Maqbool Shahzad | مقبول شہزاد کا شعری مجموعہ “مجھے خاموش رہنے دو:

پروردگار کے نام کے ساتھ جو بڑا مہربان اور رحیم ہے! مجھے خاموش رہنے دو مقبول شہزاد ——- کتابوں سے پیار کیجئے ——- مجھے خاموش رہنے دو مقبول شہزادؔ 270/ٹی […]

پروردگار کے نام کے ساتھ جو بڑا مہربان اور رحیم ہے!

مجھے خاموش رہنے دو
مقبول شہزاد
——-
کتابوں سے پیار کیجئے
——-

مجھے خاموش رہنے دو
مقبول شہزادؔ
270/ٹی ڈی اے، ضلع لیہ(پنجاب۔ پاکستان)
فون: +92 344 8594839 +92 343 8574034
ای میل: shanueva0@gmail.com
——-
استحقاق: تمام تصرفات ’’اردوسخن و شاعر ‘‘کی تحویل میںہیں
ناشر: اردو سخن ڈاٹ کام، پاکستان
نمودِ اول: 15 جولائی 2008ء
——-
کمپوزنگ: بابر ادیب، محمد عارف، صدام حسین (آرٹ لینڈ)
نظر ثانی: زریں حمید خان
اہتمام: آرٹ لینڈ چوک اعظم
تعداد: 500
طباعت: شیرِ ربانی پریس، ملتان
قیمت: 200 روپے (15 پائونڈ ، 20ڈالر)
——-
انتساب

لہو میں گونجتی درد کی شہنائی کے نام!
وفا میں ڈوبتی تیری مسیحائی کے نام!
ملے ہے جو تمہارے نام سے ایسی پذیرائی کے نام!
مقابل دل کے ٹھہرے جو اس سودائی کے نام!
محبت کی عطا کردہ غم کی شہنائی کے نام!
خفا جو ہو گیا مجھ سے اس ہرجائی کے نام!
اور
بس
اپنی تنہائی کے نام!
——-

————

محبت کے شب و روز بانٹنے والاشاعر

شاعری خداد صلاحیت ہے۔ اس کی مکاشفانہ بنیاد پر شاعر اپنے احساسات، جذبات اور نظریات کو الفاظ کا منطقی روپ دے کر زمانے کے روبرو پیش کرتا ہے۔ ہمارے پیارے بابا جانی، مقبول شہزؔاد، جب لفظوں کے تانے بانے بن رہے تھے، تب ہمارے دلوں سے دعا پھوٹتی تھی کہ وہ ایک نہ ایک دن ان منتشر تحریروں کو مجتمع کر کے جلد از جلد ہمارے ہاتھوں میں ایک کتاب کی صورت تھمائیں ۔ خدا کا شکر ہے کہ ان کی، ہماری اور ان کے پرستاروں کی دیرینہ خواہش پایہ ءِ تکمیل کو پہنچ کر اپنی روشنی بکھیرنے جا رہی ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب ’’مجھے خاموش رہنے دو‘‘ میں ہر نوع اور ہر صنف کو موضوعِ سخن بنایا ہے۔ انہوں نے نہ صرف گہری، دبیز اور عمیق مفکرانہ باتیں کی ہیں بلکہ انہوں نے بچوں کے لیے بھی نصیحت کا عمل جاری رکھا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ بابا جانی کے تخلیق کردہ شعر، ودیعتیں ان کے حلقہءِ احباب و پرستاران کو پسند آئیں اور ان کے اعلیٰ ذوق کی بھرپور آبیاری ہو۔
ذیشان مقبول
مہرین مقبول

————

خوبصورت لہجے کا شاعر— مقبول شہزؔاد

برادرم مقبول شہزؔاد کی پہلی کتاب ’’مجھے خاموش رہنے دو‘‘ جب تکمیل کے مراحل میں تھی تو مجھے مقبول کی مشاورت کا اعزاز حاصل تھا۔ مین نے دیکھا، محسوس کیا کہ اگر کہا جائے کہ یہ کتاب نہیں، بلکہ ان کی ان تھک ریاضت ہے تو کچھ بے جا نہیں ہو گا۔ یہ ان کی خاموشی ہی ہے جو اب بول رہی ہے۔ اپنے آپ سے۔ اپنے ہر قاری سے مخاطب ہے۔ ’’مجھے خاموش رہنے دو‘‘ میں شامل تمام تر کلام ، اشعار، غزلیںاور نظمیں اس قدر خوب صورت ہیں کہ کوئی بھی حساس اور باشعور شخص اس سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکے گا۔
یہ کتاب یقیناً ان سب کو پسند آئے گی جو لفظوں کی حرمت کوپہچانتے ہیں۔ جو حساس دل ہیں۔ جو محبت اور غم میں فاصلہ حائل نہیں کرتے۔ جو یہ جانتے ہیں کہ یہ لفظ عام روشنائی سے نہیں، بلکہ دل کی روشنائی سے لکھے گئے ہیں۔
شہزؔاد نئے جذبوں، نئی امنگوں اور جذبوں کا ترجمان شاعر ہے۔ اس کی شاعری خوب صورتی، بے ساختگی، تازگی، سادگی، محبت، وفا، خواب اور برداشت کے ہر رویے اور زاویے کی پیمائش کرتی ہے۔ اس کا ہر شعر معانی کی ایک دنیا سمیٹے ہوئے ہے۔
میرا جب جام چھلکے گا تو اک سیلاب آئے گا
تری بستی کا کچھ حصہ بھی زیرِ آب آئے گا
کر دیا ہے پتی پتی آج سارے صحن میں
ایک نازک سی کلی جو کل کھلی تھی باغ میں

بدل سکتا نہیں کوئی بھی قدرت کے اصولوں کو
جو ہوتا آج ہے شہزؔاد کبھی وہ کل نہیں ہوتا
اس کتاب کی کیمسٹری کچھ ایسی ہے کہ اس نے نہ صرف محبت اور غم کے ہر روپ کو موضوع بنایا ہے بلکہ ارد گرد کے تمام سماجی مسائل، معاشرتی اونچ نیچ، بے انصافی اور تشدد جیسے رویوں کا بھی احاطہ کیا ہے۔ شہزؔاد کی شاعری میں کرب ہے۔ رنج و ملال ہے۔ جذبوں اور ان اذیتوں اور رویوں کی روئیداد بھی ہے جو زندگی نے انسان سے روا رکھے ہیں۔ ایسی صورت حال اس کی بہت سی غزلوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔
سینہ دھرتی کا جب تنور ہوا
جل کے پھر راکھ مزدور ہوا
بہہ گیا خون سب پسینے میں
چند سکوں کو وہ رنجور ہوا

شہر کے دل ربا مکانوں میں
معاشرے کے ناسور رہتے ہیں
مے کدے میں بھی اک نظر دیکھو
آدمی با شعور رہتے ہیں

ہیں آتی چار سو سے بھوک اور افلاس کی چیخیں
کسی نے خود کو پھانسی پر چڑھایا تنگ دستی سے
شہزؔاد نے اپنی شاعری میں زندگی کے ہر پہلو کو سمونے کی کوشش کی ہے۔ اس نے محبت اور زمانہ دونوں کو اس میں شریک رکھا ہے۔ سماجی صورتِ حال سے اوپر وہ آفاقی مسائل پر بھی غور و فکر کرتا دکھائی دیتا ہے۔
چھپتے ہیں جیسے جرم بہت رات کے تلے
ایسے چھپیں گی صورتیں سب خاک کے تلے
وہ ہمہ وقت شاعر نہیں ہے۔ وہ صرف ان لمحوں میں شاعری کرتا ہے جب وہ کچھ محسوس کرتا ہے۔ اس نے جو بھی لکھا، دل سے لکھا اور یقیناً وہ نبض شناس ہی نہیں بلکہ چہرہ شناس بھی ہے۔ اپنے مزاج کی طرح اس نے شاعری میں بہت سادہ الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ مشکل الفاظ سے روشناس نہیں۔ وہ جانتا ہے مگر ارادتاً استعمال نہیں کرتا۔ سادگی، عجز اور انکساری اس کی طبیعت کا حصہ ہیں اور کہیں کہیں اس کا لہجہ انا دار بھی ہو جاتا ہے۔
خود سر ہیں بہت آج کے دور میں ہم بھی
کچھ ان کی ادائوں میں حماقت بھی بہت ہے
اور کبھی کبھی وہ روایت پسند بھی لگتا ہے۔ پرانے شعرا کی طرح اس نے بھی جام و شراب کا ساتھ نہیں چھوڑا۔
لوگ کہتے ہیں عام پیتا ہوں
میں صرف بھر کے جام پیتا ہوں
مے کشی کے سرور میں اکثر
خود کو کرکے تمام پیتا ہوں
بھر کے اک جام حوضِ کوثر سے
لے کے اللہ کا نام پیتا ہوں
شہزؔاد جس عہد کا شاعر ہے، وہ عہد مایوسی اور پریشانی کا ہے۔ ہر طرف زندگی میں مایوسی نظر آتی ہے اور ہر شخص کو زندگی کے مسائل نے متفکر کر رکھا ہے۔ وہ ملک و ملت سے بھی محبت رکھتا ہے۔ گلستان اس کی شاعری کا مرکزی اور بنیادی عنصر ہے۔ چونکہ وہ وطن پرست ہے، اس لیے وہ اس گلستاں کے بارے بھی فکر مند نظر آتا ہے۔
ملا کر میں خون اپنا خاکِ چمن میں
تعمیرِ وطن گلستاں چاہتا ہوں
ہیں شہزؔاد جو مشکلیں انجمن میں
انہیں مل کے کرنا آسان چاہتا ہوں
وہ سچا اور مخلص انسان ہے۔اس کے دل میں قوم کا درد بھی ہے۔ وہ انقلاب چاہتا ہے۔ انسان کو ذلیل ہوتے دیکھنا اس کے بس کی بات نہیں ہے۔ وہ اپنے لوگوں سے بھی مخاطب ہو کر کہتا ہے۔
مل کے ہم کو آج اک آواز ہونا چاہیے
اک انوکھے دور کا آغاز ہونا چاہیے
نئے جذبے نئے نغمے اور نئے ارمان ہوں
زندگی کا اک نیا انداز ہونا چاہیے
شہزؔاد کی یہ کتاب ’’مجھے خاموش رہنے دو‘‘ اس کے سچے جذبوں کی سرشاری کا ثبوت ہے۔ وہ منفرد اسلوب کا جاندار شاعر ہے ۔ مجھے امید ہے کہ کتابیں پڑھنے والے اور شعری ذوق رکھنے والے لوگ اسے پذیرائی بخشیں گے۔ میری دعا ہے کہ چک نمبر 270/ٹی ڈی اے (لیہ) سے اٹھنے والی یہ آواز ہمیشہ بلند رہے اور یہ روشن ستارہ ہماری دسترس میں بھی رہے۔
زریں حمید خان

