کنول کنول کھلا رہے ۔۔۔۔۔ از: ابوالبیان ظہور احمد فاتح

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کنول کنول کھلا رہے ظہوراحمد فاتح فاتح پبلی کیشنز نیو کالج روڈ تونسہ شریف جی میں آتا ہے کہ فاتح ملکۂ اردو کو ہم نذر یونہی […]

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
کنول کنول کھلا رہے
ظہوراحمد فاتح

فاتح پبلی کیشنز نیو کالج روڈ تونسہ شریف

جی میں آتا ہے کہ فاتح ملکۂ اردو کو ہم
نذر یونہی رات دن خونِ جگر کرتے رہیں

انتساب
حضرت یعقوب علیہ السلام کے نام جو اللہ تعالیٰ کے پیغمبرِ برحق تھے اور حضرت یوسف سمیت بارہ بیٹوںکے والد ہونے کا امتیاز رکھتے تھے

جملہ حقوق بحق شاعر محفوظ
نام کتاب۔۔۔۔۔۔۔ کنول کنول کھلا رہے
شاعر۔۔۔۔۔ ابوالبیان ظہور احمد فاتح
کمپوزنگ و سیٹنگ ۔۔۔۔۔ محمد اشفاق مشفقؔ
پروف ریڈنگ۔۔۔۔۔ محمد شکیل احمدؔ ، محمد تنویرؔ الزماں، شبیر ناقدؔ
طباعت ۔۔۔۔۔۔ سیفی صدیقی پرنٹنگ پریس تونسہ
اشاعت۔۔۔۔۔ ۲۰۱۹ء
قیمت۔۔۔۔۔۔ ۵۰۰ روپے
ناشر۔۔۔۔۔ فاتح پبلی کیشنز نیو کالج روڈ تونسہ شریف
رابطہ نمبر۔۔۔۔۔03326066364
—-

غزل

وقفِ گناہ جب مِرے شام و سحر نہ تھے
پوشیدہ چشمِ دہر سے میرے ہنر نہ تھے

کاوش کے باوجود ہم محروم رہ گئے
’’منزل انھیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے‘‘

اس میں تھی مصلحت کہ ہم خاموش رہ گئے
ورنہ تِرے فریب سے ہم بے خبر نہ تھے

افسوس دستِ مرگ نے اُن کو اچک لیا
اہلِ جہاں کے واسطے جو دردِ سر نہ تھے

سمجھے تھے زندگی کو یہ پھولوں کی سیج ہے
جب رنج و درد و غم ابھی پیشِ نظر نہ تھے

فاتح تِرا فسانۂ غم کون سن سکا؟
کتنے تھے ایسے لوگ جو باچشمِ تر نہ تھے
—-
غزل
زیست کیونکر بسر نہیں ہو گی؟
ہاں حسیں اِس قدر نہیں ہو گی

گھپ اندھیرے ہیں آج شب ہر سو
وہ پری بام پر نہیں ہو گی

لازماً ہو گی پر ہمارے بعد
کیوں کہیں ہم سحر نہیں ہو گی

آرزوئے علاج رہنے دے
آرزو چارہ گر نہیں ہو گی

جس کو سمجھا ہوں رہ گزر تیری
وہ تِری رہ گزر نہیں ہو گی

دل کی گہرائی سے جو نکلے گی
وہ دعا بے اثر نہیں ہو گی

شعر کہتے ہیں اِس لئے فاتح
شاعری بے ثمر نہیں ہو گی

—-
غزل

سوئے منزل دوستو ہم یوں سفر کرتے رہیں
اپنے ہر اک نقشِ پا کو رہ گزر کرتے رہیں

چھوڑ کر چھالوں سے رستے خون کے رنگیں نشاں
فاصلے راہِ وفا کے مختصر کرتے رہیں

قافلے کو بارہا جس شخص نے دھوکا دیا
کس طرح آخر اُسے ہم راہ بر کرتے رہیں

لوگ دنیا کو بنا سکتے ہیں فردوسِ بریں
شرط یہ ہے امتیازِ خیر و شر کرتے رہیں

ہے جنھیں مطلوب دل کی بے سکونی کا علاج
فرحتِ خلقِ خدا شام و سحر کرتے رہیں

جی میں آتا ہے کہ فاتح ملکۂ اردو کو ہم
نذر یونہی رات دن خونِ جگر کرتے رہیں

—-
غزل

جفا و جور کا یہ التزام کیا معنی؟
دلِ غریب کا یہ قتلِ عام کیا معنی؟

یہ تیر و خنجر و شمشیر کس لئے آخر؟
ہمارے واسطے یہ اہتمام کیا معنی؟

کل اپنی بزم سے جس کو اٹھا دیا تم نے
اُسی سے آج دعا و سلام کیا معنی؟

وہ شخص زخم لگانا ہی کام ہو جس کا
اُسی سے آرزوئے التیام کیا معنی؟

انھیں حیاتِ گریزاں کے نقشِ پا کہیے
وگرنہ روز و شب و صبح و شام کیا معنی؟

یہ بات خوب ہے فاتح بغیر از مقصد
حسین کتنا ہو کوئی کلام کیا معنی؟
—-
غزل

جدائی کے جہنم میں جلیں گے تابکَے آخر؟
تمھی سوچو کہ مر مر کر جئیں گے تابکَے آخر؟

کسی دن اپنا رازِ عشق افشا ہو ہی جائے گا
زمانے کی نظر سے ہم بچیں گے تابکَے آخر؟

یہی ہو گا کہ یہ نازک سا شیشہ ٹوٹ جائے گا
ہم اپنے دل پہ سنگِ غم سہیں گے تابکَے آخر؟

ہمیں اب کھولنا ہو گی زباں اپنی کہ چپکے سے
جہاں کی بے تکی باتیں سنیں گے تابکَے آخر؟

ہمیں اب گردشِ حالات کا رخ موڑنا ہو گا
اسیرِ گردشِ دوراں رہیں گے تابکَے آخر؟

کبھی سرکار پر اوصاف اس کے منکشف ہوں گے
برا آپ اپنے فاتح کو کہیں گے تابکَے آخر؟
—-
غزل
میری دانست میں اس روز قیامت ہو گی
اس کو جب اپنی جفاؤں پہ ندامت ہو گی

صورتِ اشک جو مَے اس کی بہی جاتی ہے
چارہ گر دل کی صراحی نہ سلامت ہو گی

دل پہ طاری ہوا جاتا ہے جنوں کا عالم
آمدِ موسمِ گل کی یہ علامت ہو گی

اس قدر اپنی روایات سے الفت ہے مجھے
میری جدت بھی لئے رنگِ قدامت ہو گی

تو اگر لکھتا رہا یونہی مسلسل فاتح
مثلِ قرآں تِرے دیواں کی ضخامت ہو گی
—-
غزل
یوں بھی دیکھا ہے محبت سے کسی نے ہم کو
یاد آئے نہ تکلف کے قرینے ہم کو

کل وہ رخصت ہوا اور آج یہ ہوتا ہے گماں
اُس سے بچھڑے ہوئے گزرے ہیں مہینے ہم کو

حاصلِ زیست جنھیں ہم نے سمجھ رکھا ہے
لے نہ ڈوبیں وہ امیدوں کے سفینے ہم کو

گامزن ہم بھی رہے جادۂ عظمت پہ کبھی
آہ ! برباد کیا ذوقِ بدی نے ہم کو

ہے ظہور اپنا یہاں آج برنگِ فاتح
وہ جلا بخشی تِری سنگ زنی نے ہم کو
—-
غزل

پاس اس کے جب بھی ہم حرفِ تمنا لے گئے
ساتھ دلکش مسکراہٹ کے سدا ٹالے گئے

دل مُصر ہے چیخئے اور وہ مصر ہیں چپ رہو
اے خدا کس امتحاں میں آج ہم ڈالے گئے؟

میں جنھیں تیرے سمجھ کر پیروی کرتا رہا
وہ نشاناتِ کفِ پا مجھ کو صحرا لے گئے

ہم جنوں پیشہ رہے ویسے کے ویسے دہر میں
لوگ دنیا کے مطابق ڈھل گئے ڈھالے گئے

لذتِ صحرا نوردی اور کچھ بڑھتی گئی
جس قدر بڑھتے ہمارے پاؤں کے چھالے گئے

ہر طرف برپا ہے فاتح ظلم و بیداد و فساد
دہر سے شاید خدا کے چاہنے والے گئے
—-
غزل

مجھ سے جس دن سے ہوا ہے خوش ادا دلبر الگ
آہ ! اس دن سے ہوا ہے دل الگ ، پیکر الگ

یوں چلی ہے ان دنوں کچھ ہجر کی ظالم ہوا
آگ سے اخگر الگ ہے ، سیپ سے گوہر الگ

ایک میں نے ہی نہیں دنیا گنوائی عشق میں
بادشاہوں سے ہوئے اورنگ الگ ، افسر الگ

کاش دو رنگی نہ ہوتی ان میں اے جاں آفریں
مہ رخوں کا رنگ ہے باہر الگ ، اندر الگ

آپا دھاپی نفسا نفسی کا یہ عالم ہے کہ آج
باپ سے بیٹا جدا ہے ماں سے ہے دختر الگ

دل ہمارا بھی ہوا جاتا ہے تنہائی پسند
ہم بھی بنوائیں گے اپنا شہر سے چھپر الگ

ہے زمانے کی فضا میرے لئے ناسازگار
اس لئے فاتح رہا کرتا ہوں میں اکثر الگ
—-
دلِ خاموش

ماجرا کیا ہے بتا اے دلِ خاموش مجھے
تو نے کچھ روز سے چھیڑا نہیں نغمہ کوئی
تیرے ہونٹوں پہ ترانہ ہے نہ نوحہ کوئی
تیری باتوں کو ترستی ہے سماعت کب سے؟
تیرے لب پر نہ تشکر ہے نہ شکوہ کوئی
جرسِ قافلہ محروم صدا ہو جیسے
جیسے خالی ہو میٔ ناب سے شیشہ کوئی
جیسے بہنے سے تامّل کرے آبِ دریا
جیسے افلاک پہ بے نور ستارہ کوئی
جس طرح باغ میں بو باس نہ رنگینی ہو
قسمتِ شب میں نہ شبنم ہو ، نہ شعلہ کوئی
جس طرح بزم میں دستورِ زباں بندی ہو
جیسے مطرب ہو عبث ساز شکستہ کوئی
منہ چڑاتا نظر آتا ہے خموشی کا پہاڑ
کوہ کن جیسے ہو گم کردۂ تیشہ کوئی
جیسے عاری ہو امنگوں سے جوانی کا خمار
جیسے کھو بیٹھا ہو سرمایۂ جذبہ کوئی
پھر تجھے کوئی الم کوئی مسرت ہو نصیب
لب کشائی کا نہیں اور طریقہ کوئی
رنج ہو وہ کہ خوشی صورتِ طوفاں آئے
کاش لگ جائے تِرے ساز پہ زخمہ کوئی
جھنجھنا اٹھیں تِرے تار بسرعت جس سے
ایسا مل جائے اچانک تجھے مژدہ کوئی
کاش ہر وقت جہاں پائے سخن سنج تجھے

