھتی، چچا کے گھر میں نفرت، تذلیل، حقارت اور تشدد کا تحفہ ملا۔ رہی سہی کسر زمانے نے پوری کر دی۔ میں نے دنیا کو وہی لوٹایا جو اس نے مجھے دیا تھا۔
اس معصوم لڑکی کو میں اپنی زندگی کی آخری دنوں میں کیسے کئیر دے سکتا ہوں۔ میرے تو اپنے زخم نہیں بھرے میں اس کے زخموں پر مرہم کیسے رکھوں۔ پتا نہیں اسے کیسے دکھ ملے ہوں گے جس کی وجہ سے اس کے ساتھ ایسا ہوا۔
جب کبھی اس کی آنکھیں نظر آتیں اور ان میں کرب ہوتا۔ جیسے اندر ہی اندر کوئی زخم ہے۔ اسے یہ تو یاد نہیں کہ یہ زخم کس نے اور کیوں دیا ہے پر اس کی تکلیف اسے پر دم محسوس ہوتی ہے۔
میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی آنکھوں اور چہرے میں گم ہونے لگا۔ اس کا غم مجھے اپنا سا لگا۔
یہ عبیر جیسی کیوں دکھتی ہے؟
نہیں یہ سب میرے ذہن کی کارستانی ہے۔
شام کو پارک میں واک پر جانے سے پہلے وہ بہت ہچکچائی۔ میں نے زبردستی اسے اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھایا اور پارک میں پہنچ گئے۔ واک کرتے ہوئے بھی وہ شرمندہ شرمندہ سی تھی۔ اچانک مجھے اس کی شرمندگی کی وجہ سمجھ آئی۔ اس کے کپڑے انتہائی معمولی سے تھے۔ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ لڑکیاں چاہے جیسی بھی ہوں اپنے لباس اور حلیے کے بارے میں بہت حساس ہوتی ہیں۔
میں واپسی پر اسے شاپنگ کروا نے لے گیا۔ جب اسے احساس ہوا کہ میں اس کی کیفیت کو جان گیا ہوں تو شرمندگی سے اس کا برا حال ہو گیا۔
اس نے مجھے منع کرنے کی ناکام سی کوشش کی۔ اب یہ لڑکیوں کی شاپنگ کا مجھے بالکل بھی آئیڈیا نہیں ہے۔ میں اسے چار پانچ بڑے ڈیزائنرز کی شاپس پر لے گیا۔ اس کی آنکھوں میں شرمندگی اور شکوہ تھا۔ پر میں نے اگنور کیا۔
جب وہ مالٹائی شرٹ اور وائٹ ٹراؤزر پہن کر باہر آئی۔ تو کھ دیر کے لیے میں مبہوت ہو گیا۔ چھوٹے دوپٹے کی وجہ سے وہ تھوڑا ان کمفرٹیبل محسوس کرنے لگی۔ میں نے پہلی بار اس کے وجود کو مکمل طور پر دیکھا۔
میری آنکھوں میں نمی آ گئی۔ یہ پھول زندگی کی گرمی سختی برداشت کرنے کے لیے نہیں بنا۔
میرا یوں آنکھیں جھپکائے بنا اپنی جانب دیکھتے پا کر وہ شرم سے لال ہو گئی۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مہک کچھ عرصہ میں میرے ساتھ کمفرٹیبل ہو گئی، اب میرے سامنے کھانا کھاتے اسے چہرہ نہ ڈھانپنا پڑتا۔ وہ لائبریری اور گھر میں پینٹنگز کو بہت غور سے دیکھتی۔ میں بھی وقت گزاری کے لیے اسے پینٹگز اور کتابوں کے بارے میں بتاتا۔ وہ کسی چھوٹے بچے کی طرح بڑے انہماک سے یہ باتیں سنتی اور اس کے سوال بڑے مزے کے ہوتے۔
مجھے یہ تو نہیں پتا کہ وہ میری اس زبردستی کی کئیر سے ٹھیک ہوئی یا نہیں پر میرے اپنے اندر کافی کچھ تبدیل ہونے لگا۔ جب میں اس کے ساتھ ہوتا تو مجھے کوئی بے چینی نہ ہوتی، وقت بہت تیزی سے گزرنے لگتا۔ اس کا خوبصورت چہرہ اور آنکھیں مجھے رہ رہ کر عبیر کی یاد دلاتیں۔ میں تصور میں اسے عبیر سمجھ کر ہی باتیں کرتا۔
میری باتوں کے درمیاں جیسے ہی نماز کا وقت ہوتا وہ فوراً نماز پڑھنے چلی جاتی۔ وہ لمبے لمبے سجدوں میں نہ جانے کیا کیا دعائیں مانگتی رہتی۔ شروع شروع میں وہ اپنے کمرے میں چھپ کر نماز پڑھتی پھر میں نے کہا کہ وہ لائبریری میں ہی نماز پڑھ لیا کرے۔ اس پر وہ کہتی کہ یہاں انسانی تصویریں ہیں، رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔
اب میں اسے کیا سمجھاؤں کہ اس کمرے میں ہی نہیں اس گھر میں بھی فرشتے نہیں آتے۔ یہاں ایک خدا کو نہ ماننے والا رہتا ہے۔ ایک ایسا شخص جو سالوں خدا کو ڈھونڈنے کے بعد خدا سے محروم ہو گیا۔
میں کیسے اس لڑکی کو سمجھاؤں میرے سینے میں کبھی خدا رہتا تھا۔ اب میں ایک خالی خول کی طرح پھرتا ہوں۔ جب آپ خدا کے خیال سے محروم ہو جاتے ہیں آپ کا خدا پر غصہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ آپ خدا اور مذہب پر تنقید بھی چھوڑ دیتے ہو۔
جب وہ نماز پڑھ کر آتی تو اس کے چہرے پر سکون ہوتا۔
مہک تم اتنے لمبے لمبے سجدوں میں کیا دعا مانگتی ہو۔
اس کے چہرے پر کچھ رنگ آ کر گزر گئے۔۔
بس اللہ میاں کا شکر ادا کرتی ہوں، اپنی جلد صحت یابی کی دعا کرتی ہوں۔
اور تمھیں لگتا ہے اللہ میاں تمھاری بات سنتے ہیں۔ میں نے کوشش کی کے میرے لہجے میں طنز نہ چھلکے۔
ہاں اللہ میاں تو سب سنتے جانتے ہیں۔
تم اللہ میاں سے شکایت نہیں کرتیں کہ انھوں نے تمھیں اتنی تکلیفیں کیوں ہونے دیں۔ تم سے تمھارا سب کچھ چھین لیا، حتی کہ یاداشت بھی، میں نے دکھ اور تلخی دباتے ہوئے کہا۔
ہائے ! میں اللہ میاں سے یہ کیسے کہہ سکتی ہوں۔ ان کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے۔ میں تو بس اپنے دل میں ان سے ایک گہرا تعلق محسوس کرتی ہوں۔ میں جتنی بھی تکلیف میں ہوں مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ اللہ میاں مجھے دیکھ رہے ہیں۔ وہ میرے دکھ کو سمجھتے ہیں۔
مجھے زیادہ بڑی باتیں نہیں آتیں پر، میرے لیے یہی بہت ہے۔
