یاسمین سحر کے شعری مجموعہ “عکس جلتا ہے” کے بھرپور عکس

عکس جلتا ہے ——————— یاسمین سحر ——————— انتساب اپنے شریکِ سفر محمد صدیق بٹ کے نام! برابر کب رہی چاہت کہ ہم نے کہیں بڑھ کر تجھے حصہ دیا ہے […]

عکس جلتا ہے
———————
یاسمین سحر
———————
انتساب

اپنے شریکِ سفر
محمد صدیق بٹ کے نام!
برابر کب رہی چاہت کہ ہم نے
کہیں بڑھ کر تجھے حصہ دیا ہے
اور
استادِ محترم جناب اقبال کوثر کے نام!
میں اپنی بکھری ہوئی خاک کا ہی ذرہ تھی
ستارہ اس نے کیا کہکشاں میں بانٹ دیا

———
سحر اور رنگِ سحر
———
مجھے کسی معتدل موسم کا وہ وقت یاد آ رہا ہے جب فون پر یاسمین سحر نے اپنے شوہر صدیق بٹ کے حوالے سے میرے ساتھ پہلی بات کی۔ فون پر ہی اپنا کلام سنایا۔ رائے دریافت کی۔ اصلاحِ کلام کے لیے میری آمادگی کے ساتھ ہی مجھے گھر آنے کی پہلی دعوت دی۔
یاسمین کے ہاں اولین نشست میں میں نے اس کا خاصا کلام سنا اور حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ دیگر فنی نکات سمجھائے۔ یوں اس کی پہلے دن کی فنی تربیت کا آغاز ہوا۔ علاقائی پیشوں کی طرح فنونِ لطیفہ کے ذوق کی فیلڈ میں بھی جس سینئر کے پاس جب کوئی جونئیر پڑھنے یا کچھ سیکھنے بیٹھتا ہے تو عام دستور کے مطابق اول الذکر دوسرے کا استاد ہی قرار پاتا ہے۔ چنانچہ تسلسلِ وقت نے یہاں بھی استادی شاگردی کا رشتہ قائم کر دیا۔ یاسمین سے طویل ادبی قربت کے دوران میں نے اس میں جس قدر انسانی اوصاف پائے وہ میں نے کم کم ہی کسی میں دیکھے ہیں۔ میں نے اسے ایک نہایت سلیقہ شعار، خوش تدبیر فرد ہونے کے علاوہ ایک خود اعتماد اور محنتی گھریلو خاتون پایا ہے۔ اس کے سامنے کوئی مشکل مشکل نہیں ہوتی۔ گھرمیں روزمرہ کے کاموں کے ساتھ ساتھ اپنے میاں کی ضرورتوں کی پاسداری، اپنے بچوں کی پڑھائی، نگرانی اور تعلیمی معاملات کے علاوہ اپنے والدین کے بیشتر امورِ خانہ اور دیگر قریبی افرادِ خاندان کے گھروں میں شادیوں کے اہتمام تک کے سارے دردِ سر اس ایک خاتون نے اپنے کاندھوں پر سہار رکھے ہیں۔ یقیناً اس کی لمبی چوڑی فیملی اور اس فیملی کے کئی دوسرے تعلق دار اور دوست گھرانوں کی خواتین و بیگمات خود یا اپنے بال بچوں سمیت آئے دن اس کے ہاں مہمان کے طور پر آئے رہتے ہیں بلکہ مہمان نوازی کے سلسلے میں تو بلامبالغہ ایسا ہوتا ہے اور یہ بات بجائے خود حیران کن بھی ہو گی کہ ایک مہمان فیملی کے جاتے ہی دوسرے مہمان آ گئے اور ان کی موجودگی ہی میں یا غیر موجودگی میں کوئی تیسری ٹیم آ گئی اور پھر یہ بھی بعید از امکان نہیں کہ کوئی چوتھا گروپ بھی اپنے لائو لشکر سمیت وارد ہو جائے۔ گویا اس کے ہاں یہ تانتا بندھا ہی رہتا ہے اور یہ ہے کہ اپنی سدا بہار خندہ پیشانی سے سب کا خیر مقدم کر رہی ہے یا جانے والوں کو اپنی نرول مسکراہٹوں کے ساتھ ساتھ الوداع کہہ رہی ہے۔ یہی نہیں اس کے علاوہ وومن کلبوں کی ممبر، خواتین لائنز کلب جہلم کی تین سال تک جنرل سیکرٹری رہی اور اب وائس پریذیڈنٹ کے طور پر کام سنبھالے ہے۔ حال ہی میں جہلم ڈسٹرکٹ پبلک سیفٹی کمیشن کی بطور ممبر نامزدگی بھی ہوئی۔ چنانچہ اب اسے دیگر سوشل کاموں اور مسائل کا بھنڈار بھی اٹھانا اور نبٹانا پڑ رہا ہے۔
یہاں میں یاسمین کے میاں مسٹر صدیق بٹ کا ذکر نہ کروں تو شاید اس شاعرہ کی شاعری کے عملی ذوق کی کہانی کا ایک اہم کردار ڈراپ ہو جائے گا۔ کوئی بھی جاننے والا اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ صدیق، یاسمین کی سی ایک مثالی بیگم کا ایک مثالی شوہر اور اپنے بال بچوں کے لیے ایک مثالی ماں کی طرح مثالی باپ ہے اور کھلے کھرے مزاج کا ایک بااصول سا خود دار شخص ہے۔ دونوں میاں بیوی کے درمیان اپنے تمام کاروباری مسائل اور سماجی اور گھریلو امور و معاملات میں قابلِ رشک حد تک اشتراکِ خیال افہام و تفہیم اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ میں نے صدیق کو اپنی مسز اور بچوں کی ہر خواہش اور ذوق و شوق کی تعمیل و تکمیل پر ہمہ وقت کمربستہ اور مستعد پایا ہے۔ حتیٰ کہ بہت پہلے جب اسے اس بات کا علم ہوا کہ یاسمین شعر و شاعری کا شغفِ خاص بھی رکھتی ہے تو اس سلسلے میں اس نے ازخود اس کو اجازت کے علاوہ یہ آزادی بھی دے دی کہ وہ اپنے ذوق کی تسکین و تکمیل کے ساتھ ساتھ اس میں پوری دستگاہ حاصل کرے۔ آج حلقہءِ ادب میں صدیق بٹ کی جو شناخت، پہچان اور تعارف ہے اور جس حد تک شعر و ادب سے لگن اور شاعروں اور مشاعروں میں اس کی دلچسپی نے راہ پائی ہے، درحقیقت وہ تمام تر یاسمین کے شعری ذوق کے حوالے سے ہے۔ یہاں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جہاں وہ کاروباری لحاظ سے ایک محنتی اور ذمہ دار شخص ہے، وہاں اس کی سب دلچسپیاں یاسمین کی تکمیلِ ذوق کی سطح پر سمٹ آئی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ ہر اعتبار سے خود کو اس کی بیش از بیش حدمت پر مامور رکھتا اور حسبِ ضرورت اس کے ہر قسم کے مسائل و معاملات میں پوری طرح شیئر کرتا ہے۔
یاسمین سحر کی طبیعت میں نے شروع سے ہی شعر گوئی کے لیے موزوں پائی۔ شاید پہلے سے ہی کہیں وہ اکیلے اکیلے شعر کہتی رہی تھی۔ میرے فنی طریقِ تربیت و اصلاح کو اس نے بڑی ذہانت سے پک اَپ کیا۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ اس میں اچھی غزلیں اور غزلیہ اشعار کہنے کی استعداد نموپذیر ہوتی گئی۔ ان دنوں وہ اپنے آپ کو مشاعروں میں کلام پڑھنے پر آمادہ نہ پاتی تھی۔ لیکن پھر جلد ہی ایسا ہوا کہ اپنے میاں کی خواہش اور میری حوصلہ افزائی پر وہ اپنی شاعری کو تنہائی سے نکال کر جہلم کے ادبی دھارے میں لے آئی۔ پہلے مقامی قسم کے چھوٹے بڑے مشاعروں میں شرکت کی پھر جہلم اور کئی دوسرے شہروں کے علاوہ دوبئی، قطر اور کئی بار انگلستان کے بڑے مشاعروں میں باقاعدہ شرکت اس کے کلام کی مسلسل پذیرائی کا باعث بنی تو کئی گوشوں سے جرائد و رسائل کی طرف سے انٹرویوز کی دعوتیں ملنے لگیں۔ انگلستان کے متعدد شہروں میں ادبی تقریبات، بی بی سی اور ریڈیو ‘سب رس” کے علاوہ کئی دوسرے ریڈیو پروگراموں میں شرکت کے مواقع میسر آئے۔ یہاں اس کا کلام اور ادبی انٹرویوز بھی ریکارڈ ہوتے رہے اور ہر جگہ شعری مجموعے کے متعلق سوالات اور مطالبات بھی سامنے آئے۔ واپسی پر پاکستان میں بھی ایسے ہی مطالبے ہونے لگے۔ آخر میرے مشورے اور سب کی خواہش پر اس نے اپنا کلام سمیٹ کر مرتب کر ہی لیا۔ مقامِ شکر ہے کہ اب اس کا یہی کلام ‘عکس جلتا ہے” کے عنوان سے اشاعت پذیر ہو کر آپ کے مطالعے میں آ رہا ہے۔
یاسمین کی شاعری کی امیجری تتلیاں، جگنو، سورج، چاند، بارش، ہوا، دھوپ، رنگ، کرن، کلیاں، پھول، خوشبو اور آئنہ و عکس جیسی متعدد علامات پر مبنی ہے اور ان رنگوں سے وہ کئی منظر سجا کر انہیں اپنے مضمون و تخیل کا تخلیقی مظہر بناتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یاسمین جیسا کہ وہ اپنی شخصیت میں ظاہری و باطنی خوبصورتیوں کا مجموعہ ہے، اس کی یہی خوب صورتیاں جابجا اس کے شعر و فن میں بھی ڈھل آئی ہیں۔ اس کا شعری رویہ بالعموم ترقی پسند فکر کا حامل ہے اور اسلوب میں کلاسیکیت کا انداز ہے۔ شعری اظہار کے لہجے میں جدت ہے مگر یہ جدتِ محض بھی نہیں۔ یہ جدتِ زندہ شعری روایت سے مربوط ہو کر سامنے آتی ہے۔ شعراء و شاعرات کے تخلیقی اظہار میں فطرتاً ایک صنفی تفاوت ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ بعض صورتوں میں صنفی اعتبار سے ہی بالعموم ایک اور امتیاز یہ سامنے آتا ہے کہ ان میں شعری لہجہ اور طرزِ احساس ایک طرف شدت، گرماہٹ اور سرجوشی ہے تو دوسری طرف کوملتا، متانت اور اعتدال ہے۔ اندازِ اظہار کا یہ فرق و امتیاز بیشتر Genuine شاعروں اور شاعرات کے اشعار کے موازنے سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔
اس شاعرہ کے سارے شعری اظہار و بیان میں بھی قدرتاً ایسا ہی بلکہ یوں کہیے کہ ایک اپنا ہی نسائی لحن متصرف ہے۔ وہ اپنی ذات میں ایک خوش فکر، خوش باش اور ہنستی بستی خاتون ہے۔ ایسے ہی جیسے عام طور پر ایک خوشحال گھرانے کی کوئی خاتون ہوتی ہے۔ لیکن اس کی شخصیت کے اس انداز میں بھی ایک خود شناس سمٹائو، ایک رکھ رکھائو، ایک تمکین آمیز اور باوقار سی چھب موجود رہتی ہے۔ پھر جینوئن شاعری تو ایک تخلیقی سچائی کا نام ہے۔ چنانچہ خوش حال زندگی کی راحتوں، آسائشوں اور مسرتوں کے باوجود اس کے اشعار میں وہ دکھ درد اور کرب و اندوہ کی کیفیات اور جذبے چھپ نہیں پائے جو اس کی گہری سوچوں، حسی تجربوں اور شعری تمثالوں کے پیچھے کارفرما اور اس کے حساس باطن میں خلش اندوز ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا بیشتر کلام ذاتی اور اجتماعی انسانی دکھوں، خواہشوں، حسرتوں، خواب، شکستِ خواب، حزن و غم کے احساسات مرد و عورت کی سائیکی کے کئی پہلوئوں اور سماجی اور عمومی انسانی مسائل و احوال کی ترجمانی کرتے ہوئے جذبات کا عکاس ہے۔ اس کے علاوہ بھی اس مجموعے کی شاعری میں ایسی حسیات کی نشاندہی ہوتی ہے جو شاعرہ کے ادراک کی کئی سطحوں سے اظہار پاتی ہے۔ قومی معاشرے کی مسخ صورت حال اور اس میں رہنے والے افراد کی بے ثباتی، ذات کی شکست و ریخت، داخلی کشمکش اور محرومی و ناآسودگی کی خلفشار، احساسات کے پتھر بننے کا اندیشہ اور جذبے کے گداز کی خواہش، رفاقتوں کے جدا ہونے کا ملالا، سماجی روایات کے ردِ عمل میں خوف، اور اس خوف سے جذبوں کو راہِ اظہار نہ ملنا، تنہائی کی شدت، خود سے بے نیازی کی روش اور دوسروں کے کام آنے کا جذبہ، روحانی بالیدگی اور تحرک کی تمنا، جہاں شاعرہ کی ذاتی نفسی واردات بنتی ہیں، وہاں یہ بھی واضح کرتی ہیں کہ انسانی سائیکی کے بیشتر گوشوں میں شاعری کی نگاہِ فکر کس حد تک دروں بیں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روشنی کی تلاش و سراغ کا سفر، معیارِ فن کا خیال، اپنی تہذیبی اقدار کا پاس و لحاظ اور کئی دوسرے افکار و خیالات شاعرہ کی سوچ کی زمینوں میں اس کے شعری اظہار کی نمایاں تضمینات ہیں۔
اس تقریظ کو ختم کرنے سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ شاعرہ کے مسودہءِ کلام کے سرسری مطالعے کے دوران جو متعدد اشعار میری نگاہِ انتخاب میں آئے ہیں، ان کی تھوڑی بہت جھلک اس مجموعے کے قارئین تک بھی پہنچے تاکہ وہ جان سکیں کہ شاعرہ نے ان میں اپنے مختلف محسوسات و تخیلات کو کس حسن و خوبی، کیسی شعری جمالیت اور تمثال آفرینی کے رنگوں اور خوشبوئوں سے سنوارنے اور سجانے کی کوشش کی ہے۔

