ڈاکٹر شہناز مزمل کی کلیاتِ نظم — ندائے عشق

Dr. Shahnaz Muzzammil ڈاکٹر شہناز مزمل  This book is published by Dr. Shahnaz Muzzammil and all rights reserved. The publisher or printer is not responsible for the content of this […]

Dr. Shahnaz Muzzammil
ڈاکٹر شہناز مزمل 

This book is published by Dr. Shahnaz Muzzammil and all rights reserved. The publisher or printer is not responsible for the content of this book. We have always strived to convey the best and most error-free literary content to readers. Every possible attempt is made in this regard, but error detection is welcomed so that it can be corrected in a future publication.

(کلیاتِ شہناز مزمل)

ندائے عشق
(نظمیات)

ISBN : 978 969 7738 182

زیرِ مطالعہ کتاب محترمہ ڈاکٹر شہناز مزمل کے ایما پر شائع کی گئی ہے اور اس کے جملہ حقوق اورمتن کی تمام تر ذمہ داری انہی کو مستحسن ہے۔پبلشر یا پرنٹر قطعاً ذمہ دار نہیں۔ ادارہ اردو سخن ڈاٹ کام کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ قارئین تک بہترین اور اغلاط سے پاک ادبی مواد پہنچایا جائے اور اس ضمن میں ہر امکانی کوشش کو بروئے کار لایا جاتا ہے تاہم غلطی کی نشاندہی کا خیر مقدم کیا جاتا ہے تاکہ آئندہ اشاعت میں اس کی درستی کی جائے۔(ادارہ)


ڈاکٹر شہناز مزمل
125۔ ایف، ماڈل ٹائون، لاہور۔ (پنجاب۔ پاکستان)
رابطہ فون: 0300-4275692

استحقاق:تمام تصرفات ’’ڈاکٹر شہناز مزمل ‘‘کی تحویل میں ہیں
ناشر: اردو سخن پاکستان و ادب سرائے پبلیکیشن لاہور
نمودِ اول:فروری 2019ء

کمپوزنگ: محمد شہریار ناصر
تدوین و تزئین:میاں وقار الاسلام
نظر ثانی:صائمہ جبین مہک۔سید نجم الحسن نجمی
اہتمام/سرورق: ناصر ملک
طباعت: شیرِ ربانی پریس، ملتان
قیمت:400 روپے (30یورو، 35ڈالر)


ڈاکٹر شہناز مزملؔ کی ادبی مسافت
چیئر پرسن ؛ ادب سرائے انٹر نیشنل لاہور —مادرِ دبستانِ ادب لاہور
ڈاکٹر شہناز مزمل کی تخلیقات و تحقیقات:
1۔ ابتدائے عشق 2۔عشق تماشا ( مجموعہءِ کلام)
3۔عشق مسافت 4۔عشقِ مسلسل ( مجموعہءِ کلام)
5۔عشق دا دیوا 6۔عشق دا بھانبھڑ ( پنجابی مجموعہءِ کلام)
7۔عشقِ کل 8۔انتہائے عشق ( مجموعہءِ کلام)
9۔نورِ کل 10۔جادہ ءِ عرفاں ( مجموعہءِ کلام)
11۔بعد تیرے 12۔قرضِ وفا ( مجموعہءِ کلام)
13۔میرے خواب ادھورے ہیں 14۔موم کے سائباں ( مجموعہءِ کلام)
15۔جراتِ اظہار 16۔جذب و حروف ( مجموعہءِ کلام)
17۔پیامِ نو 18۔ عکس ِ دیوار پہ تصویر (مجموعہءِ کلام)
19۔شہناز مزمل کے منتخب اشعار (انتخابِ شعر)
20۔کھلتی کلیاں مہکتے پھول (مجموعہ کلام)
21۔Ten poets of today 22۔قرآن پاک کا منظوم مفہوم (تحقیق)
23۔کتابیاتِ اقبال 24۔کتابیات مقالہ جات (تحقیق)
25۔لائبریریوں کا شہر لاہور 26۔فروغِ مطالعہ کے بنیادی کردار(تحقیق)
27۔عکس ِ خیال (مضامین کا مجموعہ)
28۔دوستی کا سفر (سفر نامہ)
29۔نماز (بچوں کے لیے)
30۔منتہائے عشق کلیاتِ شہناز مزمل (غزلیات)
31۔ندائے عشق کلیاتِ شہناز مزمل (نظمیات)
32۔کلیاتِ شہناز مزمل (ادبِ اطفال)
33۔کلیاتِ شہناز مزمل (پنجابی کلام)
34۔کلیاتِ عشق (تصوف)
35۔سفرِ عشق (سفرنامہ ءِ حرمین شریفین و جدہ)
36۔اجلا کون میلا کون (کالموں کا مجموعہ)
37۔بریف کیس (کہانیاں)
ڈاکٹر شہناز مزمل پر کیا جانے والاتحقیقی کام:
1۔عکسِ خیال؛ شہناز مزمل ایک تعارف نعمانہ فاروق
2۔مثل ِ کلیات شاعری: ڈاکٹر شہناز مزمل میاں وقار الاسلام
3۔شخصیت و فن؛ شہناز مزمل(اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور) صدف رانی
4۔شہناز مزمل کے سفر نامے ’’دوستی کا سفر’’ کا تجزیاتی مطالعہ (جی پی جی سی ، سمن آباد لاہور) ثنا خاور
5۔شہناز مزمل کی شاعری کے مطالعات(پنجاب یونیورسٹی لاہور) مقدس ستار
6۔شہناز مزمل کی اردو غزل اور نظم کا فکری و فنی مطالعہ(منہاج یونیورسٹی، لاہور) حنا نعمان
ڈاکٹر شہناز مزمل کے لیے اعترافِ کمالِ فن:
1۔ ادب سرائے انٹرنیشنل پورٹ فولیو 2018ء
2۔ بک اینڈ پبلی کیشنز 2018ء
3۔ ایوارڈ اینڈ سرٹیفیکیٹس 2018ء
4۔ پریس اینڈ میڈیا 2018ء
5۔ پروگرامز اینڈ ایونٹس 2018ء
www.adabsaraae.com www.shahnazmuzammil.com



انتساب

ندائے عشق کی منتظر سماعتوں کے نام

پیش لفظ

متجسس ذہن پیامِ نو کو آ گے پہنچانے کےلئے جراتِ اظہار کا سلیقہ سیکھ کر جذب کو حروف کا لبادہ پہنا کر عکس ِ دیوار پہ تصویر بنادیتا ہے اور اس میں اپنا عکس تلاش کرتے دائروں میں رقص کرتے کرتے پاؤں شل ہونے لگتے ہیںاور لمحہ بھر کے لئے موم کے سائبان تلے ٹھہرنا پڑتا ہے اور جذبوں کی تپش سے یہ موم کے قطروں کی صورت بہنے لگتا ہے تو بھلا یہاں کس کو امان مل سکتی ہے اور سمجھ آ تی ہے کہ ابھی تک میرے خواب ادھورے ہیں اور ان کی تعبیر سے قبل ہم سفر بچھڑ جاتا ہے اور عشق تماشا شروع ہو جاتا ہے۔ بعد تیرے، ایسے میں جادہءِ عرفاں نظر آ تا ہے جو نورِکل تک لے جاتاہے۔وہاں کھلتی کلیاں مہکے پھول فضا کو معطر کر دیتے ہیں ۔عشق کے مسافر کو سامنے عشق سمندر نظر آتا ہے۔عشق کے دیوے کی روشنی میں عشق مسافت کی پر کیف راہیں عشقِ مسلسل کی طرف راہنمائی کرتی ہیں۔ عشق کی ابتدا سے عشق بھانبھڑ بھڑک اٹھتا ہے۔عشقِ مزمل منتہائے عشق کی جولانیاں دکھاتا ہے۔رب کی عطا سے نور۔ فرقان جلوہ نما ہوتا ہے منتہائے عشق کی غزلیات سے نظمیات تک آ پہنچتے ہیں۔ عارفانہ کلام ،حمد ونعت بچوں کی کلیت اور پنجابی پراگوں کی کلیات کے لیے راہ ہموار کی جارہی ہے۔ بچپن سے شروع ہونے والایہ سفرپچپن سے بہت آگے کی منزلیں طے کر گیا ہے۔ دریدہ ہاتھ ،چھالے پاؤں کے بتلا رہے ہیں کہ منزل سے بہت آگے نکل آئے ہیں۔ندائے عشق سن کر جانے ابھی کہاں تک اور کب تک چلناہے۔کہاں پہنچیں گے ،کہاں ملیں گے ، یہ وقت بتائے گا ۔تب تک کے لئے اللہ حافظ۔
شہناز مزمل
مادرِ دبستان ۔ لاہور
چیئر پرسن، ادب سرائے انٹرنیشنل، لاہور



شہناز مزمل کی تخلیقی مسافتیں

شہناز مزمل دنیائے ادب کا ایک معتبر نام ایک معتبر حوالہ ہیں۔ جب بھی بیسویں اور اکیسویں صدی کی اردو ادب کی تاریخ مرتب کی جائے گی تو یقینا شہناز مزمل کا نام سر فرست ہوگا۔ اب تک شہناز مزمل کے نو شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک کتاب ’’عکس خیال‘‘ شہناز مزمل شخصیت اور فن کے حوالے سے منظر عام پر آ چکی ہے۔ حال ہی میں ان کا نواں شعری مجموعہ عشق تماشا باصرہ نواز ہوا ۔
غزل ہو یا نظم شہناز دونوں پر قدرت رکھتی ہے۔ میں نے سوچا ’’عکس دیوار پہ تصویر‘‘ بنانے والی یہ شاعرہ جو ’’موم کے سائبان‘‘ تلے’’ ادھورے خواب‘‘ دیکھتی ہے اس کی کچھ نظمیں منتخب کر کے ’’قرضِ وفا‘‘ چکا دوں۔
’’آس کے جنگل‘‘میں’’لاحاصلی کی سرزمین‘‘ پر’’جرم آگہی‘‘ کی بنا پر کڑی سزا کاٹ کر وہ صرف عکس تمنا پا سکی۔ وہ ایک شب گزیدہ مسافر ہے جو ’’زرد موسم کے عذاب‘‘ لےکر ابھی تک بے کلی میں سوال کر رہی ہے کہ رتجگوں کی مسافت کب ختم ہو گی صدیوں کا پرانا دکھ جو اس کی رگ و پے میں سرایت کر گیا ہے، اس کی نظم کے ہر لفظ سے عیاں ہوتا ہے۔ مقروضِ انا جو وفا کے بوجھ تلے دبی جا رہی ہے۔ اس کا قرضِ وفامیں کس حد تک چکا پائی ہوں، اس کا فیصلہ قارئین کے ہاتھ میں ہے۔
رضیہ اسماعیل
10۔ آگسٹاروڈ۔ آککس گرین۔ برمنگھم