اب دیکھیں نا انھوں نے مجھے آپ جیسے اچھے انسان تک پہنچایا جو میری صحت یابی کے لیے اتنی کوششیں کر رہا ہے۔
میں تو اس کا جتنا شکر کروں کم ہے۔ اس کے لہجے میں ایک احساس تشکر اور خدا پر مان کا ایسا ناقابل شکست احساس تھا۔
ایک یہ لڑکی ہے جس سے اس کا ماضی تک چھن گیا اور یہ اب بھی خدا کا شکر ادا کر رہی ہے۔ اسے اب بھی کوئی بے چینی اور خالی پن محسوس نہیں ہوتا۔ اسے کوئی وجودی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔
ایک میں ہوں کہ سب کچھ ہونے کے باوجود اندر کے خالی اور بے چین ہوں۔ قدرت کے یہ اتفاق بھی عجیب ہیں۔
تیمور صاحب آپ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟
اس نے اتنے معصومانہ انداز سے ایسا سوال کیا کہ میں پھٹی آنکھوں سے اس کا منہ تکتا رہ گیا۔
اچھا آپ بہت مصروف ہوتے ہیں نا، لیکن پھر بھی نماز تو فرض ہے نا ہمارے مذہب میں؟
آہ میں اس بیچاری کو کیا بتاؤں۔ میں اسے اپنے بارے میں کچھ بتا کر شاک نہیں دینا چاہتا۔ کوئی سادہ سا جواب دینا چاہیے۔
بس کیا کروں مہک مجھے بچپن میں کسی نے نماز پڑھنا سکھائی ہی نہیں۔ میں نے ویسے ہی مذاقاً کہہ دیا۔
ہائے اللہ! کسی نے نہیں سکھائی۔ اس کی آنکھوں میں ایک بچے جیسی حیرانی تھی۔
یہ تو بڑے افسوس کی بات ہے۔۔ ہاں بڑے گھروں میں ایسا ہو جاتا ہے۔۔ اس نے بھی خود کلامی کے انداز سے کہا۔
آپ فکر نہ کریں، بہت آسان ہے۔ میں آپ کو بتاتی ہوں۔۔
وہ بڑی دیر تک مجھے پورے خلوص کے ساتھ نماز پڑھنا سکھاتی رہی۔ اس نے اپنے ساماں سے مجھے نماز کی چھوٹی سی کتاب بھی لاکر دی۔ یہ سب کرتے اس کی آنکھوں میں ایسی خوشی تھی جیسے کوئی بہت ہی نیکی کو کام کر رہی ہو۔
جب وہ کھانا بنانے گئی تو تو میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔
یہ کیا مذاق ہے، یہ لڑکی کیوں سب کچھ کھو کر بھی خوش پھر رہی ہے، اس کس نے حق دیا ہے کہ میری عقل، میری دولت اور میری بڑائی کا یوں بے دردی سے مذاق اڑائے۔ میری کوئی دلیل اس سے یہ سکون اور اطمینان نہیں چھین سکتی۔ کیا مجھے مرنے سے پہلے یہی دیکھنا باقی رہ گیا ہے۔
یہ خدا کا خیال میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتا؟
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مہک میرے ساتھ یوں گل مل گئی جیسے سالوں سے مجھے جانتی ہو۔ مجھے رہ رہ کر اس کی آواز میں عبیر کی کھنک محسوس ہوتی۔ سائیکالوجی بھی یہی کہتی ہے کہ ہمارا حافظہ کوئی فوٹو گرافک چیز نہیں ہے۔ اسی لیے عدالتی کاروائیوں میں صرف گواہوں کی شہادت کو قبول نہیں کیا جاتا۔
جیسے امریکہ جیسے میں ملک میں دس لاکھ لوگوں نے اس بات کو ریکارڈ کروا یا، کہ انھوں نے خلائی مخلوق اور اڑن طشتریوں کو دیکھا ہے۔ اب اس بات کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے۔ تو کیا اتنے سارے لوگوں کی نظروں اور حافظے نے دھوکہ کھایا۔
اسی وجہ سے کئی سالوں سے میں ہر چیز کے بارے میں متشکک ہوں۔ میرا ذہن ماننے سے زیادہ سوال کرنے والا ہے۔ میں ہمیشہ اپنی یاداشت اور سوچ کے مقابلے میں ثبوت کو ترجیح دیتا ہوں۔ ثبوت یہ ہے کہ عبیر کی موت ایک ٹریفک حادثے میں ہو چکی ہے۔ اس کی گمنام قبر پر ایک کتبہ میں خود لگا کر آیا ہوں۔ کبھی کبھی جب دل بے چین ہو جاتا ہے تو اس کی قبر پر آنسو بہانے چلا جاتا ہوں۔
بس جلدی سے یہ لڑکی ٹھیک ہو تو میں سکون سے مرسکوں۔
اشفاق صاحب اس کی پراگریس سے مطمئن ہیں۔ ان کے بقول اس کا روانی سے باتیں کرنے لگنا اور زندگی کی طرف لوٹ آنا بہت بڑی امپرومنٹ ہے۔ البتہ اس کے ماضی کا کوئی نشان نہیں مل رہا۔ وہ حیران ہیں کہ وہ نئی یادیں تو بنا رہی ہے پر اسے آشیانہ میں آنے سے پہلے کچھ بھی یاد نہیں۔ جیسے اس کا کوئی ماضی نہ ہو۔
ویسے یہ کیس بھی سائییٹری کے سٹوڈنٹس کے لیے ایک اچھی سٹڈی ہو سکتی ہے۔
مہک اپنے کھانوں اور باتوں سے میری زندگی پر دھیرے دھیرے قبضہ کرتی چلی گئی۔ لبنی شمسی ایک دو بار گھر آئیں تو مجھے اور مہک کو اتنا بے تکلف دیکھ کر شرارتی انداز سے مسکرائیں۔ اس وقت تو انھوں نے کچھ نہ کہا۔
جاتے ہوئے مجھے کہنے لگیں۔
تیمور! بھئی میں تو اب مان ہی گئی ہوں کہ دل کا راستہ پیٹ سے ہی ہو کر جاتا ہے۔
میں بھی مسکرا کر رہ گیا۔
بھابی ایسی بات نہیں ہے، میں تو بس اتنا چاہ رہا ہوں یہ جلدی سے ٹھیک ہو جائے تو میں اپنے بزنس کی طرف توجہ دوں۔۔
ہاں بھئی ہم بھی یہ چاہ رہے ہیں کہ یہ جلدی سے ٹھیک ہو تو ہم بھی اس کے گھر والوں سے رشتے کی بات چلائیں۔۔
ان کے لہجے کی شرارت پر میں کھل کھلا کر ہنس پڑا۔
آپ بھی باز نہیں آتیں۔
اور نہیں تو کیا۔ اب تمھارے ماں باپ تو ہیں نہیں جو تمھارے ان معاملات کو سنبھالیں، اب مجھے تمھارا یوں خود کو برباد کرنا دل سے دکھتا ہے۔
تم اندر ہی اندر کسی شدید غم میں مبتلا ہو اور بتاتے نہیں ہو۔
لبنی شمسی کی باتوں کو میں نے مذاق سے زیادہ اہمیت نہ دی۔ یہ عورتیں بھی بس ایسے ہی لگی رہتی ہیں۔
