اے شہہِ محترم ۔۔۔ از: ممتاز ملک

ISBN : 978 969 7578 757 زیرِ مطالعہ کتاب محترمہ ممتاز ملک کے ایما پر شائع کی گئی ہے اور اس کے جملہ حقوق اورمتن کی تمام تر ذمہ داری […]

ISBN : 978 969 7578 757

زیرِ مطالعہ کتاب محترمہ ممتاز ملک کے ایما پر شائع کی گئی ہے اور اس کے جملہ حقوق اورمتن کی تمام تر ذمہ داری انہی کو مستحسن ہے۔پبلشر یا پرنٹر قطعاً ذمہ دار نہیں۔ ادارہ اردو سخن ڈاٹ کام کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ قارئین تک بہترین اور اغلاط سے پاک ادبی مواد پہنچایا جائے اور اس ضمن میں ہر امکانی کوشش کو بروئے کار لایا جاتا ہے تاہم غلطی کی نشاندہی کا خیر مقدم کیا جاتا ہے تاکہ آئندہ اشاعت میں اس کی درستی کی جائے۔(ادارہ)

(مجموعہءِ نعت)

اے شہہ ِ محترمؐ

شاعرہ: ممتاز ملک

ا79 Avenue de Rosny
93250 Villemomble
Paris- France
ای میل: mumtazmalik222@gmail.com
بلاگ: MumtazMalikParis.BlogSpot.com

استحقاق:تمام تصرفات ’’ممتاز ملک ‘‘کی تحویل میں ہیں
ناشر: اردو سخن پاکستان
نمودِ اول:اپریل 2019ء

کمپوزنگ: محمد شہریار ناصر
نظر ثانی:ماہِ کائنات
اہتمام/سرورق: ناصر ملک
طباعت: شیرِ ربانی پریس، ملتان
قیمت:400 روپے (30یورو، 35ڈالر)

انتساب

حرمین شریفین کی مقدس فضائوں کے نام

کچھ شاعرہ کے بارے میں

ممتاز ملک نے جانفشانی سے میدانِ شعر و سخن میں اپنا منفرد مقام بنایا ہے۔ وہ راولپنڈی (پاکستان ) میں مقیم قطب شاہی اعوان خاندان میں 22 فروری 1971ء کو پیدا ہوئیں۔پانچ بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر ہیں ۔ان کے والدِ گرامی ملک خالد لطیف پنجابی (قطب شاہی اعوان) ملک تھے ۔ ان کی وفات 3 2دسمبر1996ء کو ہوئی ۔ ممتاز ملک کی والدہ ماجدہ خورشید بیگم پختون تھیں ۔ وہ 21مارچ 1999ء کو دنیائے فانی سے رخصت ہو کر ممتاز ملک کو بے سائبانی کا جانکاہ کرب دے گئیں۔
گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نمبر 2 ، مری روڈ راولپنڈی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ انٹر میڈیٹ اور گریجویشن کے امتحانات پرائیویٹ طور پر پاس کیے۔ مابعد ان کی شادی 7 جنوری 1996ء کو لاہور کے شیخ محمد اختر صاحب کیساتھ سرانجام پائی ۔ اللہ رب العزت نے انہیں دو بیٹیوں اور ایک بیٹے سے نوازا۔وہ 1998ء میں اپنے شوہر کے پاس فرانس چلی گئیں۔ تب سے یہیں مقیم ہیں۔
ممتاز ملک ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ وہ نہ صرف پختہ کار شاعرہ ہیں بلکہ حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رکھنے والی کالم نگار، قلم کار، نعت خواں اورآن دیسی ٹی وی اورویب ٹی وی فرانس کے پروگرام ’’انداز فکر‘‘ کی میزبان بھی ہیں ۔ یہ پروگرام یو ٹیوب پر بھی دستیاب ہے جس میں مختلف سماجی اور اخلاقی موضوعات پر آسان ترین زبان میںاصلاحِ معاشرہ کے نقطہء نظر سے بات کی گئی ہے ۔وہ تربیتی لیکچرز بھی دیتی ہیں، کوٹیشنز بھی لکھتی ہیں اور افسانوں اور کہانیوں کی دنیا بھی آباد رکھتی ہیں۔
شاعرہ ممتاز ملک مصروف اور حساس دل سوشل ورکر ہیں۔فرانس کے شہر پیرس میں پاکستانی خواتین کی پہلی ادبی تنظیم ’’راہِ ادب‘‘ کی بانی صدر ہیں ۔انسانیت کا گہرا درد رکھتی ہیں۔ گھر داری کے ساتھ ساتھ سلائی کڑھائی ، ککنگ، گھر کی سجاوٹ اورمطالعہ کا شوق بھی ان کی زندگی کا اہم جزو ہے۔
انہیں دنیا بھر میں مختلف اشاعتی فورمز پر پڑھا جاتا ہے۔ ’’ریختہ‘‘اور ’’اردو پوائنٹ‘‘ سمیت کئی ویب سائٹس پر ان کا کلام موجود ہے۔ان گنت نیوز ویب سائٹس پر ان کے کالم شائع ہوتے ہیں۔
شاعرہ ممتاز ملک کی اب تک تین کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’مدت ہوئی عورت ہوئے‘‘ 2011ء میں شائع ہوا۔ دوسرا شعری مجموعہ ’’میرے دل کا قلندر بولے‘‘ 2014ء میں منصہءِ شہود پر آیا جبکہ ان کے کالموں کا مجموعہ ’’سچ تو یہ ہے‘‘ 2016ء میں بامِ اشاعت تک پہنچا۔
انٹرنیٹ پر ان کا بلاگ MumtazMalikParis.BlogSpot.com تمام مطبوعہ مواد مطالعے کے لیے مفت پیش کرتا ہے ۔
ناصر ملک
ادارہ ’’اردو سخن پاکستان‘‘

ممتاز ملک؛ اسلامی شاعرہ کی پہچان

تمام حمد وثنا اللہ وحدہ لاشریک کے لیے ہے جس نے میرے ، آپ کے اور پوری کائنات کے رسول کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو احمد، محمود اورحامد بنا کر بھیجا جن کا وجود مسعود تمام عالموں کے لیے رحمت ہے۔
حضورؐ آ گئے ہیں حضورؐ آ گئے ہیں
حضور ؐآگئے ہیں حضورؐ آگئے ہیں

وہ طیبہ کی گلیاں وہ روضے کی جالی
نگاہیں میری بن گئی ہیں سوالی
نگاہوں کا میری غرور آگئے ہیں
حضورؐ آ گئے ہیں حضورؐ آ گئے ہیں
اس کلام میں محترمہ ممتاز ملک صاحبہ کی نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے محبت اور عقیدت آسماں پہ چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہی ہے ۔ ان کی اس نعت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اسلام سے دلی وابستگی بہت گہری ہے اور اسلامی رجحان کا پہلو ان کی تحریروں اور نعتوں میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔
احساسات و جذبات سے لبریز حقیقت پسند شاعرہ محترمہ ممتاز ملک صاحبہ کی نظموں، غزلوں، قطعات اور نعتوں پر مشتمل کلام ’’ علمی، فکری، سماجی، سیاسی حقائق و مشاہدات، قومی و بین الاقوامی مدو جزر کا مجموعہ ہے۔ ان کے ہر شعری مجموعے میں ملکی و بین الاقوامی صورتحال اور طاقتور لوگوں کے ننگے ناچ کو حقیقت بیانی کے ساتھ الفاظ کے موتیوں کو دھاگے میں پرو کر غور و فکر کے لئے سنجیدہ لوگوں کے گلے میں ڈالنے کا کام کیا گیا ہے۔
سیاست، ظلم و بربریت، فساد، انتشار، تباہی و بربادی، فریب کاری، دھوکہ دہی، مہنگائی، بے روزگاری، رشوت خوری، بدعنوانی،عوام کی بے چارگی، حکومت کی کوتاہ بینی، لاقانونیت، خود غرضی، انارکی، انفرادی، اجتماعی اور ریاستی دہشت گردی، مسلمانوں کی پامالی، رسوائی اور جدو جہد، کیا کچھ نہیں ہے ان کی شاعری میں!
ایسا لگتا ہے شاعرہ نے ان سارے مسائل کو سامنے لاکر عوام الناس کی آنکھیں کھولنے کا بیڑا اُٹھا لیا ہے۔
ان کی شاعری میں جگہ جگہ اسلامی فکر کی جھلک نیز دنیا بھر میں مسلمانوں کی صورتحال سے واقفیت اور ان کے درد و غم میں شرکت اور حق گوئی کا خاصہ ان کے اسلامی رجحان کی علامت ہے ۔ وہ انسانوں اور خصوصاً مسلمانوں کی حالت زار پر جہاں افسوس ظاہر کرتی ہیں، وہیں انہیں اپنا طرزِ حیات بہتر کرنے اور اپنے قدم آگے بڑھانے کی دعوت دیتی بھی نظر آتی ہیں۔ یہی چیز انہیں ایک اسلامی شاعرہ کی پہچان بھی عطا کرتی ہے ۔
ان کے جلد منظر عام پر آنے والے ایک شعری مجموعے سے ان کے چند اشعار پیش ہیں :
ظلمتِ شب کو بہرطور تو ڈھلنا ہو گا
اب ہر اک سیپ سے موتی کو نکلنا ہو گا
سوچکےہیں جوسبھی خواب جگائو لوگو
دل کوتعبیرکی خواہش پہ مچلناہو گا
اب تو گرگر کے سنبھلنے کا روادار نہیں
ٹھوکروں سےتمہیں ہربارسنبھلنا ہو گا
اپنےاعصاب کو،جذبات کو فولادی کر
دل اگر موم بنا، اس کو پگھلنا ہو گا
الغرض پورا مجموعہ تعمیری اور فکر افزاء ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاعرہ نے اپنے صحافتی تجربے کو شاعری میں بھی آزمایا ہے۔اس مجموعے کو پڑھنے کے بعد شاعرہ کے تعلق سے جو تصویر ابھرتی ہے اس سے لگتا ہے کہ شاعرہ نے ہم عصر ماحول اور مسائل کا نہ صرف نہایت سنجیدگی اور باریک بینی سے مطالعہ کیا ہے بلکہ وہ تاریخ اور تہذیب و ثقافت کا گہرا ادراک بھی رکھتی ہیں۔
دورِ حاضر میں ایسی سنجیدہ شاعری پڑھنے کو بہت کم ملتی ہے۔ جس طرح سے محترمہ ممتاز ملک صاحبہ نے نعت گوئی میں ادب واحترام کا خیال رکھا ہے، ٹھیک اسی طرح معاشرتی اور حقیقی شاعری میں بھی اپنا معیار برقرار رکھا ہے۔
دعا ہے اللہ تعالیٰ ان کے تخیل میں مزید اضافہ کرے۔ اور ان پر اپنی رحمتوں کا سایہ رکھے۔ آمین۔
’’ پنجابی سنگت‘‘
پیرس ( فرانس)
جناب مقبول الٰہی شاکر صاحب
جناب راجہ زعفران ظفر صاحب
جناب عاشق رندھاوی صاحب
جناب ممتاز احمد ممتاز صاحب
جناب راجہ دیوان صاحب
جناب عمران حیدر قریشی صاحب

محترمہ ممتاز ملک صاحبہ کی شاعری پر تجزیاتی گفتگو

نعت گوئی اہلِ ایمان اور مذہب اسلام سے وابستہ لوگوں کا ایک فکری اور دلی عقیدت نامہ اور اصناف سخن کا سب سے اعلیٰ اور پاکیزہ حصہ ہے ۔ مگر یہ جس قدر سعادت وخوش بختی بلکہ آپ ﷺ سے بے پناہ عقیدت ومحبت کی دلیل ہے وہیں سب سے مشکل ،دشوار گزار اور بال سے زیادہ باریک راستہ ہے ۔ نعت کا موضوع جتنا اہم ،دل آویز اور شوق انگیز ہے اتنا ہی اس موضوع پر قلم اٹھانا پل صراط پر چلنے کے مترادف ہے ۔
خود شعر و ادب کی تخلیق کوئی کسبی چیز نہیں کہ جس کے مخصوص اوزان وبحور کو رٹ کر کچھ طبع آزمائی کرلی جائے ، بلکہ یہ ایک انعامِ الٰہی ہے جو خالقِِ کائنات کی جانب سے بعض مخصوص بندوں ہی کو عطا کیا جاتا ہے۔
انہی معدودے چند لوگوں میں سے ایک ایسی شاعرہ کی نعت گوئی کے حوالے سے تجزیاتی گفتگو کا ارادہ ہے جو علمی و ادبی حلقوں میں شاید بہت زیادہ معروف نہیں ہیں ۔ لیکن ان کو نعت کہنے کا سلیقہ آتا ہے اور انہوں نے کچھ اس انداز سے اپنے خیالات کو شعروں میں ڈھالاہے کہ ان کے اشعار سن کر دل جھوم اٹھتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ آنے والے دور کی بہت معروف اور پختہ شاعرہ بن کر سامنے آئیں گی ۔
ان کے اشعار سننے کے بعد میرا پہلا تاثر تھا کہ محترمہ نے اگر کچھ اور نہ بھی کہا ہوتا تو بھی یہ نعت انہیں ادب میں زندہ رکھنے کے لئے کافی تھی ۔ میں اپنی پیاری بہن محترمہ ممتاز ملک صاحبہ کی شاعری پر تجزیاتی گفتگو سے قبل ان کی لکھی نعت کےچند اشعار پیش کرتا ہوں۔
دیارِ نبیؐ کا ارادہ کیا ہے
کہ خود سے ہی ہم نے یہ وعدہ کیا ہے

سجائیں گے صحنِ حرم آنسوؤں سے
تو مانگیں گے ان کا کرم آنسوؤں سے
وہ رکھیں گے اپنا بھرم آنسوؤں سے
انھیں سب بتائیں اعادہ کیا ہے
دیارِ نبیؐ کا ارادہ کیا ہے
ان اشعار میں محترمہ ممتاز ملک صاحبہ نے اپنا عقیدہ بہت ہی خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے اور تخیل کا یہ عالم ہے کہ عام انسان بھی ان کے اشعار کو پڑھ کر مدینے کی گلیوں میں سیر کرنے لگتا ہے۔
دعا ہے اللہ تعالیٰ ان کے تخیل کو اور بھی پختہ اور بلند کرے اور ان کے نعتیہ مجموعہ کلام ’’اے شہہِ محترم ﷺ‘‘کو بھرپور پذیرائی اور قبولیت عطا فرمائے ۔ آمین۔
عاشق حسین رندھاوی
سیالکوٹ (پاکستان)