—-
غزل
آئی نہیں ہے نیند ہمیں دوستو ابھی
کٹ جائے رات اور کچھ باتیں کرو ابھی

آیا نہیں ہے آج بھی وہ رونقِ جہاں
اے قلبِ زار ہجر کے صدمے سہو ابھی

آئی نہیں ہے موت جو آرام کیجئے
باقی ہے زندگی ابھی چلتے رہو ابھی

روشن کیے رہو ابھی شمعیں امید کی
اپنے قریب یاس کو آنے نہ دو ابھی

ہر آن یہ گمان ہو منزل قریب ہے
یارو ! اِسی خیال میں بڑھتے رہو ابھی

میں کر رہا ہوں آج بھی احساسِ دل بیاں
لوگو کہو کہو مجھے پاگل کہو ابھی

اس کارگاہِ درد میں جانے سے پیشتر
فاتح سے چند غم بھری غزلیں سنو ابھی

—-
غزل

ساغرِ صبر چھلکتا ہے تو رو لیتے ہیں
آستیں گریۂ خونیں سے بھگو لیتے ہیں

یوں کبھی اشک اٹک جاتے ہیں پلکوں میں مِری
جس طرح اہلِ ہنر موتی پرو لیتے ہیں

وہ بھی ہوتی ہیں بسر تیرے حسیں خوابوں میں
دو گھڑی ہم جو کبھی رات کو سو لیتے ہیں

ہے اگر آبلہ پائی ہی جنوں کا مظہر
ہم بھی کچھ خار کفِ پا میں چبھو لیتے ہیں

اک نہ اک موڑ پہ دے جاتے ہیں دھوکا فاتح
لوگ کچھ دور اگر ساتھ بھی ہو لیتے ہیں
—-
غزل

پھر اسی ناز و ادا سے وہ پری ٹہلے ذرا
کچھ سکوں شاید ملے ، شاید کہ دل بہلے ذرا

اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا ستم تقدیر کا؟
موت بھی آئی تو وصلِ یار سے پہلے ذرا

ہمنشیں مطلوب ہے گر دائمی عیش و نشاط
عارضی دنیا کے رنج و درد بھی سہہ لے ذرا

بخشی ہے تو نے محلوں کو تو رونق جانِ جاں
میری اس ویران سی کٹیا میں بھی رہ لے ذرا

کہہ سنایا ہے تمھیں ہر اہلِ دل نے حالِ دل
اب اجازت دیجئے فاتح بھی کچھ کہہ لے ذرا
—-
کب تک؟
رہے گا خواب و خیال میں مست آدمی کا ضمیر کب تک؟
چلائیں گے اپنی بادشاہی رزیل ، میر و وزیر کب تک؟
بدل بدل کے لباس تازہ ، لگا کے تہذیبِ نَو کا غازہ
رہے گی زندہ جہاں میں افرنگ کی یہ روباہِ پیر کب تک؟
کبھی تو یہ تیرگی چھٹے گی ، یہ شب کٹے گی تو پو پھٹے گی
رہے گا ظلمت کی کوکھ میں بے قرار شمسِ منیر کب تک؟
مرے گا اک دن تو درد سرکش ، تہی تو ہو گا غموں کا ترکش
روا رہے گی جفا و بے داد اے مِرے ہم سفیر کب تک؟
گریں گے کٹ کر ثقیلِ جولاں ، گرے گی اک دن فصیلِ زنداں
رہیں گے یوسف مثال معصوم پا بجولاں اسیر کب تک؟
کبھی تو انصاف ہو گا قائم ، سزائیں پائیں گے سارے مجرم
مریں گے یوں بے قصورکب تک ، لٹیں گے یوں راہگیر کب تک؟
رہیں گے کب تک رہینِ قسمت سہیں گے کب تک غم و مصیبت؟
جہانِ نو میں بنے رہیں گے لکیر کے ہم فقیر کب تک؟
—-
ہم

حسنِ عالم کے پاسباں ہیں ہم
عشقِ آدم کے راز داں ہیں ہم
پھیل جائیں تو بیکراں ہیں ہم
اور سمٹیں تو بے نشاں ہیں ہم
بات چھیڑیں تو کان تھک جائیں
یوں نہ سمجھو کہ بے زباں ہیں ہم
ایک لامنتہائی افسانہ
ایک پرسوز داستاں ہیں ہم
درد مندوں کا ایک لشکر ہے
جس کے سالارِ کارواں ہیں ہم
ہم سے ٹکراؤ حادثاتِ جہاں
آؤ آؤ ! ابھی جواں ہیں ہم
لوگ کیا خاک ہم کو سمجھیں گے
اپنی نظروں سے جب نہاں ہیں ہم
قلبِ ظلمت میں جو اتر جائے
وہ دمکتا ہوا سناں ہیں ہم
برق تھک جائے گی کبھی نہ کبھی
وقفِ تعمیرِ آشیاں ہیں ہم
دورِ جدت پسند میں رہ کر
حاملِ رنگِ رفتگاں ہیں ہم
جب جنوں ہو تو گھر کہاں فاتح
یوں سمجھیے کہ لامکاں ہیں ہم
—-
غزل

اس سراپا ناز کو دستِ اجل کہہ لیجئے
آسمانِ پیر کا نعم البدل کہہ لیجئے

دیکھ لینا اس سے ہو گی ساری دنیا فیض یاب
آپ بے شک میری کاوش کو اپھل کہہ لیجئے

میں خودی کو زندگی سے بھی سمجھتا ہوں عزیز
آپ میری عقل کو وقفِ خلل کہہ لیجئے

میرا ایماں ہے بدل سکتا ہوں میں تقدیر کو
آپ بے شک اپنی قسمت کو اٹل کہہ لیجئے

دیکھ کر یہ اشتیاق و آرزوئے اہلِ ذوق
آج اے فاتح کوئی تازہ غزل کہہ لیجئے
—-
غزل

غمِ جدائی ہے اور میں ہوں مقابلہ ہے ، مقاتلہ ہے
اُدھر اگر موت کے ہیں سائے اِدھر جوانی ہے ، ولولہ ہے

ابھی سے نازک ہے دل کی حالت نجانے انجام کیا بنے گا؟
ابھی تو ہے ابتدائے الفت ابھی تو پہلا ہی مرحلہ ہے

رہِ محبت چلیں کہ چھوڑیں دماغ و دل میں یہ کشمکش ہے
مکالمہ ہے ، مباحثہ ہے ، مناظرہ ہے ، مجادلہ ہے

میں باوفا ہوں وہ بے وفا ہے ، نہ میں برا ہوں نہ وہ برا ہے
یہ میرا اپنا معاملہ ہے ، وہ اس کا اپنا معاملہ ہے

وہاں ہے یہ اذنِ عام سب کو کہ جو بھی چاہے خوشی سے آئے
اگر ہے ممنوع اُس کی محفل میں تو ہمارا ہی داخلہ ہے

بس ایک ظلمت کدہ ہے جس میں ادھر ادھر میں بھٹک رہا ہوں
نہ روشنی ہے ، نہ راستہ ہے ، نہ رہنما ہے ، نہ قافلہ ہے

میں کس قدر ہوں جوان ہمت کہ اس کے باوصف جی رہا ہوں
کلوخ انداز آندھیاں ہیں ، غم و مصائب کا سلسلہ ہے

مِری نواؤں کا ہے یہ اعجاز ان کی گرمی کا یہ اثر ہے
ستم کے ایواں لرز رہے ہیں ، جفا کے محلوں میں زلزلہ ہے

سپہر ہو یا کہ دہر ہو یا مِرے مقدر کا ہو ستارہ
جو مجھ سے الجھے گا مار دوں گا مِرا بھی فاتح یہ فیصلہ ہے
—-
غزل