لائبریری میں ہلکی ہلکی موسیقی کے ساتھ کتاب پڑھنا اور گپیں لگانا ایک کمال مشغلہ ہے۔ اپنی ذات سے بات ہٹانے کے لیے میں مجبوراً شعرو شاعری اور کہانیوں کی باتیں کرتا۔ وہ بڑے انہماک سے کہانیاں سنتی اور کبھی کبھی تو صوفے پر ہی سوجاتی۔ کہانی سناتے میں کہانی کے کرداروں کے دکھ میں اپنا دکھ دیکھتا، ان کی اندرونی کشمکش کو محسوس کرتا، ان کے غموں اور بے وفائیوں پر دکھی ہوتا۔ یہ کہانی سنانا بھی کیا خود کلامی ہے۔
کہانی سنانا ایک طرح کا کہانی سننا ہی ہے۔ میں کہانی سناتے ہوئے کہانی کی تشکیل بھی کر رہا ہوتا اور اس کو سن کر لطف اندوز بھی ہوتا۔ یہ تخلیقی عمل بھی خالق کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ اس کی اپنی ہی قوت ہوتی ہے۔
کہانی کے سحر سے واپس لوٹتا تو مہک کو صوفے پر سر رکھ کر لیٹا دیکھتا، سوتے میں اس کے چہرے پر معصومیت بہت ہی بڑھ جاتی۔ کبھی کبھی ہونٹوں پر ایک شرارتی مسکراہٹ بھی آ جاتی جیسے خواب میں بھی کوئی شرارت کر رہی ہو۔
صوفے پر یوں لیٹنے سے اس کے پٹھے اکڑ جائیں گے۔ میں نے اسے جگانے کی کوشش کی مگر دواؤں کے اثر سے اس کی نیند گہری ہوتی۔
میں نے اسے گود میں اٹھایا اور اس کے کمرے کی طرف چل دیا۔ وہ کتنی ہلکی سی تھی، جیسے کوئی پھول ہو۔ اس کے وجود کی ہلکی ہلکی مہک میرے اندر تک اتر گئی۔ بہت عرصے بعد میرے جذبات میں وہ ہلچل مچی۔
جیسے زمین کی تہہ میں کوئی بیج پھٹ گیا ہو۔
وہ ارشد کے سرونٹ کوارٹر میں رہ رہی تھی، اتنی گرمی میں وہاں اے سی بھی نہیں تھا۔ میں نے عبیر کو وہاں چھوڑنا گوارا نہ کیا اور اسے اٹھائے اٹھائے ہی اپنے کمرے میں آ گیا۔
میں نے بڑی احتیاط سے اس پھول کو بستر پر لٹایا تو اس کا چہرہ میرے چہرے کے قریب آ گیا۔ اس کی سانسوں کی ہلکی سی مہک اور گرمی، ایک لمحے کے لیے دل چایا کہ ان نازک پنکھڑیوں کو چوم لوں۔ لیکن یہ کام بھی کسی چوری یا ڈاکے کی طرح لگا۔
پر میں تو کسی اخلاقی قانون کو نہیں مانتا پھر میں کیوں یہ بات سوچ رہا ہوں، کوئی حد نہ مانتے ہوئے بھی میں اپنی ایک اخلاقی حد کھینچ رہا ہوں۔ مجھے اندر سے کونسی چیز روک رہی ہے؟ کیا میں اس لڑکی کی ناراضگی سے ڈرتا ہوں، یا میں کسی پاکیزگی کو ناپاک نہیں کرنا چاہتا۔
کیا میں بھی خود کو ناپاک سمجھتا ہوں۔
میں نے خود کو اس سے ایسے علیحدہ کیا جیسے لوہے کو مقناطیس سے علیحدہ کرتے ہیں۔
یہ لڑکی میرے حواس پر چھارہی ہے۔ اس کی وجہ سے آج میرے اندر ایک ایسی طلب ٹھاٹھیں مارنے لگی ہے، جسے میں نے کئ سالوں سے محسوس نہیں کیا۔ انھی خیالوں میں گم میں رات کے کسی پہر لائبریری میں ہی سو گیا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں نے مہک کو بڑے کمرے میں شفٹ کروا دیا۔ اس نے بہت احتجاج کیا مگر باقی باتوں کی طرح اس کی یہ بات بھی نہ مانی گئی۔ اس دن صبح خود کو میرے بستر پر لیٹے دیکھ کر اس کا شرم اور وسوسوں سے برا حال ہو گیا۔ میں نے اسے اتنا کہا کہ وہ نیند کی حالت میں میرے سہارا لے کر قریب میرے ہی کمرے میں جا کر سو گئی تھی۔ میں نے اسے یہ نہیں بتایا کہ میں اسے اٹھا کر لے گیا تھا، جانے بیچاری کیا سوچتی۔
اس کی صحت جیسے بہتر ہوتی گئی، اس کے رویے بھی خوشی اور الہٹر پن بڑھتا چلا گیا، اب وہ میرے ساتھ بیٹھی خاموش سامع نہ ہوتی، بات بات کر سوال کرتی، اعتراضات اٹھاتی۔ جب فارغ ہوتی کہانیاں پڑھتی۔ کوئی گھر میں آتا تو یہ جان ہی نہ پاتا کہ یہ گھر کی مالکن ہے یا ملازمہ۔ کبھی بڑے انہماک سے کتاب پڑھتے ہوئے اچانک آنکھ اٹھا کر مجھے اپنی طرف دیکھتا پاتی تو فوراً شرما کر آنکھیں نیچھی کر لیتی۔
کبھی کبھی مجھے گمان ہوتا کہ وہ بھی مجھے کن اکھیوں سے دیکھ رہی ہے۔ میری بے چینیوں میں ایک اور کشمکش کا اضافہ ہو گیا۔ اس پر بھی میرا کوئی اختیار نہیں تھا۔ ہماری گفتگو اور خاموشی کے پیچھے کچھ اور معنی بھی آنے لگے۔ ایسا لگتا ہم کہہ کچھ رہے ہیں اور معنی کچھ ہے۔ ہماری اجنبیت ختم بھی ہو گئی ہے اور بڑھ بھی رہی ہے۔
پر اس کی ہنسی کی کھنک کچھ جانی پہچانی اور کچھ اجنبی لگتی، اب وہ میرے ساتھ چلتے ہوئے دور دور نہ ہوتی۔ وہ پرانی شرمندگی پر کانفیڈنس اور تحفظ کا رنگ غالب آ گیا۔ باتیں اب بھی اس کی روز مرہ کی ہی ہوتیں۔ کچھ مہینے پہلے کو ئی مجھ سے ایسی باتیں کرتا تو میں دو منٹ بعد ہی بور ہو جاتا، پر وہ پورا گھنٹا بھی سبزیوں کے فائدوں، نہاری کی طریقے، بریانی کی تاریخ، دیسی پزہ اور ولائتی پزا میں فرق پر بات کرتی رہتی تو مجھے بوریت نہ ہوتی۔ ہر کھانے پر اس کی آنکھوں میں یہی تاثر ہوتا کہ میں اس کے کھانے کی تعریف کروں۔ کھانا ویسے وہ بہت اچھا بناتی پر نئے نئے تجرے ناکام بھی ہوتے، جن پر مجھے دل ہر ہاتھ رکھ کر تعریف کرنا پڑتی۔ اپنی تعریف سن کر کھل جاتی۔ اس کے جذبات ہر وقت اس کے چہرے پر سجے ہوتے۔
میں اپنے آوارہ خیالات اور جذبات کو ہر بار جھٹک دیتا۔ مجھے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں کوئی نیا ایڈونچر نہیں کرنا۔ مجھے اس معصوم لڑکی کو کوئی امید نہیں دلانی۔ مجھے اس کے اندر انجان جذبات کے تار نہیں چھیڑنے۔ مجھے اس کے غموں میں مزید اضافہ نہیں کرنا۔