محترمہ ممتاز ملک کی عقیدتوں کا سفر

دورِ صحابہؓ سے لے آج کے دور تک جہاں صحابہ ؓکرام اور علما نے حضورپاک ؐکی نعتوں کی روایت کو فروغ دیا ، وہیں اولیاء اللہؒ نے بھی اسلام کی ترویج و اشاعت کے ساتھ حضور پاکؐ کے عشق کو ایمان کی تکمیل کے لیے ناگزیر قرار دیا اور عشقِ رسول ؐکے حصول کے لیے نعت خوانی کو سب بہتر ذریعہ قرار دیا۔ نعت گوئی کی ابتدا عربی زبان میں ہوئی ، سب سے پہلے قرآنِ کریم میں ہمیں حضور ؐکی ہمہ جہت اور کامل شخصیت کا تعارف کرایا گیا۔ ربِّ کائنات نے پیارے نبیؐ کوجن جن الفاظ میں یاد فرمایاہے ، ان پر غور کریں تو ہر لمحہ نعت ومدحت کے نئے باب کھلتے نظر آئیں گے، وما ارسلناک اِلّارحمۃً للعٰلمین، اِنک لعلیٰ خُلقٍ عظیم، خاتم النبیین ، بالمومنین رؤف رحیم ، داعیاً اِلی اللہ، صاحبِ مقامِ محمود ،سراجاً منیر، طٰہٰ، یٰس، شاہد، مبشر، مزمل، مصدق، معلمِ کتاب و حکمت، احمد، محمد اور حامد ۔۔۔خدائے بزرگ وبرتر کی طرف سے یہ تعارف پوری طرح نعت کے زمرے میں آتا ہے۔
زیرِ نظر نعتیہ مجموعہ کلام ’’ اے شہہِ محترمؐ ‘‘ اپنے نبی کریم ؐ سے عشق ہے۔ محترمہ ممتاز ملک صاحبہ کے حصے میں وہ سعادت آئی جو بڑے بڑے شعراءکو نصیب نہیں ہوتی ۔
میں سمجھتا ہوں کہ نعت لکھی نہیں جاتی ، بلکہ لکھوائی جاتی ہے۔ جس پہ نبی کریم ؐ کی نظرِ خاص اور خصوصی کرم ہو وہی نعت لکھ سکتا ہے۔ ممتاز ملک صاحبہ نے جہاں نبی کریم ؐ سے عشق کو اپنا موضوع ِسخن بنایا وہیں انہوں نے بڑی خوبصورتی سے نبی کریم ؐ کے اسوہءِ حسنہ کو بھی موضوعِ سخن بنایا ہے۔
میں محترمہ ممتاز ملک صاحبہ کے لئے دعا گو ہوں کہ ان کا یہ ہدیہءِ نعت ان کی بخشش اور نجاتِ اخروی کا سبب ثابت ہو اور ان کی عقیدتوں کا یہ سفر ہمیشہ اسی طرح جاری رہے ۔ آمین۔
ایازمحمودایازؔ ( فرانس)



’’ اے شہہ ِمحترم ﷺ‘‘ کا روحانی کیف

محترمہ ممتازملک جو نامور شاعرہ اور خوبصورت لکھاری ہیں، اور بہت سی خوبیوں کے ساتھ بہترین نعت خواں بھی ہیں، ان کی کتاب ’’اے شہہ محترمﷺ‘‘کے نام سے منظر عام پر آرہی ہے۔ حضور ؐ کی خدمت میں یہ عقیدت مندانہ نعتیں وہ اپنی بے حد خوبصورت آواز میں بھی پیش کر رہی ہیں۔
پہلی بار کسی مجموعے میں حمدیہ کلام کو اتنی زیادہ اہمیت اور جگہ دی گئی ہے ورنہ ایک آدھ حمد باری تعالیٰ کو رسما ًہی کسی بھی مجموعہ کلام میں پیش کیا جاتا ہے ۔ خصوصاً نعتیہ مجموعوں میں حمدیہ کلام کی تعداد ایک دو سے زیادہ نہیں ہوتی ۔
ممتاز ملک نے اس کمی کو محسوس بھی کیا ہے اور اس کی تلافی کرنے کی بھی بھرپور کوشش کی ہے جس کے لیے وہ مبارکباد کی مستحق ہیں ۔
اللہ کے فضل و کرم سے ان کا پیش کردہ حمدیہ اور نعتیہ مجموعہ بے حد خوبصورت ہے۔ کتاب کے ابواب ’’دعاو مناجات‘‘ اور’’ اہلِ بیت کے نام‘‘ سے ان کے کلام نے کتاب کو زیادہ منفرد بنا دیا ہے۔
میں دعاگو ہوں کہ شاعرہ ممتاز ملک کا یہ مجموعہ کلام’’اے شہہِ محترم ﷺ‘‘ پڑھنے والوں کی بھرپور پذیرائی اور توجہ حاصل کر سکے ۔
بہت سی دعائوں کیساتھ!
شمیم خان
پیرس( فرانس)



محترمہ ممتاز ملک کا تخلیقی وفور

نعت اپنے موضوعاتی حسن و تقدس اور ہیئتی تنوع کے اعتبار سے ادب کی جملہ اصناف میں سب سے محترم،مکرّم اور آفاقی صنفِ سخن کا درجہ رکھتی ہے۔نعت دیگر اصناف کے مقابل انتہائی مشکل ترین اور حزم و احتیاط کی متقاضی صنف ہے۔اس میں انہی موضوعات اور جذبات و خیالات کو بیان کرنا چاہیے جو شریعت کے تقاضوں کے عین مطابق ہوں۔دراصل سچّی نعت وہی ہوتی ہے جو عبد و معبود کے فرقِ مراتب کا لحاظ کرتے ہوئے،احتیاط کے ساتھ،مبالغہ اور بے جا خیال آرائی سے پاک و صاف لکھی جائے ۔علمائے ادب اور نعتیہ ادب کے محققین کا اس امر پر اجماع ہے کہ نعت کا راستہ بال سے باریک تر اور تلوار کی دھار سے بھی تیز تر ہے۔اس وادی میں بال برابر بھی زیادتی ہوئی تو شرک اور بال برابر بھی کمی ہوئی توتوہین ِ رسالت ہوسکتی ہے جس سے نعت بجائے مدح کے قدح میں بدل کر رہ جائے گی۔
بندہ گناہگار کا اس حسین تخلیق پر تبصرہ لکھنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف تھا ۔محترمہ ممتاز ملک صاحبہ نے ان تمام اعمال کو بہت بہتر طریقہ سے نبھاتے ہوئے اس کاوش کو پورا کیا ہے۔
میں محترمہ ممتاز ملک صاحبہ کی اس کاوش پر انہیں مُبارک باد پیش کرتا ہوں اور دُعا گو ہوں کہ اللہ تعالی ان کے تخیل میں مزید پختگی اور بلند مقام عطا فرمائے ۔
گُزشتہ دنوں ہم اپنے پروگرام اندازِ فکر کی ریکاڈنگ پر موجود تھے تو محترمہ نے ہمیں اسی نعتیہ مجموعہءِ کلام سے چند اشعار ہماری سماعتوں کی نذر کیے جو میری روح میں اُتر گئے اور میں ایسے محسوس کر رہا تھا کہ جیسے میں مدینہ کی گلیوں میں اپنی آنکھوں کو تسکین دینے کے لئے موجود ہوں۔
دیارِ نبیؐ کا ارادہ کیا ہے
کہ خود سے ہی ہم نے یہ وعدہ کیا ہے
سجائیں گے صحن حرم آنسوؤں سے
تو مانگیں گے ان کا کرم آنسوؤں سے
وہ رکھیں گے اپنا بھرم آنسوؤں سے
انہیں سب بتائیں اعادہ کیا ہے
دیارِ نبیؐ کا ارادہ کیا ہے
بخشی وقار ہاشمی
پرڈیوسر’’ اندازِ فکر ‘‘
سی ای او۔ اون دیسی ٹی وی فرانس



ایک اُجلی بشارت — اے شہہِ محترمؐ

آج یہ اجلی بشارت سن کر بے حد خوشی ہوئی کہ محترمہ ممتاز ملک صاحبہ کا نیا شعری نعتیہ مجموعہ (اے شہہ محترم صلی اللہ علیہ وسلم) کے نام سے منظر عام پر آنے والاہے۔راقم کے نزدیک تصویر کی حیرت،قوس و قزح کے رنگ،موسیقی کا طلسم،کتھک کا بہائو،اشعار کا حسن ،توازن اور ایک میٹھی و توانا آواز کو یک جا کر کے لفظی پیراہن دیا جائے تو بلا مبالغہ محترمہ ممتاز ملک صاحبہ کی تصویر بنے گی۔
مجھے مسلّم یقین ہے کہ سچے جذبوں اور خوابوں کی نمو پذیری کا عمل دوسری روحوں میں اس وقت پھلتا پھولتا ہے جب شاعر قوت،محبت اور باطنی سچائی کے ساتھ روح شاعری میں جلوہ گر ہوتا ہےاور محترمہ ممتاز ملک صاحبہ کو میں نے شاعری کے عمیق سمندر میں غوطہ زن ہی پایا ہے۔ وہ اس قدر گہرائی میں جا کر لفظوں کے موتی نکالتی ہیں کہ ہر لفظ کو جیسے قوت گویائی میسر آ گئی ہو۔ان کے اشعار میں لفظ چاندنی میں نہائے اپنی پاکیزگی کا احساس دلاتے ہیں۔
یاد رکھیے!سماعت سے ٹکرا کر جو شعر دل سے ہم آہنگ ہو جائے، وہ جاذبِ توجہ تخلیق صرف ممتاز ملک صاحبہ کی ہی ہو سکتی ہے۔۔۔حمد و نعت لکھتی ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ پلکوں سے بارگاہِ الٰہی اور درِ حبیب ؐپر دستک دے رہی ہوں۔۔۔
روشنی اور خوشبو سے ملاقات سعادتِ عظمیٰ ہے اور حمد و نعت میں آپ کے قلم سے چمکتا ہر ہر لفظ قلب و نگاہ میں نور پھیلاتا دکھائی دیتا ہے۔۔۔
اور دوسری جانب ان کے اشعار ذہنی انتشار اور روحانی خلفشار کے اندھیروں کو دور کرنے میں روشن لکیر مانے جاتے ہیں۔
الغرض ان کی اس کتاب کو میں گلدستے سے تعبیر کرتا ہوں جس میں انواع و اقسام کے رنگ برنگے پھول اشعار میں ڈھلے ہوں گے جو یقیناً کیف و سرور کا ذریعہ بنیں گے اور یہی ایک سچے شاعر کی پہچان ہے کہ اس کا کلام وجدانی کیفیت سے سرشار کر دے۔
رب کریم ممتاز ملک صاحبہ کے علم میں خیر و برکت عطا فرمائے۔
آمین۔
ساجد علی
گلوکار / موسیقار
کراچی (پاکستان)



روح اور شاعرہ ممتازؔ ملک کی شاعری کا باہمی تعلق

روح کو عبرانی زبان میں نقش، لاطینی زبان میں اینی ماء، سنسکرت کی زبان میں آتما، یونانی زبان میں سائیکی، لغت کی زبان میں ہوا کا جھونکا اور اردو زبان میں ”ممتاز ملک “ کہتے ہیں۔
یہ روح جب اس جہان میں وارد ہوتی ہے تو زندگی کہلاتی ہے اور بے چینی اس کا مقدر ہوتا ہے۔
اہلِ فکر اور اہلِ نظر اس بے چینی کو عشق کا نام دیتے ہیں۔
یہ روح جب واپس لوٹتی ہے تو ”روحِ کل “ کے حضور میں پہنچ کر پھر کہیں چین پاتی ہے۔
یہی بھید ممتاز ملک کی شاعری کا بھی ہے جسے دوام حاصل ہو گا۔
اور
یہ شاعری شاعرہ کے نام اور شخصیت کی طرح ممتاز ہو گی۔
انشاءاللہ !
نجف علی شاہ بخاری
ایم فل اردو سکالر بھکر پنجاب پاکستان
.

حمدِ باری تعالیٰ

.



