Shah Room Khan Wali | شاہ روم خان ولی کی شاعری سے ایک صفحہ

شاہ روم خان ولی  مردان ۔ خیبر پختونخواہ (پاکستان) فون:03369759678 غزلیں ہماری ذات میں اک شعلہ رو کے خواب سے ہے کہ جیسے رونقِ شب عکسِ ماہتاب سے ہے کہاں […]

شاہ روم خان ولی

 مردان ۔ خیبر پختونخواہ (پاکستان)

فون:03369759678

غزلیں

ہماری ذات میں اک شعلہ رو کے خواب سے ہے

کہ جیسے رونقِ شب عکسِ ماہتاب سے ہے

کہاں رکا ہے بھلا وقت سانحوں پہ کبھی

رواں یہ پہیہ ہمیشہ ہی آب و تاب سے ہے

تمہارا اترا ہوا چہرہ کس طرح دیکھوں

جسے مہک سے ہے نسبت اسے گلاب سے ہے

میں ایک گھر کو چلاتے ہوئے یہ سوچتا ہوں

کہ حکمرانی کہاں کم کسی عذاب سے ہے

عدالتوں سے کہاں عادتیں بدلتی ہیں

شعورِ راستی کب خوفِ احتساب سے ہے

تمام بزم کا دل ہارے ہوئے شخص کے ساتھ

یہ ہاؤ ہو تو مگر جشنِ فتح یاب سے ہے

تجھے عروج مبارک مگر خیال رہے

زوال ازل سے بلندی کے ہی حساب سے ہے

ہیں بے پناہ خدایا نوازشات تری

ہمیں تو صرف شکایت ترے حجاب سے ہے

کبھی کسی سے نہیں اس طرح رہا ہے ولی

اٹوٹ جیسے تعلق مرا کتاب سے ہے

۔۔۔

صرف احوالِ واقعی لکھو

روشنی ہو تو روشنی لکھو

لوٹ آؤ خیالی دنیا سے

اور ذرا کربِ آگہی لکھو

اب زمانے اشارتوں کے ہیں

جو چھپایا گیا سبھی لکھو

علم تم سے دلیل مانگے گا

اک گھڑی کو اگر صدی لکھو

سب تراکیب چھوڑنے کی نہیں

میں نہیں کہتا فارسی لکھو

جان کر پہلی تم کرو لیکن

ہر محبت کو آخری لکھو

چھوڑ حسن و جمال کی باتیں

رنج غربت کے اب ولی لکھو

۔۔۔

تیری دنیا ترے لوگوں سے گلہ مند رہے

ہم بھی اک عمر فقط ذات کے پابند رہے

میں نے دولت کی چکا چوند بھی دیکھی لیکن

میری نظروں میں پھٹے کپڑوں کے پیوند رہے

بس یہی کام ضروری تھا، یہی ہو نہ سکا

نفرتیں دل میں رہیں اور زباں قند رہے

یار لوگوں کے کئی شکوے تو اس بات پہ ہیں

زخم خوردہ ہے تو پھر کس لئے لب خند رہے

سب سمجھنے پہ بھی یہ لوگ کہاں سمجھیں گے

آنکھ تو بات کرے اور زباں بند رہے

 وہ جو انسان بھی کہلانے کے حقدار نہیں

بن کے وہ ایک زمانے کے خداوند رہے

کور چشمی تھی محبت یا وفا تھی یہ ولی

شمع بجھنے پہ بھی پروانے یہاں چند رہے

 ۔۔ ۔

جس روز سے ہوئی ہے مری ہم نفس سے جنگ

تب سے ہی چل رہی ہے بدن کے قفس سے جنگ

امکان کی حدوں سے نکل کر بھی دیکھ لو

میں کر رہا ہوں اپنی فضا کی اُمس سے جنگ

میں ہوں انا کے کوہِ فلک بوس کا رقیب

مجھ کو روا نہیں ہے کسی خار و خس سے جنگ

ہر ایک پنکھڑی سے غذا چوس لی گئی

پھولوں کی دیر تک رہی جاری مگس سے جنگ

جب بھی کرو گے حق کو مٹانے کی جستجو

میناروں مسجدوں کی رہے گی کلس سے جنگ

اس ناتوانیء شبِ غم میں بھی اے ولی

کرتا رہا ہوں روز میں دو چار دس سے جنگ

۔۔۔

زبانِ غیر کے لہجے میں بولتا کیا ہے

تُو گر مرا نہیں بنتا تو پھر برا کیا ہے

 ہر ایک بات پہ لاتے ہو درمیان خدا

بتاؤ یار !!! تمہیں آج مسئلہ کیا ہے

مرے چراغ ہواؤں کے درمیان جلیں؟

 کسی دیے کا ہوا سے مقابلہ کیا ہے

 ابھی تو پاس سے آواز تک نہیں آتی

خبر کسے ہو کہ ہمسائے میں ہوا کیا ہے

میں اپنے جسم کے اندر بھی ہوگیا خاموش

فضول شور شرابے میں اب رکھا کیا ہے

میں سچ بتاؤں کہیں جان نا چلی جائے

سوائے جھوٹ زمانے میں اور بچا کیا ہے

مرے وجود سے باہر ہے اک نئی دنیا

مرے وجود کے اندر نیا نیا کیا ہے

عروسِ مرگ کی جھولی میں آ گرا ہوں ولی

دکھاؤ ہجر کی سولی پہ اور نیا کیا ہے

۔۔۔

میں ابھی چاک تک نہیں آیا

فہم و ادراک تک نہیں آیا

کیوں مجھے خاک میں ملائےگا

خود سے میں چاک تک نہیں آیا

یوں مہارت سے اُس نے قتل کیا

خون پوشاک تک نہیں آیا

وہ فلک سے مجھے اتارے گا

وہ جو افلاک تک نہیں آیا

کیا گرائے گا وہ مری دستار

جو مری ناک تک نہیں آیا

ایک آنسو گرا ندامت کا

دامنِ چاک تک نہیں آیا

دل کا نقصان ہو گیا لیکن

غم کی املاک تک نہیں آیا

علم جو اک بڑا خزانہ ہے

میری املاک تک نہیں آیا

اس نے لکھا تھا خط مجھے لیکن

وہ مری ڈاک تک نہیں آیا

آج تک دشمنِ وطن کا قدم

خطہء پاک تک نہیں آیا

جو بھی آیا مناظرے کےلئے

مجھ سے بیباک تک نہیں آیا

بے لباسی ہنوز طاری ہے

جسم پوشاک تک نہیں آیا

مجھ سے پہلے ولی کبھی تجھ تک

تجھ سے چالاک تک نہیں آیا

۔۔۔۔

(حضرتِ جون ایلیا کی زمین میں غزل)

تیر ایسے دلِ مضطر پہ چلائے بھی گئے

اشک بہتے بھی رہے اور چھپائے بھی گئے

کیا سے کیا کھیل زمانے میں دکھائے بھی گئے

ہاتھ کھینچے بھی گئے اور ملائے بھی گئے”