ہے اگر جانا ہی مقصود تو آتے کیوں ہو؟
یوں سرِ نار ہمیں پینگ جھلاتے کیوں ہو؟

ایک دم برقِ تجلی سے جلا کر رکھ دو
آتشِ ہجر میں ہر وقت جلاتے کیوں ہو؟

حسن محتاجِ تصنع نہیں ہوتا پیارے
سرخیاں یوں لب و عارض پہ لگاتے کیوں ہو؟

وہ حقیقت کہ نمایاں ہے مِری نظروں میں
تم اسے کھوکھلے لفظوں میں چھپاتے کیوں ہو؟

ذرۂ ریگ ہوں صحرا میں مجھے رہنے دو
اے بگولو سرِ افلاک اڑاتے کیوں ہو؟

تلخیٔ زیست سے ہر حال میں کمتر ہو گی
دوستو ! موت کی تلخی سے ڈراتے کیوں ہو؟

قیمتی چیز ہے پلکوں میں پرو لو اس کو
اشکِ خوں رنگ کو آنکھوں سے گراتے کیوں ہو؟

رات بھر دستکیں دے کر مِرے دروازے پر
تیز جھونکو دلِ وحشی کو جگاتے کیوں ہو؟

عہدِ رفتہ کا حسیں نقش ہے فاتح لوگو!
تم اسے صفحہ ہستی سے مٹاتے کیوں ہو؟

—-
غزل

دل شکن کو احتراماً دل ربا کہتے ہیں لوگ
اس کے ظلم و جور کو دلکش ادا کہتے ہیں لوگ

خود غرض کہتے ہیں اس کو جو بھلا اپنا کرے
جو کرے اپنا برا اس کو بھلا کہتے ہیں لوگ

درد و غم کے ماحصل کو لوگ کہتے ہیں خوشی
حاصلِ ظلمات کو نور و ضیا کہتے ہیں لوگ

آدمیت ہی تو ہے کہتے ہیں سب عنقا جسے
ظلِ رحمت ہے جسے ظلِ ہما کہتے ہیں لوگ

جلد ہوتا ہے خفا اور جلد کرتا ہے معاف
کس قدر دلچسپ ہے جس کو خدا کہتے ہیں لوگ

اصل میں ہے حرفِ اول وہ کتابِ عشق کا
جس کو اے فاتح ستم کی انتہا کہتے ہیں لوگ

—-
غزل

جس دن سے گھر میں وہ بتِ کافر نہیں رہا
دم بھر بھی چین سے دلِ صابر نہیں رہا

اپنی خوشی وہ آیا تھا اپنی خوشی گیا
اک دن مزید وہ مِری خاطر نہیں رہا

مسحور کر گئی کسی کی اک نظر مجھے
کہتا ہے کون دہر میں ساحر نہیں رہا؟

دوں اور کیا مثال میں مجبورِ محض کی
اپنے حواس پر بھی میں قادر نہیں رہا

چکھ لی ہے جس نے سوزِ محبت کی چاشنی
آرام اس کو تادمِ آخر نہیں رہا

فاتح جہاں میں چیر کے کس کو دکھائیں دل؟
کوئی بھی سوزِ قلب کا ماہر نہیں رہا

—-
غزل

ہم جو ذکرِ بادہ و جام و سبو کرتے رہے
ناسمجھ تھے بے سروپا گفتگو کرتے رہے

جب تمنائے فلاح و ارتقا کا وقت تھا
ہم وصالِ مہ جبیں کی آرزو کرتے رہے

برق جب موجود تھی نامہ بری کے واسطے
ہم سماجاتِ نسیمِ مشک بو کرتے رہے

پھاڑ ڈالا تھا جنوں میں چند لمحوں میں جسے
وہ گریباں عمر ساری ہم رفو کرتے رہے

پڑھنے والے پڑھ گئے اپنی نمازیں وقت پر
ہم بڑے آرام سے بیٹھے وضو کرتے رہے

ہم سے ہر دم صاحبِ تخلیق ٹھکرائے گئے
صاحبِ تقلید اپنے ہاں نمو کرتے رہے

وائے حسرت کر رہا ہے غیر سیاروں کی سیر
ہم وفا پیشہ طوافِ کاخ و کو کرتے رہے

ہر قدم پر میں بڑی جرأت سے حق کہتا رہا
گو مِری توہین فاتح تند خو کرتے رہے

—-
غزل

عشق و الفت کا کبھی وہ شخص بنجارہ نہیں
پیرہن کے ساتھ جس کا دل بھی صد پارہ نہیں

یہ الگ اک بات ہے تم سے نہ ہو ممکن علاج
اے طبیبو ! ورنہ میرا درد بیچارہ نہیں

میں تلاش یار میں رہتا ہوں گرداں رات دن
گوہرِ مقصود جو ڈھونڈے وہ آوارہ نہیں

یہ پشیمانی ، یہ توبہ ، یہ مِری آہ و فغاں
اور کیا ہے گر مِرے عصیاں کا کفارہ نہیں؟

ظالم و مظلوم کو بدلہ ملے گا پھر کہاں؟
زندگی گر بعد مر جانے کے دوبارہ نہیں

بے بصر ہے آنکھ کے ہوتے ہوئے فاتح وہ شخص
جو جہانِ رنگ و بو میں محوِ نظارہ نہیں

—-
غزل

کہاں ہم ایک جگہ بود و باش کرتے ہیں
خدا کا فضل بہر سو تلاش کرتے ہیں

سکون و عیش نہ کیسے انھیں میسر ہو؟
جو فکرِ یار ، نہ فکر معاش کرتے ہیں

بہار آئی ہے سب رند بادہ پیتے ہیں
ہم اپنا جام و سبو پاش پاش کرتے ہیں

ہمیں ہے ان سے محبت جنھیں نہیں ہم سے
یہ راز آج بڑے دکھ سے فاش کرتے ہیں

کچھ ایسی چھائی ہیں اس دل پہ حسرتیں فاتح
ہر ایک بات پہ ہم کاش کاش کرتے ہیں
—-
حسرتِ ناتمام

ان کہی باتیں مِرے دل میں مچلتی ہیں ہنوز
نارسا جذبات سے ہے دل میں ہنگامہ ابھی
ذہن پر چھائے ہوئے ہیں لفظ و معنی کے سحاب
تشنگی محسوس کرتا ہے مِرا خامہ ابھی
لا چکا ہوں ان گنت اوراق مصرف میں مگر
تنگ ہے احساس پر تحریر کا جامہ ابھی
ربط کے لمحات کو کچھ طول دینے کے لئے
دل یہ کہتا ہے کہ لکھتا ہی رہوں نامہ ابھی
—-
غزل
ملی ہیں دہر میں ہم کو رفاقتیں کیا کیا؟
ہوئیں زمانے کی ہم پر عنایتیں کیا کیا؟

لباس چاک ، کفِ پا فگار و لب خنداں
جنوں کی ہم میں نہیں ہیں علامتیں کیا کیا؟

گداز و بوئے گل و آب و تابِ شمس و قمر
ہوئی ہیں اس کو ودیعت صباحتیں کیا کیا

دہن ہے غنچۂ گل کا ، گلا صراحی کا
ملی ہیں یار کو میرے نفاستیں کیا کیا

کمر پہ جائے نظر تو ہزار بل کھائے
بتائیں آپ کو اس کی نزاکتیں کیا کیا

نصیب دار کی لذت نہ ہو سکی ورنہ
ہوئیں خلاف ہمارے سماعتیں کیا کیا

وہ تیرے ساتھ گزرتیں تو بیش قیمت تھیں
گنوائیں ہم نے تِرے بن فراغتیں کیا کیا

یہ کج ادائی کے شکوے یہ بے رخی کے گلے
ہمارے دل کو ہیں تم سے شکایتیں کیا کیا

ثبوت دیتے ہوئے اپنی عقلمندی کا
یہ لوگ کرتے ہیں اکثر حماقتیں کیا کیا

ہر ایک شہر و بیاباں سے پوچھ لو لوگو!
جہاں میں کرتے رہے ہم ریاضتیں کیا کیا

وہ جان دے گئیں اپنی بجائے لینے کے
پڑی ہیں آپ کے فاتح پہ آفتیں کیا کیا
—-
شکستِ خواب
میں نے تو خواب میں دیکھا تھا گلستاں ایسا
جس کے ماحول میں حاصل تھا بہاروں کو ثبات
عشرت و کیف و مسرت سے مزین تھی حیات
لالہ و گل نے جہاں روپ سجا رکھا تھا
جس میں ہریالی کی ، سبزے کی فراوانی تھی
جس میں آرام کی تسکین کی ارزانی تھی
آشیاں میں نے وہاں اپنا بنا رکھا تھا
دل تھا بیدار و جواں اور تھا جوبن پہ شباب
اور میسر تھی مجھے قربتِ محبوب و شراب
میری مجلس کے لئے تختِ ہما رکھا تھا
لاکھوں مطرب تھے وہاں حظِ سماعت کے لئے
لاکھوں جلوے تھے وہاں لطفِ بصارت کے لئے
سائباں راحت و فرحت نے لگا رکھا تھا
مسکراتی نظر آتی تھی نگارِ ہستی
اور بے پایاں تھی آسائش و عیش و مستی
ذہن کو فکر کے پھندوں سے بچا رکھا تھا
درد و غم کو تھی جہاں تک نہ رسائی حاصل
اور مشیت نظر آتی تھی کرم پر مائل
تھا سماں خلدِ نظر صبحِ درخشاں جیسا
میں حقیقت میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں یا رب!
ایک صحرا ہے خزاں کھیل رہی ہے جس پر
خار ہی خار نظر آتے ہیں تا حدِ نظر
ہر قدم پر ہیں مِری گھات میں مار و عقرب
رقص کرتے ہیں جنوں خیز بگولے ہر سو
ناچتے پھرتے ہیں بھوتوں کے ہیولے ہر سو
منعکس ہوتا ہے دوزخ کو گمانِ اغلب
وہ گھٹن ہے کہ یہاں سانس بھی لینا ہے محال
وہ تپش ہے کہ جلا جاتا ہے گلزارِ خیال
فرطِ آلام و تکالیف سے جاں ہے برلب
ایسا لگتا ہے کہ پھیکی ہے کہانی اپنی
نابلد کیف و سکوں سے ہے جوانی اپنی
کروٹیں لیتے گزرتی ہے برہ کی ہر شب
مل رہی ہے مجھے ناکردہ گناہی کی سزا
پستا رہتا ہوں میں چکی میں مشقت کی سدا
پھر بھی حاصل ہے نہ اعزاز ، نہ کوئی منصب
زندگی ہوتی ہے محسوس مصائب کا سفر
دن کی حدت نے بنا رکھا ہے جینا دو بھر
رات کی گود میں ہے چاند نہ کوئی کوکب
صبح آتی ہے غم و درد کا تحفہ لے کر
شام آتی ہے تپ و سوز کا ہدیہ لے کر
ایسا لگتا ہے کہ آکاش ہے مائل بہ غضب
میں حقیقت میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں یارب!
—-
غزل

