ڈاکٹر شہناز مزمل کی کلیاتِ غزل — منتہائے عشق

Muntaha-i-Ishq منتہائے عشق Dr. Shahnaz Muzzammilڈاکٹر شہناز مزمل  This book is published by Dr. Shahnaz Muzzammil and all rights reserved. The publisher or printer is not responsible for the content […]

Muntaha-i-Ishq

منتہائے عشق

Dr. Shahnaz Muzzammilڈاکٹر شہناز مزمل 
This book is published by Dr. Shahnaz Muzzammil and all rights reserved. The publisher or printer is not responsible for the content of this book. We have always strived to convey the best and most error-free literary content to readers. Every possible attempt is made in this regard, but error detection is welcomed so that it can be corrected in a future publication.

ISBN : 978 969 7738 182

زیرِ مطالعہ کتاب محترمہ ڈاکٹر شہناز مزمل کے ایما پر شائع کی گئی ہے اور اس کے جملہ حقوق اورمتن کی تمام تر ذمہ داری انہی کو مستحسن ہے۔پبلشر یا پرنٹر قطعاً ذمہ دار نہیں۔ ادارہ اردو سخن ڈاٹ کام کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ قارئین تک بہترین اور اغلاط سے پاک ادبی مواد پہنچایا جائے اور اس ضمن میں ہر امکانی کوشش کو بروئے کار لایا جاتا ہے تاہم غلطی کی نشاندہی کا خیر مقدم کیا جاتا ہے تاکہ آئندہ اشاعت میں اس کی درستی کی جائے۔(ادارہ)

ڈاکٹر شہناز مزمل
125۔ ایف، ماڈل ٹائون، لاہور۔ (پنجاب۔ پاکستان)
رابطہ فون: 0300-4275692

All Rights are Reserved
استحقاق:تمام تصرفات ’’ڈاکٹر شہناز مزمل ‘‘کی تحویل میں ہیں
ناشر: اردو سخن پاکستان و ادب سرائے پبلیکیشن لاہور
January 2019

کمپوزنگ: محمد شہریار ناصر Muhammad Shahryar Nasir
تدوین و تزئین:میاں وقار الاسلام Mian Waqar ul Islam
نظر ثانی:صائمہ جبیں مہک۔ نجم الحسن Saima Jabeen Mahak, Najm ul Hasan
اہتمام/سرورق: ناصر ملک Nasir Malik
طباعت: شیرِ ربانی پریس، ملتان Sher e Rabbani Press, Multan


ڈاکٹر شہناز مزملؔ کی ادبی مسافت
چیئر پرسن ؛ ادب سرائے انٹر نیشنل لاہور —مادرِ دبستانِ ادب لاہور
ڈاکٹر شہناز مزمل کی تخلیقات و تحقیقات:
1۔ ابتدائے عشق 2۔عشق تماشا ( مجموعہءِ کلام)
3۔عشق مسافت 4۔عشقِ مسلسل ( مجموعہءِ کلام)
5۔عشق دا دیوا 6۔عشق دا بھانبھڑ ( پنجابی مجموعہءِ کلام)
7۔عشقِ کل 8۔انتہائے عشق ( مجموعہءِ کلام)
9۔نورِ کل 10۔جادہ ءِ عرفاں ( مجموعہءِ کلام)
11۔بعد تیرے 12۔قرضِ وفا ( مجموعہءِ کلام)
13۔میرے خواب ادھورے ہیں 14۔موم کے سائباں ( مجموعہءِ کلام)
15۔جراتِ اظہار 16۔جذب و حروف ( مجموعہءِ کلام)
17۔پیامِ نو (مجموعہءِ کلام)
18۔شہناز مزمل کے منتخب اشعار (انتخابِ شعر)
19۔کھلتی کلیاں مہکتے پھول (مجموعہ کلام)
20۔Ten poets of today 21۔قرآن پاک کا منظوم مفہوم (تحقیق)
22۔کتابیاتِ اقبال 23۔کتابیات مقالہ جات (تحقیق)
24۔لائبریریوں کا شہر لاہور 25۔فروغِ مطالعہ کے بنیادی کردار(تحقیق)
26۔عکس ِ خیال (شعری مجموعہ)
27۔ دوستی کا سفر (سفر نامہ)
28۔ نماز (بچوں کے لیے)
29۔ کلیاتِ شہناز مزمل (غزلیات)
30۔ کلیاتِ شہناز مزمل (نظم)
31۔ کلیاتِ عشق (تصوف)
32۔ سفرِ عشق (سفرنامہ ءِ حرمین شریفین و جدہ)
33۔ اجلا کون میلا کون (کالموں کا مجموعہ)
34۔ بریف کیس (کہانیاں)
ڈاکٹر شہناز مزمل پر کیا جانے والاتحقیقی کام:
1۔ عکسِ خیال؛ شہناز مزمل ایک تعارف نعمانہ فاروق
2۔ شخصیت و فن؛ شہناز مزمل صدف رانی
3۔ شہناز مزمل کے سفر نامے ’’دوستی کا سفر’’ کا تجزیاتی مطالعہ ثناء خاور
4۔ شہناز مزمل کی شاعری کے مطالعات مقدس ستار
5۔ مثل ِ کلیات شاعری: ڈاکٹر شہناز مزمل میاں وقار الاسلام
6۔ شہناز مزمل کی اردو غزل اور نظم کا فکری و فنی مطالعہ حنا نعمان
ڈاکٹر شہناز مزمل کیلئے اعترافِ کمالِ فن:
1۔ ادب سرائے انٹرنیشنل پورٹ فولیو 2018ء
2۔ بک اینڈ پبلی کیشنز 2018ء
3۔ ایوارڈ اینڈ سرٹیفیکیٹس 2018ء
4۔ پریس اینڈ میڈیا 2018ء
5۔ پروگرامز اینڈ ایونٹس 2018ء
www.adabsaraae.com www.shahnazmuzammil.com



انتساب

منتہائے عشق تک پہنچنے والے عاشقوں کے نام

گزارش

ابتدائے عشق سے منتہائے عشق تک کا سفر کٹھن طویل اور صبر آ زما ہے۔سجدہءِ شکر کہ دشوار گزار مسافت کے بعد کچھ دیر سانس لینے کا موقع ملا ۔رودادِ سفر آپ کے سامنے ہے۔ میں اور میرے ہم سفر دیوانےعاشق تھکن سے چور کیف و مستی میں گم پابجولاں آ بلہ پائی کے بعد زخموں کے بھرنے تک آپ کے تاثرات کے منتظر ہیں ۔
شہناز مزمل
مادرِ دبستان ۔ لاہور
چیئر پرسن، ادب سرائے انٹرنیشنل، لاہور


فہرست

گزارش (شہناز مزمل)
شہناز مزمل کی تخلیقی جہتیں (پروفیسر حسن عسکری کاظمی)

پیامِ نو
جراتِ اظہار
جذب و حروف
عکس ِ دیوار پہ تصویر
موم کے سائباں
میرے خواب ادھورے ہیں
عشق تماشا
بعد تیرے
عشق سمندر
عشق مسافت
عشقِ مسلسل

شہناز مزمل کی تخلیقی جہتیں

شاعری سے شغف رکھنے اور تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں دروں بینی یا اپنی ذات کے اندر سفر کرنے کا جنون فطرت کی طرف سے ودیعت کی ہوئی وہ نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں، خالق کائنات نے جسے اس نعمت سے نوازا وہ مرد ہو یا عورت یقینا ہم اسے تلمیذِ ربانی یا صرف اس کے کارِ ہنر کو جزویست از پیغمبری کہنے پر اکتفا نہیں کریں گے بلکہ اس کی تخلیقی جہتوں کے حوالے سے یہ جائزہ بھی لینا پسند کریں گے کہ اس نے زندگی کے مختلف مظاہر سے متعلق ترسیل فکر کی خاطر کیا اہتمام کیا اور اپنی تخلیقات میں آغاز سے انجام تک فکر و شعور کو مہمیز کرنے میں غزل یا نظم کو وسیلہء اظہار قرار دیتے ہوئے قاری کے دامنِ خیال میں کتنی وسعت پیدا کی۔ اس طرح تخلیق کار کی ثروت مندی نے شعری جمالیات میں کتنا حصہ ڈالا اور ہمعصر شعراء میں اس نے کیا مقام پایا۔
اس مختصر تمہید کا مقصود محترمہ شہناز مزمّل کی تخلیقی کار گزاریوں اور شاعری میں ان کے مقام و مرتبہ سے متعلق یہ دیکھنا ہے کہ ادب کے منہاج کو شہناز مزمل نے شعری مذاق اور تخلیقی مزاج کے آئینے میں صحیح اقدار پر قائم رکھنے کی خاطر فنی اور معنوی خصائص کا کس قدر لحاظ رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی غزل ایک ایسے آئینہ خانے کی مثال ہے جس میں عکس در عکس جہانِ عشق کی جلوہ سامانیاں دیکھائی دیتی ہیں ، ان کے ہاں مطالعہء ذات کے مراحل طے کرتے ہوئے مجاز سے حقیقت کی طرف سفرِ عشق شروع ہو جاتا ہے، شہناز مزمّل نے آغاز میں جس معیار کی شاعری کی اس کی مثال علامہ اقبال کے ہاں بانگ درا کی ابتدائی غزلوں میں نظر آتی ہے جو داغ دہلوی کے تتبع میں کہی گئیں، اس طرح آغاز شباب میں ان کے دو شعری مجموعے ’’پیامِ نو ’’ اور ’’جراتِ اظہار‘‘ شائع ہوئے ، ان میں نیم پخت جذبوں کا اظہار سلیقے سے کیا گیا ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ ’’پیامِ نو‘‘ کی غزل جو شادی سے پہلے کہی گئی اس پر علامہ اقبال کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں جب کہ ’’ عکسِ دیوار پہ تصویر‘‘اور ’’جذب و حروف‘‘ میں وہ ایک پختہ ہنر مند نثر نگار اور شاعرہ بن کر ابھریں، غزل اور نظم کے علاوہ قطعات میں ان کی شعری ہر اعتبار سے ابلاغ کے اعلیٰ معیار پر پورا اترتی ہے۔ اس عہد میں ان کے ہاں شفق کی سرخی سورج کے طلوع ہونے کی خبر دے رہی ہے ۔ ان کا تخلیقی سفر ارتقا پذیری کے مرحلہ ء جاں گداز میں داخل ہو کر انفس و آفاق سے ہمکلام ہونے اور قدرت کی فیاضیوں پر غور و فکر کرنے میں ہر قدم پر معاون ثابت ہوا چنانچہ ’’موم کے سائبان‘‘ کی متنوع اور ہمہ جہت رنگا رنگی دیکھتے ہوئے شہناز مزمل کی شخصیت اور شاعری کے بارے میں یہ تاثر ابھر کر سامنے آیا کہ شائستگی اور قرینہ حسین امتزاج کے ساتھ یکجا کر دیئے گئے ہیں۔ ان کا لب و لہجہ اور شگفتہ اندازِ اظہار اس بات کی علامت ہے کہ ان کی تربیت ایسے ماحول میں ہوئی جہاں سچائی ایک قدر اور محبت کا پاکیزہ جذبہ حرف صداقت کی طرح تسلیم کئے جاتے ہیں۔
شہناز مزمل ہمارے عہد کی منفرد آوا ز ہے، ان کا اوڑھنا بچھونا علم و ادب اور ترسیل فکر ان کا عظیم مقصدِ حیات ہے ، انہوں نے ’’کتاب گھر‘‘ میں زندگی بسر کی، چاروں طرف کتابوں کے انبار بلکہ کتابوں کے درودیوار ، وہ اپنا قدم جس سمت بڑھائیں کتابیں ان کا استقبال کرنے کے لیے فرشِ راہ! —وہ لاہور میں قائداعظم لائبریری کی نگرانِ اعلیٰ رہیں، وہ ان کتابوں کے درمیان رہتے ہوئے اپنا غم بھول گئیں، ایسا بھی نہیں بلکہ اپنے ہمسفر، دمساز، شریک حیات کی ناگہانی موت کو تخلیقی ہنر مندی سے جانِ غزل بنا کر دم لیا۔ ’’میرے خواب ادھورے ہیں‘‘ ،’’ عشق تماشا ‘‘ اور ’’بعد تیرے‘‘ جیسے یاد گار شعری مجموعے ترتیب دئیے ان کی غزلوں میں لطافتوں اور حکایتوں کی ایسی درخشندہ کہکشائیں ہیں جن میں ستاروں کی تنک تابی ہمیں ایک خواب کی صورت دکھائی دیتی ہیں، ان کے ہاں غزل کے ان گنت موضوعات ہیں، قطرے میں سمندر اور ذرّہ خاک میں خورشید کا منظر دیکھنے کی خاطر چشمِ دل کو وا رکھنے کی ضرورت رہتی ہے۔ یہ کیف و سرمستی صاحبانِ دیدہ و دل پر اس وقت طاری ہوتی ہے جب خالقِ کائنات سے ربطِ خاص پیدا ہو جاتا ہے۔ شہناز مزمل نے ’’عشق سمندر‘‘ اور’’ عشقِ کل‘‘ کے روحانی مرحلے طے کرتے ہوئے پچھلے زمانوں کی طرف نہیں دیکھا انہوں نے زندگی کے حقائق اور فکر و نظر کے منفرد زاویوں سے جھلکتی سچائیوں باس شعریت میں قاری کو ہدیہ کیں۔
تصوف کے اسرار و روز پر نظر رکھنے کا جواز پیدا کیا اور ’’نورِ کل ‘‘ اور’’ جادہ ئِ عرفان‘‘ سے آگہی کا در کھول دیا۔ شہناز نے مرحلہء شوق طے کرتے ہوئے نادیدہ جہانوں کا نظارہ کیا اور چراغِ معرفت سے اپنے اطراف کو روشن کر کے ایک صوفیء با عمل کا کردار ادا کیا۔
جہاں تک ان کی شاعری کے مختلف ادوار کا تعلق ہے، ہم بآسانی یہ بات کہ سکتے ہیں کہ ان کی ابتدائی شاعری کی مثال ایسے خواب کی سی ہے جو اپنی تعبیر کی تلاش میں رہتا ہے۔ شہناز مزمل نے رتجگوں کی مسافت کاٹی، سفرِ خودآگہی اور جرمِ آگہی کے کرب سے بھی گزرنا پڑا، کسک اور بے کلی بڑھتی گئی، یہ ان کا دوسرا دور تھا، وہ برزخ ِ احساس میں خیمہ زن رہیں، لیکن خواہش ِ نادیدہ کے ساتھ ساتھ لاحاصلی کی زمیں پر چلتی ہوئی مختلف زاویے بناتی رہیں، مگر ادھورا خواب پورا نہ ہوا، تیسرا دور عہدِ تخلیق کی نئی جہت سے عبارت ہے جس میں خود آگہی اور خدا آگہی کی منزل نظر کے سامنے ہے۔ ’’متاعِ عشق’’ تکمیل ِ ذات کے بغیر حاصل نہیںہوتی، ’’قرضِ وفا ‘‘سے تسکین ِ دل ملنے کا امکان ہے، یقینا اس جنتِ ارضی پر’’ کھلتی کلیاں مہکے پھول‘‘ فردوسِ نظر کا سبب بنتے ہیں۔ شہناز مزمل خوبصورت ہونے کے ساتھ خوب سیرت ہیں، ان کا چہرئہ اظہار باوضو ہو کر اور بھی نکھر گیا ہے، وہ با ہنر بھی اور با وقار بھی ہیں اور’’ متاعِ عشق‘‘ سے مالامال بھی یہی حرفِ دعا ہے کہ ان کا تخلیقی سفر منزلِ صبحِ بقا تک جاری رہے۔ (امین)
پروفیسرحسن عسکری کاظمی

پیامِ نو

محترمہ شہناز مزمل صاحبہ چیف لائبریر ین ماڈل ٹائون لائبریری لاہور، ایک قابل قدر اور متحرک عمل خاتون ہیں۔ یہ علمی ادبی تقافتی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لیتی ہیںاور تحریر میں مہارت ہے۔ تھوڑے عرصے میں اپنی انتظامی صلاحیت سے کام کر کے انہوں نے ماڈل ٹائو ن لائبریری کو ایک خوبصورت علمی ادارہ بنا دیا ہے۔ یہاں پر انہوں نے بچوں، بڑوں اور طلبا اور خواتین کے لئے ہر طرح کی ممکن سہولتیں فراہم کر دی ہیں۔ تھوڑے سے عملے سے خوب کام لیا ہے۔ وقتاََ فوقتاََ کتابوں کی نمائش، بچوں کے میلے، مشاعرے ، تحریری مقابلے وغیرہ کرواتی رہتی ہیں۔ ماڈل ٹائون کی لائبریری کی فضا انتہائی خوشگوار ہے۔ یہاں کی پبلک ان کی کوششوں کو سراہتی ہے اور تقریبات میں شرکت کرتی ہے۔
محترمہ شہناز نہ صرف پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی مالک ہیں بلکہ ایک شاعرہ اور ادیب بھی ہیں۔ ذوق سخن خوب ہے۔ اکثر مشاعروں میں شرکت کرتی رہتی ہیں، خواتین میں بہت مقبول ہیں، ان کی شاعری اصلاحی پہلو رکھتی ہے جو بہت ضروری ہے۔ادب کو ہم اخلاقی اقدار اور مذہب سے جدا نہیں کر سکتے۔ میرے نزدیک ایک اچھا شاعر وہی ہے جو نہ صرف فن کے اعتبار سے پختگی رکھتا ہو بلکہ انسانیت کے بلند جذبات اور اعلیٰ کردار کی دعوت بھی دیتا ہو۔ شہناز کی غزلوں اور نظموں میں جو روح کارفرما ہے اس کا سرچشمہ اسلام ہی نظر آتا ہے، وہ پاکستان سے محبت رکھتی ہیں، ملت کا سوز ہے، خدا تعالیٰ کو یاد کرتی ہیں اور اس کی نعمتوںکی شکر گزار ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رضا پر چلائے اور ان سے اچھے اچھے علمی اور ادبی کام لے۔
انعام الحق



کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یارب
اک آبلہ پا وادیٔ پُرخار میں آوے
شاعری اور بہت کچھ کے ساتھ وادئی پُر خار میں اک آبلہ پائی بھی ہے۔ وادیٔ خیال کے شہر سخن میں تو یہ شہناز مزمل کی شہنائی دلنواز اور دل رُبا ہے۔ یہ ان کی عشقِ سخن کا پہلا اظہار ہے جس میں معصومیت کی لغزش فکر کے پیرایوں میں ڈھلی ہوئی ہے۔ ان کے افکار و تصورات میں ایک تعمیر کا حسن ہے جو ان کے خیالات کو جدت وندرت بخشتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ شعری افکار دلچسپی سے پڑھے جائیں گے اور اس فنکارہ کے عظیم مستقبل کی خوبصورت تمہید بن جائیں گے۔
عبدالجبار شاکر
21 جولائی1989ء


پیش لفظ

مبتدی ہوں، مشق ِ سُخن جاری ہے، اپنی پہلی اور خام کوشش پیش کرنے کی جسارت کر رہی ہوں کیونکہ پیامِ نو سب تک پہنچانا چاہتی ہوں۔
پیدائشی شاعرہ تو ہوں نہیں، ددھیال علمی و ادبی مرکز رہا۔ والد صاحب شاعری سے ذوق فرماتے تھے۔ ادب سے لگائو ورثے میں ملا، اسکول کالج کے زمانے میں مشاعروں میں حصہ لیتی رہی، اخبارات و رسائل میں بھی کبھی کبھار کوئی نظم وغیرہ چھپ جاتی۔
والد صاحب کی زندگی میں شاید اس ڈر سے کہ جانے ذہن کیا تخلیق کر ڈالے طبع آزمائی کم ہی کی، ویسے والد صاحب پڑھنے لکھنے کے معاملے میں آزاد خیال آدمی تھے ہر قسم کا مواد پڑھنے اور لکھنے میں آزادی تھی، شاید اس لیے زیادہ محتاط تھی۔
1987ء میں اُن کے انتقال کا صدمہ ناقابل برداشت ثابت ہوا، ذہن نے فرار چاہا تو آمد شروع ہوئی اور ایک اک دن میں چھ چھ، سات سات غزلیں اور نظمیں ہونے لگیں، جن میں سے کچھ پیامِ نو میں شامل ہیں۔
سب لوگ گرمیوں کی دوپہر میں سوتے اور میں اندھیرے کمرے کی کھڑکی کا ذرا سا پردہ سرکا کر ڈائری پر لکیریں کھینچا کرتی خود سمجھ نہیں پائی کہ یہ سب کچھ کیسے لکھ ڈالا۔
زانوئے تلمذ کسی کے آگے تہہ نہیں کیا، کسی سے باقاعدہ اصلاح نہیں لی، آپ کو اشعار میںخیالات کی یورش اور فکر کی یلغار نظر آئے گی جنہیں الفاظ کا روپ دینے کی کوشش کی ہے۔ افکار کا ٹکرائو اور بسا اوقات تضاد بھی ہے۔ مطالب میں ذومعنویت بھی نظر آئے گی جس کے لئے بعض دفعہ شاید الجھنا بھی پڑے۔ تقطیع بھی شاید کئی جگہ درست نہ ہو، بہرحال جو کچھ بھی ہے من وعن آپ کے سامنے ہے۔ اُمید ہے مخلصانہ آراء سے نوازیں گے۔ آپ کی آراء مشعل ِ راہ ہوں گی۔
میں محترم ایرکموڈور ریٹائرڈ انعام الحق صاحب ڈائریکٹر جنرل پبلک لائبریرز پنچاب لاہور اور جناب پروفیسر عبدالجبار شاکرؔ صاحب ڈائریکٹر پبلک لائبریریز کی بے انتہاکی بے انتہا مشکور ہوں کہ انہوں نے میری حقیر سی کاوش کو بغور پڑھااور اتنے خوبصورت الفاظ سے نوازا اور حوصلہ افزائی فرمائی۔ علاوہ ازیں جناب حسن عباس زیدی کی بھی مشکور ہوں کہ انہوں نے مفید مشوروں سے نوازا۔
شہناز مزمل ؔ
21 جولائی1989ء



مرا پیام مری قوم کی امانت ہے
مرا پیام مری روح کی عبارت ہے

مرے پیام میں شامل ہے میرا فکر و عمل
مرا پیام تمہارے لئے بصارت ہے



میری آشفتہ سری ہی مری کمائی ہے
تمام عمر اسی کے لئے گنوائی ہے

خرد نے چاک گریبان اپنا کر ہی لیا
یوں راہ اپنے لئے اک نئی بنائی ہے

پڑے تھے راہ میں کتنے ہی پیالہ و ساغر
یہ زندگی مے و مینا کو روند آئی ہے

خودی کو بھول کے تو خود خدا کو بھول گیا
اسی لئے تو عدو سے بھی منہ کی کھائی ہے

اے لامکاں کے مکیں میری آرزو ہے یہی
ملے وہ راہ جہاں تیری راہ نمائی ہے



میرے انداز سُخن پہ نہ ہو ناراض کہ میں
ہوں گنہ گار نہیں جراتِ اظہار مجھے

دوست ہوں دوست کا ، دشمن بھی مرے اپنے ہیں
کیوں سمجھ پائے نہیں آج تک اغیار مجھے

تو ہے نازاں کہ ہوئی جشنِ بہاراں میں شریک
لے گئی بادِ صبا آج کوئے یار مجھے

اس قدر تیز ہے اب ذوقِ جنوں کی پرواز
نہیں ہے اپنی خودی پہ بھی اختیار مجھے

آبلہ پا ہوں شکستہ مرے ارماں شہنازؔ
دیکھو مارو نہ کوئی ناوکِ خونبار مجھے



طلوع صبح نوید بن کر جہاں کو یوں جگمگا رہی ہے
اندھیری راتوں کی ظلمتوں کو ردا میں اپنی چھپا رہی ہے

جو نُور اُس نے فضا کو بخشا وہ نور مظہر ہے عظمتوں کا
عظیم رب کا عظیم جلوہ عظیم صبح دکھا رہی ہے

مہک ملی ہے گلوں سے اس کو بنی ہے گل ہر کلی چٹک کے
صباء بھی ہر سو لہک لہک کے ترانے اس کے ہی گا رہی ہے

یہ ساز کیسا بجا ہے بن میں یہ شور کیسا ہے انجمن میں
گھٹا یہ کالی برس گرج کے فضا کو کیسے جِلا رہی ہے

پیا کہاں ہے پیا کہاں ہے پپیہا یہ پوچھتا ہے سب سے
بہار آئی ، بہار آئی صباء یہ مژدہ سنا رہی ہے



تیری پاکیزگی پہ حرف نہ کوئی آئے
راہِ عصمت سے صبا بن کے تو گزر جائے

رُخ معصوم حیا بار رہے یوں ہی سدا
راہ جیون کی حیا بار ہی گزر جائے

تری زینت ترا ایمان تقدس ہے ترا
فخر ہو راہ کو جس رہ سے تو گزر جائے

یہ زمانہ تو کیا یزداں بھی کرے تجھ پہ ناز
کہکشاں بن کے تو جس جا سے بھی گزر جائے



کیوں قیدِ زیست میں تیرا وجود ہے محبوس
کہیں سے کوئی پیامِ سحر نہیں آتا

کیوں رنگ لاتی نہیں اب یہ گرمئی گفتار
کیوں تیرے شعر و سخن میں اثر نہیں آتا

کٹھن سفر ہے تو منزل بھی دور ہے اپنی
کہیں پہ سایہ شجر کا نظر نہیں آتا

جو اس جہاں کی حقیقت کو فاش کر ڈالے
چمن میں ایسا کوئی دیدہ ور نہیں آتا
جو لوگ جاں کو ہتھیلی پہ دھر کے پھرتے ہیں
کیا اُن کو اس کے علاوہ ہنر نہیں آتا

نہیں خشوع و خضوع آج تیرے سجدوں میں
اسی لئے تو دعا میں اثر نہیں آتا



میں آج کس لئے الفاظ کو ترستی ہوں
کہاں پہ کھو گئے میرے تمام جذب و حروف



گر ہے جمود طاری تمنا بھی چھوڑ دے
بہتر ہے اب تو خواہش ِ دنیا بھی چھوڑ دے

مٹ جائیں گے یہ نقشِ قدم رہگزار پر
تبدیل کر یہ راہ یہ رستہ بھی چھوڑ دے

اس دو رُخی تلاش میں دنیا ملے نہ دیں
گر ہو سکے تو خواہشِ بے جا بھی چھوڑ دے

بے لوث کاوشوں کا صلہ مانگتی نہیں
دنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے
ہے ذوقِ آگہی کی یہ قربت بھی اک عذاب
کچھ دیر کے لیے مجھے تنہا بھی چھوڑ دے

جو کچھ تیرے نصیب میں تھا تجھ کو مل گیا
جو مل سکا نہ اُسکا تقاضا بھی چھوڑ دے

بے حس و بے ضمیر جہاں ہے اگر تو نازؔ
تو ایسے کم سواد کا سودا بھی چھوڑ دے



خرد کا ہر نیا فتویٰ جنوں کا تازیانہ ہے
تجھے فکر و عمل سے اِک نئی بستی بنانا ہے

تو ہے مومن تیری ہمت سے ہر پتھر پگھلتا ہے
کچھ ایسی شان سے رستے کا ہر پتھر ہٹانا ہے

اگر ڈالے نظر ٹیڑھی کوئی تیرے نشیمن پر
تو ہے دہقان خرمن خود تجھے اپنا بچانا ہے

تری ہمت زمانے کو عزیمت کیش ہے اب بھی
تو ہے دیوار سیسے کی جہاں کو یہ دکھانا ہے

تو خود بیں ہے خودی سے اپنی ہو آگاہ اے بندے
خودی کا یہ نیا پیغام دنیا کو سنانا ہے



حرص و ہوس کے آگے نہ کچھ بھی دکھائی دے
انسان اپنے قد سے بھی چھوٹا دکھائی دے

اپنے دلوں کا کھوٹ کوئی عیب تو نہیں
سکہ پرایا ہو تو وہ کھوٹا دکھائی دے

کوئی تو ایسا شخص دکھاؤ ذرا مجھے
انسانیت کا بوجھ جو ڈھوتا دکھائی دے

کیا نازکی ہے آج دل فتنہ ساز کی
خود کو لگے جو ٹھیس تو روتا دکھائی دے
لہروں کے گر مزاج کو سمجھے نہ ناخدا
ساحل پہ ہی سفینہ ڈبوتا دکھائی دے

ذوقِ جنوں میں خود کو فراموش کر دیا
شہنازؔ کو آرام نہ ہوتا دکھائی دے



میں جشنِ صبح بہاراں کی منتظر کیوں ہوں
خزاں کی شام سے اُکتا گئی ہوں میں شاید



خدائے نور ہوائوں کا رُخ بدل دے تو
چراغِ فکر جلائے ہیں ہم نے راہوں میں

قدر شناس جہاں میں کہیں نہیں ملتے
شمار اپنوں کا کرتے ہیں بد خواہوں میں

یہی جو امن کی صورت رہی زمانے میں
تلاش سانپ کریں گے پناہ گاہوں میں

لبوں پہ خامشی رنگت اُڑی اُڑی کیوں ہے
یہ کیسا کرب ہے ہمدم تیری نگاہوں میں

عفو کی تجھ سے طلبگار نازؔ ہے مولا
خدایا اس کو اُٹھانا تو بے گناہوں میں



بے وجہ خندہ زن ہوں حقیقت نہ پوچھیئے
مجھ سے مرے سوال کی بابت نہ پوچھیئے

نیرنگئی زمانہ کے ہاتھوں اسیر ہوں
کیا ہو گئی ہے اب مری حالت نہ پوچھئے

کیسے بتائیں حضرتِ انساں کا ماجرا
شیطاں سے ہو گئی ہے عقیدت نہ پوچھیئے

جب دوست دشمنوں کی ہوں صف میں کھڑے ہوئے
اس گو مگو میں ہوتی کیا حالت نہ پوچھیئے
اپنی نگاہ میں آپ ہی شرمندہ ہو گئے
اُس لمحے احتجاج کی نوبت نہ پوچھیئے

بازارِ حرص میں تو ہے اغراض کا درود
اس مکر و فن میں اس کی لجاجت نہ پوچھیئے

ہم جانتے تھے شیخ کا حسب و نسب سبھی
ایسی بھی ہو گئی ہے حماقت نہ پوچھیئے



خود احتسابی پہ میرا مدار ہے اب تو
مجھے تو اب کسی رہبر کا انتظار نہیں

کیا ہے تلخیءِ حیات نے مجھے مایوس
نہیں نہیں مجھے دنیا کا اعتبار نہیں

اے موجِ بادِ بہاراں مرا پیام تو دے
ترے سوا تو میرا کوئی رازدار نہیں

جہاں پہ غور کروں یہ میری عبادت ہے
نقیب ِ وقت ہوں لیکن فغاں شعار نہیں

مرے خیال کا ہے عکس میرے چہرے پر
میں دل گرفتہ ہوں لیکن میں سوگوار نہیں

جلا کے عزم کی شمع جو آ گئے شہنازؔ
شہید ناز ہوئے ہیں مگر فگار نہیں



خودداری و خود بینی کا پر تو ہے میری ذات
یہ جانتی ہوں ہستی ہے میری بھی بے ثبات

حکمت کا اور علم کا ملتا نہیں سراغ
کیا سن سکے گا تنگی ئِ داماں کی حکایات

یہ وقت ہے اور گردشِ دوراں ہے بہت خوب
ہر لمحہ کر رہے ہیں ہم پر یہ عنایات

اسرارِ ہست و بود کی الجھن سے نکل کر
اس دور نے بدلے نہیں کیا تیرے خیالات
یہ اور بات تیری بصارت میں کمی ہو
دکھلائے گئے تجھ کو کمالات و جمالات

اہل خرد کو فیض ملے تیرے جنوں سے
وا کر ذرا سا تو جو دریچہ ءِ التفات

ہرذرے کو پابند سلاسل بنا دیا
کیا اس لئے ہی کی بتا تخلیق کائنات

کیوں چھپ رہا ہے سامنے آ مہر نیمروز
میری طرح کیا تیری بھی ہستی ہے بے ثبات

بہتوں کو تو نے کر دیا ہے فائز المرام
میرے لئے بھی آج دکھا دے نا کرامات

لے چشمِ بینا ساتھ اور دُنیا کھنگال ڈال
تا حدِ نظر پھیلے ہیں قدرت کے انعامات



حضور ہم ہیں نازاں وفائوں پہ اپنی
گنہ گر کیا تو سزا مانگتے ہیں

تیری بارگاہ میں جھکایا ہے سر کو
خطا معاف کر دے جزا مانگتے ہیں

قدم تو بڑھایا ہے اب سوئے منزل
الہیٰ تری ہی رضا مانگتے ہیں

تری عظمتوں کا احاطہ وسیع تر
تری رحمتوں کی دعا مانگتے ہیں
سنائی دے ہر سو سے اللہ اکبر
وہی روح پرور فضا مانگتے ہیں

تقدس ہمارا مقدر بنانا
حیا کی ہم تجھ سے ردا مانگتے ہیں

نہیں کوئی حسرت تیرے اس جہاں کی
تیرے عشق کی انتہا مانگتے ہیں

ترا قرب پانے کی حسرت ہے یا رب
ٹھکانہ سوئے منتہیٰ مانگتے ہیں



نوید دے مجھے تو آ کے صُبح ِ نو کہ میں
تری تلاش میں شمعیں جلائے بیٹھی ہوں



تیرا ماضی ہی بنا جو دعوتِ تعمیر ہے
کر لے بازو پر بھروسہ منتظر تقدیر ہے

فتح کامل کی ندا خود تجھ کو دیتا ہے خدا
تو نہیں قرآں مگر قرآن کی تفسیر ہے

ہے صداقت تیرا شیوہ ہے جسارت تیرا کام
کیوں ہے پردے میں نہاں اور کس لئے دلگیر ہے

اُٹھ کے اب تو آزما مردِ مسلماں کا لہو
جذبہء مومن ہی مومن کے لئے شمشیر ہے

تو سمجھتا ہے زمانہ مات دے دے گا تجھے
جذبہ گر کامل ہو تو ناقابل تسخیر ہے



اندھیری رات میں ہم نے دیے جلائے ہیں
چلی ہیں آندھیاں پھر بھی نہ ٹمٹمائے ہیں

ہیں راہِ حق کے مسافر ذرا سمجھ لینا
خدائے نور نے رستے ہمیں دکھائے ہیں

زمانہ ہم کو بدل ہی نہیں پایا لیکن
سبق زمانے کو ہم نے بہت سکھائے ہیں

ہمیں مٹانے کی کاوش بھی رائیگاں سمجھو
ہم حق کی راہ سے باطل مٹا کے آئے ہیں



سپنا سندر سا نگاہوں میں سجا رکھا ہے
دل کے کونے میں اسے کب سے چھپا رکھا ہے

آرزئوں کا تو نادان بناتے ہیں محل
پھر بھی اک شہر تمنا کا بسا رکھا ہے

موند کے آنکھیں میں چوری سے اُسے دیکھتی ہوں
گرمیءِ بزم کو نظروں میں سما رکھا ہے

دلِ وحشی کی طنابوں کو نہ ڈھیلا چھوڑو
کس لئے دنیا میں ہنگامہ مچا رکھا ہے
کچھ بھی چھوڑا نہیں ہے گردشِ دوراں نے مگر
اپنی ہستی کا بھرم ہم نے بنا رکھا ہے

آبلہ پا تو ہیں چلتے ہیں مگر کانٹوں پر
ہم نے تو عمر سے اس طرح نبھا رکھا ہے

ذرا ابلیس کو تھوڑا سا سبق سکھلا دیں
اس نے تو سارے زمانے کو نچا رکھا ہے

نازؔ نے عظمتیں پانے کی لگن میں اب تک
راہِ آلودہ سے دامن کو بچا رکھا ہے



حیات میری ہے کیا اک سعی ِ پیہم ہے
کیوں اس تلاش میں تیرا مزاج برھم ہے

تری نگاہیں مسیحا کی منتظر کیوں ہیں
کیا اس جہاں میں ابھی کوئی ابن ِ مریم ہے

تو اس جہان کے اسرار کیسے کھولے گا
تری نگاہ بھی کیا کوئی ساغرِ جم ہے

بھگایا خلد سے حوّا کو ایک شیطاں نے
پھر آج تک کیوں پریشان روحِ آدم ہے
نگاہ اپنی سوئے فرش تک نہ رکھ محدود
ٹھکانہ تیرا تو نادان عرشِ اعظم ہے

بنایا پُرکھوں نے تیرے لئے جہانِ نو
اور تو نے جانا یہی منتہائے عالم ہے

جہانِ نو میں جہاں اور کتنے پنہاں ہیں
تلاش کرتا رہ جب تک کہ تجھ میں دم خم ہے



چاند تاروں کی ضیا تو نے کبھی دیکھی ہے
بند کلیوں کی قبا تو نے کبھی دیکھی ہے

رُخ مہوش پہ ہو پُر نور تقدس کا حصار
پاک مریمؑ سی حیا تو نے کبھی دیکھی ہے

ہوں گے معلوم تجھے پیرِکہن کے غمزے
کیسے ملتی ہے بقا تو نے کبھی دیکھی ہے

تشنہ لب رند بھی مدہوش ہوئے جاتے ہیں
ایسی مستانہ ادا تو نے کبھی دیکھی ہے

ہو گا واقف تو ہر ایک جزا سے لیکن
بے ضمیری کی سزا تو نے کبھی دیکھی ہے

عقل عیار ہے جلوے نئے دکھلاتی ہے
نازؔ ایسی بھی فضا تو نے کبھی دیکھی ہے



خدایا آج میری قوم کو بچا لے تو
نئی منزل کی نئی راہ بھی دکھا دے تو

نئے چراغ نئی روشنی کو ڈھونڈ سکیں
رہِ حیات کی ظُلمت کو اب مٹا دے تو

الہیٰ بخش جوانوں کو تو جنوں ایسا
خرد کی ساحری کو خضرِ راہ بنا دے تو

شناخت اپنی بنیں آن بان جان سکیں
یہ پا شکستہ ہیں منزل کی راہ دکھا دے تو

نہ باقی ان کی حمیّت نہ ان کی خود داری
خودی کو بھول چکے ہیں خودی جگا دے تو

تلاش کر لیں کہیں سے چراغ گم گشتہ
فلک سے ٹوٹے ہیں اک بار پھر ضیا دے تو



اے کربِ آگہی مجھے دوڑا نہ دور تک
تیرا جنوں ہے اور پسی جا رہی ہوں میں

جوشِ جنوں ہے اور ہے افکار کی یورش
ہے بارِ گراں اور دبی جا رہی ہوں میں

گر روک سکو روک لو بڑھنے سے مجھے اب
طوفاں ہے بہت تیز اُڑی جا رہی ہوں میں

کیوں میں نے ہر اک راز تیرا فاش کر دیا
اب سامنے ہے تو اور چھپی جا رہی ہوں میں
شاید کہ مل سکے مجھے منزل کا کچھ سراغ
نرغے میں دشمنوں کے گھری جا رہی ہوں میں

منزل ہی بن نہ جائے کہیں پائوں کی زنجیر
منزل ہے پاس دُور ہٹی جا رہی ہوں میں

میں نے ترے خیال میں نہ جانے کیا کہا
محفل سُخنوروں کی سُنی جا رہی ہوں میں



بنایا کس لئے زنداں غریب خانے کو
فضا میں گھومنے رہنے کا یہ زمانہ ہے

حسیں چاند ستاروں کو اب نہ گھورا کرو
یہ چندا ماموں کا قصہّ بہت پرانا ہے

تو اس آکاش کی دُنیا کا ایک کھوجی ہے
اب ماہ و سال کا رستہ تجھے بنانا ہے

یہ چاند تارے نہیں اب تیری پہنچ سے دور
اب ان کا دائرہ انسان کا ٹھکانہ ہے
یہ رہ گذر جو عطارد کی اور مریخ کی ہے
اس رہ گذر کا تجھے اب سراغ پانا ہے

یہ نیلگوں سے سمندر لہر لہر کیوں ہیں
حسیں لہروں کی ہر تہہ تجھے اُٹھانا ہے

تلاش کر کے تہلکہ مچا دیا تو نے
ہر ایک لب پہ ترا ہی تو اب فسانہ ہے



غمِ دوراں سے فارغ ہوں غمِ جاناں میں کھو جائوں
غمِ جاناں غمِ دوراں میری تقدیس بن جائے

گذاروں جو بھی میں لمحہ مرے جیون کا حاصل ہو
اور ہر گذارا ہوا لمحہ نستعلیق بن جائے

مجھے ہے جستجو اس کی اسی کو ڈھونڈتی ہوں میں
مرا ہر ہر لمحہ بس لمحہء تحقیق بن جائے

شہنازؔ اُس لمحے کی خاطر کیوں اتنی بے قراری ہے
ضروری تو نہیں کہ وہ تری تخصیص بن جائے



مرے جنون کی منزل ابھی نہیں آئی
مری حیات کی باقی ہے بادہ پیمائی

ابھی تو نور نہاں ہے مری نگاہوں سے
ابھی نگاہ نے بالیدگی نہیں پائی

فلک کے تاروں کو اپنا مقام کر لینا
ان پستیوں نے بلندی ابھی نہیں پائی

سوئے افلاک نظر رکھ اے مردِ ناداں تو
تیری حیات نے عظمت ابھی نہیں پائی

شکستہ ساز سے پیدا نوائے راز تو کر
تیری تلاش نے منزل ابھی نہیں پائی


ہیں سارے کھیل یہ تری عقلِ سلیم کے
منطق نے سارے راستے اس کو دکھا دیئے

ہم تو تری تلاش میں بھٹکے کہاں کہاں
ذوقِ جنوں نے فاصلے کتنے گھٹا دیئے

لجا کے مانگنے کی ادا رب کو بھا گئی
اس نے پھر عنایات کے دریا بہا دیئے

کیوں تنگیءِ داماں کا گلہ کر رہے ہیں آپ
وقتِ دعا تو آپ نے دفتر تھما دیئے

ایک ایک لمحہ تیرے لئے تابناک تھا
لمحات قیمتی یوں ہی تو نے گنوا دیئے

کیا ختم ہو سکیں گے تجربات یہاں پر
جنوں نے اپنے دائرے کتنے بڑھا دیئے

اُستاد نازؔ کا ہے ہر گذرا ہوا لمحہ
گردش نے تلخ و شیریں تجربے کرا دیئے

جراتِ اظہار



پاکستان میں جہاں اردو ادب کی خدمت کہن سال بلند پایا ممتا اور کہنہ مشق شعراء اور ادبا کر رہے ہیں وہاں ادیب خواتین بھی اپنا کردار بڑے سلیقے سے ادا کرنے میں کسی گروہ سے پیچھے نہیں ان میں شمیم ملیح آبادی، رابعہ نہاں، ادا جعفری، کشور ناہید، شبنم شکیل، اور دوسری شاعرات کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔
حضرت حشر القادری مرحوم کی صاحبزادی شہناز مزمل پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ اعلیٰ تعلیم کے مرحلے بڑی کامیابی سے طے کئے ان دنوں ایک عظیم کتاب خانہ گورنمنٹ ماڈل ٹائون لائبریری میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔
فن شاعری انہیں وراثت میں ملا ہے وہ دنیائے شعروادب میں نیا رنگ اور نیا آہنگ لے کے آ رہی ہیں۔
رسائل و جرائد میں چھپنے سے بے نیاز رہنے کی وجہ سے وہ عام ادبی حلقوں میں متعارف نہیں لیکن خواص ان کے فن اور فکر سے بخوبی آشنا ہیں۔
’’جرات اظہار‘‘ ان کی غزلوں اور نظموں کا مجموعہ ہے۔ یہ ان کمیاب لمحوں کا حاصل ہے جو انہوں نے اپنی گوںناگوں مصروفیتوں سے کسی نہ کسی طرح حاصل کئے ان کی طبیعت کی سادگی، شرافت اور خلوص کسی کو بھی متاثر کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ان کا دھیما لہجہ ہمدردانہ رویہ سب کے لئے باعث کشش ہے وہ ایک شریف الطبع عبادت گزار خاتون ہیں۔
انہیں ہم جدید خواتین میں بھی شامل کر سکتے ہیںلیکن بنیادی طور پر وہ مسلمان خاتون ہیں جنہیں بچوں کی تربیت اور خاوند کی خدمت عبادت نظر آتی ہے۔ شہناز مزمل کی شاعری غزل اورنظم دونوں پر محیط ہے۔ اعلیٰ انسانی قدریں جنہیں ہم بجا طور پر اسلامی اور آفاقی اقدار کا نام دے سکتے ہیں ان کی شاعری میں جا بجا موجود ہیں۔
شہناز مزمل کی غزل میں پاکیزگیِ فکر اور دلنواز پیرایہ بیان بیک وقت موجود ہے وہ اپنی فکر میں شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں۔ ان کے ہاں نئی امنگوں اور تازہ ولولوں کا پیغام بڑے خوبصورت انداز میں ملتا ہے غم کے کسی موڑ پر بھی ان کی آنکھوں سے آنسو نہیں چھلکتے وہ بڑے ضبط و تحمل سے زندگی کے برتنے کا سلیقہ جانتی ہیں۔
اسلام اور پاکستان سے والہانہ محبت نے ان کی شاعری میں خدمتِ دین و ادب کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھر دیا ہے۔
وہ ست گام مسافروں کو اپنی منزل کی طرف جدو جہد اور مسلسل سفر کا پیغام دیتی ہیں۔
جرات اظہار میں شہناز مزمل کی نظموں کے علاوہ غزلیں بھی موجود ہیں ہر غزل میں پاکیزگی اور بلند خیالی ان کی ذاتی زندگی کی عکاس، وہ ذاتی تجربوں اور اجتماعی شعور و احساسات کو اس انداز سے خوبصورت پیرہن پہناتی ہیں کہ بے ساختہ داد دینے کو جی چاہتا ہے۔
اگر شہناز مزمل نے اپنے بزرگوں کے ذخیرہ علمی کا مطالعہ ۔۔۔ان کی روایات کا احترام جاری رکھا تو وہ دنیائے ادب میں ممتاز مقام حاصل کر لیں گی۔
وہ ملت کے ست رو مردوں کو جدو جہد اور ’’تیزترگامزن‘‘ کا پیغام دیتی ہیں ان کی تمام شاعرانہ کاوشیں اسی جذبے کی مرہون منت ہیں۔
وہ غزلوں کی پاکیزگی میں اپنی زندگی کی عکاسی کرتی ہیں اپنی مسلسل کاوش اور خلوص فکر سے وہ اہل فن سے خراج تحسین حاصل کر لیں گی اور دنیائے ادب میں گہرے نقوش ثبت کریں گی۔ ان کے فکر میں گہرائی بھی ہے اور گیرائی بھی۔
ہماری دلی دعا ہے کہ وہ ادب میں زندہ جاوید مقام حاصل کریں اور ان کا یہ مجموعہ کلام اردو شاعری میں نئی جہتوں کا پیغامبر ہو۔ان کے چند اشعارپڑھیے اور سر دھنیئے۔۔۔۔
میرا مذہب ہے محبت میرا مشرب ہے خلوص
دشمنوں سے بھی ہے اپنوں کی طرح پیار مجھے

میں ہوں خاموش یہ اک راز نہاں ہے شہنازؔ
یہ غلط ہے کہ نہیں جراتِ اظہار مجھے

داستانِ غمِ دل کا ہے جو آنسو محرم
میں نے وہ اشک بھی پلکوں میں چھپا رکھا ہے

حیراں ہوں کہ جذبہ وحدت کو بھول کر
کیوں فرقہ بندیوں میں مسلمان بٹ گیا

میرے سجدوں کے مقدر میں وہ سنگ در نہ تھا
میری پیشانی پہ داغ نارسائی دیکھئے

فریب کھائے ہیں دنیا میں اس قدر میں نے
ترا تو کیا مجھے اپنا بھی اعتبار نہیں

مقام زندگی ملتا ہے ان کو بام رفعت پر
ودیعت جن کو فطرت سے طبیعت عاجزانہ ہے
زمانہ ایک طرف ہے تو اک طرف دل ہے
مرے لئے بڑا مشکل ہے فیصلہ یا رب!

