ڈاکٹر خالد اسراں کے افسانوں کا مجموعہ — درِ زنداں

درِ زنداں ڈاکٹر خالد اسراں ISBN : 978 969 7578 658 زیرِ مطالعہ کتاب ڈاکٹر خالد اسراںؔ کے ایما پر شائع کی گئی ہے اور اس کے جملہ حقوق اورمتن […]

درِ زنداں

ڈاکٹر خالد اسراں

ISBN : 978 969 7578 658

زیرِ مطالعہ کتاب ڈاکٹر خالد اسراںؔ کے ایما پر شائع کی گئی ہے اور اس کے جملہ حقوق اورمتن کی تمام تر ذمہ داری انہی کو مستحسن ہے۔پبلشر یا پرنٹر قطعاً ذمہ دار نہیں۔ ادارہ اردو سخن ڈاٹ کام کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ قارئین تک بہترین اور اغلاط سے پاک ادبی مواد پہنچایا جائے اور اس ضمن میں ہر امکانی کوشش کو بروئے کار لایا جاتا ہے تاہم غلطی کی نشاندہی کا خیر مقدم کیا جاتا ہے تاکہ آئندہ اشاعت میں اس کی درستی کی جائے۔(ادارہ)

ڈاکٹر خالد اسراں
معرفت خطاب آٹوز
نزد چشتی ہوٹل، جھنگ روڈ، بھکر (پنجاب۔ پاکستان)
رابطہ فون: 0333-6842465

اُردو سخن

استحقاق:تمام تصرفات ’’ڈاکٹر خالد اسراں ‘‘کی تحویل میں ہیں
ناشر: اردو سخن ڈاٹ کام، پاکستان
اگست 2017ء

کمپوزنگ: محمد شہریار ناصر
اسکیچز: ماہِ کائنات
سروروق: ناصر ملک
طباعت: شیرِ ربانی پریس، ملتان
قیمت:300 روپے (30یورو، 35ڈالر)


انتساب

اپنی مرحوم والدہ ماجدہ مرید فاطمہ
اور اپنی مرحوم بیٹی ساریہ حریم کے نام !
اس دعا کے ساتھ کہ اللہ رب العزت ان کی
اُخروی زندگیاں آسان فرمائے۔
اور
اپنے والد محترم ملک عطا محمد اسراں کے نام!
اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ انہیں لمبی زندگی عطا فرمائے

اظہارِ تشکر

میری اس تخلیق کو منظرِ عام پر لانے کے لیے میرے بھائیوں، ملک رضا محمداسراں ، ملک عمر خطاب اسراں اور ملک اسد اسراں (ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز) نے بہت معاونت کی اور قدم قدم پر میری حوصلہ افزائی کی۔ ظہیر احمد پٹواڑ، کلیم اللہ نیازی، اللہ نواز کہاوڑ اور کلیم اللہ اسراں کی محبتوں کا بے حد شکر گزار ہوں۔ میں خصوصی طور پر آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر عتیق الرحمان قریشی ، آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر طلحہ نیازی، ڈاکٹر ارشد اولکھ، ڈاکٹر حسن نواز فقیر، ڈاکٹر قیصر، ڈاکٹر انعام اور ڈاکٹڑ ندیم رضا ملک کی مخلصانہ معاونت کا تہِ دل سے متشکر ہوں۔



خواہشات کا رجسٹر



نیاز الدین حال میں اعلیٰ سرکاری عہدے سے ریٹائر ہوا تھا۔
دورانِ ملازمت اس نے ہمیشہ اپنے پائوں اپنی چادر سے باہر رکھے اور زورِ بازو سے بہت بڑی جائیداد بنائی۔
اس کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں تھی بلکہ ہر چیز کی بہتات تھی۔
وسائل کی فراوانی بہت بڑا نشہ ہے جو عمومی طور پر آنکھ کھلنے نہیں دیتا۔ مگر کوئی ایسی نادیدہ وجہ موجود تھی کہ نیاز الدین کی خواہشوں کی ریل تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ خواہشوں کے صحرا میں اس کی آبلہ پائی کا سفر جاری و ساری تھا۔