میں نے اپنی آخری وصیت بھی بنوانا شروع کر دی۔ میں اپنے بزنس کسی ایسی ٹیم کے حوالے کر کے جانا چاہتا ہوں جو اس کی آمدنی کو فلاحی کاموں میں لگائے۔ زیادہ تر حصہ آشیانہ کے لیے رکھا گیا۔ مہک اگر صحت یاب ہو کر اپنے گھر والوں کے پاس پینچ جاتی ہے تو ٹھیک، نہیں تو اس کے سرپرستی کی ذمہ داری آشیانہ کے ذمہ ہو گی۔
شام کو واک کے بعد ہم اکثر کسی نہ کسی کیفے میں چلے جاتے۔ ابھی ہم بیٹھے ہی تھے کہ مجھے وکیل کی کال آ گئی جو میری وصیت کو حتمی شکل دے رہا تھا۔ میں نے مہک کے سامنے بات کرنا مناسب نہ سمجھا اور اٹھ کر باہر آ گیا۔ کال ختم کرتے ہی جیسے میں اندر داخل ہوا تو کسی نے میرا نام پکارا۔
میں مڑا تو فائقہ کو اپنے سامنے کھڑے دیکھا، میں تو اتنے عرصے سے اسے بھول ہی گیا تھا۔ اس نے بڑی گرم جوشی سے مجھے گلے لگایا، اس نے تیز پرفیوم لگا رکھا تھا اور ڈریسنگ ہمیشہ کی طرح شاندار۔ اس کی اس گرم جوشی پر قریب کے لوگوں نے کچھ عجیب نظروں سے دیکھا۔
تیمور یو آر لکنگ ڈفرنٹ، چہرے پر وہ اداسی نہیں ہے۔
اٹس نتھنگ بس آج کل بزنس کچھ اچھا جا رہا ہے اسی لیے۔
وہ تو ہے، میرے کئی بزنس مین دوست تمھارا ذکر جیلسی سے کرتے ہیں۔
میں بھی ابھی ایک فرینڈ سے ملنے آئی تھی، پر اسے اچانک کسی ایمرجنسی میٹنگ میں جانا پڑا۔ تو میں بالکل فری ہوں۔ اچھا ہوا تم مل گئے گپ شپ ہی ہو جائے گی۔
میں شش و پنج کا شکار ہو گیا۔
فائقہ در اصل میں کسی کے ساتھ ہوں۔
اوہ ہو، اب میں سمجھی، کچھ تو بدلا ہے تمھاری زندگی میں۔
مجھے نہیں ملواؤ گے اس سے؟ میں بھی تو دیکھوں اس میں ایسا کیا ہے جو مجھ میں نہیں۔ اس نے بھی شرارتا کہا۔
ایسی بات نہیں ہے، اٹس آ بزنس میٹنگ، میں نے بھی بہانہ کر دیا۔
فائقہ کی نظروں میں تھوڑی سی اداسی آئی پر پھر نارمل ہو گئی۔ اوکے میں چلتی ہوں، پھر کبھی ملاقات ہو گی۔ یہ کہہ کر وہ رخصت ہو گئی۔
میں جیسے ہی مہک کے پاس پہنچا اس کی آنکھوں میں کچھ عجیب سے تاثرات تھے، جیلسی اور غصے والے۔ اس نے ایسے بے ہیو کیا جیسے اس نے کچھ نہیں دیکھا اور کچھ نہیں سنا۔
مہک! وہ میری فرینڈ تھی فائقہ۔
اچھا!۔ ۔
بڑی قریبی دوستی لگتی ہے آپ دونوں کی۔
مہک نہ چاہتے ہوئے بھی اپنا طنز نہ روک سکی، اس کے لہجے میں کوئی بات تھی جس سے لگتا کہ اسے اپنی حق چھیننے کا احساس ہو رہا ہے۔
اچھا تو تمھیں برا لگا ہے، میں نے بھی شرارتی انداز سے کہا۔۔
میں کون ہوتی ہوں برا محسوس کرنے والی، آپ کی زندگی ہے آپ جسے چاہیں دوست بنائیں۔۔ اس نے روٹھے لہجے میں کہا۔
یہ لڑکی بھی کسی بات کو نہیں چھپا سکتی۔
ویسے آپ کی ساری دوستیں ایسے ہی سرعام گلے ملتی ہیں۔۔ اس کے لہجے میں غصہ تھا۔
اچھا تو تمھیں اس کا مجھے اس طرح گلے لگانے پر غصہ ہے۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔ پر اسے شرم نہیں آتی یوں سب کے سامنے۔ چلو جتنی اچھی دوستی بھی ہے۔۔ ہمارے مذہب میں بھی تو منع ہے۔
وہ جس کلاس سے ہے اس میں یہ عام سی بات ہے مہک۔
آپ کو کو بھی برا نہیں لگتا۔۔ اس نے شکوے کے انداز سے کہا۔
اب کوئی لڑکی اتنی محبت دکھا رہی ہے تو میں کیسے اس کا دل توڑ دوں۔۔ میں نے اسے اکساتے ہوئے کہا۔۔
یعنی کوئی بھی لڑکی آپ سے اس طرح محبت دکھائے تو آپ انکار نہیں کریں گے۔
یہ جملے کہتے ہی جیسے اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا، جیسے کوئی تیر کمان سے نکل گیا ہو۔
میں نے اسے معنی خیز نظروں سے دیکھا تو کا رنگ لال ہو گیا اور اس نے شرما کر اپنے مینو کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔
ویٹر کی اچانک اینٹری نے میرا دھیان آرڈر کی طرف کر دیا۔ اس شام مہک کچھ شرمائی شرمائی رہی جیسے اس کی کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔
اب ہماری گفتگو میں محبت کا ذکر بہانے بہانے سے آنے لگا۔ محبت کے نام سے لائبریری کی فضا میں ٹینشن بڑھ جاتی۔
محبت اور عشق پر کبھی ذاتی بات نہ ہوتی پر ہر بات کا مطلب ذاتی ہی لیا جاتا۔
تیمور صاحب ! یہ محبت میں کیسا محسوس ہوتا ہے؟
آہ اس کے ان معصومانہ پر خطرناک سوالوں کے میں کیا جواب دوں، کیا کہوں اسے کے ان انگاروں سے نہ کھیلے، کیا بتاؤں کے محبت کیسے اندر سے خالی اور بے چین کر دیتی ہے، کیسے بتاؤں کے محبت کے بے تحاشا رنگوں میں سے مجھے صرف دو کا تجربہ ہے، کیسے بتاؤں کے ایک محبت کا انجام خدا سے محرومی پر ہوا اور دوسری کا انجام خود کشی پرہونے جا رہا ہے۔ کیسے بتاؤں کے یہ اندر کی بے چینی کیا ہوتی۔ کیسے اسے سمجھاؤں کے اس پرخار وادی میں جانے سے خود کو روک لے۔
میں ایک منحوس شخص ہوں، مجھے خود بھی کبھی محبت نہیں ملی اور میرے قریبی ہمیشہ بدقسمتی کا شکار ہوتے ہیں۔
میرا ہر چارہ گر نڈھال ہوا
یعنی میں کیا ہوا وبال ہوا
مہک! تم کیا جاننا چاہتی ہو؟
میرے سوال پر وہ گڑبڑا گئی۔
وہ میں۔ ۔ ویسے ہی۔ ۔
میرا مطلب ہے آپ کو کبھی محبت نہیں ہوئی؟
آہ مہک! کچھ زخموں کو مت کریدو
جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہو گا
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