ذرے کی آفتاب میں دیکھے گا جھلکیاں
پردہ تری نگاہ سے جس وقت ہٹ گیا

اللہ سے کسی کو محبت نہیں رہی
دولت سے ہو گئی ے عقیدت نہ پوچھیئے
جرات اظہار میں اس قبیل کے لاتعداد اشعار اور بھی موجود ہیں ۔۔۔ ماشااللہ
طفیل ہوشیار پوری
ماڈل ٹائون، لاہور
یکم اکتوبر 1990ء


سرسری بیان

شہناز مزمل ان خوش نصیب انسانوں میں شامل ہیں کتاب جن کی زندگی ہے اور مقدس ترین پیشوں میں سے ایک اہم پیشے سے وابستہ ہیں۔ ظاہر ہے نفاست ان کے مزاج میں رچی بسی ہے وہ ایک مہذب اور شائستہ خاتون ہیں۔ ان صفات کے حامل انسان کو ادب دوست تو ہونا ہی چاہیئے مگر تخلیق ادب خصوصاََ شاعری ایک ایسی نعمت ہے جو انسان کو عطا ہوتی ہے اکتسابی نہیں ہوتی۔ شہناز شاعرہ ہیں ماحول ان کا کتاب۔ مزاج ان کانفیس، شاعری ان کی فطری، اردو ان کی اپنی زبان۔۔۔ان سب باتوں نے انہیں ایک ایسی شاعرہ بنا دیا ہے کہ ان سے خو شگوار توقع وابستہ کی جا سکتی ہے اگر وہ ذمے داری اور ذوق و شوق سے گہری توجہ دینے کا اردہ یا عزم کرلیں ۔۔۔ شاعری سپردگی کا مطالبہ کرتی ہے۔
ان کی شاعری اپنی معاصر شاعرات سے بہت حد تک مختلف ہے ان کے موضوعات عام طور پر قومی، ملی، اور اصلاحی ہیں انہوں نے اپنا قاری بچوں کے طبقے کو بنایا ہے مگرانہیں بچوں کا شاعر نہیں کہا جا سکتا وہ بچوں کے ساتھ کھیلتی نہیں۔ انہیں گدگدانے کی کوشش نہیں کرتیں جیسے عام طور سے بچوں کے شاعر کرتے ہیں۔۔۔ وہ ایک ماں ہیں ۔۔۔ اور ماں کی حیثیت میں تربیت کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کے موضوع اخلاقیات، پاکستان اور اسلام سے زیادہ متعلق ہیں۔ اپنے پسندیدہ موضوعات کے لئے نہایت مناسب اور متوازن زبان استعمال کرتی ہیں ان کے بیان میں سادگی اور پرکاری نیز تاثیربدرجہ اتم محسوس ہوتی ہے وہ عام طور سے نظم کی ہیت استعمال کرتی ہیںاور یہی ان کے موضوعات کا تقاضا ہے۔
غزل شاید انہوں نے بہت کم کہی ہے کم سے کم اس مجموعے سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے ۔جو چند غزلیں شامل کی ہیں وہ گواہی دیتی ہیں کہ انہیں ہمہ وقت مادر مشفق ہی کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے۔ اس سرحد سے باہر بھی نکلنا چاہیے حسن و عشق کے تذکرے کے بغیر نہ زندگی مکمل ہوتی ہے نہ شاعری اپنے جوہر دکھاتی ہے۔۔۔ کچھ ایسی ہی صورت حال غزل کی ہے۔ غزل کے بغیر شاعری کا کوئی مجموعہ بڑی مشکل سے اعتبار حاصل کر سکتا ہے۔
قصہ مختصر اگر وہ اپنے آپ کو گوشہ گیر ی سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں تو ایک کامیاب شاعرہ تسلیم کی جا سکتی ہیں۔
شہرت بخاری
ڈائریکٹر اقبال اکیڈیمی
لاہور۔۔۔ 19 اکتوبر 1990ء


پیش لفظ

مقتدر شعراء کرام جناب طفیل ہوشیار پوری صاحب کے اظہارِ خیال اور جناب شہرت بخاری صاحب کے سرسری بیان کے بعد مجھ جیسے طفل مکتب کا کچھ کہنا بے معنی سا لگتا ہے بس یوں سمجھ لیجئے۔
خامشی ہے مری احساس ادب کی شاہد
کون کہتا ہے نہیں جراتِ اظہار مجھے
میرے جذبات کی ترجمانی کے لئے جرات اظہار آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اور اپنے بارے میں خود کچھ کہنا بہت مشکل ہے، اور مجھ میں جراتِ اظہار کا سلیقہ کس حد تک ہے یہ فیصلہ کرنا آپ کی ذمہ داری ہے، آپ کے پُر خلوص مشوروں کی منتظر رہوں گی۔
شہناز مزمل
لاہور



یہی میری گذارش ہے یہی ہے التجا میری
بنامِ مصطفیؐ منظور کر مولا دعا میری

جبین ِ شوق کے سجدے ہوں تیرا آستانہ ہو
نمازِ عشق جیتے جی نہ ہو یارب قضا میری

کروں میں خدمتِ انسانیت توفیق دے مجھ کو
کسی کے کام آئوں ہو یہی کوشش سدا میری

خطائوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے میرے دامن میں
خدائے لم یزل کرنا مدد روزِ جزا میری
میرا اعمال نامہ تیری نظروں سے نہ ہو اوجھل
نگاہوں میں ہے تیری ابتداء و انتہاء میری

نگاہِ پاک دے اور دیدہ ئِ ادراک دے مجھ کو
حیاتِ چند روزہ ہو علائق سے رہا میری

تیرے لطف و کرم کے سلسلے ہیں بیکراں مولا
مقابل تیری رحمت کے نہیں کچھ بھی خطا میری

خدائے پاک کی توصیف کا حق ہو ادا کیسے
تو ہی شہنازؔ کہہ انصاف سے ہستی ہے کیا تیری



نگاہِ کرم اے خدا مانگتے ہیں
ہم انسانیت کا بھلا مانگتے ہیں

چلیں تیرے محبوب کے راستے پر
یہ شام و سحر ہم دُعا مانگتے ہیں

یہی تجھ سے ربِ کرم التجا ہے
یہی تجھ سے صبح و مساء مانگتے ہیں

فقیرِ محبت رہے زندگی میں
بہر گام تیری رضا مانگتے ہیں



زیست کو اک نیا انداز دیا ہے میں نے
میں نے ہر شام نئی صبح کا چہرہ دیکھا

روک سکتا ہے میری سوچ کی پرواز کو کون
وقت کے لمحوں کو تو نے کبھی ٹھہرا دیکھا

وقت کے ساتھ قدم میرے بڑھے ہیں ہر دم
ہر قدم نے کبھی دریا کبھی صحرا دیکھا

وہی اقوام نظر آتی ہیں اب بھی محکوم
اپنی تہذیب سے جن جن کو معّرا دیکھا
لبِ ساحل ہی تو ڈوبا تھا سفینہ اپنا
پانی ساحل کے قریں اتنا بھی گہرا دیکھا

سر پہ باندھے جو کفن حق کے لئے لڑتے ہیں
ان ہی افراد نے ہے فتح کا سہرا دیکھا

نور بے نور ہوا جاتا تھا جن کے آگے
گردشِ دہر نے ایسا کبھی چہرا دیکھا

کیوں زلیخا ہوئی بے تاب کہ آئے یوسف
عشق کا حسن پہ تو نے کبھی پہرا دیکھا

نور ہی نور تھا سجدے میں گرے ارض و سما
پھر کسی شام نے ایسا نہ سویرا دیکھا



چشمِ نم، آگہی، چاہتیں، بارشیں
دوریاں، حسرتیں، قربتیں، بارشیں

ٹوٹے یہ خامشی، کوئی ہلچل مچا
ہلکی رم جھم سی ہے کب ہوئیں بارشیں

نغمہ زن ہے فضا رقص میں ہے ہوا
میگھ ملہار گاتی پھریں بارشیں

پھول کلیوں کے ہونٹوں پہ مسکان ہے
مست سندیسے لانے لگیں بارشیں

تیری شہناز عشقِ مزمل میں گم
راز کھولیں نہ اس کا ، سنیں بارشیں



جب تک کہ مرض معلوم نہ ہو
پھر درد کا درماں کیسے ہو

آسودہ ئِ ساحل کشتی کو
اندازہ ئِ طوفاں کیسے ہو

ظلمت و گنہ کی دلدل میں
یہ شمع فروزاں کیسے ہو

احسان سے رہ کر بیگانہ
اندازہ احساں کیسے ہو

آئینہ اگر دل بن نہ سکے
عرفان بھی مہماں کیسے ہو



مضمون ہیں غموں کے کہیں راحتوں کے باب
نادان زندگی ہے تری اک کھلی کتاب

ساحل کا یہ سکوت ہے پیغام موت کا
پیغامِ زندگانی ہے موجوں کا اضطراب

ہر شب کے بعد دن ہے تو ہر دن کے بعد شب
ہر ذات کا نظام ہے مرہونِ انقلاب

ہوتی ہیں ختم جس جگہ بچپن کی سرحدیں
خوش آمدید کہتا ہے آ کر اسے شباب
ہر سمت لہلہاتے ہیں گلزارِ آرزو
ہر سمت مسکراتے ہیں امید کے گلاب

کرتی ہے سحر اس پہ دل آویزی ئِ جہاں
حُسن و شباب رہتا ہے ہر وقت ہم رکاب

ہر سمت مہہ جبینوں کی رنگین محفلیں
منظر ہر ایک جنت و فردوس کا جواب

رہتا نہیں خیال بھی انساں کے ذہن میں
کس بات کا گناہ ہے تو کس بات کا ثواب

آتا نہیں ہے بھول کے بھی یاد اسے خدا
جب بارگہہِ حسن میں ہوتا ہے بار یاب


زندگی میں سکوں ارے توبہ
زندگی اک حسین دھوکا ہے



نت نئے سے سراب ملتے ہیں
یا ادھورے سے خواب ملتے ہیں

عیش و عشرت کی تشنگی مت پوچھ
یاس و حسرت کے داغ ملتے ہیں

کچھ نہ کچھ تو سکوں ملے یا رب
نازؔ کو دکھ بے حساب ملتے ہیں



دوست بن کر دوستوں کی بے وفائی دیکھئے
کج ادائی دیکھئے بے اعتنائی دیکھئے

رہگذار شوق میں ہم رکھ تو بیٹھے ہیں قدم
جانے کب منزل پہ ہو اپنی رسائی دیکھئے

کس بلا کا سحر تھا ان کی نگاہِ ناز میں
دل نے خود بڑھ کر نظر کی چوٹ کھائی دیکھئے

زندگی میں ہم نے دیکھیں الجھنیں ہی الجھنیں
الجھنوں سے کس طرح ہو گی رہائی دیکھئے
زندگی کا ایک پل بھی چین سے گزرا نہیں
جب سے کی تسلیم دل کی رہنمائی دیکھئے

آپ نے ناراض ہو کر جب سے آنکھیں پھیر لیں
میری دشمن بن گئی ساری خدائی دیکھئے

جل رہی ہوں کب سے اے شہنازؔ اپنی آگ میں
اب صریرِ خامہ کی شعلہ نوائی دیکھئے



رنج و آلام سے اب جان چھڑا کر دیکھیں
ہو جو ممکن تو انہیں دل سے بھلا کر دیکھیں

درد کے سائے کہیں روح کو تاریک کریں
آئو یادوں کے دیئے ہم بھی جلا کر دیکھیں

خواب یادوں کے بکھرتے ہی چلے جاتے ہیں
کس لئے نیند کا احسان اٹھا کر دیکھیں

لذتِ درد سے محروم ہوا جاتا ہے دل
کیوں نہ پھر زخمِ محبت کوئی کھا کر دیکھیں
بے حسی بڑھتی ہی جاتی ہے زمانے بھر میں
سوئے جذبات کو انساں کے جگا کر دیکھیں

پاس جو کچھ ہے غنیمت ہے زمانے میں وہی
جو میسر نہ ہوا اس کی دعا کر دیکھیں

بعد مرنے کے نہ ہو پائے گی تسکین ِ جمال
کیوں نہ قبر اپنی گلوں سے ہی سجا کر دیکھیں

کوئی درماندہ مسافر نہ پلٹ آیا ہو
آخر شب ہی دیا کوئی جلا کر دیکھیں

درد بخشا ہے جنہوں نے مجھے دنیا بھر کا
ان کو بھی درد کا افسانہ سنا کر دیکھیں

کھل ہی جائے گا بھرم ان کی وفا کا شہنازؔ
بیوفائی کا ذرا ان سے گلہ کر دیکھیں



اس حقیقت کا مرے دوست ہے اقرار مجھے
میں گنہگارِ وفا ہوں نہیں انکار مجھے

میرا مذہب ہے محبت مرا مشرب ہے وفا
دشمنوں سے بھی ہے اپنوں کی طرح پیار مجھے

خامشی ہے میری احساسِ ادب کی شاہد
کون کہتا ہے نہیں جراتِ اظہار مجھے

منزل حق و صداقت میں ہوں سرگرمِ سفر
رہ بدلنے نہیں دیتا میرا کردار مجھے
درد و آلام نے لوٹا ہے میرا صبر و سکوں
چھائوں دنیا میں مسرت کی تھی درکار مجھے

غیر تو غیر ہیں غیروں سے گلہ ہو کیونکر
اب تو اپنے بھی سمجھنے لگے اغیار مجھے

میں ہوں خاموش یہ اک راز نہاں ہے شہنازؔ
یہ غلط ہے کہ نہیں جرات اظہار مجھے



حرص و ہوس سے پیار کا رشتہ بھی چھوڑ دے
یہ راستہ غلط ہے یہ رستہ بھی چھوڑ دے

ترکِ گناہ ترکِ تمنا کا ذکر تھا
یہ تو نہیں کہا تھا کہ دنیا بھی چھوڑ دے

اپنا کے خواہشوں کو نہ دنیا ملی نہ دیں
حُسنِ طلب بھی حُسنِ تقاضا بھی چھوڑ دے

آلائش ِ جہاں سے کہا تھا پناہ مانگ
یہ تو نہیں کہا غمِ عقبیٰ بھی چھوڑ دے
اے دل میں کچھ سکون کے لمحے بسر کروں
کچھ دیر کے لئے مجھے تنہا بھی چھوڑ دے

جو کچھ ترے نصیب میں تھا تجھ کو مل گیا
جو مل سکا نہ اس کا تقاضا بھی چھوڑ دے

دنیا میں رہ کے دنیا سے لے درسِ زندگی
شہنازؔ ماسوا کی تمنا بھی چھوڑ دے



مری ہستی مرے افکار کا آئینہ خانہ ہے
جنونِ شوق سے اس انجمن کو پھر سجانا ہے

یہی ہے آرزو میری دوامِ زندگی پائوں
طلب فردوس و جنت کی تو اک رنگیں بہانہ ہے

مقامِ زندگی ملتا ہے اس کو بامِ رفعت پر
ودیعت جس کو فطرت سے طبیعت عاجزانہ ہے

بدل جائے یہ سب کچھ انقلاب ایسا کوئی آئے
نہ اپنے حق میں دنیا ہے نہ حق میں یہ زمانہ ہے

چلے گا کاروبارِ دہر اب شہنازؔ یہ کیونکر
یہاں تو ایک اک انسان کا دل عامرانہ ہے



دل کی سچائیاں گو تلخ نظر آتی ہیں
زندگانی میں مگر رنگ تو بھر جاتی ہیں

یہ بظاہر تو گذرتی ہیں گراں ہستی پر
آئینے دل کے منور بھی تو کر جاتی ہیں

آبلہ پا ہوں مگر عزم سفر کرتی ہوں
منزلیں خود مجھے قدموں میں نظر آتی ہیں

تلخیوں کا اگر ادراک ہو حاصل شہنازؔ
قسمتیں حسن حقائق سے سنور جاتی ہیں



مقدر کو پھر آزمانے لگی ہوں
تدبر سے تدبیر پانے لگی ہوں

بھٹکتے بھٹکتے بہت تھک گئی ہوں
نیا اک جہاں میں بنانے لگی ہوں

جنوں ہے فسوں ہے ترنم نہیں ہے
تجھے ہم نوا میں بنانے لگی ہوں

سنا ہی نہیں تو نے میری نوا کو
نیا جذب اب آزمانے لگی ہوں

ہر اک تار ٹوٹا ہے اس ساز دل کا
میں آواز اس کو بنانے لگی ہوں

ہوائوں کے رخ پہ سفینے بہا کے
میں بجھتا دیا پھر جلانے لگی ہوں



کیوں تھا منظور تجھے ترک تعلق ہم سے
تو نے اک بار بھی وعدہ نہ نبھایا ہم سے

ہم تو ہمراز تمہارے تھے مگر تم نے تو
اپنے جیون کا ہر اک پہلو چھپایا ہم سے

زندگی تیری تو رازوں سے بھرا بستہ تھی
دور بھاگا کبھی خود اپنا بھی سایہ ہم سے

ہم کو ہر زخم نیا جب بھی ملا تجھ سے ملا
سچ بتا دکھ کبھی تو نے بھی ہے پایا ہم سے

اب تو ہے وقت زمانے کو بتانا ہو گا
کیا دیا اس نے ہمیں اور کیا پایا ہم سے



بے وجہ خندہ زن ہوں حقیقت نہ پوچھئے
میری زباں سے میری حکایت نہ پوچھئے

سہہ سہہ کے دکھ زمانے کے کھا کھا کے ٹھوکریں
کیا ہو گئی ہے اب مری حالت نہ پوچھئے

دینا کے دل سے رنگِ مروت کہاں گیا
کیوں لٹ گئی ہے پیار کی دولت نہ پوچھئے

اللہ سے کسی کو محبت نہیں رہی
دولت سے ہو گئی ہے عقیدت نہ پوچھئے
ملتا نہیں خلوص کسی کی نگاہ میں
کیوں منہ چھپا رہی ہے شرافت نہ پوچھئے

بازارِ حرص میں ہے طلب جنس ِ حرص کی
کم ہو گئی خلوص کی قیمت نہ پوچھئے

شہنازؔ مل سکی نہ ہمیں دولتِ نظر
کس درجہ ہم نے کی ہے ریاضت نہ پوچھئے



میرے حال زار پر وہ شخص پچھتایا نہ تھا
دے کے غم وہ پرسش ِ غم کے لئے آیا نہ تھا

منزل مہرِ وفا پہ سوچ کے رکھنا قدم
اے دلِ نادان تجھ کو میں نے سمجھایا نہ تھا

جس کے خوابوں اور خیالوں میں بسر کی زندگی
اس کو بھولے سے کبھی میرا خیال آیا نہ تھا

میری آنکھوں میں تھے آنسو اس کے ہونٹوں پہ ہنسی
توڑ کر دل وہ تغافل کیش پچھتایا نہ تھا
چل دیا ناراض ہو کر جانے وہ کس بات پر
اس کو میں نے کوئی بھی تو رنج پہنچایا نہ تھا

میں ہی سادہ دل تھی اس پر جان بھی کر دی نثار
سچ تو یہ ہے اس نے مجھ کو دل سے اپنایا نہ تھا

رات کا پچھلا پہر تھا زرد رو تھی چاندنی
چاند نے شاید ضیاء دے کر بھی بہلایا نہ تھا

کس طرح شہنازؔ کھلتا اس پہ میرے دل کا حال
عرض مطلب کا زباں نے حوصلہ پایا نہ تھا



نہیں نہیں میری منزل ابھی نہیں آئی
ابھی نصیب میں باقی ہے بادہ پیمائی

ابھی ہے جذب و محبت سے میرا دل محروم
ابھی نگاہ نے بالیدگی نہیں پائی

میں جا کے چاند ستاروں میں گھر بنا لیتی
فلک رسائی کی قسمت ابھی نہیں پائی

ابھی تو چاند ستاروں کا حسن دیکھا ہے
تلاش جس کی ہے وہ روشنی نہیں پائی

کسی نگاہ میں رنگِ وفا نہیں دیکھا
کسی نگاہ میں بھی دوستی نہیں پائی

ہوا جو آئینہ شہنازؔ دل کا تابندہ
اندھیری رات میں بھی تیرگی نہیں پائی



ڈوبتی شام کا سایہ ہوں میں ڈھل جائوں گی
تیری دنیا سے کہیں دور نکل جائوں گی

میرا موہوم تمنائوں سے دامن بھر کے
تو نے سمجھا کہ کھلونوں سے بہل جائوں گی

چلتے چلتے کبھی مل جائے گی منزل مجھ کو
گرتے گرتے میں کسی روز سنبھل جائوں گی

تو نے جو آگ میرے دل میں فروزاں کی ہے
صورتِ شمع اسی آگ میں جل جائوں گی
چاند کے روپ میں سو بار میرے سامنے آ
کوئی ناداں نہیں ہوں کہ مچل جائوں گی

زندگی میری بدل کر تو بدل لاکھ مگر
میں گیا وقت نہیں ہوں کہ بدل جائوں گی

اُس کی یادوں کو سجائوں گی لہو سے شہنازؔ
کر کے تعمیر حسین تاج محل جائوں گی



مشکل کے وقت نام تھا تیرا زبان پر
یہ آسرا تھا اور کوئی آسرا نہ تھا

میری یہ کم نصیبی کہ مانگا نہ میں نے کچھ
میری زباں پہ کوئی بھی حرف دعا نہ تھا

رحمت کا باب کھلنے کی تھی منتظر نگاہ
در کونسا تھا ایسا جو مجھ پر کھلا نہ تھا

یہ اور بات پا نہ سکا منزل مراد
نالہ میرا خدا کی قسم نارسا نہ تھا
دنیا ہماری راہ کی دیوار بن گئی
ورنہ دلوں میں اپنے کوئی فاصلہ نہ تھا

سب کچھ خدائے عشق کے تھا اختیار میں
لیکن میری وفائوں کا کوئی صلہ نہ تھا

اُس بے وفا کے ساتھ یوں گذری ہے زندگی
دنیا میں جیسے کوئی ہمارا خدا نہ تھا



مصیبتیں ہیں بہت زندگی کی راہوں میں
چھپا لے کاش کوئی مجھ کو اپنی بانہوں میں

نگاہ کر نہ سکے اپنے دل کی جانب ہم
وہ ایک عمر سے تھے دل کی جلوہ گاہوں میں

پڑا جو وقت تو دنیا نے پھیر لیں آنکھیں
نہ خیر خواہ ملا مجھ کو خیر خواہوں میں

ہے التجا یہی شہنازؔ کی مرے مولا
شمار حشر میں ہو میرا بے گناہوں میں



خودداری و خودبینی کا پرتو ہے مری ذات
یہ آئینہ تقدیرِ نظر ہیں مرے جذبات

آمادہ الطاف و کرم ذات ہے اس کی
میں کس سے کہوں تنگی داماں کی حکایات

دل عرضِ تمنا کا سلیقہ نہیں رکھتا
فطرت تو سدا رہتی ہے مائل بہ التفات

تسکین مرے دل کو ملے کس جہان میں
رہتے ہیں سدا میرے مخالف مرے حالات

اللہ سے بڑھ کر نہیں کوئی بھی سہارا
ہے کوئی سہارا تو ہے اللہ کی اک ذات

ذلت کے سوا کچھ بھی انہیں ہاتھ نہ آیا
شہنازؔ جو بھولے ہیں بزرگوں کی روایات



وفا پرست نہیں جو وفا شعار نہیں
وہ شخص کیا جسے انسانیت سے پیار نہیں

فریب کھائے ہیں دنیا میں اس قدر میں نے
ترا تو کیا مجھے اپنا بھی اعتبار نہیں

بجا ئے پھولوں کے شاخوں پہ زخم ہیں خنداں
تھے انتظار میں جس کے یہ وہ بہار نہیں

سوائے درد کے کوئی نہیں میرا مونس
سوائے غم کے کوئی میرا غم گسار نہیں
بہا رہا ہے مرا دل تو خون کے آنسو
خدا کا شکر مری آنکھ اشکبار نہیں

کچھ اس طرح سے مجھے راس ہے یہ تنہائی
مجھے کسی کا بھی دنیا میں انتظار نہیں

قصور میرا ہے میں نے ہی اس کو چاہا ہے
گنہ گار ہوں میں وہ گنہ گار نہیں

کنارہ کر لیا دل سے بھی اپنے اے شہنازؔ
جہاں میں کوئی بھی اب میرا رازدار نہیں



اللہ مجھ کو جذبہ ءِحق آشنائی دے
بابِ اثر پہ میری دعا کو رسائی دے

کھوئی ہے تیری یادوں میں کچھ ایسے زندگی
دھڑکن میں تیرے قدموں کی آہٹ سنائی دے

بھر کر مسرتوں سے مرا دامن حیات
زنجیر درد و غم سے بھی مجھ کو رہائی دے

شہنازؔ کی نہیں ہے کوئی اور آرزو
مولا درِ رسولؐ کی اس کو گدائی دے



لہو سے اپنے گلستاں کو لالہ زار کریں
روش روش کو بہاروں سے ہمکنار کریں

تلاش کرتی ہوئی آئے خود ہمیں منزل
جہاں میں ایسی کوئی راہ اختیار کریں

سبق سکھا کے وفائوں کا بے وفائوں کو
دلوں میں ربطِ محبت کو استوار کریں

دعائیں مانگیں شب و روز دشمنوں کے لئے
مخالفوں کو بھی ایسے خلوص و پیار کریں



جب سے ان کا مزاج برہم ہے
دل پریشاں ہے آنکھ پُرنم ہے

کوئی صیقل اگر اسے کر دے
ساغرِ دل بھی ساغرِ جم ہے

اللہ اللہ ستم ظریف یہ دوست
دے کے غم پوچھتا ہے کیا غم ہے

پوچھئے یہ ستم رسیدوں سے
زندگی شعلہ ہے کہ شبنم ہے
دم نہ آیا تو خاک کی ڈھیری
آ گیا دم اگر تو آدم ہے

ہاتھ آتی ہے خوش نصیبی سے
دولت دل ہی دولت غم ہے

کہیں شہنازؔ جھک نہیں سکتا
درِ اللہ پہ جس کا سر خم ہے



صدقِ دل سے جو کوئی محوِ دعا ہوتا ہے
جو بھی مانگے اسے فطرت سے عطا ہوتا ہے

گرمی ئِ جذبہ کردار ہو جس کو حاصل
غم کی زنجیر سے وہ شخص رہا ہوتا ہے

کوئی فطرت کے تقاضوں کو بدل سکتا ہے
جس کا کوئی نہیں ہوتا ہے خدا ہوتا ہے

کانٹے جو بوئے اسے پھول نہیں مل سکتے
جو بھلا کرتا ہے اس کا بھی بھلا ہوتا ہے

درِ جاناں پہ رسائی کوئی آساں تو نہیں
حق محبت کا تو جاں دے کے ادا ہوتا ہے

کون اغیار سے کرتا ہے شکایت شہنازؔ
گلہ ہوتا ہے تو اپنوں سے مگر ہوتا ہے



دل میں اک شہر تمنا کا بسا رکھا ہے
تیری یادوں کو کلیجے سے لگا رکھا ہے

لے گیا ساتھ کوئی تجھ سے چرا کر مجھ کو
اب میری اجڑی ہوئی دنیا میں کیا رکھا ہے

داستانِ غم دل کا ہے جو آنسو محرم
میں نے وہ اشک بھی پلکوں میں چھپا رکھا ہے

مجھ کو آباد کہ برباد کیا ہے تو نے
دل نے یہ فیصلہ محشر پہ اٹھا رکھا ہے

ہم نے چاہت کو ہی شہنازؔ عبادت سمجھا
ہم نے چاہت ہی کو ایمان بنا رکھا ہے



پُر نور وفا سے تیرا سینہ ہی نہیں ہے
حاصل تجھے جینے کا قرینہ ہی نہیں ہے

رفعت کے فلک پر ہو رسائی تری کیسے
نظروں میں تری فکر کا زینہ ہی نہیں ہے

مل سکتی نہیں تجھ کو گناہوں سے معافی
ماتھے پہ ندامت کا پسینہ ہی نہیں ہے

کس طرح تجھے حسن کے جلوے نظر آئیں
قسمت میں تیری دیدہ بینا ہی نہیں ہے

ہستی کے سمندر میں ہیں گرداب ہزاروں
حاصل تجھے جرات کا سفینہ ہی نہیں ہے

شہنازؔ کبھی اس پہ بھی کچھ غور کیا ہے
مرنا بھی ہے اک دن تجھے جینا ہی نہیں ہے



جب مری روح کے تاروں کو ہلاتا ہے کوئی
سرمدی گیت محبت کے سناتا ہے کوئی

کھوئی رہتی ہوں میں دن رات انہیں خوابوں میں
جاگتی آنکھوں سے جو خواب دکھاتا ہے کوئی

دل خزاں میں بھی بہاروں کے مزے لیتا ہے
باغِ تخئیل میں وہ پھول کھلاتا ہے کوئی

میں خیالوں کو حقیقت ہی سمجھ لیتی ہوں
اس طرح آ کے مرے ناز اٹھاتا ہے کوئی

اپنے اپنے ہیں مقدر کی یہ باتیں شہنازؔ
مسکراتا ہے کوئی اشک بہاتا ہے کوئی



یہ تیری ہستی تو بیکراں ہے
نہ خود کبھی اس کو پا سکیں گے

ہیں ہفت افلاک راستے میں
نہ اڑ کے بھی تجھ تک آ سکیں گے

پرے افق کے ہے کیسی وادی
خیال تک بھی نہ لا سکیں گے

یہ راز تو راز ہی رہے گا
یہ راز ہرگز نہ پا سکیں گے

یقیں نہیں ہے گماں نہیں ہے
کہاں ہے تو اور کہاں نہیں ہے

جذب و حروف



شہنازکی دنیائے تخیل میں جنم لینے والے سچے جذبے ان ثمر بار شاخوں کی مانند ہیں جن کے نم دیدہ پتے بھٹکے ہوئے راہی کے قرطاس جمال پر شبنمی لمس رکھ دیں۔ شہناز کی شاعری خشبودار دھویں کی طرح ہے۔ اس کی ہتھیلی پر ایک خوبصورت آشیانہ ہے۔ جس میںرہنے والی چڑیوں کے بال و پر نکل آئے ہیں۔ پو پھٹنے کے ساتھ پرندوں کا گیت اسے نادیدہ جہان کا دھیان بخشتا ہے۔
شہناز نے خیال پر زیادہ توجہ دی ہے۔ اس کے ہاں غزل اور نظم دونوں میں اس کے معصوم جذبوں کا عکس موجود ہے۔ ’’قرض وفا‘‘ اس کی شاعری سے ایک جھلک ہے۔
سعد اللہ شاہ


ایک بات

ابھی کل دوپہر ہی کی بات ہے جب میں اپنے ذہن میں ’’جذب وحروف‘‘ کے تعار ف کے لئے خاکہ مرتب کر رہی تھی۔ میری ایک دوست جو شاعرہ بھی ہیں تشریف لائیں۔ ان کی اڑی اڑی رنگت اور نیم خوبدیدہ سی آنکھیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے شب بیداری کی ہو۔ میں نے چونک کر پوچھا کیوں بھئی خیریت تو ہے آج تو یوں لگتا ہے کہ تمام رات آمد ہوتی رہی ہے اور صبح سے اب تک تم ان کو قلم زد کرتی رہی ہو! وہ ہنس پڑی اور بولی 11 بجے سے تمہارا انتظار کر رہی تھی۔ تمہیں آنے میں دیر ہوئی تو ایک شاعری کی کتاب اٹھائی اور اس کے دیباچے کو پڑھ ڈالایہ رنگ ڈھنگ اس کا عطا کردہ ہے آپ یقینا میرا مطلب سمجھ گئے ہوں گے۔
بہرحال ان کی اس بات نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ایک شاعر میں طویل دیباچہ یا تعارف پڑھنے کے بعد اتنی سکت نہیں رہی کہ وہ باقی کتاب پڑھ سکے تو عام قاری اس کا کیسے متحمل ہو سکتا ہے۔ تو جذب کے اظہار کے لیے جو نثری حروف مرتب کر چکی تھی ان کو نہاں خانے میں ہی رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔
اب بفضلِ تعالیٰ ’’جذب و حروف‘‘ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ میں اس کے بارے میں کیا کہہ سکتی ہوں۔ جذب ایک وجدانی کیفیت کا نام ہے اور احساس مشاہدے کے بعد حروف اس کو زبان عطا کرتے ہیں اور شاعری میں ڈھالتے ہیں۔ شاعری انسانی جذبوں اور گہرے احساس کی تخلیق ہے۔ میرے لئے شاعری ذریعہ اظہار ہے اشعار ’’بحر میںنہیں لہر‘‘ میں کہے گئے ہیں۔ مجھے اپنی مبتدی ہونے کا اقرار ہے۔ شاعرہ ہونے کا دعویٰ نہیں اور جو کچھ بھی ان صفحوں پر بکھرا نظر آرہا ہے وہ افکار کی یورش ہے۔ والد صاحب (حشر القادری مرحوم) بھی شاعر تھے تو یہ چیز ورثے میں بھی ملی اور طبع آزمائی جاری ہے کیونکہ میں سوچتی ہوں معاشرے نے جو کچھ دیا ہے اس کو انہیں احساسات و جذبات کے ساتھ واپس بھی لوٹانا چاہیے اور یہ پر خلوص تحفہ معاشرے کے لئے ’’جذب و حروف‘‘ کی شک میں پیش کر رہی ہوں بالکل اسی طرح جس طرح جذب حروفوں میں ڈھل کر کاغذ پر بکھرے۔
میں یہاں اگر اپنے بھانجے فیصل کا ذکر نہ کروں تو زیادتی ہوگی جس نے اس کتاب کے تمام اشاعتی مراحل اور دیگر امور میں بطور ننھے محقق مشیر معاونت کی۔ آپ کے پرخلوص مشوروں کا انتظار رہے گا۔
شہناز مزمل


نعت

میں تیرا بندہ ہوں میرا یہ کام کر دینا
بصیر اپنی بصارت دوام کر دینا

کریم تیری کریمی کا واسطہ تجھ کو
تو اک نگاہِ کرم میرے نام کر دینا

قدیر قادرِ مطلق ہے کائنات کا تو
عطا تو قدرتیں رب الانام کر دینا

رحیم رحمتیں تیری ملیں جزاک اللہ
تو رحمتوں کی درخشاں سی شام کر دینا

کبھی میں چوم سکوں جا کے گنبدِ خضرا
تو ایک صبح کی ایسی بھی شام کر دینا



پھر اک جمود سا طاری ہے تیری محفل میں
یہ کس لئے مہ و انجم میں روشنی کم ہے

پھر ایک شب کو درخشاں کیا ستاروں نے
یہ آج کیوں مہِ تاباں کی چال مدھم ہے

یہ بَن میں کس لئے پُر حول سی خموشی ہے
پھر آج ننھے پرندوں کی آنکھ پُرنم ہے

چھپا ہے کیوں یہ ستارہ پھر آج بدلی میں
سیاہ رات کی زلفوں میں کیسا یہ خم ہے

نہ دل گرفتہ ہو رفتار اپنی ٹھیک بھی کر
کچھ اور تیز تو چل وقتِ زندگی کم ہے



اپنے ہی آپ کو بھلا رکھنا
یہ رویہ سدا روا رکھنا

سوئی خواہش کو جاگنے دینا
دل پہ پہرے نہ تم بٹھا رکھنا

بھید دل کا نہ کھول دیں آنکھیں
چلمنوں کو ذرا گرا رکھنا

تاب دل کو نہیں ہے لمحہ بھر
اب نہ صدیوں کا فاصلہ رکھنا
زندگی نام ہے تسلسل کا
منزلوں تک یہ سلسلہ رکھنا

کون جانے وہ پھر پلٹ آئے
آخرِ شب دیا جلا رکھنا

لاکھ شہنازؔ مشکلیں آئیں
زندہ رہنے کا حوصلہ رکھنا



سالک کی رہنما تو ہے عقلِ سلیم جب
کرتی ہے پیش سامنے قشرِ وجود کو
اسرار ہست و بود میں کھو جاتا ہے بشر
پھر ڈھونڈتی ہے خاک بھی اپنے نمود کو



روشن جو ایک آنکھ سرِ بام ہو گئی
کیا پھر سے کوئی صبح مرے نام ہو گئی

عمر دراز کاٹ کے مجھ کو ملا عروج
پہنچی جو بام پر تو مری شام ہو گئی

جوشِ جنوں میں بھول گئی اپنے آپ کو
آیا جو ہوش زندگی بھی خام ہو گئی

مجھ کو نہ شوق تھا کہ ہو پہچان یوں مری
ہوتے ہوئے بھی نام میں گمنام ہو گئی

شہنازؔ تیری خواہش ِ وارفتگی ہے خوب
پردہ اٹھا تو لرزہ بر اندام ہو گئی



درد کے ساتھ عطا صبر بھی کر دینا تھا
اس نے جیون کو مرے تلخ بنا رکھا ہے

جب بھی کرتے ہیں گلہ رب سے یہی کہتے ہیں
اس نے کیوں وقت میں مرہم کو چھپا رکھا ہے



اس تیرگی کے دور میں جینا محال تھا
لیکن خدا گواہ تمہارا خیال تھا

ہر لحظہ تیری چاہ کو ترسا کیے ہیں ہم
ہم نے بسر کی عمر ہمارا کمال تھا

یوں ہنس کے سہہ لیا ہے مقدر کا وار بھی
جیسے ہمارے زخم کا یہ اندمال تھا

جو کچھ ہمیں ملا ہے وہ تیری ہی دین ہے
تھی آس جس کی دید کی تیرا جمال تھا

یزداں کا در ہمیشہ رہا وا مرے لئے
شہنازؔ ورنہ کوئی نہ پرسانِ حال تھا



مرے خلوص پہ کیوں ایسے وار کرتے ہو
بنا کے دوست مجھے دل فگار کرتے ہو

ہے دوستی کو پسَ پردہ دشمنی مقصود
بٹھا کے پاس ہمیں ذکرِ یار کرتے ہو

زمانہ ساز ہو آدابِ دوستی سمجھو
حبیب کہہ کے عدو میں شمار کرتے ہو

ثمر ملے گا وفائوں کا ہم نے سوچا تھا
مگر جفائوں سے تم زیر بار کرتے ہو
گذر گئے ہیں بہت لمحے رائیگاں اپنے
تم ان کو زیست کا حاصل شمار کرتے ہو

یہ شمعِ زیست پگھلتی ہی جا رہی ہے اب
صدائے نازؔ کا کیوں انتظار کرتے ہو



میری فطرت نے دھنک رنگ کی چُنری رنگ کر
پیرہن زیست کا رنگین بنا رکھا ہے
راہ دشوار ہے شہنازؔ مگر ہم نے تو
پھول سے خوشبو سے آنگن کو سجا رکھا ہے



شاید مرے خلوص میں کوئی کمی سی ہے
اب کے مزاجِ ناز میں کچھ برہمی سی ہے

سب کے لئے زمانے کا ہر وار سہ گئے
آنکھوں میں ان کی آج یہ کیسی نمی سی ہے

اے برق رو زمانے ذرا اور تیز چل
رفتارِ وقت اس سمے تھوڑی تھمی سی ہے

ساحل پہ کیسا شور ہے اے ناخدا بتا
کیا پھر سکوتِ بحر میں کچھ کھلبلی سی ہے
دنیا کو کھو کے تو جو پریشاں نہیں اگر
نازک مزاج کس لئے پھر برہمی سی ہے

جذبات اپنے لاکھ چھپا لے مگر اے نازؔ
حالات کہہ رہے ہیں کہ ان بن ٹھنی سی ہے



خودی کی جستجو کر خود نہ ہو تو اب محدود
خودی کی موت نہ بن رفعتوں کا پیکر بن
مٹا کے خود کو بقائے دوام حاصل کر
حجاب چھوڑ دے باطل کی رہ کا پتھر بن



بے شک زمانہ مجھ سے گریزاں ہے آجکل
مجھ کو نصیب قربتِ یزداں ہے آجکل

تاروں نے انجمن کو سجایا ہے اس طرح
کیا آنے والا پھر کوئی مہماں ہے آجکل

خورشید و ماہتاب پھر شرما رہے ہیں آج
یہ بزمِ کہکشاں بھی تو حیراں ہے آجکل

کلیوں نے پھول بن کے گلستاں سجا دیا
ہر راستہ چمن کا خیاباں ہے آجکل
اس کی ادائوں میں بھی ہے اک دلبری سی آج
بادِ بہار کس لئے رقصاں ہے آجکل

ظلمت شب ِ سیاہ نے اپنی سمیٹ لی
شمعِ حیات پھر سے فروزاں ہے آجکل

قدرت نے تیری راہ میں شمیعں جلائی ہیں
تیری ہر ایک راہ درخشاں ہے آجکل

سب کچھ تری دعائوں کے صدقے ملا مجھے
شہنازؔ کس لئے تو پریشاں ہے آجکل



جو نہاں دل میں تھے افسانے زباں تک آ گئے
زخم کھا کے زندگی سے ہم کہاں تک آ گئے

یہ نہ سوچا تھا کہ رسوا ہو زمانے بھر میں تو
سازِ دل چھیڑا خدا جانے کہاں تک آ گئے

پھر جنوں نے چاک کر ڈالا ہے دامانِ خرد
تذکرے میری وفائوں کے زباں تک آ گئے

میں سزا وارِ کرم ہرگز نہ تھی ربِ کرم
جب نوازا تو نے تو پیرِ مغاں تک آ گئے

عشق میں تیرے تجھے ڈھونڈا کئے تھے چارسو
دیکھنے کو ہم تجھے ربطِ نہاں تک آ گئے



آج احساس کی دیوار گرائوں کیسے
آگ سینے میں لگی ہے وہ بجھائوں کیسے

داستانِ غم فرقت جو سنانا چاہوں
اپنے جذبات کو الفاظ بنائوں کیسے

آ بنی جاں پہ تو اب جان بچائوں کیسے
چیر کر دل میں تجھے اپنا دکھائوں کیسے

پردئہ ذہن پہ رقصاں رہے یادوں کے نقوش
یہ بتا دامنِ احساس چھڑائوں کیسے
لوٹ کر کوچہء جاناں میں نہ جائوں میں اگر
پھر میں پیمانِ وفا آج نبھائوں کیسے

دلِ بے تاب لو کچھ دیر سکوں مل جائے
بیتے لمحوں کو بھلائوں تو بھلائوں کیسے

جرمِ الفت پہ ندامت ہے مجھے اب شہنازؔ
جو جھکا سر نہ کبھی آج جھکائوں کیسے



دنیا نے جو دیا ہے بھلایا نہ جائے گا
تجھ سے زمیں کا قرض چکایا نہ جائے گا

چہرے پہ اپنے لاکھ چڑھا لے تو گر نقاب
نیکی بدی کا فرق مٹایا نہ جائے گا

بپھرا ہوا مزاج ہے لہروں کا اس قدر
ہر ڈوبتا سفینہ بچایا نہ جائے گا

کوئی جگہ نہیں ہے دلِ داغ دار میں
اب مجھ سے کوئی زخم بھی کھایا نہ جائے گا
باندھا ترے فراق میں اشکوں نے ایسا تار
چلمن کے پیچھے ان کو چھپایا نہ جائے گا

ہے حوصلہ سخن کا مگر لفظ ہیں خاموش
جو دل میں ہے نہاں وہ دکھایا نہ جائے گا

بِن بات روٹھ جاتے ہیں اکثر جناب آپ
روٹھوں گی میں تو تم سے منایا نہ جائے گا

کرتے ہیں اپنی ہستی کا انمٹ نشان ثبت
پھر ایسا نقش دنیا میں پایا نہ جائے گا

شہنازؔ سارے رستوں پہ پہرا سا ہے لگا
وعدہ کسی سے آج نبھایا نہ جائے گا

عکس ِ دیوار پہ تصویر



ایک دانشور مجاہدہ … شہناز مزمّل

مجھے بہادروں کی تلواروںکی قسم کہ شہناز مزمّل کے ہاتھ میں وہی قلم ہے جس کی سوگند ربِّ ذولجلال نے کھائی ہے۔ ارشادِ ربّانی ہے:
قسم ہے قلم کی اور قلم سے لکھے ہوئے کی
یہی قلم نیکیوں کی پُر سعادت صبحوں کا افتتاح بھی ہو سکتا ہے اور تیرہ و تار گناہوں کی منجمدرات بھی جو سینکڑوں دوسری راتوں سے جوڑ دی گئی ہے۔
خیرکے لفظ کا اجر ثمر آور پیڑوں کی طرح ہوتا ہے جو صدیوں تک نسل ِ انسانی کو اپنی چھائوں اور اپنے ثمر سے سرفراز کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح شر کی خاطر لکھی جانے والی تحریر بھی جب تک بدی کی قوتوں کی ترویج کرتی رہتی ہے اس کے خالق کی لوحِ تقدیر لازوال گناہوں کے دھبوں سے داغدار ہوتی رہتی ہے۔ شہناز مزمّل اس حوالے سے ایک خوش بخت شاعرہ ہے کہ اس کے لفظ مشرقی اقدار کے پاسدار ہیں۔ اس کی فکر پاکیزگی اور طہارت کی امین ہے۔ اس نے دین اور وطن کی محبت کو تخلیقی عمل میں بدل دیا ہے۔ محمد ﷺ اور خطہء عشقِ محمدؐ یعنی پاکستان سے گہری وابستگی نے اس کی شعری فضا کو تقدس مآب نغموں سے معمور کر دیاہے۔ یوں اردو ادب دانش گاہِ محمدؐ سے تربیت حاصل کر کے ادبِ عالیہ کی آبرو بن رہا ہے۔
شہناز مزمّل نے نہ صرف عورت کے وقار اور شرم و حیا کا بھرم رکھا بلکہ عظیم مقاصد کی طرف پیش رفت بھی کی ہے۔ عورت کو خواب گاہ اور باورچی خانے سے نکال کر یہ احساس دلایا ہے کہ وہ ایک بڑی کائینات میں مقیم ہے اور سے تسخیر کر سکتی ہے لیکن اس کی تسخیر کا رستہ فاطمہ الزہراؓ کا راستہ ہے۔ رابعہ بصری ؒ کا رستہ ہے۔ وہ نہیں چاہتی کہ عورت ملّی غیرت اور دینی جمیّت کو چھوڑ کر صباح کی پری بن جائے۔
اس نے نہ صرف شاعری میں عورت کو عالمگیر غلبہء اسلام، انسانیت اور مساوات کی سر بلندی، شعورِ ذات، شخصیت اور کردار کی تعمیر اور تصّوف جیسے صوفیانہ اور دانشورانہ مسائل پر سوچنے کی دعوت دی ہے۔ وہ تو کہتی ہے کہ سنگینی ءِ حالات کا اب یہ تقاضاہے کہ ہتھیلیوں پر سروں کو سجا کر سرِ میدان، نکل آئیں تاکہ ظلمتِ شب کا دامن چاک کر کے ایمان کا آفتاب طلوع کیا جا سکے۔ وہ عورت کو ایک دانشور مجاہدہ کے روپ سروپ میں دیکھنا چاہتی ہے اور ایسی شاعرہ کی موجودہ ادب میں کوئی مثال نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے تنقید نگاروں نے بھی اس کر طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ انہیں تو ایسی شاعرات چاہیں جو مغرب کی تقلید میں ان کے ساتھ قدم ملا کر چل سکیں اور اس میں ان کا کوئی قصور بھی نہیں۔ آخر ان کی تمام تنقید مغربی ادب سے برآمد شدہ ہے۔
شہناز مزمل ایک باطنی تبدیلی کی خواہش مند شاعرہ ہے ۔وہ زمین کی پستیوں سے تنگ آ چکی ہے۔ اس لیے اپنے رابطے لولاک کی وسعتوں سے رکھنا چاہتی ہے۔ خا لق ِکائنات کی بارگاہ میں اپنے آپ سے آشنا ہو جائے گی۔ اس پر تمام جہانوں کے راز فاش ہو جائیں گے۔ پھر یقینِ کامل ہو جائے گا کہ میں ہی عالمِ لاہوت کی خوش بخت، سحر ہوں۔ میں ہی حرکتِ افلاک ہوں اور میں ہی ثابت دسیّار۔ وہ جذب و مستی کی بقا سے شناسا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ عشق کی فضا کوئی نہیں۔ وہ فلسفہء جذب و فنا کے عمل سے واقف ہے۔ وہ جانتی ہے کہ جذب کے بغیر کوئی تضویر مکمل نہیں ہو سکتی اور شاید اسی کیفیت میں اس نے اپنے آپ کو بھلا رکھا ہے۔ اور شاید اسی لیے اس نے اپنے پہلے مجموعہ کلام کا نام بھی جذب وحروف رکھا ہے اور وہ اپنے تمام گم شدہ جذب وحروف کی تلاش میں تحقیق کے دروازوں پر مسلسل دستک دیتی چلی آ رہی ہے۔
اردو ادب میں کوئی بھی ’’بڑی ‘‘ شاعرہ موجود نہیں، بلکہ یونانی زبان کی شاعرہ سیفو کے سوا دنیا کی کسی زبان میں کوئی عورت بڑی شاعری نہیں کر سکی، اس کی بنیادی وجہ تو وہی معاشرتی جبر ہے جس نے دنیا کے ہر خطے میں عورت کا استحصال کیا ۔ بیسویں صدی عورت کی آزادی کی صدی ہے۔ اب توقع کی جا سکتی تھی کہ انگریزی زبان میں کوئی بڑی شاعرہ نمودار ہو مگر یورپ نے بھی آزادیء نسواں کے نام پر عورت کو جنس کی دکان بنا دیاہے، اس لیے یقین سے کوئی بات نہیں کہی جا سکتی۔
عرب ایران اور برِصغیر میں عورت ابھی قدیم رسومات اور رواجوں میں قید ہے۔ اس حوالے سے بھی قابل تحسین ہے کہ ایسے پابند معاشرہ میں بھی اپنی ذات کا اظہار کر رہی ہے، وگرنہ مشرق کی معاشرت تو عورت کو شاعری کا کچا، ہنسنے اور رونے کا حق بھی نہیں دیتی، اگر کسی آنکھ میں آنسو مچلنے ہی لگیں تو ہاتھ وہ آنکھ نکالنے کے لیے بڑھنے لگتے ہیں، اگر کسی لب پر مسکراہٹ کے پھول کھِل اُٹھیں تو لوگ انہیں کاٹنے پر تُل جاتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں جو شاعرہ بھی سامنے آئی ایک جھنجھلاہٹ کا شکار محسوس ہوئی اور زلف و گیسو کے علاوہ ان موضوعات سے دانستہ گریز پا رہی جو مَردوں کے پسندیدہ تھے۔ مگر شہناز مزمّل نے اپنے عہد کی شاعرات کے برعکس انہیں موضوعات پر ہاتھ ڈالا جنہیںمَردوں نے اپنی جاگیر سمجھ رکھا ہے۔ تصّوف اور وطنیّت جیسے معاملات پر کھل کر اظہارِ خیال کیا لیکن کہیں بھی یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ یہ کسی خاتون کی شاعری نہیں بلکہ شہنازمزمّل کی شخصیت تو اپنی شاعری میں جاگتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
دراصل شاعری کی تخلیق میں زیادہ عمل دخل تربیت اور مطالعے کا ہوتا ہے۔ آدمی جیسا مطالعہ کرتا ہے، جس طرح کے لوگوں سے تربیت حاصل کرتا ہے، وہ اس کے تخلیقی عمل پر بہت زیادہ اثرات مرتب کرتے ہیں۔ شہناز مزمّل کی خوش قسمتی ہے کہ اس کر تربیت گاہ کوئی نیکوں سے بھرا ہوا آنگن بنا جس میں پاکیزگی تھی اور منوّر باطنوں والے لوگ رہتے تھے۔ دوسرے اس کا مطالعہ بھی اس طرح کا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اقبال جیسا لاہوتی فضا رکھنے والا شاعر اس کے دل کے قریں آباد ہے۔
میری ان باتوں کا مفہوم قطعاََ یہ نہیں کہ اس نے ان موضوعات کو چھیڑا ہی نہیں جو اس عہد سے وابستگی رکھتے ہیں۔ وہ روایت کے درخت کی چھائوں میں بیٹھ نہیں گئی بلکہ اس نے تو اس کی چھائوں کو اپنا ہم سفر بنا لیا ہے۔ مجھے نئی راہوں پر روایت کا شجرِسایہ دار اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور لمحہء موجود کے سلگتے ہوئے موضوع کینوس پر اس کے باطنی رنگوں میں کھل کر ایک نئی تصویر بنا تے ہیں۔ ایک ایسی تصویر جس میں ہمارا ماضی بھی ہے، حال بھی اور مستقبل بھی۔
شہناز مزمّل نے اپنی بات کو استعاروں اور تشبہیوں کے غلافوں میں لپیٹ کر پیش نہیں کیا۔ وہ جانتی ہے کہ آج کے تیز رفتار دور میں کسی کے پاس فرصت کی
اتنی ساعتیں نہیں کہ وہ آپ کے شعر پر گھنٹوں سوچ سکے۔ اس کی تو کوشش ہوتی ہے کہ خیال لفظوں سے اُبل رہا ہو۔ اپنی اس کوشش میں وہ مکمل طور پر کامیاب دکھائی دیتی ہے۔
منصُور آفاق


اذنِ کلام

اپنے جذب کو حروف دینے کے بعد جراتِ اظہار کا سلیقہ پایا اور آج عکس ِ دیوار پہ تصویر بنائے حیران سی کھڑی ہوں۔ خیالات کے سمندر پر لفظوں کی دہلیز سجی ہے، کون سا دُرِ نایاب چُنوں جو اپنے قارئین کی نذر کر سکوں، کچھ سمجھ نہیں پا رہی، جو کچھ میرے پاس تھا وہ پیش کر چکی اور مزید جو کچھ ہو گا وہ بھی آپ ہی کی عطا ہو گی اور آپ کی ہی امانت!
میں کچھ فطرتاََ جلد باز واقع ہوئی ہوں۔ اس بار سوچا تھا کہ کوئی بھی تخلیق چلد بازی کی نظر نہیں کروں گی مگر ہم سب جس کے حکم کے تابع ہیں، اس نے میرے حروف کو صدا بخشی اور درِ نبی ﷺ سے ندا آئی تو جانا کہ شکر گزاری کا اس سے بہتر موقع اور کیا ہو گا اور ہر کام خود بخود غیر محسوس طریقے سے قدرت انجام دیتی رہی۔
جذب و حروف اور جرات اظہار کے پہلے ایڈیشن ختم ہو چکے ہیں۔ کچھ احباب کا اصرار تھا کہ ان کو دوبارہ پرنٹ کروا دیا جائے جو فی الحال ممکن نہ تھا۔ ان دونوں مجموعوں میں سے چیدہ چیدہ چیزیں اسی میں شامل کر دی ہیں۔
ہر راستہ ’’کُن‘‘ کے ذریعے بنا ہوتا ہے اور یہ ہمارا ایمان ہے کہ ہمارے لیے فیصلے لوحِ محفوظ پر ازل سے رقم ہیں اور قدرت ان کے لیے راستے خود بنایا کرتی ہے۔ توکّل اور عزمِ صمیم شرط ہے۔
ٖفیصل حنیف ۔۔۔ آج کی نوجوان نسل کا نمائندہ شاعر (جو یقینا آنے والے کل کے اساتذہ میں شامل ہوگا) درازیِ عمرو اقبال کی دعائوں کے ساتھ، میں اس کی بے حد ممنونِ احسان ہوں کہ اس نے ہر مرحلے پر بھرپور معاونت کی۔
اس کے علاوہ میں حامد علی، محمود سرور، سرفراز احمدصاحب، اور انوار صاحب کی بھی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے دستِ تعاون دراز فرمایا۔
میں اپنی والدہ صاحبہ، اپنے شوہر سلطان احمد، اپنے بچوں مینا ، نعما اور فاروق کے لیے بھی دعا گو ہوں جن کے وقت میں سے بہت سے لمحے مستعار لے کر میں عکسِ دیوار پہ تصویر بنا سکی۔ اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ یہ تصویر مِری تعبیر کے خواب کا ادھورا عکس ہے یا پورا ، تاکہ میرا خواب جو ادھورا ہے اس کو بھی پورا کیا جا سکے۔ آپ کی آراء کی منتظر رہوں گی۔
بے شک میں ان اعزازات کے قابل تو نہیں ہوں جن کے قابل آپ نے مجھے سمجھا۔
شہناز مزمّل
125 ایف۔ ماڈل ٹائون لاہور
یکم اکتوبر 1991



کرم یہ رحمتِ ربّ الانام کر دینا
عطائے جلوئہ دارلسّلام کر دینا

پیامِ اذنِ حضوری مجھے ملے جس دم
زباں پہ جاری محمدؐ کا نام کر دینا

نہ لُوں میں دولتِ کونین آپؐ کے بدلے
تو روزِ حشر، شفاعت امام کر دینا

دیارِ یثرب و بطحا میں کر سکوں سجدے
نگاہِ لطف سے یہ انتظام کر دینا
طوافِ روضہء اقدسؐ ہو میری قسمت میں
تُو ایک صبح کی ایسی بھی شام کر دینا

تِرے لیے کوئی مشکل نہیں مِرے مولا!
سرُورِ کیفِ حضوری دوام کر دینا

ہر ایک سانس میں میں مدحتِ رسولؐ کروں
عطا مقام یہ ربّ الانام کر دینا

تِری ہی یاد میں شہنازؔ کی یہ عمر کٹے
دعا قبُول یہ خیرؐ الانام کر دینا


درِ مصطفیٰؐﷺ

مِرے حروف کو جو ملی صدا
مِرے جذب نے مجھے دی ندا

ہوئے مہرباں شہِؐ انبیا
ذرا دیکھ روضے کا در کھُلا

ہے دعائوں کا تیری یہ صلہ
تُو بصد نیاز جبیں جھُکا

ہوئی مستجاب تِری دُعا
تجھے مل گیا درِ مصطفیٰؐ

تِری سجدہ ریز ہو ہر نظر
درِ مصطفیٰؐ کا طواف کر



میں کھو گئی ہوں مگر اب گمان بولے گا
مکیں بغیر یہ خالی مکان بولے گا

فصیل ِ جسم کی اس قید سے رہا ہو کر
حصارِ روح میں باقی گیان بولے گا

زمانے بھر کی سمیٹی ہے تیرگی شب نے
ملے گی جب بھی زباں آسمان بولے گا

چراغِ جاں ہے فروزاں ہتھیلیوں پہ مِری
ہوا کا جھونکا مِری داستان بولے گا

نقوش رسمِ وفا ثبت کر دیے شہنازؔ
مِری صدا پہ یہ سارا جہان بولے گا


ترِے ہمراہ چلنا چاہتی ہوں
سہارا دو، سنبھلنا چاہتی ہوں

کیا ہے منجمد افکارِ جاں نے
میں پتھر ہوں، پگھلنا چاہتی ہوں

اٹھا دے غیب سے پردہ کوئی تو
حوادث میں سنبھلنا چاہتی ہوں

بھلا کر وعدئہ فردا کو اب میں
نئے سانچے میں ڈھلنا چاہتی ہوں

کسی گُم گشتہ ساعت کی طرح اَب
میں ذہنوں سے نکلنا چاہتی ہوں

صلیب ِ وقت کندھوں پر اٹھا کر
میں تھوڑا تیز چلنا چاہتی ہوں



زندگی کا حصار مشکل ہے
موت کا انتظار مشکل ہے

لاش اپنی اٹھا کے کندھوں پر
ہم سفر بار بار مشکل ہے

تم لہو سے بھی لالہ زار کرو
پتھروں پر بہار مشکل ہے

آنکھ شاید کبھی لگی ہو گی
رتجگوں کا شمار مشکل ہے
شب گزیدہ مسافروں کیلئے
صبح کا انتظار مشکل ہے

بھر چکے ہیں تمام پیمانے
خود پہ اب اختیار مشکل ہے

رُت بچھڑنے کی آ گئی شہنازؔ
اعتبارِ بہار مشکل ہے



اب جُنوں کی انتہا ہونے کو ہے
کیا خبر کیا سانحہ ہونے کو ہے

تنکے چُن چُن آشیاں جس کو کیا
گھر وہی رزقِ ہوا ہونے کو ہے

آپ کی امت میں پھر تکرار ہے
کیا یہاں پھر کربلا ہونے کو ہے

توڑ ڈالیں آج سب قصرِ انا
راستہ سب کا جُدا ہونے کو ہے
موت رقصاں ہے بگولوں کی طرح
ہر خوشی گویا فنا ہونے کو ہے

