عتیق خیالی کا شعری مجموعہ ۔۔۔ حیرت سے عبرت تک

اردو شعری مجموعہ حیرت سے عبرت تک عتیق خیالیؔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ کمپوزنگ: محمد طارق چوہدری مطبوعہ: جھوک پرنٹرز ملتان پہلی اشاعت: 2009ء قیمت: 170 روپے ناشر: جھوک پبلشرز […]

اردو شعری مجموعہ

حیرت سے عبرت تک

عتیق خیالیؔ

جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

کمپوزنگ: محمد طارق چوہدری
مطبوعہ: جھوک پرنٹرز ملتان
پہلی اشاعت: 2009ء
قیمت: 170 روپے
ناشر: جھوک پبلشرز ملتان
ٹائٹل: ظہور دھریجہ

اِنتساب

والدہ محترمہ کے نام
جن کی
دعائوں سے بندہءِ حقیر پُر تقصیر نے
شاہراہِ حیات پر
اعتماد سے چلنا سیکھا



حیرت سے عبرت تک

وہ بزم جس میں گدائی وقار کہلائے
عتیقؔ ایسے کسی شعر میں قیام نہ کر
فارسی لغت بنام عمید مطبوعہ تہران میں عتیقؔ کے کئی معنی ہیں، کہنہ، دیرینہ، کریم، برگزیدہ از ہر چیز، آزاد کردہ بندہ آزاد۔ ان معنوں کے اعتبار سے عتیقؔ صاحب کی شخصیت میں قدیم ایمان پرور عقائد کے ساتھ بخشش، سخاوت، برگزیدگی، آزاد فکری اور بے باکی، تمام خصوصیات ایک جگہ جمع ہو گئی ہیں۔ چنانچہ ان کا پہلا شعری کتابچہ ’’پہلی پرواز‘‘ ستمبر 1998ء میں شائع ہوا تھا۔ ظاہر ہے آسمان پر پہلی پرواز تو پہلی ہی ہوتی ہے۔ اردو وسیع ہمہ جہت زبان ہے۔ فارسی اور عربی کی آمیزش اردو شاعری کی اظہاریت کو مضبوط بناتی ہے۔ میرے خیال میں جو نوجوان موجودہ دور کے بے مقصد مشاغل کو چھوڑ کر علم و ادب سے لگائو رکھتے ہیں اور حتی المقدور تخلیقی صلاحیتوں سے کام لینے کی کوشش کرتے ہیں، وہ نہایت مبارک اور خوش بخت ہیں۔ فنونِ لطیفہ کی کئی صورتیں کئی اقسام ہیں۔ جن میں مصوری، موسیقی، مجسمہ سازی سبھی شامل ہیں۔ شاعری تمام فنون پر فوقیت رکھتی ہے۔ کیونکہ اس میں تمام عوامل بیک وقت شامل ہوتے ہیں۔ شاعری جہاں تنقید کا کام کرتی ہے، وہاں مصوری ، منظر کشی ، پیکر تراشی کے فرائض بھی سرانجام دیتی ہے۔ انسانی شعور پر اثر انداز بھی ہوتی ہے۔ گویا شاعری ایک وسیع میدان کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس میں پیدائشی شاعر زندگی بھر چلتا پھرتا رہتا ہے۔ معاشرتی تصاویر الفاظ کے درو بست کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ کہیں رومانوی ہوتا ہے۔ کہیں انقلابی ، کہیں متصوف اور کہیں فلسفی غرض یہ کہ شاعری کے کئی روپ ہیں، کئی انداز، کئی اسلوب، کئی لب و لہجے ہیں جو صرف اردو کا ہی حصہ نہیں بلکہ دنیا بھر کی زبانوں میں انسان نثر و نظم کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کرتا رہا ہے اور جب تک دنیا قائم ہے یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
عتیقؔ خیالی صاحب کا علمی و ادبی ذوق و شوق دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ جہالت کے اس دور میں کہ انسان صرف سماعت و بصارت تک محدود ہو چکا ہے۔ کتاب سے اس کی کوئی دلچسپی باقی نہیں رہی۔ عتیقؔ خیالی اپنی فکری پروازوں کو آگے بڑھانے میں آگے ہی آگے رواں دواں ہیں۔ نعت شریف، غزل، موضوعاتی نظمیں غرض یہ کہ ہر قسمی اسلوب میں طبع آزمائی کر رہے ہیں۔ میں نے ان کے موجودہ کلام کا نام / عنوان ’’حیرت سے عبرت تک‘‘ رکھا ہے کیونکہ یہ دنیا حیرت و عبرت کا مجموعہ ہے۔ ہر شاعر ان مراحل کو اپنے مشاہدات و تجربات کی روشنی میں دیکھتا پرکھتا ہے اور بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ شاعری ایک فن ہے جو محنت و ریاضت سے حاصل ہوتا ہے۔ اس کے لیے مطالعہ بے حد ضروری ہے۔ جب تک قدیم و جدید فن کاروں سے استفادہ نہ کیا جائے کوئی شاعر اس بھیڑ اور جمِ غفیر سے نکل کر اپنا منفرد راستہ پیدا نہیں کر سکتا۔ مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے کیا کہا اور کیسا کہا؟
شاعرانہ وجدان الگ چیز ہے لیکن علم بغیر مطالعہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا نوجوان نسل کے شعراء کو چاہیے کہ کلاسیکی شعراء ترقی پسند تخلیق کار اور جدید عہد کے شعراء کا مطالعہ ضرور کریں تا کہ نئے سے نیا شعور پیدا ہو۔ زبان و بیان میں وسعت آئے۔ حیرت اور عبر ت کے دریا سے گزرنے کے بعد ہی ہر تخلیق کار فکر لے کر ساحل تک پہنچتا ہے۔ وگرنہ عالمِ برزخ میں معلق رہ جاتا ہے۔
ہر دور میں زندگی اور اس کے موضوعات ایک دوسرے سے متماثل رہے ہیں۔ البتہ سوچنے کا انچاز کہیں زیادہ اور کہیں کم رہا ہے۔ انسانی وجدانیات کو اگر تقسیم کیا جائے تو قدرت نے آنکھوں کو بصارت دی۔ نابینا کو دل کی بصیرت دی۔ کانوں کو سماعت کی نعمت سے بہرہ ور کیا۔ دل کو وسعت ، دماغ کو شعور دیا۔ موسیقی کو روح کی غذا بنایا۔ مصوری کو بصارت کے لیے لذت آفریں بنایا۔ یہ سب چیزیں سمجھنے کے لیے انسان کا باشعور ہونا ضروری ہے۔ میری اپنی مختصر زندگی میں درجنوں  شعر اء کے خیالات سے مستفید ہونے کا موقع ملا ۔ ہر شاعر نے بالخصوص پاکستانی ماحول میں پیدا ہونے والی اچھائیوں، برائیوں، نیکیوں، بدیوں پر اظہارِ خیال کیا۔ میرا مقصد یہ نہیں کہ غالب سے فیض اور ندیم تک تمام شعراء نے ان کائناتی مسائل کو ایک ہی طرح دیکھا لیکن یہ امر مسلم ہے کہ ہر عہدمیں شعراء کومعاشرے سے اپنی ناقدری کی شکایت ہی رہی۔ عتیقؔ خیالی کی زیرِ اصلاح  شاعری کے مطالعے سے راقم اس نتیجے پر پہنچا کہ وہ الفاظ اور ان کی پہچان سے رفتہ رفتہ واقف ہوتے گئے ہیں۔ معاشرے کی پسماندگی اوگ گھٹن کس شاعر کے یہاں نہیں۔ اس گھٹن کا احساس عتیقؔ خیالی کے مجموعہ کلام ’’حیرت سے عبرت تک‘‘ میں جگہ جگہ ملتا ہے۔ شاعری میں ان کی گریہ و زاری بڑی پر اثر ہے۔ اگر نئی نسل نے عتیقؔ خیالی کو توجہ سے پڑھا تو وہ یقیناً بجا طور پر کہہ سکے گا کہ دبستانِ خیال میں ایک اچھے شاعر کا اضافہ ہوا ہے۔
میں نے تاریخ تو لکھ دی ہے کھرے لفظوں میں
حاشیے بعد میں لکھیں گے پرکھنے والے
پروفیسر ڈاکٹر خیال امروہویؔ
پی ایچ۔ڈی (تہران یونیورسٹی، ایران)
ضلع لیہ



اظہارِ خیال

عتیقؔ خیالی دس غزلوں کے ساتھ تشریف لائے اور کہا کہ میں شاعر ہوں۔ میرا شعری مجموعہ زیرِ ترتیب ہے۔ ان چند غزلوں کا مطالعہ کر کے ان پر اپنے تاثرات لکھ دیجئے۔
نام تجویز کیا ہے ’’حیرت سے عبرت تک‘‘۔ تب انہوں نے سب سے اہم بات فرمائی کہ میں ڈاکٹر خیال امروہوی صاحب کا شاگرد ہوں۔ میں نے کہا دو چار دن تک رائے لکھ کر ڈاک سے بھیج دوں گا۔ سو رائے حاضر ہے۔
نہایت واجب الاحترام ڈاکٹر خیال امروہوی صاحب ایک عالم فاضل شخصیت ہیں۔ ان کا چشمی فیض جاری ہے جس سے اہلِ طلب سیراب و شاداب ہوتے رہتے ہیں۔ ان کی نسبت نے بے شمار افراد کو شاعر و ادیب بنا ڈالا اور یہ تلامذہ لائقِ التفات شعر و نثرتخلیق کرنے لگے۔ اور مصنفین کی صف میں شامل ہو گئے ۔ خدا ڈاکٹر خیال صاحب کو سلامت رکھے اور ان کے فیوض و برکات جاری رہیں۔
عتیقؔ خیالی کی دس غزلیں پڑھیں۔ ابھی آغازِ سخن ہے۔ ترقی کریں گے۔ جذبہ موجود ہے۔ خیال و فکر میں گہرائی ہے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ فضول اور غیر ضروری شاعری سے گریز نظر آتا ہے اور کام کی بات کہنا چاہتے ہیں۔ آج کی زندگی کے جو انفردی اور اجتماعی دکھ ہیں، ان پر نظر ہے۔ اپنے عہد کا حوالہ شعروں کے اندر سے جھانکتا نظر آتا ہے۔ امید ہے کہ مستقبل میں ایک اچھے اور توجہ طلب شاعر بن کر ابھریں گے۔
عتیقؔ صاحب یقیناً جانتے ہوں گے کہ ادبی زندگی اپنا ایک سفرِ مسلسل رکھتی ہے۔ ذوقِ سفر، جذبہءِ پیش رفت اور آرزوئے منزل سے یہ سفر بہتر اور خوب تر شکل اختیار کرتا رہتا ہے۔
وہ شعر اور اچھے شعر کہنے کی لگن دل میں رکھیں۔ فن میں ریاضت سے کام لیں۔ مطالعے اور مشاہدے کو وسعت دیں۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنے استادِ محترم ڈاکٹر خیال ؔ امروہوی سے کسبِ فیض کرتے رہیں۔
بقول اقبالؔ:
پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ
پروفیسر ڈاکٹر عاصیؔ کرنالی
(ملتان)