مصرع لرزاں—طویل مسافتوں کی شاعرہ

دیکھنا تقریر کی لذت کہ ، جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
(غالب)
ہاںتو یہ کیفیت محرک ہوئی کہ شہناز مزمل صاحبہ پر کچھ لکھا جائے۔ ایسی معروف شاعرہ پر لکھنا کچھ آسان بھی نہیں ، لہٰذا خیال عمل کا جامہ نہ پہن پایا۔ مگر ’’ادب سرائے‘‘ ماڈل ٹائون کے ماہانہ مشاعروں میں کئی ماہ متواتر شرکت نے مہمیز کیا کہ اگر کچھ لکھنا ہے تو تاخیر کیوں!
ان کی شدت احساس میں ڈوبی ہوئی نظموں اور سوز سے معمور غزلوں نے چند بار احساس دلایا کہ ان کی شاعری کی قلم کی جولانگاہ بنایا جائے۔ وہ یقینا بڑی شاعرہ ہیں۔ مگر ضروری نہیں کہ جو ان پر قلم اٹھائے وہ ایسا ہی معروف ہو پھر:
نہ ستائش کی تمنا نہ صلہ کی پروا
چنانچہ ان کی شاعری مجموعوں کا مطالعہ کیا۔ محترمہ کی شخصیت سے تو کوئی تعارف نہ تھا، نہ یہ معلوم کہ ان کا شعری شعور کس طرح پروان چڑھا، کن مراحل سے گزرا، مذاق شعری کی تربیت کس طرح ہوئی اور شعر گوئی کی اس پختگی کو وہ کتنے ہفت خواں طے کر کے پہنچیں لٰہذا ساری رہنمائی ان کے شعری مجموعوں ہی سے حاصل کی۔ انہوں نے اور بھی بہت کچھ کہا اور لکھا ہو گا میری رسائی ان کی صرف چار شعری تخلیقات تک ہو سکی۔ ’’موم کے سائبان‘‘،’’میرے خواب ادھورے‘‘، ’’ عکسِ دیوار پر تصویر‘‘ اور’’ جادہ عرفان‘‘۔
شہناز صاحبہ کی شاعری کا محور سوز دروں، غم پنہاں و غم دوراں ہے۔ شعری مجموعوں میں درج شدہ کوائف کی روشنی میں زندگی میںنہایت کامیاب نظر آتی ہیں۔ انہوں نے وہ سب کچھ پایا ہے جس کی عام طور پر خواہش کی جاتی ہے۔ ملک گیر شہرت کی حامل شاعرہ ہیں۔ انجمنوں کی صدر نشینی ان کے لیے جگو جگہ دامن کشادہ کیے ہوئے ہے۔ لائبریریاں ان کے کردگھوم رہی ہیں۔ ماڈل ٹائون لائبریری کی بانی چیف لائبریرین ہیں۔’’ادب سرائے‘‘کی تا حیات چیئر پرسن ہیں۔ دوبار ایوارڈ برائے حسن کارکردگی عطا کیا گیا۔ ادبی ایوارڈز سے نوازا گیا۔ جنگ ٹیلنٹ ایوارڈ سے بھی وہ مضتخر ہوئیں۔ یہ تصریح صرف اس لیے ہے کہ بظاہر زندگی کامیاب ہے تو پھر یہ سارا سوز، یہ غم و الم، یہ بکا کی کیفیت یہ تاریکیوں کا ذکر، یہ شکست و ریخت، یہ گریہ، یہ رتجگے، یہ طویل مسافتیں، یہ آبلہ پائی، یہ لاحاصلی کا غم ، یہ شب گزیدگی، یہ بے ثباتی کا شدید احساس، یہ دائروں کے پیچاک میں گمشدگی۔ اصلی چہرے پر نیا چہرہ سجانا، یہ خموشی کی جانکنی، تنہا نہ ہوتے ہوئے کربِ تنہائی، یہ خود سے فرار، یہ کڑی دھوپ میں شکستہ پائی، یہ فسوں زدگی، یہ تمنائوں کے حصار میں محصوری، کبھی اپنی دعائوں میں اثر، کبھی اندھی شب میں اندھے سوال، وحشت شب میں خود کلامی، اعصاب شکنی، موسم کے سائبان میں بے سائبانی، ماورائے حیات و کائنات، سفر ملائے اعلیٰ تصوراتی لہریں، آخر ان سب کے سوتے کہاںہیں؟ یہ ہیں شدت احساس میں ، یہ شدت احساس ذاتی بھی ہے اور کائناتی بھی۔ یہ تمام غموں کو اپنا غم بنانے کی بات ہے۔ یہ جملہ شداید جہاں پر اشک ریزی ہے۔ یہ بے ثباتی حیات کا غم ہے۔ یہ حالات کی بے یقینی کا ماتم ہے۔ یہ وہ دکھ ہیں جنہیں الفاظ کے جامے میں بمشکل منتقل کیا جا سکتاہے۔ یہ پر سوز ظرز احساس ہے جس میں کوئی شریک نہیں ہو سکتا کیونکہ اکثریت کی سوچ بالکل مختلف ہے جو ٹھیٹھ مادی ہے، وہ ارفع اقدار پر نظر نہیں رکھتے ، تو پھر کوئی شریک سفر ہوتو ساز کی بات بنے۔ لٰہذا سوز ، سوز ہی رہتا ہے۔ جب تک اجتماعی شعور اس سوز کی ساخت بدلنے پر آمادہ نہ ہو۔سوز کے ساتھ ساز کی صورت نہیں بنتی۔ ورنہ جوسوز شہناز کی شاعری میں جاری و ساری ہے اس طرح رہے گا۔
جو کیفیات بیان کی گئی ہیں وہ کسی پیہم یاس کو پیش نہیں کرتیں وہ اپنی کر بنا کی سے عمل کی دعوت دیتی ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو شہناز اضمحلال کا ہدف بن جاتیں پھر نہ یہ کیفیت بالتکرار سامنے آتی اور نہ اس طرز احساس کی جوت کو بار بار جگایا جا سکتا۔ اتنا کچھ کہنے کے بعد عالم سکوت ہوتا اور شکت خوردگی۔ لہجے کا یہ رچائو نہ ہوتا ، شعر کا یہ سبھائو نہ ہوتا، جاذبیت ساتھ چھوڑ جاتی، جذبات راکھ کا ڈھیر بن جاتے۔ وہ اس طرح شعلہ فشاں نہ ہوتے۔ یہ پُر سوز آواز بار بار نہ چونکاتی۔ لٰہذا یہاں شکست خوردگی نہیں، اضمحلال نہیں، حوصلہ ہے اور صلائے عام ہے کہ حوصلہ اس طرح زندگی کا شعور بدل سکتا ہے زندگی کی ناہمواریوں اور نا انصافیوں کی خوشکوار اور ہموار بنا سکتا ہے۔ دل میں جب تک کسک نہ ہو، احساس زیاں نہ ہو، اپنے طرزِ احساس میں دوسروں کو شریک کرنے کی تمنا اور کاوش نہ ہو، کوئی تبدیلی نہ آسکتی۔
شہناز کا دھیما پر سوز انداز درون دل ناانصافیوں اور ناہمواریوں سے دعوت مبارزت دیتا ہے، وہ احساس اور ولولہ عطا کرتا ہے جس سے بے ثباتی سے محکومی کی طرف قدم اٹھتا ہے۔ جہاں مادیت کی جگہ اقدار کی اہمیت ہوتی ہے۔ تصنع کی جگہ حقیقت پسندی شعار بنتی ہے جب شکست و ریخت کے بجائے تعمیر و ترقی درون دل مرکز خیال ہوتی ہے تو آواز دل میں اترتی ہے، اثر کرتی ہے ، ہم خیال بناتی ہے، اور پھر بے ترتیبی کو تشکیل دینے کے لیے ہم قدمی کی دعوت دیتی ہے، طویل مسافتوں کا حوصلہ پیدا کرتی ہے اس طرح جادہ حیات اور جادئہ عرفان پر کارواں رواں ہوتا ہے۔
یہ تھا مجموعی کیفیت کا اظہار اب شہناز کی شاعری کے حوالے سے بات ہوتی ہے۔
شہناز کی شعری تربیت بھر پور شاعرانہ ماحول میں ہوئی ہے۔ ان کے والد حشر القادری مرحوم جیسا کہ انہوں نے لکھا ہے مجسم شاعر تھے۔ اس طرح انہیں گھر ہی میں شاعرانہ فن کی تہذیب و تربیت کا شاندار موقع ملا۔ شعور کی ابتدا شعر کے ماحول میں ہوئی یہ کوثر تسنیم سے دھلی ہوئی زبان، یہ شستہ لہجہ، یہ انداز بیاں یہ محاکات، یہ لفظوں کی تجلیات، یہ خاموش صنائع بدائع کی پیوستگی، یہ معانی کی اثر انگیزی، یہ سب اس ماحول کی دین ہے۔ پھر اپنی محنت و کاوش۔ عرصہ تک خو دضبطی یکایک 1989ء میں پیش منظر اور چند سال کے مختصر عرصہ میں چونکا دینے والے متعدد شعری مجموعے اور’’ منفرد کائناتی شاعرہ‘‘کا خراجِ تحسین۔
موم کے سائبان ان کی معرکتہ الآرانظم ہے اور کسی بھی زبان کے ادب عالیہ کی نظموں کی ہم پہلو ہے اس کی امیجری بھرپور ہے۔ خیال اچھوتا ہے اور شعری اظہار دلنشیں ہے۔نظم میں برگد اور سائبان عظیم علامتیں ہیں۔ برگد بجائے خود سائبان کی بڑی وسیع علامت ہے۔ مولانا صلاح الدین احمد کی وفات پر ڈاکڑوزیر آغا نے جو مضمون ’’ادبی دنیا‘‘میں بطور خراج تحسین لکھا تھا، اس کا عنوان’’برگد‘‘ تھا۔ مرحوم شعر اوادبا کے لیے سائبان کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہ ہے برگد کی علامت کی اہمیت۔
نظم تو ظاہر ہے یہاں نقل نہیں کی جا سکتی چند مصرے ملاحظہ ہوں۔
سکوت شام میں بجتی ہوئی گھنٹی کی آوازیں
افق میںڈوبتے سورج کی سرخی
فضا میں تیرتے بادل کے ٹکڑے
ہجوم بیکراں ہے
کوئی سمجھاہے نہ سمجھے گا
کسی برگد کا دکھ
سمندر دور، دریا دور، بادل دور ہیں جاناں
کڑی ہے دھو پ منزل بے نشاں ہے
کہ جتنے سائباں ہیں سب کے سب موم کے جاناں
ظاہر ہے موم کے سائبان قائم تو نہیں رہ سکتے، لٰہذا وسیع تر معنوں میں شاعرہ کو احساس ہے کہ ہم ملک و قوم، ساری کائنات اس موم کے سائباں کے زیر سایہ کب تک رہ سکتے ہیں۔
چنانچہ انجام کار حیات و کائنات سر تا سر بے سائباں ہیں۔ درد ناک صورت حال سے دوچار ہیں۔ بے بس اور بے آسرا ہیں۔
’’جاناں‘‘ جو شہناز کی شاعری میں جا بجا ہے ’’موم کے سائبان‘‘ میں بھر پور انداز میں جلوہ گر ہے۔ گنجائش نہیں کہ اس پر طویل بات ہو سکتی۔ مختصر یہ کہ ’’جاناں‘‘ شہناز کی خود آگہی کا پیکر ہے۔ یہ ان کا متشکل اندرون ہے۔ دورنِ خود (Self) ہے، ان کا رفیق ہے، دم قدم کے ساتھ ہے، جہاں بھی آیا ہے نہایت خوبصورت انداز میں آیا ہے۔ جب شہناز اسے اپنی زبان سے ادا کرتی ہیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ان کا جمال دروں ہے اور شریک اسرار اندرون ہے۔
آگہی ہر ایک کو کہاں میسر، شہناز کو آگہی کی عطا ہے مگر ساتھ ساتھ اس جرم کی سزا بھی۔ نظم ’’جرمِ آگہی‘‘ میں کہتی ہیں:
رقص ہے شعلوں کا
اور
دامن دریدہ ہے مرا
سربریدہ خواہشوں کو ساتھ لے کر
رت جگے کے کرب جھیلوں
بے ارادہ نیم جاں سرگوشیاں کرتی رہوں
میں صلیب وقت پر مصلوب ہوں
یہ جرم آگہی کی سزا؟
نظم ’’ابھی سورج کو جلنا ہے‘‘ میں سورج جل رہا ہے اور تا قیامت جلتا رہے گا۔ سورج روشنی کا قدیمی استعارہ ہے اور شہناز اس کو ہمیشہ جلتا اس لیے دیکھنا چاہتی ہیں کہ اس کی روشنی بکھیر سکیں۔ یہ ہے آرزو روشنی حاصل کرنے اور روشنی عام کرنے کی۔
’’موم کے سائبان‘‘کی تمام نظمیں فکری علامات سے معمور ہیں اور خاموش پُر سوز فکری دعوت دیتی ہیں۔
نظمیں’’لاحاصل کی سرزمین‘‘،’’کڑی سزا‘‘،’’رتجگوں کی مسافت‘‘،’’ بے کلی‘‘،’’برزخِ احساس‘‘ ، ’’زرد موسم کے عذاب‘‘،’’شب گزیدہ‘‘،’’دائروں کے درمیان بنتا شہر‘‘کیا کیا اکار و تیور نہ لیے ہوئے ہیں۔ ساتھ ساتھ حسن ساخت کا نادر نمونہ ہیں۔
بہت لمبی مسافت
رتجگوں کی میں نے کاٹی ہے
کسی بھی پُر سکون ساعت کا
کوئی بھی حسین لمحہ
مری بے خواب آنکھوں میں اُتر آئے
کہ اب تو
ضبط گریہ جاں لیوا ہوتا جاتا ہے
میں نے شہناز صاحبہ کو عنوان میں مصرعہِ لرزاں کے نام سے تعبیر کیا ہے۔ ایک لرزش خفی ان کی ساری شاعری میں ہے۔ احساس کا ارتعاش، کاوش ہے حیات و کائنات کے مسائل و حقائق پر نظر ڈالنے کی، استعجاب کی، مداوائے درد دل کی، جستجوئے سکوں کی، بے کلی سے نجات پانے کی، برزخ احساس میں جینے کی، مصرع کی امیج شہناز کی شخصیت اور اظہار و بیاں کی رواں کیفیت کو سامنے لاتی ہے۔ یہ کسک ہے جو انہیں کشاں کشاں لیے پھرتی ہے۔
میرے دل میں کسی گزرے ہوئے لمحہ کی کسک
جانے کیوں آنکھ کی پتلی میں اُتر آئی ہے
ہر گھڑی گھٹتی ہوئی قوت گویائی کو
کوئی جذبہ کوئی احساس ہی بخشا جائے
چار سو پھیلا ہوا مرگ تمنا کا سوت
منتظر ہے کسی ناقوس مسیحائی کا
(کسک)
شب گزیدہ اور تنہائی کی اس کیفیت کو کون سمجھتا ہے، وہی جو اس طرح کی کرب ناک صورت حال سے گزرا ہو ، بے ساختہ اظہار و بیاں کتنی دل پذیر اور جانکاہ تصویر پیش کرتا ہے۔
شب گزیدہ کے لیے آج تو دشوار ہے رات
کچھ سفر اور ابھی اور سفرباقی ہے
ہجر کا کرب لیے دکھ کے سمندر کی طرف
کوچہء شہر تمنا سے گزرنا ہوگا
کون سمجھے گا مری روح کے آزار کو آج
کون ہمدم مری تنہائی کا ہو گا جاناں
(شب گزیدہ)
یہاں یہ بھی عرض کر دو کہ لہجہ، یہ انداز بیان، یہ خیالات کی رو، یہ تصور کی گہرائی ان کی شاعری میں یونہی نہیں اور آئی، اس کے پس پشت بڑا ریاض ہے۔ شعر و ادب کا وسیع مطالعہ ہے، اردو کے شعرائے قدیم و جدید کے علاوہ انگریزی بالخصوص رومانوی دور کے شعرا کے کلام کا وسیع مطالعہ بھی اس انداز بیان پر دلالت کرتا ہے۔ فراق نے کہا ہے:
میں نے اس آواز کو مر مر کے پالا ہے فراق
آج جس کی نرم لو ہے شمعِ محرابِ حیات
یہ بات فراق کے بیشتر کلام پر صادق ہے، جبکہ شہناز کے کل کلام پر۔ دراصل تنکنائے یک مضمون شہناز کے کلام کا قدردانی (Appreciation) کے لیے بہت محدود ہے۔ سفینہ چاہیے اک بحرِ بیکراں کے لیے۔ ان پر لکھنا ایک کتاب کا متقاضی ہے۔ اس طرح کہیں بھی رک کر لکھنا یعنی مفصل بات کرنا، کافی دشوار ہے۔ دیکھیے کیفیت اور اثر انگیزی سے معمور، خوبصورت اندازِ بیاں محاکات کے ساتھ:
خوشبو نے ہر اک سمت بکھیرے ہیں نئے رنگ
موسم کا طلسم آج جگاتا ہے کئی زخم
احساس کی زنجیر مجھے باندھ رہی ہے
ہے شور فضا میں کوئی طوفانی اٹھا ہے
سرکش ہے ہر اک موج کوئی راہ نہیں ہے
گزرے ہوئے لمحوں کی خلش آج مجھے کیوں
تنہائی کے جنگل کی طرف کھینچ رہی ہے
(احساس کی زنجیر)
’’برزخ احساس‘‘ میں شہناز کی آنکھیں نیند کی منتظر ہیں۔
بہت زمانے سے ہے آنکھ منتظر میری
نہ جانے کتنے دنوں سے پلک نہیں جھپکی
دیکھیں اپنی ذات پر اختیار کی تمنا کس طرح د میں مضطرب ہے:
جی چاہتا ہے خود پہ مجھے اختیار ہو
جب اطراف میں شکست و ریخت ہی نظر آئے تو پھر شکستہ آئینوں میں صورتیں بکھری ہی نظر آئیں گی ، آرزوئیں نڈھال ہوں گی، آبادیاں دائروں میں محصور کشمکش میں نظر آئیں گی، لیکن صورت حال شہناز کے لیے مایوس کن نہیں عزم ہے، حوصلہ ہے، کہتی ہیں:
فضائیں دھند میں لپٹی ہوئی ہیں
مجھے پرواز کرناہے
مجھے پر کھولنا ہوں گے
مجھے در کھولنا ہوں گے
بات یہ ہے:
ہر کس نہ شناسدہ راز اس وگرنہ
اینہا ہمہ راز است کہ معلوم عوام است
حقیقتاًشہنازؔ کی اپنے ماحول پر، ماحول کے تانے بانے اور جبریت پر گہری نظر ہے۔ نظم ’’سوال‘‘ میں کہتی ہیں:
ہمیں جانا کہاں ہے
کون جانے کون سے رستے پہ چلنا ہے
کہ یہ رستہ
تو اپنی رہ بدل لیتا ہے سنگ میل سے پہلے
ان کی نادیدہ خواہشیں ان کے ساتھ ہیں اور تکمیل کی جستجو میں ہیں۔
کوئی بھی عکس ادھورا نہیں ہوتا جاناں
حالات بدلنے کی آرزو کیسی جاندارہے۔
فضائیں اس قدر ساکت سی کیوں ہیں
کوئی نغمہ ہوائوں میںنہیں ہے
خموشی جان لیوا ہو گئی ہے
چلے آئو کوئی طوفان اٹھانے
کوئی آہٹ کوئی آوا ز تو ہو
گھٹا کے سنگ چمکیں بجلیاں بھی
یہ ہے صورت حال کو بدلنے کی آرزو۔
اپنے کرب کو چھپانا، خوش باش نظر آنا، حوصلہ مندکامظاہرہ کرنا، خندہ پیشانی سے حالات کا مقابلہ کرنا، دوسروں کو حوصلہ دینا، یہ ہے شہناز کی خصوصیت جو پیغام دیتی ہے جگرداری کا۔
وہ عام روابط میں’’اصلی چہرے پر نیا چہرہ‘‘ سجائے رکھتی ہیں:
جب بناتی ہوں تمنائوں کا مدفن کوئی
خوب ہنستی ہوں میں خود اپنی ہی بربادی پر
دن تو کٹ جاتا ہے ہر درد پہ ہنستے ہنستے
اصلی چہرے پہ نیا چہرہ سجا لیتی ہوں
خود کو کتنے ہی عذابوں سے بچا لیتی ہوں
نظم ایک مسلسل درد کی کیفیت کو ایک خاص رومانوی انداز میں پیش کرتی ہے، ساتھ ساتھ جینے کا حوصلہ اور جگر داری سے نمٹنے کا ولولہ دیتی ہے۔
جب اصلی چہرہ سامنے نہ ہو تو کوئی کس طرح کہے کہ انفرادی غم کتنا عمیق ہے، ہجر و فراق منتظر آنکھیں، شب فراق، اشک افشانی، خون فشانی، گریہ اور ضبط کے سوتے کہاں ہیں، پچھتاوا کیا ہے، مگر جو بھی ہے۔
دلنشین پیرائے میں اہل دل کو ایک کسک میں مبتلا کرتا ہوا ہے۔ کیا کچھ نہ ان مختصر نظموں میں کہا گیا ہے کہ قاری دل مسو سے سے بغیر نہیں رہ سکتا۔ نظمیں ہیں کہ جذبات کاسیلاب رواں، عنوان کیسے اثر انگیز ہیں:
’’اضطراب نارسا‘‘، ’’چھائوں جلتی رہی‘‘،’’بنجر آنکھیں‘‘،’’آگ ہی آگ‘‘،’’بے آب لہجہ‘‘،’’الکھ نگری‘‘،’’دھند کے بعد‘‘،’’عہد منحرف‘‘،’’حصار خوف‘‘،’’دشت تمازت‘‘ وغیرہ۔
شہناز نے اپنی اندرونی کیفیت کو کس درجہ حقیقت پسندانہ انداز میں بیان کیا ہے۔ لفظوں کے نشتر ہیں کہ رگ جاں میں اترتے جاتے ہیں:
یہ مرا ظاہری تبسم بھی
ساتھ اب میرا دے نہیں سکتا
آج کی رات کٹ بھی جائے اگر
زندگی کیسے کاٹ پائوں گی
(آگ ہی آگ)
مضطرب ذروں کی صورت اڑ رہی ہوں میں یہاں
جان لیوا ہو گیا ہے یہ مسلسل اضطراب
ہم سفر آئو اسی دلدل میں راستہ ڈھونڈ لیں
(حصار خوف)
ا ن کی طویل مسافتیں سرحد امکاں کی تلاش میں ہیں، شعور کی حدوں سے آگے ہیں، تحت الشعور چھوڑ گئی ہیں، بہت پیچھے اور لاشعوری سفر میں سرگرم ہیں، یہ فکر و شعور کی گیرائی حیات و کائنات کے معموں کی گرہ کشائی کی دعوت دیتی ہے۔
یہ سفر امکاں ہے سوچتی ہوں
یہ لاشعوری سفر ہے میرا
شعور کی منزلوں کی جانب رواں دواں ہوں
بہت ہی مشکل ہے منزلوں کے نشان پانا
مجھے ہے سوجوں کے پار جانا
فصیل ِ جسم و جاں سے آگے ہے مجھے کو جانا
اتنا کچھ کہنے کے بعد شہنازؔ اپنی داستان کو نامکمل سمجھتی ہیں۔ اس لیے کہ جذبہ فکر، حوصلہ کوئی حد نہیں رکھتے۔
اتنا لکھا ہے کہ ہے انگلیاں بھی میری فگار
اتنا سوچا ہے کہ اب سوچ بھی باقی نہ رہی
پردہ فکر پہ ہیں ریت کے طوفاں چھائے
کیسے آگے بڑھوں رہتی ہوں اس سوچ میں گم
چشم بینا ہے بگولوں میں مقید جاناں
ظاہر ہے یہ کیفیت تو مستقل رہتی ہے، کیونکہ شہناز نے اپنی ذات سے آگے نکلتے ہوئے حیات و کائنات کی گردشوں اور معموں کو سلجھانے کی ذمہ داری مول لی ہے۔ اگر وہ حافظ شیرازی کے اس شعر کی مصداق رہتیں تو اس بے کلی سے بچی رہتیں:
حدیث از مظرب وہ گوورا دہر کمتر جو
کہکش نکشوو و نکشاید بحکمت ایں معمہ را
مگر وہ تھک کر بیٹھنے والی نہیں ، انہیں تو نہ صرف را دہر کو پانا ہے بلکہ اسے پانے کی راہ بھی ہموار کرنی ہے، ان کی شاعری کا بیشتر حصہ الم انگیز ہے مگر ساتھ ساتھ فکر انگیز بھی، فانی بدایوانی تو زندگی کو دیوانے کا خواب کہہ کر آگے بڑھ گئے:
اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا
ان کا یہ شعر بھی بڑا معنی خیز ہے۔ ہر چند کہ اس دور کے مروجہ پیرائے میں ہے:
میں نے فانی ڈوبتے دیکھی ہے نبض کائنات
جب مزاجِ یار کچھ برہم نظر آیا مجھے
بات ہے نبض کائنات کے ڈوبنے کی، یہی شعر کی جان ہے جبکہ شہنازؔ نبض کائنات کو پیہم ڈوبتے دیکھ رہی ہیں مگر مزاج یار کی برہمی سے کہیں آگے مزاج کائنات کی برہمی پر جس کی شیرازہ بندی ان کا منتہائے مقصود ہے۔
شہناز صاحبہ کی شاعری کے جمہ محاسن شعری ’’تنوع‘‘ ،’’جمالیات‘‘،’’امیجری‘‘ ، ’’وسعت ِفکرو فلسفہ‘‘ وغیرہ کے تناظر میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ اُردو شاعری میںبحیثیت شاعرہ منفرد مقام کی حامل ہیں اور صف اول کی شاعرات میں امتیازی شان رکھتی ہیں۔
عثمان صدیقی

عکس ِ دیوار پہ تصویر


کُن فکاں

نہ کُن کہا تھا جو تو نے زمان میرے تھے
یہ آسماں یہ زمیں سب مکان میرے تھے

یوں کُن فکاں نے جہاں کر دیا مِرا محدود
ہیں عرش پر تو ملائک، زمیں پہ خاکی وجود

اے لا مکاں کے مکیں تُو ہے ہر جگہ موجود
شہود و شاہد و مشہود صرف تو مسجود

میں اپنا آپ نہ کیوں اب چھپائوں دنیا سے
مِرے وجود میں آباد ہے ترا ہی وجود

اسمِ محمدؐ

ذہن دریچے کھول کے بیٹھی
ہاتھ پہ رکھے ہاتھ
کیسے لکھوں نعت
بھیگا چہرہ بھیگی پلکیں
بھیگ رہی ہے رات
چشمِ بینا نورِ بصیرت
کوئی نہ دے گا ساتھ
اسمِ محمدؐ دل پہ جو اُترے
پھر ہی بنے گی بات
خوش آئند لمحوں کی تلاش

ہوں اپنی فکر و انا کی قیدی
میں دائروں کی اسیر ہو کر
مکیں ہوں ایسے مکان کی جو
گمان گزرتا ہے گھر نہیں ہے
اندھیروں کے سرسراتے پیکر
اترتے رہتے ہیں بستیوں پر
کرن کرن کو ترسنے والے
اندھیری بستی میں بسنے والے
تلاشنے کو نکل پڑے ہیں
چھپا کہیں آفتاب ہو گا
کبھی تو کم یہ عتاب ہو گا
کوئی تو ہوگا جو بستیوں میں
چراغاں کرنے کا عزم لے کر
دِیوں کو لو بانٹتا پھرے گا
شبِ سیہ کو چراغ دے کر
رُخِ سحر کو اُجال دے گا

ہے بہت دُور سرحدِ امکاں!

سفر ہے امکاں کا سوچتی ہوں
یہ لاشعوری سفر ہے میرا
شعوری کی منزلوں کی جانب رواں دواں ہوں
مگر رضائے نفس بِنا تو
بہت ہی مشکل ہے منزلوں کے نشاں پانا
مجھے ہے سوچوں کے پار جانا
میں اپنے خوابوں سے ڈر رہی ہوں
یا پھر سرابوں سے ڈر رہی ہوں
قدم بڑھاتی ہوئی، سوچتی ہوں
میں آگے جائوں یا لوٹ جائوں
سفر ہے امکاں کا لا مکاں تک
فصیلِ جسم وجاں سے آگے ہے مجھ کو جانا
سفر کٹھن ہے یہ میں نے جانا
قدم ہیں بھاری
سفر ہے طاری
میں فیصلوں میں اُلجھ گئی ہوں
بکھر گئی ہوں غبار بن کے
میں خواب گر ہوں
طلب کا اک دشت ساتھ لے کر
میں خواہشوں کے گلاب لے کر
ادھورے سے چند خواب لے کر
قدم میں آگے بڑھا رہی ہوں
میں آگے بڑھتی ہی جا رہی ہوں
ہوں اپنی جرات پہ آپ حیراں
جو پیچھے دیکھوں تو ایک جنگل
نظر کے آگے بلندیاں ہیں
میں پستیوں سے بلندیوں تک سفر کروں گی
میں خواب گرہوں
مجھے ہے خوابوں کے پار جانا
میں دشتِ امکاں بڑھا رہی ہوں
سفر ہے امکاں کا
لامکاں تک!

لوح بصارت

وہ منظر نقش ہے اب بھی
مِری لوحِ بصارت پر
دبی سب حسرتیں، سب خواہشیں
سب خواب پورے تھے
نَگہ کے سامنے وہ تھا
کہ جس کی آرزو کی تھی
مَرے یزداں نے میرے جذب کی تکمیل کر دی تھی!

بچھڑی ساعتوں کا دائرہ

وہاں پر کون ہو گا
زرددُھوپوں میں جو سرما کی
مِرے موسم مِرے ہمراہ بیٹھا سوچتا ہوگا
تصور کے دریچے وا کیے ہوں گے وہاں اس نے
بدلتی رُت کی ہر برسات اُترے گی تصور میں
درختوں پر گری شبنم کو بیٹھا دیکھتا ہو گا
مِرے موسم مرے ہمراہ بیٹھا سوچتا ہوگا
برہنہ شاخِ گُل پر برف گرتی جا رہی ہو گی
سماں برفا ب موسم کا اسے پاگل بنا دے گا
دہکتی آگ تنہائی کی سینے میں چھپا کر وہ
نشاں برفاب جھیلوں کے کہیں پر ڈھونڈتا ہوگا
مِرے موسم مِرے ہمراہ بیٹھا سوچتا ہو گا
کبھی برقِ تپاں بھی یاد میں چمکی تو ہو گی نا
کبھی رِم جھم کی دھیمی رُت بھی گدلائے گی آنکھوں کو
ہر اک منظر پسِ منظر بدل ڈالے گا پل بھر میں
کھُلی آنکھوں سے سپنے دیکھنا عادت رہی ہو گی
وہ اکثر بیٹھ کر تنہا۔۔۔۔۔
مِرے موسم مِرے ہمراہ بیٹھا دیکھتا ہوگا!

سفرِ ذات

کڑی دھوپوں نے اب ڈیرہ جمایا ہے مِرے اندر
غرض مندی کا اک کشکول اپنے ہاتھ میں لے کر
میں اپنی ذات کے صحرا میں ہو جائوں نہ گم جاناں
مجھے درپیش ہے جاناں سفر ذاتِ انا کا بھی
مجھے تسخیر ِ ذات جسم وجاں سے آگے جانا ہے
مجھے ڈر ہے مِرے کج راستے میں منزلیں آکر
مِری درماندگی کو ایک ٹھندی چھائوں دکھلا کر
مجھے اپنے فسوں میں مستقل محصور کر لیں گی
مجھے رستہ بدلنے پر بھی مجبور کر دیں گی
کڑی اس دھوپ نے جو حُسن بخشا ہے مجھے جاناں
تمازت جس کی بن کر نور چہرے پر جھلکتی ہے
مجھے منزل سے پیاری ہے!
مٹا دو سب نشاں منزل کے، یہ رستے میں حائل ہیں
مجھے تسخیرِ ذاتِ جسم و جاں سے آگے جانا ہے!

آس کا جنگل

اک آس کے جنگل میں کھو کر
میں اپنا آپ گنوا بیٹھی
رُخ موڑا سُکھ کی چھایا نے
نت جوت غموں کی جگا بیٹھی

اس جگ سے پریت لگا بیٹھی
میں کیسا دھوکا کھا بیٹھی
میں کاہے پِیت لگا بیٹھی
تاریک تھا آسوں کا جنگل
منزل کی راہ بھلا بیٹھی
اک پیار کا دیپ جلا کر میں
اب سارے دیپ بجھا بیٹھی

میں کاہے روگ لگا بیٹھی
میں کاہے دھوکا کھا بیٹھی
میں کاہے پِیت لگا بیٹھی

میں بے بس ہوں من بے قابو
ان نینوں میں تھا کیا جادو
بِن سوچے بن سمجھے آلی
میں اپنا اس کو بنا بیٹھی

تن من کی سُدھ بِسرا بیٹھی
میں کاہے دھوکا کھا بیٹھی
میں کاہے پِیت لگا بیٹھی
مقصد پانے کی جلدی میں
میں ریت پہ نقش بنا بیٹھی
بن سوچے سمجھے منزل کی
سب رستے آپ مٹا بیٹھی

اس جگ سے پریت بڑھا بیٹھی
میں کاہے دھوکا کھا بیٹھی
میں کاہے پِیت لگا بیٹھی

یادوں میں اس کی کھو گئی
چُپکے سے اس کی ہو گئی میں
میں آ کر اس کی باتوں میں
سُکھ اور چین گنوا بیٹھی

میں دل میں پریت بسا بیٹھی
میں کاہے دھوکا کھا بیٹھی
میں کاہے پریت لگا بیٹھی
من اندر بیٹھا پی میرا
رٹ پی پی کی میں لگا بیٹھی
من کا دروازہ بند کر کے
میں کاہے پی کو بھلا بیٹھی

انجان تھی دھوکا کھا بیٹھی
میں کاہے روگ لگا بیٹھی
میں کاہے پیت بڑھا بیٹھی

من کا دروازہ کھول پیا
تو اندر میرے بول پیا
سنگ ہے تیرا انمول پیا
اب بول پیا اب بول پیا
من کا دروازہ کھول پیا

سب رشتے ناتے توڑ چکی
میں دنیا سے منہ موڑ چکی
اب تیرے دوارے آ بیٹھی
اس جگ سے پریت ہٹا بیٹھی
انجان تھی دھوکا کھا بیٹھی
اب جگ سے پریت ہٹا بیٹھی
اب تیرے دوارے آ بیٹھی

مُکھ اب تو اپنا کھول پیا
نہ عمل کو میرے تول پیا
دکھ جیون میں نہ گھول پیا
اب بول پیا اب بول پیا

میں تیرے دوارے آ بیٹھی
اس جگ سے پریت بنا بیٹھی
نادان تھی دھوکا کھا بیٹھی
اب جگ سے پریت ہٹا بیٹھی

مُکھ اب تو اپنا کھول پیا
اب بول پیا اب بول پیا

سوال

درد الائو کیسے جلے گا
آتشیں لاوا کب پگھلے گا
آخری شعلہ کب بھڑکے گا
خواب فردا کس کو ملے گا
رات کا دریا کب اترے گا
صبح کا سورج کب نکلے گا
دل دیوانہ کب سنبھلے گا

من کی اکھیاں

بن میں کُو کُو کرتی کوئل
پی کو پاس بلائے
دانادنکا چگنے والا
پیٹ بھرے اُڑ جائے
درشن کی پیاسی جو گنیا
نگر نگر منڈلائے
دان کرے درشن جل کوئی
نَینن پیاس بجھائے
من اندر ہے پی کی مورت
بیاکل دیکھ نہ پائے
من کی اکھیاں روشن کر لے
پی کے درشن پائے!