روشنی اور گھن گرج کی گونج ہے
شہرِ انساں بے صدا ہونے کو ہے

سانس روکے دم بخود بیٹھے ہیں سب
ہو چُکے گر معجزہ ہونے کو ہے



امن ہے حُسن ہے یہ خواب نگر لگتا ہے
الٹی ہو جائے نہ تعبیر یہ ڈر لگتا ہے

شہرِ آشوب کے سارے ہی مقفل ہیں کواڑ
جو نظر آتا ہے وہ ساتواں در لگتا ہے

ذہن کے بند دریچے میں اُتر کر آ جا
بن تِرے سارا نگر، آج کھنڈر لگتا ہے

شب ِ تاریک میں کس جا پہ بسیرا کر لوں
ہر گھروندہ ہی یہاں ریت کا گھر لگتا ہے

تھا جواں عزم تو دشوار کوئی راہ نہ تھی
اب تو دشوار یہ جیون کا سفر لگتا ہے

راہ تاریک ہے منزل کا نشاں دُھندلا ہے
کرمکِ شب بھی مسافر کو خضر لگتا ہے



فسُوں زدہ ہوں تمنّائوں کے حصار میں ہوں
دبیز کُہرِ شبستاں ہے میں غبار میں ہوں

کہاں پہ ڈھونڈ رہی ہے مجھے شب ِ یلدا
ندائے صبحِ چراغاں کے انتظار میں ہوں

ستارگاں بھی مجھے معتبر نہیں لگتے
میں ایک جبرِ مسلسل کے اختیار میں ہوں

برس رہی ہے کڑی دھوپ آسمانوں سے
ازل سے ربِ بہاراں کے اعتبار میں ہوں

نوشتہ جو بھی ہو خاموش لب رہے ہیں مِرے
ہے فیصلہ یہ اُسی کا میں کس شمار میں ہوں



چاند خوابوں کے ڈھل رہے ہوں گے
خواب آنکھوں میں پل رہے ہوں گے

کوئی دستک نہیں سماعت پر
خواب رستے بدل رہے ہوں گے

جگنوئوں کے شرر بکھرنے سے
ہاتھ پھولوں کے جل رہے ہوں گے

ٹوٹتی ہے یہ سرد خاموشی
برف موسم پگھل رہے ہوں گے

بجلیاں سی فضا میں رقصاں ہیں
آئینے رُخ بدل رہے ہوں گے



پاس آ کر یوں چلے جانا اُسے اچھا لگا
بھرتے پیمانوں کو چھلکانا اُسے اچھا لگا

تہلکہ مچ جائے جگ میں اس کے جشنِ ذات کا
آتشِ دل سوز بھڑکانا اُسے اچھا لگا

عشق کی نائو بہا کر ہجر کے پانی میں یوں
کہنا میرے پاس مت آنا اُسے اچھا لگا

چار سُو ہیں زرد دُھوپیں اور تنہائی کا خوف
سبز موسم میں پلٹ آنا اُسے اچھا لگا

حوصلہ اس میں نہ تھا تجدیدِ الفت کا مگر
چپکے چپکے مات بھی کھانا اُسے اچھا لگا

دائرہ اپنا مکمل کر کے آہستہ سے پھر
کنجِ ہستی سے نکل جانا اُسے اچھا لگا



شعلہ نوائیوں کی سزا دیجئے مجھے
محفل عروج پر ہے اٹھا دیجئے مجھے

سب جانتے ہیں کتنے ہیں شیریں بیان آپ
لفظوں کے زیروبم میں بہا دیجئے مجھے

ہوں کم نگاہ میں تو بلندی پہ آپ ہیں
اسرارِ ہست و بود بتا دیجئے مجھے

کیوں باز گشت میری سنا چاہتے ہیں آپ
اپنا سمجھ کے پھر سے صدا دیجئے مجھے

راہوں کے پیچ و خم میں گزاری ہے زندگی
منزل کوئی نئی بھی دکھا دیجئے مجھے

شہنازؔ نے بھی سیکھا نہیں ہار ماننا
اب فیصلہ بھی اپنا سنا دیجئے مجھے



مجھ سے ہو ہم کلام، سخن آشنا بھی ہو
دعویٰ ہے ہمسری کا، شریکِ دعا بھی ہو

کندن ہوا ہے دھوپ میں شیشے کا پیرہن
شامل اب اس میں سرخی ءِ رنگِ حنا بھی ہو

منسوب تیرے نام سے لَو اس کی میں کروں
روشن کہیں جو دُور چراغِ ھُدا بھی ہو

پہچاننے کا خود کو بہت اشتیاق ہے
اپنے لیے کہیں پہ رُخِ آئینہ بھی ہو

شہنازؔ یہ تو شوقِ مسافت میں شرط ہے
ذوقِ جنوں کی راہ میں ذوقِ انا بھی ہو



کوئی مجھے آ کر سمجھائے
میں نے بھی تھے خواب سجائے

رستہ خود سر ایسا ٹھہرا
منزل سے بھی آگے جائے

پیار کے دو لفظوں کی خاطر
رین بسیرے سب ٹھکرائے

آسوں کے کچھ دیپ جلا کر
باقی سارے دیپ بجھائے
رِم جھم رِم جھم کرتا ساون
بِرہن من میں آگ لگائے

رشتے ناطے توڑ کے پگلی
ہاتھ پہ ہاتھ دھرے پچھتا ئے

ذہن دریچے بند نہ کرنا
شاید پگلی پُروا آئے

من مندر روشن رکھنے کو
میں نے دل کے زخم جلائے

من اندر گھر کرنے والی
مِٹھڑی بتیاں کون بھُلائے

چھوڑ دے اب شہنازؔ تپسیا
من اندر بھگون در آئے



لمحہء موجود کی ظُلمت میں در آئے گا کب؟
اک نیا سورج مِری دہلیز چمکائے گا کب؟

تیرگی کا ڈر نہیں ترسی ہوئی کرنوں میں ہوں
قافلہ تاروں کا میرے گھر اُتر آئے گا کب؟

خوشبوئوں کی آس میں رقصاں رہی تتلی کے سنگ
وادیِ گُل تک صبا یہ قافلہ جائے گا کب؟

چونچ میں کنکر لیے بیٹھی ہوئی ہوں تشنہ لب
کوزہءِ امیّد میرا پھر سے بھر جائے گا کب؟

منزلیں شہنازؔ حائل ہیں تِری ہر راہ میں
راستہ منزل کو تجھ سے دور لے جائے گا کب؟



میں پَر بریدہ ہوں کیسے سفر کی بات کروں
ڈسا ہے شب نے میں کیسے سحر کی بات کروں

کھُلے دریچے ہیں سارے ہوائوں کی زد میں
میں کس مکان کی کس بام و در کی بات کروں

میں اپنے جذب کو الفاظ دے نہیں سکتی
تو کیوں میں تجھ سے کسی نامہ بر کی بات کروں

مِرے ندیم، مِرے ہم سفر، مِرے ساتھی!
چلو جو ساتھ تو چاکِ جگر کی بات کروں

لگی ہے درد کی زنجیر ٹوٹنے شہنازؔ
جو چارہ گر ہوں تو دامانِ تر کی بات کروں



مِرے اندر دہکتے ہیں جو انگارے بجھا دو نا
بکھرتے خواب آنکھوں میں مِری پھر سے سجا دو نا

بہت سے رتجگے آنکھوں میں میری اس نے بوئے ہیں
مِری کھوئی ہوئی نیندیں مجھے واپس دِلا دو نا

یہ مسکن پتھروں کے چھین لیتے ہیں حسیں سوچیں
گھروندے ریت کے ساحل پہ آ کر پھر بنا دو نا

بہت بنتی بگڑتی صورتیں ہیں من کے مندر میں
مرے اندر جو آذر ہے اسے آ کر مٹا دو نا
بنا پتوار کشتی ڈولتی ہے موجِ دریا پر
ہوا کے رخ پہ اس کو اک نیا ساحل دکھا دو نا

میں ہوں کنج ِ قفس میں، حسرتِ پرواز رکھتی ہوں
سو تُم مجھ پَر بریدہ کو ذرا اڑنا سکھا دو نا

موم کے سائبان


آراء

معاشرے میں کوتاہیوںاور بگاڑ کا احساس۔ ایک بڑے آورش اور اعلیٰ انسانی اقدار سے وابستگی۔ مذہب اور وطن سے محبت۔ مثالی بودوباش کی خواہش، ایک نامہربان آس پاس میں ایک غمگسار اشاریہ ہے شہناز مزمل کی شاعری خوبصورت مستقبل کی آس کے ساتھ
مینر نیازی

شہناز مزمل اردو شاعری میں جانا پہچانا نام ہے۔ پانچویں شعری مجموعہ کی اشاعت ان کے تخلیقی عمل کے اصرار کی شہادت ہے۔ فی زمانہ غیر رسمی شعری اسلوب میں شعر لکھناایک جہاد سے کم نہیں ہے۔ شہناز مزمل نے یہ جہاد اپنی نظموں میں کیا ہے۔ ان کی آزاد نظموں میں ایک جذباتی روانی ہے جو ان کے اپنے موضوع سے قرب کا یقین دلاتی ہے۔ ان کی نظمیں خود آگہی کا سفر ہیں، وہ اپنی نظموں کے ذریعے اپنی محصور ذات کو دریافت کرتی ہیں، یہ دریافت رومانی اور مابعد از طبعاتی نہیں ارضی اور حقیقی ہے۔شہناز مزمل کی نظمیں جو جذباتی سطح مرتب کرتی ہیں ان میں معاصر ناہموار زندگی کی رنگت اور فرد کی ازلی مجبوری کا عکس بھی دکھائی دیتا ہے۔
انیس ناگی

شہناز مزمل انتہائی حساس اور باشعور شاعرہ ہے۔ اس کا کلام ہجروفراق کے دردو گداز اور تلاش و جستجو کے کرب مسلسل کا آئینہ دار ہے۔ شہناز مزمل کے دکھ انتہائی گہرے ہیں۔ اس کا اظہار خوبصورت اور دل نشیں ہے۔ اس کی غزلیں اور نظمیں دلوں کے دروازوں پر دستکیں دیتی محسوس ہوتی ہیں۔شہناز مزمل کے کلام کا سب سے نمایاں وصف اظہار کی سچائی اور بے ساختہ پن ہے۔ وہ لفظی، بازیگری اور تکلفات کی قائل نہیں، اس کا کلام قاری کے دل و دماغ کو مدتوں اپنے حلقہء اثر میں رکھنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے
روحی کنجائی

شہناز مزمل کو میں نے مختلف مشاعروں میں سنا۔ یہ اندازہ تھا کہ وہ بھی ہمارے ان انگنت شعراء شاعرات میں سے ہیں جو وقت گزاری کے لئے شاعری کرتے ہیں لیکن جب ان کا شعری مجموعہ میری نظر سے گزرا تو میں نے دو آراء قائم کیں ایک یہ کہ کسی شاعر کی دو چار ـ’’مشاعرتی‘‘ غزلیں سن کر اس کی شاعری کے بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کرنی چاہیے اور دوسری رائے شہناز مزمل کے حوالے سے تھی جو میری پہلی رائے سے بالکل مختلف تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ شہناز کی شاعری وقت گزاری کے خیال سے کی گئی شاعری نہیں ہے۔ بلکہ ان کے پیچھے انسان کا وہ صدیوں پرانا دکھ ہے جو اپنی تمام سہولتوں اور راحتوں کے حصول کے بعد بھی چین سے نہیں بیٹھنے دیتا۔ یہ احساس ذات اور شکست ذات کی کہانی ہے جو گھوم پھر کر ایک ہی موڑ پر آن کھڑی ہوتی ہے۔ ہجر اور جدائی کے لمحے مختلف زمانوں میں مختلف انسانوں سے مختلف باتیں کرتے ہیں کبھی یہ مایوسی اور ڈپریشن کے اتھاہ اندھیروں میں گرا دیتے ہیں اور کبھی جدائی کے دکھ کو دوسرے انسانوں کے لیے وصال کی خوشیوں میں بدل دیتے ہیں۔ان کی ذات کا خلوص ہجر اور جدائی کے لمحوں میں وہ رنگ بھر دیتا ہے جو قوس قزح کی طرح خوبصورت ہیں اور یوں ہلکے رنگوں اور سردیوں کی دھوپ جیسی یہ شاعری قاری کو آسودگی کی منزلوں کی طرف لے جاتی ہے یہ دکھوں کی تہذیب ہے اور میں شہناز مزمل کو اس ارفع رویے کی شاعری پر مبارک باد دیتا ہوں۔
عطاء الحق قاسمی
شہناز مزمل ایک شائستہ اور شستہ خاتون ہے۔ ان کا شریفانہ اسلوب شعر ایک مثبت تاثر دل پر طاری کرتا ہے۔ وہ اپنی شاعری کے ساتھ ذرا دیر سے ادبی دنیا میں ظاہر ہوئی جس معاشرے میں عورت کی تخلیقی گواہی کو رد کرنے کی روایت پڑ جائے۔ وہ معاشرہ تہذیبی، سماجی اور ثقافتی سطح پر بانجھ ہو کر رہ جاتا ہے۔ہماری تیسری دنیا کے زیادہ تر معاشروں کی بد نصیبی رہی ہے کہ ہم نے تخلیق کی بجائے تقلید کو اپنی زندگی کا چلن بنا رکھا ہے۔ ہم آنکھیں بند کئے دوسروں کو دیکھتے ہوئے خوابوں میں اسیر رہتے ہیں اور ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ہماری پلکوں سے کسی نئے خواب کی پرچھائیں نہ چھو جائے۔شہناز مزمل ہماری ایسی غیر تخلیقی روایت میں لفظ اور خواب کے حوالے سے ایک زندہ اور تخلیقی گواہی بن کر ظاہر ہوئی ہے۔ ان کی شاعری ہماری تہذیب کے کھنڈر سے طلوع ہوتی ہوئی کسی صبح کی مانند ہے۔ سچی اور خوبصورت۔
نذیر قیصر


شہناز مزمل صاحبہ کی شاعری
اردو ادب میں ادبی ماضی سے تعلق رکھنے والے شاعر دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو ماضی یا گزشتہ سے پیوستہ اقدار و روایات میں سانس لیتے ہیں۔ عہد ماضی اپنے اوپر اوڑھ لیتے ہیں، عصری تقاضوں، ماحولیات اور اردگرد کی دنیا و حالات پر نظر ڈالتے ہوئے تذبذب کا شکار ہوتے ہیں یا پھر عصری تقاضوں کے چیلنج سے گھبراتے ہیں بلکہ بعض اوقات تو اپنے ز مانے سے قطع تعلقی پر اتر آتے ہیں۔ دوسرا طبقہ یا گروہ ان شاعروں، ادیبوں اور قلمکاروں کا ہوتا ہے۔ جو سانس تو اپنے زمانے ہی میں لیتے ہیں لیکن ان کی شاعری بصارت، ادبی بصیرت اور فکر ارتقاء کے حصار سے ماضی کے اقدار بھی کبھی اوجھل نہیں ہونے پاتیں وہ ماضی کی روایت کو عصری تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کر کے ایسا فن پارہ تخلیق کرتے ہیں جو اپنے عہد کا نمائندہ ادب کہلاتا ہے، وہ ماضی کی صحت مند، وقیع اور زندہ رہنے والی اقدار و روایات کو اپنے بعد کی نسلوں تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں اور یہ کسی روایتی شاعر کے بس کا روگ نہیں۔
شہناز مزمل صاحبہ دوسرے طبقہ کی نمائندہ شاعرہ ہیں، بلاشبہ ماضی کی اقدار و روایات کی تانک جھانک کے ساتھ نئی شعری تخلیقات کا عصر رواں سے منظم ربط ان کا خاصا ہے۔ شعری سفر کی لسانی تاریخ میں وہ اپنا ایک منفرد مقام بنا تی ہیں۔ نظم ہو یا غزل اتنی سجی ہوئی ہوتی ہے کہ معنی کے مفہوم کی ترسیل بلکہ ابلاغ واضع انداز میں قاری تک پہنچتا ہے۔لفظوں کی نشست و برخاست، روانی و تسلسل، موسیقیت و ترنم، اس کے اضافی جزو ہیں اور یہی جزیات جب کل کی شکل اختیار کرتے ہیں تو شہناز صاحبہ کے فن کی آبیاری ہوتی ہے۔ شہناز مزمل صاحبہ کسی گرہ بندی یا ازم کا شکار نہیں ہوئیں ان کی شاعری پر کسی قسم کا لیبل نہیں لگایا جا سکتا۔ وہ تو صرف اور صرف انسانیت کی شاعرہ ہیں اور یہی ان کی شاعری کا حسن ہے۔
کرامت بخاری

شہناز مزمل ۔ ایک منفرد کائناتی شاعرہ

ادا جعفری، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، زہرہ نگاہ، پروین شاکر، پروین فناسید، شبنم شکیل، فاطمہ حسن جیسے ناموں کے بعد نوشی گیلانی، درانجم، یاسمین حمید اور شہناز مزمل کے نام ادب کے منظر نامے پر روشن ہوئے ہیں۔ شہناز مزمل کا راستہ ان تمام سے مختلف ہے۔ اس سے مراد کسی بھی شاعرہ کو رد کرنا ہرگز نہیں۔ ہر کسی کا اپنا اپنا مضبوط حوالہ ہے۔
شہناز مزمل اپنے ہونے کو محسوس کرنے اور اپنے گمشدہ تشخص کو ڈھونڈنے میں صبح و شام سرگرداں ہے۔ وہ اپنے آپ کو کائنات سے جوڑنے کی سعی کر رہی ہے۔ اسے انسانی بے بسی اور بے چارگی پر غصہ بھی آتا ہے، وہ دریدہ دامن، سربریدہ خواہشات، کرب کے رتجگوں اور نیم جاں سرگوشیوں سے آگے نکل کر حرفِ نا معلوم کے علاقے میں جانے کے لیے بے تاب ہے، مگر اسے احساس ہے۔
کوئی سمجھا ہے نہ سمجھے گا
کسی برگد کا دکھ
اور ڈار سے بچھڑی ہوئی اک کونج کی لمبی اڑانوں کو
کہ سب کے سب تو خود کھوئے ہوئے ہیں
اور اپنی چمکتی تیز آنکھوں کو مچانوں پر سجایا ہے
تو یو ں تاریکیاں اندر ہی اندر بڑھتی جاتی ہیں
سلاسل یاس کے پھیلے ہوئے ہیں
سمندر دور، دریا دور، بادل دور ہیں جاناں
کڑی ہے دھوپ منزل بے نشان ہے
کسی دیوار کا سایا
کوئی بارانِ رحمت کی روا سر پر نہیں ہے
کہ جتنے سائبان ہیں سب کے سب موم کے جاناں
شہناز کے ہاں جاناں، بہت معنویت کا حامل ہے، یہ ایک زندہ کردار کی طرح اس کے ساتھ ساتھ ہے، جیسے کوئی رازداں سہیلی ہو۔ یہ جاناں فراز کے جاناں سے بہت مختلف ہے۔ یہ شہناز کا اپنا ہی پر تو ہے جس کے ساتھ وہ دکھ سکھ سانجھا کرتی ہے، منصوبے بناتی ہے، پیمان باندھتی ہے، وہ اس کی موجودگی میں خود کو محفوظ کرتی ہے، اس سے اس کی دوسروں پر بے یقینی بھی منعکس ہوتی ہے، تاہم اس نے جاناں کو تنہائی بنا کر اپنی ایک دنیا بسائی ہوئی ہے۔
یہ بات مذکورہ بالاکائناتی حوالے کو تقویت دیتی ہے ۔ وہ خود کہتی ہے:
بادل سا ہو وجود مرا آسمان پر
میں بھی ہوا کے دوش پہ ہر سو اڑا کروں

میں بھی زمیں کے پانیوں پر عکس بن سکوں
میں اس کی موج موج میں خود کو بکھیر دوں

گہرے حسین ساگروں کے ساتھ بہہ سکوں
میں تہہ میں اس کی سیپیوں کے ساتھ رہ سکوں

جی چاہتا ہو خود پہ مجھے اختیار ہو
یہ آبشار جھرنے یہ بادل برس پڑیں

یہ تتلیاں، یہ جھیل، سمندر یہ کہسار
خود اپنی وسعتوں میں مجھے بھی سمیٹ لیں
اس حوالے سے شہناز رومانٹک شاعروں (Romantic Poets) کی صف میں آ جاتی ہیں (انگریزی تنقید میں رومانٹک سے مراد صرف رومانوی نہیں) مثلاََ Shelley Keets اور Words Worth کی شاعری میں کچھ اس طرح کی کیفیت دیکھی جا سکتی ہے Shelly اپنی ایک نظم West Wind میں کہتا ہے
Oh Lift me as a wave a leaf a cloud!
I fall upon the thorns of life! I bleed!
یہ اسلوب ہر بے چین فنکار کا ہونا چاہئے۔ شہناز بھی فصیل جان میں مقید طلسم جان کا عذاب سہہ رہی ہے اور دائمی سکون کی متلاشی ہے۔ وہ Dr. Fausties کی طرح طاقت کا حصول شیطانی طاقتوں کے ذریعہ نہیں کرنا چاہتی۔ وہ دست دعا پھیلاتی ہے اور خدا سے اپنے لاڈلے انداز میں شکوہ بھی کرتی ہے۔
ہو گر اجازت تو پوچھنے کا
مجھے بھی اتنا تو حق ہے حاصل
مرے لئے گر نہیں تھا کچھ بھی
کوئی ستارا
کوئی کنارا
تو کیوں سجائی تھی بزم ساری
شہناز مزمل اپنے اندر حوصلہ بھی خود ہی پیدا کرتی ہے، وہ بہت باہمت دکھائی دیتی ہے۔
فضائیں دھند میں لپٹی ہوئی ہیں
تجھے پرواز کرنا ہے
تجھے پر کھولنا ہونگے
تجھے در کھولنا ہونگے
شہناز مزمل کے ہاں غزل بھی اچھی ہے مگر اس پر بھی نظم کا رنگ غالب ہے، اسے نظم کا شاعر کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ سب سے خوشی کی بات یہ کہ اس نے بے بہا جذبوں اور بے شمار موضوعات کے باوجود نثری نظم کا سہارا نہیں لیا۔ یقیناََ وہ سمجھتی ہے کہ شاعری اور نثر دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ آج کی نثری نظم افضال سید، انیس ناگی اور نسرین انجم تک تو مانی جا سکتی ہے وہ بھی تھاٹ کی حد تک۔بعض جگہ اس نے غزل بھی نہایت خوبصورت انداز میں کہی ہے، ایک جداگانہ طریقے سے
اتنا احساسِ ندامت نہ دلایا جائے
فیصلہ جرم کا اک بار سنایا جائے

زرد رت کا فضا پہ پہرہ ہے
موسم گل کہاں پہ ٹھہرا ہے

گردشِ دو جہاں میں رہتی ہوں
ہر گھڑی امتحاں میں رہتی ہوں

یہ چشم تر مری پتھرا گئی تو کیا ہو گا
یقیں کی آخری حد آ گئی تو کیا ہو گا
تلاشِ جذب میں دنیا تیاگ سکتی ہوں
سکوتِ دشت سے گھبرا گئی تو کیا ہو گا

تھے عجیب میرے بھی فیصلے میں کڑی کماں سے گزر گئی
رہے فاصلے مرے منتظر میں تو جسم و جاں سے گزر گئی
اس شعری مجموعے میں شہناز مزمل نے بھر پور شاعری کی ہے اور وہ تخلیقی سطح پرشعر کہنے کے لطف اور کرب کو ساتھ ساتھ محسوس کرتی ہے یقینا وہ بڑی توانائی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے تو ہم اس سے اچھی توقعات رکھتے ہیں۔
سعد اللہ شاہ


کچھ اپنے بارے میں

جذبوں کی تیز آنچ سے قطرہ قطرہ پگھلتی رہی۔ جذب و حروف کے بعد جرأت اظہار اور پھر عکس دیوار پہ تصویر بنا کر بھی ادھورا خواب ابھی تک پورا نہیں ہو سکا۔ لیکن موم کے سائبان بنتے رہے ان سائبانوں کی تکمیل سے پہلے آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ ڈرتی ہوں کہ موم کے یہ سائبان میرے دل کی آنچ کے ساتھ ساتھ آپ سب کے دلوں کی آنچ سے پگھلنا شروع ہو گئے تو آنکھوں کے سامنے دھند چھا جائے گی اور پھر شاید ہم ایک دوسرے کو پہچان بھی نہ سکیں اور اپنے اپنے کرب کی شدت سے خود ہی موم ہو جائیں۔
بہت کچھ کہنا چاہتی ہوں مگر کہوں گی نہیں۔ کیونکہ پھر موم کے سائبان کچھ نہ کہ سکیں گے۔ ہاں! چند سوالوں کی وضاحت ضرور کروں گی جو اکثر مجھ سے کئے جاتے ہیں۔
اب تک میری آٹھ کتابیں شائع ہو چکی ہیں اس میں سے چار شعری مجموعے ہیں اور چار تحقیقی موضوعات ، پانچواں شعری مجموعہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
میرے باقاعدہ ادبی سفر کا آغاز 1989 ء میں والدصاحب کی وفات کے بعد ہوا۔ والد مرحوم حشر القادری خود شاعرتھے گویا شاعری ورثے میں ملی۔ حضرت علامہ اقبال سے متاثر تھی تو پہلی کتاب اسی طرز پر پیامِ نو کے نام سے شائع ہوئی۔ یہ ایڈیشن لائبریریوں تک محدود رہا۔
حوصلہ افزائی ہوئی تو جذبوں نے حروف پہنے اور جذب و حروف کا پیکر سامنے آیا تو پھر جرات اظہار کا قرینہ بھی آگیا اور یو ں جذب و حروف اور جرات اظہار ساتھ ساتھ منظرِ عام پر آئیں۔ اور اس کے بعد آنے والے مجموعے کے لیے’’میرا خواب ادھورا ہے‘‘ کا اعلان کیا گیا مگر خواب ادھورا رہا اور عکس دیوار پہ تصویر بن گئی۔ پہلا پہلا تجربہ اور شوق مہنگا پڑتا ہے سرمایہ کاری بھی خود کی کیونکہ کتابیں احباب میں تقسیم کرنے کو جی چاہتا تھااور پبلشر کی سرمایا کاری سے ایسا ممکن نہ تھا۔ مزے کی بات یہ کہ شعری سرمایہ بھی اپنا اور سرمایہ کاری بھی اپنی نام پبلشر کا۔ حسن اتفاق کہ تینوں پبلشر جنہوں نے میری کتابیں شائع کیں ان کی یہ پہلی اشاعت تھی جو ان کے لیے سنگ میل ثابت ہوئی اور یہ بات اطمینان قلب کا باعث تھی کہ کسی کو تو فائدہ پہنچا۔ تینوں کتابوں کی پانچ پانچ سو کاپیاں شائع ہوئیں اور جب کتابیں مارکیٹ میں بھیجنے کا وقت آیا تو علم ہوا کہ سٹاک میں صرف تیس یا چالیس کتابیں موجود ہیں اور باقی احباب میں تحفتاََ تقسیم کر دی گئیں۔بہرحال سود و زیاں اپنا تھا اس لئے پرواہ نہ کی۔ ارادہ کیا کہ چوتھی کتاب پر سرمایا کاری پبلشر کی ہو تاکہ کتابوں کو یوں بے دردی سے تقسیم نہ کیا جا سکے۔ ان ہی دنوں انور صاحب سے ملاقات ہوئی جو ذیشان بک پیلس کے نام سے اپنے ادارے کا آغاز کر رہے تھے اور چند کتابوں کی ابتدائی تیاریوں میں مصروف تھے۔ اور پھر وہی حسن اتفاق کہ ’’عکس دیوار پہ تصویر‘‘ ان کی ہی پبلشنگ کی ابتدا ثابت ہوئی۔ انور صاحب بہت دھیمے مزاج کے انسان ہیں۔ کم گو، معاملے کی بات بھی آسانی سے نہ کر سکنے والے اور یوں طریق کار پھر وہی رہا میں ان سے لے کر کتاب تحفتاََ تقسیم کرتی رہی۔ ان کی ذاتی تعلقات اتنے زیادہ نہ تھے جس کی وجہ سے کتاب صحیح طور پر مارکٹ نہ ہو سکی۔ لیکن خطوط دور دراز سے ملتے رہے جس سے اندازہ ہوا کہ کتاب سرحد اور بلوچستان تک پہنچی۔ اس کتاب کی خاظر خواہ پذیرائی ہوئی۔ مجلس معین ادب فیصل آباد نے 21 فروری 1991ء کو اس کی تقریبِ رونمائی کروائی۔ فروری 1992ء میں ڈاکٹر وحید قریشی کی صدارت میں ایک شام منائی گئی اور بہت سے مضامین بذریعہ ڈاک بھی مجھے ملے۔
پھر ’’میرا خواب ادھورا ہے‘‘ کو پورا کرنے کے لیے ’’رتجگوں کی مسافت بھی کاٹی ‘‘سفر خود آگہی‘‘ اور ’’جرم آگہی‘‘ کے کرب سے بھی گزری۔ ’’کسک ‘‘ اور ’’بے کلی‘‘ بڑھتی گئی۔ ’’برزخ احساس‘‘ میں چلتی رہی۔ لیکن ’’خواہش نادیدہ‘‘کے ساتھ ساتھ ’’لاحاصلی کی سرزمیں‘‘ پر چلتی ہوئی مختلف ’’زاویئے‘‘ بناتی رہی اور یوں ’’بے نام خواہش‘‘ کی الکھ نگری سے گزر کر موم کے سائبان تک پہنچ گئی۔دورانِ سفر طارق صاحب سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے ’’موم کے سائبان‘‘ آپ تک پہنچانے کی ذمہ داری قبول کی اور جب مسودہ میں نے ان کو دیا تو انکشاف ہوا کہ اردو شاعروں کی ان کی بھی یہ پہلی کتاب ہے اور یوں ایک دفعہ پھر اپنا قیمتی سرمایہ طارق صاحب کے سپرد کر رہی ہوں اس امید کے ساتھ کہ اس دفعہ انشا ء اللہ یہ کتاب سب تک ضرور پہنچے گی۔
موم کے سائبان تیار ہیں اور میں اب یہاں سے نکلنا چاہتی ہوں کیونکہ ان کو بناتے ہوئے اتنا پگھلی ہوں کہ اب ذرا سی تپش بھی ناقابل برداشت ہو جاتی ہے۔
آپ کی پُر خلوص پذیرائی سے ’’مشوروں سے‘‘ خطوط سے جو ہر مجموعے کی اشاعت کے بعد مجھے ملتے ہیں انشاء اللہ میں دوبارہ اس قابل ہو جائوں گی کہ ’’میرا خواب ادھورا ہے‘‘ پورا کر کے ایک بار پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہو سکوں۔
اپنے بارے میں خود تو بتا چکی اب دیکھتے ہیں کہ احباب کی میری شاعری کے بارے میں کیا رائے ہے۔

شہنازمزملؔ
3 جنوری1994ء
125 ایف ماڈل ٹائون لاہور



کوچہ ءِجاناں

کیوں کوچہ ئِ جاناں سے اشارا نہیں آتا
مجھ کو درِ طیبہ سے پکارا نہیں جاتا

ہوں گوش بر آواز ملے اذن حضوری
دکھ دوری ءِ بطحا کا سہارا نہیں جاتا



تھے عجیب میرے بھی فیصلے میں کڑی کماں سے گذر گئی
رہے فاصلے مرے منتظر میں تو جسم و جاں سے گذر گئی

جو بھی قرض تھا مری جان پر وہ یہیں پہ میں نے چکا دیا
رہی فکر مجھ کو نہ سود کی تو ہر اک زیاں سے گذر گئی

مجھے راستوں کی خبر نہ تھی اڑی خاک میرے وجود کی
میں تلاش کرتی ہوئی تجھے ترے لامکاں سے گذر گئی

تھیں طویل اتنی مسافتیں کوئی ساتھ میرا نہ دے سکا
وہ یقیں کی حد پہ ٹھہر گیا میں ہر ایک گماں سے گذر گئی

مرا شوق تھا مرا ہم سفر، تھی بلندیوں پہ مری نظر
نہ زمیں کی قید میں رہ سکی ہر اک آسماں سے گذر گئی
وہ سیاہ شب تھی فراق کی کئی دیپ آنکھوں میں جل بجھے
مجھے جگنوئوں نے نوید دی کہ تو امتحاں سے گذر گئی

تو حجاب میں، میں سراب میں، مری زندگی ہے عذاب میں
تجھے اپنا کہنے کی چاہ میں کڑے امتحاں سے گذر گئی

کہیں پھول تھے کہیں تتلیاں، کہیں زخم تھے کہیں بجلیاں
میں خمار میں تھی بہار کے میں ہر اک خزاں سے گذر گئی

نہ عیاں ہوا نہ نہاں ہوا، ہوا امتحاں مرے جذب کا
مجھے مل سکا نہ کوئی نشاں میں کہاں کہاں سے گذر گئی

رُخِ آسماں پہ جو داغ تھے سبھی ظلمتوں نے چھپا لیئے
میں چراغِ شام نہ بن سکی شب رازداں سے گذر گئی

جو خلش ملی وہ عزیز تھی مجھے چارہ گر نہ ملا تو کیا
میں بھی دشمنوں کی پناہ میں کوئے دوستاں سے گذر گئی

مری ہر صدا ہوئی نارسا تو قصور کس کا ہے تو بتا
مری آرزو مری ہر دعا تو لبِ فُغاں سے گذر گئی



اسیرِ ذات رہے اعتراف کیسے ہو
خود اپنے آپ سے کچھ انحراف کیسے ہو

محال ہے کہ گُماں سے یقین تک پہنچیں
سرِ دیارِ عدم اعتکاف کیسے ہو

فصیل ِ شہر کو خود اپنے ہاتھ سے توڑا
نقیب ِ وقت سے اب اختلاف کیسے ہو

شکستہ آئینہ خانوں میں عکس کس کے ہیں
یہ راز کیسے کھلے انکشاف کیسے ہو

تمام عمر گریزاں رہے زمانے سے
یہ جرم اپنی انا کا معاف کیسے ہو

نشاں دراڑ کا شہنازؔ مٹ نہیں سکتا
جو بال بال ہو شیشہ وہ صاف کیسے ہو



کربِ تنہائی بتا تجھ کو چھپائوں کیسے
لوٹ کر جانا بھی چاہوں تو میں جائوں کیسے

آگ بڑھتی ہی گئی کوئی بجھانے نہ اُٹھا
کسی دریا کو نشاں اپنا بتائوں کیسے

نوکِ مژگاں سے چُنوں بکھرے ہوئے رنگ سبھی
ریت ساحل پہ جو بکھری ہے اٹھائوں کیسے

پیرھن چاک ہوا گُل کا تو رو دی شبنم
سبز موسم کو بھلا ڈھونڈ کے لائوں کیسے

کون سی سمت لئے جاتا ہے طوفاں مجھ کو
ڈھونڈنے والے کہاں ہوں میں بتائوں کیسے

گیلی مٹی پہ نشاں قدموں کے چھوڑے شہنازؔ
بہتے پانی پہ نیا نقش بنائوں کیسے



کوئی خوشبو کوئی جھونکا سفر کا استعارہ ہو
مجھے بھی کوئے جاناں سے کوئی تو اب اشارہ ہو

فضائیں مرتعش سی ہیں سکوتِ شام ٹوٹا ہے
مرے روٹھے خدا نے پھر مجھے شاید پکارا ہو

نشاں اپنا مٹا دیتی ہیں کتنی تند خو موجیں
کہ جب بھی ڈوبنے والا سمندر کا کنارا ہو

روابط بھی علامت زندگی کی بنتے جاتے ہیں
ضرورت ہو مری یا واسطہ کوئی تمہارا ہو
اَنا اضداد کے گرداب میں گھرتی ہی جاتی ہے
خدایا اس سمندر کا کوئی آخر کنارا ہو

مُسافت کی تھکن اس لوٹنے والے سے مت پوچھو
جسے ساحل دکھا کر پھر سمندر میں اتارا ہو

مخالف سمت منزل ڈھونڈنا عادت رہی اپنی
ہوا کے دوش پر شہنازؔ کا کیسے گذارا ہو



زرد رُت کا فضا پہ پہرا ہے
موسمِ گُل کہاں پہ ٹھہرا ہے

میں ازل سے ہوں تشنہ لب لیکن
ساتھ اس کے بھی ایک صحرا ہے

رابطہ استوار کیسے ہو
خواہشوں پر اَنا کا پہرا ہے

مجھ سے رستوں نے منزلیں چھینیں
ہر نشاں سنگِ میل ٹھہرا ہے
منزلوں پر چراغ کیا جلتے
راستوں پر ہوا کا پہرا ہے

سبز رُت میں گلاب جھلسے ہیں
بیتے موسم کا زخم گہرا ہے

کیا ہوائوں سے ہو گلہ شہنازؔ
تیرے اندر الائو ٹھہرا ہے



سرمئی شام ہے سناٹا ہے تنہائی ہے
کیسی بے چینی مری روح میں در آئی ہے

ایک محشر ہے بپا سوچ کے ویرانے میں
شورشِ دل مرے ہونٹوں پہ اتر آئی ہے

دل کا سناٹا مری روح میں اترا جاناں
ضبطِ گریہ سے مری جان پہ بن آئی ہے

گھیرے رکھتا ہے مجھے کربِ مسلسل کا حصار
غمِ دوراں غمِ جاناں سے شناسائی ہے
خالی کشکول تھا پھر بھی نہ بڑھا دستِ سوال
تو نے جانا ترا سائل کوئی سودائی ہے

اُف یہ نیزنگئی دوراں یہ تمنا کے سراب
دشتِ حیرت میں بھٹکنے کی سزا پائی ہے

شیشہء دل تو چٹختا ہی رہا ہے شہنازؔ
بھرتے پیمانے چھلک جانے میں رسوائی ہے



بہت محال ہے خود سے تجھے جدا کرنا
بس ایک وعدہ کبھی آ کے مل لیا کرنا

حسین رت جگے کرنے کو خواب چُن چُن کر
حسین لمحوں کی تعبیر لکھ لیا کرنا

بدلتی رُت میں پریشاں کرے جو سناٹا
فضا میں کوئی پرندہ اُڑا دیا کرنا

گُماں یہ گذرے کہ سایہ بھی ساتھ چھوڑ گیا
ہوا کے ہاتھ پہ پیغام لکھ دیا کرنا

سیاہ شب میں ڈسے جب بھی کربِ تنہائی
چراغ یاد کے دل میں جلا لیا کرنا

جب آبشارِ تصور خموش ہو شہنازؔ
تو جھیل میں کوئی کنکر گرا دیا کرنا



غم مجھ سے کسی طور سمیٹا نہیں جاتا
پہرا ہے مری سوچ پہ بولا نہیں جاتا

اب دل کے دھڑکنے کی صدا بھی نہیں آئی
اور قریہ ئِ خواہش سے بھی نکلا نہیں جاتا

سجدے کے نشانوں سے جبیں زخم ہوئی ہے
اور تجھ سے مقدر مرا بدلا نہیں جاتا

سورج کے نکلنے کی خبر مجھ کو بھی کرنا
ظلمت کدۂ شب میں تو ٹھہرا نہیں جاتا
آنکھوں میں چھپے خواب بھی چھن جائیں نہ مجھ سے
اس خوف سے روزن کوئی کھولا نہیں جاتا

ہر روز نشیمن پہ مرے گرتی ہے بجلی
گھر مجھ سے نیا روز بنایا نہیں جاتا

ہم اپنی انائوں کا بھرم رکھتے ہیں شہنازؔ
ہر بات پہ طوفان اُٹھایا نہیں جاتا



مرا قرار مرا اضطراب لے جائے
اسے کہو مرے سارے عذاب لے جائے

تمازتوں سے سلگنے لگا ہے میرا وجود
دھواں دھواں ہوں مجھے وہ سحاب لے جائے

میں منتظر ہوں مرے کاسہءِ نظر کے سمیت
وہ زندگی کی ادھوری کتاب لے جائے

ذرا سی دیر مجھے بھی سکوں ملے شاید
وہ مجھ سے میرا پرانا حساب لے جائے

بھلا کے ترکِ تعلق وہ آئے اور شہنازؔ
محبتوں کا ہر اک انتساب لے جائے



یہی رُت ہے بچھڑنے کی نہ جانے کب بکھر جائیں
ہر اک گذری ہوئی ساعت کو تیرے نام کر جائیں

یہ تیرے ساتھ لفظوں نے بھی کیوں چپ سادھ لی جاناں
ادھر آ لفظ کی دہلیز سے مل کر گذر جائیں

فصیل ِ وحشتِ شب کی درازی زہرِ قاتل ہے
جنوں کی ان حدوں کو پھاند کر آخر کدھر جائیں

مُسافت کی تھکن ہے ضبطِ گریہ جان لیوا ہے
چھپائے آنکھ میں آنسو نہ ہم جاں سے گذر جائیں



اتنا احساسِ ندامت نہ دلایا جائے
فیصلہ جرم کا اک بار سنایا جائے

موسمِ جبر ہے لفظوں کی مسیحائی سے
ایک پتھر کو بھی آئینہ بنایا جائے

میرا ہر خواب ادھورا کوئی تعبیر نہیں
عکس کیسا سرِ دیوار سجایا جائے

بعد مدت کے چراغاں سا مرے دل میں ہوا
کوچہ ءِ شہرِ تمنا کو سجایا جائے
ناشناسی کے کئی زاویے بنتے دیکھے
ہم نوا کس کو زمانے میں بنایا جائے

ہے ابھی پیشِ نظر کوئی سہانا سپنا
آتش ِ دل کو ابھی اور بچایا جائے

نقشِ خاموش ہوں حیراں ہے زمانہ شہنازؔ
محوِ حیرت کو تماشا نہ بنایا جائے



آتش ِ شوق بجھ گئی شعلہ ئِ دل جلا ہے آج
میں نے ترے فراق کا چولا پہن لیا ہے آج

روزنِ شب سے جھانکتے سارے چراغ ماند ہیں
مجھ کو ہوا کے ظلم سے کوئی نہیں گلہ ہے آج

ظلمتِ شب سے کہہ ذرا اپنی ردا سمیٹ لے
دل کا دیا تو شام سے میں نے بجھا دیا ہے آج

بکھرے ہوئے ہیں چار سو تیری ہی یاد کے گلاب
کوئی نہیں سمیٹتا کیسا یہ سلسلہ ہے آج

سہمی ہوئی ہے چاندنی کیسے کہوں میں دل کی بات
روٹھی ہوئی بہار ہے روٹھا ہوا خدا ہے آج



کوئی منظر کوئی تصویر نہیں بنتی ہے
مجھ سے خود اپنی ہی تقدیر نہیں بنتی ہے

دشتِ حیراں میں بہت دور نکل آئی ہوں
اب پلٹ جانے کی تدبیر نہیں بنتی ہے

جاگتی آنکھوں میں اک شہرِ تمنا آباد
اور کسی خواب کی تعبیر نہیں بنتی ہے

کون سے موڑ پہ تنہا مجھے کر ڈالا تھا
مجھ سے اب فکر کی زنجیر نہیں بنتی ہے

دل دریدہ کی ہے ہر سوچ ادھوری شہنازؔ
لفظ خاموش ہیں تحریر نہیں بنتی ہے



گردشِ دو جہاں میں رہتی ہوں
ہر گھڑی امتحاں میں رہتی ہوں

ساتھ ہے اک جہاں تخیل کا
لفظ بن کر زباں میں رہتی ہوں

کیسے طوفاں نے گھیر رکھا ہے
خوف کے کس مکاں میں رہتی ہوں

آخری حد کہیں یقیں کی نہیں
اس لئے میں گماں میں رہتی ہوں

خود کو پانا نہیں ہے ناممکن
منزلوں کے نشاں میں رہتی ہوں

اب بھنور کا نہیں ہے ڈر شہنازؔ
دائروں کے جہاں میں رہتی ہوں



آئینہ اب مجھے دکھا بھی دے
خود کو مجھ سے ذرا ملا بھی دے

اضطرابِ جنوں فزوں تر ہے
ذوقِ پرواز کچھ بڑھا بھی دے

سطحِ دریا پہ بن رہے ہیں بھنور
کوئی طوفان اب اٹھا بھی دے

گھر کے آنگن میں اُترے کوئی کرن
سرِ مژگاں دیے جلا بھی دے

جستجو کے ہیں دائرے اور میں
جگنوئوں کو مرا پتا بھی دے

نیم خوابیدہ خواہشیں ہیں ابھی
آفتاب آ مجھے جگا بھی دے



اوج پر کچھ مرا مقدر ہے
شاخِ الفت بھی کچھ ثمرور ہے

دل میں آباد ہے صنم خانہ
سرپرست اپنا کوئی آذر ہے

گر نہ صیقل کرے اسے کوئی
آئینہ بھی تو ایک پتھر ہے

کب تلاشے ہیں میں نے سنگِ میل
چلتے رہنا مرا مقدر ہے

میرے دل سے دعا نکلتی ہے
جانتی ہوں کہ وہ ستمگر ہے



مری طرح سے کہیں خاک چھانتا ہو گا
وہ اپنی ذات کے صحرا میں کھو گیا ہو گا

شرار راکھ میں باقی رہا نہیں کوئی
چراغ دل کا مرے جل کے بجھ گیا ہو گا

پلٹ کے در پہ مرے بار بار آتا ہے
ہجومِ شوق نے محشر بپا کیا ہو گا

پھر آج قریہ ئِ جاں پر عذاب اترے ہیں
کسی نے پھر نیا ترکش سجا لیا ہو گا
چھلکتے جاتے ہیں منظر تمام آنکھوں سے
دریچہ یاد کا شاید کوئی کھلا ہو گا

سماعتوں پہ مری آج کیسی دستک ہے
کوئی ہوا سے پتا میرا پوچھتا ہو گا

وہ شخص میرا شناسا نہیں تو کون ہے وہ
کسی کو ڈھونڈتے رستہ بھٹک گیا ہو گا

نفس نفس میں کوئی آشکار ہوتا ہے
جو میرے دل کے قریں ہے مرا خدا ہو گا

تری تلاش میں وہ منتشر ہوا ایسا
سراغ اپنا بھی اس کو نہ مل سکا ہو گا

بدلتی رُت میں وہ کیسا بدل گیا شہنازؔ
بچھڑ کے مجھ سے کبھی وہ بھی سوچتا ہو گا



سازِ ناآسودہ پر بجتا ہوا مضراب ہوں
وقت سے پہلے جو ٹوٹا وہ ادھورا خواب ہوں

جسم میں محبوس ہو کر رہ گئی ہے میری روح
قریہ ئِ جاں سے نکلنے کو بہت بے تاب ہوں

ناخدا ہے کیوں گریزاں ساتھ چلنے سے مرے
کیا کوئی منزل ہوں میں طوفاں ہوں یا گرداب ہوں

شہرِ دل کو ڈوبنے سے کیا بچائے گا کوئی
وقتِ رخصت چشمِ پُر نم میں رکا سیلاب ہوں



یہ چشمِ تر مری پتھرا گئی تو کیا ہو گا
یقیں کی آخری حد آ گئی تو کیا ہو گا

تلاشِ جذب میں دنیا تیاگ سکتی ہوں
سکوتِ دشت سے گھبرا گئی تو کیا ہو گا

گریز پا ہوں کوئی نقشِ پا ملے نہ ملے
اَنا جو ذات سے ٹکرا گئی تو کیا ہو گا

جنوں کی آخری منزل میں بے خودی میری
لباس روح کو پہنا گئی تو کیا ہو گا

فصیل ِ جسم سے باہر نکل ذرا شہنازؔ
یہ ڈور سانس کی اُلجھا گئی تو کیا ہو گا



کوئی بھی باندھ کر بندھن کبھی ہم نے نہیں توڑا
نکل کر دشت و صحرا میں مہاروں کو نہیں موڑا

بہت ٹکرائے ہیں اپنی انا کے پتھروں سے ہم
مگر گرتی ہوئی دیوار سے ماتھا نہیں پھوڑا

اچانک خوف سا آنے لگا ہے جب کبھی خود سے
بدل ڈالا ہے چہرہ ہم نے آئینہ نہیں توڑا

شکستہ کشتیوں پر آگے بڑھنا اپنی فطرت ہے
کبھی موجوں کا طوفانوں کا ہم نے دل نہیں توڑا

بلا کی آندھیوں کا سامنا اکثر رہا لیکن
سئیے ہیں بادباں ہم نے ہوا سے رُخ نہیں موڑا



شہرِ دل اپنا لٹا کر تہہِ مژگاں ہونا
تارا بن کر کبھی پلکوں پہ نمایاں ہونا

شبنمی آنکھیں ترے بڑھتے قدم روک نہ لیں
دَمِ رخصت ترا ملنے سے گریزاں ہونا

یاد آ جاتا ہے مجھ کو وہ بدلتی رُت میں
اے مری چشمِ تماشا ترا حیراں ہونا

اپنے چہرے پہ کوئی چہرا سجائے رکھنا
جذبہ ئِ شوق میں اچھا نہیں ارزاں ہونا

ان ہوائوں نے بجھا ڈالے سبھی جلتے چراغ
آج دشوار ہے شہنازؔ غزل خواں ہونا



راہ کجلائی ہے کچھ تلخیءِ ایام کے بعد
کیسے گزرے گا سفر آتش ِ ہنگام کے بعد

میرے ہر لفظ میں تحریر میں تو ہی تو ہے
توڑ ڈالوں نہ قلم آج ترے نام کے بعد

کس قدر کرب سمیٹے ہیں بدلتی رُت نے
کون سمجھے گا یہ دکھ اتنی حسیں شام کے بعد

ہم تو سورج کے مقابل تھے تہہ آب نہ تھے
آپ ٹھہریں نئے طوفان کے الزام کے بعد

تتلیاں ہوں کہ ترنم ہو کہ خوشبو شہنازؔ
چھوڑ جاتے ہیں نشاں لمحہ ئِ فرحام کے بعد



ہزیمتوں کو مری جاں شمار مت کرنا
دلِ شکستہ کو یوں داغدار مت کرنا

کُھلے دریچوں پہ دستک ہوا نہیں دیتی
سماعتوں پہ کبھی اعتبار مت کرنا

چھپا کہ رکھنا دھنک رنگ اپنی آنکھوں میں
خزاں کے رنگ سپردِ بہار مت کرنا

دھواں دھواں ہے فضا راستہ نہیں ملتا
سکوتِ شام مرا انتظار مت کرنا

بس اپنی ذات کا رکھنا بھرم بہر صورت
کسی کو یاد دلِ بے قرار مت کرنا



ہر اک دعا کو مری آج معتبر کر دے
تو رہگذر پہ مری سایہ ئِ شجر کر دے

مسافتوں کی کڑی دھوپ نے جھلس ڈالا
سحاب بھیج رُخِ سائباں ادھر کر دے

میں تھک گئی ہوں قدم میرے اب نہیں اٹھتے
مری طویل مسافت کو مختصر کر دے

زبان کٹتی ہے ہر بات پر خدائے بصیر
سخن شناس ہوائوں کو ہم سفر کر دے

وہ شب گزیدہ مسافر بھٹک نہ جائے کہیں
سحر قریب ہے کوئی اسے خبر کر دے



کیوں آج ترا شوق سفر کم نہیں ہوتا
ہر موسمِ گُل عشق کا موسم نہیں ہوتا

اس ذہن دریچے میں فروزاں ہیں کئی نقش
پر عکس کسی یاد کا مدھم نہیں ہوتا

سناٹا مری روح میں در آتا ہے جس شب
کیوں چاند مرے زخم کا مرھم نہیں ہوتا

تعبیر کے ارمان میں بنتی ہوں نئے خواب
اب خواب بکھرنے پہ کوئی غم نہیں ہوتا

شیرازئہ الفاظ بکھرنے کو ہے شہنازؔ
طوفاں مگر افکار کا مدھم نہیں ہوتا



اڑانا تتلیاں خواہش کی میرے بس میں نہیں
حسیں خیال کا پنچھی بھی اب قفس میں نہیں

میں اپنی ذات کی اندھے خلائوں میں گم ہوں
مرا وجود ابھی میری دسترس میں نہیں

کھڑی ہیں میرے لئے سازشوں کی دیواریں
کوئی بھی زلزلہ کیا آج تیرے بس میں نہیں

تراشوں کیسے میں پیکر بکھر گیا ایزل
کوئی بھی چہرہ تخیل کے کینوس میں نہیں

بگڑ گیا جو توازن تو لٹ گئی بستی
کہ اس کو چھوڑنے کے جانا بھی اپنے بس میں نہیں

محبتوں کے سمندر کی پیاس کیا بجھتی
نصیب قُربتِ جاناں تو اس برس میں نہیں



بڑھا ہے حوصلہ اپنا تو مات کھا کر بھی
وہ کیا کرے گا مجھے پھر سے آزما کر بھی

نہ رکھ سکی میں چراغاں کو ذات تک محدود
منایا جشن ہوا میں دیئے جلا کر بھی

مجھے تو یوں بھی کسی اور سمت جانا ہے
کروں گی کیا میں ترے ساتھ ساتھ آ کر بھی

دکھائی دیتا تھا عکس اپنا جس کی آنکھوں میں
بھلا نہ پائوں گی اس کو کبھی بھلا کر بھی



متاعِ زیست لٹا کر کوئی ملال نہ تھا
بجز تمہارے کسی کا مجھے خیال نہ تھا

کبھی نہ حوصلہ پایا کہ دل کی بات کہوں
زمانہ سنتا تھا جو بھی وہ حسبِ حال نہ تھا

گلہ کروں بھی تو کس سے کروں گی میں جا کر
جو شخص مجھ کو ملا میرا ہم خیال نہ تھا

بغیر مانگے بہت کچھ ملا تھا مجھ کو مگر
جواب اس کا ملا جو مرا سوال نہ تھا

عذاب جاں پہ مری ہر گھڑی مسلط تھے
میرے نصیب میں خوشیوں کا کوئی سال نہ تھا

سفر کی آخری حد پہ پہنچ گئی شہنازؔ
کہ اب تو گردشِ دوراں کے پاس جال نہ تھا



مشکل میں ہوں ایوان تخیل کے سجا کر
اب مجھ کو مری سوچ کے زنداں سے رہا کر

میرے لئے لکھے ہیں اگر رت جگے تو نے
کچھ خواب مری جاگتی آنکھوں کو عطا کر

ہے تجھ کو اگر شوق مرے ساتھ سفر کا
تو بن کے مرا سایہ مرے ساتھ رہا کر

امید کا ہر دیپ ہے طوفان کی زد میں
کیا پائوں گی میں سوئی تمنائیں جگا کر
میں خوف سے آگے کا سفر کیسے کروں گی
مت چھوڑ اکیلا مجھے یوں خواب دکھا کر

ملتا ہی نہیں مرگِ مسلسل کا کنارا
کہہ دشمن ِ جاں سے مرے مرنے کی دعا کر

آواز کو پہچان کر میں آگے بڑھوں گی
تو اپنی صدا کو کبھی بردوشِ ہوا کر

ہر نقش کے پیچھے ہے مرا نقش کفِ پا
کیا تجھ کو ملے گا یوں مرا نام مٹا کر

میرے خواب ادھورے ہیں



ہجر کی چادر اوڑھ کے سر پر چلتی ہوں
اپنی آگ میں تنہا خود ہی جلتی ہوں

آوازوں کے بوجھ کی گٹھڑی لاد کے میں
چُپ کے زینے خاموشی سے چڑھتی ہوں



شہناز مزمّل اب معروف شاعرہ ہے۔ اس کے شعری مجموعوں کی بارِدگر اشاعت اس کی پزیرائی پر دلیل ہے۔ اس کے ہاں تخلیق کا تاروپود پاکیزگی، حبّ الوطنی اور محبت سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے ہاں موضوعات سنجیدگی اور تازگی سے سرشار ہیں۔ وہ عصری شعور کو روحانیت کے آئینے میں دیکھتی ہے اور ہر قسم کی مصلحت سے بے نیاز اپنا مافی الضمیر بیان کر دیتی ہے۔
سعد اللہ شاہ
اگست 1997ء