عتیقؔ خیالی کا رنگِ تغزل

ادب کیا ہے؟ الفاظ میں تناسب و توازن۔ لیکن یہ تعریف کافی نہیں ہے۔ ورنہ تو ریاض اور معاشیات کے فارمولوں اور اصولوں کو بھی وزن کا لبادہ پہنایا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ ابتدائی جماعت کے بچوں کے لیے اس طرز کے نمونے موجود ہیں۔ دراصل ادب ایک جامع اصطلاح ہے۔ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں تمام رنگ اور آہنگ موجود ہیں۔ ادب میں تخلیق کار کا مشاہدہ کائنات، مطالعہءِ فطرت، علمِ عروض پر عبور، علمِ بیاں اور صنائع و بدائع پر کامل دستگاہ اور اس کی اپنی شخصیت کا ادبی اظہار — یہ سب کچھ جھلمل کر رہا ہوتا ہے۔
سرزمینِ لیہ جسےاستاد محترم ڈاکٹر خیالؔ امروہوی صاحب نے ’’ایتھنز‘‘ کہا ہے، واقعی یہاں دانشور، فلسفی اور شاعر لوگوں نے جنم لیا۔ اصنافِ نظم میں غزل، نطم، قطعہ، رباعی، ترکیب، بند، ترجیع بند کے علاوہ اصنافِ نثر میں علمی و تحقیقی مضامین، مقالہ جات، افسانہ، انشائیہ، تنقید وغیرہ پر مختلف اہلِ علم و دانش نے اپنے افکار کے موتی بکھیرے ہیں۔ ان اصحابِ فکر و نظر میں سب سے بڑا سرکردہ نام پروفیسر ڈاکٹر خیالؔ امروہوی صاحب کا ہے جنہوں نے سب سے پہلے صحرائے لیہ کو صحرائے ربذہ کا اعزاز بخشا اور علم و ادب کا وہ چراغ روشن کیا کہ اب اس کی روشنی سرزمینِ لیہ سے پھیل کر پورے پاکستان کو منور کر رہی ہے۔ استادِ محترم پروفیسر ڈاکٹر خیال امروہوی صاحب نے لاتعداد شاگرد پیدا کیے ہیں۔ ان میں ایک نام عتیقؔ خیال کا بھی ہے۔ عتیقؔ خیالی نے دس سال سے زیادہ کا عرصہ استاد محترم کے سایہءِ شفقت میں گزارا ہے اور وہ مقدور بھر علم و ہنر سے استفادہ کر رہے ہیں۔
عتیقؔ خیالی کی شاعری کی چمک کرمک شبِ تاب کی سی ہے جسے ابھی آفتابِ جہاں بننا ہے۔ ان کے دور مختصر شعری کتابچے، ’’پہلی پرواز‘‘ اور ’’چونڈھی دا پورھیا‘‘ پہلے ہی منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔ اس طرح عتیقؔ خیالی کا نام سرزمینِ لیہ کے باشندوں کے لیے اجنبی نہیں ہے۔ بلکہ وہ اپنی شناخت کرا چکے ہیں۔ اب انہوں نے ایک ایسے عہد میں شعری مجموعہ لانے کا پختہ ارادہ کر لیا ہے۔ جہاں ہر شئے قدر و قیمت کھو بیٹھتی ہے۔ سیاست، معیشت، مذہب، اخلاقیات، علم و ادب، سیاسیات اور تہذیب و ثقافت وغیرہ سب پر شکست و ادبار مسلط ہے۔ ہمارے بڑوں نے جو خواب دیکھے تھے، ان کی تعبیریں نہیں مل سکیں۔ یہ عہد شکستِ آرزو کا عہد ہے لیکن عتیقؔ خیالی کی یہ مستقبلیاتی جہت رجائیت سے عبارت ہے۔ ان کا مجموعہ ءِ کلام ’’حیرت سے عبرت تک‘‘ پہلی نظر میں قارئین کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔
عتیقؔ خیالی کی شاعری روایت سے زبردت جڑی ہوئی ہے ۔ اگر یوں کہا جائے کہ ان کے نزدیک روایت سے انحراف گناہِ کبیرہ کے مترادف ہے، تو بے جا نہ ہو گا۔ انہوں نے اپنی شاعری میں اخلاق و ادب کے پھول کھلائے ہیں۔ وحدت الوجود کے گیت گائے ہیں۔ کبھی غمِ روزگار سے شکو ہ کناں تو کبھی دینی حمیت کے چراغ جلائے ہیں۔
محبوب کی بے وفائی ، غربت و افلاس، غیروں کی جگ ہنسائی، دکھوں کا احساس، تنہائی کا رونا، زمانے کی بے حسی، مستقبل بینی، رومان پروری ، اہلِ علم کی بے وقعتی، سرمایہ داروں کی لوٹ  کھسوٹ، منافقت اور جھوٹ — یہ سب موضوعات ان کی شاعری میں دیکھ کر قاری کو کبھی حیرت کا احساس ہوتا ہے تو کبھی وہ درسِ عبرت حاصل کرتا ہے۔ یہ حیرت سے عبرت تک کا سفر نہایت تعجب خیز ہے۔
عتیقؔ خیالی نے غزلوں کے علاوہ نظموں پر بھی طبع آزمائی کی ہے۔ ان کی نظموں میں پیغام، قائد اعظم، وطن، نذرِ استاد، سکول کے بچوں کے نام، نذرِ محنت کشاں، ماں، شبِ قدر اور رمضان المبارک پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ چند شعر ملاحظہ فرمائیے۔
میں اس امید سے راہِ حیات و موت سے گزرا
کبھی تو ہوں گے طے یہ مرحلے حیرت سے عبرت تک

عتیقؔ چھوڑ دے صدیوں کے سب غلط قصے
نئی صدی ہے نئے انقلاب کے دن ہیں

تیری محفل میں مری جان چراغاں کے لیے
اپنی پلکوں پہ سجائے ہوئے آنسو آئے

دیکھنے میں یوں تو سب انسان ہیں
کون واقف ہے دلوں کے راز سے
مجھے امید ہے کہ آپ عتیقؔ خیالی کے پہلے باضابطہ شعری مجموعہ ’’حیرت سے عبرت تک‘‘ کی خوشبو کی طرح پذیرائی فرمائیں گے تاکہ آپ کی ہمت افزائی سے زیادہ بہتر انداز میں ایک اور شعری مجموعہ کتابی صورت میں ظہور پذیر ہو گا۔
پروفیسر ریاض راہیؔ
(گولڈ میڈلسٹ)
صدر شعبہ اُردو، گورنمنٹ کالج کروڑ لعل عیسن
(ضلع لیہ)



عتیقؔ خیالی— روشن فکر شاعر

ڈاکٹر خیالؔ امروہوی مارکسی دانشور اور انقلابی شاعر ہی نہیں بلکہ فکری معمار بھی ہیں۔ انہوں نے عمر بھر نئی نسل کی انقلابی خطوط پر پرورشِ لوح و قلم کی ہے۔ اس وقت لیہ میں جتنے بھی نوجوان اہلِ قلم فکری تحریک کو آگے بڑھانے میں اپنا تاریخی کردار ادا کر رہے ہیں، ان میں ایک نام عتیقؔ خیالی کا بھی ہے۔
عتیقؔ خیالی بالغ نظر شاعر ہیں۔ ان کی ش اعری میں ملمع سازی کی بجائے حقیقتوں اور سچائیوں کے رنگ واضح نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے قاری کو فلسفہ کی باریکیوں اور پیچیدگیوں میں الجھانے کی بجائے عام فہم انداز میں اپنا نقطہءِ نظر بیان کرتے ہیں۔ وہ جہاں شبِ ہجر میں سلگتے دل کی راحت کے لیے زلفِ جاناں کی خوشبو کی بات کرتے ہیں تو وہاں اس استحصالی نظامِ حیات پر کڑی تنقید بھی کرتے ہیں کہ جس نے نہ صرف دو وقت کی روٹی چھین لی ہے بلکہ زندگی کو لہو لہو بھی کر دیا ہے۔ اس لیے وہ ذاتی محرومیوں ، دکھوں کے تناظر میں دکھی انسانیت سے ہمدردی رکھتے ہیں اور اس کی حالتِ زار پر اشک بہاتے ہیں۔
عتیقؔ خیالی وقت کے آمروں، ظالموں ، غاصبوں اور لٹیروں کی مذمت ہی نہیں کرتے بلکہ جرات و بے باکی سے مجبور اور پیاس زدوں کو نئے عزم سے جینے کا حوصلہ اور روشن فردا کی نوید بھی دیتے ہیں۔ اس لیے ان کی شاعری میں قنوطیت کی بجائے رجائیت کا عنصر غالب دکھائی دیتا ہے۔ وہ بڑی خود اعتمادی سے کہتے ہیں کہ ایک دن باغِ جہاں پر ظالموں کا تسلط ختم ہو جائے گا اور ہر طرف فاختائیں چہچہائیں گی۔
میں آخر میں عتیقؔ خیالی کو پہلے شعری مجموعے ’’حیرت سے عبرت تک‘‘ کی اشاعت پر نہ صرف مبارکباد پیش کرتا ہوں بلکہ شہرِ سخن میں اپنی پہچان کرانے اور آگے بڑھنے کے لیے مزید مطالعہ اور ریاضت کا مشورہ بھی دیتا ہوں۔ نمونہ کے چند اشعار دیکھیے۔
تعجب خیز ہیں سب فاصلے حیرت سے عبرت تک
بہت دشوار ہیں یہ راستے حیرت سے عبرت تک

دلوں میں جھوٹ کے لاوے ابلتے رہتے ہیں
ہر ایک رنگ سے انساں بدلتے رہتے ہیں
عتیقؔ ان کے عزائم بلند ہوتے ہیں
جو کھا کے ٹھوکریں اکثر سنبھلتے رہتے ہیں

جب تصور میں کبھی جاںِ غزل تُو آئے
مرے آنگن سے تری زلف کی خوشبو آئے
دل سلگتا ہے شبِ ہجر میں ہم جلتے ہیں
اپنے ہی جسم سے جلنے کی مجھے بُو آئے

ظلمتِ وقت کا جب دور گزر جائے گا
خستہ انسان کا ہر حال سنور جائے گا

سن لو للکار کہ اک روز اسی دنیا میں
ظلم اور جبرکا دریا بھی اتر جائے گا

ماں نے جن کو زیور تک بیچ کر پڑھایا تھا
ان کے گھر اندھیرے ہیں شہر میں اجالے ہیں

اب کوچے کوچے میں اپنی ہر رنگ سے فشاں بکھرے گی
خوش رنگ تصور سے اپنے سوچوں کے شہر بسائیں گے

کس کوڑے سے چن کر ہڈیاں بھوکے بچے لائے
دیکھ کے میرا دل جلتا ہے یارب ہائے ہائے
چھوڑ عتیقؔ تو اس دنیا کو کون بنا ہے تیرا
درد یہاں پر کوئی نہ بانٹے سب ہیں یار پرائے
جسارت ؔخیالی
28 اکتوبر 2008ء