لازم تھی گفتگو میں کچھ ایسی ہی احتیاط
اک بات کو ہزار طرح سوچنا پڑا

پڑائو ڈالنا ہے ہم نے کن ستاروں پر
یہ آسمان سے آگے نکل کے دیکھیں گے

روشنی کی سمت کھلتا ہی گیا ہر راستہ
ہم تو جیسے آسماں کی سیڑھیاں چڑھتے گئے
میری تنہائی مرے ساتھ سفر کرتی ہے
کتنے ٹکڑوں میں مری ذات سفر کرتی ہے

ہم ایسے لوگ نصیب اپنا یوں اجالیں گے
خود اپنی لو میں جلیں گے دیا جلانے تک

جب گھٹن بڑھنے لگے درد کی شدت سے سحر
ایک کاندھا ہو کہ سر رکھ کے تو رو لے کوئی

مل بھی سکتی تھی ہمیں اس کی رفاقت لیکن
ہم بھرے شہر میں کس کس سے عداوت کرتے

اُڑوں بہار میں خوشبو کے سنگ ہو جائوں
ہوا میں گھل کے میں تتلی کا رنگ ہو جائوں
مثالِ آئنہ گر ٹوٹنا نہیں مجھ کو
نہیں ہے یہ بھی گوارا کہ سنگ ہو جائوں
فضائے شہر میں ہوں جانے کس ہوا میں ہوں
کہ جی میں آئے میں اُڑتی پتنگ ہو جائوں

روز دیوار گری رہتی ہے میرے اندر
جانے کیا جنگ چھڑی رہتی ہے میرے اندر
میرے چہرے پہ تو کچھ اور لکھا ہوتا ہے
اصل تحریر چھپی رہتی ہے میرے اندر
بولنے دیتا نہیں خوف زمانے کا مجھے
میری آواز دبی رہتی ہے میرے اندر

اس غزلیہ شاعری کے انتخاب کو سامنے رکھتے ہوئے مجھے اس بارے میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ شعروادب کے جینئس حلقوں میں اس کی کھلے دل کے ساتھ پذیرائی ہو گی۔ مزید برآں مجھے یقین ہے کہ آنے والے ادوار میں اس کا عہد اور زیادہ تابناک ہو گا اور اردو ادب کے ساتھ یاسمین کی اگر ایسی ہی وابستگی، لگن اور استقامت رہی تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ نئے امکانات کے باب کھولتی، شعروفن کے آفاق پر اور زیادہ معتبر حیثیت کے ساتھ جلوہ گر نہ ہو۔

اقبال کوثر
پاکستان

———
انا کے خول میں کچھ اس طرح سے بند ہوئے
وہ ہارتا نہیں جھکتی نہیں خودی میری
———

قلم پھر سے اُٹھا کر رکھ دیا ہے
کسی غم نے رُلا کر رکھ دیا ہے

یہ میری زیست میں کیا موڑ آیا
کہ اندر تک ہلا کر رکھ دیا ہے

کوئی خاکہ تری تصویر جیسا
بنایا تھا بنا کر رکھ دیا ہے

خس و خاشاک کا اک گھر تھا اپنا
ہوائوں نے مٹا کر رکھ دیا ہے

رہا بس یاد اک لمحہ کہ جس نے
سحر سب کچھ بھلا کر رکھ دیا ہے

———

سمجھ تو بیٹھے ہو مجھ کو خدا عقیدت میں
جو اپنے خواب سے لوٹ آئے تم حقیقت میں

بیاں پہ جھوٹ کا ہونے لگے گماں دل کو
نہ باندھنا کوئی تمہید یوں وضاحت میں

اتر سکو گے وفا کی کڑی شرائط پر؟
قدم تو ڈال رہے ہو تم اس مسافت میں

دیا تھا متن کو کچھ اور حاشیہ میں نے
یہ کیسی سرخیاں آنے لگیں عبارت میں

جہاں کی تلخیاں میرے لہو میں جلنے لگیں
میں کس مقام پہ آ نکلی ہوں محبت میں

تکلفات کی دیوار جب بلند ہوئی
تو سانس گھٹنے لگا جسم کی عمارت میں

میں دوستوں میں شمار اس کا نام کرتی رہی
جو دشمنوں سے بھی آگے رہا عداوت میں

اُڑان پر ہیں اب آزاد پنچھیوں میں ہم
بہت دنوں کے پڑے تھے کڑی حفاظت میں

وہی تو حرفِ ملامت میں پیش پیش ہیں آج
جو لوگ کل تھے مرے ساتھ اس بغاوت میں

گلے سے لگ کے ملی ہوں تو بندھ گئی ہچکی
ہوئی جو خود سے ملاقات آج فرصت میں

قریب آئی جہاں بھی قبولیت کی گھڑی
وہیں پہ آ کے خلل پڑ گیا عبادت میں

جو زندگی کی طلب زندگی پہ قرض رہی
حساب کون چکائے گا پھر قیامت میں

مرے قلم نے تو تصویر اور کھینچی تھی
مگر وہ ڈھلنے لگا اور ہی شباہت میں

ہوا ہے ایسا کچھ اب کے سحر خلافِ مزاج
وگرنہ ضد تو نہ شامل تھی میری عادت میں

———

میری تنہائی مرے ساتھ سفر کرتی ہے
کتنے ٹکڑوں میں مری ذات سفر کرتی ہے

آنکھ میں آئے ہوئے اشک کہاں رُکتے ہیں
رات بھر درد کی بارات سفر کرتی ہے

اُڑنے لگتے ہیں اندھیرے میں کئی جگنو بھی
میرے ہمراہ جو برسات سفر کرتی ہے

آنکھ بھی جیسے کہیں دور نکل جاتی ہے
خواب کے پہلو میں ہر رات سفر کرتی ہے

ایک تحریر میں ڈھل جاتے ہیں الفاظ سحر
اور کہانی میں تو ہر بات سفر کرتی ہے

———

بھنور سے نکلی ہوں آسانیوں پہ چلتی ہوں
کنارے پر نہیں میں پانیوں پہ چلتی ہوں

دماغ اطاعتِ دانش میں کام کرتا ہے
میں دل کی مان کے نادانیوں پہ چلتی ہوں

سیاہی گھیرا مرے گرد تان لیتی ہے
جو کوئی دور میں تابانیوں پہ چلتی ہوں

ٹھہرتی ہوں میں کوئی لمحے سکھ کی چھائوں میں
پھر ایک عرصہ پریشانیوں پہ چلتی ہوں

عجیب خواب ہیں شب کے فسوں میں الجھے ہوئے
سو گام گام میں حیرانیوں پہ چلتی ہوں

———

خدا کا شوق کسی کو بتوں کا شوق رہا
ہم آئنے تھے ہمیں پتھروں کا شوق رہا

گزرتی دیکھی تھیں خود پر قیامتیں کیا کیا
وہ دن بھی کیا تھے کہ اچھے دنوں کا شوق رہا

ہماری ہار کا تھا اک یہی تو المیہ
کہ جیت کر بھی ہمیں معرکوں کا شوق رہا

اگرچہ منزلیں پھرتیں رہیں تعاقب میں
مگر وہ ہم کہ ہمیں راستوں کا شوق رہا

نہ مل سکا کسی تعبیر کے لیے کوئی خواب
اور آنکھ تھی کہ جسے رتجگوں کا شوق رہا

سفر کی مشکلیں بھی کون جھیلتا ہے سحر
پرائے شہر میں کس کو گھروں کا شوق رہا

———

روشنی سے دور جانے کن فضائوں تک گئی
تھام کر میں ہاتھ اس کا انتہائوں تک گئی

———

عجیب طرح سے گزری ہے ہر گھڑی میری
کہ جیسے اس کی امانت تھی زندگی میری

میں جانے کون سی دیوانگی کی حد پر تھی
رلا گئی جو زمانے کو بھی ہنسی میری

خود اپنی ذات میں جیسے میں اک سمندر تھی
بجھا سکے نہیں دریا بھی تشنگی میری

میں اپنے پیار میں قائل نہیں شراکت کی
کہ منفرد ہے بہرحال دوستی میری

انا کے خول میں کچھ اس طرح سے بند ہوئے
وہ ہارتا نہیں جھکتی نہیں خودی میری

میں تیری سوچ کے ہر گلستاں میں مہکوں گی
خزاں چرا نہیں پائے گی تازگی میری

جچی نہ جس کی نگاہوں میں میری آرائش
کھٹک رہی ہے اب اس کو ہی سادگی میری

———

لاکھ پنجرے کی شب و روز حفاظت کرتے
پنچھی اُڑ جاتے اگر ہم نہ محبت کرتے

قافلے راہ میں قدموں کے نشاں چھوڑ گئے
کاش خوشبو کی طرح درد بھی ہجرت کرتے

حوصلہ دل میں نہ تھا اشکوں سے تر آنکھیں تھیں
ورنہ ہم تجھ کو دعائوں میں ہی رخصت کرتے

وہ جو جذبات کی حرمت سے بھی ناواقف ہیں
کیسے ممکن تھا کہ وہ پیار کی عزت کرتے

مل بھی سکتی تھی ہمیں اس کی رفاقت لیکن
ہم بھرے شہر میں کس کس سے عداوت کرتے

———

جو ہم چاہیں فضائے جاں میں وہ موسم نہیں آتے
سبھی پھولوں کے حصے میں خزاں کے غم نہیں آتے

بکھر کر بھی دیا ہے پھول نے پیغام خوشبو کا
صبا کے سارے جھونکے ورنہ لے کر نم نہیں آتے

کچھ آنکھیں کھوئی رہتی ہیں بہاروں کے تصور میں
مگر خوابوں کے جگنو بھی تو بے موسم نہیں آتے

کچھ اس رستے میں غم کی آندھیاں بھی کم نہیں ہوتیں
تمہارے گھر کو کچھ دانستہ بھی اب ہم نہیں آتے

کچھ آنسو ایسے ہوتے ہیں دلوں پر ہی جو گرتے ہیں
سبھی گوہر تو تیرے نام اے شبنم نہیں آتے

———

واقعہ یاد کب رہا ہو گا
ہر کسی نے بھلا دیا ہو گا

نوحہ ہر آنکھ میں رکھا ہو گا
خواب کو دفن کر دیا ہو گا

جانے کس کس جگہ کہانی میں
نام اس نے مرا لیا ہو گا

دل میں باقی نہ ہوں گے وہ منظر
یاد کا عکس رہ گیا ہو گا

ایک سرخی سی ہے افق پہ ابھی
ورنہ سورج تو ڈھل چکا ہو گا

اپنی دنیا میں گم وہ دنیا میں
میری مانند کھو گیا ہو گا

کیسے جلتا ہے خوں رگوں میں سحر
تم نے محسوس تو کیا ہو گا

———

پورا کرنا تھا کسی شخص سے وعدہ تھا کوئی
ورنہ اس شہر میں رکنے کا ارادہ تھا کوئی

واقعہ ہم پہ نہ کھلتا تو یہی ہم کہتے
کوئی فرضی سی کہانی تھی یہ قصہ تھا کوئی

کچھ تعلق نہ تھا پر اپنے قریب آنے میں
مشترک درد کے احساس کا رشتہ تھا کوئی

اپنی تنہائی کا گوشہ جسے ہم سمجھے تھے
وہ تو صحرا کو نکلتا ہوا رستہ تھا کوئی

وہ جسے وقت نے منظر سے ہٹا ڈالاہے
وہ مری روح مرے جسم کا حصہ تھا کوئی

اس کو ملنے سے رہی خود میں گریزاں ورنہ
فاصلہ بیچ کا ایسا بھی زیادہ تھا کوئی

———

مکمل جب بھی کرتی ہوں کوئی خدشہ سا رہتا ہے
نہ جانے کم ہے کیوں تصویر کیا نقطہ سا رہتا ہے