————

مقبول شہزؔاد— کائنات کا شاعر

ویسے تو وطنِ عزیز میں ہر شعبہ زندگی زبوں حالی کا شکار ہے، مگر شعبہ ادب کی حالت پر کچھ زیادہ ہی دکھ اور درد محسوس ہوتا ہے۔ پاکستان کا قیام ایک مفکر کا ، ایک دانشور کا خواب تھا مگر اسی پاکستان میں آج کا مفکر، دانشور اور شاعر ذلیل و خوار ہے۔ مفکر کے پاکستان میں فکر مند دانشوروں کی لاشیں میونسپل کمیٹی والے فٹ پاتھوں سے اٹھاتے ہیں۔ یہی لوگ معاشرے کو سدھارنے کی فکر میں ادب کی آبیاری کرنے میں اپنے گھر اور اپنی زندگی کا گلشن اجاڑ بیٹھتے ہیں۔ بقول ناچیز:
ڈتا خونِ جگر ہے توڑے شجرِ ادب کوں
زمانے دی نظر وِچ تاں بیکار ہیں سانول
معاشرے کا حسنِ سلوک ان حساس لوگوں کے ساتھ کچھ ایسا ہے کہ شرمندگی کو خود شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ یہاں کے لوگوں نے شعراء، ادباء اور مفکر لوگوں کو ابھی تک اپنے دل و دماغ میں جگہ نہیں دی۔ یہ سولہ کروڑ سے زائد لوگ ابھی تک اس لیے قوم نہیں بن سکے کہ ان کے ذہن منتشر ہیں اور ان لوگوں کے دل و دماغ پر ابھی تک کرکٹر اور انڈین و اپاکستانی فلمی ہیروز چھائے ہوئے ہیں۔ ایران سے آئے ہوئے میرے ایرانی شاعر دوست حافظ بشیر نے میرے ساتھ ملاقات میں افسوس اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صابر بھائی! آپ علامہ اقبال کی دھرتی کے لوگ ہیں۔ میں متعدد دانشوروں اور شاعروں سے ملا ہوں مگر مجھے کسی میں بھی اقبال کی خوشبو محسوس نہیں ہوئی۔ آپ تو اقبال کے خواب کی دھرتی کے وارث ہیں جبکہ ہم نے اقبال کے افکار پر انقلاب حاصل کر لیا ہے اور ہمارے ہر بچے کو اقبال حفظ کرایا جاتا ہے۔
قارئین! مجھے شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔ میں اپنی نظروں میں بہ حیثیت پاکستانی خود کو گرتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ یہاں اقبال کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کر دیے جاتے ہیں مگر آج تک اقبال کو اپنے سکولوں میں نہیں پڑھایا جاتا۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ اقبال شناسی کا کام پرائمری سطح سے ہی شروع کر دیا جاتا۔
سرائیکی وسیب اس حوالے سے خوش بخت وسیب ہے کہ اس میں لکھنے والے لکھاری اردو، سرائیکی اور پنجابی ادب کو نئے نئے تخیلات دے کر نکھارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مقبول شہزؔاد بھی سرائیکی وسیب کے امین اس تھل کے ریگزاروں میں جیتے جاگتے گائوں چک نمبر 270/ٹی ڈی اے میں اردو اور پنجابی کے فروغ میں منفرد اور اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مقبول شہزؔاد کے ہاں شاعری میں نئے رجحانات، نئے خیالات کی ایک دنیا آباد ہے۔ مقبول کے شعر بھی مقبول کی طرح زبان زدِ عام ہیں۔ مقبول نے اپنے وسیب، اپنے ماحول، اپنی عوام کے دکھ، درد و غم اور مسائل کو موضوعِ سخن بنایا ہے۔ وہ اپنے ایک شعر میں ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی ظالمانہ پالیسیوں کے باعث قائم ہونے والے حالات اورحادثات پر یوں قلم اُٹھاتے ہیں:
اس گلشنِ شاداب کو کھنڈر بنا دیا
اب باغ میں بھی تتلیوں کے بال و پر نہیں
فکرِ معاش میں ڈوبے ہوئے لوگوں کی ترجمانی یوں کرتا ہے:
کیسے چلے گا آج کی سوچوں کا سلسلہ
انسان کا وجود ہے تو اپنا سر نہیں
مقبول شہزؔاد عوامی شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں وہ تمام رنگ موجود ہیں جو ایک مکمل شاعر میں ہونے چاہئیں۔ مقبول نے ذات سے لے کر کائنات تک کی شاعری کی ہے اور یہی وصف انسان کو اس کائنات کا ترجمان بنا دیتا ہے۔
صابر عطا تھہیم
(صحافی، شاعر)

————
سادہ مزاج مگر جہانگیر انسان—مقبول شہزؔاد

شاعری ایک خداداد صلاحیت ہے مگر اسے علم کے حصول اور زورِ مطالعہ پر مہمیز کیا جا سکتا ہے۔ دنیا میں نام پیدا کرنے والی شخصیات میں خدائے بزرگ و برتر نے کئی منفرد خوبیاں سمائی ہوتی ہیں جن کی بدولت وہ دنیا میں اپنا نام پیدا کرتے ہیں۔ مقبول شہزؔاد کا شمار بھی انہی نوازے ہوئے لوگوں میں کیا جا سکتا ہے۔ ان کا شعر گوئی کا انداز نیا اور غیر معمولی اسلوب کا حامل ہے۔ جب وہ شعر کہتے ہیں تو دل چاہتا ہے کہ وہ بولتے رہیں اورہم برابر سنتے رہیں۔ عجز، انکساری اور سادہ روی ان کی تخلیقات کی روح ہیں۔ وہ کہتے ہیں:
ایمان مصمم سے اُٹھا ہاتھ یقیں سے
کچھ مانگ کے دیکھو تو خدا کیوں نہیں دیتے
سانحے انسانی ریخت کا باعث ہوتے ہیں مگر کئی اتنے جاندار اورمضبوط آدرش والے لوگ دکھائی دیتے ہیں جو سانحاتی شکست و ریخت کو بھی اپنی تعمیری کوششوں سے بارآور کر دکھلاتے ہیں۔ مقبول شہزؔاد نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ ایک ایسا ہی رستے رہنے والا دکھ آگے بڑھ کر ’’مجھے خاموش رہنے دو‘‘ کی زندہ و جاوید تخلیق کا سبب ثابت ہوا۔ اپنے اور مقبول شہزؔاد کے درمیان موجود خوبصورت ناتے اور نہ ٹوٹنے والے ربط کے پیشِ نظر میں تہِ دل سے دعا گو ہوں کہ خداوندِ کریم ان کے ہنر کو سوا کرے اور سفر کو بخیر و عافیت منزلِ مقصود تک لے جائے۔
یعقوب انجم بھٹی
(امریکہ)

————

کچھ اپنے بارے میں

گزشتہ پندرہ برسوں سے جس دعا کے قبول ہونے کے انتظار میں تھا، وہ دعا قبول ہو گئی ہے اور آج وہ ’’مجھے خاموش رہنے دو‘‘ کی صورت میں آپ کے سامنے موجود ہے۔ سوچتا ہوں کہ اپنی کہانی کا آغاز کس نقطے میں سے کشید کرکے باہر لائوں، کہاں سے شروع کروں اور لمحہ لمحہ عہدِ موجود تک کا سفر کروں۔ زندگی میں ملنے والی چند خوشیوں سے یا ان اذیتوں سے جواب تک میرے ساتھ ساتھ چلتی آئی ہیں۔ اتنے برسوں سے میرے اندر ہی اندر پرورش پانے والے غم کے لاوے سے یا ان درد کی آبشاروں سے جن کے سوتوں نے ہمیشہ تیزاب اگلا ہے اور روح کے روئیں روئیں کو خاکستر کرنے کا ارادہ مہمیز رکھا ہے۔
مگر اس سے پہلے کہ میں خاموش ہو جائوں، اپنے بارے میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ میں نے سرزمین لوریتو 270/ٹی ڈی اے ، تھل کا دل، لیہ میں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم مشن ہائی سکول لوریتو سے حاصل کی۔ پھر ٹیکنیکل ٹریننگ کے لیے گوجرانوالہ چلا گیا۔ ایف سکس ری بلٹ میں بہ حیثیت کنٹریکٹر کام کرتا رہا۔ اسی دوران زندگی ایک بدنما حادثے کا شکار ہو گئی اور میرے جسم نے ایک جانکاہ عذر کا دامن یوں مضبوطی سے تھام لیا کہ اس کی گرفت پھر کبھی بھی کمزور نہیں ہوئی۔
شعر پڑھنا، سننا اور کہنا مجھے لڑکپن ہی سے پسند تھا مگر اس کا باقاعدہ آغاز اسی دورِ کشمکش سے ہوا اور آج تک جاری ہے۔ یہ سب باتیں جو میں بیان کر رہا ہوں، میرا تعارف نہیں ہیں۔ میرا حقیقی تعارف تو میری شاعری ہے۔ یہی میرے مزاج کا عکس ہے۔ میری پہچان ہے۔ میرا اوڑھنا بچھونا ہے۔ میرے دن رات اور میری کل کائنات۔۔۔ یہ میری ذاتی گفتگو ہے جو انسان کسی سے، اپنے آپ سے، اپنے سائے سے، اپنی روح سے اور اپنی تنہائی سے کسی بھی خوشی یا رنج و الم کے عالم میں کرتا ہے۔
یہ میری روح کی طربیہ اور المیہ کیفیتوں کا نام ہے۔ یہی میرا فن ہے۔ یہ سچ ہے کہ عشق اور شاعری دل و جان، جسم و روح کی مکمل ہم آہنگی کا نام ہے اور محبت درد و وصال، فراق کا استعارہ بھی شاعری کا سب سے بڑا استعارہ ہے جس کو آپ اس کتاب میں محسوس کریں گے۔
جنہوں نے اس کتاب کی اشاعت میں میری مدد فرمائی اور حوصلہ افزائی کی اور جن کی محنت سے میرے بکھرے ہوئے لفظوں کو کتاب کا روپ ملا، میں ان کا تہِ دل سے مشکور ہوں۔ بالخصوص میں اپنے استادِ محترم الفت اے حمید کی بیٹی زریں حمید کا شکر گزار ہوں۔ میرے استادِ محترم اب اس دنیا میں نہیں رہے مگر ان کی بیٹی میری چھوٹی بہن زریں نے مجھے ان کی کی کبھی محسوس نہیں ہونے دی۔ ’’مجھے خاموش رہنے دو‘‘ کی ترتیب، تدوین، تکمیل اور عنوان تجویز کرنے میں ان کی محبت ، محنت اور وقت کا ایک خاص حصہ شامل ہے۔ انہوں نے جس طور سے میری مدد کی ہے، وہ اس کتاب کی صورت میں آپ کے سامنے ہے۔
آخر میں بس یہی کہوں گا کہ میں نے جو بھی تخلیق کیا ہے، وہ سب آپ کے سامنے ہے۔ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ لوگ میری ذات یا میرے فن کو سمجھتے ہیں، سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں یا سرے سے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں اپنے اشعار، اپنی غزلوں اور نظموں سے آپ کے ذوق کو مطمئن نہ کر سکوں مگر آپ ورق ورق پر یہ ملحوظ رکھیں گے کہ میرا لفظ لفظ آپ کے لیے ہے۔ میں نے جو بھی لکھا ہے، وہ آپ کے لیے ہی لکھا ہے۔
احبابِ سخن ور، یارانِ غم گسار و حلقہءِ دوستاں کی رائے کا طلبگار رہوں گا۔
مقبول شہزؔاد
270/ٹی ڈی اے (ضلع لیہ)

————

برسوں سے کھڑا در پہ ترے مانگ رہا ہوں
گر میرے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے

ایمانِ مصمم سے اُٹھا ہاتھ یقیں سے
کچھ مانگ کے دیکھو تو خدا کیوں نہیں دیتے

————

فریاد

دہلیز تری کا سائل ہوں
مانگوں گا یقیں ہے پائوں گا
جب تک نہ سنو فریاد مری
میں چیخوں گا چلائوں گا
تری رحمت کا متلاشی ہوں
میں در تیرا کھٹکائوں گا
بیٹھوں گا ترے دروازے پر
کسی اور طرف نہ جائوں گا

سر رکھ سجدے میں بیٹھا ہوں
رحمت کا ابر برسا دے تُو
اک باغ ہے اجڑا مدت سے
اک بار اسے مہکا دے تُو
دو رحم کی بوندیں دینے سے
کچھ گھٹتا نہیں خزانوں میں
کچھ نظر عنائت مجھ پہ کرو
شامل ہوں ترے دیوانوں میں
جب پاس مرے آ بیٹھے ہو
میں کیوں ڈھونڈوں ویرانوں میں
جو بات حقیقت ہوتی ہے
ملتی ہے کہاں افسانوں میں

آواز مری بھی سن لے تُو
کہتے ہیں تُو سب کا آقا ہے
میں خالی ہاتھ نہ جائوں گا
میں سائل ہوں، تُو داتا ہے

میں آج ترے دروازے پر
اک بات منانے آیا ہوں
جو کھو گئیں مجھ سے مدت سے
وہ خوشیاں پانے آیا ہوں
جو گزری بیتی باتیں ہیں
وہ تجھ کو سنانے آیا ہوں
جلتی ہے جو دل میں برسوں سے
وہ آگ بجھانے آیا ہوں

