2nd. Urdu Sukhan Conference 2019, Chowk Azam | دوسری عالمی اردو سخن کانفرنس

دوسری عالمی اُردو سخن کانفرنس 2019ء چوک اعظم بتاریخ: 10 فروری 2019ء بروز اتوار۔۔۔۔۔ بوقت: 11 بجے دن تا 5 بجے شام۔ بمقام: پائینیرز انگلش سکول، چوک اعظم (ضلع لیہ)۔ پنجاب […]

دوسری عالمی اُردو سخن کانفرنس 2019ء چوک اعظم

بتاریخ: 10 فروری 2019ء بروز اتوار۔۔۔۔۔ بوقت: 11 بجے دن تا 5 بجے شام۔

بمقام: پائینیرز انگلش سکول، چوک اعظم (ضلع لیہ)۔ پنجاب

اُردو ادب کے فروغ اور کتاب بینی کے شوق کو اجاگر کرنے کے لیے تھل کے دل چوک اعظم میں مورخہ 10 فروری 2019ء کو ادارہ اُردو سخن پاکستان کے زیرِ اہتمام پائینرز انگلش سکول میں شاندار عالمی اُردو سخن کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ اس سے قبل 8 جنوری 2017ء کو ادارہ اُردو سخن پاکستان کے زیرِ اہتمام پہلی اُردو سخن کانفرنس منعقد کی گئی تھی جس کی جملہ کارگزاری کوبعد ازاں کتابی شکل میں پیش کیا تھا۔ دوسری عالمی اُردو سخن کانفرنس چوک اعظم کا انعقاد عالمگیر شہرت کے حامل شاعر و ناول نگار ناصر ملک، پائنیزز انگلش سکول کے منیجنگ ڈائریکٹر ملک محمد افضل اعوان اور انجینئر شبیر اختر قریشی نے کیا۔ ان کی معاونت محمد عمر شاکر، محمد ندیم اختر، خضر حیات ڈلو اور صفدر انصاری نے کی۔ یہ کانفرنس اپنی مدد آپ کے تحت کی گئی نہایت منظم، باوقار اور مدتوں یاد رہنے والی ادبی سرگرمی ہے۔ اس تقریب کیلئے بڑی عمدگی سے اسٹیج تیار کیا گیا اور مہمانوں اور شرکاء کی مجلس کا موسم کے مطابق بہترین اور آرام دہ انتظام کیا گیا۔

اُردو سخن کانفرنس میں ’’بک ایکسپو‘‘ کا بھی اہتمام کیا گیا جس کے تحت نہ صرف اپنی مطبوعات خوبصورت انداز میں نمائش کیلئے رکھی گئیں بلکہ دیگر اداروں سے شائع ہونے والی کتب کی بھی نمائش کی گئی۔ مختلف قیمتوں کے لحاظ سے تین اسٹالز سجائے گئے جن پر 60 فیصد تک رعائت کے ساتھ کتب فروخت کی گئیں۔ کانفرنس میں شریک ہونے والے شعرا و ادبا کے علاوہ حاضرین نے بھی ان اسٹالز کا وزٹ کیا اور کتابیں خریدیں۔

اُردو سخن کانفرنس کا آغاز ایک گھنٹہ کی روایتی تاخیر کے ساتھ 12 بجے دن ہوا۔ صدارت کی مسند پر معروف شاعر جاوید احمد (کہوٹہ) براجمان ہوئے جبکہ مہمانِ اعزاز کی نشستوں پر امر روحانی (دبئی) اور عبدالغفور کشفی (انگلینڈ) بیٹھے۔ خصوصی مہمان میجر شہزاد نیر (گوجرانوالہ)، افضل خان (بہاولپور)، ڈاکٹر فرتاش سید (ملتان) اور محمد مظہر نیازی (میانوالی) نے اپنی نشستیں سنبھالیں۔ کانفرنس چار حصوں میں تقسیم کی گئی تھی۔

پہلے سیشن میں محمد عمر شاکر نے نظامت کی ذمہ داری نبھائی جبکہ سیشن کا آغاز عائشہ جہانگیر نے تلاوتِ کلام پاک مع اردو ترجمہ سے کیا۔

نعت ِ رسول مقبول کی سعادت فریال ملک گروپ نے نعتِ مبارکہ ’’شاہِ مدینہؐ‘‘ پیش کی۔

ملک محمد افضل اعوان ، ڈائریکٹر پائنیرز سکول نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا۔

انجینئر شبیر اختر قریشی نے ادارہ اردو سخن پاکستان کے قیام اور کانفرنس کے انعقاد پر بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ اُردو کے فروغ و اشاعت کیلئے اُردو سخن پاکستان کی خدمات کا اعتراف بے حد ضروری ہے۔

اُردو سخن کانفرنس کا دوسر سیشن 12:30پر شروع ہوا۔ نظامت کرتے ہوئے بچوں کے معروف ادیب محمد ندیم اخترنےکتاب بینی کی اہمیت اجاگر کی اور تین کتابوں ’’منتہائے عشق‘‘، ’’درِ زنداں‘‘ اور ’’تطہیر‘‘ کا رسمی تعارف پیش کیا۔

عبدالغفور کشفی کی کتاب ’’اک نیا راستہ‘‘ کی باضابطہ رونمائی بدست لالہ محمد اسلم گجر، چیئر مین بلدیہ چوک اعظم کے ہاتھوں ہوئی ۔

عبدالغفور کشفی کی کتاب “اک نیا راستہ” بک ایکسپو میں بھی پیش کی گئی تھی۔ اس خوب صورت کتاب پر چوک اعظم سے تعلق رکھنے والے شاعر و نقاد کاشف صہیم نے بھرپور  انداز میں اپنا تنقیدی جائزہ پیش کیا۔انہوں نے کتاب سے منتخب اشعار بھی پڑھ کر سنائے اور سامعین دے داد سمیٹی۔

کتاب “اک نیا راستہ” از عبدالغفور کشفی پر کاشف صہیم کا تبصرہ

غالباً آج سے تین سال پہلے فیسبک پر اتفاقاً عبدالغفور کشفی نامی ایک پروفائل میری نظر کے سامنے آئی. میں نے اسے کھول کر دیکھا تو پتا چلا کہ یہ صاحب کوئی شاعر ہیں .

