ریاض راہی کا مجموعہ کلام — شکستِ آرزو

بسم اللہ الرحمن الرحیم شکستِ آرزُو ریاض راہیؔ ناشر: ارباب ادب پبلی کیشنز‘ لاہور اسٹاکسٹ: سعد پبلی کیشنز فرسٹ فلور‘ میاں مارکیٹ‘ اردو بازار‘ لاہور فون: 7122943 تزئین و اہتمام: […]

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شکستِ آرزُو
ریاض راہیؔ

ناشر:
ارباب ادب پبلی کیشنز‘ لاہور
اسٹاکسٹ: سعد پبلی کیشنز فرسٹ فلور‘ میاں مارکیٹ‘ اردو بازار‘ لاہور
فون: 7122943
تزئین و اہتمام: یعقوب انجم

جملہ حقوق بحق شاعر محفوظ ہیں
بار اوّل دسمبر ۲۰۰۴ء
سرورق عبیداللہ
کمپوزنگ الاشراق کمپوزنگ سنٹر‘ لاہور 7353305
پیسٹنگ راشد اقبال ۸/Cدربار مارکیٹ‘ لاہور
پرنٹنگ احمد دین پرنٹنگ پریس‘ دربار مارکیٹ‘ لاہور
قیمت -/150روپے

انتساب
والدِ محترم منظور حسین (مرحوم)
اور
والدۂ محترمہ عائشہ منظور
کے نام
جن کی دُعائیں میرے لیے
مشعل راہ ثابت ہوئیں

پیش لفظ
تاریخ ادب اُردو میں کسی شاعر نے اطمینان کا سانس نہیں لیا۔ کیونکہ برصغیر اقتصادی طور پر اس قدر ابتر‘ غیر منظم اور بھکاری سرزمین ہے جہاں مناظر فطرت سے بالعموم کسی کو دلچسپی نہیں ہے۔ ریگستان تو ایک طرف وادیٔ کشمیر میں بھی اس قدر لہو کے چشمے پھوٹ پڑے کہ حسنِ کشمیر کا ذکر تو کجا تڑپتی لاشوں پر بھی دانشوروں نے سوچنا چھوڑ دیا۔ نثری ادب یا شاعری آسمانی نزولاتِ ستہ نہیں ہوتیں بلکہ شاعر جس سماج میں رہتا ہے اُس کا متاثر ہونا غیرمنطقی نہیں کہلا سکتا۔ جب ہم یورپ اور مشرقی ممالک کے ادب کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں تو جس قدر مایوسی‘ قنوطیت اور بیگانگی ہمارے ادب میں نظر آتی ہے مغربی ممالک میں شاید ہی اس کی کوئی مثال ہو۔ انقلاب فرانس اور روس میں جن اہل قلم نے عہد ساز تخلیقات پیش کیں وہ سب نامیاتی انقلابی تھیں۔ ادب محض ادب نہیں ہوتا بلکہ مزاحمتی محاذ کی حیثیت رکھتا ہے۔ راہی صاحب کے کلام میں جگہ جگہ انقلابیت‘ مزاحمت اور محاذ آرائی نظر آتی ہے۔

میں کس مقامِ فنا پر پہنچ گیا آخر
خدا تو کیا ہنر دست آزری بھی نہیں

راہی صاحب نے اہل تشیع کے لیے کیا خوب شعر کہا ہے کہ
یزیدیت کے علی الرغم‘ مصلحت سے ہنوز
مزاحمت میں کہیں تیغ حیدری بھی نہیں

منافقین کی نذر:
یہاں غیبت‘ ملامت اور ظلمت کا چلن ہے
چراغِ زندگی لے کر کہاں میں آ گیا ہوں

شاعری کا تعلق محض سماج ہی سے نہیں ہوتا ذاتی احساسات سے بھی ہو سکتا ہے جو بالآخر اجتماعی آدرش کا مقام حاصل کر لیتے ہیں۔ شاعر اپنی ذات کے حوالے سے معاشرہ کا ترجمان بھی ہوتا ہے۔
وجود اپنا میں رکھتا ہو جو اک مطلق حقیقت ہے
یہ کس نے کہہ دیا ہے دوستو راہی خیالی ہے
اس ذاتی واردات سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ راہی صاحب نے خیالی نہ ہونے کے انکار سے فرقہء خیالیہ سے باآسانی خود کو باہر نکال لیا ہے؟
ہاتھی پھرے گائوں گائوں
جس کا ہاتھی اُس کا نائوں

راقم کو ذاتی طور پر خوشی یہ ہے کہ علمی و ادبی طور پر لیہ مضافات کہلانے کے لائق نہیں رہا بلکہ اب درجنوں ادیب‘ شاعر‘ محقق‘ نثر نگار اور صحافی پیدا ہو چکے ہیں۔ پہلے شعر سنانے کے لیے بھکر‘ ملتان اور لاہور تک جانا پڑتا تھا اب یہاں سامعین بھی ہیں قارئین بھی اب یہاں اہل قلم بھی ہیں اور صاحبانِ طبل و علم بھی۔
ریاض راہی کے کلام کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ یہ میرا مثنیٰ ہے یعنی راقم جس شاعری کو پڑھ کر خوش ہوتا ہے نامیاتی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ تاثر ریاض راہی کے کلام سے میسر آتا ہے۔ ہر عہد کی شاعری کا ایک پس منظر ہوتا ہے جسے روحِ عصر کہا جاتا ہے۔ مثلاً کلاسیکی عہد میں ہر برائی کو برائی اور اس کی جگہ اچھائی کو قدر اعلیٰ کا رُتبہ حاصل ہوتا تھا لیکن آج ہر برائی کو خوبی تصور کیا جاتا ہے۔ اس کی اصل وجہ معاشیات کا وہ انفراسٹرکچر ہے جو طبقاتی آویزش کی پیداوار ہے۔ لہٰذا آج کی روحِ عصر لاوجودیت کا وہ نوحہ ہے جو ادب کا حصہ ہو گیا ہے۔ یہ نوحہ زیادہ تر جنگِ عظیم دوم کے بعد صنعتی دور کی استحصالی روش کا نتیجہ ہے آج کے اسالیب شعر میں سب سے زیادہ وسیع الجہات صنف غزل ہے۔ غزل کے روایتی معنی محض رومان نہیں ہوتے بلکہ غزل کا ویدن مصدر ہے۔ کاوش اور کاہیدن مصدر سے کاہش کے معنوں میں ہے جسے روئی سے دھاگا کاتنے کا مفہوم میں لینا چاہیے جو لوگ غزل کو نظم نما بنانے کی کوشش کرتے ہیں وہ فارسی آمیز تغزل کی لذت سے بیگانہ ہوتے ہیں۔ جبکہ نظم منظم طریق اظہار کے معنوں میں ہے۔ غیر منظم طرزِ اظہار ابہام یا خود کلامی سے زیادہ اہمیت کا حامل نہیں ہوتا۔
ریاض راہی کا کلام مفید و موثر کلاسیکی نشاۃ الثانیہ کا درجہ رکھتا ہے۔ اُن کے یہاں مضامین کی کمی نہیں وہ انسانی سماج کو خارجی اور داخلی ہر دو حیثیت سے نہایت فنکارانہ اور چابکدستی سے فن کے قالب میں ڈھالتا ہے۔ ریاض راہی صاحب کے کلام کے مطالعے کے دوران میں اُن کے اشعار مبسوط کتاب کی صورت نظر آتے ہیں۔ ان کا شعری اظہار نہایت بلیغ اور موثر ہے۔
تری آنکھیں فقط بدلی نہیں ہیں
مزاجِ دہر بھی بدلا ہوا ہے
کتنا دُشوار ہے‘ بجھتے ہوئے خوابوں کے عذاب
اپنی آنکھوں میں سجائے ہوئے پھرتے رہنا
کچھ بھی ہو اپنی ہتھیلی پہ محبت کا چراغ
شہر نفرت میں جلائے ہوئے پھرتے رہنا
اُردو شاعری کے لیے لٹریچر کا مہنمک طالب علم ضروری ہوتا ہے۔ راہی صاحب صحیح معنوں میں ایم اے اُردو ہیں وہ شعری محاسن اور معایب سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اس لیے ان کے کلام میں عیوب کلام کہیں نظر نہیں آتے۔ عیوب کلام میں ایطائے جلی و خفی‘ غرابت‘ تعقید‘ عیب تنافر‘ شتر گر بہ‘ تلازماتِ شعری سے بے اعتنائی وغیرہ یہ سب کچھ اُن کے یہاں نہیں ہیں۔ جہاں تک موضوعات کا تعلق ہے ہمارے یہاں موضوعات کو ذاتی نفرت اور ناپسندیدگی سے مربوط کر دیا گیا ہے۔ جبکہ موضوعات ہمیشہ فلسفیانہ اور سائنسی انداز سے تعلق رکھتے ہیں۔ سائنس کی دو قسمیں ہیں ایک قسم نظری (تھیوری) کہلاتی ہے دوسری تجربی۔ اعلیٰ شاعری وہی ہوتی ہے جو نظریاتی بھی ہو اور تجرباتی بھی۔
چمن سے دور پرندوں کو یہ خبر دینا
حریفِ ظلمتِ شب بن گیا کوئی جگنو
شکستِ ہمتِ جاں ہے یہ کیفیت راہی
کسی کا طوق و رَسن ہے کسی کے زیب گلو
ریاض راہی کے کلام میں دُنیا بھر کے موضوعات ہیں جنہیں بڑی خوبصورتی اور فصاحت کے ساتھ مجموعے میں شامل کیا گیا ہے۔ راہی کے کلام میں انقلابی اشعار کی کمی نہیں ہے۔
غریب جب ہے خدا کا بندہ تو کیوں رہے بے دیار و تنہا
جھپٹ لے اپنی زمیں کا حصہ تمام اللہ کی زمیں ہے
ضلع لیہ کی حیثیت اب لینن گراڈ بنتی جا رہی ہے ترقی پسند نظریات کی شب و روز وسعت‘ ترویج و تشہیر نے نوجوانوں کے روایتی افکار کو اس قدر آگے بڑھایا ہے کہ انڈیا‘ امریکہ‘ کیناڈا‘ ناروے اور اب چین تک بھی اس علاقے کا نام اور کام پہنچ رہا ہے۔ اس قافلے میں ریاض راہی نے اپنی تدریسی مصروفیات کے ساتھ نہایت خاموشی سے اُردو شاعری میں قابل قدر اضافہ کیا ہے۔ راہی صاحب آغاز ہی سے نہایت سنجیدہ اُردو ادب کے طالب علم رہے ہیں اور جامعہ زکریا ملتان میں ریاض راہی نے اپنے اساتذہ اور ہم درسوں (کلاس فیلوز) میں بڑا مقام پیدا کیا ہے اور آج کل گورنمنٹ کالج کروڑ (ضلع لیہ) میں بطور لیکچرار اُردو اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
مزاحمتی محاذ پر ڈٹ کر کام کرنے کی مثال اُن کا ایم اے کا وہ مقالہ ہے جو راقم کی تخلیقات کے حوالے سے دو سال میں لکھا گیا اور یونیورسٹی میں بنیاد پرستوں کی مخالفت کے باوجود ڈاکٹر انور احمد اور ڈاکٹر عبدالرئوف شیخ اسسٹنٹ پروفیسر زکریا یونیورسٹی کی نگرانی میں لکھا گیا جس کی منظوری بورڈ آف سٹڈیز کے اجلاس منعقدہ ۳۰؍ جنوری ۱۹۹۲ء میں دی گئی تھی جس کا عنوان تھا ’’ڈاکٹر خیال امروہوی شخصیت اور شاعری‘‘۔ اس مقالے پر راہی صاحب کو ایم اے اُردو کی ڈگری اور گولڈ میڈل دیا گیا۔ اکادمی ادبیات اسلام آباد یا مقتدرہ قومی زبان جیسے عظیم علمی ادارے اب اس مقالہ کی اشاعت کے لیے آمادہ ہیں۔ یقین ہے کہ یہ مقالہ (Thesis) دُنیا بھر کی علمی و ادبی لائبریریز میں بھیجا جائے گا۔ اس طرح لیہ بقول راقم ایتھنز اور سپارٹا جیسا علمی شہر تسلیم کیا جاتا رہے گا۔
خدا کا شکر ہے کہ میرے جتنے بھی لائق شاگرد ہیں وہ سب اہل تصنیف ہیں اور اُفق علم و ادب پر جگمگا رہے ہیں۔ پروفیسر شہباز نقوی، ڈاکٹر باتش (ساہیوال)‘ جاوید اختر رامش خیالی پروفیسر انگریزی گورنمنٹ کالج قلات‘ گفتار خیالی‘ جسارت خیالی‘ افضل صفیؔ‘ ناصر خیالی وغیرہ اس کے علاوہ گورنمنٹ کالج لیہ کے اکثر اساتذہ جو خیال اکیڈمی سے وابستہ رہے وہ سب عہد ساز حیثیت رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں ملک بھر میں نہ جانے کتنے ہی ترقی پسند شعراء اور ادیب ہیں جن کے ذکر سے مجھے فخر ہوتا ہے۔ ریاض راہی کے چند اور پسندیدہ شعر:
یہ کیا جہاں ہے‘ جہاں دستِ مہرباں بھی نہیں
زمین پائوں تلے‘ سر پہ آسماں بھی نہیں
تیرے گلشن سے انہیں کیسی شناسائی ہے
پھول کو رنگ تو خوشبو کو صبا کہتے ہیں
کیا قیامت ہے کہ اب پہلے سے وہ ساماں نہیں
آج طوطی آئینہ کے روبرو حیراں نہیں
ملا وہ مکتبِ وہم و گماں سے درسِ خودی
کتابِ شوق پہ عنوانِ بے خودی بھی نہیں