قرضِ وفا

وہ مِری زیست کا پیمبر تھا
لوگ کہتے ہیں وہ ستمگر تھا

وہ جو جھُکتا تو کس طرح جھُکتا
اس کے آگے انا کا پتھر تھا

میں نے پتھر سے پھوڑ ڈالا سر
ایک قرضِ وفا مِرے سر تھا

خود فریبی

یہ محبت بھی کیا عجب شے ہے
خود فریبی کا ساتھ دیتی ہے
میری ہستی ہے تیرے ہجر میں گم
کتنے انہو نے خواب بُنتی ہوں
پھول یادوں کے تیری چُنتی ہوں
دوش میں تجھ کو دے نہیں سکتی
تیری ہر بات کو سمجھتی ہوں
تیرے جذبات کو سمجھتی ہوں
پھر بھی میں اعتبار کرتی ہوں
اور ترا انتظار کرتی ہوں
جانتی ہوں کہ تو بھی میرے بغیر
کتنا تنہا سا لگ رہا ہو گا
اور میری طرح سے تیرا بھی
دل وہاں پر نہ لگ رہا ہوگا
اور میں وقت کا ہر اک لمحہ
اس طرح کاٹتی ہوں گِن گِن کر
وقت ہوگا وہ کون سا جب تُو
میرے نزدیک آن بیٹھے گا
اور بتلائے گا یہ دھیرے سے
کیسے گزرا تھا وقت میرے بغیر

آواز

ایک آواز جو اکثر مجھے تڑپاتی تھی
میرے احساس کی دنیا میں بسا کرتی تھی
میرے افکار میں اک رنگ نیا بھرتی تھی
ایک دن میں اسی آواز کے پیچھے پیچھے
کہیں انجان سی راہوں پہ نکل کر چل دی
وقت کا سیلِ رواں بھی نہ مِرے ساتھ رہا
نہ ہی آہٹ پہ کسی کی کبھی مُڑ کر دیکھا
راہ اَن دیکھی تھی مدھم سی رہی بینائی
بس وہ آواز فسوں خیز بنی جاتی تھی
آس انجانی سی منزل کی وہ دکھلاتی تھی
دیپ ہر راہ میں روشن وہ کیے جاتی تھی
مجھ کو اکسائے نئی سمت لیے جاتی تھی
مجھ پہ آواز کا کچھ ایسا فسوں طاری تھا
راز پا لینے کا کچھ ایسا جنوں طاری تھا
کوئی بھی چیز مِری راہ میں حائل نہ ہوئی
تندیِ باد مخالف سے بھی گھائل نہ ہوئی
مِرے جذبات کے دھارے نہ کوئی روک سکا
کوئی بھی تند بلا خیز اُمنڈتا طوفاں
وہی آواز مِرے شوق کو بھڑکاتی تھی
سوئے منزل مجھے دوڑائے لیے جاتی تھی
میری پرواز جنوں خیز ہوئی جاتی تھی
آتش ِ شوق بھی کچھ تیز ہوئی جاتی تھی

راستے سب مجھے منزل کا پتہ دیتے تھے
اور مرے ذوقِ مسافت کو بڑھا دیتے تھے
میری پرواز تھی آواز کی پرواز کے ساتھ
دوڑتی جاتی تھی میں وقت کی آواز کے ساتھ
منزل آئی جو نظر دشتِ تحّیرجاگا
منتظر آنکھ یہ کہتی تھی منزل ہی نہیں
راہ میں ہے مری حائل کہ ٹھہر جائوں پھر
جرسِ رفتہ کی صورت میں بکھر جائوں پھر
میں ہوں آواز کی قیدی میں ہوں آواز کے ساتھ
میں نے پر باندھ لیے وقت کی پرواز کے ساتھ

تاج محل

ایک انجان سی دنیا کا حسیں تاج محل
جسے جیون کی حسیںراہ گزر پردیکھا
ایک مبہم سی تمنا مری موہوم اُمید
دور گوشے میں مرے دل کے اچانک جاگی
رک کے اس خواب کی تعبیر کو میں دیکھ تولوں
اس کے اجمال ِفسوںخیز کی تعریف کروں
اس کے پُر نور تقدس کے حسیں خالق کو
کس طرح نذرِ عقیدت کی مدح پیش کروں
میری ششدر سی نگاہوںکو پریشاں پا کر
پاس سے حضرتِ مجذوب نے پوچھا آکر
جذب و مستی کی بقا تو نے کبھی دیکھی ہے
عشق و ہستی کی فنا تو نے کبھی دیکھی ہے
فلسفہ جذب و فنا کا جو سمجھ جائے تو
پھر تو بن جاتے ہیں کتنے ہی حسیں تاج محل

کل کی تلخی

کرب اس لمحے کا میں کیسے بتائوں جاناں
جب کھلی آنکھوں سے سب دیکھنا پڑتا ہے مجھے
اور کھلے زخم بھی کہتے ہیں، لہورسنے دو
جو کسک تم کو ملی ہے وہ پرائی تو نہیں
آج تو اپنے ہی لوگوں نے ڈسا ہے تم کو
زخم گہرا ہے مگر خود سے ملا ہے تم کو
ہم سفر تم ہی بتائو کوئی مقروضِ انا
کس طرح بارِ گراں اپنے جھکے کندھوں پر
لاد کر وقت کی اس دھوپ میں چل سکتا ہے
سینا پڑتا ہے لبوں کو مجھے خاموشی سے
مثل ِ آئینہ میں حیرت سے تکا کرتی ہوں
سب نظر آتا ہے ،پلکوں میں چھپا لیتی ہوں
ٹوٹ جاتا ہے چھنا کے سے طلسم ِحیرت
کوئی احساس میں چپکے سے اتر آتا ہے
کل کی تلخی کا ہر اک لمحہ بھلانے کے لیے
مرہمِ پیار مرے زخم پہ رکھ جاتا ہے!

لوحِ وجود

کوئی تو ہو جو مرے ساتھ چل سکے دو پل
کوئی تو ہو جو مرے دل کی بات کو جانے
کوئی تو ہو جو یہاں صرف میرے جیسا ہو
کوئی تو ہو جو مری ذات کا ہی حصہ ہو
کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کی بھٹی کو
وفا کی دھیمی پھواروں سے ماند کر ڈالے
کوئی تو ہو جو مرا صرف میرا اپنا ہو!

برّاق لباسوں میں سیہ دل

تیار ہوں میں کردو قلم ہاتھ بھی میرے
جو دل میں ہے قرطاس پہ بکھرے گا وہ اک دن
جذبات کی آندھی تو اڑادیتی ہے سب کچھ
اور د ل میں لگی آگ بھڑک جاتی ہے کچھ اور
ہوں کتنی میں بے بس کہ نظر آتا ہے سب کچھ
مظلوموں کے چہرے پہ سجی کرب کی تصویر
وا ہوتی ہے اخبار میں میرے لیے ہر روز
تصویرِ ستم رہتی ہے آنکھوں کے مقابل
الفاظ کو پڑھنے کے میں رہتی نہیں قابل
دعویٰ ہے ہمیں یہ بھی کہ انسان ہیں ہم سب
پر ہم نے یہاں بھیڑیے کی کھال پہن کر
انسان کے لاشے کو کھلا چھوڑ دیا ہے
کچھ بھوک بڑھا دیتی ہیں سڑتی ہوئی لاشیں
انسان نما شیر جھپٹ لیتے ہیں بڑھ کر
اکڑے ہوئے طرّے ہیں چمکتی ہوئی کاریں
براق لباسوں میں ہیں ملبوس سیہ دل
انسان کے لاشے کو یہاں روندرہے ہیں
اقدار سے، ناموں سے سجائے گئے کالر
ہر روز نیاایک چلا لیتے چکر
انساں نہ کہواِن کو یہ ہیں وحشی جناور
انسان ہیں، انساں کا لہو چوس رہے ہیں!

یورشِ افکار

مری سوچوں پہ پہرے ہیںزباں میری بھی اب چُپ ہے
میں اس افکار کی یورش کو لے کر اب کہاں جائوں
مرے اندر دہکتا ہے الائو کیسے بتلائوں
نہاں ہیں داغ سینے میں کسی کو کیسے دکھلائوں
مری آنکھوں سے نیندیں چھین لی ہیں کربِ پیہم نے
بتا، زخموں کا مرہم ڈھونڈنے میں کس جگہ جائوں
مری راہوں کے سارے نقش مدہم ہو گئے ہیں اب
مرے ساتھی بھی تھک کر راستے میں سو گئے ہیں اب
مجھے بتلا مسیحا ڈھونڈنے تجھ کو کہاں آئوں
وگرنہ یہ ہی بتلا دے سکونِ دل کہاں پائوں

ان کہی خواہش

سہنا پڑتا ہے ہر اک کرب اکیلے مجھ کو
درد کی دھوپ میں تنہا ہی جلا کرتی ہوں
سایہ ملتا نہیں رستے میں کہیں بھی مجھ کو
کیا بتائوں میں مقدر کے جھمیلے تجھ کو
میں نے چاہا کہ مرا درد سمجھ لے تو بھی
دو گھڑی میں بھی ذرا چین سے جی لوں جاناں؟
وقت کی گرد سے ملبوس اٹا ہے میرا
آ کہ اس گرد کو اب مل کے جھٹک ڈالیں ہم
شدّتِ گردشِ حالات کو اب ٹالیں ہم
تپتے صحرا سے جو منزل نے پکارا مجھ کو
لڑکھڑا تی ہوئی منزل کی طرف چل نکلی
دکھ اٹھاتی ہوئی منزل کے قریںجا پہنچی
آرزو تھی کہ تو ہی میرا سہارا بن جائے
میری امید کی کشتی کا کنارا بن جائے
تو نے پھیلایا ہوا ہاتھ جھٹک ڈالاہے
واسطہ کوئی نہ ہو جیسے کوئی کام نہ ہو
تجھ سے وابستہ کبھی جیسے مرا نام نہ ہو
جانے کیوں پھر بھی تجھے ڈھونڈ رہی ہیں آنکھیں
کیا ہوئے وعدے ترے کیا ترے اقرار ہوئے
کیا ہوا پیار تیرا اب وہ محبت ہے کہاں
ہے وہ اخلاص کہاںاور مرّوت ہے کہاں
میرے خوابوں ہی میں آ میرے خیالوں ہی میں رہ
میں کسی رنگ سے محسوس تو کر لوں تجھ کو
اپنی ممتا بھری آغوش میں بھر لوں تجھ کو

اعصاب شکن موسم میں کہی گئی ایک نظم

یوں تو ہر لمحے ترا ساتھ مری چاہت ہے
تیرا احساس ترا پیار مری جنت ہے
پھر بھی کچھ لمحے ترے بن بھی گزارے میں نے
وقت کا کرب اکیلے بھی سہا ہے میں نے
آج جیون کی کڑی دھوپ میں چلتے چلتے
تھک گئے پائوں مرے آگ میں جلتے جلتے
آبلہ پائی سے آزردہ نہیں ہوں جاناں
تلخی ِ دور سے درماندہ نہیں ہوں جاناں
عزم بھی دل میں ہے اور عزمِ سفر بھی جاناں
وقت کی گرد نے راہوں کو مری ڈھانپا ہے
جانے کیوں روح مری آج تھکی جاتی ہے
راہ جیون کی ہر اک دھندلی ہوئی جاتی ہے
میں نے جیون کے ہر اک پل متحرک رہ کر
بڑھ کے منزل کی ہر اک راہ کو اپنایا ہے
ہو گیا کچا مری روح کا ہر تاگا ہے
میرے اپنے جو مری روح میرا جیون ہیں
آج ڈسنے کے لیے ناگ بنے جاتے ہیں
میرے اعصاب شکنجے میں کسے جاتے ہیں
کیوں نہیں ان کو یہ احساس کہ سارا جیون
صرف اُن ہی کے لیے خود کا تھکایا اب تک
آس کی ڈور بندھی رکھی ہر اک سانس کے ساتھ
پھانس پھی چبھتی رہی آس کی ہر سانس کے ساتھ
میں بھی انسان ہوں سینے میں دھڑکتا دل ہے!
اپنے ارمانوں کو سینے میں چھپا کر اب تک
چاہتیں بانٹی ہیں دنیا کو محبت دی ہے
خود ٹھٹھرتی رہی دنیا کو حرارت دی ہے
آ ج کچھ کرب مرا آئو ذرا بانٹ ہی لو!
اس سے پہلے کہ چھنا کے سے مرا دل ٹوٹے
کرچیاں اس کی بکھر جائیں ترے پائوں تلے
رکھ تو آہستہ قدم بڑھ کے مجھے تھام بھی لے
میرے ہمراہی! تو ہمت سے ذرا کام تو لے!
تیری بھر پور محبت جو مری رہبر ہے
اک نیا عزم جگا دے گی مرے جیون میں
اک نئی بزم سجا دے گی مرے جیون میں
آ کے دو چار گھڑی پاس مرے بیٹھ بھی جا
ہم سخن بن کے مرا درد ذرا کم کر دے
آگ بھڑکے نہ کہیں لو ذرا مدھم کر دے

خود کلامی

میرے اندر جو شخص رہتا تھا
ساتھ میرے جو کرب سہتا تھا
وہ تو کب کا بچھڑ گیا مجھ سے
ایک دھندلا سا نقش باقی ہے
جو مری یاد کے ہیولے میں
آکے اکثر مجھے رُلاتا ہے
یاد اپنی مجھے دلاتا ہے
سوچتی ہوں کبھی ہوا یسا بھی
ساتھ اپنے رہے سدا کوئی
کرنہ پائے اسے جدا کوئی
ڈھلتے سورج کے ساتھ ہی اکثر
خود ہی خود سے سوال کرتی ہوں
خواب اکثر ادھورے رہتے ہیں
کس کو ملتی ہیں ان کی تعبیریں
نفس کو احتساب دیتی ہوں
خود ہی خودکو جواب دیتی ہوں
وہ جو بچھڑا تھا شخص مجھ سے تب
ہم نفس وہ نہیں ہے میرا اب
اب تو دنیا کے سنگ رہتی ہوں
غم زمانے کے ہنس کے سہتی ہوں
جو بھی کہتی ہوں، خود سے کہتی ہوں
کوئی حسرت نہ کوئی ارماں ہے
آج کچھ اس طرح سے جیتی ہوں

وارثِ زنداں

کچھ وحشی تمنائوں کے مجرم ہیں یہاں بھی
خمیازئہ توہینِ جہاں ملتا ہے جن کو
میرا بھی لکھا نام تھا اس میں سرِ محضر
اس گردشِ دوراں کو بنا کر مِری بیڑی
اک گوشتہء تاریک میں پھینکا گیا مجھ کو
اب زیست کے ساتھی ہیں خموشی، درودیوار
خوش آ گئی ہے وحشتِ تنہائیِ خُونبار
اس کنجِ قفس کو تو نہ چھینوکوئی مجھ سے
میں وارثِ زنداں ہوں مجھے کوئی تو حق دو

موم کے سائبان

موم کے سائبان

سکوتِ شام میں بجتی ہوئی گھنٹی کی آوازیں
افق پر ڈوبتے سورج کی سرخی
تیرتے بادل
فضا میں ہر بدلتی رت کی چاروں اور ہے خوشبو
وہی منظر کسی سپنے صورت آنکھ کی پتلی میں رہنے دو
ہجومِ بیکراں میں کوئی سمجھا ہے نہ سمجھے گا
کسی برگد کا دکھ اور ڈار سے بچھڑی ہوئی اک کونج کی لمبی اڑانوں کو
سبھی کھوئے ہوئے ہیں بس حصارِ ذات کے اندر
چمکتی تیز آنکھوں کو مچانوں پر سجایا ہے
مگر تاریکیاں اندر ہی اندر بڑھتی جاتی ہیں
سلاسل یاس کے پھیلے
سمندر دور دریا دور بادل دور ہیں جاناں
کڑی ہے دھوپ
منزل کا نہ کوئی بھی نشاں نکلا
کسی دیوار کا سایہ
نہ کوئی ابرِ رحمت ہے
یہاں کےسائباں سارے کے سارے موم کے جاناں
ہجومِ بیکراں ہے
اور اب ان سائبانوں میں
جو جلتی آگ میں قطروں کے جیسے بہہ رہے ہیں اور
اماں کیسے ملےگی؟
کون ٹھہرے گا یہاں پر اب ؟
ہجومِ دہر کو کیا ہوگیا
ہر اک خواہش کو آنکھوں کی مچانوں پر سجایا ہے

جُرمِ آگہی

رقص ہے شعلوں کا
اور
دامن دریدہ ہے مرا
اے دریدہ دامنی مجھ کو بتا
سربریدہ خواہشوں کو ساتھ لے کر
حرفِ نامعلوم کو معلوم کرنے کے لیے
رت جگے کے کرب جھیلوں
اور سلگتی رہ گزر پر
منزلوں کے راستوں کے شوق میں
بے ارادہ نیم جاں سرگوشیاں کرتی رہوں
جب کسک زخموں کی خود ہی
پھر چبھن دینے لگے
اپنے ہاتھوں سے
ہر اک زخم کو گہرا کروں
کربِ نامعلوم کو محسوس میں کرنے لگوں
حرفِ نامعلوم کو معلوم کرنے کے لیے
میرا جرمِ آگہی
میری سزا بنتا ہے کیوں
اے سکوتِ منجمد
تھوڑا پگھل
میں صلیبِ وقت پر مصلوب ہوں
کس قدر مجبور ہوں
میں ازل سے ہوں سفر میں
منتظر ہوں
کون جانے کون سا رستہ ہے یہ
کون جانے آگہی کا جرم اب
کون سا رستہ مجھے دکھلائے گا
منزلوں کا شوق پہلے بھی نہ تھا
اور رستہ کس طرف لے جائے گا
وقت ظالم کب پلٹ کر آئے گا
اے دریدہ دامنی مجھ کو بتا
رقص کیا شعلوں کا بڑھتا جائے گا
ہاتھ ایسا کون سا اب آئے گا
زخم پر مرہم مرے رکھ جائے گا
اے دریدہ دامنی مجھ کو بتا
کس قدر باقی ہے اب میری سزا

ابھی سورج کو جلنا ہے

ابھی سورج کو جلنا ہے
ابھی رستوں کو چلنا ہے
ابھی اس جاں فشاں نے
یہ گولاآگ کا یوں ہی بوقتِ صبح اگلنا ہے
اگر سورج ہی بجھ جائے
تو کیسے راستے ہوں گے؟
سکوں سورج کو تو مل جائے گا
ویرانیاں ہوں گی
یہ سب حشرات جن کو رب نے بینائی نہیں بخشی
انہیں سورج دیا ہے
اسی کی روشنی کی لو کو لے کر
وہ نکلتے ہیں
اندھیری راہ چلتے ہیں
یہ سورج جل تو سکتا ہے
یہ سورج مر نہیں سکتا
یہ سورج روشنی کا اک قدیمی استعارہ ہے
اسی نے اس کو مارا ہے
میں اپنے ناتواں کندھوں پہ اک دیوار چنوا کر
اسے مرنے نہیں دوں گی
میں اس کی قرمزی کرنوں کو خود میں قید کر لوںگی
میں خود جلنے لگوں گی
روشنی اس کی بکھیروں گی
یہ سورج مجھ کو پیارا ہے
یہ سورج مجھ کو پیارا ہے

مری ہتھیلی پہ خواب دینا

دہکتے لمحوں سے بچ نکلنے کا
راستہ میں تلاش کر لوں
مگر یہ لمحے جو خود سلگ کر
درآئے ہیں آج میرے اندر
جواب مجھ سے طلب کریں گے
کہ ہم نے تیری ہی حسرتوں کے
چراغ روشن کئے تھے ہر دم
مزارِ حسرت دیا تھا تو نے
دہکتے لمحے جواب ہوں گے
مری تمنا کا جستجو کا
مری ہتھیلی پہ خواب ہوں گے
ادھورے ان کے جواب ہوں گے
دہکتے لمحو جواب دینا
مری ہتھیلی پہ خواب دینا

لا حاصلی کی سر زمیں

کوچہء لاحاصلی میں
اونگھتی آنکھوں کے ساتھ
بند ذہنوں کے دریچے وا کیے
منتظر ہم کس کے ہیں
کیا کوئی اُترے گا پھر سے
جگنوئوں سے پوچھنے
کتنے کم مایہ ہو تم
پر روشنی تم میں ہی ہے
کتنے ہی شب زاد دہیکل
تیرگی کے جنگلوں میں کھو گئے ہیں
روشنی کی جو کرن
روشن تمہارے تن میں ہے
کیا کسی شب زاد کو
گم کردہ منزل کا نشاں دکھلائے گی
اور پھر لا حاصلی کی سرزمیں میں
کوئی حاصل لائے گی

کڑی سزا

جُرمِ الفت پہ بگڑتے ہوئے لوگو سوچو
جُرمِ الفت ہی تو تعزیزِ جہاں بانی ہے
عہدِ گم گشتہ اک لاش مرے ساتھ بھی ہے
ساتھ میرے بھی رہے ہیں مرے ماضی کے عذاب
خواب ریزہ ہیں مرے کیسے میں تجسیم کروں
کس طرح خواب بنوں خوابوں کی تعبیر چنوں
منتشر ایسا ہے شیرازہ ئِ ہستی جاناں
محورِ زیست بھی ملتا نہیں مجھ کو جاناں
کو ن سے دیس سے میں آ کے یہاں ٹھہری ہوں
کون مقصود مرا کون مری منزل ہے
لذتِ رزق نے جنت سے نکالامجھ کو
اور گل رنگ عذابوں میں ہے ڈالامجھ کو
کتنے شداد یہاں کتنے ہیں منصور یہاں
کتنے ٹکڑوں میں بٹا جاتا ہے انسان یہاں
مجھ سے فردوسِ بریں چھین کے دنیا بخشی
مجھ کو کیوں حکمِ سفر دے کے نکالا تو نے
مجھ کو صدرنگ جھمیلوں میں ہے ڈالا تو نے
اے خدا، اتنی سزا ،اتنی سزا،اتنی سزا
مجھ سے کٹتی نہیں دنیا کے خدائوں سے بچا