تُو دل کا حال تو جانے ہے
میں پھر بھی تجھے بتلائوں گا
تو راحت کا سرچشمہ ہے
شہزؔاد تجھی سے پائوں گا

————

تعمیرِ چمن

ملا کر میں خون اپنا خاکِ چمن میں
تعمیرِوطن گلستاں چاہتا ہوں
ترقی کی منزل ہو ہر ایک قدم پر
نیا پیدا کرنا جہاں چاہتا ہوں
جو دن رات اس پہ کرے جانفشانی
میں ایسا کوئی باغباں چاہتا ہوں
ہو ہر سو یہاں علم کا بول بالا
اے اہلِ علم وہ سماں چاہتا ہوں
رہے لہلہاتا یہ غنچہ سدا تک
نہ آئے کبھی بھی خزاں چاہتا ہوں
ہیں شہزؔاد جو مشکلیں انجمن میں
انہیں مل کے کرنا آساں چاہتا ہوں

————

رفتہ رفتہ دوستی کے دیپ مدھم ہو گئے
اس طرح تنہا نہیں تھے جس قدر ہم ہو گئے

اس جہاں کی ساری خوشیاں ہو گئیں تجھ کو نصیب
میری قسمت میں جہاں کے سارے ہی غم ہو گئے

یاد میں تیری جو رو کر کھٹکھٹایا اس کا در
آنکھ سے آنسو گرے جو آبِ زم زم ہو گئے

آسماں کو اس زمیں پر جب بھی پیار آیا تو پھر
اس قدر بارش ہوئی کہ صحرا قلزم ہو گئے

آج بھی محسوس ہوتا ہے تُو میرے پاس ہے
جب بھی یوں سوچا تو سارے فاصلے کم ہو گئے

————

لکھ رہا تھا حرف جب کاتب مری تقدیر کے
بے ثمر لکھتا رہا مانند شجر انجیر کے

ہر طرف محرومیاں لکھ کر بھری لوحِ حیات
ٹالتا پھر کس طرح جو حرف تھے تحریر کے

ڈھونڈتا تھا جس قدر میں عشق سے راہِ فرار
خم بڑھاتا جا رہا تھا زلف کی زنجیر کے

مدتوں سے قید ہوں حالات کے زندان میں
دم نکل جائیں گے شاید قید میں اسیر کے

منزلو! تم خود ہی میری سمت آئو دو قدم
کچھ تو کم شہزؔاد ہوں یہ فاصلے راہ گیر کے

————

خدارا نہ آنکھیں بدل ، کہہ رہا ہوں
تیرے نام کی اک غزل کہہ رہا ہوں

تصور کے بوسے میں ہے خاص لذت
نقل کو بھی میں تو اصل کہہ رہا ہوں

خزائوں میں تیری محبت کے صدقے
بہاروں کی کوئی غزل کہہ رہا ہوں

تیرے عشق میں جو اُٹھائے ہیں صدمے
انہیں بھی خدا کا فضل کہہ رہا ہوں

صرف میرے ڈسنے کو یہ اژدہا ہے
جسے تیری زلفوں کا بل کہہ رہا ہوں

ہے شہزؔاد اٹکی میری جاں لبوں پر
ٹھہر جائو میں ایک پل کہہ رہا ہوں

————

گر تجھ کو مجھ سے پیار ہے مجھ کو گلے لگا
یہ وقت کی پکار ہے مجھ کو گلے لگا

یہ بہکی ہوئی بات جو لبوں پہ آ گئی
یہ عشق کا خمار ہے مجھ کو گلے لگا

اب زندگی میں اور تمنا نہیں رہی
بس تیرا انتظار ہے مجھ کو گلے لگا

وعدوں کا اب نہ مجھ کو دلاتے رہو یقین
مجھ کو تو اعتبار ہے مجھ کو گلے لگا

مہمیز ہو گئی ہیں میرے دل کی دھڑکنیں
پھر موسمِ بہار ہے مجھ کو گلے لگا

آ جا مرے قریب میرا ہاتھ تھام لے
شہزؔاد بے قرار ہے مجھ کو گلے لگا

————

بہاروں کے موسم میں آئے نہیں ہو
خزاں میں اگر تم ملے بھی تو کیا ہے

ہوا سے بکھر جائوگے پتی پتی
جو کچھ دیر چھپ کر رہے بھی تو کیا ہے

نہیں آتی جس سے وفائوں کی خوشبو
وہ گل اس جہاں میں کھلے بھی تو کیا ہے

مجھے فکر جب آشیاں کی نہیں ہے؎
یہ طوفاں ٹلے نہ ٹلے بھی تو کیا ہے

جہاںساری بستی کے گھر جل رہے ہوں
مرا گھر جلے نہ جلے بھی تو کیا ہے

وہ شہزؔاد سارا چمن پھونک کر اب
جو ہاتھوں کو اپنے ملے بھی تو کیا ہے

————

چبھتی ہیں آج مجھ کو ہوائیں ترے بغیر
سنسان ہو گئی ہیں فضائیں ترے بغیر

شامِ فراق میں ہے اندھیروں سے دوستی
تنہا یہ کیسے دیپ جلائیں ترے بغیر

سجدوں سے اب تو میری جبیں داغ دار ہے
سنتا نہیں خدا بھی دعائیں ترے بغیر

ہوتی ہے زندگی میں اک بار دل لگی
شہزؔاد کس سے آنکھ ملائیں ترے بغیر

————

مرے گھر میں کب سے وہ آتا نہیں ہے
ذہن سے وہ کم ظرف جاتا نہیں ہے

مجھے بھول کر وہ ہوا ہے کسی کا
یہ پاگل ہے دل جو بھلاتا نہیں ہے

پلائے تھے جس نے محبت کے ساغر
بڑی دیر سے وہ پلاتا نہیں ہے

مرے دوستو توڑ دو میرا ساغر
مرے من کو اب یہ لبھاتا نہیں ہے

ذہن میں جو آتی ہیں یادیں پرانی
وہ شرما کے آنکھیں ملاتا نہیں ہے

————

Problem

پریشاں حال ہم بھی ہیں
پریشاں حال تم بھی ہو
پرایا مال ہم بھی ہیں
پرایا مال تم بھی ہو
ابھی ہم بھی جواں ہیں
صاحبِ جمال تم بھی ہو

————
حسرت

سایہ نہیں تو کڑی دھوپ دیتے
مرے پیار کو بھی کوئی روپ دیتے
————

ترا مسکرانا غضب ڈھا گیا ہے
یہ آنکھیں ملانا غضب ڈھا گیا ہے

یونہی شرم سے تیرا آنکھیں چراکر
وہ سر کو جھکانا غضب ڈھا گیا ہے

بڑے پرسکوں تھے محبت سے پہلے
محبت جتانا غضب ڈھا گیا ہے

بہکتے نہ تھے یوں تو پی کر کبھی ہم
مگر یہ پلانا غضب ڈھا گیا ہے

ذرا دور رہ کر ہی باتیں کرو تم
نہ کہنا دیوانہ غضب ڈھا گیا ہے

جو تھا تجھ سے مجھ کو بہت دیر پہلے
وہ شکوہ پرانا غضب ڈھا گیا ہے

————

مفلس ہوں میرے پاس کوئی مال و زر نہیں
اب تو لگے کہ گھر بھی میرا اپنا گھر نہیں

بہتے رہے ہیں اشک جو رویا ہوں عمر بھر
اب آنسوئوں کے بعد میری چشمِ تر نہیں

وہ گلشنِ شاداب کو کھنڈر بنا گیا
اس باغ میں اب تتلیوں کے بال و پر نہیں

غالب ہے ان کی سوچ پر شیطان کا ادراک
ان کو تو روزِ حشر کا بھی کوئی ڈر نہیں

میرے ذہن پہ آج بھی سوچوں کا بوجھ ہے
بانٹے جو میرے درد کو وہ ہم سفر نہیں

کیسے چلے گا آج کی سوچوں کا سلسلہ
انسان کا وجود ہے تو اپنا سر نہیں

تجھ کو گلا ہے ہم نے نہ رکھی تری خبر
شہزؔاد کو تو آج تک اپنی خبر نہیں

————
ایک شعر

پہلے کھڑکی سے ہے جھانکا اور پھر دیوار سے دیکھا ہے
برسوں بعد کسی نے مجھ کو اب پھر پیار سے دیکھا ہے

————

بات مجھ پر ہوئی عیاں بھی نہیں
منزلوں کے ملے نشاں بھی نہیں

راکھ جل کر ہوا ہے گھر میرا
اب فضا میں کوئی دھواں بھی نہیں

خون بکھرا ہے اب شگوفوں کا
باغ میں کوئی باغباں بھی نہیں

گھپ اندھیرا ہے ساری بستی میں
روشنی کا کہیں گماں بھی نہیں

نور چمکے کہیں اندھیروں میں
دور بدلے مگر آساں بھی نہیں

————

اگر دل میں سما جائو تو کوئی بات بن جائے
کبھی تم میرے بن جائو تو کوئی بات بن جائے

غلط کہتے ہیں دوری سے محبت اور بڑھتی ہے
ذرا دل دل سے ٹکرائو تو کوئی بات بن جائے

تڑپنا دید کو تیری مری حسرت بڑھاتا ہے
مجھے کچھ اور تڑپائو تو کوئی بات بن جائے

حیا سے یوں سمٹ جانا مناسب تو نہیں جاناں
ذرا سانسوں کو الجھائو تو کوئی بات بن جائے

انہوں نے مسکرا کر پھر کیا شہزؔاد جی اب تو
غزل گوئی جو فرمائو تو کوئی بات بن جائے

————

اک نیا سفر درپیش مجھے بھی ہے

بے شک نہ میرا اعتبار کرو
کوئی تاب نہیں ہے مجھ میں بھی
انکار تمہاری الفت سے
کرنے کا کہاں دم باقی ہے
بس قسم ہے صرف محبت کی
نہیں زور کوئی بھی بازو میں
میں تجھ کو لے جانا چاہتا ہوں
دنیا سے چھپا کر آنکھوں میں
خود سے بھی چھپا کر دل میں مَیں
اک گھر جو بسانا چاہتا ہوں
نہ جانے ایک دیوانہ سا
کیوں تجھ پہ ہی فدا ہو بیٹھا ہے
تم ہاں کہہ دو یا نہ کہہ دو
میں تجھ کو لے جانا چاہتا ہوں
مصروف ہیں سب پروازوں میں
طیور یہاں پر تشنہ ہیں
شہزؔاد محبت کے مارے
چند گیت سنانا چاہتا ہوں
میں تجھ کو لے جانا چاہتا ہوں

————

اپنے بیٹے مہران کے نام

مجھے بچھڑا ہوا وہ شخص جب بھی یاد آتا ہے
اتھاہ گہرائیوں میں پھر مرا دل ڈوب جاتا ہے

مجھے تنہائیوں کا درد دے کر چھوڑنے والا
بچھڑ کر مجھ سے برسوں سے مگر اب بھی رلاتا ہے

ابھی بھی دور سے کانوں میں اک آواز آتی ہے
کہ جیسے پیار سے بابا کوئی کہہ کر بلاتا ہے

کوئی شہزؔاد کا ہمدرد ہو تو پیار سے پوچھے
جگہ پانی کی ساغر میں وہ کیوں آنسو ملاتا ہے

————
درد

درد پھیلا تو کائنات بنی
زندگی نامِ حادثات بنی
کچھ تو رکھ لے جواز یزداں کا
ذات تیری سے میری ذات بنی
زلف سمٹی تو روشنی پھیلی
جب بکھیری تو کالی رات بنی

————

قطعہ

ہم نے دریا پہ سپر باندھا ہے
اب تو لگتا ہے ٹوٹ جائے گا
گر میں آنکھوں کو بند کر بھی لوں
پھر بھی چشمہ سا پھوٹ جائے گا

————

آغازِ شب جو ہوتا ہے تو سورج جیسے ڈھلتا ہے
کوئی چپکے سے بن کھٹکے میرے دل میں اُترتا ہے

میں پھر بھی تنہائیوں میں آہٹوں پہ چونک جاتا ہوں
مجھے محسوس ہوتا ہے کوئی کروٹ بدلتا ہے