اپنی بات

موجودہ عہد سماجی ناانصافیوں، تہذیبی و ثقافتی ناہمواریوں، اقتصادی محرومیوں اور اخلاقی بے راہ رویوں سے عبارت ہے۔ اس عہدِ کرب ناک کا ستایا ہوا انسان جب سوچوں کے سمندر میں  غوطہ زنی کرتا ہے تو حساس دل سے درد بھرے نکلے ہوئے خیال اسے شعر کہنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
ویسے تو شاعری کا بچپن ہی سے شوق تھا لیکن کالج لائف میں یہ شوق مزید بڑھتا گیا۔ کالج میں ادبی پروگراموں میں حصہ لیا کرتا تھا لیکن کوئی اصلاح کرنے والا نہیں تھا۔ جس کے لیے ایک کامل استاد کی ضرورت محسوس ہوتی تھی۔ بازار میں آدمیوں کا ہجوم تو بہت تھا لیکن انسان نہیں مل رہا تھا۔ ایک ایسے انسان کی تلاش تھی جو مجھے انسان بنا دے۔
بہت تگ و دو کے بعد باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا کہ استادِ محترم پروفیسر ڈاکٹر خیال ؔ امروہوی صاحب کی شاگردی اختیار کر لی جائے۔ یہ 1992ء کی بات ہے ۔ تو میں استادِ محترم ڈاکٹر خیالؔ امروہوی صاحب کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ تو استادِ محترم پروفیسر ڈاکٹر خیالؔ امروہوی صاحب کو سڑک کے بائیں کنارے سائیکل ہاتھ میں پکڑے جاتے دیکھا۔ جیسے کوئی انسان اپنے خیال میں پوری دنیا کے درد سمیٹے جا رہا ہو۔
راقم نے قریب جا کر ادب سے سلام کیا۔ خیالؔ صاحب نے ایک گہری نظر مجھ کو دیکھا۔ حال دریافت کیا۔ تو میں نے عرض کیا کہ میں آپ کا شاگرد بننا چاہتا ہوں۔ شاعر بننے کا شوق ہے۔ استدِ محترم پروفیسر ڈاکٹر خیالؔ امروہوی صاحب نے فرمایا کہ شاعری اور سریلی آواز تو خداداد صلاحیت ہوتی ہے۔ جسے بھی مل جائے۔ میں تو صرف آپ کی رہنمائی کر سکتا ہوں۔ میرے لیے یہی فخر کی بات تھی کہ اتنی عظیم ہستی نے مجھے اپنی شاگردی میں لے لیا۔ میں رینگ رہا تھا۔ ان کی رہنمائی سے کچھ چلنے کے قابل ہوا ہوں۔ یہ گزشتہ پندرہ برس کی محنت کا ثمر ہے جو آپ کے سامنے ’’حیرت سے عبرت تک‘‘ ہے۔ ابھی تک شاعر تو نہں بنا البتہ شاعر کا شاگرد ضرور ہوں۔ استادِ محترم خیالؔ صاحب کی نذر یہ شعر کرتا ہوں:
نسبت نے تیری مرتبہ عالی بنا دیا
علم و ادب کا مجھ کو سوالی بنا دیا
یادوں کے دیپ دل میں اجالے ہیں اس طرح
یعنی مجھے عتیقؔ خیالی بنا دیا
آخر میں استادِ محترم ڈاکٹر خیالؔ امروہوی صاحب، نسیمؔ لیہ، شعیب جاذبؔ، ڈاکٹر اشو ؔ لال، غافل کرنالی، عیش شجاع آبادی، پروفیسر شہبازؔ نقوی، پروفیسر افتخار بیگ، پروفیسر ریاض راہیؔ، موسیٰ کلیم، اظہر زیدیؔ، غلام شبیر، سلیم اختر ندیمؔ، جسارتؔ خیالی، واصف قریشی اور افضل صفیؔکا ممنون ہوں جنہوں نے قدم قدم پر میری رہنمائی فرمائی۔
عتیقؔ خیالی
کاظمی چوک، پوسٹ آفس شاہ پور
ضلع لیہ
فون: 0306-8768172

حمد

صفاتِ جلوہءِ رب العلیٰ ہر شئے میں پاتے ہیں
مظاہر اس کی قدرت کے نئے جلوے دکھاتے ہیں

کہیں صحرا، کہیں سبزہ ، کہیں کہسار کا پانی
مظاہر جلوہءِ قدرت ہی کے منظر دکھاتے ہیں

جہاں نہریں نہ دریا ہوں ، وہاں صحرا کے ٹیلوں پر
تری بارش کے قطروں سے کساں فصلیں اُگاتے ہیں
اندھیرے میں مسافر کو پتہ منزل کا دیتے ہیں
بلا بجلی کے جگنو شب کو کیسے جگمگاتے ہیں

ہوائوں سے سمندر کی اچھلتی موج کے ریلے
ازل سے خالقِ کون و مکاں کے گیت گاتے ہیں

عتیقؔ اللہ کی حکمت ابابیلوں سے جا پوچھو
جو کنکر پھینک کے دشمن پہ کعبے کو بچاتے ہیں



نعت شریف

دولتِ محمدؐ کو لٹاتے جائیں گے
جنت الفردوس میں ہم گیت گاتے جائیں گے

یوں تو ہوں گے رب کے آگے روبرو سب انبیاؑ
ہم شفیع المذنبیں کے پاس آتے جائیں گے

برملا توحید کی پھیلی ہے خوشبو ہر طرف
پھول باغِ مصطفیٰ ؐ کے مسکراتے جائیں گے
نور سے چمکے گا چہرہ جب نبیؐ کا حشر میں
ان کے آگے چاند تارے جھلملاتے جائیں گے

آج پروانے محمدؐ کے مدینے کو چلے
آج مستانے سبھی شمعیں جلاتے جائیں گے

بعد حج کے جب مدینے سے جدا ہو جائیں گے
واپسی پر آنکھ سے آنسو بہاتے جائیں گے

جس کا دل حبِ نبیؐ سے آج خالی رہ گیا
شرم سے تاحشر وہ منہ کو چھپاتے جائیں گے

آپؐ کے حسنِ کرم کے جان و دل صدقے ہوئے
وہ لٹائیں گے سخاوت ہم اٹھاتے جائیں گے

کیا ہمیں ہو خوفِ محشر کیا جہنم سے ڈریں
اب عتیقؔ ان کی یہ نعتیں ہم سناتے جائیں گے

غزلیں

تعجب خیز ہیں سب فاصلے حیرت سے عبرت تک
بہت دشوار ہیں یہ راستے حیرت سے عبرت تک

دِلاسے دے رہا تھا جو ہمیشہ ساتھ رہنے کے
اسی نے توڑ ڈالے رابطے حیرت سے عبرت تک

نہ جانے کس نے ڈالا ہے گلے میں طوقِ رسوائی
ابھی تک گونجتے ہیں قہقہے حیرت سے عبرت تک

کوئی مردِ مجاہد چاہیے مجھ سا زمانے میں
نہایت پر خطر ہیں سلسلے حیرت سے عبرت تک
میں اس امید سے راہِ حیات و موت سے گزرا
کبھی تو ہوں گے طے یہ مرحلے حیرت سے عبرت تک

عتیقؔ اس کو مری آنکھوں کے آنسو یاد آئیں گے
نہیں بے کار میرے رتجگے حیرت سے عبرت تک



نہ بے نقاب ہو ، تیرے نقاب کے دن ہیں
نگاہ کیسے اٹھائیں شباب کے دن ہیں

گنوائو یوں نہ مجھے زندگی میں اے ساجن
کہ فصلِ گل بھی ہے اور آب و تاب کے دن ہیں

نہ اس طرح سے شب و روز سوتی رہ بلبل
فضا کو دیکھ کہ موجِ گلاب کے دن ہیں

کہاں غریب کی شامیں کہاں غریب کے دن
ہر ایک رنگ میں اب تو نواب کے دن ہیں
جو لین دین ہے اس کو بھی صاف کر نا ہے
سنا ہے میں نے کہ اب احتساب کے دن ہیں

عتیقؔ چھوڑ دے صدیوں کے سب غلط قصے
نئی صدی ہے نئے انقلاب کے دن ہیں



کس کوڑے سے چن کر ہڈیاں بھوکے بچے لائے
دیکھ کے میرا جی جلتا ہے یارب ہائے ہائے

اس کٹیا سے ایک بھکاری مجھ سے یارو بولا
ہم نے تو سالن کے بدلے پتھر آج پکائے

فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں مزدور جہاں کے دیکھو
اس گرمی میں بن پنکھے کے مچھر جن کو کھائے

سبزی ، بینگن ، دل چنے کی ، آٹا روز خریدے
کم اجرت سے کیسے اب مزدور مکان بنائے
آج کنواری بیٹی کا یہ باپ پریشاں رہتا ہے
پاس نہیں سرمایا کیسے پیلے ہاتھ کرائے

چھوڑ عتیقؔ تو اس دنیا کو کون بنا ہے تیرا
درد یہاں پر کوئی نہ بانٹے سب ہیں یار پرائے



مرے پاس جس سمے بھی زرو مال آ گیا ہے
مری چاہتوں کا ان کو بھی خیال آ گیا ہے

یہ خنک مزاج راتیں یہ لطیف و نرم موسم
میں سمجھ رہا ہوں شاید کہ جمال آ گیا ہے

مرے دل کو کیوں نہ بھائیں شبِ عید کی ادائیں
نئی رُت سنور گئی ہے ، نیا سال آ گیا ہے