خدمتیں ہوتی رہیں روز امیروں کی یہاں

ظلم نادار پہ اس دیس میں ڈھائے بھی گئے

کیا کہیں تیرے تغافل نے ستم جو ڈھائے

ہم منا کر جو تری بزم میں لائے بھی گئے

صرف سورج ہی نہیں چھوڑ کے جاتا ہے میاں

اس کے پیچھے تو مری شام کے سائے بھی گئے

صرف آری ہی نہیں پیڑ پہ چلتی میرے

پیڑ کاٹے بھی گئے اور اگائے بھی گئے

صرف نغمے ہی نہیں لکھے محبت میں تری

دل کی سُر تال پہ صدیوں سے یہ گائے بھی گئے

کام مشکل تھا مرے دوست مکمل نہ ہوا

سحر و شام ترے درد بھلائے بھی گئے

طرفہ حیرت کہ میں زندہ ہوں ابھی تک لوگو

میرے کھانے میں تو زہراب ملائے بھی گئے

آندھیاں ان کے تعاقب میں رہیں دیر تلک

شبِ ظلمت میں کئی دیپ جلائے بھی گئے

چھوڑ جائے نہ ولی سایہ بھی سچ بولنے پر

جرم ایسا ہے کہ اپنے بھی پرائے بھی گئے

۔۔۔

فلک کچھ اور کہتا ہے ، زمیں کچھ اور کہتی ہے

 سمجھ میں کچھ نہیں آتا، جبیں کچھ اور کہتی ہے

قریبی لوگ ہیں سارے ، یقیں بھی ہے چٹانوں سا

مگر مجھ کو مری یہ آستیں کچھ اور کہتی ہے

مجھے لگتا ہے وہ مجھ کو اشارے سے بلاتی ہے

مرے ہمدم یہ کہتے ہیں نہیں، کچھ اور کہتی ہے

رویّہ داستاں اُس کی سناتا ہے الگ کوئی

نگاہوں سے مجھے وہ نازنیں کچھ اور کہتی ہے

عجب لڑکی ہے وہ یارو سمجھنے سے میں قاصر ہوں

جہاں کچھ اور کہنا ہو وہیں کچھ اور کہتی ہے

میں اس سے اور ہی باتیں کہے جاتا ہوں چاہت میں

مرے وہ خانہِ دل کی مکیں کچھ اور کہتی ہے

اگر مجھ سے محبت ہے ولی پھر کس لئے اکثر

وہ اخلاص و مروت کی امیں کچھ اور کہتی ہے

۔۔۔

ہمارے ساتھ چلو آسمان کی جانب

قدم بڑھاؤ ذرا لامکان کی جانب

ہمارے ساتھ چلو آسمان کی جانب

قدم بڑھاؤ ذرا لامکان کی جانب

تمام عمر سہولت سے کٹ بھی سکتی ہے

کرے خدا جو نظر نیم جان کی جانب

ابھی کچھ اور سلیقے سے سانس لینی ہے

ابھی ہے جان سے جانا جہان کی جانب

یہ میرے نقشِ قدم ہی مجھے دکھاتے ہیں

چلے ہیں لوگ جو میرے نشان کی جانب

یہ کائنات سمٹتی دکھائی دیتی ہے

چٹان جیسے بڑھے اک چٹان کی جانب

غریب دل میں سبھی درد بن بلائے ہیں

یہ دیکھتے ہی نہیں میزبان کی جانب

ہم آگے بڑھتے ولی بار بار دیکھتے ہیں

ہر اک مقام پہ ہی رفتگان کی جانب