میں جب تاریک رستوں پر اکیلا سفر کرتا ہوں
اندھیری رات میں وہ چاند بن کے آ چمکتا ہے

خدایا وہ ہی لمحے زندگی میں امر ہو جائیں
کہ جب شہزؔاد وہ کچھ دیر میرے ساتھ چلتا ہے

————

عزت نہ شہرت نہ زر چاہیے
مجھے ایک چھوٹا سا گھر چاہیے

میں رینگا کروں اور رہوں پرسکوں
نہ پرواز کو بال و پر چاہیے

کدورت کا جس میں نشاں نہ ملے
محبت کی ایسی نظر چاہیے

جو مشکل میں بھی مسکراتا رہے
مجھے باوفا ہم سفر چاہیے

————

کتنی دلکش ہیں تری کتنی نرالی آنکھیں
ہیں حسینوں میں تری سب سے مثالی آنکھیں

اک تصور سا مرے ذہن میں رہ جاتا ہے
دیکھ لیتا ہوں تری جب بھی غزالی آنکھیں

چار ہونے پہ بھی بس دو ہی نظر آتی ہیں
جب کبھی ہم نے تری آنکھ میں ڈالی آنکھیں

خوف انجانا سا اک دل میں بسا رہتا ہے
جب بھی لگتی ہیں تری پیار سے خالی آنکھیں

تم سے برسوں سے فقط پیار ہی مانگا میں نے
دیکھ لے تو بھی کبھی میری سوالی آنکھیں

ٹوٹ جائے گا ترا سخت چٹانوں سا جگر
جب بھی شہزؔاد نے آنکھوں سے ملا لی آنکھیں

————

قطعہ

وقت کی دھول میں اٹ گیا ہوں میں
کتنے حصوں میں بٹ گیا ہوں میں
دیکھ کر مجھ کو بدگماں نہ ہوں
راستے ہی سے ہٹ گیا ہوں میں

————

بدلی ہے اب یہ کروٹِ حالات اس طرح
لیتے ہیں جنم نت نئے خدشات اس طرح

چاہت ہے چھوڑ جائوں یہ دنیا کی انجمن
باقی رہیں نہ میرے نشانات اس طرح

جب ان کو مجھ سے کوئی سروکار ہی نہیں
بھڑکا رہے ہیں کیوں مرے جذبات اس طرح

دائم رکھے خدا ترے حسن و جمال کو
بانٹا پھرے تو عشق کو سوغات اس طرح

لٹکا تھا جس طرح سے مسیحا صلیب پر
کاٹی ہے ہم نے ہجر کی ہر رات اس طرح

وقت نزع ہے گونجتے نالے ہیں درد کے
گونجے تھے کبھی پیار کے نغمات اس طرح

————

مقدر

دامن میں جو خوشیاں سمیٹ رہا تھا
غم بیٹھ کے چپکے سے مجھے دیکھ رہا تھا
کہتا تھا کہ جی بھر لے بہت دیر نہیں ہے
اے توبہ شکن! پھر تو تیری خیر نہیں ہے
دوں گا نہ تجھے وقت نہ فریاد کرو گے
گزرے ہوئے وقت کو بس یاد کرو گے
دنیا ہی الٹ دوں گا ترے خوابِ جہاں کی
تم خاک نہ پائو گے کبھی ڈھونڈ یہاں کی
چھوڑیں گے تیرا ساتھ سبھی یار تمہارے
جیتا میں، مقدر گئے ہیں ہار تمہارے
رکھی ہے نظر جس پہ اسے چھوڑا نہیں ہے
ٹوٹے ہوئے دل کو کبھی جوڑا نہیں ہے
پہلے سے بھی دل آج میرا سخت ہوا ہے
شہزؔاد بلندی سے کیا پست ہوا ہے

————

ہم نشیں آئو ادھر کچھ پیار کی باتیں کریں
بڑھ رہا ہے درد، دردِ یار کی باتیں کریں

بیٹھ جائو پاس اور کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں
اب تلک جو دور ہے اس یار کی باتیں کریں

کس طرح کٹتی ہے کیسے گزرتی ہے عشق میں
چوم کر زلفیں لب و رخسار کی باتیں کریں

چار دن کی زندگی میں کچھ تو ہوں رنگینیاں
کھو کے اک دوجے میں پھر دیدار کی باتیں کریں

دو دلوں کے درمیاں رہتے نہیں جب فاصلے
دھڑکنوں کی دھڑکتی رفتار کی باتیں کریں

آنکھ اٹھنے پر سبھی ویران ہوں جب راستے
کیوں نہ پھر شہزاد حالِ زار کی باتیں کریں

————

دل تیری دل لگی سے ڈرتا ہے
روز جیتا ہے روز مرتا ہے

ہر طرف حسرتوں سے تکتا ہوں
جب کوئی کارواں گزرتا ہے

دل بہت اب اداس رہتا ہے
تیری الفت کا دم جو بھرتا ہے

ایک پل جو نہ تجھ سے دور رہا
آج وہ دید کو ترستا ہے

آنکھ دن رات یوں برستی ہے
جیسے بادل کوئی برستا ہے

دل تو لے کر چلے گئے ہو تم
اب یہ سینے میں کیا دھڑکتا ہے

————

جب چھوڑ دے کوئی ساتھ تیرا
لے جام کو اپنا دوست بنا

جو سب سے منکر ہو جائے
کرتا ہے یہی پھر اس سے وفا

اب چھوڑ دے ان سے ناطے کو
کیوں دیتا ہے تو خود کو سزا

وہ ہم سے وفائیں کر نہ سکے
پر کرتے رہے ہم ان سے وفا

کچھ ترس نہ آیا ہم پہ انہیں
ہم جان کریں کیوں ان پہ فدا

سب توڑ کے رشتے دنیا سے
اب مے خانے میں گھر کو بسا

اب پی کے بھول جا غم سارے
یوں جی کو نہ اپنے روگ لگا

سب غم میں زمانے کے ہنس کے سہوں
شہزؔاد نہ گر ہو مجھ سے جدا

————

قطعہ

دی خون پسینے کی سزا اتنی کڑی کیوں؟
انسان کو جینے کی سزا اتنی کڑی کیوں؟
اک بھول پہ مے خانہ ءِ جنت سے نکالا
اک رند کو پینے کی سزا اتنی کڑی کیوں؟

————

لرزتا ہے ہاتھ جب بھی پہنچتا ہے جام تک
پُرسکوں ہوتی نہیں ہے زندگی انجام تک

گل ہو جائے کب نہ جانے یہ چراغِ زندگی
چاہتا ہوں سمٹ جائیں کام سارے شام تک

آندھیوں میں ڈولتی اس کشتیءِ حیات کو
ناخدا کچھ اور ہمت باندھ لے چل بام تک

زندگی تیری حقیقت کچھ نہیں یہ جان کر
دست بستہ ہو گئے ہیں آخری پیغام تک

تو نہ کرتا گر شعورِ زندگی کا تذکرہ
جانتا پھر کون تھا شہزؔاد تیرا نام تک

————

حق کبھی بھی ادا نہیں ہوتا
غیر پہ دل جدا نہیں ہوتا

جو فقط غم کی بارشیں کر دے
وہ کسی کا خدا نہیں ہوتا

لاکھ کوشش کرو مگر گوشت
ناخنوں سے جدا نہیں ہوتا

بعد غم کے خوشی ضروری ہے
وقت سب ایک سا نہیں ہوتا

بدل دیتی ہے گردشِ دوراں
خود تو کوئی برا نہیں ہوتا

بہت اب تک حسین دیکھے ہیں
کوئی بھی باوفا نہیں ہوتا

مشورہ مفت مجھ کو دیتا ہے
خود کیوں اُن سے خفا نہیں ہوتا

ہر طرف رنجشیں ہوں جب شہزؔاد
کوئی بھی دل ربا نہیں ہوتا

————

تنہائیاں تھیں اور میرے پاس کچھ نہ تھا
شاید کہ اس جہاں میں مجھے راس کچھ نہ تھا

پرسش کو میری اور تو آئے تھے بہت لوگ
جس نے تباہ کیا اُسے احساس کچھ نہ تھا

محفل میں ان کی مدتوں کے بعد جو گئے
باتیں وہی تھیں عام وہاں خاص کچھ نہ تھا

تڑپا تھا ان کی دوریوں کے نام سے بہت
لیکن وہ آج ہجر میں اداس کچھ نہ تھا

چرچے تھے ان کی حکمتوں کے دور تک بہت
لیکن شہزؔاد اصل میں شناس کچھ نہ تھا

————

میرے صبر کی انتہا دیکھ لے
شاہوں کو ہوتے گدا دیکھ لے

یہ سائل ترے در سے اٹھتا نہیں
وفا میری اے بے وفا دیکھ لے

پلٹ کر کبھی اس نے دیکھا نہیں
حسینوں کی یہ بھی ادا دیکھ لے

سکوں تجھ کو آئے گا نہ ایک پل
میرے ہم سفر رہ جدا دیکھ لے

جانب تری جب بھی پرواز کی
مخالف چلی ہے ہوا دیکھ لے

میرے جرم اتنے زیادہ نہ تھے
جو دی تو نے مجھ کو سزا دیکھ لے

کوئی تو نظر مجھ کو دیکھو سہی
بھلا جو نہیں تو برا دیکھ لے

نظر میں جو شہزؔاد کی کچھ نہ تھے
وہی بت بنے ہیں خدا دیکھ لے

————

مری آباد بستی بھی یہ کیا ویران بستی ہے
میں تنہا ہوں سہاروں کی کمی محسوس کرتا ہوں

اڑا سا رنگ پھولوں کا ہے اس ویران گلشن میں
لبِ گل پر بہاروں کی کمی محسوس کرتا ہوں

میں اپنا خونِ دل تک بانٹنا چاہتا ہوں لوگوں میں
مسیحا ہوں بیماروں کی کمی محسوس کرتی ہوں

بھرم وعدوں کا تیرے رات ڈھلتے ٹوٹ جاتا ہے
فلک پر جب ستاروں کی کمی محسوس کرتا ہوں

پتنگے عشق میں جو جان دیں شمع فروزاں پر
میں ایسے جاں نثاروں کی کمی محسوس کرتا ہوں

مرا یہ آشیانہ ہی مری جنت تو ہے لیکن
میں جنت میں نظاروں کی کمی محسوس کرتا ہوں

————

سینہ دھرتی کا جب تنور ہوا
جل کےپھر راکھ مزدور ہوا

چل پڑا بیل جیسے کولھو کا
ہے پیسنے میں شرابور ہوا

بیٹھ لیا سائے میں درختوں کے
جسم جب بھی تھکن سے چور ہوا

کھا لیے خشک ٹکڑے روٹی کے
بھوک سے ختم جب شعور ہوا

ایسے محنت کشوں کی محنت سے
ہے امیروں کے گھر میں نور ہوا

بلکتے بھوک سے رہے بچے
غم حالات سے رنجور ہوا

————

جانِ پدر—مہران!