نہ خرد کی کوئی قیمت ، نہ سخن وری کی شہرت
جو کمالِ فن تھے ان پر ہی زوال آگیا ہے

رخِ یار جب بھی دیکھا تو گلاب یاد آئے
اُسے کیوں مرے تبسم پہ ملال آ گیا ہے


کچھ دردِ دل سے اپنا احوال تو سنانا
گونجا ہے دل میں میرے اک پیار کا فسانہ

رسوائیوں کے قصے لکھے کتاب میں تھے
فرصت ملے تو ایسے حالات کچھ پڑھانا

رو رو فراقِ غم میں دیوانہ ہو گیا ہوں
الفت کے راستوں میں کچھ اور آزمانا

آنکھوں میں اشک موتی چہرہ اداس راتیں
ملنے کے واسطے تو ڈھونڈو کوئی بہانہ

ہوتے نہیں ہیں اکثر حسن و وفا سے واقف
اچھا نہیں ہے ہرگز دل کو کہیں لگانا

ڈوبا عتیقؔ تیرا ، زہرِ آب غم میں پیہم
اس کو سنبھال کر کچھ نغموں کی مے پلانا


یہ افسانہءِ غم سنائوں میں کیسے
غریبوں کی حالت بتائوں میں کیسے

ستاروں کا جھرمٹ بڑا بے کراں ہے
فلک تیرے قدموں پہ لائوں میں کیسے

بھڑکتے ہوئے قلب میں ہے کدورت
محبت سے آتش بجھائوں میں کیسے

انوکھی جہاں میں نگاہِ کرم ہے
امنگوں کی قسمت جگائوں میں کیسے

ہوئیں خشک آنکھیں غمِ این و آں میں
ترے غم میں آنسو بہائوں میں کیسے

مرے دل کا گلشن بہاروں نے لوٹا
عتیقؔ ایسا گلشن جلائوں میں کیسے


سوچا یہی ہے دل نے کہ اب زندگی کے ساتھ
آ جائے مجھ کو موت تری بندگی کے ساتھ

غدار لوگ رہتے ہیں سب میرے شہر میں
کرتا نہیں وفائیں کوئی بھی کسی کے ساتھ

پڑھنے کو تو نمازیں پڑھتے ہیں سب نمازی
کرتا نہیں ادا کوئی دل لگی کے ساتھ

پلکوں پہ آنسوئوں کی جھالر سجا گئے
ہیں بھیگی بھیگی آنکھیں غم کی نمی کے ساتھ

اب کھا رہے ہیں ثمرہ سب کو دکھا دکھا کر
لوٹا ہے باغباں کو کس بے بسی کے ساتھ

جن کو عتیقؔ ہم نے خونِ جگر دیا تھا
وہ آج جا رہے ہیں بڑی بے رخی کے ساتھ



جبر کی تلور کے نیچے جیے ہیں دوستو
زندگی نے غم الم ہم کو دیے ہیں دوستو

میں پریشاں ہو گیا ہوں اس جہاں کے خوف سے
تب شرابوں کے سبو بھر کے پیے ہیں دوستو

یہ حکومت ہے سیاسی مطلبی ہیں حکمراں
مسئلے انسان کے کب حل کیے ہیں دوستو

کس تگ و دو سے گھروندے بن رہی تھی فاختہ
اک شکاری کی ہوس نے دھر لیے ہیں دوستو

اجنبی جب سے ہوا وہ چھوڑ کر مجھ کو عتیقؔ
زخم میں نے بے وفائی کے سیے ہیں دوستو



جب تصور میں کبھی جانِ غزل تو آئے
میرے آنگن سے تری زلف کی خوشبو آئے

تیری محفل میں مری جان چراغاں کے لیے
اپنی پلکوں پہ سجائے ہوئے آنسو آئے

دل سلگتا ہے شبِ ہجر میں ہم جلتے ہیں
اپنے ہی جسم سے جلنے کی مجھے بو آئے

درد یوں آئے تری یاد کی سوغات لیے
جیسے پتھر مرے آنگن میں بہر سُو آئے

جب بھی ابھرا ہے کوئی عکس عتیقؔ آنکھوں سے
جانے کیوں آنکھ میں بھر کر میرے آنسو آئے



جن کے چہروں کی بدولت دوستی ہم کو ملی
ان کی جانب سے ہی اک دن دشمنی ہم کو ملی

شاعری کے واسطے اپنا قلم قابل نہ تھا
ایک شاعر کے دیے سے روشنی ہم کو ملی

حال کب پوچھا کسی نے مفلسی میں دوستو
بھوک کے عالم میں دنیا اجنبی ہم کو ملی

شکریہ اے چاند تیرا ہم ادا کیسے کریں
اس اندھیرے میں ہی تجھ سے روشنی ہم کو ملی

لوگ تو دنیا میں اکثر مست رہتے ہیں عتیقؔ
غم اٹھانے کے لیے یہ زندگی ہم کو ملی



کیا ملا تجھ کو سجن میری وفا کو چھوڑ کر
آ گیا ہوں در پہ تیرے ہر ادا کو چھوڑ کر

عمر بھر کا ہم سفر مجھ کو رلاتا ہی رہا
کس طرف جائوں بتائو مہ لقا کو چھوڑ کر

اس اندھیری رات میں جلتے ہوئے جگنو بتا
پھر رہے ہو ڈھونڈتے کیوں آشنا کو چھوڑ کر

نرگسی پھولوں کے بن یہ عشق روتا ہی رہا
بلبلیں بے تاب ہیں بادِ صبا کو چھوڑ کر

اشہبِ دوراں لقب کیسے ملے ہم کو عتیقؔ
ابتدا میں رہ گئے ہیں انتہا کو چھوڑ کر



یاد وہ دل میں بسائیں گے کبھی
جانے والے پھر سے آئیں گے کبھی

عمر بھر کا میرا ان کا ساتھ تھا
یہ کہانی بھی سنائیں گے کبھی

پیارے ابو لوٹ کر کب آئیں گے
ہنستے بچے دل رلائیں گے کبھی

جب چھپیں گے دشمنوں کی اوٹ میں
یار ہی باتیں بنائیں گے کبھی

غاصبوں سے چھین کر ہم ایک دن
حق یتیموں کو دلائیں گے کبھی



کل تک جو تھے مخالف اب یار بن گئے ہیں
مجھ کو ستانے والے غم خوار بن گئے ہیں

میرے لہو کو پی کر کیوں لوگ رج رہے ہیں
کیا خون چوس کر وہ مے خوار بن گئے ہیں؟

یہ بستیاں جلا کر اس شہر کے لٹیرے
جو بِھک منگے تھے اب وہ سردار بن گئے ہیں

کرتے نہیں جو اس کی عظمت میں ایک سجدہ
وہ دین کے محافظ حب دار بن گئے ہیں

ہے خوف بارشوں کا چمکی ہیں بجلیاں بھی
ہم تو عتیقؔ کچی دیوار بن گئے ہیں


یہ بھولی بھالی شکل ہی ندرت لگی مجھے
تیرے ہی دیکھنے کی ضرورت لگی مجھے

پہنچا سنہرے خواب میں دیدار کے لیے
سویا ہوں جھونپڑی میں تو جنت لگی مجھے

کس منہ سے گائوں اس کی صباحت کے زمزمے
بزمِ خیالِ یار بھی خلوت لگی مجھے

رخ پر نقاب ڈال کر پھرتے ہیں روز و شب
گمنام پھرنے والوں سے دہشت لگی مجھے

اس شہرِ بے وفا میں محبت نہیں رہی
میں جس طرف بھی جائوں کدورت لگی مجھے

اب کون درد بانٹے اکیلے عتیقؔ سے
دنیا میں ہر طرف سے قیامت لگی مجھے


مانا کہ وہ انداز میں مغرور بہت ہے
میرے لیے خوش بخت وہی حور بہت ہے

یادوں میں گنا کرتا ہوں ہر وقت میں اس کو
وہ دل میں تو رہتا ہے مگر دور بہت ہے

پھیلی ہے اسی سے میری کٹیا میں تجلی
ویران در و بام میں اب نور بہت ہے

پہرہ دیا کرتے ہیں شب و روز سپاہی
وہ ہم کو ملے کیسے کہ مجبور بہت ہے

اب میرے سوا دل کسی قیمت نہ لگانا
جو شرط ہے وہ آپ کی منظور بہت ہے

افلاس کا مارا ہوا سویا عتیقؔ اب
دن بھر کی تھکاوٹ سے بدن چور بہت ہے



جس من میں تم رہتے تھے اس ٹوٹے من کو یاد کروں
اشکوں کی برساتوں میں اب رت ساون کو یاد کروں

یادوں کی دہلیز پہ میں ہر وقت پریشاں رہتا ہوں
کھیلے تھے ہم جس بچپن میں اس بچپن کو یاد کروں

بن ٹھن کے جب پھول نچھاور کرنے گھر میں آئے تھے
قدموں کے آثار لگے تھے اس آنگن کو یاد کروں

خواب ادھورے میں میرے جو افشاں بن کر آئی تھی
خوشبو سے لبریز لگی وہ مہکی دلن یاد کروں

بلبل کی چہکار ہے باقے اور نہ باغ کا مالی ہے
اجڑے ہوئے بے حال عتیقؔ کے اس گلشن کو یاد کروں



’’حاصل ہوئی ہے یوں تو مجھے آگہی بہت‘‘
بھاری مگر ہے اب بھی غمِ زندگی بہت

سیلِ غمِ فراق سے جب سامنا ہوا
اس وقت سے ہے آنکھ میں میرے نمی بہت

انسان کا جہاں میں رہا کس قدر مقام
سمجھا گئے تھے اس کی بقا کو وصی بہت

انسان کو نگاہِ تعصب سے یوں نہ دیکھ
زندہ ہیں جگ میں عاقل و بالغ صفی بہت

پھرتا ہے اب عتیقؔ دریدہ لباس میں
رہتے ہیں تیرے شہر میں ورنہ سخی بہت


جیتے ہی مر رہا ہے بشر کس کو یاد ہے
تنہا ہے زندگی کا سفر کس کو یاد ہے

جو دھوپ میں تھا سایہءِ رحمت بنا ہوا
وہ کس نے کاٹ ڈالا شجر کس کو یاد ہے

آوارگی نے کی ہے میری عمر رائیگاں
میری محبتوں کا ثمر کس کو یاد ہے

ماضی کی یاد ہے کبھی آئندہ کا خیال
جانا ہے آج ہم نے کدھر کس کو یاد ہے

غارت ہوا جلوسِ مہ و نجم تب کہیں
روتی ہے شب گزیدہ سحر کس کو یاد ہے

ان احمقوں کے شہر میں پھرتا ہے کیوں عتیقؔ
دانشوروں کا علم و ہنر کس کو یاد ہے



برسات کی رُت میں رو لیں گے
ہم اشک سے دامن دھو لیں گے

تم پھولوں میں آباد رہو
ہم دل میں کانٹے بو لیں گے

ہم شب بھر تارے گنتے ہیں
وہ نیند کے ماتے سو لیں گے

ہیں اشک رواں ان آنکھوں سے
اب دل کے داغ بھی دھو لیں گے

سیلابِ بلا ہے چار طرف
اب خود کو عتیقؔ ڈبو لیں گے


تیرے چہرے پر نقاب اچھا لگا
سادگی میں بھی شباب اچھا لگا

ساغر و مینا اُٹھا لے ساقیا
آنکھ میں کیفِ شراب اچھا لگا

آپ کے لب اس قدر ہیں رس بھرے
آپ کا شیریں خطاب اچھا لگا

ساتھ رہنے کا کیا جب بھی سوال
تیرا یہ مثبت جواب اچھا لگا

سامنے میرے حیا اتنی نہ کر
سرخ جوڑے میں حجاب اچھا لگا

تیرے ہی گن گائے گا تیرا عتیقؔ
پیار تیرا بے حساب اچھا لگا


کوئی تو میرا شہر بسانے آئے گا
اجڑے دل کا حال سنانے آئے گا

جس کی یاد کی چادر تان کے سو جائوں
خوابوں کی تعبیر بتانے آئے گا

کب سے میں بھی آس لگائے بیٹھا ہوں
ساتھ مرے اک شام منانے آئے گا

جس کی یاد میں کھویا کھویا رہتا ہوں
پاگل دل کو خود سمجھانے آئوں گا

کب تک تنہا تنہا وقت گزاروں گا
ساجن میرا ساتھ نبھانے آئے گا

دل میں پیاس عتیقؔ لگی ہے مدت سے
اپنے ہاتھ سے جام پلانے آئے گا


عمر بھر کانٹوں کے رستے پر ہمیں چلنا پڑا
دھوپ کے شعلوں میں ہم کو ننگے سر جلنا پڑا

کیا کہوں میں غیر سے اپنے ہی ہیں میرے عدو
آستیں کے سانپ کو میرے ہی گھر پلنا پڑا

کون کیا ہے با خرد اس شہر میں ہم کیا کہیں
اچھے پھل کو گندے پھل کی گود میں گلنا پڑا