رتجگوں کی مسافت

بہت لمبی مسافت
رتجگوں کی میں نے کاٹی ہے
کسی بھی پر سکوں ساعت کا
کوئی بھی حسین لمحہ
مری بے خواب آنکھوں میں اتر آئے
کہ اب تو
ضبطِ گریہ جان لیوا ہوتا جاتا ہے
میں اک گرتی ہوئی دیوار کی مانند
شکستہ ہوں
ادراک لمبی مسافت کی تھکن سے
بدن دکھنے لگا ہے
سانس قابو میں نہیں آتی
یہ کیسا حبس موسم ہے
کہ جس نے روح کو گھائل کیا ہے
ہیں اتنے زخم سینے پر
کہ اب گننا بھی مشکل ہے
کوئی آنسو نہیں ٹپکا
کسی ارماں کے مرقد پر
کہ ہم بھی کربلائے ذات کے قیدی رہے ہیں
مگر تو جانتا ہے
کچھ بھی ہو
کیسا بھی ہو
احساس کی تلخی کا کتنا بوجھ ہوتا ہے
مرے اپنے بنائے ریت کے گھر
اور
مٹی کے کھلونے راہ میں بکھر پڑے ہوں
کبھی شکوہ نہیں ہوتا
کبھی ماتم نہیں ہوتا
یہ کیسا رتجگا ہے
یہ بے خوابی سی کیسی
آج آنکھوں میں اترتی ہے
کہ یہ دُکھتا بدن
اُکھڑتی سانس کہتی ہے
کوئی خواب حسیں ہی بھیک میں مجھ کو کبھی دے دے
وگرنہ اے خدا یہ زندگی لے لے

مٹی

مٹی لے کر ہاتھ میں اپنے
کب سے بیٹھی سوچ رہی ہوں
میں بھی مورت مٹی کی ہوں
مجھ کو ڈھالا رب نے میرے
میں یہ مٹی کیسے ڈھالوں
کوزے ڈھالوں
یابت ڈھالوں
گھر میں لگوائوں
گور بنائوں
مٹی یہ بھی
مٹی میں بھی
کیوں نہ اب میں دور کی سوچوں
مٹی کھیلوں مٹی پہنوں
اور مٹی ہو جائوں

بے کلی

میں ا س قدر مضطرب سی کیوں ہوں
یہ بے کلی میری روح میں کیوں اتر گئی ہے
میں پوچھتی ہوں
ہر اک سے جاناں
مجھے بتائوقصور میرا
کہ آگہی کا یہ گہرا ساگر
مجھے ہی آواز دے رہا ہے
مگر نہ جانے میں آج کل کیوں
عجیب سا شہرِ بے صدا ہوں
مرے تصور کے سب جزیرے بھی منجمد ہیں
میں وقت کی ڈور میں بندھی ہوں
الجھ گئی ہوں
میں سوچتی ہوں سراب ہے سب
یہ آگہی بھی عذاب ہے اب
تمہیں بتائو نا کیا کروں میں؟
اگر میں آنکھوں کو بند کر لوں
کوئی بھی آواز سن نہ پائوں
مگر یہ آنکھیں جو میرے اندر چمک رہی ہیں
میں سو بھی جائوں
یہ جاگتی ہیں
سلگتا رہتا ہے ذہن میرا
یہ آئینہ سا
جو میرے اندر لگا ہوا ہے
مجھی کو قیدی بنا رہا ہے
میں جب بھی موسم کی تلخیوں سے
ان الجھنوں اور نفرتوں سے
پناہ چاہوں
تو موند لیتی ہوں اپنی آنکھیں
بتائو نا تم کہ کیا کروں میں؟
کہ میرے اندر چمکتی آنکھوں
کی تیز کرنیں
پلٹ کر آتی ہیں آئینے پر
تو دیکھتی ہوں
کہ جتنے بھی عکس ہیں ادھورے
کہ جتنے بھی نقش ہیں ادھورے
تمام روشن لباس پہنے
قطار باندھے
اتر رہے ہیں
ہر ایک خواہش کے عکس جاناں
بڑھاتے ہیں اضطراب اکثر
اتارتے ہیں عذاب اکثر
میں تھوڑی سی دیر سونا چاہوں
گراکے چلمن کو رونا چاہوں
نہ سو سکوں میں نہ رو سکوں میں
تمہیں بتائو کدھر جائوں
سکوں آخر کہاں پائوں
کہاں پہ یہ آئینے چھپائوں

برزخِ احساس

عکس پنہاں ہے ترے شہر کا ان آنکھوں میں
جاگتی آنکھوں میں سپنے ہیں سجائے میں نے
میں ہوں سودائی مجھے برزخِ احساس میں آج
اپنی ہر ایک تمنا کو جلانا ہوگا
تجھ سے تجدیدِ محبت کا تقاضا کیسا
اپنا ہر نقش مٹا کر تجھے پانا ہوگا

کسک

میرے دل میں کسی گزرے ہوئے لمحے کی کسک
جانے کیوں آنکھ کی پتلی میں اتر آئی ہے
ہر گھڑی گھٹتی ہوئی قوتِ گویائی کو
کوئی جذبہ کوئی احساس ہی بخشا جائے
جار سو پھیلا ہوا مرگِ تمنا کا سکوت
منتظر ہے کسی نا قوسِ مسیحائی گا
دل تمنائوں کے گرداب میں پھنس جاتا ہے
اور امید بدل لیتی ہے ملبوس نیا
بھانپ لیتی ہے مری آنکھ بہت مشکل ہے
کوئی آواز کوئی رنگ کوئی بھی تجسیم
شوق کی راہ میں مہمیز نہیں ہو سکتی
خواب تو خواب ہیں بنتے ہیں بکھر جاتے ہیں
نقش رہ جاتے ہیں اور نقش ادھورے شہنازؔ
جان کا روگ چبھن روح کی بن جاتے ہیں
میرے دل میں کسی گزرے ہوئے لمحے کی کسک
جانے کیوں آنکھ کی پتلی میں اتر آئی ہے

زرد موسم

شام نگر ہو
اور یہ سورج
جھیل کنارے ڈوب رہا ہو
سرخ ردا میں
لپٹا چہرہ
دھیرے دھیرے
بھیگ رہا ہو
بھیگی رت ہو
سرد ہوا ہو
اور جذبوں سے عاری چہرہ
زرد ہوا ہو

پردیس میں

یہ وقت سمندر ہے لمحات کی بارش ہے
جذبات کو تم اپنے سینے میں دبا لینا
پردیس میں چہرے پر اک خول سجا لینا
کب درد کوئی سمجھے کب کرب کوئی جانے
یادوں کے جزیرے میں دھیرے سے بکھر جانا
گریہ نہ ہو بارش کا نوحہ نہ ہوا کا ہو
پلکوں پہ کوئی تارا چمکے نہ کسی لمحے
سوئے ہوئے رستوں پر برفاب سے موسم میں
بس چاپ ہو قدموں کی
گل ریز فضائوں سے خوشبو کو چرا لینا
مہکی ہوئی کلیوں سے کمرے کو سجا لینا
ساجن کے تصور میں چپکے سے سنور جانا
ہونٹوں پر ہنسی لے کر زینے سے اتر جانا

شب گزیدہ

شب گزیدہ کے لیے آج تو دشوار ہے رات
کچھ سفر اور ابھی اور سفر باقی ہے
ہجر کا کرب لیے دکھ کے سمندر کی طرف
کوچہء شہرِ تمنا سے گزرتا ہو گا
کون سمجھے گا مری روح کے آزار کو آج
کون ہمدم مری تنہائی کا ہوگا جاناں
کون آنکھوں سے ٹپکتے ہوئے موتی چن کر
میرے احساس کی تلخی کو کرے گا مدھم
جسم ہی جسم ہے اب روح کہاں ہے اس میں
ان گنت سوچوں کے سورج سے جھلستا یہ دماغ
کس طرح درد سے پھٹتی ہوئی شریانوں کو
کوئی مرہم کوئی تریاقِ شبِ غم دے گا
کچھ نہ کچھ اُترے کہیں سے کہ شبِ غم گزرے
شب گزیدہ کے لیے آج تو دشوار ہے رات
کچھ سفر اور ابھی اور سفر باقی ہے

سرد سناٹا

بہت ہی خامشی ہے
کٹ رہے ہیں دن مرے جاناں
نہ کوئی سوچ میں ہلچل
نہ کوئی بات انہونی
رگ و پے میں اترتے سرد سناٹے نے
مجھ کو کر دیا جامد
خدایا!!
برف سوچوں کو مری پگھلا
نیا سورج جلا کر
میری یخ بستہ سی سوچوں کو روانی دے
مرے افکار کومربوط کر اور زندگانی دے

احساس کی زنجیر

خوشبو نے ہر اک سمت بکھیرے ہیں نئے رنگ
موسم کا طلسم آج جگاتا ہے کئی زخم
احساس کی زنجیر مجھے باندھ رہی ہے
ہے شور فضا میں کوئی طوفان اٹھا ہے
سرکش ہے ہر اک موج کوئی راہ نہیں ہے
کوئی نہیں دیوار خلامیں نہ کنارا
گزرے ہوئے لمحوں کی خلش آج مجھے کیوں
سوئی ہوئی تقدیس کا احساس دلا کر
تنہائی کے جنگل کی طرف کھینچ رہی ہے
لمحوں سے بھرا ہاتھ میں پیمانہ لیے میں
اپنا ہی کوئی عکس یہاں ڈھونڈ رہی ہوں

دمِ فیصلہ

صوب ِتاریک پر کھڑی ہو کر
قُفل ِ ابحد نہ کھول پائوں میں
سامنے لمحہِ معاد بھی ہے
کیوں دمِ فیصلہ ہوں لب بستہ
اسمِ اعظم سے در نہیں کھلتے
دور خود یافتی کی منزل ہے
ڈھونڈ لوں اب فرار کا رستہ

بے نام خواہش

میں اپنے ساتھ رہنے کے لیے
بے تاب ہوں جاناں
کوئی تو وقت ہو
کہ جب ڈھلتی شفق کی جھلملاتی ڈوبتی کرنیں
فضا کی خامشی میں سحر پھونکیں اور
حسین پربت کے سائے میں
ترنم آفریں جھرنوں کے جھرمٹ میں
اترتی سردسی اک شام ہو جاناں
رگوں میں منجمد ہوتا لہو ہو
میں ساکت بیٹھ کر کچھ دیر
اپنے آپ کو دیکھوں
کچھ اپنے آپ سے بولوں
ذرا سی دیر میں رو لوں
کسی بھیگی ہوئی رُت میں
شفق آ گیں حسیںوہ شام
میری روح میں اُترے
اور اس کی نرم آہٹ دھیمی ٹھنڈک
دیرتک محسوس کر کے میں
الائو تلخیوں کے نفرتوں کے سرد کر ڈالوں

کربلا کے نام

سب ایک مرکزو محور کو ماننے والے
حصارِ ذات میں محصور ہو گئے سارے
وہ چلچلاتی ہوئی شام تھی فرات کے پار
شبِ سیہ میں کوئی کارواں اترتا تھا
نہ منزلوں کے نشاں کوئی پاسبان نہ تھے
سروں پر قافلے والوں کے سائبان نہ تھے
فضا میں سارے پرندوں نے سانس روکی تھی
خموش آنکھوں سے وہ التجا کناں تھے وہاں
ہمیں بھی اپنے پروں کوپکھیر لینے دو
بدلتی رُت میں ہوائیں بکھیر لینے دو
تھے حکمِ ربی کے واں منتظر فرشتے بھی
پروں کو اپنے جو پھیلاتے سائباں بنتے
امنڈتی موت کے رستے میں آسماں بنتے
تھا کون روکے جو منہ زور وقت کی ٹاپیں
فگار ہوتی رہیں کربلا کی سب راتیں
تھے سربریدہ کئی جسم بے کفن لاشیں
اُگل رہی تھی زمیں آگ آسماں چپ تھا
غسیل خوں جو ہوئی کربلا جہاں چپ تھا
شہید ہونے کو آئے تھے صاحبانِ سجود
کہ سب گمان سے نکلیں یقیں رہے موجود
شہاد توں پہ کمر بستہ سب رہے مسجود
سکوتِ مرگِ مسلسل تھا چار سو چھایا
فغاں سے سق ہوئے سینے پہ لب رہے خاموش
ردائیں چھن گئیں کیسا یہ مرحلہ آیا
بساطِ جاں کو سپردِفرات کر ڈالا
یزیدیوں کو شہادت سے مات کر ڈالا

عہدِ منحرف

کیوں مکدرہے آئینہ ساوجود
نقش سارے جو مرتسم تھے یہاں
آج اس عہدِ منحرف میں چھپے
کیوں عیاں مجھ پہ ہو نہیں سکتے
گبندِ خوف سے نکل آئو
منزلوں کی بشارتوں کے لیے
منتظر ہیں سماعتیں میری

اجنبی سرزمیں

رہ گزر خاموش ہے
اور درختوں سے گرے پتے زمیں پر
بڑھتے قدموں کے تلے نوحہ کناں ہیں
سرد سرما کی یہ کہر آلود شب
اور ہوا کے دوش پر شہرِ جمال
کتنا پراسرار ہے
سوچتی ہوں آج پوچھوں
رہ گزر سے منجمد پانی سے
اور
اس پر تیرتی کائی میں اگتی گھاس سے
خشت و گل سے موسموں کے سحر سے
کیا کبھی اس شہر میں سورج کی جولانی نظر آئی بھی تھی
پتھروں کے شہر میں پھولوں کی ہے بہتات کیوں
نیلگوں یہ آسماں روتا ہے کیوں
لوگ زندہ ہیں یہاں آزاد رہنے کے لیے
بوجھ اپنا بانٹتے ہیں مل کے سب
وقت کی آواز پر لبیک کہنے کے لیے
وقت سے ہیں ہمرکاب
کون جانے وقت سے بھی تیز ہوں
سب ہیں الجھے اک طلسمی جال میں
خوب ہے ان کا طریقِ زندگی
پھول پتوں کے مشینی شہرمیں
رنگ و بو کا اک حسیں طوفان ہے
سخت مشکل میں مگر انسان ہے
کس لیے آ کر رکی ہوں اس پرائے شہر میں
کھینچ لایا ہے مجھے ایک جذبہ ء بے اختیار
ڈھونڈتی پھرتی ہوں مل جائے کہیں
پھر وہی ضربِ جنوں کربِ حسیں
توڑ ڈالے جو کہ زنجیروں کے حلقے
جبر کے قانون سب
اور پھر بدلے نظامِ زندگی

جی چاہتا ہے خود پہ مجھے اختیار ہو

جی چاہتا ہے دور تلک ہو حسین شام
بادل سا ہو وجود مراآسمان پر
میں بھی ہوا کے دوش پہ ہر سواُڑاکروں
اور پر لگا کے سارا جہاں دیکھتی رہوں
ہلکی ہوا اس قدر یہ مری روح مری جان
اس نیلے آسماں پہ مرا اختیار ہو
میرا وجود اس سمے مجھ پر نہ بار ہو
چاہوں تو ساتھ رات کے تارے چنا کروں
چاہوں تو چاندنی کی حسیں ہر کرن کے ساتھ
میں بھی زمیں کے پانیوں پر عکس بن سکوں
میں اس کی موج موج میں خود کو بکھیر دوں
گہرے حسین ساگروں کے ساتھ بہہ سکوں
میں تہہ میں ا س کی سپیوں کے ساتھ رہ سکوں
جی چاہتا ہے خود پہ مجھے اختیار ہو
میرا وجود اس سمے مجھ پہ نہ بار ہو
یہ سوچتی ہوں میں بھی کبھی کھل کے ہنس سکوں
میری ہنسی میں ساتھ میرے آسماں ہو
ہنستی ہوئی زمین ہو ہنستا جہان ہو
میں مسکرائوں گر تو فضائیں بھی ہنس پڑیں
گر آنکھ میری نم ہو تو پھر یں ساتھ ساتھ
یہ آبشار جھرنے یہ بادل برس پڑیں
یہ تتلیاں یہ جھیل سمندر کوہسار
خود اپنی وسعتوں میں مجھے بھی سمیٹ لیں
جی چاہتا ہے خود پہ مجھے اختیار ہو
میرا وجود اس سمے مجھ پر نہ بار ہو

شکستہ آئینے

بکھر گئی ہیں صورتیں
ہیں سب شکستہ آئینے
جو ہے پسِ خیال ہے
ہر آرزو نڈھال ہے
گریز پا ہوں میں ابھی
مجھے سکون چاہیے
مجھے وہ چند سانس دے
کہ میں خود اپنے آپ سے
لپٹ کر رو سکوں ذرا
مرے نصیب میں ہی کیوں
لکھی گئی مسافتیں
کہاں گئے وہ روز و شب
گئے دنوں کی ساعتیں
محبتیں رفاقتیں
ہے سوچ کیسی ہم سفر
نہیں ہے دل کو کچھ خبر
جنوں فتنہ ساز ہے
اور آگہی سراب ہے
عجیب رنگِ خواب ہے
مجھے امان دے کہ اب
نہیں ہے مجھ میں حوصلہ
کسی بھی انقلاب کا
کسی نئے عذاب کا
کسی بھی اضطراب کا

دائروں کے درمیان بنتا شہر

دائروں کے درمیاں بنتے ہوئے اک شہر میں
بے درودیوار سے کچھ گھر نظر آتے تو ہیں
میری نظریں دور تک اس پھیلتے گرداب میں
دھندلے دھندلے کتنے منظر دیکھتی ہیں رات دن
کچھ ہیولے عکس کی صورت یہاں حرکت میں ہیں
ان کے ہاتھوں میں یہ کیا ہے ؟
کوئی تیشہ ہے، قلم ہے یا کوئی تلوار ہے!
سب کے سب خود کاتبِ تقدیر بننے کے لیے
جُنبش میں ہیں
کیا وہ ضربِ تیشہ سے
یا کاٹ سے تلوار کی
اس فضا کو اس زمیں کو
اور اس شہرِ سکوں کی خامشی کو
توڑ دینے پر تلے بیٹھے ہیں آج
یا بے درودیوار سے ساکت سے اس ماحول میں
بے چہرگی کا دکھ لیے چلتی ہوا پر
ایک جبنش سے قلم کی نقش کر دیں گے
کوئی بھدا سا پیکر
یا کوئی تحریر ایسی
بوجھ جس کا آج یہ معصوم بستی
دائروں کے درمیاں کب سہہ سکے گی
اور اس چلتی ہوئی تلوار سے، تیشے سے
بے چہرہ ہوا کا جسم بھی کٹ جائے گا
دائرے بڑھتے رہیں گے
پھیل جائیں گے نشاں
اور پھر بننے سے پہلے ہی اجڑ جائے گی بستی
دائروں کے درمیاں

ندائے خیر

گردش ِایام کی زنبیل میں
شاید کوئی لمحہ بچا ہو
جس پہ مرا نام لکھ رکھا ہو
مرے کاتبِ تقدیر نے
اور پھر وہ ساعت خفتہ مجھے
بس ندائے خیر دے

لمحہء پنہاں

گھیرے رکھتے ہیں مجھے واہمے آئندہ کے
ایک مدت سے ہوں خود اپنے تعاقب میں رواں
اور خود سے بھی بہت دور نکل آئی ہوں
جانے کیوں مجھ کو ہے نادیدہ وسیلوں کی تلاش
میرے اطراف مری خواہشیں آویزاںہیں
حیرت آ سامری خاموش نگاہیں اکثر
ڈھونڈنے نکلی ہیں وہ لمحہء پنہاںشہناز
بے صدائی کے کنویں سے جو نکالے مجھ کو
اور پھر قریہء جاںکو مری روشن کردے

تجھے پر کھولنا ہوں گے

فضائیں دھند میں لپٹی ہوئی ہیں
تجھے پرواز کرناہے
تجھے پر کھولنا ہوں گے
تجھے در کھولنا ہوں گے
فضائوں میں بکھرتی ریت
آنکھوں میں اتر جائے
ہوائوں کے بگولے بھی حصارِ راہ بن جائیں
فضا میں پھیلتی یہ دھند
تاروںکی کوئی ننھی کرن باہر نہ آنے دے
اُجالے بخشنے والامسیحا کھو گیاہو
تجھے پرواز کرناہے
تجھے پرتولنا ہوں گے
تجھے در کھولنا ہوں گے
تلاشِ جاں کے سب راہی
کبھی دم توڑتے تاروں کی کرنوں سے الجھتے ہیں
کبھی موجوں سے لڑتے ہیں
کبھی طوفاں میں بڑھتے ہیں
کبھی ٹوٹی ہوئی نیا سے
بن پتوار دریا پار کرتے ہیں
شب ِتاریک میں سویا ہوا یہ چاند
آنکھیں موند کر سب دیکھتا ہے
اور یہ دھیرے سے کہتا ہے
نہ ہو سیماب پا جاناں
کہ یہ ظلمت کے رستے ہیں
مگر راہِ جنون میں
تیرگی سے کون ڈرتا ہے
اندھیری رات میں شبِ زاد پیکر بھی
یونہی گرتے نہیں ہیں
کہ اک ٹوٹے ہوئے تاروں کی اک دھیمی کرن
منزل کے راستے کھول دیتی ہے
تجھے پرواز کرناہے
تجھے پرتولنا ہوں گے
تجھے در کھولنا ہوں گے

ہم سفر سے سوال

ہمیں جانا کہاںہے؟
کون جانے کون سے رستے پہ چلنا ہے
کہ ہر رستہ
تو اپنی رہ بدل لیتا ہے سنگِ میل سے پہلے
مری آنکھوں میں کتنی خواہشوں کے
آرزوئوں کے
دیپ روشن ہیں
مگر یہ کیسا بوجھل پن مری جاں میں در آیا ہے
میں اکثر ادھ کھلی آنکھوںسے
اپنے ہم سفر کو دیکھتی ہوں
پوچھتی ہوں؟
ذرا تم ہی بتا دو؟
دریدہ ہاتھ، چھالے پائوں کے کہتے ہیں کیا جاناں
کہیں منزل سے آگے تو نہیں ہم تم نکل آئے

زندہ رہنا تو اک روایت ہے

زندگی کا بھی فلسفہ ہے عجیب
کچھ کسی کو بھی سمجھ نہیں آتا
سانس چلتی ہے زندہ رہتے ہیں
سانس لینا بھی ایک عادت ہے
زندہ رہتے ہیں زندگی کے لیے
زندہ رہنا بھی ایک روایت ہے