پاس آنکھوں کے تجھے جانِ پدر رکھتے ہیں
حوصلہ دور کا ہم تجھ کو کدھر رکھتے ہیں
پوچھ مت دیکھتے کیسے ہیں تری حالت یہ
ہم بھی سینے میں چٹانوں کا جگر رکھتے ہیں
کب ترے پھول سےہونٹوںکی کوئی بات سنیں
یونہی ہر وقت ترے رخ پہ نظر رکھتے ہیں
جب بھی ماضی پہ ترے آج نظر پڑتی ہے
بڑی مشکل سے ان آنکھوں پہ جبر رکھتے ہیں
ہم سے رکھی نہ گئی خبر تری لختِ جگر
بس اسی بھول پہ اوروں کی خبر رکھتے ہیں

————

میرے نغمات کو بھی رنگِ حقیقت دے دے
اپنے ہاتھوں سے مجھے جامِ طریقت دے دے

————

قطعہ

رستے ہیں کہاں اتنے آسان محبت کے
سینے میں سلگتے ہیں ارمان محبت کے
دنیا میں ذرا آ کر تو دیکھ میرے مالک
تشنہ ہیں یہاں کتنے انسان محبت کے

————

تمہارے پیار میں گزرے دنوں کو یاد کرتے ہیں
پرانی یاد سے دنیا نئی آباد کرتے ہیں

کوئی ہو گا خدا زاہد بھی جس کا نام لیتا ہے
تمہارے نام سے صبح کا ہم آغاز کرتے ہیں

بندھے ہیں دل کی تاروں سے تمہاری یاد کے چہرے
قفس سے ہم پرندوں کو کہاں آزاد کرتے ہیں

کبھی تنہائیوں میں زندگی رنگین لگتی ہے
کبھی ہوں محفلیں برپا تو ہم فریاد کرتے ہیں

ہجر میں زندگی میری وہ کیوں برباد کرتے ہیں
’’خدایا کیوں نہیں ملتے جنہیں ہم یاد کرتے ہیں‘‘

————

ہوئی یہ حقیقت عیاں رفتہ رفتہ
ہوئے موت کے سب سماں رفتہ رفتہ

تھا بچپن لڑکپن جوانی جو آئی
ہوئی حسرتیں بھی جواں رفتہ رفتہ

میں انساں تھا کوئی فرشتہ نہیں تھا
کیے زندگی میں گناہ رفتہ رفتہ

ہوا تیز ہے آگ پھیلی نہیں ہے
اُٹھا میرے گھر سے دھواں رفتہ رفتہ

سلگتی رہی اک چنگاری صحن میں
جلا میرا آخر مکاں رفتہ رفتہ

————

پھر نشانہ مرا خطا نکلا
جس کو چاہا وہ بے وفا نکلا

میں نے دل میں جسے بسایا تھا
ذات میری سے وہ جدا نکلا

زخمِ الفت نہ بھر سکا ان سے
درمیاں میں وہی خلا نکلا

ایسی بستی میں بس رہا ہوں میں
جس کو دیکھا وہ دل جلا نکلا

دیکھ حالت کہا مسیحا نے
مرض تیرا تو لادوا نکلا

حسن کی خیر ڈال دو اس کو
تیرے درد پر فقیر آ نکلا

————

ہیر بدلنا پڑتی ہے

ہر گام پہ زندہ رہنے کی تدبیر بدلنا پڑتی ہے
کچھ گزرے وقت کے خوابوں کی تعبیر بدلنا پڑتی ہے

جب سیدھے ہاتھوں کام نہ ہو اس دور کے ٹھیکیداروں سے
پھر زور سے اپنے بازو کے تقدیر بدلنا پڑتی ہے

اب ترکش اور کمان نہیں اب ایٹم اور میزائل ہیں
اس دور میں پچھلے عہدوں کی تفسیر بدلنا پڑتی ہے

یہاں قیس کو خاطر لیلیٰ کی سب عمر گنوانا ٹھیک نہیں
رانجھے کو بھی دل بہلانے کو اب ہیر بدلنا پڑتی ہے

————

رخ ترا جب نقاب میں دیکھا
چاند کو اک حجاب میں دیکھا

مسکراہٹ نے تیری لوٹ لیا
عکس تیرا گلاب میں دیکھا

لوگ بدیوں میں بھی درخشاں تھے
رنج ہم نے ثواب میں دیکھا

مجھ سے لفظوں میں ہو بیاں کیسے
حسن جو بھی جناب میں دیکھا

جو پیا ہم نے تیری آنکھوں سے
وہ نشہ کب شراب میں دیکھا

پھر ترے پیار کی کہانی کو
ہم نے دل کے نصاب میں دیکھا

————

ضرورت

ضرورت ملک کو میرے ہے ایسے پاسبانوں کی
کریں نہ جو دوبالا رونقیں جا کر ایوانوں کی
کریں محنت ملک کے بگڑے حالات سنواریں
صرف نہ بن کے ایم این اے وہ اپنی ذات سنواریں
بنے ہیں رہبر تو ملک کی تقدیر کا سوچیں
کریں کچھ اور بھی اور حل کچھ کشمیر کا سوچیں
یہاں ہر دور میں بڑھتی ہے پہلے سب سے مہنگائی
رہا ایسے تو بیچے گا یہاں بھائی کو بھی بھائی
خدارا روک دو جیسے بھی روکو ایسی آفت کو
ملے روٹی غریبوں کو ترقی دو ثقافت کو
حکومت میں جو آتے ہیں وہ اپنا پیٹ بھرتے ہیں
وزارت چار دن کر کے الیکشن پھر سے لڑتے ہیں
ہلکا بوجھ ہو پاتا نہیں پچھلے الیکشن کا
اسمبلی توڑ کر دیتے ہیں پھر موقع سلیکشن کا
مقرر وقت ہے شہزؔاد نہ کوئی بھی مرنے کا
بناتے ہو جنہیں لیڈر انہیں دو وقت کچھ تو کام کرنے کا

————

قانون نہ بدلو نہ حکمران کو بدلو
انسان میں پہلے انسان کو بدلو

افلاس کی چکی میں جسے پیس رہے ہو
بہتر ہے اسی قیدیءِ زندان کو بدلو

ہر سمت سے جنت کی صدا گونج اُٹھے گی
بس ذہن میں بیٹھے ہوئے شیطان کو بدلو

————

میرے لوگو!

مل کے ہم کو آج اک آواز ہونا چاہیے
اک انوکھے دور کا آغاز ہونا چاہیے
نئے جذبے، نئے نغمے اور نئے ارمان ہوں
زندگی کا اک نیا انداز ہونا چاہیے

————

لوگ کہتے ہیں عام پیتا ہوں
میں فقط بھر کے جام پیتا ہوں

جس کو زاہد حرام کہتا ہے
نہ سمجھ کر حرام پیتا ہوں

تنگ آ کرمیں دورِ حاضر کا
بدل جائے نظام ، پیتا ہوں

مفت مے نوش میں نہیں ہرگز
خرچ کرتا ہوں دام پیتا ہوں

بن پیے بھی میں مست رہتا ہوں
غلط سمجھے عوام پیتا ہوں

یوں بھی ہر روز میں نہیں پیتا
تلخ ہوں جب ایام پیتا ہوں

زہر انڈیل کر صراحی سے
بھر کے ساغر کو تھام پیتا ہوں

ہو کے باغی سبھی مذاہب سے
ان سے ہو ہم کلام پیتا ہوں

سر بسجدہ میں باوضو ہو کر
بن کے تیرا غلام پیتا ہوں

بھر کے اک جام حوضِ کوثر سے
لے کے اللہ کا نام پیتا ہوں

شیخ پیتا ہے پانچ وقتوں میں
میں فقط صبح وشام پیتا ہوں

مے کشی کے سرور میں اکثر
خود کو کر کے تمام پیتا ہوں

بیٹھ کے سامنے مسیحا کے
انہیں کر کے سلام پیتا ہوں

————

آنکھوں میں بسا کے ہم تجھ کو پھر دل میں چھپانا چاہتے ہیں
جو آج تلک بتلا نہ سکے وہ راز بتانا چاہتے ہیں

جس ایک گناہ کی غلطی سے تھا آدم نکلا جنت سے
تیرے جسم کے باغِ عدن سے ہم اب پھل وہ کھانا چاہتے ہیں

وہ مجھ سے سنے میں اس سے کہوں کسی اور وہ بھگوان نہ ہو
ہم اپنے من کے مندر میں اس بت کو سجانا چاہتے ہیں

یہ ناز ترے انداز ترے مجھے مار گئے ہم ہار گئے
ہم تیری شوخ ادائوں سے کچھ دل بہلانا چاہتے ہیں

یہ سوچ مری افسانہ ہے دراصل حقیقت کچھ بھی نہیں
شہزؔاد تو ڈھال کے لفظوں کو بس غزل بنانا چاہتا ہے

————

پتھروں سے ہم وفا کی التجا کرتے رہے
جس طرح بھی کر سکے ہم حق ادا کرتے رہے

ہم پرستش کے جنوں میں سر بسجدہ ہو گئے
سو گئے معبود لیکن ہم دعا کرتے رہے

کاسہءِ دل توڑ کے وہ واں سے رخصت ہو گئے
ہم فقیروں کی طرح پھر بھی صدا کرتے رہے

وہ بنے زینت ہمیشہ محفلِ اغیار کی
ہم کہ جن کے واسطے سب کچھ فدا کرتے رہے

بے وفائوں سے وفا کی جستجو میں چل دیے
عمر بھر شہزؔاد جی یہ ہی خطا کرتے رہے

————

محبت میں سکوں دل کو کہیں حاصل نہیں ہوتا
کوئی منزل نہیں ایسی جہاں قاتل نہیں ہوتا

فضائے عشق میں ہر پل نمی آنکھوں میں رہتی ہے
یہاں بارش برستی ہے مگر بادل نہیں ہوتا

حشر میں فیصلہ میرا خدا کے سامنے ہو گا
کہ شہرِ عشق کا قاضی کبھی عادل نہیں ہوتا

کسی کا منتظر ہوں آج بھی ویران آنگن میں
مرے سنسنان گھر میں کوئی بھی داخل نہیں ہوتا

تری گلیوں میں رہتا ہے جو اک شہزؔاد پاگل سا
کوئی لمحہ تمہاری یاد سے غافل نہیں ہوتا

————

یہ جو آنکھوں میں خواب رہتے ہیں
ان میں اکثر جناب رہتے ہیں

میں جو ان کو خطوط لکھتا ہوں
ان کے سارے جواب رہتے ہیں

کب اٹھائے نقاب چہرے سے
دیکھنے کو بے تاب رہتے ہیں

یا الٰہی یہ تیری دنیا میں
کیسے کیسے گلاب رہتے ہیں

وہ ستاروں کی انجمن میں اب
مانندِ ماہتاب رہتے ہیں

————

اس دور میں رہنے کو فضا ٹھیک نہیں ہے
لگتا ہے کہ زاہد کی دعا ٹھیک نہیں ہے

پردوں میں ترا حسن بہت خوب لگا تھا
لیکن ترے اندر کا خلا ٹھیک نہیں ہے

اپنا بھی مجھے عکس دکھائی نہیں دیتا
دھندلے ہوئے آئینے کی جلا ٹھیک نہیں ہے

شہزؔاد تصور میں اسے پوج لیا کر
کہتے ہیں کہ پتھر کا خدا ٹھیک نہیں ہے

————

سڑک پہ بیٹھ کو جو دل کو بہلائیوں تو اچھا ہے
جو ہوتے شام اپنے گھر میں نہ جائیں تو اچھا ہے

جواںہو کر جو کھو دیں گی گل و گلزار کی عصمت
یہ کلیاں بن کھلے ہی آج مرجھائیں تو اچھا ہے

مجھے معلوم ہے کونے کا پتھر یہ ہی ٹھیریں گے
مگر کچھ دیر تک یہ ٹھوکریں کھائیں تو اچھا ہے

————

من پنچھی

ڈالی ڈالی پھر کر پنچھی ایک ڈال پر ٹھہرا ہے
ڈالی ہے خالی چھائوں سے اور دھوپ میں تپتا صحرا ہے

————

بے بسی

ہجر کی رات آنکھوں میں گزاروں گا تو رو دوں گا
خیالوں میں تری زلفیں سنواروں گا تو رو دوں گا

یونہی سنسان راتوں میں پریشانی کے عالم میں
گلی میں آ کے جب تجھ کو پکاروں گا تو رودوں گا

تری تصویر آنکھوں کو جھپکنے بھی نہیں دیتی
میں جب دیوار سے اس کو اُتاروں گا تو رودوں گا

اگر میں زندگی بھی ہار دوں تو مسکرائوں گا
مگر شہزؔاد جب تجھ کو میں ہاروں گا تو رودوں گا

————

قطعہ

حسن جب بھی قریب ہوتا ہے
مرحلہ اک عجیب ہوتا ہے

لمس ہونٹوں کا ہر کسی کو کہاں
اپنا اپنا نصیب ہوتا ہے

وصل میں بھی جسے فراق ملے
کس قدر بدنصیب ہوتا ہے

————

مجھے خاموش رہنے دو

مجھے خاموش رہنے دو
اگر میں بولتا ہوں تو
کوئی کہسار پھٹتا ہے
کوئی کہسار پھٹتا ہے
تو لاوہ پھوٹ پڑتا ہے
لو اب دھرتی کے سینے پر
یہ آتش پھیل جائے گی
جو اس کی زد میں آ ئے گا
جلا کر رکھا کر دے گی
اگر تم سوچ لیتے ہو
یہ طوفاں ٹل بھی سکتا ہے
مگر اب سوچ بھی لو تو
یہ طوفاں ٹل نہیں سکتا
تمہیں پہلے نہ کہتا تھا
مجھے خاموش رہنے دو
مجھے خاموش رہنے دو