کبھی کچھ اس طرح کا حادثہ بھی یاں گزرتا ہے
بڑی مدت تک اس کا شہر میں چرچا سا رہتا ہے

نقاب اپنی انائوں کے اتار آئے ہیں ہم لیکن
ہمارے درمیاں اب بھی کوئی پردہ سا رہتا ہے

محبت میں ذرا سا فاصلہ بھی بار ہوتا ہے
جدا اس سے نہ ہو جائوں یہی دھڑکا سا رہتا ہے

اذیت اس میں تنہائی کے دکھ سے بھی زیادہ ہے
کسی کا ساتھ پا کر جب کوئی تنہا سا رہتا ہے

میں سارا قرض جو اس زندگی پر تھا اُتار آئی
تمہارے نام کا اب تک کوئی لمحہ سا رہتا ہے

———

ایک لمحے کو مرے دل میں بغاوت اُتری
پھر مرے شہر پہ کیا کیا نہ قیامت اُتری

میں نے مضمون کو عنوان دیا نفرت کا
پر قلم سے تو ترے نام محبت اُتری

جب پروں پر ہی نہ باقی کوئی تحریر رہی
تب مرے نام رہائی کی اجات اُتری

دل میں پھر غم کی لطافت کی مہک پھیل گئی
پھر رواں درد ہوا جسم میں راحت اُتری

ضبط کے ایسے اصول اپنے لیے ہم نے چنے
لب و لہجہ میں نہ اظہار میں شدت اُتری

کوئی مصرف نہ رہا زندگی کرنے کا سحر
ٹوٹ کر یوں مرے اعصاب پہ فرصت اُتری

———

اپنے پیکر میں شعاعوں کو سمو لے کوئی
زیست آنچل نہیں رنگوں میں بھگو لے کوئی

جاگتی آنکھیں شبِ ہجر میں تھک جائیں گی
اوڑھ کر یاد گئے وقت کی سو لے کوئی

کہہ رہی ہے یہ گھنی گھاس پہ گرتی شبنم
غم نکھر آئیں گے کچھ دیرتو رو لے کوئی

خامشی میں ہی گزر جائے نہ جیون کا سفر
میری تنہائی کے سناٹے میں بولے کوئی

روشِ خواب سے خوشبو بھری کلیاں چن کر
چُوم لے آنکھ سے پلکوں میں پرو لے کوئی

خاکِ تن میری ، ہوائوں میں بکھر جائے سحر
میری پرواز کے پر اتنے تو کھولے کوئی

جب گھٹن بڑھنے لگے درد کی شدت سے سحر
ایک کاندھا ہو کہ سر رکھ کے تو رو لے کوئی

———

خود اپنی ذات میں کیا کیا نصاب رکھے تھے
بقایا اس نے ابھی کچھ حساب رکھے تھے

بدن کا جیسے کسی نے لہو نچوڑ لیا
مگر نگاہ میں تازہ گلاب رکھے تھے

زمانہ نیند کا کس سوچ میں گزار دیا
یہ کس نے شام ہتھیلی پہ خواب رکھے تھے

کیا ہے نقش کو تصویر کس طرح اس نے
مرے تو چہرے پہ کتنے نقاب رکھے تھے
یہ زندگی تھی اور اس زندگی کے پہلو میں
کہیں پہ درد کہیں پر عذاب رکھے تھے

پسند دونوں کی اپنی تھی، اپنی اپنی جگہ
سو اپنی اپنی جگہ انتخاب رکھے تھے

نتیجہ کر تو لیا اخذ اک کہانی کا
ادھورے گرچہ ابھی اس کے باب رکھے تھے

پرکھنے کے لیے اس نے مری ذہانت کو
کئی سوالوں کے اندر جواب رکھے تھے

لپیٹتے گئے اپنے ہی دائروں میں مجھے
کسی نے کیسے بھنور زیرِ آب رکھے تھے

———

مرے خدا نے اثر تو دعا میں ڈال دیا
پر اس نے فیصلے کو التوا میں ڈال دیا

کچھ ایسے اپنی حراست میں اس نے رکھا مجھے
رِہا کیا تو کوئی دن سزا میں ڈال دیا

شبِ طلب کو اجالے ہوئے تھی لو جس کی
وہ ماہتاب کسی نے گھٹا میں ڈال دیا

سجھائی کچھ نہیں دیتا عجب مسافت میں
یہ اس نے لا کے مجھے کس فضا میں ڈال دیا

میں پُور پُور محبت میں اس کی بھیگ گئی
تو میری خاک کو اس نے ہوا میں ڈال دیا

سحر گیا نہ جو اب تک مری ہتھیلی سے
لہو سا رنگ وہ کس نے حنا میں ڈال دیا

———

جو دل پہ نقش ہوں منظر سہانے لگتے ہیں
کسی کے بھولنے میں بھی زمانے لگتے ہیں

بہت سے اور بھی کھلتے ہیں درد اُس لمحے
جب ایک غم کو ہنسی میں چھپانے لگتے ہیں

قلم کو چوم لیا ہم نے لکھتے وقت کبھی
کبھی خود اپنا لکھا بھی مٹانے لگتے ہیں

عجیب درد ہے جس دم کوئی دلاسا دے
مجھے تو پچھلے بھی غم یاد آنے لگتے ہیں

ہم ان سے اپنی کوئی بات کرنا چاہتے ہیں
وہ داستان جہاں کی سنانے لگتے ہیں

حدیثِ زیست بھی اپنی عجب ہے پڑھ کے جسے
کبھی تو رونے کبھی مسکرانے لگتے ہیں

رقم کیا جنہیں اوراقِ دل پہ ہم نے کبھی
کبھی وہ شام کے منظر ڈرانے لگتے ہیں

کبھی تو ملتے ہیں دو اجنبی بھی ایسے سحر
کہ ان کے بیچ تعلق پرانے لگتے ہیں

———

سخن میں ڈوب کر افکار کے اندر سے نکلی ہوں
بڑی مشکل سے میں کردار کے اندر سے نکلی ہوں

یہ کیسی تان میں بھر کر اُتارا خود کو نغمے میں
ڈھلی سُر میں نہ میں جھنکار کے اندر سے نکلی ہوں

مری مرضی بھی شامل جب ہوئی ہے اس کی مرضی میں
میں ضد کو توڑ کر انکار کے اندر سے نکلی ہوں

کہیں بنیاد میں شامل ہوا ہو گا لہو میرا
میں مٹی ہو کے جس دیوار کے اندر سے نکلی ہوں

کیا تخلیق اس نے مجھ کو کس معیار پر رکھ کر
ڈھلی فن میں نہ میں فنکار کے اندر سے نکلی ہوں

مجھے چھانٹا ہے جانے کس نے رکھ کر کس کسوٹی پر
میں کیا جانوں میں کس معیار کے اندر سے نکلی ہوں

کوئی بھی قوس اس تصویر کی کھلتی نہیں مجھ پر
میں کن ہاتھوں سے کس پرکار کے ا ندر سے نکلی ہوں

سحر آساں نہ تھا اپنے مقابل آ کے خود لڑنا
یہی ہے جیت میری ہار کے اندر سے نکلی ہوں

———

ہم اس کو دوست نہیں زندگی سمجھتے ہیں
وہ دشمنی بھی کرے، دوستی سمجھتے ہیں

رہی ہوں چاند ستاروں سے نسبتیں جن کی
کسی چراغ کی وہ روشنی سمجھتے ہیں

گزار آئے تھے کل جو تری رفاقت میں
وہ ایک لمحہ بھی ہم قیمتی سمجھتے ہیں

کیے ہوئے ہیں مکمل تو اپنے آپ کو ہم
مگر جو زندگی میں ہے کمی سمجھتے ہیں

رویے میں وہ کبھی اس قدر بدلتا ہے
اسے بھی عام سا اک آدمی سمجھتے ہیں

———

ترے اندر کہیں جب بھی اداسی بولتی ہو گی
مری آواز میں ڈھل کر خموشی بولتی ہو گی

مکاں کتنے ہی گر کر اک کھنڈر میں ڈھل گئے ہونگے
پرانے شہر میں اب بھی تباہی بولتی ہو گی

نئے لہجے میں لکھے گا وہ اب کے سرگزشت اپنی
مگر تحریر تو خط میں پرانی بولتی ہو گی

اُفق کے پار سورج تو کبھی کا ڈھل چکا ہو گا
در و دیوار سے لپٹی سیاہی بولتی ہو گی

دلوں میں خواہشیں اور خواب ماتم کر رہے ہوں گے
سحر نوحے میں ڈوبی اِک کہانی بولتی ہو گی

