نقدِ فکر و نظر ۔۔۔۔ از: شبیر ناقد

ISBN : 978 969 7578 689 زیرِ مطالعہ کتاب شاعر شبیر ناقِدؔ کے ایما پر شائع کی گئی ہے اور اس کے جملہ حقوق اورمتن کی تمام تر ذمہ داری […]

ISBN : 978 969 7578 689

زیرِ مطالعہ کتاب شاعر شبیر ناقِدؔ کے ایما پر شائع کی گئی ہے اور اس کے جملہ حقوق اورمتن کی تمام تر ذمہ داری انہی کو مستحسن ہے۔پبلشر یا پرنٹر قطعاً ذمہ دار نہیں۔ ادارہ اردو سخن ڈاٹ کام کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ قارئین تک بہترین اور اغلاط سے پاک ادبی مواد پہنچایا جائے اور اس ضمن میں ہر امکانی کوشش کو بروئے کار لایا جاتا ہے تاہم غلطی کی نشاندہی کا خیر مقدم کیا جاتا ہے تاکہ آئندہ اشاعت میں اس کی درستی کی جائے۔(ادارہ)

اردو مجموعہءِ کلام

نقدِفکر و نظر

شبیر ناقدؔ

اردو سخن ڈاٹ کام، پاکستان
نقدِ فکر و نظر
شبیر ناقِدؔ
معرفت پروفیسر ظہور احمد فاتح، نزد تعمیرِ نو اکیڈمی
کالج روڈ، تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازیخان(پنجاب۔ پاکستان)
رابطہ فون: 0333-5066967 0303-9297131 0342-5237636

اُردوسخن

استحقاق:تمام تصرفات ’’شبیر ناقِدؔ ‘‘کی تحویل میں ہیں
ناشر: اردو سخن ڈاٹ کام، پاکستان
نمودِ اول:فروری 2019ء

کمپوزنگ: محمد شہر یار ناصر
سروروق: ناصر ملک
طباعت: شیرِ ربانی پریس، ملتان
قیمت:500 روپے (50یورو، 55ڈالر)


انتساب

شناورانِ قلزمِ فن کے نام!


تشنگی اوجِ ثریا پہ مری پہنچی ہے

صاحبِ فکر و نظر شبیر ناقد کا مجموعہءِ کلام ’’نقد ِ فکر و نظر‘‘ میرے روبرو ہے۔ مجموعہ ہذا میں صاحبِ کلام کی ذاتی زندگی کی جھلک نمایاں اور توانا نظر آتی ہے۔ ان کی شخصیت کورے کاغذ پہ لکھی ہوئی تحریر کی مانند سادہ، صاف اور شفاف ہے۔ وہ اپنے مصحفِ ہستی کا خود ہی ترجمہ ہیں اور خود ہی تفسیر ۔ وہ امامِ عالی مقام حضرت امام حسینؑ کے مقدس نقوشِ پا پر چلنے کے خواہش مند ہیں۔ کربلا کی نہ صرف تلاش میں ہیں بلکہ اسے مانگتے پھر تے ہیں۔
شبیر ناقدؔ کے بے شمار شخصی اور فنی محاسن میں سے ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ اور ان کا کلام محبت کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ محبت ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی حیات کو ایامِ محبت کے طور پر بسر کیا ہے۔ ان کی خرد پہ ان کا قلب حاوی ہے اور وہ خود اپنی خرد کو اپنا جہنم قرار دیتے ہیں۔ انہیں صرف پیار سے ہی پیار ہے اوراپنے محبوب کی نشانی سے۔ وہ محبوب کے ذکر کو اپنے ہونٹوں کی زینت سمجھتے ہیں۔ ان کی نظر میں ان کا محبوب ایسا ناسمجھ اور معصوم ہے جسے زمانے کی کچھ خبر ہی نہیں ہے۔ وہ اپنے محبوب سے اس انداز میں مخاطب ہوتے ہیں کہ اے مرے من کے آکاش کے روشن ستارے! میرے پاس جو کچھ بھی ہے ،وہ تمہاری رفاقت اور محبت کی بدولت ہے۔ شبیر ناقدؔ اپنی محبت کو اپنی جاگیر خیال کرتے ہیں جو انہیں قسمت سے ملی ہے۔ ان کے گمان میں بھی نہ تھا کہ تقدیر ان پر اس قدر مہربان ہو جائے گی اور ان کے محبوب کی تصویر شبیر ناقدؔ کے قلب و جاں پر ایسے ایسے نقوش نقش کر دے گی جو بھلانے کے قابل نہ ہوں گے۔ اگر وصال میسر ہو تو شبیر ناقدؔ زندگی کو بھیرویں اور ملہار جیسے دلکش راگوں جیسی خوش کن تصور کرتے ہیں۔ ویسے پئیے بغیر بھی ان کے دل و دماغ پر خمار، سکون اور قرار جیسی کیفیات طاری رہتی ہیں۔ وہ عرصہ دراز تک چہرہءِ یار کی تلاوت سعادت اور عبادت سمجھ کر روز و شب کرتے رہے اور اسی حال میں اپنی زیست تمام کرنے کے حق میں تھے کہ عدو کی شرارتیں اپنا کام کرنے لگیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں، ’’انسانوں کے درمیان دن بدلتے رہتے ہیں‘‘، شبیر ناقد کی محبت کا نیرو کب تک چین کی بانسری بجاتا، ان کے محبوب کے درمیان دوریاں پیدا ہونا شروع ہو گئیں۔ شبیر ناقدؔ کی محبت کے دن بدلنے لگے تو ان کے شعری رویوں کے اظہار میں بھی بدلائو آنے لگ گیا اور ان کا شعری اظہار یوں نمو پانے لگا۔
جو بدمزاج ہیں ان کی غضب جوانی ہے
جو باوفا ہیں وہی خوش خصال بوڑھے ہیں
پھر اس کے بعد ان کی شاعری ایک ایسی نہج پر پہنچتی ہے جہاں ان کی زندگی مسلسل عذاب اور اذیت میں رہی۔ ہر جگہ ان کی بے کلی ان کے ساتھ رہی۔ انہیں کوئی احساس اور خوشی کا کوئی پاس تک نہ رہا۔ کاہش ِ رنج و الم سے ان کی دوستی ہوئی تو اس کا اظہار بھی دیکھیے۔
پریشان رہتا ہوں شام و سحر
ہے دنیا و عقبیٰ پہ میری نظر
وفائیں اگر تیرے بس میں نہیں
مجھے مار دے اے مرے چارہ گر
یا پھر
ستم زندگی میں بہت سے سہے ہیں
مجھے میرے یاروں نے دھوکے دیے ہیں
یاروں سے اس قدر دھوکے کھانے کے بعد ان کی شاعری میں بے چارگی، بے بسی، غم گینی اور رنجیدگی کی ایسی ایسی تصاویر سامنے آتی ہیں جنہیں دیکھ کر کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔ کڑواہٹ بھری سنسناہٹ تن بدن میں پھیل جاتی ہے جو روح کے تار تک ہلا دیتی ہے۔ قارئین کے دل میں شبیر ناقدؔ کے لیے رحم اور ترس کے جذبات جاگ اٹھتے ہیں اور آنکھوں میں اشک جھلملانے لگ جاتے ہیں۔ انہی تصاویر کے کچھ رنگ آپ سے بانٹتا چلوں۔
کس اذیت سے آج گزرا ہوں
تیرے ہوتے ہوئے بھی تنہا ہوں

سارے عالم سے کیوں دوستی تو نے کی
آشنائی کی کچھ انتہا ہوتی ہے
شبیر ناقدؔ کو اگر شخصی تناظر میں پرکھا او رتولاجائے تو خواب دیکھنے کی عادت ان کے ہاں دوسروں کی نسبت زیادہ توانا اور مضبوط نظر آتی ہے اور ان کی یہ عادت ان کے شعری پیرائیوں پر حاوی ہے۔ معلوم نہیں انہوں نے یہ خواب جاگتی آنکھوں سے دیکھے ہیں یا سوئی ہوئی حالت میں۔ وہ اپنے خوابوں میں پرستان دیکھتے ہیں تو ان کی تعبیر کے متعلق حیران رہ جاتے ہیں کہ یہ کیا ہو گی اور کیسے ہو گی۔ اور تو اور وہ اپنے خوابوں میں اپنی شادی تک بھی کر وا ڈالتے ہیں، اگرچہ وہ ناکام ہی ٹھہرتی ہے۔ شبیر ناقدؔ اپنی محبوبہ کو اپنے خوابوں کی بستی سے تشبیہ دیتے ہیں۔ شبیر ناقدؔ کا محبوب ان سے ان کے خوابوں میں ملتا ہے تو لڑتا جھگڑتا ہوا ملتا ہے۔ اس کی تعبیر ان کے محبوب کا فطرتاً جھگڑالو اور سرکش ہونا ہے جبکہ میں نے اپنے ایک معتبر دوست سے رابطہ کیا تو اس کے بقول محبوب کا خواب میں جھگڑا کرنا محبت، لاڈ اور خوش ذوقی کی علامت ہے۔ اس لحاظ سے شبیر ناقدؔ خوش قسمت اور لائق ِ صد مبارک باد ہیں کہ ان کے اور ان کے محبوب کے درمیان قلبی لگائو اور تعلق موجود ہے۔
شبیر ناقد کی نظم ’’زنجیر‘‘ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی شادی سولہ دسمبر کو ہوئی مزید یہ کہ اس شادی کے نتیجے میں وہ مضطرب اور بے چین ہیں۔ سولہ دسمبر میری پاک دھرتی کے لیے اچھا دن ثابت نہیں ہوا تھا۔ سقوطِ ڈھاکہ اور پشاور کے سانحات اسی تاریخ کو ہوئے۔ وہ اپنی شادی یا پیچھے کر دیتے تو بہتر تھا، کم از کم انہیں ’’زنجیر‘‘ جیسی نظم تخلیق نہ کرنی پڑتی۔
شبیر ناقدؔ نقدِ فکر و نظر میں مجھے فلسفی کے روپ میں نظر آئے۔ قبل ازیں ان کی دو کتابوں ’’سفر نامہ نگاری پر انتقادی امکانات‘‘ اور شعری مجموعہ ’’طرزِ بیاں‘‘ کے بارے میں اپنی آرا پیش کر چکا ہوں۔ میں اس سے پہلے ان کے اس فلسفیانہ انداز سے غافل و بے خبر رہا۔ مجموعہ ہذا میں انہوں نے زندگی کے بارے فلسفیانہ رنگ میں جائزہ لیا ہے اور اپنے گراں قدر اور موقر تاثرات بیان کیے ہیں۔
عام خیال یوں ہے کہ بروزِ حشر نفسا نفسی کا عالم ہو گا۔ ہر شخص کی زبان پر ’’نفسی نفسی‘‘ کے الفاظ ہوں گے مگر شبیر ناقدؔ کے بقول یہ زندگی بھی حشر ساماں ہے۔ یہاں ہرشخص تنہا ہے۔ کوئی کسی کا ہم سفر ہے اور نہ چارہ گر۔ ایک عرصہ ہو گیا ہے کہ درونِ ذات میں خامشی ہی خامشی ہے۔ ذات کے سمندر میں کوئی مدوجزر نہیں ہے۔ شبیر ناقدؔ حیات کو بزمِ طرب نہیں سمجھتے۔ اگرچہ ان کے نزدیک زندگی خدا کی نعمت ہے اور یہ کوئی سزا نہیں ہے جسے ایک سزا کے طور پر گزارا جائے۔ یہاں وہ زندگی کے بارے اپنا ذاتی تجربہ بھی بیان کرتے ہیں کہ میں اپنی زندگی سے اس لیے بیزار ہوں کہ مجھے اپنی زندگی میں روشنی سے بھی اندھیرا ملا ہے۔ اپنے اسی تجربے کی روشنی میں وہ یہ اصول مرتب کرتے ہیں کہ بربادیوں کا سوگ منانا فضول ہے۔ چاہے اس میں مسافت کی دھول ہی کیوں نہ بھری ہوئی ہو۔ ان کا یہ اصول ان کی کس قدر درست اور مثبت سوچ کا عکاس ہے۔ میں کہتا ہوں کہ آج دھرتی کے ہر نوجوان کو شبیر ناقدؔ کی مثبت فکر کی پیروی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
شبیر ناقدؔ کے مجموعہ ءِ کلام میں جہاں یہ ساری موجود ہیں، گفتنی ، ناگفتنی، یا بیتی، ان بیتی جنہیں میں نے لکھا یا پھر ان کے کلام کے وہ گوشے جنہیں تنگ دامانیءِ قرطاس کے باعث زیرِ بحث نہ لا سکا، وہاں ایک خاص موضوع ایسا بھی ہے جس سے صرفِ نظر کیے بغیر میں اپنا مضمون مکمل نہیں کر سکتا۔ وہ ان کی وہ خوبصورت تمنائیں اور حسرتیں ہیں جو نہ صرف ان کے دل و دماغ کو معطر کیے ہوئے ہیں بلکہ ان کی خوشبوئیں اقصائے عالم میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کے ہونٹوں سے بہترین پیرائیہ ءِ اظہار میں آتی ہیں تو فی الفور چہار دانگ ِ عالم میں قبولیت و پذیرائی کا شرف حاصل کر لیتی ہیں۔ ان کی یہ حسرتیں اقوامِ متحدہ سے لے کر عام انسان تک ہر ایک کی تمنائوں کا روپ دھار چکی ہیں اور وہ حسرتیں یہ ہیں کہ سارا سنسار جنت سماں ہو، کسی کے لبوں پر نہ آہ و فغاں ہو، زمین پر نہ اب کوئی مجبور ٹھہرے، کوئی نہ مظلوم خاموش ٹھہرے،سکوں کا ہمیشہ یہاں راج ٹھہرے، کوئی کسی کا نہ محتاج ٹھہرے۔۔۔
شکیل احمد