میں فوراً فالو کے آپشن پر کلک کرکے ان کے ہر نئے آنے والے کلام کا منتظر رہنے لگا۔آئے دن ان کا کلام پڑھنے کو ملتا

ایک سے بڑھ ایک شعر مجھے ذہنی آسودگی مہیاکرتا رہتا ۔ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا۔ ان سے کبھی کبھار میسج پر بات چیت بھی ہوجاتی اور مجھے ان سے ایک غیر محسوس اپنائیت سی ہونے لگی ۔مجھے ملاقات کی خواہش تھی اور آج ان سے مل کر بہت خوشی ہورہی ہے۔

احساس ایک ایسی چیز کا نام جو روح سے تعلق رکھتی ہے۔کسی چیز کا احساس وہی محسوس کرسکتا جو احساس رکھتا ہے۔احساس کی کوئی ظاہری شکل و صورت نہیں ہے جسے دیکھا جاسکتا ہو، مگر ہاں!  ایک شکل  ، ایک قالب موجود ہے جس میں احساسات کو بڑی نرمی اور شائستگی کے ساتھ رکھ دیا گیا ہے اور وہ ہے عبدالغفور کشفی صاحب کا مجموعہ کلام”اک نیا راستہ”

یہ عبدالغفور کشفی صاحب کا دوسرا مجموعہ کلام ہے جو غزلوں اور قطعات پر مشتمل ہے۔ جبکہ اس سے قبل  کشفی صاحب کا پہلا مجموعہ کلام” خواب میری جاگیر ہوئے ” ادبی مجلسوں میں ان کی پہچان کروا چکا ہے اور پزیرائی حاصل کرچکا ہے۔

ان کی غزلیں تمام تر خصوصیات یعنی اختصار ، موسیقیت، سوزو گداز ، ایمائیت  اور فصاحت و بلاغت کی حامل ہیں۔

کشفی صاحب گلشنِ ادب میں ایک ایسے پھول کی مانند ہیں جس کی خوشبو پورے گلشن کومہکا رہی ہے۔وہ نرم ، نرالہ ،انوکھا  اور منفرد لہجہ رکھنے والے شاعر ہیں۔وہ جدت کے قائل ہی نہیں بلکہ جدت کو اپنائے ہوئے ہیں اور روایت سے انحراف بھی نہیں کرتے۔ان کے کلام کی ظاہری صورت سادہ اور سلیس جبکہ باطنی صورت گہری اور پر اسرار ہے جو اپنے اندربے شمار وسعتوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔

وہ اپنے بڑے وسیع احساس اور خیال کو محض چند سادہ سے الفاظ میں اختصار کے ساتھ ایسے پرو دیتے ہیں کہ پڑھنے والا حیران ہوتا رہ جاتا جبکہ بات خودبخود اس کے پردہِ شعور کو ہلا کرچلی جاتی ہے۔دیکھیئے چند اشعار