ادھورے خواب

خواب اگر ادھورے رہ جائیں تو ان کی کڑیاں باوجود کوشش کے جڑ نہیں پاتیں۔ میں بھی 1989 ء سے اپنے ادھورے خواب سمیٹنے اور ان کی کڑیاں جوڑنے کے عمل میں مصروف ہوں یہ جستجو کبھی ـ’’پیامِ نو‘‘ کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور کبھی جذبے حر وف پہن کر ’’جذب و حروف‘‘ میں ڈھل جاتے ہیں اور یوں ’’جرات اظہار‘‘کا قرینہ بھی آ جاتا ہے۔ جستجو کا یہ عمل جاری رہتا ہے ادھورے خواب دھندلے دھندلے عکس ذہن پہ بناتے رہتے ہیں اور’’ عکس ِ دیوار پہ تصویر بن جاتی ہے۔‘‘ کڑیاں پھر بھی جڑ نہیں پاتیں نہ تو ادھورے خواب پایہ تکمیل کو پہنچتے ہیں اور نہ ہی نئی تعبیر کو عنوان ملتا ہے۔ جستجو کا یہ سفر آبلہ پا کو وادی پُرخار کی سیر تو کرواتا ہے لیکن تاریکیاں بڑھتی جاتی ہیں سائے پھیلتے جاتے ہیں۔ درد صلیبوں پر لٹکے لٹکے اپنا لہجہ بے آب محسوس ہونے لگتا ہے۔ آئینے بدلنے سے چہرے تو نہیں بدل سکتے۔ اضطراب نارسا چین سے بیٹھنے نہیں دیتا۔ کسی دیوار کا سایہ کوئی بارانِ رحمت کی ردا سر پر نہیں اور تمام سائبان موم کے سائبان ہیں پناہ کہاں ملے اگر پناہ مل بھی جائے تو سپنوں کی وادی کا مسافر موم کے سائبان تلے اتنی دیر کیسے ٹھہرے۔
1994ء سے 1995ء تک ایک سال موم کے سائبان تلے گزار کر ’’ادھورے خواب‘‘سمیٹ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوں اس سوچ کے ساتھ کہ غم ادراک اور کرب آگہی کے حصار میں ٹوٹنے والے خواب ادھورے ہی رہتے ہیں پورے نہیں ہوتے اس کی دوسری وجہ اپنا یہ احساس بھی ہو سکتا ہے۔
کیوں میں شانوں پہ کسی اور کا سر لے کو چلوں
اپنے لہجے میں کسی اور کی آواز سنوں
میرے پہلو میں دھڑکتا ہوا دل میرا ہے
بال و پر مانگ کے میں کس لیے پرواز کروں
اور پھر یقین و گمان، گیان و دھیان میں اُلجھ کر گزرنے والے لمحات سے کیفیات کا رنگ بدلتا جاتا ہے تو یہ کہنے پر مجبور ہو جاتی ہوں۔
خود آگہی
اپنی نظر
اپنی تلاش
اب
خود آگہی کا مجھ کو نیا تجربہ ہوا
اپنی نظر سے آپ مرا سامنا ہوا
اپنی تلاش خود سے بہت دور لے گئی
اب سوچتی ہوں سامنے آنا برا ہوا
ادھورے خواب لے کر اپنی تلاش کرنا بڑا معنی خیز اور دشوار عمل ہے۔
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
تلاش اور سفر ابھی باقی ہے۔
شہناز مزمّل
یکم اکتوبر1995ء
125ایف ماڈل ٹائون لاہور



ہماری سوچ پر پہرے بٹھائو تم تو ہم جانیں
بندھے ہاتھوں سے زندہ لفظ ہم تحریر کرتے ہیں


نعتِ رسول مقبول ﷺ

میں انتظار کروں یونہی عمر بھر آقاؐؐ
سیاہ شب کے مقدر میں لکھ سحر آقاؐؐ

مجھے زمین و زماں تک ہی کر دیا محدود
عطا ہوں مجھ کو مرے کھوئے بال و پر آقاؐؐ

ثنا ہو کیسے بیاں لفظ کھو گئے سارے
ہے اعتراف مجھے میں ہوں بے ہنر آقاؐؐ

تیرے حضور سے ملتا نہیں اشارا کوئی
سمے فراق کا ہو جائے مختصر آقاؐؐ
جھلس گئی ہوں تمازت سے آگ موسم کی
سحاب بھیج دے رحمت کا میرے گھر آقاؐؐ

دراز کیسے کروں کاسئہ سوال حضور
جھکا ہوا ہے ندامت سے میرا سر آقاؐ

میں کیسے ہاتھ اٹھائوں میں کیا سوال کروں
ہر اک دعا کو مری کر دے معتبر آقاؐ



دشمنوں سے دوستی کا تجربہ کیسا رہا
بدگمانی میں گماں کا ذائقہ کیسا رہا

زلزلے تو ذات کی دہلیز پر آتے رہے
ناقہء خواہش ہوا سے رابطہ کیسا رہا

شدتِ غم کچھ ذرا کم ہو تو بتلانا مجھے
جبر موسم میں انا کا تجزیہ کیسا رہا

فصلِ گل میں خوشبوئوں کی قید میں جکڑے رہے
پتھروں سے زخم تک کا فاصلہ کیسا رہا
وقت کے ساحل پہ طوفاں میں گھرے سوچا کئے
بادباں سے کشتیوں کا فاصلہ کیسا رہا

آرزئوں کے تعاقب میں ہوئے اندھے مگر
ترکِ جاں ترک وفا کا حوصلہ کیسا رہا

آبلہ پا ہم سفر گرد سفر میں کھو گئے
کیا بتائوں ہجرتوں کا سلسلہ کیسا رہا

یہ مری وحشت مری دیوانگی بتلائے گی
کاتب تقدیر تیرا فیصلہ کیسا رہا



خالی نظروں سے مجھے دیکھا کہا کچھ بھی نہیں
کیا ہوا ایسا کہ کہنے کو رہا کچھ بھی نہیں

عکس مجھ کو کیا دکھائے گا یہ ٹوٹا آئینہ
کرچیاں بکھری ہیں ہر سو اور بچا کچھ بھی نہیں

شبنمی آنکھیں مری تعبیر سے ڈرتی رہیں
جل بجھے تھے خواب سارے اور بچا کچھ بھی نہیں

آنسوئوں کا رتجگا ہے شام کی دہلیز پر
تلخ یادوں کے سوا اب تو رہا کچھ بھی نہیں
دائروں کے درمیاں گردش میں اک مدت سے ہوں
زندگی میری تلاطم کے سوا کچھ بھی نہیں

اپنی اپنی ذات کی دہلیز پہ سب رُک گئے
مل کے لکھا فیصلہ لیکن ہوا کچھ بھی نہیں

سب غبار آلودہ چہرے اجنبی لوگوں کے تھے
منزلوں کی جستجو کی اور ملا کچھ بھی نہیں

جس نے جو کچھ بھی کہا چپ چاپ میں نے سن لیا
اک انا تھی درمیاں میں نے کہا کچھ بھی نہیں

زخم یہ شہنازؔ کیسے مندمل ہو پائیں گے
ہیں مسیحا تو بہت لیکن دوا کچھ بھی نہیں



سائے پھیل جاتے ہیں درد رُت کے ڈھلنے سے
چہرہ کب بدلتا ہے آئینے بدلنے سے

جنگلوں کے سناٹے روح میں اترتے ہیں
خواہشوں کے موسم میں پافگار چلنے سے

خواب پھر سے جاگے ہیں نیم خواب آنکھوں میں
گھنٹیاں سی بجتی ہیں آرزو بدلنے سے

گرد گرد چہرہ ہے وحشتوں کے ڈیرے ہیں
تھک گئی ہوں کتنا میں دائروں میں چلنے سے
آئو ایسا کرتے ہیں رہبر بدلتے ہیں
دیکھیں کون ملتا ہے منزلیں بدلنے سے

ظلمتوں کے چہرے سے آئینے ہٹا ڈالو
روشنی تو ہو گی کچھ جگنوئوں کے جلنے سے

رقص ہے شراروں کا آج رہگزاروں پر
بستیاں نہ جل جائیں راستوں کے جلنے سے

ذہن کے سلگنے سے جسم راکھ ہوتا ہے
زخم جلنے لگتے ہیں چاند کے نکلنے سے



چند آنسو مری پلکوں پہ سجے ہوں جیسے
سلسلے یاد کے بندھن سے بندھے ہوں جیسے

منتظر آنکھیں کھلے در پہ لگی ہیں ایسے
ٹمٹماتے ہوئے دو دیپ جلے ہوں جیسے

ایک مانوس سی خوشبو ہے فضا میں رقصاں
ہجر موسم میں کہیں پھول کھلے ہوں جیسے

ان کو دیکھا جو اچانک تو یہ احساس ہوا
اس سے پہلے بھی کبھی ان سے ملے ہوں جیسے
راکھ لے آئے ہیں کچھ اُڑتی ہوا کے جھونکے
زخم احساس کے جنگل میں جلے ہوں جیسے

ہے سماعت پہ مری ہلکی سی آہٹ اب بھی
دو قدم ہم بھی کبھی مل کے چلے ہوں جیسے

خواب دیکھے نہیں شہنازؔ بڑی مدت سے
آنکھ جھپکائے برس بیت گئے ہوں جیسے



نظر میں غیر کی وہ معتبر ہونے نہیں دیتا
صدف کو توڑ کر مجھ کو گہر ہونے نہیں دیتا

وہ اپنی اور میری زندگی کے درمیاں اکثر
اٹھا رکھتا ہے اک دیوار در ہونے نہیں دیتا

وہ خود سر ہے مگر اک ڈھال بن کر ساتھ رہتا ہے
حوادث کا کبھی مجھ پر اثر ہونے نہیں دیتا

میں چھائوں اپنی ممتا کی یہاں پر بانٹنا چاہوں
مجھے وہ اپنے سائے میں شجر ہونے نہیں دیتا
زمانہ ساز نظروں سے وہ سب کچھ بھانپ لیتا ہے
مگر اپنے ارادوں کی خبر ہونے نہیں دیتا

بدلتی رت کی خوشبو اس کو دیوانہ بناتی ہے
بدلتے موسموں کو ہم سفر ہونے نہیں دیتا

وہ میری سوچ کا تانا سدا اُلجھائے رکھتا ہے
ہجومِ فکر میں بھی بے ہنر ہونے نہیں دیتا

مرے رنگین سپنے آ کے اکثر توڑ جاتا ہے
ہے اسکا مجھ پہ احساں بے بصر ہونے نہیں دیتا

در آتا ہے مرے احساس میں خوشبو کی صورت وہ
تصور میں بھی خود سے بے خبر ہونے نہیں دیتا

وہ سارے تیر ترکش کے مجھی پر آزماتا ہے
کبھی شہنازؔ مجھ کو بے سپر ہونے نہیں دیتا



خطا اپنی چھپانے کو نئی تدبیر کرتے ہیں
وہ مجرم ہو کے یوں بھی جرم کی تشہیر کرتے ہیں

یہاں پر غاصبوں اور خود پرستوں نے کیا قبضہ
مٹا کر یہ جہاں دنیا نئی تعمیر کرتے ہیں

عجب انداز سے اپنا تخیل کُنجِ زنداں میں
کبھی تجسیم کرتے ہیں کبھی تصویر کرتے ہیں

ہماری سوچ پر پہرے بٹھائو تم تو ہم جانیں
بندھے ہاتھوں سے زندہ لفظ ہم تحریر کرتے ہیں

خود اپنا سر ہتھیلی پر سجا کر سُوئے مقتل ہم
کسی صورت ہم اپنی فکر کو زنجیر کرتے ہیں



ہجر کی چادر اوڑھ کے سر پر چلتی ہوں
اپنی آگ میں تنہا خود ہی جلتی ہوں

آوازوں کے بوجھ کی گٹھڑی لاد کے میں
چپ کے زینے خاموشی سے چڑھتی ہوں

خود کو یکجا کر لینے کی کاوش میں
ریزہ ریزہ ہو کر روز بکھرتی ہوں



اونچی پروازوں کا حق مجھ کو ادا کرنا پڑا
بال و پر کٹوانے کا خود فیصلہ کرنا پڑا

ریت کی مانند بکھرا تھا فضائوں میں وجود
وسعتوں میں وحشتوں کا سامنا کرنا پڑا

حضرتِ انسان جب انسانیت سے گر گئے
فرضِ انساں بھی فرشتوں کو ادا کرنا پڑا

روشنی پھیلی ہے ہر سو میرے دل کی آگ سے
ظُلمتِ شب کو بھی مجھ سے رابطہ کرنا پڑا

روگ دل کا بن گیا جب روگ میری جان کا
دشتِ وحشت سے سفر کا فیصلہ کرنا پڑا

یاد اس کی بوجھ جب بننے لگی شہنازؔ پر
بھول جانے کا اسے پھر حوصلہ کرنا پڑا



ہم خاک بسر ریت کے صحرا میں کھڑے ہیں
پیاسے ہیں مگر اپنے اصولوں پہ اڑے ہیں

لے جائے کہیں بھی ہمیں سیلابِ محبت
ہم کب کسی طوفان کے ریلوں سے ڈرے ہیں

ہم نے بھی کفن باندھ لیے اپنے سروں سے
سب تیر ابھی اپنی کمانوں میں پڑے ہیں

ڈٹ جائیں تو فولاد کی دیوار ہیں ہم بھی
ہم ٹوٹ نہ پائیں گے کوئی کچے گھڑے ہیں
پھر آلِ علیؑ آج ہے شمشیر کی زد میں
پھر ہاتھ میں نیزے لیے جلاد کھڑے ہیں

دریا بھی اگر چاہے تو رُخ اپنا بدل لے
ہم کب یہاں موجوں کے سہارے پر پڑے ہیں

اس شامِ غریباں میں نہیں ساتھ کوئی بھی
بکھرے ہوئے لاشے تو بہر سمت پڑے ہیں

سودا نہیں کرتے جو کبھی اپنی انا کا
ہے سچ کہ زمانے میں وہی لوگ بڑے ہیں



جنوں کے دور میں خود سے بھی رابطہ کب تھا
کبھی زمانے سے کچھ بھی کہا سنا کب تھا

میں گرد راہ کو منزل کا راستہ سمجھی
مری نگاہ کا دھوکا تھا قافلہ کب تھا

مزاج زیست نہ بدلا کسی بھی موسم نے
نئی فضا میں نئی رُت کا ذائقہ کب تھا

ہجوم فکر کی تجسیم کس طرح ہوتی
نظر کے سامنے منظر کوئی بنا کب تھا

میں کس سے آبلہ پائی کی داستاں کہتی
سفر کے بعد ہوا تم سے رابطہ کب تھا

ہوا کو سونپ دیا ریزہ ریزہ ہوتا وجود
بکھر کے جینے کا شہنازؔ حوصلہ کب تھا



کوئی بھی حرفِ دعا اب اثر نہیں رکھتا
مرا خدا بھی تو مجھ پر نظر نہیں رکھتا

ہوا کو کس لیے بے چہرگی کا صدمہ ہے
یہاں تو کوئی بھی شانوں پہ سر نہیں رکھتا

وہ دشتِ خواب ہو ویرانہ ہو کہ صحرا ہو
جنوں کی راہ میں حدِ سفر نہیں رکھتا

بتائوں کیسے جو میرے گماں کا ممکن ہے
ہوا کے دوش پہ رہتا ہے گھر نہیں رکھتا

نہ جانے کیا ہوا اس کو کہ ایک مدت سے
دیا جلا کے سر ِرہ گذر نہیں رکھتا

بھنور کا اور بگولوں کا رقص جاری ہے
وہ دائروں کے مقدر میں ڈر نہیں رکھتا



زندگی سے کیا ڈرنا آگہی سے ڈرتی ہوں
تیرگی کے موسم میں روشنی سے ڈرتی ہوں

ان سے اک تعلق ہے حرفِ غم گساری تک
کب یہ ٹوٹ جائے گا اس گھڑی سے ڈرتی ہوں

میں سمیٹ سکتی ہوں فاصلے سرابوں کے
تند خو سمندر کی برہمی سے ڈرتی ہوں

جبر کی مشقت تو سہہ رہی ہوں صدیوں سے
درد ہو نہاں جس میں اس خوشی سے ڈرتی ہوں

پتھروں کی بستی میں آئینے اٹھا لائی
کانچ کانچ جذبوں کی نازکی سے ڈرتی ہوں

زرد رُت کے سناٹے میری جاں کے دشمن ہیں
سردیوں کے موسم میں چاندنی سے ڈرتی ہوں



میں تو ہوں ایک سیپ کا موتی بیچ سمندر رہنا تھا
آبِ رواں سے تاب بڑھی تھی طوفانوں کو سہنا تھا

دیکھ رہی ہوں خون کا دریا ڈھونڈ رہی ہوں قاتل کو
میں نے خود کو قتل کیا ہے یہ مقتول کا کہنا تھا

آنکھوں میں چبھتی رہتی ہیں کرچیں ٹوٹے خوابوں کی
کرب نہ سہ پائیں جب آنکھیں اشکوں کو تو بہنا تھا

میری فصیل ِ جاں تو کب سے زخموں سے مسمار ہوئی
ڈھلتی عمر کا ڈھلتا سورج ڈھلتی عمر کا گہنا تھا

آئو میرے پاس بھی بیٹھو دکھ سکھ اپنا بانٹیں ہم
کچھ باتیں مجھ کو کرنی ہیں کچھ تم کو بھی کہنا تھا



روز و شب کے سلسلے یوں جوڑتے رہتے ہیں ہم
قریہ ئِ صَد آرزو میں گھومتے رہتے ہیں ہم

دوست سارے دشمنوں کی صف میں شامل ہو گئے
آج بھی ان کا پتا کیوں پوچھتے رہتے ہیں ہم

جنبش ِ لب کام ان کی کر گئی، اچھا ہوا
اَن کہی کچھ داستانیں ڈھونڈتے رہتے ہیں ہم

اوڑھ لی جب اپنے اوپر خود ہی چادر دھوپ کی
سایہ ئِ دیوار پھر کیوں ڈھونڈتے رہتے ہیں ہم

خود ہی دانستہ نہیں رکھتے کسی سے رابطہ
پھر بھی کیوں اندر ہی اندر بھی ٹوٹتے رہتے ہیں ہم



ہم تند ہوائوں کے ارادے نہیں سمجھے
بدلے ہوئے موسم کے تقاضے نہیں سمجھے

کیوں سر کو پٹختی رہیں موجیں لبِ دریا
سلگے ہوئے ساحل کے کنارے نہیں سمجھے

خیرہ نہیں کرتے یہ جلاتے ہیں نشیمن
بدلی میں چھپے شوخ شرارے نہیں سمجھے

ہے کتنا کٹھن درد کے صحرا سے گزرنا
یہ بات مقدر کے ستارے نہیں سمجھے

اے خاکِ بدن شعلہءِ جاں بجھنے لگا ہے
کیوں دیدہ ئِ حیراں کے اشارے نہیں سمجھے



اب شہرِ آرزو کے منظر بدل گئے ہیں
رستے بدل گئے ہیں رہبر بدل گئے ہیں

یاس و ہراس کیسا ہر شے پہ چھا گیا ہے
دیرینہ چاہتوں کے محور بدل گئے ہیں

باطل کی گہری چادر صدق و صفا پہ چھائی
بیتی روایتوں کے پیکر بدل گئے ہیں

یہ شہر تو ہے میرا آنکھیں ہیں اجنبی سی
چہرے بدل گئے ہیں یا گھر بدل گئے ہیں
مسموم ہیں فضائیں معصومیت کہاں ہے
کھلتے گلاب چہرے یکسر بدل گئے ہیں

مظلوم تو وہی ہیں فرق اس قدر پڑا ہے
قاتل بدل گئے ہیں خنجر بدل گئے ہیں

ہم لاالہ کی خاطر ایک سائباں تلے ہیں
دستار ہے وہی پر سر بدل گئے ہیں

اس بار فصلِ گل بھی شہنازؔ یونہی گزری
ان موسموں کے کیسے تیور بدل گئے ہیں



ٹوٹی دہلیز پہ اک چاند سجا لوں تو چلوں
پتھروں میں بھی کوئی جوت جگا لوں تو چلوں

بولتے تم نے سنا ہے کبھی سناٹے کو
دے کے آواز تمہیں دل کی سنا لوں تو چلوں

کیسی بیگانگی ہے خود کو نہ پہچان سکوں
اپنے ہمراز سے یہ راز چھپا لوں تو چلوں

آس کی ڈور جو اُلجھی تو میں سلجھا نہ سکی
زخم امید کے سارے ہی جلا لوں تو چلوں
شورشِ دل کوئی ہنگامہ نہ برپا کر دے
ایک محشر ہے بپا اس کو چھپا لوں تو چلوں

دشتِ وحشت میں بھٹکنا ہی مقدر ٹھہرا
تیشہ ئِ کرب سے جاں اپنی بچا لوں تو چلوں

ہے مرا خواب ادھورا اسے پورا کر لوں
نئی تعبیر کا عنوان بنا لوں تو چلوں

مژدہ ئِ صُبحِ بہاراں تو سنا ہے شہنازؔ
شب کے چہرے سے گرا پردہ اُٹھا لوں تو چلوں



کسی پہ اتنا بھی تقدیر کا حصار نہ ہو
خود اپنے آپ پہ اپنا ہی اختیار نہ ہو

مری تلاش یونہی رائیگاں نہ ہو جائے
ملے مراد تو پھر وقتِ انتظار نہ ہو

سمیٹ لینا فضائوں سے ساری رنگینی
کسے خبر کہ مقدر میں پھر بہار نہ ہو

میں اعترافِ ہنر جب کروں گی شیشہ گرو
بنائو آئینہ ایسا کہ عکس ِ یار نہ ہو

سفینے چھوڑ دیئے ہیں ہوا کے رُخ پہ اگر
دعا کے بادباں پھیلائو دل فگار نہ ہو

نکل کو دیکھوں بگولوں کے ساتھ صحرا میں
مجھے تلاش ہے جس کی پس ِ غبار نہ ہو



بکھر کے ٹوٹنے والے صدا نہیں کرتے
کوئی بھی کام خلافِ انا نہیں کرتے

شجر پہ بیٹھے ہوئے پنچھیوں سے بات کرو
فضا میں اڑتے پرندے سنا نہیں کرتے

گہر شناس ہیں طوفاں کے ساتھ رہتے ہیں
سمندروں سے عداوت کیا نہیں کرتے

بڑی خموشی سے آ کر زمیں پر گرتے ہیں
فلک سے ٹوٹتے تارے صدا نہیں کرتے

بس ایک بار ہی قسمت کو آزماتے ہیں
پھر اس کے بعد کسی سے گلہ نہیں کرتے

بجھا دئیے ہیں سرِ شام آرزو کے چراغ
ہوا کے رُخ پہ دیئے تو جلا نہیں کرتے



اک بحرِ بے کنار کی گہرائیوں میں ہوں
گہری بہت ہے سوچ ابھی فیصلوں میں ہوں

رستہ تلاش کرنے کی فرصت کہاں مجھے
میں ذوقِ آگہی کی حسیں سرحدوں میں ہوں

منظر مری نگاہ میں مت ڈھونڈنا ابھی
کھوئی ہوئی خیال کی رعنائیوں میں ہوں

دشتِ جنوں سے سب ہی پلٹ آئے اور میں
طشتِ طلب اُٹھائے گھری خواہشوں میں ہوں



مات سے پہلے بات بنائی جا سکتی تھی
نفرت کی دیوار گرائی جا سکتی تھی

چندا کی تنویر چرائی جا سکتی تھی
مٹی کی تقدیر جگائی جا سکتی تھی

ناحق ہم تم کھیلے جلتے شعلوں سے
جذبوں کی یہ آگ بجھائی جا سکتی تھی

موجوں کا پیغام نہ سمجھا ساحل نے
ورنہ ڈوبتی نائو بچائی جا سکتی تھی

سناٹوں میں ہاتھ کٹا کر بیٹھ گئے
خاموشی مصروف میں لائی جا سکتی تھی

ظالم بن کر ظلم مٹایا جیت گئے
حق کی خاطر مات بھی کھائی جا سکتی تھی



وہ دن بھی کیا تھے غم سے کوئی واسطہ نہ تھ
درپیش اپنے کوئی کٹھن مرحلہ نہ تھا

دہلیز اپنی ذات کی کب ہم نے پار کی
در کونسا تھا ایسا جو ہم پر کھلا نہ تھا

وہ ملتفت ہماری طرف انجمن میں تھے
عرضِ طلب کا ہم کو مگر حوصلہ نہ تھا

ہر نقش پا پہ ہو نہ سکی خم جبین ِ شوق
جو نقش بھی ملا وہ ترا نقشِ پا نہ تھا
ہم داستانِ درد سناتے تو کس طرح
محفل میں تیری کوئی بھی درد آشنا نہ تھا

محسوس اس کو میں نے کیا ہے قریبِ جاں
میرے تخیلات سے وہ ماورا نہ تھا

یوں تو جہانِ رنگ میں سب کچھ تھا اس کے پاس
شہنازؔ کی وفائوں کا لیکن صلہ نہ تھا



ساتھ چلنے کے لیے وہ ذرا تیار تو ہو
محرمِ غم نہ سہی محرمِ اسرار تو ہو

میں ہوں بے تاب سنے کوئی تو رودادِ ستم
بڑھ کے پوچھے تو ذرا وہ مرا غم خوار تو ہو

ڈھونڈ لائے گا میرا دیدہ ئِ حیراں تجھ کو
قافلہ آئے یہاں مصر کا بازار تو ہو

بے زبانی کی زباں سے بھی بہت کچھ کہہ دوں
پردہ ہٹ جائے ذرا آپ کا دیدار تو ہو

شہرِ دل آج بھی ویران نظر آتا ہے
سامنا ربِ بہاراں ذرا ایک بار تو ہو

اس کڑی دھوپ میں جلتا ہے سراپا شہنازؔ
ابرِ باراں نہ سہی سایہ ئِ دیوار تو ہو



جاگتی آنکھوں میں نے جو کچھ دیکھا تھا
خواب تھا وہ اور خواب سراسر جھوٹا تھا

وقت کے ظالم ہاتھوں نے سنگسار کیا
کانچ کا وہ گھر جس میں کوئی رہتا تھا

بکھر چکے تھے سب کھلیان امیدوں کے
بھیگی رُت تھی بھیگا بھیگا چہرا تھا

برسوں ساتھ چلے تھے مل کر ہم دونوں
منزل ایک تھی اپنا ایک ہی رستہ تھا
اک بدلتی رُت نے پھیکا کر ڈالا
تیری چاہت کا رنگ اتنا کچا تھا

میں نے ہی کچھ دیر پلٹنے میں کی تھی
اس نے تو ہر گام پہ مجھ کو ڈھونڈا تھا

بکھر گئے تھے ریزہ ریزہ ہو کر خواب
ٹوٹ گیا جو میں نے سپنا دیکھا تھا

آنے والے کل کی خاطر زندہ ہوں
کل جو گزرا وہ کب میرا اپنا تھا

چلتے چلتے کتنی صدیاں بیت گئیں
منزل بالکل پاس تھی رستہ ٹیڑھا تھا



تھک کر مسافتوں سے بکھرنے لگی ہوں میں
چپ چاپ اپنی آگ میں جلنے لگی ہوں میں

مدت سے ایک گُنبدِ بے در میں قید ہوں
اُمید کی کرن سے بھی ڈرنے لگی ہوں میں

پھر مجھ کو جستجو کہ ملے تیرا نقشِ پا
پھر ایک امتحاں سے گزرنے لگی ہوں میں

آزردہ کر دیا ہے مجھے میرے شوق نے
اپنا رُخِ خیال بدلنے لگی ہوں میں

شمعِ حیات پھر سے ہے روشن نہ جانے کیوں
کیا آرزو حیات کی کرنے لگی ہوں میں

درد ہے عشق کی معراج تو ڈرنا کیسا
آبلے پھوڑ کے رفتارِ سفر دیکھتے ہیں


عشق تماشا

معروف شاعرہ شہناز مزمل کا شعری مجموعہ عنقریب منظر عام پر آ رہا ہے ان کے گذشتہ مجموعہ ہائے شعری پر میں نے ایک مفصل تبصرہ لکھا تھا۔ سوچا کہ اس شعری مجموعہ پر بھی کچھ لکھا جائے جو پچھلے مضمون سے پیوست ہو مگر ضمیمہ کی شکل میں ہو کیونکہ کئی سال پہلے لکھے گئے مضمون کے ساتھ تسلسل کی صورت ممکن نہیں جبکہ اس مجموعہ بعنوان ’’عشق تماشہ‘‘ کا احاطہ بھی اسی سلسلے میں کرنا مقصود ہے۔ ’’عشق تماشہ‘‘ نظموں ، غزلوں اور قطعات پر مشتمل ہے بڑا حصہ غزلوں کا ہے پھر نظمیں باقی گذشتہ مجموعوں میں شہناز زیادہ تر نظموں میں ابھرتی دکھائی دیتی ہیں مگر اس مجموعہ میں غزل سراکی حیثیت سے نمایاں ہیں۔ تاہم پہلے ایک نظر نظموں پر ڈالتے ہیں۔ تمام نظمیں آزاد ہیں چھوٹی نظمیں بڑی خوبصورتی میں خیال اور فن کے لحاظ سے مکمل ہیں۔
انسان اپنے عکس کی خاطر
اپنے ہاتھوں لٹ جاتا ہے
(عکس کی خاطر)
منڈیریں یاد کی سونی پڑی ہیں
ستارے آنکھ میں ٹھہرے ہوئے ہیں
(انا کی چیخ)
شفق آلودہ شامیں مضطرب ہیں
چراغاں کب شب ِ ہجراں میں ہو گا
مقابلتاََ یہ نظمیں آزاد شکل میں چھوٹے چھوٹے مصرعوں پر مشتمل ہیں اور نازک خیالی کی عکاس ہیں امیجز کے ذریعہ اچھی تصویر کشی ہے۔ ’’نظم چلتی پھرتی لاش‘‘ میں عورت کی جملہ کیفیات اور حساسیت کو پیش کیا گیا ہے جو بڑے دلدو انداز میں ہے مگر نوعت فکر ہمہ گیر صداقت کی حامل ہیں اس کا اطلاق عمومی ہوسکتا ہے چنانچہ یہ شاعرانہ کاوش سے زیادہ نہیں مگر نظم اپنی جگہ ہر کیفیت سے معمور ہے۔ نظم ’’خود ساختہ اندھانگر‘‘ Down Trodden طبقے کی بھر پور اور پُر زور نمائندگی کر تی ہے اکثریت کاتعلق اس طبقے سے ہے اور ان کی حمایت میں یہ نظم ایک ہمہ گیر اور پُر اثر اظہار ہے مختلف کیفیات کو نوع بہ نوع دلکش شعری انداز میں پیش کیا گیا ہے دراصل یہ طبقاتی استحصال ہے اور آویزش کے بغیر اس کاحل نہیں وسائل جب سمٹ کر ایک مخصوص طبقہ کے قبضہ میں چلے جائیں تو پھر اندھا نگر طبقاتی جبریت کا شکار ہے اس کا تیرہ اوتار ہونا خود ساختہ نہیں بلکہ نصورت جبر و استحصال ہے۔عشق تماشا کی روح حصہ غزل ہے یہاں غزلیات شہناز کا خاص میدان ہیں وہ اچھی غز ل گو ہیں، اور اس مجموعہ میں وہ نوع بہ نوع خیالات طرفہ بیانی اور ندرت اظہار کے ساتھ ابھری ہیں۔
شہناز مدت سے تلاش حقیقت میں سرگرداں ہیں اور حضوری کی طلب گار ہیں اور انھوں نے ’’ادب سرائے‘‘ میں پڑھے گئے ایک مضمون میں اس کا اظہار بھی کیا تھا وہ اب تصوف کی راہ پر گامزن ہیں اسلوک کی منازل کی سخت کوشی اور دیر یابی سے بچتے ہوئے ایسا علوم ہوتا ہے کہ اُنھوں نے رہِ قلندری اختیار کی ہے عراقی کا ایک مشہور شعر ہے۔
صنما رہِ قلندر سزد اربمن نمائی
کہ دراز و دور بینم رہ و رسم آشنائی
اُن کے اشعار اس انداز فکر کی طرف رہنمائی کرتے ہیں اور ’’عشق تماشا‘‘ ان کی نئی جہتِ شعری سے روشناس کراتے ہیں۔
اپنے آپ میں کھونے دے اب
عشق تماشا ہونے دے اب

تلاشِ فصلِ گل میں میں پتیاں سب نوچ ڈالی ہیں
ہوا میں سب ہی کچھ تحریر ہے پر ہاتھ خالی ہیں

میں تھی بجھے دیئے کی طرح طاق میں سجی
پہچان ہو گئی تو مجھے روشنی ملی

عرفانِ ذات نے مجھے حیران کر دیا
دوڑا رہا ہے مجھ کو میرا ذوق آگہی
وہ حقیقت شناسی تک پہنچنے کے لیے منازلِ طریقت طے کر رہی ہیں چند اشعار:

بس ایک نقشِ پا پہ ہوئی خم جبینِ شوق
پھر اُس کے بعد نقشِ تمنا مٹا دیا

چُھپایا تو نے جمال و جلال پردے میں
جمال ڈھونڈنے والا کمال میں نے کیا

مرے عشقِ خام کو نام دے مری کاوشوں کو دوام دے
مجھے منزلوں کے قریب کر ہوں مسافتیں مری مختصر
ہر اک منظر میں خود کو ڈھونڈنا ہے
ترا عاشق تماشا بن گیا ہے

نوشتہ روز ازل سے ہے لوح پر محفوظ
دکھائی دیتی ہے دنیا سراب کی صورت

سوچتے ہیں یہ کیا کیا ہم نے
نقشِ اپنا مٹا دیا ہم نے
شہناز کے متصوفانہ انداز شعری کے حوالے سے بات ذرا طویل ہوگی کیونکہ اُن کے ہاں یہ رحجانِ بالخصوص اُبھر رہا ہے علاوہ ازیں ان کی بیشتر غزلیں غزل کے تمام محاصل اور موضوعات سے معمور ہیں تمام غزلوں میں شعری جمالیات تشبیہ استعارہ مجاز مجاز مرصل صنائع بدائع بخوبی موجود ہیں مختصر تبصرہ میں ان کے حوالے سے بات مشکل ہے ہاں کیفیات کے لحاظ سے بات آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔
شہناز کے ہاں تنہائی ہجر کر بنا کی ویرانی اُداسی نااُمیدی کچھ حاصل کرنے کے عزم کے ساتھ عام طور پر دل گداز کیفیت نظر آتی ہے ان موضوعات پر اشعار بڑے اثر انگیز ہیں اور بالعموم تغزل سے متصف ہیں کیفیت قلب و نظر کے ساتھ ساتھ سوز و گذاز کا انداز دیکھئے۔
ہر اک بستی ہے اب صحرا کی صورت
مجھے کس نے اکیلا کر دیا ہے

شبِ ہجراں شبِ قربت بنا دے
چراغِ نیم شب بجھنے لگا ہے
اک سرد سیاہ رات بچھڑنے کا وہ منظر
جینے نہیں دیتا مجھے مرنے نہیں دیتا

کوئی آہٹ ہو لمحے جاگ اُٹھیں
خموشی جان لیوا ہو گئی ہے

بظاہر ہوں میں اک ناچیز قطرہ
مرے اندر سمندر بولتا ہے

ارادہ کیا تھا مسافر کا کچھ نہیں معلوم
سفر پہ جانے سے پہلے مجھے ملا بھی نہیں

کسی کی چنری میں دھوپ باندھی کسی کو وجہء جمال رکھا
کسی کے دامن میں صبح ٹانکی کسی کو شب کی مثال رکھا

رضا پہ تیری ہوئی میں راضی مگر مجھے آج یہ بتا دے
جواب سارے دیئے کسی کو مرے لیے کیوں سوال رکھا

فراق کی شب چمکتی یادوں کے جگنوں سے میں پوچھتی ہوں
مرے لیے کیوں نہ چاہتوں کا چراغ کوئی سنبھال رکھا

وہ آسماں مزاج جراحت سرشت تھا
ہم دل کے آئینے کو بچا کر نکل گئے

ہم سفر بعد تیرے اس دل کی
اُجڑی بستی تو ہم کھنڈر ٹھہرے

سکت سفر کو تو باقی نہیں ہے تیرے بعد
بس اب تو صرف سفر کو تمام کرنا ہے

داستاں اپنی سناتے تمہیں مہماں کرتے
ذکرِ جاناں غمِ دوراں غمِ ہجراں کرتے
کوئی آتا ہی نہیں ہے مرے غمخانے تک
دل کو بہلانے کو کیا شامِ غریباں کرتے

شہناز کی غزل کی ایک خوبی یہ ہے کہ خیال کی اور اندازِ بیاں کی اُکتا دینے والی تکرار نہیں گرچہ غزل میں تقرار معنی اور الفاظ سے بچنا مشکل ہے عنوان ندرت خیال:
فصلِ گل نے کر لی ہے دوستی خزائوں سے
پھول اب نہیں کھلتے خوشبوں کے موسم میں

کہیں پتھر نہ ہو جائیں یہ مری منتظر آنکھیں
پلٹ کر تم نے آنے میں بہت ہی دیر کر دی ہے
تمام عمر نہ جس کا جواب مجھ کو ملا
تمام عمر وہ ہی اک سوال میں نے کیا

خشک پتیاں رنگ کر شاخ پر سجا دینا
تتلیاں نہ مر جائیں پت جھڑوں کے موسم میں

نیم شب میں کہ رہا تھا خونِ دل کی داستاں
رات کی آنکھوں میں کاجل شام کا پھیلا ہوا

تغزل اور سوزگداز کے بہت سے روپ ان کی غزلوں میں نظر آتے ہیں۔
لفظوں کے پیرہن میں اُلجھ کر بھی کیا ملا
بے ساختہ سا وہ مرا لہجہ نہیں رہا

طوفاں سے کھیلنے کا قرینہ جو آ گیا
جلتا ہوا چراغ ہوا کو تھما دیا

اُٹھا دو پھر نیا طوفان کوئی
لبِ ساحل سفینہ آ گیا ہے

دیئے اُمید کے بجھنے لگے ہیں
ہوا سے دوستی مہنگی پڑی ہے
فیصلہ ڈوبنے والوں نے کیا ہے آخر
جو کنارہ نہ بنا اُس سے کنارا کر لیں
موضوعات کے ساتھ فکری تابنی جگہ جگہ موجود ہے شہناز کی غزلوں میں تغزل بالعموم رچا ہوا ہے الفاظ کا دروبست اُنھیں منفرد مقام دیتا ہے۔
عثمان صدیقی


شہناز مزمل اک متحرک شاعرہ

شہناز مزمل کو میں نے پہلی بار ایم اے او کالج کے ایک مشاعرے میں سنا تھا۔ اس مشاعرے میں حاضرین نے نہایت دل جمی سے ان کا کلام سنا تھا۔ تب مجھے ایک نئی آواز اور ایک معتبرآواز سے آگاہی ہوئی۔ شہناز مزمل سے میری ملاقاتیں اکثر مشاعروں اور ادبی محافل میں ہوتی رہیں علاوہ ازیں ملک کے اخبارات اور جراید میں بھی ان کے کلام سے مستفید ہونے کے مواقع ملے۔ شہناز مزمل ایک علیحدہ ہی اپنا اندازِ شعر رکھتی ہیں۔ نہایت خوبصورت اور باوقار لہجہ میں شعر کہتی ہیں۔ وہ اپنے پہلو میں جذبات سے بھر پور دل رکھتی ہیںاور خاص انداز میں ذاتی ہجر ووصال کے علاوہ اپنے کرب، جلن اور چھوڑے کی باتیں بھی کرتی ہیں۔ میں نے تو دیکھا کہ ان کی شاعری کا رخ عشق حقیقی کی جانب مڑتا جا رہا ہے۔ بہرحال یہ بھی عشق کی ایک منزل ہے۔ اور ایسا آدمی ولیوں، پیروں اور فقیروں کا مرتبہ پاتا ہے۔
شہناز مزمل کی 14 علمی و ادبی کتب چھپ چکی ہیں۔ اب تازہ شعری مجموعہ بعنوان ’’عشق تماشا‘‘ زیر نظر ہے جس کا مطالعہ یقینا ہمیں ان کے نئے مقام فکر و فلسفہ سے روشناس کرائے گا۔ شہناز مزمل علم و ادب اور شعر و شاعری کی دنیا میں فعال اور متحرک شاعرہ دکھائی دے رہی ہیں ۔ کتب کی نشر و اشاعت کے علاوہ ہر ماہ ایک مشاعرہ اپنے دولت کدے پر منعقد کرواتی ہیں۔ شہناز مزمل دراصل ایک متحرک شاعرہ ہیں دوسری ہم عصر شاعرات کی طرح شہرت کی بلندیوں پر پہنچ کر شاعری ختم نہیں کی۔ دوسری شاعرات نے شاعری کا نام لیکر اپنے آپ کو چمکایا اور شہرت حاصل کی لیکن وہ غیر متحرک ہو کر رہ گئی ہیں بلکہ دوسرے علوم کی طرف نکل گئی ہیں۔ انھوں نے دوسری فیلڈ چن لی ہے۔ کشور ناہید ایک شاعرہ ہیں لیکن آجگل کوئی شعری تخلیق نہیں ہو رہی۔ وہ چند اخباری کالموں اور ادھر ادھر کے دوروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔
اس طرح زہرہ نگاہ اپنے وقت کی نامور شاعرہ لیکن خدا جانے کس دنیا میں جا کر کھو گئی ہیں۔ حالانکہ شاعری کی وجہ سے وہ جانی پہچانی جاتی ہیں۔ پھر ان کی شاعری کی تحریک کیوں معدوم ہو کر رہ گئی ہے۔ انصاف کی بات یہ ہے کہ ایسی شاعرات ادب کی کوئی خدمت نہیں کرتیںبلکہ چاند بن کر چمکتی ہیں اور چھپ جاتی ہیں لوگ ان کی چاندنی سے محروم ہی رہتے ہیں۔
کچھ شاعرات میں جو عملی طور پر شاعری تخلیق کر رہی ہیں اور ان کا نام زندہ رہے گا مثلاََ ادا جعفری، شبنم شکیل، نوشی گیلانی، ثمینہ راجا، رخشندہ نوید، نیلما سرور، پروین شاکر، اور شہناز مزمل وغیرہ ۔ اس حوالے سے یہ عرض کرتا چلوں کہ پاکستان میں خواتین کے شعری کاموں پر پی ایچ ڈی تھسز ڈاکٹر خورشید رضوی کی نگرانی میں یقینا یہاں متحرک شاعرات کی تخلیقات سامنے آئیں گی۔
شہناز مزمل ایسی شاعرہ ہیں جو شعر و ادب کیلئے متحرک ہوئی ہیں۔ ان کی شاعری قد آور تحریک بنتی جا رہی ہے۔ وہ قفِ شاعری کو کمال پر پہنچانا اپنا ایمانِ کامل سمجھتی ہیں۔ وہ نہایت ذمہ داری سے شعر کہتی ہیں اور اپنے دکھ، درد اور کرب بڑے سلیقے سے بیان کرتی ہیں وہ شعرکی مالا میں خوبصورت الفاظ کے موتی پروتی ہیں۔
شہناز مزمل غزل میں اپنے اظہار کے لئے ایسے خوبصورت استعارے استعمال کرتی ہیں جن سے شعر کی قیمت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ مثلاََ دھوپ، موم اور پتھر کے استعارے یوں بیان کرتی ہیں۔
دھوپ کی بستی میں پتھر کا بناتی سائبان
موم سے تراشا ہوا شہنازؔ گھر بیکار تھا
یا یہ شعر ملاحظہ فرمائیے۔
کسی کی چُنری میں دھوپ باندھی کسی کو وجہء جمال رکھا
کسی کے دامن میں صبح ٹانکی کسی کو شب کی مثال رکھا
شہناز مزمل صنف غزل میں اک خاص اسلوب رکھتی ہیں۔ وہ اپنی نسوانی آواز کو نہایت سلیقے سے شعر میں برتتی ہیں۔ ان کے خیالات و احساسات کے سمندر کی لہریں دیدنی ہوتی ہیں۔ انکی اپنی ایک لہر ہوتی ہے اپنا برتائو ہوتا ہے اور اپنا ایک خیال ہوتا ہے۔ مثلاََ غالب دنیا کو بازیچہ اطفال سمجھتے ہیں اور وہ تماشا بنتے نہیں ہیں بلکہ ہوشمند ہیں اور دنیا کا تماشا دیکھتے ہیں۔
بازیچہء اطفال ہے نیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
لیکن اس کے بر عکس شہناز مزمل وہ عشق کے مقام سے پرے نکل گئی ہیں۔ اور ہوش کی قید سے آزاد ہو کر دنیا کو دیکھتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں
اپنے آپ میں کھونے دے اب
عشق تماشا ہونے دے اب
یہ مقام مقدس تو کسی ولی کو ملتا ہے۔ وہ دنیا سے بے نیا ہو کر حقیقی عشق کو سمجھ لیتا ہے۔
نثاراکبر آبادی، لاہور
14-01-2001


ذکرِ جاناں ۔ غمِ دوراں ۔ غمِ ہجراں

داستاں اپنی سناتے تمہیں مہماں کرتے
ذکرِ جاناں غمِ دوراں غمِ ہجراں کرتے
بہت عرصہ قبل یہ شعر کہا اور غزل مکمل کی کسے معلوم تھا کہ عشق تماشا کی پوری کہانی بالکل اسی انداز میں مرتب ہو گی یہ کیسے ہوا؟ کیوں ہوا کب ہوا؟ کچھ معلوم نہیں؟ غم جاناں جو دراصل خود پہچاننے کے عمل کا نام ہے روز ازل سے ہی مقدر بنا دیا گیا اوروقت کے ساتھ ساتھ یہ جذبہ شدت اختیار کرتا گیا اب آگے یہ کیا رُخ اور کونسی شکل اختیار کریگا اس کو سمجھنا میرے بس سے باہر ہے ان کیفیات کا علم آپ کو کتاب کے پہلے حصے کو پڑھی کر ہو گا۔
دوسرا حصہ غمِ دوراں پر مشتمل ہے ذہن نارسا کو جب غمِ جاناں سے فرار کی کوئی راہ نظر نہ آئی تو اس نے اپنا رخ غمِ دوراں کی طرف موڑ دیا غمِ دوراں رہی سہی کسر پوری کر رہا تھا اور میں اس غم کے ساتھ مستقل مزاجی آگے بڑھی رہی تھی کہ راستے میں غمِ ہجراں نے آن پکڑا۔
کتاب کا تیسرا حصہ غم ِ ہجراں کی داستان ہے اب اس غم خانے تک کون آئے شامِ غریباں کیسے ہو شاید یہ غم زندگی کے آخری سانس تک ساتھ جائیں گے حبس موسم گھٹ جانے کی دعا مانگی مگر ٹوٹ کر یوں ہوئی برسات کہ گھر ڈوب گیا۔ رستہ بھی کبھی ختم ہوا ہے رفتار زندگی قائم ہے اب سوچتی ہوں۔
درد ہے عشق کی معراج تو ڈرنا کیسا
آبلے پھوڑ کے رفتارِ سفر دیکھتے ہیں
دوبارہ ادبی منظر نامے پر طلوع ہونے تک آپ سے اجازت طلب کرتی ہوں آپ کی رائے کی منظر رہوں گی آپ کی حوصلہ آفزائی شعر و سخن کی وادی میں پابجولاں آبلہ پائی کرنے والے مسافر کو آمادہ سفر رکھے گی۔
شہناز مزمل
ادب سرائے
F-125 ماڈل ٹائون لاہور
8نومبر2001

غمِ جاناں



تمام عمر نہ جس کا جواب مجھ کو ملا
تمام عمر وہی اک سوال میں نے کیا

تری عنایتیں زیادہ ہیں یا مری چاہت
جو زخم تو نے دئیے اندمال میں نے کیا

چھپایا تو نے جمال و جلال پردوں میں
جمال ڈھونڈنے والا کمال میں نے کیا

کبھی میں بن گیا مجنوں کبھی بنا رانجھا
بچھڑ کے تجھ سے عجب اپنا حال میں نے کیا
نہ چھپ سکا تو نظر سے نہ آشکار ہوا
لبادہ جذب کا اوڑھا دھمال میں نے کیا

الف بھی تیری ہے اور لام میم بھی تیرا
اُٹھے نہ راز سے پردہ خیال میں نے کیا

نکالا اپنے جہاں سے ذرا سی لغزش پر
بچھڑ کے تجھ سے سوالِ وصال میں نے کیا

مری اکائی بھی تو ہے مرا سمندر بھی
مٹا کے خود کو تجھے بے مثال میں نے کیا


نعتِ رسول مقبولﷺ

لفظ کھلتے ہیں نہ کھلتے ہیں معانی آقا ﷺ
کیسے پائے مری تحریر روانی آقا ﷺ

کیفیت سے کبھی نکلوں تو کوئی بات بنے
اب تلک تو ہے نہاں عشق کہانی آقا ﷺ

جسم کی قید میں ہوں پھر بھی ہوں میں آپکے ساتھ
کس لئے روح نے کی نقل مکانی آقا ﷺ

ہے خبر آپ کو شہنازؔ مزمل شاہا ﷺ
عشق میں آپ کے کملی ہے دوانی آقا ﷺ



قائم ہوا ہے کب سے محبت کا سلسلہ
نہ ابتدا ہے اس کی نہ کوئی ہے انتہا

مجھ کو زمیں پہ بھیج کے خود سے کیا جدا
تو ہی بتا دے کیسا رہا تیرا فیصلہ

آ کر زمیں پہ ڈھونڈتے پھرتے تھے ہم خدا
جھانکا تو اپنی ذات کے اندر چھپا ملا

پہچان جب ہوئی تو شناسا وہ بن گیا
قلبِ سیہ میں نور کا روشن ہوا دیا
عاشق تلاش، عشق میں حد سے گذر گیا
اور عقل نے گمان کو منزل بنا لیا

نیرنگی ءِجمال نے مبہوت کر دیا
تھا شہر سارا آئنہ خانہ بنا ہوا

منزل قریب آئی تو رستہ ہی کھو گیا
گمراہ کر رہے تھے مجھے سب نقوشِ پا

بس اک نقشِ پا پہ ہوئی خم جبینِ شوق
پھر اسکے بعد نقشِ تمنا مٹا دیا

عاشق یقیں کا ہاتھ میں تھامے گا جب دیا
مل جائے گا جواب اسے ہر سوال کا



ہر اک منظر میں خود کو ڈھونڈتا ہے
ترا عاشق تماشا بن گیا ہے

نیا ہر زاویہ اُمید کا ہے
بھروسے سے بھروسہ اُٹھ گیا ہے

فصیلِ جسم شاید گر رہی ہے
یہ دل پہلو میں اب رُکنے لگا ہے

شبِ ہجراں شبِ قربت بنا دے
چراغِ نیم شب بجھنے لگا ہے

نماز عشق قائم ہو گئی ہے
ترا عاشق مکمل ہو گیا ہے



ایک اندھا راستہ عاشق کو دکھلایا گیا
عشق ہست و بود ہے ناداں کو سمجھایا گیا

مان تو نے توڑ ڈالا میں یہ کیسے مان لوں
تو نہیں مجھ سے الگ یہ کیوں تھا بتلایا گیا

تو بتا دے تیرگی تیرے مسافر کیا کریں
روشنی میں روشنی کا راستہ پایا گیا

ڈوب ہی جانا مقدر تھا سفینے کا تو پھر
کس لیے ساحل دکھا کر اُس کو تڑپایا گیا
عشق پابندِ سلاسل ہے نہ پابندِ مکاں
بے وجہ دیوار میں عاشق چنوایا گیا

چھائوں کی لذت بھلا سورج کو کب معلوم ہے
جلتے سورج کے تلے ہی دور تک سایہ گیا

عشق سے ناراض ہوں معشوق سے بھی ہوں خفا
مجھ سا عاشق وعدئہ فردا پہ ٹرخایا گیا



کون کہتا ہے کہ مجھ سے دور کوہِ طور ہے
نور ہے تیرا نظر میں دل میں تو مستور ہے

ڈھونڈنا تجھ کو نہیں مشکل مرے دل کے مکیں
تو رگوں میں دوڑتا ہے چشمِ تر کا نور ہے

مان لوں میں کسطرح کہ کچھ بدل سکتا نہیں
تیرے ہی تو ہاتھ کا لکھا ہوا منشور ہے

میں ہوں تیری تو ہے میرا ساری دنیا کو بتا
بعد اس کے جو بھی ہو گا فیصلہ منظور ہے

دل میں تو سوچوں میں تو چاروں طرف بس تو ہی تو
ساتھ تیرے جو نہ گذرے وہ شب ِ دیجور ہے



تیر اپنا کمان میں رکھنا
سب کو حفظ و امان میں رکھنا

کم نگاہوں کو کم نما رکھنا
کم یقیں کو گمان میں رکھنا

ہر دعا میری معتبر کرنا
اک اثر اس زبان میں رکھنا

بچ نہ پائے کوئی نظر سے تری
زاویہ وہ مچان میں رکھنا

لا مکانی ہے بس تجھے زیبا
باقی سب کو مکان میں رکھنا



مرے اندر تو اس کی روشنی ہے
تعلق جس سے میرا دائمی ہے

میں اپنے آپ کو کیسے سمیٹوں
اکائی ذات کی بکھری پڑی ہے

فصیلِ شب کا آنچل بھیگتا ہے
سحر کی آنکھ بھی کچھ شبنمی ہے

دئیے امید کے بجھنے لگے ہیں
ہوا سے دوستی مہنگی پڑی ہے
مری پلکوں پہ تارے ٹوٹتے ہیں
کسی سے پھر بچھڑنے کی گھڑی ہے

دریچہ دل کا پھر سے کھولتی ہوں
سماعت پر مرے دستک ہوئی ہے

کوئی آہٹ ہو لمحے جاگ اُٹھیں
خموشی جان لیوا ہو گئی ہے



دل تو اُس کے جمال میں گم ہے
سائیں سوہنا کمال میں گم ہے

عقل کو لمحہء فراق ملا
عشق کیفِ وصال میں گم ہے

پار کر کے یقین کی دہلیز
کیوں ابھی تک سوال میں گم ہے

حادثہ تو گذر گیا سر سے
اک کسک اندمال میں گم ہے



بدل گئی ہے سوال و جواب کی صورت
نقاب میں وہ ملا بے نقاب کی صورت

سراپا پیار ہے وہ نور ہے وہ ممتا ہے
لگا کے آگ بجھائے سحاب کی صورت

وجود سے مجھے آزاد کر کے اکثر وہ
سمندروں پہ اُتارے حباب کی صورت

عجب ہے عشق کہ پہچان بھی نہیں اپنی
کچھ اور ہو گی ترے انتخاب کی صورت

نوشتہ روزِ ازل سے ہے لوح پر محفوظ
دکھائی دیتی ہے دنیا سراب کی صورت



میں تھی بجھے دیئے کی طرح طاق میں سجی
پہچان ہو گئی تو مجھے روشنی ملی

اپنی تلاش کرتے زمانہ گذر گیا
میں کون ہوں میں کس لیئے دنیا میں آ گئی

عرفانِ ذات نے مجھے حیران کر دیا
دوڑا رہا ہے مجھ کو مرا ذوقِ آگہی

روزِ ازل سے عشق کی مجھ کو تلاش تھی
جب سر جھکا دیا تو مجھے بندگی ملی

اب تک الجھ رہا تھا مرا ذہن ِ نارسا
نظرِ کرم سے آپ کے بالیدگی ملی



حصارِ ذات سے باہر ذرا نکل تو سہی
تو اپنا راستہ اک بار پھر بدل تو سہی

شناخت ہو کہ نہ ہو اب یہ سوچنا کیسا
گلے میں نام کی تختی پہن کے چل تو سہی

تجھے خبر نہیں تو راکھ ہے یا ہیرا ہے
خود اپنی آگ میں کچھ دیر اور جل تو سہی

بہت ہی دیکھ لیں شب کی طوالتیں اب تو
نئی اُمید کے سورج ذرا نکل تو سہی

زمانہ تجھ سے ہے یا تو ہے اس زمانے سے
پہن کے طوقِ سلاسل ذرا سنبھل تو سہی



عجب محشر سا اک مجھ میں بپا ہے
مرے اندر بھی شاید کربلا ہے

بہت آرام تھا خاموشیوں میں
تماشا عشق نے بنوا دیا ہے

کسی معصوم خواہش نے جکڑ کر
زمانے بھر میں رسوا کر دیا ہے

بتائو چھین کر اپنا حوالہ
مجھے کس کے حوالے کر دیا ہے

تجھے ہر حال میں سننا پڑے گا
غلط ہے یا صحیح ہے ٖفیصلہ ہے
بظاہر ہوں میں اک ناچیز قطرہ
مرے اندر سمندر بولتا ہے