ڈاکٹر خیال امروہوی
۱۸؍ مئی ۲۰۰۴ء

نئے امکانات کا شاعر
پروفیسر ریاض راہی ادب کے ان خاموش خادموں میں سے ہے جس نے عجز و انکسار اور معمولی پن کو اپنا شعار بنا رکھا ہے۔ ایسے لوگ جو معمولی پن اوڑھ کے پھرتے ہیں بہت غیر معمولی ہوتے ہیں یہ وہ درویش ہوتے ہیں جن کی آستینوں میں ید بیضا ہر وقت موجود ہوتا ہے۔ ریاض راہی کے پورے کلام کا مطالعہ کرنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ میرا یہ شاگردِعزیز اندر ہی اندر اپنی ذات میں کتنا سفر طے کر چکا ہے۔ ریاض راہی کو پڑھنے سے پہلے تو مجھے اُلجھن ہوئی پھر پریشانی اور بعد میں خوشگوار حیرت‘ الجھن اس لیے کہ غالب اور اقبال کے ڈکشن میں لکھنا اور تقلید کرنا کوئی انوکھی بات نہیں دراصل نمک کی کان میں نمک ہونے سے بہتر ہے کہ بندے کا کوئی اپنا اسٹائل ہو جب میں نے راہی کا مزید مطالعہ کیا تو پریشانی اس لیے ہوئی کہ موصوف کے یہاں بھی خیال امروہوی کی طرح قاری کے سر میں سیدھی ڈانگ رسید کرنے کا رویہ موجود ہے۔ بات کو اگر فنی تلازمے سے بیان کیا جائے تو لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔ خیال امروہوی کا ایک شعر ہے:
زمانہ اپنے لیے غار منتخب کر لے
میں انتقام ہوں کروٹ بدلنے والا ہوں
دیکھئے خیال صاحب نے زمانے کے سر پر سیدھی ڈانگ رسید کر دی ہے۔ انقلاب ہی کے موضوع پر احمد ندیم قاسمی کا ایک شعر دیکھئے۔
لوگ اس وقت کو آشوب جہاں کہتے ہیں
سر اُٹھا لیتے ہیں جب ناز اُٹھانے والے
ریاض راہیؔ کے ہاں یہ براہِ راست کہنے کا انداز بھی موجود ہے۔ ذیل کے اشعار دیکھئے۔
اب جھپٹنے کے لیے بیٹھے ہیں مفلس راہی
سیم و زر سے وہ ذرا ہاتھ اُٹھائے تو سہی
یہ بھی کیا کم ہے ستم گر کہ تجھے ادنیٰ غلام
تختہء دار پہ اب کھینچ کے لائے تو سہی
اب انتقام کا شعلہ بھڑکنے والا ہے
کوئی جری ہے تو کہہ دے فلک نشینوں سے
خیال امروہوی کی طرح مفلسی‘ انقلاب‘ بھوک‘ انتقام‘ غصہ‘ نفرت یہ سب موضوعات ریاض راہی کے یہاں موجود ہیں۔ راہی نے اپنے کلام میں اپنے آپ کو محض انکساری کی وجہ سے ستارہ کم نور کہا ہے۔ ورنہ اس نے تو تین تین سورجوں سے روشنی اخذ کی ہے جو شخص غالب‘ اقبال اور خیال امروہوی جیسے جید شعراء کا قاری رہا ہو اور جس نے ان تینوں کے نظام فکر کو اپنے جسم و جاں میں رچا رکھا ہو وہ ستارۂ کم نور کیسے ہو سکتا ہے۔
اقبال کی بات چلی تو یاد آیا کہ اقبال کے یہاں غزل عشق و محبت اور سرمستی کے معنوں میں لی جاتی ہے۔ بال جبریل کی غزلیں اس کی گواہ ہیں۔ ریاض راہی نے بھی اقبال کے اس عشقیہ اسلوب کو بڑی خوبصورتی سے اپنی غزلوں میں استعمال کیا ہے۔ ذیل کے اشعار دیکھئے:
یہ عصر نو ہے تہی جذبِ کیف و مستی سے
نیازِ عشق بھی اندازِ دلبری بھی نہیں
وہ خود کو کاشفِ اسرار تو کہتا رہا لیکن
نہ رازی سے شناسائی نہ کچھ شوقِ غزالی ہے
غالب کے انداز میں لکھنا آج سے کچھ برس پہلے علمی تفوق اور قابلیت کی نشانی سمجھا جاتا تھا لیکن آج کل اسے تقلید محض سمجھا جاتا ہے‘ غالب کے طرف دار ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن غالب کے مقلد ہونے کا مطلب اپنی پہچان گنوانے کے مترادف ہے۔ ذیل کے اشعار دیکھئے جس میں غالب کا انداز صاف جھلکتا نظر آتا ہے۔
ترحم کچھ تو کر اے موجہء بادِ سحر گاہی
چراغ ناتواں تو رہنے دے مفلس کے سرہانے
کہاں ہے فرصتِ فکر و عمل اے گردش دوراں
ابھی ناخن کو عقدہ ہائے پیچیدہ ہیں سلجھانے
زینتِ دست و کفِ پائے خداوندِ جہاں
خون مزدور ہے یا رنگِ حنا یاد نہیں
زینتِ جشنِ طرب ہائے بہاراں تجھ سے
ماتم حسرت یک چاکِ گریباں مجھ سے
جھلملاتا ہوا کم نور ستارا ہی سہی
شہر ظلمات میں ہے جشنِ چراغاں مجھ سے
ریاض راہی نے اقبال‘ غالب اور خیال کے نظامِ فکر کے متعدد پہلوئوں کو اپنی شاعری کے مزاج میں گوندھنے کی خوبصورت کوشش کی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس کا اپنا کوئی اسلوب نہیں اپنا کوئی رنگ نہیں۔ ذیل کے اشعار دیکھئے جس میں مستقبل کے صاحبِ اسلوب راہی کی جھلک آپ کو صاف دکھائی دے گی۔
تو دیکھتا ہے مگر ہم کو کم نگاہی سے
یہی ادا ہے تری باعثِ ستم جاناں
شریک کارِ محبت تو تم بھی تھے لیکن
تمہارے شہر میں رُسوا ہوئے ہیں ہم جاناں
عیاں ہے شامِ شفق کے حسین چہرے سے
ترا پیام جو دستِ حنائی دیتا ہے
شبِ فراق پہ موقوف کیا ہے کاہشِ جاں
ترا وصال بھی دردِ جدائی دیتا ہے
اب اپنے گھونسلے میں ہر پرندہ
عذابِ خوف سے سہما ہوا ہے
تری آنکھیں فقط بدلی نہیں ہیں
مزاجِ دہر بھی بدلا ہوا ہے
کتنا دُشوار ہے‘ بجھتے ہوئے خوابوں کے عذاب
اپنی آنکھوں میں سجائے ہوئے پھرتے رہنا
کچھ بھی ہو اپنی ہتھیلی پہ محبت کا چراغ
شہر نفرت میں جلائے ہوئے پھرتے رہنا
راہی کی شاعری میں فکر جہاں اور غم روزگار کے علاوہ ایسے اشعار بھی ملتے ہیں جو محبت کے نازک جذبات کا اظہار بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں راہی کا انداز تھوڑا تیکھا ضرور ہو جاتا ہے مگر یہاں احتیاط کا پہلو موجود ہے۔ حسرت موہانی نے کہا تھا:
دیکھنا بھی تو اُنہیں دُور سے دیکھا کرنا
شیوۂ عشق نہیں حسن کو رُسوا کرنا
اب ریاض راہی کی احتیاط کا عالم دیکھئے:
بے تحاشا نہ چومیے ان کو
ہونٹ برگِ گلاب ہوتے ہیں
ریاض راہی انسانی حسن کے جمالیاتی پہلو کو نظر میں رکھ کرچلتا ہے۔
ترے بدن کی صباحت میں کیا لطافت ہے
کہ رنگ و نور کا بس ایک بہتا دریا ہے
کبھی کبھی وہ Anti-thesis کا شاعر بھی بن جاتا ہے۔
پتھرا گئی ہے جب سے نگاہِ وفا تلاش
اب انتظارِ یار کی عادت نہیں رہی
مجھے اُمید ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ریاض راہی کا اپنا اسلوب اور رنگ قارئین ادب کے سامنے مزید خوشگوار حیرتیں لے کر آئے گا اور وہ اُردو شاعری میں اپنی ایک الگ پہچان بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔
پروفیسر شہباز نقوی
۴؍ دسمبر ۲۰۰۴ء