ہو گئے اس عالمِ غربت میں کانٹے بھی اداس
پھول کی شاخوں کو جب گل کی طرف ڈھلنا پڑا

بہہ رہا تھا خون جب اک نوجواں کا شہر میں
ماں کو اپنے منہ پہ بیٹے کا لہو ملنا پڑا

شیخ صاحب نے نہ دیکھا آنکھ بھر کر بھی عتیقؔ
پا پیادہ راستوں پر جب تجھے چلنا پڑا



کب تلک ظلم و ستم سہتے رہیں گے دوستو
جیل خانوں میں لہو بہتے رہیں گے دوستو

کوئی انساں بھی کسی کے راز سے واقف نہیں
بے بسی اپنی کسے کہتے رہیں گے دوستو

کوٹھیوں کے صحن میں شبنم گرے گی رات بھر
ہم مگر کٹیائوں میں رہتے رہیں گے دوستو

خونِ دل سے شعر کی تخلیق کرنے کے لیے
اشک اپنی آنکھ سے بہتے رہیں گے دوستو

کچھ تو روئیں گے یقیناً لاش پر میری عتیقؔ
اور کچھ پاگل مجھے کہتے رہیں گے دوستو



موت پر میری خوشی کا ساز جب بجتا رہا
شہر کا ہر صاحبِ زر بے سبب ہنستا رہا

دیکھ لو آنکھوں سے اپنی ظلم کی ہے انتہا
وقت کی تلوار سے مفلس بدن کٹتا رہا

کام جو ہرگرز نہ آیا دکھ بھرے کشمیر میں
شہر میں جب بے تحاشا بم کوئی پھٹتا رہا

بڑھ رہے ہیں شہر میں یہ کارخانے خون سے
ہم غریبوں کے لہو سے زر سے زر بنتا رہا

کیا بتائیں ہم عتیقؔ اب درد کی یہ داستاں
فاقہ کش کو دیکھ کر خونِ جگر جلتا رہا


نہ یہ آدم بنا ہوتا نہ کل عالم فنا ہوتا
’’ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا‘‘

غریبی میں پلا ہوں میری غربت میری دولت ہے
ترے اس شہر میں کچھ تو مرا گھر بھی بسا ہوتا

کسی کو رحم کب آیا مرے دن رات رونے پر
کسی نے تو زمانے میں مرے دکھ کو سنا ہوتا

جگر کے خون سے میں نے تو یہ گلشن بنایا تھا
تری بارود سے ایسا نہ یوں گلشن جلا ہوتا

اگرچہ عظمتِ انساں فرشتوں سے بھی افضل ہے
مگر تو بارگاہِ رب میں بھی دل سے جھکا ہوتا

فقط جاگیر کی خاطر مرے بیٹے نہ یوں لڑتے
نہ میں مرتا نہ یوں گھر میں ہمارے رت جگا ہوتا



اب مسلمانوں کو یارو دین سے رغبت نہیں
سر کٹایا تھا جنہون نے ان سے بھی الفت نہیں

کون چل کر مسجدوں میں جائے گھر کو چھوڑ کر
خوفِ جانی سے عبادت کی بھی اب ہمت نہیں

دیکھتا ہے حسن کے لالچ میں وی سی آر تو
دل میں تیرے احمدِ مختارؐ کی مدحت نہیں

فاسلہ گم صم ہوا ہے وقت کی دہلیز پر
سوچنے والے کو بھی اب سوچ کی فرصت نہیں
پھوڑتے ہیں دوسروں کے سر کو دیکھو شہر میں
آدمی کی شہر میں اب کوئی بھی وقعت نہیں

جن پرندوں نے بنائے خون دے کر گھونسلے
ان پرندون کی چمن میں اب کوئی قیمت نہیں

ہم مسلمانوں کی اب تو نام سے پہچان ہے
علم والوں کی عتیقؔ اس شہر میں عزت نہیں



’’دلوں میں جھوٹ کے لاوے ابلتے رہتے ہیں‘‘
ہر ایک رنگ سے انساں بدلتے رہتے ہیں

کبھی تو ان کا بھی احساس جاگ جائے گا
جو میرے خون کے گھونٹوں سے پلتے رہتے ہیں

خزاں کی رت سے انہیں خوف بھی نہیں آتا
عجیب گل ہیں چمن میں مچلتے رہتے ہیں

بہا ہے عہدِ غلامی میں خون انساں کا
غریبِ شہر سے تو لوگ جلتے رہتے ہیں

عتیقؔ ان کے عزائم بلند ہوتے ہیں
جو کھا کے ٹھوکریں اکثر سنبھلتے رہتے ہیں



زمانے میں نہیں ملتی کہیں افکار کی باتیں
جہاں جائیں وہیں سنتے ہیں ہم زردار کی باتیں

نہ کھایا رحم انساں نے یہاں دردوں کے ماروں پر
مجالس میں کہی جاتی ہیں اب سردار کی باتیں

ارے بلبل تو کیوں روتا ہے بن پھولوں کے گلشن میں
سنائے گا نہ اب کوئی تجھے گلزار کی باتیں

بھری دنیا میں تنہا ہوں بیاباں میں بسیرا ہے
غریبی میں نہیں سنتا کوئی اب یار کی باتیں

عتیقؔ الفت بڑھائو تم اگر کچھ مرتبہ چاہو
کہے جائو تم اب شیریں زباں سے پیار کی باتیں



کچھ دردِ دلِ زار سنانے کے لیے آ
ساغر تو نگاہوں سے پلانے کے لیے آ

بے تابیءِ دل جس سے بہل جائے زمانہ
محفل میں وہ نغمات سنانے کے لیے آ

شب بھر تری یادوں میں تڑپتا ہوں اکیلا
تو سوچ کے ملنے کے بہانے کے لیے آ

ہے کون سوا میرے ترے درد جو بانٹے
روتے ہوئے چہروں کو ہنسانے کے لیے آ
تکتا ہوں تری راہ کو بے تابی سے اکثر
وعدہ جو کیا تھا ہ نبھانے کے لیے آ

محبوب کے آنے کی امیدوں میں کھڑا ہوں
گل دان کے پھولوں کو سجانے کے لیے آ

خوابوں میں کبھی آ کے مجھے دے جا تسلی
سوئی ہوئی قسمت کو جگانے کے لیے آ

جیتے جی تو آیا نہ کبھی اب تو پسِ مرگ
تو لحد پہ شمع ہی جلانے کے لیے آ

بیٹھا ہے عتیقؔ آج تری راہ گزر میں
اک لحظہ تو دیدار کرانے کے لیے آ



بیٹھا ہے راستے میں اک آپ کا دوانہ
آنکھوں کو جس کی اکثر تکتا ہے اک زمانہ

اک دھاک اس کے دل میں بیٹھی ہے ہرطرف سے
جس نے لٹا دیا ہے الفت میں اک گھرانہ

تم آئو میرے گھرم یں احساس کی گلی سے
یہ راستہ کٹھن ہے دل کو سنبھال آنا

برستا کی فضا میں اک بار آئو ساجن
موسم کا ہے تقاضا ملنے کا ہے بہانہ
دل کی لگا کے بازی چلتا ہے روشنی پر
شمع پہ گر رہا ہے پروانہ والہانہ

کچھ وقت ہو تو سن لو یادوں کی منزلوں میں
تنہائیوں کے موسم میں میرا گنگنانا

اس خامشی سمے میں یہ مست ہے عتیقؔ اب
بے فیض شورشوں میں موسم ہے کچھ سہانا



کتنی راحت ہے تری آواز سے
ساز بجتے ہیں ترے ہر ساز سے

دیکھنے میں یوں تو سب انسان ہیں
کون واقف ہے دلوں کے راز سے

ہر ستم گر شہر میں کمزور کو
دیکھتا ہے کیوں غلط انداز سے

جس کے سینے میں اگر دھڑکن نہیں
کیوں مجھے دیکھے وہ چشمِ ناز سے

وقت کیوں برباد کرتا ہے عتیقؔ
آدمی کی قدر ہے اعزاز سے


کون پوچھے اس جہاں میں دستِ بے توقیر کو
کوئی سنتا ہی نہ ہو جب دکھ بھری تقریر کو

اے مصور دل پہ اس انداز سے نقشہ بنا
کیا کرے گا پاس رکھ کر کاغذی تصویر کو

وقت کی دہلیز پر باندھا گیا ہوں اس قدر
دل میں آتا ہے کہ توڑوں آہنی زنجیر کو

خون سے لکھی تھی تو نے عشق کی جو داستاں
رات کی تنہائی میں پڑھتا ہوں اسی تحریر کو

مارنے پر تل رہا ہے آج جو میرا عدو
کیسے روکے گا ستم گر ظلم کی شمشیر کو

شہر میں تیرے گلے لگتا نہیں کوئی عتیقؔ
رو رہا ہے کیوں بھلا پھوٹی ہوئی تقدیر کو



زندگی نے ہر طرح سے درد و غم بخشے مجھے
زندگی نے کس طریقے سے ستم بخشے مجھے

دم نکلتے ہی مرا وہ دے گئے مجھ کو کفن
بے رخی سے اک صنم نے کتنے غم بخشے مجھے

عمر بھر ہم زندگی کے ہر ستم سہتے رہے
پھر بھی اس دنیا نے نادیدہ ستم بخشے مجھے

لحد میں جب پرسکوں میں سو گیا ہوں دوستو
بے بسی پر اک فرشتے نے کرم بخشا مجھے
جب کتابوں میں چھپی تھی داستانِ غم مری
اک مصنف کی عنایت نے قلم بخشے مجھے

کاش رستے میں کہیں مل جائے وہ میرا عدو
چھین کر الفت کے بدلے کتنے بم بخشے مجھے

کیا قیامت ہو نظر آئے جو وہ مجھ کو عتیقؔ
اک مصور کے تصور نے الم بخشے مجھے



مرا جب سے بچپن پنپنے لگا ہے
وہی اب مرے دل میں بسنے لگا ہے

بچایا تھا جس کو سپیروں سے میں نے
مجھے اب وہی سانپ ڈسنے لگا ہے

مرے گھر میں چھایا ہے جب سے اندھیرا
فقط ایک جگنو چمکنے لگا ہے

ہے کالی گھٹائوں کا مجھ پہ یہ بادل
گرجتے ہوئے اب برسنے لگا ہے

بلکتا ہوا اک غریبی میں بچہ
خدا کی زمیں پر تڑپنے لگا ہے


ظلمتِ وقت کا جب دور گزر جائے گا
خستہ انسان کا ہر حال سنور جائے گا

غنچہءِ گل کو بری آنکھ سے دیکھا نہ کرو
پھول پتی کا سبھی رنگ بکھر جائے گا

سن لو للکار کہ اک روز اسی دنیا میں
طلم اور جبر کا دریا بھی اُتر جائے گا

کم ہی ہاتھ آئے گا جز غم کے یہاں کیا سوغات
قید سے چھوٹ کے جب آدمی گھر جائے گا

میرے زخموں کے لیے بھی تو دعا ہو جائے
ان دعائوں سے ہر گھائو بھی بھر جائے گا

تیری نظروں سے جو گر جائے زمانے میں عتیقؔ
پھر وہ آشفتہ ءِ حالات کدھر جائے گا



تو اپنے ذوقِ صداقت کو بے لگام نہ کر
جو ناپسند ہو اس کو کبھی سلام نہ کر

یہ مے کدہ ہے کسی شیخ کا اطاق نہیں
نہ ہو جمال تو تقدیم کوئی جام نہ کر

بقائے عصمت و تحریم خال و خط کے لیے
کسی بھی شہرِ طلسمات میں قیام نہ کر

مری فقیری کے باوصف جگ ہنسائی کو
سنہرے لفظ کے ایوان میرے نام نہ کر
وفا کے شہر مین اے الفتوں کے سوداگر
بکا ہوا ہے یہ سودا تو اس کے دام نہ کر