محبت میں کسی پل چین نہیں آتا، ہر دم سینے میں آگ دہکتی ہے۔ آپ کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ کیا کروں، خود پر کنٹرول ختم ہو جاتا ہے، صرف محبوب کو دیکھتے رہنا، اس کی باتیں سننا، اس کی خوسبو محسوس کرنا، ہی اس کا علاج ہوتا ہے۔ محبوب کے ستم بھی کرم محسوس ہوتے ہیں۔
محبوب کے بنا جینا ہی بے معنی لگتا ہے۔ اسی لیے عشق میں ناکامی کے بعد کئی لوگ خود کشی کرتے ہیں۔
میں یہ کہتے کہتے جذباتی ہو گیا۔ دل میں کوئی زخم ہرا ہو گیا۔
اور کبھی کبھی بد نصیبی سے محبوب کی زندگی میں آپ کو پتا ہی نہیں چلتا کہ آپ اس سے محبت کرتے ہیں۔ آپ جو دل میں محسوس کرتے ہیں اسے کوئی نام نہیں دیتے۔ جانے انجانے میں محبوب کو اذیت دیتے رہتے ہیں۔ اس کے چلے جانے کے بعد اپکو احساس ہوتا ہے کہ دل تو ہو اپنے ساتھ لے گیا ہے۔ آپ کا وجود تو صرف ایک خول ہے۔
پھر تیرے کوچے کو جاتا ہے خیال
دل گم گشتہ مگر یاد آیٰا
ہر گزرتا دن محبوب کی یاد میں اضافہ کرتا ہے۔ آپ بغیر پانی کی مچھلی کی طرح تڑپتے ہیں۔ اس پشیمانی اور پچھتاوے کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔
یہ کہتے میری آنکھوں سے نہ چاہتے ہوئے بھی آنسو نکل پڑے۔ میں نے بہت کوشش کی پر اس دن بند ٹوٹ گیا۔ میں نے پہلی بار کسی کے سامنے اپنی محبت، کمزوری، شکست، پچھتاوے، اور پشیمانی کا اعتراف کیا۔ مجھے اتنی شدت سے روتے دیکھ کر مہک کی آنکھوں سے بھی آنسو نکل پڑے۔
اس نے تسلی کے لیے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا تو میں بے اختیار اس سے لپٹ کر رونے لگا۔
مجھے اس کائنات میں ایک وجود چاہیے جو میرے سینے کا بوجھ کم کر دے۔ جو میرے دکھ کو سمجھ سکے۔
اس کو ساتھ لپٹائے میں پتا نہیں کتنی دیر روتا رہا، اس کی شرٹ میرے آنسؤں سے گیلی ہو گئی۔ اس کی وجود کی گرمی نے میرے اندر ٹھنڈ ڈال دی۔ کافی دیر بعد جب ہم علیحدہ ہوئے تو اس کی لال آنکھوں میں شرم کی جھلک بھی تھی۔
آہ یہ میں نے کیا کر دیا؟
اب مہک کی آنکھیں ہر دم کسی اظہار کی منتظر ہوتی ہیں۔ چلتے چلتے ہمارے ہاتھ اور جسم ٹکرا جاتے ہیں۔ میری کچھ دیر کی غیر موجودگی میں وہ پریشان ہو کر کالیں کرنے لگتی۔ اپنی آنکھوں میں صاف دکھنے والی بات کو وہ چھپاتی
دکھ رہی ہے جو مجھے صاف تیری آںکھوں میں
تو نے یہ بات کہیں مجھ سے چھپانی تو نہیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
تین مہینے ہو گئے پر مہک کی یاداشت واپس نہ آئی۔ اس کے علاوہ وہ مکمل طور پر نارمل ہے۔ اسے اپنی یاداشت واپس آنے کی کوئی خواہش بھی نہیں۔ وہ تو ہنسی خوشی نئی زندگی گزارنا چاہتی ہے۔ اگر میں نے اظہار میں تاخیر کی تو شاید وہ خود ہی اظہار کر دے۔ میں اپنے دل میں پھر سے محبت اور زندہ رہنے کے جذبات کو زبردستی ٹال رہا ہوں۔ اس محبت نے کئی لوگوں کو برباد کیا ہے۔ اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
میرے مرنے کے بعد اس کا علاج جاری رہے گا، ہو سکتا ہے کہ وہ ٹھیک ہو کر اپنی فیملی سے جاملے اور اپنی زندگی کے اس بات کو بھول جائے۔
سب کام مکمل ہو گئے ہیں۔ بندوق میں گولیاں پوری ہیں۔ کنپٹی پر گولی اس طرح مارنی ہے کہ فوراً ہی شعور کا رشتہ ٹوٹ جائے۔ خود کشی سے پہلے وکیل کو کال کرنی ہے کہ میری لاش کہاں سے اٹھا کر اسے دفنانے کے بجائے جلا دیا جائے۔ اور راکھ سمندر میں بہا دی جائے۔ یہ کام خاموشی سے کیا جائے۔
سائیکیٹرسٹ اشفاق کے پاس مہک کو چھوڑ کر میں آخری منزل کی طرف جانے ہی لگا۔
اشفاق کے چہرے پر کچھ ایسے تاثرات آئے جیسے وہ جان گیا ہو میں کیوں اور کہاں جا رہا ہوں۔
شاید میرا چہرہ ایک مرے ہوئے شخص کا چہرہ ہے۔ شاید وہ اپنے تجربے کی بنیاد پر جان سکتا ہے کہ خود کشی کرنے سے پہلے انسان کا چہرہ کیسا دکھتا ہے۔ اس نے کچھ دیر خاموشی سے میری طرف دیکھا۔
تیمور کچھ دن پہلے بابا جی نے اصرار کیا تھا کہ کسی طرح تمھیں ان کے پاس لے جاؤں وہ آخری بار تمھیں چائے پلانا چاہتے ہیں۔ مہک کی خاطر ایک بار ان سے مل لو۔
بابا جی کا ذکر سنتے ہی مہک بھی ان سے ملنے کو بے چین ہو گئی۔ پر میں کچھ کہے سنے بغیر کلینک سے نکل پڑا۔
ارادہ یہی تھا کہ عبیر کی قبر کے پاس ہی خود کشی کروں گا۔ میں نے گاڑی میں بیٹھتے ہی وکیل کو کال ملائی، اس کے اسسٹنٹ نے کال اٹھائی اور کہا کہ وکیل صاحب کورٹ میں ہیں، ایک گھنٹے تک وہ خود کال بیک کریں گے۔
میں شش و پنج میں پڑ گیا۔ اب اس سے بات کرنا بھی ضروری تھا۔
اسی انتظار اور سوچوں میں گم میں بابا جی کی دکان پر پہنچ گیا۔ دکان کتابوں سے خالی تھی، بابا جی دکان کے باہر کھڑے تھے۔ مجھے دیکھ کر مسکرائے۔
باباجی اتنی جلدی ساری بک بھی گئیں۔ میں نے ہلکے سے طنز کے ساتھ کہا۔
بابا جی نے قہقہہ لگایا۔
نہیں یار ! پاکستان میں ابھی کتابوں اور علم سے محبت اتنی نہیں ہوئی۔ اللہ کرے کبھی وہ دن آئے کہ ہم علم دوست بن جائیں۔
میں نے اپنی ساری کتابیں گوہر شہوار کو گفٹ کر دی ہیں۔
گفٹ ! مگر کیوں؟ اور یہ گوہر شہوار کون ہے؟
آؤ یہ باتیں میرے گھر میں بیٹھ کر کرتے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ مجھے پیدل ہی اپنے ساتھ لے کر چل پڑے۔
