Atif Mirza | Editorial | سستی جنت

 عاطف  مرزا سستی جنت جنت اور جہنم کا تصور ہر دین یا مذہب میں ہے۔ اسلام نے سب سے مضبوط انداز سے جنت اور جہنم کو ڈیفائن کیا ہے۔ جنت […]

 عاطف  مرزا

سستی جنت

جنت اور جہنم کا تصور ہر دین یا مذہب میں ہے۔ اسلام نے سب سے مضبوط انداز سے جنت اور جہنم کو ڈیفائن کیا ہے۔

جنت کا حصول  اور جہنم سے چھٹکارا بے ریا اعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں۔اسلام عبادات اور معاملات یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد کا مجموعہ ھے۔اللہ کے قرب کی شرط بھی تقویٰ ہےاور تقویٰ پوری زندگی کا سودا  ہے۔ لیکن یہاں عجیب سی بات لگتی ہے کہ فی زمانہ لوگوں نے اسے قدامت پسندی کا نام دے دیا ہے اور شارٹ کٹ سے جنت کے حصول کے نت نئی فارمولے نکال لیے ہیں۔ ادھر ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو جدت اور سائنسی کرشموں کے بل بوتے پر جنت  میں جانے اور جہنم سے چھٹکارہ حاصل کرنے کا شارٹ کٹ دریافت کر چکا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو نماز ، روزے کو اپنا اور اللہ کا معاملہ کہ کر کسی اور کو اِس کے بارے میں بات کرنے کا موقع نہیں دیتے۔ ماڈریٹ اسلامائزیشن کی بات یہ لوگ ہر جگہ کرتے نظر آتے ہیں۔  ویسے توپیغمبروں کی شریعتوں میں تبدیلی کوئی نئی بات نہیں مگر دین ِ اسلام کے پیچھے تو ہر مذہب کے لوگ لگے اور دین میں بدعات اور جاہلانہ رسوم شامل کر کے دین کا ملغوبہ بنا دیا گیا۔ کچھ عرصہ پہلے نماز روزے کی اہمیت ختم کر کے کسی پیر فقیر کے بتائے ہوئے وظیفوں کی مارکیٹنگ کی گئی، یہ وظیفے کرنے سے پہلے متعلقہ پیر صاحب سے اجازت بھی ضروری قرار پاتی تھی اور اس اجازت کے لیے وہ اپنی درگاہ کے لنگر کے نام پر اچھی خاصی رقم اینٹھ لیا کرتے۔ پھر فوٹو سٹیٹ کا دور آیا۔ یہاں اساتذہ کے نوٹس کے علاوہ ایک چیز نے بڑا رواج پایا وہ تھا، کوئی نام نہاد معجزہ جس کی 11 یا 111 فوٹو کاپیاں تقسیم کرنے سے خوشخبری ملنے کی خوشخبری دی جاتی تھی، کبھی کسی کو جنت کی بشارت بھی دے دی جاتی۔(بعد میں معلوم ہوا کہ یہ پاکھنڈ دراصل فوٹو سٹیٹ کے دکانداروں کا مچایا ہوا ہے تاکہ سادہ لوح یا بے وقوف ان کی دکان سے فوٹو سیٹ کرائیں اور ان کا کاروبار چمکے)۔کچھ عرصے قبل یہ ٹرینڈ یا سٹائل بدلا اور ایسی ای میلز، ٹیکسٹ میسج، اور سوشل میڈیا پر پیغامات ملنا شروع ہو گئے کہ یہ کرو تو یہ ملے گا ، ایسا کام کرو تو ویسے فوائد حاصل ہونے شروع ہو جائیں گے، سات دن میں خوشخبری ملے گی وغیرہ وغیرہ۔تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ چندموبائیل نیٹ ورک کمپنیوں نے زندگی کے چند موٹے موٹے شعبے والے اپنے پاس ملازم رکھے ہوئے جو کچھ لکھ کر اسے ایس ایم ایم کی صورت میں، ای میل کی شکل میں غرضیکہ کسی انداز میں کمپنی کے تیار کردہ ایپلیٹ میں ہزاروں نمبروں کو ایک ہی بار یہ میسیج بھیج دیتا۔ اِس میں بھی پیغام کو آگے بھیجنے پر خوشخبری کا وہی گھسا پٹا فارمولا رکھا گیا۔ طرح طرح کے پیغامات ایس ایم ایس کے ذریعے

