بچوں کے ادب کیلئے شبیر ناقد کی نظمیں ۔۔۔ ضیافتِ اطفال

بچوں کی ذہنی نشوونما کیجئے ضیافتِ اطفال (بچوں کیلئے نظمیں) شبیر ناقدؔ معرفت پروفیسر ظہور احمد فاؔتح، نزد تعمیرِ نو اکیڈمی کالج روڈ، تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازیخان(پنجاب۔ پاکستان) رابطہ […]

بچوں کی ذہنی نشوونما کیجئے

ضیافتِ اطفال

(بچوں کیلئے نظمیں)

شبیر ناقدؔ

معرفت پروفیسر ظہور احمد فاؔتح، نزد تعمیرِ نو اکیڈمی
کالج روڈ، تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازیخان(پنجاب۔ پاکستان)
رابطہ فون: 0333-5066967 0303-9297131 0342-5237636

اُردوسخن

استحقاق:تمام تصرفات ’’شبیر ناقِدؔ ‘‘کی تحویل میں ہیں
ناشر: اردو سخن ڈاٹ کام، پاکستان
نمودِ اول:مئی 2019ء

کمپوزنگ: محمد شہر یار ناصر
سروروق: ناصر ملک
طباعت: شیرِ ربانی پریس، ملتان
قیمت:50 روپے (5ورو، 5ڈالر)


انتساب

اپنے اکلوتے اور لاڈلے بیٹے
محمد کاوش
کے نام!




اسکول
پڑھنے جانا ہے اسکول
کھیل کود کو جائیں بھول
علم ہمارا ساتھی ہے
سب سے پیارا ساتھی ہے
علم ہماری جنت ہے
اس میں ہماری راحت ہے
پڑھ لکھ کر ہے نام کمانا
ملک و قوم کی خدمت کرنا
روشن دیس کا نام ہے کرنا
ہم نے ہی یہ کام ہے کرنا

عظمتِ استاد
رتبہ اس کا سب سے اعلیٰ
جو سمجھے وہ عزت والا
ہر دم علم کے دیپ جلائے
خوابیدہ اذہان جگائے
الفت کا پرچار کرے یہ
دانش سے سرشار کرے یہ
اس نے قلم کی دولت بخشی
انسانوں کو عظمت بخشی
اس نے علم کا زیور بخشا
جیون کو اک منظر بخشا

تتلی
آئو بچو ! دیکھیں تتلی
وہ جو ہے اک پھول پہ بیٹھی
تتلی ہے یہ رنگ برنگی
میں نے تو ہے آج ہی دیکھی
پر ہیں اس کے پیارے پیارے
نیلے سرخ سنہرے کالے
یہ ہے دیوانی پھولوں کی
رانی جیسے ہو باغوں کی
پتلی پتلی اس کی ٹانگیں
دلکش دلکش اس کی اڑانیں


جگنو

رات کو میں نے جگنو دیکھا
چھوٹا چھوٹا پیارا پیارا
دھیمی دھیمی روشنی والا
دھیرے دھیرے جو اڑتا تھا
رات کا یہ ننھا سا مسافر
بیٹھ گیا تھا تھک کر آخر
قدرت کی ہے شان نرالی
جس نے ہے مخلوق بنائی
جگنو بھی شاہکار ہے اس کا
پیارا پیارا ننھا ننھا


مچھر
روز یہ رات کو آتا ہے
سوئے لوگ جگاتا ہے
مچھر روز ستاتا ہے
بندہ کب سو پاتا ہے؟
کاٹتا رہتا ہے یوں مچھر
تیر چلاتا ہے جسموں پر
طرح طرح کے نام ہیں اس کے
غیر مناسب کام ہیں اس کے
یارب! اس کو رکھنا دور
ملیریا سے کرتا ہےچُور