ہمہ اوست

مزاجوں میں رویوں میں
گلوں میں اور کلیوں میں
چمن کے مرغزاروں میں
خیابانوں میں گلیوں میں
بنوں میں ریگزاروں میں
بہاروں کے نظاروں میں
زمینوں آسمانوں میں
درختوں میں ستاروں میں
مساجد میں، معابد میں
زمانے کی ہر اک شئے میں
فقط آیا نظر تو ہی
مرے مالک سوا تیرے
نہیں کوئی نظر آیا



نہ کر پائے مجھ کو مصائب پریشاں
ہوں اس حال اپنے پہ میں خود بھی حیراں

جفائوں سے تیری بھی ہے پیار مجھ کو
تو اپنے کیے پہ ہو کیوں کر پشیماں؟

اگرچہ بہت کوششیں میں نے کی ہیں
رہا عمر بھر میں مسائل میں غلطاں

سدا جس سے کرتا رہا ہوں وفائیں
ہمیشہ وہی مجھ سے رہتا ہے نالاں

خدا جانے تعبیر کیا اس کی نکلے؟
کہ خوابوں میں دیکھے ہیں ناقِدؔ پرستاں



نہ بن جائو تم وحشتوں کا نشانہ
ہے ظالم بہت وقت کا تازیانہ

مجھے چین کیسے بھلا ہو میسر؟
بمشکل ملا ہے مجھے آب و دانہ

مری آتما سخت گھائل رہی ہے
غموں سے عبارت ہے میرا فسانہ

ہے رہنِ الم زندگی میری ساری
نہیں میرے لب پر خوشی کا ترانہ

مرا دل ہے معمورِ اخلاص ناقِدؔ
ملی ہے طبیعت مجھے عاشقانہ



رہی راحتِ قرب کی مجھ کو حسرت
مگر مہ جبینوں سے پائی ہے نفرت

جفائوں سے مجھ کو نہیں کوئی نسبت
کہ برتی نہیں ہے کسی سے بغاوت

سدا میں نے بانٹے ہیں چاہت کے تحفے
زمانے سے پائی ہے پھر بھی کدورت

مجھے الفتیں ہی ودیعت ہوئی ہیں
بھلا ہو کسی سے مجھے کیوں عداوت؟

یوں صدمات پیہم مجھے کیوں ملے ہیں؟
بہت مجھ کو ناقِدؔ ہے قسمت پہ حیرت



یہ عشق ہے جو میری رگ رگ میں سمایا ہے
اس نے میرے اندر کے شاعر کو جگایا ہے
سوچا ہے سدا تیری تخلیق کے بارے میں
خلاق نے بھی تجھ کو خوبی سے بنایا ہے
مانا کہ نہیں تیرے کردار سے کچھ نسبت
لیکن تیری چاہت کو پہلو میں سجایا ہے
گو پاس نہیں میرے الفاظ محبت کے
اک تیرا سراپا ہے جو دل میں بٹھایا ہے
جاگیرِ محبت ہے تیرا یہ وفا نامہ
اخلاص کا حق تو نے کیا خوب نبھایا ہے
دائم ہو فراوانی اس جذبہءِ الفت میں
نازاں ہوں مرے ساتھی میں نے تجھے پایا ہے
آ جا کہ تجھے لے لوں الفت بھری بانہوں میں
ناقِدؔ تجھے دنیا نے دن رات ستایا ہے



یہ غربت کے مارے
سدا لیں سہارے
نہ دے پائے خوشیاں
وہ ساتھی ہمارے
مرے پاس آئی
وہ مکھڑا نکھارے
ہو کیا بیر تم سے؟
کہ تم ہو ہمارے
معطر معنبر
وہ زلفیں سنوارے
یہ خفگی ہے کیسی؟
کہو میرے پیارے
محبت میں ناقِدؔ
نے دن ہیں گزارے



کوئی باوفا ہم سفر چاہیے اب
کوئی چارہ جو چارہ گر چاہیے اب

سدا جس میں شاداں و فرحاں رہوں میں
مجھے پرسکوں ایسا گھر چاہیے اب

جسے نفرتوں سے عداوت رہی ہو
کوئی ایسا نورِ نظر چاہیے اب

خلوص و مروت فراواں ہو جس میں
مجھے وہ سماں وہ نگر چاہیے اب

دیے مجھ کو دھوکے سدا دوستوں نے
مجھے اُن سے ناقِدؔ حذر چاہیے اب



المیہ

ہوئے زمانے میں قتل میرے لطیف جذبے
ہوئی ہے پیہم انا بھی مجروح اس جہاں میں
وفا بھی مجروح اس جہاں میں
مری تمنا بھی مضطرب ہے
کہ میرا جیون ہے کربِ پیہم
لگی ہے دل پہ بھی ضربِ پیہم
نہ زندگی مجھ کو راس آئی
لبوں پہ ہر دم رہی دہائی
کبھی مسرت نہ پاس آئی


روپ کی دیوی

شام کی کالی چادر زلفیں
نین شرابی مست کٹورے
ہونٹ ہلال سے ملتے جلتے
گورا گورا مکھڑا تیرا
نور سے ترشے تیرے اعضا
چال بھی ہے متوالی تیری
تیرا اک اک روپ سلونا
تیرا ہر انداز شرابی


صورت حسیں ہے تیری
روشن جبیں ہے تیری
ہاں بھی تری ہے پیاری
دل کش نہیں ہے تیری


شانتی

یہ آشا کہ ہر سو سدا شانتی ہو
یہ سنسار سارا بھی جنت سماں ہو
لبوں پہ کسی کے نہ آہ و فغاں ہو
حزیں جو ہیں ان کی سدا یاوری ہو
زمیں پر نہ پھر کوئی مجبور ٹھہرے
نہ کوئی بھی مظلوم خاموش ٹھہرے
سکوں کا ہمیشہ یہاں راج ٹھہرے
نہ کوئی کسی کا بھی محتاج ٹھہرے


دکھائی کچھ نہیں دیتا
سنائی کچھ نہیں دیتا
میں اک ایسے جہاں میں ہوں
سجھائی کچھ نہیں دیتا


خواب گوں

مری تم سے خوابوں میں شادی ہوئی تھی
یہ تھی خانہ آبادی لمحوں کی خاطر
مگر بعد میں ایسا طوفان آیا
پلٹ دی مری زیست کی جس نے کایا
ملن ہو نہ پایا کبھی تیرا میرا
نہ دیکھا کبھی زندگی میں سویرا
پریشاں ہوں میں بھی مری جان تجھ بن
کہ رسوا ہوئی ہے تری آن مجھ بن
مرے من میں تازہ ہیں یادیں تری اب
ترے نام ہے زندگانی مری اب
تری یاد کے جی رہا ہوں سہارے
کرے کاش رب دو ر دکھ جو ہیں سارے


دور افتادگی

مجھے یاد اک منزل گم شدہ کی
شب و روز رکھتی ہے بے تاب و بے کل
سکوں اس لیے پاس میرے نہیں ہے
خدا جانے کس طور بیتے گا جیون؟
گراں ہر گھڑی میرے اوپر رہی ہے
غموں سے پریشاں مری زندگی ہے
سبب بے قراری کا اک بے کسی ہے
کسی کی نہ اب معتبر دوستی ہے
قلم ہاتھ میں ہے فقط شاعری ہے


مقدر نے وہ دن ہمیں ہیں دکھائے
کہ ذلت کا یہ کھیل دیکھا نہ جائے
لیا تھا جنم روتے روتے جہاں میں
چلے تیری دنیا سے سب کچھ لٹائے
فسانہ ہے یہ زندگانی کا یارو
کہ اک درد جائے نیا درد آئے
حزیں شخص کی زندگانی عجب ہے
کہ خود روئے اور دوسروں کو رُلائے
تمہیں مجھ کو تسلیم کرنا پڑے گا
غزل میں مری ہیں سماں سب سمائے
نہیں میرے بس میں کہ انکار کر دوں
میں جاتا ہوں جس وقت بھی ہو بلائے
مرے دل میں ہر دم یہ حسرت رہی ہے
وہ دلبر مرے شعر خود گنگنائے
مجھے تجھ پہ کوئی بھروسا نہیں ہے
ترے عہد و پیماں کئی آزمائے
سخن ہے یہ اپنا یہی شاعری ہے
سدا گیت ناقِدؔ الم کے ہی گائے



ایک دن وہ میرؔ کر دے گی مجھے
میں ہوں رانجھن ہیر کر دے گی مجھے

زندہ لاشے کی طرح اپنی حیات
صورتِ تصویر کر دے گی مجھے

انت ہو گا اپنی چاہت کا یہی
کشتہءِ تقدیر کر دے گی مجھے

ہے مرا جوشِ محبت بے بہا
عاشقی شبیرؑ کر دے گی مجھے

ڈھونڈتا پھرتا ہوں میں ناقِدؔ اُسے
یہ طلب رہ گیر کر دے گی مجھے



شکایت مجھے زندگانی سے ہے
فزوں میرا دکھ میرؔ و فانیؔ سے ہے

جفا سے تری کیا غرض ہے مجھے؟
تعلق تری مہربانی سے ہے

مری روح پر کر رہے ہیں ستم
کہ شکوہ مری بے زبانی سے ہے

جفا تیری سوغات میری بنی
مجھے پیار تیری نشانی سے ہے

دیا اس نے ہے ضعفِ پیری مجھے
گلہ مجھ کو ناقِدؔ جوانی سے ہے



گریزاں ہوں میں تیری نفرت سے جاناں
مجھے ہے غرض تیری چاہت سے جاناں

مری زندگی شوق سے ہے عبارت
مجھے عشق تیری صباحت سے جاناں

مری حسن منزل مری حسن پوجا
مجھے ہے کدورت قباحت سے جاناں

سدا میرا جیون ہے محتاج گزرا
کٹی زندگانی نقاہت سے جاناں

ترے دکھ میں بے حال ہے تیرا ناقِدؔ
نہیں کم یہ صدمہ قیامت سے جاناں



خوشی کا کوئی تو سماں بھی نہیں ہے
کوئی دل میں خوش کن گماں بھی نہیں ہے

سدا جو الاپے مسرت کے نغمے
مرے پاس ایسی زباں بھی نہیں ہے

جہاں بے حسی نے بنایا ہے مسکن
وہاں کوئی طرزِ فغاں بھی نہیں ہے

مسلسل جواں جس کے جذبے رہے ہوں
کوئی ایسا شاہیں جواں بھی نہیں ہے

ستاروں سے برتر تری خاکِ پا ہے
مقابل ترے کہکشاں بھی نہیں ہے

کئی بھید پنہاں سخن میں ہیں ناقِدؔ
مری بات اتنی عیاں بھی نہیں ہے


سرگزشت

تری ایک شاعر سے شادی ہوئی تھی
اُسے تو نے چاہت کے لائق نہ جانا
یہ تیرا مقدر تری بدنصیبی
ہوئیں تجھ سے برباد خوشیاں بھی اپنی
اُسے بھی تو جینے کے قابل نہ چھوڑا
ترے بھی نصیبوں میں رسوائی آئی
ہیں دن اس کے سنسان ، راتیں بھی ویراں
مگر وقت گزرا نہیں آتا واپس
بہت دور اب جا چکے ہیں وہ لمحے
حقیقت میں اب تُو اسے کھو چکی ہے
یہ سچ ہے کہ وہ بھی تجھے کھو چکا ہے
بہم ہونا اب غیر ممکن ہے باہم
مسافر مسافت پہ اب چل پڑا ہے