————
Be my rose

تو حسینوں میں سب سے حسیں پھول ہے
خوب صورت بہت مہ جبیں پھول ہے
ہیں بہاروں میں ہرسو کھلے گلستاں
اس زمانے میں تجھ سا نہیں پھول ہے
لاکھ چاہوں تو دل سے نکلتا نہیں
جو کہ گوشہءِ دل میں مکیں پھول ہے
حسن تجھ سا کہاں سے لے آئے کوئی
یوں تو کہنے کو ساری زمیں پھول ہے
کھل اٹھا تیری خوشبو سے سارا چمن
ان کھلی سے کھلی جب بنی پھول ہے
خوب صورت مرے گل زریں سا کہاں
یوں تو تیرا بھی عرشِ بریں پھول ہے
ساری کانٹوں میں الجھی رہی زندگی
اس لیے اب تو میری کمی پھول ہے
آج محفل میں شہزؔاد جی بیٹھ کر
کہہ رہے تھے مرا ہم نشیں پھول ہے

————

اپنے گائوں کے نام

سرزمین لوریتو میری آبرو
تُو سلامت رہے ہے میری آرزو

تیری مٹی سے ہے میری ہستی بنی
تو بزرگوں کی محنت سے بستی بنی
ان کی ہمت سے ہے آج تو مشک بُو

ایک جنگل سے تو گلستاں بن گئی
تو ادب گاہِ امن و اماں بن گئی
ہے اخوت کی مہکار اب کو بہ کو
میرے لب پہ ہیں جاری فسانے ترے
مل کے گائیں ہمیشہ ترانے ترے
تو ازل سے ابد تک رہے سرخرو

تو محبت کی بستی ترے ہم مکیں
تو خدا وند کے وعدے کی ہے سرزمیں
مجھ کو جنت سے بھی تو لگے خوبرو

آج ہر سو اجالا ترے نام سے
پیار کا بول بالا ترے نام سے
آج شہزؔاد ہے روشنی چارسو

سرزمینِ لوریتو مری آبرو
تُو سلامت رہے میری آرزو

————

پیغام

یہ سچ ہے کہ خط اس نے میرے نام لکھا ہے
لگتا ہے کہ اک پیار کا پیغام لکھا ہے
الفاظ میں کھولے ہیں جو یادوں کے دریچے
لگتا ہے کہ سب اس نے سرِ شام لکھا ہے
لگتا ہے جوانی کی تڑپ جاگ اُٹھی ہے
مشکل سے گزرتے ہیں جو ایام لکھا ہے
بھرتی ہیں کہاں دل کو یہ الفاظ کی سطریں
’’آ جائو‘‘ یہ شہزؔاد کو پیغام لکھا ہے

————
.
قطعہ

وہ میرے دل میں رہتا ہے میری سانسوں میں رہتا ہے
کوئی ہنستا ہوا چہرہ میری آنکھوں میں رہتا ہے
مجھے امید ہے اک دن جلا کر راکھ کر دوں گا
کسی کا حسن میرے عشق کی آنچوں میں رہتا ہے

————

جینا ہے گر تو حلقہ ءِ احباب کم کرو
راتوں کو دیکھنے مری جاں خواب کم کرو

مانند ہجر کی رات کی تحریر نہ لکھو
دل کی کتاب سے کوئی تو باب کم کرو

راتوں میں تری آ گئے ہیں چاند اور بھی
اک میرے پیار کا ہی آفتاب کم کرو

مانوں گا ایک بار میں منت رحیم سے
اس بے وفا کا حسن و شباب کم کرو

————

میرا جب جام چھلکے گا تو اک سیلاب آئے گا
تیری بستی کا کچھ حصہ بھی زیرِ آب آئے گا

————

ذات اپنی کومٹائو تو کوئی بات بنے
حالِ دل اُن کو سنائو تو کوئی بات بنے

جان اپنی جو بچائو گے کھو بیٹھو گے
خود کو سولی پہ چڑھائو تو کوئی بات بنے

دیپ مومن کا بجھانا تو نئی بات نہیں
شمع کافر کی بجھائو تو کوئی بات بنے

تیل کی شمع جلائی تو کیا کام کیا
دیپ لہو کا جلائو تو کوئی بات بنے

جان دینے کی وفا کر کے یہاں بیٹھ رہو
آج شہزؔاد نہ جائو تو کوئی بات بنے

————

زندگی اک عذاب ہوتی ہے
ہر گناہ کا حساب ہوتی ہے

میرا رونا وہ کس طرح دیکھے
آنکھ میری بے آب ہوتی ہے

پھر ضرورت پڑی مسیحا کی
جب طبیعت خراب ہوتی ہے

جس میں دنیا کے غم سماتے ہیں
ایک قطرہ شراب ہوتی ہے

خواب ہوتے ہیں کچھ حقیقت میں
اک حقیقت بھی خواب ہوتی ہے

————

تیرے حضور میں مقبول میری یہ دعا بھی ہو
کوئی اس درد کی دنیا میں میرا ہم نوا بھی ہو
جہاں میں درد مندوں کی صدا سننے کو یا مولا
سنے نہ تُو تو دنیا میں کوئی دوجا خدا بھی ہو
بٹھا کر سامنے اُس کو کروں کچھ اس طرح سجدہ
نگاہیں جھک بھی نہ پائیں مگر سجداہ ادا بھی ہو
تمہارے عرش پر بستی ہے ساری نور کی دنیا
الٰہی عرش پر شہزؔاد سا اک دل جلا بھی ہو

————

قطعہ

شاخ پر وہ جھولنا اور لب گلوں کے چومنا
زینتِ گلزار تھی جب منچلی تھی باغ میں
کر دیا ہے پتی پتی آج سارے صحن میں
ایک نازک سی کلی جو کل کھلی تھی باغ میں

————

مانند سوداگروں کی بے وفا کے شہر میں
اپنے ہی ہاتھوں خون اپنا بیچتا رہا

ویران گلستاں میں کوئی پھول نہیں تھا
بکھرے پڑے تھے خار وہ سمیٹتا رہا

وہ خود نہیں تھا مگر اس کے نقشِ پا تو تھے
کیسا وہ باغباں تھا ، یہی سوچتا رہا

عشقِ بتاں سے خود کو میں بچاتا کس طرح
باغی ہوا جو میں تو دل فریفتہ رہا

مل نہ سکی آغوش مجھ کو ان کی تاحیات
کچھ دیر تو پیار اُن سے بے پناہ رہا

————

جوں جوں میں اسے سلجھاتا ہوں کچھ اور الجھتی جاتی ہے
کم بخت یہ کیسی ظالم ہے ہر روز نیا بل کھاتی ہے

تدبیر میں جو بھی کرتا ہوں ناکام وہی ہو جاتی ہے
ہر بات وہ پوری ہوتی ہے تقدیر کے جو من بھاتی ہے

دو بھر کے جام پلانے سے تیرا تو بگڑتا کچھ بھی نہیں
کچھ دیر تو میں مدہوش رہوں میں مے کش ہوں تُو ساقی ہے

سب خوشیاں مجھ سے روٹھ گئیں یہ کھیل ہیں سارے قسمت کے
شہزؔاد اسی لیے جیتا ہے تو دے لے جو دکھ باقی ہے

————

گندم

بھرپور جوانی آتی ہے گندم کو بالی لگتی ہے
دلھن کی مانند کھیتوں میں تصویر خیالی لگتی ہے
اٹھتی ہے لہر سمندر میں جھونکا جو ہوا کا آتا ہے
جب جھوم کے یہ بل کھاتی ہے کرتی یہ قوالی لگتی ہے
اڑتی ہے تیز ہوائوں میں تو اپنی شوخ ادائوں سے
یہ گود میں اپنی ماتا کی نازوں سے پالی لگتی ہے
اک ایسی منزل آتی ہے پڑتے ہیں دانے خوشوں میں
پھر یہ سنہرے کپڑوں میں پہلے سے نرالی لگتی ہے
اس سوہنی سوہنی رنگت پر کسان خوشی سے پھولاہے
وہ اس کے گرد یوں گھومے ہے جیسے یہ سالی لگتی ہے
جب اس پہ ختم بہار ہوئی کسان کی تیز کٹار ہوئی
شہزؔاد یہ پھر اس موسم میں خوشیوں سے خالی لگتی ہے

————

نیتوں میں فتور رہتے ہیں
دل میں کیسے حضور رہتے ہیں

شہر کے دل ربا مکانوں میں
معاشرے کے ناسور رہتے ہیں

میکدے میں بھی اک نظر دیکھو
آدمی باشعور رہتے ہیں

ان کی ساری وفائیں میری ہیں
ہم بھی ان کا غرور رہتے ہیں

کچھ بھی کر لو مگر محبت میں
رنج و غم تو ضرور رہتے ہیں

لوٹ کر بے کسوں کی دنیا کو
جانے کیوں بے قصور رہتے ہیں

————

مجھ کو وہ میرے پیار کا اچھا صلہ دیتے رہے
وہ خطا اپنی کا بھی مجھ کو گلہ دیتے رہے
میں تو اپنا نام ان کے نام سے لکھتا رہا
وہ لکیریں نام کی میرے مٹا دیتے رہے
خونِ دل سے میں جو تحریریں انہیں لکھتا رہا
وہ انہیں پڑھنے سے پہلے ہی جلا دیتے رہے
میں قریب المرگ بھی ان کو صدا دیتا رہا
حال میرا دیکھ کر وہ مسکرا دیتے رہے
ان کی خواہش تھی کہ فاقوں سے مریں شہزؔاد جی
ان کی خواہش کے الٹ مجھ کو خدا دیتے رہے

————

خواہش

جسم مخمل گداز اچھا ہے
سب نشیب و فراز اچھا ہے
بکھرتی ان سروں کے سرگم کو
میں بجائوں تو ساز اچھا ہے

————

یہ پردہ تم کدورت کا ہٹا دو اپنی ہستی سے
سبق سیکھو محبت کا نکل نفرت کی بستی سے
تفرقوں میں بنا انسان ہی انساں کا دشمن ہے
یہی تحفہ ملا ہے آج تک فرقہ پرستی سے
ہیں اُٹھتی چارسو سے بھوک اور افلاس کی چیخیں
کسی نے خود کو پھانسی پر چڑھایا تنگدستی سے
نظر اس کو بھی آتا ہے کہ مقتل سج گئے ہر سو
نہ جانے کیوں نکلتا وہ نہیں ہے حال مستی سے
تجھے اب وقت کے سر ساز یہ آواز دیتے ہیں
یہی ہے وقت کہ غافل تو نکل آ خود پرستی سے

————

ایک شعر

ہے عادت راز کی باتیں سرِ بازار کہتے ہیں
مسیحا کا تجھے ہم دوسرا اوتار کہتے ہیں

————

شام سے اک سکوت طاری ہے
ہجر کی رات کتنی بھاری ہے

ایک تاریک شب اکیلا میں
چارسو خوفِ سوگواری ہے

ہم نے جلتے دیے بجھائے ہیں
ان کے آنے کی انتظاری ہے

رات ڈھلنے کے ساتھ ساتھ مری
بڑھ گئی اور بے قراری ہے

جاگتے میں بھی ایک سپنے میں
زلف ہم نے تری سنواری ہے

عمر تیری تو پرسکوں گزری
ہم نے کانٹوں پہ یہ گزاری ہے
————

یاد کرتا ہے جب رقیب کوئی
دل میں ایک چوٹ سی ابھرتی ہے

پھر مجھے یوں گمان ہوتا ہے
تو مرے پاس سے گزرتی ہے

فخر کرتا تھا میں وفائوں پر
تو بھی اب کروٹیں بدلتی ہے

کچھ رہا دل اس کی جانب ہے
ایک شمع دور بہت جلتی ہے

غم کی آندھی تو جلد آتی ہے
پھر بڑی مشکلوں سے ٹلتی ہے

وقت تھا جان تجھ پہ دیتی تھی
اب وہ شہزؔاد کیوں الجھتی ہے
————

بڑی ہی خوب صورت ماہ جبیں ہے
جو میرے دل کے مندر کی مکیں ہے
اگر وہ بے وفا بھی ہے تو کیا ہے
مجھے اس کی وفائوں پر یقیں ہے
میں ایسے دوش پہ لہرا رہا ہوں
نہ کوئی آسماں ہے نہ زمیں ہے
جھکا شہزؔاد کا سر جس کے در ہے
وہ میرے واسطے عرشِ بریں ہے