ترے کرم میں

ترے کرم میںہوئی نہ کبھی کوئی تاخیر
یہ اور بات کہ اپنے سبب سے ہیں دِلگیر

کبھی جو تیری عنایت کا پڑ گیا چھینٹا
ملی ہے مجھ کو زمانے میں ہرجگہ توقیر

قدم زمیں پہ نظر سوئے عرش کیوں نہ ہو
میرے نصیب کے مالک کی ہر جگہ جاگیر
یہ سچ ہےکہ وہ میری قُدرتوں سے باہر ہے
اسے خبر ہے میری ہرگھڑی کہ ہے خبّیر

یہ صبح و شام تیرے نام کی گواہی ہیں
ہرایک شےتیری رحمت کےدائروں کی اسیر

کمال ہے تیرے سودے میں کچھ گیا بھی نہیں
ملا ہے اتنا منافع کہ بن گئی ہے اخِیر

بڑا ہے آسرا ممتاؔز جو لیا تو نے
کرے گا کون تمناؤں کی تیرے تحقیر

-O-



اللہ اللہ کہتا ہے

اک سایہ ہے میرا جو مجھ سے، ہر شام جدا ہو جاتا ہے
اک تُو ،اک تُو ،اک تُوہے جو ، مجھ سے دور نہ ہوتا ہے
اللہ اللہ کہتا ہے ، اللہ دل میں رہتا ہے

اک سانس ہے میری جو مجھ کو، کس دم بھی دھوکہ دے جائے
اک تُو اک تُو ،اک تُو ہےجو، مجھ سے جدا نہ ہوتا ہے
اللہ اللہ کہتا ہے ، اللہ دل میں رہتا ہے
یہ آنکھیں میری کچھ کر لیں ،پر دل کا بھید نہ جان سکیں
اک تُو ،اک تُو ،اک تُو ہے جو،میری سوچ سے پہلے جانتا ہے
اللہ اللہ کہتا ہے ، اللہ دل میں رہتا ہے

یہ کان میرے جانے کس پل ،آواز کوئی نہ سن پائیں
اک تُو ، اک تُو ، اک تُو ہےجو ،باتیں میری سنتا ہے
اللہ اللہ کہتا ہے ، اللہ دل میں رہتا ہے

اک منہ میں زباں جو ہے میری، کب جانے بات نہ کر پائے
اک تُو ،اک تُو ،اک تُو ہے جو،میری روح میں بولتا رہتا ہے
اللہ اللہ کہتا ہے ، اللہ دل میں رہتا ہے

-O-



ایسا اصول ہو جائے

یہ سر جھکے تیرے آگے نظر بھی اٹھ نہ سکے
نماز عشق میں ایسا اصول ہو جائے

تیری بتائی ہوئی راہ گر میں چل دوں تو
میری دعا بھی دعائے بتول ہو جائے

تمام عمر نہ دامن تہی کبھی لوٹا
مجھے خبر بھی نہ ہو اور قبول ہو جائے
جو بارگاہ سے تیری نہ اذن پا جائے
ہزاروں سالہ عبادت فضول ہو جائے

تیرے کرم سے ہی ہر رات کی صبح ممکن
وگرنہ صبح بھی تاریک و دھول ہو جائے

میں خودکوجان کےمشکل میں ڈال دوں پھر بھی
نوازشیں ہیں کہ ہر خار پھول ہو جائے

اے کاش! ایسی محبت نصیب ہو ممتازؔ
جو دل تو کیا میری روح میں حلول ہو جائے

-O-



اور تم اپنے رب کی کس

اور تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے
جس جا بھی تم دیکھو گے اس کی رحمت پاؤ گے

بھس میں لذت والی غذائیں خوشے ہیں کھجوروں کے
جن کے غلاف سنبھالے رکھیں تم لذت سے کھاؤ گے

اس کے حکم سے بچھی زمیں اور ٹکا ہوا ہے آسمان
ان دونوں کو چھوڑ کے کیسے حد سے باہر جاؤ گے
تیری خاطر اس نے بھرے ہیں باغ یہاں زیتونوں کے
انگوروں میں کیسے حکم بنا تم لذت پاؤ گے

حدِ خدا میں حدِ گناہ کب کیسے قائم کر سکتے ہو
اس کی پہنچ سے دور کہاں تک تم ممتازؔ جی جاؤ گے

-O-



میرا خدا

جوگدڑیوں سے لعل نکالے میرا خدا
آئی بلائیں سر سے جو ٹالےمیرا خدا

خوشیوں میں بھی اداس سا رہنا رواج ہے
ورنہ غم حیات میں پالے میرا خدا

دامن تو دوستوں نے سبھی کا کِیا ہے تار
رنجش نہ کوئی مجھ پہ نکالے میرا خدا
ہر گام پہ گروں یہ میری اپنی غلطیاں
ہر لگام پہ جو بڑھ کے سنبھالے میرا خدا

جن کے تصورات بھی ہیں دسترس سے دور
ان کو سمندروں سے گھنگھالے میرا خدا

جس سے نہ ہو سکے میری دلجوئی ایک پل
مجھ کو کرے نہ اس کے حوالے میرا خدا

ہر بار جب گھرے ہیں مصیبت جہان میں
ممتاز ؔبڑھ کے لاج بچالے میرا خدا

-O-



الاماں الاماں

وہ اللہ میرا پاس کرتا رہا
امتحانِ جہاں الاماں الاماں

غم کی شدت ہوئی جب بھی مجھ پر عیاں
لب سے نکلا میرے الاماں الاماں

درد کی ہر لہر شدتِ بیکراں
پل گزر ہی گئے الاماں الاماں

جھولیاں بھرنے آئے ہیںہم تو یہاں
بخش دے ہم کو توالاماں الاماں

کوئی ممتاز ؔکا نہ تھا نام و نشاں
تو ہوا مہرباں الاماں الاماں



جو لامحدود ہے

کہاں گم وسعتوں میں تو کھڑ اہے
جو لامحدود ہے میرا خدا ہے

وہ نظروں سے میری باہر بھی ہے اور
وہ نظروں میں بھی لیکن بس رہا ہے

کوئی رحمت پہ بھی خوش ہو نہ پائے
کوئی نعمت پہ بھی الجھا ہوا ہے
کسے دے گا کسے محتاج رکھے
یہ اس کا بھید ہے وہ جانتا ہے

تجھے ضد لے گئی طوفان میں اور
جو تھا عاجز حفاظت میں کھڑا ہے

تکبر خودسری دشمن خدا کی
بھلا ممتازؔ بندہ کیوں اڑا ہے

-O-



تو خدا ہے

تو خدا ہے تیری دنیا ہے خطائوں والی
میں تو بندہ ہوں میری ذات کی توقیرکہاں

اک تیری آنکھ جو پاتال کو تعمیر کرے
اک میری آنکھ کہ خود کی بھی ہے تصویر کہاں

خلد کا کھیل ہے تیرے لیے آنا جانا
میں یہ چاہوں بھی تو بن جائے گی تقدیر کہاں
تو جو چاہے تو دعاوں سے بدل دے قسمت
بے رضا تیرے بھی آئے گی یہ تاثیر کہاں

نام تیرا ہے جو منزل کی نشانی دے دے
یہ جہاں میرے ارادوں کی ہے جاگیر کہاں

اے خدا سوچ کے جگنو کو سلامت رکھنا
ذات کی سیاہی میں اس کے سوا تنویر کہاں

میں ہوں ممتازؔ مگر میری یہ اوقات کہاں
تو نہ چاہے تو قلم میرا ہے شمشیر کہاں

-O-



کسی کوشش

کسی کوشش کسی خواہش کو میں کب مانتی ہوں
مگر کوئی تو ایسا تھا جسے میں جانتی ہوں

بھری دوپہر میں سر پر میرے سایہ ہے کرتا
میں حِدّت کے شروع ہوتے ہی اس کو تانتی ہوں

میری ہر بھوک میں ہر لمحہ وہ مجھ کو کھلائے
بہت پہلے کہ کر کے التجا کچھ مانگتی ہوں
مجھے ان سارے صدموں کے سمندر سے نکالے
جنہیں میں خود بلا کر ان میں خود ہی جھانکتی ہوں

مجھے ممتازؔ کرتا ہے سبھی دنیا سے اور پھر
بچاتا ہے مجھے ہر حد سے جو میں لانگتی ہوں

-O-



یہ ہی سچ ہے

کوئی کتنی بھی طاقت کر لے حاصل پر یہ ہی سچ ہے
کہ تیرے ذور اور حکمت کے آگے چل نہیں سکتا

یہ تیرا نورِ کامل جس کو بھی گر ہو گیا حاصل
تو اس کے چہرے پہ کوئی بھی کالک مل نہیں سکتا

تیرا تو مرد مومن کی نگاہوں سے یہ وعدہ ہے
بدلنا چاہے وہ تقدیر تو پھر ٹل نہیں سکتا
الٰہی جوش میں آئے تیری رحمت تو پھر کیا ہے
کسی انگار میں دنیا کی پھر وہ جل نہیں سکتا

اگر پتھر میں زندہ ہے کوئی تیری عنایت سے
تو کیا یونسؑ کسی مچھلی کے اندر پل نہیں سکتا

بڑی اٹھکیلیاں ممتازؔ کرتے ہیں ہواؤں سے
بنا تیری اجازت کے برس بادل نہیں سکتا

-O-



جتنے پہلو ہیں

جتنے پہلو ہیں اور جتنے عنوان ہیں
سارے تیری خدائی کی پہچان ہیں

تیری رحمت سے نظریں چرا لوں اگر
رحمتیں پھر بھی ہیں جو نگہبان ہیں

سوچ کر ہم کریں یا کریں بے سمجھ
اپنے اعمال میں ہم تو نادان ہیں
تیری رحمت ہمیں ڈھونڈتی ہر قدم
پھر بھی کیونکر خدایا ہم انجان ہیں

نام سے تیرے جن کو بڑا بیر ہے
یہ منافق سبھی دل کے شیطان ہیں

اپنے کردار کو ہم سنواریں ہمیں
عزم دے حوصلہ دے پریشان ہیں

پُرسکوں یہ جہاں تُو نے ہم کو دیا
لائے ممتازؔ اعمال طوفان ہیں

-O-

.

نعتِ رسول مقبولﷺ

.



بلا لو بلا لو—

بلا لو ، بلا لو ، نبیؐ جی بلا لو
مجھے اپنے قدموں کا دھوون بنا لو

میں دیکھوں وہ وادی میں دیکھوں وہ گلیاں
جہاں پر کھلی تھیں کرم کی وہ کلیاں
جہاں پر ہوائیں تھیں سرشار و بے خود
مجھے ان ہوائوں کا جوبن بنا لو
بلا لو بلا لو…….
جہاں چاند اشارے پہ کھیلا کیے تھا
چراغوں بنا ہی جو میلہ کیے تھا
پرندے جہاں آ کے کرتے شکایت
مجھے ان پرندوں کی راکھن بنا لو
بلا لو بلا لو …….

جہاں پر مہکتا تھا ایسا پسینہ
ہوئے عطر سارے چشم پوش بینا
رکھوں میں بھی ممتازؔ شیشی میں بھر کر
مجھے عطر والے کی جوگن بنا لو
بلا لو بلا لو …..

-O-



سرکارؐ کی آمد پر

سرکارؐ کی آمد پر ہم گھر کو سجاتے ہیں
اور آپؐ کے آنے کی اُمید لگاتے ہیں

طیبہ میں خبر کر دوجاں لب پہ چلی آئی
امداد کو آ جائیںہم آس لگاتے ہیں

کیا میں کیا بھرم میرا کیا میری ہے تیاری
آجائیں میرے آقا ؐمیلاد مناتے ہیں
پیروں کامیں دھوون لوں مل جائیں مقدر سے
یہ عطر پسینےکاخوش بخت ہی پاتے ہیں

مولود پہ دوجے کو دیتے ہیں مبارک جو
آقا ؐکے غلاموں میں نام اپنا لکھاتے ہیں

صدقہ ہے یہ جس گھر کا خالی نہ کوئی لوٹا
خود پیٹ پہ پتھر اور امت کو کھلاتے ہیں

دنیا کی محبت پر حاوی ہے غم ِمحشر
ممتاؔز عمل سے خود دنیا کو بتاتے ہیں

-O-



رفاقت

یہ آپؐ ہی کی رفاقت تھی یا نبیؐ جس نے
علیؑ کو شیرِ خدا بابِ علم بھی جو کیا

تھی خوش نصیب سی سنگت کہ جس نے عثماں ؓکو
غنیؓ کِیا تو کِیا ساتھ میں سخی بھی کِیا

جو یارِغار ابو بکرؓعاشق ِرب تھے
انہیں زمانے میں صدیقؓ کا مقام دیا
دعائے آقائےؐ دونوں جہان تھی جس نے
عمرؓ کوعدل ِفاروقی کی اک مثال کیا

حسنؑ جو آپ کی گودی کے کھیلے کیا جھکتے
انہیں جھکانے چلا جو بھی نامراد گیا

یزید آج بھی مردود اور لعین ہوا
حسینؑ بعد شہادت جیا تو خوب جیا

وہ خوش نصیب ہیں ممتازؔ ابتداءِ زمزم
اور انتہاء پہ جو کوثر ملا تو خوب پِیا

-O-



اے شہہِ محترمؐ!

اےشہہِ محترم ؐ!ہو نگاہِ کرم
واسطے نعت کے زندگی میری کم

جو ہوا آپ ؐکا نام اس کا رہا
میرے شاہِ اممؐ !میرے شاہِ اممؐ!

اپنے ہر عیب پر سر جھکا ہے میرا
آنکھ میری ہے نم اے شہہِ محترمؐ!
آپؐ نے دین کے نام پر جو دیا
تاقیامت ہی اونچا رہے گا علم

جو ملائک سے ممتاز ؔپوشیدہ ہیں
آپؐ کی خوبیاں ہیں بدرجہ اتم

-O-



میری اوقات ہے کیا

میں بھلا کیا میری اوقات ہے کیا
آپؐ سے بہترین ذات ہے کیا

لب نہ پڑھ پائیں آپ ؐپر جو درود
پھر بتائیں بھلا حیات ہے کیا

جن کے قدموں کی دھول ہے چندن
اس سے آگے بھی کوئی بات ہے کیا
آپؐ سے پہلے چھائی دنیا پر
اس سے کالی بھی کوئی رات ہے کیا

گم ہوئے کھو کے اسوہءِ حسنہ
اس طرح سے کہیں ثبات ہے کیا

مل نہ پایا کرم اگر آقاؐ
ہم کوحاصل کہیں نجات ہے کیا

ہو کے سرشار جھومتا ہے دل
وجد میں ساری کائنات ہے کیا

ہاتھ پھیلائے سر جھکائے ہیں
اشک ہی حل مشکلات ہے کیا

کتنی ممتازؔ بندشیں توڑوں
ان کا موقعہءِ التفات ہے کیا



شہر آقاؐ کو جا

شہر آقاؐ کو جا رہے ہیں ہم
روح کو جگمگا رہے ہیں ہم

چین کھویا جو اس جہان میں ہے
اس گلی جا کے پا رہے ہیں ہم

جتنے موتی قرار کے کھوئے
آپؐ کے در سے لارہے ہیں ہم
اشک کا تیل آنکھ کے ہیں دیئے
اُن کے در پر جلا رہے ہم