ریاض راہی… روشن فکر شاعر
جہاں شاعری پھولوں کی خوشبو اور پرندوں کی چہچہاہٹ ہے وہاں انسانی دُکھوں‘ روح کے زخموں اورآنسوئوں کی زباں بھی ہے۔ ریاض راہی کی شاعری عارض و گیسو کی شاعری نہیں بلکہ اس میں انسانی مصائب و آلام خوبصورت انداز سے قاری کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔
ریاض راہی غیر طبقاتی سماج کے قائل ہیں۔ وہ انسان کو خوشحال اور آسودہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ بھوک‘ افلاس اور جہالت پر مبنی نظام کے خلاف ہیں کیونکہ یہی طبقاتی تفاوت انسان کو نفسیاتی طور پر ناکارہ بنا دیتی ہے اور فطرت کی طرف سے تمام ودیعت کردہ انسانی صلاحیتوں کو تباہ و برباد کر دیتی ہے۔
اچھا شعر اپنے تہذیبی و ثقافتی ورثہ سے جڑا ہوتا ہے۔ یہی تہذیبی و ثقافتی قدریں ریاض راہی کی شاعری میں موجود ہیں۔ وہ انسان کا تعلق اسلامی تہذیب و ثقافت سے جوڑنا چاہتے ہیں لیکن وہ اندھے اعتقادات کے قائل نہیں وہ روشن فکر شاعر ہیں۔ ان کا اسلوب مفرس اور مشکل ضرور ہے لیکن شعریت سے خالی نہیں۔ ان کے اکثر اشعار دماغ سے ہوتے ہوئے دل میں اُتر جاتے ہیں۔ چند اشعار دیکھئے۔
چمن سے دُور پرندوں کو یہ خبر دینا
حریفِ ظلمتِ شب بن گیا کوئی جگنو
کام آئے گا کبھی تیرہ شبی میں جگنو
اس کو مٹھی میں دبائے ہوئے پھرتے رہنا
اب اپنے گھونسلے میں ہر پرندہ
عذابِ خوف سے سہما ہوا ہے
تری آنکھیں فقط بدلی نہیں ہیں
مزاجِ دہر بھی بدلا ہوا ہے
نظر میں کوند گئیں بجلیاں تو کیا حاصل
حصارِ ذات میں اب تک بہت اندھیرا ہے
مرا دل جب کبھی تنہا ہوا ہے
کبھی دریا کبھی صحرا ہوا ہے۱؎
قدم سنبھل سنبھل کے رکھ نشیب میں فراز میں
تو ناقہء حیات کا ہے سارباں عزیز من

۱؎ میرے پہلے شعری مجموعہ ’’صحرا سے گفتگو‘‘ کے دوسرے ایڈیشن میں ریاض راہی کے مصرع ’’کبھی دریا کبھی صحرا ہوا ہے‘‘ پر سہو کاتب سے واوین نہیں دی گئی۔

محمد افضل صفیؔ
۱۵؍اکتوبر ۲۰۰۴ء

تکلف برطرف اے حسن جاناں
تجھے راہیؔ نے پہچانا ہوا ہے

¤
مرا دل جب کبھی تنہا ہوا ہے
کبھی دریا کبھی صحرا ہوا ہے
اب اپنے گھونسلے میں ہر پرندہ
عذابِ خوف سے سہما ہوا ہے
ہم اُس تیرہ شبستاں کے مکیں ہیں
جہاں پر چاند گہنایا ہوا ہے
کسی سے مل کے بھی شاید بچھڑنا
کتابِ زیست میں لکھا ہوا ہے
تری آنکھیں فقط بدلی نہیں ہیں
مزاجِ دہر بھی بدلا ہوا ہے
تری گلیوں کا آوارہ مسافر
کسی سے پوچھئے وہ کیا ہوا ہے
وہ بزمِ غیر میں بیٹھے ہیں جیسے
فرشتوں میں خدا اُترا ہوا ہے
تکلف برطرف اے حسن جاناں
تجھے راہیؔ نے پہچانا ہوا ہے

¤
پرچم زیست اُٹھائے ہوئے پھرتے رہنا
آگ سینے میں لگائے ہوئے پھرتے رہنا
کتنا دُشوار ہے‘ بجھتے ہوئے خوابوں کے عذاب
اپنی آنکھوں میں سجائے ہوئے پھرتے رہنا
کام آئے گا کبھی تیرہ شبی میں جگنو
اس کو مُٹھی میں دبائے ہوئے پھرتے رہنا
کچھ بھی ہو‘ اپنی ہتھیلی پہ محبت کا چراغ
شہر نفرت میں جلائے ہوئے پھرتے رہنا
کیا یہ اندازِ وفا ہے؟ کہ زباں پر کچھ ہو
دل میں کچھ اور چھپائے ہوئے پھرتے رہنا
ایسا جینا بھی ہے کیا جینا کہ اپنے دل میں
خواہشِ مرگ دبائے ہوئے پھرتے رہنا
شہر یاراں میں صلیبوں کو کہاں تک راہیؔ
اپنے کاندھوں پہ اُٹھائے ہوئے پھرتے رہنا

¤
منزل کی جستجو ہے‘ ابھی تک ہیں راہ میں
ہم مر رہے ہیں دوستو جینے کی چاہ میں
ہم کو تو خواب میں بھی نہ لطفِ سحر ملا
اپنی تو عمر گزری ہے عہدِ سیاہ میں
ہوتی نہیں ہے خوف و رِجا میں عبودیت
ہم کب تلک رہیں گے ثواب و گناہ میں
رُکنا اگر ہے موت تو چلنا حیات ہے
پیغامِ آرزُو ہے مرے انتباہ میں
اس عہدِ زرکشی میں شجاعت کہاں رہی
اب کیا رہا ہے لشکر و میر سپاہ میں
اسرارِ کائنات و رموزِ حیات میں
ماہِ یقیں چھپا ہے اسی اشتباہ میں
اس عہد روشنی میں جو ظلمت فروش تھے
فانوس بن گئے ہیں وہ دربارِ شاہ میں
اُس گل بدن کے سامنے عقل و خرد کہاں
دل ہاتھ سے نکل گیا پہلی نگاہ میں
زہرہ جبیں کے عشق سے راہیؔ حذر کریں
لٹکیں گے ورنہ آپ بھی بابل کے چاہ میں

¤
اُجڑ گیا چمنستاں تو اُڑ گئی خوشبو
خزاں کا دستِ جفاکار چھا گیا ہر سو
یہ دشتِ خوف یہاں پر بجا رَم آہو
کسی کی آنکھ سے کیوں کر نکل پڑا آنسو
تجھے اِس عہد جہالت میں زہر کھانا ہے
نہیں ہے دستِ مسیحا میں اب ترا دارُو
یہ خاک و خون کا رشتہ تو ایک ہے لیکن
پیامِ مرگ بنا ہے تصادمِ من و تو
اُجڑ گیا کسی دستِ جفا سے مے خانہ
فسردہ بزم ہے ٹوٹے پڑے ہیں جام و سبو
وہ دشتِ کرب و بلا ہو کہ مقتلِ جاں ہو
ہے محوِ کار ابھی تک شریر دستِ عدو
نہ قافلہ نہ جرس کی صدا نہ شوقِ سفر
مسافروں کے دلوں میں ہے ایک عالم ہو
چمن سے دُور پرندوں کو یہ خبر دینا
حریفِ ظلمتِ شب بن گیا کوئی جگنو
شکستِ ہمت جاں ہے یہ کیفیت راہیؔ
کسی کا طوق و رسن ہے کسی کے زیبِ گلو

¤
سفر طویل ہے زادِ مسافری بھی نہیں
شعورِ خضر بھی‘ شوقِ سکندری بھی نہیں
میں کس مقامِ فنا پر پہنچ گیا آخر
خدا تو کیا ہنرِ دستِ آزری بھی نہیں
یزیدیت کے علی الرغم‘ مصلحت سے ہنوز
مزاحمت میں کہیں تیغِ حیدری بھی نہیں
غرورِ یار سلامت رہے قیامت تک
ہمارے پاس تو احساسِ ہمسری بھی نہیں
یہ عصرِ نو ہے تہی جذبِ کیف و مستی سے
نیازِ عشق بھی اندازِ دلبری بھی نہیں
بکھر گیا ہوں میں یوں زندگی کی راہوں میں
مرے وجود میں احساسِ عنصری بھی نہیں
دلیلِ سوز و گدازِ وفا ہو کیا راہیؔ
نگاہِ یار‘ دلیلِ ستمگری بھی نہیں

¤
میں ایسے نغمہ ہائے زندگی بھی گا گیا ہوں
فسردہ دوستوں کے دل بہت بہلا گیا ہوں
شعورِ ذات کا لمحہ کڑا اتنا نہیں ہے
زمانے کی غلط نگہی سے میں گھبرا گیا ہوں
جدائی کی گھڑی کتنی خرد افروز نکلی
میں اس کی معرفت رازِ محبت پا گیا ہوں
یہاں غیبت‘ ملامت اور ظلمت کا چلن ہے
چراغِ زندگی لے کر کہاں میں آ گیا ہوں
مجھے بھی دیکھئے راہیؔ کہ جینے کی خوشی میں
فریبِ دوستی بھی مسکرا کے کھا گیا ہوں

¤
ابھی تک آدمی کا ذہن فکر و فن سے خالی ہے
حقائق سے گریزاں ہے طبیعت لا اُبالی ہے
یہ درگاہِ سخن ہے اس کا ہر انداز عالی ہے
امیر شہر کی ہم نے یہاں پگڑی اُچھالی ہے
یہاں اندھیر نگری ہے کوئی شمع بدست آئے
ہمارے شہر ویراں ہیں ہماری رات کالی ہے
وہ خود کو کاشفِ اسرار تو کہتا رہا لیکن
نہ رازی سے شناسائی نہ کچھ شوقِ غزالی ہے
یہ اندازِ تغافل ہے قیامت‘ کچھ تو فرمائو
قیامت پر ہماری آپ نے ہر بات ٹالی ہے
وجود اپنا میں رکھتا ہوں جو اک مطلق حقیقت ہے
یہ کس نے کہہ دیا ہے دوستو راہیؔ خیالی ہے

¤
وہ محبتیں وہ عداوتیں وہ عنایتیں مجھے یاد ہیں
کبھی جن کا تجھ سے تھا رابطہ وہ حکایتیں مجھے یاد ہیں
کبھی بولنا کبھی روٹھنا کبھی سوچنا کبھی دیکھنا
شبِ وصل میں تیری اے صنم وہ شرارتیں مجھے یاد ہیں
میں اگرچہ اہل نظر ہوا نہ جنوں سے صرفِ نظر ہوا
کہ ورودِ فصلِ بہار میں مری وحشتیں مجھے یاد ہیں
تو کہاں رہا میں کہاں رہا مگر ایک اپنا جہاں رہا
تجھے یاد ہیں مری ذلتیں تری شہرتیں مجھے یاد ہیں
نہ مجھے جمالِ صنم ملا نہ وصالِ دیر و حرم ملا
کہوں کس سے کیا کہ وہ خوں چکاں ابھی حسرتیں مجھے یاد ہیں
اے مسافر رہِ زندگی کبھی پا بہ راہِ عمل بھی ہو
کہ عبث گزاری ہے زندگی تیری غفلتیں مجھے یاد ہیں
وہ کہاں تبسم جانفزا جو مجھے بھی تھا کبھی دل رُبا
میرے دل پہ ٹوٹی تھیں جو کبھی وہ قیامتیں مجھے یاد ہیں

¤
کسی ادائے خاص سے وہ لا‘ زباں عزیز من
کبھی وہ کم سخن ہو مجھ پہ مہرباں عزیز من
قدم سنبھل سنبھل کے رکھ نشیب میں فراز میں
تو ناقہء حیات کا ہے سارباں عزیز من
مجھے ملی جو دعوتِ نشاط و کیفِ رنگِ مے
چلا میں سوئے میکدہ کشاں کشاں عزیز من
اب اُس نگاہِ ناز سے جفا کے تذکرے بھی کر
کہ وہ وفا کے نام سے ہے بدگماں عزیز من
وہ دشمنِ حواس و تمکنت ہے تیرے روبرو
ہے ضبط چشمِ خوں فشاں کا امتحاں عزیز من
تو آپ ہی بتا کہ اس جہانِ بے کرم میں میں
تیرے ستم کا حال کیا کروں بیاں عزیز من
جہانِ خاک و باد میں جہاں بھی رہ نورد ہوں
مری نظر کا منتہٰی ترا نشاں عزیز من