پاؤں زخمی ہیں رخ پہ زردی ہے
زندگی دل نے تلخ کر دی ہے

اس کو آنچل بھی دے دیا ہوتا
جس کو تو نے یہ چشمِ تر دی ہے

پھر جنوں کا زمانہ آیا ہے
پھر وہی ذوقِ دشت گردی ہے

جس ہوا سے دیے بجھے اُس نے
شعلگی اک شرر میں بھر دی ہے

اِس سے فاتح زمانہ جاگے گا
ہم نے جو بانگ دار پر دی ہے
—-
غزل

دور تک دشتِ وفا میں کوئی سایہ بھی نہ تھا
قلزمِ دردِ محبت کا کنارہ بھی نہ تھا

اتنا مفلس بھی نہ تھا دل کہ تہی دست کہیں
گو سوا غم کے کوئی اس کا اثاثہ بھی نہ تھا

ہم سے کیا پوچھتے ہو دیر و حرم کی بابت
اپنی تقدیر میں تو کوئی خرابہ بھی نہ تھا

حسبِ معمول جو ہوتا بھی تو خالی ہوتا
یہ الگ بات کہ کل ہاتھ میں پیالہ بھی نہ تھا

تجھ سے ظالم سے رہ و رسم ضروری تو نہ تھے
تجھ سا دلدار مگر تیرے علاوہ بھی نہ تھا

غور سے دخترِ تہذیب کو دیکھا فاتح
صاف عریاں بھی نہ تھی تن پہ لبادہ بھی نہ تھا

—-
غزل

ہو جس میں بہاراں وہ چمن ڈھونڈ رہا ہوں
آوارۂ غربت ہوں وطن ڈھونڈ رہا ہوں

وارفتگیٔ شوق کا اب بھی ہے یہ عالم
تجھ میں تِری پہلی سی لگن ڈھونڈ رہا ہوں

موجود ہوں جن میں وہی انداز ، وہی ناز
وہ لالہ و گل ، سرو و سمن ڈھونڈ رہا ہوں

ہو جس سے منور مِرا خواہش کدۂ دل
امید کی وہ ایک کرن ڈھونڈ رہا ہوں

سچ بات تو یہ ہے کہ مجھے کاوشِ حق ہے
تم کہتے ہو میں دار و رسن ڈھونڈ رہا ہوں

جب جائے نظر اس پہ تو آجائے خدا یاد
وہ شکل ، وہ سیرت ، وہ چلن ڈھونڈ رہا ہوں

ممکن ہی نہیں پا نہ سکوں میں اسے فاتح
اک عزم لیے منزلِ فن ڈھونڈ رہا ہوں

—-
غزل

جنسِ الفت کا کاروبار کریں
دل کے صحرا کو لالہ زار کریں

لکھ کے اشکوں سے داستانِ وفا
اپنے دامن کو یادگار کریں

ہم تو وہ پیکرِ محبت ہیں
اپنے قاتل پہ جاں نثار کریں

ہے قیامت سا تیرا شرمانا
کس طرح تجھ کو شرمسار کریں؟

بے وفائی ہے خود فراموشی
ہے وفا یہ کہ خود سے پیار کریں

موت جب زندگی کا حاصل ہے
موت پر کیوں نہ انحصار کریں؟

سیرِ زنداں بھی خوب ہے فاتح
لطف جب ہے کہ سیرِ دار کریں

—-
غزل

دشت میں خاک بسر خار بداماں رہیے
باغ میں تابعِ آدابِ گلستاں رہیے

دن جو نکلے تو زمانہ تمھیں خوش خوش دیکھے
خلوتِ شب میں بصد شوق پریشاں رہیے

بے خیالی میں قدم اٹھیں گے میری ہی طرف
آپ بے شک مجھے ملنے سے گریزاں رہیے

ہم تو عاشق ہیں عنادل کی طرح روئیں گے
آپ محبوب ہیں بن کر گلِ خنداں رہیے

عالمِ خواب میں وہ مجھ سے ملا کرتے ہیں
اہلِ دنیا سے کہو خوب نگہباں رہیے

کہہ رہے ہیں شبِ خاموش کے تیور فاتح
لوگ سوئے رہیں اور آپ غزل خواں رہیے
—-
غزل

کچھ روز سے وہ مشقِ ستم چھوڑ چکے ہیں
لگتا ہے مِری پرسشِ غم چھوڑ چکے ہیں

اب موردِ الزام نہیں عام سپاہی
سالار بھی ہاتھوں سے علم چھوڑ چکے ہیں

تجھ سے کوئی شکوہ نہیں اے شانِ کریمی
ہم ہاتھ سے دامانِ کرم چھوڑ چکے ہیں

کٹنا ہے تِری یاد میں اب وقت ہمارا
ہر کام تِرے سر کی قسم چھوڑ چکے ہیں

فاتح پرِتخئیل کا لیتا ہوں سہارا
اب ساتھ مِرا میرے قدم چھوڑ چکے ہیں
—-
غزل
غمِ جاناں رمِ دوراں لبِ زنداں رکھیے
کہیے کیا زیست کے افسانے کا عنواں رکھیے؟

دل یہ کہتا ہے کہ اے زخم لگانے والے
آ کے خود ہی کوئی مرہم ، کوئی درماں رکھیے

چلتے رہیے ابھی اربابِ وفا کا رستہ
جی میں آتا ہے ابھی عقل کو حیراں رکھیے

تنگ کرتا ہے اگر شام و سحر موت کا خوف
لا کے خنجر کوئی نزدیک رگِ جاں رکھیے

اس کی پرواز میں آ جائے نہ سستی فاتح
رات دن مرغ تخیل کو پر افشاں رکھیے
—-
غزل
لاکھ چاہا کہ رہے دہر سے پنہاں ہو کر
آ گیا رخ پہ غمِ روح نمایاں ہو کر

یہ غم و زخم ، یہ آلام ، یہ آفات ، یہ پیاس
رہ گئی زیست مِری شامِ غریباں ہو کر

کیسے سمجھاؤں اسے میں یہ زیاں ہے اس کا؟
میرا دل توڑ رہا ہے وہ مِری جاں ہو کر

غیرتِ عشق و وفا کو یہ گوارا نہ ہوا
مدحتِ غیر کروں تیرا ثناخواں ہو کر

امتحاں پہلا ہے شاید مِری سچائی کا
میں پشیماں تو نہیں زینتِ زنداں ہو کر
ا
یسی کیا بات رقم ہے مِرے چہرے پہ حضور
آپ کیوں دیکھ رہے ہیں مجھے حیراں ہو کر؟

حسن جس رنگ میں ہو ہوش رُبا ہوتا ہے
زلفِ جاناں مجھے کہتی ہے پریشاں ہو کر

بدگماں دل کو کسی طور یقیں آ جائے
آپ خوش ہیں مِرے افسانے کا عنواں ہو کر

ہم نے انوار پرستی کی سزا پائی ہے
وقفِ ظلمت ہوئے شوقینِ چراغاں ہو کر

اک عجب شخص تھا فاتح نہ کبھی بھولے گا
میزبانی مِری کرتا تھا وہ مہماں ہو کر
—-

غزل

اشک پلکوں پہ فروزاں ہو تو اختر لکھیے
ان کے آنچل میں درخشاں ہوں تو گوہر لکھیے

لفظ جذبات کے اظہار سے عاری ٹھہرے
آہ ! کیفیتِ دل لکھیے تو کیونکر لکھیے؟

لذتِ لطف و کرم جس کا ستم رکھتا ہو
محوِ حیرت ہوں اسے کیسے ستم گر لکھیے؟

ہوش اڑ جاتے ہیں جس بات کو سن کر اس کے
دل یہ کہتا ہے وہی بات مکرر لکھیے

لوح محفوظ کا بے سود ہے شکوہ یارو
اپنے ہاتھوں سے ہی خود لوحِ مقدر لکھیے

مانگے ہے ملکۂ فن نت نیا فیشن فاتح
ہر غزل پہلی غزل سے کہیں بہتر لکھیے

—-
غزل

مجھ پہ روشن یہ حقیقت ہے مجھے کہنے دو
تم کو دولت سے محبت ہے مجھے کہنے دو

لوگ دیتے ہیں جسے نام وفا کا اکثر
اب وہ بے جان روایت ہے مجھے کہنے دو

مجھ سے ناراض بھی ہو کر جو ہے میرا ناصر
مجھ کو اک اس سے عقیدت ہے مجھے کہنے دو

موت کے پردے میں پوشیدہ ہے سامانِ سکوں
زندگی وجہِ اذیت ہے مجھے کہنے دو

جس میں ہر لغزشِ پا دیتی ہے عظمت کا پتہ
مے کدے کی بھی شریعت ہے مجھے کہنے دو

جس میں اخلاص نہ ہو بلکہ ریا ہو شامل
وہ عمل قابلِ نفرت ہے مجھے کہنے دو

میر و اقبال کا عکاس ہے فن فاتح کو
شاعری اس کی وراثت ہے مجھے کہنے دو

—-
غزل

کون کہتا ہے کہ دیدار کرانے آئے؟
وہ مِرے پاس کسی اور بہانے آئے

میں ہوں بے صبر مبادا اسے رسوا کر دوں
وہ مجھے رمز محبت ہی سکھانے آئے

شرم آتی ہے تو اظہارِ محبت نہ سہی
لبِ شیریں سے وہ نفرت ہی جتانے آئے

منتظر ہے سحر و شام قتیلِ وعدہ
جس کو آنا ہے وہ کس وقت نجانے آئے

دل تو بیتاب ہے خوابوں کے تعاقب کے لیے
ایک آہٹ مجھے ہر آن جگانے آئے

یوں لگا دولتِ گم گشتہ ملی ہو جیسے
جب مجھے ملنے مِرے یار پرانے آئے

پیرہین پھول کا ہے چاک ، ہوا ہے پاگل
ایسا لگتا ہے کہ وحشت کے زمانے آئے

نام جس وقت بھی فاتح کا زباں پر ابھرا
ساتھ اس نام کے کتنے ہی فسانے آئے

—-
غزل

سب سے پہلے منزلِ مقصود پر پہنچا ہوں میں
سچ تو یہ ہے اپنے قد سے بھی بہت اونچا ہوں میں

تم اشاروں سے ، کنایوں سے لیا کرتے ہو کام
میری عادت ہے کہ سب کچھ صاف کہہ دیتا ہوں میں

پوچھتے کیا ہو سبب میری سزائے موت کا
کم ہے کیا لوگو مِرا یہ جرم کہ سچا ہوں میں

میرا اندازہ لگانا اس قدر آساں نہیں
آپ کی نظروں کی گہرائی سے بھی گہرا ہوں میں

ٹوٹتا جاتا ہے پھر زورِ طلسمِ اہرمن
پھر ہمہ تن ذہن بن کر سوچنے بیٹھا ہوں میں

سچ کہوں فاتح اگر تو عالمِ صد رنگ میں
آپ ہی اپنا تماشا دیکھنے آیا ہوں میں

—-
غزل

اب بھی غمِ جاناں سے سبک دوش نہیں میں
کچھ بھی کہو احسان فراموش نہیں میں

رہتا ہوں میٔ عشق میں سرشار شب و روز
تسلیم ہے مئے خوارو کہ مئے نوش نہیں میں

ہے مجھ کو شعور ایسے میں بھی حسن و قبح کا
مدہوش سہی دوستو بے ہوش نہیں میں

اشکوں کے جواہر سے بھری ہے مِری جھولی
اے اہلِ زمانہ تہی آغوش نہیں میں

پاؤں مِرے کانٹوں سے ہیں افگار تو کیا غم؟
صد شکر کہ شرمندۂ پاپوش نہیں میں

ہر چند کہ حق گو یہاں گردن زدنی ہیں
اس رسم کے باوصف بھی خاموش نہیں میں

مانا کہ زیاں کار و جنوں کیش ہوں فاتح
پھر بھی یہ بہت ہے کہ ہوس کوش نہیں میں

—-
غزل

شیریں لبوں پہ تلخ سی باتیں بھلی نہیں
روشن جبیں پہ بدنما شکنیں بھلی نہیں

دریاؤں کی سمندروں کی بات اور ہے
آبِ اسیرِ ظرف میں موجیں بھلی نہیں

پاگل بنا نہ دے کہیں سیل تفکرات
اے فکر مند رات دن سوچیں بھلی نہیں

سرزد ہوا ہے سانحہ کوئی ضرور آج
یہ دھڑکنوں کا شور ، یہ چیخیں بھلی نہیں

تو بھی حسین ہے تِرے اطوار بھی حسیں
دراصل تیرے شہر کی رسمیں بھلی نہیں

پائیں گے اِن سے دولتِ غم کا نشان لوگ
پلکوں پہ آنسوؤں کی یہ بوندیں بھلی نہیں

فاتح جہاں کو گرمیٔ گفتار چاہئے
تیرے لبوں پہ چپ کی یہ مہریں بھلی نہیں

—-
غزل

ہے یزیدِ وقت کا فرمان جو بھی سر اٹھے
اس کو درسِ عجز دینے کے لئے خنجر اٹھے

کر دیا دیوانگی نے کس قدر ہر دل عزیز
ہم جہاں سے گزرے استقبال کو پتھر اٹھے

ایک مصنوعی تبسم سے بھرم قائم رہا
ورنہ کتنے غم کے طوفاں روح کے اندر اٹھے

اپنا عزم و حوصلہ کچھ اور شہ پاتا گیا
بارہا ایسا ہوا اٹھ کر گرے ، گر کر اٹھے

جب یہ عالم ہے تِرے ناز و ادا کا اے ندیم
کیوں نہ پھر آئے قیامت ، کیوں نہ پھر محشر اٹھے؟

منتظر بیٹھے ہیں فاتح کتنی بیتابی سے ہم
دیکھیے ان کی نگاہِ ناز کب اوپر اٹھے؟
—-
غزل