———

ذرا سا واقعہ کس انتہا تک لے گیاہے
اٹھا کر بات دنیا کی خدا تک لے گیاہے

معافی کی نہ گنجائش نکل سکتی تھی اس میں
قصور ایسا تھا جو ہم کو سزا تک لے گیا ہے

ہم اس کے نام لکھتے جا رہے تھے بے وفائی
نہ جانے کون سا وعدہ وفا تک لے گیا ہے

سماعت میں کہیں برپا ہوا ہے شور ایسا
جو گویائی مری ، میری صدا تک لے گیا ہے

کہیں ہلکی سی آہٹ بھی نہیں دیتی سنائی
چُرا کر شہر سے کوئی ہوا تک لے گیا ہے

سحر اک لفظ بھی جملے میں اب ڈھلتا نہیں ہے
لبوں سے چھین کر کوئی دعا تک لے گیا ہے

———

قلم جو میرا زبان و بیاں سے آگے چلے
تو میری بات مری داستاں سے آگے چلے

زمین والوں کی مجبوریاں کچھ ایسی تھیں
مدار پر جو رُکے آسماں سے آگے چلے

وہ دل بدن کی ضرورت جسے سمجھتے تھے
نکال پھینکا تو آہ و فغاں سے آگے چلے

کہیں سفر میں جو تھوڑی سی پیش رفت ہوئی
وہیں پہ آ کے رکے ہم جہاں سے آگے چلے

میں اپنی شب سے نکل آئوں دن کے ہونے تک
لکیر کاٹے سیاہی، نشاں سے آگے چلے

یقیں کی آخری دیوار گر چکی تھی سحر
جب اپنی سوچ میں وہم و گماں سے آگے چلے

———

طلب ایسی نہ کوئی چیز ضرورت جیسی
کوئی تو بات تھی ہم تم میں محبت جیسی

گر خدا میرا مرے دل کی دعا سن لیتا
صورتیں ساری بناتا تری صورت جیسی

دیکھنا اس کو فقط ٹوٹ کے دیکھا کرنا
میری حالت بھی تھی دیوانوں کی حالت جیسی

آنکھ میں اُترے کوئی چہرہ ترے چہرے سا
کوئی تصویر تو ہو تیری شباہت جیسی

تیرے ہمراہ ترا سایہ بھی کب دیکھ سکوں
دل جلاتی ہے کوئی بات رقابت جیسی

ان دنوں وقت بھی ٹھہرا ہوا سا لگتا تھا
اور فرصت بھی تھی ہم کو کوئی فرصت جیسی

———

ایسا نہیں کہ شہر میں چرچے نہیں رہے
اکثر ہمارے جاننے والے نہیں رہے

اک میں ہی اپنے آپ میں تنہا نہیں ہوئی
کتنے ہی گھر ہیں ساتھ جو بستے نہیں رہے

کاٹے شبِ فراق میں ایسے بھی رتجگے
پھر اس کے بعد آنکھ میں سپنے نہیں رہے

یوں بھی اکیلا خود کو سمجھنے لگی ہوں میں
جو دل سے تھے قریب وہ رشتے نہیں رہے

یا داستاں ہی مدتوں پیچھے چلی گئی
یا خلق کی زباں پہ ہی قصے نہیں رہے

جن کے اُجالنے میں لگی ہم کو ایک عمر
اب آئنے میں نقش وہ چہرے نہیں رہے

اپنی رضا سے بھی کیے کچھ میں نے فیصلے
سب اس کے اختیار ہی چلتے نہیں رہے

موسوم جو کیے تھے ترے نام پر کبھی
آباد اب وہ شہر کے رستے نہیں رہے

———

خود اپنا عکس بنے روشنی کے ساتھ چلے
کہاں تک آدمی اس زندگی کے ساتھ چلے

تمام عمر گزاریں تری رفاقت میں
جو سلسلہ بھی چلے دوستی کے ساتھ چلے

وہی تو راستہ جاتا تھا روشنی کی طرف
نظر میں رکھ کے جسے تیرگی کے ساتھ چلے

رہِ حیات میں کیا کیا نہ قافلے گزرے
کسی کے ساتھ رکے ہم کسی کے ساتھ چلے

وہ ایک شکل ڈھلی جانے کتنے چہروں میں
جو اس کے عکس میں تھے ہم اسی کے ساتھ چلے

نہ جانے کیسا تعلق کوئی نکل آیا
ہمارے سلسلے اک اجنبی کے ساتھ چلے

کس انتہا پہ گیا آج دل کا درد سحر
قدم ملا کے غم اپنے خوشی کے ساتھ چلے

———

میں جس جگہ اُسے چاہوں وہاں دکھائی دے
زمیں زمیں نہ رہے آسماں دکھائی دے

میں اس کے ہاتھ میں دے دوں گی زندگی اپنی
کوئی تو تجھ سا کہیں مہرباں دکھائی دے

سوال اٹھاتی ہے ہر روز اک نیا کوئی
یہ زندگی بھی ہمیں امتحاں دکھائی دے

بھڑکتی ہے کبھی چنگاری سی کوئی دل میں
پھر اس کے بعد دھواں ہی دھواں دکھائی دے

میں اپنی دنیا کو آباد آپ کر لوں گی
جو میری سوچ سا مجھ کو جہاں دکھائی دے

گزرنے والاہے طوفان کوئی پھر سے سحر
کسے یہ کشتی کسے بادباں دکھائی دے

———

دل کو بہلاتی کوئی بات رہی تھی کچھ دن
ہاں تری یاد مرے ساتھ رہی تھی کچھ دن

ہم بہت پہلے اسی شہر میں ٹھہرے تھے کہیں
اجنبی تجھ سے ملاقات رہی تھی کچھ دن

پھر کسی درد نے یوں پہلو میں کروٹ بدلی
پھر وہی صورتِ حالات رہی تھی کچھ دن

۔۔۔ق۔۔۔

اب تو ہر عکس سے تصویر نظر آتی ہے
میری پلکوں پہ سیہ رات رہی تھی کچھ دن

نظر آتا نہیں بھٹکا ہوا جگنو بھی کوئی
دل کے ویرانے میں برسات رہی تھی کچھ دن

———

رہ بدل لی ہے وہ جب سامنے سے گزرے ہیں
دل و جاں پوچھ نہ کس سانحے سے گزرے ہیں

وہ ہمیں دیکھنے کو جس سے گزرتا تھا، ہم آج
ڈھونڈنے اس کو اُسی راستے سے گزرے ہیں

دو ہیولے سے الگ چلتے ہوئے دیکھے تھے
عکس اک ساتھ مگر آئنے سے گزرے ہیں

دور سے آتا ہوا دیکھا ہے جب بھی اس کو
راستہ چھوڑ کے ہم فاصلے سے گزرے ہیں

ہر نیا عہد کہانی کو جنم دیتا ہے
ہم سمجھتے ہیں کہ ہم حادثے سے گزرے ہیں

———

زندگی تنہائی کے کس کرب سے گزری نہیں
اور ہجومِ درد کو کوئی گلی نکلی نہیں

جانے کن الفاظ میں جکڑی رہی اپنی زباں
اپنے حق میں ایک بھی ہم نے دعا مانگی نہیں

جاگ اٹھیں خواہشیں پھر شام کی دہلیز پر
گھر کے آنگن میں ابھی تک روشنی اُتری نہیں

ہم نے لفظوں کو نہیں گرنے دیا معیار سے
ورنہ تیرے نام کی بازی کہاں کھیلی نہیں

جانے کیسے رنگ تھے جو ہاتھ سے اُترے نہیں
ورنہ اب مٹھی میں میری کوئی بھی تتلی نہیں

———

تیرگی کرتی رقم کس کہکشاں تک آ گئی
میں زمیں کی کھوج میں تھی آسماں تک آ گئی

آگے پیچھے دور تک پھیلا ہے کوئی سلسلہ
بے ارادہ چلتے چلتے میں کہاں تک آ گئی

میری دنیا تو فقط اک خلق تک محدود تھی
کس جہاں میں رہ رہی تھی، کس جہاں تک آ گئی

میں بھلا بیٹھی تھی اپنی واپسی کا راستہ
سوچتی پھر تجھ کو منزل کے نشاں تک آ گئی

خوف آتا ہے مجھے اس کے درو دیوار سے
بستے گھر سے میں یہ کس خالی مکاں تک آ گئی

———

آئنوں میں گہر تلاش کریں
ہم ہوائوں میں گھر تلاش کریں

ڈھونڈنے جائیں کون رستے پر
اپنی منزل کدھر تلاش کریں

دیکھیے شبنمی نظاروں کو
ہم کوئی چشمِ تر تلاش کریں

تتلیاں صبح کی ہوائوں میں
خوشبوئوں کے اثر تلاش کریں

شاخِ امید سوکھتی جائے
ہم ابھی تک ثمر تلاش کریں

اُڑ چکے ہیں پرندے شاخوں سے
ہم ہوائوں میں پر تلاش کریں

قافلہ جا چکا ہے منزل کو
اور ہم رہ گزر تلاش کریں

یاسمیں تیرگی کے پردے میں
ہم تو اپنی سحر تلاش کریں

———

سائے جتنے تھے نظر کے رنگ میں ڈھلتے گئے
کچھ مناظر دور تک ہمرہ مرے چلتے رہے

پھر ہوائے وقت کیا کیا یاد تازہ کر گئی
جانے ان نظروں کے کس نقطے پہ ہم سوچے گئے

بس سہارا چھوڑ کر چلنا ہی سیکھا تھا ابھی
کیسے کیسے کام تھے جو پھر مجھے سونپے گئے

ناخنوں کا پھر لہو جمنے لگا ہر پور میں
اور ہم ریشم کی الجھی گتھیاں کھولے گئے

خواب کی پرواز افق سے بھی ورا ہوتی گئی
دور تک ہم سوچ کی رفتار کے پیچھے گئے

روشنی کی سمت کھلتا ہی گیا ہر راستہ
ہم تو جیسے آسماں کی سیڑھیاں چڑھتے گئے

مُڑ کے دیکھا ہی نہ ہم نے جادو نگری کی طرف
اور سبھی اسرار ہم پر خود بخود کھلتے گئے

بجھتے بجھتے پھر سلگ اٹھیں سحر چنگاریاں
جانے کتنی دور پھر اس آگ کے شعلے گئے

———

روز دیوار گری رہتی ہے میرے اندر
جانے کیا جنگ چھڑی رہتی ہے میرے اندر

میرے چہرے پہ تو کچھ اور لکھا ہوتا ہے
اصل تحریر چھپی رہتی ہے میرے اندر

جسم سورج کی تمازت میں سلگ اٹھتا ہے
برف سی پھر بھی جمی رہتی ہے میرے اندر

بولنے دیتا نہیں خوف زمانے کا مجھے
میری آواز دبی رہتی ہے میرے اندر

ایک اُلٹا کے اگر رکھتی ہوں میں چہرے پر
اک کتاب اور کھلی رہتی ہے میرے اندر

گردشِ دل میں اُبھر آتے ہیں کیا کیا جذبے
ایک تحریک اُٹھی رہتی ہے میرے اندر

ایک ترتیب کے باوصف بھی یوں ہوتا ہے
ایک ہلچل سی مچی رہتی ہے میرے اندر

———

کس کو اِک حقیقت سے پھر فرار ہوتا ہے
ڈھونڈتی ہے آنکھ اس کو جس سے پیار ہوتا ہے

اک وہی مسافر کیوں راستوں میں رہتا ہے
جس کے لوٹ آنے کا انتظار ہوتا ہے

واقعات سارے تو ذہن میں نہیں رہتے
کوئی ایک لمحہ تو یادگار ہوتا ہے

اپنی لو میں جلتے ہیں ہم چراغ کی صورت
دل کسی کے ملنے کو بے قرار ہوتا ہے

پانی اک بہائو کی سمت چلنے لگتے ہیں
قطرہ مل کے قطرے میں بے شمار ہوتا ہے

درد کی لپیٹوں میں آدمی جب آ جائے
سامنے نگاہوں کے اک غبار ہوتا ہے

ہم تو کچھ بھی کرنے سے خود کو روک سکتے ہیں
اپنے دل پہ کب کس کو اختیار ہو تا ہے

———

جو ہو سکا تو یہ منظر بدل کے دیکھیں گے
ہم اپنی ذات سے باہر نکل کے دیکھیں گے

اگر خود اپنے لہو میں ہی کِھلنا ٹھہرا ہے
تو شاخسارِ دل و جاں میں ڈھل کے دیکھیں گے

پڑائو ڈالنا ہے ہم نے کن ستاروں پر
یہ آسمان سے آگے نکل کے دیکھیں گے

کنارِ شوق میں خورشیدِ خواب کا منظر
پسِ سحر کا تناظر بدل کے دیکھیں گے

اُتارنے کو بدن ہم اک اور پیکر میں
ذرا سا موم کی صورت پگھل کے دیکھیں گے

گماں نہیں کہ بنیں شعلے پھول پھر بھی سحر
بھڑکتی آگ میں کچھ گام چل کے دیکھیں گے

———

جب خزاں آئی تو یہ گل بھی بکھر جائے گا
دُھل کے اشکوں سے مرا زخم نکھر جائے گا

جلتے صحرا میں فقط گرد ہی رہ جائے گی
قافلہ ٹھہرے گا کچھ دیر گزر جائے گا

عشق کے روگ رگِ جاں میں اُتر جاتے ہیں
حُسن بکھرے گا تو کچھ اور سنور جائے گا

یاد کے داغ نہیں مٹتے کبھی سینے سے
زخم کا کیا ہے کوئی روز میں بھر جائے گا

خواب کی کرنیں تو رہ جائیں گی پر آنکھوں سے
چاند کیا جانیے، کس دیس اُتر جائے گا

آ کے ساحل سے گزر جائیں گی سرکش موجیں
غم وہ پتھر ہے کہ پانی میں ٹھہر جائے گا

درد کی لہریں تو طوفان اٹھا رکھتی ہیں
دل وہ دریا نہیں جو چڑھ کے اُتر جائے گا

———

الگ رہ کر قریب اس کو زیادہ رکھ لیا ہے
رفاقت کا کوئی ایسا ذریعہ رکھ لیا ہے

گھٹن کا سا کوئی ماحول پیدا ہو گیا ہے
مرے ساتھ اس نے یہ کیسا رویہ رکھ لیا ہے

کبھی جو آئی کوئی دیر دل میں بدگمانی
بھلا کر اس کو پھر تم پر بھروسا رکھ لیا ہے

ارادہ کر لیا جس شہر سے ہجرت کا ہم نے
قیام اپنا وہاں پھر بے ارادہ رکھ لیا ہے

مصائب کم ہوئے میرے کہ میں نے زندگی کا
کچھ ایسا منفرد سا اِک طریقہ رکھ لیا ہے

کسی الجھن سے تو باہر نہیں نکلی میں لیکن
دیا تھا جو کسی نے وہ دلاسا رکھ لیا ہے

———

میں کسی اور ہی پیکر میں ڈھلوں تو سوچوں
اپنی گردش میں ہوں، محور سے ہٹوں تو سوچوں

ٹھہر جاتی ہے نظر ایک ہی نقطے پر کیوں؟
کسی منظر پہ کوئی گیت لکھوں تو سوچوں

میں کہانی کو الگ سے کوئی عنواں دے دوں
اپنی بے نام سی تحریر پڑھوں تو سوچوں

سارا ماحول ہی کیوں ساتھ مرے روتا ہے
میں ہوائوں سے ترا ذکر کروں تو سوچوں

اپنے مرکز سے میں سورج کوئی تخلیق کروں
ڈوبتی شام کے منظر کو بُنوں تو سوچوں

میری پرواز کی رفتار کہاں تک جائے
میں کسی موڑ پہ کچھ دیر رکوں تو سوچوں

———

دور کتنا بھی فاصلہ ہو گا
ہم میں اور تم میں رابطہ ہو گا

روشنی ماند ماند لگتی ہے
دل اچانک ہی بجھ گیا ہو گا

وہ کھنڈر اب نظر نہیں آتے
اِک نیا شہر بس گیا ہو گا

ہر صدا جا کے لوٹ آتی ہے
نام اس نے بدل لیا ہو گا

نائو ڈوبی جب اپنی، کیا تم میں
دیکھنے کا بھی حوصلہ ہو گا؟

———

میرے لمحات میں ہر روز ہے ہر شب تُو ہے
آئنے میں تھا ترا عکس مگر اب تُو ہے

گھر کی تنہائی کے اک بڑھتے ہوئے شور کا ، اب
در و دیوار نہیں اصل مخاطب تُو ہے

ورنہ اس شہر کی رونق سے ہمیں کیا نسبت
ہم تو آباد ہیں، آباد یہاں جب تُو تھا

———

کہانی کچھ نہیں لفظوں کی بس مالا پروتے ہیں
چمک اٹھتے ہیں کنکر بھی جب اشکوں میں بھگوتے ہیں