ہراساں تنہا تنہا پھر رہی ہوں
بھرے میلے میں ساتھی کھو گیا ہے

کسی بھی روپ میں پھر سامنے آ
تجھے دیکھے زمانہ ہو گیا ہے

تجھے چپ چاپ سب سہنا پڑے گا
رضا اُس کی ہی اب تیری رضا ہے

گماں سے بدگمانی ہو گئی ہے
یقیں کے ہاتھ اب تو فیصلہ ہے

نہیں معلوم یہ میں ہوں کہ تو ہے
مصور خود کسی تصویر سا ہے

نہیں شہنازؔ کچھ رونے سے حاصل
جو ہونا تھا وہ آخر ہو گیا ہے
غمِ دوراں



نفرتوں کا زہر چاروں سمت ہے پھیلا ہوا
زندگی کو وحشتوں کا ناگ پھر ڈسنے لگا

ہاتھ میں پتھر اُٹھائے پھر رہا ہے آجکل
شیشہء دل کے مسیحا کو اچانک کیا ہوا

ڈار سے بچھڑے پرندے لوٹ کر آئے نہیں
تیر برسائے فضا نے رہزن رستہ ہوا

نیم شب میں کہہ رہا تھا خون دل کی داستاں
رات کی آنکھوں میں کاجل شام کا پھیلا ہوا
میں نے برجستہ کہا جو کچھ بھی میرے دل میں تھا
میری نادانی کا سارے شہر میں چرچا ہوا

وقت کی اس دوڑ میں شکوہ گلہ کس سے کروں
سوچتی ہوں جو ہوا جیسا ہوا اچھا ہوا

کب رہی غافل تصور سے ترے میں ایک پل
تیرا چہرہ ہر گھڑی ہر گام پر دیکھا کیا



گلوں پر ٹوٹ پڑی ہیں قیامتیں کیسی
لگی ہیں پھوٹنے کانٹوں سے کونپلیں کیسی

بدن میں گڑتے رہے دن میں دھوپ کے نیزے
سکوتِ شام میں اتری ہیں وحشتیں کیسی

حصارِ چادر و دستار بھی جہاں ٹوٹے
گواہی کون وہاں دے وضاحتیں کیسی

بجھا دیا ہے سرِ شام میں نے خود ہی چراغ
ہوائے شہرِ نگاراں پہ تہمتیں کیسی
بہت زمانے سے صحرائے ذات میں گم ہوں
بدلتی رُت سے بھلا اپنی نسبتیں کیسی

قفس کی تیلیاں چبھنے لگی ہیں آنکھوں میں
بغیر تیرے گذاری ہیں ساعتیں کیسی

ہمارے نام کی تختی بھی اب نہیں باقی
ہمارے حصے میں آئی ہیں شہرتیں کیسی



گر ٹوٹ بھی جائوں تو بکھرنے نہیں دیتا
پیکر وہ مرا مجھ کو بدلنے نہیں دیتا

ہر وقت کئے رکھتا ہے دل مجھ کو ہراساں
کچھ کام مجھے ڈھنگ سے کرنے نہیں دیتا

زنجیر مرے پائوں میں ڈالی ہے گماں نے
اور مجھ کو یقیں حد میں ٹھہرنے نہیں دیتا

قسمت ہے چراغوں کی جلیں آخرِ شب تک
الزام ہوائوں کا ٹھہرنے نہیں دیتا
تارے کی طرح شب کے اندھیرے میں چمک کر
جگنو کبھی چڑیا کو بھٹکنے نہیں دیتا

دشمن ہے پرندوں کا بدلتا ہوا موسم
گھر اُن کا کسی پیڑ پہ رہنے نہیں دیتا

سورج کو محبت ہے یا دشمن ہے مرا وہ
کیوں چاند مرے گھر میں اُترنے نہیں دیتا

اک سرد سیہ رات بچھڑنے کا وہ منظر
جینے نہیں دیتا مجھے مرنے نہیں دیتا

محشر سا بپا رکھتا ہے وہ حشر بداماں
مجنوں کو جنوں ہوش میں رہنے نہیں دیتا

گرداب بھنور اور یہ موجوں کا سلیقہ
دریا کو کناروں سے نکلنے نہیں دیتا

خوشبو کی طرح ساتھ ہے شہنازؔ کے ہر دم
تنہائی کے جنگل میں بھٹکنے نہیں دیتا



بااثر ہو کہ بے اثر ٹھہرے
بات وہ ہے جو معتبر ٹھہرے

آپ نے کیا دیا زمانے کو
ہم تو بے فیض بے ہنر ٹھہرے

ہم سفر بعد تیرے اس دل کی
اُجڑی بستی تو ہم کھنڈر ٹھہرے

میں نے بس ایک ہی دعا کی تھی
ساتھ میرے وہ عمر بھر ٹھہرے

اپنی قسمت میں دشت پیمائی
رُک گئے ہم جہاں وہ گھر ٹھہرے
آنکھ جھپکی تو آ گئی منزل
راستے کتنے مختصر ٹھہرے

عمر گذری ہے اک تلاطم میں
اپنی تقدیر میں بھنور ٹھہرے

کوئی آہٹ نہ چاپ قدموں کی
ایسی سنسان رہگذر ٹھہرے

اپنی پہچان بھی نہیں ہو گی
اب یہاں اور ہم اگر ٹھہرے

کام آئی نہ کچھ مسیحائی
آبلہ پا ہی در بدر ٹھہرے

ہے عجب رسم اس زمانے کی
سر نہیں جن کے تاجور ٹھہرے

ہاتھ خالق کا میں نے تھام لیا
اب نہ تقدیر کار گر ٹھہرے



ادھورا نقش مٹانا بہت ضروری تھا
فریب کھا کے بھلانا بہت ضروری تھا

شبِ فراق مسافر کی میزبانی کو
بجھا چراغ جلانا بہت ضروری تھا

خموشیوں کی زباں ہی زباں نہ بن جائے
اُٹھی نظر کو جھکانا بہت ضروری تھا

رُخِ حیات میں کچھ شوخ رنگ بھرنے کو
کسی کے خواب چرانا بہت ضروری تھا
مری طرح سے جو حیرانیوں کا مسکن ہے
اُس آئینے کو بچانا بہت ضروری تھا

بکھرتے ٹوٹتے مہرے سنبھالنے کے لئے
بساطِ جان بچھانا بہت ضروری تھا

بہت سے کام ادھورے ہی چھوڑ کر شہنازؔ
پلٹ کے گھر بھی تو جانا بہت ضروری تھا



نکلنا چاہتے ہیں اب گماں سے
خدا کو ڈھونڈ کر لائیں کہاں سے

شبِ زنداں فروزاں ہو گئی ہے
دھواں اٹھنے لگا ہے آشیاں سے

پڑائو کا ارادہ ترک کر کے
نکل آئے ہیں ہم خالی مکاں سے

سمندر خود بلانے آ گیا ہے
گریزاں جب ہوئے ہیں بادباں سے
پرندے بستیوں سے خوف کھا کر
اٹھا لائے ہیں تنکے آشیاں سے

پلک جھپکی تو منزل آ گئی ہے
ہمیں شکوہ ہے میرِ کارواں سے

غبارِ دشت بن کر اُڑ رہے ہیں
نکل کر ہم ہجومِ بیکراں سے

تعلق جوڑ لو پھر سے پرانا
نکالو آکے یادِ رفتگاں سے



راتوں کا مقدر کبھی بدلا نہیں کرتا
دن شام سے پہلے کبھی ڈوبا نہیں کرتا

تتلی تو چرا لیتی ہے پھولوں سے سبھی رنگ
جگنو تو چراغوں پہ بھروسہ نہیں کرتا

سناٹے نے گھیرا ہے مجھے چاروں طرف سے
کوئی بھی تیرے بعد پکارا نہیں کرتا

طوفان بلا خیز کے تیور کو سمجھ کر
کشتی کوئی منجدھار میں ڈالا نہیں کرتا

حیراں ہوں بہت ضبط پر اس شخص کے شہنازؔ
گردن پہ ہو خنجر بھی تو بولانہیں کرتا



ہوا بادل سے رُک کر پوچھتی ہے
خزاں کی عمر کیوں بڑھنے لگی ہے

تراشا جب سے نخلِ آرزو کو
یہ کشتِ جان بنجر ہو گئی ہے

لبادہ شب کا اوڑھے چاندنی پھر
مری دہلیز پر رکنے لگی ہے

کوئی آہٹ ہو لمحے جاگ جائیں
خموشی جان لیوا ہو گئی ہے

دکھا شہنازؔ کو اب خواب رستہ
یہ لمبی رات اب ڈسنے لگی ہے



تیر ٹوٹا کمان کی زد میں
ہیں شکاری مچان کی زد میں

کیسے ڈھونڈوں گی منزلِ امید
رُخ بدلتی چٹان کی زد میں

ظلمتِ شب کا خوف بے معنی
میں ہوں تیرے دھیان کی زد میں

تو ہے لاریب لا مکاں کا مکیں
خلق ساری مکان کی زد میں
دشمنوں سے پناہ مانگی ہے
دوستوں کی امان کی زد میں

فکر موسم میں کیوں تغیر ہے
کیا یقیں ہے گمان کی زد میں

چُپ ہے شہنازؔ ایک مدت سے
نوکِ خنجر میان کی زد میں



راہ میں اپنی چراغِ رہگذر بیکار تھا
رک ہی جانا تھا تو پھر سارا سفر بیکار تھا

جب مری تقدیر میں چھائوں نہیں لکھی گئی
میرے آنگن میں اُگا ہر اک شجر بیکار تھا

پھر ہوا ایسا کہ سائے شہر کے جلنے لگے
چشمِ نم بے کار تھی دامانِ تر بیکار تھا

بھید کھل پایا نہیں گر تجھ پہ ہست و بود کا
گردشِ دوراں ترا سارا سفر بیکار تھا

مجھ کو ساحل کے حوالے کر دیا موجوں نے پھر
میرے پائوں سے بندھا ہر اک بھنور بیکار تھا

جب تیری اولاد ہی تجھ سے نہیں ہے مطمئن
تیری ساری جستجو سارا ہنر بیکار تھا



زرد موسم کو اجالوں میں چھپا رہنے دو
مری دیوار پر سورج کی ردا رہنے دو

سر اُٹھانے کی کہیں یہ نہ جسارت کر لیں
خس و خاشاک کو مٹی میں دبا رہنے دو

راستہ ڈھونڈ لے شاید کوئی بھولا بھٹکا
ان چراغوں کو سرِ راہ جلا رہنے دو

شوقِ آوارگی کچھ اور ابھی باقی ہے
منزلوں سے مجھے کچھ دیر جدا رہنے دو
پھر نہ دستک کھلی چوکھٹ پہ ہوائیں دیں گی
در شکستہ سہی کچھ دیر کھلا رہنے دو

مجھ کو اجداد کی اقدار بہت پیاری ہیں
میری دہلیز پہ مٹی کا دیا رہنے دو

ہم سفر مجھ کو دکھائو نہ نشانِ منزل
مجھ کو ملتا ہی نہیں اپنا پتا رہنے دو

تشنگی دید کی کم ہو نہیں پائی اب تک
خشک ہونٹوں پہ کوئی حرفِ دعا رہنے دو

موت تو درد کا درماں نہیں ہوتی شہنازؔ
محشرِ زیست ہی کچھ دیر بپا رہنے دو



جب زاویئے نگاہ کے یکسر بدل گئے
پھیلی تپش تو نقشِ تمنا پگھل گئے

وہ آسماں مزاج جراحت سرشت تھا
ہم دل کے آئینے کو بچا کر نکل گئے

اس عہد کے یزید کا کس سے کریں گلہ
خیمے تمام اپنے ہی ہاتھوں سے جل گئے

وہ انتہائے زعم میں پیچھے مڑا نہیں
ہم انتہائے شوق میں آگے نکل گئے

ظلمت شبِ سیہ کی سہتے رہے مگر
آئی نظر کرن تو ارادے بدل گئے



آئینے چٹختے ہیں حیرتوں کے موسم میں
خود سے بھی نہیں ملتے شہرتوں کے موسم میں

فصلِ گل نے کر لی دوستی خزائوں سے
پھول اب نہیں کھلتے خوشبوئوں کے موسم میں

خشک پتیاں رنگ کر شاخ پر سجا دینا
تتلیاں نہ مر جائیں پت جھڑوں کے موسم میں

پیڑ تو نبھاتے ہیں ساتھ رہنے والوں کا
گھونسلے سلامت ہوں آندھیوں کے موسم میں
خواب بھی ادھورے ہیں ساتھ بھی ادھورے ہیں
ہیں یہاں ادھورے سب خواہشوں کے موسم میں

حبس پیش خیمہ ہے آنے والے طوفاں کا
بند ٹوٹ جاتے ہیں بارشوں کے موسم میں

آبلے تو پھوٹیں گے کرچیوں کے چبھنے سے
پا فگار چلنا ہے ہجرتوں کے موسم میں

چوڑیاں کھنکتی ہیں چنریاں سنبھلتی ہیں
رنگ تو بکھرتے ہیں رتجگوں کے موسم میں

دشمنی کے موسم میں احتیاط لازم ہے
دوستوں سے بچنا ہے سازشوں کے موسم میں

آس ٹوٹ جائے تو سانس رکنے لگتی ہے
زندگی سے ڈرتے ہیں تہمتوں کے موسم میں

راکھ میں دبا شعلہ آگ بن کر بھڑکے گا
آندھیاں تو چلتی ہیں فاصلوں کے موسم میں
وہ ہیں گر ستمگر تو ہم ستم شناسا ہیں
نفرتوں کا پہرہ ہے چاہتوں کے موسم میں

وقت کے بدلنے سے قسمتیں بدلتی ہیں
آئو ہم دعا مانگیں آیتوں کے موسم میں

پاس میرے ہو کر بھی پاس وہ نہیں میرے
دوریاں یہ کیسی ہیں قربتوں کے موسم میں

غمِ ہجراں


کسی کی چنری میں دھوپ باندھی کسی کو وجہء جمال رکھا
کسی کے دامن میں صبح ٹانکی کسی کو شب کی مثال رکھا

تمنا دیدار کی مجھے تھی میں قریہ قریہ بھٹک رہی ہوں
عیاں ہوا تو سبھی پہ لیکن چھپا کے مجھ سے جمال رکھا

جہاں کے تخلیق کار تو نے یہ کیا کیا ہے یہ کیوں کیا ہے
بنا کے انساں کو سب سے افضل اسی کو روبہ زوال رکھا

یہ فیصلہ تیرا فیصلہ ہے مجال کس کی کہ اسکو بدلے
کسی کے دل میں ہوا چراغاں کسی کے رُخ پر ملال رکھا

وہ تیرا اپنا تھا میں نے مانا میں تیری کچھ بھی نہیں تھی جاناں
بچھڑنا تقدیر میں مری تھا نصیب اس کا وصال رکھا

فراق کی شب چمکتی یادوں کے جگنوئوں سے میں پوچھتی ہوں
مرے لیے کیوں نہ چاہتوں کا چراغ کوئی سنبھال رکھا



مری زندگی ہے بھنور بھنور مجھے ساحلوں کی نہیں خبر
ترے فیصلے پہ مری نظر نہیں کچھ لکھا مرے ہاتھ پر

مری چاہتوں کو خراج دے مجھے کل نہیں مجھے آج دے
نہ کرے گی کوئی دوا اثر مرے زخم رسنے لگے اگر

میں جنونِ عشق میں ہوں رواں مجھے مل سکا نہ کوئی نشاں
ہے تلاش میری بھی خوب تر ہوں عطا مجھے مرے بال و پر

کوئی جان و دل سے قریب ہے صفِ دوستاں بھی نصیب ہے
کیوں بھٹک رہی ہوں ادھر اُدھر مجھے مل گیا درِ معتبر

مرے عشقِ خام کو نام دے مری کاوشوں کو دوام دے
مجھے منزلوں سے قریب کر ہوں مسافتیں میری مختصر

مری ذات میں رہا اک خلاء مجھے تو نے خود سے رکھا جدا
ہوں تیری تلاش میں دربدر نہ نظر چرا مرے چارہ گر



خموش جھیل میں کنکر وہ پھینکتا بھی نہیں
سکوت ایسا ہے طاری کہ ٹوٹتا بھی نہیں

نہ شہرِ دل میں رکا اور نہ میرے ساتھ رہا
پکار سن کے مری وہ کبھی مڑا بھی نہیں

بکھرنے ٹوٹنے دیتا نہیں حوادث میں
حوالے ذات کے اپنے سمیٹتا بھی نہیں

وجود ہے کوئی سایہ ہے یا تخیل ہے
وہ دور دور ہے مجھ سے مگر جدا بھی نہیں
بھٹکتی رہتی ہوں اکثر غلام گردش میں
کسی بھی موڑ پہ وہ آج تک ملا بھی نہیں

وہ اجنبی ہے شناسا ہے جانے کون ہے وہ
مجھے تلاش ہے اُسے پتا بھی نہیں

انوکھا اُس کا تجاہل عجب تغافل ہے
مناتا مجھ کو نہیں مجھ سے روٹھتا بھی نہیں

ارادہ کیا تھا مسافر کا کچھ نہیں معلوم
سفر پہ جانے سے پہلے مجھے ملا بھی نہیں

کیوں ہم کلام ہے شہنازؔ اک تخیل سے
جو دیکھتا ہے نہ سنتا ہے بولتا بھی نہیں



چھین لی وقت نے دیرینہ رفاقت میری
در بدر مجھ کو کیئے رکھتی ہے وحشت میری

آگے بڑھتی ہی نہیں ہوں کبھی اس خوف سے میں
مجھ کو مجھ سے ہی جدا کر دے نا شہرت میری

تو نے جاتے ہوئے اک بار تو سوچا ہو گا
ہم سفر تیری رفاقت تھی ضرورت میری

تیری آواز نہ اب مجھ کو سنائی دے گی
اے خدا چھین لے تو مجھ سے سماعت میری
کس جگہ جا کے چھپا ہے یہ بتا دے مجھ کو
ڈھونڈ کر کیوں نہیں لاتی تجھے چاہت میری

اے جنوں خیز محبت ترا سودا دیکھوں
گردشِ وقت با اندازِ تماشا دیکھوں

پوچھتی پھرتی ہوں میں تیرا ٹھکانہ سب سے
اجنبی شہر میں کیسے تجھے ٹھہرا دیکھوں

چشمِ پر نم کے جھروکوں میں چھپا لوں نا تجھے
اپنے سے دور تجھے کیسے میں بیٹھا دیکھوں

ہے کٹھن راستہ بینائی بھی مدھم مدھم
جلتے سورج کے تلے شب کا اندھیرا دیکھوں

ساتھ رہنا ترے عادت سی رہی ہے مری
بن ترے خود کو بتا کیسے میں تنہا دیکھوں

میں جدائی کے تصور سے لرز جاتی تھی
ایسا کب سوچا تھا ایسے تجھے جاتا دیکھوں



وقت ظالم کو زمانے نے مسیحا سمجھا
اور ہر اک درد کا اسکو ہی مداوا سمجھا

اہلِ دانش نہ کوئی عالم و دانا سمجھا
بات سمجھا تو مری صرف دوانہ سمجھا

اپنوں کو غیر کہا غیر کو اپنا سمجھا
ہم جہاں بیٹھ گئے اسکو ہی ڈیرہ سمجھا

اُس کے ہاتھوں میں تھما دی گئی ڈوری شہنازؔ
جس نے جیون کو مرے صرف تماشا سمجھا



کاتبِ وقت یہ منشور نہ لکھا جاتا
حوصلہ مند کو مجبور نہ لکھا جاتا

گردشِ شام و سحر ایسے ہی جاری رہتی
ہجر کا دن غمِ دیجور نہ لکھا جاتا

دل کی بستی میں ترے دم سے چراغاں رہتا
چشمِ پر نور کو بے نور نہ لکھا جاتا

سُرخ پلو میں دھنک ہاتھ میں گجرے رہتے
زرد موسم دلِ رنجور نہ لکھا جاتا

تخت سلطان اُجڑتا نہ بچھڑتے ہم لوگ
شاہ کی ناز کو مزدور نہ لکھا جاتا



صلیبِ وقت نے ایسے چنا سزا کے لئے
میں ہاتھ تک بھی اُٹھا پائی نہ دعا کے لئے

نگل نہ جائے کہیں آج گہرا سناٹا
کوئی تو بات کرو آج تم خدا کے لئے

ہے تار تار تری یاد کا حسیں ملبوس
کہاں سے لائوں رفو گر پھٹی قبا کے لئے

کسی نے میری گواہی میں لب نہیں کھولے
کڑی ہے کتنی سزا جرمِ بے خطا کے لئے

پکارو پھر ذرا شاہ ناز کہہ کے آج مجھے
ہوں منتظر میں ابھی تک اُسی صدا کے لئے


داستاں اپنی سناتے تمہیں مہماں کرتے
ذکرِ جاناں غمِ دوراں غمِ ہجراں کرتے

کوئی آتا ہی نہیں ہے مرے غم خانے تک
دل کے بہلانے کو کیا شامِ غریباں کرتے

وقت گذرا ہے یونہی گوشئہ دل کو اپنے
اُس کی یادوں سے سجاتے کبھی ویراں کرتے

پوچھتے حال ہمارا جو کبھی وہ آ کر
چشمِ گریہ کو سجا دعوتِ مژگاں کرتے

آبلے پیاس بجھانے کے لیے کافی تھے
گر کہیں تھوڑا کرم خارِ مغیلاں کرتے

دو گھڑی کو ہی چلے آتے تسلی دینے
درد جو بخشا تھا اُس درد کا درماں کرتے

بیتی صدیوں کی تھکن پل میں اُتر جاتی اگر
زندگی ساتھ بسر وہ کسی عنواں کرتے



طوفاں سے نکلنے میں ذرا دیر لگے گی
کشتی کو سنبھلنے میں ذرا دیر لگے گی

بدلی سے پرے چاند مرا ڈوب گیا ہے
منظر کے بدلنے میں ذرا دیر لگے گی

دکھ درد بچھڑنے کا سنبھلنے نہیں دیتا
اب دل کے بہلنے میں ذرا دیر لگے گی

ظلمت شبِ دیجور کی چھٹ جائے گی لیکن
سورج کے نکلنے میں ذرا دیر لگے گی

گردش نے تو نقشہ ہی بدل ڈالا ہے شہنازؔ
محور کے بدلنے میں ذرا دیر لگے گی



سلگتی ذات کے منظر کو اب بدلنا ہے
اُداس شام کے لمحوں میں رنگ بھرنا ہے

سکت سفر کی تو باقی نہیں ہے تیرے بعد
بس اب تو صرف سفر کو تمام کرنا ہے

خزاں ہے نوحہ کناں فصلِ گُل پریشاں ہے
بدلتی رُت یہ بتا اب کہاں ٹھہرنا ہے

جنازہ اپنے ہی کندھوں پہ لاد کر شہنازؔ
کبھی بھی شہر خموشاں میں جا اُترنا ہے



وہ لوٹا ہی نہیں شاید سفر سے
کوئی گذرا نہیں اس رہگذر سے

تھکے دن کی طرح میں بھی تھکی ہوں
مجھے لینا ہے کیا شام و سحر سے

یہ چھالے پائوں کے بتلا رہے ہیں
ابھی تک دور ہوں میں اپنے گھر سے

نئے منظر بھی اب بنتے نہیں ہیں
نظر آتا نہیں کچھ چشمِ تر سے
تلاش سمت میں بھٹکی ہوئی ہوں
مجھے رستہ دکھا کہہ دے خضر سے

میں پابندِ مکاں رہنا نہ چاہوں
عجب اک خوف سا ہے بام و در سے

ٹھکانا مجھ کو مشکل سے ملا ہے
کہیں جاتی نہیں کھونے کے ڈر سے

لئے سب ہاتھ میں پتھر کھڑے ہیں
نکل شہنازؔ اب شیشے کے گھر سے



منزل کوئی ملی نہ کوئی ناخدا ملا
کیوں اس سفر نصیب کو رستہ جدا ملا

اس پار جا اترنے کی خواہش کبھی جو کی
ہر پل ہی درمیان سے ٹوٹا ہو ملا

مدت کے بعد لوٹ کر آئے جو شہر میں
دیرینہ دوستوں کا بھی چہرہ نیا ملا

ہم رازداں کسی کو بناتے تو کس طرح
ہر شخص اپنی ذات کے اندر چھپا ملا

ہر لمحہ ریزہ ریزہ بکھرتی رہی ہوں میں
یکجا جو کر سکے نہ کبھی وہ خدا ملا

شہنازؔ تو گمان کی حد میں ٹھہر گئی
ہر سمت سے یقین بھنور میں گھرا ملا



جو تھے منزلوں کے فراق میں سبھی راستے وہ مٹا دئیے
سرِ شام ہی جو بھڑک اُٹھے وہ الائو میں نے بجھا دئیے

میں فریبِ وقت میں قید تھی رُخ، کارواں نہ بدل سکی
کڑی دھوپ میں جو ملے شجر تو وہیں پہ ڈیرے جما دیئے

تھا عجب میرا بھی ناخدا اُسے آزمانا تھا حوصلہ
مجھے ظلمتوں کے سپرد کر کے چراغ سارے بڑھا دیئے

نہ ملا مجھے کوئی نقشِ پا نہ وصال کا ہی سبب بنا
مرے ریزہ ریزہ سے خواب تھے شبِ نارسا میں جلا دئیے
لئے ہاتھ میں وہ کٹے شجر رہے منتظر کہ ملے ثمر
نظر آئے اُن کو نہ بال و پر جو تھے گھونسلوں میں دبا دیئے

یہ ترا کرم ہے مرے خدا وہ نظر ہوئی ہے مجھے عطا
صفِ دوستاں میں چھپے ہوئے رُخِ دشمناں بھی دکھا دیئے

کبھی سرد سرد سی دھوپ تھی کبھی تھی تپش جمی برف میں
نئے موسموں کے مزاج نے سبھی رُخ فضا کے دکھا دیئے

نہ سمندروں سا مزاج تھا نہ فضائوں جیسی تھیں وسعتیں
تو ہوا کے رُخ پہ چراغ کیوں شبِ تار سارے جلا دیئے

بعد تیرے


’’بعد تیرے‘ ‘داستانِ غمِ ہجراں

’’پیام نو‘‘ کے ساتھ شاعری کی وادیٔ پرخار میں قدم رکھا۔ کسے معلوم تھا کہ ’’جذب و حروف‘‘،’’ جراتِ اظہار‘‘، کا سلیقہ پیدا کر دیں گے اور یوں’’ عکس دیوار پہ تصویر ‘‘بنانے کے ساتھ ساتھ ’’موم کے سائبان ‘‘تلے زندگی گزارنے کا فن بھی سیکھنا پڑے گا۔ وہا ں دیکھے جانے والے’’ میرے خواب ادھورے ہیں‘‘۔ ان کی تعبیرکی تلاش میں ’’جادہ عرفاں‘‘ پر بھی چلنے کی کوشش کی اور ’’ عشق تماشا‘‘ بھی کر کے دیکھا۔ محبتوں کی مقروض رہی اور’’ قرض وفا‘‘ بھی اتارنا پڑا۔ سفر اتنا طویل تھا کہ دوران سفر ہم سفر بھی تنہا چھوڑ گیا۔’’ بعد تیرے‘‘ غم ہجراں اور فرقت کے لمحات کی کہانی ہے۔ سفر جاری ہے، کون جانے کس کس رستے اور کس کس منزل سے گزرنا باقی ہے۔’’ عشق دادیوا‘‘ جل رہا ہے شاید کوئی سراغ مل جائے ۔ ورنہ عاشق اور جنونی کوتو عشق اور جنوں کہیں ٹھہرنے نہیں دیتا۔ منزل اس کے لیے بے معنی ہے۔ بظاہر جو منزل نظر آتی ہے وہ کسی نئی منزل کی راہ دکھلارہی ہوتی ہے۔ آبلا پا متلاشی پابجولاں اپنا سفر جاری رکھتا ے۔
میں داستان سفر سناتی ہوں اور آپ شوق سے سنتے ہیں۔ ہمیشہ نئی داستان کی تلاش میں نیا سفر کرتی ہوں تاکہ آپ کو نامعلوم سفر کی داستان سنا سکوں۔ میں نے اس کتاب کا نام’’ تیرے بعد‘‘ رکھا تھا مگر اس کی تکمیل کے دوران یہ نام کسی اور نے استعمال کر لیا ۔ کیونکہ میرے اشعار میں ’’تیرے بعد‘‘ اور’’ بعد تیرے ‘‘بہت دفعہ استعمال ہوا ہے اس لیے اس کو ’’بعد تیرے‘‘ کا ٹائٹل دیا ہے۔ بعد تیرے جو گزری وہ آپ کے سامنے ہے۔ اب ذرا زخموں کو سہلا لوں۔ آبلوں پر مرھم لگا لوں۔ پھر ہمیشہ کی طرح آپ کی طرف سے حوصلہ افزائی ملنے پر ایک نئے سفر کی داستان کے ساتھ حاضر ہوں گی۔
اللہ حافظ!
شہناز مزمل
ادب سرائے، 125
ایف ماڈل ٹائون، لاہور


حمدباری تعالیٰ

عشق میں آگے بڑھے اور بڑھا سوز و گداز
عقل کی اب تو سنائی نہیں دیتی آواز

ہوش آتا ہی نہیں ہے ترے دیوانے کو
جذب کا کیف کا مستی کا عجب ہے انداز

آج تک خود کو سنبھالا ہے بڑی مشکل سے
کھول دے نہ دلِ مدہوش کہیں عشق کے راز

بن پلک جھپکے تجھے بیٹھ کر پہروں دیکھوں
میرے سجدے ہوں مجسم مری قائم ہو نماز

کوئی سمجھا ہے نہ سمجھے گا مری بات یہاں
تو ہی بتلا دے بھلا کس سے کروں راز و نیاز


نعتِ رسول مقبولﷺ

نہاں تھی محبت عیاں ہو رہی ہے
مری دھڑکنوں میں اذاں ہو رہی ہے

تہجد کے گریہ میں شامل ہوا بھی
مرے عشق کی رازداں ہو رہی ہے

میں چپ چاپ نظریں جھکائے کھڑی ہوں
خموشی مری اب زباں ہو رہی ہے

پکارے ہے دھڑکن محمدؐ محمدؐ
حدیثِ محبت بیاں ہو رہی ہے
میں عاشق ہوں دیوانگی بڑھ کے حد سے
مرے عشق کا امتحاں ہو رہی ہے

سراپاء اقدس دکھا نیم شب میں
یہ فرقت تو سنگِ گراں ہو رہی ہے

وہ شامل ہیں دھڑکن میں سانسوں میں خوں میں
عبادت یہاں سے وہاں ہو رہی ہے



نظر کا یہ مری دھوکا نہیں ہے
وہ مجھ میں ہے مجھے بھولا نہیں ہے

قسم ترکِ تعلق کی نہ کھائو
تمہیں کھو کر یہ دل سنبھلا نہیں ہے

ہمیں یارائے ضبطِ غم ہے اتنا
کوئی بھی زخم اب رستا نہیں ہے

زباں سے آج سچی بات کہہ دے
جنوں کو آج تک سمجھا نہیں ہے
عجب حیرت کا مجھ کو سامنا ہے
کہ تیرے بعد کچھ دیکھا نہیں ہے

مجھے بس صرف اس کی ہے ضرورت
وہ میری بات کو سمجھا نہیں ہے

ہے شاید مصلحت کا یہ تقاضا
وہ چپ ہے آج کچھ کہتا نہیں ہے



عشق کو اپنے لیے سمجھا اثاثہ دل کا
اور اس دل نے بنا ڈالا تماشا دل کا

بعد تیرے کوئی نظروں میں سمایا ہی نہیں
اب صدا دیتا نہیں خالی یہ کاسہ دل کا

ایک طوفان ہے روکے سے نہیں جو رکتا
موج نے توڑ دیا ہو نہ کنارا دل کا

دو گھڑی چین سے جینے نہیں دیتا ناداں
جان پاتے ہی نہیں کیا ہے ارادہ دل کا
وہ پلٹ آئے کبھی اور اسے میں نہ ملوں
لے ہی ڈوبے گا کسی روز یہ دھڑکا دل کا

چاہتیں بانٹی ہیں دنیا کو محبت دی ہے
میں نے کب یونہی سنبھالا ہے خزانہ دل کا

درمیان عشق کے دیوار کھڑی ہے شہنازؔ
عقل پہ کیسا لگا آج یہ پہرا دل کا



آج تک مجھ کو ترے جانے کا منظر یاد ہے
ہجر کی شب دل پہ جو رکھا تھا پتھر یاد ہے

کیا خبر یہ راستہ بدلا گیا کس کے لیے
یاد ہے اس کا ستم مجھ کو ستمگر یاد ہے

سسکیاں بڑھتی گئیں لب پر فغاں کب آ سکی
ضبط کے بندھن نے جو روکا سمندر یاد ہے

جتنا میں آگے بڑھی وہ اتنا پیچھے ہٹ گیا
میں پلٹ آئی جہاں سے آج وہ در یاد ہے



کیسے ہیں جئے عشق میں حیران بہت ہیں
منزل پہ پہنچ جانے کے امکان بہت ہیں

مشکل ہے بہت اس دل وحشی کا سنبھلنا
ہاں ہاں دلِ شوریدہ میں ارمان بہت ہیں

ہے درد کے صحرائوں کی وسعت بھی زیادہ
دریا کی نظر میں ابھی طوفان بہت ہیں

دے اب تو اجازت کہ کوئی قرض چکا دوں
مجھ پر اے محبت ترے احسان بہت ہیں



کچھ اور روز یہاں پر قیام کرنا ہے
سکوں سے جینے کا کچھ اہتمام کرنا ہے

سکت سفر کی تو باقی نہیں ہے تیرے بعد
بس اب تو صرف سفر کو تمام کرنا ہے

نویدِ صبح زمانے کو عمر بھر دی ہے
اب اپنی صبح کی اچھی سی شام کرنا ہے

کسی سے شکوہ گلہ رنجشیں نہیں ہوں گی
کچھ ایسے آج محبت کو عام کرنا ہے

ترا خیال ہی کافی ہے عمر بھر کے لیے
اثاثہ یاد کا بس تیرے نام کرنا ہے



دوڑتے پھرتے ہیں ہر سمت امیدوں کے غزال
درد صحرا میں بچھا آج کوئی دامِ خیال

ہم نے کیا خوب سنبھالا ہے دلِ مضطر کو
نہ کوئی لب پہ شکایت نہ کوئی حرفِ سوال

روٹھنے والے کو ہم جان بہ لب کیا کہتے
وقتِ رخصت غمِ ہجراں غمِ فردا سے نڈھال

ہم نے چاہا تھا جنہیں وہ تو ہمیں چھوڑ گئے
کون ہے آ کے جو پوچھے دلِ بیمار کا حال

کھو گئے بعد ترے دشتِ فراموش میں ہم
صرف باقی جو بچا وہ ہے بچھڑے کا ملال



اس کا انداز تغافل سے جلاتے رہنا
اپنا تو کام ہے زنجیر ہلاتے رہنا

عشق تکمیل کی حد کو کبھی چھو لے شاید
کرچیاں جوڑ کے اک عکس بناتے رہنا

غمِ جاناں غمِ ہجراں کے تسلسل کے لیے
آئینہ تم غمِ دوراں کا دکھاتے رہنا

دور تک پیچھا نہیں چھوڑتی وحشت اپنا
دشتِ فرقت میں ذرا ہاتھ ہلاتے رہنا
قیدِ تنہائی ہے اک کربِ مسلسل کی طرح
دو گھڑی آ کے ذرا اس کو گھٹاتے رہنا

گردشِ وقت بتا تو نے یہی سیکھا ہے
خس و خاشاک کو مٹی میں ملاتے رہنا

روشنی کرب کی شدت کو بڑھا دیتی ہے
ڈوبتی شب میں چراغوں کو بجھاتے رہنا

درد صحرا میں بھٹکتا نہ پھرے بے چارہ
دیپ اک آس کا ہر سمت جلاتے رہنا

بعد ترے کوئی وعدوں پہ جیا کرتا ہے
بھولنے والے کو یہ یاد دلاتے رہنا



اس کو آنکھوں میں بھر کے دیکھیں گے
دل میں اس کے اتر کے دیکھیں گے

داستانِ فنا بقاء کے لیے
پھول بن کر بکھر کے دیکھیں گے

عشق نشہ ہے اور نشے میں
زخم کھائیں گے مر کے دیکھیں گے

کیوں ہے دشمن ہوا چراغوں کی
اس پہ الزام دھر کے دیکھیں گے

ایک تصویر زندگی ہے اگر
خون خاکے میں بھر کے دیکھیں گے

زندگی موت کا تسلسل ہے
موت کو ہم نہ ڈر کے دیکھیں گے



ہمیں بھولے نہیں ہو یہ ابھی تک مان باقی ہے
تمہارے لوٹ آنے کا ابھی امکان باقی ہے

فریبِ آرزو میں دربدر ہوتے رہے اکثر
تمنا ہو کوئی پوری یہی ارمان باقی ہے

بہت سے ہیں مراسم اور بہت ہیں رابطے اپنے
مگر اپنے پرائے کی ابھی پہچان باقی ہے

ادھوری خواہشیں اپنی ادھورے رہ گئے ہیں ہم
کوئی الجھن کوئی تلخی کوئی خلجان باقی ہے
اسے گردش نے مجھ سے چھین کر مٹی کو دے ڈالا
دلِ ویران میں اب تک مرا سلطان باقی ہے

تمارے پاس آنے کی کوئی جلدی نہیں ہم کو
بہت سا کام باقی ہے ابھی دیوان باقی ہے

مرے آنسو ستارے جان کر دامن میں بھر لو گے
شبِ فرقت سجا دو گے یہ اطمینان باقی ہے



وہ ہی رگ رگ میں سمایا تھا کوئی دوجا نہ تھا
ٹوٹ کر چاہا اسے میں نے اسے پوجا نہ تھا

اس لیے وہ عمر بھر مجھ کو بہت اچھا لگا
جھک گیا اکثر مگر گر کر کبھی ٹوٹا نہ تھا

میں اسے محسوس کر سکتی ہوں اپنے چار سو
وہ تھا جیسا اس کے جیسا اور تو دیکھا نہ تھا

وقت رخصت اس کی آنکھوں میں نمی اتری تو تھی
دھندلکا چھایا مگر وہ ٹوٹ کر رویا نہ تھا

میں نے چاہا بارہا اس کو پلٹ کر دیکھنا
زندگی کی دوڑ میں مجھ کو نظر آیا نہ تھا



ہوا کیوں راستہ روکے کھڑی ہے
کسی کے لوٹ آنے کی گھڑی ہے

کہانی ہو بھلا کیسے مکمل
یہاں تو سب کو ہی اپنی پڑی ہے

وفا کا رنگ بھی بدلا ہوا ہے
جفا بھی ہاتھ پھیلائے کھڑی ہے

نہیں درکار ہنگامِ جہاں اب
بہت آباد دل کی جھونپڑی ہے
ذرا کچھ دیر رک جا سبز موسم
مری تتلی بھی پر تولے کھڑی ہے

زمیں کا دشت کندن ہو گیا ہے
نہ بادل ہیں نہ ساون کی جھڑی ہے

ستارے پھر مری پلکوں پہ ٹھہرے
محبت کی سزا کتنی کڑی ہے

نہیں یہ جانتی معصوم چڑیا
وہ چھوٹی ہو کے بھی کتنی بڑی ہے

نظر شہنازؔ کو کیا آ رہا ہے
بہت مدت میں یہ خود سے لڑی ہے



اپنی یادوں کے چراغوں کو چلانا چاہوں
دل کی ہر بات تجھے آج بتانا چاہوں

ٹمٹماتے ہیں دئیے ہجر کے ان آنکھوں میں
چشمِ پُر نم سے انہیں آج بجھانا چاہوں

تو نے جاتے ہوئے اک بار تو سوچا ہو گا
ساتھ جینے کو ترے ایک زمانہ چاہوں

کچھ بھی اچھا نہیں لگتا ہے مجھے تیرے بعد
بن ترے نام بھی میں اپنا مٹانا چاہوں

عکس کوئی بھی نہیں دل کو مرے بھاتا اب
دل کے آئینے کو پتھر سا بنانا چاہوں

اک عجب لطف سلگنے میں ملا ہے شہنازؔ
آس کی شمع جلا کر میں بجھانا چاہوں



منزلیں گم ہو گئیں کیا ہم سفر کا سوچنا
جو نہیں موجود اب کیا ایسے ڈر کا سوچنا

چار دیواری سے ڈرتے تھے اچانک کیا ہوا
دشتِ وحشت میں بھٹک کر بام و در کا سوچنا

سوچ کی پرواز کو اب مل گئے ہیں تازہ پر
چھوڑ دے اب تو پرانے بال و پر کا سوچنا

تیری ہر تحریر کا انداز ہو سب سے جدا
چن کے لکھنا لفظ حرفِ معتبر کا سوچنا

وقت بدلا ہے تو اپنی سوچ کو تو بھی بدل
اب چراغوں کا نہیں شمس و قمر کا سوچنا



تو زندگی کا طور طریقہ بدل ذرا
منزل نہیں ملی ہے تو رستہ بدل ذرا

اک ایک کر کے سارے بھنور ٹوٹتے گئے
اے موج تو بھی اپنا ارادہ بدل ذرا

کچھ اس کو بھی احساس ستم ہو سکے شاید
گر دل نہیں بدلتا تو چہرہ بدل ذرا

اب تو فریب کھانے کا بھی حوصلہ نہیں
مجھ کو پکارنا ہے تو لہجہ بدل ذرا

کاتب کے لیے کچھ بھی تو دشوار نہیں ہے
یا نام ہی بدل یا ستارہ بدل ذرا

شہنازؔ تو تو عشق تماشے میں کھو گئی
اب زندگی کے رخ کو دوبارا بدل ذرا



غیر سے اس کی رفاقت نہیں دیکھی جاتی
مجھ سے خود اپنی ہی وحشت نہیں دیکھی جاتی

اک گھڑی بھر کے تعلق کی حقیقت کیا ہے
دلِ مضطر سے شراکت نہیں دیکھی جاتی

کہہ دیا اپنا اسے سوچنا بے معنی ہے
دوستی میں تو مروت نہیں دیکھی جاتی

گُل کیے جاتی ہے دہلیز پہ جلتے دیپک
اے ہوا تیری شرارت نہیں دیکھی جاتی
خواب کب کوئی بھی شرمندہء تعبیر ہوا
بجھتی آنکھوں میں ندامت نہیں دیکھی جاتی

ہجر کا دن تو کسی طور ہی کٹ جاتا ہے
شبِ فرقت کی قیامت نہیں دیکھی جاتی

بس یہ طے ہے کہ سفر ساتھ کریں گے ہم تم
ہم سفر کی کوئی عادت نہیں دیکھی جاتی

ٹھیس لگتی ہے انا پر تو لہو کھولتا ہے
چشمِ نم دیدہ کی غیرت نہیں دیکھی جاتی

کس لیے ترکِ تعلق پہ ہوئے آمادہ
آپ سے کیا مری چاہت نہیں دیکھی جاتی



شام کے دھندلکے میں راستہ بنا دینا
ہاتھ پر ہوا کے تم اک دیا جلا دینا

دھوپ لے کر اترا ہے کوئی مرے آنگن میں
چاندنی کو چندا کو گھر مرا دکھا دینا

حوصلہ تو کافی ہے تھک گئی ہوں لیکن اب
جتنی سہہ سکوں گی میں اس قدر سزا دینا

جگنوئوں ستاروں کے قافلوں سے کہہ دینا
رات کے مسافر کو راستہ دکھا دینا
نفرتوں کے چنگل سے آ کے اب نکالو بھی
ہے کہاں محبت کا راستہ بتا دینا

تجھ سے پیار کے بدلے اور کچھ نہ مانگوں گی
مجھ کو ایک اچھی سی بس کبھی دعا دینا

وہ مری تمنا کا اک حسین محور ہیں
جان میری بس وہ ہیں یہ انہیں بتا دینا

اس کو یہ نیا جیون یہ خوشی مبارک ہو
پھول اس کے آنگن میں اے خدا کھلا دینا



دستکیں شب بھر ہوا دیتی رہی
لو چراغوں کی صدا دیتی رہی

بدلیوں کی اوٹ میں تھا چاند اور
جانے کیا کیا چاندنی کہتی رہی

شب پہ کیا گزری کسے معلوم ہے
صبح تارے اوڑھ کر سوتی رہی

پھول سے بھنوروں کی سن کر داستاں
رات بھر شبنم یونہی روتی رہی

چن کے تتلی پھول کی کچھ پتیاں
خوشبوئوں سے باوضو ہوتی رہی



فریبِ آرزو کھاتے رہے ہیں
یونہی اس دل کو بہلاتے رہے ہیں

گو خود کو بھی سمجھ پائے نہ اب تک
وہ ہم کو آ کے سمجھاتے رہے ہیں

جنہیں کچھ بھی نظر آتا نہیں ہے
انہیں آئینہ دکھلاتے رہے ہیں

تعلق کوئی بھی ہم سے نہیں ہے
پلٹ کر کس لیے آتے رہے ہیں

گوارا ہی نہیں خود جن سے ملنا
انہیں وہ ہم سے ملواتے رہے ہیں



اپنی نظروں سے وہ گرا کیسے؟
کب ہوا کیوں ہوا، ہوا کیسے؟

دل تو مدت سے ساتھ چھوڑ گیا
پھر یہ دھڑکن یہ شور سا کیسے؟

ایک پل بھی جو دور رہ نہ سکا
مجھ سے وہ دور ہو گیا کیسے؟

ہر گھڑی وہ مری نگاہ میں تھا
میری نظروں سے چھپ گیا کیسے؟
ہم سفر تھا وہ منزلوں کا مگر
راستے میں وہ رک گیا کیسے؟

ساتھ رہنے کا تم سے وعدہ تھا
راستے ہو گئے جدا کیسے؟

دوستی اس کی آندھیوں سے تھی
نیم شب میں دیا بجھا کیسے؟

کچھ بتائے گی چشمِ حیراں ہی
ٹوٹ جاتا ہے آئینہ کیسے؟

مجھ سے بچھڑا تھا وہ حسیں لمحہ
دامن وقت پر سجا کیسے

وہ تو خود سے بھی چھپ کے بیٹھا تھا
وہ ملا تو تمہیں ملا کیسے؟



تجھ سے مل کے بھی آج وحشت ہے
کیا قیامت سی یہ قیامت ہے

عشق آسان مرحلہ تو نہیں
عاشقی کیف ہے ضرورت ہے

کون جیتا ہے کون مرتا ہے
دیکھ لے اتنی کس کو فرصت ہے

دیکھ لینا وہ مان جائے گا
روٹھ جانے کی اس کو عادت ہے

منتظر ہیں سماعتیں کب سے
کہہ بھی دو نا تمہیں محبت ہے



کٹا کے پر بھی تہہِ دام وہ نہیں آیا
پلٹ کے گھر بھی سرِ شام وہ نہیں آیا

نہ جانے کونسی مشکل میں گھر گیا ہے وہ
کبھی کہیں سے بھی ناکام وہ نہیں آیا

ابھی تو آبلہ پا کا سفر بھی باقی ہے
سکونِ دل ملے انجام وہ نہیں آیا

وہ نامور ہے ستائش سے دور رہتا ہے
تمام عمر لبِ بام وہ نہیں آیا

ہمیں نکلتے ہیں اب اس کو ڈھونڈنے شہنازؔ
کبھی تو اپنے کسی کام وہ نہیں آیا



مجھے جینے کا رستہ پھر دکھا دو
مجھے بڑھنے کا آگے حوصلہ دو

ہزاروں خواہشیں ہیں نامکمل
نئی امید کو مت راستہ دو

میں بچپن اپنا ان میں ڈھونڈ لوں گی
مجھے پھر سے کھلونے کچھ دلا دو

کبھی ظلمت کدے میں روشنی ہو
دیا دہلیز پر آ کر جلا دو
تپش سے جل گیا ہے جسم سارا
ہوائوں کو مرے گھر کا پتا دو

بہت مدت سے میں سوئی نہیں ہوں
کہانی ہی کوئی آ کر سنا دو

بہت معصوم سی خواہش ہے میری
ستارے تتلیاں جگنو ہی لا دو

مجھے مل جائے بن مانگے ہی سب کچھ
مقدر کا سکندر ہی بنا دو



خواب میں آتے ہیں سب روز دلاسا دینے
کیوں چلے آتے ہیں سب مجھ کو سنبھالا دینے

شام کاجل مری پلکوں پہ سجا دیتی ہے
رات آ جاتی ہے پھر اشکوں کی مالا دینے

میں کسی پہر بھی دروازے کو کھولوں کیسے
کون آئے گا سویروں کا اجالا دینے

غم و آلام نے کر ڈالا مجھے یخ بستہ
آ بھی جائو نا محبت کا دوشالہ دینے

تیرگی ظلمتِ شب کی ذرا چھٹ جائے گی
منتظر چاند کو کب آئو گے ھالا دینے



کوئی آہٹ کوئی کھٹکا سا ہوا تو ہو گا
میرے آنے کا اسے دھوکا ہوا تو ہو گا

ساتھ رہتا ہے جو احساس میں خوشبو کی طرح
نام میرا کبھی اس نے بھی لیا تو ہو گا

اس نے بھی آنکھ گھڑی بھر کو نہ جھپکی ہو گی
دل میں اس کے کوئی دھڑکا سا لگا تو ہو گا

ڈوبتے ڈوبتے اس کو ہی پکارا میں نے
میری آواز کو سن کر وہ مڑا تو ہو گا



کیا اس کو مرا کرب دکھانا ہے ضروری
نالہ بھی مرا اس کو سنانا ہے ضروری

دکھلاتا رہے طرزِ تغافل و تجاہل
ہاں اس کا مگر لوٹ کے آنا ہے ضروری

چھلنی ہے جگر آنکھ سے رستا ہے لہو اب
ہاں بارِ درگر چوٹ بھی کھانا ہے ضروری

آتا ہی نہیں مجھ کو منانے کا سلیقہ
وہ عشق ہے اپنا یہ بتانا ہے ضروری

پر کاٹ کے صیاد نے آزاد کیا ہے
اب حوصلہ اپنا بھی دکھانا ہے ضروری

حد ظلم کی بڑھ جائے تو کچھ اور زیادہ
ظالم کے لیے دام بچھانا ہے ضروری



دیئے کے بین کو کس نے سنا ہے
وہ شب ڈھلنے سے پہلے بجھ گیا ہے

مٹا دیتی ہے سارے نقش پل میں
بہت شوریدہ سر چلتی ہوا ہے

ہمیشہ آبلے پھٹتے رہے ہیں
مسیحا کب کوئی پیدا ہوا ہے

مجھے رستے ہی میں وہ چھوڑ دے گا
عجب سا فیصلہ اس نے کیا ہے
بچھے خارِ مغیلاں ہر طرف ہیں
یہ کیسا راستہ میں نے چنا ہے

کٹے گا اب یہ کیسے حبس موسم
ہوا کا زور بھی تھم سا گیا ہے

بہت مدت سے مینہ برسا نہیں ہے
الائو درد کا بھڑکا ہوا ہے



زندگی سے گزر کے دیکھیں گے
اپنے اندر اتر کے دیکھیں گے

ضبط کو اپنے آزمانا ہے
ٹوٹ کر ہم بکھر کے دیکھیں گے

کچھ تو لا حاصلی کا حاصل ہو
ایک کوشش تو کر کے دیکھیں گے

مسکرا کے بھی ہم نے دیکھ لیا
خود پہ ہم طنز کر کے دیکھیں گے

روز وعدوں سے وہ مکرتا ہے
آج ہم بھی مکر کے دیکھیں گے

کیوں چھلکتے ہیں بھر کے پیمانے
خالی پیمانے بھر کے دیکھیں گے



چھپے ہو سات پردوں میں تمہیں تصویر کرنا ہے
ہمیں تو آج اپنے عشق کی تشہیر کرنا ہے

مکیں مدت سے ہوں ظلمت کدے میں آج سوچا ہے
لبادہ چاندنی کا اوڑھ کر تنویر کرنا ہے

بہت ٹھہرائو سا محسوس ہوتا ہے طبعت میں
اب آگے بڑھ کے شہرِ آرزو تسخیر کرنا ہے

اسیری کے ہوئے عادی نہیں صیاد سے شکوہ
اسی کُنجِ قفس کو باعثِ توقیر کرنا ہے
یہ سوچا ہے کہ اب کچھ نہ چھپائیں گے زمانے سے
جو دل پر نقش ہے قرطاس پر تحریر کرنا ہے

خیالوں کی بہت یلغار سی رہنے لگی ہے اب
انہیں اب سلسلہ در سلسلہ زنجیر کرنا ہے

ہوا ہے جل کے یہ دل راکھ دنیا کی محبت میں
زمانے کے لیے اس خاک کو اکسیر کرنا ہے

پرانے اور ادھورے خواب سارے طاق میں رکھ کر
نیا اک خواب بننا ہے نئی تعبیر کرنا ہے

مجھے جلدی بھی ہے گھر شام سے پہلے پہنچنے کی
ستارہ جو سنبھالا ہے اسے تقدیر کرنا ہے

پرانے سب نظاروں سے یہ دل بھر سا گیا ہے اب
نیا منظر بنانے کی کوئی تدبیر کرنا ہے



ہوا کے دوش پہ جلتے ہیں آرزو کے دیئے
چھپا کے رکھا ہے خود کو جہاں سے تیرے لیے

ہے نشہ کیسا کسی طور ٹوٹتا ہی نہیں
زمانہ گزرا مجھے عشق کی شراب پئے

میں کیسے مان لوں کہ وہ مرا مسیحا ہے
نہ اس نے یاد ہی رکھا نہ میرے زخم سیئے

کبھی تو پہنچے گی کشتی کسی کنارے پر
ہوا کے رخ پہ سبھی بادبان کھول دیئے

پلٹ کے پوچھا نہیں آج تک کبھی اس نے
بس ایک وعدہء فردا پہ کوئی کیسے جئے

تمام عمر کا بس صرف یہ ہی حاصل ہے
خدا ہے میرے لیے اور میں خدا کے لیے



کیا محوِ تماشا کو دعا دے نہیں سکتے
اس عشق کی کیا اس کو جزا دے نہیں سکتے

جھکنے لگا کیوں آپ کا انصاف ترازو
کیا جرم کی مجرم کو سزا دے نہیں سکتے

ہونے لگے ہیں راکھ محبت بھرے سپنے
بجھتے ہوئے شعلوں کو ہوا دے نہیں سکتے

راضی بہ رضا ہو کے ذرا پوچھنا چاہوں
عاشق کو محبت کی ردا دے نہیں سکتے

زخمی ہیں مرے پائوں بدن چھلنی ہوا ہے
ہو کیسے مسیحا کہ دوا دے نہیں سکتے

کس خوف نے تم کو ہے کیا ساکت و جامد
تم میرے بلانے پہ صدا دے نہیں سکتے



سانس کے تسلسل کو ٹوٹنا تو ہوتا ہے
زندگی کو خود سے بھی روٹھنا تو ہوتا ہے

کب تلک تغافل کے جبر سہہ سکو گے تم
دل سے اپنے آخر کو پوچھنا تو ہوتا ہے

لاکھ چھپ کے بیٹھیں ہم خود سے اور دنیا سے
اپنے آپ کو اک دن کھوجنا تو ہوتا ہے

یوں بدل نہیں سکتے زندگی کے منظر کو
فیصلے سے پہلے کچھ سوچنا تو ہوتا ہے
مان ہے بہت اس پر اس لیے اکڑتے ہیں
وہ جو حکم دیتا ہے ماننا تو ہوتا ہے