پتہ چلا کہ تجھے پیار کی ضرورت ہے

خبر نہیں ہے کہ یہ آخری ضرورت ہے

یہ بے نیازی خدا کی صفات میں سے ہے

ہر آدمی کی یہاں آدمی ضرورت ہے

سکونِ قلب میسر نہیں کسی کو یہاں

کچھ اس لئے بھی تو آشفتگی ضرورت ہے

میں اپنے آپ سے اپنے لئے نہیں لڑتا

تو زندگی ہے مری، زندگی ضرورت ہے

سفر میں دھوپ کی چادر مرا مقدر ہے

مگر مجھے تو یہاں چھاؤں کی ضرورت ہے

میں جس کے نام کی مالا رہا سدا جپتا

وہ کہہ رہا تھا اُسے غیر کی ضرورت ہے

متاعِ فکر و قلم تیری دسترس میں ہے

جلا چراغ اگر روشنی ضرورت ہے

نگائیں پھیر رہے ہیں یوں روشنی سے لوگ

ہمارے شہر کی بس تیرگی ضرورت ہے

 میں اپنی قوم کو تبلیغِ سادگی کرتا

جو مطمئن ہو ولی سادگی ضرورت ہے

۔۔۔

نظارا دیکھ رہا تھا عجب چراغ کے ساتھ

پتنگے رقص کناں تھے غضب چراغ کے ساتھ

اُسے تو روشنی آنکھوں میں چبھنے لگتی تھی

ملا رہا ہے جو نام و نسب چراغ کے ساتھ

ہمارا کل تھا زمانے کی دسترس میں دل

ہوا کو کھیلتے دیکھا ہے شب چراغ کے ساتھ

یہ فیصلہ تو ہے مشکل دیا کہیں کس کو

بٹھا دیا ہے اسے لا کے اب چراغ کے ساتھ

حضور بات تو پہلے ہی میں بتا بیٹھا

ضرور جلتے ہیں رکھیں جو لب چراغ کے ساتھ

تمہیں بھی یاد تو ہونگے وہ دن محبت کے

شمار میرا بھی ہوتا تھا تب چراغ کے ساتھ

اسی. لئے تو بڑا پُر سکون بیٹھا ہوں

ہوا رفیق ہے ظلمت کی، رب چراغ کے ساتھ

چراغ بجھتے ہی جانے کہاں گئے ہیں وہ

منا رہے تھے جو شامِ طرب چراغ کے ساتھ

نکلنے والا ہے مشرق سے آفتاب ولی

میں جانتا ہوں کہ جو ہوگا اب چراغ کے ساتھ

۔۔۔

اغیار کے ہجوم میں رسوا کرو گے تم

کیا میرے ساتھ یہ کوئی اچھا کرو گے تم

میں جانتا ہوں تم مرے دل کے قریب ہو

یہ جاننا ہے کب مجھے اپنا کرو گے تم

مجھ کو گھماؤ چاک پر اے کوزہ گر ابھی

اس کے بغیر اور بھلا کیا کرو گے تم

ہو پیکرِ خیال سے تنویر کا ظہور

جو چیز بھی نہاں ہے وہ دیکھا کرو گے تم

دریا تمہارے کردوں سپرد اپنی آنکھ کا

سیراب اس سے زیست کا صحرا کرو گے تم

اس شہرِ بے امان کے ہم بھی غلام تھے

بعداز مرے وجود کے سوچا کرو گے تم

دیوار کو بغور میں دیکھوں گا جس گھڑی

تصویر کے بغیر بھی رویا کرو گے تم

ہر روز کر رہا ہوں سفر اس یقین سے !!!