ہاتھ میں چراغ رکھ
راستے میں رات ہے
مشکلیں بتائیں گی
کون کون ساتھ ہے
دوستوں کے ہاتھ میں
دشمنوں کا ہاتھ ہے
اسی طرز کی کچھ مثالیں مزید دیکھیئے
ہر ڈگر لکھا کرو
معتبر لکھا کرو
میرا گھر تمہارا ہے
اپنا گھر لکھا کرو
وہ جواب دے نہ دے
خط مگر لکھا کرو
جو بھی کشفی لکھنا ہو
مختصر لکھا کرو
آج کے اس دور میں انسان کاروبارِ جہاں میں ایسا پھنسا ہوا ہے کہ اسے عشق و محبت کے لیے بھی کوئی فُرصت نہیں۔میرو غالب کے دور میں عاشق محبوب پر جان قربان کرنا نَصب العین سمجھتا تھا جبکہ آج کے عاشق کو کرنے کے لیے اور بھی کئی کام ہیں اور سوچنے کے لیے اور بھی کئی موضوعات ہیں۔اگران سے کچھ لمحات فرصت پا کر وہ محبوب کی طرف متوجہ ہوبھی جائے تو ہلکی سے انا کو ملحوظِ خاطر رکھتا ہے۔ناصر ملک صاحب نے کہا تھا
میں تجھے مان رہا ہوں تو غنیمت اسے جان
ورنہ تو کچھ بھی نہیں تیرا کہا کچھ بھی نہیں
اگرچہ کشفی صاحب محبت کے دلدادہ ہیں مگر کبھی کبھی وہ بھی گردشِ دوراں کی لپیٹ میں آ کر جدید عاشق کا رویہ اپناتے ہیں اور کہتے ہیں۔
ضد محبت کی اس قدر کیونکر
کہہ دیا نا کہ جا نہیں ہوتی
ایک اور غزل میں قافیے کی تبدیلی کے ساتھ محبت سے احتیاط کرتے ہیں۔
اس محبت سے دور رہ کشفی
یہ کبھی عمر بھر نہیں ہوتی
کشفی صاحب کے ہاں جذبے کی اصلیت اور سچائی کے ساتھ ساتھ زبان اور اسلوب میں صداقت پائی جاتی ہے۔ صیح احساس اور گہرے شعور کو اچھوتے پن اور جدت کے ساتھ بیان کرنا کشفی صاحب کی خاص پہچان ہے۔دیکھیئے غزل کا چند اشعار۔
حشر کا وقت کوئی دور نہیں ہے لیکن
آدمی بے سرو سامان نظر آتا ہے
اس کے ہاتھوں سے جو محفوظ ہے خلقِ یزداں
وہ مجھے صاحب ِ ایمان نطر آتا ہے
تو اگر تنگ ہے رہنے سے جہاں میں کشفی
مطمئن کون سا انسان نظر آتا ہے
کشفی صاحب بالترتیب محبت، دوراندیشی۔ بے بسی اور بے انصافی کو کیسے خوبصورتی کے ساتھ ایک ہی بحر اور ایک ہی قافیہ ، ردیف میں ڈالتے ہیں۔۔دیکھیئے غزل کے چند اشعار۔
جوبھی چاہے سلوک کر ہم سے
ہم تمہیں دستیاب ہوتے ہیں
آنکھ پڑھنے کی چاہئے صاحب!
سارے چہرے کتاب ہوتے ہیں
آپ کو پوچھتا نہیں کوئی
میرے سارے حساب ہوتے ہیں
آو لُوٹیں وطن کو مل جل کر
کون سے احتساب ہوتے ہیں
انسان فطری طور پر تجسس کا مارا ہوا ہے وہ کیا ، کیوں اور کیسے میں ڈوبا رہتا ہے۔جب انسان ایک مدت تک انہی سوالوں میں کھویا رہے اور جواب بھی نہ پا سکے تو وہ اپنے سارے سوالوں کا جواب ایک ہی ذات پر چھوڑ دیتا اور خود کو اس ذات کے قریب کرتا چلا جاتا ہے۔ انسان کے اسی فطری سفر سے کشفی صاحب بھی گزرتے ہیں اور تجربات کا نچوڑ اپنے منفرد اور نئے لب و لہجے میں کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں۔ملاحظہ فرمایئے۔
مشکلیں آتی جاتی رہتی ہیں
اب کوئی حل میں سوچتا ہی نہیں
جو مقدر میں ہے وہ ہونا ہے
اس لیے کل میں سوچتا ہی نہیں
آج کل خوش گوار رہتا ہوں
اب مسلسل میں سوچتا ہی نہیں
غزل کی ایک بڑی خصوصیات اور پہچان یہ بھی ہے کہ اس کا ہر شعر اپنا ایک الگ موضوع رکھتا ہے۔اسی سہولت کی بنا پر شاعر ایک غزل میں مختلف موضوعات کو باآسانی بیان کرلیتا ہے۔کشفی صاحب مختلف موضوعات کو شیریں، نرم ، واضح ، عام فہم ، سادہ و سلیس زبان میں بیان کرنے کا ہنر خوب رکھتے ہیں۔
ملاحظہ کیجیے
یہ جو پل پل مرا بکھرنا ہے
یہ حقیقت میں پھر سنورنا ہے
اس لیے خاک سے محبت کر
ایک دن خاک میں اترنا ہے
باپ کو نیند ہی نہیں آتی
الوداع بیٹیوں کو کرنا ہے
ہمارا معاشرہ بے اعتدالی کا شکار ہے اور معاشرے میں پائی جانے والی بے اعتدالی ایک شاعر کے لیے ناقابلِ برداشت کیفیت ہوتی ہے۔ کشفی صاحب اسی کیفیت سے برسرِپیکار ہیں اور کہتے ہیں۔
خدایا اس مقدر میں کوئی ترمیم کی جائے
غریبی اِن امیروں میں ذرا تقسیم کی جائے
کشفی صاحب معاشرے کی کڑوی مگر سچی حقیقتوں پر قلم اٹھاتے ہیں اور لکھتے ہیں:
محشر جب دنیا میں سجائے جاتے ہیں
قبروں سے پھر لوگ اٹھائے جاتے ہیں
مطلب کی خاطر بے بس انسانوں کو
کیسے کیسے خواب دکھائے جاتے ہیں
چاہت میں سینوں کا ملنا لازم ہے
آپ تو بس اِک ہاتھ ملائے جاتے ہیں
کسی قوم کی بنیاد میں اس کا نظامِ تعلیم ایک حساس معاملہ ہے۔۔اگر اسی نظام کو بہتر رکھا جائے تو باقی نظام خودبخود درست سمت میں چلتے ہیں ۔کشفی صاحب نے اس بات کو بڑے سہل انداز میں بیان کردیا ہے۔دیکھیئے غزل کا ایک شعر
کیا تقاضے ہیں ملک و ملت کے
یاد رکھنا نصاب لکھتے ہوئے
کشفی صاحب ہر درجہ کے انسان کے مصائب کا بخوبی مشاہدہ رکھتے ہیں اور کہتے ہیں۔
گھر کے افراد کی آنکھوں میں حقارت اتری
جب سے درپیش بڑھاپے کا سفر آیا ہے
محض چند بحور پر مشتمل مگر انسانی حیات اور کائنات کی گہرایوں کا ترجمان کشفی صاحب کا مجوعہ کلام “اک نیا راستہ “مجھ جیسوں کے لیے یقینی طور پراک نیا راستہ ہے اور قابلِ رشک ہے۔کشفی صاحب دنیائے ادب میں اپنا ایک خاص مقام پیدا کرچکے ہیں ۔ان کی اس کتاب سے اور بھی بہت سے اشعار جو انسانی دل و دماغ کے قریب تر ہیں حوالے کے طور پر پیش کیے جاسکتے ہیں مگرمیں اِن اشعار کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔
تو ُ ذرا سی اگر اجازت دے
تیرے دل میں قیام رکھنا ہے
بات سنتے ہیں دوسروں کی بھی
خود کو بھی ہم کلام رکھنا ہے
زندگی مختصر سی ہے کشفی
بس محبت پیام رکھنا ہے۔

دوسری کتاب ’’میں نے آواز کو آتے دیکھا‘‘ معروف شاعر زبیر قیصر (اٹک) کی تھی جس کی رونمائی ماہرِ تعلیم مقبول حسین ہراج اور انجینئر شبیر اختر قریشی نے کی۔

اٹک سے تعلق رکھنے والے ملک کے ممتاز و معروف شاعر زبیر قیصر کے اس شعری  مجموعے پر تنقیدی جائزہ شاعر و نقاد فخر یاسین بلوچ نے پیش کیا۔ انہوں نے بہترین انداز میں نہ صرف کتاب کی اشاعت کو سراہا بلکہ اس میں سے کئی شہرہ ءِ آفاق اشعار منتخب کر  کے حاضرینِ محفل کو سنائے۔ ان کا پیش کردہ مقالہ۔۔۔۔۔

عنوان: زبیر قیصرؔکا شعری مجموعہ ’’ میں نے آواز کو آتے دیکھا‘‘
تبصرہ : فخر یٰسین بلوچ