جنہیں محسوس کر کے روح کو تسکین ملتی ہے
الگ دنیا کے دردوں سے کچھ ایسے درد ہوتے ہیں

ہوائیں دستکیں دیتی ہوئی سنسان گلیوں میں
خموشی جاگتی ہے شہر گہری نیند سوتے ہیں

سحر تک سینکڑوں جگنو گزر جاتے ہیں خوابوں سے
نجانے کتنے منظر رات کی آنکھوں میں روتے ہیں

کبھی ڈھلتے ہیں ایسے رتجگے آنکھوں کی سرخی میں
نئی تحریر ہوتی ہے، نئے مضمون ہوتے ہیں

قلم جب بھی اُٹھائوں میں ورق پر نام لکھنے کو
کئی الفاظ مرتے ہیں کئی پلکیں بھگوتے ہیں

مکانوں میں کہیں جب بھی اداسی چیخ اٹھتی ہے
تو پہروں تک گلے لگ کر درو دیوار روتے ہیں

ٹپکتی ہے مری آنکھوں سے شبنم سی مرے دل تک
کچھ ایسے خواب ہیں شام و سحر ہی غم بلوتے ہیں

———

نمی کھیتوں کو ملتی بھی رہے گر جُوئباروں کی
زمینیں خشک رہ جاتی ہیں پھر بھی سبزہ زاروں کی

کبھی دریائے غم یوں موجزن ہوتا ہے پہلو میں
کہ لہریں کاٹنے لگتی ہیں مٹی بھی کناروں کی

خزاں میں بھی ہرے رہتے ہیں دل میں درد کے موسم
تہوں میں پھیلتی جاتی ہیں شاخیں خار زاروں کی

اُترتی ہیں شبِ ہجراں میں کرنیں یادِ جاناں کی
جگاتی ہے چمک تنہائیوں کو چاند تاروں کی

سفر کی منزلیں طے کر ہی لیتے ہیں مسافر بھی
بسی ہوں دل میں گر یادیں پرانی یادگاروں کی

بسے رہتے ہیں یادوں کے کئی منظر خیالوں میں
سرِ مژگاں سجی ہے کہکشاں بھی اک ستاروں کی

ٹھہر جاتا ہے آنکھوں میں تو لمحہ بھی محبت کا
سحر کٹتی نہیں ہیں ساعتیں ہی انتظاروں کی

———

خواب نگر کا دیکھا منظر بھی انجانا لگتا ہے
رنگ نیا ہو کتنا لیکن نقش پرانا لگتا ہے

اپنی دھن میں چلتے چلتے ہم کس سمت کو آنکلے
جس چہرے پر آنکھ اُٹھے جانا پہچانا لگتا ہے

دل میں پیار کے پھول کھلے ہوں تو باہر کا موسم بھی
آندھی، بارش، دھوپ، ہوا کچھ بھی ہو سہانا لگتا ہے

جانے اس تعمیر میں کتنے لوگوں کو خوں شامل ہے
تاج محل جو پیار کا اک انمول خزانہ لگتا ہے

چھوٹے سے جھگڑے میں پڑ کر کیوں دیوار گراتے ہو
بنتے بنتے گھر بننے میں ایک زمانہ لگتا ہے

جانے کتنے فن کاروں نے اک کردار نبھایا ہے
گرچہ انوکھے روپ تھے ان کے کھیل پرانا لگتا ہے

———

وہ میری آنکھ میں اُترے تو دھڑکنوں میں رہے
پھر آج رات کئی رنگ آئنوں میں رہے

ہر ایک درد کو محدود اپنے تک رکھا
اُڑانیں اونچی گئیں اور وسعتوں میں رہے

زمیں کے ساتھ ہماری مفاہمت نہ ہوئی
ہم آسماں کے ستارے تھے گردشوں میں رہے

وہ ہم نہیں کہ جنہیں منزلوں کی چاہ رہی
ہم ایسے لوگ تو اکثر ہی راستوں میں رہے

اک ایسے موڑ پہ آ کر سفر تمام ہوا
کہ ساری زندگی میں ہم اندھی بستیوں میں رہے

اُتر سکی نہ ہماری جڑوں میں ہریالی
ہمیں وہ پیڑ تھے جو خشک بارشوں میں رہے

گرہ نہ زندگی کی اپنے ہاتھ میں آئی
ہم ایک عمر گرفتار الجھنوں میں رہے

———

میں رہوں یا نہ رہوں چرچا مرےنام کا ہو
شہر کا ایسا کوئی رستہ مرے نام کا ہو

اسی امید پہ میں آئنے سے سنگ ہوئی
اتنے چہروں میں کوئی چہرہ مرے نام کا ہو

میں نے اس زعم میں بارش کا لبادہ اوڑھا
کہ سمندر کا ہو جو قطرہ مرے نام کا ہو

تُو اسے اپنی عمارت میں ہی شامل کر لے
تیری جاگیر میں جو حصہ مرے نام کا ہو

مجھ کو دے ڈالو ہوائوں کی نگہبانی میں
پر مری خاک کا ہر ذرہ مرے نام کا ہو

ماضیءِ زیست پہ اک بار نظر پھر ڈالوں
اس میں شایدکوئی لمحہ بھی مرے نام کا ہو

———

زندگی اک امتحاں ہو گی مری
ہر زباں پر داستاں ہو گی مری

لوگ آپس کے ہی جھگڑوں میں ہیں گم
دوستی کِس سے یہاں ہو گی مری

بس اُسی کے پائوں کے ہوں گے نشاں
دور تک خوشبو جہاں ہو گی مری

جس جگہ اُترے گا منظر شام کا
منتظر اِک لَو وہاں ہو گی مری

کس افق کی سرخیوں میں ہوں گی میں
کون دھرتی آسماں ہو گی مری

اک کھنڈر میں ڈھل چکا ہو گا مکاں
یاد بھی کِس کو کہاں ہو گی مری

میں تو اس لمحے سے ڈرتی ہوں کہ جب
خامشی بھی اک زباں ہو گی مری

بھیگ جائیں گی کئی آنکھیں سحر
داستاں جب بھی بیاں ہو گی مری

———

کھُلے ہیں راستے دیوار و در اُٹھانے تک
کھڑے ہیں شہر کی جانب ہم اس کے آنے تک

نظر سے دور کہیں روشنی کا قافلہ ہے
سفر میں رہنا ہے اس کا سراغ پانے تک

ہم ایسے لوگ نصیب اپنا یوں اجالیں گے
خود اپنی لَو میں جلیں گے دیا جلانے تک

مری کہانی سے تم کو کچھ اختلاف نہ ہو
ٹھہر ہی جائو ذرا بات تو سنانے تک

ہوا کے لب پہ ترانہ تمہارے نام کا ہے
تو بات کیسے پہنچتی نہ پھر زمانے تک

اُچھال ڈالا ہمیں پھر بھنور نے ساحل پر
رہے ہم اپنے تماشائی ڈوب جانے تک

———

زمیں کے نام کوئی پھر سے خواب لکھ دینا
جو آسمان تراشو سحاب لکھ دینا

میں اپنے شعروں میں دوں گی تمہیں پیام اپنا
مرے کلام کا تم انتخاب لکھ دینا

کوئی سی اس کی ہو تعبیر ایسا کرنا تم
جو میرے بارے میں دیکھا تھا خواب لکھ دینا

بجھا گیا ہے مری زندگی کے سورج کو
شب ِ سیہ کا اسے ماہتاب لکھ دینا

کہاں یہ بات کہ مکتوب بھی نہ لکھ پائے
کہاں کہ ہجر میں اس کے کتاب لکھ دینا

تمہارے نام رقم کر رہی ہوں سکھ اپنے
تم اپنے نام کے سارے عذاب لکھ دینا

———

اس رخ پہ آئنے کو ذرا لا کے دیکھنا
تم اپنے دل کو بھی کبھی سمجھا کے دیکھنا

گر تم کسی مقام پہ کچھ بھولنے لگو
کچھ پچھلے واقعات کو دہرا کے دیکھنا

لہروں کے بنتے ٹوٹتے منظر کے ساتھ ساتھ
کروٹ بدلتے رنگ بھی دریا کے دیکھنا

ہونے لگیں تمہارے نشانے خطا اگر
تم مجھ پہ تیر آخری برسا کے دیکھنا

کیسی قیامتوں کا رہا مجھ کو سامنا
میری جگہ پہ خود کو کبھی لا کے دیکھنا

مرنے کے بعد زندگی کرتے ہیں کس طرح
گر تم نے دیکھنا ہو مجھے آ کے دیکھنا

———

عکس در عکس کھُلا ایک ہی چہرہ نکلا
وہ طبیعت میں سمندر سے بھی گہرا نکلا

میں نے رخ موڑ دیا اپنی تمنائوں کا
کسی منزل کی طرف جب کوئی رستہ نکلا

ٹوٹ پایا نہ کسی طور ملایا ہم کو
کیسا ہم تم میں کوئی پیار کا رشتہ نکلا

میں حقیقت کے قریب اس لیے بھی ہوتی گئی
جو مرا خواب تھا تعبیر میں جھوٹا نکلا

منفرد میں ہی تھی بس ورنہ مری دنیا میں
جو بھی انسان تھا وہ ایک ہی جیسا نکلا

میں اُسے ڈھونڈتی کس راہ گزر تک آئی
پیچھے دریا تو مرے سامنے صحرا نکلا

جس کو تعبیر کیا میں نے ترے نام کے ساتھ
وہ مری آنکھ کا ٹوٹا ہوا سپنا نکلا

کسی منزل کا تعین بھی کچھ آسان نہ تھا
اس مسافت کا تو ہر موڑ ہی اندھا نکلا

ایک کمزور تعلق کے نبھانے میں سحر
مجھ سے مضبوط مرے دل کا ارادہ نکلا

———

اُڑوں بہار میں خوشبو کے سنگ ہو جائوں
ہوا میں گھل کے میں تتلی کا رنگ ہو جائوں

مجھے قبول ترے خار بھی پر اے گل ِ جاں
بنوں میں تیری مہک تیرا رنگ ہو جائوں

فضائے شہر میں ہوں جانے کس ہوا میں ہوں
کہ جی میں آئے میں اُڑتی پتنگ ہو جائوں

مثالِ آئنہ گر ٹوٹنا نہیں مجھ کو
نہیں ہے یہ بھی گوارا کہ سنگ ہو جائوں

———

میں لفظ محبت لکھتی ہوں تصویر کوئی بن جاتی ہے
کچھ اور معانی دیتی ہوں تحریر کوئی بن جاتی ہے

یاد اُس کی کبھی دل کے اندر اس طرح بھی کروٹ لیتی ہے
خواب آنکھ میں کوئی ہوتا ہے تعبیر کوئی بن جاتی ہے

ان بکھرے ہوئے سے لمحوں کو اک ساتھ کہیں رکھنے کے لیے
دیتی ہوں میں کوئی ایک گرہ زنجیر کوئی بن جاتی ہے