بلی
ہم نےہے اک بلی پالی
ریشمی ریشمی بالوں والی
بھوری بھوری آنکھیں اس کی
لمبی لمبی مونچھیں اس کی
دودھ پیا کرتی ہے بلی
عیش کیا کرتی ہے بلی
چوہے کھانا کام ہے اس کا
بھوجن صبح و شام ہے اس کا
روٹی گوشت بھی کھاتی ہے یہ
چوہوں سے کتراتی ہے یہ



بہار اور بچے

سردی جانے والی ہے
بسنت بھی آنے والی ہے

تازہ غنچے چٹکیں گے
شاخوں پر گل مہکیں گے

جوبن پر سبزہ آئے گا
جو اپنا رنگ جمائے گا
کوئل نغمے گائے گی
سب کا دل بہلائے گی

گیت خوشی کے گائیں گے
آپے سے باہر نہ آئیں گے

رقصاں ہوگی ڈالی ڈالی
ہر جانب ہو گی ہریالی

کھیلیں گے سب مل کر بچے
بچے جو ہیں من کے سچے

مائوں کی ہیں آنکھ کے تارے
بابا جی کے جگر کے ٹکڑے



بارش

بچو! بارش آئی ہے
ساتھ خوشی بھی لائی ہے
نئے نئے پھر پھول کھلیں گے
آنکھوں کو فرحت بخشیں گے
بھینی بھینی خوشبو ہو گی
ہریالی بھی ہر سو ہو گی
گرمی کا پھر نام نہ ہو گا
مچھر بھی یوں عام نہ ہو گا
پھر اک جشنِ بہاراں ہو گا
ہر دل شاداں و فرحاں ہو گا

میاں مٹھو
منے نے اک طوطا پالا
طوطا تھا وہ بے حد پیارا
میاں مٹھو کہتا تھا وہ
پیاری باتیں کرتا تھا وہ
صبح سویرے منا اٹھتا
مٹھو سے وہ باتیں کرتا
چُوری روز کھلاتا اس کو
پیار سے وہ سہلاتا اس کو
جب تک مٹھو کچھ نہ کھاتا
منے کو بھی چین نہ آتا


کرکٹ

آئو بچو ! کرکٹ کھیلیں
گاڑ کے اپنی وکٹ کھیلیں
بائولنگ پر جب آئوں گا میں
وکٹ خوب اُڑائوں گا میں
فیلڈنگ کا جب موقع پائوں
ناممکن ہے کیچ گرائوں
بیٹنگ پر جب میں آئوں گا
چوکے چھکے برسائوں گا
آئوٹ نہ ہرگز ہو پائوں گا
ٹیم کو اپنی جتوائوں گا


آنکھ مچولی

آئو آنکھ مچولی کھیلیں
آئو ری ہم جولی کھیلیں
کھیل یہ اپنے من کو بھائے
جو جیتے یہ اس کو ہنسائے
آنکھ مچولی کھیلتے جائیں
چھپ جائیں یا پکڑے جائیں
ایک چھپے اک ڈھونڈے اس کو
اک بھاگے اک پکڑے اس کو
پیار سے کھیل میں جی بہلائیں
اچھے بچے ہم کہلائیں



جاسوس

ہر دم جاسوسی کرتا ہے
اس کھیل میں جیتا مرتا ہے

سب کو یہ پاگل کر ڈالے
اس کے ہیں کچھ کام نرالے
اس کی بالکل سمجھ نہ آئے
کوئی اس کو جان نہ پائے

ہر لمحہ بہروپ دھرے یہ
لوگوں کو حیران کرے یہ

کرتا ہے جاسوسی ہر دم
کون اس کے حال کا محرم

اپنا فرض نبھاتا ہے یہ
کام وطن کے آتا ہے یہ



بیٹا کام یہ سارے کرنا

بیٹا! صبح سویرے اٹھنا
اور نماز سحر کی پڑھنا

پڑھنا پھر قرآن مجید
پھر کاموں کی ہو تمہید
سیر میں ہے کچھ وقت لگانا
پھر تم نے اسکول ہے جانا