نبی کے نام پہ سب کچھ عطاہوا قیصرؔ
کوئی قرینہ نہیں تھا مرے قرینے میں
نعت کے اس خوبصورت شعر سے زبیر قیصر ؔکی زیر نظر تصنیف’’ میں نے آواز کو آتے دیکھا‘‘ کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔
زبیر قیصرؔ کی تصنیف کے مطالعہ کے بعد یہ معلوم ہوا کہ وہ کسی بھی تخیل کو شاعری کے روپ میں ڈھالنے کا فن بخوبی جانتے ہیں۔جو ہر ایک شاعر کے بس کی بات نہیں ہوتی۔یہ شعر اُن کے کمال فن کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس نے آنکھ سے پکارا مجھ کو
میں نے آواز کو آتے دیکھا
زبیر قیصرؔ کی شاعری میں رومانویت،عشق حقیقی،عشق مجازی،انسانی ہمدردی اور معاشرتی عکاسی جیسے موضوعات پر قلم اُٹھایا گیا ہے۔ان کا کلام سادہ،عام فہم اور نئے تخیلات متعارف کرانے والا ہے۔ان کے کلام میں سادگی اور زبان کا استعمال اتنا عام فہم ہے کہ وہ قاری کو حصار میں جکڑ لیتا ہے۔اور ہر خاص و عام کو سمجھ آتی ہے ۔یہ اشعار اُن کے فن کا ثبوت ہیں۔
پرندے سوچتے ہیں کیا بنے گا۔
شجر کو اس کا سایہ کھا رہا ہے
نیکیاں اپنی ا پنی لے آؤ
میں نے دریا سے بات کر لی ہے
زبیر قیصرؔ ایک قادر الکلام شاعر ہیں۔ان کے ہاں عشق مجازی،عشق حقیقی اور ان کی آمیزش کا فن بھی کہیں کہیں دکھائی دیتا ہے۔
اب کوئی رنگ جمے گا کیسے؟
عشق نے رنگ جمایا ہوا ہے
اے مری پہلی محبت ترے پندار کی خیر
ہم تری کھوج میں نکلے تو خدا تک پہنچے
لکھا ہوا تھا لکیروں میں فاصلہ قیصرؔ
سو ہم نے عشق کیا ،فیصلہ نہیں بدلہ
شاعر معاشرے کے ظالمانہ رویوں،منافقت اور دو رنگی سے اس طرح دوچار ہے کہ معاشرے نے شاعر کو قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔
یہ بد حواس فقیہوں کا شہر ہے قیصرؔ
کوئی سوال اٹھاؤ گے تو مارے جاؤ گے
مرا شمار بھی ہوتا ہے کوفیوں میں زبیر
دعا کسی کے لیے ہے تو دل کسی جانب
زبیر قیصرؔ کی شاعری میں محبت،غم،ہجر اور اُداسی جا بجا نظر آتی ہے۔اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو میر کی طرح غم اور اداسی کا عالم چھایا نظر آتا ہے۔ میر کی طرح زبیر قیصر ؔکو بھی ’’قنوطی شاعر‘‘ کہنا بے جا نہ ہو گا۔
تمام کوششیں ناکام ہو گئیں قیصرؔ
وہ ایک شخص بھلایا نہیں گیا تجھ سے
درد و غم اب مجھے تنہا نہیں ہونے دیتے
تیرے جاتے ہی یہ مہمان چلے آتے ہیں
ہزار درد مرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں
میں اپنی ذات میں اک کاروان جیسا ہوں
زبیر قیصر کی شاعری میں غم اور اداسی کے بادل بھی چھائے ہیں مگر کہیں کہیں امید کی کرنیں بھی پھوٹتی ہیں اور شاعر کی بہادری اور جراٗت مندانہ صلاحیت بھی نظر آتی ہے کہ شاعر کٹھن حالات کا مقابلہ کرنا بخوبی جانتا ہے۔
بھلے ڈبو دے مجھے ہجر کا چڑھا دریا
پہ مانگنی نہیں تجھ سے کوئی مدد میرے دوست
وفا کی راہ گزرتی ہے ہوکے مقتل سے
میں جانتا تھا مگر راستہ نہیں بدلہ
جس طرح معاشرے میں رومانویت اور محبت کا بازار گرم ہے اسی طرح شاعر کا بھی کچھ محبت کے عالم میں اسیر ہونا نظر آتا ہے اور محبت میں اسیری کے چرچے تمام شہر میں ہو چکے ہیں۔ تو شاعر نے قلم اٹھایا اور کہا
تمام شہر میں ہیں میرے تذکرے قیصرؔ
بنا دیا ہے محبت نے اشتہار مجھے
شاعر اپنے محبوب کی گلی میںکسی کام کے لئے جاتا ہے اور اس منظر کی عکاسی کچھ اس طرح کرتا ہے ۔
کیا حُسن اتفاق تھا،اس کی گلی میں ہم
اک کام سے گئے تھے کہ پھرکام سے گئے
شاعر کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس پر بہار،حسن،جوبن اور شباب کا راج تھا۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ معاشرتی نا ہمواریوں نے اسے کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔تو شاعر اپنے ماضی اور حال کی عکاسی کچھ اس طرح کرتا ہے۔
ہوا کے ہاتھوں بکھر چکاہوں اگر چہ اب میں
پر اس سے پہلے گلا ب بن کر کھلا رہا ہوں
مجموعی طور پر زبیر قیصرؔ ایک اچھے شاعر ہیں۔روایت اور جدت کو ساتھ ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ ان کی شاعری معاشرتی عکاسی کی زندہ تصویر ہے۔

اُردو سخن کانفرنس کا تیسرا سیشن ایک بجے شروع ہوا۔یہ سیشن اردو مشاعرے پر مشتمل تھا جس میں اردو کے ممتاز شعرا نے اپنا کلام پیش کیا۔ مشاعرے کی نظامت ناصر ملک اور قیصر وسیم نے کی۔

ناصر ملک، (چوک اعظم):

عتیق العالم (چنیوٹ):

مطیع احمد مجتبیٰ (کہوٹہ):