نیاز الدین کی کہانی بہت دلچسپ تھی
بچپن میں لوگ نیاز الدین کو اس کے اصل نام سے نہیں، بلکہ مختلف ناموں سے پکارتے اور عدم موجودگی میں یاد کرتے تھے۔ کوئی اس کو ’’سائیں‘‘ کہا کرتا تو کسی کے نزدیک وہ ’’درویش‘‘ تھا۔ کوئی اس کو ’’فقیر‘‘ کا نام دیتا تھا کوئی اس کو ’’اللہ لوک‘‘ کہہ کر یاد کرنے لگتا تھا۔
وہ تھا ہی ایسے ناموں کا مستحق— دنیا سے دور بھاگنے والادرویش— اپنی موج میں رہنے والافقیر—
نیاز الدین کسی امیر باپ کا بیٹا نہیں تھا لیکن پھر بھی ان کی گزر اوقات اچھی ہو جاتی تھی۔ اس کا باپ محنت مزدوری کر کے بچوں کی چھوٹی موٹی خواہشات پوری کرتا رہتا تھا۔
نیاز الدین بچپن سے ہی دوسرے بچوں سے مختلف مزاج کا مالک واقع ہوا تھا۔ خواہشات سے دور بھاگنے والا— دوسرے بچوں کے برعکس اس نے اپنے باپ سے کبھی کھلونے نہیں مانگے تھے— کبھی کسی کھلونے یا پسندیدہ چیز کی خریداری کی ضد نہیں کی تھی۔ جو مل گیا، سو مل گیا، جو نہیں ملا، اس کا تذکرہ تک نہیں کیا۔
اس کی اس درویش مزاجی سے اس کا باپ بڑا متفکر رہتا تھا۔ وہ اکثر پریشان ہو جاتا تھا اور خدا سے التجا کرتا تھا ’’اے اللہ! میرےبیٹے کو صحت اور تندرستی عطا فرما۔ یہ دوسرے بچوں کی طرح نہ کھلونوں کی خواہش کرتا ہے اور نہ ہی کسی چیز کی ضد کرتا ہے۔ کہیں اسے کوئی دماغی عارضہ تو لاحق نہیں؟ کہیں اس کے دماغ پر کوئی بوجھ تو نہیں پڑ گیا؟‘‘
وہ اپنی اس پریشانی کا ظہار اکثر اپنی بیوی سے بھی کرتا تھا، ’’میں نیازالدین کے مستقبل کے بارے بہت پریشان رہتا ہوں۔ دنیا سے دور بھاگنے والے بچے کا نہ جانے کیا مستقبل ہو گا؟ یہ دنیا چالاک لوگوں کو بھی سیدھے راستے پر نہیں چلنے دیتی،نیاز الدین جیسے بھولے بھالے آدمی تو بہت آسان شکار ہوتے ہیں اس کا۔ ظالم دنیا اِن کو تگنی کا ناچ نچاتی ہے۔ ‘‘
اس کے والد کی یہ خواہش صرف خواہش ہی رہی کہ اس کا بیٹا اس سے کبھی کسی پسندیدہ چیز کی فرمائش کرے۔ وہ خود کبھی کوئی کھلونا لے کر آتا تو نیاز الدین اس میں کوئی خاص دلچسپی نہ لیتا۔ باپ کے اصرار پر کہتا، ’’ابو! مجھے کھلونوں کی نہیں، آپ کی ضرورت ہے۔ آپ پہلے ہی ہماری ضرورتیں پوری کرنے کے لیے دن رات کام کرتے ہیں۔ میں کئی کئی دن آپ کی شکل دیکھنے کو ترس جاتا ہوں۔‘‘
اس کے ہم عمر بچوں کے دل و دماغ میں ہر وقت خواہشات کے طوفان مچلتے رہتے تھے۔ان کے ننھے دماغوں میں نئی نئی چیزیں لینے کیلئے فرمائشوں کی کھچڑی پکتی رہتی تھی۔ وہ اپنے والدین سے فرمائش کر کے روز نئے کھلونے اور سٹیشنری کی نئی رنگ برنگی معاون اشیاء خریدتے تھے۔پھر ایک دوسرے کو فخر سے دکھاتے تھے۔
نیاز الدین ہر ایک کی نئی خریدی ہوئی چیز اور کھلونا دیکھتا اور تعریف کر دیتا۔ اس کے دل میں کبھی کسی کیلئے حسد کا جذبہ بیدار نہیں ہوا تھا۔
اس نے بچوں کی خواہشات میں حسد اور نفرت چھپی دیکھی تھی۔ کوئی بچہ جب دوسرے بچے کا کھلونا دیکھتا تو اس سے حسد کرنے لگتا اور اس حسد کی تیز آگ میں کبھی کبھی وہ جل کر کھلونا توڑ بھی دیتا تھا۔
اس کے بچپن کا سب سے قریبی دوست امجد تو خواہشوں کا مچلتا ہوا طوفان تھا۔ نت نئی چیزیں لینا اس کا دل پسند مشغلہ تھا۔ خواہشات نے امجد کے اندر حسد اور نفرت کا طوفان بھر دیا تھا۔ کسی ہم عمر کے پاس وہ کوئی اپنے سے اچھی چیز دیکھ کر برداشت نہیں کر سکتا تھا— وہ چاہتا تھا کہ ہر اچھی چیز اس کے پاس ہو اور اس کی ملکیت ہو۔
امجد کھاتے پیتے گھرانے کا چشم و چراغ تھا— اس لیے اس کی جائز و ناجائز خواہشات کی تکمیل بہ آسانی کر دی جاتی تھی۔ چونکہ گھر میں پیسے کی ریل پیل تھی، اس لیے اس کے منہ سے نکلا ہوا ہر تقاضا فی الفور پورا کر دیا جاتا تھا۔ اس کے پاس نت نئے کھلونے، گاڑیاں اورنت نئی سٹیشنری ہوتی تھی جسے دیکھ کر تمام بچوں کے دل مچلتے رہتے تھے۔ بچے یہ چیزیں لینا چاہتے تھے مگر ان کے گھر والوں کے پاس اتنا پیسہ نہیں تھا— ان کے والدین میں اتنی سکت نہیں تھی کہ انہیں قیمتی کھلونے لے کر دے سکیں۔
امجد سب سے پہلے اپنی نئی آنے والی چیز نیاز الدین کو دکھایا کرتا تھا جو اپنے مخصوص انداز میں اس کی تعریف کر دیتا تھا— اس کے دل میں کبھی بھی ان چیزوں کو دیکھ کر ہلچل نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی کبھی اس کی آنکھوں میں کوئی کھلونا دیکھ کر حسرت کا رنگ بیدار ہوا تھا۔ البتہ جب وہ دوسرے بچوں کو امجد کا کھلونا دیکھ کر بے چین اور بے تاب دیکھتا تھا تو اس کے دل پر چوٹ سی پڑتی تھی۔
امجد جب پہلی بار دو پہیوں پر چلنے والی سائیکل لایا تو سارے بچے شوق سے دیکھنے آئے— اس نے خوشی اور تفاخر کے ملے جلے احساس میں سرشار ہو کر سب کو سائیکل چلا کر دکھائی۔ ۔۔سبھی کی آنکھوں میں ہلکورے لیتی حسر ت و یاس کی چمک اور نااُمیدی کا عکس بہ آسانی دیکھا جا سکتا تھا۔
گویا سب سوچ رہےتھے، ’’کاش! ہمارے پاس بھی ایسی ہی سائیکل ہوتی۔‘‘
غریب گھروں کے بچے جن کے والدین دو وقت کی روٹی بڑی مشکل سے پوری کرتے ہوں ، وہ اپنے نونہالوں کی ایسی خواہشیں کہاں پوری کر سکتے ہیں؟—
اکثر خواہشوں کی تشنگی لیے دارِ فانی سے کوچ کر جاتے ہیں۔
نیاز الدین کا پڑوسی راشد تو سائیکل کو دیکھ کر خود پر اختیار نہ رکھ سکا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا، ’’میں بھی اپنے ابو سے کہہ کر ایسی سائیکل ضرور لوں گا۔‘‘
امجد نے استہزائیہ انداز میں قہقہہ لگایا، ’’واہ! یہ منہ اور مسور کی دال— تمہارا باپ تمہارے لیے نئے کپڑے تو لے نہیں سکتا — اتنی مہنگی سائیکل کہاں سے لائے گا؟‘‘
راشد بھی ضد کا پکا تھا۔ وہ سائیکل کیلئے ہاتھ دھو کر اپنے باپ کے پیچھے پڑ گیا۔ غریب باپ نے بیٹے کی ضد سے مجبور ہو کر گھر کی کچھ چیزیں اونے پونے بیچ کر اس کو سائیکل لادی—
راشد پورے محلے میں خوشی سے سائیکل دوڑا رہا تھا— ساتھ ساتھ خوشی اور فخر سے چیختا بھی جاتا تھا۔
جب وہ سینہ تان کر امجد کے سامنے سے گزرا تو امجد کے تن بدن میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی۔
امجد اپنی حسد بھری فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر راشد کی سائیکل کو نقصان پہنچانے کے منصوبے بنانے لگا ۔ اسے اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے کسی لائق ِ اعتماد ساتھی کی ضرورت تھی— نظرِ انتخاب نیاز الدین پر جا ٹکی۔ اس نے نیاز الدین کو اپنا ہم راز بنایا۔ ابتدا میں نیاز الدین نے اس کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا اور اسے بھی باز رہنے کا مشورہ دیا مگر امجد کی مسلسل کوششوں کے سامنے نیاز الدین کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔ آخر کار وہ امجد کے مذموم ارادے کی تکمیل میں ساتھ دینے پر آمادہ ہو گیا۔
دونوں نے مل کر راشد کی سائیکل چوری کی اور اسے بری طرح توڑ پھوڑ کر محلے کے ایک خالی پلاٹ میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر پھینک دیا۔
سائیکل کی چوری نے راشد پر قیامت ڈھا دی تھی۔ اس کی آہ و بکا اور چیخ و پکار نے پورے محلے کو رُلاکر رکھ دیا— وہ پاگلوں کی طرح گلی میں اِدھر اُدھر بھاگ رہا تھا، چیخ رہا تھا اور ہر بندے سےسسک سسک کر اپنی سائیکل مانگ رہا تھا۔
نیاز الدین اس کی شکستہ حالی دیکھ کر دل ہی دل میں کڑھ رہا تھا۔ چونکہ وہ اس واقعے کا شریک ذمہ دار تھا، اس لیے راشد کی ہر سسکی سیدھی اس کے دل پر وار کرتی تھی۔ اس نے خود پر ضبط بہت کیا مگر راشد کی حالتِ زار نے اس کی آنکھیں نم کر دیں۔ کچھ ہی دیر بعد وہ زار و قطار رونے لگا۔
امجد کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ رقصاں تھی— فاتحانہ مسکراہٹ — وہ دل ہی دل میں راشد اور اس کے گھر والوں پر ہنس رہا تھا، ’’بندہ غریب ہو، دو وقت کی روٹی بمشکل پوری کر رہا ہو اور چونچلے کرے امیروں والے؟— پھر یہ تو ہونا ہی تھا—‘‘
اس واقعے نے نیاز الدین کو بہت اداس اور ملول کر دیا تھا— اسے دنیا سے، خواہش کرنے والوں سے، خواہش روندنے والوں سے— حتیٰ کہ خواہش کے نام تک سے ایک دم نفرت ہو گئی تھی۔ ۔۔
وہ بات جودنیا کے بڑے بڑوں کی سمجھ میں آج تک نہیں آئی تھی، وہ اس کے معصوم ذہن میں سما چکی تھی کہ خواہشوں کی بنیاد وں میں حسد، نفرت اور برانگیختگی کے سوا کچھ نہیں  ہوتا— خواہشیں انسان کو دیوانہ بنا دیتی ہیں۔ حیوان کر دیتی ہیں۔
اس واقعے کی دلخراش کرچیاں نیاز الدین کی یادداشت میں تاعمر چبھی رہیں— اسے جب بھی یہ واقعہ یاد آتا، اس کی آنکھوں سے اشک رواں ہو جاتے۔ ۔۔وہ بصد کوشش خود پر قابو نہ پا سکتا تھا۔ راشد کی آہ و بکا اور کرب ناک سسکیاں اسے بے چین و مضطرب کر دیتی تھیں۔
وہ سوچتا، ’’امیروں سے غریب لوگوں کی اتنی چھوٹی چھوٹی خوشیاں بھی برداشت کیوںنہیں ہوتیں۔‘‘
خواہشیں انسان سے چین اور سکون چھین لیتی ہیں۔ انسان کی کوئی خواہش بھی آخری خواہش نہیں ہوتی۔ ہر آخری خواہش ایک نئی خواہش کو جنم دیتی ہے۔ خواہشوں کا یہ سلسلہ کبھی ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔
وہ اکثر سوچتا تھا کہ خواہشوں کے تپتے ہوئے صحرا میں صرف غریبوں کو ہی کیوں آبلہ پائی کا سفر درپیش ہوتا ہے؟ — امیروں کی تو ساری خواہشات بغیر کسی تردد کے پوری ہو تی رہتی ہیں۔ وہ تو سکون سے سوتے ہیں۔ خواب دیکھتے ہیں تو ان کی تعبیر بھی کسی نہ کسی رنگ میں خرید لیتے ہیں— دنیا کی طرح خواہشوں کی دنیا بھی امیروں کی ملکیت ہے۔
لیکن اس کی یہ غلط فہمی سیٹھ حاکم نے دور کر دی۔

