Shair Ali Shair | ناصر ملک کا اسلوبِ اظہار۔۔۔۔۔ از: شاعر علی شاعر

شاعر علی شاعر رنگِ ادب پبلی کیشنز۔ کراچی فون: 03362085325 ناصر ملک کا اُسلوبِ اظہار دنیا کا ہر شخص اپنے تلخ و شیریں تجربات، عمیق مشاہدات، نازک احساسات اور تمام […]

شاعر علی شاعر
رنگِ ادب پبلی کیشنز۔ کراچی
فون: 03362085325

ناصر ملک کا اُسلوبِ اظہار

raakh
دنیا کا ہر شخص اپنے تلخ و شیریں تجربات، عمیق مشاہدات، نازک احساسات اور تمام تر محسوسات کا اظہار مختلف انداز سے کرتا ہے۔ نثر نگار، افسانے، ناولٹ، ناول اور کہانی لکھ کر۔ صحافی کالم نگاری اور انشا پردازی کرکے، عام شخص گنگنا کر ، مقرر تقریر سے، مصور تصویر سے اور شاعر منظوم تحریر سے۔ میری نظر میں اِن میں بہتر شخص وہ ہے جو زیادہ متاثر کن انداز سے اپنی بات کا ابلاغ کرسکتا ہو، میری نظر میں شاعر ی کا اُسلوبِ اظہار سب سے جامع اور اختصار ہوتا ہے جو سنتے ہی دل میں اُتر جاتا ہے۔ ناصر ملک کا شمار بھی اُن شعرائے کرام میں ہوتا ہے جو اپنی بات کو دوسروں تک انتہائی آسان فہم انداز میں پہنچانے کا فن جانتے ہیں۔ کسی شاعر کی یہی خوبی اسے نہ صرف کام یاب و کامران بلکہ اپنے ہم عصر شعرا میں منفرد و ممتاز بھی کرتی ہے۔ ناصرملک تازہ کار ضرور ہیں مگر وہ نو آموز شاعر نہیں۔ اُنہیں دشتِ ادب کی سیاحی میں برس ہا برس بیت گئے ہیں۔ اُن کی شاعری سے بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اُنہوں نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور انسان کے کرداروں کو پرکھا ہے تبھی اُن کی شاعری میں زندگی کے مختلف پہلوئوں کی روداد، نشیب و فراز کی تصویریں اور انسان کے عجیب و غریب کردار و اخلاق کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ وہ اپنی شاعری میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات، مشاہدات اور تجربات کو مؤثر انداز میں منظوم کردیتے ہیں۔ اُن کی یہ صلاحیت ہی ادب میں اُن کے نام کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ وہ اپنے اظہار کو الفاظ کا روپ دیتے ہیں تو کبھی وہ الفاظ شاعری کا روپ دھار لیتے ہیں اور کبھی ناول کی صورت مجسم ہوجاتے ہیں۔ ناصر ملک بہ حیثیت شاعر بھی اپنا نام رکھتے ہیں اور بہ حیثیت ناول نگار بھی ادبی دنیا میں اُن کی پہچان ہے۔ آئیے اُن کی تصنیف و تالیف پر ایک غائرانہ نگاہ ڈالتے ہیں۔