لازم و ملزوم

میری آشا
میری رادھا
میری پریم کہانی تو ہے
میری شوخ جوانی تو ہے
تو نے بخشیں مست بہاریں
تو نے کیا احسان کیے ہیں
راحت لمحے دان کیے ہیں
تجھ بن جینا اب مشکل ہے
تجھ کو اب میں بھول نہ پائوں
ہر منزل پہ تجھ کو پائوں
تو ہے میری آنکھ کا تارا
تو ہے من آکاش کا چندا
جیون میرا خوب سنوارا
تو میری خوابوں کی بستی
میری چاہت میری ہستی


زنجیر
(اپنی شادی کے پس منظر میں)

حشر ساماں تھا سولہ دسمبر کا دن
میرے پائوں میں زنجیر ڈالی گئی
پہلے زنجیر سےناشنا سا تھا میں
اس سے پہلے مرا دل بہت شاد تھا
اپنی دنیا کا اک مردِ آزاد تھا
اب وہ آوارگی کھینچتی ہے مجھے
پر یہ زنجیر ہے مجھ کو جکڑے ہوئے
رہ گئے تشنہ جتنے تھے سپنے مرے
کھو گئے مجھ سے وہ جو تھے اپنے مرے
نامکمل مرے سب مقاصد رہے
ہے بپا ایک ہلچل مرے ذہن میں
اک جل تھل سا اشکوں سے آنکھوں میں ہے
اس لیے مضطرب اور بے چین ہوں



یہ تیری محبت کی تاثیر ہے
مری ذات الفت کی تفسیر ہے

رلاتا ہے میرا مقدر مجھے
بہت ہی بری میری تقدیر ہے

ہے جاگیر میری محبت کی وہ
میں رانجھن ہوں اس کا مری ہیر ہے

کہانی وفا کی مجھے یاد ہے
تصور میں اک شوخ تصویر ہے

فقط پیار ناقِدؔ ہے تجھ سے مجھے
غزل میں یہی راز تحریر ہے



یہ انکار میرا بھی ہے پیار جاناں
محبت کا ہے اس میں اظہار جاناں

مری چاہتوں کا ہے انداز طرفہ
سمجھ میرا انکار ، اقرار جاناں

بہت ضبط الفت میں میں نے کیا ہے
نہیں میرا انکار ، انکار جاناں

مجھے غور سے یوں نہ تو دیکھ دلبر
تری چشمِ نرگس ہے تلوار جاناں

نہ بھولوں گا میں عمر بھر یہ نوازش
اگر پاس آ جائو اک بار جاناں

یہ دنیا تو ناقِدؔ ہے مطلب کی دنیا
فقط میں ہی تیرا ہوں غم خوار جاناں



شب و روز تڑپا ہوں فرقت میں تیری
پریشاں رہا ہوں محبت میں تیری

مجھے تیرے بندوں نے دن رات لوٹا
میں دوں گا دہائی قیامت میں تیری

نہ پایا کبھی بھی ترا قرب میں نے
کٹی زندگی میری حسرت میں تیری

کیا یاد میں نے تجھے خلوتوں میں
بھلایا ہے سب کچھ رفاقت میں تیری

ہے تفسیرِ آلام ناقِدؔ کا جیون
بڑے دکھ اٹھائے ہیں چاہت میں تیری

بے بسی

رونا چاہوں رو نہ پائوں
سونا چاہوں سو نہ پائوں

پانا چاہوں پا نہیں سکتا
کھونا چاہوں کھو نہیں سکتا
مجھ سے کچھ بھی ہو نہیں سکتا

میں بے بس مجبور ہوں کتنا
اپنے من سے دور ہوں کتنا


تری جب یاد آتی ہے
تو تجھ کو کال کرتے ہیں
ہمیں تجھ سے محبت ہے
سجن ہم تجھ پہ مرتے ہیں


نذرِ خیال
(ڈاکٹر خیال امروہوی کے پس منظر میں)

نہیں شاعری تیری فرضی کہانی
سدا تو نے کی ہے حقیقت نگاری
نہیں قول تیرا صداقت سے عاری
ہے فن کی ریاضت میں ہر شب گزاری
زمانے کے معیار سے ماورا ہے
سمجھ یہ کسی کو نہیں ہے ، یہ کیا ہے؟
کوئی کیسے تیرے فسانے کو سمجھے
سبھی زلف کے پیچ و خم میں ہیں الجھے
سدا کڑھتا رہتا تھا تو کج روی پر
اسی فکر کی چھاپ تھی زندگی پر
کسی دن جہاں کو یہ معلوم ہو گا
امر ہونا پھر تیرا مقسوم ہو گا



بے وفائی کی کچھ انتہا ہوتی ہے
دل ربائی کی کچھ انتہا ہوتی ہے

کیوں زمانے نے یوں مجھ کو رسوا کیا ؟
جگ ہنسائی کی کچھ انتہا ہوتی ہے

مار ڈالا ہے کیوں خود کو تو نے یونہی
پارسائی کی کچھ انتہا ہوتی ہے

سارے عالم سے کیوں دوستی تو نے کی
آشنائی کی کچھ انتہا ہوتی ہے

تو نے خود کو ہے ناقِدؔ فرشتہ کہا
خود ستائی کی کچھ انتہا ہوتی ہے



خود فریبی تو اک اذیت ہے
جان لیوا سی اک مصیبت ہے

غم نہیں ہاتھ ہے اگر خالی
پاس اپنے زرِ فراست ہے

کیا بنے اس کی اہلِ دنیا سے؟
جس کے پہلو میں گنجِ حکمت ہے

کیا ضرورت اسے کسی شئے کی؟
جس کے حصے میں آئی شہرت ہے

ہم تو ناقِدؔ یہی سمجھ پائے
زندگی اک فریب صورت ہے



رتجگوں کے عذاب دیکھے ہیں
رنج و غم کے نصاب دیکھے ہیں

جن سے منسوب جنسِ عصیاں تھی
آئے دن بے حجاب دیکھے ہیں

جن سے انسانیت لرزتی تھی
ایسے عالی جناب دیکھے ہیں

تنگ دستی کبھی نہیں دیکھی
غم تو یوں بے حساب دیکھے ہیں

جن کو ناقِدؔ بھلا نہ پائیں گے
یار وہ لاجواب دیکھے ہیں


حقیقتِ حسن

حُسن محصور ہے لاکھ پردوں میں
حُسن جلوہ گری پہ بھی آمادہ ہے
حُسن جلوہ نما، حُسن کے دم سے دنیا میں محشر بپا
اُف قیامت ہیں یہ حُسن کی فتنہ سامانیاں
اصل میں حُسن ہے زندگی، روشنی
حُسن ہی کی بدولت ہوئی شاعری
حُسن تمکین ہے، حُسن ہے آگہی
اس کے باوصف اس میں ہے فتنہ گری
حُسن کے دم قدم سے غمِ عاشقی
آفتِ جاں یہی حُسن ہے واقعی

رازِ دوام

مشقتوں کا یہی ہے حاصل
کہ جسم اپنا ہوا ہے کندن
ملا ہے چھٹکارا کاہلی سے
نجات پائی ہے غفلتوں سے
کٹھن ملی جو حیات مجھ کو
نہ پاس آئی مرے سہولت
جوانی دشواریوں میں کاٹی
یہی تو جیون کی ہے نشانی
قلم کو میرے ملی روانی
حیات میری بنی دوامی


لوگ

بھوک سے بے کل
سہمے سہمےپھرتے ہیں لوگ
خود سے بھی ڈرتے ہیں لوگ


معیار

میں جو بھی بات لکھتا ہوں
جہاں کے وہ منافی ہے
بہت ہی اختلافی ہے
زمانہ مجھ سے یہ چاہے
کچھ ایسی باتیں لکھ جائوں
پسند آئیں جو دنیا کو
سو ایسی میں نے لکھی ہیں
میں ایسا لکھ بھی سکتا ہوں
مجھے روکے مگر معیار میرا
مجھے روکے میرا منصب

فگار جذبے

بھلا کیسے جیون کی خوشیاں سمیٹوں؟
کہ ہستی میری نذر ہے مفلسی کی
مسرت ہے ارزاں تو غم بھی ہے سستا
مقدر بنے اب کے آلام اپنے
مسرت کی خواہش میں غم پا رہا ہوں
کہ راحت کے بدلے ستم پا رہا ہوں


حق پرستی

مجھے تو سچ کا ہے پاس ہر دم
کروں میں اعراض اس سے کیسے
مری حقائق سے دوستی ہے
بنی صداقت مرا وطیرہ
مجھے خموشی نہ راس آئی
مرا تکلم ہی جرم ٹھہرا

بے یارو مددگار

ہزیمتوں کی بھیڑ میں
بلائیں ہم رکاب ہیں
غم و الم کا ساتھ ہے
یہ بے کلی بھی زہر ہے
سو زندگی بھی کرب ہے
نہ ہم نوا مرا کوئی
نہ خیر خواہ مرا کوئی


اُف ری جوانی!

جوانی تو ایک نعمتِ بے بدل ہے
مرے پاس آئی لیے ضعفِ پیری
رہا اجنبی میں تصور سے اس کے
مری ذات سے یہ شناسا نہیں ہے
حقیقت ہے کوئی فسانہ نہیں ہے
مگریہ کسی نے بھی مانا نہیں ہے

احساسِ خلوت

بے کسی کے روپ میں
درد و غم کے درمیاں
تم وہاں ہو میں یہاں
غم یہاں ہیں دکھ وہاں
اک انوکھی داستاں
بے بسی کے طور میں
بے حسی کے دور میں
تم کہاں ہو؟ میں کہاں؟


حقیقی جزا

زمانے میں ناقِدؔ صلہ کچھ نہیں ہے
مقدر سے مجھ کو گلہ کچھ نہیں ہے
جزا آخرت کی حقیقی جزا ہے

حیاتِ سوزاں

میں سوچوں بھی تو کیا سوچوں؟
مری سوچوں پہ پہرے ہیں
میں دیکھوں بھی تو کیا دیکھوں؟
مرے ہر سو اندھیرے ہیں
میں کچھ بھی کہہ نہیں سکتا
میں کچھ بھی کر نہیں سکتا
میں ڈھب سے جی نہیں سکتا
میں ڈھب سے مر نہیں سکتا


ایک یاد

یاد ہے مجھ کو ایک حسیں
مجھ سے پیار جو کرتی تھی
دل اور جان سے مرتی تھی
پر اظہار سے ڈرتی تھی
چاہت کا دم بھرتی تھی

گریزاں

محبتوں سے گریز چاہا
مگر میں دامن بچا نہ پایا
مری خرد پہ ہے قلب حاوی
رہی ہے ان میں بھی جنگ جاری
ہے سود عنقا زیاں ہے بھاری
جو اب کے جکڑے مجھے ہے الفت
فرار اس سے نہیں ہے ممکن


روگی

مجھے زندگی نے ہے اک روگ بخشا
مرا تن ہے زخمی مرا من بھی گھائل
نہ جینے کی خواہش ، ہوں مرنے پہ مائل
ملی عمر ساری مجھے بے قراری
سدا سکھ سکوں کے تصور سے عاری

دبائو

ضرورتیں بھی عجیب ہیں کچھ
ضرورتوں کو ہوں میں ضرورت
انہیں دبائوں مجھے دبائیں
مفر کی کوئی نہیں ہے صورت
میں ان پہ حاوی یہ مجھ پہ حاوی
ہے سرد سی ایک جنگ جاری
اسی کو کہتے ہیں زندگی سب


فکرِ جاوداں

میں شاہکار تخلیق کرتا رہوں گا
مرے پاس بھاشا ہے فن کی نرالی
مزین ہیں افکار ندرت سے میرے
زمانے مری فکر میں ہیں سمائے
جہاں مجھ کو ہرگز مٹا بھی نہ پائے

وبالِ جاں

خرد پاس آئی سکوں کھو گیا
گرانی سی رہتی ہے ہر وقت طاری
تمنا نہ حسرت فقط کرب ہے اک
قیامت ہوئیں زندگانی کی گھڑیاں
کسی سے نہ الفت کسی سے نہ قربت
کسی سے نہ نفرت نہ ہے کوئی دشمن
نہ ہے کوئی ہم دم نہ ہے کوئی مونس
مری بے کلی ہے فقط میری دشمن


کشاکشِ ہستی

نہ ہے مسافت نہ راستہ ہے
نہ کوئی منزل نہ کوئی مقصد
بپا ہے جیون میں کشمکش سی

کچھ تو حاصل بھی ہو

رات بھر نیند آئی نہیں ہے مجھے
چین جاگا نہیں اور میں سو یا نہیں
جانِ من اس قدر بس بتا دو مجھے
کیا عبث ہیں مری شب کی بے تابیاں؟
کیا عبث ہیں مری شب کی بیداریاں؟
کوئی حاصل مری بے کلی کا بھی ہے!
مضطرب زندگی کا دلاسا بھی ہے!