جان قربان کر کے اُن کے لیے
راہ اپنی سجا رہے ہیں ہم

اپنی بخشش کے واسطے آقاؐ
اپنا ہر غم سنا رہے ہیں ہم

کتنی صدیوں کی پیاس تھی جس کو
اُن کے دم سے بجھا رہے ہیں ہم

چھوڑیں دنیا تو آپؐ آ جانا
آخرِ دم بُلا رہے ہیں ہم

آپؐ کی اک پکار پر ممتاز ؔ
حاصل ِ زیست پا رہے ہیں ہم



بڑا آرام ملتا ہے

نگاہوں کو جھکانے سے بڑا آرام ملتا ہے
جہاں تک یہ نظر جائے یہ ہی الہام ملتا ہے

کہ ان کےواسطےکم ہےزمانے کی ثناء خوانی
وفا ان سے کرے اس کو محبت جام ملتا ہے

جو انؐ کا ہو گیااس کو نہیں پروا زمانے کی
کروخواہش جو دنیا کی غم و آلام ملتا ہے
جوخود کو شےسمجھتے ہیں ذلیل وخوار ہوتے ہیں
فقیروں کواُسی در پرعروج و بام ملتا ہے

پسارےبیٹھتا ہےاپنادامن واں شہنشاہ بھی
چلو دیکھو وہاں پر یہ نظارہ عام ملتا ہے

میں ان کے صحن میں جا کر کبھی پلکوں سے دوں جھاڑو
نکمّےہیں ہمیں تو بس یہی اک کام ملتا ہے

ہمیں توپوچھتاکوئی نہیں تھادربدرتھے ہم
گزر کر ان کے کوچے سے ہمارادام ملتا ہے

وفاداری بشرط زندگی ممتازؔقائم ہے
لبوں سے انؐ کے روز حشر میرا نام ملتا ہے

-O-



آقا ؐمیں تیری یاد میں

میں یاد میں آقاؐکے کہاں پر نہیں بھٹکی
یہ دل کی کلی میرے کہیں پر نہیں چٹکی

اے کاش اُن کی دید سے تر ہوں مری آنکھیں
اے کاش میں پہنچوں کہیں بھولی کہیں بھٹکی

جو عشق کی راہوں میں سفر کرتے ہیں لوگو
اُن کی تو نظر بس کسی آہٹ پہ ہے اٹکی

ہیں آپؐ میری ساری دعائوں کا وسیلہ
ممتاز ؔدعا جس کے سبب سے نہیں جھٹکی



شرافت کیا ہے؟

کون مجھ کو یہ بتائے کہ شرافت کیا ہے
میرے محبوب سے جانا کہ حقیقت کیا ہے

دشمنی ایسی کہ جاں لینے کو تیار ملے
اور یقین ایسا کہ سرکارِ صداقت کیا ہے

درہے آقاؐ کا نیاموں سے ہیں باہر شمشیر
جاتے جاتے یہ سبق چھوڑا امانت کیا ہے
ہم جو دامانِ طلب لے کے بڑھےان کی طرف
واپسی نے یہ بتایا کہ عنایت کیا ہے

حکم پہ آپ ؐکے جو عصر کا سورج پلٹا
اور بتایا کہ میرے شاہ کی اجازت کیا ہے

اک نظام ایسا کہ بن قتل کے فاتح ِ مکہ
ساری دنیا کو دکھایا کہ نظامت کیا ہے

صرف جسموں پہ نہیں روحوں پہ قائم ممتاز ؔ
بے ضمیروں کو سکھایا کہ حکومت کیا ہے

-O-



پاء بجولاں

ان کی چوکھٹ کی ہے سنت نہیں دھتکارتی ورنہ
ہیں اِن کے کام یہ ذہنوں میں پالیں بغض
ہیں دل کے بخولاں

ہمیشہ حق و سچ کی آپ کی سنت نبھائی
توہر کم ظرف نے اس کا بنایا ہے مخولاں

میں ہوں جاہل نہیں اہل ِادب میں نام میرا
بلانا مجھ کو گر ممکن ہو آؤں پابجولاں
ہر منافق چہرے سے کھینچا نقاب حالتِ نماز
دوست بن کر آستیں میں پل رہے تھے جو سنپولاں

وہ ترپن سال کے کردار کی سچی گواہی
جس کو دیوانہ کہے خلقت بقولاں

اس قدر وہ مہرباں کہ اُن کے در سے
لَوٹنا خالی نہیں ممکن ملُولاں

عشق میں ممتازؔ غم کیا زندگی کا
اب اسی کے رنگ میں ہم بھی شمولاں

-O-



پڑھ کے صلّے علیٰ

پڑھ کے صلی علیٰ پھر بیاں کیجیے
اپنے جذبات کو یوں عیاں کیجیے

اپنے ہی آنسوؤں سے وضو کیجیے
مجتمع اپنی روح اور جاں کیجیے

کر کے روشن رہےجن کا دل میں دیا
عشق کا اپنی اب امتحاں دیجیے
جسم و ایماں میں گردش جو رکنے لگے
دے کے صدقہ نبیؐ کا رواں کیجیے

المددکہہ کے ہم بھی پکاریں انہیں
کیجیے مالکِ دو جہاں کیجیے

مجھ سے پہلے میری مشکلیں جانتے
ہاں میری مشکلوں کو آساں کیجیے

حاضری میں یہ لے کے سلام آ گئے
اپنی کملی مِرا سائباں کیجیے

بے حساب و کتاب جو ممتازؔ دیں
ان کی خاطر محبت عیاں کیجیے

-O-



اونچا مقام

کتنا اونچا مقام آپ کا ہے
آسمانوں پہ نام آپ کا ہے

جس جگہ پرٹھہر گئے جبریل
اس سے آگے قیام آپ کا ہے

جانے کب سے اجڑ گیا ہوتا
اس جہاں پر سلام آپ کا ہے

جو بھی سن لے سحر زدہ ٹھہرے
سب سے دلکش کلام آپ کا ہے

بخت والےسمجھ سکیں ممتاز ؔ
الوہی انتظام آپ کا ہے



آرزو ہے

آرزو ہے درِ طیبہ کی زیارت ہوتی
گنبد ِخاص کی آنکھوں پہ عنایت ہوتی

رہ گزر خاک اڑاتی شِہہ والاؐ مجھ پر
خاک بھی یہ میری خاطر بڑی رحمت ہوتی

مجھ کو آقاؐ کے قدم سے نہیں آگے جانا
گھر میں نعلین کے صدقے بڑی برکت ہوتی
کچھ تو اعمال میرےایسے بھی سرزد ہوں کہ
آپؐ کو گھر میں بلانے کی سعادت ہوتی

آپ ؐکی گلیوں میں گم ہونا مقدر ہو تو
مجھ کو دردر نہ بھٹکنےکی ضرورت ہوتی

مجھ کو جنت کی نہیں اس کو میری چاہ ہوتی
آپؐ کے جیسا توکل میری عادت ہوتی

ساری دنیا کو کھنگالاہے تو معلوم ہوا
آپؐ سے بڑھ کے کہاں کس کی شرافت ہوتی

میں جو پہلے ہی جڑی ہوتی شہہِ انورؐ سے
زندگی کی نہ میرے ساتھ شرارت ہوتی

بوجھ ممتازؔ گناہوں کے وہاں ڈھو آتے
مجھ کو سرکارِ دوعالمؐ کی اجازت ہوتی



مسلک وہی ہے میرا

مسلک وہی ہے میرا جو میرے نبیؐ کا ہے
یہ ہی اصل معیار میری زندگی کا ہے

فرمان مصطفےٰ ؐنے دی پہچان رب کی اور
اس کے سوا طریق نہ ہی بندگی کا ہے

اک ہے سراپا حکم، تو ہے دوسرا عمل
قصہ کہاں پہ اس میں کسی دل لگی کا ہے
ویسے تو سب چراغ ضروری ہیں دوستو
لیکن سوال اس سے بڑی چاندنی کا ہے

وہ جس کی سادگی کی زمانہ مثال دے
شاہوں میں امتحان اسی سادگی کا ہے

قالین اس جہاں کے چٹائی پہ وار کر
جاتا ہے عرش پر کہ سوال عاشقی کا ہے

سورج نکل کے آئے تو سچائی بس یہ ہے
ممتازؔ اب جواب نہ اس دلکشی کا ہے

-O-



اور نہ پلا ساقی

مجھ کو اب اور نہ پلا ساقی
تھوڑی رہنے دے پیاس جا ساقی

حوضِ کوثر پہ منتظر ہے کوئی
ہو ملاقات نہ قضا ساقی

جانے خواہش تھی کب سے ملنے کی
حوصلہ اب نہیں رہا ساقی
زندگی ہے تیری اداؤں میں
اورسب کچھ ہے بس خطا ساقی

جو تیری راہ میں ملے مجھ کو
درد بن جائے گا دوا ساقی

اپنی راہوں میں گمشدہ کر کے
مجھ کو میرا دیا پتہ ساقی

نام لکھ لے مصاحبوں میں میرا
ہو گی کتنی بڑی عطا ساقی

رب نے ممتازؔ کر دیا مجھ کو
میری اوقات کیا بھلا ساقی

-O-



بڑی سعادت ہے

نظر میں آقاؐ کے رہنا بڑی سعادت ہے
جواب ان کے تخیل کا کون دے پایا

کہاں کہاں نہ ملے مجھ کو کم نظر آقا ؐ
جو بند کرنے پہ مائل تھے سارے در آقاؐ
مگر جو ساتھ تھی رحمت میرے حبیب خدا
جواب ان کے تجمل کا کون دے پایا
نظر میں آقاؐ کی رہنا بڑی سعادت ہے
جواب ان کے تخیل کا کون دے پایا
سحر سے شام کے رستے میں کھو دیا جس کو
بہت پہ ہنس کے تو تھوڑے پہ رو دیا جس کو
ناشکرا کہہ کے نہ چھوڑا مجھے میرے آقا ؐ
جواب ایسے تسلسل کا کون دے پایا
نظر میں آقاؐ کے رہنا بڑی سعادت ہے
جواب ان کے تخیل کا کون دے پایا

گرے ہیں آج بھی گمراہیوں کی دلدل میں
لبوں پہ نام نبیؐ کا فریب ہر پل میں
انہیں بھی در پہ بلایا بہانے بخشش کے
مثال ایسے تحمل کا کون دے پایا
نظر میں آقاؐ کے رہنا بڑی سعادت ہے
جواب ان کے تخیل کا کون دے پایا

-O-



جس جا پہ نظر پڑ گئی

جس جا پہ نظر پڑ گئی سرکارؐ کی لوگو!
آزاد ہوا فکر سے گھر بار کی لوگو!

جو پا گیا ہے انؐ کے پسینے کی مہک کو
کیا اس کو تمنا کسی عطّار کی لوگو!

جو شہرِ مدینہ کی کبھی خاک ہی پا لے
کیا ہو گی کشش پھر گل و گلزار کی لوگو!
جو آپ کے قدموں ہی میں سر اپنا جھکا لے
نہ پالے کوئی فکر وہ بیکار کی لوگو!

بک جاتے ہیں سرکارؐکی قربت کی طلب میں
کھٹکے وہ سدا آنکھ میں اغیار کی لوگو!

طائف کی گلی سےجو گزرجائو گے اک بار
یاد آئے گی پھر تو کسی بازار کی لوگو!

اک بار جسے آپ ؐکی چاہت نے نوازہ
پرواہ نہ دنیا کے کسی پیار کی لوگو!

سر میرا یہ ارزاں نہیں اس در پہ جھکا ہے
حاجت نہیں اب دوسرے دربار کی لوگو!

آنکھیں جو ہوں سرکاؐر کے چہرے سےمنور
کیا آرزو ممتازؔ کو انوار کی لوگو!



تاثیر

یا نبیؐ آپ ہی کے نام کی تاثیر ہوئی
ساری دنیا میں شناسائی ءِ تحریر ہوئی

جس جگہ پاؤں بھی دھرنے کو نہ امکاں تھا کبھی
آپ ؐکے صدقے میں اس جا میری جاگیر ہوئی

آپؐ نے کب میری کوئی بھی دعا رد کی ہے
مجھ سے ہی کوئی طلب کرنے میں تاخیر ہوئی

مجھ کو ہی بات نہ کرنے کی ادا آتی تھی
یہ کرم ہے میری خاموشی بھی تقریر ہوئی

اڑ کے پڑ جائے جو سر میں کہے ممتاز ؔسدا
خاکِ پا آپؐ کی میرے لیے توقیر ہوئی



دیارِ نبیؐ کا ارادہ کیا ہے

دیارِ نبیؐ کا ارادہ کیا ہے
کہ خود سے ہی ہم نے یہ وعدہ کیا ہے

سجائیں گے صحن حرم آنسوؤں سے
تو مانگیں گے ان کا کرم آنسوؤں سے
وہ رکھیں گے اپنا بھرم آنسوؤں سے
انہیں سب بتائیں اعادہ کیا ہے
دیارِ نبیؐ کا ارادہ کیا ہے
کہ خود سے ہی ہم نے یہ وعدہ کیا ہے
وہاں جالیاں اپنے دل سے لگا کر
میں کھو جاؤں ان کے محلے میں جا کر
میں جنت بقیع سے سفارش کرا کر
سمجھ دل سفر پا پیادہ کیا ہے
دیارِ نبیؐ کا ارادہ کیا ہے
کہ خود سے ہی ہم نے یہ وعدہ کیا ہے

سلامی کا ہم کو بھی موقع عطا ہو
عمل میں نہ ہم سے کہیں کچھ خطا ہو
سبھی حرمتوں کا صحیح سے پتہ ہو
یقیں ہو کہ اب استفادہ کیا ہے
دیارِ نبیؐ کا ارادہ کیا ہے
کہ خود سے ہی ہم نے یہ وعدہ کیا ہے

-O-



وہ حبیبؐ ِ خدا

ذکر جن کا بلندی پہ رب نے کیا
آپ محبوبِؐ رب اورحبیبؐ ِ خدا

جن کے نعلین اپنے لہو سے بھرے
پھر بھی نکلی نہ دل سے کوئی بددعا
بعد اُن کے بھلا کیا میرا آسرا
آپ محبوبِؐ رب اورحبیبؐ ِ خدا
عرش والوں نے دی ہے سلامی جسے
فرش والے بھی چاہیں غلامی جس سے
ہم کو قدموںمیں مل جائے تھوڑی جگہ
آپ محبوبِؐ رب اورحبیبؐ ِ خدا

آپ ؐکے گھر کی خالص روایت کا ہے
راستہ روشنی اور ہدایت کا ہے
تاقیامت یہ قائم رہے سلسلہ
آپ محبوبِؐ رب اورحبیبؐ ِ خدا