سیٹھ حاکم سے اس کے والد کی اُس وقت سے دوستی چلی آ رہی تھی جب وہ کچے گھر میں رہتا تھا اور ’’حاکمو‘‘ کہلاتا تھا— پھر وہی ’’حاکمو‘‘ دیکھتے ہی دیکھتے ترقی کرتا ہوا ’’سیٹھ حاکم‘‘ بن گیا۔ کئی فیکٹریوں، کوٹھیوں اور وسیع و عریض جائیداد اس کی ملکیت تھی۔ اس کی رہائش کئی ایکڑ پر محیط خوبصورت کوٹھی میں تھی۔ اس محل نما گھر میں ہر طرف خوب صورت درخت اور پھول دار پودے لگے ہوئے تھے۔ دو تین شاندار مخملیں گھاس والے باغیچے اور وسیع کار پورچ کوٹھی کی شان کو دوبالا کرتے تھے— کار پورچ میں نئے ماڈلوں کی مختلف گاڑیاں ہر وقت موجود رہا کرتی تھیں۔
امارت کے باوجود سیٹھ حاکم نے اس کے والد کی دوستی کو خیر باد نہیں کہا تھا بلکہ اس تعلق کو قائم رکھا تھا— وہ اکثر اپنی والدہ کے ساتھ سیٹھ حاکم کے گھر چلا جاتا تھا۔ اس کی والدہ کا سیٹھ حاکم کی بیوی سے بہت قریبی تعلق استوار تھا۔دونوں کے درمیاں خاصی بے تکلفی حائل تھی۔
ایک دن سیٹھ کی بیوی اس کی والدہ سے کہہ رہی تھی ، ’’سیٹھ خود تو نکما اور عیاش بندہ ہے۔ یہ جتنی مال و دولت ہے، جتنی جائیداد ہے، یہ سب میری محنتوں کا نتیجہ ہے۔ بہن! صابر اور منیر نے سیٹھ کے ساتھ ہی کام شروع کیا تھا— وہ دونوں ابھی دس سے زیادہ فیکٹریوں کے مالک ہیں اور بیرونِ ملک میں بھی انہوں نے بہت بڑا کاروبار کا حلقہ قائم کر لیا ہے۔ جبکہ ہماری ابھی صرف تین فیکٹریاں ہیں۔ بہن! میں تو پریشان رہتی ہوں— سیٹھ کو سمجھا سمجھا کر تھک گئی ہوں کہ حالات کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ بیرونِ ملک بھی کوئی کاروبار شروع کر لو لیکن وہ سمجھتا ہی نہیں۔ کیا کروں؟ میری تو سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔‘‘
سیٹھ کی بیوی کی باتیں سن کر نیاز الدین کے دماغ میں آندھیاں چلنے لگیں— وہ تو سوچتا تھا کہ ’’خواہشوں کی تشنگی‘‘ صرف غریبوں کے لیے ہوتی ہے لیکن یہاں تو بے تحاشا امیر بھی خواہشوں کے صحرا میں آبلہ پائی کا عذاب جھیل رہے تھے—
وہ آج بہت اداس تھا اورزندگی سے بہت خوف زدہ ہو گیا تھا۔
اسے درویش سے اپنی ملاقات یاد آ گئی جب اس نے پھٹے پرانے کپڑے پہنے درویش سے سوال کیا تھا، ’’بابا جی! خواہش اور منزل کے پیچھے بھاگنے والی دنیا میں تمہیں درویشی کیسے مل گئی؟— تم نے خواہشوں کے آسیب سے کیسے جان چھڑا لی؟‘‘
درویش مسکرایا مگر چپ رہا۔
اس نے دوبارہ استفسار کیا۔ پھر اصرار کیا۔ تب جواب ملا، ’’کسی شخص کی پیاس دو گھونٹ پانی سے بجھ جاتی ہے اور کسی کی پیاس بھرا ہوا گھڑا بھی نہیں بجھا سکتا— بتائو! ان دونوں میں سے خوش قسمت کون ہے؟‘‘
اس نے جواب دیا، ’’یقیناً وہ شخص جس کی پیاس دو گھونٹ پانی سے بجھ جاتی ہے، وہی خوش قسمت ہے۔‘‘
درویش مسکرایا، ’’پیاس مجھے بھی لگتی ہے مگر میں وہ خوش قسمت شخص ہوں جس کی پیاس محض دو گھونٹ پانی پینے سے بجھ جاتی ہے۔ میں جلد سیراب ہو جاتا ہوں۔‘‘
اس نے چکنی مٹی میں تھوڑا سا پانی ڈال کر اسے کیچڑ بنایا، پھر کیچڑ سے ننھا سا گولابنایا اور اسے پائوں کی ٹھوکر مار کر دور پھینک دیا، ’’خواہش اس پانی کی طرح ہے جو خاک سے بنے انسان کو کیچڑ بنا کر ٹھوکروں کا نصیب کر دیتی ہے۔‘‘
نیاز الدین کے دل و دماغ میں درویش کی یہ بات اُتر گئی۔
اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا، ’’بابا جی! خدا بھی تو ناانصافی کرتا ہے۔ ہے نا؟ کسی کی جھولی خواہشوں سے بھر دیتا ہے اور کسی کو دو چار نوالوں کے لیے عمر بھر ترساتا ہے۔‘‘
درویش نے زور دار قہقہہ لگایا، ’’تم ابھی ناسمجھ ہو۔ بچے ہو۔ نادان ہو۔ خدا کسی سے ناانصافی نہیں کرتا۔ وہ رحیم ہے، کریم ہے، غفور ہے۔‘‘
’’بابا جی! مجھے سمجھا دو۔ میں سمجھنے کیلئے آیا ہوں۔‘‘
’’اچھا— تو پھر سمجھو!‘‘ درویش نے اپنی گہری آنکھیں اس پر مرکوز کر دیں، ’’تمہارے تین دوست گھر کا سودا سلف لینے بازار جاتے ہیں۔ ایک کو گھر والے سو روپیہ دیتے ہیں۔ دوسرے کو دس روپے دیتے ہیں۔ تیسرے کو کوئی پیسہ نہیں ملتا۔ اب بتائو، واپسی پر کس کا حساب مشکل ہو گا؟ سو روپے والے کا؟دس روپے والے کا؟ یا خالی جانے والے کا؟‘‘
نیاز الدین سوچ میں پڑ گیا۔ بولا، ’’یقینی طور پر سو روپے والے کیلئے حساب دینا مشکل ہو گا کیونکہ اسے زیادہ رقم ملی تھی اور زیادہ سودا سلف لانا تھا۔‘‘
’’اور دوسرا جو دس روپے لے کر گیا تھا؟‘‘
’’اس کا حساب نسبتاً آسان ہو گا کیونکہ اس کو ملنے والی رقم تھوڑی تھی۔‘‘ نیاز الدین نے جواب دیا۔
’’اور تیسرا؟‘‘
’’اس کا تو حساب ہی نہیں ہو گا۔‘‘ وہ جلدی سے بولا۔
’’کیوں؟‘‘ درویش چونکا۔
’’بابا جی! اس کا حساب کاہے کا؟ نہ تو اسے پیسے ملے تھے گھر سے، نہ اس نے کچھ بازار سے لانا تھا— پھر اس کا حساب گھر والے کیسے لے سکتے ہیں؟
درویش نے بھرپور قہقہہ لگایا ، ’’بس! یہی بات نہیں سمجھتی دنیا۔ خدا نے جتنا زیادہ دیا ہے، اتنا حساب زیادہ، جتنا کم دیا ہے، حساب اتنا کم— یہ جو امیر دولت اور مال واسباب کے انبار لگا کر سمجھ رہے ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے، وہ فاتحِ عالم ہیں، یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ وہ معاملے کو پوری طرح سمجھ نہیں رہے۔ خدا تو انہیں خزانے سونپ کر بڑی ذمہ داری کے امتحان میں ڈال رہا ہے۔ ان کی پیاس بڑھا کر انہیں چیک کر رہا ہے۔بچے! خدا نے جسے دنیا میں ذلیل و خوار کرنا ہوتا ہے، اس میں دولت کی ہوس ڈال دیتا ہے۔‘‘
اس نے ایک ذرا توقف کیا۔ نیاز الدین کو بغور دیکھا، پھر کہا، ’’ایسے بدقسمت لوگ بھی دنیا میں ہیں جن کی پیاس بجھنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ وہ اپنے حصے کا پانی بھی پی جاتے ہیں اور ارد گرد والوں کے مشکیزے بھی چھین لیتے ہیں۔ اور ہاں! میرے بچے! یہ دھیان رکھ کہ جس کی پیاس نہیں بجھتی وہ پاگل کتے کی طرح پانی پی پی کر مر جاتا ہے۔ ‘‘