nasir-malik-05
ناصر ملک کے قلمی نام سے پاکستان بھر میں شہرت پانے والا شاعر، 15؍ اپریل 1972ء کو چوک اعظم، ضلع لیہ میں پیدا ہوا۔ ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے ہی علاقے سے کیا اور انٹر میڈیٹ کا امتحان ٹاپ کرتے ہوئے 1991ء میںپنجاب میڈیکل فیکلٹی سے پاس کیا۔ اُنہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور ایم۔اے (اسلامیات) کی ڈگری حاصل کی۔
دورانِ تعلیم 1985ء میں ادبی سفرکا آغاز کیا۔شروع میں ناصر ملک نے بچوں کی کہانیاں لکھیں اور 1986ء سے ادبی جرائد میں لکھنے کی ابتدا کی۔ سب سے پہلی کہانی بہ عنوان ’’سحر‘‘ شائع ہوئی جس سے اُن کی شہرت ادبی دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی چلی گئی۔ اُن کی پہلی کتاب’’ Gold Memories‘‘، 1993ء میں شائع ہوئی اور پھر یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اُن کی تصانیف میں مندرجہ ذیل کتابیں شامل ہیں!
1۔ پتھر (ناول) 1993ء
2۔ یہ سوچ لینا (شاعری) 1995ء
3۔ انسائیکلوپیڈیا آف لیہ (تاریخی تحقیق) 2002ء
4۔ غبارِ ہجراں (نظمیں) (اُردو پنجابی ) 2008ء
5۔ لیہ دی تاریخ (پنجابی) 2008ء
6۔ جان، جگنو اور جزیرہ (اُردوغزلیں / نظمیں) 2009ء
7۔ تریل (پنجابی نظمیں) 2009ء
8۔ ہتھیلی (اُردو غزلیں / نظمیں) 2010ء
9۔ تماشائے عشق (اُردو ناول) 2011ء
10۔ زادِ سفر (اُردو فکشن) 2011ء
11۔ جنت (ناول) 2012ء
12۔ آتش زاد (ناول) 2013ء
13۔ سامعہ (اُردو شاعری) 2013ء
14۔ انتخابِ غزل و نظم (اُردو) 2013ء
15۔ راکھ (اُردو شاعری) 2015ء
16۔ مسافر (ناول + 4 جلدیں) 2015ء
17۔ لایموت
18۔ دل آشنا (ناول) 2017ء
اِن کے علاوہ’’ شہرِ خیال‘‘ کے عنوان سے روزنامہ نوائے وقت میں کالم تواتر سے لکھ رہے ہیں اور اُن کی کہانیاں پاکستان کے معروف ڈائجسٹوں میں تسلسل سے شائع ہورہی ہیں۔ وہ ادبی ویب سائٹ ’’اُردو سخن ڈاٹ کام‘‘ کے نام سے ایک ادارہ بھی چلا رہے ہیں جس کا مقصد ادب کا فروغ اور ادبی سرمائے کو محفوظ کرنا ہے۔ ’’آرٹ لینڈ‘‘ (گرلز کالج روڈ چوک اعظم ،تحصیل و ضلع لیہ) کے نام سے ایک اشاعتی ادارے کے بھی مالک ہیںجس کے پلیٹ فارم سے خوب صورت کتابیں منظرِ عام پر آرہی ہیں۔ وہ کتابوںکی تزئین و آرائش اور عمدہ طباعت میں ذاتی دل چسپی لیتے ہیں۔ ناصرملک وارڈ نمبر 11، ملتان روڈ، چوک اعظم ، ضلع لیہ میں رہائش رکھتے ہیں اور اُن سے 092-606-72557 اور 092-302-7844094 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
یہ تمام کارِ ادب وہ سرانجام دے چکے ہیں اور ذریعۂ معاش کے طور پر بھی اُنہوں نے ادبی امور کو اپنایا ہوا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ ادب اُن کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ایسے انسان سے کوئی بڑا کارنامہ سرزد ہونے کی توقع ہوتی ہے جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جاسکتا ہے۔
میرے سامنے اُن کی اُردو شاعری کا مجموعہ ’’راکھ‘‘ ہے۔ اُردو شاعری اور اُردو ناول نگاری ہی ناصر ملک کی وجہِ شہرت ہے ۔باقی کا رِادب ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُن کی نثر میں ناول نگاری ،اُن کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے اور شاعری اُن کے تلخ و شیریں تجربات ، عمیق مشاہدات اور نازک احساسات کی ترجمان بھی ہے اور عکاس بھی۔ اُن کی شاعری میں زندگی، زندگی کے نشیب و فراز اور زندگی کے مختلف رویے اشعار کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ آئیے چند اشعار ملاحظہ کرتے ہیں:
اب کوئی اور تمنا ہے عذابِ دل و جاں
اب کسی حرف میں تو ہے نہ تری ذات کا دکھ
شوقِ تعمیر میں وہ چاک پہ رکھتا ہے مجھے
زعمِ تسخیر میں ہر بار مجھے توڑتا ہے