بابا جی کا گھر کرائے کا تھا اور کسی گھر کی ایکسٹینشن تھی۔ کمرے میں بھی بس کتابیں اور چارپائی تھی۔ بابا جی نے میرے سامنے ہی چائے بنائی اور ساتھ میں کچھ بسکٹ رکھے۔
بابا جی کی آنکھوں میں وہی تازگی اور لہجے میں ویسی ہی شفقت تھی۔ اگر میں بابا جی سے اپنی نوجوانی میں ملا ہوتا تو زندگی کیسی ہوتی۔
تو تیمور بیٹا ! گوہر شہوار وہ ہے جس نے تمھاری کہانی لکھنی ہے۔
میری کہانی! مگر میں اپنی داستاں سنانے سے پہلے ہی جانے والا ہوں۔
بابا جی میں جانتا ہوں آپ مجھے خود کشی سے روکنا چاہیں گے۔ مگر اب یہ ممکن نہیں ہے۔ میری بے مقصدیت، بے چینی، پچھتاوے اور پشیمانی کا کوئی علاج نہیں۔ میں چاہ کر بھی خود کو معاف نہیں کر سکتا۔ میری سزا یہی ہے کہ میں بھی ہمیشہ کے لیے فنا ہو جاؤں۔
بابا جی اس طرح میری طرف دیکھتے رہے جیسے میری بات کو سمجھ رہے ہوں۔
تیمور میں نے تمھیں اس لیے اپنے پاس بلایا ہے کہ اب میرا بھی وقت آ گیا ہے۔ تم سے پہلے میں نے اس دنیا سے چلے جانا ہے۔ ویسے تو میرے پاس سوائے خدا کی یاد کے کچھ نہیں ہے۔ بس کچھ کتابیں ہیں جو میں نے گوہر شہوار کو دے دی ہیں۔
میں نے حیرت سے بابا جی کو دیکھا، یہ تو اپنے جانے کی باتیں کر رہے ہیں۔
پر بابا جی آپ کو کیسے پتا آپ فوت ہونے والے ہیں۔ یہ بات تو علم الغیب نہیں ہے۔
میں نے بھی مذاقاً کہا۔
بابا جی نے برا نہیں منایا۔
تیمور اس کے لیے غیب کا علم نہیں چاہیے، میں 75 سال کا ہو گیا ہوں، اور میری باڈی مجھے یہی بتاتی ہے کہ اب زیادہ وقت نہیں رہا۔
او اچھا! آپ اس لحاظ سے کہہ رہے تھے، میں یہی سمجھا کہ باقی بابوں کی طرح آپ بھی غیب کا کشف رکھتے ہیں۔
بابا جی نے ایک زور دار قہقہہ لگایا۔ بابوں کے بارے میں تمھارا کڑوا پن بڑے مزے کا ہے۔
یار بات یہ ہے کہ یہ کشف و کرامات محض کھلونے ہیں۔ جو اللہ کے قریب ہوتا ہے اسے اس سے بھی زیادہ مل جاتا ہے۔ پر یہ دین کا مقصود نہیں ہے۔ دین کی حقیقت صرف اللہ کی یاد اور اس کی مخلوق سے محبت ہے۔ باقی سب اسی کی تشریح ہے۔
اگر یہ نہیں تو باقی چاہے ہوا میں اڑو یا پانی پر چلو۔
جو بھی ہے بابا جی مجھے تو آج تک نہ ہی خدا ملا اور نہ ہی وصال صنم۔ اسی لیے ادھر ادھر کے بجائے میں کہیں اور جا رہا ہوں۔
تیمور میں تمھارے جذبات سمجھ سکتا ہوں۔ تم جذبات کے زیر اثر ہر واقعے کو بے معنویت کی عینک سے دیکھ رہے ہو۔
جب ہر چیز ہے ہی بے معنی تو اسے کسی اور طرح کیسے دیکھیں؟ میں نے بھی تنک کر پوچھا۔
تیمور معنی یا بے معنویت کسی چیز میں نہیں انسانی ذہن میں ہوتی ہے۔ اسی لیے یہ مسئلہ صرف انسانوں کا ہے۔ کسی دوسری مخلوق کو کبھی یہ مسئلہ درپیش نہیں آتا۔ ان کے پاس مان لینے یا نہ ماننے کی آزادی نہیں ہے۔ انسان کو یہ آزادی دی گئی کہ وہ چاہے تو مان لے چاہے تو نامانے۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے تمھیں علم اور ذہن کی ماہیت کو سمجھتا پڑے گا۔ میں تمھیں ایک کہانی سناتا ہوں۔
کیا علم والوں کو بھی علم سکھایا جا سکتا ہے؟
ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک بہت ہی ذہین انسان تھا۔ اس کی علم کی پیاس اتنی شدید تھی کہ اس نے نوجوانی میں ہی اپنے دور کے سارے علوم جذب کر لیے۔ جب جاننے کو کچھ نہ رہا تو یہ گمان پیدا ہوا کہ میں تو سب جان گیا ہوں۔ اس کے تمام علوم اسے خدا سے شناسا کرنے سے محروم رہے۔ آخر اس نے علم کی معراج پر کھلم کھلا خدا سے انکار کر دیا۔ اب اس کی دلیلوں کا جواب کسی کے پاس نہ ہوتا۔ اس دور کے تمام عالم اس سے چھپتے پھرتے۔ بادشاہ وقت نے بھی مذہبی علماء کو دبانے کے لیے اسے اپنے قریب کر لیا۔ عوام الناس کا بھی ایمان اس کی باتیں سن کر کمزور پڑنے لگا۔
ایک شام علم کی معراج پر بیٹھا شخص دریا کے کنارے سیر کر رہا تھا کہ ایک خانقاہ پر نظر پڑی۔ اس کے ماتھے پر لکھا تھا یہاں علم والوں کو علم سکھایا جاتا ہے۔ یہ جملہ اسے بہت ہی دلچسپ لگا۔
کیا علم والوں کو بھی علم سکھایا جا سکتا ہے؟
وہ ازراہ مذاق اس خانقاہ میں چلا گیا۔ خانقاہ میں صرف ایک انتہائی ضعیف بابا جی بیٹھے تھے۔ اس شخص نے طنزیہ انداز میں بابا جی سے پوچھا، تو آپ ہیں جو علم والوں کو علم سکھاتے ہیں۔
بابا جی نے تحمل سے کہا، جی میں ہی ہوں۔
تو ہمیں بھی کچھ سکھائیے ہم تو علوم کے دریا پی کر بھی تشنا ہیں۔ وہی طنزیہ انداز۔
بابا جی بولے
وہ سامنے درخت دیکھ رہے ہو۔
ہاں دیکھ رہا ہوں۔
تم اس کے بارے میں کیسے جانتے ہو کہ یہ درخت ہے؟
میں نے کتابوں میں پڑھا، لوگوں نے بتایا کہ اسے درخت کہتے ہیں۔
اچھا ٹھیک ہے۔
لیکن اس درخت کو درخت کا نام تم نے دیا ہے نہ ہی تم نے درخت کے اندر گھس کر جانا ہے کہ یہ درخت ہے۔ تمھارے ذہن میں درخت کا ایک تصور موجود تھا جس کی وجہ سے تم نے جانا کہ یہ درخت ہے۔ یعنی تمھارا درخت کے بارے میں علم تمھارے اندر کے تصور درخت کی ایکسٹینشن ہے۔