درویش کی باتیں نیاز الدین کے دماغ میں نہ صرف اترتی جاتی تھیں بلکہ ہمیشہ کیلئے گھر کررہی تھیں— اسے لگا کہ یہ سیٹھ حاکم اور اس کی بیوی بھی پاگل کتے ہیں۔ پانی پی پی کر مر جانے والے۔
نیاز الدین دنیا میں اپنے آپ کو تنہا سمجھنے لگا تھا۔ اُسے کوئی ہم مزاج نہیں ملا تھا۔ اس نے ارد گرد دیکھا۔ اُسے یکبارگی یوں محسوس ہوا جیسے معاشرے میں کوئی فرد بھی اس کا ہم مزاج نہیں تھا۔ یعنی وہ مکمل طور پر مس فِٹ تھا۔
اس کی بے چینی متواتر بڑھ رہی تھی۔ اکثر رات کو ایک ڈرائونا خواب اُسے آتا تھا۔ وہ خوابیدہ آنکھ سے دیکھتا تھا کہ انسانوں کا ہجوم ایک سایہ دار جگہ پر کھڑا ہے— سامنے خواہشوں کا تپتا ہوا لق و دق صحرا ہے— لوگ سایہ دار جگہ کو چھوڑ کر ننگے پائوں خواہشوں کے تپتے ہوئے ریگزار میں دوڑنا شروع کر دیتے ہیں— کچھ لوگ ہجوم کے پیروں تلے کچلے جاتے ہیں— چند لوگ تھک ہار کرو اپس آنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن راستے میں ان کے تڑپتے ہوئے جسموں سے روحیں نکل کر پرواز کر جاتی ہیں۔ ان کی بے گور و کفن لاشوں کو دوڑتے ہوئے لوگ روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ وہ خود آزردہ تماشائی بنا سایہ دار میں کھڑا یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ وہ یہ پرسکون جگہ چھوڑنا نہیں چاہتا تھا لیکن کچھ لوگ اسے زبردستی صحرا کی طرف کھینچ لیتے ہیں اور وہ بادلِ نخواستہ اس آدم خور ریگزار میں دوڑنا شروع کر دیتا ہے۔ گرم ریت اس کے پیروں کو جلانے لگتی ہے اور پیاس حلق میں کانٹا چبھو دیتی ہے تو وہ چیخ مار کر آنکھیں کھول دیتا ہے۔
اس کی بلند و بالاچیخیں سن کر بارہا اس کی ماں ہڑبڑا کر بیدار ہوکر اُٹھی۔ وہ سمجھتی تھی کہ شاید اس کے بیٹے پر جنات کا اثر ہو گیا ہے، اس لیے وہ اسے کئی مرتبہ تعویذ گنڈے والوں کے پاس لے کر گئی تھی۔ دو چار پہنچے ہوئوں سے دم بھی کروا دیکھا تھا۔ بیٹے کو پسینے سے شرابور دیکھ کر دل ہی دل میں افسردہ ہو جاتی کہ اسے اس مصیبت سے چھٹکارا دلانے میں وہ پھر ناکام رہی تھی۔
نیاز الدین بھی مسلسل دکھائی دینے والے اس خواب سے بے حد پریشان اور متفکر تھا۔ ایک دن وہ پوچھ تاچھ کرتا ہوا خوابوں کی تعبیر بتانے والے ایک عامل کے پاس پہنچ گیا۔
نیم روشن کمرے میں ایک دھان پان سا شخص براجمان تھا— اس کی نیم مردہ آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں۔ زردی مائل چہرہ اور بکھرے ہوئے بال اس کی زبوں حالی کی خبر دیتے تھے۔
خوابوں کی تعبیریں بتانے والی ایک کتاب اس کے سامنے کھلی ہوئی تھی جبکہ تعبیریں پوچھنے والے اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔
وہ اس خواب ناک ماحول کو دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔
کچھ لوگ تعبیر سننے کے بعد ہنستے مسکراتے ہوئے رخصت ہو رہے تھے—کچھ استہزائیہ انداز میں اپنے خواب پر یا خواب بیان کرنے والے پر قہقہے لگاتے ہوئے باہر کی رواں دواں زندگی کی طرف لو ٹ رہے تھے—کچھ لوگ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھے تھے جن کے چہروں پر ان کے بیان کردہ خواب کی تعبیر کی تلخی اور خنکی ثبت تھی— ان لٹکے ہوئے چہروں سے گویا ان کے خواب بھی شاکی تھے۔
نیاز الدین اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔ لائن میں لگے لگے وہ لوگوں کے روایتی، ناقابلِ یقیں اورعجیب نوع کے ملے جلے خوابوں سے لطف اندوز ہوتا ہوا آگے بڑھ ر ہا تھا۔ کچھ دیر میں اس کی باری آ گئی اور وہ کھسک کر اس زردی مائل چہرے والے عامل کے سامنے پہنچ گیا۔
اس نے قدرے دھیمے لہجے میں اپنا خواب بیان کیا۔ گویا وہ چاہتا تھا کہ اس کا خواب عامل کے علاوہ کوئی نہ سنے تاکہ وہ کسی کی نظروں میں تماشا نہ بنے— خدا جانے، کسی نے اس کا خواب سنا، یا نہیں سنا، وہ تماشا بنا، یا نہیں بنا، عامل نے بغور سن لیا۔
وہ کچھ دیر آنکھیں موندے کچھ سوچتا رہا۔ پھر مسکرا کر بولا، ’’بابا! خواہشوں اور دنیا سے دور بھاگنا چاہتے ہو لیکن ایک دن یہ زمانہ تمہیں ان کے پیچھے دھکیل دے گا۔‘‘
نیاز الدین خوفزدہ لہجے میں بولا، ’’میں خواہشوں کے پیچھے بھاگنے کی تھکاوٹ سے ڈرتا ہوں۔ تمہارے چہرے کی تھکاوٹ اور زردی ظاہر کرتی ہے کہ تم بھی تعبیریں پانے کیلئے بہت بھاگے ہو۔‘‘
اس نے زور دار قہقہہ لگایا۔ اس کی ہنسی میں چھپی ہوئی شکست خوردگی نیاز الدین پر یکبارگی عیاں ہوگئی۔ وہ کہہ رہا تھا، ’’نیاز الدین! تم ٹھیک پہچانے ہو۔ میں بھی تعبیروں اور خواہشوں کے پیچھے بہت بھاگا ہوں۔ ایک عمر بھاگا ہوں— میری خواہشیں پوری بھی ہوئی ہیں لیکن دو خواہشیں پوری ہوئی، چار نئی جان کا آزار بن گئیں۔ چار خواہشیں پوری ہوئیں، آٹھ بن گئیں۔ خواہش خواہش نہ ہوئی، گویا ستارہ ماہی ہو گئی— جتنے ٹکڑے کرو، اتنی ستارہ مچھلیاں تیار۔ جب میں تھک گیا تو آستانہ بنا کر بیٹھ گیا۔ اب میں خواہشوں کے پیچھے بھاگنے والوں کی بے بسی سے لطف اندوز ہوتا رہتا ہوں۔‘‘
اس نے سگریٹ سلگا کر ایک لمبا کش حلق میں اُتارا اور توقف سے کہا، ’’خواہشیں اس سگریٹ کی طرح ہوتی ہیں۔پینے سے لطف ملتا ہے۔ سکون ملتا ہے مگر دہرا نقصان ہوتا ہے— نقصان کا علم ہوتا ہے مگر انسان اس کے مزے کی وجہ سے اسے چھوڑ بھی نہیں سکتا۔‘‘
نیاز الدین نے توجہ سے اس کی باتیں سنیں اور پھر گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اُٹھ کھڑا ہوا۔
اپنے خواب کی تعبیر سننے کے بعد جب وہ گھر پہنچا تو بہت اداس تھا۔ والدہ نے کرید کرید کر اس کی اداسی اور بے چینی کا سبب دریافت کیا مگر وہ ٹال گیا۔ ماں سے کچھ چھپتا نہیں، اس سے بھی نیاز الدین کا حالِ دل مخفی نہیں رہا تھا مگر وہ بادلِ نخواستہ خاموش ہو گئی۔