وہ بزم جس میں گدائی وقار کہلائے
عتیقؔ ایسے کسی شہر میں قیام نہ کر



اپنا خون دے دے کر جو درخت پالے ہیں
اب وہی رقیبوں کے جبر کے حوالے ہیں

ماں نے جن کو زیور تک بیچ کر پڑھایا تھا
ان کے گھر اندھیرے ہیں شہر میں اجالے ہیں

چاک چاک کر ڈالا جن کی بدنگاہی نے
اب وہی معزز ہیں اب وہی جیالے ہیں

ایک بھی نہ کام آیا غم کی سخت راہوں میں
کس نے غم زدہ بچے شہر میں سنبھالے ہیں
ایسی زندگی دے کر کیا تجھے ملا مولا
تری کارسازی کے ڈھنگ بھی نرالے ہیں

روشنی کی سوغاتیں کب عتیقؔ کو ملتیں
یوں تو ورنہ شہروں میں بے بہا اجالے ہیں



یہ عید تو آنے والی ہے ہم اگلی عید کو آئیں گے
رو رو کے ان آنکھوں سے کچھ پھولوں کو لہرائیں گے

پردیس کی محفل میں کوئی اب یار نہیں غمخوار نہیں
ہم پیار کے میٹھے نغموں سے بس اپنا دل بہلائیں گے

ہم جھوم کے آہوں کے نغمے بربط کے ساتھ سنائیں گے
اور اپنے رنگیں خوابوں میں ہم جوت جگاتے جائیں گے

کیا رونق ہے پروانوں کی کیا محفل ہے دیوانوں کی
ان جلتے بجھتے شعلوں پر ہم غم کا تیل گرائیں گے
اب کوچے کوچے میں اپنی ہر رنگ سے افشاں بکھرے گی
خوش رنگ تصور سے اپنے سوچوں کے شہر بسائیں گے

بے چین ہوئے احباب سبھی بے حال عتیقؔ کی حالت پر
اب اپنی اس بدحالی پر ہم اوروں کو تڑپائیں گے



حسن کی تابانیوں کو اپنی فطرت پر غرور
عشق کی جولانیوں کو اپنی عظمت پر غرور

شب کی تاریکی میں دل کے داغ جب روشن ہوئے
چاند کو بھی ہو گیا تھا اپنی رنگ پر غرور

غربت و افلاک کا ہے دور دورہ ہر جگہ
اور امیرِ شہر کو ہے اپنی دولت پر غرور

ایک نادر آشنا پر اس قدر کھوئے گئے
ہو گیا اس دلربا کو اپنی قامت پر غرور

جب گئے محفل میں ان کے بیٹھنے کو ہم عتیقؔ
ہو گیا درویش کو کچھ اپنی وقت پر غرور



اے جہاں کیا صلہ دیا تو نے
ایک ساتھی گنوا دیا تو نے

چشمِ نفرت سے دیکھ کر اک دن
زہر گویا پلا دیا تو نے

شمع مرقد پہ آیا پروانہ
کیوں اسے بھی جلا دیا تو نے

کیوں بلایا تھا آستانے پر
کیوں نظر سے گرا دیا تو نے
باوفا کی حسین رفاقت کو
لمحہ بھر میں بھلا دیا تو نے

میری تنہائی کے اندھیروں میں
دل کا شعلہ بجھا دیا تو نے

اے عتیقؔ اب تو روک قصے کو
دردِ دل بھی سنا دیا تو نے



اپنی چڑھتی ہوئی شفاف جوانی دے جا
کوئی تو عشق کے عنواں کی کہانی دے جا

تاکہ بہلے ہوئے دل کو میں تسلی دے دوں
کوئی تصویر ہی اپنی تو پرانی دے جا

میں کڑی دھوپ میں ویران کھڑا ہوں جاناں
سایہءِ گل میں کبھی شام سہانی دے جا

گل کی چاہت میں ہوا نالہءِ بلبل جاری
پھر خزائوں کو بہاروں کی نشانی دے جا
تیری یادوں سے سرِ شام سجائوں آنگن
خوابِ رفتہ کی خنک یاد سہانی دے جا

لے کے آنکھوں کے جزیروں میں سیہ کاجل کو
بہتے اشکوں کو ذرا اور روانی دے جا

پھول مرجھا گئے گلشن میں محبت کے عتیقؔ
اپنے اشکوں سے کبھی ان کو بھی پانی دے جا



تھک چکی ہیں یہ نگاہیں راستہ تکتے ترا
جا رہی ہیں یہ ہوائیں راستہ تکتے ترا

بے وفا نے جب تجھے منہ موڑ کر دیکھا نہیں
اجنبی ہیں یہ نگاہیں راستہ تکتے ترا

جشنِ گل سے اے بہارو اس چمن میں گھوم لو
دے گئیں خوشبو فضائیں راستہ تکتے ترا

دل ہی دل میں یاد کر کے آپ اپنی ذات سے
نرگسی آنکھیں بہائیں راستی تکتے ترا
کاش مل جائے کہیں پر گلستان میں سرخ گل
ڈھونڈتی ہیں یہ ہوائیں راستہ تکتے ترا

ہے بہاروں کی چٹانوں پر اکیلا یہ عتیقؔ
دے رہا ہے اب صدائیں راستہ تکتے ترا



پیار بن کر سما گیا وہ شخص
دل میں محفل بسا گیا وہ شخص

جو بھی آشائیں ہم نے پا لی ہیں
ان کو پل میں مٹا گیا وہ شخص

چار سو ہیں اداسیاں طاری
کیا کہانی سنا گیا وہ شخص

فصلِ گل سے گلہ نہیں لیکن
خود ہی سب کچھ گنوا گیا وہ شخص
سن کے اس کی سخاوتیں شاید
پھر اسی در پر آ گیا وہ شخص

جس کی یادیں متاعِ جاں ٹھہریں
کیسے دامن چھڑا گیا وہ شخص



وہ اپنا رنگیں شباب لے کر
گیا وہ تازہ گلاب لے کر

اداس پلکیں اُداس آنکھیں
خیال روئے حجاب لے کر

مرے چمن کا نہیں ہے مالی
کروں گا کیا میں گلاب لے کر

نشیلی آنکھیں ہیں میکدے میں
خلوصِ دل سے شراب لے کر

قدم قدم بے حساب رویا
عتیقؔ اُس کا عذاب لے کر



زندگی کے غم الم کس کو سنائوں دوستو
کھل کے اپنے دل کے غم کیسے بتائوں دوستو

عمر بھر کا ہم سفر تنہائی مجھ کو دے گیا
زندگی کے یہ ستم کب سے نبھائوں دوستو

چاند چہرہ جھیل نظریں جسم ہے صندل نما
مرتے دم تک یار کو کیسے بھلائوں دوستو

رفتہ رفتہ چاند مجھ سے دور ہوتا ہی گیا
روٹھنے والے کو اب شب میں منائوں دوستو

دل میں ہے یہ آرزو خونِ جگر اب کے عتیقؔ
اُس کے پائے نرم و نازک پر لگائوں دوستو



پاگل شاعر پاگل راتیں
آنکھوں کی ہیں کاجل راتیں

ڈر ہے سانپوں کو جوگی سے
لگتی ہیں یہ جنگل راتیں

بھیگی بھیگی بوندا باندی
بن جاتی ہیں بادل راتیں

شہر کی ویراں خاموشی میں
لگتی ہیں اب دنگل راتیں

کچھ اشکوں سے خاموشی میں
بھر جاتی ہیں آنچل راتیں



یارب ترے نگر میں مظلوم پھر رہے ہیں
نانِ جویں سے ہر سو محروم پھر رہے ہیں

کپرے ہیں اور نہ جوتے قلاش اس قدر ہیں
جاں لیوا سردیوں میں معصوم پھر رہے ہیں

میرے وطن کی خدمت کوئی کرے تو کیونکر
بس مال و زر کے رسیا مخدوم پھر رہے ہیں

کچھ شکوہءِ ستم ہے دل میں نہ عزم و ہمت
قسمت کا بوجھ اُٹھائے مظلوم پھر رہے ہیں
نے شعر و نغمگی ہے نے فکر میں حلاوت
شاعر لیے کتابِ منظوم پھر رہے ہیں

کیوں کر عتیقؔ آئے اس شہرِ نارسا میں
یہ ہے اندھیر نگری یاں بوم پھر رہے ہیں



شعر کہنے کا جہاں میں کچھ مزہ پایا نہیں
سوچتا ہوں جو زمانہ وہ ابھی آیا نہیں

اس سہانے گلستاں میں ہر طرح کے پھول تھے
تنگیءِ چشمِ حسد کو کوئی گل بھایا نہیں

اے کبوتر تو ہی لے جا خط مرے دلدار تک
آج قاصد تو وہاں کی کچھ خبر لایا نہیں

چھوڑ کر تنہا مجھے وہ ہو گیا کیسے خدا
تین دن سے میں نے تو کھانا بھی کچھ کھایا نہیں
مفلسی کی دستگیری کون کرتا ہے بھلا
جیب ہے خالی مری کچھ پاس سرمایا نہیں

عشق کی یہ داستاں کس کو سنائیں اب عتیقؔ
خود جلے اس آگ میں ہم ، یار تڑپا نہیں



غریبوں کے سر پر قیامت کھڑی ہے
مصیبت جہاں کی ہی ان پر پڑی ہے

نہ علم و ہنر ہے نہ ڈگری کا کاغذ
مگر اس کی رشوت ، سفارش بڑی ہے

دیے جائو رشوت کھلی بھرتیاں ہیں
امیرو! یہ کرسی تو خالی پڑی ہے

نہ سر پر ہے چادر نہ پیروں میں جوتے
ہے گرمی کا موسم تپش بھی کڑی ہے
غریبی خریدے غریبی کھلائے
کئی دن سے سستی یہ سبزی پڑی ہے

عتیقؔ اس جہاں میں فنا زندگی ہے
جو کرنا ہے کر لے کہ پل کی گھڑی ہے



لوگ کیوں ملتے ہیں ہم سے رشتہ داروں کی طرح
ہم سے ملنا ہو تو ملیے صرف یاروں کی طرح

آج میرا دل جلائو ، لقمہءِ ایندھن بنائو
ایک دن تم کو سلگنا ہے انگاروں کی طرح

آج کس کی یاد میں تم شبنمی آنکھیں لیے
کیوں بھٹکتے پھر رہ ہے ہو بے سہاروں کی طرح

اپنا آنچل آنسوئوں سے بھر کے وہ کہنے لگی
ایک دن روئو گے تم بھی آبشاروں کی طرح
خود کو طوفانِ حوادث سے بچا لو دوستو!
ورنہ گر جائو گے تم کچی دیواروں کی طرح