وہ جس نے دل چرا لیا اسی کے دل میں چور ہے
جو لٹ گیا وہ چپ ہے جس نے لوٹا ، محوِ شور ہے

مِرا یہی ہے مشورہ کہ ان کے بین بین چل
خرد فریب کار ہے ، جنوں فریب خور ہے

چلے بھی آؤ جانِ من نویدِ سرخوشی لیے
کہ دل بہت اداس ہے ، دماغ سخت بور ہے

تمھاری مرضی مجھ کو دور اچھال دو کہ کھینچ لو
میں وہ پتنگ ہوں تمھارے ہاتھ جس کی ڈور ہے

مِری طرح محال ہے جہاں میں اس کی زندگی
وہ اک شریف جس کے پاس زر ہے اور نہ زور ہے

مجھے یہ زعم اب بھی ہے کہ فاتحِ الم ہوں میں
دلِ فسردہ آج بھی غموں کا اک سٹور ہے
—-
غزل

میں جو سچ عرض کروں گا تو برا مانو گے
حالِ دل صاف کہوں گا تو برا مانو گے

رات دن تم جو جفا مجھ پہ روا رکھتے ہو
میں اگر آہ بھروں گا تو برا مانو گے

میں جتاؤں گا محبت تو کرو گے غصہ
پیار کا نام نہ لوں گا تو برا مانو گے

گرم گفتار ہے مجھ سے ہی تمھاری محفل
میں جو خاموش رہوں گا تو برا مانو گے

شاعرانہ سا ہے کتنا یہ تمھارا انداز
میں اگر شعر پڑھوں گا تو برا مانو گے

میرا رونا بھی گوارا نہیں تم کو لیکن
میں جو وحشت سے ہنسوں گا تو برا مانو گے

تم اسے سمجھو گے رسوائی کا باعث فاتح
میں غزل کوئی لکھوں گا تو برا مانو گے

—-
غزل

ناخواستہ ہم رختِ سفر باندھ رہے ہیں
انجانی مسافت پہ کمر باندھ رہے ہیں

یہ شب ، شبِ آخر نہ ہو اے قافلے والو!
جس شب سے ہم امیدِ سحر باندھ رہے ہیں

ہے یہ بھی خبر در پیٔ تفریق ہے دنیا
دامن تِرے آنچل سے مگر باندھ رہے ہیں

رو رو کے دعا مانگ رہے ہیں تو یہ سمجھو
الفاظ کے پلو میں اثر باندھ رہے ہیں

دل درد کیے جاتا ہے کیا کیجئے اس کا
دکھنے لگا سر ان کا وہ سر باندھ رہے ہیں

فاتح کہیں ایسا نہ ہو پھر ہاتھ نہ آئے
ہم طائرِ تخئیل کے پر باندھ رہے ہیں
—-
غزل

کھیلتی ہے کس ادا و ناز سے بھولی ہوا
بن کے آئی زلفِ پیچیدہ کی ہم جولی ہوا

میں نے رحمت کی تمنا میں پکارا تھا اسے
کر گئی صد چاک وحشت سے مِری جھولی ہوا

جل رہا ہے گرمیٔ ہجراں سے دشتِ بدنصیب
لے گئی نظروں سے اوجھل ابر کی ڈولی ہوا

جن گلوں کو کل کھلاتی تھی کمالِ شوق سے
کھیلتی ہے آج ان کے خون سے ہولی ہوا

مانتا ہوں مجھ سے شوقِ ہم کلامی ہے تجھے
میں سمجھ سکتا نہیں لیکن تِری بولی ہوا

کچھ ہوا کی سمت چلنے کا نہ تھا فاتح خیال
کیا کریں ہمراہ اپنے خود بخود ہو لی ہوا

—-
غزل

میں سہی پابندِ رسمِ عاشقی کوئی تو ہو
تیرا سالک اے رہِ دیوانگی کوئی تو ہو

دشمنی تو ہر کس و ناکس کو آتی ہے مگر
تیری نگری میں امینِ دوستی کوئی تو ہو

ہو ضرورت مند کوئی تو غم و آلام کا
راحتیں جو بخش دے ایسا سخی کوئی تو ہو

جس کو دیکھو دعوے دارِ واقفیت ہے یہاں
راستہ کوئی تو پوچھے اجنبی کوئی تو ہو

فائدہ کیا بن گئے گر لوگ سب اہلِ وفا
کوئی تو اہلِ ہوس ہو لالچی کوئی تو ہو

سب کے دل یوں تو امامت کے لیے ہیں بے قرار
سوچتا کوئی نہیں کہ مقتدی کوئی تو ہو

رہزنوں کی تو نہیں کوئی کمی فاتح یہاں
شہر ناپرساں میں بہرِ رہبری کوئی تو ہو
—-
غزل

اشک آنکھوں میں نہیں لب پر دعا بھی تو نہیں
ورنہ میری آہ اتنی نارسا بھی تو نہیں

اس پہ کیوں موقوف باغِ زندگی کی ہو بہار؟
وہ اگر صرصر نہیں مثلِ صبا بھی تو نہیں

کس طرح پہنچے اسے نظروں میں پوشیدہ پیام؟
آنکھ بھر کر میری جانب دیکھتا بھی تو نہیں

سادہ کاغذ سے اُڑے گا سادہ لوحی کا مذاق
اس لیے ظالم نے خط میں کچھ لکھا بھی تو نہیں

اپنی قسمت سے کروں کیوں نارسائی کا گلہ؟
سوئے منزل شد و مد سے میں چلا بھی تو نہیں

عشق ترکِ عشق یا تجدیدِ راہ و رسمِ عشق
کیا کہیں معلوم دل کا مدعا بھی تو نہیں؟

آپ ہیں بے وجہ ناخوش اپنے فاتح سے حضور
ہے برا بے شک مگر اتنا برا بھی تو نہیں
—-
غزل

ہم نے کتنے رنج اٹھائے تم کیا جانو؟
جانِ تمنا! درد پرائے تم کیا جانو؟

جینا بھی دوبھر تھا مرنا بھی مشکل
ہجر میں کیا کیا لمحے آئے تم کیا جانو؟

دل کو جلانے کی ہوتی ہے مشق عموماً
کیوں پیتی ہے دنیا چائے تم کیا جانو؟

غیر تو آخر غیر تھے ان کا ذکر ہی کیا؟
اپنوں نے جو زخم لگائے تم کیا جانو؟

تم تو دھوپ کی حدت سے محفوظ رہے
کتنے دلکش ہیں یہ سائے تم کیا جانو؟

ہم نے دنیا پر کیا کیا احسان کئے!
کیا کیا ! ظلم جہاں نے ڈھائے تم کیا جانو؟

اب دنیا میں سب کچھ دھوکا لگتا ہے
ہم نے کیا کیا دھوکے کھائے تم کیا جانو؟

جو فاتح کی غزلیں سن کر طاری ہے
وہ کیفیت ہائے ہائے ! تم کیا جانو؟
—-
غزل

جاؤں گا میں گردشِ دوراں جدھر لے جائے گی
کیوں یہ سوچوں تخت پر یا دار پر لے جائے گی؟

یاد آئیں گی اسے میری وفائیں پھر ضرور
جب بھی خلقت میرے مرنے کی خبر لے جائے گی

گڑگڑائیں گریہ و زاری کریں آہیں بھریں
اپنے پلو میں دعا کچھ تو اثر لے جائے گی

بے وفائی کا نہ پھر الزام دے پائے گا تو
مجھ کو ساتھ اپنے شبِ ہجراں اگر لے جائے گی

صرف کالی رات ہی رہ جائے گی میرے لئے
تیری یہ مسکان ساتھ اپنے سحر لے جائے گی

اے تکبر کرنے والو! جانتے ہو ایک دن
وقت کی آندھی یہ سارا کرّوفر لے جائے گی

مجھ کو وحشت مدتوں رکھے گی صحرا میں رواں
یار لوگوں کو تو دانش جلد گھر لے جائے گی

کتنے ایماں سلب کر لیں گے لب و عارض تِرے؟
کتنے دل کیفیتِ زلف و کمر لے جائے گی؟

تکنے والا بے خبر تھا اس انوکھے راز سے
تابشِ خورشید بھی نورِ نظر لے جائے گی

اِس کا یہ عالم رہا تو دیکھنا فاتح تجھے
کوئے رسوائی میں اک دن چشمِ تر لے جائے گی

—-
غزل

وہی غم ہے وہی سوزِ نہاں ہے میرے پہلو میں
شرر ہے یا کوئی برقِ تپاں ہے میرے پہلو میں

کبھی بخشی تھی طغیانی تمھارے عشق نے جس کو
وہ سیلِ آرزو اب بھی رواں ہے میرے پہلو میں

تمھاری جھیل سی آنکھوں کو اندازہ نہیں جس کا
محبت اب وہ بحرِ بیکراں ہے میرے پہلو میں

تو اپنا رازِ دل مجھ سے چھپا سکتا نہیں ہرگز
تِرا محرم تِرا اک رازداں ہے میرے پہلو میں

مگر پہنچی نہیں میرے لبوں تک گونج بھی اس کی
اگرچہ حشر کا شورِ فغاں ہے میرے پہلو میں

دھواں آہوں کی صورت کیوں نہ نکلے ، کیوں نہ جاں سلگے؟
یہ اک آتش کدہ ہے دل کہاں ہے میرے پہلو میں؟

لگے برسات اشکوں کی بجھانے کو اسے فاتح
نئی حسرت کوئی شعلہ فشاں ہے میرے پہلو میں
—-
غزل