ایسا نہیں تھا کہ نیاز الدین کا دل خواہشوں سے یکسر خالی تھا ، بلکہ چند چھوٹی چھوٹی معصوم سی خواہشیں اس کے اندر پروان چڑھتی رہتی تھیں اور گاہے گاہے اپنا حلیہ بدلتی رہتی تھیں۔ یہ خواہشیں فطرت کے ساتھ جڑی ہوئی تھیں۔ اس فطرت کے ساتھ جو انسان کو دوڑاتی نہیں، تھکاتی نہیں اور نہ ہی بے چین و مضطرب کرتی ہے، بلکہ سایہ بن کر اس کو تیز دھوپ سے بچاتی ہے۔ وہ ان مادی خواہشات کے فریب میں نہیں تھا جو انسان سے انسانیت چھین لیتی ہیں اور حیوانیت کے تند شعلوں میں لپیٹ دیتی ہیں۔
وہ ان مادی خواہشات سے کوسوں دور بھاگتا تھا جو انسان سے اس کی انسانیت کی خوبی چھین لیتی ہیں— جو رشتوں کی تمیز ختم کر کے نفرتوں کو جنم دیتی ہیں — جو انسان کو بھگا بھگا کر تھکا دیتی ہیں اور اٹل موت کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔
اس کی سب سے بڑی خواہش فطرت کی تلاش تھی۔ وہ پرندوں اور تتلیوں کے پیچھے بھاگتا تھا۔ پھول اور ہرے بھرے درخت اس کی کمزوری تھے۔ سورج ڈوبنے اور چاند کے اُبھرنے کا منظر اسے ہمیشہ سے پسند تھا۔ ایک دن سورج کے مستقر کی تلاش میں اس نے ڈوبتے سورج کے ساتھ ساتھ سفر کرنا شروع کر دیا۔ سورج اس کی دسترس میں تو نہ آیا لیکن وہ خود جنگل میں کھو گیا۔ بدقت تمام راستہ پا کر گھر پہنچنے میں کامیاب ہوا۔