حسرتوں کی قتل گہ

مری نگہ کا یہ سانحہ ہے
کہ سامنے میرے قتل گہ ہے
بہت سے بے ننگ و نام لاشے
یہاں پڑے ہیں
ہو کیسے پہچان
کونسی ہے؟
مری تمنا کی لاش اس میں؟؟
نہ اس کو پورا جو کر سکی میں
کفن تو اس کو میں دے سکوں گی
مگر ہے خواہش اک اور جاناں
کہ اپنی ناکام حسرتوں کو
نہ یونہی چپ چاپ دفن کردوں
میں گیت لکھوں میں شعر لکھوں
جو بربطِ دل کے تار چھیڑے
وہ لفظ میں بار بار لکھوں
سکون ذوقِ جمال پائے
ملال میرا ذرا ساکم ہو
ہو قتل گہ میری حسرتوں کا مزار بے شک
مگر سسکتی سب آرزوئیں
یہ جان کر خوش تو ہو سکیں گی
سجا رہی ہوں مزار ان کا
حسیں پھولوں سے خوشبوئوں سے
محبتوں کے نقوش لے کر
اچھوتی سوچوں کے رنگ و بوسے

خواہش نادیدہ

تیری قربت میں محبت نے اماں مانگی ہے
کچھ سمے اور یونہی اور گزر جانے دے
کوئی بھی عکس ادھورا نہیں ہوتا جاناں
ایک ہلکی سی کرن ایک شعاع ِ امید
ان دھندلکوں میں کئی نقش بنا دیتی ہے
نیم خوابدیدہ صدائوں سے چھلکتے الفاظ
زہر بن کر مرے سینے میں اتر جاتے ہیں
اور سرِشام تمنائوں کے انبوہِ کثیر
کتنے ارمانوں کے بکھرے ہوئے لاشے لے کر
روح کے تار ہلانے کو چلے آتے ہیں
اے میری خواہش ِ نادیدہ ذرا دیر ٹھہر
لفظ مرہم ہیں مری روح کے گھائو کے لیے
زخم گہرے ہیں ذرا ان کو تو بھر جانے دے
کچھ سمے اور یونہی اور گزر جانے دے
وقت کے دھارے کو کچھ دیر ٹھہر جانے دے

آنے والے کل کا خوف

کس لیے یہ فضا شکستہ ہے
کس نے زنجیرِ شب ہلا دی ہے
آخرِ شب مہیب سناٹا
آسماں کی طرف ہے محوِ سفر
آئینہ چاند کا مکدر ہے
اور تاروں کے بجھ گئے ہیں چراغ
کچھ زمیں پر بھی ابتری سی ہے
پھول سرگوشیوں میں کہتے ہیں
کوئی طوفان آنے والا ہے

کوئی سازش سی ہے خلائوں میں
ایک پتھر فضا کے ہاتھ میں تھا
ایک پتھر فضا کے ہاتھ میں ہے

جینے کا حوصلہ دو

زندگی کے حسیں تسلسل میں
آ ج خود کو تلاش کرتی ہوں
وقت کا ایک قیمتی حصہ
گم کٹھالی میں کٹ گیا میرا
کیسے یکجا کروں وجود کو میں
میکدہ دل کا ہو گیا ویراں
کس خدا کی میں آج بات کروں
زندگی کی حرارتوں کے لیے
کوئی پتھر کا دیوتا بھی نہیں
دل کے مندر میں گھنٹیاں باندھو
کعبہء دل میں اب اذان بھی دو
کچھ کرو آج تم خدا کے لیے
مجھ کو جینے کا حوصلہ دے دو

الکھ نگری

نہ اب منزل کا کوئی واہمہ ہے
نہ اب احساس کے جنگل میں چنگاری سلگتی ہے
الکھ نگر ی ہے خواہش کی
اور میں
مسافت کی ردا سر پر لپیٹے گھر سے نکلی ہوں
سفر ہے دور کا
اور راستے دھندلے ہیں سب جاناں
یہاں چٹیل پہاڑوں سے گرے پتھر پڑے ہیں
میں اپنی راہ سے کنکر چنوں پہلے
یا اپنی راہوں سے
تشنہ لب ان پتھروں کی پیاس کو تھوڑا سا کم کر دوں
کبھی ایسا بھی ہو شاید
کسی پتھر کے دل سے ٹوٹ کر ایسی دعا نکلے
جو میرے جذب کو میرے جنوں کو
وحشتوں کی آگ سے بھڑکے الائو کو
نیا اک رنگ بخشے اور
دعائوں کا حسیں منظر
مقدر کی ہر اک دشوار راہ آسان کر جائے

زاویے

کتنے زینے اندر میرے
بنتے اور بگڑتے ہیں
کچھ تعمیری کچھ تخریبی زاویے بنتے رہتے ہیں
ہم ہیں اپنی ذات کے قیدی
اپنی ذات کے کرب میں الجھے
گتھی کوئی بھی نہ سلجھے
سمے کا بندھن بڑھتا جائے
جیون سا گر گھٹتا جائے
سائے تو بس سائے ہیں
گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں
یہ دیواریں کچی سی ہیں
جب دیواریں کچی بھی ہوں
اور موسم میں شدت بھی ہو
کچھ دیواریں
کیا موسم کا کرب سمیٹے
بھیگی رُت میں بھیگی شامیں
اُڑتے بادل دیکھ سکیں گی
یا پھر سوندھی خوشبو بن کر
بھیگی شاموں کی پلکوں پر موتی دیں گی

فگار لہجہ

فگار ہاتھوں سے کیا لکھوں میں
یہی لکھوں کیا
حیات ساری
حیات کرنے کی آرزو میں گزار ڈالی؟
کسے بتائوں
فرار چاہا تھا زندگی سے
ضرورتوں سے حسیں رُتوں سے
بس ایک لمحے کی چاہ کی تھی
وہ ایک لمحہ تلاشنے میں
حیات ساری فگار گزری
فصیل ِ جاں میں اسیر کر کے
مجھے تو محدود کر دیا تھا
ہو گر اجازت تو پوچھنے کی
مجھے بھی اتنا تو حق ہے حاصل
مرے لیے گر نہیں تھا کچھ بھی
کوئی ستارا
کوئی کنارا
تو کیوں سجائی تھی بزم ساری
میں دشتِ امکاں کی تھی مسافر
تلاشنا تھا مجھے وہ جادہ
جو مجھ کو ہستی کے اس گُماں سے نکال پھینکے
سکون بخشے
سکون ایسا جو دائمی ہو
مرے لیے قریہءِ یقیں ہو
طلسم جاں کے عذاب سہنے تھے گر یہاں پر
تو ایسی صورت نہیں تھی ممکن
کہ کوچہء دائمی کے باسی
مقیم رہتے قریب تیرے
فگار ہاتھوں سے کیا لکھوں میں
فگار دل ہے فگار آنکھیں
فگار کائنات ساری
فگار ہاتھوں سے کیا لکھوں میں

خموشی جان لیوا ہو گئی ہے

فضائیں اس قدر ساکت سی کیوں ہیں
کوئی نغمہ ہوائوں میں نہیں ہے
خموشی جان لیوا ہو گئی ہے
چلے آئو کوئی طوفاں اُٹھانے
کوئی آہٹ کوئی آواز تو ہو
گھٹا کے سنگ چمکیں بجلیاں بھی
پرندے ڈر کے آوازیں نکالیں
کوئی ہلچل ہو لمحے جاگ جائیں
فلک سے ٹوٹنے والے ستارے
خلا میں رک کے پتھر ہو گئے ہیں
ترنم ہے نہ خوشبو پھیلتی ہے
ہر اک سو خامشی ہی خامشی ہے
سکوتِ بیکراں چھایا ہوا ہے
مری آواز پر کوئی تو پلٹے
مجھے مانوس لہجے میں پکارے
سرِ مژگاں ستارے کانپتے ہیں
چھڑی لگ جائے ساون کھل کے برسے
زمیں پر آگ بڑھتی جا رہی ہے
یہ بوندیں آگ سی دھرتی پہ ٹپکیں
چھنا چھن کی مدھر آواز آئے
فضا کی خامشی پھر ٹوٹ جائے
خموشی جان لیوا ہو گئی ہے

کہانی اپنی آگ کی

سوچ کی جھیل میں پھینک کے کنکر لہریں گنتی رہتی ہوں
آئینوں کو توڑ کے اکثر کرچیاں چنتی رہتی ہوں
کنج ِ وحشت سے میں نکل کر صحرائوں میں بھٹک جاتی ہوں
تپتی ریت پہ ننگے پائوں چلتے چلتے تھک جاتی ہوں
دیواریں گریہ کرتی ہیں ساگر روتے رہتے ہیں
اور چپ سادھ کے سناٹے بھی لمبی تان کے سوتے ہیں
ایندھن بن کے جسم مرا بھی جلتا بجھتا رہتا ہے
آگ جلاکر اپنی روح کا دوزخ بھرتی رہتی ہوں
جل جائے گا تن من میرا راکھ مری رہ جائے گی
آخری چنگاری جو دبی ہے بات مری کہہ جائے گی

آزاد قیدی

عجیب سی میری بے بسی ہے
میں ہو کے آزاد قید میں ہوں
مری تمنا کی دھجیاں تو بکھر چکی ہیں
کیوں میری سوچوں کے پنچھیوں پر
شکار یوں کی نظر لگی ہے
بصارتیں میری کھو گئی ہیں
سماعتوں پر لگا ہے پہرا
یہ بال وپر بھی بندھے ہیں میرے
بدلتے موسم کی کوئی خوشبو کوئی بھی آہٹ
مدھر فضا سے نہیں بلاتی
جو مجھ سے آزاد قیدیوں کو یقیں دلا دے
کہ یہ ہوائیں یہ سب فضائیں
گلوں کی دلکش حسیں قبائیں
یہ رنگ و بو، یہ جمیل پیکر
ہماری خاطر وجود پہنے جہاں میں اترے
ہماری خاطر خلا میں بکھرے ہیں چاند تارے
یہ کوہساروں کے سلسلوں کے جلال سارے بھی ہیں ہمارے
مگر ستاروں کا رت جگا اب
مری ہی پلکوں پہ آ رکا ہے
یہ گرتی شبنم کے نرم قطرے
مرے ہی گالوں پہ رک گئے ہیں
عجیب سی میری بے بسی ہے
میں ہو کے آزاد قید میں ہوں
بصارتیں میری کھو گئی ہیں
سماعتوں پر لگا ہے پہرا
یہ بال و پر بھی بندھے ہیں میرے
عجیب سی میری بے بسی ہے

آنچ سے پگھلتی برف

اک ردا دھند کی ابھر تی رہی
برف چاروں طرف بکھرتی رہی

اور بدلتی ہوئی یہ چنچل رُت
جسم میں اک الائو بھرتی رہی

تھیں فضائیں بہت ہی یخ بستہ
آنچ سے اپنی میں پگھلتی رہی

سچ کے آنگن میںجھوٹ تماشا

دھوپ جو پہلی اتری تھی
نکھرے سچ کے آنگن میں
ڈرتے ڈرتے کومل سے
احساس نے جا کر پکڑی تھی
وہ اک جھوٹ کی گٹھڑی تھی
پھینک کر اس کو سچ آنگن میں
جھوٹ کے سارے پیر پجاری
چھپ گئے تھے دیوار کے پیچھے
جیسے بچے باند ھ پٹاخہ
دیکھنا چاہیں ایک تماشہ
گٹھری سے اک شعلہ نکلا
بڑھتے بڑھتے آگ بنا وہ
تاب نہ اس کی لاتا کوئی
پاس نہ اس کے جاتا کوئی
کس میں جرات آگے جائے
دوڑ کے بھڑکی آگ بجھائے
ایسا نہ ہو خود جل جائے
جھوٹ تماشا بڑھتا جائے
سچ کا آنگن جلتا جائے
نشتر جیسی کرنیں اس کی
سچ کے آئینوں پر پڑتیں
اس کی چھبن سے تیز جلن سے
سچ آنگن کے کومل پودے
خوشبو تتلی سندر غنچے
کھلتی کلیاں بنتے سپنے
اک پل میں سب جھلس گئے تھے
سچ آنگن میں جھوٹ کے شعلے ناچ رہے تھے

بھنور

کسی طوفان کی زد میں ہے ازل سے یہ وجود
اور طوفاں ہے کہ بڑھتا ہی چلاجاتا ہے
ظلمتِ شب سے کبھی خوف جو محسوس ہوا
نوکِ مژگاں پہ ستارے بھی سجائے میں نے
خونِ دل سے بھی کئی دیپ جلائے میں نے
اتنی بے مہر فضائوں میں بکھیریں کلیاں
اپنے رنگین تخیل سے سجائی گلیاں
رتجگے کاٹ کے کچھ خواب اُگائے میں نے
ڈوبتی شب کے اندھیروں کو مٹانے کے لیے
اپنے ارمانوں کے لاشے بھی جلائے میں نے
تلخی ِدل تو کسی طور ذراکم نہ ہوئی
گھائو بڑھتے ہی گئے آنکھ کوئی نم نہ ہوئی
روح کی راکھ پہ شعلوں سے شکن پڑتی رہی
میری آشفتہ سری بڑھتی رہی
غم کی دہلیز پہ بیٹھے ہوئے صدیاں گزریں
کرب کے بوجھ تلے دبتی رہی چلتی رہی
اب تو لمحے بھی مرے پائوں کی زنجیر ہوئے
آخری بار تقاضا ہے مرا یہ تجھ سے
جسم کی اندھی فصیلوں سے صدا دے مجھ کو
کوئی بھی عالمِ امکان دکھادے مجھ کو
گردشِ وقت کے گر سارے بھنور میرے ہیں
چشم پوشی کا سلیقہ ہی سکھا دے مجھ کو

ریشم کی ڈور

ایک تعلق کے لیے کیا کیا جتن میں نے کیے
ہاتھ کچھ آیا نہیں کچھ بھی بن پایا نہیں
ساتھ مل کے ہم نے تھامی تھی جو ایک ریشم کی ڈور
وقت کے بے رحم طوفاں میں وہ ہم سے چھٹ گئی
ڈور تھی ریشم کی جو پھسلی، پھسلتی ہی گئی
میں نے چاہا تھا پکڑ لوں دوڑ کر اس کا سرا
ہاتھ میرے کچھ نہ آیا فاصلہ بڑھتا گیا
اک سرا نزدیک تھا تیرے اگر تو چاہتا
بڑھ کے اس کو تھام بھی سکتا تھا مضبوطی سے تو
ناتواں ہاتھوں سے میرے چھٹ گئی ریشم کی ڈور
پھر مدت تک مجھے یہ آس تھی کہ ایک دن
جو سرا نزدیک ہے تیرے پکڑ لائے گا تو
مجھ کو بتلائے گا جاناں یہ تو بندھن ڈور ہے
کچے دھاگے کی نہیں ریشم کا پکا جوڑ ہے
اک سرا بھی ہاتھ آجائے کبھی چھٹتا نہیں
اس سے جو باندھا ہے بندھن وہ کبھی کٹتا نہیں
بے کسی دیکھو نہ میری سوچتی میں رہ گئی
آنکھیں رکھ کے دہلیز پر میں آسماں تکتی رہی
تو نے کوشش ہی نہ کی کہ بڑھ کے اس کو تھام لے
اور باقی ڈور کو پھر کھینچ کر تو اپنے ساتھ
پاس میرے آئے اور مجھ کو ذرا سمجھا سکے
دیکھ لے آیا ہوں پھر تیرے لیے ریشم کی ڈور

اصلی چہرے پہ نیا چہرہ

جب بناتی ہوں تمنائوں کا مدفن کوئی
خوب ہنستی ہوں میں خود اپنی ہی بربادی پر
دن تو کٹ جاتا ہے ہر درد پہ ہنستے ہنستے
اصلی چہرے پہ نیا چہرہ سجا لیتی ہوں
خود کتنے ہی عذابوں سے بچا لیتی ہوں
ہنستے ہنستے جو ستارے سرِ مژگاں چمکے
گوشہِ چشم میں چپ چاپ چھپا لیتی ہوں
ضبطِ گریہ کا سلیقہ بھی یہاں سیکھا ہے
غم میں ہنسنے کا قرینہ بھی مجھے آ ہی گیا
گردشِ وقت کی ہر ایک حسیں ٹکر سے
آئینہ دل کا چٹختا ہے بکھر جاتا ہے
کوئی آواز مگر اس کی نہیں سن سکتا
کرچیاں دل کی فضائوں میں بکھر جاتی ہیں
سسکیاں میری ترنم میں بدل جاتی ہیں
دن کے میلے سے نکل کر شبِ تنہائی میں
کتنا دشوار ہے یوں خود کو سنبھالے رکھنا
سوچتی ہوں کہ وہی میں ہوں وہی دنیا ہے
ہے سبھی کچھ تو وہی دن کے اجالوں کے سوا
خول جو صبح تھا چپکے سے ہٹا دیتی ہوں
اصلی چہرہ نئے چہرے پہ لگا لیتی ہوں
دکھ کے سائے جو نظر آتے ہیں اب آنکھوں میں
ایک خنجر سا مرے دل میں اتر جاتا ہے
چند گھڑیاں جو مجھے ملتی ہیں تنہائی کی
وہی لمحے تو مرے صرف مرے اپنے ہیں
چشمِ گریہ کو اجازت ہے برس جانے کی
چیخ جو گھٹ سی گئی صبح کی پہنائی میں
رات کے پچھلے پہر لب پہ مرے آتی ہے
اپنے دکھ خود سے ذرا دیر میں کہہ لیتی ہوں
دو گھڑی ساتھ میں اپنے ذرا رہ لیتی ہوں
بوجھ ہلکا شبِ تنہائی میں ہوجاتا ہے
تازہ دم ہو کے اجالوں میں نکل آتی ہوں
ہنستے ہنستے میں ہر اک زہر نگل جاتی ہوں
اصلی چہرے پہ نیا چہرہ سجا لیتی ہوں
خود کو کتنے ہی عذابوں سے بچا لیتی ہوں

بے وقت گداگر

تاپتے دھوپ الائو مجھے صدیاں گزریں
جلتا سورج ہی مقدر میں لکھا کیوں میرے
کیا ترے پاس یہی کچھ تھا بتا میرے لیے
ساری ٹھنڈک کو بہاروں کو کہیں بانٹ دیا
مجھ سی بے وقت گدا گر کے لیے کچھ نہ بچا
جذبوں کی آنچ کی حدت سے پگھلتی ہی رہی
تیز شعلوں سے شب ِتار میں جلتی ہی رہی
اور جب کاسہ لیے در پہ ترے پہنچی
مجھ کو کچھ بھی نہ ملا میرے مسیحا نے کہا
تجھ سی بے وقت گدا گر کے لیے کیا رکھتے!
روشنی بانٹ رہے تھے تو کہاں پر تھی تو
کیسے کہتی کہ مجھے کارِ گراں بخشا تھا
وہ ہی نمٹاتے ہوئے وقت مرا گزرا ہے
جب جلن حد سے بڑھتی سہہ نہ سکی میں یہ تپش
در پہ ترے اے مسیحا میں چلی آئی ہوں
میں سمجھتی تھی کہ میں جب بھی سوالی بن کر
خالی کاسے کو اٹھا کر ہی چلی آئو گی
جانے کشکول میں کیا کیا مجھے بھر کر دے گا
تو بھی کہتا ہے کہاں وقت گنوایا میں نے
تجھ سے چاہت کا صلہ اچھا یہ پایا میں نے
ہاں یہ ہے ٹھیک کہ سب بانٹ دیا ہے تو نے
چاند گر میرے نصیبوں میں نہیں تھا کوئی
اک کرن نور کی بس نام مرے لکھ دیتا
مجھ سی بے وقت گداگر کو وہی کافی تھا
کاسہء دل لیے خالی میں پلٹ آئی ہوں
تاپنے دھوپ الائو میں چلی آئی ہوں
جلتے سورج کے تلے یونہی مجھے جلنا تھا
مجھ سی بے وقت گدا گر کو یہی ملنا تھا

پچھتاوا

مجھ کو پانا تیری خواہش تھی مری خواہش نہ تھی
میں نے تو بس تیری خواہش کا کیا تھا احترام
قیمتی کتنے ہی لمحے حادثوں میں بٹ گئے
آج کہتا ہے تعلق تجھ سے کچھ میرا نہیں
بات یہ تیری نہیں ہے یہ ترا چہرا نہیں
ناتا مجھ سے توڑ کر تو نے بہت اچھا کیا
پھیر لیں نظریں بھی مجھ سے یہ بہت اچھا کیا
منتظر آنکھوں س اب میں چھین لوں گی سارے خواب
اشک میں کیسے سمیٹوں ہو گئی ہوں لاجواب
بھولنے والے سے کہہ دو یاد بھی آئے نہ اب
اور تخیل میں کبھی صورت بھی دکھلائے نہ اب
میں اکیلی ٹھیک ہوں زخموں سے کر لوں گی حساب
منتشر اس ذہن کو دے لوں گی میں خود ہی جواب
ہاتھ جھٹکا تو نے میری بے رُخی بھی دیکھنا
چین تجھ کو مل سکے گا کس طرح سے عمر بھر
جس طرح تڑپی ہوںمیں تڑپے گا تو بھی عمر بھی
ہر طرف بکھری ہیں میرے ٹوٹے دل کی کرچیاں
دل میں ترے بن کے یہ نشتر اتر جائیں گے جب
تجھ سے پھر برداشت کب ہو پائے گی ان کی چبھن
راستے سے کرچیاں چن کر مرے گھر آئے گا
اور پھر بے سود ہو گالوٹ کر آنا تیرا
کچھ نہ مل پائے گا تجھ کو خالی واپس جائے گا
اور پچھتاوا تجھے ساری عمر تڑپائے گا

چاپ

دھیر ے دھیرے بڑھتا سناٹا مجھے ڈستا رہا
سایہ بھی گم ہوگیا لیکن سفر کٹتا رہا
اک کرن کی آس پر ظلمتِ شب غم کی سہی
چاپ اک امید کی لیکن کبھی نہ سن سکی
گریہ زاری بھی مداوا درد کا کب کر سکی
وقت کے مرہم سے کوئی گھائو بھی کب بھر سکی
تھی سماعت منتظر امید کی اک چاپ کی
دھند کے اس پار سوچا تھا نظر کچھ آئے گا
مجھ کو جینے کا کوئی رستہ کبھی مل جائے گا
وقت کی گردش تو دیکھو وقت چلتا ہی رہا
اور تپش سے درد کی یہ د ل مرا جلتا رہا
تھی سماعت منتظر امید کی اس چاپ کی
شب کے سناٹے میں مجھ کو آ کے جو بتلا سکے
تیری قسمت کی سیاہی ختم ہونے کو ہے اب
صبح کے سارے اجالے بن کے اب تقدیرِ نو
وقت کے بخشے ہوئے ہر زخم کو بھر جائیں گے
گوش برآواز ہوں اک چاپ سننے کے لیے
ظلمتِ شب بڑھ گئی آواز کوئی بھی نہیں
آبھی جا چپ چاپ سے جاگی ہوں میں سوئی نہیں