جو جگر کے پار اترے میں وہ گیت گنگناؤں
جسے سن کے تو بھی رو دے میں وہ داستاں سناؤں

نہ غلط مجھے سمجھنا کہ یہ انتہائے غم ہے
تجھے دیکھ کر بھی اب کے میں اگر نہ مسکراؤں

جو لگے ہیں زخم دل پر وہ زمانہ دیکھ لے گا
میں لبوں سے مسکراہٹ کا نقاب کیوں ہٹاؤں؟

مجھے بے وفا نہ کہنا اے مریضِ خود فریبی
تو اگر برا نہ مانے تجھے آئینہ دکھاؤں

تو ہے تشنۂ محبت میں ہوں بحرِ عشق فاتح
آ تجھے گلے لگا کے تِری تشنگی بجھاؤں
—-
غزل

نہیں دیکھی جاتی تمھاری اداسی
خدا کے لئے مسکراہٹ ذرا سی

غنیموں کے آگے تو لڑئیے نہ ہم سے
ذرا سیکھیے خوئے موقع شناسی

ہے دراصل چاہت کی یہ اک علامت
مِرے سامنے آپ کی بدحواسی

ہے تیرا مِرا جوڑ دشوار پیارے
تو شہری سیانا میں جنگل کا باسی

تصور میں اب تک ہیں محفوظ فاتح
وہ عارض گلابی ، وہ زلفیں گھٹا سی
—-
غزل

دل میں تمھیں بٹھائے زمانہ گزر گیا
تم سامنے نہ آئے زمانہ گزر گیا

اب تم نہ پا سکو گے ہمارا نشان بھی
خود کو ہمیں مٹائے زمانہ گزر گیا

اب تک ہے اس کا لطف محبت کے رنگ میں
پی تھی تمھاری چائے زمانہ گزر گیا

کیا ہم سنائیں حال زمانے کا آپ کو؟
زانو پہ سر جھکائے زمانہ گزر گیا

مایوسیوں کی دھند تو چھائی ہے آج بھی
دل کا دیا جلائے زمانہ گزر گیا

فاتح جو آج محوِ تلاشِ خلوص ہے
کوئی اسے بتائے زمانہ گزر گیا
—-
غزل

نکلا بے لوث محبت کا نتیجہ کچھ تو
بدلا اس شوخ و ستم گر کا وتیرہ کچھ تو

دل تو کیا آپ کو ہم دولتِ جاں نذر کریں
آپ تبدیل کریں اپنا رویہ کچھ تو

دستِ قاتل کو حنائی کریں اپنے خوں سے
ہو ادا عشق و محبت کا فریضہ کچھ تو

تھا بضد لشکرِ امواج ڈبونے پہ مگر
غرق خود ہم نے کیا اپنا سفینہ کچھ تو

بالمشافہ نہ سہی خط کے ذریعے ہی سہی
ہم کلامی کا میسر ہو ذریعہ کچھ تو

تیری محفل نہ سہی ، تیرے خیالات سہی
ہم بھی رکھتے ہیں تقرب کا قرینہ کچھ تو

کب سے پھیلائے ہوئے دستِ دعا ہے فاتح؟
اس پہ یارب کھلے رحمت کا دریچہ کچھ تو
—-
غزل

ہو سکے تو مِری کاہش کا ازالہ کر دے
ورنہ اے دوست اِسے اور زیادہ کر دے

سب کو آتا ہے محلات کی رونق بننا
لطف جب ہے کوئی آباد خرابہ کر دے

سینکڑوں بار تجھے میں نے بھلانا چاہا
دل وہ ضدی کہ تِری یاد کو تازہ کر دے

چاہے دنیا تو فسانے کو حقیقت کہہ لے
اور چاہے تو حقیقت کو فسانہ کر دے

ایک جنبش میں ہو شق سینۂ باطل جس سے
اس قدر تیز خدایا مِرا خامہ کر دے

جس قدر رہیے سدا مثلِ مجاہد فاتح
کیا خبر زندگی کس وقت دھماکا کر دے؟
—-
غزل

دردِ ہجراں سے چور ہم بھی ہیں
مضطر و ناصبور ہم بھی ہیں

ہم بھی رکھتے ہیں دل میں ذوقِ جمال
طالبِ نورِ طور ہم بھی ہیں

آؤ مل بیٹھیں ہجر کے مارے
اپنے دلبر سے دور ہم بھی ہیں

حال دیوانگی و مستی میاں
اہل فکر و شعور ہم بھی ہیں

ہم یہ کہتے ہیں ناز سے فاتح
خادمِ فن ضرور ہم بھی ہیں
—-
غزل

اچانک دھند سی کیوں چھا گئی ہے؟
یہ مشعل آج کیوں کجلا گئی ہے؟

ترستے قطرے قطرے کو ہیں مے کش
یہ کس کے ہاتھ میں صہبا گئی ہے؟

یہ آوازے ، یہ زنجیریں ، یہ زنداں
کہاں دیوانگی پہنچا گئی ہے؟

ہماری رہنمائی کی جنوں نے
خرد مندی انھیں بھٹکا گئی ہے

اگرچہ عالمِ یخ بستگی تھا
نوا فاتح کی دل گرما گئی ہے
—-
غزل

وہ میرا گلبدن شعلہ بداماں ہوتا جاتا ہے
مِری تشہیر و بربادی کا ساماں ہوتا جاتا ہے

کہاں خود مست ہم جیسے ، کہاں یہ کوئے رسوائی؟
رواج تہمت و الزام و بہتاں ہوتا جاتا ہے

نہ وہ ناز و ادا اس میں ، نہ وہ خوئے جفا اس میں
گماں ہوتا ہے وہ کافر مسلماں ہوتا جاتا ہے

دماغ و دل پہ پردے پڑتے جاتے ہیں گناہوں سے
زمانہ آئے دن عریاں سے عریاں ہوتا جاتا ہے

ہوئی جاتی ہے مشکل جس قدر راہِ طلب یارو
میرا راہِ وفا میں مرنا آساں ہوتا جاتا ہے

سنے جس روز سے اس کی مسیحائی کے افسانے
مجھے بیمار پڑ جانے کا ارماں ہوتا جاتا ہے

انوکھا کیف ہے فاتح نرالی سی یہ مستی ہے
دلِ پر آرزو خود ہی غزلخواں ہوتا جاتا ہے
—-
غزل

جب سے تواے جانِ جاں آنکھوں سے اوجھل ہو گیا
صدی صدی کے برابر میرا پل پل ہو گیا

اشک افشاں جب مِری آنکھوں کا بادل ہو گیا
دشتِ دامن چند لمحوں میں ہی جل تھل ہو گیا

کشتگانِ شوق کی یوں تو نہ تھی کوئی کمی
فخر ہے مجھ کو مِرا خوں صرف مقتل ہو گیا

برسبیلِ تذکرہ چھیڑا تھا میں نے حالِ غم
منتشر کیوں آپ کی آنکھوں کا کاجل ہو گیا؟

آرزو ٹھہری تِری سالارِ فوجِ آرزو
پرچمِ امید تیرا لال آنچل ہو گیا

ترکِ الفت کا دیا ہے مشورہ ناصح نے آج
حسرتِ ناکام تیرا مسئلہ حل ہو گیا

دل میں کب سے موجزن تھی خواہشِ تکمیلِ ذات
میں نے اپنایا تجھے جب سے ، مکمل ہو گیا
—-
غزل

تیرے غم سے زندگی کی لو تو مدہم ہو گئی
پر مِری دیوانگی مشہورِ عالم ہو گئی

انقلابِ وقت سے بھی خوف کھانا چاہیے
بارہا محفل خوشی کی وقفِ ماتم ہو گئی

یہ الگ اک بات ہے اس کی پزیرائی نہ ہو
میں نہیں کہتا وفا کی روشنی کم ہو گئی

کاروانِ شوق نے سالار ٹھہرایا مجھے
جو گریباں کی اُڑی دھجی وہ پرچم ہو گئی

رونما جب بھی ہوا دنیا میں کوئی انقلاب
میں یہی سمجھا کہ تیری زلف برہم ہو گئی

پا گیا اس سے دلِ مردہ سوادِ زندگی
جو غزل فاتح نے لکھی اسمِ اعظم ہو گئی

—-
غزل

مسئلہ تیری جدائی کا نہ قربت کا سوال
ہے ہمیں ملحوظِ خاطر اپنی چاہت کا سوال

دیکھ دروازے میں آ کر کون یہ درویش ہے؟
تجھ سے کرتا ہے جو خیراتِ صباحت کا سوال

یہ الگ اک بات ہے ہم اس میں دلچسپی نہ لیں
ورنہ لاینحل نہیں ہے اپنی قسمت کا سوال

تو کہ دردِ آشنائی سے نہیں ہے آشنا
تجھ سے کیا حل ہو میری دیرینہ حسرت کا سوال

دن کو رکھتی ہے پریشاں سارا دن فکرِ معاش
شب کو حل ہوتا نہیں شب کی طوالت کا سوال

چاہیے اک عمر تک دیوانگی اس کے لیے
اتنا آساں تو نہیں عشق و محبت کا سوال

سچ تو کچھ یوں ہے کہ فاتح چیستاں سے کم نہیں
ایک پتھر دل سے الطاف و مروت کا سوال
—-
غزل

پیرہن تار تار ہونے دو
احترامِ بہار ہونے دو

تذکرے ہیں یہ موسمِ گل کے
غل سرِ شاخسار ہونے دو

اشک خوں رنگ سے جدائی میں
آستیں لالہ زار ہونے دو

ان کو روکو نہ تم جفاؤں سے
یہ کرم باربار ہونے دو

ساحلِ مرگ کتنا دلکش ہے
بحرِ ہستی سے پار ہونے دو
عمر بھر نام لے نہ چاہت کا
دل کو یوں بے قرار ہونے دو

لب پہ بے شک نہ ہو پیامِ شوق
تم نگاہیں تو چار ہونے دو

چشمِ مَے ریز کی قسم تم کو
مت مجھے بادہ خوار ہونے دو

پی کے ہر آرزوئے دل کا لہو
مجھ کو پرہیزگار ہونے دو

کر کے تذلیلِ عاشقی فاتح
حسن کو باوقار ہونے دو
—-
غزل

اے جنوں میرا ہم سفر ہو جا
اے غمِ یار بیشتر ہو جا

ان کو پہنچا پیامِ شوق میرا
اے نظر آج نامہ بر ہو جا

صبحِ وعدہ بعید ہے شاید
زندگی تو ہی مختصر ہو جا

حسنِ محبوب کے تصور میں
شامِ غم آج تو سحر ہو جا

اس قدر اب فریب دے نہ مجھے
ہستیٔ بے نشاں بسر ہو جا

تیرے جانے کی فکر ہی نہ رہے
درد بے انتہا جگر ہو جا

تیرے قدموں میں آ پڑے منزل
تو طلب گار اس قدر ہو جا

تیرا ہر انگ ملتجی ٹھہرے
پیکرِ مضطرب نظر ہو جا

شعر فاتح تِرے ہوں فن پارے
اہلِ فن صاحبِ ہنر ہو جا
—-
غزل

کسی کو دکھ یہ الم آشنا نہیں دیتے
وفا شعار کسی کو دغا نہیں دیتے

کسی سزا سے گریزاں تو ہم نہیں لیکن
ہمارا جرم ہمیں کیوں بتا نہیں دیتے؟

ثواب ہیں تو نہیں قدر کیوں زمانے میں؟
جو عیب ہیں تو ہمیں کیوں چھپا نہیں دیتے؟

کرو نہ دعویٔ تکمیلِ عشق بھولے سے
تم اپنے آپ کو جب تک مٹا نہیں دیتے

تباہی و غم و رسوائی اس کا حاصل ہے
یہ سوچتے ہیں تو درسِ وفا نہیں دیتے

جو تیرے ساتھ بہشتِ نگاہ لگتے تھے
تِرے بغیر وہ منظر مزہ نہیں دیتے

دلوں کو کرتے ہیں تسخیر اہلِ دل فاتح
گرہ سے کچھ بھی یہ شیریں نوا نہیں دیتے
—-
غزل

تو بات نہ کر مجھ سے میرے پاس نہ آ دوست
کیا باعثِ رنجش ہے فقط اتنا بتا دوست؟

تو چاہے تو میں زندگی ساری رہوں خاموش
ناراض ہے تو کس لیے کیا میں نے کہا دوست؟

یہ خار ، یہ ظلمت ، یہ بگولے مِری قسمت
تیرے تو ہیں یہ پھول ، یہ تارے ، یہ صبا دوست

