Shahbaz Nayyar | شہباز نیر کی شاعری سے ایک صفحہ

شہباز نیّر موضع علی اکبر سانگی , ابوظہبی روڈ , تحصیل و ضلع , رحیم یار خان. shahbaznayyar@gmail.com فون: 03017612860 سالگرہ آج کا دن کتنا پیارا ہے دِل دھرتی پر […]

شہباز نیّر
موضع علی اکبر سانگی , ابوظہبی روڈ , تحصیل و ضلع , رحیم یار خان.
shahbaznayyar@gmail.com
فون: 03017612860

سالگرہ

آج کا دن کتنا پیارا ہے
دِل دھرتی پر پھول کِھلے ہیں
خوشیوں کی رِم جِھم برکھا ہے
لمحہ لمحہ بھیگ رہا ہے
سچی خواہش کی خوشبو سے
دھڑکن دھڑکن اک نغمہ ہے
پیار فضاؤں پر چھایا ہے
یہ سب کیوں ہے یہ سب کیا ہے
دِل پر دستک دیتے جذبے
کینڈل،کیک ، یہ کارڈ اور تحفے
ہنستے گاتے خواب، دُعائیں
کیوں ہیں یہ مخمور فضائیں
کیوں ہر منظر خوابیدہ ہے
بات ہے اتنی، یہ قصہ ہے
آج تمہاری سالگرہ ہے
آج تمہاری سالگرہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزلیں

اُداس موسم میں مسکرانا ، نہ تیرے بس میں نہ میرے بس میں
جدائی کے روگ کو چھپانا ، نہ تیرے بس میں نہ میرے بس میں
وہ فصلِ گُل اب تو ڈھل چکی ہے چِتا محبت کی جل چکی ہے
وفا کی میّت کو اب اٹھانا ، نہ تیرے بس میں نہ میرے بس میں
وہ پیار کے پَل ، وہ چاند راتیں ، وہ دِل نشیں پھول جیسی باتیں
حسین یادوں کو بھول جانا ، نہ تیرے بس میں نہ میرے بس میں
خزاں کے پُر خار راستوں کی اذیتیں جب نصیب ٹھہریں
گلاب رُت کو گلے لگانا ، نہ تیرے بس میں نہ میرے بس میں
زمانے سے پھر گِلہ ہی کیوں ہو ، کوئی کسی سے خفا ہی کیوں ہو
کہ میرے شہباز یہ زمانہ ، نہ تیرے بس میں نہ میرے بس میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دل توڑتا ہے اور بکھرنے نہیں دیتا
بےرحم مسیحا مجھے مرنے نہیں دیتا
اے جانِ تمنا تیری زلفوں کا تصور
کاندھوں سے سیہ شال اُترنے نہیں دیتا
چاندی سی وہ رنگت،نہ ستاروں سی وہ آنکھیں
یہ ہجر خدوخال سنورنے نہیں دیتا
رسوائی کاڈر ہے کہ اندھیروں سے محبت
میں چاند کو آنگن میں اُترنے نہیں دیتا
پھولوں سے بھرا رہتا ہے اُس شخص کا دامن
اوروں کو جو کانٹوں سے گزرنے نہیں دیتا
کیوں سب سے زیادہ نہ کریں فن سے محبت
یہ فن ہی تو فنکار کو مرنے نہیں دیتا
کہتا ہے کہ رُسوا نہ کرو تم مجھے نیّر
دیکھو مجھے سچ بات بھی کرنے نہیں دیتا
۔۔۔۔۔۔۔۔