مجھے بلایا تو تھا زندگی نے , میں نہ ملا
پکارا بھی تھا تری دوستی نے , میں نہ ملا
سراغ ملنے لگا تھا قدیم مدفن کا
زمین کھول رہی تھی خزینے , میں نہ ملا
کبھی رُلا بھی تھا کوئی مرے تعاقب میں
نکل گئے تھے کسی کے پسینے، میں نہ ملا
نجانے کونسی دنیا میں جا کے بس گیا ہوں
بہت تلاش کیا ہے کسی نے , میں نہ ملا
۔
چہرہ پوش عدو میرا یوں لگا کہ سادہ ہے
جو نہیں سمجھ سکا کیا مرا ارادہ ہے
اب چراغ کا بھی دم گھٹ رہا ہے کمرے میں
لگ رہا ہے اب ہوا میں بھی نم زیادہ ہے
جاھنک میرے دل میں تو تاکہ یہ حویدہ ہو
یہ جو میرا چہرہ ہے یہ فقط لبادہ ہے
زندگی میں یوں لگا کچھ نہ دیکھ پائے ہم
باغ ایک ہے مگر اس قدر کشادہ ہے
روح جل گئی مری دل بھی ہجر میں گیا
اب یہ بت بھی درد میں رہ گیا سو آدھا ہے
کوئی ہے جو پہچانے حکمراں کو دنیا میں
یار کوئی دنیا میں سعد بن عبادہ ہے؟
جیت تو فقط ہو گی بادشاہ کے حصے میں
جس نے جنگ ہاری ہے وہ تو اک پیادہ ہے

عمران عالی (احمد پور سیال)،:

نصیر حشمت گرواں (چنیوٹ):

نظم: سانحۂ ساہیوال کے تناظر میں ۔۔۔!!!
اپنا کیا جرم تھا ۔۔۔؟؟؟
ہم چلے اپنے گھر سے
تو خوش باش تھے ۔۔۔
تھا کوئی ڈر ہمیں نہ ہی کچھ خوف تھا ۔۔۔!!!
سارا ہی خانداں گفتگو میں تھا گم
بس پہنچنے ہی والے تھے شادی میں ہم
سارے بچے بھی تو کس قدر خوش تھے اور
پھر اچانک ؟؟؟
پھر اچانک نجانے یہ کیا ہو گیا ۔۔۔؟؟؟
آتے دیکھے محافظ جو اپنی طرف
تو گماں بھی نہ تھا
ایسا ہو جائے گا
اور پھر یہ ہوا۔۔۔!!!
سارا ہی خانداں موت کی زد میں تھا
گولیوں سے ہوئے چھلنی اپنے بدن
چند ہی پل میں پھر اپنے لاشے گرے
ایک دم سے ہی گھر پھر تباہ ہو گیا
سب فنا ہوگیا ۔۔۔!!!
ہم بڑوں کی تو پھر بھی چلو خیر ہے
اپنے بچوں کا کیا ؟؟؟
جن میں بہنا بڑی جان سے جا چکی ۔۔۔
چھوٹے جو تین ہیں
کون روکے گا جا ہچکیاں ان کی اب؟؟؟
کون بتلائے گا؟؟؟
ان کے سر پہ جو سایا تھا ماں باپ کا
اب نہیں وہ رہا۔۔۔!!!

مطلع اور ایک شعر :
یہ بڑے کام کی اداسی ہے
جو ترے نام کی اداسی ہے
سارا دن تو بڑا ہی خوب رہا
ہاں مگر شام کی اداسی ہے
غزل :
تری الفت کو دل میں بھر رہا ہوں
کہ میں پھر سے محبت کر رہا ہوں
وہی اب مجھ کو کمتر کہہ رہا ہے
میں جسکی ذات کا محور رہا ہوں
نجانے کیوں تمہاری بات مانی
میں اب تک تو بڑا خود سر رہا ہوں
ترے ملنے سے پہلے جان جاناں
خیال و خواب کا منظر رہا ہوں
تمہیں ملنےکی خاطر ہی نصیر اب
میں روز و شب دعائیں کر رہا ہوں

عاطف نصیر (بہاولپور):

راکب مختار (جھنگ) :

زبیر قیصر (اٹک):

فیصل صاحب (بہاولپور):

اسد رضا سحر (احمد پور سیال):

دھرکن ہے احتجاج میں کل سے نا جانے کیوں
دل کی بغاوتیں ہیں یا خبریں فراق کی
…..
وہ آ رہے ہیں پھول بچھا دو چہار سمت
ایسا نہ ہو کہ پھر یہ سجاوٹ نہ ہو سکے
…..
کارِ وحشت کا ابھی ایک نشاں باقی ہے
پھول بھیجے گا مجھے یار گماں باقی ہے
لوٹ سکتے ہی نہیں مال یہ سارے قزاق
میرے ہاتھوں میں ابھی تیر کماں باقی ہے
…….
چھپ کر رویا جا سکتا ہے
دل بہلایا جا سکتا ہے
آدم زادے عشق کی رہ میں
کام بھی آیا جا سکتا ہے
عزت ملنا مشکل ہے پر
نام کمایا جا سکتا ہے
نمک حرامی مادہ ہے جو
خون میں پایا جا سکتا ہے
آنسو پانی ہے پر اس سے
شہر جلایا جا سکتا ہے
غربت میں گر بھوک لگے تو
پتھر کھایا جا سکتا ہے
پیاسے لشکر کے پانی میں
ز ہر ملایا جا سکتا ہے
ویسے ملنا ناممکن ہے
خواب میں آیا جا سکتا ہے
اس بستی میں چپ رہ کر بھی
شور مچایا جا سکتا ہے
تیرے ایک اشارے پر بھی
سحر منایا جا سکتا ہے
……
آج مجھ کو بھی مرے احباب دھوکہ دے گئے
میں توانا شخص تھا اعصاب دھوکہ دے گئے
گائوں کی کچھ لڑکیاں اپنے گھڑے بھرنے گئیں
خشک تھا پانی وہاں تا لا ب دھوکہ د ے گئے
جو نظر آ تے تھے ا کثر اُ ن جبینوں پر تجھے
کیا کریں ماتھے کے وہ محراب دھوکہ دے گئے
ا پنے ہا تھو ں سے کھلا تا تھا مگر و ہ ا ڑ گئے
آ ج مجھ کو و ہ مر ے سرخاب د ھوکہ دے گئے
آ ج سے میں ہجر کا ٹو ں گا تسلی سے سحر
جو کبھی د یکھے تھے میں نے خواب دھوکہ دے گئے
……
اذیت ناک ہو تا ہے کسی کے ہجر میں رہنا
خوشی جتنی بھی مل جائے میں غم محسوس کرتا ہوں
عقیدت اور الفت سے میں جب مسجد کو جاتا ہوں
میں اُس کچی سی مسجد کو حرم محسوس کرتا ہوں
ہمارے در میاں جب سے رو یو ں کی چھڑ ی ہے جنگ
اگر وہ آپ بھی کہہ لے میں تم محسوس کرتا ہوں
……
کی جائےچھپ کےایسی یہاں غائبانہ بات
سرحد کے پا ر پہنچے نہ یہ کافرا نہ بات
محفل یہاں سجی ہے مگر تو نہیں یہاں
تیری بھی کاش ہوتی کوئی معجزانہ بات