¤
نہاں ہے دل میں جو غم ان گنت مہینوں سے
اگر تُو اہل نظر ہے تو پڑھ جبینوں سے
مجھے اَنا سے وہ پتھر عزیز تر ٹھہرا
مفاہمت جو برتتا ہے آبگینوں سے
اُٹھا کے لے گئے سب کچھ وہ آسماں والے
خدا کا رزق جو پیدا ہوا زمینوں سے
اب انتقام کا شعلہ بھڑکنے والا ہے
کوئی جری ہے تو کہہ دے فلک نشینوں سے
ہم اہل دل ہیں رہِ عشق کے بھی راہی ہیں
ہمارے دل کو ابھی ربط ہے حسینوں سے

¤
اونچے محلوں پہ جسے ناز ہے آئے تو سہی
میرے افکار کی پرواز کو پائے تو سہی
جس نے چوسا ہے مرے خون کا قطرہ قطرہ
مجھ سے وہ شخص ذرا آنکھ ملائے تو سہی
منزلِ راہِ وفا دور نہیں ہے لوگو
بے خطر کوئی قدم پہلے بڑھائے تو سہی
کیا عجب ہے کہ وہ بن جائے محبت پیشہ
اُس کو پیغامِ وفا کوئی سنائے تو سہی
کس طرح وعدۂ فردا پہ بھروسا کر لوں
پہلے وہ وعدۂ امروز نبھائے تو سہی
یہ بھی کیا کم ہے ستمگر کہ تجھے ادنیٰ غلام
تختہء دار پہ اب کھینچ کے لائے تو سہی
اب جھپٹنے کے لیے بیٹھے ہیں مفلس‘ راہیؔ
سیم و زر سے وہ ذرا ہاتھ اُٹھائے توسہی

¤
رُوبرو ہو میرے اے جلوۂ ناز
وقف تیرے لیے جبینِ نیاز
تجھ کو حاصل ہے طاقتِ پرواز
میں ہوں سطرِ غبارِ راہِ حجاز
جی رہا ہوں میں تیری یادوں میں
اے نگارِ خیالِ دُور دراز
دلِ گم گشتہ مل گیا ہے مجھے
دل رُبا ہے بہت تیری آواز
خوش کلامی تجھے مبارک ہو
عمر پائے تو مثلِ خضر دراز
اے غرورِ نگاہِ عرش نشیں
راہ میں ہیں بہت نشیب و فراز
اِک فقیرِ ستم رسیدہ کا
تیری سرکار میں سلامِ نیاز
میرے خامہ کی برق رفتاری
یہ ہے بس تیرے حسن کا اعجاز
بے خطر ہو غزل سرا راہیؔ
ذرہ ذرہ ہے گوش بر آواز

¤
مرے جو پہلو میں تو نہیں ہے تو غم نہیں ہے کہ کچھ نہیں ہے
مجھے تو فطرت کا ذرہ ذرہ گل و سمن ہے مہ مبیں ہے
میں کیوں نہ جانِ غزل ترے سرمدی بدن کو عزیز رکھوں
تو آپ مجھ کو بتا کوئی تجھ سی جنسِ نایاب بھی کہیں ہے؟
مجھے تری زیست کی تباہی پہ کیوںں نہ رنج و ملال ہوتا
مرا خدا بھی وجود انساں کی خستگی پر بہت حزیں ہے
مرے جو ماتھے پہ ہیں منقش طویل خط ہائے مستقیمی
بتا قیافہ شناس مجھ کو ہے کیا جو مرقوم برجبیں ہے
غریب جب ہے خدا کا بندہ تو کیوں رہے بے دیار و تنہا
جھپٹ لے اپنی زمیں کا حصہ‘ تمام اللہ کی زمیں ہے
جلالِ حرف و جمالِ معنی کا ہو جو ادراک بھی تو کیوں کر
ہمارا لہجہ تو آتشیں ہے مگر بہت سرد نکتہ چیں ہے
ہوائے نفرت نے ایسا راہیؔ اُسے بھی مغلوب کر لیا ہے
کہ اب رہے ادھ کھلے دریچے نہ منتظر چشم سرمگیں ہے

¤
شیخِ حرم ہو یا کوئی اہلِ کتاب ہو
کردار کے لحاظ سے وہ لاجواب ہو
پینے سے جس کے عقل نہ مائوف ہو کبھی
اِس میکدے میں ساقیا ایسی شراب ہو
تکفیر سے بھرے ہوں تو کیا اس میں حرج ہے
منہ پر مگر شریعتِ حق کی نقاب ہو
میری لحد پہ بھی ذرا برسات اشک کی
تم تو مروّتوں کا برستا سحاب ہو
اس کا ہر ایک لمحہ ہے انمول و بے مثال
اور زندگی ہماری کہ جیسے حباب ہو
اُمید کیا ہو اس سے بصارت کی وقت کو
جب زاغ کی طرح ہی یہاں کا عقاب ہو
راہیؔ نہ کیوں ہو ظلمتِ دوراں میں روشنی
اہلِ سخن میں تم بھی تو اِک آفتاب ہو

¤
جب بھی امیرِ شہر نے اذنِ نوا دیا
چپکے سے میں نے درد کا قصہ سنا دیا
اُس شہر روشنی کی شقاوت نہ پوچھئے
بستی کا اِک چراغ بھی جس نے بجھا دیا
سوچوں کا بے قیاس تسلسل ہے اور میں
تنہائیوں نے شہرِ تمنا کو کیا دیا
کرتے رہے ہیں یار بہت ضبط آہِ دل
آخر غریب شہر نے سب کو رُلا دیا
آدابِ شہر یار سے ناآشنا تھا میں
بزمِ نشاط سے مجھے اُس نے اُٹھا دیا
حیرت ہے مجھ کو دانشِ مغرب پہ دوستو
بندر سے جس نے حضرتِ انساں بنا دیا
راہیؔ‘ خلوص‘ مہر‘ مروّت‘ نشاطِ دل
اس دورِ کجکلاہ نے سب کچھ مٹا دیا

¤
خیالِ حسن بے مقصد میں اس درجہ ہیں مستانے
فقط حسنِ مجازی پر مرے جاتے ہیں دیوانے
مبادا ہو کہیں رُسوا تری چشمِ وفا ساقی
پلا بے امتیازِ غیر تُو بھر بھر کے پیمانے
اگر تُو بے قرار و مضمحل ہے بزمِ ہستی میں
سکونِ قلب کی دولت ملے گی تجھ کو مے خانے
تجھے محمل نشینی ’’نخوتِ لیلیٰ‘‘ مبارک ہو
کہ ہیں غربت کے مارے قیس کی قسمت میں ویرانے
کہاں ہے فرصتِ فکر و عمل اے گردشِ دوراں
ابھی ناخن کو عقدہ ہائے پیچیدہ ہیں سلجھانے
جھلس جائے مزاجِ شبنمی جس کی تمازت سے
سُلگ اُٹھے ہیں اب مفلس کے وہ دل سوز افسانے
میں خود سے بے خبر ہوں جوہر فطرت کو کیا پائوں
کہاں تک رمز بے پایاں کو عقلِ نارسا جانے
جدھر بھی دیکھئے برگِ گلِ لالہ پریشاں ہے
چمن میں کہہ دیا کیا طائرانِ نغمہ پیرا نے
ترحّم کچھ تو کر اے موجہء بادِ سحر گاہی
چراغِ ناتواں تو رہنے دے مفلس کے سرہانے
اگر واعظ کو آ جائے نظر وہ چہرۂ زیبا
بکھر جائیں زمیں پر ٹوٹ کر تسبیح کے دانے
جہاں پر حضرتِ زاہد بھی سجدہ ریز ہو جائے
تراشے ہیں جہاں میں دستِ آزر نے وہ بت خانے
میں ایسے پس گیا ہوں مفلسی کے پاٹ میں راہیؔ
بہ فیض چرخ بے توفیق ہیں سب یار‘ بیگانے

¤
کیا ستم ہے وہ تجھے اہلِ وفا یاد نہیں
جن کے خوں سے ہے تری رنگیں قبا یاد نہیں
کیا بتائوں تجھے فیضانِ غریبی مت پوچھ
غمزہ و عشوہ و انداز و ادا یاد نہیں
زینتِ دست و کفِ پائے خداوندِ جہاں
خونِ مزدور ہے یا رنگِ حنا یاد نہیں
کر تو لیتا ہوں ترے وعدۂ فردا پہ یقیں
مجھ کو ہونا ترے وعدوں کا وفا یاد نہیں
سوئے یارانِ وفا یاسرِ اربابِ جفا
کس طرف جائے گی اب موجِ صبا یاد نہیں
اپنی قسمت کی خرابی کا بیاں ہو کیسے
ان کو پیرایہء اظہارِ دُعا یاد نہیں
کرتے کس منہ سے ہو اب لفظِ وفا کی تشہیر
کیا تمہیں طرزِ حریفانِ وفا یاد نہیں
ہائے کیا خوب ہے یہ بھوک کا عالم راہیؔ
شیخ و واعظ کو بھی اب نامِ خدا یاد نہیں

¤
زیست کو کچھ تو بامزا کیجئے
دردِ دل کی کوئی دوا کیجئے
چرخِ کج باز سے بھی کچھ نہ ملا
اب تو یارو خدا خدا کیجئے
جب ہو مہرِ شعور کا چرچا
پھر مرا ذکر نقشِ پا کیجئے
شعلہ احساس کا بھڑک اُٹھا
چشمِ خفتہ کو اپنی وا کیجئے
ایک دن انتقام لے لیں گے
ہم کو مصلوب بارہا کیجئے
ہم کو فردا پہ ٹالنے والو
اپنا وعدہ کوئی وفا کیجئے
یہ تقاضائے عقدۂ جاں ہے
اپنا ناخن گرہ کشا کیجئے
جب ہوں پہرے زباں پہ اے ظالم
کیسے اظہارِ مدعا کیجئے
عالمِ فرطِ عیش میں راہیؔ
تذکرہ کچھ غریب کا کیجئے

¤
کہاں تھا حوصلہ لیتا خبر کچھ آسماں میری
خلا میں گونجتی پھرتی رہی ہیں ہچکیاں میری
میں ہوں وہ واقفِ رازِ درونِ سینہء ہستی
کہ رُکتی ہی نہیں معجز بیانی سے زباں میری
جلا دیتی ہے آخر برق بن کر خرمنِ باطل
کہاں رُکتی ہے پیرانِ کلیسا سے اذاں میری
اُسے اندیشہء رُسوائی ہے ورنہ سرِ محفل
بلائیں لے رہا ہے کس لیے پیر مغاں میری
خوشا قسمت پگھلتے جا رہے ہیں سنگ دل آخر
بلا کا سوز اِس دُنیا میں رکھتی ہے فغاں میری
مجھے پتھر نہ سمجھو آبدیدہ ہو ہی جائوں گا
کہاں تک ظلم انساں کا سہے گی خستہ جاں میری
نظامِ زر کی سازش کا اثر بھی دیکھنا راہیؔ
کہ اب تو فکر میری ہے نہ باقی ہے زباں میری

¤
جو میرے ہاتھ سے دستِ حنائی چھوٹ پڑے
تو کیا عجب کہ یہی آسمان ٹوٹ پڑے
خدا نکردہ ملے بدگمانیوں کو فروغ
کہیں جو لشکر و میر سپہ میں پھوٹ پڑے
بچے نہ غیبت و مکرو فریب سرمایہ
غنیم وقت کوئی آئے ایسی لوٹ پڑے
وہ کیا اَنا جو بنے مصلحت سے مثلِ کماں
کسی کے پائوں کسی وقت جھوٹ موٹ پڑے