نیاز الدین کا باپ اگرچہ محنت مزدوری کرتا تھا لیکن گھر میں کوئی تنگی نہ تھی۔ اس کے ماں اور باپ دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ قناعت پسند واقع ہوئے تھے۔
نیاز الدین کی ماں اکثر اس کے والد سے کہا کرتی تھی، ’’اپنے آپ کو تھکانے کی ضرورت نہیں — عزت سے دو وقت کی روٹی مل رہی ہے، ہمارے لیے یہی بہت ہے۔‘‘
اس کا باپ اگرچہ قناعت پسند تھا، صابر و شاکر تھا لیکن اس کے دل میں کچھ خواہشیں گھر کیے بیٹھی تھیں— اس کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ کسی طرح اس کا کچا مکان پختہ ہو جائے۔ وہ اکثر اپنی بیوی سے کہتا تھا، ’’دعا کرو! کسی طرح یہ مکان پکا ہو جائے۔ ہر بارش میں چھتیں ٹپکتی رہتی ہیں۔‘‘
وہ کچے مکان کو پکا کرنے کے منصوبے بنا رہا تھا کہ موت نے آ لیا۔ اس کا باپ یہ حسرت لیے دنیا سے رخصت ہو گیا۔
نیاز الدین نے اپنے باپ کی قبر پکی بنوائی اور اس پر کتبہ نصب کرایا۔ کتبے پر لکھا ہوا تھا، ’’پکے مکان کی حسرت لیے یہ شخص آخر پکے مکان میں پہنچ گیا۔‘‘
اس کی والدہ شوہر کی وفات کا صدمہ نہ سہہ سکی اور کچھ ہی عرصے بعد نیاز الدین کو دنیا میں اکیلا چھوڑ کر راہِ عدم سدھار گئی۔
وہ اب تنہا تھا— مکمل طور پر تنہا— غریب کا ویسے بھی دنیا میں نہ تو کوئی غم گسار ہوتا ہے، نہ رشتہ دار اور نہ ہی دوست۔
اس کا دل دنیا سے لاتعلق تھا، اب بیزار ہو گیا تھا— اکتا چکا تھا— وہ دنیا سے دور جانا چاہتا تھا۔ نفرتوں سے کامل فرار چاہتا تھا۔ سرِ دست عملی طور پر یہ فرار دسترس میں نہیں تھا جس کی وجہ سے اس کی داخلی بے چینی دم بہ دم بڑھتی چلی جا رہی تھی۔