-O-



سرکارؐ کا نام آتا ہے

آپؐ کی یاد میں جو اشک میرا بہہ جائے
آتش ونار بجھانے کے بھی کام آتا ہے

اُن کی کملی نہ چھپائے تو میراکیا ہو گا
دل کا ہر بھید مرا اب سرِعام آتا ہے

ظلمتیں جاکے کہیں منہ کو چھپا لیتی ہیں
جب زمانوں کا وہ اک ماہِ تمام آتا ہے
عقل تو ہر گھڑی تاویل نئی مانگتی ہے
عاشقِ آقاؐ کا بِن دیکھے سلام آتا ہے

بات سنتے ہی دل و جان فدا ہو جائیں
جس کے ہونٹوں پہ بھی آقاؐ کا کلام آتا ہے

زیست جتنی بھی ہو ممتازؔ بلا خیز مگر
چھو کے نعلین کو اک دن لبِ بام آتا ہے

-O-



سبز گنبد کے محبوب سائے

سبز گنبد کے محبوب سائے
ہم کو آ کر بہت یاد آئے

یہ سمجھ کر بہت دیر روئے
جیسے جنت سے ہم لوٹ آئے

آپؐ کا در دلاسا ہمارا
دکھ تو ہر اک سے ہم نےہیں پائے
لاکھ کوئی ٹٹولے گا دل کو
دل کی بِپتا وہیں جا سنائے

گر یہ ممکن تھا ہم کر گزرتے
سر کے بل آپ کہتے کہ آئے

مجھ کو پہلے بھی معلوم نہ تھا
کون ادب کا قرینہ سکھائے

خود سے بھی اب نبھانا ہے مشکل
کوئی دنیا سے کیونکر نبھائے

میں نے اختر سے بھی کہہ دیا ہے
سال یہ تو مِلے بن نہ جائے

کتنے سالوں سے میں منتظر ہوں
اب تو ممتازؔ کو بھی بلائے



حضوؐر آ گئے ہیں

حضورؐ آ گئے ہیں حضوؐرآ گئے ہیں
حضوؐر آ گئے ہیں حضوؐر آ گئے ہیں

وہ طیبہ کی گلیاں وہ روضے کی جالی
نگاہیں میری بن گئی ہیں سوالی
نگاہوں کا میری غرور آ گئے ہیں
حضوؐر آ گئے ہیں حضوؐر آ گئے ہیں
کہ جن کے لیے یہ زمیں آسماں بھی
جھکائے ہیں سر اور سجی کہکشاں بھی
وہ رنگوں کا لے کر ظہور آگئے ہیں
حضوؐر آ گئے ہیں حضوؐر آ گئے

وہ کیا تھی عنایت وہ کیا دلکشی تھی
جو سب کی عقیدت کی وجہ بنی تھی
وہ حسن و عمل کا شعور آگئے ہیں
حضوؐر آ گئے ہیں حضوؐر آگئے ہیں

-O-



آگئے جی آگئے میرے آقاؐ آ گئے

آگئے جی آگئے میرے آقا ؐآ گئے
آگئے جی آگئے میرے آقا ؐآ گئے

عبداللہؓ کی آنکھ کا تارا
آمنہؓ بی کا راج دلارا
فاطمہؓ جی کا بابا پیارا
چھا گئے جی چھا گئے ، کل جہاں پہ چھا گئے
آگئے جی آگئے میرے آقاؐ آ گئے
آگئے جی آگئے میرے آقا ؐآ گئے
بارہ ربیع الاول آیا
ہر اک گھر میں خوشیاں لایا
ہر ماں کو بیٹا دلوایا
ماؤں کو بچا گئے ، غموں سے بچا گئے
آگئے جی آگئے میرے آقا ؐآ گئے
آگئے جی آگئے میرے آقا ؐآ گئے

سارے جہاں میں رحمت بن کر
سارے یتیموں پہ شفقت بن کر
عورت کے لیے عظمت بن کر
آسرے دلاگئے، بستیاں بسا گئے
آگئے جی آگئے میرے آقا ؐآ گئے
آگئے جی آگئے میرے آقا ؐآ گئے
-O-



صلّےعلیٰ پکارو

صلّے علیٰ پکارو سرکارؐ آ رہے ہیں
اٹھو اے جا نثارو سرکارؐؐ آ رہے ہیں

سرکارؐ کی گلی میں منگتا بھی بادشاہ ہے
نامِ سخی پکارو سرکار ؐ آ رہے ہیں

چاہو نصیب روشن بھرنا اگر ہو دامن
دامن وہاں پسارو سرکار ؐآ رہے ہیں
گم ہونا ہے اگر تو بہتر ہے دشتِ طیبہ
خاک اس کی چھان مارو سرکارؐ آ رہے ہیں

دشتِ جنوں ہے طیبہ دشتِ سکوں ہے طیبہ
جس حال میں گزارو سرکارؐ آ رہے ہیں

دیتے ہیں سب سے بڑھ کر سنتےہیں سب سےبڑھ کر
کچھ روز واں گزارو سرکارؐ آ رہے ہیں

ممتاؔز خوش نصیبی لائی درِ نبیؐ پر
دل وجان ان پہ وارو سرکارؐ آ رہے ہیں

-O-



واسطہ میرے محبوبؐ کا

میری آنکھوں نے اس پیرہن کو چھوا
جس سے تھا واسطہ میرے محبوبؐ کا

آپؐ کی زندگی ہے مثالی وہاں
ہے مثالی جہاں صبر ایوبؑ کا

آپؐ کی رحمتوں کا ہر اک پل ہمیں
رحمتوں میں مقابل ہے یعقوبؑ کا
اور کیا ہے ٹھکانہ بتائے کوئی
آپؐ کے ہر گناہ گار مطلوب کا

دامن دل میں اپنے جگہ دیجیے
نام کوئی نہ جانے گا محجوب کا

نام ممتازؔ کا بھی وہیں آئے گا
آئے گا جب غلاموں کے منسوب کا

-O-



دعویٰ نبیؐ کے عشق کا

دعوی نبیؐ کے عشق کا پھر بھی دھڑک رہا ہے
دل میرا اُنؐ کےعشق میں پھٹ کیوں نہیں جاتا

سرکیوں یہ سلامت ہےمیرے کاندھوں پہ ابتک
حق کے کسی محاذ پہ کٹ کیوں نہیں جاتا

گر ہم کو ہے امید کہ ہم حق پہ کھڑے ہیں
بادل یہ غم کا آج ہی چھٹ کیوں نہیں جاتا
کوشش تو کرو تم اسے بھرنے کی کسی طور
پھر دیکھنا یہ درد پلٹ کیوں نہیں جاتا

باطل کو کیے جاتے ہیں معطون مگر پھر
دل اس کے مقابل کہیں ڈٹ کیوں نہیں جاتا

دھوکہ ہے دلفریب سا دنیا دراصل میں
پردہ یہ نظر سے میری ہٹ کیوں نہیں جاتا

ممتازؔ محبت جو کرو گے تو سمجھ لو
کوزے میں سمندر یہ سمٹ کیوں نہیں جاتا

-O-



درود کی محفل

چلو درود کی محفل سجانے چلتے ہیں
سجی ہے بزم یہ سب کو بتانے چلتے ہیں

جہاں قبول ہوں سب کی دعائیں اور سلام
اسی یقین کولے کر دیوانے چلتے ہیں

کبھی نہ جھوٹ کہا جس نے ایسے صادقؐ ہیں
انہیں کے صدق پہ خود کو لٹانےچلتے ہیں
وہ ہو گئے جو خفا رب بھی خوش نہیں ہو گا
چلو کہ یار کو اس کے منانے چلتے ہیں

جنہیں مٹاتے ہوئے خود بھی مٹ گئے ہم تو
زمانےکے وہ سبھی غم مٹانے چلتے ہیں

ہر ایک سے نہ کہو کون اس کو سمجھے گا
یہ دل کی بات ہے دل سے سنانے چلتے ہیں

جو زندگی کے لیئے بوجھ بن گئے ممتازؔ
وہ بوجھ روح سے اپنی ہٹانے چلتے ہیں

-O-



خدا سے دور ہوتے ہیں

خدا سے دور ہوتے ہیں تو کس کے پاس ہوتے ہیں
خدا کے پاس ہوتے ہیں تو کس سے دور ہوتے ہیں

یہ ہی اب جان لینا ہے یہ ہی سامان کرنا ہے
کہ جس کے پاس جانا ہے اسی کے حکم چلنا ہے

مجھے میرے نبیؐ کی ہی غلامی مستند ٹھہری
نہ اس کو چھوڑ کر ہر گز مجھے رستہ بدلنا ہے
اگر روشن ضمیری مجھ کو ملتی ہے مقدر سے
تو نافرمانی کی سیاہی نہیں اب منہ پہ ملنا ہے

کوئی سورج کسی بھی بام پر پہنچے مگر سچ ہے
کبھی تو شام ہونی ہے کبھی تو اس کو ڈھلنا ہے

مجھے مکڑی کے جالے کی طرح اس نفس نے جکڑا
کوئی صورت نکالو یانبیؐ اس سے نکلنا ہے

-O-



محبوبؐ کے رستے

یارب تیرے محبوبؐ کے رستے سے پرے ہیں
لگتا ہے کہ زندہ ہیں مگر کب سے مرے ہیں

کس کس کو سنائیں گے دلِ زار کا نوحہ
اپنے ہی کیے آج گلے اپنے پڑے ہیں

رکھی ہے جبیں غیر کی چوکھٹ پہ ہمیشہ
اک سجدہ رب کو کرتے ہوئےبول پڑے ہیں
وہ کون ہیں کرتے ہیں جو اسرار کی باتیں
کیوں حد نظر سے وہ کہیں دور کھڑے ہیں

ہم دم ہیں وہ ہمساز ہیں ہمدرد نہیں ہیں
سنتے ہیں سوا آپ کے قدموں میں پڑے ہیں

دامن کو جھٹکنا نہ بڑی بات ہے ان کو
غیرت کے یہ اثرات زمانے پہ پڑے ہیں

یہ اُنؐ کاکرم ہے کہ نہیں ڈوبتے ورنہ
ہم غم کے سمندر میں زمانے سے کھڑے ہیں

کچھ ایسی ہےامید جو جھکنے نہیں دیتی
ممتازؔ ہواؤں سے کئی بار لڑے ہیں

-O-



کوشش کی ہے

میں نےاللہ کوخوش کرنےکی کوشش کی ہے
تب نبیؐ پاک نے اُمَِی کی سفارش کی ہے

مجھ کو وہ سب ہے ملا جس کا تصور بھی نہ کیا
ہر قدم پر میرے آقاؐ نے نوازش کی ہے

مجھ کو مایوس نہیں ہونے دیا ہر لمحہ
لاکھ دنیا نے میرے واسطے سازش کی ہے
وہ نہ چاہیں تو بلندی کا سفر ناممکن
پھر بھلے اپنی طرف سےبڑی دانش کی ہے

ان کا دربار کرم جوش میں رہتا ہے جبھی
بات چھوٹی تھی بڑی اس کی ستائش کی ہے

وہ ہیں محبوبِ خدامیرے بھی محبوب ہوئے
اپنے کردار کی جس روز زیبائش کی ہے

خاک ہوں میں جو بلندی پہ پہنچ بھی جاؤں
صرف اللہ کی اس دل نے پرستش کی ہے

وہ جو کرتے ہیں محبت تو نظر رکھتے ہیں
تبھی ہر حال میں ممتازؔ کی پرسش کی ہے

-O-



جو اپنا نام ہو جائے

کسی کے نام کے صدقے جو اپنا کام ہو جائے
غلاموں میں اگر آقا ؐ ہمارا نام ہو جائے

وہ سب جو آپؐ کو پیارے ہیں ،صدقہ اُن کامل جائے
سنور جائے مقدر اور ہمارا کام ہو جائے

اگر جو آپؐ کی تعلیم پر ہوں ہم عمل پیرا
محبت جانثاری کا زمانہ عام ہو جائے
نہ دیکھیں ہم عزیمت گر،گناہوں سے مفرکر لیں
ہر اک دشمن ہمارا کیوں نہ پھر ناکام ہو جائے

مدینے کی ہوائوں میں معطر یاد ہے ایسی
کہ جس پر وار کر خود کو بری الزام ہو جائے

محبت آپ ؐکے رستے سے مقصد زندگی کا ہو
تو حاصل پھر وہی ہم کو عروج و بام ہو جائے

جہاں میں امن کا پرچم ہمیشہ ہم نے لہرایا
مسلماں کا یہ ہی ممتازؔ پھر پیغام ہو جائے

-O-



سرکار ؐکے پاس

ہم بڑی دور سے سرکارؐ کے پاس آئے ہیں
اپنا بھیگا ہوا دامن یہاں پھیلائے ہیں

اپنے دامن میں ندامت کے سوا کچھ بھی نہیں
آسرا آپؐ کے قدموں کا ، چلے آئے ہیں

نہ جہاں خوش ہے نہ رب ہی کو کیا ہے راضی
جانے کیا ہو گا ہمارا بڑے گھبرائے ہیں
اس جہاں پار خدا جانے کریں گے کیسے
پار دنیا کے پل صراط نہ کر پائے ہیں

فیصلے اپنے فہم سے جو کیے تھے ہم نے
آج انہی فیصلوں کی راکھ اُڑا آئے ہیں

اپنے پہلو میں ہی آرام کا موقع دے دیں
ہم بڑی دیر سے سرکارؐ نہ سستائے ہیں

اس جہاں کی ہے مشقت بڑی ظالم آقاؐ
آزمائش کے یہاں سائے ہی لہرائے ہیں

کون اپنا ہے یہاں کون پرایا آقاؐ
چار سو ہم نے تو اغیار یہاں پائے ہیں

ہم نے تو آنکھ اٹھا کر ہے جدھر بھی دیکھا
غم و اندوہ کے ممتازؔ یہاں سائے ہیں



ہم کو بھی مدینے میں بلائیں

ہم آپؐ کے دربار میں کچھ نعتیں سنائیں
سرکارؐ جی ہم کو بھی مدینے میں بلائیں

باندھے ہوئے بیٹھے ہیں دل زار کا ساماں
مل جائے اگر اذن تو حاضر ہوں غلاماں
ہم جیسے مسافر کو بھی منزل پہ لے جائیں
سرکارؐ جی ہم کو بھی مدینے میں بلائیں
بن ویزا ملاقات کا دستور نہیں ہے
لیکن یہ جدائی ہمیں منظور نہیں ہے
ہوتی ہے کبھی جیب بھی خالی کیا بتائیں
سرکارؐ جی ہم کو بھی مدینے میں بلائیں