خامشی کی عادت ہے بے بصر نہیں ہیں ہم
آنکھ کھول کر سب کچھ دیکھنا تو ہوتا ہے

گھر میں اپنا جب کوئی منتظر نہیں ہوتا
بے ارادہ سڑکوں پر گھومنا تو ہوتا ہے

روکنا بھی چاہیں تو یہ کبھی نہیں رکتے
چاند ہو یا سورج ہو ڈوبنا تو ہوتا ہے



مسیحا کوئی کب پیدا ہوا ہے
ہزاروں بار میرا دل جلا ہے

نہیں دستک کی اب کوئی ضرورت
چلے آئو کہ دروازہ کھلا ہے

بہت دشوار ہے اب سانس لینا
ہوا کا زور بھی تھم سا گیا ہے

مجھ ہی سے سیکھ کر رسمِ وفا اب
مجھے ہی آزمایا جا رہا ہے
نظر اپنی خطا آتی نہیں ہے
ہر اک الزام مجھ پہ دھر دیا ہے

نہ بولیں گے جو جی میں آئے کہہ دو
سمجھ لیں گے یہ چاہت کا صلہ ہے

ذرا لفظوں کا مرہم ہی لگا دو
مجھے احساس نے زخمی کیا ہے



خود جو اپنے سے ڈر گئے ہوں گے
کیسے کل اس کے سامنے ہوں گے

چھپ کے بیٹھے ہیں دور ہم سے وہ
جانے کس کام میں لگے ہوں گے

اب کسک بھی نہیں چبھن بھی نہیں
زخم سارے ہی بھر گئے ہوں گے

ان کے جانے پہ بارہا سوچا
کیسے اپنے بھی حوصلے ہوں گے
قربتوں کا حصول کیسے ہو
کم کبھی دل کے فاصلے ہوں گے

یہ تصور بھی کب کیا ہم نے
یوں جدا اپنے راستے ہوں گے

آنکھ اندر کی کھل گئی تو پھر
بے خبر رہ کے رابطے ہوں گے

عشق کیسے مراد پائے گا
ختم کیسے یہ سلسلے ہوں گے



اس شیشے کے گھر میں کوئی موجود بھی ہو گا
حیرت ہے مکیں جلوہئِ مقصود بھی ہو گا

گھر بار چھوڑا کو ہے نکل آئے ہیں بن میں
ہے جس کی تمنا وہی مسجود بھی ہو گا

منزل کا تعین بھی ضروری ہے بہت اب
بھٹکے تو سفر اپنا یہ بے سود بھی ہو گا

خود اپنی وکالت کبھی کرنی نہ پڑے گی
شاہد ہیں اگر ہم کوئی مشہود بھی ہو گا
مشکل نہیں عاشق کے لیے عشق کی تکمیل
بے چین ملاقات کو معبود بھی ہو گا

رہِ حیات کے منظر کو اب بدلنا ہے
اداس شام کے لمحوں میں رنگ بھرنا ہے

سکت سفر کی تو باقی نہیں ہے تیرے بعد
بس اب تو صرف سفر کو تمام کرنا ہے

خزاں ہے نوحہ کُناں فصلِ گُل پریشاں ہے
بدلتی رُت یہ بتا اب کہاں ٹھہرنا ہے

پکار مت مجھے دشتِ فنا تواتر سے
کچھ اور دیر یہاں پر قیام کرنا ہے

جنازہ اپنے ہی کاندھوں پہ لاد کر شہنازؔ
کبھی بھی شہرِ خموشاں میں جا اترنا ہے



آج مجھ کو تری ضرورت ہے
بن ترے زندگی قیامت ہے

تو مجھے آسماں سمجھتا تھا
بے رخی تیری وجہء حیرت ہے

تیری دنیا نے چاہتیں دی ہیں
کیسے کہہ دوں کہ اس سے نفرت ہے

میری رگ رگ میں وہ سمایا ہے
سامنے میرے اس کی صورت ہے

قرب اس کا مجھے ملا جب بھی
وہ ہی لمحہ مری عبادت ہے

ہر دفعہ پوچھتے ہو کیوں مجھ سے
ہاں کہا نا مجھے محبت ہے



دل میں جب یاد تیری در آئی
آنسو کرتے رہے پذیرائی

آئینہ دل کا توڑ کر دیکھا
تیری تصویر ہی نظر آئی

منحصر سب تری عطا پر تھا
آخر امید میری بر آئی

سامنے اب مرا مقدر ہے
کس کے در پر میں کس کے گھر آئی

نور اور خوشبوئوں کی بارش میں
بھیگنے سے کبھی نہ گھبرائی

اب چھپا لیں گے مجھ کو دامن میں
عشق کی ہو گئی ہے شنوائی



نظر کے سامنے اک زاویہ ہے
مجھے یہ چشمِ حیراں نے دیا ہے

سمجھ گم ہو گئی حیرانیوں میں
رویہ عشق کا ایسا رہا ہے

تمہیں اس کے سوا کیا دے سکوں گی
یہ میرا پیار ہی میری دعا ہے

ملے گا بھی کبھی کچھ منتظر کو
گماں زائد یقیں کم ہو گیا ہے
کہاں ہے کون ہے کیسا ہے کیا ہے
عجب یہ فلسفہ الجھا ہوا ہے

تجسس اور تردد کا یہ تحفہ
تری جانب سے ہی مجھ کو ملا ہے

فریب آرزو دنیا ہے ساری
جو اوجھل ہے وہی میرا خدا ہے

جو دیکھی روشنی تو شک ہوا ہے
اتر کر چاند گھر میں آ گیا ہے

کیوں تم اب حوصلہ کھونے لگے ہو
مجھے تو حوصلہ تم سے ملا ہے



کیسے مانگوں بتا اب کوئی میں دعا
جب ملا مجھ کو کاسہ تو خالی ملا

ہر طرف ہے خدائوں کا میلہ لگا
ایک مظلوم پر ظلم بڑھتا گیا

سینکڑوں در ہیں رحمت کے میں نے سنا
کب مرے واسطے در کوئی ہے کھلا

تو ہے میرا خدا مجھ کو یہ تو بتا
بندگی کا مری کیا یہی ہے صلہ

گر مرے واسطے کچھ نہیں ہے لکھا
پست ہوتا ہوا حوصلہ تو بڑھا

ہاتھ میں ہے ترے اب مرا فیصلہ
حالِ دل میں نے تجھ کو دیا ہے سنا



جو میرے واسطے رکھا ہوا ہے
وہ میرے ہاتھ پر لکھا ہوا ہے

کہو طوفاں سے تھوڑی دیر ٹھہرے
دیا دہلیز پر رکھا ہوا ہے

کہاں پر کب یہ کس کے ساتھ ہو گا
سب اس نے پہلے سے سوچا ہوا ہے

مجھے تعبیر اس کی بھی بتا دو
ادھورا خواب اک دیکھا ہوا ہے
کسی کو بھی نہیں خاطر میں لاتا
بس اپنے کو خدا سمجھا ہوا ہے

ہمیشہ ہم نے تو یہ ہی کہا ہے
ہوا جو کچھ بہت اچھا ہوا ہے

مقام و مرتبہ شہرت سبھی کچھ
مجھے ماں کی دعائوں سے ملا ہے



رنگِ حیات پھر سے پلٹ جانا چاہیے
عاشق کو اپنے جیسا ہی دیوانہ چاہیے

آئینے چار سو ہوں نظر آئے بس وہی
اے شوق مجھ کو ایسا صنم خانہ چاہیے

نظریں جھکائے مجھ کو بہت دیر ہو گئی
میری دعا کا اب تو ثمر آنا چاہیے

اک راستے پہ چلتے زمانہ گزر گیا
رستہ ذرا مجھے بھی جداگانہ چاہیے

ہم جی رہے ہیں صرف اسی کے خیال میں
سب بھول کر اسے مرا ہو جانا چاہیے

سر پہ ردا فقیر نے اوڑھی ہے عشق کی
عاشق کو آج حد سے گزر جانا چاہیے



بے تاب کر رہا ہے سماں بولنے تو دو
سب ہو گیا ہے مجھ پر عیاں بولنے تو دو

خاموش رہ کے اب تو سلگنے لگا ہے دل
اٹھنے لگا ہے اس سے دھواں بولنے تو دو

جوشِ جنوں میں ہوش بھی باقی نہیں رہے
اب چھوڑتے ہیں دل کا مکاں بولنے تو دو

مُہرِ سکوت ہونٹوں پہ مدت سے لگی ہے
خاموشیوں کی بن کے زباں بولنے تو دو

ہم ساتھ تیرے چل تو پڑے زمزمہء شوق
لے جائے گا ہمیں یہ کہاں بولنے تو دو



میں خود سے خود کو چھپائوں یہ کیسے ممکن ہے
میں جھک کے پیاس بجھائوں یہ کیسے ممکن ہے

خود اپنے غم پہ شراکت مجھے گوارا نہیں
میں زخم دل کے دکھائوں یہ کیسے ممکن ہے

اسیر کُنجِ قفس میں تو ہو گئی لیکن
میں اپنے پر بھی کٹائوں یہ کیسے ممکن ہے

کسی بھی موڑ پہ وہ مجھ کو مل سکے شاید
میں جھوٹی آس لگائوں یہ کیسے ممکن ہے
مرا جنون میرا عشق اب مکمل ہے
اسے میں یاد نہ آئوں یہ کیسے ممکن ہے

خموشیوں کی زباں ہی زبان میری ہے
کسی کو راز بتائوں یہ کیسے ممکن ہے

فراقِ یار میں لذت تو ہے بہت شہنازؔ
اسے میں بھول بھی جائوں یہ کیسے ممکن ہے



غم نہیں گر بے نشاں ہو جائوں گی
ان کہی اک داستاں ہو جائوں گی

کوئی ہے جو مجھ میں کرتا ہے سفر
اس کو پا کر بے کراں ہو جائوں گی

میں یقیں منزل کی جانب ہوں رواں
اور بھی کچھ خوش گماں ہو جائوں گی

میری ہر تحریر ہو گی معتبر
اس نگر کی میں زباں ہو جائوں گی

رائیگانی کے سفر میں آخرش
میں بھی یونہی رائیگاں ہو جائوں گی



تیرے میرے درمیاں گر فاصلے رہ جائیں گے
باقی پھر کرب و بلا کے سلسلے رہ جائیں گے

جب مقدر کا لکھا مٹ جائے گا اس ہاتھ سے
پھر ہمارے ہاتھ پر بس آبلے رہ جائیں گے

گردش و آلام کے پھیلے ہوئے اس جال میں
تم ہمارے ہم تمہارے واسطے رہ جائیں گے

عشق کو منزل اگر دکھلائیں گے نہ سنگ میل
راستے میں ہی بھٹکتے قافلے رہ جائیں گے
وصل کی آئی گھڑی لیکن مجھے یہ خوف ہے
رابطہ ہو گا نہیں بس ضابطے رہ جائیں گے

حسبِ خواہش جب کسی کو کچھ نہیں مل پائے گا
پھوڑنے دل کے پھپھولے دل جلے رہ جائیں گے

سانپ اپنے ہاتھ سے بچ کر نکل بھاگا اگر
ہم فقط یاں پر لکیریں پیٹتے رہ جائیں گے



دل میں جب تیرے کسی اور کی چاہت ہو گی
تجھ کو خود اپنے ہی ہونے پہ ندامت ہو گی

آئے گا نیچے اتر کر جو کبھی میرا خدا
اس کو خود اپنی ہی تخلیق پر حیرت ہو گی

دشمنِ جان نے جاں ہار کے کب سوچا تھا
جو بھی گزرے گی بغیر اس کے قیامت ہو گی

لاکھ چلائوں مگر ملتا نہیں کوئی جواب
یونہی چپ رہنا سمجھ لوں تری عادت ہو گی

جس قدر ٹوٹ کے شہنازؔ نے چاہا تجھ کو
تجھ کو اس سے نہ کبھی ایسی محبت ہو گی



شرر کب راکھ میں باقی بچا ہے
کوئی مجھ میں بھلا کیا ڈھونڈتا ہے

جدا ہو جائے گا پانی سے پانی
کنارہ پھر کنارا کر رہا ہے

نئے اک زاویے کے ساتھ اکثر
ہر اک پہیہ دوبارا گھومتا ہے

تجھے اپنا بنا کے تیرا عاشق
زمانے بھر میں رسوا ہو گیا ہے
کوئی تو کھوج ہی لے گا اسے بھی
جو خود اپنے سے بھی چھپا رہا ہے

ہوا کے سامنے جلتا دیا بھی
مری ہی داستاں دھرا گیا ہے

میں ہوں دشتِ تحیر کی مسافر
جدا منزل مری رستہ جدا ہے

کہیں پتھرا نہ جائیں میری آنکھیں
وہ کیوں شہرِ فسوں میں رک گیا ہے

جواب آ جائے گا شہنازؔ اک دن
دعا تیری بھلا کب نارسا ہے



چلنے لگی ہے الٹی ہوا کیسے بتائو
بدلا ہوا ہے رنگِ وفا کیسے بتائو

دعویٰ ہے تمہیں عشق کا لیکن ذرا سن لو
کاٹو گے سدا لمبی سزا کیسے بتائو

اک لمبی مسافت سے بدن چور ہوا ہے
پھیکا نہ ہوا رنگِ حنا کیسے بتائو

دوری نے تعلق میں دراڑیں نہیں ڈالیں
گم ہو گئے ہیں حرفِ دعا کیسے بتائو

کب اس میں تھی جرات کہ کرے بات وہ مجھ سے
ہے آج بنا بیٹھا خدا کیسے بتائو



بہت مدت سے پتھر ہو گئے ہیں
کسی صحرا کا منظر ہو گئے ہیں

نہیں تکمیل کی باقی ضرورت
مقدر کے سکندر ہو گئے ہیں

ہوا بدلی ہے رُت بدلی ہوئی ہے
شجر سارے ثمرور ہو گئے ہیں

سفر کے اس قدر عادی ہوئے ہیں
مکاں میں رہ کے بے گھر ہو گئے ہیں

نہیں ممکن ہے اب چھپنا کسی سے
کہ ہر دیوار میں در ہو گئے ہیں

کسے معلوم اپنے ساتھ کیا ہو
جو رہزن تھے وہ رہبر ہو گئے ہیں



ہے اس کے سامنے اک آسمان تو دیکھو
وہ پر کٹا کے ہے محوِ اڑان تو دیکھو

فصیلِ جسم سے باہر نکل گیا کیسے
مکیں بغیر یہ خالی مکان تو دیکھو

وہ رمزِ عاشقی سمجھا رہا ہے دنیا کو
یہ عشق و مشک سے سجتی دکان تو دیکھو

ابھی تلک جو گماں سے نکل نہیں پایا
یقیں کا نبض شناسا ہے مان تو دیکھو

اسی کے سائے میں مدت سے جی رہے ہیں ہم
یہ تتلیوں سے بنا سائبان تو دیکھو



اپنی خاطر آپ ہی مرنا پڑتا ہے
اپنی لاش اٹھا کر چلنا پڑتا ہے

ہوس پجاری ہر سو پھیلے ہوتے ہیں
عزت پردہ آپ ہی رکھنا پڑتا ہے

غیرت اور خودداری قائم رکھنے کو
اپنے آپ سے آپ ہی لڑنا پڑتا ہے

جرم و ناانصافی کی اس دنیا میں
آخر حق کا کلمہ کہنا پڑتا ہے

عشق سمندر ڈوبنے والے عاشق کو
کوہ کن بھی تو آپ ہی بننا پڑتا ہے



لے بدلی ہے سازوں کی
زد میں ہوں آوازوں کی

پر ٹوٹے طوفانوں میں
خیر ہو ان شہہ بازوں کی

آنے والا ہے کوئی
دستک سن دروازوں کی

نفع کی تو بات نہ کر
قیمت بھر خمیازوں کی

سمت متعین کیسے ہو
اونچی ان پروازوں کی



کون دردِ نہاں کو سمجھے گا
عشق کے امتحاں کو سمجھے گا

آج کے دور میں تو ہر اک شخص
طور سود و زیاں کو سمجھے گا

ہے یقیں کم گمان زیادہ ہے
کون پیرِ مغاں کو سمجھے گا

سرد مہری کے وقت میں اب کون
وجہء سوز و فغاں کو سمجھے گا

بے وفا ہے وہ بے ضمیر نہیں
دوستی کی زباں کو سمجھے گا

لامکانی سے ہو کے وہ واقف
سلسلہء مکاں کو سمجھے گا



کیا ہوا یہ کون اب انساں کا راہبر ہو گیا
آج میرے شہر کا ہر شخص پتھر ہو گیا

داستانِ ہجر کہنے کے لیے کھو لے جو لب
پھر لہو جمنے لگا اور قلب مضطر ہو گیا

دل کے آئینے میں جھانکا آج اک مدت کے بعد
کرچیوں میں عکس یہ کس کا اجاگر ہو گیا

وہ پلٹ آئے گا ہم نے یہ کبھی سوچا نہ تھا
دل مرا اس کو اچانک دیکھ ششدر ہو گیا
جس نے ہر شے کو جدا محور سے اپنے کر دیا
وہ ستمگر کیسے میری جاں کا محور ہو گیا

آگ بھڑکی خوں بہا کچھ فیصلہ کب ہو سکا
چھت اڑی اور آشیانہ پھر سے بے در ہو گیا

کل تلک بانہوں میں میری جھولتا رہتا تھا وہ
آج وہ بچہ مرے قد کے برابر ہو گیا

ایک لمحے کے لیے بھی بھول کب پائی انہیں
یاد آئی ہر گھڑی ہر روز محشر ہو گیا

اب یہاں تازہ ہوا کا بھی گزر ہوتا نہیں
المیہ یہ ہے کہ ہر اک ذہن بنجر ہو گیا

اب سکوں ملتا نہیں ہے سائبانوں کے تلے
گھر میں رہ کر بھی ترا انسان بے گھر ہو گیا



مٹی سے تری اٹھ کر مہتاب بنانا ہے
تعبیر بنا لی ہے اب خواب بنانا ہے

سنتے ہیں کہ سجدوں سے تقدیر بدلتی ہے
ماتھے پہ ہمیں اپنے محراب بنانا ہے

دیکھیں نا ذرا ہم بھی کہ حوصلہ کتنا ہے
طوفان میں رہنا ہے گرداب بنانا ہے

چاہت میں ستم سہہ کر رستہ نہیں بدلیں گے
دنیائے وفا تیرا اک باب بنانا ہے

ہے زیست سفر مشکل یہ جان لیا جب سے
پانے کے لیے اس کو اسباب بنانا ہے



لکیر اپنے مرے درمیان مت کھینچو
یوں سر سے آج میرے سائبان مت کھینچو

گزرتے وقت کی اب تاک میں یہ آنکھیں ہیں
نقیبِ وقت سے اس کی مچان مت کھینچو

یہ خوں بہانے کا قصہ بہت پرانا ہے
نہ چھینو آنکھ سے کاجل زبان مت کھینچو

کھلونے توڑ کے بچپن بھی ان کا چھین لیا
بچا ہے پاس جو ان کے جہان مت کھینچو



کبھی ایسا بھی دھوکا کر لیا ہے
خود اپنے کو ہی رسوا کر لیا ہے

کبھی پیاسے سمندر سے رہے ہیں
کبھی قطرے کو دریا کر لیا ہے

بہت ہی تلخ ہوتی ہے حقیقت
حقیقت کو فسانہ کر لیا ہے

پڑی دستار کی جب بھی ضرورت
سبھی نے سر کو اونچا کر لیا ہے
پشیمانی کی اب ہے کیا ضرورت
کہا تھا جیسا ویسا کر لیا ہے

جھکے ہو اس طرح غیروں کے آ گے
انا کا جیسے سودا کر لیا ہے

کسی کے جبر پر ایسا ہوا ہے
محبت کا بھی دعویٰ کر لیا ہے

ذرا سی بات پر شہنازؔ تم نے
کیوں اپنے دل کو میلا کر لیا ہے



کس لیے ان منجمد سوچوں کو پگھلایا گیا
جانے کیوں مجبور بندے پر ستم ڈھایا گیا

آبلہ پا ہم سفر رکتے رہے چلتے رہے
خالی منظر دیکھنے کو دور تک سایہ گیا

خامشی کو توڑنے کی کب جسارت ہو سکی
دور تک آواز کے پیچھے بھی کب جایا گیا

سادگی کا عاجزی کا فائدہ سب کو ملا
فیصلہ ان کا تھا لیکن مجھ سے منوایا گیا
فصلِ گل میں تتلیاں بھنورے تھے ہر سو رقص میں
خوشبوئوں کو بھی سندیسہ بھیج کر لایا گیا

زندگی رنگین ہو سکتی ہے اتنا جان لے
چاندنی راتوں میں جب آنچل کو لہرایا گیا

ہر گھڑی اقدار کی سولی پہ ہم لٹکے رہے
پیچھے مڑ کے دیکھنا مت ہم کو بتلایا گیا



خود کو پرائی آگ میں جلنے نہیں دیا
دل میں کسی بھی شوق کو پلنے نہیں دیا

یہ راستے یہ منزلیں بھٹکا نہ دیں کہیں
اس خوف نے تو گھر سے نکلنے نہیں دیا

بس دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بدل گئی
سوچوں کو اپنی میں نے بدلنے نہیں دیا

کشتی میری کنارے پہ پہنچی تو کس طرح
گرداب نے بھنور نے سنبھلنے نہیں دیا
راس آ گئی مجھے بھی فقیری کی زندگی
اس عشق نے کہیں بھی نکلنے نہیں دیا

اس کم نما جمال کو پانے کی چاہ نے
بس ایک پل کہیں بھی ٹھہرنے نہیں دیا

یادوں کی روشنی کے اجالے نے پھیل کر
شمعِ شبِ فراق کو جلنے نہیں دیا



بہت مدت سے ہم جنت سی اک وادی میں رہتے ہیں
اٹھا کر سوہنی دھرتی سے جبیں پر خاک ملتے ہیں

بتا دو دشمنوں کو خاک و خوں سے ہم نہیں ڈرتے
کفن ہاتھوں میں لے کر اپنے گھر سے ہم نکلتے ہیں

کہو طوفانوں سے موجوں سے اپنا رخ بدل ڈالیں
بنا پتوار مانجھی اب سمندر میں اترتے ہیں

جو دیں آواز تو پتھر بھی پانی بن کے بہہ جائیں
کہ ہم گرداب میں رہتے ہیں طوفانوں میں پلتے ہیں
یقیں اپنا ہے کامل ہم کو تم کمزور مت جانو
زمانہ ہم سے ہے سارے زمانے ہم بدلتے ہیں

یہاں کی بستیاں آباد ہیں روشن خیالوں سے
سنہرے خواب ان کی جاگتی آنکھوں میں پلتے ہیں

جنوں ہے عشق ہے مجھ کو سنہری سوہنی دھرتی سے
گلوں سے خوشبوئوں سے اس کے سب رستے مہکتے ہیں



پرندوں جیسی تو ہم بھی اڑان رکھتے ہیں
سفر کے شوق میں بس آشیاں بدلتے ہیں

بنا کے تیلیوں سے سائبان اپنا ہم
ہے کتنا حوصلہ آندھی کے ساتھ رہتے ہیں

ہے اپنی دوستی موجوں سے اور طوفانوں سے
بھنور میں چلتے ہیں گرداب میں سنبھلتے ہیں

ہوا سے اپنا تعلق بہت ہی گہرا ہے
ہمارے ساتھ ہی شب بھر چراغ جلتے ہیں

ہمارے درد کو کوئی نہیں سمجھتا جو
تو جا کے دشت کو صحرا کو غم سناتے ہیں

مسافتیں تو اندھیروں کی کچھ نہیں دشوار
ستارے چاند ہمیں راستہ دکھاتے ہیں



جو خود کو ڈھونڈنے نکلا ہوا ہے
وہ شاید راستے میں کھو گیا ہے

چلے ہیں رائیگانی کے سفر پر
ہے جس کو سوچنا وہ سوچتا ہے

ابھی تک کربلا بھولے نہیں ہیں
زمانہ یہ مکمل کربلا ہے

جسے چاہا جسے پوجا ہے میں نے
رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے
کسک سی دل میں اب رہنے لگی ہے
کسی کے درد کو اپنا لیا ہے

کہاں ہے کوئی جو پیچھے ٹھہر کے دیکھتا ہے
ہر ایک فرد بس آگے گزر کے دیکھتا ہے

بہت گرایا ہے نظروں سے اس زمانے نے
کوئی تو ہے جو ہمیں آنکھ بھر کے دیکھتا ہے

تمام عمر گزراری ہے جس کے وعدوں پر
نبھاتا وہ نہیں پیماں مکر کے دیکھتا ہے

اسے ہے یاد رکھا یا بھلا دیا ہم نے
شبِ فراق وہ دل میں اتر کے دیکھتا ہے

ضرر رساں تو نہیں ہم تو بے ضرر سے ہیں
نجانے کیوں ہمیں ہر شخص ڈر کے دیکھتا ہے



توڑ دیں قصرِ انا اپنی روایت کب ہے
اس طرح جینے کی مجھ میں بھلا جرات کب ہے

حوصلہ پست نہیں رہتی ہوں طوفان کے ساتھ
منتشر ہو کے بھی آندھی سے شکایت کب ہے

وہ بکھرتا ہے تو اکثر ہے سمیٹا میں نے
ساتھ رہنے کے لیے اس کی ضرورت کب ہے

کوچہء غم سے کسی طور وہ باہر نکلے
زندہ رہنے کے لیے چھیڑا شرارت کب ہے
پھر سے احساس کو شاید ہے جگانا مشکل
شعلہ دم توڑ چکا اس میں حرارت کب ہے

ہم تو خوار ہیں ہمراز زمانے بھر کے
اپنی اس زیست کا عنوان محبت کب ہے



ہوا کا زور بہت ہے مکان ڈھونڈنا ہے
پھر آج اپنے لیے سائبان ڈھونڈنا ہے

نئی رتوں کی ہمیشہ تلاش رہتی ہے
نیا زمانہ نیا آسمان ڈھونڈنا ہے

اکیلے آبلہ پائی سے تھک گئے ہیں ہم
جو ساتھ لے کے چلے کاروان ڈھونڈنا ہے

بڑھا ہے حوصلہ تو آج ہم نے سوچا ہے
شکار کرنا ہے اونچی مچان ڈھونڈنا ہے
کوئی بھی ہمدم و ہمراز اب نہیں باقی
تلاشِ دوست ہے اب ہم زبان ڈھونڈنا ہے

کیا ہے فیصلہ پرواز کا تو اس کے لیے
عقاب جیسی ہمیں اب اڑان ڈھونڈنا ہے

مسافتوں سے مسافر کبھی نہیں ڈرتا
سفر نصیب ہوں منزل نشان ڈھونڈنا ہے



میں پھر سے انتہا کرنے لگی ہوں
نئی اک ابتدا کرنے لگی ہوں

عجب وحشت کا مجھ کو سامنا ہے
خود اپنی ذات سے ڈرنے لگی ہوں

مری آنکھیں سمندر ہو گئی ہیں
میں سورج بن کے پھر جلنے لگی ہوں

مٹا کر ساری تصویریں پرانی
نئے خاکے میں رنگ بھرنے لگی ہوں

عجب اک زاویہ پیش نظر ہے
مخالف سمت میں چلنے لگی ہوں

عشق سمندر


عشق سمندر کے مسافر

سفرِ عشق ایک کٹھن مگر دلچسپ اور حیران کر دینے والا سفر ہے۔ اس کے ہر موڑ پر اک نئے تجربے سے گزرنا پڑتا ہے۔ دیدہ حیراں اور چشمِ پُر نم کے ساتھ آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں۔ آگے کیا ہوگا؟ یہ آنکھ کیا دیکھے گی اور دنیا کو کیا دکھائے گی کچھ اندازہ نہیں ہوتا۔ یہ تو مسافر کی تلاش پرمنحصر ہے کہ وہ کن منزلوں کی تلاش میں ہے۔ سیدھے راستے پسند ہیں یا پگڈنڈیاں، نشانِ منزل یا منزل، عشق کے راہی نشانِ منزل میں گُم رہنا چاہتے ہیں۔ منزل بھی انہیں سنگِ میل نظر آتی ہے۔ وہ اس سے آگے نکل جانا چاہتے ہیں۔ اُن کی مثال ایک دریا کی سی ہے جو کبھی سبک رفتار اور کبھی طوفان کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ آخر کار اُسے سمندر میںگرنا ہوتا ہے۔ عاشق دریائے عشق میں سفر کرتا ہوا عشق سمندر میں جا گرتا ہے جہاں وہ گوہر ِ بے بہا کی تلاش میں اُبھرتا اور ڈوبتا رہتا ہے اور آواز آتی ہے:
عشق سمندر نشۂ مستی
تھیا تھیا ہونے دے اب
یہ تو عاشقوں کی مستی ہے، جذب ہے، کیفیت ہے جو رنگ بدلتی رہتی ہے، اور عشق کی گہرائی پر منحصر ہے کہ اُس کو کونسا رنگ بھاتا ہے۔ وہ تو اُس رنگ میں رنگنا چاہتا ہے جو پیا کو بھائے۔ پیا من لبھانے کے لیے اسے کیا کیا نہیں کرنا پڑتا۔ پیار صدا دیتا رہتا ہے۔ یہ صدا دل میں اُترتی چلی جاتی ہے، عاشق سب کچھ بھول کر عشق کی وادی میں اُتر جاتا ہے۔ خاموشی سے سفرِ عشق پر نکلنے والا مسار یقین کے سہارے دوڑتا چلا جاتا ہے اور کہتا ہے۔
کیسے بتلائوں کہ اس آنکھ نے کیا کیا دیکھا
روز عاشق نے نیا عشق تماشا دیکھا
یہ آگ بجھتی نہیں بھڑکتی چلی جاتی ہے کیونکہ تلاش کا عمل مکمل نہیں ہو پاتااور یہ ٹھیک ہے۔
سچے عاشق ہو تو پھر عشق کا چرچا نہ کرو
کیا ملے گا تمیں اِس عشق میں سوچا نہ کرو
اَدھر اُدھر دیکھنے اور سوچنے کی فرصت ہی کہاں ملتی ہے اور عشق اُلائو جلتابجھتا رہتا ہے۔ منزل کے رستے کی ہوااِس کو بھڑکاتی رہتی ہے۔ عاشق اِس سے لطف اندوز ہو کے کہتا ہے۔
اپنے آپ میں کھونے دے اب
عشق تماشا ہونے دے اب
عشق تماشا سے عشق سمندر تک پہنچنے کا سفر بہت طویل ہے۔ ’’بعد تیرے‘‘، ’’نورِکل‘‘ کو پایا تو ’’کھلتی کلیاں مہکے پھول‘‘ زادِ راہ بنے اور اب ’’عشق سمندر‘‘ میں کود گئی ہوں۔ اِس کتاب کا پہلا حصہ اس میں غوطہ زنی کے بعد کا ہے۔ دوسرا حصہ غم ہجراں کی نظموں پر مشتمل ہے۔ اس سفر نے بہت تھکا دیا ہے لیکن ہمت نہیں ٹوٹی۔ جذبے سرد نہیں پڑے۔ عش سمندر بے حد وسیع ہے۔ کبھی تیرتی ہوں کبھی رُک جاتی ہوں۔ کچھ دیر اُبھر کر ساحل پر موجود آپ لوگوں کی جانب دیکھ رہی ہوں کہ میرا عشق سمندر میں اُترنے کا تجربہ آپ کو کیسا لگا۔
کھڑی ہوں عشق سمندر کے کنارے پر
سفینہ موجوں سے باہر وہی اُچھالے گا
ڈاکٹر شہناز مزملؔ
چیئر پرسن ادب سرائے
125-F ماڈل ٹائون لاہور



میں کیسے بتائوں کہ کیا دیکھتی ہوں
تصور میں صّل ِ علیٰ دیکھتی ہوں

مجھے اُن کی رحمت صدا دے رہی ہے
محمدؐ کے دَر کو کھلا دیکھتی ہوں

کروں بند کیسے میں آنکھوں کو اپنی
حرم پاک میں، مَیں خدا دیکھتی ہوں

یہ ماہِ مقدس ہے جھولی کو بھرلوں
خدا کی میں جود و سخا دیکھتی ہوں

اِس اُمت کو اُن کی شفاعت عطا ہو
محمدؐ کے لب پر دُعا دیکھتی ہوں



سکوتِ دشتِ وحشت سے نکل کر دیکھنا چاہوں
نئے رہبر نئے رستے پہ چل کر دیکھنا چاہوں

کہاں پر لے کے آئی ہے یہ میری آگہی مجھ کو
میں اس مشکل سفر میں آگے چل کر دیکھنا چاہوں

چھپی ہو گی کہیں کوئی کرن ظلمت کدے میں بھی
میں اپنی چشمِ تر کو پھر سے مل کر دیکھنا چاہوں

ہزاروں بار چہرے پر نیا چہرا سجایا ہے
دوبارہ اپنے پیکر کو بدل کر دیکھنا چاہوں

پرائی آگ میں چلنے کی لذت خوب ہے لیکن
میں اپنی آگ میں شہنازؔ جل کر دیکھنا چاہوں



مجھے تم سے شکایت تو نہیں ہے
بگڑنا میری عادت تو نہیں ہے

مسلسل عشق میں میں مبتلا ہوں
ریاضت ہے یہ چاہت تو نہیں ہے

ترے کہنے پہ ملنے آگئی ہوں
محبت ہے عنایت تو نہیں ہے

کسی سے کچھ نہ کہنا سب کی سننا
یہ عادت ہے روایت تو نہیں ہے

وہ کیوں خوش فہمیوں میں مبتلا ہے
مجھے اُس کی ضرورت تو نہیں ہے

بہت مشکل ہوا ہے ساتھ رہنا
یہ ہلچل ہے قیامت تو نہیں ہے



اب مسیحا کوئی کرے گا کیا
زخم گہرا ہے یوں بھرے گا کیا

تجھ سے رشتہ عجیب رشتہ ہے
مجھ سے ہو کر جدا مرے گا کیا

خوف تجھ سے مجھے نہیں آتا
کوئی اپنوں سے بھی ڈرے گا کیا

کچھ کمی اب رہی نہیں باقی
کوئی الزام اب دھرے گا کیا



زمیں پر پائوں رکھنا چاہتی ہوں
ہوا کے سنگ اُڑنا چاہتی ہوں

میری آنکھیں سمندر ہو گئی ہیں
میں سورج بن کر جلنا چاہتی ہوں

پہنچ جائوں میں تیرے لامکاں تک
میں تجھ سے بھی تو ملنا چاہتی ہوں

ستارے، چاند، خوشبو ساتھ لے کر
میں اُن کے ساتھ چلنا چاہتی ہوں

خود اپنے حوصلے کو آزما کر
میں گر گر کر سنبھلنا چاہتی ہوں



ہمیشہ حوصلہ کرتی رہی ہوں
مکمل دائرہ کرتی رہی ہوں

ہوا کے رُخ پہ مشعل کو جلا کر
نیا اک تجربہ کرتی رہی ہوں

روابط توڑ دوں سب کچھ بھلا دوں
عجب سا فیصلہ کرتی رہی ہوں

کہیں زد میں کوئی اپنا نہ آئے
نشانہ میں خطا کرتی رہی ہوں

تمہاری سب جفائوں کو بھلا کر
تمہی سے میں وفا کرتی رہی ہوں



آنکھ جھپکی بھی نہیں سب کچھ بدل کے رہ گیا
ایک پل میں سارے منظر اِک ویرانہ ہو گئے

کیسے اُن کی یاد میں ہر آنکھ ہے نم ناک آج
وہ جو اب شہنازؔ اِک گزرا زمانہ ہو گئے



غیر نے اپنا لیا اُن کی وفا کیسی رہی
دوستوں نے پھریں آنکھیں یہ سزا کیسی رہی

تم ہوا کے رُخ پہ بھی چلنے سے گھبراتے نہیں
اے چراغ آرزو تازہ ہوا کیسی رہی

دشمنوں نے بھی اُٹھا کر ہاتھ دی ہم کو دُعا
دوستو بتلائو یہ رسمِ دُعا کیسی رہی

تیرا اپنا ہی سفینہ جب بھنور میں گم ہوا
خود جو کھائی چوٹ میرے ناخدا کیسی رہی

آپ کی عادت تغافل اور دل کو توڑنا
جانِ جاناں آج توہین ِ انا کیسی رہی



دشمن کو غیر جان کے ارزاں نہیں کیا
یہ اور بات خود کو نمایاں نہیں کیا

عادی سے ہو گئے ہیں خزاں رُت کے اسطرح
مدت سے ہم نے جشنِ بہاراں نہیں کیا

یادوں کے جگنوئوں سے ملی ہم کو روشنی
تیرے بغیر گھر میں چراغاں نہیں کیا

پھیلی ہوئی ہے ہر سُو محبت کی روشنی
مہکے ہوئے چمن کو بیاباں نہیں کیا
گردش کسی کی تھوڑی سی کم ہو سکے ذرا
اتنا کرم بھی گردشِ دوراں نہیں کیا

ہر ہر قدم پہ ایک رکاوٹ کھڑی رہی
میرے سفر کو کس لئے آساں نہیں کیا

جاتے ہوئے کہا بھی نہیں کب ملیں گے ہم
تم نے تو مجھ پہ اتنا بھی احساں نہیں کیا

شہنازؔ میں ہے ضبط کا بھی حوصلہ بہت
جذبوں کی سرد لہر کو طوفاں نہیں کیا



اک سفر اور کر کے دیکھتے ہیں
دل میں اُن کے اُتر کے دیکھتے ہیں

گردشِ وقت نے کہا کیسے
آبلہ پا ٹھہر کے دیکھتے ہیں

پھول نازک ہیں میرے دل سے کیا
پائوں کانٹوں پہ دھر کے دیکھتے ہیں

تم کو دعویٰ ہے عشق کا ہم سے
آج ہم تم پہ مر کے دیکھتے ہیں

ہم تو عاشق ہیں، ہم قلندر ہیں
کیوں زمانے کو ڈر کے دیکھتے ہیں

دل میں بھی آپ کو چھپا لیں گے
پہلے آنکھوں میں بھر کے دیکھتے ہیں



بنا کے گردشِ دوراں جو انتہا کی تھی
مرے خدا نے محبت کی ابتدا کی تھی

تماشا دیکھتی رہتی ہوں کچھ نہیں کہتی
بُھلا تو اُس نے دیا، میں نے تو وفا کی تھی

کبھی نہ بچوں کو میرے کوئی بھی غم دینا
اُٹھا کے ہاتھ یہی میں نے بس دُعا کی تھی

میں روز تجھ سے طلب گار تھی معافی کی
سزا جو مجھ کو ملی کونسی خطا کی تھی



دل مرا پھر سے ہے پاگل آج اِک مدت کے بعد
آنکھ میں پھیلا ہے کاجل آج اِک مدت کے بعد

ہلکی پھلکی ہو کے اُڑتی پھر رہی ہوں آج میں
ٹوٹ کے برسے ہیں بادل آج اِک مدت کے بعد

ان بہاروں میں پکارا ہے کسی نے پیار سے
ہو گیا احساس صندل آج اِک مدت کے بعد

دید کی شمعیں فروزاں ہو گئی ہیں آج پھر
لوٹ کر آیا ہے سانول آج اِک مدت کے بعد
چاندنی ہے، خوشبوئیں ہیں، رت جگوں کا ہے سماں
ہر طرف لہرائے آنچل آج اِک مدت کے بعد

گھنٹیاں سی بج رہی ہیں، رقص میں ہے کائنات
دل میں یہ کیسی ہے ہلچل آج اِک مدت کے بعد

اک زمانے بعد دنیا کیوں مجھے اچھی لگی
دور ہے اُلجھن کی دلدل آج اِک مدت کے بعد

تتلیوں کلیوں کو دیکھا تو سکوں سا مل گیا
ہو گئی ہوں پھر مکمل آج اِک مدت کے بعد



وہ ہے سقراط نہ سقراط کے ثانی جیسا
زہر بھی دیتا ہے تو لگتا ہے پانی جیسا

اک جگہ رہنے سے اُکتا سے گئے ہیں اب تو
کوئی بن جائے سبب نقل مکانی جیسا

اُس کی کوئی بھی ادا دل پہ گراں کب گزری
زخم بھی لگتا ہے اب اُس کی نشانی جیسا

آج کل سب ہی بنے پھرتے ہیں شاعر لیکن
کوئی دکھلائو کہیں میرؔ یا فانیؔ جیسا

لفظ کچھ تلخ سہی اَس کے لیے کیا کہیئے
لہجہ رکھتا ہے وہ دریا کی روانی جیسا



آس جینے کی کیوں دلاتے ہو
مجھ کو ہر روز آزماتے ہو

ہنستے ہنستے ہی زندہ رہنے دو
یاد میں اپنی کیوں رُلاتے ہو

حوصلہ خوب ہے تمہارا بھی
آندھیوں میں دیئے جلاتے ہو

منتظر ہیں تمہارے ہم اور تم
وعدہ کرتے ہو بھول جاتے ہو

مانتے ہیں یہ ہم کہ اس دل کی
اُجڑی بستی تمہی بساتے ہو



آزما پھر سے ایک بار ذرا
اک نیا نقش تو اُبھار ذرا

چھوڑ دیں گے سفینہ لہروں میں
ناخدا پر ہو اعتبار ذرا

کیا سے کیا ہو گئی ہوں تیرے بعد
دیکھ جا آ کے ایک بار ذرا

درد کو بانٹ کچھ سکوں تو ملے
میں بھی دیکھوں نا تیرا پیار ذرا
تو تُو کہتا ہے ساتھ ہے میرے
اب گھٹا جبر کا حصار ذرا

یہ تپش پھیلتی ہی جاتی ہے
کر دے آنگن کو سایہ دار ذرا

کتنی بے کیف ہے یہ زرد فضا
پھر دکھا دے رُخِ بہار ذرا



ہوا خاموش تھی اور پھول جھڑ گئے کیسے
تھا جن سے رشتہ وہ یکدم بچھڑ گئے کیسے

بہت ہی دُور تلک کوئی بھی نظر میں نہیں
ذرا بتائو تو میلے اُجڑ گئے کیسے

مزاج سب کا تو اپنی طرح نہیں ہوتا
ذرا سی بات پہ ساتھی بگڑ گئے کیسے

رفو گری کا سلیقہ تو ہم نے سیکھا ہے
پرانے زخموں کے ٹانکے اُدھڑ گئے کیسے

کبھی نہ چاہا تھا جس سمت میں سفر کرنا
ہم ایسے راستے پر آج پڑ گئے کیسے



مجھے جو ہر قدم پر ٹوکتی ہے
وہ میں ہوں یا مری دیوانگی ہے

دل و جاں سے میں اُن کی منتظر ہوں
محبت ہاتھ پھیلائے کھڑی ہے

تجھے دیکھا بنا پوجا ہے میں نے
یہ کتنی خوبصورت آگہی ہے

مجھے تنہائیوں نے ڈس لیا ہے
یوں چپ رہنے کی عادت ہو گئی ہے
بنا رکھا ہے اُن کو جاں کا محور
فنا ہستی نشّے میں گھومتی ہے

چلے آئو کہ یہ منظر ہی بدلے
خزاں تو جان لیوا ہو گئی ہے

بہت ہی خوب ہے اُن کا تکلم
عجب چاہت عجب شائستگی ہے



مجھے کسی سے نہیں خود سے ہی شکایت ہے
خود اپنے آپ میں کھونے کی مجھ کو عادت ہے

جسے بلایا خدا نے اُسے تو جانا ہے
بہت ہی تلخ سہی پر یہ اِک حقیقت ہے

قدم قدم پہ مرے ساتھ چل رہے تھے تم
اکیلا چھوڑ کے جانا بھی کیا محبت ہے

کسی کے جانے پہ رُکنے لگی ہے سانس بھی اب
ہجوم یاس میں چاہت بھی اک ضرورت ہے

سکون ملتا نہیں دل بھی اب نہیں لگتا
دل و دماغ پہ چھائی یہ کیسی وحشت ہے

سنبھال سکتی نہیں دل کا آئینہ شہنازؔ
شبِ فراق گزرنا بھی اک قیامت ہے



بعد مدت کے پلٹ کے جو ہے دیکھا خود کو
اپنے سے دُور بہت دور ہے پایا خود کو

مرحلے ہم پہ محبت میں عجب گزرے ہیں
دن میں بکھرے ہیں تو ہر شام سمیٹا خود کو

حوصلہ ہم میں بہت تھا کہ رُکے ہم بھی نہیں
کھو کے منزل کا نشاں پھر بھی ہے ڈھونڈا خود کو

اپنی حالت پہ گماں غیر کا جب ہونے لگا
ہم نے چاہا ہے بہت ٹوٹ کے چاہا خود کو

کیف و مستی میں بہت دور نکل آئے جب
دشت کے پھیلتے منظر سے نکالا خود کو

عشق نشّے سے نکلنے کا مزا اور ہی تھا
اِک نئے کیف میں ڈوبا ہوا پایا خود کو



ہجر کا یہ لمحہ کیوں آج مجھ پر بھاری ہے
پتھروں کے تکیے پہ زندگی گزاری ہے

گرچہ توڑ ڈالا ہے گردشِ زمانہ نے
دیکھنا ہے کیا ہو گا ضرب اتنی کاری ہے

ہم سے چھین کر ساتھی خود پہ بوجھ ڈالا ہے
اپنے کام کرنا اب اُس کی ذمہ داری ہے

جو بھی تو نے مانگا تھا اُس نے تجھ کو دے ڈالا
پھر یہ بے کلی کیسی کیوں یہ بے قراری ہے

یہ گھٹا جو اُٹھی ہے کھل کے اب برس جائے
مدتوں سے رم جھم کا سلسلہ تو جاری ہے

کون جانے کیا ہو گا آج سوچتے ہیں یہ
خوف اِک عجب سا کیوں اِس فضا پہ طاری ہے



چیخنے کی مری آواز کوئی بھی نہ سنے
رُوح پرواز کرے ایسے پتا بھی نہ چلے

اِس قدر گہرا ہے سناٹا مرے چاروں طرف
کوئی تو بات کرو سرد سیاہ رات ڈھلے

کوئی تو رستہ نظر آئے مجھے جینے کا
آس کا کوئی تو دیپک مری آنکھوں میں جلے

جاگتی آنکھوں سے میں کیسے تماشا دیکھوں
ناچوں پتلی کی طرح اور مرا بس نہ چلے

لطف دیتی ہیں زمانے کی سُلگتی باتیں
چاہیئے دُنیا کو کچھ اور کہے اور کہے



ایک الائو جلتا ہے اِک بجھتا ہے
ایسا منظر آنکھوں نے کب دیکھا ہے

کیسی تیز تپش ہے میرے اندر بھی
اک مدت سے سوچ کا دریا سوکھا ہے

چلتے چلتے رستہ بھی تھک جاتا ہے
منزل تک پہنچیں گے کب یہ سوچا ہے

اُس کے سحر میں مجھ کو کھویا رہنے دو
خواب ہے لیکن خواب بھی کیسا اچھا ہے

ہستی کے سب ٹانکے اُدھڑے جاتے ہیں
آخری ٹانکا ذات کا اُلجھا رہتا ہے

چپکے چپکے اُس سے باتیں کرتی ہوں
چھپ کر اندر کوئی بیٹھا رہتا ہے



مرے نصیب میں لکھی کبھی سحر ہو گی
خود اپنے آپ کی مجھ کو کبھی خبر ہو گی

شبِ فراق ہے اب میری عمر کا حصہ
کوئی بتائے گا یہ کتنی مختصر ہو گی

خموشی اُوڑھ کے بیٹھی ہوں میں سرِ محفل
خموشیوں پہ مری اُس کی کب نظر ہو گی

مسافتوں کی تھکن جسم و جاں میں اُترتی ہے
کبھی تو سامنے منزل کے رہگزر ہو گی

مجھے یقین ہے آئے گا ایک دن ایسا
جو کھو گئی ہے محبت وہ ہم سفر ہو گی

زمانہ نکلے گا میری تلاش میں اور پھر
مری یہ ذات ذرا اور معتبر ہو گی



کچھ اور بڑھنے لگی انتظار کی وحشت
سکون لینے نہیں دیتی درد کی شدت

اکیلا کر لیا ہے ہم نے اپنے آپ کو یوں
کسی سے اب تو نہیں ہم کو پیار کی فرصت

ہے اپنے چاروں طرف اک مہیب سناٹا
کٹے گی کیسے صعوبت بھری شبِ فرقت

اِک آسمان گرا اور ہم سمجھ نہ سکے
کسی بھی بات سے ہوتی نہیں ہے اب وحشت

ہمیں تو رہنے کو گھر چائیے مکان نہیں
ملا نہ گھر تو مکاں کی نہیں رہی حسرت



لگائو گھائو نئے چارہ گر کی بات کرو
ہے ضبط مجھ میں بہت، نوحہ گر کی بات کرو

تمہاری باتوں نے توڑا ہے آئینہ دل کا
ستانا چھوڑو کسی شیشہ گر کی بات کرو

عجب سا لطف ملا آج ٹوٹ پھوٹ میں بھی
جو توڑ پھوڑ دے اُس فتنہ گر کی بات کرو

سنائے گیت بہاروں میں رنگ بھر ڈالے
اُداس ہوں میں کسی نغمہ گر کی بات کرو

کہانیوں سے تو بچپن کی یاد آتی ہے
کھلونے لا دو مجھے قصہ گر کی بات کرو



یقیں کے اور گماں کے درمیاں ہوں
مجھے لگتا ہے شاید بدگماں ہوں

بچا لو اپنی آنکھوں کو نمی سے
میں بجھتی آگ سے اُٹھتا دھواں ہوں

مسافر کتنے آئے کتنے پلٹے
کسی گم گشتہ منزل کا نشاں ہوں

بہت سے قافلے لے کر چلی ہوں
میں اِک مدت سے میرِ کارواں ہوں
ہمہ تن گوش کیوں ہیں اہلِ محفل
کوئی قصہ ہوں، کوئی داستاں ہوں

کنارے تک کبھی پہنچیں نہ پہنچیں
نئی کشتی کا ٹوٹا بادباں ہوں

مرے سائے میں کیسے رہ سکو گے
پگھلتے موم کا اِک سائباں ہوں

خدا جانے رسائی ہو کہاں تک
میں ٹوٹے دل سے نکلی اِک فغاں ہوں

مجھے تم اِس قدر ناداں نہ سمجھو
زمیں زادی ہوں لیکن آسماں ہوں



ہوا میں مجھ کو اُڑنا آ گیا ہے
فضائوں میں ٹھہرنا آ گیا ہے

مجھے شعلوں پہ چلنا آ گیا ہے
میں پتھر تھی، پگھلنا آ گیا ہے

دلِ وحشی کو اب کیسے سنبھالوں
اِسے تو بس مچلنا آ گیا ہے

ہوں مقروضِ اَنا بے بس نہیں ہوں
مجھے گر کر سنبھلنا آ گیا ہے
زمانے نے سکھایا ہے بہت کچھ
ہر اِک سانچے میں ڈھلنا آ گیا ہے

ضرورت ہی نہیں اب تو کسی کی
مجھے خود ہی بہلنا آ گیا ہے

کوئی اچھی غزل تخلیق کر دے
تخیل کو سجانا آ گیا ہے



دوستی کا جنہیں احساس دلایا جائے
ایسے رشتے کو بھلا کیسے نبھایا جائے

بے ثمر ہونے لگیں بستیاں پھر سے
پیار کا پودا ذرا پھر سے لگایا جائے

کوئی خوشبو نہیں، تتلی بھی نہیں، گل بھی نہیں
سبز موسم کو ذرا ڈھونڈ کے لایا جائے

کوئی اِس دکھ کو، اذیت کو سمجھتا کب ہے
داغ سینے کا بھلا کس کو دکھایا جائے

ہے عجب کھیل یہ ہر روز کا جینا مرنا
میں اگر حرفِ غلط ہوں تو مٹایا جائے

دل جلا رکھا ہے آندھی میں مسافر کیلئے
ایسے طوفاں میں دیا کیسے جلایا جائے



دستکیں شب بھر ہوا دیتی رہی
شمع لیکن رات بھر جلتی رہی

بدلیوں کی اُوٹ میں تھا چاند بھی
جانے کیا کیا چاندنی کہتی رہی

شب پہ کیا گزری کسے معلوم ہے
صبح تارے اُوڑھ کر سوتی رہی

پھول سے بھنوروں کی سُن کر داستاں
رات بھر شبنم یونہی روتی رہی

چُن کے تتلی پھولوں کی کچھ پتیاں
خوشبوئوں سے باوضو ہوتی رہی



جلا کر اِک دیا رکھا ہوا ہے
کسی طوفان سے سودا ہوا ہے

بہت مدت سے اِک میرا سندیسہ
ہوا کے ہاتھ پر لکھا ہوا ہے

ہمیں اِس حال میں پہچان لو گے
یہ مت کہنا کہیں دیکھا ہوا ہے

کبھی فرصت ملے تو آ کے ملنا
وفا کا قرض اِک رکھّا ہوا ہے
چلو چھوڑو کوئی الزام مت دو
نہ جانے کس نے کیا سوچا ہوا ہے