¤
اے افلاک نشینو! آخر کب تک خیر منائو گے
وقت کا دھارا آیا تو تنکوں کی طرح بہہ جائو گے
تم معقول صحیفے پڑھ کر پھر انساں کہلائو گے
کپڑے چھین کے مُردوں سے جب زندوں کو پہنائو گے
آنے والا وقت تمہارے خون کا پیاسا ہے چورو!
لوٹ کا مال کہاں تک آخر گھر میں بیٹھ کے کھائو گے
صیہونی خونخوار درندے ظلم کا پرچم گاڑ چکے
تم کس عہد میں ابن مریم اس دھرتی پر آئو گے؟
لالہ رنگ شگفتہ چہرے غربت سے بے نور ہوئے
اے گھنگور گھٹا کے مالک کب ساون برسائو گے
پھر تاریخیں بھی تمہاری عظمت کے گُن گائیں گی
جب نفرت کی تیز ہوا میں پیار کے دیپ جلائو گے
جن کے ذہن مقفل ہوں مجہول عقیدوں سے راہیؔ
اُن کو فہم و فکر کی باتیں تم کیسے سمجھائو گے

¤
کبھی تو سوچو غریب لوگو نظامِ زر کی یہ تیرگی ہے
لبوں پہ حرفِ سوال‘ ہاتھوں میں اپنے کشکولِ بندگی ہے
فریبِ منزل کی آرزُو میں یہ پابجولاں چلے ہوئے ہیں
مہیب رستے‘ عجیب رہبر‘ مسافرت میں‘ ہمیشگی ہے
شکستگی‘ دل گرفتگی اور مہیب افلاس کے مناظر
نظامِ زر کی یہ نعمتیں ہیں انہی سے بس اپنی زندگی ہے
چراغِ اُمید طاق فردا میں ہے ہوائوں کی زد پہ لیکن
چہار جانب‘ مہیب جاں سوز‘ عالم دل شکستگی ہے
عجب غلاموں کی زندگی ہے کہ ان کے بختِ سیہ پہ راہیؔ
ہزار صدیوں کا ماحصل اک جبیں کا داغِ شگفتگی ہے

¤
وفا کی راہ میں سایہ بھی آپ جیسا ہے
شعاعِ مہر‘ طلب ہو تو ساتھ رہتا ہے
ترے بدن کی صباحت میں کیا لطافت ہے
کہ رنگ و نور کا بس ایک بہتا دریا ہے
تُو لاکھ مجھ سے چھپا اپنا کربِ تنہائی
یہ داستانِ الم تیرا چہرہ کہتا ہے
ذرا تو ہوش میں آئو اے واعظانِ حرم
ہمیں بھی کچھ تو بتائو وہ شخص کیسا ہے
غمِ حیات کی زینت ہے آنسوئوں کی لڑی
اُجالا شب میں تو کچھ کہکشاں سے ہوتا ہے
تری نگاہِ تغافل کی تیر اندازی
یہ ناتواں دلِ ناداں ہے جو کہ سہتا ہے
نظر میں کوند گئیں بجلیاں تو کیا حاصل
حصارِ ذات میں اب تک بہت اندھیرا ہے
بدل چکا ہے طریقِ کہن زمانہ بھی
ترا خیال کہ جیسے تھا اب بھی ویسا ہے
کسی کی کم سخنی ہے عذابِ جاں‘ راہیؔ
زباں سے کچھ نہ کہے اور دل میں ہنستا ہے

¤
اب جس کے دل میں مہر و مروّت نہیں رہی
اُس بے وفا کی مجھ کو ضرورت نہیں رہی
میرا نہیں تو اپنے ہی وعدے کا رکھ بھرم
اس منہ سے تو نہ کہہ کہ محبت نہیں رہی
یہ کیا ہوا ہے آج کہ اے نازشِ وفا
ہم پر نگاہِ لطف و عنایت نہیں رہی
اتنا کیا نحیف غمِ روزگار نے
دُنیا میں سر اُٹھانے کی طاقت نہیں رہی
ہم پابجولاں مُہر بلب ہیں تو کیا ہوا
تیرے بیان میں بھی سلاست نہیں رہی
پتھرا گئی ہے جب سے نگاہِ وفا تلاش
اب انتظارِ یار کی عادت نہیں رہی
ایسا نظامِ زر سے ہوا منتشر خیال
فنکار کے قلم میں بغاوت نہیں رہی
کس وقت ہم کو شام الم خوشگوار تھی
کس روز ہم پہ صبحِ قیامت نہیں رہی
راہیؔ وہ کیا ہوئی تری بزمِ سخن طراز
اب انبساطِ حسنِ طبیعت نہیں رہی

¤
ترے مزاج میں پایا ہے ہر طرح سے وہ رنگ
کہ جس کو چھوڑ گیا تھا کبھی خسیس فرنگ
ہو چشم تر جو سنائوں وتیرہ یاروں کا
کمین گاہ سے مارے ہیں دُشمنی کے خدنگ
بھلا چکے ہیں یہ نادان شیوہ آبا کا
کہ ان کی زینتِ ہستی ہیں صرف بربط و چنگ
اگر تلاطمِ امواج میں صلابت ہو
تو کیا مجال کہ ٹھہرے مقابلے میں نہنگ
وجودِ خالقِ انساں کو دیکھنے کے لیے
دلوں میں کور نظر کھودنے لگے ہیں سرنگ
وہ ولولے نہ وہ شوقِ جنوں رہا افزوں
اُڑائی ہے دلِ عشاق سے وہ کس نے ترنگ

¤
ہے میرے تخیل کا مرا ذہن ہی مہمیز
کیوں میرے تخیل میں نہ منطق ہو خرد ریز
غارت گر ناموس ہے مفلس کا ازل سے
اس دَور کا فرعون و ہلاکو ہو کہ چنگیز
فرہاد کو کیوں ہونے دیا طالبِ شیریں
کیوں سرد ہوئی آتشِ خودداریٔ پرویز
انصاف بھی خود کرنا ہے بیداد جہاں سے
بچتا نہیں اب پنجہء بے کس سے ستم ریز
مت پوچھ کہ روندا ہے انہیں کیسا جہاں نے
وہ قوم کبھی فرد نہ ہوں جس کے سحر خیز
سُن سُن کے مرے شعر سبھی رو ہی پڑیں گے
میں کربِ تمنا کا ہوں صدیوں سے نواریز
اک پل میں مجھے لایا جہاں سے جو عدم میں
یہ ابلقِ ایّام بھی راہیؔ ہے بہت تیز

¤
تُو لگا اب کے زمیں سے یوں زقند
زیر ہو جائے خلا کا بند بند
راج دھانی ہے تری مزدور اب
پھونک دے ثروت کا ایوانِ بلند
عصر نو میں بے حیا اشخاص کو
نیم عریاں پارچے آئے پسند
ذکرِ گُلچیں گلستاں میں جب ہوا
رو پڑے سب غنچہ ہائے مستمند
ہوگا شیریں اس قدر آبِ زلال
جس قدر ڈالو گے تم ذرّاتِ قند
ایک پل میں ہو گئے ہیں مُو سپید
تیز ہے کیسا جوانی کا سمند
حرّیت کی کیوں تمنا چھوڑ دیں
ہیں ازل سے گنبدِ بے در میں بند
آئے منزل خود ترے زیر قدم
تُو بھی ہو جا ایسا راہیؔ ارجمند

¤
یہ ضبطِ آہِ دل بے قرار بھی کب تک
ترے فراق میں ہو اختیار بھی کب تک
چلے بھی آئو اے رشکِ چراغِ جلوہ فگن
یہ امتحانِ شبِ انتظار بھی کب تک
شہیدِ ذوقِ تمنا ہوا دلِ محزوں
خیالِ موسمِ باد و بہار بھی کب تک
شعورِ قلب و نظر سے اسے مسخّر کر
اسیرِ گردشِ لیل و نہار بھی کب تک
فضا میں پھیل گیا نالہء فراق مرا
کہ میرے دل میں یہ رہتا غبار بھی کب تک

¤
یہی ہے خلّاقِ دو جہاں سے تجھے بھی کیا عشق والہانہ
خدا کا منکر‘ ترا وتیرہ روایتوں سے مخاصمانہ
کہو مسلماں کہ تیرے ایمانِ ناتواں کا میں بھید کھولوں
ترے عمل میں جھلک ریا کی‘ ہے دین میں بھی تُو تاجرانہ
مری جبیں کوئی کم نہیں جو جھکے کلیسا یا بت کدے میں
ہے کیش میرا پیمبرانہ ہے دین میرا موحّدانہ
خدایا مردہ دلوں کو پھر سے تُو غزنوی کی تڑپ عطا کر
حضور تیرے یہ عرض کرتا ہوں دست بستہ مؤدّبانہ
اگر جو دستِ غریب اُٹھا تو پھر سمجھنا قضائے آمر
کہ تیز رو آندھیوں کے آگے ٹھہر سکا کوئی شامیانہ؟
جگر کے خوں سے وہ آبیاری کی میں نے نخلِ سخن کی ایسے
کہ میرے ہر ایک شعر ہی سے جھلک پڑا رنگِ ساحرانہ
ہے اب تو ہر حال میں یہ دار و رسن کے قابل اے شہر قاتل
کہ آ گیا ہے پسند راہیؔ کو آج انداز صوفیانہ

¤
غیرت پہ تری شور ہے ماتم کا کہ ہیہات
عنقا ہوئے دل سے ترے اسلاف کے جذبات
تُو راندۂ درگاہ ہے ابلیس کی مانند
ہیں تیرے مقدر میں ابھی قہرِ سماوات
سرمایہء دل کیا ہے فقط جوشِ جنوں ہے
اور عقل کی زینت ہیں یہ فرسودہ خیالات
جوں برق رواں ہے یہ مرا رخشِ تمنّا
قابو کو عناں گیر کے عاجز ہیں رہے ہات
حرکاتِ عناصر بھی ہو جذباتِ عمل بھی
رخشندہ ہیں شش جہت یہی روح کی آیات
بس کور نگاہی و فحاشی و نمائش
مغرب نے یہ بخشی ہے نئی نسل کو سوغات
راہیؔ مجھے منزل کا پتا چاہیے‘ چاہے
ہو جائے نفی ذات کی یا ہو کوئی اثبات

¤
پہنچا ہے کہاں دیکھئے انسان سمٹ کر
گویا کہ ممولا ہوا شہباز بھی گھٹ کر
میں رنج و الم گوشہء قلبی سے مٹانے
روتا ہوں شبِ ہجر میں اب خود سے لپٹ کر
انساں ہے کہ شرمندہ نہیں اپنے عمل پر
ہر چند گھٹا روتی ہے انسان پہ پھٹ کر
وہ کیسے جیے گا جو تمدّن سے الگ ہو
سوکھے گی وہی شاخ جو گر جائے گی کٹ کر
اسبابِ تباہی تو کوئی اور ہیں راہیؔ
کچھ بھی نہ ملا اپنی روایات کو رٹ کر

¤
ہو تاثر یوں ترے فن میں بھی اے اہلِ سخن
تذکرے ہوں فن کے تیرے انجمن در انجمن
میری ضربِ آہ بھی واللہ نہیں ہے بے اثر
ہے مری اس بات کی حجّت ترا نیلا گگن
آ گیا وہ وقت جب سرگم مرے افکار کا
گایا جائے گا ترے ہاتھوں سے کل اے نغمہ زن
یوں تری نَے ہو مغنّی جب بھی ہو نغمہ سرا
گونج اُٹھیں کل تری آواز سے کوہ و دمن
ایک میں ہوں سچ ہمیشہ بولنے کے جرم میں
نفرتوں کی آگ سے داغا گیا میرا بدن
تُو نہ کر غرّہ شگفتہ پتّیوں پر اے گلاب
خاک ہو جائے چلی جائے اگر تازہ پون
پھر تو تیرے واسطے منزل کی دوری کچھ نہیں
ہمّتوں کا گر پہن لے آج راہیؔ پیرہن