———

مسافتوں میں نکلتے ہیں راستے کیا کیا
یہ شوق ہم کو دکھاتا ہے معجزے کیا کیا

ہماری زیست کے اک مختصر سے عرصے میں
ہمارے سامنے رکھے ہیں مسئلے کیا کیا

جو سہہ نہ سکتا تھا چھوٹا سا کوئی صدمہ بھی
کیے ہیں آج اسی دل نے حوصلے کیا کیا

نکلنا چاہا تھا میں نے تو ایک الجھن سے
لپٹ گئے مرے پائوں سے حادثے کیا کیا

وہ جس کو آج مرے حال کی خبر بھی نہیں
رکھے تھے اس نے کبھی مجھ سے رابطے کیا کیا

فقط جدائی نہیں دور ہم کو کرتی سحر
قریب رہ کے بھی رہتے ہیں فاصلے کیا کیا

———

شدت کچھ ایسی اب کے محبت میں آئی ہے
دیوانگی بلا کی طبیعت میں آئی ہے

محسوس اس کو کر کے میں حیران خود پہ ہوں
تبدیلی ایک جو مری عادت میں آئی ہے

جھونکا سا کوئی یاد کا گزرا تھا ذہن سے
ٹھہری ہوئی جو چیز تھی حرکت میں آئی ہے

لکھی گئی تھی خوشیوں کے بدلے میں جو گھڑی
منسوب مجھ سے تھی مری قسمت میں آئی ہے

جو بات سوچنے کے لیے وقت چاہیے
وہ بات یاد بھی کسے فرصت میں آئی ہے

گو ذائقے میں زہر تو تریاق کا سا تھا
لیکن وہ اک مٹھاس جو لذت میں آئی ہے

صرف ایک لمحے کی بھی نہ توسیع ہو سکی
ایسا سمٹ کے زندگی ساعت میں آئی ہے

مٹتی نہیں وہ روح کے اندر کی تشنگی
کیسی کمی سی کوئی محبت میں آئی ہے

منزل پہ ٹھہرنے کا ارادہ بدل لیا
ایسی کوئی گھڑی بھی مسافت میں آئی ہے

ورنہ کسی کے ساتھ مری دشمنی نہ تھی
نفرت جو دل میں آئی رقابت میں آئی ہے

جس میں چھپائی ہم نے سحر گھر کی تیرگی
وہ روشنی چراغ کی صورت میں آئی ہے

———

دنیا جو کہہ رہی ہے دکھ اس بات کا نہیں
صرف اِس کا ہے جو میں نے کسی سے کہا نہیں

رکھی ہوئی ہے زیست امانت کے طور پر
خرچ اس سے ایک لمحہ بھی میں نے کیا نہیں

دیوار جا ملی ہے کہیں آسمان سے
وہ سلسلہ تو بیچ کا اب تک رکا نہیں

سوچ اس کی میری سوچ سے ملتی ہے کس قدر
جانا ہے اس نے وہ بھی جو میں نے کہا نہیں

رخصت میں کر چکی جسے اپنی دعائوں میں
اس شہر سے وہ شخص تو اب تک گیا نہیں

پھیلا ہوا نظر میں تھا کل تک تو اک جہاں
اب دیکھیے تو سامنے کچھ بھی بچا نہیں

شدت ہوا کے زور میں کچھ اور بڑھ گئی
جلتا ہوا چراغ تو اب تک بجھا نہیں

رشتے تمام میری نظر میں ہیں معتبر
پر جس جگہ پہ تم ہو کوئی دوسرا نہیں

محفوظ اب بھی لوگوں کے ذہنوں میں ہو گی بات
وہ حادثہ ہوئے ابھی عرصہ ہوا نہیں

کر ڈالے خرچ ہم نے یونہی اپنے روز و شب
سودا بس اپنی زیست کا ہم سے ہوا نہیں

———

یہ سچ ہے کھیل میں میرا گیا تو کچھ بھی نہ تھا
مگر جہان کے اندر رہا تو کچھ بھی نہ تھا

طویل ہم میں کوئی بحث یونہی ہوتی گئی
ذرا سی بات تھی، وہ مسئلہ تو کچھ بھی نہ تھا

ٹھہر گیا ہے جو وہ وقت ہے قیامت سا
گزر گیا ہے جو وہ حادثہ تو کچھ بھی نہ تھا

نکل پڑے تو مسافت کے بھید ہم پہ کھلے
نظر کے سامنے کا راستہ تو کچھ بھی نہ تھا

رکاوٹ ایک رہی حد کو پار کرنے تک
جو آیا بعد میں وہ مرحلہ تو کچھ بھی نہ تھا

ہم ایک دوسرے کے حال سے تو واقف تھے
ہمارے بیچ مگر رابطہ تو کچھ بھی نہ تھا

اسی کے گرد مری سوچ رقص کرتی رہی
جو دل میں بیٹھ گیا واقعہ تو کچھ بھی نہ تھا

کہانی لفظوں میں ڈھلتی گئی خود آپ ہی آپ
قلم اٹھایا تھا میں نے لکھا تو کچھ بھی نہ تھا