عمر تنہا (فتح پور):

1۔ ۔۔بجھا ئے بجھ نہ سکیں گے کبھی بقا کے چراغ
سنا ں کی نوک پہ روشن ہیں کربلا کے چراغ
زمانہ اب بھی اُسی در سے نور پاتا ہے
کہ جس کی خاک سے روشن ہوئے وفا کے چراغ
مرے حسین زمانہ بھلا نہیں سکتا
جہاں کو روشنی بخشی گئی بجھا کے چراغ
اماں میں جن کو خدا ئے عظیم رکھتا ہے
بجھا کے مجھ کو دکھا ئے کوئی خدا کے چرا غ
نہا کے اپنے لہو میں وہ سر خرو بھی ہوئے
زمانہ جان لے جلتے ہیں یو ں وفا کے چراغ
اٹھا ئے کتنے ہی لاشے حسین نے تنہا
جلا کے لب پہ رکھے تھے مگر رضا کے چراغ

اُس رشکِ لالہ زار کی چاہت کے با وجود
ہوں خالی ہاتھ اتنی محبت کے باوجود
سودا گروں سے جا کے فقط ا تنا پوچھیے
تسکین کیوں نہیں تمہیں دولت کے باوجود
ہنس کر سہی ہیں میں نے زمانے کی ٹھوکر یں
نفرت نہ کی کسی سے بھی نفرت کے با وجود
محسوس ہو گیا ہے مجھے چل کے اُس کے ساتھ
و ه ہمسفر نہیں ہے رفاقت کے باوجود
یوں خود کو بیچنا مجھے ہر گز نہیں قبول
اِس نا مرا د عہدِ تجارت کے باوجود

محسن نقوی کی زمین میں ایک غزل ۔۔

کہنے کو تو اس زیست سے بے زار بھی میں تھا
جینے کے لیے بر سرِ پیکار بھی میں تھا
میں اپنے دل و جاں کا محافظ تھا عدو بھی
اور اپنے لیے ڈھال بھی تلوار بھی میں تھا
اِفلاس کا مارا ہوں تو اب کتنا برا ہوں
زردار تھا جب صاحبِ کردار بھی میں تھا
میں تارکِ دنیا تھا زمانے کی نظر میں
دنیا کی محبت میں گرفتار بھی میں تھا
میں سوختہ جانو ں کا مسیحا تھا جہاں میں
اورجان بہ لب تشنہ و بیمار بھی میں تھا

اس دل میں کسی درد کا ماتم بھی نہیں ہے
غمگین ہوں کچھ دن سے کوئی غم بھی نہیں ہے
اک وقت تھا اس آنکھ سے دریا کا گزر تھا
صد حیف کہ یہ آنکھ تو اب نم بھی نہیں ہے
اتنا بھی زیادہ نہیں لے ڈوبے یہ مجھ کو
یہ درد مرے دل میں مگر کم بھی نہیں ہے
یہ بات الگ دل میں مرے سیل ِ رواں ہے
آنکھو ں میں تو اک قطرہء شبنم بھی نہیں ہے
ہے کس کو پڑی کون یہاں مجھ کو منا ئے
اس شہر میں اب پیار کا موسم بھی نہیں ہے
اک فکر تھی لا حق مجھے جب صاحبِ زر تھا
افلاس کا مارا ہوں تو اب غم بھی نہیں ہے

وطن با سیو ں کے نام نظم …..ابھی امکان باقی ہے

اگر چہ دیس میں ہر سُو
زبو ں حالی کا منظر ہے
کہیں خود کُش کہیں گولی
کہیں پر تیز خنجر ہے
لگی ہے آگ یہ کیسی
د ھوا ں ہر سمت ہے دیکھو
دکھائی کچھ نہیں دیتا
سبھی ہیں خوف سے لر زاں
یہاں خود اپنے سا ئے سے
ہے شور اتنا دھما کو ں کا
سنائی کچھ نہیں دیتا
یہاں خلقت بھی گونگی ہے
یہاں سلطان بھی چپ ہے
لبو ں کو سی لیا سب نے
بڑے تاریک رستے ہیں
سجھائ کچھ نہیں دیتا
دلو ں پر خوف کا پہرا
دکھو ں سے زرد ہے چہرا
مگر یہ بھی حقیقت ہے
جسے تم آس کہتے ہو
ابھی تک سانس لیتی ہے
ابھی تک امن کی آشا
ہما ر ے دل میں زندہ ہے
غمو ں کے بہتے دریا میں
ابھی سب کچھ نہیں ڈوبا
ابھی امید کا لوگو
بہت سا ما ن باقی ہے
ابھی امکان باقی ہے

، شبیر ناقد (تونسہ شریف):

تنویر شاہد محمد زئی (کوٹ ادو):

عبدالرحمان واصف (راولپنڈی):

گمان توڑ چکا میں ، مگر نہیں، کوئی ہے
سرائے فکر میں بیٹھا ہوا کہیں، کوئی ہے
ورائے ذہن و زماں کس نے کائنات بُنی
تُو کیسے کہتا ہے کوئی نہیں، نہیں! کوئی ہے