وہ دن ضرور آئے گا اپنا کرو گے تم

چلتے بنو یہاں سے بہت ہوگیا ولی!!

کب تک قیام گاہ یہ دنیا کرو گے تم

۔۔۔

جو سچ کہوں تو آپ سے بیزار ہوگیا

یعنی میں اپنے راہ کی دیوار ہوگیا

تب سے میں اپنے ہوش میں واپس نہ آسکا

جب سے نگاہِ یار کا دیدار ہوگیا

مانو نہ مانو بات مگر سچ یہی تو ہے

تھاما ہے جس نے ہاتھ وہ فنکار ہوگیا

اُس نے کہاں دماغ لگانا ہے شعر پر !!

شاعر یہاں جو صاحبِ دینار ہوگیا

وہ شخص سچے خواب کمائے گا ایک دن

جو خود ہی کچی نیند سے بیدار ہوگیا

اک دن امیرِ شہر کی صحبت میں کیا رہا

بچہ غریبِ شہر کا بیکار ہوگیا

بے وجہ اپنی ذات سے نفرت کرے ولی

یعنی وہ ذہنی طور پہ بیمار ہوگیا

۔۔۔

خلافِ واقعہ تم کہہ بھی سکتے ہو

خموشی کو تکلم کہہ بھی سکتے ہو

 سمندر قید جو آنکھوں میں ہے اس کی

درونِ دل تلاطُم کہہ بھی سکتے ہو

درختوں کو گرا کر جو بنی سڑکیں

یہ فطرت سے تصادم کہہ بھی سکتے ہو

کسانوں کے دلوں کا خون ہے جس میں

اسے تم سرخ گندم کہہ بھی سکتے ہو

غزالِ دشت کی آنکھوں کی شوخی کو

ولی رنگیں تبسم کہہ بھی سکتے ہو

۔۔۔

ہمارے شہر میں رہتے ہیں مارنے والے

خیال رکھنا یہاں شب گزارنے والے

عجیب شکل کے لوگوں میں ہم شمار ہوئے

کہیں سے آئیں ہمیں اب سدھارنے والے

کسی سے کس لئے انصاف مانگنے جاؤں

یہاں وکیل بھی ملتے ہیں ہارنے والے

ابھی تو قبر پہ کتبے تمہارے نام کے ہیں

کہاں ملیں تمہیں زندہ پکارنے والے

ابھی تو ہاتھ سے تعویز بھی نہیں اترا

صلیبِ ہجر سے مجھ کو اتارنے والے

لپٹ چکے ہیں مرے شاخِ دل شجر سے جو

حسین ناگ ہیں یہ روپ دھارنے والے

میں خود کو دور کروں کیوں بدن کی سرحد سے

ہمارے ساتھ ولی ہیں سنوارنے والے

۔۔۔

خود سے تُو باہر نکل اوقات سے آگے کی سوچ

روح کا بستر سمیٹ اور ذات سے آگے کی سوچ

کون کتنا پاس تیرے کون کتنا دور ہے

چھوڑ یہ باتیں ابھی حالات سے آگے کی سوچ

 اب پرائے لفظ سے کشکول بھرنا چھوڑ دے

رزق پاتے ہیں سبھی خیرات سے آگے کی سوچ

ایک دائم ہے وہی جس نے بنائی کائنات

 عارضی جھگڑے ہیں یہ سادات سے آگے کی سوچ

اب دیئے گھر کے دریچوں میں جلانا کس لئے

 تیرگی ہوتی ہے کیوں یہ رات سے آگے کی سوچ

شہر کو تصویر کرنا گردشِ ایّام میں

پاؤں کے چکر لگا اِثبات سے آگے کی سوچ

جب سلگتی ریت پر چلتے رہو گے دشت میں

تب دعائیں مانگ اور برسات سے آگے کی سوچ

خاک سے بڑھ کر تمارے خاک قسمت میں یہاں

بس غریبِ شہر اپنی مات سے آگے کی سوچ

دردِ دل کو شکل دے اور کاغذی برتن میں رکھ

سرد آہیں بھر ولی صفحات سے آگے کی سوچ

۔۔۔

Share