¤
مجھے عزیز ہے دل سے جو زندگی کی طرح
گزر گیا مرے پہلو سے اجنبی کی طرح
میں دل کو عالمِ وارفتگی میں کھو بیٹھا
چمک رہا تھا بدن اس کا چاندنی کی طرح
حذر کرو کہ نہ دل میں ہو نفرتوں کا ورود
ہمارے ساتھ رہو بن کے آدمی کی طرح
کرختگی کا سبب کیا ہے آج کچھ تو کہو
تمہارے ہونٹ تو بجتے تھے بانسری کی طرح
قریب آئو نہایت کہ کوئی بات بنے
ہمارا دل تو ہے شفاف آرسی کی طرح
یہ عزم دیکھ کہ ہل من مزید ہے لب پر
میں سیلِ غم میں ہوں دیوارِ آہنی کی طرح
یہ داغ ہائے محبت ہیں اس قدر راہیؔ
ہمارا سینہ ہے اب چرخِ کوکبی کی طرح

¤
غرقِ کیفِ شراب ہوتے ہیں
پی کے سب پُرشباب ہوتے ہیں
عشق آساں بہت ہے دل والو
اس میں لیکن عذاب ہوتے ہیں
سب حسینوں کو میں نے دیکھ لیا
یہ تو اکثر سراب ہوتے ہیں
اُس کی زُلفیں ہیں کس قیامت کی
اُف یہ کیسے حجاب ہوتے ہیں
زخم دل کے سنبھل کے بخشا کر
یومِ آخر حساب ہوتے ہیں
دوست کب پائیدار ہوتے ہیں
یہ تو اکثر حباب ہوتے ہیں
بے تحاشا نہ چومئے ان کو
ہونٹ برگِ گلاب ہوتے ہیں
چھوڑ جائیں جو بزمِ مے راہیؔ
دل کے خانہ خراب ہوتے ہیں

¤
تیری محفل میں عجب رنگِ تماشا دیکھا
اپنی رُسوائی ہوئی‘ غیر کا چرچا دیکھا
اتنی کثرت سے ہوا جلوہ نمائی کا ظہور
ہم نے ہرنقشِ نمایاں کو بھی عنقا دیکھا
پھر بھی میں پا نہ سکا کوئی حقیقت کا سراغ
چاہے اوہام کا پردہ بھی سراپا دیکھا
ذوقِ نظارۂ فطرت سے گریزاں کیوں ہو
میں نے ہر ذرّے کو سرگرمِ تماشا دیکھا
مندمل ہو نہ سکا زخمِ محبت‘ ہے ہے!
یعنی ناکام ہی اعجازِ مسیحا دیکھا
تیری نظروں میں بھی ہم لائقِ تعزیر رہے
اے خدا تو ہی بتا کیا کوئی ہم سا دیکھا
اپنی ہستی کی کھلی مجھ پہ حقیقت راہیؔ
اپنا موہوم سا جب نقشِ کفِ پا دیکھا

¤
کس لیے ہے تو بہت دُور مری جاں مجھ سے
جھیلا جاتا نہیں تیرا غمِ ہجراں مجھ سے
جھلملاتا ہوا کم نور ستارا ہی سہی
شہرِ ظلمات میں ہے جشنِ چراغاں مجھ سے
زینتِ جشنِ طرب ہائے بہاراں تجھ سے
ماتمِ حسرتِ یک چاکِ گریباں مجھ سے
اتنا عرصہ تری یادوں کا طلبگار رہا
جنبشِ نوکِ قلم بھی ہے پشیماں مجھ سے
شبنم و شعلہء گل مجھ سے گریزاں ہی رہے
کس نے منسوب کیا رنگِ گلستاں مجھ سے
مہرِ مغرب سے کچھ ایسی بھی شعاعیں پھوٹیں
جن کے اعجاز سے سایہ ہے نمایاں مجھ سے
میں جو اِس عالمِ امکاں کا مکیں ہوں راہیؔ
اس لیے عُقدۂ ہستی بھی ہے آساں مجھ سے

¤
میں رازِ کائنات ہوں سمجھا کرے کوئی
مجھ سا ہے کوئی اور تو پیدا کرے کوئی
اُس کا بھی تابدار تماشا بجا مگر
کچھ فطرتی جمال بھی دیکھا کرے کوئی
بہرِ خدا تو سجدۂ عرضِ نیاز ہے
جب تُو ہی رُوٹھ جائے تو پھر کیا کرے کوئی
حسن و جمالِ یار بکثرت ہے جابجا
اے کاش دیکھنے کی تمنّا کرے کوئی
ہر فرد اپنی ذات کے غم میں اسیر ہے
کیسے کسی کا درد گوارا کرے کوئی
دُنیا کی شورشوں سے میں راہیؔ نفور ہوں
تنہائیوں کے شہر میں تنہا کرے کوئی

¤
فقط یہ جان کے ہم نے سہے الم جاناں
کہ زندگی میں تجھے ہو نہ کوئی غم جاناں
وہ ایک بات جو تیرے حضور کہہ نہ سکے
وہ کی ترے لب و رخسار میں رقم جاناں
تُو دیکھتا ہے مگر ہم کو کم نگاہی سے
یہی ادا ہے تری باعثِ ستم جاناں
تمہارے جھوٹے دلاسوں سے کیا ملے راحت
یہ دردِ دل ہے جو ہوتا نہیں ہے کم جاناں
زبانِ خلق اگر کھینچ لی تو کیا غم ہے
ہے لب کشا کوئی خاموش چشمِ نم جاناں
شریکِ کارِ محبت تو تم بھی تھے لیکن
تمہارے شہر میں رُسوا ہوئے ہیں ہم جاناں
مرے تو ہو گئے مہمل سب استعارے بھی
کٹے ہیں یوں ترے گیسوئے خم بہ خم جاناں
ہمیں بھی زیست کا شاید سفر سہانا لگے
ہمارے ساتھ چلیں آپ دو قدم جاناں
دوئی پسند طبیعت نہیں ہے راہیؔ کی
یہ ہے ازل سے موحّد تری قسم جاناں

¤
وہ دلربا ہی سہی دل کے آس پاس تو ہو
وہ روشناس تو ہے پھر بھی دل شناس تو ہو
اُفق پہ لاکھ مسلط ہوں ظلمتیں لیکن
ستم زدہ کو طلوعِ سحر کی آس تو ہو
مرے دماغ سے چشمے ہنر کے پھوٹ پڑیں
کسی کی چشمِ طلب میں ذرا سی پیاس تو ہو
ستم شعاری سے شاید وہ باز آ جائے
ہمارے درد کا چہرے پہ انعکاس تو ہو
دروغِ مصلحت آمیز بھی درست مگر
جنابِ شیخ کے مذہب کی کچھ اساس تو ہو
اگر ہے عشق ہی تنہا محیطِ کون و مکاں
خرد پھر اپنی ہزیمت پہ کچھ اُداس تو ہو
بجا سہی کہ وہ خلّاقِ علم ہے راہیؔ
مگر علومِ خدائی کا کچھ قیاس تو ہو

¤
یہ کیسا شورِ من و تُو سنائی دیتا ہے
کہ جس پہ عجزِ تعقّل دہائی دیتا ہے
وہ پرشکستہ پرندوں کے کاٹ دیتا ہے پَر
قفس سے پھر اُنہیں اذنِ رہائی دیتا ہے
وہ جیسے اَب مرا قاتل نہ ہو عدالت میں
اس احتیاط سے اپنی صفائی دیتا ہے
شبِ فراق پہ موقوف کیا ہے کاہشِ جاں
ترا وصال بھی دردِ جدائی دیتا ہے
زبان بند ہے بے آبرو اشارے ہیں
ہے کون جو حقِ نغمہ سرائی دیتا ہے
غمِ زمانہ مبارک! لیے چلو دل کو
وہ اب جراحتِ بے اعتنائی دیتا ہے
قبول ہو گئی شاید دُعائے دستِ رقیب
وہ آج کل ہمیں ایسا دکھائی دیتا ہے
عیاں ہے شامِ شفق کے حسین چہرے سے
ترا پیام جو دستِ حنائی دیتا ہے
نظامِ زر کا کرشمہ بھی دیکھئے راہیؔ
خراجِ علم و ہنر ایشیائی دیتا ہے

¤
یہ کیا جہاں ہے جہاں دستِ مہرباں بھی نہیں
زمین پائوں تلے سر پہ آسماں بھی نہیں
وہ لوگ مہرِ جہاں تاب تھے جو عالم میں
وہ لوگ آج فقط گردِ کہکشاں بھی نہیں
اب اعتبارِ گلستاں بھی اُٹھ گیا ایسا
تلاشِ نگہتِ گلشن میں تتلیاں بھی نہیں
اثر میں ہمسرِ نطقِ کلیم ہے لیکن
صریر خامہ‘ کلامِ پیمبراں بھی نہیں
میں سربلند نہیں آج اگر تو اے ظالم
سرنیاز‘ ترا سنگِ آستاں بھی نہیں
نسیمِ صبحِ چمن کی وہ جلوہ ریزی ہے
عیاں نہیں ہے تو پھر بوئے گل نہاں بھی نہیں
نشانِ منزلِ مقصود کیا ملے راہیؔ
ہماری ناقہء ہستی کا سارباں بھی نہیں

¤
نہ پوچھ مجھ سے نسیم سحر کی کیفیّت
دُھوئیں میں شہر ہے لپٹا ہوا جہاں میں ہوں
یہ میرا ذوقِ سفر ہے محیطِ کون و مکاں
نقوشِ پائے تمنا جہاں وہاں میں ہوں
بس ایک تُو جو مرے حالِ دل سے ناواقف
ترے چمن کی بھی کلیوں کا رازداں میں ہوں
جو تُو ہے زینتِ عنوانِ داستانِ بہار
فسانہء گل و بلبل کا ترجماں میں ہوں

¤
تیرے گلشن سے انہیں کیسی شناسائی ہے
پھول کو رنگ تو خوشبو کو صبا کہتے ہیں
وقتِ رخصت جو کبھی تُو نے پلٹ کر دیکھا
ہم اِسے بھی ترا اندازِ وفا کہتے ہیں
اِس زمانے سے محبت کی تمنا توبہ!
اِس بھرے شہر میں یہ کون ہیں کیا کہتے ہیں
¤
چلیں مقتل کی جانب کیوں نہ ہم آہستہ آہستہ
کریں گے ہم پہ وہ لطفِ ستم آہستہ آہستہ
اگر تم بھی نشانِ منزلِ ہستی کے جویا ہو
اُٹھاتے جائو پھر اپنے قدم آہستہ آہستہ