محرومی

دن عید کا ہے پر
یہ دل اداس ہے
صدیوں کی بھوک ہے
جنموں کی پیاس ہے

روگ انوکھا

ہر آہٹ پہ آس لگائے
بیٹھا رہتا ہوں میں اکثر
اس انداز میں جیون بیتے
اس انداز میں سپنے دیکھوں
بیگانے اور اپنے دیکھوں
ایک انوکھا روگ ملا ہے
میرا ہر اک زخم ہرا ہے


شرطِ الفت

کسی سے محبت نہیں ہے مجھے
فقط پیار سے پیار ہے دوستو
سمائی ہے جس میں محبت کی دولت
وہ انسان جس کو ہے نفرت سے نفرت
مجھے ایسے ہر آدمی سے ہے الفت

اعراض

صباحت کے نشے میں وہ ہمیں بھولے
اگرچہ دوستانہ تو پرانا تھا
ہمیں وہ یاد رکھتے کیا
کہ ان کی دسترس میں تھیں
زمانے بھرکی سب خوشیاں
ہمارے پاس تو غم کا فسانہ تھا
ہمیں معلوم تھا پہلے
انہوں نے یوں بھلانا تھا


کثرتِ تحریر

بہت دیوان میرے ہیں
کہ جو لکھنا تھا صدیوں میں
وہ دو عشروں میں لکھا ہے

مسائل

جفا کا جنہیں نام تم دے رہی ہو
حقیقت میں وہ تو مسائل ہیں میرے
تمہیں کیا ہے ادراک ان الجھنوں کا
جفائوں کا شکوہ تو تم کر رہی ہو
نہیں پاس میری وفا کا ذرا بھی
تمہیں فہم و ادراک اتنا عطا ہو
مجھے سمجھو اور میری مجبوریاں بھی


سبقت

جب وہ آن کرے گی نمبر
پہلی کال مری ہی ہو گی
پہلا میسیج میرا ہو گا

عکاسی

کومل ہے آواز تمہاری
سو دلکش ہے یاد تمہاری
خوب ہیں تیرے عشوے غمزے
تجھ پر عاشق حسن کی دیوی
پیار ترا ہر شئے سے بڑھ کر
غصہ تیرا برق سماں ہے
یا پھر دو دھاری تلوار


نصیحت آموز

بہت ہیں یہ جابر بہت ہیں ستم گر
مری جان بچ کے رقیبوں سے رہنا
یہ تیرے بھی دشمن ہیں میرے بھی دشمن
ہمیں ان سے محتاط رہنا پڑے گا

فکرِ اولاد

مرے کتنے بچے ہیں بھوکے پیاسے؟
نہ ماں کی ہے ممتا نہ شفقت ہے پدری
انہیں میں سنبھالوں کہ خود کو سنبھالوں
یہی مسئلہ اب پریشاں کیے ہے
اسی کرب نے مجھ کو بے کل کیا ہے
مرا حال بھی اب کے ابتر ہوا ہے


کربِ فکر

مری خرد ہے مرا جہنم
ہے فکر میرے لیے قیامت
ہیں میری سانسیں مری اذیت
مرے لیے تو وجود میرا وبال بھی ہے
بوجھ ہوں گر میں اپنی خاطر
زمانہ کیسے نہ سمجھے مجھ کو

وارننگ

جسے تم پیار کرتی ہو
زمانے بھر کا جھوٹا ہے
نہایت وہ فراڈی ہے
بڑی اس میں ہے مکاری
تمہیں رسوا وہ کر دے گا
تمہیں بدنام کر دے گا
تم اس کے جال سے نکلو
تم اس کے حال سے نکلو
اگر فردا بچانا ہے


فرمانِ خدا

انساں سے جو پیار کرے گا
اس سے پیار کروں گا میں بھی
یہ فرمایا میرے رب نے

نارسائی

مری دسترس میں مسرت نہیں ہے
مری دسترس میں تو محرومیاں ہیں
مری دسترس میں تو ہے دشتِ غربت
مری دسترس میں تو تنہائیاں ہیں
مری دسترس میں تو رسوائیاں ہیں
مری دسترس میں سکوں بھی نہیں ہے
مری دسترس میں زمانے کے غم ہیں
مری دسترس میں تو راحت نہیں ہے
مری دسترس میں تو کچھ بھی نہیں ہے


مساوات

نہیں فرق اس سے پڑتا کچھ
کہ بیٹی ہو یا بیٹا ہو
ہے نعمت رب کی بیٹا بھی
تو بیٹی رب کی رحمت ہے

وجہِ محرومی

نئے سپنے میں کیا دیکھوں؟
مجھے خائف سا رکھتی ہے مری غربت
قدم روکے ہوئے ہیں مسئلے میرے
مری خاطر ہے ناکافی یہاں ہر پل
مری غربت نے چھینی ہیں مری خوشیاں
مری قسمت ہے محرومی


لاچاری

مجھے جو سمجھتی ہے تو بے مروت
بخیلی کا بھی مجھ کو دیتی ہےطعنہ
دیا ہے لقب تو نے کم ظرف کا بھی
نہیں جانتی میری مجبوریاں ہیں
مری جاں ترا دوش اس میں نہیں ہے

مایہءِ افسوس

میں اس قوم کا ہوں سرمایا
جس نے میری قدر نہ جانی
پل پل مجھ کو دکھ بخشا ہے
حال مرا بے حال ہوا ہے
سو سالوں کا سال ہوا ہے
چین سکوں کا کال ہوا ہے
سانس مرا سکرات بنا ہے
دن تاریک سی رات ہوا ہے
فکر مجھے اس امت کی ہے
خود جو اپنا مال گنوا دے


فرطِ غم

ہر قصہ ہے لکھنے والا
میں اب کون سا قصہ لکھوں؟
اس دنیا میں درد بہت ہے
ان میں کون سا حصہ لکھوں؟

آموزش

مری یاد آئے اگر جانِ جاناں
بہا کر دو آنسو اسے ٹال دینا
نہ ساتھی بنانا اسے زندگی کا
بنایا جدائی کو گر روگ تو نے
نہ آئیں گی خوشیاں کبھی لوٹ کر پھر
سو محرومیاں پھر مقدر بنیں گی
خدا را نہ جیون کوکرنا اجیرن


سادگی

ثمر سادگی کا مجھے یہ ملا ہے
بہت سے مسائل سے میں ہوں مبرا
ملی ہیں مجھے سادگی کی بدولت
یہ جیون میں میرے جو آسانیاں ہیں

التماسِ مروت

خدارا نہ چھینو مری نیند مجھ سے
اگر ہو سکے رتجگے مجھ سے لے لو
جو ممکن ہو مت کرب میرا بڑھائو
نہ سکرات کا روپ سانسوں کو بخشو
کہ میں چند سانسوں کا مہماں یہاں ہوں
کرو تم نہ مہمان کی یوں تواضع
ہوں اہلِ مروت، مروت کرو تم


منفرد

اک جیسی کتنی نظمیں ہیں
اک جیسے کتنے قصے ہیں
میں نے اب تک جو لکھے ہیں
لیکن سب کا رنگ ہے اپنا
سب کا اک آہنگ ہے اپنا

عظمتِ عمل

اب وقت نہیں ہے سونے کا
ہے وقت یہی کچھ کرنے کا
جو سوتے ہیں وہ کھوتے ہیں
جو جاگے ہیں وہ آگے ہیں


جاناں سے

اے پیکرِ صباحت
صورت حسیں ہے تیری
سارا بدن ہے شیشہ
ابرو کمان تیرے
آنکھیں ہیں مثلِ آہو
مستانی چال تیری

حیرت و حسرت

لوگ مجھے کہتے رہتے ہیں
کیوں تم اتنا لکھتے ہو؟
میں کہتا ہوں ان سے اکثر
کیا لکھا ہے میں نے اب تک؟


ان کہی

تو اکثر بزی ہوتی ہے
میں اکثر کال کرتا ہوں
میں جاناں سب سمجھتا ہوں
مگر میں رہ نہیں سکتا
جو تجھ سے کہنا ہوتا ہے
وہ تجھ سے کہہ نہیں سکتا

شکر گزاری

اُڑائی مری دونوں ہاتھوں سے دولت
مگر پھر بھی تو مجھ سے شکوہ کناں ہے
کہ میں نے تجھے کچھ دیا ہی نہیں ہے
مری جان کچھ شکر بھی تو ہے لازم
نہیں انت کوئی بھی حرص و ہوس کا


نوشتنی

قلم رواں ہے مثالِ دریا
ورق نہ دے پائیں ساتھ میرا
خیال چھوڑوں تو کون سا میں؟
رقم کروں تو کسے کروں میں؟
بہت ہی مشکل ہے مسئلہ یہ
سو فیصلہ میں نے کر لیا ہے
فقط اسے ہی رقم کروں گا
جو معتبر ہو گا سب سے بڑھ کر

آرزو

یہ سارا جہاں ہے گلستان میرا
چمن کی مجھے ہر کلی سے ہے الفت
خزاں اس میں پل بھر گوارا نہیں ہے
بہاریں ہمیشہ رہیں اس چمن میں
ہمیشہ کھلیں اس میں خوش رنگ کلیاں
مہکتا رہے میرا گلشن ہمیشہ


جرمِ شرافت

مرا خون ارزاں ہوا کچھ ہے ایسا
اسے چوستا ہے جہاں سیر ہو کر
میں اب اس قدر بے ضرر ہو گیا ہوں
ذرا بھی کسی کو نہیں خوف میرا
ذرا بھی کسی کو نہیں فکر میری
نہیں چوکتا کوئی دل توڑنے سے
مجھے سامنا ہے حقارت کا ہر دم


ہفت روزہ دھوم
(نعت نمبر کے پس منظر میں)

خوب ہے یہ نعت نمبر دھوم ہے جس کی ردیف
اس میں گلہائے عقیدت مختلف شعرا کے ہیں
ابن ِ اے ڈی شیخ کا ہے شاہکار
نام جس کا ایس ایم آصف بھی یہاں مرقوم ہے
جو تاثر بھی ہے اس کا خوب ہے
کاوشیں منظوم اس کا جزو ہیں
فکر و فن کی اس میں ہیں نیرنگیاں
اک اضافہ دلنشیں ہے یہ جہانِ نعت میں
معتبر جس کا حوالہ ایس ایم آصف خان ہیں