اس کی وحشتیں اسے ایک ولی اللہ کے دربار تک لے گئیں اور وہ آستانے کا مرید ہو گیا۔
اس نے سنا تھا کہ یہاں دنیا سے بیزار لوگ بسیرا کرتےہیں— فقیروں کا دنیا سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہوتا— اس نے یہ بھی سنا تھا کہ ملنگ اپنی موج میں رہتے ہیں، کسی کی طرف نہ لالچ بھری نظروں سے دیکھتے ہیں اور نہ ہی کسی سے توقعات کی ڈوری باندھتے ہیں۔ سنی سنائیوں پر یقین کرتے ہوئے وہ ان فقیروں کا ہم سفر ہو گیا تھا—
کچھ دن یہاں گزارنے کے بعد اس کی سنی سنائی باتیں کمزور پڑنے لگیں— توقعات پر پانی پھرنے لگا۔ فقیر، فقیر نہیں تھے۔ دنیا سے بیزار ، بیزار نہیں تھے بلکہ دنیا کے طالب تھے۔ یہاں بھی اُسے فقیروں کا بھیس اوڑھے سارے دنیا دار نظر آئے جو اپنی اپنی خواہشوں کے ویسے ہی اسیر تھے جیسے عام دنیا والے۔
دربار کا متولی فقیری لباس پہن کر ہر وقت نذرانے اکٹھے کرنے کے چکر میں لگا رہتا تھا— اگر نذرانے کم اکٹھے ہوتے تو وہ مریدوں پر چڑھائی کر دیا کرتا تھا۔
’’حرام خور ہو تم۔ ہڈ حرام ہو — چور ہو تم— ہزاروں لوگ آج دربار پر آئے ہیں اور نذرانہ صرف چند ہزار روپے؟ دفع ہو جائو میری نظروں سے تم سب۔‘‘
فانی دنیا کا درس دینے والامتولی ہمیشہ زندہ رہنے کے لیے مال و اسباب اکٹھا کر رہا تھا— اس منافقت کو کھلی آنکھوں دیکھ کر اس کا دل ٹوٹ گیا۔ ایمان متزلزل ہونے لگا۔
سبز چولے پہنے، گلے میں تسبیحیں ڈالے سبحان اللہ کا ورد کرنے والے فقیر متولی سے زیادہ دنیا دار تھے۔ لنگر کی تقسیم کے وقت ہرفقیر سبحان اللہ کا ورد بھول کر اپنے لیے اچھی روٹیاں اور بڑی بوٹیاں جھپٹنے کے چکر میں ہوتا تھا۔ ہر فقیر متولی کا قرب حاصل کرنے کے لیے دوسروں کی ٹانگیں کھینچنے میں لگا رہتا تھا۔ غیبت کا رواج عام تھا۔ کچھ پرانے فقیر نذرانوں سے زیادہ حصہ بٹورنے کے چکر میں لگے رہتے تھے۔ دنیا سے دور رہنے کا مشورہ دینے والے خود چھوٹی چھوٹی رقمیں آنکھ بچا کر پار کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔
وہ ترکِ دنیا کی طلب میں راہِ فرار حاصل کرنے کیلئے فقیر بنا تھا۔ مزار کو دنیاسے غیر متصل جگہ سمجھ کر پناہ گزیں ہوا تھا مگر یہاں بیٹھ کر اسے پتہ چلا کہ یہ مزار دنیا سے الگ نہیں، بلکہ دنیا کا ہی ایک تجارتی مرکز تھا،،۔ ایک بازار تھا— دنیا بھی عجیب شئے ہے۔ کوئی دنیا سے دور بھاگ رہا ہے۔ کوئی دنیا کے تعاقب میں سانسیں پھلا رہا ہے۔ ۔۔
انسان آگ کو روشنی سمجھ کر اس کے پیچھے بھاگتا ہے اور پھر روشنی کے دھوکے میں آگ کو پکڑ لیتا ہے۔ جل جاتا ہے۔ وہ جلتا رہتا ہے لیکن آگ کو چھوڑنے پر مائل نہیں ہوتا۔
ہمیشہ دھوکہ کھانے والاانسان— اُس جلتے ہوئے انسان کے شعلوں کی لپٹوں کو روشنی سمجھ کر اس کے قریب آتا ہے۔ بدن سے بدن آگ پکڑ لیتا ہے۔ انسان سے انسان جلتا ہے۔ تیسرا انسان ملتف ہوتا ہے۔ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔
زندگی کے فریب میں مبتلا ہو کر آخر کار ، یکے بعد دیگرے، سبھی جل مرتے ہیں۔