محاورہ مابین امیر و غریب
امیر
مالک و مزدور اُس کی خوبیٔ تدبیر ہے
جس کو بھی جیسے لکھے وہ کاتبِ تقدیر ہے
مفلسی سے دعویٔ وارستگی زیبا نہیں
جب مقدر ہی کی تیرے پائوں میں زنجیر ہے
عارضی دُنیا میں املاکِ جہاں سے کیا غرض
میری جاں وہ کوثر و جنت تری جاگیر ہے
ہو چکی ہے ہم سے وابستہ تری موت و حیات
ہے وہی زندہ جہاں میں جو مریدِ میر ہے
ہے کہیں بزمِ غریباں ہے کہیں بزمِ امیر
میرے پیارے یہ جہاں نیرنگیٔ تصویر ہے
کس لیے تُو آج مجھ سے برسرِ پیکار ہے
کیا نوائے دل مری منت کشِ تاثیر ہے
کیا ہوئے وہ دن کہ تُو مہر و وفا کا باب تھا
میری خدمت کے لیے تُو ہر گھڑی بے تاب تھا
بخش کر بزمِ نشاط و رنگ اے غافل مجھے
سوزشِ تابِ نوائے دل سے لذت یاب تھا
یاد ہیں وہ دن بساطِ صحبتِ گل کے عوض
تجھ کو خاکستر نشینی بسترِ سنجاب تھا
میرے حق میں نیک تھا تیرا وجودِ زندگی
جب چراغوں میں مرے تیرا ہی خونِ ناب تھا
کیا ہوئے وہ دن ترے دل میں تھا میرا احترام
صورتِ سجدہ کبھی جھک کر مجھے کرتا سلام
ہائے جس کے دم قدم سے تھا ہمارا انتظام
اب وہی ادنیٰ بشر مجھ سے ہوا ہے تلخ کام
سرخ پرچم کو اُٹھاتا ہے وہی اسفل غلام
اللہ اللہ اپنے آقا سے خیالِ انتقام!
آج کیوں لیکن مقدر پر ترا ایماں نہیں
کیوں تری نظروں سے علم و آگہی پنہاں نہیں
کیوں غم سوزِ دروں سے تر سرِ مژگاں نہیں
کیوں تبسم ریز تیری آنکھ ہے ویراں نہیں
کیا قیامت ہے کہ اب پہلے سے وہ ساماں نہیں
آج طوطی آئینہ کے روبرو حیراں نہیں
کس لیے تجھ کو ہوئی زن‘ زر‘ زمیں کی آرزو
کیوں اثاثہ اب ترا وہ بے سرو ساماں نہیں
کس لیے دست و گریباں صوفی و ملا سے ہے
اس سے ظاہر ہے تُو شاید حاملِ قرآں نہیں
روکشِ خورشید ذرہ جب ہوا تو جل گیا
روکشی ہم سے بہت دُشوار ہے آساں نہیں
یاالٰہی کیا کھلا ہے مطلعِ صبحِ نشور
کیوں اسیرِ خرمن و دانہ رہا دہقاں نہیں
غریب
آج یوں رنگِ شفق خوں ریز کا منظر کھلا
شب ہوئی تو ہر طرف اک دیدۂ اختر کھلا
بے تکلف ہو گیا پھر دامنِ شب تار تار
بے نیازی سے مہ و اختر کا وہ دفتر کھلا
عرصہء آفاق پر بھی پردۂ قیصر کھلا
تلخ گوئی سے وہ یوں کافر ستائش گر کھلا
زورِ دستِ منحنی کا راز دشمن پر کھلا
آستیں سے وہ تبسم ریز تھا خنجر کھلا
اپنے آقا سے وہ بارے بے ادب نوکرکھلا
یوں قتیلِ نازِ اسکندر سخن گستر کھلا
میرے بچوں کا تن نازک تو نچواتا رہا
پر حریر و پرنیاں میں تجھ کو پہناتا رہا
تیرے صحرائوں کو بخشی رونقِ فصلِ بہار
خود کو تیرے وعدۂ فردا پہ بہلاتا رہا
میں نے تجھ کو پیش کی ہر نعمتِ کون و مکاں
اپنے بچوں کو مگر میں زہر پھنکواتا رہا
پردۂ سازِ نفس میں بیش تر زیر فلک
درد کے نغمات میں شام و سحر گاتا رہا
دست بستہ تیرا بندہ پھر بھی لب بستہ رہا
تیرے ہاتھوں سے اگر عزت بھی لٹواتا رہا
تُو ہی کہہ دے کون تھا آفاق پر مسند نشیں
اور تیرے آگے سجدہ ریز تھی کس کی جبیں
کس کے بوسیدہ گھروں میں ظلمتِ شب تھی مکیں
کس طرف کرتا تھا جلوہ پاشیاں ماہِ مبیں
زخم دل کھاتا رہا ہنس کر دُعا دیتا رہا
مجھ سا سادہ دل کبھی دیکھا بھی تھا تُو نے کہیں؟
اس قدر خوں ریزیاں اہلِ وفا کی الاماں
مجھ کو بس معلوم ہوتا ہے کہ تُو انساں نہیں
سن ذرا اُس کی زبانی اے امیر احتشام
جس کے نعرے سے ہیں لرزیدہ عراق و مصر و شام
بانٹتا ہے تجھ کو مالِ مفت اے اسفل مقام
اب دہانِ زخم سے دہکے گا ورنہ انتقام
کھولنا ہے سب بھرم اے بے وفا تیرا مجھے
زہر لگتا ہے ترا اب وعدۂ فردا مجھے
مجھ کو مظلوموں کا لینا ہے قصاص و انتقام
اپنی بربادی کا سارا یاد ہے چرچا مجھے

مزدور کا نغمہء انقلاب
اُس گھڑی انساں بر آوازِ خدا ہو جائے گا
جب شعورِ ذات سے خود آشنا ہو جائے گا
توڑ ڈالے گا غلامی کی یہ زنجیریں سبھی
بندۂ مزدور جب آتش بہ پا ہو جائے گا
لائقِ تکریم ہیں مزدور کی بے باکیاں
ایک دن آخر وہ محبوبِ خدا ہو جائے گا
پھینک دے گا ہاتھ سے کشکول کی خیرات کو
آپ ہی یہ مخزنِ لطف و عطا ہو جائے گا
جب صبا لائے گی جمہوری قیادت کا پیام
خطہء آہ و بکا جنت نما ہو جائے گا
خواجگی کو کھینچ لائے گا فرازِ دار تک
جب کبھی مزدور سرگرمِ جفا ہو جائے گا
اُس گھڑی ٹپکے گی مشرق سے لہو کی بوند بوند
جب بھی اِس کا نالہء خونیں رسا ہو جائے گا
جب مری تحریر کو چومے گی موجِ انقلاب
بندۂ مزدور جانے کیا سے کیا ہو جائے گا
غم نہ کھا راہیؔ کہ تشہیر وفا ہو جائے گی
اور ہم کو حاصل اپنا مدعا ہو جائے گا

جشنِ آزادی
لایا ہے رنگ خونِ وفا مدتوں کے بعد
ٹوٹی ستم کی تیغِ جفا مدتوں کے بعد
میرے وطن کے دشت کی ریگِ تپاں پہ آج
برسی ہے رحمتوں کی گھٹا مدتوں کے بعد
اب تک ہر ایک غنچہ تبسم پذیر ہے
آئی کہاں سے ایسی صبا مدتوں کے بعد
(ق)
درسِ وفا کو بھول کے پھر‘ سائے کی طرح
اک اور ہم پہ وقت پڑا مدتوں کے بعد
قومیتوں کے ایسے تراشے گئے صنم
ہم کو خدا بھی بھول گیا مدتوں کے بعد
گل کر رہے ہیں آج وہی شمعِ رہگذر
ہم سے ہوئی جو جلوہ نما مدتوں کے بعد
میرے وطن کو اوجِ ثریا نصیب ہو
یارب قبول ہو یہ دُعا مدتوں کے بعد

حضرت بلال حبشیؓ اور حورِ بہشت
یہ کوئی مولوی کہتا تھا برسرِ منبر
جلال و ہیبت و جوش و خروش میں آ کر
ظہورِ حق ہے بنامِ محمدؐ عربی
عجب ہے شانِ غلامِ محمدِ عربی
کہاں ہیں اب وہ غلامانِ احمدِ مختارؓ
کہ جن کا ذوقِ شہادت رہا ازل سے شعار
وہ جن کا زینتِ رنگِ چمن نمودِ وجود
وہ جن کے دستِ تصرّف میں کارِ چرخِ کبود
وہ بندگانِ خدا تھے جہاں کے روحِ رواں
وہ جن کے دم سے ہے قائم جہاں کا نام و نشاں
اُنہی میں ایک وہ حضرت بلالِ حبشی ہے
حنین و اُحد و بدر میں رفیقِ نبوی ہے
وہ دست و بازوئے پیغمبر شفیعِ اُمم
وہ سخت کوش کہ تھا بے نیازِ ناز و نعم
وہ پاک باز کہ جو رشکِ عفّتِ مریم
وہ نیک طینت و خوش خلق و غیرتِ عالم
بقولِ ختم رسلؐ وہ مکینِ جنت ہے
وہ جس کی ذات ہی باد و بہارِ اُلفت ہے
وہ آبِ کوثر و رضوان و حور و چنگ و رباب
وہ آبِ شِیر و عسل‘ لذتِ شراب و شباب
وہ نازِ لالہ و گل وہ جمالِ رنگِ بہار
کمالِ ذوقِ طلبگار‘ عکسِ جلوۂ یار
جب ان کو ایک کیا نام خلد کا پایا
یہ سارا عیش کا ساماں بلالِ حبشیؓ کا
ہوا کے دوش پہ پہنچی جو خلد میں یہ خبر
پھر ایک آہِ جگر دوز اُٹھی شام و سحر
کچھ ایسے رونے لگی حورِ خلد زار و قطار
فرشتگانِ خدا بھی ہوئے بہت بے زار
کچھ ایسے سوز سے سازِ بیانِ غم چھیڑا
کہ اُس کے حالِ زبوں پر سحاب بھی رویا
وہ ہاتھ جوڑ کے کہنے لگی بہشت کی حور
خدائے کون و مکاں کیا ہوا ہے مجھ سے قصور
ازل سے میں کہ ہوں پروردۂ شمیم چمن
مرے وجود سے کوسوں ہیں دور رنج و محن
کیا ہے تُو نے مرصع مجھے بہ لعل و گہر
کہ میں ہوں باعثِ تکوینِ جامِ جاں پرور
تُو اپنی ذات میں حسن آفرین قدرت ہے
تُو خود جہاں میں طلبگارِ حسنِ صورت ہے
ہمارے واسطے یارب عجیب ہے دستور
بلالِ حبشیؓ ہو اور ایک خوبصورت حور
مرے خدا یہ کہاں کی ہے تیری داد رسی
کہ میں ہوں خادمہ حضرت بلال حبشیؓ کی
عظیم عرش معلی سے یہ صدا آئی
تری ادا یہ ہمیں مطلقاً نہیں بھائی
مرے رسول نے نسبت تری بلالؓ سے کی
قبول کرتے ہیں تجھ کو بلال حبشیؓ بھی؟
مقامِ شکر ہے تیرے لیے اے حورِ جناں
بلالِ حبشیؓ کہاں اور ایک حور کہاں

صبحِ بہار
کیسے ہو بیاں رنگ ترے صحن چمن کا
اس عالمِ خاکی پہ ہے اک جنتِ یکتا
اب سوئے چمن دیکھ تو اے چشمِ تماشا
ہے زینتِ آئینہء شبنم‘ رُخِ زیبا
وہ فصلِ گل و لالہ کا اب جوشِ نمو ہے
فردوس بداماں نظر آیا مجھے صحرا
کچھ ایسی لطافت ہے نسیم سحری میں
پژمردہ مرا غنچہء دل کیف سے جھوما
کچھ ایسی طرب ریز ہوئی محفلِ ہستی
آنکھوں میں تبسم ہے تو ہر لب پہ ہے وَہ وا
تاثیر ہے وہ خندۂ نورِ سحری میں
ہر پھول پہ ہوتا ہے گمانِ بتِ سیما
اس عالمِ سرمستی میں اٹھیں جو نگاہیں
تھا ہوش رُبا فطرتِ رنگیں کا نظارا