کس اذیت سے آج گزرا ہوں؟
تیرا ہوتے ہوئے بھی تنہا ہوں

زندگی پر ہے بوجھ تنہائی
انجمن کے لیے ترستا ہوں

میں تمہارا ہی فکر مند رہا
مجھ کو چھوڑو جہاں میں رسوا ہوں

کون رہتا ہے عمر بھر تنہا
اک زمانے سے میں اکیلا ہوں

ہجر ناقِدؔ ہے میرا طولانی
یاد کر کے تجھے تڑپتا ہوں



ستم زندگی میں بہت سے سہے ہیں
مجھے میرے یاروں نے دھوکے دیے ہیں

نہیں اب کے ممکن مری رستگاری
کہ صیاد نے جال ہر سو بنے ہیں

بھلا کیسے آئے سکوں کا تصور؟
مسیحا بھی اب کے ستم گر بنے ہیں

نہیں میرا نغمہ محبت سے عاری
کہ الفت بھرے شعر میں نے کہے ہیں

کروں کیسے خوشیوں کی امید ناقِدؔ؟
جہاں کے مجھے سارے دکھ مل گئے ہیں



میں بے چینی تیری بڑھاتا رہوں گا
تجھے شعر اپنے سناتا رہوں گا
پریشاں رہوں گا پریشاں کروں گا
دلِ مضطرب کو جلاتا رہوں گا
بڑی آزمائش سے گزرا ہوں خود بھی
تجھے میں سدا آزماتا رہوں گا
کرے نہ کرے کوئی شنوائی میری
میں زنجیر پیہم ہلاتا رہوں گا
لبوں پر ترا نام آئے نہ آئے
مگر دل میں تجھ کو بساتا رہوں گا
نہ ہو پائیں گے سرد جذبے ذرا بھی
محبت کا بربط بجاتا رہوں گا
رہو نہ رہو میری قربت میں ناقِدؔ
مگر تم کو پیہم بلاتا رہوں گا



سدا پیار کی بات کیسے کروں اب؟
کہ مجھ پر نہیں ہے جنوں کا فسوں اب

مرا شعر ہے آگہی سے عبارت
میں کیسے غزل اس سے ہٹ کر کہوں اب؟

مرا درک ہی کرب ٹھہرا ہے میرا
ہوا اس لیے حال میرا زبوں اب

حقیقت سے نسبت جنہیں ہو نہ کوئی
بھلا کیوں میں ایسے فسانے لکھوں اب؟

صداقت ہی خوبی مری ذات کی ہے
اسے ڈر کے دنیا سے کیوں چھوڑ دوں اب؟

مجھے سوزِ احساس ہر دم جلائے
نہیں اس لیے پاس ناقِدؔ سکوں اب



ہے میری دولت
تری محبت
اے میرے دلبر
نہ کر شرارت
بہت پریشاں
ہے میری حالت
ستم گروں سے
ہو کیا شکایت؟
جفائیں اس کی
بڑھائیں الفت
وفا کو اس نے
کہا حماقت
ملن کی ناقِدؔ
ہوئی ہے حسرت



قریب اپنے بلائو اک دن
گلے سے مجھ کو لگائو اک دن

نہ دور جائو قریب آ کر
یہ فاصلے سب مٹائو اک دن

تمام زخموں کو تازہ کر دو
جگر کو میرے جلائو اک دن

رہے ابد تک جو یاد مجھ کو
لہو کے آنسو رلائو اک دن

جدائیوں نے ہے مجھ کو مارا
وصال دارو پلائو اک دن

نہ ہاتھ سے ہاتھ پھر الگ ہو
یوں ہاتھ ناقِدؔ ملائو اک دن



تری یاد ہے زندگی کا فسانہ
ہے تجھ سے مری عاشقی کا فسانہ

رکھے گا اسے یاد ہر پل زمانہ
کہ ہے منفرد بے رخی کا فسانہ

بنا ہوں جہاں میں ستم کا نشانہ
سنو تو مری بے بسی کا فسانہ

ہے بیگانہ جو تھا ہمارا یگانہ
ہے کچھ اس طرح بے حسی کا فسانہ

تعارف ہے ناقِدؔ ترا غائبانہ
امر ہے تری شاعری کا فسانہ



کروں کیوں وفائوں کی میں نوحہ خوانی
یہ اہلِ وفا کی نہیں ہے نشانی

نہیں بہتی نینوں سے نیروں کی ندیا
مگر دیکھ لو تم قلم کی روانی

سبو میں فقط ایک اشکوں کی مَے ہے
یہی میں نے رکھا ہے پینے کو پانی

مرا دل ہوا جوشِ الفت سے عاری
یہ لگتا ہے رخصت ہوئی ہے جوانی

مرا حافظہ اب نہ تم آزمائو
ستم یاد ہیں مجھ کو ناقِدؔ زبانی



یہ دوریاں مٹائو سب
یہ فاصلے گھٹائو سب

بچھڑ گئے ہیں مجھ سے جو
وہ میت پھر ملائو سب

چلے گئے جو روٹھ کر
چلو انہیں منائو سب

جو دشمنِِ وفا بنے
انہیں وفا سکھائو اب

تمہیں ملیں جو بے نوا
انہیں قریں بٹھائو سب

سنو جی ناقِدِؔ الم
یہ رنجشیں بھلائو سب



بے وفا لوگ ہیں بے وفا شہر ہے
حسن والوں کا یہ دل ربا شہر ہے

پیار اخلاص کا سخت بحران ہے
سنگدل ہیں سبھی پر جفا شہر ہے

آج تک ہم سمجھنے سے عاری رہے
ہیں یہ کیسے مکیں اور کیا شہر ہے؟

ہیں حسیں مہ جبیں جس کے باسی سبھی
خوب رُو لوگ ہیں خوش ادا شہر ہے

مجھ کو ناقِدؔ یہاں چین آتا نہیں
ناروا شہر ہے، ناسزا شہر ہے



فکر کا ارتقا ضروری ہے
سوچ کی انتہا ضروری ہے

کوئی مخلص ہے یا نہیں تیرا
تیری سب سے وفا ضروری ہے

وہ تو ناداں ہے ناسمجھ بھی ہے
اس کا کرنا جفا ضروری ہے

مہرباں ہے رحیم بھی ہے خدا
اس کی سب پر عطا ضروری ہے

حسن گو ہے عجیب شئے ناقِدؔ
ساتھ حسنِ ادا ضروری ہے



مری الجھنوں کا ٹھکانہ نہیں ہے
حقیقت ہے کوئی فسانہ نہیں ہے

نہیں ہے مجھے ذات اپنی سے فرصت
سو میری نظر میں زمانہ نہیں ہے

اگرچہ محبت ہے مشرب ہمارا
مگر طور تو عاشقانہ نہیں ہے

ستم ہم پہ ڈھایا کرو بے تکلف
اگر پاس کوئی بہانہ نہیں ہے

کسی کی جفا اب کرے کیوں گوارا؟
کہ اتنا تو ناقِدؔ دیوانہ نہیں ہے



زندگی کیوں گمان ٹھہری ہے؟
بے بسی کا نشان ٹھہری ہے
جس کو خاطر میں ہم نہیں لائے
حسن کا وہ جہان ٹھہری ہے
کیا حقیقت ہے فکر اپنی کی
اقتضائے بیان ٹھہری ہے
شاعری میں نہ ہو اثر کیسے ؟
فکر و فن کا نشان ٹھہری ہے
زندگی اک سفر ہے مشکل سا
بحر کے درمیان ٹھہری ہے
کوئی خاطر میں اب نہیں لاتا
کیسی گزران آن ٹھہری ہے
روح پرواز کر گئی ناقِدؔ
اور نکلنے کو جان ٹھہری ہے



زندگی تنہا سفر ہے ہم سفر کوئی نہیں
نفسا نفسی کا جہاں ہے چارہ گر کوئی نہیں

ایک عرصے سے درونِ ذات میں ہے خامشی
اب کے بحرِ ذات میں مدو جزر کوئی نہیں

لوگ بے حس ہو چکے ہیں قحط ہے اخلاص کا
پیار وافر ہو جہاں ایسا نگر کوئی نہیں

دل کے اطمینان کا کوئی تصور ہو جہاں
زندگی میں اب رہی ایسی ڈگر کوئی نہیں

اہلِ دنیا کے رویوں سے ہے ناقِدؔ آشنا
اب رہا اس کی نظر میں معتبر کوئی نہیں



وہی حسن کی فتنہ سامانیاں ہیں
نصیبوں میں اپنے تو حیرانیاں ہیں

یہ میرے تہور کا واحد سبب ہے
کہ جیون سے معدوم آسانیاں ہیں

میں خوش ہوں تو اس میں ہے یہ راز پنہاں
تخیل سے کچھ دور ویرانیاں ہیں

نہ جوبن پہ کیوں ہو ہماری محبت؟
کہ بخشی گئی اس کو جولانیاں ہیں

خوشی کیسے اس کو میسر ہو ناقِدؔ؟
کہ گھیرے ہوئے جس کو نادانیاں ہیں



مجھے راز الفت کا معلوم ہے
کہ غم اس کی قسمت میں مرقوم ہے

سدا ہر کسی کو دیے ہیں فریب
تمہاری روش یہ بھی مذموم ہے

وفا کا جسے پاس پیہم رہا
رہا اس جہاں میں وہ مظلوم ہے

زمانے کی تجھ کو خبر کچھ نہیں
کہ تو ناسمجھ اور معصوم ہے

غموں نے ہے ناقِدؔ کو گھیرا ہوا
خوشی اس کے جیون سے معدوم ہے


خود بیتی

تمہیں محبت بھری نگاہوں سے دیکھنے کا ہے شوق جاناں
کہ عمر بھر ہم کو صرف تم کو ہی سوچنے کا ہے شوق جاناں
ہماری تو عمر ساری گزری ہے گریہ و زاری و فغاں میں
رہے ہیں ہم تو غم و مصائب کے اک عجب سیل ِ بے اماں میں
کہاں خوشی اپنے پاس بھٹکی مسرتیں اپنی حسرتیں ہیں
رہین ِ حزن و الم رہے ہیں سکوں کی حاصل نہ قربتیں ہیں
رہے گریزاں جناب ہم سے ہمیں تو پانے کی آرزو تھی
حیات رنگین ہو ہماری ہمیں فقط اتنی جستجو تھی
زمانہ کب ہم کو راس آیا کہ اس نے ہم کو بہت رلایا
مروتوں سے جہاں تھا عاری سو اُس نے ہر دم ہمیں ستایا



تقاضے وفا کے نبھائیں گے پیہم
محبت کے ہم گیت گائیں گے پیہم

سخن میرؔ کا سوز سے ہے عبارت
غزل میرؔ کی گنگنائیں گے پیہم

تو ہم سے گریزاں رہے جس قدر بھی
تجھے پاس اپنے بلائیں گے پیہم

ترا ذکر ہے اپنے ہونٹوں کی زینت
زباں پر ترا نام لائیں گے پیہم

غم و حزن سے ہے ہمیں پیار ناقِدؔ
اسے میت اپنا بنائیں گے پیہم



ہوئے مشیت کے یوں کرم ہیں
مروتوں کا فروغ ہم ہیں

سکوں کا کوئی نہیں تصور
ہماری قسمت سدا الم ہیں

وفا کی تم سے امید کب ہے؟
تمہارے انداز ہی ستم ہیں

دکھوں میں ہم گو رہے ہیں غلطاں
خوشی کے نغمے کیے رقم ہیں

نصیب سے ہے عبث شکایت
خوشی میسر ہے سکھ بہم ہیں

جنوں سے ناقِدؔ ہیں دور ٹھہرے
اسی لیے دور ہم سے غم ہیں



مری عمر گزری ہے پڑھتے پڑھاتے
کٹے میرے اوقات لکھتے لکھاتے

ادب کے لیے ہے ریاضت ضروری
نہیں ہاتھ آتا یہ سنتے سناتے

محبت کی ہے ایک فطری جوانی
رہو لاکھ تم چاہے بڑھتے بڑھاتے

جفائوں کا خوگر تھا میرا سجن بھی
سو جیون گزارا ہے منتے مناتے

مرا زندہ رہنا بھی اک معجزہ ہے
میں ناقِدؔ رہا زندہ مٹتے مٹاتے


یہی میری حماقت ہے
مجھے تم سے محبت ہے
کہو کیوں دور بستے ہو؟
بلم کیا مجھ سے نفرت ہے
تجھے پائوں کسی صورت
یہی اک دل میں حسرت ہے
سدا غمگین رہتا ہوں
یہی اب میری قسمت ہے
بڑھائیں دوریاں ہم میں
عدو کی سب شرارت ہے
سخن میرے میں سب کچھ ہے
نفاست ہے، لطافت ہے
وہی حق بات کہتا ہوں
کہ جو اہلِ جسارت ہے
نہ لوگوں سے گلہ کوئی
نہ قسمت سے شکایت ہے
محبت ہے مجھے سب سے
یہی ناقِدؔ حقیقت ہے