تمہیں بھی علم ہو جائے گا جلدی
کسی نے کس کو کیا بیچا ہوا ہے

وہ دستک بھی تمہاری سُن رہا ہے
جو اُوپر ہے وہ کب سویا ہوا ہے

بھلا ہو تتلیوں کے پیرہن کا
فضا کا رنگ کچھ بدلا ہوا ہے

تمہارے در پہ کیوں سر کو جھکائیں
کیوں اپنے کو خدا سمجھا ہوا ہے

نئی تعبیر بنتے جا رہے ہو
ادھورا خواب کب پورا ہوا ہے



مجھے اب کیسے سوچا جا رہا ہے
پسِ دیوار لکھّا جا رہا ہے

تلاشِ یار میں نکلے ہو شاید
یہاں انسان بیچا جا رہا ہے

نمو کی رُت سے کہہ دو اب نہ آئے
فنا کا بیج بویا جا رہا ہے

ہتھیلی پر سجا لائے ہیں جاں کو
بڑی حیرت سے دیکھا جا رہا ہے

عدالت اس سے طرح کیوں لگی ہے
مجھے کیوں ایسے سمجھا جا رہا ہے



اُبھر کر ڈوب جانا چاہتے ہیں
تجھے پالیں بہانہ چاہتے ہیں

گھٹن اِس حبس موسم میں بہت ہے
نیا طوفاں اُٹھانا چاہتے ہیں

اُجالا ہو ذرا ظلمت کدے میں
چراغِ دل جلانا چاہتے ہیں

اِسے یادوں کا ہم حصہ بنا کر
نہ جانے کیا بھلانا چاہتے ہیں
مقابل ہم بھی اِس دنیا کے آ کر
مقدر آزمانا چاہتے ہیں

نظر اپنی لگی ہے آسماں پر
جو کھویا تھا وہ پانا چاہتے ہیں

ادب کے نام پر کچھ لوگ اکثر
فقظ شہرت کمانا چاہتے ہیں

کبھی بھی جو کسی نے نا کیا ہو
وہ ہم کر کے دکھانا چاہتے ہیں

زمانہ یاد رکھّے مدتوں تک
یہاں سے ایسے جانا چاہتے ہیں



کبھی منزلیں بدلنا کبھی راستوں میں آنا
کبھی دوستی نبھانا کبھی دشمنوں میں آنا

ذرا تھوڑا غور کرنا ہمیں چھوڑنے سے پہلے
کبھی نفرتیں پرکھنا، کبھی چاہتوں میں آنا

مری خواہشوں کی مسند پڑی مدتوں سے خالی
کبھی خواب ہی دکھانا کبھی رتجگوں میں آنا

یہ سفر محبتوں کے کبھی طے ہوئے اکیلے
کبھی ساتھ ساتھ چلنا کبھی منزلوں میں آنا

مرا ہم سفر اچانک کیوں بچھڑ گیا ہے مجھ سے
تمہیں دیکھنا میں چاہوں کبھی آئینوں میں آنا

ہے دردیدہ جسم سارا پڑے پائوں میں ہیں چھالے
کبھی مرہموں کی صورت مرے آنگنوں میں آنا



دیدہ نم کو مرے اور بھی بینائی دے
تجھ سے کچھ بات کروں گوشہء تنہائی دے

دل کے آئینے میں جھانکوں تو نظر تو آئے
شوق کو میرے بڑھا، ذوقِ تماشائی دے

شوقِ دیدار نے اب جینا کیا ہے مشکل
در پہ آئی ہوں ترے مجھ کو پذیرائی دے

کون سی سمت چلوں پاس ترے جا پہنچوں
محورِ زیست بنا بادیہ پیمائی دے

سات پردوں میں چھپا رہنا بھی اچھا تو نہیں
تو نہاں کیوں ہے عیاں ہو کے شناسائی دے

ذرے ذرے میں نظر آتے ہیں جلوے تیرے
مجھ کو ہر شے میں دکھائی رُخِ زیبائی دے



ہم سے مت کوئی رابطہ رکھنا
ایک تھوڑا سا فاصلہ رکھنا

تم کو عادت ہے روٹھ جانے کی
مت تعلق کوئی روا رکھنا

سبز موسم تراشنے کے لیے
زرد موسم سے رابطہ رکھنا

جب بکھر جائیں کرچیاں دل کی
کیوں محبت کا سلسلہ رکھنا
آ گئے ہو تو بیٹھ جائو ذرا
رنجشوں کو ذرا چھپا رکھنا

ڈھونڈنا ہم کو اپنی آنکھوں میں
سامنے اپنے آئینہ رکھنا

شام ڈھلنے پہ لوٹ آئیں گے
اِک دیا تم ذرا جلا رکھنا



سمجھتی میں بھی ہوں کہ زندگی کی جستجو کیا ہے
نہیں ممکن یہ بتلائوں کہ میری آرزو کیا ہے

میں تیرے عشق میں رسُوا ہوں، دیوانی ہوں، مجنوں ہوں
کبھی تو تُو مجھے مل جا تجھے دیکھوں کہ تُو کیا ہے

بنا کر بھول بیٹھا ہے کبھی نیچے اُتر کر آ
تجھے بھی علم ہو جائے جہانِ رنگ و بُو کیا ہے

گدائی کا لئے کاسہ بھٹکتی پھر رہی ہوں میں
ہر اِک لمحے میں حاضر ہوں تو پھر وجہ وضو کیا ہے

تجھے ڈھونڈا تجھے پایا ہے ہم نے سات پردوں میں
نہیں تو سامنے تو پھر یہ چرچا کُو بہ کُو کیا ہے

بہت مدہوش رکھتا ہے یہ تیرے عشق کا نشّہ
ترا عاشق یہ کب جانے ہے کہ جام و سُبو کیا ہے



مجھے وجود سے باہر وہی نکالے گا
میں اُس کی ہوں وہ مجھے آپ ہی سنبھالے گا

رہے گی تاب نہ مجھ میں کہ اُس کو دیکھ سکوں
مرے لئے وہ دئیے آپ ہی جلا لے گا

سفر پہ عشق کے نکلے ہیں ہم خموشی سے
یقین اپنے لئے راستہ بنالے گا

تڑپ نے دید کی مجنوں بنا دیا مجھ کو
جو پردے راہ میں حائل ہیں سب اُٹھا لے گا

فزوں ہے میرا جنوں مجھ کو کون رُوکے گا
خرد کی راہ سے پتھر وہ خود ہٹا لے گا

کھڑی ہوں عشق سمندر کے میں کنارے پر
سفینہ موجوں سے باہر وہی اُچھالے گا



مرے یقین کو تو صورتِ گماں نہ سمجھ
غبارِ دل ہے اِسے گردِ کارواں نہ سمجھ

وفورِ عشق میں سب کچھ بھلا کے ساکت ہیں
جنون و شوق کو تُو مرگِ ناگہاں نہ سمجھ

یہ خواہشوں کے پجاری زمیں پہ رہتے ہیں
تماشا دیکھتا رہ اِن کو آسماں نہ سمجھ

جبیں جھکانے سے پہلے ذرا یہ سوچ تو لے
ہر ایک رہ گذر کو تو آستاں نہ سمجھ

سفر طویل ہے مشکل ہے دُور منزل بھی
خود آنکھیں کھول کسی کو بھی پاسباں نہ سمجھ



خوف انجانا رگ و پے میں سرایت کر گیا
اور پھر انسان اپنے سائے سے خود ڈر گیا

مدتوں سے میں بھٹکتی تھی تلاشِ یار میں
عشق کو میرے مکمل ایک لمحہ کر گیا

ہم سفر نے ساتھ چلنے کا کیا وعدہ مگر
زہر تنہائی کا میری زندگی میں بھر گیا

تہمتوں کے داغ سب دامن سے میرے دُھل گئے
یہ بہت اچھا ہوا کے زندگی سے شر گیا

ہر کوئی شہنازؔ اپنی خواہشوں کا ہے غلام
منظرِ شہرِ تمنا سب کو پُر نم کر گیا



ہمیں بھی کب گوارا ہر ستم تھا
محبت کا بھی کچھ رکھنا بھرم تھا

کسی طرح سے اپنا دل نہ بہلا
اچانک یوں بچھڑ جانے کا غم تھا

بھلاتے بھی بھلا ہم اُس کو کیسے
وہی کعبہ، وہی اپنا صنم تھا

قلندر عشق کے نشّے میں گم تھا
اُسے درکار کب جاہ و حشم تھا

بہت مشکل سے گزری جو بھی گزری
کب آنسو تھم سکے کب درد کم تھا



اب تو مٹی کا گھروندا ہے بنانا مشکل
بجھتی آنکھوں میں نیا خواب سجانا مشکل

ہم تو موسم کا ستم سہتے تھے خوشبو کیلئے
ہجر موسم میں گل و تتلیاں لانا مشکل

اِس قدر بھیڑ میں پہچانیں گے خود کو کیسے
ہو گیا آپ سے اب خود کو ملانا مشکل

مت سمیٹو ہمیں تم خود ہی بکھر جائو گے
کرچیوں میں ہیں بٹے اب ہے اُٹھانا مشکل

آج خود کو ہے سنبھالاکہ کوئی بات کریں
ایک مدت سے ہُوا سننا سنانا مشکل

عشق میں ہم تو بہت دُور نکل آئے ہیں
ہم سے اب کوئی تعلق ہے بنانا مشکل



جبکہ خود سے بچھڑ گئے ہیں ہم
کس لئے خود کو ڈھونڈتے ہیں ہم

زخم خوردہ نہیں اب آزردہ
خوب جی بھر کے رو لیے ہیں ہم

لوگ بدلے تو ایسا لگتا ہے
اپنے ہی شہر میں نئے ہیں ہم

نام تیرا دوبارہ لے شاید
دل کی دھڑکن کو سُن رہے ہیں ہم
اپنی پہچان بھی نہیں ہوتی
روز آئینہ دیکھتے ہیں ہم

عشق منزل کے ہم مسافر ہیں
سب مصائب کو جانتے ہیں ہم

اب شبِ غم میں روشنی ہو گی
چاندنی میں نہا لیے ہیں ہم



اِس قدر پیار سے یہ کس نے پکارا جاناں
کرب سے عشق کی وادی میں اُتارا جاناں

میری چاہت کا دُعائوں کا صلہ مل ہی گیا
نکہت و نُور سے تُو نے جو نکھارا جاناں

وعدہ کر لو کہ مرا ساتھ نہیں چھوڑو گے
تم سے دُوری نہیں پل بھر بھی گوارا جاناں

شکر صد شکر عطا کر دیا سب کچھ اُس نے
اُوج پر لے گیا قسمت کا ستارا جاناں

مجھ سا دُنیا میں بھلا کس کا مقدر ہوگا
بڑھتے طوفاں میں ملا مجھ کو کنارا جاناں

تیز دوڑائے گا اب مجھ کو مرا شوق و جنوں
روک سکتا نہیں دُنیا کا خسارا جاناں



آج اپنی اُڑان دیکھوں گی
اِک نیا آسمان دیکھوں گی

گفتگو سے ہوا نہ کچھ حاصل
خامشی کی زبان دیکھوں گی

میں نے ایسا کبھی نہ سوچا تھا
عکس کے بنِ مکان دیکھوں گی

آزمائش گزر چکی ہے اب
اور کب امتحان دیکھوں گی
ہے مرا عشق اور جنوں کامل
گم یقیں میں گمان دیکھوں گی

دید کے آخری مراحل میں
پردہ کب درمیان دیکھوں گی

مجھ کو در پر بلا لے پھر یزداں
پھر نیا اِک جہان دیکھوں گی

جس جگہ سب ہی برگزیدہ ہوں
ایسا اک خاندان دیکھوں گی

کالی کملی کی چھائوں ہو ہر سُو
میں بھی وہ سائبان دیکھوں گی



خوشبو ہو کہ سایہ ہو، کوئی خواب ہو کیا ہو
ساحل ہو بھنور ہو کوئی گرداب ہو کیا ہو

اِک گونہ سکوں دل کو ملا دیکھ کے تم کو
اُمید کا بڑھتا ہوا سیلاب ہو کیا ہو

چڑھ جائے جو سر پر تو اُترتا ہی نہیں ہے
تم عشق ہو نشّہ ہو مئے ناب ہو کیا ہو

ہر رنگ نرالا ہے نئی چھب ہے تمہاری
چُنری میں چھپا اِک رُخِ سیماب ہو کیا ہو

آہٹ میں ہے اک ساز اور آواز میں جادو
ونجلی ہو کہ وینا ہو کہ مضراب ہو کیا ہو



کیسے بتلائوں کہ اِس آنکھ نے کیا کیا دیکھا
روز عاشق نے نیا عشق تماشا دیکھا

آگ سینے میں جو بھڑکی تو بھڑکتی ہی گئی
دور تک درد کا جلتا ہوا صحرا دیکھا

رات نے شام کی آنکھوں میں لگایا کاجل
اور خود روز نئی صبح کا چہرہ دیکھا

کیوں زلیخا ہوئی بیتاب کہ آئے یوسف
عشق پہ حسُن کا تُو نے کبھی پہرا دیکھا

وہ ہی اقوام نظر آتی ہیں اب بھی محکوم
اپنی تہذیب سے جس جس کو معراؔ دیکھا



زندگی تیرے سوالات سے ڈر لگتا ہے
چشمِ پُر نم تری برسات سے ڈر لگتا ہے

مسئلے لے کے نکل آتا ہے دن کا سُورج
لوگ کہتے ہیں اُنہیں رات سے ڈر لگتا ہے

رَتجگے کات کے کچھ خواب بُنے ہیں مَیں نے
اِدھ کھلی آنکھوں کو خیرات سے ڈر لگتا ہے

جس کو خود سے بھی چھپایا یہ بتاتا نہ پھرے
جانے کیوں اِس دلِ بیتاب سے ڈر لگتا ہے
اپنے اندر کی ہی دُنیا میں بسا کرتے ہیں
کیا کریں گردشِ حالات سے ڈر لگتا ہے

میرے اقرارِ محبت کو وہ سُن کر بولے
ایک دیوانے کے اثبات سے ڈر لگتا ہے

ہم تو عاشق ہیں، قلندر بھی ہیں، درویش بھی ہیں
عشق والوں کی کرامات سے ڈر لگتا ہے

اُس نے پہلے بھی خطا اپنی کہاں مانی ہے
پھر مُکر جائے گا اِس بات سے ڈر لگتا ہے

گہرا سناٹا ہو تاریکی ہو تنہائی ہو
زخم بنتے ہوئے لمحات سے ڈر لگتا ہے

سب نے اجداد کو معبود بنا رکھا ہے
ہم کو ورثے میں ملی ذات سے ڈر لگتا ہے



کسی کا کچھ نہیں جائے گا میرے ساتھ چلنے میں
میں اِک بہتا ہوا دریا ہوں اِس صحرا کے سینے میں

کوئی کتنا بڑا بھی کام ہو جائے مگر اکثر
زمانہ دیر کرتا ہے نیا اِک نام دینے میں

کسی کی جیت کو تسلیم کرنا کتنا مشکل ہے
مگر یہ بھی قرینہ ہے محبت کے قرینے میں

میں عاشق ہوں ہر اِک حد سے گزر جانے کی عادت ہے
تساہل کب ہے مجھ کو اِک نئی تدبیر کرنے میں

محبت کے سفر میں آخری منزل نہیں ہوتی
عجب اِک اِس کی لذت ہے مزہ ہے ایسے جینے میں



کس لئے عشق کی عاشق کو سزا دیتے ہو
ایک مجنوں کا جنوں اور بڑھا دیتے ہو

یاد کچھ بھی نہیں رہتا ہے مجھے اُن کے سوا
دل کی مسند پہ جنہیں روز بٹھا دیتے ہو

اُن کی محفل میں پہنچنے کی مجھے جلدی ہے
راستہ کس لئے دشوار بنا دیتے ہو

جانتے بوجھتے حالت کسی دیوانے کی
عشق کی آگ کو بھڑکا کے ہوا دیتے ہو
زندگی پوری گزاری ہے فقط وعدوں پر
کچھ بھی کرتے نہیں بس خواب دکھا دیتے ہو

دے نہیں پاتے ہو تم میرے سوالوں کے جواب
اِک کہانی مجھے بس آ کے سنا دیتے ہو

جن کو میں ڈھونڈ رہی ہوں وہ بھلا کیسے ہیں
نقش بننے نہیں دیتے ہو مٹا دیتے ہو

آئینہ خانے میں بیٹھے ہوئے مدت گزری
محوِ حیرت کو تماشا سا بنا دیتے ہو

جب بھی تصویر سی بنتی ہے مری آنکھوں میں
چشمِ پُر نم کی نمی اور بڑھا دیتے ہو

منتظر ہم بھی عطا کے ہیں صدا کرتے ہیں
مانگنے والے کو حاجت پہ سوا دیتے ہو



ذرا میں شوق کی رفتار دیکھوں
نکل کر خوف سے اِک بار دیکھوں

نظر آتا نہیں روشن ستارا
میں کیسے دُھند کے اُس پار دیکھوں

مرا جذب و جنوں کامل ہے جاناں
تو کیوں میں راہ میں دیوار دیکھوں

ترے کوچے سے مشکل واپسی ہے
پلٹ کر در کو میں ہر بار دیکھوں

سفر ہے آبلہ پائی کا جاری
میں کیسے گرمئیِ بازار دیکھوں

خرد روکے ہے دل کو عاشقی سے
دماغ و دل کی میں تکرار دیکھوں



جلتا چراغ جب سے ہوا کو تھما دیا
منزل کا نقش ہاتھ سے اپنے مٹا دیا

لذت عجب ملی ہمیں لمحاتِ ہجر میں
طولِ شبِ فراق کو خود ہی بڑھا دیا

مشکل ہمارے واسطے مشکل نہیں رہی
طوفان میں بھی راستہ اُس نے بنادیا

آندھی بھی کب بجھا سکی اِک آگ عشق کی
روشن رہا وہ نُور سے جلتا ہوا دیا

اب طائروں کی جراتِ پرواز دیکھنا
پَر کاٹ کے صیاد نے جن کو اُڑا دیا

شہنازؔ اب اَنا کی بھی مقروض ہے کہاں
قرضِ وفا تو مدتیں گزریں چکا دیا



اب سہا جاتا نہیں تیرا وجود
اے مری تنہائی مجھ کو چھوڑ دے

عشق میں مَیں مبتلا مدت سے ہوں
میرا ناتہ خود سے اب تُو جوڑ دے

کوئی خدشہ زندگی میں کیوں رہے
فکر کے یہ سارے بندھن توڑ دے

جس طرف بس امن ہو اور چین ہو
رُخ مرا تُو اُس طرف کو موڑ دے



سچے عاشق ہو تو پھر عشق کا چرچا نہ کرو
کیا ملے گا تمہیں اِس عشق میں سوچا نہ کرو

ہم ہیں سینے پہ لگے زخم سجانے والے
گر دیئے زخم تو پھر اِن کا تماشا نہ کرو

بھیج کر تحفہ مرا قرض چکا دیتے ہو
میرے دُکھ درد کا اِس طرح مداوا نہ کرو

مان کے اپنا تمہیں ہار دیا ہے سب کچھ
تم بھی اپنا ہی سمجھ کر مجھے رُسوا نہ کرو

پا لیا آپ کو شہنازؔ نے قسمت اُس کی
کہہ دو اِس دل سے کوئی اور تمنا نہ کرو



وہ میرے عشق کا محور تلاش کرتا ہے
مجھے وہ میرے ہی اندر تلاش کرتا ہے

عجب سی مستی میں ڈوبا ہوا دلِ وحشی
فنا سفر میں سمندر تلاش کرتا ہے

نہ جانے کھو گیا کیا عشق کے مسافر کا
گزر چکے ہیں جو منظر تلاش کرتا ہے

سکوں کی گھڑیوں میں بھی بے سکون رہتا ہے
گئے جنون کو اکثر تلاش کرتا ہے

وہ خود بھی کھویا ہے، کچھ کھو گیا ہے اُس کا بھی
وہ اِس کو خود سے بھی چھپ کر تلاش کرتا ہے



وجدان ہے یا عشق ہے سوچا ہی نہیں ہے
لمحہ کوئی ادراک کا آیا ہی نہیں ہے

کس سمت نکل جائیں سمجھ کچھ نہیں آتا
مدت سے خضر کو کہیں دیکھا ہی نہیں ہے

کچھ ذوقِ سفر میں ہی کمی ہو گئی ہوگی
جگنو کبھی رستے سے تو بھٹکا ہی نہیں ہے

تو میرا حوالہ ہے مگر کیوں ہوا ایسا
اِک لفظ ترے واسطے لکھا ہی نہیں ہے
اِک نور سے خوشبو سے مرا گھر ہے معطرؔ
کب ہو گیا ایسا کبھی سوچا ہی نہیں ہے

کیا اتنا تعلق تھا گئے وقت سے اپنا
گزرے ہوئے لمحوں کو پکارا ہی نہیں ہے

خود ڈالا ہے کشتی کو محبت کے بھنور میں
اِس عشق سمندر کا کنارا ہی نہیں ہے



میں اپنے اور اُس کے درمیاں اِک فاصلہ چاہوں
محبت کو بچانے کا سلیقہ سیکھنا چاہوں

کبھی اِک پل کی دُوری بھی گوارا کر نہیں سکتی
کبھی ترکِ تعلق کیلئے اِک راستہ چاہوں

خزاں رُت کی یہ ویرانی تو اب اچھی نہیں لگتی
کسی بدلے ہوئے موسم کا منظر دیکھنا چاہوں

مجھے جانا کہاں ہے کونسی منزل مری ہو گی
زمانے کے تسلسل سے نکل کر سوچنا چاہوں

وہی ہے عشق کا محور ہر اِک دھڑکن یہ کہتی ہے
میں اُس کا قرب پانے کو نیا اِک سلسلہ چاہوں

میں عاشق ہوں مجھے تو عشق کے رستے پہ چلنا ہے
پیالہ عشق کا پی کر اُسی سے رابطہ چاہوں



عاشقی کر کے ہر عاشق ہی دوانہ ٹھہرا
اور ترے واسطے یہ عشق تماشا ٹھہرا

ہم سے عاشق کو کسی نے بھی نہیں پہچانا
لیلیٰ مجنوں کا مگر ایک زمانہ ٹھہرا

زندگی بھر ترے مجنوں کو کہاں ہوش رہا
دہر والوں کیلئے قصہ پرانا ٹھہرا

ہجر میں پائی جو لذت وہ کہاں وصل میں ہے
یہ بچھڑنا تو فقط ایک بہانہ ٹھہرا

شوقِ وارفتگی میں ایسا ہوا حال مرا
کیفیت اپنی فقط اُس کو ستانا ٹھہرا

دید کی آس ہمیں دیکھ کہاں لائی ہے
اب تو چہرے سے فقط پردہ ہٹانا ٹھہرا



غبارِ راہ بنی میں رہِ غبار میں ہوں
نہ جانے کون ہے میں جس کے انتظار میں ہوں

وہ مجھ سے ملنے پلٹ کر ضرور آئے گا
بہت زمانے سے اُمید کے حصار میں ہوں

یہ جبر و قدر کا چکر ازل سے چلتا ہے
کبھی یہ سوچا نہیں کس کے اختیار میں ہوں

یہ لوگ کون ہیں کیسے ہیں کچھ نہیں معلوم
میں بس ہجوم کا حصہ ہوں، کس شمار میں ہوں
مجھے بھی دیں گے وہ حصہ یہ کیسے سوچ لیا
میں اتنی دُور ہوں، میں کب کھڑی قطار میں ہوں

میں اُس کی ہوں وہ مرا ہے بس اتنا کافی ہے
نہیں ہے جیت کی چاہت ،میں مست ہار میں ہوں

سمجھ کے بھی مجھے سمجھا نہیں زمانے نے
خزاں رسیدہ ہوں کھوئی مگر بہار میں ہوں

کھڑی ہوں عشق سمندر کے میں کنارے پر
چڑھا ہے عشق کا نشہ بہت خمار میں ہوں

عشقِ مسافت


عشق مسافت

عشق سمندر میں چھلانگ لگانے کے بعد مسافت طویل ہوتی گئی۔ ابھرتی ڈوبتی رہی مگر ساحل کی تمنا نہیں کی کیونکہ عشقِ مسلسل سے گذر رہی تھی اور یہ عشقِ مسلسل عشق ِ کُل کو تلاش کر رہا تھا۔ اس مسافت کے دوران سیپ سے موتی چنے تھے ان کو جمع کرنے کا موقع ملا اس دوران عشقِ کل تک پہنچنے کیلئے بہت سے جوار بھاٹے دیکھے۔ لیکن عشق سمندر کی موجوں نے سنبھالے رکھا اور یقین کو کامل کیا اور کوئی ہے جو بنا پتوار بھی ناؤ پار لگا دیتا ہے۔ساحل نظر آتے رہے مگر انہیں منزل نہیں بنایا اور الحمدللہ یقین کامل کی منزل مل گئی۔اور ہچکولے کھاتی ناؤ کو لے کر تھوڑی دیر سستانے کو ساحل پہ رُک گئی۔اطمینان قلب حاصل ہونے کے بعد دوران سفر در پیش اکٹھے کئے گئے موتی جو عشقِ مسلسل کی راہیں ہموار کر رہے تھے اُن کو گوہر شناسوں کو تھما دیاجائے اور عشق مسلسل کی داستان بھی آپ کو سنائی جا سکے۔ الحمدللہ عشق مسافت کے ساتھ ساتھ عشقِ مسلسل نے بھی ایک مشکل اختیار کر لی ہے۔اب آپ بتائیں گے کہ کتنے آبدار موتی میں چُن سکی ہوں۔
عشق سمندر بھی سامنے ہے اور اس میں موجود سیپیاں مزید موتیاں بنا رہی ہیں انشاء اللہ۔ عشق کل کے ساتھ عشق سمندر میں اتر کر مزید موتی چنوں گی۔ لیکن اس سے پہلے یہ جاننا چاہوں گی کہ گوہر شناسوں کو اس میں کتنے سچے اور سُچے موتی ملے۔ اور کتنے کنگر پتھر۔ میں انتہائی شکر گذار ہوں منفعت عباس رضوی کی کہ انہوں نے مسلسل ایک گھنٹے بیٹھ کر میرا کلام سنا اور آبدار موتی چُننے میں میری مدد کی۔ اب دیکھیں گو ہر شناسوں کو یہاں کیا ملتا ہے۔
ڈاکٹر شہناز مزملؔ
چیئر پرسن، ادب سرائے انٹرنیشل۔ مادر دبستان لاہور


عشق کی شمع فروزاں

ڈاکٹر شہناز مزمل ایک ایسی ہستی کا نام ہے۔جب بھی مجھے اِن کا خیال آتا ہے تو اِن کے خیال کے ساتھ ہی مجھے اپنے قلب وجان میں عشق مصطفےﷺ کی شمع فروزاں ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ڈاکٹر شہناز مزمل صرف ایک شاعرہ اور مصنفہ کا نام نہیں ہے بلکہ ڈاکٹر صاحبہ کی عشق مصطفےﷺ کی کیفیات اور اللہ پاک کے ساتھ اُن کا تعلق کا انداز عہد حاضر کے لوگوں کے لیے عظیم سرمایہ ہے۔ مجھے اپنی کم مائیگی کا احساس ہے کہ میری طرف سے محترمہ ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ کی اِس کتاب کے حوالے سے کچھ لکھنا ایسے ہی ہے جیسے سورج کو چراغ دیکھانا۔ڈاکٹر شہناز مزمل صا حبہ نے جس طرح خالق کی محبت میں ڈوب کر لکھا ہے اور جس راستے کی وہ مسافر ہیں یقینی طور پر راہ حق کے مسافروں کے لیے اُنھوں نے جس طرح رہنمائی کی ہے وہ یقینی طور پر ایک کامل ولی ہی کر سکتا ہے۔ڈاکٹر صاحبہ کی اپنے اردگرد کے لوگوں پر اتنی نوازشات ہیں کہ وہ سب کے لیے ایک ایسا شجر سایہ دار ہیں جس سے ہر کوئی فیض لیتا ہے۔ ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ کا لکھا ہوا ایک ایک لفظ راہ عشق حقیقی کا آئینہ دار ہے۔اللہ پاک نے ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ پر اپنے بے پناہ کرم سے نواز ا ہے کہ اُن کی شاعر اور نثر دونوں میں انسانیت سے محبت اور فلاح کا راستہ دیکھائی دیتا ہے۔ڈاکٹر شہناز مزمل صاحب جن راستوں کی راہی ہیں وہ اخلاص محبت اور وفا سے سجا ہوا ہے۔۔ ڈاکٹر صاحبہ کے ساتھ بندہ ناچیز کے تعلق کی بنیاد یہ بھی ہے کہ مجھے اُنھوں نے اپنے چھوٹے بھائی کا اعزاز بخشا ہے۔ اور میرے بیٹے حذیفہ کی وہ پھوپھوہیں۔ اللہ پاک ڈاکٹر صاحبہ کا سایہ ہمارے سر پہ تاقیامت قائم رکھے۔
صاحبزادہ محمد اشرف عاصمی
ایڈووکیٹ ہائیکورٹ



کون کرتا رہا تلاوت ہے
دی فضاؤں نے اک بشارت ہے

دھیرے دھیرے برس رہی پھوار
اتری پھر آسماں سے آیت ہے

آ رہی ہیں اذاں کی آوازیں
کر لو سجدہ اگر بصارت ہے

نکلیں شبنم سے باوضو ہو کر
گل و لالہ کی یہ روایت ہے
کیسے پی کو پکارتا پی ہو
دیکھی ایسی کہاں حلاوت ہے

اِس کو اپنا کبھی نہ سمجھو تم
زندگی موت کی امانت ہے

گر یقیں ہے تمہارا کامل تو
عشق کرنا بھی اک عبادت ہے



بہت شعلہ بیانی ہو رہی ہے
ہر اک سو نعت خوانی ہو رہی ہے

موذن اب ہوائیں ہو گئی ہیں
فضا کتنی نورانی ہو رہی ہے

نہیں حاصل ہے کچھ لا حاصلی کا
ہر اک شے نقشِ فانی ہو رہی ہے

یقیں نے چھو لیا ہے آسماں کو
گماں سے بدگمانی ہو رہی ہے
چھپا لیں گے وہ کملی میں مجھے بھی
طلب یہ جادوانی ہو رہی ہے

ہے دنیا نقش پا پیرِ مغاںؐ کا
ہر اِک سُو کُن فکانی ہو رہی ہے

شہنشائے دو عالم میرے آقاؐ
جھکا ہے سر غلامی ہو رہی ہے

تقدس کا نشّہ چھانے لگا ہے
عقیدت ضوفشانی ہو رہی ہے



گر وہ لمحے شدید دیتا ہے
رحمتوں کی نوید دیتا ہے

وہ فقط لا اِلہ اِلا للہ
ذرہ ذرہ وعید دیتا ہے

کوئی پل بھی اذاں سے خالی نہیں
اس فضا میں شنید دیتا ہے

دنیا مانگو تو وہ تمھارے لیے
ساری چیزیں خرید دیتا ہے

اور طلب نور کی جو کرتا ہے
اپنے پیارےؐ کی دید دیتا ہے



نوائے عشق کا اترا ابھی خمار نہیں
ابھی تلک مجھے اپنے پہ اختیار نہیں

ہوا ہے یہ بھی کہ صحرا میں پھول کھلتے ہیں
سفر نصیب کے حصے میں کیوں بہار نہیں

طلسمِ جان کے سب راز کھول دوں کیسے
نہیں نہیں مجھے خود پر بھی اعتبار نہیں

شب ِ سیہ چھپاتی ہے میرے داغوں کو
اسے یہ کہہ دو کہ گیسو ابھی سنوار نہیں
مسافتوں کی تھکن سے یہ جسم و جان ہے چور
سفر طویل ہے رستے میں راہ گزار نہیں

کبھی تو تشنگی کم ہو ہی جائے گی لیکن
زمانہ بیت گیا اترے دریا پار نہیں

کسی کو اپنی طلب کب تھی جو وہاں رکتے
پلٹ کے ہم کو زمانے تو اب پکار نہیں

سفر کو اوڑھ کر نکلے تھے تیری چاہت میں
جہاں پہ ملتی ہے چاہت یہ وہ دیار نہیں

تلاشتی ہوئی منزل مجھے چلی آئی
ہزار شکر کسی کی میں زیر بار نہیں



منصبِ رقص سنبھالو کہ تمہیں جچتا ہے
ہم کو تو لذتِ وحشت میں سکوں ملتا ہے

ڈھونڈنے خود کو جو نکلو گے تو کھو جائو گے
خود فراموشی کی حالت میں جنوں کُھلتا ہے

تاپ سکتے ہو الائو کسی دیوانے کا
جس کے سینے میں محبت کا دیا جلتا ہے

پھرتے دیکھو جو کبھی چاک گریباں لاشے
جان لو مجنوں یہاں عشق لئے پھرتا ہے

تھک کے گر بیٹھ گئے راستے تارے سورج
پھر کسی کو کہاں منزل کا نشاں ملتا ہے



ہجر کی رات ہے اسکو شبِ ماتم نہ بنا
وصل لمحوں کو سجا زمزمۂ غم نہ بنا

کرچیاں ٹوٹ کے بکھری ہیں ترے چاروں طرف
ریزۂ دل کو اٹھا زخم کا مرہم نہ بنا

گر بچھڑنا ہے تو اک فیصلہ کر لیتے ہیں
اس کو تقدیر سمجھ درد کا موسم نہ بنا

سارے سپنے بہا لے جائیں گے آنسو تیرے
نیم خواب آنکھوں کو تو دیدۂ پُر نم نہ بنا
اے مصور ترے ان ہاتھوں میں لرزش کیوں ہے
رنگ تصویر میں بھر لے اسے مدھم نہ بنا

ہر مسافر میں تعلق ہو ضروری تو نہیں
ان کا دکھ درد سمجھ پیار کا سنگم نہ بنا

اب تو یادوں کے سوا کچھ نہیں شہناز ؔکے پاس
اپنی آواز دبا اک نیا سرگم نہ بنا



میں کھو گئی ہوں مگر اب گمان بولے گا
مکیں بغیر یہ خالی مکان بولے گا

زمانے بھر کی سمیٹی ہے تیرگی شب نے
ملے گی جب بھی زباں آسمان بولے گا

ہوں سنگِ میل غلط بھی تو مت ہو آزردہ
نشاں دکھانے کو خود ساربان بولے گا

یہ خامشی تو مری ذات کا حوالہ
میں گم ہوں عشق میں میرا دھیان بولے گا

اگرچہ میرا جنوں مجھ کو بے خبر کر دے
زمیں بولے گی اور یہ زمان بولے گا

جو میری روح میرے جسم جاں میں بستا ہے
وہ آج تیرے مرے درمیان بولے گا



حیرتیں حیرتیں حیرتیں حیرتیں
ہر نظر کے تعاقب میں تھیں خواہشیں

لوگ ملتے رہے پیار بڑھتا گیا
جب بہت جھک گئے بڑھ گئیں رنجشیں

اپنے اطراف لوگوں کا سیلِ رواں
دوست پیچھے ہٹے جب ملیں شہرتیں

ایک لمحہ وہ آیا کہ تنہا تھے ہم
اس محبت کے بدلے ملیں نفرتیں

یاں کسی کے بھی شانوں پہ چہرا نہ تھا
سامنے آئیں اپنوں کی کیا صورتیں

ہاتھ تھاما اٹھایا سنبھالا دیا
سب میں تقسیم کرتے رہے چاہتیں



آئینے میں چہرہ دیکھا جانے کس کا چہرہ ہے
رنگ نہیں ہے روپ نہیں ہے صورت گر بھی کیسا ہے

دیکھ کے اس کی اجڑی صورت اکثر میں ڈر جاتی ہوں
ہجر کی چادر اوڑھ کے بیٹھا شاید میرا سایہ ہے

اوپر سے ہنستی رہتی ہوں لگتا بے حد خوش ہوں میں
اندر اندر ٹوٹ رہی ہوں درد یہ کیسا پایا ہے

تنہائی سناٹا یادیں جب آنسو بن جاتے ہیں
اتر کر اپنے اندر رانجھن تجھ کو میں نے ڈھونڈا ہے

عشق سمندر ڈوب کے مٹی کتنی ہے زرخیز ہوئی
پھول اور پھل پھوٹے ہیںاس میں بیج یہ کیسا بویا ہے



یہ بتاؤ گمان میں ہے کیا
تیر ٹوٹی کمان میں ہے کیا

سب شکاری ہیں گھات میں بیٹھے
ڈھونڈتے ہیں مچان میں ہے کیا

اتنے گم صم سے ہو گئے ہو کیوں
کوئی اُترا دھیان میں ہے کیا

چاک خالی ہے کوزہ گر خاموش
کچھ کمی خاکدان میں ہے کیا

پا لیا جب سراغِ ہست و بود
پھر چھپا لامکان میں ہے کیا

قافلہ دربدر ہوا شہنازؔ
آزمائش میں ساربان ہے کیا



کس نے دیکھا اُسے جیا نہ جیا
پیار خود سے کبھی کیا نہ کیا

تیرگی بس نصیب میں لکھ دی
ظُلمتوں میں دیا دیا نہ دیا

خود رفو گر بھی زخم خوردہ ہے
چاک دل کا کبھی سیا نہ سیا

تلخیوں نے کیا مزاج بھی تلخ
گھونٹ کڑوا کبھی پیا نہ پیا

بے نیازی عجب تھی عادت میں
کب یہ سوچا کہ کچھ لیا نہ لیا



اپنا بن کر مجھے ملا تھا کیوں
تو مرا ہے مجھے کہا تھا کیوں

راستے میں اگر بچھڑنا تھا
تو مرا ہم سفر بنا تھا کیوں

بخشنے کو یہ قیدِ تنہائی
مجھ کو تقدیر نے چنا تھا کیوں

تیری میری جدا تھی منزل تو
تو مرے ساتھ بھی چلا تھا کیوں

جب نہیں دینا تھا جواب کوئی
شاہ کی نازؔ کو چنا تھا کیوں



چاک پہ رکھے ہیں تصویر بنا دی جائے
ورنہ اس جگہ سے یہ مٹی ہٹا دی جائے

تم نے کیا سوچ کہ رکھا ہے یہاں کوزہ گرو
گر نہیں ڈھالنا تو وجہ بتا دی جائے

رنگ و خوشبو تو ازل سے مری کمزوری ہیں
سبز موسم سے مری دنیا سجا دی جائے

ہو گیا کوچہء تہمت میں تو جینا مشکل
جرم کی اب تو سزا ہم کو سنا دی جائے

آئینہ خانے میں حیراں سے سب بیٹھے ہیں
ان زمین زادوں کی حیرت ہی مٹا دی جائے

فیصلہ پار اُترنے کا کیا ہے شہنازؔ
اب ذرا آخری کشتی بھی جلا دی جائے



ہمرہی کا ہنر نہیں آیا
لوٹ کر ہم سفر نہیں آیا

اپنے اندر کی بھیڑ میں گم تھی
کچھ بھی باہر نظر نہیں آیا

پابجولاں چلی تھی ننگے سر
رہگذر میں شجر نہیں آیا

نکلی باہر تو تھک کے ٹوٹ گئی
کوئی رستے میں گھر نہیں آیا
پہنی عاشق نے عشق کی زنجیر
مانگنے بال و پر نہیں آیا

کیسا نشّہ ہے کیف و مستی ہے
وہ تو اندر اتر نہیں آیا

خستہ دیوار و در تنے جالے
کوئی بھی کیا ادھر نہیں آیا



مدت ہوئی بہار دکھائی نہیں دیتی
حیرت ہے یہ خزاں بھی دہائی نہیں دیتی

سونی پڑی ہے کب سے مرے دل کی یہ محراب
اس میں اذانِ پیار سنائی نہیں دیتی

کیسے دیارِ ہجر میں گزریں گے شب و روز
سب ہیں خموش ساتھ خدائی نہیں دیتی

ہم عشق کے سفر پر نکل آئے تو منزل
پیچھے دھکیلتی ہے رسائی نہیں دیتی

پھیلا ہوا ہے چار سو ہجر و فراق اب
جینے دلِ ناداں کو جدائی نہیں دیتی

مدت ہوئی اطراف میں جگنو ہے نہ خوشبو
رنگ کھو گئے تتلی بھی دکھائی نہیں دیتی



اک آگ سی بھڑکتی ہے اس خیمہء جاں میں
منہ زور ہوا اس کو بجھا کیوں نہیں دیتی

گر تیری نظر میں ہے محبت کی بلندی
تو پیار سے دشمن کو دعا کیوں نہیں دیتی

ہے زعم بہت عقل پہ ان دیدہ وروں کو
ان کو تو بابِ عشق پڑھا کیوں نہیں دیتی

بدلہ ہوا ہے زاویہ کچھ تیری نظر کا
محور کے دائرے کو بڑھا کیوں نہیں دیتی



شبابِ زیست پلٹایا گیا ہے
سفر ماضی کا دہرایا گیا ہے

وہی گل پوش مہکے راستے ہیں
دوبارہ جس جگہ لایا گیا ہے

نسیم اور نادرہ ہیں ساتھ میرے
کنول سے بھی تو ملوایا گیا ہے

تمہیں بھولے نہیں ہیں بشریٰ جانی
سندیسہ کل کا بھجوایا گیا ہے
ہوئیں گم مستیوں میں ساری سکھیاں
الگ کب تھے یہ سمجھایا گیا ہے

محبت دوستی اور قربتوں کا
نیا اک روپ دکھلایا گیا ہے

ہیں کتنے قیمتی چاہت کے رشتے
ہمیں احساس دلوایا گیا ہے



فراق میں ترے پھرتی ہوں در بدر اب بھی
لمحات ہجر کے ہوتے نہیں بسر اب بھی

کبھی گھڑی دو گھڑی کے لئے دلاسہ دے
تو میرے پاس سے ہو کر کبھی گزر اب بھی

سماعتوں پہ مری دستکیں یہ کیسی ہیں
مجھے یقین ہے توُ ہے ادھر اُدھر اب بھی

یہ جانتی ہوں تری واپسی ہے ناممکن
نجانے کیوں تری رہتی ہوں منتظر اب بھی
مرا گمان ہے دھوکہ ہے سوچ ہے میری
فضا میں تیری ہی خوشبو ہے رات بھر اب بھی

زمین زادے کہاں کھو گیا ہے تو جا کر
کوئی ہے منتظر تیرا پلٹ ادھر اب بھی

عجیب کرب ہے بڑھتا ہی چلا جاتا ہے
کب ایک پل کو ہوا درد مختصر اب بھی



خوشبو کی ردا لے کر جب باد سحر جائے
یہ شہرِ سخن گُل کی مہکار سے بھر جائے

اپنا جو بناتے ہیں کچھ شرط نہیں رکھتے
تدبیر کرو ایسی تقدیر سنور جائے

جذبات کے طوفاں نے سب شمعیں بجھا ڈالیں
اس شب کے مسافر سے کہہ دو کہ ٹھہر جائے

عاشق کی دیوانے کی بس ایک کہانی ہے
’’ جو خندہ بہ لب آئے اور خاک بسر جائے‘‘
کب چاہوں میں گزرنا اس شہرِ تمنا سے
جس کوچہء جاناں کو ہر رہ گذر جائے

تو مانگنے والوں کو خالی نہیں لوٹاتا
ہیں دست دعا اٹھے کا سہ میرا بھر جائے

حالت یہ بنا لی ہے اپنے سے گزیراں ہوں
آئینہ اگر دیکھوں دل خوف سے ڈر جائے

فیض احمد فیضؔ کا مصرعہء طرح



سمجھ آئے بتائو اب کہاں سے
نکل آئے ہیں ہم ہر اک گماں سے

ہے کج بخشی میں الجھے سارے راہبر
بدل دیتے ہیں منظر وہ بیاں سے

خدایا فضل اپنا کر ہی دینا
نکلتا ہے یہی سب کی زباں سے

ہے منفی اور مثبت سامنے تو
نکالو راستہ اک درمیاں سے

زمیں والو طریقہ اپنا بدلو
صدا آتی ہے اب یہ آسماں سے



اب تو گردش سے نکل آیا ستارا اپنا
آئو مل بیٹھ بناتے ہیں کنارا اپنا

کوئی بھی سود و زیاں کے نہیں پیکر اب تو
نفع بھی اپنا نہیں نہ ہے خسارا اپنا

کتنے خوش فہم ہیں امید بندھی رکھتے ہے
کہ کبھی ہو گا جہاں سارے کا سارا اپنا

پیاس تو پیاس ہے بڑھتی ہی چلی جاتی ہے
تشنہ کامی میں کہاں ہو گا گزارا اپنا
ایک منظر نہیں بنتا تو کوئی بات نہیں
ہم بنا سکتے ہیں خوش رنگ نظارا اپنا

کوئی کب تک تمہیں پیچھے کی طرف کھینچے گا
وقت کو تھام لو تو وقت کا دھارا اپنا

ساتھ رہنے سے تو ساتھی کو سمجھ جاتے ہیں
تم بھی سمجھو نا مری جان اشارا اپنا



زندگی کیا تھی اک خسارا تھا
ہر طرف دھوپ کا کنارا تھا

ناؤ ساحل کی سمت لے جا کر
بیچ گرداب میں اتارا تھا

ہم بھلا کیسے کرتے آہ و بکا
کب سنبھلنے کا ہم میں یارا تھا

سینہ چھلنی تھا جاں لبوں پر تھی
بڑھ کے طوفان نے پکارا تھا

اس کا شکوہ کسی سے کیا کرتے
اپنے ہی دوستوں نے مارا تھا

وار اس تند خو کا کیا کہتے
کٹتے لفظوں کا تیز دھارا تھا



کوئی خلش کوئی رنجش نہ پال رکھنا تم
میں لوٹ آئوں گی قائم جمال رکھنا تم

نظر میں ہے تیری آئینہ سی نگاہیں بھی
بس اپنے پاس ہی اپنا سوال رکھنا تم

بہار تتلیاں کرنیں سمیٹ لائی ہوں
مرے خلوص کی خوشبو سنبھال رکھنا تم

میں چھوڑ آئی ہوں اک شوق عشق اور مستی
گر ہو سکے مرا حصہ نکال رکھنا تم
ہوں آس پاس تمہارے نظر نہیں آتی
مری تلاش میں شامل کمال رکھنا تم

ہوا میں قصے فضاء میں ہیں تیری تصویریں
یہ عکسِ ذات ہے جاناں اجال رکھنا تم

میں شاہ نازؔ ہوں سلطان کی یہ یاد رہے
ہمارا مان ہو اتنا خیال رکھنا تم



برف میں ڈوبا ہوا ایک انا کا موسم
سرد یخ بستہ فضا ء دھند پگھلتی شبنم

دور تک پھیلے ہوئے درد کے صحرا کی تپش
گرم اور سرد کیا کیا خوب بنا ہے سنگم

کتنا ویران ہے بے مرگ سا دل کا آنگن
ڈستی تنہائی ہے کوئی بھی نہیں ہے ہمدم

ایک مدت ہوئی گل ہو گئے چاہت کے چراغ
دل جلا ڈالا مگر روشنی مدہم مدہم

دھندلا رکھتا مری بینائی کو اک ابر رواں
دل ہے شہنازؔ کا دنیا سے گریزاں برہم



اک تیرگی سی دل میں اترتی رہی ہے آج
تو صبح کو بھی شام سمجھتی رہی ہے آج

سارے چراغ آنکھوں کے اس نے بجھائے ہیں
یہ چشمِ تر بھی کیسے برستی رہی ہے آج

اب انتظار اس کا کروں کس امید پر
یہ شمعِ زندگی تو پگھلتی رہی ہے آج

مرجھائے ہوئے سب گل و لالہ کو دیکھ کر
شبنم بھی قطرہ قطرہ ٹپکتی رہی ہے آج

ہے رات اماوس کی جوہی کی ہے خوشبو
جو زندگی کے رخ کو بدلتی رہی ہے آج



چھایا گھور اندھیرا بیرن شام ہوئی
جان ہماری یوں وقفِ آلام ہوئی

دل میں چھپا کر رکھتی تھی بس اس کا نام
لب بند کر کے پگلی تو بدنام ہوئی

تنہا چھوڑ کے مت چل دینا جوگی جی
دنیا کہے گی جوگنیا ناکام ہوئی

میری ہر اک سانس میں ہے اس کی خوشبو
دل کی ہر ہر دھڑکن اس کے نام ہوئی

ڈھونڈ نہ لے کوئی تجھ کو میرے اندر
تیری خاطر ہی تو میں گمنام ہوئی

ہر لمحے میں تیرے در کی بھکارن ہوں
تیری بدولت دنیا یہ انعام ہوئی



میرے جانے پہ تجھے ہوئی تھی کتنی وحشت
اب بتا کیسا لگا میں نے جو مانگی رخصت

جو نہ عاشق نہ ہے مجذوب نہ دیوانہ ہے
جان سکتا ہے بھلا عشق کی کیسے شدت

تو ہے دنیا کا مکیں اور خرد کا ہے غلام
تجھ پہ کھل سکتی نہیں مجنوں کے دل کی حالت

ذوقِ گریہ کا قرینہ بھی نہ سیکھا تو نے
کون محبوب ترا تجھ کو ہے کس کی چاہت
اس کا انجام ہے لاحاصلی یاد رہے
جس نے محسوس کبھی کی نہیں رب کی قربت

بام و در بجنے لگے گونج اٹھا سناٹا
کس نے پائی ہے بھلا درد میں ایسی لذت

جب اٹھا پردہ تو پھر جرأتِ رندانہ گئی
سر نگوں ہو گئی زنجیر بنی تھی حرمت



آنکھ کی جھیل میں پانی کب ہے
چڑھتے دریا میں روانی کب ہے

سب حقیقت ہے جو نظر میں ہے
میرا کردار کہانی کب ہے

ظلمتیں چاروں طرف پھیل گئیں
شمع امید جلانی کب ہے

میں بھلا کیسے بھول جاؤں اسے
ہجر کھونے کی نشانی کب ہے
رنگ سب چاک پر سجائے ہیں
کوئی تصویر بنانی کب ہے

ناؤ ڈالی بھنور میں طوفاں میں
بات اس نے کوئی مانی کب ہے

وہ میری جان و دل کا حصہ ہے
کی بھلا نقل مکانی کب ہے

بیٹھ کر دیکھتے ہو ساحل سے
ڈوبتی ناؤ بچانی کب ہے

وقت کے ساتھ ساتھ چلتے رہے
دشمنی ہو کہ مراسم کبھی ٹھانی کب ہے

سانچ کو آنچ نہیں ہے شہنازؔ
گرتی دیوار اٹھانی کب ہے



اس عشق نے مجھ کو تو کر ڈالا ہے دیوانہ
تو ہی میرا محور ہے جب سے تجھے پہچانا

میں موم کی طرح ہوں محسوس کر کے دیکھو
پتھر سمجھ رہا ہے کیوں مجھ کو یہ زمانہ

ڈالا ہوا چہرے پر کیسا ہے نقاب اس نے
کیا خوب ہے ظالم کا انداز مسیحانہ

کیا ہو گا کیسے ہو گا یہ بھید نہیں کھلتا
واضح نہیں کر پاتی کچھ سرخیء افسانہ

کیا جان کر بتاؤ بدلی ہے تم نے بازی
بھر جانے دو پیمانے پھر ظرف آزمانہ



بنا سوچے بنا سمجھے محبت کون کرتا ہے
سراسر اک خسارے کی تجارت کون کرتا ہے

کسی سے ہار کر جیتے کسی سے جیت کے ہارے
بلاوجہ خود اپنے سے بغاوت کون کرتا ہے

نہ جانے خود سے بھی بڑھ کر تمہیں کیوں ہم نے چاہا ہے
بھلا اپنی ہی چاہت میں خیانت کون کرتا ہے

کسی کمزور لمحے میں تمہیں ہم نے پکارا ہے
کبھی دیرینہ قصے کو روایت کون کرتا ہے
یہ اک قرضِ انا قرضِ وفا کا بوجھ ہے شاید
وگرنہ اپنے لوگوں سے وضاحت کون کرتا ہے

مسافت بڑھتی جائے تو قدم کو بیڑیاں کر لو
پہنچنے کی یوں منزل تک جسارت کون کرتا ہے

لگا کر دل کو داؤ پر یہ بازی جان کی ہاری
بنا چاہت بتاؤ ایسی جرأت کون کرتا ہے



سویرا میرے گھر آیا نہیں ہے
پس دیوار بھی سایہ نہیں ہے

محبت امتحاں ہے عاشقی کا
کیا اس نے کوئی وعدہ نہیں ہے

پلٹ آنے کا اب کیا فائدہ ہے
کوئی اب دیکھنے والا نہیں ہے

تمہاری سوچ کیوں اب تک نہ بدلی
تمہیں آئینہ دکھلایا نہیں ہے
کسی کو کب ضرورت ہے تمھاری
رویوں نے یہ سمجھایا نہیں ہے

در و دیوار پہ کائی جمی ہے
بسانے گھر کوئی آیا نہیں ہے

چلو اب چھوڑ دو زنجیر در کی
تمہیں اپنوں نے بلوایا نہیں

سبق اک بار ہی اس نے دیا ہے
عہد کوئی بھی دہرایا نہیں ہے

مکیں دل میں نہ جانے کون ہے اب
بہت مدت سے گھبرایا نہیں ہے

کھڑے ہیں کب سے ہم بھی دست بستہ
کسی نے تم سے مِلوایا نہیں ہے



گذر کے جان سے ہر بار بے خطر سے ہیں
یہ منزلوں کے تسلسل کسی سفر سے ہیں

کسی سے کوئی تعلق نہیں ہے پھر بھی ہم
خود اپنے گھر میں پڑی ایک رہ گزر سے ہیں

چراغ آنکھیں ہیں حیرت ہے اور ہم چپ ہیں
خموش آئینہ خانے کے اس ہنر سے ہیں

کسے خبر ہے کہاں لے چلی ہے پراوئی
بدن دریدہ ہیں ٹوٹے ہوئے شجر سے ہیں

بہت ہے ذوقِ سفر منزلوں کا شوق نہیں
تلاشِ جشنِ بہاراں میں نکلے گھر سے ہیں



منزلوں کو مرے رستے سے ہٹا دیتے ہو
راستوں کو مری تقدیر بنا دیتے ہو

آس کا دیپ جلاتے ہو بجھا دیتے ہو
وقتِ رخصت ہمیں جینے کی دعا دیتے ہو

زعم ہی ختم نہیں ہوتا ہے لمحے بھر کو
میرے اللہ مجھے کیسے خدا دیتے ہو

خود پلٹ کر نہیں آتے ہو کبھی اور مجھ کو
مرنے دیتے نہیں جینے کی سزا دیتے ہو

ڈھونڈلے نہ کہیں رستہ کوئی بھولا بھٹکا
صبح سے پہلے چراغوں کو بجھا دیتے ہو

پابجولاں میں پھری آبلہ پا دہر میں یوں
جلتے دیپک مری پلکوں پہ سجا دیتے ہو



سامنے بس عشق کی چکی ہے اب
پیستی ہے کس طرح دیکھی ہے اب

لاکھ سمجھائیں سمجھ نہ پائو گے
بات تم سے آج یہ سیکھی ہے اب

ہم زمانے سے یوں ہی اُلجھے رہے
عشق پیچاں پیچ میں اُلجھی ہے اب

زرد رو سب پھول تازہ ہو گئے
شاخِ گل تو عشق تک پہنچی ہے اب

تھے نشے میں چاند تارے آسماں
اس نشے میں زندگی ڈوبی ہے اب



ٹوٹ جاتی ہے شب کی خاموشی
سانس لینے سے ایک ہلکی سی

خوف سناٹا ایک سرد لہر
حد ہے کب بے کلی کی بھی

آج خواہش کا ہے عجب انداز
رنگ لانے لگی ہے دل کی لگی

کب تمنا یا آرزو ہے کوئی
لب ہیں خاموش آنکھ میں ہے نمی
اک تھکن راستے میں رکھ دی ہے
کر مسافت میں آج تھوڑی کمی