ترے ہی بارے ہوں میں محوِ گفتگو مُجھے سُن
مجھے سنے نہ سنے کوئی ، یار تو مُجھے سُن
مآل۔ آیہء والتین ہے وجود مرا
سو لازمی ہے کہ تُو ہو کے باوضو مُجھے سُن

نہ خود کو دیکھ میاں اس قدر یقین سےتُو
ابھی تو ٹھیک سے پُھوٹا نہیں زمین سےتُو
خدا کرے کہ غلط ہو مرا گمان مگر
میں جب ٹٹولوں گا نکلے گا آستین سے تُو
یہ تیری کوفہ مزاجی مجھے بتاتی ہے
کہ ساز باز کرے گا مخالفین سے تُو
خمار چیز ہے کیا لذتِ شہی کیا ہے
یہ بات پوچھ کسی بوریا نشین سے تُو

ایک حسرت ہے، اندھیرا ہے، فغاں ہے، میں ہوں
رات اجڑے ہوئے کمرے میں رواں ہے، میں ہوں
ان خد و خال پہ اتری ہوئی وحشت کو سمجھ
آئنے تجھ میں کوئی اور کہاں ہے میں ہوں
ماند ہوتے ہوئے سایوں کے جلو میں لرزاں
یہ جو اک شخص مرے ہمسفراں ہے میں ہوں
حرف پاروں میں سلگتا ہوا غم ہے تُو ہے
راکھ ہوتی ہوئی سگریٹ کا دھواں ہے میں ہوں
چند بکھرے ہوئے اوراق مری میز پہ ہیں
نوحہ ء سینہ ء غفلت زدگاں ہے، میں ہوں
اڑتا پھرتا ہوں بگولا سا زمیں تا بہ فلک
ایک غم ہے جو کہیں خانہ بجاں ہے میں ہوں
خستگی تیرا برا ہو کہ بدل ڈالا مجھے
لوگ کہتے ہیں فلاں ابن فلاں ہے، میں ہوں

شاہد بخاری (بھکر):

سلیم نتکانی (مظفر گڑھ):

پروفیسر محمود پاشا (جہلم) :

میجر شہزاد نیر (گوجرانوالہ):

دم بہ دم گردشِ دوراں کا گھْمایا ھوا شخص
ایک دن حشر اْٹھاتا ھے گِرایا ھوا شخص
میں تو خود پر بھی کفایت سے اْسے خرچ کروں
وہ ھے مہنگائی میں مشکل سے کمایا ھوا شخص
یاد آتا ھے تو آتا ہی چلا جاتا ھے
کار ِ بے کار ِ زمانہ میں بھلایا ھوا شخص
دشت ِ بے آب میں آواز نہ الفاظ کہیں
ہر طرف دھوپ تھی، پھر پیڑ کا سایا ھوا شخص
جب ضرورت تھی، اْسی وقت مجھے کیوں نہ مِلا
بس اِسی ضِد میں گنوا بیٹھا ہوں پایا ھوا شخص
کیا عجب خوان ِ مقّدر ہی اْٹھا کر پھینکے
ڈانٹ کر خوان ِ مقّدر سے اْٹھایا ھوا شخص
اپنی شوریدہ مزاجی کا کروں کیا نیر
رْوٹھ کر جا بھی چْکا مان کے آیا ھوا شخص

آسان اٹھانا ہو کہ دشوار اٹھانا
تم بارِ محبت کو لگاتار اٹھانا
روتے ہوئے سویا تھا کہ سوتے ہوئے رویا
ہر صبح یہی قضیہء بے کار اٹھانا
آغازِ محبت میں بڑا بول نہ بولو
یہ بُور اٹھانا تو نہیں بار اٹھانا
کچھ صاف نظر آئے مجھے بارشِ گریہ!
آنکھوں سے ذرا پردہء نم دار اٹھانا
یہ بار اٹھے یا نہ اٹھے میری بلا سے
لازم ہے مجھے عشق کا آزار اٹھانا
آغاز ارادے ہی سے ہوتا ھے سفر کا
لنگر کا اٹھانا بھی ہے پتوار اٹھانا
اس دورِ عجائب کی غزل سیکھ چکی ہے
مٹی سے بھنور ، برف سے انگار اٹھانا

ہر بار در و بام کا آزار اٹھانا
آسان کہاں دوش پہ گھر بار اٹھانا
میں دونوں محاذوں پہ لگاتار لڑا ہوں
آواز اٹھانا ہو کہ تلوار اٹھانا
پانی پہ بِنا رکھنا خس و خارِ گماں کی
پھر تا بفلک وہم کی دیوار اٹھانا
ہو راہِ بغاوت کا سفر تم کو مبارک
طاعت کا قدم اب نہ مرے یار اٹھانا
اب علم بناتا ہے کُھلی سوچ کی راہیں
اب سہل نہیں ذہن میں دیوار اٹھانا
جس گام سوالوں کا سفر روک دے کوئی
اقرار وہیں پھینک کے انکار اٹھانا

اتنی نہ اپنے نام کی ہر سُو دُہائی دے
جتنا تجھے میں سُن سکوں اُتنا سنائی دے
مجھ کو کسی بھی حال میں خلقت کے ساتھ رکھ
جن کو خدائی چاہیے اُن کو خدائی دے
سانسوں کی ڈور کاٹ دے،افلاک چاک کر
محبوسِ دل کو خیمہء جاں سے رہائی دے
جو چاہتا ہو درد کے اُس پار دیکھنا
اُس کو رسائی روزنِ زخمِ جدائی دے
دیکھے گا کوئی تیرگی میں دل بجھا ہوا
جلتا ہوا چراغ تو سب کو دکھائی دے
ہم انتہائے عشق کے راہی تھے ، یاد کر
اب رنج دینے آیا ہے تو انتہائی دے
میں تجھ میں رہ کے خود سے بہت دور ہوگیا
اے یادِ یار ! اب مجھے مجھ تک رسائی دے
اُس کا وجود میرے تصور کا معجزہ
جیسا میں اس کو سوچ لوں ویسا دکھائی دے