دلوں میں خشک سالی ہو گئی ہے
محبت بھی سوالی ہو گئی ہے
کسی کے ہاتھ پیلے کیا ہوۓ ہیں
مِری تقدیر کالی ہو گئی ہے
مزاجاً بھی قلندر ہو گیا ہوں
طبیعت بھی دھمالی ہو گئی ہے
دلوں کے رابطے ٹوٹے ہیں جب سے
غزل جذبوں سے خالی ہو گئی ہے
فقط یہ سوچ کر سب خط جلاۓ
کہ اب وہ بچوں والی ہو گئی ہے
مسلسل دردسے شہباز نیّر
مسلسل بے خیالی ہو گئی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جس کی آنکھوں میں بھی اشکوں کی روانی ہو گی
در حقیقت وہ محبت کی کہانی ہو گی
وہ جو بچپن میں ہی لگتا ہے کوئی جادوگر
کیا ستم ڈھائے گا جب اُس پہ جوانی ہو گی
کل مجھے کہنے لگی اُس کے خطوں کی خوشبو
اُس کی ہر یاد تمہیں دِل سے بھلانی ہو گی
عشق کرتے ہو تو پیغام رسانی چھوڑو
کیا محبت بھلا غیروں کی زبانی ہو گی
خاک اُڑاتےہوئے گلیوں میں وہ پھرتے ہوں گے
غم کے ماروں کی یہ مخصوص نشانی ہو گی
پھول برسیں گے کسی قوسِ قزح سے نیّر
جب مِرے سامنے خوابوں کی وہ رانی ہو گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کسی کی مہندی کا رنگ ہاتھوں سے دھو بھی سکتا ہے اورنہیں بھی
وہ دِل سے چاہے جو میرا ہونا تو ہو بھی سکتا ہے اورنہیں بھی
جو شام ڈھلتے ہی میری آنکھوں میں جِھلملاتا ہے چاند بن کر
وہ اپنے سینے میں میری دھڑکن سمو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی
جو اپنے زخموں کو میری نظروں سے دُور رکھنے کا سوچتا ہے
وہ میری پلکوں کی نرم چھاؤں میں سو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی
اگرچہ طوفانِ اشک ہم کو تمہارے غم نے عطا کیا ہے
مگر یہ طوفان اپنی کشتی ڈبو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی
میں سر سے پا تک ہوں اُس کا لیکن دُعائیں میری، وفائیں میری
اک اپنے ہرجائی پن کے باعث وہ کھو بھی سکتا ہے اورنہیں بھی
مجھے یقیں ہے کہ میری چاہت میں وہ بھی آہیں بھرے گا لیکن
وہ چاند اشکوں سے اپنا دامن بھگو بھی سکتا ہے اورنہیں بھی
تمہارا شہباز جس کو جاناں حسین چاہت نہ راس آئی
وہ چند دِن تک تمہاری دنیا میں ہو بھی سکتا ہے اورنہیں بھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خموشیوں کے لیے راستہ بنانے لگی
کہ شاعری تو مِرا ضبط آزمانے لگی
مجھے لگا کوئی آسیب ہے مِرے گھر میں
نہیں نہیں تِری تصویر مُسکرانے لگی
وہ مسکراتے رہے نور سا برستا رہا
وہ چُپ ہوئے تو ستاروں کو نیند آنے لگی
کسی نے پیار سے دیکھا تو خوف آنے لگا
کسی نے مُڑ کے نہ دیکھا تو جان جانے لگی
میں جب بھی تجھ سے ملاقات کے لیے نکلا
جدائی شاخِ تمنا پہ لہلہانے لگی
سو جب روایت و جدت کو ہمکنار کِیا
گزشتہ لوگوں کی خوشبو بھی مجھ سے آنے لگی
خدا پہ اتنا یقیں ہے کہ میری ہر مشکل
مجھے ٹھکانے لگانے میں خود ٹھکانے لگی
خیالِ یار میں الفاظ تتلیاں بن جائیں
غزل مجھے نئے پہلو سے آزمانے لگی
ذرا سی دیر ہم اِک دوسرے میں کھوئے رہے
پھر اُس کے بعد محبت کو نیند آنے لگی
اس اہتمام سے شہباز بات کی اُس نے
سہیلیوں کو وہ جیسے غزل سنانے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں بھی آدمی ہوں زمین کا، وہ بھی آدمی ہے خدا نہیں
بڑا صوفیانہ سا عشق ہے اُسے پاس رہ کے چُھوا نہیں
مِرے چارہ گر ! مِری زندگی پہ تُو مہرباں ہے بہت مگر
مجھے اُس گُنہ کی سزا نہ دے جو گناہ میں نے کِیا نہیں
میں بکھر گیا ہوں تو کیا ہُوا، چلو آپ کا تو بَھلا ہوا
نہ نظر چُرائیے با خُدا مجھے آپ سے تو گِلہ نہیں
کہوں جس کی آنکھوں پہ میں غزل،کہوں جس کوحُسن کا بادشہ
کئی چہرے میں نے پڑھے مگر کوئی تیرے جیسا مِلا نہیں
مِرا حال پوچھ کے آپ نے مِرا درد اور بڑھا دیا
کہ بچھڑ کے آپ سے جانِ جاں مِرے پاس کچھ بھی بچا نہیں
میں بھٹک رہا ہوں یہاں وہاں،کوئی ساتھ دے نہ کوئی اماں
میں ہوں تیرا نیّرِ بے زباں، تیرے دِل میں کیا مَیں رہا نہیں ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔

گزشتہ وقت نہیں موڑتا کسی کے لیے
کہ اب میں پھول نہیں توڑتا کسی کے لیے
بس اپنے اپنے مفادات کی ہے جنگ جناب
کوئی کسی کو نہیں چھوڑتا کسی کے لیے
مِرے خود اپنے بھی دُکھ سُکھ ہیں میری ذات کے ساتھ
کسی کا دل میں نہیں توڑ تا کسی کے لیے
یہ ایک خواب بھی حسرت میں ڈھل گیا کہ کوئی
میرا بھی ہوتا ، میں سر پھوڑتا کسی کے لیے
عجیب دَور ہے شہباز اب تو لوگوں کو
ضمیر بھی نہیں جھنجھوڑتا کسی کے لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ثمر تھا میری دُعائوں کا اُسے کس نے اپنا بنا لیا
مِری آنکھ کس نے اُجاڑ دی ، مِرا خواب کس نے چُرا لیا
تجھے کیا بتائیں کہ دِلنشیں ، تِرے عشق میں ، تِری یاد میں
کبھی گفتگو رہی پھول سے، کبھی چاند چھت پہ بُلا لیا
مجھے پہلے پہلے جو دیکھ کر تِرا حال تھا، مجھے یاد ہے
کبھی جل گئیں تِری روٹیاں، کبھی ہاتھ تونے جلا لیا
مِری جنگ کی وہی جیت تھی، مِری فتح کا وہی جشن تھا
میں گِرا تو دوڑ کے یار نے مجھے بازوئوں میں اُٹھا لیا
مِرے دُشمنوں کی نظر میں بھی مِرا قد بڑا ہی رہا سدا
مِری ماں کی پیاری دُعائوں نے مجھے ذِلتوں سے بچا لیا
مِری ڈائیری ، مِری شاعری ، مِری جان پڑھتے ہی رو پڑی
مِرے پاس آ کے کہا مجھے ، بڑا روگ تُو نے لگا لیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہاری باتوں میں رنگ، سوچوں میں خوش گمانی ہے یا نہیں ہے
مجھے بتائو یہ خود فریبی، یہ رائیگانی ہے یا نہیں ہے
کسی کے شجرے میں کیا لکھا ہے مجھے غرض ہی نہیں ہے اِس سے
زباں کُھلے گی تو علم ہو گا وہ خاندانی ہے یا نہیں ہے
اگر یہ طے ہے کہ آسماں پر بنائے جاتے ہیں سارے رشتے
تو تم بتائو ہماری جوڑی پھر آسمانی ہے یا نہیں ہے
میں اپنی تنہائی تَن پہ اوڑھے پلٹ رہا ہوں یہ دیکھنے کو
وہ آج بھی اپنی بے وفائی پہ پانی پانی ہے یا نہیں ہے
میں اُن سے شہبازؔ پوچھتا ہوں، بتائو مَسند نشین لوگو!
حسین لوگوں کے دِل میں رہنا بھی راجدھانی ہے یا نہیں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تُو ہَوا کے ہاتھ پہ چاہتوں کا دیا جلانے کی ضد نہ کر
یہ اُداس لوگوں کا شہر ہے یہاں مسکرانے کی ضد نہ کر
میں ہوں دوستوں کا ڈسا ہُوا، مِرا غم ہے حد سے بڑھا ہُوا
میں شکستہ گھر کی مثال ہوں مِرے پاس آنے کی ضد نہ کر
میں تِری غزل تو نہیں ہوں نہ، کہ ہر ایک لب پہ سجا رہوں
میں تو ایک مصرعہِ درد ہوں مجھے گنگنانے کی ضد نہ کر
مجھے رفتہ رفتہ نصیب کر مِری جان ہجر کی لذّتیں
مِرے زخم زخم سے لطف لے مِرے ٹوٹ جا نے کی ضد نہ کر
ابھی لَوٹ آ، ابھی وقت ہے،ابھی سانس باقی ہے جسم میں
تجھے علم ہے مِری جاں ہے تُو مجھے آزمانے کی ضد نہ کر
یونہی روشنی کی طلب میں تُو مِرے دِل کو دے نہ اذیّتیں
جوکسی کے ہجر میں جل بجھا اُسے پھر جلانے کی ضد نہ کر
میں ہی تیری قیمتی چیز تھا،میں ہی تجھ کو سب سے عزیز تھا
یہی سچ ہے تو مِرے نیّرا،مجھے چھوڑ جانے کی ضد نہ کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Share