 کسی قسم کی اطلاع دینے سے جہنم سے چھٹکارا مل سکتا ہے، اب اس پیغام کو دیکھ لیجیے، یہ بیغام مجھے اپنے کئی کرم فرماؤں کی جانب سے موصول ہوا،
“رمضان  شریف  کا  پہلا  روزہ  27  ستمبر اتوار کو ہوگا۔   نبی  کریم  صلی  اللہ  علیہ  وآلہ  وسلم  کا  ارشاد  ہے  کہ  جو  رمضان  کی  خبر  سب  سے  پہلے  دے  اس  کے  لیے  جہنم  کی  آگ  حرام  ہے،  آپ  بھی  کسی  کو  بتا  دو،  تاکہ  آپ  پر  بھی  جہنم  کی  آگ  حرام ہوجائے۔” اللہ معاف کرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر دھوکا، کلمہ پڑھ کر جھوٹ صرف چند ٹکے، روپے کمانے کے لیے۔

پچھلے  کئی  برسوں  سے   ایسی خوشخبریاں کئی لوگوں کو ملتی  رہیں، کچھ نے تو یہ پیغام آگے کسی کو فارورڈ کر کے خود پر جہنم کی آگ حرام کرالی (اُن کی دانست میں)  مگر  چند میرے جیسوں نے جنت  حاصل  کی  نہ  جہنم  کی  آگ  سے  چھٹکارا  حاصل  کرنے  کی  کوشش  کی، کسی اور کو بھی یہ موقع فراہم نہیں کیا۔
اور  اسی  طرح  کے  کئی  میسیج ،  ای  میل  اور  جانے  کس  کس  ذریعے  سے  ہمیں  جنت  حاصل  کرنے  اور  جہنم  سے  چھٹکارے  کی  خبریں  ملتی  رہیں۔۔۔۔  مگر  کسی  نے  آج  تک  قرآن  و  سنت  میں  پیش  کیے  جانے  والے  پیغامات  کی  جانب  توجہ  نہیں  کی۔

میرا  صرف  ایک  سوال  ہے  کہ  کیا صرف  خبریں  سب  سے  پہلے  سنانے  سے  جنت  واجب  یا  جہنم  سے  چھٹکارا  مل  جاتا  ہے؟کیا  اسلام  پر  عمل  کیے  بغیر  صرف پیغامات  ارسال  کرنے  سے  کامیابی  مل  جاتی  ہے؟

اور  تو  اور  اگر  پیغام  ارسال  کرنے  والوں  سے  پوچھا  جائے  تو  وہ  بڑی ڈھٹائی سے جواب دیتے  کہ  یہ  پیغام  صرف  مسلمانوں  کے  لیے  ہے۔  یعنی  صرف  ایسے  پیغامات  ارسال  کرنے  والے  ہی  مسلمان  ہیں،  (نعوذ  باللہ)……..

آج  کل  ہے  کفر  کے  فتوؤں  کا  ٹھیکہ  ان  کے  ہاتھ

جس  کو  چاہیں  کہ  دیں  کافر،  چاہیں  تو  مسلم  کہیں

تعجب  ہے  ایسے  کم  عقلوں،  کج  فہموں   اور  عاقبت  نا  اندیشوں  پر  جو   غیر  اسلامی  شعائر  کو  کامیابی  کا  ذریعہ  گردانتے  ہوئے  خود  جہنم  کی  آگ  کا  ایندھن  بننے  جارہے  ہیں۔

بے  شک  انسان  کی  کامیابی  کا  راز  اللہ  اور  اس  کے  رسول  صلی  اللہ  علیہ  وآلہ  وسلم  کے  احکام  کی  پاسداری  میں  ہے۔  کسی  کو  کوئی  شک  ہے  تو  خطبہ  حجۃ  الوداع  کو  غور  سے  پڑھے۔یہی وہ واحد طریقہ ہے جس کی رہ نمائی سے ہم تمام اچھی بری باتوں کو پرکھ سکتے ہیں اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم کامیابی کی منزل پا سکتے ہیں۔

Viewers: 1065
Share