گھر بار کی فکریں ہمیں ہلنے نہیں دیتیں
رشتوں کی حقیقت بھی سنبھلنے نہیں دیتیں
اولادوں کو سنت بھرا پروان چڑھائیں
سرکار ؐجی ہم کو بھی مدینے میں بلائیں

اس بزم میں بیٹھے ہوئے ہر فرد کی سن لیں
اور بانیءِ محفل کی دعائوں کو بھی سن لیں
ممتازؔ کبھی سامنے آ کر بھی سنائیں
سرکارؐ جی ہم کو بھی مدینے میں بلائیں
-O-



سدا صلّے علیٰ صلّے علیٰ ہے

نبیؐ کا نام لیوا ہر جگہ ہے
سدا صلّے علیٰ صلّے علیٰ ہے

کمائی وہ جو میرے ساتھ جائے
بھلائی وہ جو میرے کام آئے
وگرنہ سب یہاں ماٹی ملا ہے
سدا صلّے علیٰ صلّے علیٰ ہے
میری سچائی ہو آئینہ تیرا
امانت اور دیانت جینا تیرا
اصولوں پر گواہی سلسلہ ہے
سدا صلّے علیٰ صلّے علیٰ ہے

پڑھی سیرت تو آنکھیں نم ہوئی ہیں
بڑے کردار سے باہم ہوئی ہیں
کمال ضبط کا عقدہ کھلا ہے
سدا صلّے علیٰ صلّے علیٰ ہے

-O-



اے میرے دل

اے میرے دل تو مجھے چھوڑ کے آگے نہ نکل
راستے عشق کے ہیں تو ذرا محتاط سا چل

اتنا ناپاک کیا سارے زمانے نے تجھے
پاک ہونے کے لیے جسم پہ اس خاک کو مل

لوگ کہتے ہیں تو رک دل میرا بولے کہ نہیں
سخت وحشت ہے مدینے کی طرف آج نکل
خار پیارے ہیں نبی ؐپاک کی گلیوں کے ہمیں
پھول دنیا کے کسی طور نہیں ان کا بدل

جب تعین میرے سرکارؐ کریں منزل کا
راہ میں چھوڑ دے دنیا کے یہ سب مال و محل

جلد سرکارؐ کے دربار سے آئے گا بلاوہ ممتازؔ
اور کچھ دن ہیں نہ بے تابی سے اس طور مچل

-O-



یکسر بدل گئے

آئے میرے نبی ؐتو عناصر بدل گئے
حالات شرق و غرب کے یکسر بدل گئے

ہربات پرجو دست و گریباں تھے وہ سبھی
بے رحم تھےجو قابلِِ زنداں تھے وہ سبھی
ایماں کی روشنی میں وہ آ کر سنبھل گئے
حالات شرق و غرب کے یکسر بدل گئے
یہ آپؐ نے سکھایا کہ پابندی عہد کر
انسان تُو خدا سے امانت کو لے کے ڈر
بدتر تھے جو وہ وقت سے بہتر نکل گئے
حالات شرق و غرب کے یکسر بدل گئے

بنجر حیات تھی جو وہ گل پوش ہو گئی
مایوسی بے یقینی تھی روپوش ہو گئی
کوئی کسی سےکم نہ تھا کہہ کر عمل گئے
حالات شرق و غرب کے یکسر بدل گئے

-O-



نبیؐ وہ آیا

آیا نبیؐ وہ آیا
اعلیٰ نظام لایا
سارے جہاں پہ جس کی
ہے رحمتوں کا سایا
وہ منفرد تھا سب سے
اعلیٰ مزاج پایا
اس کے قدم مبارک
پلٹی ہے سب کی کایا
در یتیم سوہنا
وہ آمنہ کا جایا
ممتازؔ امتی کا
درد اپنے سر اٹھایا



مقامِ عاشقی

دلِ مضطرب ٹھہر جا یہ مقامِ عاشقی ہے
یہاں زندگی ہے لیکن وہاں اوجِ زندگی ہے

تیرےگھرکےسامنے ہےیہ میراوجود فانی
جو نہ بجھ سکی ابھی تک تو یہ کیسی تشنگی ہے

وہاں جا کے میں نے جانا وہاں جا کے میں نے سمجھا
میری زندگی نے کی جو میرے ساتھ دل لگی ہے
سنی ہردعا خدا نےدرِمصطفیٰ ؐ کےصدقے
بھلا اس سے اور آگے کیا مقامِ بندگی ہے

مجھے شوق بندگی ہے انہیں ذوقِ آگہی ہے
درِ مصطفیٰ ؐ سے پائی ممتازؔ سادگی ہے



مدینے والےؐ

میرے سرکارؐ کی چاہت میں مجھے موت آئے
خواہش مومن و امی ہے مدینے والےؐ

بن کے میں خاک اڑوںآپؐ کے ہی زائر کی
قطرہء آب جھٹکتے پروں سے طائر کی
آپؐ کے در کے مجاور ہیں بڑا ہے رتبہ
بخوشی بادشاہ کمی ہے مدینے والے ؐ
خواہش مومن و امی ہے مدینے والےؐ
اُن کی پوشاک کے پیوند کی قسمت اچھی
اُن کے ہاتھوں سلے ان ٹکڑوں کی قیمت اچھی
اُن کے نعلین کی قسمت پہ بھی رشک آتا ہے
اُن کی دستار کا دمی ہے مدینے والے ؐ
خواہش مومن و امی ہے مدینے والےؐ

رات بھر کی وہ نمازوں کا قیام
دن کے روزے تو نام کا وہ طعام
بخششیں مانگتے سجدوں کی طوالت کو سلام
کتنا بے مثل صلہ رحمی مدینے والے ؐ
خواہش مومن و امی ہے مدینے والےؐ

-O-



ہاں وہی میرا نبیؐ ہے

پلکوں سے راستوں کے کنکر اٹھا رہا ہے
قالین بن کے دل یہ بچھتا ہی جا رہا ہے

تھی سوچ پر مسلط میری زندگی کی سیاہی
وہ سفیر روشنی ہے جو جگمگا رہا ہے

میں نشانِ راہ کھو کر کہیں کھو ہی دیتی منزل
میرا مہربانؐ راہبر رستہ دکھارہا ہے
جو مخالفوں کی زد میں کھڑے مستعد ہمیشہ
ہاں وہی میرا نبیؐ ہےجو مسکرا رہا ہے

اس نے سبق پڑھایا سچائی اور حق کا
اسباق سارے عملا ًکر کے دکھا رہا ہے

ممتازؔ خوش نبیؐ کو کرنا ہی زندگی ہے
رب بھی اسی خوشی میں رحمت لٹا رہا ہے

-O-



قرار آیا

سرور آیا قرار آیا
جہاں میں جاں بہار آیا

سکونِ دل اور قرار جاں ہے
وہ ایسا ہی ذی وقار آیا

ہے معاف کرنا ہی جس کی فطرت
وہ رحمتِ بے شمار آیا
خوشی ہی بانٹے غموں کے بدلے
کہ عظمتوں کا مینار آیا

سسکتی انسانیت کو دینے
محبتوں کے وہ ہار آیا

بلندیوں کا دکھانے رستہ
وہ اونٹنی پر سوار آیا

وہ جن کے چہرے کی اک جھلک سے
ہر اک نظر کو قرار آیا

حسین زلفوں سے کھیل کر ہی
ہوا میں مشکِ غبار آیا

اسی کے ممتازؔ دم سے جگ میں
رحم دِلی کا نکھار آیا



عطا کیجیے

ہم سے بھی ملا کیجیے
دیدار عطا کیجیے

دل مبتلا ہے جس میں
اس غم سے رہا کیجیے

ہم بھی ہیں غلاموں میں
دنیا کو بتا کیجیے
کیا آپ سے پردہ ہے
خوشیوں کی دعا دیجیے

امید ہے جو مجھ کو
اس سے بھی سوا کیجیے

یوں میری خطائوں پر
خود کو نہ خفا کیجیے

دل روز سلامی دے
اوقات بڑھا دیجیے

ملتا ہے سبھی کچھ تو
بس آس دلا دیجیے

ممتازؔ جی آقا سے
ہے شرط وفا کیجیے



کرم کے سائے میں

کرم کے سائے میں جی رہے ہیں
پلانے والے پلا رہے ہیں
پیاسے جی بھر کے پی رہے ہیں
کرم کے سائے میں جی رہے ہیں

زمانے بھر سے جو زخم کھائے
طبیب اعلی کے پاس آ کر
تمام زخموں کو سی رہے ہیں
کرم کے سائے میں جی رہے ہیں
سبق یہ ذات العلیٰ سے پایا
صلہ رحمی کی زندگی میں
کبھی نہ کرتے کمی رہے ہیں
کرم کے سائے میں جی رہے ہیں

نجات ممکن ہے راستے میں
اگر یہ اسوہ وہی ہیں ممتازؔ
جو آقا کی زندگی رہے ہیں
کرم کے سائے میں جی رہے ہیں

-O-



دلِ زار چل

در آقاؐ پہ دلِ زار چل
تجھے مرحبا میرے یار چل

جہاں منسلک ہے سکون دل
وہاں اک نہیں کئی بار چل

تو بھلے برےکی تمیز کر
نہ یوں بے خبر سی گزار چل

اے ضمیر خوابیدہ سن ذرا
میرے آنسوؤں کی پکار چل
مجھے بیقراریاں سونپ کر
میری زندگی کے قرار چل

ابھی جنتوں کی خبر نہ دے
ذرا پل صراط کے پار چل

جہاں منتظر ہیں نبی زماں
اسی دل نشیں گلزار چل

وہاں جا کے کام کی ہو سکوں
ابھی تو ہوں عضوِ بیکار چل

سبھی آزما کے ہیں دیکھ لیں
نہیں ان کے عشق میں ہار چل

تیری مشکلوں پہ جو رو دیے
ممتازؔ ان پہ نثار چل

-O-



خاک ہے خاک میں

یہ بدن خاک ہے بس خاک میں ملنے کے لیے
روح پہنچے گی یہ افلاک میں ملنے کے لیے

میری اوقات بہت کم یے کرم ہے زیادہ
ہے یہ جرات خس و خاشاک میں ملنے کے لیے

ساتھ میرے ہے ہجوم اور میرا دل تنہا
سچ یہ ہے دیدہ نمناک میں ملنے کے لیے
آرزووں کے جنازے پہ ہے دھوکے کا کفن
اب لحد اور عمل تاک میں ملنے کے لیے

ہاں اسی حال میں اٹھو گے چھپانے والو
سب اسی حالت بیباک میں ملنے کے لیے

کون پہچانے گا جب اپنی پڑی ہو گی ہمیں
آرزو ہے بڑی لولاک میں ملنے کے لیے

کچھ بھی ممتازؔ ہو پہنچادو قدم بوسی کو
بس یہ صورت ہے نگہِ پاک میں ملنے کے لیے

-O-



نعتیہ ماہیے

آقاؐ دنیا پہ آتے ہیں
بخشش کا وہ ہم سب کو، پیغام سناتےہیں

ہم جشن مناتے ہیں
صدقہ نبیؐ جی کے دربار کا کھاتےہیں

کوئی ماہ تمام اپنا
جو اُسوہءِ حسنہ پہ چلیں ،پائیں مقام اپنا
کیا خوب مہینہ ہے
ایمان نہیں جس میں ، اس کا کیا جینا ہے

جہاں آبِ زمزم ہے
سرکارؐ کی گلیوں میں گم جانا مقدم ہے

کوئی میٹھا میوہ ہے
اس کو ملا جس نے کی ماں باپ کی سیوا ہے

کہیں بارش کا پانی
مجھے در پہ بلاتے ہیں آقاؐ کی مہربانی

دانہ عجوہ کھجور کا ہے
سرکار ؐکی محفل میں نہ ذکر غرور کا ہے

کوئی جوڑا ست رنگی
رب مہر کرے ہم پر ہو دور ہر اک تنگی
ہے قبر مکان اپنا
صرف جمع وہ کر، جو یہاں لائے سامان اپنا

نہ وقت گنوایا کر
فرصت جو ملے لب کو، کلمہ دہرایا کر

نہ قہر کمایا کر
کوئی واسطہ دے رب کا، تو ڈر بھی جایا کر

اے مست ہوا سپنا
ہم دوش پہ تیرے ہی پہنچائیں سلام اپنا

-O-

.