میں تیرا تھا ، تیرا ہوں ، میں تیرا ہی رہوں گا
تو مجھ کو مٹا پھر سے بنا پھر سے مٹا دوست

جو چاہے مجھے جرمِ محبت کی سزا دے
مت اہلِ زمانہ کو سنا غل نہ مچا دوست

میں خود ہی گنہ گار ہوں کیوں دوش تجھے دوں؟
شرمندہ نہ ہو مجھ سے نگاہیں نہ چرا دوست

بے تاب سا کر دیتا ہے جب زخمِ تمنا
میں اور تِرے حسن کو دیتا ہوں دعا دوست

ہو تیرگیٔ یاس کہ تاریکیٔ آلام
چمکاتی ہے راہوں کو محبت کی ضیا دوست

کیا رسمِ وفا بھی کبھی ہوتی ہے پرانی
کیوں کرتے ہیں پھر لوگ یہ تجدیدِ وفا دوست؟

گم گشتۂ حالات ہے یہ درد کا مارا
ملیے کبھی فاتح سے کہ ہے مردِ خدا دوست
—-
غزل

لب پہ لوگوں کے بات میری ہے
کتنی معروف ذات میری ہے

عشق و اخلاص و اشتیاق و وفا
بس یہی کائنات میری ہے

خوب سوچوں گا ، خوب تڑپوں گا
دن پرایا تھا رات میری ہے

نام یاروں کا ہو گیا رسوا
اصل میں واردات میری ہے

وعدۂ وصل تیرا سالوں میں
چند روزہ حیات میری ہے

شعر میرے ہیں جاوداں فاتح
زندگی بے ثبات میری ہے
—-
غزل

پوچھو نہ کتنے رنج وہ ہرجائی دے گیا
شامِ فراق اور شبِ تنہائی دے گیا

وہ سنگ دل کہ دشمنِ ایماں کہیں جسے
خود جھوٹ لے گیا مجھے سچائی دے گیا

خلوت ہے پر سجی ہوئی بزمِ خیال ہے
کیسی وہ شخص انجمن آرائی دے گیا؟

لگتا تو تھا وہ شخص مسیحا نفس مگر
زخموں کو میرے اور بھی گہرائی دے گیا

سنتا ہے غور و خوض سے ہر شخص میری بات
دیوانہ کر کے وہ مجھے دانائی دے گیا

ہے یوں تو اک غزل مگر دراصل دوستو!
درسِ حیات فاتحِ سودائی دے گیا
—-
غزل

جس دن سے مہربانیٔ دلدار بڑھ گئی
لگتا ہے میری شوخیٔ گفتار بڑھ گئی

دیکھا تجھے تو ہو گئے رنگیں دل و نظر
پایا تجھے تو زینتِ اشعار بڑھ گئی

آیا ہے جب کبھی سرِ راہے تِرا خیال
دل بے قرار ہو گیا ، رفتار بڑھ گئی

آئی نہیں ابھی مِرے لب پر حدیثِ شوق
وہ دیکھئے کہ سرخیٔ رخسار بڑھ گئی

جب ان کا سامنا ہوا لب سل کے رہ گئے
سمجھے تو تھے کہ قوتِ اظہار بڑھ گئی

مقتول کہہ گیا مِرا قاتل ہے بے قصور
شہ رگ کی سمت خود بخود تلوار بڑھ گئی

اس کو حیاتِ جاوداں کا نام دے دیا
وہ زندگی جو موت کے اس پار بڑھ گئی

حیرت زدہ ہیں سب کہ وہ درویش کون تھا؟
آنے سے جس کے شوکت دربار بڑھ گئی

تھا سست و سرد کاروبارِ الفت و خلوص
فاتح کے دم سے گرمیٔ بازار بڑھ گئی
—-
غزل

اٹھ کر تِری محفل سے جائیں گے کہاں بابا
ویسے بھی شریفوں پر ہے تنگ جہاں بابا

بیزار سے بیٹھے ہیں اب جان سے اپنی ہم
اب ہم سے نہیں اٹھتے یہ نازِ بتاں بابا

یہ سوزشِ دل بھی ہے ، یہ دردِ جگر بھی ہے
یہ عشق ہے فی الواقع بیماریٔ جاں بابا

دنیا میں اگر تجھ کو مطلوب ہے دانائی
آنکھیں ہوں کھلی تیری ہو بند زباں بابا

کر ذوقِ سفر پیدا گر شوق ہے منزل کا
کچھ کام نہ آئے گا یہ خوابِ گراں بابا
ہے رونقِ مئے خانہ رندوں سے بجا لیکن
بے کار ہے مَے خانہ بن پیرِ مغاں بابا

جو شخص ازل سے ہی آوارۂ منزل ہے
منظور کرے کیونکر وہ قیدِ مکاں بابا

اس دور میں ہر جانب ہوتی ہے اداکاری
ہو حالتِ دل تیری رخ پہ نہ عیاں بابا

اپنا ہی لیا تو نے جب روگ محبت کا
اب زیب نہیں دیتی یہ آہ و فغاں بابا

یہ بات حقیقت میں تیری ہے نہ میری ہے
یہ ذکر فلاں کا ہے کرتا ہے فلاں بابا
—-
غزل

ہجر باقی ہے تو شبِ خوں کی ضرورت کیا ہے؟
وصل حاصل ہو تو خوشیوں کی ضرورت کیا ہے؟

چار ہوں آنکھیں تو لفظوں کی ضرورت کیا ہے؟
حالِ دل کے لئے حرفوں کی ضرورت کیا ہے؟

برہمی تیری قیامت ہے فقیروں کے لئے
سوزِ دل کے لئے شعلوں کی ضرورت کیا ہے؟

ایک صدمہ ہی بہت ہے تیری بے مہری کا
اور آلام کی صدموں کی ضرورت کیا ہے؟

داد و تحسین کے دو بول بہت ہیں ہم کو
اب ہمیں مدح سرائوں کی ضرورت کیا ہے؟

اپنے اشعار کے مخزن ہیں غنیمت فاتح
غم رسیدوں کو خزانوں کی ضرورت کیا ہے؟

—-
غزل

کہاں تک تیری نظروں کے بدلتے زاویے دیکھوں
بایں قربت بھی اتنا بُعد اتنے فاصلے دیکھوں

نہیں معلوم کس کا خاتمہ ہوتا ہے منزل پر؟
میں اپنے سامنے یوں تو ہزاروں راستے دیکھوں

نہ کوئی امرِ حیرت باعثِ حیرت رہا اب تو
کہ چاروں سمت ہوتے ہیں جہاں میں حادثے دیکھوں

یہ حدِ یاس ہے میری کہ ادراکِ حقیقت ہے
میں اپنی زندگی میں ہر قدم پر سانحے دیکھوں

مِری آواز دب کے رہ گئی ہے میرے زنداں میں
یہ پھر بھی سوچتا ہوں میں تجھے آواز دے دیکھوں

تمھاری مہربانی ہے فقط پرکار ٹھہری ہے
سکڑتے پھیلتے سوچوں کے صدہا دائرے دیکھوں

ہمارا حالِ غم سننے کی فرصت ہے کسے فاتح؟
وہ خود آہ و فغاں کرتا نظر آئے جسے دیکھوں

—-
غزل

ہر اذیت ہر مصیبت آشنا ہم سے ہوئی
میزبانی ہر قیامت کی سدا ہم سے ہوئی

واقعہ یوں بھی ہوا ہے زندگی میں بارہا
بے رخی پھولوں نے کی ، برہم صبا ہم سے ہوئی

جابرانِ وقت نے اس پر سواری کی مگر
ہم کہ تھے کمزور دنیا سیخ پا ہم سے ہوئی

حضرتِ واعظ بھی تھے موجود زاہد بھی مگر
اپنے خوں سے رسمِ شبیری ادا ہم سے ہوئی

چاند تارے بے اثر تھے دیپ بھی بیکار تھے
بزمِ شب میں جو ہوئی فاتح ضیا ہم سے ہوئی
—-
غزل

جب بھی میں حسن کا دیتا ہوں حوالہ کوئی
رقص کرتی ہے تصور میں غزالہ کوئی

جنت ذات سے لاپھینکا ہے باہر مجھ کو
دل کی خواہش بھی ہے شیطان کی خالہ کوئی

میں بھی اعلانیہ سچ بول رہا ہوں لوگو
کیوں نہیں دیتا مجھے زہر کا پیالہ کوئی؟

آج ہر شخص مسائل سے ہے گھبرایا ہوا
کیا کرے میرے مسائل کا ازالہ کوئی؟

پھول باتوں کے ہوں ، غنچے ہوں لبوں کے فاتح
روز مہکائے مِرے ہاں گل و لالہ کوئی
—-
غزل