بنی تھی راہ کی دیوار کوئی مجبوری
وگرنہ ملتے بھی ہم فاصلہ تو کچھ بھی نہ تھا

پھر ایک دوسرے کو دینے کیلئے دل میں
تسلیوں کے علاوہ رکھا تو کچھ بھی نہ تھا

رہے تھے دونوں ہم آپس میں ہم کلام سحر
مگر کسی نے کسی سے کہا تو کچھ بھی نہ تھا

———

بغیر سانس لیے گہرے پانیوں میں رہے
مگر نہ ابھرے نہ ڈوبے روانیوں میں رہے

چھپا لیا تھا ہمیں شام نے پھر آنچل میں
بس اپنے عکس کوئی دیر پانیوں میں رہے

محبت اپنی بھی کیا تھی کہ ہم محبت پر
یقین رکھتے ہوئے بدگمانیوں میں رہے

بہار آئی تو یادوں کو تازہ کرنے لگے
جو زخم داغ کی صورت نشانیوں میں رہے

ہوا فسانہ کوئی روز ہم سے وابستہ
تمام عمر سحر ہم کہانیوں میں رہے

———

کوئی اس میں کہاں لفظوں کے معنی ڈھونڈتا ہے
مرے شعروں میں وہ اپنی کہانی ڈھونڈتا ہے

برابر اب بھی اس سے گفتگو رہتی ہے لیکن
لب و لہجہ میں وہ پہلی روانی ڈھونڈتا ہے

جوانی یاد کرتی ہے لڑکپن کے دنوں کو
بڑھاپا ہاتھ سے کھو کر جوانی ڈھونڈتا ہے

کبھی جا بیٹھتا ہے آدمی گزری رتوں میں
کبھی اپنے ہی اندر زندگانی ڈھونڈتا ہے

نئی سمتوں میں سوچیں منتقل ہونے لگی ہیں
سحر دل تو وہی باتیں پرانی ڈھونڈتا ہے

———

کسی وصال کے اک مرحلے سے آگے تھے
جو راستہ تھا ہم اس راستے سے آگے تھے

ابھی رکا ہی کہاں تھا مسافتوں کا عمل
بہت سے سلسلے اس سلسلے سے آگے تھے

وہ جس نشان پہ آ کر کہیں ٹھہرنا تھا
ہم اس مقام سے ، اس دائرے سے آگے تھے

کچھ ایسے رشتے جو ہم میں محبتوں کے تھے
تعلق اور کسی واسطے سے آگے تھے

وہ جن کو پڑھتے ہوئے ربط اپنا ٹوٹا تھا
وہ واقعات رقم واقعے سے آگے تھے

یہ وقت کس کو سحر لے کے ساتھ چلتا ہے
ہم ایسے لوگ تھے جو حوصلے سے آگے تھے

———

کٹنے میں ہی نہ آئی جو ایسی سزا پہ تھے
اک سلسلہ تھا سامنے ہم جس جگہ پہ تھے

جو نقش پانیوں پہ بنائے وہ مٹ گئے
تحریر اب بھی نام ہمارے ہوا پہ تھے

پیش ایسا مرحلہ بھی کوئیہم کو آیا تھا
ہم چرخ سے بھی دور کسی انتہا پہ تھے

وہ تو پکار کر مجھے خاموش ہو گیا
میرے قدم تو اب بھی اسی کی صدا پہ تھے

روشن نقوشِ راہگزر روندتی گئی
جانے سوار ہم بھی کس اندھی ہوا پہ تھے

مجبور اس میں میں بھی قلم کی خطابھی تھی
میرے تمام شعر جو اس بے وفا پہ تھے

———

دے دیا عہد اسے اُس کی نہ خبر رکھی تھی
ڈوبتی نائو پہ ہی ہم نے نظر رکھی تھی

کل بھی آباد ہم اس اجڑے ہوئے شہر میں تھے
زندگی اس میں کسی شخص نے بھر رکھی تھی

سامنے تو کسی تعمیر کا نقشہ ہی نہ تھا
گھر کی بنیاد بھی اک زوایے پر رکھی تھی

جانے کس شہر کی جانب میں نکل آئی ہوں
میں نے تیاری کہاں جانے کی کر رکھی تھی

منتشر یوں بھی کسی سوچ میں تھا ذہن میرا
رکھنی جو چیز اِدھر تھی وہ اُدھر رکھی تھی

سلسلہ صرف کڑی دھوپ کا ہمراہ رہا
کوئی پرچھائیں بھی کب زادِ سفر رکھی تھی

ہر طرف سے ہمیں ویرانیوں نے گھیرا تھا
لیکن آباد تری راہگزر رکھی تھی

———

اُس کے بارے میں کہاں کوئی خبر دیکھی تھی
ہم نے تو شہر کے لوگوں کی نظر دیکھی تھی

ایک آئینے میں کچھ اور دکھائی نہ دیا
ایک تصویر تھی جو شام و سحر دیکھی تھی

خود کو تاریک فضائوں میں کبھی پایا تھا
روشنی ایک ستاروں کے اُدھر دیکھی تھی

کبھی اتنا بھی کوئی میرے قریب آیا تھا
میں نے ہر چیز کسی فاصلے پر دیکھی تھی

ایک تارہ سا نظر آیا مگر ڈوب گیا
ہم نے ہلکی سی جھلک اس کی سحر دیکھی تھی

———

جب بھی لکھتی ہوں مرا ہاتھ کوئی کھینچتا ہے
درمیاں سے ہی مری بات کوئی کھینچتا ہے

حاشیہ دن کا لگاتی ہوں کہ جب آنکھوں میں
ڈھلتے سورج کی طرح رات کوئی کھینچتا ہے

ایک مدت سے تو میں بچھڑی ہوئی ہوں خود سے
میری تصویر مرے ساتھ کوئی کھینچتا ہے

ہیں امانت تو کسی اور کی میرے مہ و سال
اور مری عمر سے لمحات کوئی کھینچتا ہے

کن ہوائوں سے الجھتی ہیں گھٹائیں غم کی
میری ہر شام میں برسات کوئی کھینچتا ہے

اس سے سمجھوتے کا پہلو کوئی نکلا نہ سحر
ایسے میرے لیے حالات کوئی کھینچتا ہے

———

کیا کیا چراغ جلنے لگے دیکھنا پڑا
شب بھر کسی خیال سے پھر کھیلنا پڑا

اس انتہا کا حبس تھا بارش کے بعد بھی
تازہ ہوا کے واسطے در کھولنا پڑا

لازم تھی گفتگو میں کچھ ایسی ہی احتیاط
اِک بات کو ہزار طرح سوچنا پڑا

پوچھو نہ کس طرح سے بسر کی تمام عمر
کس طرح زندگی کا سفر کاٹنا پڑا

بہلا سکی نہ دل کو سحر رونق ِ جہاں
اُٹھ کر ہجومِ شہر سے گھر لوٹنا پڑا

———

یہ ملاتے ہیں کبھی تجھ سے جدا کرتے ہیں
راستے اور کوئی کام بھی کیا کرتے ہیں

مصلحت ہی کے تقاضوں میں گزرتی ہے عمر
ہم محبت کا کہاں حق بھی ادا کرتے ہیں

زندگی ایک تسلسل سے چلی جاتی ہے
ہم بھی گزرے ہوئے وقتوں میں رہا کرتے ہیں

کوئی جاگیر خریدی بھی کبھی جاتی ہے
اور کچھ درد وراثت میں ملا کرتے ہیں

———

کچھ اس پہ سوچنا تھا مشورہ بھی کرنا تھا
معاملے پہ ابھی تبصرہ بھی کرنا تھا

اُسے بھی کہنا تھا اپنا خیال رکھنے کو
بچھڑتے وقت مجھے حوصلہ بھی کرنا تھا

کسی کے نام کے دن بھی بچا کے رکھنے تھے
اور ایک زندگی سا سلسلہ بھی کرنا تھا

وہ واقعات بھی دل سے مجھے بھلانے تھے
کہیں کہیں تو رقم سانحہ بھی کرنا تھا

کہاں پہ آ کے کڑی سلسلے کی ٹوٹ گئی
کسی سے میں نے کہیں رابطہ بھی کرنا تھا

اُسی مقام پہ عکس اپنے میں نے دفنائے
جہاں پہ نصب مجھے آئنہ بھی کرنا تھا

ابھی تو بات کا میں کر رہی تھی اندازہ
پہنچ کے تہ میں مجھے فیصلہ بھی کرنا تھا

نکل کے زندگی جیسی کڑی حقیقت سے
مجھے تو تلخ سا اِک تجربہ بھی کرنا تھا

سنی ہیں اس کی ابھی تک شکایتیں میں نے
بیان اپنا کوئی مسئلہ بھی کرنا تھا

نکالنا تھی مجھے زندگی بھی مشکل سے
مکمل اب کے کوئی دائرہ بھی کرنا تھا

———

سیاہیوں میں عجب روشنی کھلی ہم پر
نیا ہی رنگ لیے زندگی کھلی ہم پر

تمام دن کی مسافت نے جب تھکا ڈالا
شبِ سیہ میں نئی اک گلی کھلی ہم پر

طلب جو دل میں بڑھی خوشبوئوں کو چھونے کی
چمن میں تتلیوں کی بے کلی کھلی ہم پر

تری نگہ سے رہا ہے مکالمہ برسوں
بہت دنوں میں تری دوستی کھلی ہم پر

———

ذرا سی روشنی دیکھی تھی تیرگی سے الگ
پھر ایک زندگی کی ہم نے زندگی سے الگ

وہ جس کا عکس مرے آنسوئوں میں جلتا ہے
وہ میری زیست کا گوشہ ہے روشنی سے الگ

اگر سفر میں ارادہ کہیں قیام کا ہو
تم اپنا راستہ کر لینا خامشی سے الگ

جنہیں میں ڈھال نہیں پائی اپنے شعروں میں
خیال ایسے بھی ہیں دل میں شاعری سے الگ

———

جو ٹوٹ پایا نہیں اعتبار ایسا تھا
ہمارے بیچ کوئی گہرا پیار ایسا تھا

تمام وقت مرا راستوں کے بیچ کٹا
نظر میں بیٹھ گیا انتظار ایسا تھا

ہم اپنا چہرہ بھی آئینے میں نہ دیکھ سکے
نظر کے سامنے چھایا غبار ایسا تھا

کسی سے ہم نے لگائی کچھ اس طرح بازی
ہمارا جیتنا بھی گویا ہار ایسا تھا

میں کر رہی تھی ارادہ اسے نہ ملنے کا
تڑپ اٹھا مرا دل بے قرار ایسا تھا

گزر گیا جو کسی یاد کی چبھن دے کر
سحر وہ جھونکا بھی جاتی بہار ایسا تھا

———

نکلتے جا رہے تھے یوں گمان سے آگے
میں اس زمین سے وہ آسمان سے آگے

خود اپنے ہاتھوں کیا قتل اُس رفاقت کا
رکھا تھا جس کو کبھی اپنی جان سے آگے

خود اپنے گرد حدیں ہم نے کھینچ لیں ورنہ
قدم تو بڑھتے گئے تھے نشان سے آگے

میں لفظ و معنی کے اُلجھائو میں ہی اُلجھی رہی
معاملہ تو گیا داستان سے آگے

یہ دنیا چھوڑ کے میں جس میں جا کے بسنے لگی
کوئی جہان تو تھا اس جہان سے آگے

سمندر ایک کوئی پچھلی سمت بہتا ہے
نکلتا ہے کوئی صحرا مکان سے آگے
———

رنگ کیا کیا سحر بدلتا ہے
داغ دل میں دیے سا جلتا ہے

چڑھتے سورج کو ڈوب جانا ہے
دھوپ چھائوں کا کھیل چلتا ہے

دیکھ لینا تراش کر اس کو
آئنہ سنگ میں بھی ڈھلتا ہے

ایک منظر نگہ میں بس جائے
دھیان کس کس طرف نکلتا ہے

آئنے میں کہاں نقوش رہے
اب تو آنکھوں میں عکس جلتا ہے

دھوپ میں ہے مرا وجود سحر
سایہ جانے کدھر نکلتا ہے

———

ایک لکنت زباں میں آج بھی ہے
کچھ کمی سی بیاں میں آج بھی ہے

دل کی آنکھیں ہی بجھ گئیں ورنہ
کل سی رونق جہاں میں آج بھی ہے

برسوں پہلے چراغ جلتے تھے
روشنی سی مکاں میں آج بھی ہے

اُلجھنوں میں یہ کل بھی اُلجھی رہی
زندگی امتحاں میں آج بھی ہے

اپنی منزل پہ آ تو پہنچے ہم
فاصلہ درمیاں میں آج بھی ہے

پڑھ کے اب چونکتا نہیں کوئی
گو خبر داستاں میں آج بھی ہے

———

بسا ہوا وہ کہیں لامکان میں ہی نہ ہو
میں جس کو ڈھونڈتی ہوں اس جہان میں ہی نہ ہو

سفر سے واپسی ممکن نہیں رہی میری
میں لوٹ آئوں گی وہ اس گمان میں ہی نہ ہو

جواب اس کی طرف سے کوئی نہیں آیا
وہ میری طرح کسی امتحان میں ہی نہ ہو

چلانا تھا جو مجھے آخری نشانے پر
وہ تیر کیا عجب اب کے کمان میں ہی نہ ہو

وہ جس میں رہتے اُسے دیکھا مدتوں پہلے
مکین آج بھی وہ اس مکان میں ہی نہ ہو

جو ہر حوالے سے شامل قدم قدم پہ رہا
وہ نام کیا خبر اب داستان میں ہی نہ ہو

———

اپنے ہی جیسا کوئی شخص کہ تجھ سا بھیجیں
آئنہ تُو ہو تجھے ہم کوئی چہرہ بھیجیں

درو دیوار سلامت نہ کوئی چھت ہی رہی
ہو اگر گھر ہی کھنڈر کیا تجھے نقشہ بھیجیں

ختم ہونے کو ہی آئی نہ جدائی کہ تجھے
وصل کے نام پہ رکھا ہوا عرصہ بھیجیں

تو زباں سمجھے ہوا کی تو ترے نام پہ ہم
کوئی لہجہ کوئی خوشبو کوئی نغمہ بھیجیں

اسی زنجیر سے لپٹا چلا آئے تو بھی
کوئی پیغام ترے نام ہم ایسا بھیجیں

جو فقط ایک ہی منزل کو نکلتا ہو سحر
اب کے لکھ کر اسے ایسا کوئی رستہ بھیجیں

———

کس جگہ پر کمی ہے کیا لکھوں؟
سامنے زندگی ہے کیا لکھوں؟

واقعہ کیا بتائوں دنیا کو
دکھ کی کیسی گھڑی ہے کیا لکھوں؟

ڈھونڈتے ڈھونڈتے سراغ اپنا
ہر خوشی کھو گئی ہے کیا لکھوں؟

سوکھتے خواب اور آنکھوں میں
آنسوئوں کی نمی ہے کیا لکھوں؟

زیست لپٹی ہوئی وجود کے ساتھ
کوئی زنجیر سی ہے کیا لکھوں؟

کوئی دیوار مرے قد سے بڑی
راستے میں کھڑی ہے کیا لکھوں؟

آگ اگلتے ہوئے سمندر میں
بیکراں روشنی ہے کیا لکھوں؟

———

تمام قصہ وہ اب کے بیان کر ہی نہ دوں؟
میں آپ ختم خود اپنا جہان کر ہی نہ دوں؟

میں ہر جگہ پہ بہت دستیاب رہنے لگی
میں اپنی ہستی کہیں بے نشان کر ہی نہ دوں؟

جو کر رہی ہوں کھڑے یوں مسائل اپنے لیے
میں اپنی زیست کو بھی امتحان کر ہی نہ دوں؟

بہت ہی پیار میں کرنے لگی ہوں پھولوں سے
جلا کے راکھ بھی اب گلستان کر ہی نہ دوں؟

وہ دھوپ سا اُتر آیا ہے میرے آنگن میں
میں اُس پہ گیسوئوں کو سائبان کر ہی نہ دوں؟

نشانے باندھتی رہتی ہوں میں ہوائوں میں
پر اب کے تیروں سے خالی کمان کر ہی نہ دوں؟

———

سفر سے پلٹا تو طائر سفر میں رہنے لگا
نشہ سا جیسے کوئی بال و پر میں رہنے لگا

میں کٹ کے بٹنے لگی کیسے کیسے دائروں میں
مرا وجود بھی کس کس بھنور میں رہنے لگا

گلی گلی میں کسی کی تلاش مجھ کو رہی
مکین بن کے کوئی میرے گھر میں رہنے لگا

وہ جیسے جیسے مری روح میں اُترتا گیا
وجود درد کے گہرے اثر میں رہنے لگا

پلٹ کے پھر سے اُسی سمت آ نکلتی ہوں
یہ کیسا راستہ میری نظر میں رہنے لگا

———

قریب آ کر جدائی کا سفر لمبا نہ ہو جائے
ہمارے بیچ دیوارِ انا پختہ نہ ہو جائے

ابھی ہر عکس کی تصویر اس میں بولتی ہو گی
بدلتی رُت میں ڈر ہے آئنہ دھندلانہ ہو جائے

میں پلکوں پر سجاتی جا رہی ہوں یاد کی کرنیں
مری سوچوں کا سورج کل کہیں اندھا نہ ہو جائے

ہمیں جو بات بے معنی سی اب محسوس ہوتی ہے
کہیں کل کو اسی پر مسئلہ پیدا نہ ہو جائے

نکل آئی ہوں جانے کس ڈگر پر بے خیالی میں
پلٹنے تک سحر تاریک ہر رستہ نہ ہو جائے

———

بدن سے زہر ابھی نکلا نہیں ہے
نشہ پوری طرح اُترا نہیں ہے

کوئی تو فکر دامن گیر ہو گی
وہ یوں تنہا کبھی بیٹھا نہیں ہے

زمیں گردش میں رہتی ہے مسلسل
سفر کا سلسلہ رکتا نہیں ہے

سرائے میں کوئی پل تھا بسیرا
مسافر دیر تک ٹھہرا نہیں ہے
درو دیوار پر ہے خوف طاری
کہیں بھی شہر میں پہرا نہیں ہے

کئی چہرے ہیں یکتا حسن میں بھی
نظر میں ہر کوئی جچتا نہیں ہے

بہا کر لے گئی بارش گھروں کو
فلک کس کس طرح رویا نہیں ہے

کوئی دیوار رستے میں کھڑی ہے
بظاہر سامنے پردہ نہیں ہے

میں اپنے آپ میں کچھ کھوجتی ہوں
کوئی منظر مگر کھلتا نہیں ہے

ہوائیں لے گئیں بادل کے ٹکڑے
مگر مہتاب تو ابھرا نہیں ہے

میں چلتی جا رہی ہوں اُلٹے پائوں
مرے پیچھے مرا سایہ نہیں ہے

بھروسا کر تو لوں میں پھر اُسی پر
مگر دل کے لیے اچھا نہیں ہے

میں خود پہچان اپنی کھو چکی ہوں
وہ رستہ آج بھی بھولانہیں ہے

یہ بستے گھر بھی ہیں سنسان ایسے
یہاں جیسے کوئی رہتا نہیں ہے

بُنی ہے دل میں جو تصویر میں نے
کہیں اُس سا کوئی چہرہ نہیں ہے

دھواں سا پھر فضائوں میں گھلا ہے
بھڑکتا کوئی بھی شعلہ نہیں ہے

مکانوں کی سحر تعمیر کیا ہو
مکمل جب کوئی نقشہ نہیں ہے

———

جدا ہونے سے پہلے چند لمحے بات کر لیتے
کوئی تو فیصلہ باہم ہمارے درمیاں ہوتا

کسی بھی ڈھنگ سے تم بات کا پہلو بدل لیتے
تمہاری گفتگو سے دل نہ میرا بدگماں ہوتا

———

ختم کر ڈالوں وہ بے نام سی چاہت میں بھی
اور جینے کی نکالوں کوئی صورت میں بھی

واپسی اس کی نہ ممکن نظر آئی ورنہ
دور تک کاٹ کے آئی ہوں مسافت میں بھی

میری تہذیب نئے دور میں ڈھلنے پائے
کیوں بدل ڈالوں نہ ہر کہنہ روایت میں بھی

راستوں نے ہی دیا مجھ کو نہ منزل کا پتا
کر تو آئی تھی زمانے سے بغاوت میں بھی

ایک اظہار ہی کرنا نہیں آیا ورنہ
دل میں رکھتی تھی تری طرح محبت میں بھی

اپنی تخلیق کے معیار بنانے کے لیے
وہ بھی مصروف ہے ، ہوں محوِ ریاضت میں بھی

خواب کے شہر میں چھوڑ آئی میں آنکھیں اپنی
ورنہ پا لیتی محبت کی حقیقت میں بھی

یاسمیں پھر سے بحال اسے تعلق کر لوں
جو ہے سینے میں دبا دوں وہ عداوت میں بھی

———

بہت ہی اور طرح زندگی ہماری تھی
الگ جہاں سے کوئی دوستی ہماری تھی

بچھڑتے وقت بھی لگ کر گلے سے رونہ سکے
عجیب حال تھا کیا بے بسی ہماری تھی

جہان جس کا مکمل دکھائی دیتا ہے
اسی کی دنیا میں کل تک کمی ہماری تھی

گو آج چہرہ ہے خالی کسی تاثر سے
سجی تھی لب پہ جو کل تک ہنسی ہماری تھی
کسی کے ملنے کو وہ جس جگہ تک آیا تھا
اُسی گلی سے تو اگلی گلی ہماری تھی

ہمیں رہی ہیں میسر رفاقتیں جن کی
اُنہیںتو دوستوں سے دشمنی ہماری تھی

خفا ہوا ہے تو دنیا خفا سی لگتی ہے
خوشی میں جس کی سحر ہر خوشی ہماری تھی

———

آسماں کا ہر ستارہ گردشوں میں ہوتا ہے
زندگی ایسا سفر تو مرحلوں میں ہوتا ہے

پھوٹتی ہے دل کے اندر سے عجب اک روشنی
جب کبھی مہتاب گہرے بادلوں میں ہوتا ہے

اب رقم کرتی ہے جانے زندگی کیا واقعات
روز کچھ پیغام بھی تو حادثوں میں ہوتا ہے

آدمی اپنے رویے میں ہو کتنا سرد بھی
پیار ہو تو پھر اثر تو شدتوں میں ہوتا ہے

انتہا کو چھو کے بھی یہ اپنی پروازوں میں ہیں
کیا پرندوں کے لیے نشہ پروں میں ہوتا ہے