دنیاوی علم در اصل ہمارے ذہن کا اشیاء پر جارحانہ قبضے کا نام ہے۔ ہم کبھی بھی اشیاء کی حقیقت نہیں جان سکتے۔ کسی شہ کا علم چاہے وہ کتنا ہی نتیجہ خیز کیوں نہ ہو اگر اس شہ کے خالق تک نہیں پہنچاتا تو وہ علم ناقص ہے۔ یہی علم والوں کو علم سکھانا ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
علم کے اسی نقص کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ ہم خدا کو نہیں جان سکتے۔ ہمارا ذہن وجود خدا پر قبضہ نہیں کر سکتا۔ اسی لیے یہ دلیل کا مسئلہ نہیں ہے۔
ساری مایوسی اسی بات سے شروع ہوتی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی اور کائنات کے تمام واقعات کی کوئی سادہ اور آسان توجیح نہیں ملتی۔ کیوں کے کوئی آسان توجیح ہے نہیں۔ چیزیں اتنی گنجل ہیں کہ کوئی سادہ جواب نہ ممکن ہے۔ سائنس کیونکہ حقائق پر چلتی ہے۔ وہ مشاہدہ کرتی ہے پھر تھیوری بناتی ہے۔ اب کائناتی سظح پر معنی کی کوئی تھیوری بنانے کے لیے کائناتی سطح کے تمام حقائق کا مشاہدہ ضروری ہے۔
پھر بھی جو تھیوری بنے گی وہ اسی کائنات کے اندر تک کے ہی اپلائی ہو گی۔ وہ کائنات کے آغاز اور کائنات سے ماورا کا کوئی سائنسی جواب نہیں سے سکتی۔ ہمارا کائناتی علم بھی اسی کائنات کی حدوں تک ہے۔ ہم اس کائنات سے باہر یا اس سے پہلے کچھ نہیں جان سکتے۔ اس میں مسئلہ ہمارے جان سکنے کی حدود کا ہے۔ مشہور فلسفی کانٹ نے بھی یہی بات کی۔
مایوسی در اصل اس وقت شروع ہوتا ہے جب ہم یہ مان لیتے ہیں کہ یہ کائنات حتمی ہے۔ اگر یہ کائنات حتمی ہے تو جو ہے بس یہی ہے۔ اور یہ بے مقصد ہے۔ جب کہ ایسا نہیں ہے۔ یہ بات ہمیں ایک نیم پاگل حساب دان نے بتائی۔
ایک نیم پاگل حساب دان جو کائنات کو نامکمل ثابت کرگیا
یہ آج سے چالیس سال پہلے کی بات ہے، امریکہ میں پولیس نے ایک شخص کی لاش فلیٹ سے نکالی۔ اس شخص کا وزن صرف 27 کلو رہ گیا تھا۔ اس کی موت خود مسلط کردہ فاقہ کشی سے ہوئی۔ اس کی یہ فاقہ کشی کی وجہ اس کی بیوی کا بیمار ہونا تھا۔ وہ صرف اپنی بیوی کے ہاتھ کا کھانا کھاتا تھا کیوں کہ اسے شک تھا کہ کوئی اس کے کھانے میں زہر ملا کر اسے مارنا چاہتا ہے۔ اس کی بیوی بیمار ہو کر ہسپتال میں داخل ہوئی تو اس نے کھانا چھوڑ دیا اور بھوک سے مرگیا۔ مگر اس کی شہرت کی وجہ صرف یہ نیم پاگلانہ حرکتیں نہیں تھیں۔ اس نے حساب کے میدان میں جو کام کیا اس نے صرف حساب کو ہی نہیں ہلایا پوری کائنات کو نامکمل کر دیا۔ اس شخص کا نام کرٹ گوڈیل تھا۔ اسے بیسویں صدی کا سب سے بڑا حساب دان اور آئن سٹائن کے بعد سب سے بڑا دماغ کہا جاتا ہے۔
باقی حساب دانوں کے برعکس گوڈیل خدا پرست تھا۔ وہ ذاتی خدا پر یقین رکھتا تھا۔ مرنے سے پہلے کرٹ گوڈیل خدا کے وجود کو حتمی طور پر ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس نے خدا کے وجود کے لیے آنٹولاجیکل ثبوت پر کچھ نئے زاویے پیش کیے ہیں۔ پچھلی کئی صدیوں سے آنسلم، کانٹ، ڈیکارٹ، اور لیبنیز جیسے بڑے فلسفیوں نے اس مسئلے پر کام کیا۔ گوڈیل کے اس کام کو فلسفی جانچ رہے ہیں اور اس پر بحث کر رہے ہیں۔ خدا کے وجود کے فلسفیانہ مسائل تو گزشتہ تین ہزار سال سے چل رہے ہیں اور شاید قیامت تک چلنے ہیں۔ ابھی تک کوئی حتمی رائے نہیں آ سکی، اسی لیے فلسفیوں کو کوئی جلدی نہیں ہے۔
گوڈیل کو اصل کام کائنات کی ناتکمیلیت کا ہے۔ اس نے جوانی میں دو پیپر لکھے جو اپنی علمیت اور خوبصورتی کا ایک شاہکار ہیں۔ وہ بالکل ایسے تھے جیسے کوئی پینٹنگ ہو جو آرٹ کی فلاسفی کو بھی بیان کر رہی ہو۔ یا ایک ناول ہو جو ادب کی تنقید کے اصول بھی بیان کر رہا ہو۔ گوڈیل نے بیک وقت حساب اور مابعدالحساب کے مسئلے کو حل کیا۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ حساب ایک نامکمل سسٹم ہے۔
تفصیلات تو طویل اور پیچیدہ ہیں مگر اس کے کام سے یہ نتیجہ بھی نکلا کہیہ کائنات ابھی نامکمل ہے۔ یہ کائنات اپنے وجود کو اپنے اندر سے ثابت نہیں کر سکتی۔ اس کو اپنے وجود کو ثابت کرنے کے لیے کسی غیر فطری بیرونی وجود کی ضرورت ہے۔ اور وہ بیرونی وجود خدا کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا۔
شاید اقبال کو اس حقیقت کا ادراک تھا
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کُن فیکون
تو بات یہ ہے کہ کائنات کے ہر واقعہ اور زندگی کو اس کے اندر سے دیکھو گے تو بے معنی ہی نظر آئے گی۔ اس کا معنی اس سے باہر ہے۔ جو چیز اس کائنات سے باہر ہے وہ اس کا غیب ہے۔ اسی غیب کی خبر ہمیں وحی کے ذریعے دیی گئی جس پر ایمان ضروری ہے۔
اب حقیقت حال صرف خدا کو معلوم ہے۔ ہم انسانوں سے تھوڑے سے ضروری غیب پر ایمان کا تقاضا کیا گیا۔ یہی غیب ہماری زندگی اور اس کائنات کو معنی دیتا ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں آزادی دی گئی کہ ہم اپنی زندگی کو جیسے چاہے گزاریں۔
ذرا سوچو تمھیں تمھاری زندگی کی ہر بات کی توجیح پہلے سے بتا دی جاتی تو تمھارے لیے اس سے بڑا جبر کیا ہوتا۔ تمھیں باقی تمام معاملات میں سوچنے اور عمل کرنے کے لیے آزاد چھوڑا۔ صرف خدا کے وجود کو ماننے کا تقاضا کیا گیا۔