پنجابی نعتِ رسول مقبولﷺ



قسماں نہ کھایا کر

آقا ؐدیاں ناواں دیاں قسماں نہ کھایا کر
کھا لویں جے فیر او گلاں تو نبھایا کر

گلاں دیاں قدراں توں اوناں نے پچھاڑناں اے
کوئی وی نہ ہویا جدوں اوناں نے سیاڑناں اے
کلمے دا ہر ویلے وِرد پکایا کر
آقا ؐدیاں ناواں دیاں قسماں نہ کھایا کر
ساڈے لئی ساری راتی اللہ دے حضور وچ
ہو کے بےقصور منگیاں بخششاں حضور وچ
گل ہووے سوہنے دی تے چپ کر جایا کر
آقا ؐدیاں ناواں دیاں قسماں نہ کھایا کر

سچا ہو جا لوڑ کی اے فیر تینوں قسماں دی
بن کے امین رکھ لاج اودی رسماں دی
حکم حضور اتے سر نوں جھکایا کر
آقا ؐدیاں ناواں دیاں قسماں نہ کھایا کر

رب سوہنا بھید سارے دل والے جاندا اے
ممتازؔ نیتاں وی ساڈیاں پچھاندا اے
دل دیاں گلاں نہ توں اوناں توں لکایا کر
آقا ؐدیاں ناواں دیاں قسماں نہ کھایا کر

-O-



دساں کی حلیمہ ؓ

دساں کی حلیمہؓ تیری بکریاں جو چاردا
خوبیاں کی دساں اوتے یار سوہنڑیں یار دا

کدی وی سواد نال معاملے نبھائے نہ
اج وی جے میرے گھر سن لو او آئے نہ
میں تے گناہ گار ہاں ڈر گھر بار دا
خوبیاں کی دساں اوتے یار سوہڑیں یار دا
دساں کی حلیمہؓ تیری بکریاں جو چاردا
اک دن سامڑیں تیرے میں کھلوڑاں اے
پلے میرے کج وی نہیں اس دن ہوڑاں اے
رحمتاں تے آسرا اے میرے ہر بھار دا
خوبیاں کی دساں اوتے یار سوہڑیں یار دا
دساں کی حلیمہؓ تیری بکریاں جو چاردا

من چاہی گل کیتی من چاہے کم وی
ویچ کے آخیر مینوں ملڑیں سی غم وی
اوہناں دا خلوص ممتازؔ واجاں ماردا
خوبیاں کی دساں اوتے یار سوہڑیں یار دا
دساں کی حلیمہؓ تیری بکریاں جو چاردا

-O-



ناں سوہڑیاں

بدلاں نے لکھیا اے ناں سوہڑیاں
سارے جگ اتے کیتی اوناں چھاں سوہڑیاں

ہر گل مینوں اوناں لئی گھٹ لگدی
شان وچ اوناں دی کی کہاں سوہڑیاں

رضا نہیں جس کم وچ سوہڑیاںاوناں دی
او کم دس کیوں میں کراں سوہڑیاں
کرم اوناں دا جیڑا مینوں لے بچا نہیں تے
دشمناں دے واروں کنج بچاں سوہڑیاں

فیر کی میں کرنا جنت دے باغاں نوں
قدماں چہ مل جائے جے تھاں سوہڑیاں

ممتازؔ دِتی ہوئی مدتاں توں عرضی
منظوری نوں اڈیکدی رہواں سوہڑیاں

-O-



آقاؐ دا شہر مدینہ

کوئی وی مسجد نبوی دا قصہ جد سناندا اے
مینوں آقاؐ دا فیر شہر مدینہ یاد آوندا اے
کوئی ٹھنڈی ہوا دا روح نوں جھونکا ہلاندا اے
مینوں آقاؐ دا فیر شہر مدینہ یاد آوندا اے
کوئی وی کہہ کے جد امی میرا ہاسا اڈاندا اے
مینوں آقاؐ دا فیر شہر مدینہ یاد آوندا اے
جدوں لے کے کوئی داغ یتیمی وینڑں پاندا اے
مینوں آقاؐ دا فیر شہر مدینہ یاد آوندا اے
جدوں دھی نوں کوئی نفرت دی سولی تے چڑھاندا اے
مینوں آقاؐ دا فیر شہر مدینہ یاد آوندا اے
کوئی ممتاز ؔجدغربت زدہ دا دل دکھاندا اے
مینوں آقاؐ دا فیر شہر مدینہ یاد آوندا اے
-O-
.

اہلِ بیتؑ کے نام



حُسین ؑاور کرامت کیا ہے ؟

خود تو فاقے سے نہ لوٹایا سوالی خالی
ان کے در سے ہی یہ جانا کہ سخاوت کیا ہے

تم نے کس گھر سے منافق یہ بغض پال لیا
جو نہیں جانتے لوگو کہ عداوت کیا ہے

رب نے ہر حد کو مٹا کرجو عطا کی معراج
سارے نبیوں کو بتایا کہ رسالت کیا ہے
اپنے پیاروں کو سمیٹا کئی ٹکڑوں میں مگر
اُف نہ کی تب بھی حُسینؑ اور کرامت کیا ہے

اپنا گھر بار لٹایا شہہِ دیں کی خاطر
ساری دنیا کو دکھایا کہ امامت کیا ہے

جان آقاؐ پہ نچھاور تو کی بھائی نہ کہا
کوئی شبیرؑ سے سیکھے کہ عقیدت کیا ہے

خشک ہونٹوں لب دریا جو کھڑا ہے کب سے
جاؤ پوچھو یہ اسی سے کہ اجازت کیا ہے

کتنا افسوس ہے دریا کو جو کام آ نہ سکا
اے نواسائے نبیؐ اور قیامت کیا ہے

آج مرقد پہ بھی پانی ہے پٹختا سر کو
اور عباسؑ بھی کہتے ہیں ضرورت کیا ہے
وہ جو میدان میں نکلا تو نہ مڑ کر دیکھا
آؤاکبرؑ سے یہ سیکھیں کہ شہادت کیا ہے

بعد مرنے کے بھی آتی ہے لحد سے خوشبو
جا کے شہداء سے یہ پوچھو کہ نفاست کیا ہے

سر ہی جب وار دیا اپنا تو ممتازؔ بتا
کون یہ فکر کرے اب کہ سلامت کیا ہے

-O-



حسینؑ بننا کمال ٹھہرا

یزید بننا رزیل ٹھہرا
حسینؑ بننا کمال ٹھہرا

میرے نبی ؐکی جھلک ہو جس میں
حسینؑ کا وہ جمال ٹھہرا

بہت بڑا فرق ان میں ہے گر
نظر میں تیری نہ بال ٹھہرا
حسینؑ دے دے کے بھول جائیں
یزید سکے اچھال ٹھہرا

جواب جس کا نہ دے سکیں وہ
نہ ایسا کوئی سوال ٹھہرا

جہاں پہ حق مستند کھڑا ہو
وہاں پہ باطل محال ٹھہرا

چلے ہیں ممتازؔ جس سفر پر
عروج کو نہ زوال ٹھہرا

-O-



حسینیوں کا اظہار

اک بار نہیں ہم کو ہر اک بار چاہیے
نااہل کے سر پہ سجی دستار چاہیے

رب کے سوا کسی کا نہیں حق یہ جان لو
ہر وقت ہاں نہیں کبھی انکار چاہیے

زینب ؑنے برملا کیا دربار ظلم میں
پھر سے حسینیوں کا وہ اظہار چاہیے
جس پر کٹی تھی گردن شبیرؑ دوستو
ہم کو ہمارے ہاں وہی افکار چاہیے

پانی نہ پی سکا جو کبھی عمر بھر کہیں
وہ باوفا سا عابدِ بیمار چاہیے

اہلِ یزید تم پہ کروڑوں ہوں لعنتیں
ہر روز تم پہ جو چلے تلوار چاہیے

مجھ کومیری غیرت کوجوجھنجھوڑکے رکھ دے
ممتازؔ دن یہ اور کتنی بار چاہیے

-O-



شام کو جاتی زینب ؑ

جس گھڑی بیڑیوں میں شام کو جاتی زینب ؑ
کاش چادر میں تیرے سر پہ اوڑھاتی زینبؑ

بن کے بارش میں برس جاتی تیرے ہونٹوں پر
تو مجھے پیار سے اک بار بلاتی زینبؑ

میں تیری بھوک میں در درکوئی ساماں کرتی
اور کہیں سے کوئی اسباب تو لاتی زینبؑ
سامنے خیموں کے میں دھول ہی ہوتی اس دم
اور خود کو تیرے قدموں میں بچھاتی زینبؑ

تیرے بھائی کیلئےجب تیری آنکھیں روتیں
آنسوؤں کی طرح آنکھوں میں سماتی زینبؑ

اپنےمنہ پر میں سکینہ کےوہ چاٹنے کھاتی
چند قطرے تجھے پانی کے پلاتی زینبؑ

کاش اسوقت جو ہوتی میں زمانے میں تیرے
جانثاروں میں تیرے نام لکھاتی زینبؑ

میں اتر جاتی کلیجے میں تیرے دشمن کے
تو جو ممتاز ؔکو برچھی سا چلاتی زینبؑ

-O-



پرسہ

ہم سب مسکا پائیں کیسے
جنت کے سردارؑ کا غم ہے

سر کا صدقہ دےکے بتایا
نبیوںؑ کی دستار کا غم ہے

جس نے جھلایا باہوں میں اُس
احمدؐ مختار کا غم ہے
جس کے سبب تخلیق جہاں ہے
دو جگ کے دلدار کا غم ہے

کیسے آنکھیں خشک ہوں میری
یہ میرے سرکارؑ کا غم ہے

ان کے بنا کیا کوئی مسلماں
دین کے پہریدار کا غم ہے

ان سے مخلص ہونا میرے
اس دل ذمّہ دار کا غم ہے

عورت ہو کر زندہ ہوں میں
یہ میرے پندار کا غم ہے

کیا ممتازؔ انکار ہو اس کا
یہ اللہ کے یار کا غم ہے



آؤ غمِ حسینؑ میں

آؤ غم حسینؑ میں آنکھوں کو نم کریں
محسوس اپنے دل پر زینبؑ کا غم کریں

دنیا کو درس جس نے امامت کا یوں دیا
سجدے میں رب کعبہ کے سر کو قلم کریں

دہلیز پر جمی ہیں نگاہیں کسی کی جو
کیسے اس انتظار کو بولو رقم کریں
تاحشر کوئی جس کو نہ پامال کر سکے
ایسے محبتوں کے صحیفے رقم کریں

اے شہر شام اشکوں کاموسم ٹھہر گیا
گلیوں سے تیری غم کے ہی گزرا علم کریں

دیتا ہے درس کربلا حق بات پر سدا
اس جیسے عزم سے سبھی اٹھا قدم کریں

جیسے حسینیوں نے کیا سچ کا سامنا
ممتازؔایسے کون یہ درجے اتم کریں

-O-



پس ِ زنداں

کربل کے اس شہید کو تم کیا کہو بھلا
سارے جہاں کا درد کلیجے میں لے گیا
ننھے علی اصغرؑ کا جگر چھلنی ہو گیا
بالے علی اکبر ؑکی بھی میّت کو ڈھو گیا
معصوم کلی صغریٰ ؑ مدینے میں رہ گئی
بچپن سکینہؑ کا پسِ زندان کھو گیا
جس کا فلک نے بال بھی دیکھا نہ تھا کبھی
وہ فاطمہؓ کی دختر وجاں اور ذاکرہ
کھینچی جو سر سے چادر زینب غضب ہوا
کیا روزِ حشر تھا کہ آسماں بھی رو پڑا

آلِ رسولﷺ جان بھی قربان آپ پر
پھٹنے لگے ہے میرا کلیجہ بھی تڑپ کر
منظر وہ کربلا کا مجھے یاد آئے جب
رونے لگے ہے روح میری مجھ سے جھڑپ کر

ایسے درندہ صفت بھی ہیں اُمیِٔ رسولؐ
اُن کی دعاؤں کو بھی کیا آپؐ نے قبول
جو زندگی گزار دیں ممتازؔبےاُصول
اولاد ہے یزید کی دنیا میں اب ملول

-O-



اب کون سا حسینؑ؟

صحرامیں کون پھول کھلانے کو آئے گا
پیاسوں کی کون پیاس بجھانے کو آئے گا

اصغر ؑجو کوئی روئے یہاں ظلم نگر میں
ماؤں کو کون صبر دلانے کو آئے گا

چکّی میں ظلم کی جو پسی جائیں بیٹیاں
تو کون سا حسینؑ بچانے کو آئے گا
انسان کی بیچارگی کے اشک رواں ہیں
اب کون سا حسینؑ سکھانے کو آئے گا

حق کے وفا کے سچ کے محبّت کے امن کے
آنکھوں کو کون خواب دکھانے کو آئے گا

ممتازؔ ظلم کون مٹانے کو آئے گا
اب کون سا حسینؑ زمانے کو آئے گا

-O-



رمضان آ گیا

مہمان آگیارمضان آگیا
رمضان آگیا رمضان آگیا

دیکھا جو چاند چل دیے
تراویح کے لیے
سحری کے انتظام اور
تسبیح کے لیے
سارے مہینوں کا سلطان آگیا
رمضان آگیا رمضان آگیا

ہاتھوں کو کھول
کیجیے خیرات دوستو
اس میں چھپی ہے
راہِ نجات دوستو
سچا بنانے ہم کو مسلمان آگیا
رمضان آگیا رمضان آگیا

فطرانے اور زکواۃ
ادا کیجئے جناب
اللہ کا حق ہےبندوں کو
وہ دیجیئے جناب
کرنے کو مشکلیں آسان آ گیا
رمضان آگیا رمضان آگیا

اپنے پڑوسیوں کی
خبر لیجئے حضور
احکام خدا کا ہی
اثر لیجئے حضور
ممتازؔ ہونے سب پہ مہربان آ گیا
رمضان آ گیا رمضان آ گیا
۔

سلامِ گل ہائے عقیدت



صدر ذی مقام

امید کے دانوں پہ پڑھوں میں نبیؐ کا نام
اللہ کے حبیب ؐکا اعلی بہت مقام

کہتا ہے رب تعالیٰ مدثرؐ و مزمل ؐ
خیرالعلیٰ ؐبھی کہہ کے کبھی کر دیا کلام

اے فخر ذی مقام ؐبشیر و نذیر ہیں
دیتے ہیں جو خوشی کی خبر ، ڈر کا بھی پیام
لاکھوں درود آپؐ پر لاکھوں پڑھوں سلام
اے والی کونینؐ میرے صدر ذی مقام

بخشش ہماری آپ کی چاہت سے منسلک
واجب ہے ہم پہ آپ ؐکا دل جاں سے احترم

بانی ءِمحفل و سبھی حاضر ہیں جو غلام
آل نبی ؑپہ پیش کروڑوں کریں سلام

جھکتا ہے جب بھی آپ ؐکے دربار میں یہ سر
ممتاز ؔرب بھی موڑتا ہے کر کے انتظام

السلام السلام السلام السلام
السلام السلام السلام السلام

-O-



سلام آ گیا ہے

سلام آ گیا ہے سلام آ گیا ہے
نبیؐ جی پہ وقتِ سلام آ گیا ہے

اُٹھو بے سہارو! اٹھو غم کے مارو!
محبت میں وقتِ قیام آ گیا ہے

زبانِ محمدؐ میں ہے حکمِ ربی
وہ قرآں کا لے کر کلام آ گیا ہے
پیامبر بھی جن سے ہیں ملنے کے شائق
وہی انبیاء کا امامؐ آ گیا ہے