آگ دل کے باغ میں ایسی لگائی ہے عتیقؔ
ہنس رہا ہے آج تجھ پر جو بہاروں کی طرح



اک درد ہی کافی ہے اک پیار ہی کافی ہے
معصوم ادائوں کا اظہار ہی کافی ہے

اب دیکھ لیا اس کو بے تاب نگاہوں سے
محبوب کے چہرے کا دیدار ہی کافی ہے

چنبیلی کے چمپا کی خوشبو ہو گلابوں کی
گل دان سجانے میں گلزار ہی کافی ہے

سب چھوڑ دیے ناطے اب جائو جہاں چاہو
محروم وفائوں کا اقرار ہی کافی ہے

اب ذوقِ محبت میں جنت ہے نہ حوریں ہیں
مجھ کو تو عتیقؔ اس کا دیدار ہی کافی ہے



گلوں سے مہکتی فضا آ رہی ہے
سہانی سہانی صبا آ رہی ہے

دیے الفتوں کے بجھا وہ گئے ہیں
اندھیروں سے پھر بھی ضیا آ رہی ہے

وہ دل سے ہمیں بددعا دے رہے ہیں
ہمارے لبوں پر دعا آ رہی ہے

بھگا دیتے ہیں وہ فقیروں کو گھر سے
گداگر کی شاید صدا آ رہی ہے
سناتی گئی باغباں کو یہ بلبل
گلستاں سے گل کی صبا آ رہی ہے

عتیقؔ اب ہے عصمت فروشی کا عالم
کہیں دور سے اک ندا آ رہی ہے



محبت کے لیے جس نے جہاں کو چھوڑ ڈالا ہے
زمانے میں فقیری ہے گلے میں اک پیالا ہے

مفکر ہاتھ میں شمع لیے غم گین بیٹھے ہیں
کہ اپنے گھر اندھیرا ہے مگر ہر سو اجالا ہے

مجھے کیوں مارتے ہو ظالموں کیونکر ستاتے ہو
مری ماں نے مجھے اپنا لہو دے دے کے پالا ہے

ذرا دیکھو تو بے گور و کفن پروانے کا عالم
خدایا جینے مرنے میں جنوں کا فن نرالا ہے

عزیزوں کا گلہ کرنا عتیقؔ اچھا نہیں لیکن
مرے گھر کی گری حالت کو غیروں نے سنبھالا ہے



اسے ہر بات پہ مجھ کو ہنسا دینے پہ قدرت ہے
مرے جذبات کو دل میں بسا دینے پہ قدرت ہے

لگا کر آگ سینے میں حسینوں کے تصور سے
مصر کے تخیل کو مٹا دینے پہ قدرت ہے

ہمارے حال پر تو رات بھر روتی رہی شبنم
گلستانوں میں پھولوں کو ہنسا دینے پہ قدرت ہے

زمانے کی سیاہی پر فلک کے کل ستاروں کو
مرے بھولے ہوئے رستے دکھا دینے پہ قدرت ہے

اگر چاہیں غریبوں کے یہ بچے بھی بھڑک اٹھیں
کہ ان کو اونچے محلوں کو گرا دینے پہ قدرت ہے



وہ دل کے آئینے میں یہ کہرام دے گیا
اب پھر نہ مل سکیں گے یہ پیغام دے گیا

ہر آن پل رہا تھا جدائی کا وسوسہ
اس شہرِ بے قرار کو آرام دے گیا

فرقت کے زخم دل میں لگائے ہیں اس طرح
وہ کیسے کیسے مجھ کو یہ انعام دے گیا

سوچوں کے اس نگر میں وہ پھرتے ہیں آج بھی
مجھ کو فریبِ یار سرِ عام دے گیا
سمجھا تھا کچھ شراب پلائے گا وہ مجھے
افسوس وہ تو زہر بھرا جام دے گیا

سورج کی تیز دھوپ میں جلتا تھا یہ بدن
زلفوں کا سایہ اب کوئی گم نام دے گیا

دن کی تکان میرے نصیبوں کو سونپ کر
دردوں بھری عتیقؔ مجھے شام دے گیا

حصہ نظم

پیغام

غلام بن کر کسی کے آگے نہ سر جھکائو عزیز لوگو
وطن کے اپنے عظمی نغمے مجھے سنائو عزیز لوگو

گداگری کا نشان بن کر غریب کیوں بھیک مانگتے ہیں
حلال کا اب انہیں سلیقہ ذرا سکھائو عزیز لوگو

عجب سماں ہے اندھیری شب ہے یہ سب ستارے خموش کیوں ہیں
صدا قمر کی یہ آ رہی ہے انہیں جگائو عزیز لوگو
حبیب رشتے ، عزیز رشتے، عجیب رشتے، یہ بن چکے ہیں
بکھر بکھر کر اجڑ رہے ہیں انہیں ملائو عزیز لوگو

خدا وہی ہے نبیؐ وہی ہے پھر ان میں اتنا یہ فرق کیوں ہے
فساد جگ میں یہ ہو رہے ہیں انہیں مٹائو عزیز لوگو

عتیقؔ سب کو سکھا رہا ہے طریقہ میٹھی زباں کا یارو
زبانِ شیریں سے کوئی بولے تو مسکرائو عزیز لوگو



قائد اعظم

باغباں صحنِ وطن میں گل کھلا کے چل بسا
ان بہاروں کو لہو دل کا پلا کے چل بسا

رو رہی تھیں بیٹیاں اور لُٹ رہی تھیں عصمتیں
بے سہاروں بے گھروں کو گھر دلا کے چل بسا

ولولہ انگیز اس کا حوصلہ تھا کس قدر
آہنی دیوار کو وہ خود گرا کے چل بسا
کر رہے ہیں یاد جس کو آج تک انگریز بھی
دیکھ لو وہ کافروں کے دل ہلا کر چل بسا

ہر گھڑی ہر موڑ پر تو دے دعا اس کو عتیقؔ
باغِ جنت کی طرح سب کو دلا کے چل بسا



اے وطن

اے مرے گل بدن گلستاں اے وطن
ہر بشر ہے ترا باغباں اے وطن

تو ہمارے لیے ہم ہیں تیرے لیے
قوم کا ہے تو ہی پاسباں اے وطن

نہ ہاتھ آئی تھی جب ہمیں روشنی
تو اندھیرے میں تھا صوفشاں اے وطن
زمیں کہہ رہی ہے کہوں کیا تجھے
کہکشاں اے وطن آسماں اے وطن

جب منایا تھا ہم نے یہ چودہ اگست
قومی پرچم ترا تھا نشاں اے وطن

کر رہے تھے قیادت محمد علی
تو ہی ثابت ہوا ترجماں اے وطن

تیرے نغمے سنائے گا ہر دم عتیقؔ
ہر سپاہی ترا پاسباں اے وطن



نذرِ استاد

مہکے گلشن کے وہ دور نرالے تھے
خونِ جگر سے آپ نے بوٹے پالے تھے

اک شمع سے کتنے دیپ جلے ہوں گے
کس گھر کے بچے نادار پلے ہوں گے

ہم بھی آپ کے زیرِ سایہ پڑھتے تھے
علم کی سیڑھی سے گر کر ہم چڑھتے تھے
دیتا ہے یہ انسانوں کو علم مقام
آتے جاتے کرتے ہیں سب لوگ سلام

اہلِ علم کی سجدے میں یہ سن آواز
رب کر دے استاد کی میرے عمر دراز

آپ کے سب شاگرد سدا گن گائیں گے
اک دن یاد میں رو رو اشک بہائیں گے

قدر عتیقؔ استاد کی گر تو آج کرے
کل ویسے ہی تو بھی اپنی جھولی بھرے



سکول کے بچوں کے نام

خونِ جگر سے سارے مل کر پھول کھلائو اے بچو
غنچے بن کر گلشن گلشن پھول سجائو اے بچو

ایک خدا ہے، ایک نبیؐ ہے ، ایک ہے سب کا دین
ہم پر دشمن ہنستے ہیں اب لاج بچائو اے بچو

چاندی سونے سے مہنگے لمحات گزرتے جاتے ہیں
ان کا کچھ احساس کرو نہ وقت گنوائو اے بچو
شان ملائک سے اونچی ہے اس کو کوئی کیا جانے
تم بھی خود انسان بنو انسان بنائو اے بچو

دشمن دیں کا بن کر یہ شیطان دلوں میں رہتا ہے
اپنے دل کے اندر سے شیطان بھگائو اے بچو

درس عتیقؔ نماز کے دے تو ننھے پیارے بچوں کو
بہتر ہے قرآن پڑھو ، قرآن پڑھائو اے بچو



الوداعی تقریب میں پڑھی جانے والی نظم

تمہیں پھر ایک دن لیکچر ہمارے یاد آئیں گے
بھنور کو اس سمندر کے کنارے یاد آئیں گے

دیے کی روشنائی میں اکیلے بیٹھ کر پڑھنا
سیہ راتوں میں آنکھوں کے جگارے یاد آئیں گے

جگر کاوی سے جس استاد نے پڑھنا سکھایا تھا
اسی استاد کے اک دن سہارے یاد آئیں گے
مگر صحرا میں جا کر پھر کہیں بادِ صبا تجھ کو
حسیں گلشن میں پھولوں کے نظارے یاد آئیں گے

تمہیں وہ پیار کے نغمے جو ہم گا کر سناتے تھے
مسرت کے وہی شیریں نقارے یاد آئیں گے

وہ شمعِ علم تھے تاریکیوں کو دور کرتے تھے
عتیقؔ اک دن وہی روشن ستارے یاد آئیں گے



کشمیر

کٹ رہی ہے ظلمتوں میں زندگی کشمیر کی
جگ زمانے میں بھری ہے دل لگی کشمیر کی

یہ مجاہد سر کٹا کے ہو گئے ہیں سرخرو
ہے ابھی زندہ جہاں میں قیصری کشمیر کی

مفلسی کے باوجود ہے اب نمایاں یہ وطن
ہے پسند اسلام کو یہ دلبری کشمیر کی
توپ خانوں کے دھماکے چل رہی ہیں گولیاں
کیوں لہو کی بہہ رہی ہے یہ ندی کشمیر کی