یہ جو تم ہر وقت کہتے ہو کہ زندگی بے معنی ہے، یہ بھی تو ایک ایسی پوزیشن ہے جیسے تم کائنات کی ساری حقیقت جان چکے ہو۔
بات پھر وہی ہے تیمور یہ مسئلہ دلیل کا نہیں ہے۔ میں جو بھی دلیل دوں گا اس کے مقابلے کی دلیل مل جائے گی۔ آئیڈیاز اور زبان کی دنیا میں کوئی چیز حتمی نہیں ہوتی۔ مسائل چلتے رہتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں زندگی مختصر ہے۔ وجودی مسئلے کا حل خدا کو مان لینے میں ہی ہے۔
میں تم سے مخلصانہ طور پر یہی کہوں گا کہ اپنے ذہن اور جذبات کے فریب سے باہر آ جاؤ اور علم کا سفر جاری رکھو۔ سب کچھ پڑھو اور پر چیز پر تنقید کرو، کم علمی میں کوئی حتمی رائے قائم نہ کرو۔
خدا ہی حتمی حقیقت ہے۔ اسے ماننا ہی ایک مضبوط علمی و جذباتی مؤقف ہے
خدا کو نہ ماننا عزر ہے، یہ کوئی مؤقف نہیں، نہ مان سکنے کی بے چارگی ہے۔
ان کے آخری الفاظ کے ساتھ ہی زمانہ رک گیا۔ ایسی کیفیت مجھے آج سے پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئی۔ جیسے کائنات پھیلنا بند ہو گئی۔ ذہن کی دنیا تلپٹ ہو گئی۔ نہ ہی کوئی آواز ہے نہ احساس۔
میں شروع میں تو ایک نہ ماننے والے رویے کے ساتھ بیٹھا تھا۔ لیکن ان کی باتیں میرے دل میں اترتی چلی گئیں۔ ایسی بات نہیں ہے کہ میں نے یہ باتیں کبھی کتابوں میں نہیں پڑھیں یا سنی نہیں۔ لیکن آج یہ باتیں کسی اور ہی زاویے سے سمجھ آنے لگیں۔
گھٹن اور بے چینی ختم ہو گئی۔ جیسے زندگی کے لامحدود امکانات کھل گئے ہوں۔
میں پتا نہیں کتنی اس حالت میں بیٹھا رہا۔ میرے اندر جیسے کوئی کشتی طوفان سے بچ کر محفوظ کنارے پر آلگی ہو۔ میں ساحل کی ٹھنڈی ریت پر سکون سے لیٹا آسمان پر روشنی کو دیکھنے لگا۔
جیسے میں اب بھی دریا کی سطح پر پانی کا ایک بلبلہ ہوں مگر بے مقصد نہیں۔ کوئی ہے جس نے مجھے اور اس دریا کو ایک خاص منصوبے کے تحت بنایا ہے۔ میں نے ایک گہری سانس لے کر آنکھیں کھولیں تو بابا جی مسکراتے ہوئے مجھے دیکھنے لگے۔
بابا جی ہاتھ آگے بڑھائیں میں فوراً آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنا چاپتا ہوں۔
نہیں تیمور! میں یہ بیعت وغیرہ کو نہیں صرف استاد شاگرد کے رشتے کو مانتا ہوں، وہ بھی اس طرح کے شاگرد استاد سے زیادہ حق بات اور علم کو اہمیت دے۔ یہ پیری مریدی، اور خانقاہوں کے ڈراموں نے بہت بگاڑ ڈالا ہے۔
علم جہاں سے بھی ملے لے لو، اور جو بھی علم سکھائے اسے استاد مان لو۔ پر بابا جی میں آپ کے علم سے زیادہ آپ کی شفقت اور محبت کی وجہ سے شاگردی اختیار کرنا چاہتا ہوں۔ علم بانٹنے والے تو بہت مگر خلوص، محبت اور شفقت بانٹنے والے نہیں ملتے۔ مجھے تو تمام بابوں اور اہل علم تکبر، نفرت اور بے زاری بانٹتے ملے ہیں،
بابا جی آزردہ لہجے میں بولے۔
بیٹا بس کوشش یہی ہے کہ کسی طرح نبی پاکﷺ کی رحمت و شفقت کے اسوہ کی مقدور بھر پیروی کر سکوں۔ اب اللہ میرے نقائص سے درگزر فرمائے۔ اگر تم شاگرد بننے پر اتنے ہی مصر ہو تو پھر میری ایک شرط ہے۔
وہ کیا، بابا جی؟ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اس لڑکی سے شادی کر لو۔
میں نے چونک کر بابا جی کو دیکھا۔
آپ کس لڑکی کی بات کر رہے ہیں۔ میں نے بھی انجان بنتے ہوئے کہا۔
وہی جس کی فکر میں پچھلے کئی مہینوں سے بے چین ہو۔ اشفاق نے کئی بار اس کا ذکر کیا ہے۔
میں جانتا ہوں تم اس لڑکی کے لیے اپنے جذبات کو کچل رہے ہو۔ محبت تم پر دروازے کھولنا چاہتی ہے اور تم اسے بند کر رہے ہو۔
آہ بابا جی اب میں مزید کسی جھمیلے میں نہیں پڑنا چاہتا،
ایک محبت کافی ہے
باقی عمر اضافی ہے
کہتا ہے یہ چپکے سے کون
جینا وعدہ خلافی ہے
یار باقیوں نے تمھیں چھوڑا، اس معصوم لڑکی کو تم چھوڑنا چاہتے ہو۔
پر بابا جی اس کی یاداشت واپس آتے ہی وہ خوشی خوشی اپنے گھر چلی جائے گی۔ اسے میری ضرورت محسوس نہیں ہو گی۔ شاید اس کی زندگی کی کوئ اپنی محبت بھی ہو۔
نہیں تیمور تمھاری جدائی کا زخم وہ کبھی نہیں بھول پائے گی۔
اس کی ذات کی تکمیل تمھارے ساتھ اور تمھاری ذات کی تکمیل اس کے ساتھ ہے۔ تمھاری چھوٹی سے کائنات اس کے بنا نامکمل ہے۔ وہ تمھاری کائنات کا غیر ہے۔ وہ ہی تمھاری اس بے مقصد زندگی کو معنی دے گی۔
یاداشت واپس آتے ہی اس کے پرانے زخم بھی لوٹ آئیں گے۔ ان زخموں پر تم ہی نے مرہم رکھنا ہے۔
میں کچھ دیر سوچ میں پڑ گیا۔
اشفاق کچھ دیر میں اسے لے کر آ رہا ہے، مجھے فوراً تم دونوں کا نکاح پڑھوانا ہے۔ مجھے یقین ہے تم انکار نہیں کرو گے۔ میرے پاس وقت بہت کم ہے۔
میرے مرنے پر زیادہ افسوس کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایک بے نام سی قبر میں دفنا دینا۔ اس دنیا میں ہمارا نہیں صرف اللہ کا نام باقی رہنا چاہیے۔
یہ بابا جی تو میری اندر باہر کی دنیا ایک ہی وقت میں تہ وبالا کرنے کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔
پر بابا جی اس لڑکی سے تو پوچھ لیں، اسے منظور ہے یا نہیں؟ ویسے بھی مجھے نہیں پتا یہ لڑکی کون ہے؟ اور اس کی کیا کہانی ہے؟
بابا جی کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔
٭٭٭

Share