آپ دل جوئی کی زحمت نہ اٹھائیں، جائیں
رو کے بیٹھا ھوں نہ اب اور رُلائیں ، جائیں
مجھ سے کیا ملنا کہ میں خود سے جُدا بیٹھا ھوں
آپ آجائیں ، مجھے مجھ سے ملائیں، جائیں
حجرہ ء چشم تو اوروں کے لئے بند کیا
آپ تو مالک و مختار ہیں آئیں، جائیں
اتنا سانسوں سے خفا ھوں کہ نہیں مانوں گا
لوگ رو رو کے نہ اب مجھ کو منائیں ، جائیں
زندگی تو نے دُکاں کھول کے لکھ رکھا ھے
اپنے حصے کا کوئی رنج اٹھائیں ، جائیں
جا بہ جا خون کے چھینٹے ہیں ھمارے گھر میں
کون سا ورد کرا ئیں کہ بلائیں ، جائیں
اور بھی آئے تھے درمان ِمحبت لے کر
آپ بھی آئیں کوئی زخم لگائیں ، جائیں
آمد و رفت کو دنیائیں پڑی ھے نیر
دل کی بستی کو نہ بازار بنائیں ، جائیں

امر روحانی (دبئی):
سخن میں یہ قرینہ آزمایا
بنایا جھوٹ لیکن سچ دکھایا
ملا کر جھوٹ اکثر سچ سنایا
عبادت میں ملانی تھی عقیدت
مگر ھم نے ہمیشہ ڈر ملایا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نہیں خواہش فلک تک ہو رسائی
میسر ہے زمیں سے آشنائی
خریدوں گا میں بچوں کے کھلونے
نہیں لینی مجھے اپنی دوائی
ملا ہے تجربہ مرنے کا ہر پل
مرے جینے کی محنت رنگ لائی
لبوں کو سی کے جینا چاہتا ہوں
ادھڑ جاتی ہے روزانہ سلائی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اہلِ پیمان و قسم کون ہے ، ہم جانتے ہیں
تیرے کعبے کا صنم کون ہے، ہم جانتے ہیں
یہ خداؤں کی نہیں جنگ ہے انسانوں کی
مالکِ دیر و حرم کون ہے ، ہم جانتے ہیں
طاق پہ رکھے بتوں نے بھی یہ سرگوشی کی
خالقِ بود وعدم کون ہے ، ہم جانتے ہیں
یہ مکافاتِ عمل ، حیلہ وسیلہ ، برحق
راقمِ لوح و قلم کون ہے ، ہم جانتے ہیں
خود ہی کھل جاتے ہیں الفاظ کے معنی جن پر
خوگرِ نطقِ عجم کون ہے ، ہم جانتے ہیں
ساقیا! کچھ بھی نہیں رنگ بھرے پانی میں
بادہ خانے کا بھرم کون ہے، ہم جانتے ہیں
کون ہے اہلِ تصرف کو سمجھنے والا
طالبِِ جاہ و حشم کون ہے، ہم جانتے ہیں
چاک دامان و گریباں ہو ضروری تو نہیں
کشتۂ جور و ستم کون ہے ، ہم جانتے ہیں
توسنِ عشق پہ گذری ہے جوانی کس کی
راکبِ ناز و نعم کون ہے ، ہم جانتے ہیں
لذتِ تن ہے گراں دل کی لطافت پہ امـر
چارۂ درد و الم کون ہے ، ہم جانتے ہیں

اتنا دشوار نہیں ایک لکھاری ہونا
شرط زنہار کسی وجد کا طاری ہونا
اک سعادت ہوئی برّاق کے بَخرے کو عطا
ورنہ لازم تو نہ تھا کوئی سواری ہونا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عدل کی رسم نبھائیں گے , چلے جائیں گے
صرف زنجیر ہلائیں گے , چلے جائیں گے
اک نیا رنگِ وفا مانگ رھی ھے دنیا
خود چراغوں کو بجھائیں گے چلے جائیں گے
باندھ رکھے ھیں سفر پاؤں میں، رکنے کے نہیں
داستاں اپنی سنائیں گے , چلے جائیں گے
عمر کے بیچ کبھی ، وقت سے پہلے ھی کہیں
موت کے ھاتھ نہ آئیں گے ، چلے جائیں گے
دشتِ ھستی میں یہی چارہ گروں کا ھے چلن
زھر پیاسوں کو پلائیں گے ، چلے جائیں گے
جینے والوں کا تعلق ھے بس اتنا ھم سے
ایک دو اشک بہائیں گے ، چلے جائیں گے
کوئی منزل ، نہ تمنّا ، نہ امیدوں کا اُفق
راہ کی گرد اڑائیں گے ، چلے جائیں گے
ھم نے سیکھی ھے ترے حسن سے یہ جادو گری
دل میں اک راہ بنائیں گے ، چلے جائیں گے
کوئی خیرات کسی در سے ملے یا نہ ملے
ایک آواز لگائیں گے ــــــــــ چلے جائیں گے

، افضل خان (بہاولپور):

محمد مظہر نیازی (میانوالی):

عبدالغفور کشفی (انگلینڈ):

ڈاکٹر فرتاش سید (ملتان):

جاوید احمد (کہوٹہ):

صدرِ محفل جاوید احمد نے مشاعرے میں دل پذیر رنگ بکھیرے۔ شائقینِ شعر نے دل کھول کر داد دی اور ہر اچھے شعر کو سراہا۔
اُردو سخن کانفرنس کا چوتھا سیشن ’’بزمِ غزل‘‘ تھا جو ساڑھے چار بجے شروع ہوا۔ کیلی گرافر اور گلوکار راشد رضا نے میوزک ٹریک پر گیت گا کر حاضرین کا دل موہ لیا۔

روش رباب نے مشہور غزل ’’اے جذبہءِ دل گر میں چاہوں، ہر چیز مقابل آ جائے‘‘ اتنی خوبصورتی سے گائی کہ شرکائے محفل جھوم اٹھے۔

اس سیشن کا اختتامی گیت سرائیکی زبان میں محمد مظہر نیازی نے گایااور پانچ بجے شام دوسری عالمی اُردو سخن کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچی۔

Viewers: 2062
Share