استادوں کی عزت کرنا
سبق ہمیشہ شوق سے پڑھنا

اوروں کا بھی ہاتھ بٹانا
اچھی باتیں بھی بتلانا

لکھ پڑھ کے ہے نام کمانا
ہر دم کام وطن کے آنا



گلی ڈنڈا

آئو کھیلیں گلی ڈنڈا
یہ بھی ہے اک کھیل ہمارا
کوئی جیتے کوئی ہارے
جو بھی جیتے نعرے مارے
کل مُنے سے جیتا تھا میں
چُنے سے بھی کھیلا تھا میں
جب اسکول سے واپس آئیں
ہم تو گلی ڈنڈا کھیلیں
سب بچوں نے آج ہے آنا
ہم کھیلیں گے گلی ڈنڈا

گڑیا
میری گڑیا بے حد پیاری
مجھ سے باتیں کرنے والی
ہر پل اس کے ساتھ میں کھیلوں
ہر دم اس کے ساتھ میں بیٹھوں
کپڑے میں اس کو پہنائوں
گیت بھی اس کو دیکھ کے گائوں
گڑیا کے ہیں بال نرالے
سب کا دل ہیں کھینچنے والے
چُنری اس نے پہن رکھی ہے
سب کو جو اچھی لگتی ہے


سردی

پیارے بچو! سردی آئی
رُت ٹھنڈی برفیلی آئی
غسل کرو تو گرم پانی سے
ہاتھ بھی دھوئو گرم پانی سے
موٹے موٹے کپڑے پہنو
اپنے پورے جسم کو ڈھانپو
پہنو جرسی اور سویٹر
دھوپ میں بیٹھو تاپو ہیٹر
صبح سویرے انڈہ کھائو
بعد اس کے اسکول کو جائو

پتنگ
پتنگ میری ہے خوب صورت
مجھے ہے اس سے بڑی محبت
پتنگ میری اُڑے گی اونچی
میں جب بھی کھینچوں گا ڈور اس کی
کسی سے پیچا لڑائوں گا میں
تو اس کو آخر ہرائوں گا میں
پتنگ میری ہے سات رنگی
اسے سمجھنا جہاز جنگی
کسی سے یہ تو نہ ہار مانے
کبھی نہ ہارے سدا یہ جیتے

ٹی وی
بہت ہاتھ اپنا بٹاتا ہے ٹی وی
سبق دین و دنیا پڑھتا ہے ٹی وی
ہمیں علمِ تازہ سکھاتا ہے ٹی وی
کہ اذہانِ خفتہ جگاتا ہے ٹی وی
یہ رکھتا ہے خبروں سے ہم کو شناسا
سبھی رازِ دنیا ہویدا ہے کرتا
ہمیں اس نے تو ہے بہت کچھ سکھایا
ہمیں ساری دنیا سے اس نے ملایا
یہ ٹی وی ہمارا ہے ساتھی ہمارا
بغیر اس کے اب کے نہیں ہے گزارا



مقبوضہ کشمیر

کشمیر تو کشمیر ہے
دل کش یہی تصویر ہے
ہے خوبرو وادی یہی
ہر ذرہ بھی دل گیر ہے
دشمن کا ہے قبضہ یہاں
ہر وقت ہے آہ و فغاں
ہر دم دعا آزاد ہو
ہر دل یہاں کا شاد ہو
خوشحال ہو دھرتی یہاں
دشمن یہاں برباد ہو
مولا ہمیں کر سرخرو
دشمن کو کر بے آبرو



پاپڑ بیچنے والا

آیا پاپڑ بیچنے والا
ساتھ اپنے ہے پاپڑ لایا

پاپڑ تو ہیں مزے مزے کے
ہم بھی کھائیں اس سے لے کے
نمکیں اور چٹخارے دار
پاپڑ بے حد مزے دار

روز گلی میں آتا ہے یہ
پاپڑ روز کھلاتا ہے یہ

وقت کی ہے پابندی کرتا
اپنی ہے یہ روزی کرتا

پاپڑ کھا کر شکر کریں ہم
کھیلیں کودیں اور پڑھیں ہم

Viewers: 220
Share