منقبت حضرت علیؓ
آئے ترے دماغ میں کیسے‘ ہے کیا علیؓ
تفسیرِ خیر و شر کے لیے کربلا‘ علیؓ
ختم الرّسل کے علم کا اعجاز دیکھنا
وہ بو تراب‘ دُرِّ نجف بن گیا علیؓ
وہ بابِ علم‘ فاتحِ خیبر‘ گُلِ حرم
کب تک کہوں کہ کیا ہے وہ شیر خدا علیؓ
میں بھی ہوں پا فتادہ تیرے سنگ قدس پر
برحالِ ما نگاہِ کرم دار یا علیؓ
راہی یہ وجد و ذوق کی حالت میں کیا کہا
بعد از خدائے پاک و شہ دو سراؐ‘ علیؓ

بیادِ نسیم لیہ
کہاں ہے گلشنِ شعر و سخن میں آج نسیم
نہ خوشبوئوں میں لطافت نہ حسن روئے شمیم
وہ قہقہے ہیں شگوفوں میں اور نہ رنگ چمن
اُداس کر گیا ایسا وہ ایک مردِ عظیم
کچھ ایسا پایا تھا اُس نے خدا سے ذہنِ رسا
کہ اُس زُباں پہ ملا نکتہء جدید و قدیم
ہنوز دل میں ہے محفوظ اس کا حسنِ بیاں
کہ اس کے لہجے میں پایا ہے سوز و سازِ کلیم
ہو اس کی قبر پہ رحمت خدا کی سایہ فگن
دُعا قبول ہو راہیؔ کی پیشِ ربِ کریم

استاذی پروفیسر ڈاکٹر انوار احمد کے نام
طلوعِ مہرِ شعورِ حیات کیا کہنا
کہ اُس کے بعد مرا تیرہ خاکداں نہ رہا
وہ نورِ حسنِ یقیں جلوہ گر ہوا ایسے
گمان و وہم کے عفریت کا نشاں نہ رہا

مجھے بھی چاہیے وہ نطقِ گل فشاں‘ مولا
کہ مجھ سے مدحتِ جانِ بہار ہو جائے
کسی کے نخلِ تمنا کی اک نمو کے لیے
ہر ایک بوند لہو کی نثار ہو جائے

خلوص و مہر و مروّت کا وہ پیمبر ہے
وہ بحرِ فہم و فراست کا عالی گوہر ہے
ہنوز خشک بیابانِ زندگانی میں
گُلِ بہار ہے وہ نخلِ بار آور ہے

وہ اپنی ذات میں تنہا بھی انجمن بھی ہے
ظلامِ جہل میں ادراک کی کرن بھی ہے
فقط وہ ناقدِ افسانہء حیات نہیں
ازل سے ناسخِ طرزِ رہِ کہن بھی ہے

قطعات

¤
جلوۂ رنگِ حقائق کی صباحت پہ کبھی
دل وہ تھا سرکش و خوددار کہ مائل نہ ہوا
میں اسے نغمہء اِدراک سناتا کیوں کر
یہ وہ کافر کہ دلائل سے بھی قائل نہ ہوا

¤
اپنی محرومیٔ قسمت سے لرز جاتا ہوں
جب وہ مائل بہ کرم‘ چشمِ غضب لگتی ہے
میں وہ پروردۂِ آلامِ مسلسل کہ مجھے
مہربانی بھی ستمگر کی عجب لگتی ہے

¤
اُس غمزۂ چالاک کی شاید ہو شرارت
بے ربط نہیں ورنہ مرے دل میں حرارت
حیراں ہوں کہ کس ناز سے یہ سیم بدن لوگ
غارت گریِٔ عشق میں رکھتے ہیں مہارت

¤
اے کاش کہ میں کھل کے کروں اس سے کبھی بات
حاصل مجھے ہو جائے جو اعزازِ ملاقات
کیا شے ہے یہ مقصودِ خلائق مرے یارب
بے ساختہ کہتے ہیں ترے لوگ جسے ذات

¤
مانا کہ تجھے علم کا سودا ہے بہت خوب
اور منطق و تحقیق بھی سب سے تجھے محبوب
اُس سرِ سرا پردۂ افلاک کو لیکن
ایمانِ براہیمؑ ہو یا جذبہء یعقوبؑ

¤
ناصح نے کہا مجھ سے کہ ازراہِ تاسف
ٹوٹے ہوئے کتبوں کو بھی دن رات پڑھا کر
لیکن مجھے کیا خوب کہا مردِ خدا نے
عبرت کے لیے اپنی روایات پڑھا کر

¤
اس سے ہی تری ہستیِ موہوم ہے مشہود
جس عقلِ جہان بیں سے ہے انسان کی بہبود
کیا خوب دیا پیر کلیسا نے یہ فتویٰ
اِس دَور میں وہ عقلِ خداداد بھی مردود

¤
اب تک ہماری نوکِ قلم جو کلیم ہے
انسانیت کے درد و الم کی امین ہے
اس بات پر جو غرقِ تحیّر ہیں آج تک
اُن کو ہماری دعوتِ عین الیقین ہے

¤
جس پھول کی خوشبو سے معطر ہوا گلشن
اب اُس نے متاعِ خس و خاشاک خریدی
جنت سے نکالے ہوئے انساں کے لیے بھی
اَمرت نہ بنی پیر کلیسا کی مریدی

¤
جب ذوقِ سخن نغمہ سرائی پہ ہو مائل
آئینہئِ اجمال بھی ہو پرتوِ تفصیل
گر حرف و معانی کی کشایش ہو ضروری
آ جاتا ہے جنبش میں وہیں شہپرِ جبریل

¤
جو بحرِ حقیقت کے شناور تھے وہ غوّاص
گوہر کی بجائے ہیں صدف ہی پہ رضامند
صد حیف جنہیں ہونا تھا قرآں کا نگہباں
وہ لوگ ہیں اسلاف کی تہذیب کے پابند

¤
اللہ نے بخشی ہے درخشندہ وہ سوغات
انجم بھی لرز جائیں وہ مومن کے مقامات
رسوائیِٔ اُمت ہے کہ پیرانِ حرم نے
تاویل سے بے نور کیا جوہرِ آیات

¤
دُنیا میں نگاہِ غلط انداز سے ہر سُو
دیکھا ہے بہت میں نے جمالِ مہ و پرویں
اے خالقِ آفاق! ترا نقشہء فطرت
مے خانہء افرنگ ہے یا بتکدۂ چیں

¤
ووٹوں کا دَور‘ وقتِ مناجات ہے عزیز
ایوانِ اقتدار کی سوغات مانگئے
کاسہ بدست ہو کے فقیروں کے بھیس میں
بندوں سے آج ووٹ کی خیرات مانگئے

¤
یہ دَور الیکشن کا ہے یا دَورِ قیامت
سمجھائیے مجھ کو یہ بہ اندازِ صراحت
دل محوِ عداوت ہو‘ زباں صرفِ محبت
بندے کی سمجھ میں نہیں آئی یہ سیاست

¤
اپنے گھروں میں لوگ مقیّد ہیں اے خدا
پہرا لگا ہوا ہے جہاں میں عذاب کا
بس نیم مردہ لاشے لہو میں ہیں تربتر
یہ دَور منتظر ہے کسی انقلاب کا

¤
جو بے سوزِ یقیں ہے بے بصر ہے
مقامِ آدمی سے بے خبر ہے
جو ہے چشم و چراغِ علم و عرفاں
وہی تفسیرِ مافوق البشر ہے

¤
ہے تیری عقل پہ داغِ دوامی
طریقِ رومی و تقلیدِ جامی
تجھے احساسِ آزادی نہیں ہے
تری گردن میں ہے طوقِ غلامی

¤
ہر قدم چشمِ انا کیش جھکی جاتی ہے
میرے سینے میں لگا تیرِ ملامت ایسا
ننگِ ناموسِ حرم آج مسلماں ٹھہرا
میری پیشانی پہ ہے داغِ ندامت ایسا

¤
یوں عہدِ فسوں ساز کے فرزند کو للکار
کھنچ آئے قیامت کی بھی تصویر شرربار
اب مدِّ مقابل ہیں نئے مرحب و عنتر
میدان میں پھر آئے کوئی حیدرِ کرار

¤
پیار کی اُلفت کی وہ رنگیں کہانی ہائے ہائے
یاد آتا ہے مجھے جوشِ جوانی ہائے ہائے
اُس ستمگر کی ذرا یہ بے نیازی دیکھئے
وقتِ رخصت بھی نہ دی کوئی نشانی ہائے ہائے

¤
شعورِ ذات پہ جس کی نگاہ ہو یارب
مجھے تو ایک بھی وہ چشم خود نگر نہ ملی
ہیں کیسی بھول بھلیاں رہِ تصوف میں
نہ تُو ملا مجھے‘ اپنی بھی کچھ خبر نہ ملی

¤
آج خاموش کیوں ہے میخانہ
کوئی چھینٹا شراب کا ساقی
جس سے عرفانِ لا الٰہ ملے
وہ مئے دل گداز لا ساقی

¤
جتنے گائے تھے مغنّی نے ترانے اب تک
گرچہ اس بات کو بیتے ہیں زمانے اب تک
پھر بھی اس صحبتِ دیرینہ کے انمٹ نغمے
گونجتے کیوں ہیں تخیّل میں نہ جانے اب تک

¤
سمجھا کہاں ہے حرف و معانی کی تلخیاں
جاہل بنا ہے چوغہء رنگین کے عوض
واعظ بدل کے ’’ابدی حقیقت‘‘ مجاز میں
کرتا ہے اپنی چاندی کھری دین کے عوض

¤
اپنے سینے میں وہی ذوقِ بلالی لے کر
مسجد و دیر و کلیسا میں اذاں دے کوئی
تیرے مظلوم حقائق سے اُٹھا دیں پردے
کاش ان گُنگ زبانوں کو زباں دے کوئی

¤
اس نئے دَورِ حقائق میں جہالت کے سبب
آج جس شخص کو ہے فکرِ رسا سے انکار
میں پر اُمیّد ہوں پھر بھی کہ تغافل پیشہ
کاش ہو جائے مری ضربِ قلم سے بیدار

¤
دے رہا ہوں نئی سوچوں کے صحیفے لیکن
یہ الگ بات کہ میں حضرتِ جبریلؑ نہیں
خوابِ غفلت سے سبھی جاگ اُٹھیں گے مزدور
میری آواز کم از صورِ سرافیلؑ نہیں

¤
لوگ کہتے ہیں خوشی سے مجھے‘ عید آئی ہے
غم زدوں کے لیے خوشیوں کی خبر لائی ہے
مجھ کو نظّارۂِ جاناں کی مسرّت معلوم
ایک میں ہوں‘ وہی غم ہے‘ وہی تنہائی ہے

فردیات
¤
زندگی سے پیار کر
عشق اختیار کر
¤
کون کہتا ہے تجھ سے پیار نہیں
کوئی ایسا تو نابکار نہیں
¤
لطف کیا پھر ناظر و منظور میں
جب وہ جلوہ ریز تھا موسیٰ ؑنہ تھا

¤
چاندنی میں وہ کس لیے آئے
تیرگی میں تو آ نہیں ملتا
¤
ملا وہ مکتبِ وہم و گماں سے درسِ خودی
کتابِ شوق پہ عنوانِ بے خودی بھی نہیں
¤
دعائے نیم شبی کا اثر فغاں میں نہیں
اِسی لیے دلِ مضطر کسی اماں میں نہیں

¤
وہ ملا ’’لاتحزنو‘‘ سے زندگانی کا سبق
اب کہ تجدیدِ تمنّا ہے شکستِ آرزُو
¤
یہ میرے یار کے دستِ کرم کا اک کرشمہ ہے
ہوا میں رقص کرتے ہیں مری تحریر کے ٹکڑے
¤
ہنوز خنجرِ قاتل پہ خون ہنستا ہے
کمالِ صبر و رضا ہے حسینؓ ابنِ علیؓ
تمت بالخیر

Viewers: 747
Share