دھند کے بعد

اترتی زرد سیہ شب میں دھند کے بادل
ہوا کے دوش پہ لہراتے آ کے ٹکراتے
مرے مکاں کے دریچوں کے بند شیشوں سے
دھوا ںدھواں سا بکھر جاتا میری آنکھوں میں
نگہ سے دور کے منظر تمام چھپ جاتے
سکوت توڑ نے یخ بستہ ان فضائوں کا
ہوائیں دھند سے سرگوشیاں سی کرتی تھیں
قریب آکے بھی اک دوسرے سے ڈرتی تھیں
یہ کیا ہوا کہ یونہی باہمی تکلم سے
ردا جو دھند کی بکھری ہوئی تھی چاروں طرف
پگھل کے درد سے نمناک ہو گئی جاناں
کراہ تو نہ سنی اس کی برف موسم میں
کسی بھی پھول نے جگنو نے اور خشبو نے
مگر درختوں دریچوں پہ جو دھوا ںسا تھا
وہ ایک آہ سے پگھلا تھا چشمِ تر کی طرح
شجر تمام ہی چپ چاپ رو رہے تھے وہاں
تھا برف برف ساموسم تپش دلوں میں تھی
بڑھی تھی رنجشیں اتری خلش دلوں میں تھی
مری نگاہ دریچوں پہ جم گئی اس شب
پھر اک عجیب سا منظر مری نگاہ میں تھا
دھواں دھواں سی فضا میں ہوا تھی نوحہ کناں
تمام شہر شبِ گریہ کی پناہ میں تھا

عکس ِ تمنا

نکل بھی جائوں اگر وادیء تعلق سے
گریز رستوں سے ہوگا مجھے گوارا کب
خود اپنی ذات کی تردید کس طرح ہو گی
کردوں گی ترکِ تعلق کا کیا بہانہ میں
مرے خلاف گواہی کے واسطے شاید
مری خود اپنی تمنا ہی آ کھڑی ہو گی
چراغ چشمِ گریزاں میں جل رہے ہوں گے
ہر ایک زخم دکھانے کو ساتھ لائے گی
شکستہ دل کی سبھی کرچیوں کو چن چن کر
مثال آئینہ ہر عکس وہ دکھائے گی
خود اپنے عکس ِ تمنا کو دیکھ کر شاید
گریزپا میں کسی نقش سے بھی ہو نہ سکوں
نکال کر خود کو کسی وادی ء تعلق سے
جو داغ مجھ کو ملے وہ کبھی بھی دھو نہ سکوں

میرے خواب ادھورے ہیں

اضطرابِ نارسا

یہ سربریدہ خواہشیں نگل رہی ہیں کیوں مجھے
یہ سرکشیدہ حسرتیں ہیں میرے ساتھ ساتھ کیوں
اے اضطرابِ نارسا عذابِ دید یا درکھ
ہوائیں دربدر سی ہیں یہ شہرِدل بھی خاک ہے
میں حرف حرف پیاس ہوں نظر نظر سراب ہے
ذرا سا عکس ِ آب جو بہت بڑا عذاب ہے
میں سن رہی ہوں بازگشت پھر سے گزرے وقت کی
نجومِ شب بکھر گئے ہیں پھر کسی فراق میں
بلا رہے ہیں کیوں مجھے یہ چاہتوں کے آبشار
محبتوں کے سلسلوں سے اٹھ گیا ہے اعتبار
تری صدا سے اک ذرا جو ابرِ خوف چھٹ گیا
تو اضطرابِ نارسا کا کرب اور بڑھ گیا
اے اضطرابِ نارسا عذابِ دید یا درکھ
ہیں سر بریدہ خواہشیںعذابِ دیدیاد رکھ
سراپا اپنی کھو چکے ہیں وقت کے غبار میں
بدن دریدہ پھر رہے ہیں ہر نئے مدار میں
سماعتوں پہ اپنی تو کبھی نہ اعتبار کر
اے شب گزیدہ ہم سفر، سفر نہ اختیار کر
محبتوں کے سلسلے نہ اور استوار کر
اے اضطرابِ نارسا عذابِ دید یا درکھ
ہیں سر بریدہ خواہشیںعذابِ دیدیاد رکھ
اے اضطرابِ نارسا عذابِ دید یا درکھ

چھائوں جلتی رہی

میری شہہ رگ میں بہتا لہو جم گیا
میرا دل تھم گیا
سایہ کب مل سکا
چھائوں جلتی رہی
دل جلاتی خراشیں مرے ساتھ تھیں
میں بھی بجھتی ہوئی راکھ کے ڈھیر میں
سانس لیتی رہی
کتنے موسم یونہی بے ثمر سے گئے
جلتے بجھتے رہے نخل ِ امید کے
چھائوں جلتی رہی
زخم تپتے رہے
موسموں کے حسیں رنگ ڈھلتے گئے
وہم کے ناگ بڑھ بڑھ کے ڈستے رہے
جال بنتے گئے
اور شکاری مچانوں کو تکتے رہے
راستے ہم سے مل کر بچھڑتے رہے
ہم سفر کچھ ملے ساتھ چلتے رہے
شہر سا بن گیا میرے اطراف میں
اور دیوانہ پن میرا بڑھتا گیا
میرے اندر جو لاوا تھا افکار کا
وہ پگھلتا رہا
اک تلاطم سا سینے میں برپا رہا
خود بخود لفظ مجھ پر اترتے رہے
شعر ہوتے رہے
فکر کی بھیڑ میں میں بھی کھو سی گئی
کیسے پہچان سکتی کہاں پر ہوں میں
فکر کا شہر تھا ایک جادو نگر
خوف تھا مجھ کو پتھر نہ بن جائوں
مڑ کے دیکھا نہیں
دل کی دہلیز سے دور ہوتی گئی
کون ہوں میں کہاں ہوں
پتا کچھ نہیں
خود کو پہچاننا اب تو دشوار ہے
سانس چلتی رہی میں بھی بڑھتی رہی
گھائو جب بھی ملا مجھ کو ایسا لگا
میری شہہ رگ میں بہتا لہوجم گیا
میرا دل تھم گیا
سایہ کب مل سکا
چھائوں جلتی رہی

درد صلیبیں

کبھی تند ہوا کے جھونکوں سے
مہجور پرندے ٹکراتے
کبھی عشق کے اندھے موسم میں
عفریت خزاں کے در آتے
کبھی درد صلیبوں پر جاناں
قزاق فضا کے کھنچواتے
ماحول کی ڈوبتی نبضوں میں
دم سادھے بیٹھے سوچتے تھے
کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے
ایک انساں ہو جلاد نما
جو درد صلیبوں پر لٹکے
مصلوب پرندوں پر آ کر
تیشے سے ضرب لگاتا ہو
اور کیلیں ٹھونکتا جاتا ہو
یہاں اکثر ایسا ہوتا ہے
یہ منظر میں نے دیکھا ہے
پھر دیکھ رہی ہوں میں جاناں
ہر شخض ہراساں پھرتا ہے
اک مردہ پھیکی حیرت وہ
چہرے پہ سجائے رکھتا ہے
زندہ سا نظر آنے والا
اک ساکت ذہن و جسم لیے
بس چلتا پھرتا رہتا ہے
دم اسکا گھٹتا رہتا ہے
منظر تو آخر منظر ہے
ہر وقت بدلتا رہتا ہے
پھر گرتا پر وہ اٹھتا ہے
پھر میری آنکھیں دیکھتی ہیں
پھر تیز ہوا کے جھونکوں سے
مہجور پرندے ٹکرائے
پھر عشق کے اندھے موسم میں
عفریت خزاں کے در آئے

بندھے ہاتھوں کے زندہ لفظ

مرے احساس کو مغلوب کر دینے کی سازش میں
مرے رستے کی ساری روشنی کس نے بجھا دی ہے
مرے ہاتھوں کو کس نے جبر کی ڈوری سے باندھا ہے
اے مرے مہرباں
مجھ کو نہ یوں مفلوج کرنے کی تو کوشش کر
یہ رستے میرے رستے ہیں
اگر ان راہ گزاروں پر کبھی سورج نہ چمکے
یہ تاریکی میں چھپ جائیں
مرے اندر اجالا ہے
میں اس کی روشنی میں
رات کو بھی دن بنا لوں گی!
میرے ہاتھوں کو بے شک جبر کی زنجیر پہنا دو
میں اپنے ان بندھے ہاتھوں سے زندہ لفظ لکھوں گی

رزقِ ہوا

ہم خزاں سوختہ
تیری گل پوش وادی میں آ بھی گئے
اس سے کیا فائدہ
ہم ہیں اوراقِ گل!!
ہے ازل کا نوشتہ ہمارے لیے
ٹہنیوں پر اگیں
خوب پھولیں پھلیں
زرد موسم کے آتے ہی جھڑنے لگیں
وہ شجر جس پہ ہم نے لیا تھا جنم
اپنے ہاتھوں سے کر دے سپردِ ہوا
ہم ہیں اوراقِ گل یہ ہے اپنی سزا
کچھ بنیں گر دِ راہ
کچھ ہوں رزقِ ہوا
آسمانوں سے بارش برستی رہی
خشک بنجر زمیں جو ترستی رہی
اپنے مدفن پہ جشنِ بہاراں ہوا
راستے وادیاں
یہ فضا یہ سماں
سب ہیں گل پوش اب
ہم خزاں سوختہ
تیری گل پوش وادی میں آبھی گئے
اس سے کیا فائدہ
وقت کا نوحہ گر تو کہے گا یہی
تم ہو رزقِ ہوا
تم ہو رزقِ ہوا

المیہ

عجب طرح کا یہ المیہ ہے
ہر ایک لحظہ میں زندگی کے
نئے معانی تلاش کرتی
بھٹک رہی ہوں
میں زندگی کو سراب سمجھوں
کہ خواب سمجھوں، حباب سمجھوں
یا اپنی جاں کا عذاب سمجھوں
عجب طرح کا یہ المیہ ہے
جو خواب سمجھوں تو رنگ چاہوں
حباب سمجھوں تو ٹوٹ جائوں
سراب سمجھوں بھٹکتی جائوں
عذاب سمجھوں تو سہہ نہ پائوں
عجب طرح کا یہ المیہ ہے
مجھے تو اس سے نجات دے دے
نیا کوئی انتساب دے دے
مجھے کوئی تو جواب دے دے

بنجر ہوتی آنکھیں

سردی کی ٹھٹھرتی راتوں میں
ہم دھندلی دھندلی آنکھوں سے
کیا منظر دیکھتے رہتے تھے
جب بنجر ہوتی آنکھوں سے
کچھ تارے ٹوٹ کے گرتے تھے
کچھ سپنے بنتے رہتے تھے
کچھ پیماں جلتے بجھتے تھے
جب چاند پہ بدلی آجاتی ہے
چہروں پہ زردی چھا جاتی ہے
پھر ہلکے زرد گلابوں پر
شب اپنا آنچل لہراتی
دم تیز ہوا کا رک جاتا
جب ہجر کی آندھی چلتی تھی
ہر چیز اڑا لے جاتی تھی
یادوں کے بھٹکے طائر بھی
پھر لوٹ کے گھر نہ آتے تھے
وہ برف دنوں کے منظر اب
آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہیں
دھند اور بھی بڑھتی جاتی ہے
سپنے بھی بوجھل ہوتے ہیں
اب بنجر ہوتی آنکھوں سے
کچھ جلتے آنسو بہتے ہیں
ہم تنہا بیٹھ کے روتے ہیں

آگ ہی آگ

زخمی احساس کی اکائی میں
گم ہوئی جا رہی ہے مری ذات
دھند سی چھا رہی ہے آنکھوں پر
مان لی آج میں نے خود سے مات
یہ مرا ظاہر ی تبسم بھی
ساتھ اب میرا دے نہیں سکتا
آج کی رات کٹ بھی جائے اگر
زندگی کیسے کاٹ پائوں گی
ٹمٹماتی ہے لو امیدوں کی
آگ کے بجھ گئے ہیں سارے چراغ
گردشِ وقت سے کہوجاناں
اک ذرا دیر ااور مہلت دے
سانس لے لوں ذرا سنبھل جائوں
دو گھڑی کے لیے بہل جائوں
جن سہاروں پہ جی رہی ہوں میں
کوئی لمحہ تو خوشگوار آئے
رخ پلٹ دے جو ان حوادث کا
ایک جھونکا ہوا کا بھیج ذرا
اور اس جاں گداز ساعت میں
کہیں اک گوشہ ء سکوں مل جائے
حدتِ شوق سے پگھلتا ہے
میرا سارا وجود جلتا ہے
راستہ بھی نہ اب دکھائی دے
زخمِ احساس کی اکائی سے
آج مجھ کو ذرا رہائی دے

دشتِ فراموش

گردِ ایام میں لپٹے ہوئے جامد چہرے
کُنج ِ وحشت میں فروزاں کئی ساکت آنکھیں
رہ گیا جل کے زبوں حال تمنائوں میں
عہدِ رفتہ کے کسی طاق پہ یادوں کا دیا
سانس رُکتی ہے مری دشتِ فراموش میں آج
کیسے جی پائوں گی اس وقتِ گراں پوش میں آج

دشتِ تمازت

اب کہاں مجھ میں سکت رستہ بدلنے کی رہی
اب کہاں مجھ میں سکت ساتھ ترے چلنے کی
حوصلہ پست کیا گردشِ دوراں نے مرا
سوچ پر برف کی تہہ جمتی چلی جاتی ہے
راستہ گردشِ دوراں کا بدلنے کے لیے
میرے برفاب خیالوں کو پگھلنے کے لیے
پھر کسی دشت تمازت میں اترنا ہوگا

حصارِ خوف

خامشی اوڑھی ہے میں نے اس حصارِ خوف میں
بڑھ رہا ہے میری جانب ایک محیط ِبے اماں
نوحہ بھی کیسے پڑھوں ہونٹوں کو میں نے سی لیا
مضطرب ذروں کی صورت اڑ رہی ہوں میں یہاں
رفتہ رفتہ گر رہی ہے میری یہ دیوارِ جاں
زندگی سے دور ہوں اور موت سے بھی دور ہوں
ہے سکوں کی جستجو میں کس قدر مجبور ہوں
جاں لیوا ہو گیا ہے یہ مسلسل اضطراب
سمت کا بھی کچھ تعین کر نہیں پاتی ہوں میں
اک دلدل منتظر ہے جس طرف جاتی ہوں میں
ہم سفر آئو اسی دلدل میں راستہ ڈھونڈ لیں
پھر کہیں ایسا نہ ہو ہم ہوں حصارِ خوف ہو
ہم بدل کر بھیس چپکے سے نکل جائیں کہیں
سربریدہ اک شبیہ ء نارسائی کی طرف

ابھی کچھ خواب بننا تھا

مری چنری کے پلو میں مرے دستِ حنائی میں
مہکتی یاد کی کلیوں کے گجرے کس نے باندھے ہیں
خلا کے پار تکتے بینائی بھی پتھرائی
ابھی کچھ خواب بننا تھے ابھی کچھ اور کہنا تھا
گھٹا ساون کی برسی میرے گھر کے سونے آنگن میں
مری آنکھوں کا کاجل بہہ گیا موسم بدلنے سے
حسیں یادوں کے منظر ایک پل میں ہو گئے جل تھل
ابھی کچھ خواب بننا تھے ابھی کچھ اور کہنا تھا
بہت ظالم ہے برکھا رُت دہکتی آگ کے شعلے
برستی گنگناتی شوخ رم جھم سے بجھاتی ہے
مجھے حیران کر دیتی ہے کچھ کہنے نہیں دیتی
ابھی کچھ خواب بننا تھے ابھی کچھ اور کہنا تھا

رکھنا ہے بھرم پنداروں کا

ہنگامِ سحر کی بات نہ کر سب کچھ ہے یہاں زروالوں کا
رودادِ شب ِ غم کیسے کہوں رکھنا ہےبھرم پنداروں کا
شعلے ہیں فضائوں میں رقصاں کلیوں کی گریہ زاری ہے
احساسِ مسرت گرد ہوا اک خوف سا مجھ پر طاری ہے
بے بام و در کے باسی تو سپنوں کے جھروکوں سے اکثر
کبھی برج منا رے دیکھتے ہیں کبھی محل دوارے دیکھتے ہیں
سب تلخ حقیقت جانتے ہیں اوقات بھی سب پہچانتے ہیں
خوشیوں پر سب کا حق تو ہے اور حق اپنا سب مانگتے ہیں
دنیا میں دینے والا تو کچھ دیتا ہے کچھ لیتا ہے
اک پلڑا بھاری ہوتا ہے اک پلڑا ہلکا رہتا ہے
حصے تو بٹتے رہتے ہیں اور غصے بڑھتے رہتے ہیں
ہے کس میں جرات پلڑوں کے اوزان برابر کر ڈالے
بس لاوا پکتا رہتا ہے اور کھیل کھلاڑی کھیلتے ہیں
سب جیت کو اپنا جانتے ہیں اور ہار بری گردانتے ہیں
ایسا بھی کوئی شخض تو ہو جو اس پر تھوڑا غور کرے
بس بازی جیتنے کی خاطر کیوں کھیل کھلاڑی کھیلتے ہیں
گر ہار نہ ہو بس جیت ہی ہو تو کیا؟ ایسا بھی ممکن ہے
سب جیتنے والے لوگوں کو احساس مسرت مل جائے
اس مال وز ر کی دنیا میں اس بات کو کس نے سمجھا ہے
حق چھین کے اپنے ساتھ کا حق اس کو اپنا سمجھا ہے
ہنگامِ سحر بھی ان کا ہے احساسِ مسرت بھی ان کا
یہ دنیا ہے زر والوں کی رکھنا ہے بھرم پنداروں کا

بدلتی رُت کی تلخی

مری بجھتی ہوئی آنکھوں کی خوابیدہ فصیلوں پر
ستارے جگمگاتے ہیں
ابلتے لفظ
دل کو اور ہونٹوں کو جلاتے ہیں
فضا کے ہاتھ زخمی ہیں
بگولے راہ کے
اس کے لیے کنگن بناتے ہیں
حسین موسم کے سارے ذائقے
میں بھول بیٹھی ہوں
بدلتی رُت کی تلخی
آج تک ہونٹوں پر باقی ہے

اب سورج کو سونے دو

اب آئی ہے نیند مسافر
ڈھلتے دن کے سورج کو
جلتے جلتے تھک سا گیا تھا
چاند کی ٹھنڈی چھائوں ملی تو
آنکھیں موند کے لیٹ گیا ہے
بھیگی شب سے کہہ دو جاناں
اپنے بھیگے آنچل کو
اس کی پیشانی پر رکھ دے
اور سورج کو سونے دے
صبح سویرے پھر جلنا ہے
اندھوں کی لاٹھی بننا ہے
شبنم میں نہلا کر اس کو
تھوڑا ٹھنڈا ہونے دو
اب سورج کو سونے دو

خالق کی تلاش

اتنا بتا دے کو ن سا موسم میرا ہے
مجھ کو دکھا دے کون سامنظر میرا ہے
جاننا چاہوں کون سا رنگ ہے میرا رنگ
اس دھرتی کا کون ساامبر میرا ہے
مٹی میری گوندھ کے تو نے
خود مجھ کو تخلیق کیا
لوح پہ لکھا میرا مقدر
عرش سے فرش پہ پھینک دیا
تیری اس دنیا میں کب سے
قریہ قریہ گھوم رہی ہوں
اپنا خالق ڈھونڈ رہی ہوں
جھیل کنارے وادی چپ ہے
دھرتی چپ ہے ساگر چپ ہے
رنگ دھنگ کے کچھ نہ بتائیں
رُت کے پنچھی اڑتے جائیں
بنجر دھرتی سونا اگلے
پوچھوں تو کچھ نہ بتائے
چاند کو دیکھوں وہ چھپ جائے
سورج کو جب دوں آواز
کچھ کب بوے جلتا جائے
مانگتے پوچھتے صدیاں گزریں
سوچ رہی ہوں آج میں جاناں
کچھ بھی نہ مانگوں کچھ بھی نہ پوچھوں
آنکھیں اپنی بند کروں
اور
دامن پھیلا دوں
جلدی سے بس اتنا کہہ دوں
تیرے در پہ آ ہی گئی ہوں
اپنا آپ مجھ کو دے دے
میرا سارا جیون لے لے
مجھ کو ساتھ تیرا مل جائے
پھر کیا غم ہے
سارے موسم میرے موسم
سارے رنگ پھر میرے رنگ ہیں

بے آب لہجہ

سنو اک بات میری برق لمحو
میرا بے آب لہجہ بے یقینی کی صدا ہے
مرے لہجے کی تلخی یہ جہان ِ کربلاہے
سنو اک بات میری برق لمحو
یہ کشتِ جاں طلب کچھ کر رہی ہے
اسے تریاقِ جبر و ظلم لادو
نہ اس کا حوصلہ تم آزمائو
ندامت ہوگی تم کو آزما کر
مسلسل جبر کی چکی میں پس کر
یہ کشتِ جاں بنجر ہو گئی ہے
اسے تریاقِ جبروظلم لا دو
سنو اک بات میری برق لمحو!
بہت روشن ہوئے ہیں چاند تم سے
مرے رستے میں تاریکی بہت ہے
ذخیرہ روشنی کا تم بنے ہو
سرِافلاک اڑتے پھر رہے ہو
یہ پروازِ جنوں تم کو مبارک
مجھے بس روشنی تھوڑی سی دے دو
سنو اک بات میری برق لمحو
دیئے کچھ اور راہوں میں جلا دو
اندھیروں کا ذرا سا کرب بانٹو
مسافر کی سزا تھوڑی سی کم ہو
اجالوں میں وہ تھوڑی دیر جی لے
اسے تریاقِ جبرو ظلم لا دو