————
قطعہ

سنا وعظ میں ہم نے مسجد میں جا کر
خدا عرش سے سب جہاں کو دیکھتا ہے
سبھی کو نظر ایک سے اہلِ دانش
خدا بھی جہاں میں کہاں دیکھتا ہے

————

میں نے آنکھوں میں چھپا رکھے ہیں کھارے آنسو
اور جائیں بھی کہاں درد کے مارے آنسو

حدتِ عشق سے بہہ کر جو فضا میں بکھرے
میں نے دیکھا تو بنے فلک کے تارے آنسو

جو جدائی کے تصور میں نکل جاتے ہیں
مجھ کولگتے ہیں مری جاں سے پیارے آنسو

میں نے ہاتھوں میں چھپا لیں تری پرنم آنکھیں
آ کے دامن پہ گرے جب بھی تمہارے آنسو

تم مرے پیار کا سو بار نہ اقرار کرو
مگر کرتے ہیں مجھے کچھ تو اشارے آنسو

————

فاصلے برقرار رہتے ہیں
پاس پھولوں کے خار رہتے ہیں

مسکراہٹ بکھیر دوں کیسے
غم مجھے بے شمار رہتے ہیں

حال پوچھو کبھی فقیروں کا
جو سرِ رہ گزار رہتے ہیں

ٹوٹ جاتے ہیں ساز الفت کے
پھر بھی ہاتھوں میں تار رہتے ہیں

قدر ان کی کہاں زمانے میں
شتر جو بے مہار رہتے ہیں

————
کاوشیں کرتا ہوں ان کو بھول جانے کے لیے
آئے ہیں دو چار پل بس دل جلانے کے لیے

ان کی عادت ہے کہ وہ خاموش ہیں چپ چاپ ہیں
یا کوئی ڈھونڈیں بہانہ بس ستانے کے لیے

نفرتیں ویرانیاں میرا مقدر بن گئیں
ہنس رہا ہوں اب تو دنیا کو ہنسانے کے لیے

یہ سمجھ آتا نہیں کیسے کٹے گی زندگی
ہر طرف تو تیر ہیں مجھ پہ چلانے کے لیے

دشمن ِ جاں ہر طرف اور ہر قدم تیار ہیں
کب رکیں سانسیں تو مٹی میں دبانے کے لیے

دیکھ لے شہزؔاد اور پھر دل پہ رکھ لے ہاتھ تُو
بڑھ رہے ہیں ہاتھ پھر خنجر اٹھانے کے لیے

————

اپنی راہیں آسان رکھنا ہے
ایک جذبہ جوان رکھنا ہے

جس کو دنیا ادب کی کہتے ہیں
اس گلی میں مسکان رکھنا ہے

یہ کڑی دھوپ کا سفر ہے مگر
سر پہ اک سائبان رکھنا ہے

————

ایک شعر

چھپتے ہیں جیسے جرم بہت رات کے تلے
ایسے چھپیں گی صورتیں سب خاک کے تلے

————

جہاں میں دربدر کی ٹھوکریں کھانا پڑیں مجھ کو
مزاجِ عشق میں تبدیلیاں لانا پڑیں مجھ کو

جنہیں پوچھے نہ تھا کوئی محبت کے میدانوں میں
میدانِ عشق میں وہ پھر سے اکسانا پڑیں مجھ کو

پرانے دور کے کچھ پھول مرجھائے ہوئے لیکر
خشک کلیاں پلا کر خون مہکانا پڑیں مجھ کو

الجھ کر حال کی کچھ تلخیوں سے آج گھبرا کر
پرانی قربتیں اک بار دہرانا پڑیں مجھ کو

کسی کی اک محبت کو بھلانے کے لیے آخر
کئی نغمے کئی غزلیں نئی گانا پڑیں مجھ کو

————

نازک لمحے

برسوں پہلے بچھڑے ساتھی
اب بھی مجھے یاد آتے ہیں
نیند نہیں آتی پھر مجھ کو
ساری رات جگاتے ہیں

وہ دیوار سے خط کا گرنا
چھپ کر گھر والوں سے پڑھنا
وہ تیرے سندیسے آنا
اب بھی دل بہلاتے ہیں
دل کی دھڑکن تیز ہو جانا
ملنے جب بھی چھت پر آنا
بانہوں میں میری چھپ جانا

اب بھی بھول نہ پاتے ہیں
میں نے پہلا خط لکھا تھا
تو نے پڑھ کر چوم لیا تھا
دل کہتا ہے آ جائو تم
پھر وہ بات دہراتے ہیں

تیرا پیار بھلا نہ پائوں
تجھ سے میں پہچانی جائوں
وہ قسمیں وہ تیرے وعدے
میرا درد بڑھاتے ہیں

چلتے چلتے کچھ کہہ جانا
آنکھوں سے آنسو بہہ جانا
دل کو تھام کے وہ رہ جانا
پیار کے کیسے ناتے ہیں
تم بانہوں میں جھوم گئے تھے
رخ تیرا ہم چوم گئے تھے
آتی ہے جب یاد پرانی
آنسو پھر بہہ جاتے ہیں

کھو گئے تم پھر رنگ رلیوں میں
ہم ہیں اب بھی ان گلیوں میں
گزرے وقت کے نازک لمحے
میرا دل تڑپاتے ہیں

اک دوجے سے دور ہوئے ہم
زخموں سے پھر چور ہوئے ہم
اب شہزؔاد اکیلے بیٹھے
زخموں کو سہلاتے ہیں

————

نصیحت

اے مری قوم کے ننھے جوانو
سنو یہ بات کہ خود کو پہچانو

مستقبل کے تم معمارِ چمن ہو
گوہرِ نایاب ہو لعل ِ یمن ہو

وقت ہے ذات اپنی کو سنبھالو
کہ اپنا بوجھ تم خود ہی اٹھا لو

ذہن میں بات یہ میری بٹھا لو
علم سے زندگی اپنی بنا لو
اے مری قوم کے ننھے جوانو
سنو یہ بات کہ خود کو پہچانو

سوائے علم کے ہے زندگی ہوتی ادھوری
کرو ماں باپ کی خواہش یہ پوری

یہ کیسا خوب صورت سا سماں ہے
علم کی جل رہی کیسی شمع ہے

یہاں سے دیپ تم اپنے جلا لو
کہ اپنی منزلیں شہزؔاد پا لو

اے مری قوم کے ننھے جوانو
سنو یہ بات کہ خود کو پہچانو

————

مجبوری

بن رہے ہیں شوق سب مجبوریاں
جانے کب ہوں گی ختم یہ دوریاں
گلشن ِ دل آج بھی ویران ہے
زندگی بے نام ہے سنسان ہے
جن کو نہ وعدے کا اپنے پاس ہے
ہم کو ملنے کی انہی کی آس ہے
جال میں الجھا ہوا صیاد ہوں
سمجھتے ہیں لوگ میں آزاد ہوں
سلجھ کر الجھی ہے میری زندگی
کام نہ آئی کوئی بھی بندگی
گونج کر چپ ہو گئیں شہنائیاں
آج ہے شہزؔاد یا رسوائیاں

————

ارمان سلگتے رہتے ہیں جذبات مچلتے رہتے ہیں
اک آگ لگی ہے سینے میں آنسو بھی ابلتے رہتے ہیں
بجلی سی دلوں پر گرتی ہے گھائل سا جگر ہو جاتا ہے
وہ آج بھی اکثر بن ٹھن کے جب گھر سے نکلتے رہتے ہیں
مل جائیں تو باتوں باتوں میں ہم ان کو بہت کچھ کہتے ہیں
خاموش وہ اپنے ہاتھوں سے چنری کو مسلتے رہتے ہیں
میرے لیے ہر اک موسم اب ساون کا مہینہ رہتا ہے
شہزؔاد جو مانند بارش کی آنسو ہی برستے رہتے ہیں

————

قطعہ

نہیں جانتے یہ کہ کیا کر رہے ہیں
مگر یہ تو ہے کہ خطا کر رہے ہیں
چڑھایا جنہوں نے مسیحا کو سولی
انہی کے وہ حق میں دعا کر رہے ہیں
————

کیسی وہ انمول گھڑی تھی
————
جب تو اپنی چھت پہ کھڑی تھی
چھت سے جب بازار میں دیکھا
————
تیری میری آنکھ لڑی تھی
میں نیچے اور تو اوپر تھی
————
دیکھ کے تو اک بار ڈری تھی
میں تو تجھ پر مر ہی گیا تھا
————
لیکن تو بھی مجھ پہ مری تھی
لگتا ہے سر کی جنبش سے
————
تو نے مجھ کو ہاں کہی تھی
اڑتے اڑتے اک چڑیا بھی
————
پیار کی بولی بول رہی تھی
پھر ہم نے محسوس کیا تھا
————
سیڑھیوں پر آہٹ ابھری تھی
کچھ تو میں بھی چونک گیا تھا
جو غصے سے دیکھ رہی تھی
————
————
اور کچھ تو بھی چونک گئی تھی
شاید کہ وہ تجھ سے بڑی تھی
رفتہ رفتہ قدم بڑھا کر
————
تو جانبِ صحن چلی تھی
پھر جو دیکھا میں نے تیرے
————
گھر کی کھڑکی ادھ کھلی تھی
میں بھی تجھ کو دیکھ رہا تھا
————
تو بھی مجھ کو دیکھ رہی تھی
سایہ ءِ دیوار میں مجھ کو
————
تو پھر پہلی بار ملی تھی
سوچ کے پھر دنیا کے ڈر سے
————
دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی
میں یہ چھو کر سوچ رہا تھا
ممتا کی آغوش میں جاناں
————
————
تُو تو اک معصوم کلی تھی
تُو کتنے نازوں سے پلی تھی
سرخ لبادے میں تُو مانند
————
لگتی مجھ کو لال پری تھی
موسم ہر سو بدل گیا تھا
————
رم جھم کی برسات لگی تھی
پہلی بوند فلک سے گر کر
————
میری جھولی آن پڑی تھی
گلشن میں جس طرف بھی دیکھوں
————
اب تو ہر اک ڈال ہری تھی
میں تو ہنسنا بھول گیا تھا
————
جب تو پہلی بار ملی تھی
سندر سپنا دیکھ رھا تھا
ٹوٹ گیا جب آنکھ کھلی تھی

————

شیشم

اس شیشم کی چھائوں گھنی تھی جس شیشم کا چرچا تھا
بیٹھے تھے اک ساتھ جو دونوں ابر بھی چھم چھم برسا تھا
بھولوں کیسے شام سہانی، قربت کے لمحات سہانے
گھر سے نکل کر چوری چوری آئی تھی سکھیوں کے بہانے
گرجا تھا جب زور سے بادل ، دل بھی زور سے دھڑکا تھا
چمکی بجلی ڈر کر سجنی تو میری آغوش میں تھی
کھو بیٹھا تھا ہوش میں اپنے شاید تو کچھ ہوش میں تھی
گرمی سے سانسوں کی تیری عشق کا شعلہ بھڑکا تھا
کر بیٹھے جو نہ کرنا تھا دیکھا تو کچھ پاس نہ تھا
سوچا پھر کہ وصل کا لمحہ آیا ہم کو راس نہ تھا
جانے کتنی دیر لگی وہ لمحہ تھا یا عرصہ تھا
کھو کر خود کو ڈر دنیا کا روتے کتنی رات ہوئی
ایسے مجھ سے روٹھ گئی تو پھر نہ کبھی ملاقات ہوئی
جانے کتنی دیر یونہی شہزؔاد ملن کو ترسا تھا