ہم کسی تصویر کو جتنا مٹائیں ذہن سے
چہرہ اتنا ہی نمایاں آئنوں میں ہوتا ہے

کیسے کیسے گھر ہوئے آباد میرے شہر میں
جانے پھر بھی کیسا سناٹا گھروں میں ہوتا ہے

اک طلب کرتی ہے دل کو کیسا کیسا بدگماں
آدمی یوں بے سکوں بھی چاہتوں میں ہوتا ہے

اس کا اندازہ تو ہوتا ہے جدا ہونے کے بعد
قربتوں کا ذائقہ کیا فاصلوں میں ہوتا ہے؟

———

جب اس نے اپنی بات کا لہجہ بدل لیا
پھر یوں ہوا کہ میں نے بھی رستہ بدل لیا

اُس کے تو روز و شب میں نہ کچھ فرق آیا تھا
پر میں نے زندگی کا طریقہ بدل لیا

ایسے بھی فیصلے پہ مجھے لایا اک خیال
گھبرا کے میں نے سوچ کا چہرہ بدل لیا

ہر فکر سے ورا ہے تخیل کا شہر بھی
چاہا ہے جب مکان کا نقشہ بدل لیا

اک روشنی خیال کی جو دل میں تھی، رہی
شب ڈھل چکی تو دن نے لبادہ بدل لیا

جب شہر میرے پائوں کی زنجیر بن گیا
میں نے بھی ٹھہرنے کا ارادہ بدل لیا
———

کیا خبر شہر میں کیا سلسلہ رکھے ہوئے ہے
وہ جو ہر شخص سے اک رابطہ رکھے ہوئے ہے

آہٹیں قدموں کی دیتی ہیں سنائی مجھ کو
کوئی دیوار میں اک راستہ رکھے ہوئے ہے

کڑی اس سلسلے کی بیچ میں جا ٹوٹتی ہے
ورنہ دل اس سے کہاں فاصلہ رکھے ہوئے ہے

کم نہیں اپنی جگہ اپنا کوئی المیہ
دل کا ہی کام ہے جو حوصلہ رکھے ہوئے ہے

اپنے معیار کا جزداں لیے ہر ایک یہاں
اپنی رائے میں کوئی فیصلہ رکھے ہوئے ہے

دل ترے غم کی اذیت سے تو نکلا ہے مگر
آج تک یاد ہر اک واقعہ رکھے ہوئے ہے

———

کیا ہے جبر طبیعت نڈھال رکھی ہے
مگر یہ زندگی ہم نے اُجال رکھی ہے

کسی طرح تو چلانا تھا سلسلہ ہم نے
جو ایک بات کوئی کل پہ ٹال رکھی ہے

اُمنگ جینے کی دل سے اُتر چکی لیکن
لڑی سی سانسوں کی اب تک بحال رکھی ہے

بچا سکے نہیں ہم خود کو ٹوٹنے سے مگر
تمہاری یاد تو دل میں سنبھال رکھی ہے

چلی تھی ایک حوالہ سا کوئی دفنانے
نشانی ایک کوئی پھر نکال رکھی ہے

———

نہاں میرے دل میں محبت بہت تھی
مگر پھر بھی اس کو شکایت بہت تھی

مرا درد کھلتا بھی کیونکر کسی پر
مجھے مسکرانے کی عادت بہت تھی

مری زندگی میں وہ لمحے بھی آئے
تری ہر قدم پر ضرورت بہت تھی

زمیں نے ہی چھوڑے نہیں میرے پائوں
پروں میں تو اُڑنے کی طاقت بہت تھی

منانے کا مجھ میں ہنر ہی نہیں تھا
اُسے روٹھ جانے کی عادت بہت تھی

———

اتنا کھل کر مجھ پہ دل کی مرضیاں بندھنے لگیں
ٹوٹ کر روئی میں شب بھر ہچکیاں بندھنے لگیں

ہم نے اپنا فیصلہ تو گھر کے اندر طے کیا
شہر کی دیوار پر کیوں سرخیاں بندھنے لگیں

پھر اُٹھی آواز کوئی جھوٹی قدروں کے خلاف
ظلم کی زنجیر میں پھڑ لڑکیاں بندھنے لگیں

ایک ویرانی کا چرچا تھا ہوا کے شور میں
پھول کھلتے ہی چمن میں تتلیاں بندھنے لگیں

مجھ کو آزادی کا پروانہ کسی نے کیا دیا
چار دیواری کے اندر سختیاں بندھنے لگیں

میں نے دنیا کی روِش سے ہٹ کے چلنا چاہا تھا
یاسمیں میرے بدن پر رسیاں بندھنے لگیں

———

کچھ اور طرح کی اُس نے محبتیں دی ہیں
دھڑکتا دل ہی نہیں دل کو دھڑکنیں دی ہیں

فروغ یوں بھی ملا دکھ کی اُٹھتی لہروں میں
خدا نے غم کے سمندر میں وسعتیں دی ہیں

یہ اور بات وہ بدلے نہ اپنے موقف کو
بیاں میں ہم نے تو کیا کیا وضاحتیں دی ہیں

جہاں کا خوف مرا راستہ نہ روک سکا
کچھ ایسی مجھ کو محبت نے جراتیں دی ہیں

وہی نہ راستہ منزل کی سمت جاتا ہو
تمام عمر کی جس نے مسافتیں دی ہیں

اکیلی تھی مرے ہمراہ میری تنہائی
یہ کس کی یاد نے اپنی رفاقتیں دی ہیں

———

اس کے آنے کی خبر آئی تو ہے
رنگ خواہش کی کلی لائی تو ہے

رات بھر ٹپکی ہے شبنم درد کی
ڈھل کے شاخِ دل نکھر آئی تو ہے

جانے کب چل دے وہ اُٹھ کر شہر سے
پھر پلٹ آئے بھی سودائی تو ہے

گرچہ بیگانے ہیں ہم اس شہر سے
راستے سے کچھ شناسائی تو ہے

پھر نکل آیا اسی بازار میں
دل کسی شئے کا تمنائی تو ہے

گر چکی ہے چار دیواری مگر
بیٹھنے کو ایک انگنائی تو ہے

واسطہ اس سے نہیں کوئی مگر
دل اسے ملنے کا شیدائی تو ہے

آج بھی بارش کا ہے امکاں سحر
آسماں پر پھر گھٹا چھائی تو ہے

———

ٹوٹنے والا سلسلہ بھی نہیں
کیا مسافت ہے راستہ بھی نہیں

مجھ کو سونپا ہے تم نے حق کیسا
میرے ہاتھوں میں فیصلہ بھی نہیں

میں نہیں اجنبی بھی اُس کیلئے
مجھ کو وہ شخص جانتا بھی نہیں

انتظار اس کا کر رہی ہوں میں
شہر سے جو ابھی گیا بھی نہیں

اس سے ناراض ہوں مگر اس سے
کچھ شکایت کوئی گلہ بھی نہیں

میرے جانے پہ بھی نہیں راضی
اور مری راہ روکتا بھی نہیں

روز مجھ سے سوال کرتا ہے
اور جواب اس کا مانگتا بھی نہیں

مضطرب تو بہت تھا ملنے کو
پر وہ پہلے سا اب ملا بھی نہیں

جیتنے کا نہیں ہے شوق اُسے
کھیل میں مجھ سے ہارتا بھی نہیں

ایک دنیا ہے ہم سفر میری
دور تک کوئی قافلہ بھی نہیں

دوریاں ہیں اگرچہ برسوں کی
درمیاں ایسا فاصلہ بھی نہیں

کیا ہوا ہے سحر کہ اب تم میں
بات کرنے کا حوصلہ بھی نہیں

———

پھر اُس کے بعد کا رستہ محبتوں تک تھا
جو ابتدا کا سفر تھا ، رفاقتوں تک تھا

ہمارے دل کی کوئی اور بھی تھی مجبوری
مگر وہ رشتہ تو جیسے ضرورتوں تک تھا

پھر اُس نے کام میں مصروف کر لیا خود کو
جو میرے ساتھ فقط اپنی فرصتوں تک تھا

جدائی کے بھی عذابوں سے ہم گزرتے رہے
معاملہ جو ہمارا تھا قربتوں تک تھا

الگ ہر ایک مسافر کی اپنی منزل تھی
کسی کے ساتھ کوئی تھا تو راستوں تک تھا

———

صحرا نہیں رہا وہ سمندر نہیں رہا
جب سامنے وہ آگ سا منظر نہیں رہا

پائوں میں میرے ڈولتی رہنے لگی زمیں
جیسے اب آسمان بھی سر پر نہیں رہا

رونق تو ایک آج بھی ملتی ہے شہر میں
آباد اس طرح سے کوئی گھر نہیں رہا

ایسا جڑا ہے رشتہ مرے اُس کے درمیاں
اب جس کے ٹوٹنے کا بھی کچھ ڈر نہیں رہا

ڈوبے ہیں گہری سوچ میں ہم اس طرح کبھی
دھیان اپنے آپ کا ہمیں اکثرنہیں رہا

جو بہہ رہا تھا کل تلک اپنے بہائو میں
پانی وہ اب کناروں کے اندر نہیں رہا

جس گھر کے ہم مکیں ہیں کھنڈر میں بدل گیا
دیواریں کچھ کھڑی ہیں کوئی در نہیں رہا

آگے نکلنا تھا مجھے تو اگلے موڑ پر
رستے پہ ڈالتا کوئی رہبر نہیں رہا

اب تک سسک رہا تو ہے میرے وجود میں
پوری طرح سے دردِ دروں مر نہیں رہا

تحریر بے اثر نہ تھی پر یاسمیں سحر
معنی تو جیسے لفظ کے اندر نہیں رہا

———

آنکھوں میں کیسی چاہتوں کے رنگ بھر گئی
اک روشنی سی پوری فضا میں بکھر گئی

خود اپنے رنگ میں ہی سمٹنے لگی بہار
خوشبو تو جیسے پھول کے اندر ہی مر گئی

ہم ڈوبنے کے بعد کہیں تیرنے لگے
کشتی ہمارے ساتھ بھنور میں اُتر گئی

کچھ اس لیے کہ تھا پسِ دیوار آئنہ
کچھ روشنی بھی عکس ِ نظر ماند کر گئی

منظر کا ہر ہیولا زمیں پر ہی رہ گیا
روحِ بدن خلائوں میں پرواز کر گئی

ایک آسماں کے بعد تھا اک اور آسماں
حدِ نگہ سے آگے جہاں تک نظر گئی

ہر آئنے کے ساتھ تھا پیوستہ آئنہ
پہلے تو میں خود اپنے ہی سائے سے ڈر گئی

پہلو میں اپنی شب کے کئی رتجگے لیے
کس کس مقام پر نہ ہوائے سحر گئی

———

گزشتہ لمحے ابھی اس کے دھیان میں ہوں گے
پرانے درد نئی داستان میں ہوں گے

جدائی بن کے یہ گھڑیاں ٹھہر بھی سکتی ہیں
سسکتے لمحے بھی کس کے گمان میں ہوں گے

پلٹ بھی آئے کئی شخص زندگی کی طرف
ہم ایسے لوگ ابھی امتحان میں ہوں گے

کوئی بھی فیصلہ باہم نہ کر سکیں گے ہم
کسی کے مشورے گر درمیان میں ہوں گے

لٹا ہے شہر تو تاریکیوں میں ڈوب گیا
چراغ جلتے کبھی ہر مکان میں ہوں گے

———

جو دل میں درد اُٹھے دل پہ ہاتھ رکھ لینا
بچا کے نیند کی آنکھوں سے رات رکھ لینا

مکالمے میں فقط بحث جیتنے کے لیے
جواز کوئی نہ ہو، کوئی بات رکھ لینا

مسافتوں میں جو تنہائیوں کا شور بڑھے
کسی کی یاد کو تم اپنے ساتھ رکھ لینا

کبھی محاذِ سا بس یونہی کھول لینا کوئی
مقابل اپنے خود اپنی ہی ذات رکھ لینا

سحر علیحدگی میں بھرا بھی بیٹھا ہو وہ
کسی کے سامنے پھر میری بات رکھ لینا

———

بجھتے ہوئے چراغ میں کچھ روشنی تو تھی
وہ کچھ نہیں تھا میر مگر زندگی تو تھی

یہ سچ ہے بس رہے تھے سرِ دشت ہم مگر
آباد شہر ایسی کہیں اک گلی تو تھی

تعمیر ہو سکی نہ مکمل کسی طرح
بنیاد اک مکان کی ہم نے رکھی تو تھی

اک دوسرے کا درد جو ہم تم سمجھ سکیں
کچھ بولتی نگاہوں میں اتنی نمی تو تھی

اک مصلحت کے تحت بھلایا تو تھا اُسے
محسوس کر سکوں جسے اتنی کمی تو تھی

اس لطف میں ہی کر دی سحر زندگی تمام
میں اس کے ساتھ چند قدم تک چلی تو تھی
———
تمت بالخیر
———

Viewers: 462
Share