وہ شخص جنونی ہے مجھے مار نہ ڈالے
یا میری محبت میں نہ مرجائے کسی روز
عمر بھر کوئی بھی احسان نہ کرتے مجھ پر
میرے احباب مگر ایسے نہ ہنستے مجھ پر
میر ے آنگن میں کڑی دھوپ سے لڑنے والا
ایک نادان سا پودا ہے شجر لگتا ہے
لکھ دیا زندگی کے بارے میں
اُس کا ہر نوٹ اختلافی ہے
ناصر ملک کی شاعری میں زندگی کا دکھ بھی ہے اور انسانی رویوں کا المیہ بھی۔ اُن کی عمر اور شعری عمر ابھی بہت کم ہے مگر اُن کے اشعار سے محسوس ہوتا ہے کہ اُنھوںنے اپنی عمر سے بڑے تجربات کیے ہیں۔ اُن کا مطالعہ ، فکر کی وسعت اور سوچ کی گہرائی سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُنہوں نے کتابوں سے زیادہ انسانی چہروں کو پڑھا ہے۔ انسان کے مختلف کرداروں کو پرکھا ہے اورمختلف انسانی رشتوں کو برتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے کلام میں اِن تمام اثبات و نفی کی جھلکیاں صاف و شفاف آئینے کی طرح نظر آتی ہیں اور اپنے ہونے کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔
سیانے کہتے ہیں کہ چلو اُس طرف ہواہو جدھر کی۔ مگرناصر ملک ہوا کے رخ پر نہیں چلتے ہیں۔ وہ آسانیاں تلاش نہیں کرتے بلکہ دیوار میں در کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ مشکلات سے ڈر کر گوشہ نشین نہیں ہوتے بلکہ مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہیں۔ اُن کی اِس بلند حوصلگی اور قوت نے اُنہیں اِس قابل کردیا ہے کہ وہ جدھر چلتے ہیں ہوا بھی اُدھر کا رُخ اختیار کرلیتی ہے، ملاحظہ ہو:
میں چل رہا ہوں ابھی اُلٹی سمت، اُلٹے پائوں
ہوا بھی ساتھ چلی اُلٹی سمت ،اُلٹے پائوں
یہ بھی حقیقت ہے کہ اصل فن کار کو زمانہ پہچاننے میں ایک عرصہ صرف کردیتا ہے۔ اکثر اہلِ ہنر کو دنیا سے یہی شکایت رہی ہے کہ اُن کی قدر نہیں کی گئی۔ اُن کے فن کی داد نہیں دی گئی۔ ہمارا معاشرہ مردہ پرست ہے۔ جب فن کار مر جاتا ہے تو اُس کی قدر شناسی ہوتی ہے۔ اُس کے سخن شناس پیدا ہوتے ہیں۔ ناصر ملک کو بھی زمانے سے یہی شکوہ ہے، اُنہوں نے اُردو اور پنجابی ادب کے دامن کو مالامال کردیا ہے اپنی وقیع تحریروں سے۔ مگر ابھی تک اُن کو شایانِ شان پذیرائی نہیں مل سکی۔ حکومتِ پاکستان کے وہ ادارے جو کتابوں، ادب اور اُردو زبان و ادب کے نام پر زندہ ہیں اُنہوں نے ناصر ملک کی طرف نگاہِ اِلتفات نہیں کی۔ حالاںکہ اُن جیسے ادیبوں / شاعروں کو نقد انعامات کے ساتھ ساتھ اعزاز یشیلڈ اورایوارڈ سے نوازاجانا چاہیے تھا۔ ناصر ملک کا یہ شعر اِسی طرف اشارہ ہے:
میں جانتا ہوں زمانے تری جہالت کو
مرا شعور مرے ساتھ مرنے والا ہے
اس میں کوئی شک نہیں جہاں دیگر اہلِ قلم نے لیہ جیسے شہر کو شہرت سے ہم کنار کیاہے، وہاں ناصر ملک کا بھی اِس شہر کی نام وری میں بڑا حصہ ہے۔میں ناصر ملک کو اُن کے ادبی کام پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ میرا ادارہ ،’’ رنگِ ادب پبلی کیشنز‘‘ ، کراچی، میری ادبی تنظیم ’’بزمِ رنگِ ادب‘‘ ،پاکستان اور ادبی جریدہ سہ ماہی کتابی سلسلہ’’ رنگِ ادب‘‘ کے تمام پلیٹ فارم اُن کے لیے حاضر ہیں۔ وہ ہم سے جس قسم کی خدمت لینا چاہیں بہ صد تکریم و احترام بجا لائیں گے۔ اللہ رب العزت سے دعا گو ہوں کہ اُن کے زورِ قلم، حسنِ سخن، وسائلِ زندگی میں مزید اضافہ فرمائے اور اُن کے اُمورِ ادب کو حاسدوں کے حسد او رشریروں کے شر اور برے لوگوں کی نظر بد سے بچائے ۔ آمین
اُن کے چند ایسے اشعار پیش کرکے اجازت چاہوں گا:
بے حسی ہے، بے بسی ہے، بے کلی ہے
زندگی میں پھر بھی کتنی دل کشی ہے
بے خوف چلا آگ کے دریا سے نمٹنے
اک شوقِ شہادت ہی سپاہی کو بہت ہے
خانقاہوں سے نکل آئیں خریدارِ دعا
گھر میں بیٹھے ہوئے ماں باپ کی خدمت کرلیں
٭٭٭

Share