نا مکمل ہے داستان میری

کوئی تو آکے شب ِ ہجر میں پوچھے مجھ سے
کوئی تو بات کرو تلخی ءِغم ہی کم ہو
کوئی دھیمی سی محبت بھر ی آواز نہیں
مونس غم ہو مری جو مری دم ساز بھی ہو
اتنا لکھا ہے کہ ہیں انگلیاں بھی مری فگار
اتنا سوچا ہے کہ اب سوچ بھی باقی نہ رہی
پردہ فکر پہ ہیں ریت کے طوفاں چھائے
کیسے آگے بڑھوں رہتی ہوں اس سوچ میں گم
چشم بینا ہے بگولوں میں مقید جاناں
پردہ ءِذہن پہ بنتی ہوئی تصویریں بھی
اب تو دھندلی سی نظر آتی ہیں مجھ کو جاناں
وہم کے ناگ بھی در آتے ہیں تاریکی میں
اژدھے شک کے بھی پھنکارتے پھرتے ہیں یہاں
کینچلی روز بدل لیتے ہیں افکار مرے
نقش مٹتے نہیں بنتے ہی چلے جاتے ہیں
پھر میری سوچ کے عفریت بھی چنگھاڑتے ہیں
ایسے طوفان میں تنکے کی طرح میرا وجود
ہے ازل کی طرح آمادہءِ پیکار ابھی
ان کہے قصے کئی اور ہیں زنبیل میں بھی
زندگی کی کہانی بھی رقم پوری نہیں
گردشِ وقت نے انمٹ جو نشان چھوڑے ہیں
اپنے احساس کی بھٹی میں جلائوں گی اسے
داستاں میری ادھوری ہے ابھی تک جاناں
داستان غمِ ہجراں بھی سنانی ہے مجھے
کوئی تمہید روایت تو بنانی ہے مجھے
لاوا جو کھول رہا ہے مرے اندر جاناں
اس کی تصویر کہانی میں دکھانی ہے مجھے
نامکمل ہے ابھی میری کہانی جاناں
وقت سے کہہ دو ذرا دیر ٹھہر جائے یہیں
سونے سے پہلے سنانی ہے کہانی جاناں

زخمی پرندے کی اڑان

گھپ اندھری سردسی خاموشی سہمی رات میں
آسماں کی وسعتوں میںسرسراہٹ سی ہوئی
پھر کوئی زخمی پرندہ ہے تلاشِ رزق میں
پھر اسے درپیش نیلے پانیوں کا ہے سفر
دشمن ِ جاں گھات میں ہیں اس کو تنہا دیکھ کر
تیر ترکش میں سجا لیتے ہیں اڑتا دیکھ کر
زخم خوردہ ننھی جاں کا حوصلہ تو دیکھنا
سامنے اس کے خلائے بیکراں ہے دیکھنا
آدھے پر تو نوچ ڈالے ہیں کسی صیاد نے
حکم ہجرت کا دیا ہے پھر کسی قزاق نے
موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ڈرتا نہیں
تیر ترکش سے ہیں نکلے وہ مگر گرتا نہیں
غیب کی آواز پر آمادئہ پرواز ہے
اڑ رہا ہے کیسے دیکھو جیسے وہ شہباز ہے
تیر ہیں پیوست کتنے اس کے چھلنی جسم میں
اور وہ زخمی پرندہ ہے تلاشِ رزق میں
کچھ سکوں ساحل پہ ہے طوفاں گزر جانے کے بعد
وہ بھی اترا ہے یہاں پر با ل و پر جانے کے بعد
پھر اسے در پیش نیلے پانیوں کا ہے سفر
رہ میں بکھرے ہوئے کچے گھڑے اور بال و پر

بچپن

ریت کے ساحل پہ کچے گھر بنانا توڑنا
تتلیوں کے پر ہتھیلی پر سجانا دیکھنا
شام کی دہلیز پر آنچل دھنک رنگ آس کا
ڈوبتے سورج کے سائے میں بکھرتا دیکھنا
دن ڈھلے یونہی کھڑے رہنا گھنے پیڑوں تلے
گھر پلٹتے پنچھیوں کی خیریت کا پوچھنا
مٹھیوں میں جگنوئوں کو بند کر کے دیر تک
جگمگا تی سرخ ہوتی انگلیوں کو دیکھنا
سب حسیں منظر نگاہوں میں چھپا کر رات بھر
نیند کے ساحل پہ چلنا خواب رستے ڈھونڈنا
وقت کی اس دوڑ میں مجھ کو بہت اچھا لگا
برق رفتاری سے تھکنا پیچھے مڑنا دیکھنا
کسی قدر تسکین ملتی ہے مجھے اس امر سے
یاد کرنا بیتی باتیں اور گھنٹوں سوچنا

عشق تماشا

دل دریا عشق سمندر

عشق سمندر کیسے پہنچوں
دریا رستے میں اتنے ہیں
آگ کے دریا خون کے دریا
دل بھی دریا آنسو دریا
دریااندر بھی اک دریا
میں بھی دریا تو بھی دریا
عشق سمندر کیسے پہنچیں
دریا بن کر بہتے بہتے
آگے آگے بڑھتے جائیں
بہتے بہتے ڈھونڈ ہی لیں گے
عشق کاگہرا میٹھا ساگر
جس میں ہم کو کھو جانا ہے
عشق سمندر ہو جانا ہے

عکس کی خاطر

آئینے دھندلا ہی جاتے ہیں
کیوں میں پورے عکس کی خاطر
صیقل کرتے آئینہ گر کے
سامنے
اپنا کاسہ رکھوں
بھیک میں ملنے والاتخیل
مٹ جاتا ہے
انسان اپنے عکس کی خاطر
اپنے ہاتھوںلٹ جاتاہے

قطعات

آسماں سائبان جیسا ہے
لامکاں کب مکان جیسا ہے
پار کر کے یقین کی دہلیز
اب یقیں بھی گمان جیسا ہے

تعبیر ڈھونڈ لی ہے خوابوں کو کھو دیا ہے
منزل کی جستجو میں رستوں کو کھو دیا ہے
تجسیم کر لیا ہے میں نے حسیں تخیل
تحریر بن گئی ہے جذبوں کو کھو دیا ہے

شکستہ کل کا نوحہ

ہوا زہر اب شہرِ نارسا سے
بکھر تے ٹوٹتے پر چن رہی ہے
شکاری گھات میں ہیں ساعتِ شب
اندھیرے کی مچانیں بُن رہی ہیں
زوالِ عہد میں لرزاں سماعت
شکستہ کل کا نوحہ سن رہی ہے

نہیں ملے گا

وہ جل کے دیکھے
پگھل کے دیکھے
وہ گر کے دیکھے
سنبھل کے دیکھے
نہیں ملے گا نہیں ملے گا
جو چاہتا ہے
وہ جسم جاں کی حقیقتوں کو
اگر نہ مانے
وہ وقت کی تیز دھار سہہ کر
خمار میں ہی غبار بن کر
نکل پڑا ہے
صلیب اپنی خود اپنے کاندھوں پہ
لاد کر وہ
جنازہ اپنی ہی آرزو کا نکال دیکھے

احساس کم مائیگی

میں ہوں اک ذرہءِ ناچیز
مجھے علم ہے یہ
جانے کس سمت لیے جاتا ہے
بے مایہ وجود
مجھ کو پاتال میں لے آیا ہے
طوفانِ جہاں
روشنی ہونے کی ملتی ہی نہیں
کوئی خبر
اپنے ہونے کی زمانے کو خبر کیسے دوں

چلتی پھرتی لاش

روزِ ازل سے محکومی کی
چکی میں
پستی ہے عورت
ظلم کی روشن آگ میں زندہ
جل کر مر جاتی ہے عورت
محرومی کا پھندا پہنے
گھٹ گھٹ کر جیتی ہے عورت
کھلی قبر میں چلتی پھرتی لاش کی صورت
دیکھی عورت
عورت بھینٹ چڑھانے والو
اپنا حق منونے والو
آج ذرا یہ تو بتلائو
عورت کے جائز حق کو بھی
تم نے کب تسلیم کیا ہے
عورت چاہے نیک ہو
بد ہو
سر سے پانی اونچا ہو تو
اپنا حق منوانے کی خاطر
جبر کے سارے بندھن توڑ کے
گھر سے باہر آ جاتی ہے
پاکیزہ معصوم سی عورت
عزت دائو لگا جاتی ہے
اپنا آپ گنوا جاتی ہے
حق تو اس کوکب ملتا ہے
حق کی متلاشی عورت کو
عریاں ذہن کے مالک چہرے
آزادی کی چھاپ لگا کر
مصنوعی اک خول چڑھا کر
جھوٹی رسمی آس دلا کر
عورت کو عورت منواکر
ہمدردی کا جال بچھا کر
شمع محفل اس کو بنا کر
دام میں یوں اُلجھا لیتے ہیں
اپنی ڈیٹ منا لیتے ہیں
عورت کو عورت ہونے کی
اتنی سخت سزا دیتے ہیں
شیطانوں کی اس بستی میں
بند دروازے توڑ کے اکثر
چور لٹیرے آ جاتے ہیں
اپنا حصہ اس کو سمجھ کر
اُس کا حصہ کھا جاتے ہیں
دامن داغ لگا جاتے ہیں
کیوں نہ ان سے
آج ذرا میں بھی تو پوچھوں
عورت نے کیا جرم کیا ہے
عورت کا بس جرم یہی ہے
اُس نے تو بس پیار کیا ہے
ممتا کا کردار کیا ہے
تم نے عورت جان کہ اس کو
خوار کیا سنگسار کیا ہے
عورت کیا ہے میں بتلائوں
بیٹی عورت بیوی عورت
بانجھ بھی عورت ماں بھی عورت
نیک بھی عورت بد بھی عورت
رُوپ بھی عورت پیار بھی عورت
قدرت کا شاہکار بھی عورت
میں تو بس اتنا ہی جانوں
عورت نام ہے ممتا کا
اور عورت تو بس ماں ہوتی ہے

خود ساختہ اندھا نگر

یہ سب انسان ہیں لیکن
بہت مدت سے یہ سیلن زدہ قبروںمیںرہتے ہیں
یہاں ہر روز جیون بانٹنے کواک نیا سورج نکلتا ہے
مگر اس کی حرارت روشنی کب سب کو ملتی ہے
یہاںسورج بھی پابندِ سلاسل ہے
اسے اپنی حرارت بانٹنے کے واسطے
دیوار کے اس پار بیٹھے نا خدائوں سے
اجازت لینی پڑتی ہے
خدا تو ایک ہے سب کا
مگر یہ ناخدا سب کے نہیں ہیں
نہ جانے کیسے دنیا کے خدائوں نے یہ سوچا ہے
حرارت زندگی اور روشنی بس ان کا حصہ ہے
بڑی دیوار کے اُس پار جتنے لوگ رہتے ہیں
مقدر میں توانائی نہیںلکھی گئی اُن کے
وہ اس سورج کی دنیا میں تو رہتے ہیں
مگر سیلن زدہ قبریں غلاظت سے اٹے رستے
ہی تو تقدیر ہیں ان کی
گلہ سورج سے ہے ان کو
اور نہ بڑی دیوار کے اس پار بیٹھے ناخدائوں سے کوئی شکوہ
مگر دونوں طرف پلتے ہوئے معصوم بچے
جب کبھی آپس میں ملتے ہیں
تو اکثر بات کرتے ہیں
کہ ظلم و جبر کے خود ساختہ اندھے نگر کی
سر پھر ی تقسیم کانگرا ن کیسا ہے؟
کیا اس نے جھانک کر دیوار کے اس پار اور اُس پار دیکھا ہے
کبھی وہ چند لمحوں کے لیے سیلن زدہ قبروں میں اترا ہے
مگر وہ ناخدا شاید بڑی دیوار کے اُس پار
عالیشان بنگلوں نرم بستر اور سرسراتے ریشمی کپڑوں سے اُٹھتی ہوئی
مدہوش کُن خوشبو میں جکڑا ہے
تروتازہ گُل والا چمکتے چاند سے چہرے
بڑی دیوار کے اُس پار جا کر جھانکنے دیتے نہیں اس کو
کبھی اے کاش ایسا ہو
کبھی اے کاش ایسا ہو
کہ وہ سیلن زدہ بد نما سی تنگ قبروں میں اُتر کر بھی ذرا دیکھیں
جہاں خود ساختہ اندھے نگر میں
اُن جیسے ہی کئی انسان بستے ہیں
اُنھیں بھی سانس لینے کو ہوا درکار ہوتی ہے
غذا ملتی نہیں تو زندگی دشوار ہوتی ہے
وہ کیڑوں سے بھی کمتر ہیں
وہ مردوں سے بدتر ہیں
وہ زندہ لاش کی صورت
نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں
خدائے لم یزل کی اس زمیں پر
زندگی بھر وہ حرارت کو ترستے ہیں
یہ سب انسان ہیں لیکن
بہت مدت سے وہ سیلن زدہ قبروں میں رہتے ہیں

کل آج اور کل

بہت مدت ہوئی تم نے کہا تھا چھوڑ دو لکھنا
تم عورت ہو غزل ہو روپ ہو اتنا ہی کافی ہے
اگر تم شعر لکھو گی تو گم ہو جائیگی عورت
بہت ناداںتھے محکوم تم نے مجھ کو مانا تھا
بہت ناداں تھے مظلوم تم نے مجھ کو جانا تھا
غلط سمجھا تھا میری سوچ پر پہرے بیٹھا دو گے
غلط سمجھا تھا میری فکر کو بنجر بنا دو گے
غلط سمجھا تھاکٹھ پتلی بنا کر تم نچادو گے
غلط سمجھا تھا مجھ کو میرے ہونے کی سزا دو گے
میرا ناتا قلم کاغذ سے انمٹ ہے پرانا ہے
مجھے کاغذ کی نائو پر ہی دریا پار جانا ہے
مجھے جرات حرارت زندگی لفظوں سے ملتی ہے
میں چنری اوڑھ کر الفاظ کی دھوپوں میں چلتی ہوں
میں ہر لمحہ نئے احساس کی بھٹی میں جلتی ہوں
میں سورج ہوں مگر جذبوں کی حدت سے پگھلتی ہوں
میری تحریر میری ذات کا پرتو ہے ایماں ہے
میری تحریر میرا بادباں ہے سائباں بھی ہے
مجھے اشعار ماں کی گود کی مانند لگتے ہیں
میں اکثر نظم کے کنج اماں میں بیٹھ جاتی ہوں
میں عورت ہوں غزل ہوں روپ ہوں یہ ٹھیک ہے لیکن
تقدس بھی ہوں حرمت بھی ہوں سر تاپا محبت ہوں
نجابت ہوں دیانت ہوں رفاقت ہوں وجاہت ہوں
اگر سر ہے تمہارے پاس تو دستار بھی ہوںمیں
کبھی بیٹی کبھی بیوی کبھی سردار بھی ہوں میں
یہ مانو یا نہ مانو واقفِ گفتار بھی ہوں میں
اگر ہے چشمِ بینا تو دعا ہوں پیار بھی ہوں میں
نہیں تم بے بصر تو صاحبِ کردار بھی ہوں میں
میری غیرت کو للکارو گے تو تلوار بھی ہوں میں
نہیں ممکن میرے شفاف آنچل کو ہوا دینا
نہیں ممکن میرے دامن پہ داغوں کو سجا دینا
نہیں ممکن میری توقیر دائو پر لگا دینا
نہیں ممکن مجھے زنجیر پہنا کر بیٹھا دینا
نہیں ممکن لگا کر زخم جینے کی سزا دینا
نہیں ممکن ہے ناممکن کو ممکن سے ملا دینا
میرے معصوم بھائی میرے بچے آج یہ سن لیں
میں پابندِ سلاسل ہو کے بھی نگران ہوں سب کی
میں عورت کل بھی تھی میں آج بھی عورت ہوں ممتا ہوں
گواہی دے گا مرا کل مرے ہونے کی تم سب کو

حصار آئینہ خانہ

ستارے گُل نہیں ہوتے
ستارے ڈوب جاتے ہیں
مقدر جو نہیں بنتے
وہ تارے ٹوٹ جاتے ہیں
ہوائے شب گریزاں ہے
عجب سا حبس موسم ہے
حصارِ آئینہ خانہ
لگا ہے ٹوٹنے جاناں
سبھی منظر بدلتے ہیں
مرا منظر بھی اب بدلے

انا کی چیخ

منڈیریں یاد کی سونی پڑی ہیں
ستا رے آنکھ میں ٹھہرے ہوئے ہیں
شفق آلود شامیں مضطرب ہیں
چراغاں کب شبِ ہجراں میں ہوگا
مری آنکھوں میں منظر جاگتے ہیں
میں پھر پلکوں کو اپنی سی رہی ہوں
بہت سے بے یقیں لمحوں میں کھو کر
میں بے بس ہوکر کیسے جی رہی ہوں
غبار آلود ساری خواہشیں ہیں
انا کی چیخ دب کر رہ گئی ہے
کھرچ دوں لوحِ دل سے نقش سارے
حصارِ راہ تری چاہتیں ہیں

قطعات

کبھی گذرے ہوئے لمحوں سے رشتہ جوڑ کر دیکھو
کبھی دہلیز پر تم اپنی آنکھیں چھوڑ کر دیکھو
حقیقتِ ضبط کھل جائے گی بس ایک ہی پل میں
کوئی مضبوط ناتا راستے میں توڑ کر دیکھو

سلسلہ جوڑا تھا کب اس نے محبت کے لیے
کھیل ہی کھیلا گیا صرف شرارت کے لیے
میں نے توڑا ہے تعلق تو شکایت کیسی
رابطہ اس نے کیا کب تھا وضاحت کے لیے

عشق سمندر

اُداس ہم سفر

اکیلا چھوڑنے والے
مرے ساتھی
دمِ رخصت خدا کو یہ ذرا بتلا دیاہوتا
تو مجھ کو لے چلا ہے
میں تو راضی ہوں
مگر
یہ آبلہ پا ہم سفر میرا
کڑے لمبے سفر کو کیسے کاٹے گا
بہت سے کام اب تک نامکمل ہیں
وہ اِک بارِگراںجو میر ے کندھوں پر ہے
ہلکا کب ہوا ہے
اُسے تو ہم سفر کے ان سبک کاندھوں پہ ڈالے گا
جو پہلے بار سے جھکنے لگے ہیں
یہ مانا اُس میں ہمت حوصلہ ہے
مگر تنہا یہ سب کرنا سزا سے کم نہیںہو گا
یوں تیرے بعد دُھوپوں میں بری شدت رہی ہے
ہمیشہ مجھ کو سایہ دُھوپ کے نیچے ملا ہے
وہ گوشہ گھر کا جس کو سائباں تو نے بنایا تھا
مجھے تسکین دیتا ہے
وہیں چپ چاپ بیٹھی سوچتی ہوں
مرے آنسو بھلا کیسے
جدائی کی لگائی آگ کو
ٹھنڈا کریں گے
خدا کا شکر ہے
کہ اُس کی رحمت سے
جگر گوشے مرے اب
اپنے اپنے گھر کی ٹھندک ہیں
میں تنہائی کی لمبی شب میں ہر لمحے
دُعائیں مانگتی ہوں
دل مرا اب
ایک شیشے بھی نازک ہو گیا ہے
پلٹ آئو ذرا دیکھو
یہ تنہائی مجھے
آہستہ آہستہ آج کیسے ڈس رہی ہے
مسافت زندگانی کی کتنی باقی ہے
بتا دینا
کہ اب ہمت نہیں ہے مجھ میں
اذیت سہتے سہتے اک زمانہ ہو گیا ہے

اکیلا مسافر

اَک نیا سوال اُبھرا ہے
کیا اکیلا کوئی نہیں رہتا؟
کیا ضروری ہے ہم سفر ہونا؟
ہم سفر ساتھ ساتھ چلتا ہے
ہم سفر راستہ بدلتا ہے
ہم سفر ساتھ چھوڑ جاتا ہے
ہم سفربے وفا بھی ہوتا ہے
ہے جدائی اگر مقدر تو
ہم سفر کس لیے ضروری ہے
یہ تو بس سوچ کا کرشمہ ہے
ہم سفرہے تو ہم مکمل ہیں
ہم سفرکے بنا ادھورے ہیں
ہر کسی کو مسافتوں کے لیے
ساتھ اپنا ہی دینا پڑتا ہے
اپنے ہی ساتھ چلنا ہوتا ہے
کیوں نہ ایساکریں کہ پہلے ہی
خود اکیلے سفر کریں آغاز
گر ہیں تنہائیاں مقدر تو
اپنی تنہائیوں کے رستے میں
اِک ردا اُڑھ کر خموشی کی
جو سفر لکھ دیا ہے طے کر لیں

اُداس لمحے

اُداس لمحوں کو میں نے لکھا
اُداس دل کے کھلے ورق پر
اُداس دن ہیں اُداس راتیں
کسے بتائوں تمہارے بِن میں
دوبارہ شاید نہ ہنس سکوں گی
یہ قطرہ قطرہ برستے آنسو
تمہاری فرقت کی تیز لُو کے
چراغ کیسے بجھا سکوں گی
میں کیسے منظر سجا سکوں گی
تمہارے بِن کیسی زندگی ہے
بِنا تمہارے بھی زندگی ہے

شہرِ بدگمانی

دستک یہ کیسی ہے
آج پھر سماعت پر
وسوسوں کی بارش میں
سرد سے تعلق کا
بے ثمر سا لمحہ ہے
نائو میری کاغذ کی
آج مجھ کو پھر شاید
اِس یقیں سمندر کے
پار لے کے جائے گی
شہرِبدگمانی کے
آخری کنارے پر
وقت سے گرا لمحہ
کہہ رہا ہے چپکے سے
اب کسی کا تم جاناں
اعتبار مت کرنا
انتظار مت کرنا
اپنی عمرِ رفتہ کو
اب شمار مت کرنا
اعتبار مت کرنا

خواب گر

خواب گر ہوں کہ حسیں خواب بُنے ہیں میں نے
زخمی احساس سے کچھ رنگ چُنے ہیں میں نے
اِک دھنک رنگ سے محفل ہے سجائی میں نے
کومل احساس کی دُنیا ہے بسائی میں نے
خواب گر ہوں کہ حسیں خواب بُنے ہیں میں نے

کتنا مشکل ہے تخیل کو سجائے رکھنا
خواب بونا کبھی تعبیر اُٹھائے رکھنا
ڈوبتی شب کے اندھیروں کو مٹانے کے لیے
اپنی پلکوں پہ ستاروں کو جگائے رکھنا
خواب گر ہوں کہ حسیں خواب بُنے ہیں میں نے
خواب تو خواب ہیں بنتے ہیں بکھر جاتے ہیں
کچھ تو بننے سے بھی پہلے ہی بگڑ جاتے ہیں
کوئی آہٹ کوئی دستک بھی نہیں دیتے ہیں
خواب چپ چاپ سے رستے ہی بدل لیتے ہیں
خواب گر ہوں کہ حسیں خواب بُنے ہیں میں نے

دشتِ حیرت کی مسافر ہوں، ندا دو مجھ کو
جسم کی اندھی فصیلوں سے صدا دو مجھ کو
چشمِ حیراں کو حسیں خواب اگر دے نہ سکو
چھین لو نیند مری، آ کے جگا دو مجھ کو
خواب گر ہوں کہ حسیں خواب بُنے ہیں میں نے