جہاں میں جنسِ وفا نہیں ہے
کوئی بھی دل کش ادا نہیں ہے
دیے ہیں صدمات زندگی نے
یہ زندگی کیا قضا نہیں ہے؟
جسے تھا برسوں سے ہم نے کرنا
وہ کام ہم سے ہوا نہیں ہے
رہی ہے جس کی سدا تمنا
وہ شخص اب تک ملا نہیں ہے
زبان ہے گنگ ہاتھ شل ہیں
لبوں پہ حرفِ دعا نہیں ہے
سخن میں وہ کچھ کہا ہے میں نے
کسی نے اب تک کہا نہیں ہے
حیات نعمت ہے اک خدا کی
حیات کوئی سزا نہیں ہے
اُسی سے منسوب ہر عطا ہے
شعور اس کی عطا نہیں ہے
میں جس سے برسوں سے ہوں مخاطب
اُسی نے ناقِدؔ سنا نہیں ہے



زیست میں کیا ہے پایا ہم نے؟
جیون مال گنوایا ہم نے

روتے روتے عمر گزاری
جگ کو خوب رلایا ہم نے

تم نے کیوں انکار کیا ہے
پیار سے آج بلایا ہم نے

تم نے کرنی تھی دلداری
اپنا درد سنایا ہم نے

دنیا یاد رکھے گی ناقِدؔ
پیت کا گیت جو گایا ہم نے



جاگنے والے کب سوتے ہیں
دنیا سوئے وہ روتے ہیں

موت کی نیند سلانے والے
وہ تو اپنے ہی ہوتے ہیں

پیار کی بازی ہارنے والے
اپنے آپ کو ہی کھوتے ہیں

نام امر ہو تا ہے ان کا
بیج خلوص کے جو بوتے ہیں

جاگتی آنکھیں جاگتے سپنے
ناقِدؔ نیند میں کب ہوتے ہیں



ہے حاصل مجھے تیرے جلووں کی دولت
فزوں تر نہیں اس سے کوئی بھی نعمت

ترے لمس میں ہے سکوں اور لذت
اسی میں ہی مضمر ہے جیون کی راحت

مری زندگی کرب کی داستاں تھی
رہی دور کیوں اتنی مجھ سے مسرت؟

زمانے سے کچھ بھی نہیں چاہیے اب
فقط مجھ کو مطلوب ہے تیری قربت

کسی غم کی مجھ کو نہیں اب کے پروا
نہیں ہجر سے بڑھ کے ناقِدؔ اذیت



یہاں کوئی دلکش نظارہ نہیں ہے
مرا اس لیے اب گزارا نہیں ہے

خوشی جس نے جیون کی برباد کی ہے
سو مخلص وہ ہرگز ہمارا نہیں ہے

مجھے زندگی میں اگر مل نہ پائے
کوئی دوش اس میں تمہارا نہیں ہے

مدد گار و مونس مرا تو ہی تو ہے
کہاں میں نے تجھ کو پکارا نہیں ہے

پس ِ مرگ ناقِدؔ یہی وہ کہیں گے
مرا ہے وہ خود ہم نے مارا نہیں ہے



رقم کر رہا ہوں میں ہر اک فسانہ
مجھے چاہیے شاعری کا بہانہ

تری دوستی میں مسائل ملے ہیں
سو مہنگا پڑا ہے ترا دوستانہ

نہیں اس کی پروا تو مانے نہ مانے
مرا معترف تو ہے سارا زمانہ

مرا صبر کچھ اور بھی آزما لے
تو کر دے ستم اور بھی کچھ روانہ

مفر غم سے ناقِدؔ تو ممکن نہیں ہے
کہ آلام اپنے تو ہیں جاودانہ



مجھے مہ وشوں نے ہے ترسایا بے حد
اگرچہ ہے جی میرا للچایا بے حد

کریں یاد کیسے اچھائی سے تم کو؟
کہ تم نے بھی ہم پر ستم ڈھایا بے حد

الم زندگی میں فراواں تھے پہلے
ترا روٹھ جانا بھی غم لایا بے حد

گیا تو تو خوشیاں بھی رخصت ہوئی ہیں
تو تنہائی میں مجھ کو یاد آیا بے حد

مجھے زندگی نے تو مہلت نہیں دی
ستم اس لیے میں نہ لکھ پایا بے حد

ہے خلوت میں برسات ناقِدؔ گزاری
یہ ساون بھی ہے اب کے دکھ لایا بے حد



نہ اب مجھ سے جیا جائے
مجھے مرنے دیا جائے

گریباں چاک ہے میرا
اسے کیسے سیا جائے؟

سبو سے پیاس ہے زیادہ
تو جام اک کیوں پیا جائے

اسی کی یاد جیون ہے
سو نام اس کا لیا جائے

نہ مانے بات ناقِدؔ جو
تو کیا اس کو کیا جائے؟



ہمیں آ گئی راس یوں بے قراری
طبیعت جو بخشی گئی سوگواری

سدا نیر نینوں کی زینت بنے ہیں
اسی کرب میں عمر ساری گزاری

نہ حاصل ہوئی مہ جبینوں کی قربت
کٹی ہجر میں عمر ساری کی ساری

کسی اور کی ہم کریں کیا شکایت؟
ہماری مخالف ہے قسمت ہماری

زباں اپنی محتاط رکھی ہے ناقِدؔ
اٹھائی نہیں اس لیے شرمساری



عجب اک بے قراری ہے
طبیعت سوگواری ہے
ہیں مہماں ہم تو کچھ دن کے
یہ دنیا کب ہماری ہے؟
ادا ہے دل نشیں تیری
جفا بھی تیری پیاری ہے
نہیں ہیں شعر یہ میرے
یہ میری آہ و زاری ہے
ہوئے برباد ہم لیکن
تری چاہت سنواری ہے
یہ جو ہے گفتگو میری
خرد کی پاسداری ہے
تجھے ناقِدؔ نہیں سمجھا
وہ تجھ میں ہوشیاری ہے



سجن بے وفا ہو
بہت با حیا ہو

سمجھ میں نہ آیا
مری جان کیا ہو؟

تمہیں کیسے مانوں؟
کہ تم ماورا ہو

یہ رشتہ ہے تم سے
مرے دل ربا ہو

مقدر میں ناقِدؔ
وہ چنچل ادا ہو



میں تعبیر بخشوں گا خوابوں کو تیرے
نہ آئیں گے پھر لوٹ کر یہ اندھیرے

سدا تیری قسمت رہیں گے اجالے
ترے بھاگ میں ہوں گے روشن سویرے

جہاں کا الم پاس کوئی نہ ہو گا
ترے دکھ جو ہوں گے بنیں گے وہ میرے

مرے دل میں تو ہی سمایا رہے گا
فقط دل میں ہوں گے ترے ہی بسیرے

خوشی سے گزارے تو جیون کو ناقِدؔ
نہ ہوں گرد تیرے مصائب کے گھیرے
قطعات

مجھے جس نے ستم بخشے اسی سے دوستانہ ہے
وفا کر کے جفا پائی بڑا ظالم زمانہ ہے
مری جاں تم ادھر آئو ذرا مجھ سے گلے مل لو
مرے من کو ملے راحت کہ موسم عاشقانہ ہے
ستم پہ ہیں ستم پائے سدا دکھ میں گزاری ہے
خوشی کی جستجو کی ہے یہی اپنا فسانہ ہے



جوان دل ہے مرا خدو خال بوڑھے ہیں
میں وہ غریب ہوں جس کے عیال بوڑھے ہیں
تمہاری عمر میں اک جوش ہے جوانی ہے
مری حیات کے سب ماہ و سال بوڑھے ہیں
جو بدمزاج ہیں ان کی غضب جوانی ہے
جو باوفا ہیں وہی خوش خصال بوڑھے ہیں


کوئی یار ہے نہ کوئی راز داں ہے
جدا ساری دنیا سے اپنا جہاں ہے
مرا شوق جھوٹا مرے خواب جھوٹے
بھلا ملتی دنیا میں الفت کہاں ہے؟
ہے نفرت کا امکان موجود سب میں
کوئی چاہے چھوٹا ہے یا نوجواں ہے



اعزا ہمارے مخالف رہے ہیں
اگرچہ ستم ان کی خاطر سہے ہیں
کیا ہم نے ہرگز نہ ترکِ تعلق
ہمیشہ انہی کے ہی نغمے کہے ہیں
جفا ہم نے پائی ہے جس سے بھی جتنی
اسی درجہ ہم اس کی رو میں بہے ہیں


وفا کا پیغام دینے والے کدھر گئے ہیں
خفا ہوئے تم تو اپنی جاں سے گزر گئے ہیں
وہ جن کی تصویر زینتِ قلب و جاں تھی ہر دم
خبر نہیں ہے وہ دل سے کیسے اتر گئے ہیں
نہ کوئی نغمہ سنا گیا ان کے بعد ہرگز
گئے ہیں ایسے کہ بزم ویران کر گئے ہیں



محبت کا جذبہ امر کر رہا ہوں
کہ آباد من کا نگر کر رہا ہوں
میں بیزار ہوں دنیا داری سے یارو
سو عقبیٰ کی جانب سفر کر رہا ہوں
یہ میری سعادت ہے جانِ تمنا
تمہیں اپنا میں چارہ گر کر رہا ہوں


من اک مٹی کی مورت ہے
ساجن پتھر کی صورت ہے
اس کے دم سے سانس رواں ہے
وہ میری ایک ضرورت ہے
مجھ سے آخر دوش ہوا کیا؟
مجھ کو اتنا کیوں گھورت ہے؟



ہائیکو

ذہن مرے میں ہلچل سی ہے
آنکھوں میں اک جل تھل سی ہے
ہر قطرے میں عکس ہے تیرا

کسی کورے کاغذ کی تحریر ہوں میں
کہ خود اپنی ہستی کی تفسیر ہوں میں
صدا دے رہی ہے مجھے حق پرستی
مجھے کربلا دے کہ شبیر ہوں میں

O

دنیا کا کوئی رنج نہ فکرِ معاش ہے
مجھ کو تو صبح شام بس تیری تلاش ہے
پیچھا بہت چھڑایا ہے میں نے برائی سے
ناسور کی طرح مگر اس کی خراش ہے

O

مرے کرب کی داستاں بن گئی
مری بے زبانی زباں بن گئی
غزل ہے مزین مرے سوزِ دل سے
یہی میری طرزِ فغاں بن گئی

حیات مجھ کو نہ راس آئی
خوشی کبھی بھی نہ پاس آئی
بچھڑ کے مجھ سے تھی وہ پریشاں
ہے واپسی پہ اداس آ ئی

O

طبیعت نے جس دن سے ہے سوز پایا
قلم بھی مرا ہے روانی میں آیا
ہیں بے انت اس کی عنایات ناقِدؔ
پلٹ دی ہے اس ذات نے میری کایا

O

تری یاد میں اشکِ خونی بہائے
کسی کو نہ قدرت یہ رونا رلائے
چراغِ محبت جلیں یونہی ناقِدؔ
دعا ہے نہ کوئی یہ دیپک بجھائے

پٹاری یاد والی میں سبھی یادیں تمہاری ہیں
مرے ہونٹوں پہ اب جاناں سدا باتیں تمہاری ہیں
مرے ایام سب تیری بدولت بامسرت ہیں
مرے لمحے تمہارے ہیں مری راتیں تمہاری ہیں

O

مجھے پیار تیرے کی جاناں قسم ہے
تو دنیا میں محبوب مجھ کو صنم ہے
عطا کی نہیں تو نے ناقِدؔ کو قربت
روا ایک بے کس پہ کیوں یہ ستم ہے؟

O

مجھے پیار تیرے کی دولت ملی ہے
کلی اس سے میرے دروں کی کھلی ہے
ہے ہر بات پہ مجھ کو تجھ پہ بھروسا
یہ ہے خود فریبی کہ سادہ دلی ہے