————

اب حال میرا پوچھنے آتا نہیں کوئی
جو بجھ گیا ہے دیپ جلاتا نہیں کوئی

جب روٹھتے نہ تھے تو منانے کو بہت تھے
اب روٹھتے ہیں ہم تو مناتا نہیں کوئی

نفرت کی ہم نے جن کے ستانے سے عمر بھر
اب چاہتے ہیں ہم تو ستاتا نہیں کوئی

سب دیکھتے ہیں حسن کو نقابوں کی اوٹ سے
پردہ کسی کے رخ سے ہٹاتا نہیں کوئی

یوں تو جتا رہے ہیں مجھے پیار سبھی لوگ
مانند تمہاری پیار سے بلاتا نہیں کوئی

————

یہاں چھریاں بغل میں ہیں تو منہ میں رام کہتے ہیں
ملے جو طوقِ بدنامی تو اس کو نام کہتے ہیں

جہاں لٹ جائے عزت ننگ و ناموس تک سب کچھ
اُسے ہم عشق میں اب تک سہانی شام کہتے ہیں

اڑاتے خاک پھرتے ہیں یہاں عاشق زمانے کے
ملیں جب لعنتیں تو ان کو یہ انعام کہتے ہیں

کہیں فرقہ پرستی ہے کہیں مادہ پرستی
کوئی وہ دور لے آئے جسے اسلام کہتے ہیں

چاہے فتویٰ لگا کر سر مرا تن سے جدا کر دو
حقیقت ہے یہی شہزؔاد جو بے دام کہتے ہیں
————

آج شب میں دیر تک بے چین سو پایا نہیں
اس کا وعدہ تھا کہ آئوں گا مگر آیا نہیں

یوں تو کہتا ہے کہ تیرا ہی رہوں گا عمر بھر
آج تک اس نے کبھی سینے سے لپٹایا نہیں

وہ شہنشاہِ سخاوت ہے سنا ہے چارسو
ہم نے اب تک جو بھی مانگا ہے کبھی پایا نہیں

وہ رقیبوں کی نثر الاپتا ہے شوق سے
جس نے میری غزل کو بھی شوق سے گایا نہیں

چھوڑ دی ہم نے تمنا شبِ تنہائی کی
وہ بھی اپنے ساتھ اس کم بخت کو لایا نہیں

دل میں وہ وہ حسرت لیے ہی انجمن سے اُٹھ گئے
ہے وہ شاعر اس نے کوئی شعر فرمایا نہیں

————

سرور

میرا حسن آبِ انگور ہے، اک گھونٹ منہ سے لگا کے پی
سرِ عام ہاتھوں میں تھام کر، ذرا دل جلوں کو جلا کے پی
مجھے رفتہ رفتہ لگا گلے میں نزاکتوں کی ہوں آبگیں
میرا حسن شعلہءِ جمال ہے تیرا عشق ہے کوہِ آتشیں
نہ اتار جلدی سے حلق میں مجھے قطرہ قطرہ گرا کے پی
کسی بند کمرے میں بیٹھ کر پی جام میرے شباب کا
پھر مے کشی کے سرور سےاڑے رنگ رنگِ گلاب کا
سبھی مے کشوں کی ہے نظر بری مجھے نظرِ بد سے بچا کے پی
میرے دستِ نازک میں جام ہے کیوں تڑپ رہا سرِ شام ہے
میرا ہاتھ ہاتھوں میں تھام لے، ترے سامنے گل فام ہے
میں ملا کے تجھ سے نظر کہوں تو بھی مجھ سے نظریں ملا کے پی

————
قطعہ

کر رہے ہیں دل لٹانے کی دوبارہ آرزو
پھر تمنا دل کو ہے کہ ٹو کر چاہے کوئی
بچ گیا ہے جو کسی راہزن سے گزرے وقت میں
آج سب کچھ وہ بھی میرا لوٹ کر چاہے کوئی

————

زندگی درد کے نالوں میںبہانے والے
کیا ملا تجھ کو بتا مجھ کو ستانے والے

رکھ لے وعدوں کا بھرم آج ہمارا تو بھی
سچ نہ ہو جائے جو کہتے ہیں زمانے والے

ایسی الجھی کہ دوبارہ نہ سنواری تو نے
آیا نہ تجھے ترس اے تقدیر بنانے والے

دور بیٹھے ہو مجھے یاد تو کرتے ہو گے
لوٹ آئو گے کبھی چھوڑ کے جانے والے

نئے مل جائیں گے دوست وقت بھی کٹ جائیگا
یاد آئیں گے تجھے شہزؔاد پرانے والے

————
بیٹھے ہیں بہت دیر تیرے انتظار میں
یہ ہی صلہ ملا ہے مجھے تیرے پیار میں

آنکھوں کے تیرے سحر میں ڈوبے تو یوں لگا
جیسے کوئی دفن ہو کسی کے مزار میں

در پر ترے ہجوم عاشقوں کا بہت ہے
شامل ہیں ہم بھی عاشقوں کی اس قطار میں

کچھ کو تو تیرے حسن کا پہلو نصیب ہے
کچھ چھانتے ہیں کاک تیری رہ گزار میں

اتنے حسین آج تم شہزؔاد تم نہیں ہو
جتنا فخر ہے تم کو حسن کے خمار میں

————
سجنی

ہونٹ پہ لالی کان میں کلیاں کس کو میت بنائے گی
تھر تھر کانپے ہونٹ جو تیرے کس کو گیت سنائے گی

سرخ گلابی آنچل تیرا تڑپ رہا ہے کاندھوں پر
ہم بھی تڑپیں یہ بھی تڑپے اور کسے تڑپائے گی

پتلی کمر بل کھائے تیری زلف گرے رخساروں پر
آ سنواروں زلفیں تیری تو کیسے سلجھائے گی

نازک سی یہ چال ہے تیری قدم اٹھاتے گر نہ پڑو
اپنا اپ سنبھالو سجنی پا پہ چوٹ آ جائے گی

ستم تیرا ہر من کو بھائے ساجن کہہ دو پیار کریں
عشق کی منزل آئی ٹھہر جا اور کہاں تک جائے گی

————

صفِ ماتم نہیں اُٹھتی
(موت گزیدہ 2006ء کے نام)

مسرت موت کو ہے زندگی خاموش بیٹھی ہے
صفِ ماتم نہیں اٹھتی جنازے روز اٹھتے ہیں

کسی کا تاجِ سر کھویا کسی کی گود خالی ہے
گھروں سے چار سو یہ ہی آوازے روز اٹھتے ہیں

ترس کر کچھ تو سینہ پیٹتی مائوں کی حالت پر
جن کی جان اور دل کے شیرازے روز اٹھتے ہیں

تو ہی بتلا مجھے تقدیر یوں بے رحم تو کیوں ہے
تمہاری ظلمتوں کے کیوں نوازے روز اٹھتے ہیں

————

زندگی کا فاصلہ یوں مختصر ہوتا گیا
ہر بشر پھر موت کے نزدیک تر ہوتا گیا

شیخ سجدے میں گرا جب فکرِ دنیا چھوڑ کر
جوں جوں بھیگی رات سجدوں میں اثر ہوتا گیا

عشق سے پوچھا کہ کیسے گزرتی ہے عشق میں
اس قدر رویا کہ دامن تر بہ تر ہوتا گیا

رفتہ رفتہ بڑھ رہا ہوں میں حقیقت کی طرف
رفتہ رفتہ زندگی کا طے سفر ہوتا گیا

————

آواز جھڑکیوں کی سنی ساتھ کے گھر سے
وہ دیر سے آنے کا سبب پوچھ رہی تھی

صاحب نے اٹھایا نہ سرِ خم کو ذرا بھی
میں اوٹ سے دیکھے تھا وہ جب پوچھ رہی تھی

سہما ہوا خاموش تھا کچھ کانپ رہا تھا
کاٹی ہے کہاں آج کی شب پوچھ رہی تھی

صحن میں تھا اک شورِ قیامت ہوا برپا
بیٹھا تھا وہ زنجیر بہ لب پوچھ رہی تھی

آواز بھی کیا خوب بجلی کی کڑک تھی
ڈھاتے ہوئے شہزؔاد غضب پوچھ رہی تھی

————

اب ہم سے غمِ زیست اٹھائے نہیں جاتے
غیروں سے بھی یہ زخم چھپائے نہیں جاتے

اس آس پہ زندہ ہوں کہ مل جائیں گے آخر
بچھڑے ہوئے کچھ لوگ بھلائے نہیں جاتے

قسمت میں تھے چھوٹے ہیں بہت دور کنارے
ڈوبیں گے مگر آس کے سائے نہیں جاتے

اسے دل نے تراشا تھا بڑی دیر الجھ کر
پتھر کے صنم ہم سے بنائے نہیں جاتے

اپنوں کو وہ بھولے ہیں بس غم ہے تو اتنا
شہزؔاد کے دل سے تو پرائے نہیں جاتے

————
تجھ کو تیرے جمال سے فرصت نہیں ملی
ہم کو ترے خیال سے فرصت نہیں ملی

صدمہ ترے فراق کا اتنا شدید تھا
اس رنج و ملال سے فرصت نہیں ملی

شاید تو سوچتا کبھی میرے زوال پر
لیکن تجھے کمال سے فرصت نہیں ملی

سنوارنے میں ہم نے گزاری ہے زندگی
تیرے ہی خدوخال سے فرصت نہیں ملی

اڑتے رہے آزاد فضائوں میں سب طیور
شہزؔاد ہم کو جال سے فرصت نہیں ملی

————

بجتی رہی جو ان کے گھر شہنائی ڈس گئی
اک ناگ بن کے مجھ کو یہ تنہائی ڈس گئی

سوتے میں تیرے حسن کے چرچے بہت ہوئے
جاگے تو تیرے عشق کی رسوائی ڈس گئی

میں تو وفا شعار اُس کا غم گسار تھا
اوروں کی آج مجھ کو بہکائی ڈس گئی

نفرت کا کوئی غم نہیں افسوس ایک ہے
غیروں کے ساتھ مل کے شناسائی ڈس گئی

کھاتے تھے قسم ساتھ رہیں گے تمام عمر
شہزؔاد کو یہ حوصلہ افزائی ڈس گئی

————

ٹھوکریں کھا کر مقدر کو سہارا دیجئے
ڈوبتی کشتی کو ایسے اک کنارہ دیجئے

رند شاید لوٹ آئے پھر تیری دہلیز پر
کچھ جہنم میں بھی جنت کا نظارہ دیجئے

کچھ سکونِ دل کی خاطر تلخیءِ ایام میں
ایک تحفہ اپنے ہاتھوں سے سنوارا کیجئے

ایک بوسہ مدتوں سے آج تک بھولا نہیں
ایک پاگل کہہ رہا ہے اک دوبارہ دیجئے

————

دل مرا بے قرار رہتا ہے
بس ترا انتظار رہتا ہے

جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
ہم کو ان سے بھی پیار رہتا ہے

جو کبھی آسماں کا تارا تھا
تیری گلیوں میں خوار رہتا ہے

دل کو دل سے جو راہ ہوتی ہے
گر ہے سچ تو ادھار رہتا ہے

زینتِ حسن بہت دیر نہیں
چند لمحے نکھار رہتا ہے

————

الفاظ کے پردوں میں صداقت بھی بہت ہے
کاتب ہوں مرے قلم میں طاقت بھی بہت ہے

اک عجب سا رشتہ ہے مرے پیار کا ان سے
ملتے بھی نہیں ان سے رفاقت بھی بہت ہے

خود سر ہیں بہت آج کہ اس دور میں ہم بھی
کچھ ان کی ادائوں میں حماقت بھی بہت ہے

————

قطعہ

تمہیں گر کھیلنا ہی ہے تو میرے دل سے کھیلا کر
کھلونوں سے ترا یہ کھیلنا اچھا نہیں لگتا
تو نازک حور ہے تو صرف جنت ہی کی زینت ہے
ترے ہاتھوں میں چکلا بیلنا اچھا نہیں لگتا

Viewers: 564
Share