اضطرابی کیفیت ہے، لٹ گئی ہیں عصمتیں
دیکھتے ہیں سب مسلماں بے بسی کشمیر کی

کٹ مریں گے ہم بقائے عصمتوں کے واسطے
بج رہی ہے چار سو یہ بانسری کشمیر کی

تذکرہ ہم کیا کریں اب حوصلہ افزائی کا
خود خدا کو بھا گئی ہے بندگی کشمیر کی

پھول پتیوں کی سجاوت اور ہری یہ وادیاں
گلستاں کی ہے نمائش تازگی کشمیر کی

یہ عتیقؔ اب جل رہا ہے عشق میں اسلام کے
ہے مسلط اس جہاں میں روشنی کشمیر کی



نذرِ محنت کشاں

لے رہا ہے وقت بھی اب امتحاں مزدور کا
اب نہیں کوئی بشر بھی پاسباں مزدور کا

جا کے لینا پڑ گیا ہے گھر کا آٹا لائن میں
اب تو ہے احساس سے باہر سماں مزدور کا

منہ پسینے سے بھرا ہے تشنگیِ ذات سے
دھوپ میں کیوں جل رہا ہے کارواں مزدور کا

جشنِ گل میں ہے مسرت اور نہ صحرا میں سکوں
مثلِ بلبل لٹ گیا ہے گلستاں مزدور کا

آ مرے محبوب اب تو چھا گئی فاقہ کشی
خاک سے بھی خاک تر ہے یہ جہاں مزدور کا



ماں

مجھے خونِ جگر اپنا پلایا ہے مری ماں نے
پکڑ کر انگلیاں مجھ کو چلایا ہے مری ماں نے

وہ میٹھے پیار کے نغمے مجھے اب یاد آتے ہیں
مجھے آغوش میں اپنی سلایا ہے مری ماں نے

مرے ابو کے گھر میں تو اندھیرا ہی اندھیرا تھا
چراغ اپنی محبت کا جلایا ہے مری ماں نے
مرا رونا مرا ہنسنا مری ماں کو لگا اچھا
مجھے گلدان کی صورت سجایا ہے مری ماں نے

نہ بھولا ہوں نہ بھولوں گا کیا احسان جو ماں نے
مجھے لکھنا مجھے پڑھنا سکھایا ہے مری ماں نے

عتیقؔ اب قبر پر ممتا کی رو رو کر یہ کہتا ہے
مجھے عالم مجھے انساں بنایا ہے مری ماں نے



لہو کا چراغ

یا رب ترے جہاں میں یہ کون بس رہا ہے
مسلم کو سانپ بن کر جو آج ڈس رہا ہے

کشمیر میں لہو کی ندیاں بہا رہا ہے
یہ شیر خوار بچے کتنے رلا رہا ہے

جابر ہے ساری دنیا ظالم ہے کل زمانہ
ہم جس طرف بھی جائیں لڑنے کا ہے بہانہ
یہ چاہتا ہے کوئی کلمہ کو پڑھ نہ پائے
کافر ہو ہر جگہ پر مسلم نظر نہ آئے

ہم کو جہاں میں نفرت کے کیا سوا ملا ہے
اپنے بنے ہیں دشمن غیروں سے کیا گلہ ہے

یہ تاج و تخت یا رب مٹی میں تو ملا دے
سن لے مری دعائیں اس ظلم کو مٹا دے

جائیں کہاں جہاں سے اب سب کی یہ دعا ہے
امریکیوں کے در پر مقروض ہر گدا ہے



نذرانہءِ عقیدت
حضرت پیر حبیب الرحمان عید گاہ شریف راولپنڈی

سن کر سخی کا چرچا اس در پر آ گیا ہوں
سویا ہوا نصیبہ اپنا جگا گیا ہوں

روضے کے دیکھنے کو بے تاب تھیں نگاہیں
پلکوں پہ اشک موتی اپنے جگا گیا ہوں

آیا ہوں روتے روتے دامن دراز کر کے
جو آرزو تھی دل میں وہ سب سنا گیا ہوں
چھائے تھے میرے دل میں جو وسوسے کبھی کے
اک پل میں در پہ آ کر سارے بھلا گیا ہوں

پھیلایا ہر جگہ پر پیغام ذکرِ وحدت
محفل میں ایسی آ کر شمع جلا گیا ہوں

منگتا نبیؐ کا بن کر آیا گدا کی صورت
پیغام اللہ ہُو کا دل میں بسا گیا ہوں

بیٹھا ہوں بے خودی سے دربارِ عالیہ میں
قسمت کے اپنے سارے سوتے جگا گیا ہوں

در پر عتیقؔ دل میں لے کر امید آیا
ان کے کرم کے صدقے دامان پا گیا ہوں



شبِ قدر

پھر نہ شاید آئے گی تیری طرف یہ شامِ قدر
مانگنے کا وقت ہے ناداں بشر جھولی کو بھر
حشر میں ہرگز نہ کام آئے گا تیرے سیم و زر
دل سے اس کی کر عبادت دل سے اپنے رب سے ڈر
عمر بھر کے روز و شب سے قدر کی شب ہے عظیم
بخشوا اپنی خطائیں تاکہ ہو جنت میں گھر
خالی ہے دامن مرا سن لے دعا میرے خدا
بخش دے میری خطا سجدے میں ہے میرا یہ سر
درد کی یہ داستاں تیرے سوا کس سے کہوں
آسرا کوئی نہیں تیرے سوا جائوں کدھر
آرزو ہے آخری رو رو کے کہتا ہے عتیقؔ
جب بھی پہنچوں گا نبی کا ہو گا در اور میرا سر



رمضان المبارک

جسے یہ مقدس مہینہ ملا ہے
اسے زندگی میں مدینہ ملا ہے

کتاب الہدیٰ بھی اسی ماہ میں آئی
یہ بخشش کا ہم کو خزینہ ملا ہے

گزشتہ امم پر بھی تھا فرض روزہ
مگر ہم کو یہ اک نگینہ ملا ہے
امیروں غریبوں کے ہیں لمحے قائم
مساوات کا اک قرینہ ملا ہے

خطرناک ہیں سیلِ غم کے ارادے
خوشا یہ کہ جس کو سفینہ ملا ہے

گناہوں کی بخشش کرا لے عتیقؔ اب
تجھے اس برس کا مہینہ ملا ہے



مسافرِ کربلا

اسلام کا وقار ، شہادت حسینؑ کی
پائندہ ہے جہاں میں قیادت حسینؑ کی

دشمن تھے چاروں سمت عداوت تھی ہر طرف
جاری تھی کربلا میں امامت حسینؑ کی

کیا پوچھتے ہو ابنِ علیؑ کی بلندیاں
چمکی ستارہ بن کے سعادت حسینؑ کی
اصغرؑ کا خون بہہ گیا صحرا کی ریت پر
کتنی عظیم تر تھی سخاوت حسینؑ کی

سجدے میں سر کٹا کے ہوا سرخرو حسینؑ
رب کو بھی بھا گئی ہے عبادت حسینؑ کی

جاری ہے سارے دہر میں سکہ حسینؑ کا
تاریخ بن گئی ہے خلافت حسینؑ کی

مقصد عظیم تر تھا بَہتّر ہوئے نثار
پھر بھی رہی عتیقؔ شجاعت حسینؑ کی

قطعات



نذرِ خیال

نسبت نے تیری مرتبہ عالی بنا دیا
علم و ادب کا مجھ کو سوالی بنا دیا

یادوں کے دیپ دل میں اجالے ہیں اس طرح
یعنی مجھے عتیقؔ خیالی بنا دیا



دم ہوا آدم میں جس دم بن گیا تھا آدمی
اے خدا کس چیز کی آئی نظر تجھ کو کمی

لوگ تیرے عشق میں ہر روز روتے ہیں یہاں
مل سکی ہرگز نہ آنکھوں میں کبھی ان کے نمی



ہے بظاہر سانپ بھی تو خوش نما و خوبرو
دیکھنے میں لوگ بھی لگتے ہیں ہم کو اس طرح

ہم تو بحرِ درد میں بھی ڈھونڈ لیتے ہیں سکوں
خشک کرتے ہیں مگر ہم چشمِ نم کو اس طرح



حیوان جان کو وہ مجھے ہانکتا رہا
قیدی سمجھ کے کوئی مجھے جھانکتا رہا

اس نے عتیقؔ بات نہ مانی کسی طرح
میں تو معافیاں بھی بہت مانگتا رہا



ابھی تو رات باقی ہے ہمیں کچھ بات کہنے دو
ستارہ بن کے ابھرے ہو چمک کچھ پاس رہنے دو

غموں کی وادیوں میں جا بسیرا کر عتیقؔ اپنا
اندھیرے میں کسی جگنو کو اپنے درد سہنے دو



دیکھنے آتا ہوں میں بھی کام سارے چھوڑ کر
جب نکلتے ہیں وہ گھر سے سرخ چادر اوڑھ کر

وہ بھلا دیکھے نہ دیکھے لوگ تو دیکھیں اسے
حسن کی ہے یہ نمائش شرم کی حد توڑ کر



جب ہم ان کے گھر جاتے ہیں
من ہی من میں ڈر جاتے ہیں

دستک دیں پر وہ نہ آئے
رو رو دامن بھر جاتے ہیں



اس شہرِ بے وفا میں تو کچھ تو شناس کر
جو غم زدہ ہے اس کو نہ اتنا اداس کر

گوہر ملیں گے ایک دن ڈھونڈے گا گر عتیقؔ
ویران وادیوں میں تو ان کا قیاس کر



اب دیکھ لیا ظلم کے ضامن کو بھی ہم نے
جو یار کی میت پہ بھی رونے نہیں دیتا

پھولوں سے گلہ کیا ہے کہ افسوس عتیقؔ اب
وہ درد کے کانٹوں پر بھی سونے نہیں دیتا



رات ہنستی نظر نہیں آتی
آس تاروں کی بر نہیں آتی

کاش مل جائے غم زدہ جگنو
شب یہ لے کر خبر نہیں آتی



سوچتے مزدور کی آخر نظر بھی گڑ گئی
دیکھ کر بھوکے یہ بچے دل کی بستی سڑ گئی

یوں تو ہر اک چیز پر مہنگائی کے ہیں بداثر
آج کے انسان کو بیوی بھی مہنگی پڑ گئی



اہلِ زر کے حکم پہ یارو
اک مفلس پر پرچے ہوں گے

جب منصف ہو ظلم کا حاکم
عدل کے پھر کیوں چرچے ہوں گے



عا کر کے مری بے چین آنکھوں کو یہ بے خوابی
پری میری امیدوں کی چمن میں سو گئی ہو گی

ذرا جا کر جگا دے نگہتِ موجِ صبا اس کو
مری صورت کسی سپنوں میں شاید کھو گئی ہو گی



بس رہا ہے وہ تو میرے دل میں دھڑکن کی طرح
لوگ کہتے ہیں کہ اس سے دل لگی کرتے رہو

دل کے آئینے میں رکھ کر اس حسیں کے عکس کو
یوں عتیقؔ اپنے صنم کی بندگی کرتے رہو



اس انجمن میں آج تو منظر عجیب تھا
ہر ایک شخص میری طرف دیکھتا رہا

لکھا تھا کیا عتیقؔ مری چشمِ آس پر
میں خود ہی کتنی دیر تلک سوچتا رہا



کربلا میں شہ نے جب رکھا قدم
دشمنوں پہ خوف طاری ہو گیا

ہو رہی تھی تیروں کی بارش عتیقؔ
خون کا سیلاب جاری ہو گیا



کربلا میں شورشیں تھیں اس قدر
باپ بیٹے کا لہو ملتا رہا

روشنی کی قدر ہے اس کو عتیقؔ
خون جس کا دیپ میں جلتا رہا

— تمت بالخیر —

Viewers: 231

Share