جو بھی پتھر دکھائی دیتا ہے
سنگِ مرمر دکھائی دیتا ہے

لوگ مائل بہ شرک لگتے ہیں
دورِ بت گر دکھائی دیتا ہے

جس بشر کو بھی دیکھئے اس کا
ہاتھ دل پر دکھائی دیتا ہے

تو نہیں ہے تو گل بھی گلشن میں
دیدۂ تر دکھائی دیتا ہے

ڈھونڈنے سے بھی جو نہیں ملتا
دل کے اندر دکھائی دیتا ہے

آنکھ جب ہجر میں نہیں لگتی
خواب کیونکر دکھائی دیتا ہے؟

دیکھنا بھی نہ چاہے دل جس کو
وہ مکرر دکھائی دیتا ہے

لوگ ابرو اسے کہیں لیکن
ہم کو خنجر دکھائی دیتا ہے

سوزِ الفت کے نور سے فاتح
دل منور دکھائی دیتا ہے
—-

غزل

کیفیتِ سیماب ادھر بھی ہے ادھر بھی
دل وصل کو بے تاب ادھر بھی ہے ادھر بھی

دونوں کے ہیں دل ترکِ تعلق پہ پشیماں
شب مضطر و بے خواب ادھر بھی ہے ادھر بھی

بے باکیٔ اقرار سے قاصر ہیں زبانیں
ہر چند کہ ایجاب ادھر بھی ہے ادھر بھی

اک حسنِ ریا ہے کہ فراواں ہے جہاں میں
اخلاص تو کمیاب ادھر بھی ہے ادھر بھی

کر بیٹھے ہیں سب لوگ مسبب کو فراموش
محکومیٔ اسباب ادھر بھی ہے ادھر بھی

مانگے سے تو اک گھونٹ بھی پایا نہ میسر
گو عام میٔ ناب ادھر بھی ہے ادھر بھی

اس سے تو یہ بہتر ہے کہ پیاسے ہی رہیں ہم
پینے کو تو زہراب ادھر بھی ہے ادھر بھی

—-
غزل

بیمار کو آرام یہاں ہے نہ وہاں ہے
تسکین بھرا جام یہاں ہے نہ وہاں ہے

اس شہر سے اس شہر یہ سودائی پھرا ہے
وہ شوخ سرِ بام یہاں ہے نہ وہاں ہے

جاتی ہے جدھر کو بھی نظر دکھ ہیں فراواں
پابندیٔ آرام یہاں ہے نہ وہاں ہے

اب صبح میں باقی نہیں پہلی سی صباحت
وہ کیف سرِ شام یہاں ہے نہ وہاں ہے

ہوتا رہا ہر دور میں مے خوار ہی رسوا
زاہد پہ تو الزام یہاں ہے نہ وہاں ہے

وہ خم کدۂ رند ہو یا حجرۂ صوفی
پابندیٔ احکام یہاں ہے نہ وہاں ہے

پھولوں کا یہ گلبن ہے ستاروں کا وہ جھرمٹ
لیکن مِرا گلفام یہاں ہے نہ وہاں ہے

بدنام ادھر بھی ہے ، ادھر بھی ہے یہ رسوا
پاگل تِرا خوش نام یہاں ہے نہ وہاں ہے

محفوظ تِرے شر سے کوئی اہلِ محبت
اے گردشِ ایام یہاں ہے نہ وہاں ہے

جو پیکرِ اخلاص ہو جو فاتحِ دل ہو
وہ بندۂ بے دام یہاں ہے نہ وہاں ہے

—-
غزل

دل عشق و محبت سے ہے سرشار تو آؤ
رکھتے ہو اگر جذبۂ ایثار تو آؤ

مل جل کے بنائیں گے اسے سہل و سبک ہم
ہستی ہو اگر تم پہ گراں بار تو آؤ

ہمراہیو! اک جرأتِ رندانہ ہے مطلوب
کر پاؤ اگر جرم کا اقرار تو آؤ

جانے کو ہے مقتل کی طرف قافلہ اپنا
بیٹھے ہو اگر جان سے بیزار تو آؤ

ہم اہلِ ہنر کرتے ہیں بیوپار غموں کا
اشکوں سے پرو پاؤ اگر ہار تو آؤ

ہے ظلم پہ اک فیصلہ کن ضرب لگانا
ہو پاؤ اگر برسرِ پیکار تو آؤ

کہتے ہیں کہ فاتح کا سجن دل کی ہے آواز
سننا ہوں جو اس شخص کے اشعار تو آؤ

—-
غزل

نصابِ عشق نہ ہو تو کتابِ دل بھی نہ ہو
نہ آؤ تم تو میرا گھاؤ مندمل بھی نہ ہو

بغیر گریۂ پیہم بجھے نہ آتشِ غم
مزا نہ آئے گا اگر سوزِ مشتعل بھی نہ ہو

نہ ہو تڑپ تو طلب میں بھی ہو نہ جولانی
نہ ہو یہ لطف اگر دردِ مستقل بھی نہ ہو

میں اس سے شکوے شکایات بھی کروں لیکن
یہ آرزو ہے کہ وہ شوخ منفعل بھی نہ ہو

وہ اک تناسبِ اعضا ہے جس کو حسن کہیں
نہ ہو کمالِ تجمل اگر یہ تل بھی نہ ہو

نہ ہو وفا تو کہیں ربطِ کائنات نہ ہو
نہ ہو خلوص تو دنیائے آب و گل بھی نہ ہو

غزل ہماری تغزل کی جان ہے فاتح
وہ شعر کیا جو محبت پہ مشتمل بھی نہ ہو

—-
غزل

دکھ سہے میں نے بہت اہلِ ہنر ہونے تک
کتنی اموات سے گزرا ہوں امر ہونے تک

میری ہستی تو ہے بس ایک مسلسل نوحہ
اس شجر کا نہ رہا ہو جو ثمر ہونے تک

تھا مِرا وعدۂ شب خام ستمگر ورنہ
تیرا دیوانہ تو جاگا ہے سحر ہونے تک

ہے یہی شرطِ رواداریٔ حالات مگر
کون جیتا ہے تِری زلف کے سر ہونے تک؟

اک سکوں موت کا منزل پہ ملا ہے مجھ کو
زندگی گویا تھی انجامِ سفر ہونے تک

نقشِ پا چاہے کہو یا مجھے پتھر کہہ لو
میں تو بیٹھا ہوں یہاں ان کا گزر ہونے تک

سوچنے کا نہ دیا وقت جنوں نے فاتح
کچھ نہ باقی رہا احساسِ خطر ہونے تک
—-
غزل

تِرا فریب مِرا اعتبار شاہد ہے
ہے کس میں کتنی وفا حالِ زار شاہد ہے

وہ بوالہوس ہیں جنھیں ہے تِرے ستم سے گلہ
تِرے کرم کا تِرا جاں نثار شاہد ہے

ثبوت مانگنے والے مِری محبت کا
یہ چشمِ تر یہ دلِ بے قرار شاہد ہے

نگارِ دیدہ و دل تیرا پھول پھول گواہ
فگارِ شوق تِرا خار خار شاہد ہے

خوشی ہے خواب کی مانند اے گلِ خنداں!
تِرا تبسمِ ناپائیدار شاہد ہے

مِرے فسانۂ غم کا یقیں کرو نہ کرو
دلِ تباہ کا پروردگار شاہد ہے

مِرا سکون بھی اک اضطراب ہے فاتح
یہ اشتیاق ، یہ بے لوث پیار شاہد ہے

—-
غزل

راحتیں جاں فزا ہزاروں ہیں
روح میں ابتلا ہزاروں ہیں

سی چکے ہیں لبوں کو ہم ورنہ
دل میں محشر بپا ہزاروں ہیں

تو نے اک درد بھی نہیں بانٹا
دکھ تو اے بے وفا ہزاروں ہیں

ایک محرم ہمیں نہیں ملتا
آپ کے آشنا ہزاروں ہیں

دل بھی دار الامان ہے جس میں
خواہشیں نارسا ہزاروں ہیں
کوئی آواز کیوں نہیں آتی؟
پھول تو لب کشا ہزاروں ہیں

دوستو! کچھ مفر نہیں ممکن
عذر ہائے قضا ہزاروں ہیں

راہ کی ہے خبر یہاں کس کو؟
آج کل رہنما ہزاروں ہیں

کوئی کیا پاسدارِ حق بھی ہے؟
کفر کے ہم نوا ہزاروں ہیں

گر نہ مانیں تو اک خدا بھی نہیں
مان لیں تو خدا ہزاروں ہیں

آپ سا ہے مگر کہاں فاتح؟
یوں تو نغمہ سرا ہزاروں ہیں
غزل

تم آئے تو احساس جواں ہونے لگا ہے
پت جھڑ پہ بہاروں کا گماں ہونے لگا ہے

جوبن پہ نظر آتی ہے پھر شاعری میری
پھر نام تِرا وردِ زباں ہونے لگا ہے

پھر کوئی عنایت ، کوئی جلوہ ، کوئی اعجاز
دل آج پرستارِ بتاں ہونے لگا ہے

ہم توڑ نہ بیٹھیں کہیں پیمانِ محبت
پیمانۂ دل دشمنِ جاں ہونے لگا ہے

بے تاب کئے ہے کوئی بے نام سی کاہش
شاید مجھے احساسِ زیاں ہونے لگا ہے

ڈر ہے کہ تِرا نام بھی آ جائے نہ اس میں
قصہ مِرا مشہورِ جہاں ہونے لگا ہے

یہ میرے ہی نالے ہیں عنادل کی زباں پر
مقبول مِرا طرزِ فغاں ہونے لگا ہے

ہو کاش میسر کوئی تلوار ، کوئی دار
سر جسم پہ اک بارِ گراں ہونے لگا ہے

پھر چھیڑیے فاتح کوئی نغمہ ، کوئی آہنگ
دل درد سے فریاد کناں ہونے لگا ہے
—-
غزل

یہ بے طلب کیسی مہربانی ، یہ باعثِ لطف عام کیا ہے؟
اے میرے محسن ! مِرے مسیحا مجھے بتا تیرا نام کیا ہے؟

اگر ارادہ ہے قتل کرنے کا قتل کر دو بلا تکلف
یہ عذرِ دار و صلیب کیوں ہے ، یہ تیغ کا اہتمام کیا ہے؟

سوال کرتی ہیں مجھ سے پریاں کہ اس میں کیسی ہے جاذبیت
قیامتیں مجھ سے پوچھتی ہیں کہ اس کا طرزِ خرام کیا ہے؟

تمھارے ہر طور میں کشش ہے ، تمھارے ہر بول میں ہے جادو
تمھاری پُرپیچ زلف سے بڑھ کے میرے محبوب دام کیا ہے؟

جہاں نہ ہو تیرا قرب فاتح میں ایسے گلشن کو کیا کروں گا؟
نہ جس میں تیری ہو ہم نشینی وہ صبح کیا ہے ، وہ شام کیا ہے؟
—-
غزل

خدا کا شکر ہے پھر عام کارِ خیر ہوتا ہے
روانہ سُوئے کعبہ کاروانِ دَیر ہوتا ہے

نہیں اے داعیٔ حق ایک تجھ سے دشمنی ان کو
ہمیشہ ظالموں کا اہلِ حق سے بیر ہوتا ہے

یہ سب مصنوعی باتیں ہیں جہاں والو حقیقت میں
نہ کوئی اپنا ہوتا ہے نہ کوئی غیر ہوتا ہے

سنا ہے اہلِ جدت آج کل یوں شعر کہتے ہیں
نہ کچھ مفہوم ہوتا ہے نہ کچھ سر پیر ہوتا ہے

حسیں ہے سیر فاتح یوں جہانِ لفظ و معنی کی
تھکن محسوس ہوتی ہے نہ دل ہی سیر ہوتا ہے
—-
غزل

اے دلِ بے سکوں ہے یہی زندگی تو مسلسل گزر کربِ تخلیق سے
تو مصور بھی ہے اور موجد بھی ہے جی چرایا نہ کر کربِ تخلیق سے

دولتِ درد بھی ، مایۂ سوز بھی ، نقدِ احساس بھی اس کا فیضان ہے
عقل بے عقل ہے دل ہے محرومِ دل جو رہے بے خبر کربِ تخلیق سے

کیفِ ہستی اگر تجھ کو مطلوب ہے اس کی صرصر کو بھی تو سمجھ لے صبا
پائیں نشوونما فہم کے برگ و گل فکر کے بال و پر کربِ تخلیق سے

اہلِ دل کے لئے اس کے سب مرحلے رنگ سامان ہیں راحت ِجان ہیں
بات میں وزن ہے چال میں شان ہے شعر میں ہے اثر کربِ تخلیق سے

جان خستہ سہی دل شکستہ سہی روح گھائل سہی درد قاتل سہی
پھر بھی فاتح سدا وقفِ کاوش رہو گو ہے زخمی جگر کرب تخلیق سے
—-

Viewers: 879
Share