گُل ہوئے آرزو کے سارے چراغ
بات تو یہ نہیں ہے کہنے کی

دھوپ اور آبلے دریدہ بدن
شکل ہے سفرِ رائیگانی کی



بعد ترے کب ایک بھی لمحہ جاگا ہے
سانس کی بس آواز ہے اور سناٹا ہے

چُپ ہے ایک مدت سے کب کچھ کہتا ہے
سایہ بن کے ساتھ مرے وہ رہتا ہے

جس نے گہری خاموشی کو توڑا ہے
شاید وہ بھی کوئی ان کے جیسا ہے

کیسے بتائوں کتنا مشکل لگتا ہے
مر مر کے جینا بھی کوئی جینا ہے

کل جو ٹوٹا وہ تو سپنا میرا تھا
نیند نے مجھ سے آ کر اب کیا لینا ہے



اُڑی ریت وقت کی ہر طرف نہ خلیج کوئی بھی بھر سکی
تجھے کھو کے بت سی بنی رہی نہ میں جی سکی نہ میں مر سکی

کڑی دھوپ سر پر تنی رہی جلے پاؤں یوں ہی کھڑی رہی
چلوں کس طرف بڑھوں کس طرف کوئی فیصلہ کہاں کر سکی

نہ تھا حوصلہ نہ قرار تھا نہ غمِ جہاں سے فرار تھا
بڑھی گردشوں کے حصار میں کہیں ایک پل نہ ٹھہر سکی

تھی تلاش مجھ کو بہار کی کسی غم گسار کے پیار کی
کہاں دشمنوں کی پناہ میں کوئے دوستاں سے گزر سکی

کب عذابِ ہجر سے دور تھی مجھے جستجو تو ضرور تھی
کسی سائباں کسی چھاؤں میں مری زندگی نہ بسر سکی



تند ہوائوں میں دیا جب بھی جلا لیتی ہوں
اپنی رفتار کو کچھ اور بڑھا لیتی ہوں

کب ہے شکوہ مجھے غیروں سے میں بے خوف بھی ہوں
یہ جتانے کو جھکے سر کو اٹھا لیتی ہوں

کوئی سن لے نہ کہیں درد سے لپٹی ہچکی
کھینچ کر سانس میں آواز دبا لیتی ہوں

یاد آتے ہیں مجھے جب کبھی گزرے لمحے
چشمِ پرنم پہ ستاروں کو سجا لیتی ہوں
جب بھی سنتی ہوں درِ دل پہ مسلسل دستک
ذات کی گرد میں احساس چھپا لیتی ہوں

اپنے اندر تری تصویر نظر آتی ہے
آئینہ خانے کو غم خوار بنا لیتی ہوں



فراق و ہجر کے جلتے چراغوں کو بجھانا ہے
ملے یادوں سے جتنے داغ ہیں ان کو جلانا ہے

چراغِ آخرِ شب کا دمکنا کون سمجھے گا
چھپا اس جھلملاہٹ میں الائو بھی دکھانا ہے

یونہی مصروف رہتے ہیں کہ تنہائی عیاں نہ ہو
جو دنیا سے چھپایا ہے وہ اب خود سے چھپانا ہے

ہمارے چار سو پھیلا ہوا ہے درد کا صحرا
اذیت کرب کے چنگل سے اس جاں کو بچانا ہے

کبھی ملتا نہیں ہے وقت اب تو خود سے ملنے کا
کہاں فرصت ہمیں تنہائی تو بس اک بہانہ ہے



ایک طوفان سا ہر سمت بپا رہتا ہے
کیسے جلتا یہاں مٹی کا دیا رہتا ہے

کوئی آہٹ نہیں دستک بھی نہیں تم بھی نہیں
پھر بھی امید کا دروازہ کھلا رہتا ہے

اس کی یادوں کے چراغوں کو بجھاؤں کیسے
آس کا دیپ ہوائوں میں جلا رہتا ہے

ایک مانوس سی خوشبو ہے فضا میں موجود
وہ یہیں پر ہی کہیں میں نے سنا رہتا ہے
بعد تیرے کوئی خواہش تو نہیں جینے کی
جس کی خاطر ہوں میں زندہ وہ خفا رہتا ہے

جس کی عادت ہو بزرگوں سے محبت کرنا
وہ دعا لے کے بلاؤں سے بچا رہتا ہے

لاکھ ساحل پہ اتر جائیں مگر پھر بھی تو
اک کنارا تو کنارے سے جدا رہتا ہے

کربِ تنہائی کو سہہ کر بھی اکیلی کب ہوں
ساتھ غم خانے میں شہنازؔ خدا رہتا ہے



گردشِ وقت کو کب ہم نے ٹھہرتا دیکھا
حوصلہ مند کو گر گر کے سنبھلتا دیکھا

ہر طرف پھیلی رہی تیز تپش سورج کی
کب کسی چاند کو آنگن میں اترتا دیکھا

دل کی طغیانی سے گھبرا کے جو باہر نکلے
دور تک درد کا تپتا ہوا صحرا دیکھا

اس کی رخصت کی گھڑی یاد ہمیں آئی بہت
جب دیا آخرِ شب میں کوئی بجھتا دیکھا
چارہ گر چارہ گری کرتا رہا کرتا رہا
پھر بھی اُمید کے پھولوں کو بکھرتا دیکھا

وہ گیا تھا تو ہمیں یاد بھی آتا نہ کبھی
عکس ان آنکھوں میں اس کا ہی ابھرتا دیکھا

اپنی شہنازؔ کو نازوں سے سنبھالے رکھا
بعد میں سب نے کڑی دھوپ میں جلتا دیکھا

عشقِ مسلسل



پنہاں ہے جسم کے اندر اک اور ایسا وجود
جو نورِ ذات سے پاتا ہے روشنی و نمود

یہ بھید جس پہ کھلا صاحبِ نظر ہے وہ
وہی ہے اصل میں شاہد وہی تو ہے مشہود

عجیب نشہ ہے دیدارِ ذات کی لذت
کب ہوش باقی رہے سامنے ہو جب مسجود



پیش لفظ
میری ہر کتاب کا دیباچہ عطائے خدا وندی ہے اور وہ اسی طرح لکھوایا گیا کہ اسمیں میری تخلیقات کے ٹائٹل شامل ہو کر مضمون بناتے رہے اور آج جب عشقِ مسلسل کے کلام میں اضافے کی آمد کا وقت آیا اور قلم اُٹھایا تو منظوم کلام چند کتابوں کے نام ساتھ عطا ہوا۔اس میں میری نئی کتب عشق مسافت اور عشقِ مسلسل کے ٹائٹل موجود ہیں اور انشااللہ کلیات عشق کُل کے نام سے جلد آپ کی خدمت میں پیش کروں گی۔اس سے قبل نورِ کُل میں اعتکاف کے دوران ایک تحریر اس وقت میری شائع شدہ کتب کے ناموں کے ساتھ عطا ہوئی وہ بھی اس میں شامل کروں گی۔
اب عشق تماشا ہے بنا عشقِ مسلسل
ہے عشق کے دیوے کی ضیا عشقِ مسلسل
میرے ادھورے خواب تھے دیوار پہ تصویر
جذب و حروف سے ہے سجا عشقِ مسلسل
اپنی تلاش کرکے ملا جادۂ عرفاں
پھر نورِ کُل نے دی ہے جزا عشقِ مسلسل
وہ ہوکے نہاں بیٹھا مرے قریۂ جاں میں
تھا عشق سمندر میں چھپا عشقِ مسلسل
اک گونج فضا میں ہے ترا عشق عطا ہے
اور آج عشق کل سے کُھلا عشقِ مسلسل
آئی یہ ندا ختم ہوئی عشق مسافت
تحفہ ہے رب کا رب کی عطا عشقِ مسلسل

سلسلہ جب سے جڑا ہے آپؐ سے بس آپؐ سے
رابطہ پیم مرا ہے آپؐ سے بس آپؐ سے
حرف جذبوں کو ملے ہیں جرأتِ اظہار بھی
مان لفظوں کو ملا ہے آپؐ سے بس آپؐ سے
عکس پہ دیوار کے تصویر ہے بس آپؐ کی
رازِ ہستی پا لیا ہے آپؐ سے بس آپؐ سے
موم کے یہ سائباں پگھلا نہ پائیں گے مجھے
فیض مجھ کو مل رہا ہے آپؐ سے بس آپؐ سے
ہر ادھورے خواب کی تکمیل ہو جائے گی اب
ہر گھڑی یہ التجا ہے آپؐ سے بس آپؐ سے
جادئہ عرفاں پہ چلنا اب نہیں مشکل مجھے
راستہ منزل ہوا ہے آپؐ سے بس آپؐ سے

’’عشقِ کارنگین تماشا‘‘ ختم اب ہونے کو ہے
عشقِ کامل ہوگیا ہے آپؐ سے بس آپؐ سے
’’بعد تیرے‘‘ اب کبھی رونا نہیں آتا مجھے
رابطہ جب سے ہوا آپؐ سے بس آپؐ سے
آپؐ سے سیکھا ہے اُجلا کون میلا کون ہے
مل گیا ہے سیدھا رستہ آپؐ سے بس آپؐ سے
اب ادا کرنا نہیں مجھ کو کوئی قرضِ وفا
اک بھرم مجھ کو ملا ہے آپؐ سے بس آپؐ سے
میں نے بھی ہر روز مانگی نعت اک رمضان میں
نورِ کُل تحفہ ملا ہے آپؐ سے بس آپؐ سے
عشق دا دیوا سدا روشن رہے شہنازؔ کا
نور اُس کو مل رہا ہے آپؐ سے بس آپؐ سے
عشقِ مسلسل میں ڈوبی قلم تھامے گم بیٹھی تھی اور عطائے خداوندی پر عقل حیران تھی مگر عاشق کے پاس عقل کا کیا کام۔
جذب وحرف لے کر عشقِ سمندر میں اترنے کے عمل میں ماہ و سال بیت گئے۔اپنی تلاش کا سفر جاری رہا ۔عشق کا دیوا زادِ راہ بنا تو جادۂ عرفاں طے ہوا۔عشق کی جلوہ آرائی نظر آئی تو عشق تماشا شروع ہوگیا۔اور مدہوش عاشق عشقِ سمندر میں چھلانگ لگا کر اس سیپ کی تلاش شروع کی جس میں اسکے عشق کا موتی چھُپا تھا تو غیب سے عشق مسافت عطا ہوااور عشق مسلسل کا تسلسل قائم رہا جو عشقِ کل تک لے آیالیکن ابھی تک عشقِ مسلسل کے مسافر کو عشق کل میں اپنی منزل نظر نہیں آئی ۔عشقِ مسلسل جاری ہے دیکھیں یہ مسافر عشقِ کل میں کیسے جذب ہوتا ہے۔
طالب دعا
ڈاکٹر شہناز مزملؔ
چیئر پرسن، ادب سرائے انٹرنیشل
مادر دبستان لاہور
125 ایف ، ماڈل ٹائون لاہور، 0300-4275692



وہ ہی واحد وہی احد ٹھہرا
حد نہیں ماورائی حد ٹھہرا

اس کا عرفان بھی ضروری ہے
لم یلد اور ولم یولد ٹھہرا

مالکْ المُلک بھی اُسے کہیے
بے نیازی میں وہ صمد ٹھہرا

جو عیاں ہو کے ہے نہاں سب سے
وہ ہی آغاز سے ابد ٹھہرا

کُن فکاں پہ ہے اختیار اُسے
الودود ہی المدد ٹھہرا



نورِ کُل مل گیا معجزہ ہو گیا
عشق ِ کُل سے مرا رابطہ ہو گیا

وہ یقیں کی تھی صورت یا وجدان کی
جس نے دیکھی جھلک وہ ترا ہو گیا

خیمہ زن تو ہوا حجرہ ءِجان میں
تیرا مشہود پھر ماورا ہو گیا

اس نے ڈالی تھی مجھ پہ نظر پیار کی
ایک پل میں نہ جانے یہ کیا ہوگیا
کب رہا درمیاںمیں کوئی پھر حجاب
میں ترا ہوگیا تو مرا ہوگیا

کی نفی ذات کی پیار بڑھتا گیا
وہ اتر آیا اند یہ کیا ہو گیا

جھانکا دل میں تو بس نور ہی نور تھا
جاری چاہت کا اک سلسلہ ہوگیا



ذرے ذرے میں تو ہی ہویدا ہوا
نور کا ایک سیلِ رواں بن گیا

ہوگئی ساری دنیا ہے رطبُ الْلساں
اے خدا ربِ کون و مکاں کبریا

صبح دم سب فضائوں میں ہے گونجتی
اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو کی صدا

تیرے دم سے ہے قائم شجر و حجر
گیت تیرے ہی گاتی پھرے ہے ہوا
سیپ میں موتی بنتے ترے حکم سے
پھول کلیاں کھلاتی ہے بادِ صبا

جس طرف دیکھوں میں تو ہی آئے نظر
دل مرا بن گیا ہے ترا آئینہ

ہر طرف نور و اکرام کی بارشیں
ہر سو جلوہ ترا تو ہی جلوہ نما

میں ہوں نا چیز ذرہ مری کیا مجال
کہ بیاں کر سکوں تیر ی حمد و ثناء



عشق کی دیکھی جلوہ آرائی
میں تماشا ہوں وہ تماشائی

چھید سینے میں اس کے ہے لیکن
گیت گاتی ہے پھر بھی شہنائی

راز داں ہے یہ میری ہمدم ہے
ضربِ وحشت یہ کربِ تنہائی

ایک پل بھی جو مجھ سے دور نہیں
ڈھونڈنے اس کو کیوں چلی آئی

کیف و نشہ ہے ایک مستی ہے
عشق کرنے میں کب ہے رسوائی



آ مرے عشقِ مسلسل ترا قصہ لکھوں
چشمِ حیران نے دیکھا تجھے ویسا لکھوں

کتنے عاشق ہیں ترے عشق ترا لا محدود
کیسے عرفان کے رستے ہیں بتا کیا لکھوں

کیوں بھڑک اٹھا مرے عشق کا دیوا پھر سے
عشق بھانبھڑ ہے مچا کیسے یہ سارا لکھوں

جو ت اک دل میں جگا کر وہیں چھپ کر بیٹھا
بند آنکھوں سے تجھے دیکھوں فسانہ لکھوں
باندھ رکھا ہے مرے گرد دعائوں نے حصار
کیسے آہوں کا دھواں دل سے نکلتا لکھوں

قطرہءِ نور سے خاکی کو بنایا گوہر
اک کرن بھی ہو اسے نور کا دریا لکھوں

پتلیاں بن کے ہیں سب ناچ رہے عشق کے بعد
حکم پھر مجھ کو ملا عشق تماشہ لکھوں

جس نے کعبہ و حرم پاک سجا کر دل میں
کھولے اسرار اسے اپنا مسیحا لکھوں

کون ہے اسمِ محمد ؐ کی محبت کا امیں
وہ ہے بابا تو بتا کیوںنہ میں بابا لکھوں



اب عشق تماشا ہے بنا عشقِ مسلسل
ہے عشق کے دیوے کی ضیا عشقِ مسلسل

میرے ادھورے خواب تھے دیوار پہ تصویر
جذب و حروف سے ہے سجا عشقِ مسلسل

اپنی تلاش کرکے ملا جادۂ عرفاں
پھر نورِ کُل نے دی ہے جزا عشقِ مسلسل

وہ ہوکے نہاں بیٹھا مرے قریۂ جاں میں
تھا عشق سمندر میں چھپا عشقِ مسلسل

اک گونج فضا میں ہے ترا عشق عطا ہے
اور آج عشق کل سے کُھلا عشقِ مسلسل

آئی یہ ندا ختم ہوئی عشق مسافت
تحفہ ہے رب کا رب کی عطا عشقِ مسلسل



خود اپنے آپ پر جو مجھ کو آشکار کیا
بنا کے اپنا مجھے تو نے بے شمار کیا

نفی جوذات کی کردی تو تجھ کو پہچانا
پھر اپنے آپ سے بھی ٹوٹ کر ہے پیار کیا

یقین کر کے نکل آئے بے یقینی سے
اور اپنے عشقِ مسلسل پہ اعتبار کیا

دعا کے فیض کے اسرار مجھ پہ کھلتے گئے
دیارِ عشق کے رستے کو اختیار کیا

اُسی نے جھولی میں بھر دیں مراد کی کلیاں
اُسی نے ساری خزاؤں کو ہے بہار کیا

وہ نیم شب کو اتر آیا حجرہءِ دل میں
صبحِ اُمید کے گلشن کو لالہ زار کیا



یہ نیم شب یہ ساعتیں
الہام اور بشارتیں

درود اور صدائے کُن
ملائکہ کی آستیں

وہ اپنے نورِ ذات سے
عطا کرے بصارتیں

فردوسِ فکر کی نمو
لطافتیں وجاہتیں
اب حجرئہ وجود میں
دعا کی اُتری چاہتیں

وہاب نے یہ کہہ دیا
قبول سب ریاضتیں

ندائے فیکوں سن
عنائتیں عنائتیں



پہنچنا چاہو جو لا مکاں تک
تو رفعتِ ذولجلال سمجھو

سمجھنا چاہو جو عشقِ کامل
تو وجہء عشقِ بلال سمجھو

تلاش مرشد بغیر ہوگی
تو راز کھلنا محال سمجھو

جواب خود ہی ملے گا تم کو
کیا جو اس نے سوال سمجھو
جو دیکھنا چاہو رقصِ بسمل
قلندروں کی دھمال سمجھو

فنا کی منزل کو پا لیا گر
یہ لا ہوت کا ہے کمال سمجھو

نہ پرکھو عشقِ اویس ِ قرنی
صحابی ئِ بے مثال سمجھو

ہے جس کی پرواز انتہا تک
تو اولیاء کا کمال سمجھو



ڈوبے اندر تو اس کو پہچانا
ویسے مشکل ہوا تھا سمجھانا

نفی اثبات کے تناظر کو
گر سمجھ لو تو پھر پلٹ آنا

کوئی بینا ہے کوئی نابینا
اک دیا عشق کا جلا جانا

راہ حق کے مسافروں کے لیے
نقشِ پا اپنا چھوڑتے جانا

روح پاتال میں فنا شہناز
ہوگا دشوار ڈھونڈ کر لانا



راستہ خود کوئی چنا کب تھا
زاویہ نور کا بناکب تھا

یونہی تکتے رہے خلائوں میں
وہ تھا دل میں مکیں چھپا کب تھا

پہن جذب و جنوں کی زنجیریں
رقص بسمل بھی ہوسکا کب تھا

جانتے بوجھتے یہ کہتے رہے
عُقدہ عُقدہ ہی تھا کُھلا کب تھا
اکثر آواز دل سے آتی ہے
کچھ کہا میں نے بر ملا کب تھا

خود کو وار فتگی میں کھویا تھا
عشق ایسا بھی مرحلہ کب تھا

جس نے آباد رکھی تنہائی
تم ہی تھے دوسرا کب تھا

ضم ہوا وہ اُسی اکائی میں
تھا مجسم دعا جدا کب تھا



اک نور مرے کعبہء دل میں جو بسا ہے
ہر لمحہ مجھے دیتا محبت کی ندا ہے

سب کچھ ہے ملا عشقِ محمدؐ کی بدولت
ہر سجدہ مرا احمدِ مرسلؐ کی عطا ہے

گھیرے میں لیے رکھتا ہے اک نور کا ہالہ
چھولیتی عرش کو مری نعتوں کی صدا ہے

جرأت نہیں ظلمت کی مرا راستہ روکے
روح میں مری وجدان کا جلتا جو دیا ہے

اس نے بھی توہر نقشِ تمنا کو مٹا کر
انوار میں سے نورِ مزملؔ ہی دیا ہے

جب پیش اس کنیز کا ان کو کیا سلام
ہے کتنا کرم آئی ندا میں نے سنا ہے



اک عجب کیف ہے خمار سا ہے
راستہ سارا مشکبار سا ہے

آج دستک ہے پھر سماعت پر
روح کو میری اب قرار سا ہے

ڈھونڈ لوں گی میں لامکان کا عکس
عشق یہ اپنے اعتبار سا ہے

بادلوں سے پکارتا ہے کوئی
یہ تو لہجہ کسی بہار سا ہے

مجھ کو اپنا بنا لیا اس نے
معاملہ جیت کا نہ ہار کا ہے



کرب ہجر و وصال کیا جانے
عاشقی ماہ و سال کیا جانے

گم ہوا جو بھی کیف و مستی میں
ارتقائِ خیال کیا جانے

اس کو پا لیتا اک نظر میں جو
وجہ ئِ اوجِ کمال کیا جانے

میں نہ جس کی نکلنے پائی ہو
کسی دوجے کا حال کیا جانے

جس کو رب نے عروج بخشا ہو
ہوتا کیا ہے زوال کیا جانے

جبکہ محور ہی ایک ہو شہنازؔ
وہ جواب و سوال کیا جانے



وقت معراج کا دیا ٹھہرا
وصل کی شب لگا دیا پہرا

حد مقرر تھی جبرئیل کی بھی
لا مکاں میں تھا نور کا ڈیرہ

باندھ کے صف کھڑے پیعمبر تھے
تھا ملائک کا ہر طرف گھیرا

کُن فیکوں کا بھید کھلنا تھا
بولا خالق کہ میں ہوں بس تیرا

سر جھکا کر کہا محمدؐ نے
میں بھی تیرا ہوں گر ہے تو میرا



کوئی الجھن کوئی مشکل ہی نہیں
وہ ہوئے دل میں میرے جب سے مکیں

گردشِ کائنات ڈھونڈتی ہے
آپؐ جیسا نظر نہ آیا کہیں

جس جگہ نور سے خمیر اٹھا
سجدے سے ا ٹھتی نہیں خاکِ زریں

کیسے تجسیم کوزہ گر نے کی
محوِحیر ت ہے چاکِ عرشِ بریں

سر اٹھاتے نہیں ملائک بھی
تاب کب ان میں دیکھیں نورِ جبیں

روح شہنازؔ کی پکارتی ہے
ہو مدینے میں جاکے حُجرہ نشیں



قدر کی شب ملی حیات مجھے
کی عطا عشق کی سوغات مجھے

میرے چاروں طرف اُجالا تھا
گھیرے تھی نور کی بارات مجھے

جانے کس سمت مجھ کو لے آیا
یہ جنوں اور اسمِ ذات مجھے

خود کو کھویا تو تجھ کو پایا ہے
گردشِ وقت دے ثبات مجھے

ساتھ ان کے سفر ہو طے میرا
چھوڑیں دنیا کے معاملات مجھے



تھی طلب تو میری صادق کیوں وہاں پہنچ نہ پائی
میرے ہوش چھین لے گا مراکربِ نا رسائی

مرا جذب مجھ سے مانگے وہی سجدہ گاہ پھر سے
تو کرے گا پھر سے پورا مرا شوقِ جبیں سائی

بڑھی دید کی تمنا تو میں چشمِ تر کو اپنی
تجھے دیکھنے کی خاطر ترے در پہ چھوڑ آئی

وہی دن تھے خوبصورت وہی راتیں ضوفشاں تھیں
تھا سفر نصیب میرا رہِ عشق کی تھی راہی

میرا دل بنا مدینہ یہیں مکّہ جلوہ گر ہے
ہے نصیب کتنے ارفعٰ ملا عشقِ مصطفائی

ترا رب ہے تجھ سے راضی ترے ساتھ ہیں مزملؔ
مجھے بے قرار دیکھا تو ندا صبا یہ لائی



مرے دل کو بھا گیا ہے ترا یہ حسین منظر
کوئی خواب مجھ کو بھی دے کوئی بات مجھ سے بھی کر

ترے در پہ آن پہنچے ترا قرب پا لیا ہے
نہیں اب کوئی تمنا نہیں اب کوئی مجھے ڈر

رہی کب ہے کوئی دوری مرا دل مگر یہ چاہے
تجھے روز دیکھ پائوں کہیں پاس ہو مرا گھر

میرے مولا یہ جبیںجب ترے در پہ جھک گئی ہو
ہو عطا کرم کی بارش تو اٹھائوں اپنا میں سر

کبھی کر لوں میں زیارت کبھی ہو طوافِ کعبہ
رہوں ان حسیں لمحوں کی قیدی زندگی بھر



کسی کی ذات میں گم ہوگئے ہیں
نفی اثبات میں گم ہوگئے ہیں

ہر اک کے درد کو اپنا لیا ہے
یوں محسوسات میں گم ہوگئے ہیں

خوشی تقسیم جو کرتے نہیں ہیں
خود اپنی ذات میں گم ہوگئے ہیں

دکھائو راستہ جگنو ستارو
مسافر رات میں گم ہوگئے ہیں
یقین کامل تھا لہجہ پر اثر تھا
سب اس کی بات میں گم ہوگئے ہیں

بنا دے گی یہ مثبت سوچ رستہ
کیوں جیت اور مات میں گم ہوگئے ہیں

جو دنیا دار تھے شہنازؔ سب ہی
تعلقات میں گم ہوگئے ہیں



مجھے تیری ضرورت ہے تجھے میری ضرورت ہے
ابھی یہ طے نہیں پایا کسے ،کس سے محبت ہے

محبت کر تو لی میں نے مگر یہ اک حقیقت ہے
تجھے ملنا تجھے پانابہت لمبی ریاضت ہے

تصورمیں رہے تو ہی تجھی سے بات ہو میری
یہی چاہت ہے میری اور یہ میری عبادت ہے

دعا سے جھولیاں بھرنا محبت بانٹتے رہنا
ہر اک کے درد کو اپنا سمجھنے میں بھی لذت ہے
کسی کا ڈر نہیں مجھ کو کہ وہ خود ساتھ ہے میرے
میں ہر اک سے کہوں گی کہ مجھے تم سے محبت ہے

تری نظرِ کرم ہو میرے پاکستان پہ شاہا
تو ہے ممتا ترے ذمے ہی اب اس کی حفاظت ہے

درودِ پاک پڑھ کر التجا کرتی ہوں اے آقا
عطا کردے سبھی کچھ تو کہ جو بھی اُن کی چاہت ہے



مری خاک پہ جو کرم ہوا
تو ہر ایک رستہ تھا کھل گیا

مرے سامنے تھا مرا خدا
اسے اور کرنا تھا کچھ عطا

سوئے عرش گونجی تھی اک صدا
کریں پھر سے نظرِ کرم ذرا

یہ تو پیار ہے یہ تو ہے دعا
رہے جاری فیض کا سلسلہ
کہا رب نے اُٹھو ملائکہ
اسے پھر سے چاک پہ دو سجا

سنی کوزہ گر کی جو یہ ندا
کفِ چاک کو تھا گھما دیا

بھرا درد سے جو خمیر اٹھا
ترے عشق میں تھا گندھا ہوا

تھا عجیب کیسا یہ معاملہ
میں تو کچھ نہیں تھی یہ کیا ہوا



یہ کون روح میں اترا حجاب کی صورت
سحر دعا کا ہے پھیلا سحاب کی صورت

بدل گئی ہے سوال و جواب کی صورت
نقاب میں ہے وہ ملا بے نقاب کی صورت

ابھی تو ہوش بھی آیا نہیںدیوانے کو
ہے دل میں نور ترا ماہتاب کی صورت

سراپا پیار ہے وہ نور ہے وہ ممتا ہے
لگا کے آگ بجھائے سحاب کی صورت
وجود سے مجھے آزاد کر کے اکثر وہ
سمندروں پہ اتارے حباب کی صورت

یہ کیسا عشق ہے پہچان بھی نہیں اپنی
سمجھ نہ آئی مجھے انتخاب کی صورت

عطا ہے پیار محبت و نور کی سب کو
ہے ان میں آتی نظر آنجناب کی صورت

کروں میں شکر بھی کیسے کہ لفظ ہیں خاموش
بنا دے عاشقوں کو الکتاب کی صورت

یہ امتی ہیں محمدؐ کے سب مرے آقا
عطا کے جلوے ہوں رحمت کے باب کی صورت



دیتے ندا ملائکہ یہ عرش سے پکار کے
جس کو طلب ہے پیار کی رحمان اسکو پیار دے

دستِ دعا اُٹھائے جو تیرے حضور ہیں کھڑے
ان کی دعا قبول کر ان کو ذرا قرار دے

جو تیرے پاس آگیا دل کی مراد پا گیا
ان کو خزاں سے دور رکھ نیرنگئیِ بہار دے

پیاسے کھڑے ہیں تشنۂ لب خالی ہو ئے ہیں جام سب
عاشق ترے ہیں مست سب تو مے پلا خمار دے

ہوں ختم ساری ظلمتیں حاصل ہوں سب کو عظمتیں
مردہ دلوں کو رب مرے تو نور سے نکھار دے

در پہ فقیر ہیں ترے کشکول تھام کر کھڑے
بس منتظر کرم کے ہیں تو ان کو دستِ یار دے



کبھی عشق تیرا جمال ہے
کبھی عشق تیرا جلال ہے

کئی روپ ہیں ترے عشق کے
کبھی گہرہے کبھی لعل ہے

میرادل رہے سدا رقص میں
ترا عشق وجہء دھمال ہے

مجھے خود سے کیوں ہے جدا کیا
میں ہوں کون تجھ سے سوال ہے

کیا پیدا خاکی کو نور سے
ترے عشق کا یہ کمال ہے

جو دکھائی تو نے ہے اک جھلک
مرا جینا مرنا محال ہے



سب کی قسمت سنوار دیں آقا
میرے سر پر بھی پیار دیں آقا

دور رکھیں ہمیں تکبر سے
جو چھپی میں ہے مار دیں آقا

آپ ہی آپ بس نظر آئیں
نور دل میں اتار دیں آقا

عشق کی آگ میں بھی ٹھنڈک ہے
کیف و مستی خُمار دیں آقا
ختم کردیں جہاں سے نفرت کو
سب کو ایسا قرار دیں آقا

دل میں اک پیار کا سمندر ہے
مجھ کو اس میں اتار دیں آقا

ملک سے میرے اب خزاں جائے
اس چمن کو بہار دیں آقا



میں نے تو کوئی تمنا نہیں پالی آقا
ہوں گدا گر میں تیرے در کی سوالی آقا

بھر دیا پیار دعا سے مرے پیمانے کو
ان کو بھی بھر دے ہوئے جام جو خالی آقا

چومنے میں درِ کعبہ کو چلی آئوںگی
پھر دکھا روضہ ٔ اقدس کی وہ جالی آقا

ہر گھڑی رہتی ہوں مدہوش تیری چاہت میں
بس تر ی ہوں میںتری چاہنے والی آقا

مجھ کو اک کیف دیا سورزِ تیقن بخشا
اور مزملؔ نے ہے شہناز اجالی آقا



ہم عشق کو اپنے کبھی رسوا نہیں کرتے
عاشق ہیں مگر عشق تماشا نہیں کرتے

شہدا کبھی مرتے نہیں یہ سب کو بتا دو
جو زندہ ان کے لیے رویا نہیں کرتے

سجدے میں سر کٹایا تھا معشوق کے لیے
عاشق تو اپنے عشق کا سودا نہیں کرتے

کربل تو اصل میں ہے محبت کی انتہا
چپ چاپ جاں سے جاتے ہیں چرچا نہیں کرتے

عاشق کو نہیں چاہیے یہ دولتِ دنیا
بیکار اثاثوں کو سنبھالا نہیں کرتے



میرے آقا تجھے دیکھوں تجھے اتنا چاہوں
سر جھکا کر ترے در پہ تری رحمت پائوں

ہر مسافر کا سفر خیر سے گزرے آقا
سارے بچوں کے ہو سر پر تری ٹھنڈی چھائوں

تجھ کو معلوم ہے آقامرا سب کچھ تو ہے
عشق میں ڈوب کے میں گن ترے گاتی جائوں

ہوں مرے گھر سے ترے فیض کے چشمے جاری
نور سے آقا ترے جھولیاں بھرتی جائوں

آقا شہناز مزملؔ پہ کرم کر دینا
کلمہ ہو لب پہ تیرے پاس میں جب بھی آئوں



لَو بجھاتی ہے سر پھری یہ ہوا
رُخ بدل دے تو اس کا میرے خدا

میں تو چپ چاپ سنتی رہتی ہوں
عشقِ احمد نے حوصلہ بخشا

کر رہی ہوں کہاں تلاش تجھے
ایک پل بھی نہیں تو مجھ سے جدا

جذبِ کامل یقین کامل ہے
راز کوئی نہیں ہے تجھ سے چھپا
کب قلندر ہوں میں ولی یا فقیر
عرش پہ لائی مجھ کو میری دعا

تجھ کو ہر فیض مل گیا شہناز
ربِ کعبہ نے مجھ کو دی ہے ندا



اس کو دل میں بسا لیا ہم نے
پیار سب سے بڑھا لیا ہم نے

بس سراپا دعا بنا ڈالا
جب سے خود کو مٹا لیا ہم نے

ہے بہت گہرا عشق کا دریا
سیپ کا موتی پا لیا ہم نے

سب کا دکھ درد ایسے بانٹا ہے
غیر اپنا بنا لیا ہم نے

مجنوں خود ہوگئے ہیں ہم شہنازؔ
جب سے لیلیٰ کو پا لیا ہم نے



مخلص افراد کا ہر فعل بھلا ہوتا ہے
وہ جو کہتا ہے ہر اک لفظ دعا ہوتا ہے

کھوج مت اُن کی لگا سر کو فقط اپنے جھکا
دلِ عاشق میں ہی پوشیدہ خدا ہوتا ہے

آتے رہتے ہیں یہاں صوفی قلندر عارف
رنگ ہر دور میں ان سب کا جدا ہوتا ہے

بانٹتے رہتے ہیں بے لوث محبت جو لوگ
روح میں ان کی خدا آپ چھپا ہوتا ہے

گر ملے ایسا کوئی شخص تو خوش بختی ہے
ظلمت ِ شب میں وہ انوارو ضیاء ہوتا ہے



چپ چاپ ہے کیوں انمول پیا
کچھ بول پیا کچھ بول پیا

کملی ہوں کملی والے کی
مت دنیا میں تو رول پیا

تو رہتا کعبۂ دل میں ہے
تو ماہی تو ہی ڈھول پیا

کانٹوں پہ چل کر آئی ہوں
رس جیون میں اب گھول پیا

دستک کو دعا کی سن بھی لے
در اپنا دے اب کھول پیا



زمیں در زمیں زماں در زماں
نیا اک جہاں ہے نیا آسماں

تخیل تدبر نہیں عشق میں
نہیں عشق کی کوئی ہوتی زباں

دعا جبلِ رحمت و غارِ حرا
لَگی چپ ہے کھلتی نہیں ہے زباں

ہم نے سمجھا اسے بھی فریبِ نظر
آپ کو دیکھا جلوہ نما جو وہاں
نظریہ یقیں اپنی آیا نہیں
کدھر کھوگیا تھا یقین و گماں

جو پہنچے ہیں لاہوت پر لا کے پاس
عجب ہے معمہ مکاں لامکاں

طلب اس کی مطلوب کو کب رہی
سناتا رہا عشق کی داستاں



لبوں پہ اک دعائے معتبر ہے
محبت پیار کا شیریں ثمر ہے

سبھی اک آشیانے کے مکیں ہیں
یہی تو آشیاں اب ان کا گھر ہے

یہ آپس میں دکھوں کو بانٹتے ہیں
دکھی دل ہی تو اللہ کا نگر ہے

فضا ہے اس کی کتنی روح پرور
اجالا ہے یہاں نور ِ سحر ہے

نفی اثبات کا جو بھید پایا
کرم اسکا ہے اُس کی ہی نظر ہے

دکھائو درد یا آنسو چھپائو
وہ سب ہے جانتا وہ با خبر ہے



نفس دشمن ہے ترا مت نفس کی تو بات مان
نفس جس کے دا م میں الجھا اسے عنقا تو جان

عشق دریا میں اترنے کا ارادا ہو اگر
سبکساری ہی دکھا دیتی ہے منزل کا نشان

تو تماشا ہے تری ہے ڈور اس کے ہاتھ میں
اس کے قبضے میں نظام دورِ گیتی کی عنان

عیش کوشی چھوڑ کر اب مائل پرواز ہو
تجھ کو اڑنے کے لیے بخشا گیا ہے آسمان
اس کو پانے کے لیے ہوجا فنا اس ذات میں
خودنمائی کبریائی بس ترے مولا کی شان

اپنا سب کچھ تو حوالے اسکے کردے سوچ مت
وہ عطا کرتا کہاں سے کر نہ پائے تو گمان



کوئی تہمت نہ اب قرضِ وفا ہے
کہ اوڑھی عشق جب سے رِدا ہے

سپرد اس کے کیا ہے خود کو میں نے
میرے تو لب پہ بس حرفِ دعا ہے

کوئی بھی شر نہ ہو داخل کہ اس نے
مرے دل پہ محمدؐ لکھ دیا ہے

اتر آیا ہے کوئی میرے اندر
وہ میرا ہے وہ مجھ کو جانتا ہے
ذرا نظرِ کرم سائل کھڑے ہیں
تو داتا کام تیرا تو عطا ہے

بھرے ہیں تیری رحمت کے خزانے
تو دیدے جو بھی جو کچھ مانگتا ہے

عطاء عشق حیراں کر رہی ہے
وہ شعروں کے سمندر بھیجتا ہے

اسی جرأت پہ آگے بڑھے ہیں
تو خود کہتا ماں ہے مامتا ہے


قطعات

تیری محفل میں جب سے آگئے ہیں
بنا مانگے ہی سب کچھ مل گیا ہے
جو ہم نے مل کے مانگی ہیں دعائیں
یقیں ہے مجھ کو اس نے سن لیا ہے

جب بھی دعا کے واسطے میں نے اٹھائے ہاتھ
چپ چاپ جھک کے رب سے کہی میں نے ایک بات
یا تو میری دعاؤں کو کر لینا تو قبول
یا مجھ کو باندھ لینا تو اپنی رضا کے ساتھ
عاشق نے ترے عشق میں کیا کیا نہیں پایا
پہلے تو ترے عشق تماشے نے نچایا
کشکول فقیری کا لئے ہاتھ میں نکلی
اندر کے قلندر نے بہت شور مچایا

عاشق کی زباں پر ہے ہر وقت ثنا کُن کی
مشہودکو شاہد کو ملتی ہے ندا کُن کی
کر لیتا ہے جب عاشق طے جادہءِ عرفاں کو
لا ہوت پہ جا کر ہی آتی ہے صدا کُن کی

نور کا راستہ دکھائی دے
دل کی دھڑکن میں تو سنائی دے
ذرے ذرے کو فیض پہنچائوں
ذرہ ذرہ مری گواہی دے

میں نے رحمان کو پکارا تھا
کہ وہ سب کا طبیب ہو جائے
اُس نے تم کو بلا لیا در پر
جگمگاتا نصیب ہو جائے
مانگنا خوب تم دعائیں اب
اس کی رحمت قریب ہو جائے

جھولیاں آپ کی وہ بھر دے گا
دے گا اولاد مال و زر دے گا
جب نظر آئے گا درِ کعبہ
تم کو وہ عشق کا ثمر دے گا

جس کو مانگا تھا میں نے چاہت سے
وہ دعا میری ہوگئی ہے قبول
حجرہء دل مرا نہیں خالی
اس میں بستے ہیں میرے پیارے رسولؐ

اللہ کا منکر ہے شیطاں
یہ تیرے اندر سے آتا
تو اپنا اندر سُچل رکھ
یہ عشق تجھے ہے سمجھاتا

گم تھے ہم اپنی ذات کے اندر
اس نے خود ہی بنا لیا عاشق
عشق کی مے پلا کے ساقی نے
خود ہی خود میں چھپا لیا عاشق

تیرے در سے ملی پذیرائی
چادرِ نور رب نے پہنائی
بس اسی کی تلاش تھی تجھ کو
ہوگئی رب سے اب شناسائی

کعبہء دل میں جو اک نور نہاں رکھا ہے
نور والے نے تو یہ نور عیاں رکھا ہے
دیکھ سکتی ہے فقط چشمِ بصیرت اسکو
بے بصر کے لیے بس وہم و گماں رکھا ہے

اسیرِ ذات رہے اعتراف کیسے ہو
خود اپنے آپ سے اب انحراف کیسے ہو
بسا لیا تری دنیا کو کعبہء دل میں
صنم کدہ ہے یہاں اعتکاف کیسے ہو

فضا میں نور سا پھیلا ہوا ہے
اندھیرا ڈر کے اب ٹھہرا ہوا ہے
تقدس ہے جمالِ بندگی کا
کہ رنگِ عشق کچھ گہرا ہوا ہے

اپنا اندر ذرا اُجال کے رکھ
عشق کے درد کو سنبھال کے رکھ
رقصِ بسمل جو تجھ میں جاری ہے
اے قلندر دھمال ڈال کے رکھ

لمحہء وصل یار آنے لگا
بن پئے ہی خمار آنے لگا
کرلی جب ذات کی نفی ہم نے
جانے کیوں خود پہ پیار آنے لگا

ارادہ دل میں ہے تخلیق ِ یار کا میرا
ملا کے نور میں مٹی خمیر دینا اُٹھا
پھر اس نے چاک پر خود اپنے ہاتھ کو پھیرا
ابھر کے آیا محمدؐ کا نور سا چہرہ

کیا خوب یہ تحفہ مجھے بابا سے ملا ہے
اللہ کے کرم سے ہوئی خاص عطا ہے
تا زندگی کا فیض یہ بابا سے ملا ہے
بابا مری ممتا ہے محبت ہے دعا ہے

یاں شور مچانے کی اجازت ہی نہیں ہے
محشر کو دکھانے کی اجازت ہی نہیں ہے
ہم کو تو دعائوں کے لئے بھیجا گیا ہے
یہ سب کو بتانے کی اجازت ہی نہیں ہے
جب اس کے تصور میں فنا کر لیا خود کو
اب ہاتھ اٹھانے کی اجازت ہی نہیں ہے

حق کے لیے آواز اٹھانا ہے ضروری
اور اپنا موقف بھی بتانا ہے ضروری
گر ہوگئے خاموش تو روندے گا زمانہ
سچ میں چھپی روداد سنانا ہے ضروری

کوئی قصہ سنا نہیں سکتے
کچھ بھی کر کے دکھا نہیں سکتے
پیار ممتا دعاہیں چاہت ہیں
دل میں کیا ہے بتا نہیں سکتے

ہم کو اُس نے ہی پیار میں ڈالا
اور پھر اک قطار میں ڈالا
مے پلا کر بنا دیا مجنوں
پیار دے کر خُمار میں ڈالا

صدقِ دل سے ہر بندے کو رب کی خاطر کردو معاف
دیکھو پھر آئینہ دل کا ہوجاتا ہے کیسے صاف
اپنے اندر جھانکو گے تو کھل جائے گا سارا بھید
عکس نظر آئے گا اس کا دل جب ہوگا یہ شفاف

حجرہء دل میں میرے قرآں ہو
اسکا نور اور سرور بھی دے دے
زندگی اس کے ہی مطابق ہو
مجھ کو اتنا شعور بھی دے دے

ملن رستے پہ میں جب سے کھڑی ہوں
طلوع کی خواہشیں کرنے لگی ہوں
فنا رستہ ہے میرے سامنے اور
نمو امید کی لے کر بڑھی ہوں

ہیں درِ عشق پہ سجدے میں پڑے مدت سے
مے ملے گی تو یہ عشاق بھی گھر جائیں گے
پہلے جو پی ہے وہی اٹھنے نہیں دیتی ہے
اور پی لیں گے تو پھر جاں سے گزر جائیں گے
پیرِ مے خانہ مجھے یہ تو ذرا بتلا دے
در سے اٹھیں گے ترے ہم تو کدھر جائیں گے

الف بھی تیرا ہے اور لام میم بھی تیرا
اٹھے نہ راز سے پردہ خیال میں نے کیا
نکالا تو نے جہاں سے ذرا سی لغرش پہ
بچھڑ کر تجھ سے سوالِ وصال میں نے کیا
مری اکائی بھی تو ہے مرا سمندر بھی
مٹا کے خود کو تجھے بے مثال میں نے کیا

کافر کو ہو کفر مبارک
دینِ مومن باقی ہے
عاشق کو تو عشق کا صاحب
اک ذرّہ ہی کافی ہے

اپنی تلاش کرتے زمانہ گزر گیا
میں کون ہوں میں کس لیے دنیا میں آگئی
مجھ کو شعورِ ذات نے حیران کر دیا
دوڑا رہا ہے مجھ کو میرا ذوقِ آگہی
تو نے تو اپنے نور سے ہم کو جدا کیا
نکلی جو روح جسم سے تجھ میں سما گئی

چھپا کے رکھا جسے خاکداں نے چاہت سے
سجایا چاک پر اس نور کو ریاضت سے
اٹھا کے عشق کی مٹی سے پھر خمیر اُن کا
بنایا اُن کو خدا نے بڑی محبت سے

بہت مدت میں کچھ میں نے سنا ہے
سماعت پر نشہ سا چھا گیا ہے
فضا میں چار سو پھیلی ہے خوشبو
ہوا کے ہاتھ میں کیا آگیا ہے

یقین لے کر چلا ہے سوئے منزل
گماں رستہ پرانا ہوگیا ہے
کسی بھی روپ میں پھر سامنے آ
تجھے دیکھے زمانہ ہوگیا ہے

جسے انسان ہر سو ڈھونڈتا ہے
وہ خوں بن کر رگوں میں دوڑتا ہے
میں خود میں ڈوبتی ہی جارہی ہوں
کوئی بتلائے یہ کیا ہو گیا ہے

وہ اسمِ پاک جب سے سنائی دیا مجھے
پھر اس کے بعد کچھ نہ دکھائی دیا مجھے
رقصاں تھی میرے سامنے منزل جو عشق کی
رستہ نہ کوئی اور سجھائی دیا مجھے

اب یہ زنجیر پا کر لے گی کیا
جب سفر کا ہے اہتمام کیا
جس نے اوڑھی ردا تقدس
سر جھکے سب نے احترام کیا

دیکھ رہی ہوں آج میں ہر سو
دو دو چہرے والے لوگ
من کے میلے تن کے اجلے
اندھے بہرے کالے لوگ

دل کی کالک چھپ سکتی ہے
منہ کی کالک چھپ نہ پائے
منہ کی کالک دھل سکتی ہے
دل کی کالک دھل نہ پائے

پنہاں ہے جسم کے اندر اک اور ایسا وجود
جو نورِ ذات سے پاتا ہے روشنی و نمود
یہ بھید جس پہ کھلا صاحبِ نظر ہے وہ
وہی ہے اصل میں شاہد وہی تو ہے مشہود
عجیب نشہ ہے دیدارِ ذات کی لذت
کب ہوش باقی رہے سامنے ہو جب مسجود

اک نورِ مجسم سے روشنِ دلِ مستانہ
ساقی نہ ہو محفل میں کیا رِند کیا میخانہ
کیوں ہوش دلاتے ہوکیوں دنیا میں لاتے ہو
مدہوش ہی اچھی ہوں دیکھوں رُخِ جاناناں

ایک قطرے کا مقدر ہے فنا ہوجانا
ملنا دریا میں ہے قطرے کی بقاء ہوجانا
ذات کی میں سے نکل جاتا ہے جب بھی عاشق
پیار سے دیکھنا اس کا ہے دعا ہوجاتا

دل میں وہ اسطرح سے آن بسا
اوڑھ لی ہم نے چاہتوں کی ردا
کچھ بچا ہی نہیں ہے پاس اپنے
اک محبت کی اوڑھنی کے سوا

مسافر بن کر ہم آئے زمیں پر
یہاں پر راستوں میں کھو گئے ہیں
پہن کر بیڑیاں اب خواہشوں کی
جو ہے فانی اسی کے ہوگئے ہیں

تھی کتنی چاہ نبی جی کو اپنی امت سے
نہیں تھی تاب کہ رہ جائے کوئی جنت سے
جو گڑ گڑا کے شفاعت کی بات کہہ ڈالی
تو رب نے بات نہ اپنے حبیب کی ٹالی
تسلی دی کہ میں امت تمام بخش دوں گا
اور اپنی رحمتیں تم پر تمام کر دوں گا

نظریں جھکی ہوئی ہیں مری خوفِ خدا سے
سر جھک گیا ہے مرا سخی تیری عطا سے
عاجز ہوں منکسر بھی ہوں کمزور نہیں ہوں
ہل جاتے عرش وفرش ہیں عاشق کی دعا سے

آب سب واجب المحبت ہیں
سچے عاشق ہیں رب کی رحمت ہیں
جس نے ہم سب کو مامتا بخشی
پیار ہے سب کا سب کی چاہت ہے
فیض ان سے ملا ہے ہم سب کو
آپ سب ان کی ہی کرامت ہیں


فردیات

مے عشق کی تھوڑی سی ہمیںبھی عطا کریں
ہے کیف بہت کیسے نہ ان کی ثنا کریں

عشق میں ہجر کی حقیقت مجھے معلوم ہوئی
تو ہے ہر جائی تو ہر جا پہ نظر آتا ہے

وہ کیف وہ سرور اتر آیا ہے اندر
بے سدھ پڑی ہوں دیکھوں بھلا کیسے میں باہر

مریض ِ عشق تو مجنوں ہے کیا خبر اس کو
کہ اس کو عشق ہے جس سے طبیب بھی وہ ہے

اور اکثر دوستی کی آڑ میں ایسا ہوا
ہم دعا کرتے رہے اور وہ دغا دیتے رہے
دل توڑنے کا تم کبھی کرنا نہیں گناہ
کچھ بھی نہیں ملے گا اگر لی کسی کی آہ

حق جب تک یاں پر باقی ہے
وہ راضی ہے وہ راضی ہے

صبر کی ایک جزا ہوتی ہے
یہ بھی خالق کی ادا ہوتی ہے

تو اپنے نور سے آنکھوں کو منور کردے
جو لکھے نام ترا ایسا سخنور کر دے

میں ہوں اک ذرہء ناتواں
مجھے بس تو اوجِ کمال دے

لگتے ہیں یوں تو خواب ہمیشہ بہت اچھے
پر خوابوں کے پیچھے کبھی بھاگا نہیں کرتے

ہوئے ہیں عشقِ سمندر میں غوطہ زن ایسے
نہیں یہ علم وہ کب ملا ،ملا کیسے
خالی کشکول لیے در پہ چلی آئی ہوں
جانے کیا کیا مجھے کشکول میں بھر کر دے گا

کافی ہے اپنے واسطے چاہت حضورؐ کی
لکھ دے نصیب میں تو شفاعت حضورؐ کی

طور اور تجلی میں دوستی تو ہوتی ہے
کون کتنا جلتا ہے یہ پتا نہیں ہوتا

جھکا کہ رکھتی ہوں آنکھیں بڑی محبت سے
مکین جب سے ہوا دل میں لا مکان کاعکس

سمجھ جائو حقیقی عشق تو ناکامیاں کیسی
چلو گے جادہء عرفاں پہ تو کٹھنائیاںکیسی

آگہی عشق علم ساتھ ہوتو
پھر وہ ہوتا ہے کچھ نہیں ہوتا

اتنا کرم کہ آپؐ در پہ بلا لیا
نعلین چومنے کا مجھے حوصلہ تو دیں
سمجھ آئے بتائو اب کہاں سے
نکل جو آئے ہیں ہر اک گماں سے

ہم کو تلاشِ یار نے بیگانہ کر دیا
کچھ ہم بھی کھو گئے کبھی اس کاپتہ نہیں

تو بات اس سے کیا کر ذرا او دیوانی
جو تیری سوچ کا تجھ کو جواب دیتا ہے

روز الست کس لیے وعدہ کیا گیا
اور آج اپنی ذات کی خاطر بھلا دیا

اک جیسی روحیں آسماں پہ ایک ہو گئیں
دنیا میں آکے کیسا تماشہ بنا دیا

عشق سودائی ہے ہر سو ترا جلوہ دیکھے
اور نہ ملنے پر وہ اپنا تماشا دیکھے

مٹ جائے گناہوں کا تصور ہی جہاں سے
گر ہو یقین دل میں خدا دیکھ رہا ہے
انہیں بھی نور سے اپنے عطا وہ کر ٹھنڈک
تپش ہے جن میں انہیں بھی سکون مل جائے

اپنی ہی نفی کرنے میں نقصان نہیں ہے
بندے کے لیے بندگی آسان نہیں ہے

وہ جب اندر آجاتا ہے
جگ سے پریت ہٹا جاتا ہے

کر لیا جب سے ع ش اور ق
میں کو اور تو کو ہے مٹا ڈالا

مجھ کو زمیں پہ بھیج کر خود سے کیا جدا
عاشق کو اس کے عشق کی کیسی ملی سزا

سرکار کے در پر آ پہنچے
امید ہر اک بر آئے گی

کرتی ہوں پیار اتنا محمدؐ کی ذات سے
ہے جان بھی نثار میری ان کے نام پر
نفی ذات کی اپنی جس نے بھی کی
اسے دین و دنیا کی حکمت ملی

یار دیکھا ہے جا بجا دیکھا
کیسے بتلائیں کیا نہیں دیکھا

بس میں اپنے نہیں ہے بات کوئی
اس نے بس بات بنا رکھی ہے

اللہ ممتا اللہ پیار
ہم عاشق وہ اپنا یار

ہمارے دل میں امیدِ خیال باقی ہے
شبِ فراق ہے صبح وصال ِباقی ہے

صل ِ علیٰؐ کے ساتھ ہی رہتے ہیں سب فقیر
اُن کی بات دنیا میں کہتے ہیں سب فقیر

کیوں ہوش میں آنے کے لیے کہہ رہے ہیں آپ
جو ہے سرور اسکا وہ دئے پائیں گے جناب
عشق محمدیؐ ہمیں کیا کیا سکھا گیا
شعلہ جلا کہ نور کا عاشق بنا گیا

عجب ہے کیفیت کہ عشق کی تفسیر مشکل ہے
کبھی اس کو چھپاتے ہیں کبھی اس کو دکھاتے ہیں

دعا ہے پیار بابا نے کہا تھا
ہے نفرت بدعا ان سے سنا تھا

کس قدر پیار سے دیکھا اُس نے
نور ہی نور میرے چاروں طرف پھیل گیا

کی نفی ذات کی اثبات ملا
پھر تو خود پر بھی پیار آنے لگا

حجرہء ذات میں بیٹھے ہیں جو چھپ کر شہناز
حجرہء عشق میں جینے کا مزہ کیا جانیں

اس نے تو خود ہی طیبہ کا منظر بنا دیا
اور ہم نے اس کو دیدہء محور بنا لیا
یہ کس نے میری روح کو گھنگھرو پہنا دیے
سارا وجود ہو گیا محوِ دھمالِ یار

جواب دہ مجھے اپنے ضمیر کا کر دے
تو عاشقی کو مقدر فقیر کا کر دے

ترے رنگ میں جو رنگے گئےبھلا اس میں اپنا کمال کیا
ترے عشق میں گیا ہوش جب تو بتائیں وجہ ء دھمال کیا

ہوئے ہیں عشق سمندر میں غوطہ زن ایسے
نہیں یہ علم کہ وہ کب ملا ، ملا کیسے

عاشق جو اپنے عشقِ الٰہی میں مست ہے
سب جانتا وہ رازدانِ بودو ہست ہے

تمت بالخیر

Viewers: 2163
Share