کہانی کی تلاش

ہر اک دہلیز پر پہلا قدم
رکھنے سے پہلے سوچتی ہوں
کہانی اک نئی اب تو شروع ہو گی
یہاں سے بھی تو
کہانی کے سفر کے واسطے کردار آئیں گے
مگر کردار سارے یہ
مکمل بھی کہاں ہوں گے
ہر اِک دہلیز کے اندر
اُدھورے لوگ بستے ہیں
اُدھوری اور پرانی سی کہانی وہ سناتے ہیں
سمجھتے ہی نہیں
دہلیز میں در آنے والوں کو
مکمل اور پوری اک کہانی کی ضرورت ہے
بہت مجبور سے کردار ہوتے ہیں سبھی شاید
ادھوری ہر ضرورت
جو کبھی پوری نہیں ہوتی
ہر اک انسان کو اکثر
ادھورا چھوڑ دیتی ہے
وہ خود تکمیل کی خواہش میں
آگے چلتے رہتے ہیں
نہیں کردار جب پورے
کہانی کیسے پوری ہو
ہر اک دہلیز سے باہر
ادھوری لوٹ آتی ہے
ادھوری اک کہانی میں بھی
دنیا کو سناتی ہوں
پھر اپنے روز و شب میں کھو کے
سب کچھ بھول جاتی ہوں

دھرتی ماں کی کروٹ

دھرتی تو ماں تھی کس لیے حد سے گزر گئی
جھٹکوں سے آشیاں گرے، جنت بکھر گئی
شدت سے ماں نے جکڑا ہے بانہوں میں اس طرح
اولاد ساری اُس کی محبت سے ڈر گئی
بچے جوان بچیاں کیا اس پہ بوجھ تھیں
ہر زندگی کو موت کے یہ نام کر گئی
شفاف جھرنے بہتے ہوئے پانیوں کو ماں
انساں کے بہتے خون کے دریا سے بھر گئی
مدت سے سیدھی لیٹی تھی کروٹ جو ذرا
بچوں پہ اُس کے کیسی قیامت گزر گئی
سارے تو تیرے اپنے تھے جاں سے گزر گئے
لاعلم رہ کے تو نے جو کرنا تھا کر گئی
شفاف جھرنے بہتے ہوئے پانیوں کو ماں
انساں کے بہتے خون کے دریا سے بھر گئی
مدت سے سیدھی لیٹی تھی کروٹ جو ذرا لی
بچوں پہ اُس کے کیسی قیامت گزر گئی
سارے تو تیرے اپنے تھے جاں سے گزر گئے
لاعلم رہ کے تو نے جو کرنا تھا کر گئی

ایک سوچ

جم گیا اپنا لہو کھو گئی بینائی بھی
بڑھ گئی تیرہ شبی کم ہوئی بینائی بھی
باندھ کے رُختِ سفر رات سے ڈرنا کیسا
ہم سفر بعد ترے گرنا سنبھلنا کیسا
اب تو سوچا نئے انداز سے جینا ہو گا
ہجر کا زہر ہمیں ہنس کے ہی پینا ہو گا
پھر سماعت پہ مری ایک ہوئی ہے دستک
چل پڑی بادِ صبا لے کے نویدِ منزل
کیسا احساس ہے یہ جسم مرا بھیگ گیا
روح خوابیدہ مری جاگ اُٹھی ہے پھر سے
ایسا لگتا ہے سوال اُس نے سنا ہے میرا
اور جواب اس کا مجھے جلد ہی مل جائے گا
زندگی تجھ پہ بھی پھر نور کی بارش ہو گی

خاموشی کی آواز

تن من میں اک آگ لگی ہے
چاروں جانب دورفضا میں ایک عجب سی خاموشی ہے
یادوں کے آنگن میں ہرسُو
پھول کھلے ہیں
داغ جلے ہیں
سارے منتر پڑھ بیٹھی ہوں
شایدتتلی، جگنو، خوشبو
میرا بھی جیون مہکائیں
ماتھے پر چندن چمکائیں
رستے سارے بند پڑے ہیں
سانپوں کی پھنکاریں ہی بس اب
جاگ رہی ہیں
میرے آگے بڑھتے قدموں کی
زنجیریں عزم بنی ہیں
چھن چھن کرتی زنجیروں کے ساتھ میں چل کر
خاموشی کو توڑنا چاہوں
کون ہے جو اس نادیدہ
رستے کو کھولے گا اب
ہولے ہولے بول کے
امرت جیون میں گھولے گا اب

گماں کا جادو نگر

گماں کے جادونگر سے آگے
یقیں کی دہلیز پر کھڑی ہوں
قدم بڑھاتی ہوں سوچتی ہوں
میں آگے جائوں یا پیچھے آئوں
اگر یہ دہلیز پار کر لوں
تو ایسی صورت بھی ہوگی ممکن
جو بے یقینی کو ختم کر کے
اجالااس وقت لا سکے گی
نشان منزل کے سب مٹا کر
نیا ٹھکانہ بتا سکے گی
گماں کی دہلیز پار کر کے
یقین کامل بنا سکے گی

بھلانا اتنا مشکل ہے

ہمیشہ یہ سمجھتے تھے
تمہیں پانا تمہیں ملنا
بہت ہی کارِ دارد ہے
تمہیں پانا تو آساں تھا
مگر اب پھر دوبارہ ڈھونڈنا
بھی کتنا مشکل ہے
کوئی جھوٹی تسلی لوٹ آنے کی
کبھی نہ دے سکو گے جو
بس اتنا سوچ کر دل ڈوبتا ہے اب
میں زیرِلب یہ خود سے کہہ رہی ہوں کہ
تمہیں دل سے بھلانا مشکل ہے
ملال اس کا مٹانا کتنا مشکل ہے
کڑی لمبی مسافت سے مسافر تو نہیں ڈرتا
مگر ہمت ٹوٹی ہم سفر جب کھو گیاہے
رگ و پے میں سرایت کر گیا ہے زہر خاموشی
مجھے تنہائیوں نے ڈس لیا ہے
ہیں پائوں اب ہوا میں پر مجھے آگے تو جانا ہے
دکھا دے گر کہیں کوئی نیا رستہ بنا ہے
اب مجھے مشکلوں کا ڈر ہے اور کب چلنا ہوا مشکل
تمہارے عشق کا رستہ تو میں نے خود چنا ہے
آج لگتا ہے اکیلے پن کے لمحوں میں
کہ میں نے گہرے سناٹے میں دھڑکن کو سنا ہے
اک عجب سا وسوسہ شہناز کوگھیرے ہوئے ہے
اور اُسے اپنے نہ ہونے کا گماں ہونے لگا ہے

خود کش حملوں کو دیکھ کر

کیا وقت مجھے دکھلاتا ہے
دن رات مجھے رلاتا ہے
کیا ہوگا میرے دیس کا اب
یہ خوف مجھے دہلاتا ہے
اس دیس میں بسنے والوں کے
معصوم چہرے کتنے ہیں
یہ سارے چہرے میرے ہیں
ان میں کچھ ایسے بچے ہیں
جو دھن کے ایسے پکے ہیں
اک اپنی جان کے بدلے
کتنوں کی جان یہ لیتے ہیں
پھر آگ بھڑکنے لگتی ہے
سرخ آندھی چلنے لگتی ہے
اور خون کے دریا بہتے ہیں
جو ظلم کہانی کہتے ہیں
چھن جاتی ہے جب ہر چادر
بہنوں کے گھر لٹ جاتے ہیں
پھرماتم کرنے مائیں بھی
اِن سڑکوں پر آجاتی ہیں
بستی میں ظالم آتے ہیں
خود اپنے شہر جلاتے ہیں
ان ہنستے بستے شہروں کو
کھنڈرات بناتے جاتے ہیں
پوچھو ان ٹھیکیداروں سے
ہتھیاروں سے
کیوں موت کو بانٹے پھرتے ہو
جانوں کا سودا کرتے ہو
بھیجا ہے تمہیں کس دشمن نے
کہنے پہ کس کے مرتے ہو
تم ایسا بھلا کیوں کرتے ہو
تم ساتھ ہمارے رہتے ہو
اور اپنا اپنا کہتے ہو
کیا اپنے ایسا کرتے ہیں
اپنے ہی لوگوں کے خون کو
مٹی میں رُولا کرتے ہیں
سوچو تو ذرا کیا اپنوں کا
یو ں خون بہانا اچھا ہے
اپنی تہذیب کے ورثے کو
یوں ملبہ بنانا اچھا ہے
اک اپنی خاطر لاشوں کے
انبار لگانا اچھا ہے
بتلائو تو اِس ظلم سے تم
کیوں جاں کا سودا کرتے ہو
تم اوروں کی نہ بات کرو
کیوں خود کو دھوکہ دیتے ہو
خود اپنی خاطر جیتے ہو
خود اپنی خاطر مرتے ہو
اِک بات تمہیں بتلائوں میں
اِس قوم کے بچے بچے کا
ہر دعویٰ بالکل سچا ہے
ایمان بھی اُن کا پکا ہے
ایقان بھی اُن کا اچھا ہے
بس سوچ رہے ہیں سب مل کر
اب کیسے آگے جانا ہے اور
اپنا ملک بچانا ہے
میں ماں ہوں مجھ کو کہنا ہے
خاموش مجھے کب رہنا ہے
ظالم ہتیاروبات سنو
مظلوموں سے نہ ہاتھ کرو
اِس ملک پہ اب تم رحم کرو
نہ دیس کا سینہ زخم کرو
بس رحم کرو بس رحم کرو
یہ دیس ہمارے پُرکھوں کی
چھوٹی سی ایک نشانی ہے
اپنے اجداد کے دیس کی ہم
ہر بستی جا کے بسائیں گے
دُکھ بانٹنے سب کا جائیں گے
دشمن کو مار بھگائیں گے
یہ مٹی اپنی سونا ہے
یہ دیس ہمارا گہنا ہے
یہ دیس ہے تحفہ مالک کا
اِس دیس کو قائم رکھنا ہے
اِس دیس کو قائم رکھنا ہے

ماں

میں ماں ہوں آج کہنا ہے سبھی کچھ برملا مجھ کو
نظر آئے نہ دھرتی ماں پہ کوئی کربلا مجھ کو
خدارا راہ نوردو دو غور سے پیغام یہ سُن لو
بِنا پتوار دریا پار کرنا ہے ابھی تم کو
بہت مدت وئی اِک آزمائش تم پہ گزری تھی
جلا کر کشتیاں منزل کی تم نے جستجو کی تھی
تجھے جہدِ مسلسل کے لیے بخشا تھا یہ جادہ
وفا کرتا ہے کس حد تک سکوں یابی کا تو وعدہ
تو کیسا ناخدا ہے تو ہی ہمت توڑ بیٹھا ہے
تلاطم خیز موجوں میں سفینہ چھوڑ بیٹھا ہے
میں ماں ہوں، میں تجھے پیچھے کبھی ہٹنے نہیں دوں گی
تو شاہیں ہے ترے بازو کبھی کٹنے نہیں دوں گی
مری ممتا کا جذبہ ہی تجھے اُونچا اُڑائے گا
وطن کا پاسباں تو ہے زمانے کو بتائے گا
یقیناً تو ہی بیڑے کو تباہی سے بچائے گا
دھنک رنگوں سے اپنی ماں کی چنری کو سجائے گا
اُٹھا کر اپنا پرچم آ گےآگے بڑھتا جائےگا
مقدر سوہنی دھرتی کا بھی اک دن تُو جگائے گا
میں ماں ہوں میں تجھے پیچھے کبھی ہٹنے نہیں دوں گی
تو شاہیں ہے ترے بازو کبھی کٹنے نہیں دوں گی

بابل، پیا، ساس اور ماں

ابھی بابل کے جانے کا مجھے صدمہ نہ بھولا تھا
ابھی تو آنکھ میری نم تھی بابل کی جدائی میں
تمہیں بھی اِس قدر جلدی تھی ہم سے سب سے بچھڑنے کی
بہت چپ چاپ سے جانے کی دل میں تم نے ٹھانی تھی
ابھی سونے سے پہلے تو تمہیں میں نے کہا تھا یہ
تمہارا گھر سجایا ہے دلہن اُس کو بنایا ہے
پیا جلدی سے آ جانا، بہت ہی تھک گئی ہوں میں
تمہارا وہ عجب لہجہ مجھے جینے نہیں دیتا
سویرے لوٹ آئوں گا یہ ہنس کر تھا کہا تم نے
سحر تم لوٹ تو آئے مگر چل کر نہیں آئے
تمہیں لوگوں نے شانوں پر اُٹھا کر اِس سجے گھر میں
عجب انداز سے سب کچھ ہٹا کر کیوں لٹایا تھا
مجھے کب بھول سکتا ہے تمہارا زرد یخ چہرہ
جسے لوگوں نے مل کر پھولوں سے سجایا تھا
مری امی نے میرا ہاتھ پھر دھیرے سے پکڑا تھا
مجھے جوشِ محبت سے بھری بانہوں میں جکڑا تھا
نہ جانے فون پر مجھ کو وہ کتنی بار کہتی تھیں
کہ تم کیسی ہو مجھ سے آج ملنے آ ہی جانا بس
میں چوکیدار سے کہہ دوں گی دروازہ کھلا رکھنا
نہ جانے کس گھڑی بیٹی کو میری یاد آ جائے
کہیں ایسا نہ ہو باہر سے آ کر وہ پلٹ جائے
وہ مجھ سے روز کہتی تھیں کہ کیسی ہے میری مینا
مری نُعما کا جب بھی فون آئے پیار کر لینا
تم آفس سے پلٹ کر سیدھی اپنے گھر کو آئی ہو
یا مینا کو کلینک سے تم اپنے ساتھ لائی ہو
بتائو کھانا تو اچھی طرح دونوں نے کھایا ہے
ذرا یہ بھی بتا دو نا کہ تم نے کیا پکایا ہے
تم اپنی گاڑی کے دروازے سارے چیک کر لینا
سنو سونے سے پہلے گیٹ بھی تم بند کر لیا
میں کہتی تھی مری امی ہماری فکر چھوڑو نا
مرے ہمراہ ممتا کی دعائیں ہیں تو کیا ڈرنا
مجھے اب کام سارا خود ہی تو ہر روز ہے کرنا
پیا کے بعد ساسو ماں بھی اپنے ہوش کھو بیٹھیں
مگر یوں بھی اُنہیں میں اور مینا یاد رہتے تھے
وہ دروازے پہ نظریں رکھ کے ہر دم منتظر رہتیں
ہمیں پیغام جب ملتا کہ اماں نے ہے بلوایا
ہم اُن کو دیکھنے کے واسطے دوڑے چلے جاتے
بہت ہی تھوڑی مدت جی سکیں وہ بعد تمہارے
وہ اِک دن یونہی چپکے سے ہمیں بھی چھوڑ کر چل دیں
مری امی نے آ کر پھر لگایا ہم کو سینے سے
وہی معمول تھا اُن کا کہ ٹیلی فون پر اکثر
وہ ہم سے لمحے لمحے کی کہانی روز سنتی تھیں
مری پیاری سی امی ہم سے کتنا پیار کرتی تھیں
بہت ہی حوصلہ تھا اُن میں، دو بیٹے باہر تھے
فقط طارق ہی ہے جس پر وہ اپنی جان چھڑکتی تھیں
اچانک ایک دن صبح مجھے طارق نے بلوایا
کہاں ہے ڈاکٹر بیٹی ذرا نانی کو دیکھے نا
اُٹھا کے جلدی جلدی لے گئے اُن کو کلینک میں
وہ کومے میں تھیں بس وردِ زباں تھا ذکر خالق کا
وہ صبح دمِ اذاں کے وقت ہم کو چھوڑ کر چل دیں
مگر جاتے ہوئے امی نے مجھ سے کب یہ پوچھا تھا
کہ اُن کے بعد کیسے وقت گزرے گا نہ سوچا تھا
وہ اِک لمحہ ہماری یاد سے غافل نہ ہوتی تھیں
دُعائیں مانگتی رہتی تھیں وہ اِک پل بھی نہ سوتی تھیں
یہاں پر بے سکوں ہیں ہم سکوں میں ہو گئی ہیں وہ
سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ کیسے سو گئی ہیں وہ
مجھے بابل کے جانے پر بھی سینے سے لگایا تھا
پیا کے چھوڑ جانے پر مجھے یہ ہی بتایا تھا
میں ہوں تیرے لیے تجھ کو ہمیشہ ساتھ رکھوں گی
بنا بتلائے چل دیں جانے کیسے رابطہ ہو گا
مجھے ہر روز کیسے فون پر وہ مشورے دیں گی
کہاں پر کھو گئی ہیں کون مجھ کو حوصلہ دے گا
مری امی مجھے آواز دے کر پھر بلائو نا
مجھے دو حوصلہ سینے سے آ کر لگائو نا
یہ ناممکن ہے لیکن ایک دن واپس تو آئو نا
مجھے دو حوصلہ سینے سے آ کر پھر لگائو نا
گھڑی بھر کو پلٹ کر میری امی آ بھی جائو نا

بعد تیرے

یادیں

سجا رکھا تمھارے گھر کو
میں نے آج بھی ایسے
کہ دن ڈھلنے سے پہلے تم
اچانک لوٹ آئو گے
کوئی سلوٹ ابھی تک
اپنے بستر پر نہیں رکھتی
تمھارے گھر کو پھولوں
او ر خوشبو سے سجاتی ہوں
نئے انداز سے پردے لگاتی ہوں
تمھاری سائیڈ ٹیبل پر کتابیں
دیکھ کر اک ہوک اُٹھتی تھی
انہیں اپنی کتابوں سے
ذرا نیچے چھپایا ہے
تمھارے موزے اور رومال
یونہی تہہ کیے رکھے ہوئے ہیں
تمہاری خاص ٹیبل پر تمہاری
ڈاک اور بریف کیس رکھا ہے
یہ گھر ایک دھیمی سی مانوس سی
آواز سننے کو ترستا ہے
کبھی لگتا ہے یوں تم آئو گے
اور آواز دے کر
نعما، مینا کو بلائو گے
ذرا پانی پلانا اپنی گڑیوں کو بتائو گے
کچن میں کھانے کو ترتیب دیتی
میں تمہاری چاپ سنتی تھی
تمہارے ساتھ ہم سب ہنستے ہنستے
بیٹھ جاتے تھے
بہت قصے سناتے تھے
نہایت ہی توجہ سے
تم ہر اک بات سنتے تھے
تمہارے ہونٹوں کی مسکان
سب کا دل لبھاتی تھی
خوشی بڑھتی ہی جاتی تھی
میں کھانے والی ٹیبل
کو نئے انداز دیتی تھی
تمہارے بعد اس کو
صاف کرواتی ہوں
لیکن سیٹ نہیں کرتی
مگر تاکید سے میں چھریاں
نیپکن برتن پلیٹیں
سبھی تیار رکھتی ہوں
نجانے کیوںیقیں ہے کہ
کبھی تم لوٹ آئو گے
کہیں ایسا نہ ہو اجڑا ہوا گھر
دیکھ کر
واپس پلٹ جائو
کہ شاہ کی ناز کا ایسا ٹھکانہ
ہو نہیں سکتا
ذرا دیکھو نا آ کر گھر تمہارے واسطے
کیسا سجایا ہے
تمہیں گھر پہ بلایا ہے
خدا ظالم نہیں ہے
پیار کے رشتے بناتا ہے
تو پھر ان کو نبھاتا ہے
تمہیں اس نے ہمارے واسطے
ہی تو بنایا تھا
نہ جانے اتنی جلدی کس لیے
واپس بلایا تھا
مگر تم اب پلٹ آئو
کہ اب تو بن تمہارے دن
نہیں ہیں کاٹنا ممکن
ذرا جلدی پلٹ آئو
یا مجھ کو پاس بلوائو

نویدِ بقا

دسمبر کے ہو اتنے منتظر
ایسا بھلا کیوں ہے
سبھی موسم ہمارے ہیں
محبت کے شمارے ہیں
کبھی سوچا ہے یہ تم نے
دسمبر جب بھی آ تاہے
فنا کا رخ دکھاتا ہے
مٹا کر ذات کو اپنی
بقاء منظر بناتاہے
صبحِ امید کے ہمراہ
نیا اک سال لاتا ہے
دلوں کو جگمگاتا ہے
اندھیروںمیںچراغاں کر کے
واپس لوٹ جاتاہے

احساسِ تنہائی

مجھے تو یاد ہے وہ دن
کہ جب امید کی ہر اک کرن نے
ساتھ چھوڑا تھا
دوپٹے کی دھنک
اور
ہتھیلی پر سجی
مہندی
کھنکتی چوڑیاں
پھولوں کے گجرے
سبھی بے رنگ لگتے تھے
مگر ان سب کو ساتھ رکھنے پر
یہ دل
پھر بھی مچلتا تھا
مہکتی پھول کی کلیاں
فضاء میں پھیلتی جوہی کی خوشبو
چمکتے جگمگاتے چاند کی کرنیں
تمہارے ساتھ گزرے وقت کو
مرے اندر جگاتی ہیں
مجھے آ کر بتاتی ہیں
اکیلی تو نہیں ہو تم
تمہارے ساتھ
مدھ بھرے ایام کی
روپہلی یادیں ہیں
اکیلی تو نہیں ہو تم
اکیلی تو نہیں ہو تم

دسمبر لوٹ آتا ہے

کبھی ایسا نہیں ہوتا
دسمبر لیٹ ہو جائے
یہ چلتا وقت رک جائے
کبھی نہ جنوری آئے
کیلنڈر کے بدلنے کو
دسمبر لوٹ آتا ہے
کیلنڈر کو بدل کر وہ
ہمیں مژدہ سناتا ہے
گزر کر جنوری نے پھر
بہاروں کو بلانا ہے
نیا سورج بھی لانا ہے
اندھیرا لوٹ جانا ہے

نیا سورج

نیا اک سال آیا ہے نیا سورج بھی لایا ہے
اسی نے آس کا دیپک ہر اک در پر جلایا ہے
یقیناً ہر طرف یہ روشنی امید کی ہی ہے
اسی نے اک حرارت زندگی کو سونپ رکھی ہے
اسی کے نور سے اپنا مقدر جگمگایا ہے
دیوں کو بانٹ کر لَو، ان کو جلنا بھی سکھایا ہے
دسمبر ختم ہونے سے کیلنڈر ہی نہیں بدلا
بدل ڈالاہے دل کا آئینہ جو تھا بہت گدلا
ہر اک تقدیر بدلی ہے، ہر اک زنجیر بدلی ہے
ادھورے اور پرانے خواب کی تعبیر بدلی ہے
نئے اس سال کا آئو کیلنڈر ہم بناتے ہیں
ہمیں کیا کیا ہے کرنا ساری دنیا کو بتاتے ہیں
وہ کل جو ہونے والاہے، زمانے کو دکھاتے ہیں
اندھیروں میں محبت کا دیا پھر سے جلاتے ہیں
لگا الحمدکا نعرہ یقیں کامل بناتے ہیں
تُو کن کہہ دے تو صبح ِ نو کی ہم خوشیاںمناتے ہیں

تمت بالخیر

Viewers: 1176
Share