مرے دوستو مجھ کو لگتے ہو پیارے
اگرچہ نہ ہو پاس کچھ بھی تمہارے
تمہاری رفاقت میں سب کچھ ملا ہے
مرے من کے آکاش کے ہو ستارے

O

تری رہ گزر ہیں خیالات میرے
مرا دل مری جان تیری گلی ہے
ترا ذکر بھی ساتھ ایا ہے ساقی
زمانے میں جب بات میری چلی ہے

O

مرے جانِ جاں تم بہت دلنشیں ہو
قسم ہے کہ سارے جہاں میں حسیں ہو
مرے دل کی تسکین و راحت تمہی ہو
گل و لالہ و عنبر و یاسمیں ہو

پل دو پل تو رہنا ہے
کہہ دے بات جو کہنا ہے
ناقِدؔ صبر سے لے کر کام
جور و ستم کو سہنا ہے

O

حیات بزمِ طرب نہیں ہے
یہ حال بھی بے سبب نہیں ہے
روا ہے ناقِدؔ پہ جور ہر دم
وہ پل نہیں جب غضب نہیں ہے

O

مجھےآپ سے کچھ نہیں چاہیے
سکون و طرب کی زمیں چاہیے
جہاں ایک پل چین ناقِدؔ نہ ہو
نہ ایسا مکاں نہ مکیں چاہیے

لمبی ہے برسات کی رات
اس کے اندر ہیں صدمات
یوں مشکل ہے تنہائی
جیسے ناقِدؔ ہو سکرات

O

کسی نے خوشی کی جو محفل سجائی
بہت مجھ کو ظالم تری یاد آئی
حنا تیرے ہاتھوں پہ جب رنگ لائی
ترے عشق نے نیند میری چرائی

O

مجھے چاہیے ایک ایسا جہاں
کرے جس میں کوئی نہ آہ و فغاں
یہی آرزو ہے یہ حسرت ہے ناقِدؔ
کہ یہ دنیا ہو جائے جنت نشاں

دوستو اب کہاں جائیں
چین آتا نہیں جہاں جائیں
جس جگہ ذکرِ جام و مینا ہو
اُٹھ کے ناقِدؔ ابھی وہاں جائیں

O

ترے حسن نے مجھ کو گھائل کیا ہے
اسی نے محبت پہ مائل کیا ہے
مرا دل نہیں مانتا پھر بھی ناقِدؔ
جو ترکِ تعلق پہ قائل کیا ہے

O

جب مرنے لگوں تو یہ سوغات عطا ہو
اس وقت مرے لب سے ترا نام ادا ہو
اپنی تو شب و روز یہ کاوش رہی ناقِدؔ
جو عہد ہوا تجھ سےوہی عہد وفا ہو

تیرے ہاتھوں کی حنا یاد رہے گی مجھ کو
تیری دلدار صدا یاد رہے گی مجھ کو
دیکھتے ہی مجھے دھیرے سے تبسم کرنا
تیری معصوم ادا یاد رہے گی مجھ کو

O

محبت کا میں نے فسانہ کہا ہے
زمانے نے مجھ کو دیوانہ کہا ہے
مری چشم سے آبِ نیساں ہے برسا
کہ اپنوں نے مجھ کو بیگانہ کہا ہے

O

میری کچھ پہچان نہیں ہے
درد سنائوں اب میں کس کو
کہتے ہیں سب اس کو ناقِدؔ
تم بھولے ہو جاناں جس کو

محبت کے میں نے ستم سب سہے ہیں
سدا عشق و الفت کے نغمے کہے ہیں
نہیں اس سے اعراض پل بھر کو ممکن
کہ ہر وقت چاہت کی رو میں بہے ہیں

O

میں دم بھر اسے بھول سکتا نہیں
بہت مجھ پہ اس کی عنایات ہیں
مرے پاس ناقِدؔ ہیں جو علم بھی
اسی کے ہی کشف و کرامات ہیں

O

یہ فسانہ کبھی کا پرانا ہوا ہے
ان کو بھولے ہوئے اک زمانہ ہوا ہے
سنگ برساتے ہیں اہلِ دنیا سدا
تیرا دیوانہ کچھ یوں نشانہ ہوا ہے

کروں میں سدا تیرے رخ کی تلاوت
رہے روز و شب یونہی جاری عبادت
اسی حال میں زندگی بیت جائے
مقدر میں ناقِدؔ رہے یہ سعادت

O

نئی بات ہے یہ نیا ماجرا ہے
کہ جو باوفا تھا وہی بے وفا ہے
زمانے میں کوئی کسی کا نہیں ہے
مقولہ یہ ہم نے ہمیشہ سنا ہے

O

کٹی فکرِ فردا میں ہی زندگانی
ہے طاری اسی کے ہی باعث گرانی
ستم ہر طرح کے گوارا کیے ہیں
ہے آماجگاہِ مصائب کہانی

مرا نالہ کیوں بے اثر ہو رہا ہے
جدا مجھ سے میرا جگر ہو رہا ہے
مرے ساتھ تھا جس کا وعدہ وفا کا
وہی مجھ سے تو بے خبر ہو رہا ہے

O

زباں میں مری وہ اثر نہ رہا
وہ پہلا سا سوزِ جگر نہ رہا
جو سایہ کڑی دھوپ میں بخشتا
سرِ دشت ایسا شجر نہ رہا

O

مرے ساتھ اتنی وفا کرو
کبھی بات میری سنا کرو
یہی تم سے ہے مری التجا
کہ حقوقِ عشق ادا کرو

ساقی نے کی ہیں ہم پر جفائیں
ہم پھر بھی دیتے ہیں اس کو دعائیں
ہوئی زندگی اب ہماری اجیرن
ملی ہیں جہاں میں غضب کی سزائیں

O

تمہیں پیار کرتے ہیں کرتے رہیں گے
تمہی پہ ہی مرتے ہیں مرتے رہیں گے
ہمیں عشق میں ایسا لگتا ہے ناقِدؔ
شب و روز ہم آہیں بھرتے رہیں گے

O

مے کشوں میں بھی باقی مروت نہیں
اب وہ پیرِ مغاں میں بھی الفت نہیں
دوستو جو نظر آتے تھے پارسا
ان کے قدموں میں بھی استقامت نہیں

مرے دل کی دنیا ہے ویران سی
ہے حالت نہایت پریشان سی
سکوں کا بھی اس میں تصور نہیں
یہ صحرا کی صورت ہے سنسان سی

O

قسمت سے ملی مجھ کو جاگیر ایسی
نہ تھا یہ گماں ہو گی تقدیر ایسی
مری جاں بھلانے کے قابل نہیں جو
مرے دل میں ہے نقش تصویر ایسی

O

مت مجھ کو دھن دولت بخشو
صرف مجھے تم چاہت بخشو
ناقِدؔ سے دو باتیں کر کے
اس کے من کو راحت بخشو

میں دوزخ سے بالکل بھی خائف نہیں
مرا مثلِ دوزخ ہے پہلے ہی جیون
ستم اس قدر مجھ پہ ڈھائے گئے ہیں
ہوئی زندگی میری ساری اجیرن

O

کچھ ایسا ملا ہے ثمر الفتوں کا
مری زندگی ہے سفر رتجگوں کا
ہمیشہ وہ رہتے ہیں فرقت میں سوزاں
سدا جن کو رہتا ہے غم دوستوں کا

O

پیے بنا بھی خمار سا ہے
سرور سا ہے قرار سا ہے
عجب ہے جیون کا گیت ناقِدؔ
یہ بھیرویں ساملار سا ہے

حیات بزمِ طرب نہیں ہے
یہ بات میری عجب نہیں ہے
مرے تفکر کا ہے یہ حاصل
نہیں ہے کچھ جو ادب نہیں ہے

O

بٹھائے گئے فکر میری پہ پہرے
مرے چارسو چھا گئے ہیں اندھیرے
کٹی ظلمتِ شب میں ہی زندگانی
نہیں پائے جیون میں میں نے سویرے

O

بغیر تیرے میں جی رہا ہوں
میں زہر کے گھونٹ پی رہا ہوں
مجھے ہو پل بھر بھی چین کیسا؟
میں اپنے زخموں کو سی رہا ہوں

مری عمر بیتی ہے پڑھتے پڑھاتے
شب و روز گزرے ہیں لکھتے لکھاتے
نہ تھا شغل کوئی مری زندگی کا
ہے جیون کٹا شعر سنتے سناتے

O

محبتوں میں ہے رابطہ بھی بہت ضروری
ضرور اس میں ہے فاصلہ بھی بہت ضروری
انہیں نہ پایا مگر تعلق رہا ہے ان سے
اسی طرح کا ہے سلسلہ بھی بہت ضروری

O

میں چاہتا ہوں مگر گنگنا نہیں سکتا
وہ نغمہ کیسا ہے یارو وہ گیت کیسا ہے؟
جسے خبر ہی نہیںہے مرے مصائب کی
ذرا بتائو کہ من کو وہ میت کیسا ہے؟

بہت مرا دل اداس ہے اب
نہ میرا محبوب پاس ہے اب
نہ جام و مینا نہ کوئی ساقی
غضب کی ہونٹوں پہ پیاس ہے اب

O

راہِ حیات میں یہی اپنا اصول ہے
بربادیوں کا سوگ منانا فضول ہے
اپنے نصیب میں کوئی منزل نہ تھی رقم
قسمت میں اپنی ناقدؔمسافت کی دھول ہے

O

عجب رنگ میں مجھ پہ لمحات گزرے
قلم کی رفاقت میں دن رات گزرے
ہے اب جاں ستم کے تحمل سے عاری
بہت اس پہ ناقِدؔ ہیں صدمات گزرے

اک اذیت میں مسلسل زندگی میری رہی
ساتھ میرے ہر جگہ یہ بے کلی میری رہی
نہ خوشی کا پاس ہے اور نہ کوئی احساس ہے
کاہش و رنج و الم سے دوستی میری رہی

O

پریشان رہتا ہوں شام و سحر
ہے دنیا و عقبیٰ پہ میری نظر
وفائیں اگر تیرے بس میں نہیں
مجھے مار دے اے مرے چارہ گر

O

فردیات

یہ قدغن ہے کیوں زندگی پہ ہماری؟
بٹھائے گئے کیوں تبسم پہ پہرے

O
غزل میں تجھ کو رقصاں دیکھو
ہر اک رنگ میں پنہاں دیکھوں

O
تمہاری حالت مری نظر سے چھپی نہیں ہے
میں جانتا ہوں جنون سے تم گزر رہے ہو

O
رہتے ہیں الجھے الجھے سے
حالات نہیں کچھ سلجھے سے

O
کچھ ہم سے حال پریشاں نہ پوچھئے
کیا بجلیاں سی اس میں پنہاں نہ پوچھئے

O
ملتا ہے خواب میں بھی تو لڑتا ہوا مجھے
فطرت میں سرکشی میرے صنم کی ہے

O
مسجد میں بھی رہتے ہیں مرے دوش مرے ساتھ
سوچو تو انہیں مجھ سے ہے کس درجہ عقیدت؟

O
جس کی خاطر رکے سرِ راہ
راستہ ہی بدل دیا اس نے

O
میں بیزار کیوں نہ رہوں زندگی سے؟
اندھیرا ملا ہے مجھے روشنی سے

O
ستم اس قدر ہم پہ ڈھایا گیا کیوں؟
نشیمن ہمارا جلایا گیا کیوں؟

O
دوستی رنج و غم و آلام کی اچھی لگی
دل میں جو تھی اک خلش گمنام سی اچھی لگی

O
غمِ زندگی میں جو آ گیا
غمِ بندگی میں نہ آ سکا

O
رفاقتوں کے سفر میں رہے اکیلے ہم
عداوتوں کے بھنور میں رہے اکیلے ہم

O
میری یادوں کے آنگن میں آ تو سہی
میرے غمگین من کو لبھا تو سہی

O
حیات گزری غموں کے ہجوم میں اپنی
ہماری آنکھوں میں آنسو مگر نہیں آئے

O
چھین لی گو عشرتِ ہستی مری
عشق تیرا دے گیا تحفے بہت

O
ملنے کی آرزو میں تڑپتا ہوں آج بھی
میں تیری جستجو میں ترستا ہوں آج بھی

O
لٹ جائیے ضمیر کا سودا نہ کیجئے
مٹ کر بھی اپنے آپ کو رسوا نہ کیجئے

O
حصولِ علم و ادب نے ہمیں مٹا ڈالا
ہمیں بھی ورنہ بہت کام کرنا آتے تھے

O
مجھ کو قلم ملا ہے تجھے آئینہ ملا
تجھ کو جمال اور مجھے حرفِ نوا ملا

O
ساری مستی تیری آنکھوں میں شرابِ ناب کی
میری آنکھوں میں ہے کیفیت مگر سیلاب کی

O
مجھ کو پیہم عذاب میں رکھ کر
زندگانی خراج لیتی ہے

O
جانِ جاناں پاگل کر دیتا ہے مجھ کو لمحہ بھر میں
یہ فردوس سماں یہ تیرا درشن لمس ترا