جو اُمت کے غم میں تھے راتوں کو روئے
انہی آنسوؤں کو دوام آ گیا ہے

نہ کی شکم سیری کبھی جس نبیؐ نے
بھریں جھولی جو بھی غلام آ گیا ہے

چلو پیش کرتے ہیں ممتاز ؔجا کر
کہ وقتِ درود و سلام آ گیا ہے

-O-



سلام بھیجا ہے

میں نے آقاؐ سلام بھیجا ہے
حال دل کا تمام بھیجا ہے

کس طرح اس کا شکر کر پاؤں
جس نے خیرالانام بھیجا ہے

رحمت العالمیںؐ بنا جس نے
رحمتوں کا پیام بھیجا ہے
معاف کر کے خطاؤں کو میری
چاہتوں کا انعام بھیجا ہے

پھر بلایا ہے اپنی محفل میں
پھر سے بخشش کا جام بھیجا ہے

ان کی امت میں کر دیا پیدا
دے کے اعلی مقام بھیجا ہے

رب اعلیٰ کا دلنشین لہجہ
اپنا دلکش کلام بھیجا ہے

میرے آقاؐ کا دین ہے ممتازؔ
اک مکمل نظام بھیجا ہے

-O-



خاتمِ دختر کشی

سلام اے خاتم دختر کشی!
سلام عورت کے وجہِ زندگی
سلام اے بیٹیوں کو رحمت بنانے والے
سلام اے بہنوں سے درس محبت دینے والے
سلام اے ماؤں کے پیروں میں جنت سونپنے والے
سلام اے بیویوں کو حق محبت سونپنے والے
سلام اے بیٹیوں کے واسطے چادر بچھا کر دینے والے
سلام اے بہن کی خاطر کئی قیدی رہا کر دینے والے
سلام اس پر کہ جس نے لونڈیوں کو عزتیں بخشیں
سلام اس پر کنیزیوں کو بھی جس نے رفعتیں بخشیں
سلام اس پر کہ جس نے عورتوں کو زندگی بخشی
سلام اس پر کہ عورت کو بھی حق ِبندگی بخشی
سلام اس پر کہ جس نے ملکیت کو ماں بنا ڈالا
سلام اس پر کہ اس کو رحمتوں کی چھاں بنا ڈالا
سلام ان آنسوؤں پر بچیوں کے غم میں جو
سرکار کی آنکھوں سے بہتے تھے
خدا کا خوف دے کر ان کے حق میں جو خدا خوفی کا کہتے تھے
سلام ان لوریوں پر آپ کو دے کر دعائیں جو
اپنی بیٹیوں کو مائیں خوش ہو کر سناتی تھیں
سلام ان پر جو بچوں کو نبیؐ کا ذکر
اور قصے محبت سے بتاتی تھیں
سلام اس پر کہ جس کی وجہ سے ہم زندگی کی باس رکھتے ہیں
سلام اس پر کہ جس کی وجہ سے بخشش کی ہم بھی آس رکھتے ہیں

-O-


حاضر ہوئے ہیں خاکسار

آپؐ کے دربار میں حاضر ہوئے ہم خاکسار
لب پہ ہے صلی علیٰ تسبیح درودوں کے ہیں ہار

آرزو بھی ہے دعائے بے کساں بھی ہو قبول
ہو اگر پھر سے نصیب ایسی ہی محفل اگلی بار

دل کا ہر احوال ہے مد نظر سرکارؐ جی
منہ سے کہنے کا نہیں یارہ اے شاہ ذی وقارؐ

آپؐ سے بڑھ کر کوئی رکھتا ہے پردہ عیب کا
سوچ کر یہ ہی چلے آئے ہیں ہم سب جانثار

الصلوۃ والسلام الصلوۃ السلام
الصلوۃ والسلام الصلوۃ والسلام
.

دُعا و مناجات



خوفِ خدا

اس دل کا کیا کروں ، جسے خوفِ خدا نہ ہو
وہ علم کیا کروںجس سے حاصل نفع نہ ہو

وہ نفس کیا کروں جسے حاصل نہیں سیری
مقبولیت نہ پا سکے ، ایسی دعا نہ ہو

عاجز ہو جائیں تیرے سوا اور کے آگے
وہ حال کر کہ عجز میں ، یوں مبتلا نہ ہو
ایسی بزرگی اور، بڑھاپے کا کیا کروں
جس میں نصیب تیرے، کرم کی عطا نہ ہو

سو نعمتیں و رحمتیں بخشی گئیں ہمیں
کیا فائدہ کہ کوئی نفع ، باوفا نہ ہو

تقویٰ عطا کیا نہ اگر میرے نفس کو
گویا کہ نفس بار جو تقویٰ عطا نہ ہو

جتنی گزر گئی ہے اسے معاف کرکے اب
یارب یہ التجا ہے کہ کوئی خطا نہ ہو

ممتازؔ رب سے پاک بھلا کوئی ذات ہے
وہ بد نصیب جس کا کوئی آسرا نہ ہو

-O-



علی الفلاح

پھر سے تمہیں موذن رب سے ملا رہا ہے
حیی علی الفلاح وہ تم کو سنا رہا ہے

نادان تو یہاں پر آنسو بہا رہا ہے
اللہ کے گھر سے تم کو پیغام آ رہا ہے

دیکھو فلاح کی جانب تم کو بلا رہا ہے
مشکل میں کتنے رستے تم کو دکھا رہا ہے
سجدے میں سر کا رکھنا کیونکر گراں ہے تجھ پر
قسمت کو اپنی خود ہی تو کیوں سلا رہا ہے

پنج وقت رحمتوں کا تم پر نزول ممکن
آواز دے کے تم کو خود وہ بلا رہا ہے

ممتازؔ جس رضا سے بنتے ہیں کام سارے
اپنی رضا کے موتی تم پر لٹا رہا ہے

-O-



کتنا غم ہے مولا

تیری دنیا میں کتنا غم ہے مولا
یہاں پر جو کرو وہ کم ہے مولا

نہیں تاثیر اب ان آنسوؤں میں
بھلے سے آنکھ ہر اک نم ہے مولا

ہماری روح کتنی منتشر ہے
یہ ذہن و دل کہاں پیہم ہے مولا
ہزاروں آرزوئیں پل رہی ہیں
مگر لگتا ہے جیسے کم ہے مولا

ہے بھاگم بھاگ جن خوشیوں کی خاطر
چھپا خوشیوں میں بھی ماتم ہے مولا

نئی امید پر دنیا ہے قائم
بھلے سے لو بڑی مدھم ہے مولا

سمیٹیں کرچیاں خوابوں کی پھربھی
خوشی ممتازؔ کی قائم ہے مولا

-O-



سبحان تیری قدرت

یہ تیرتے سے بادل نادیدہ سی ہوائیں
سبحان تیری قدرت مولاتیرا کرم ہے

اعمال کی سیاہی دل کو نہ سیاہ کر دے
تو نے ہی رکھے پردے تو نے رکھی شرم ہے

تنہا نہ چھوڑ دےگا مجھ کو کسی گھڑی میں
تجھ پر یقین میرا تجھ پر میرا بھرم ہے
دنیا بنانے میں جب اتنا خیال رکھا
یہ سوچنا بجا ہے جنت تو محترم ہے

ہر سانس پر اجازت تیری ہی دسترس میں
تیری نظر سے بچ کر رہتا کوئی حرم ہے

زیادہ نصیب سے اور نہ وقت سے ہے پہلے
ممتاز کا عقیدہ یہ دین اور دھرم ہے

-O-



اک بار فرشتے نے کہا

اک بار فرشتے نے کہا اے میرے مولا
مجھ کو بھی نبیؐ پاک کا دیدار عطا کر

اپنی بھی کبھی ہو گی ملاقات کی باری
جبریلؑ تو جاتا ہے کئی بار وہاں پر

رحمت خدا کی جوش میں آتی ہے یہ کہہ کر
یہ شوقِ محبت ہے جو شدّت ہے جہاں پر
چھہ ہزار چھہ سو چھیاسٹھ تھیں کُل آیات
چوبیس ہزار بار جبرائیلؑ کے چکر

ہر بار وہ آیاتِ قرآنی نہیں لائے
بہروپ بدل کربھی بارہا ہوئےحاضر

جب دل مچلتا آپؐ کی خدمت میں چلے آتے
ملتا تھا سکون جس کو سرکارؐ کے در پر

اللہ تھا جبرائیلؑ کےاحوال سے واقف
ممتازؔ دوا جن کے لیے چہرہ انور

-O-



میں بھی فرشتہ ہوتی

تیرا کیا جاتا اگر میں بھی فرشتہ ہوتی
لے کے قرآن کسی کونے میں بیٹھی ہوتی

رات دن تیری عبادت میں بسر میں کرتی
تیرے ہر حکم کو بند آنکھوں میں مانا کرتی

تو جو کہتا کہ سحر ہے تو میں کہتی ہاں ہے
تو جو کہتا کہ نہیں ہے تو میں سچ ہے کہتی
پاک ہوتی میں گناہوں سے عذابوں سے تیرے
اک تیرا نام میں لے لے کے خوشی سے جیتی

حاضری تیری ہی خدمت میں مقدر ہوتی
اور اسی چاکری پہ میں بڑی نازاں ہوتی

پھر میرا نام بھی ممتاز ؔبھلے نہ ہوتا
غیر ممتازؔ ہی رہتی تیری ہو کر رہتی

-O-



جینا سکھا مجھے

یارب غم حسینؑ میں جینا سکھا مجھے
ان کی طرح سے درد کو پینا سکھا مجھے

ہر بات پر میں دوسرے کا بغض نہ پالوں
نکلے گا دل سے کس طرح کینہ سکھا مجھے

اچھائیاں بھی دوسروں کی دیکھ پائے جو
نابینا ہو گا کس طرح بینا سکھا مجھے
صبر ورضا کے ساتھ جو رب کو منا سکوں
ایسا وہ زندگی کا قرینہ سکھا مجھے

اپنے پرائے سب کے دلوں میں بھی گھر کروں
چڑھتے ہیں کیسے پیار کا زینہ سکھا مجھے

ممتازؔ گھر نہ اس کو گناہوں کا بننے دوں
دل کوبنائوں کیسے نگینہ سکھا مجھے

-O-



ایسی مثال دے

ہر چیز تیرے عشق میں ایسی مثال دے
بجھتے دیئےمیں جیسےکوئی تیل ڈال دے

جب سوچتا ہے دل تیرے بے پایاں فضل کو
دھڑکن نکل کے وجد میں آکر دھمال دے

ہر ایک گام پاؤں میں زنجیر ضبط کی
تُو ہی تو مشکلات سے آ کر نکال دے
تجھ سے تیرے کلیم کا صدقہ ہی مانگ لوں
تجھ تک پہنچ سکے وہی لفظی کمال دے

نہ چھوڑ مجھ کو وقت کی دہلیز پہ تنہا
گرنےلگوں توبڑھ کے مجھے بھی سنبھال دے

میں ہوں سیاہ کار مگر تو ہے مہربان
انصاف کی نہیں مجھے رحمت کی ڈھال دے

دامن ہے مختصر تیری رحمت دراز ہے
ممتاز ؔکو کوئی بھی نہ ہلکا خیال دے

-O-



اللہ ہو ، اللہ ہو

دم دم دے نال ورد کراں تے ہووے اللہ ہو
اللہ ہو ، اللہ ہو ، اللہ ہو ، اللہ ہو

بخشش تیری میں کر لاں حاصل ایہو جستجو
اللہ ہو ، اللہ ہو ، اللہ ہو ، اللہ ہو

میریاں خطاواں شمار نہ کریو میں نہیں شماریاں جو
اللہ ہو ، اللہ ہو ، اللہ ہو ، اللہ ہو
اپنی عطاواں دا بوہا کھولیں میرے اوپر تو
اللہ ہو ، اللہ ہو ، اللہ ہو ، اللہ ہو

جان بلاں توں نکلے جس دم لب تے ہووے تو
اللہ ہو ، اللہ ہو ، اللہ ہو ، اللہ ہو

تیری پسند دے باہر نہ میں کراں کدی گفتگو
اللہ ہو ، اللہ ہو ، اللہ ہو ، اللہ ہو

مرن توں پہلے پاک ہوجاواں ایہو آرزو
اللہ ہو ، اللہ ہو ، اللہ ہو ، اللہ ہو

وقت نزع آسان کریں جیویں نکلے پھلاں توں بو
اللہ ہو ، اللہ ہو ، اللہ ہو ، اللہ ہو

-O-



آقا تیرا یہ بندہ

آقا تیرا یہ بندہ مشکل سے دل سنبھالے
ایسی کوئی خطا ہے جس سے نہ تُو بچا لے

اس نفس کی غلامی نے جس طرح ہے جکڑا
کوئی اسے وہاں سے اب کسطرح نکالے

راہوں کے سارے دیپک بجھتے ہی جارہے ہیں
توفیق اس کو دینا دیپک نئے جلا لے
طوفان میں ہے کشتی اور سامنے بھنور ہے
تُوچاہے تو بھنور میں رستہ نیا بنا لے

بے سود میری کوشش ہر دم رہی ہمیشہ
میں صاف کر سکوں نہ دل پر لگے یہ جالے

سورج تو روز گھر میں آتا ہے میرے لیکن
اس دل کو کر دے قابل جو لے سکے اجالے

ممتازؔ خوش نصیبی کس طرح ایک در کو
اک زندگی میں دوجی بار آ کے کھٹکھٹا لے

-O-



میری قسمت روشن کر دے

تیرا میں جس گھڑی میں نا م لے لوںرب
میری قسمت کو تُو روشن بھی کر دے

تُو مجھ پہ کر کے بارش رحمتوں کی
بھلے سے تنگیءِ دامن بھی کر دے

کہ جو ہر راستہ گلشن بنا دے
مجھے ایسی کوئی مالن ہی کر دے

وہ جس کی ہر صدا تیرے لیے ہو
میرے دل کی وہی دھڑکن بھی کر دے

سرایت خون میں ممتاز ؔگر ہو
حیا داری میری چلمن ہی کر دے
-O-
تمت بالخیر

Viewers: 498
Share