O
یاد جو آئے مجھ کو جانِ جاناں تیری
خون کی بارش ہو جاتی ہے چشم سے میری

O
ہمارے چہرے پہ گرد اتنی اٹی ہوئی ہے
کہ جیسے صورت پہ خاک کی تہہ جمی ہوئی ہے

O
شب و روز میں آگہی بانٹتا ہوں
ہے ظلمت نگر روشنی بانٹتا ہوں

O
میری یہ وجدان کی دولت
ہے ساری یزدان کی دولت

O
مرے چارسو حسن بکھرا ہوا ہے
بکھرتا ہوں میں خود اسے گر سمیٹوں

O
ہیں کتنی شامیں اداس گزریں؟
ہے کتنی صبحوں کا سوز باقی؟

O
ہم مسافر مسافت کے مارے ہوئے
زندگی کے مظالم سے ہارے ہوئے

O
نہیں اس کے آثار مر جائوں جلدی
بہت میں نے جیون میں دکھ جھیلنے ہیں

O
ہے مطلوب و مقصودِ ناقِدؔ شرافت
نہ عشوہ نہ غمزہ نہ حسن و صباحت

O
تیری آمد بہار ساماں ہے
کتنا مسرور ایک انساں ہے

O
میں چلا بھی گیا اس جہاں سے مگر
تیری چاہت مرے دل میں رہ جائے گی

O
جو مل جائے شاکر رہو اس پہ ناقِدؔ
یہ دنیا تو زنداں ہے مومن کی خاطر

O
اگرچہ سمجھتا ہوں میں خود کو کاہل
مگر یہ جہاں مجھ سے سستی میں آگے

O
زندہ ہوں تو رسوا ہوں بدنام ہوں ناقِدؔ
مر جائوں گا تو دنیا انمول کہے گی

O
جواں سوچ ہے اور بوڑھا بدن ہے
خزائوں کی زد میں مرا اب چمن ہے

O
ہر جورِ جہاں مجھ پہ روا ہے کہ نہیں ہے؟
مالک میری قسمت میں قضا ہے کہ نہیں ہے؟

O
وہ مجھ پہ ستم کر کے پاتا ہے راحت
ستم گر نے پائی ہے کیسی یہ فطرت؟

O
جانِ تمنا دیکھو آگ کے ان شعلوں کو
راکھ ہوئی ہیں میری سوچیں یاد میں تیری

O
جو ہوتے وسائل میسر مجھے
تو کیا سے کیا کر دکھاتا تجھے

O
پیدا کرنے کے لیے سوزِ دروں
پیدا کرنا ہے تجھے سوزِ بروں

O
کتابیں ہم سفر میری قلم ہے رازداں میرا
کہ مونس ہے خرد میری تفکر پاسباں میرا

O
جامِ دل غم سے بھر نہ جائے کہیں
سر سے طوفاں گزر نہ جائے کہیں

O
مجھ میں گر ہے کوئی خوبی
تیرا ہی اعجاز ہے مولا

O
رفاقتوں کا خراج مہنگا پڑا ہے مجھ کو
کہ اک مسلسل عذاب سہنا پڑا ہے مجھ کو

O
اگرچہ کی ہے مسیحا نے دیر آنے میں
مریض نے بھی نہ عجلت دکھائی جانے میں

O
نیند میں تیرے ہی افسانے لکھتا رہتاہوں
قلم نے بھی ترے ہی دم سے ذوقِ نگارش پایا ہے

O
انسان کے ہر دکھ پہ کڑھنا میری فطرت ہے
ہر زخم کی ہوتی ہے غمازی میرے غم سے

O
راؔشد میں بھی پائی رعنائی بہت میں نے
فاؔتح سا تغزل تو اس میں بھی نہیں پایا

O
تم تو خلوت کدے میں رہتے ہو
دے کے آواز لوٹ جاتا ہوں

O
زندگی کو بغور دیکھا ہے
ہر بشر کو ملول پایا ہے

O
تشنگی اوجِ ثریا پہ مری پہنچی ہے
ہےکوئی جام بکف پیاس بجھانے آئے

O
مرے اشعار شاہد ہیں کہ میں بھولانہیں تجھ کو
میں تیرے دم سے زندہ ہوں یہی احساس ہے مجھ کو

O
ایک پنچھی ہوں میں ایسا بدنصیب
جس کی قسمت میں نہیںہے آشیاں

O
جو پیغامِ وفا میں نے دیا ہے ناقِدؔ
میری خواہش ہے کہ ہر پیرو جواں تک پہنچے

O
سدا میرے دل میں سمائے رہے ہو
مرے من میں چاہت بسائے رہے ہو

O
دل کے ہاتھوں میں ہو گئے مجبور ہم
ضبط سے ہوتے گئے ہیں دور ہم

O
انوکھے ہیں فطرت کے یہ راز سارے
مجھے یہ نہایت لگے ہیں پیارے

O
مقدر میں بے تابیاں ہی لکھی ہیں
سرِ آشیاں بجلیاں ہی گری ہیں

O
سزائیں مجھے ناخدا دے رہا ہے
بھنور میں ہے ہر وقت میرا سفینہ

O
مجھ کو توفیق ِ فغاں نہ ہو سکی
جب ستم گر نے ستم مجھ پہ کیا

O
زمانہ ہے چاہت مٹانے سے قاصر
امر ہے محبت امر ہی رہے گی

O
مری بات کو تم نہ ہرگز بھلانا
سدا غیر سے میرے نامے چھپائے

O
بسر یوں مر ے ساتھ راتیں کرو
مرے سامنے اس کی باتیں کرو

O
ملنے کی کر پوری قسمیں
ورنہ موت ہے اپنے بس میں

O
تیرا خط نہیں آیا جب تک
میں بے چین رہا ہوں تب تک

O
برسوں سے کوئی خط نہیں آیا
کیا تم ہم کو بھول گئے ہو؟

O
رفاقت حسیں کب میسر ہو ئی؟
نہ مونس و مخلص نہ غم خوار ہے

O
مسرت کے نغمے الاپیں گے پیہم
کریں گے اجاگر اسے روشنی سے

O
روز سہتے ہیں تیر نظروں کے
زندگی اپنی معجزانہ ہے

O
مروتوں کے امین رہ کر بھی
ہم نے ہر دم جفا سمیٹی ہے

O
اور کچھ بھی نہ تجھ سے چاہا تھا
صرف چاہا تھا رابطہ تجھ سے

O
جانتے ہو میں کتنا سویا ہوں؟
ایک پل کو ہی آنکھ جھپکی ہے

O
ہمیں جن کی یادوں سے فرصت نہیں ہے
وہی یاد کرتےنہیں بھول کر بھی

O
فکر و فن ہے اب ہمیں بوڑھا کیے
ورنہ اتنے سن رسیدہ ہم نہیں

O
سدا حسن والوں سے کھائے ہیں دھوکے
ہمیں زندگی کرنا اب تک نہ آیا

O
شہروں میں زندگی تو نہایت محال ہے
ملتی ہے اس کی ایک جھلک دیہات میں ضرور

O
ہونے نہ دیں گے ان کو حائل محبتوں میں
جو بھی رکاوٹیں ہیں ٹھوکر کی زد میں ہوں گی

O
ہے بجا عورت پرستی کے تو ہم قائل نہیں
ہاں اگر ہو حسنِ فن تو لائقِ تعظیم ہے

O
میں نے جو بھی لفظ لکھا ہے
وہ بھی بالکل جاناں سا ہے

O
ہر کہیں پہ ہی تیرا جلوہ ہے
ذات بھی تو ہے چارسو تیری

O
عارضی تھیں رفاقتیں ساری
اک رفاقت قلم کی سچی ہے

O
غربت کا احساس نہیں کچھ
خوئے امیری پاس مرے ہے

O
سخن سازی آسان لگتی ہے تم کو
اگر ہے سلیقہ غزل لکھ کے آئو

O
یہ فخر و مباہات کر ترک سارے
ترے ہوں گے پھر جا کے وارے نیارے

O

شبیرناقدؔ کی گراں قدر تصانیف

شاعری

مطبوعہ:
1-صلیب ِ شعور (غزلیات ونظمیات) 2007ء
2-من دی مسجد (سرائیکی شاعری) 2010ء
3-آہنگِ خاطر (غزلیات ونظمیات ،گیت ،قطعات) 2011ء
4-جادہ فکر (غزلیات ونظمیات ) 2014ء
5-صبحِ کاوش (غزلیات، نظمیات) 2015ء
6۔دل سے دور نہیںہوتم (غزلیات ونظمیات) 2016ء
7۔کتابِ وفا (مجموعہ غزل) 2016ء
8-گنج ِآگہی (مجموعہءِ غزل) 2016ء
9۔ روح دی روہی (سرائیکی شاعری) 2016ء
10۔ جہانِ عقل و جنوں (اردو شاعری) 2017ء
11۔ زادِ سخن (اردو شاعری) 2017ء
12۔حسنِ خیال (اردو شاعری) 2018ء
13۔رتجگوں کا سفر (اردو شاعری) 2018ء
14۔ طرزِ بیاں (اردو شاعری) 2018ء
15۔عکاسِ احساس (اردو شاعری) 2018ء
16۔ نقدِ فکر و نظر (غزل و نظم) 2019ء

تنقید
مطبوعہ:
1-ابوالبیان ظہوراحمد فاتح کاکیف غزل (شخصیت اورفن) 2013ء
2-شاعراتِ ارض ِپاک (حصہ اول )تنقیدی مضامین و منتخب کلام 2013ء
3-شاعرات ِارض ِپاک حصہ دوم)تنقیدی مضامین و منتخب کلام 2013ء
4-شاعراتِ ارض ِپاک (حصہ سوم) تنقیدی مضامین و منتخب کلام 2013ء
5-نقدِفن(تنقیدی مضامین ) 2014ء
6-شاعراتِ ارضِ پاک(حصہ چہارم)تنقیدی مضامین و منتخب کلام 2014ء
7-شاعراتِ ارضِ پاک (حصہ پنجم) تنقیدی مضامین و منتخب کلام 2015ء
8-شاعرات ِارضِ پاک (حصہ ششم )تنقیدی مضامین و منتخب کلام 2015ء
9۔شاعرات ِارض ِپاک (حصہ ہفتم)تنقیدی مضامین و منتخب کلام 2016ء
10۔ تلمیحاتِ فضاؔ اعظمی (تنقید و تحقیق) 2016ء
11-شاعراتِ ارضِ پاک جامع ایڈیشن (حصہ اول) 2016ء
12۔ابوالبیان ظہوراحمد فاتح کا منشورِنظم(نظمیاتی تجزیہ) 2016ء
13-میزان تنقید (تنقیدی مضامین ) 2017ء
14-تنقیدات (تنقیدی مضامین ) 2018ء
15۔سفر نامہ نگاری کے انتقادی امکانات (حصہ اول) 2018ء
16۔ شاعراتِ ارضِ پاک (جامع ایڈیشن) جلد دوم 2018ء

زیرِ طبع:
17-توضیحات (تنقیدی مضامین ) زیر طبع
18-زاویے -تنقیدی مضامین زیرطبع
19۔ تناظرات (تنقیدی مضامین) زیرِ طبع
20۔ اطلاقی تنقید کی اقدار (تنقیدی مضامین) زیرِ طبع
21۔ تجزیات (تنقیدی مضامین) زیرِ طبع

Viewers: 480
Share