مزار کو چھوڑا تو یکبارگی بے سائبانی سے واسطہ پڑ گیا۔ نیاز الدین ایک بار پھر دنیا میں تنہا ہو گیا تھا۔ اس کے پڑوسی اور بچپن کے دوست اسے پاگل سمجھ کر اس سے کنی کترانے لگے تھے— کچھ اس کی طرف طنزیہ مسکراہٹ اچھال کر آگے بڑھ جاتے تھے اور کچھ اس کا مذاق اُڑا کر قہقہے لگانے لگتے تھے۔ کچھ پرانے ہمدرد اسے دنیا کا مفہوم سمجھانے کی کوشش کرتے، ’’دنیا کوشش کرنے اور آگے بڑھنے کا نام ہے۔‘‘
وہ مسکرا کر جواب دیتا، ’’پیچھے رہ جانے والوں اور آگے بڑھ جانے والوں کا انجام تو ایک ہی ہوتا ہے۔ آگے ضرور بڑھو لیکن آگے پیچھے، دائیں بائیں، ہر جانب دیکھ بھال کر بڑھو۔ تم کسی کو پائوں تلے کچلو گے تو تم سے آگے بڑھنے کے شوق میں کوئی تمہیں کچل کر رکھ دے گا۔‘‘
وہ لوگوں کے رویوں سے تنگ آ کر ایک بار پھر گھر چھوڑ کر نکل کھڑا ہوا اور اس نے گھر سے دور ویرانے میں واقع ایک چھوٹی سی مسجد میں پناہ حاصل کی۔ یہ مسجد آبادی سے خاصی ہٹ کر ایک قبرستان میں بنی ہوئی تھی۔ قبرستان میں آنے جانے والے لوگ یہاں نماز پڑھا کرتے تھے۔
مسجد کا امام مولوی رمضان مسجد کے ساتھ بنے ہوئے چھوٹے سے حجرے میں قیام پذیر تھا۔ یہاں کی ویرانی اور خاموش ماحول دیکھ کر نیاز الدین نے عافیت بھری سانس لی۔ سوچنے لگا، ’’لگتا ہے کہ مجھے میری منزل مل گئی ہے۔‘‘
مولوی رمضان کی بیوی فوت ہو چکی تھی۔ بچے اپنی شادیوں کے بعد اپنے باپ کو بالکل بھول چکے تھے—وہ اپنے باپ سے کبھی رابطہ نہیں کرتے تھے۔ وہ نماز پڑھانے کے علاوہ آس پاس کی بستیوں میں دم درود اور گنڈے تعویذ کا کام بھی کرتا تھا جس سے اس کو اچھی خاصی آمدنی ہو جاتی تھی۔ جانوروں کے دودھ کو بڑھانے والاایک خاص تعویذ اس کے پاس تھا— دور دراز سے لوگ یہ تعویذ حاصل کرنے کیلئے آتے رہتے تھے۔
اس کا خرچ نہ ہونے کے برابر تھا کیونکہ تینوں وقت باقاعدگی سے اس کیلئے چند گھروں سے کھانا آتا تھا— رہائش مفت تھی جبکہ کپڑے جوتے بھی معتقدین وقتاً فوقتاً دیتے تھے۔
نیاز الدین یہاں بہت خوش تھا۔ آہستہ آہستہ اس کی مولوی کے ساتھ بے تکلفی ہوتی گئی۔ ایک دن مولوی نے اسے کہا، ’’بس یہ قسمت کی بات ہے کہ اس ویرانے میں پھنس گیا ہوں— میری بڑی خواہش تھی کہ شہر کی بڑی مسجد میں امامت کراتا کیونکہ وہاں پیسہ بھی زیادہ ہے اور عزت شہرت بھی— یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘
نیاز الدین کو اس کی آنکھوں میں حسرتوں اور نامکمل خواہشوں کی دیوانہ وار رقص کرتی ہوئی پرچھائیاں نظر آئیں۔
مولوی رمضان دور آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا، جیسے کچھ تلاش کر رہا ہو۔
پھر بولا، ’’میں ابھی بھی کوشش کر رہا ہوں کہ مجھے کسی بڑی جامع مسجد میں جگہ مل جائے اور اس ویرانے سے میری جان چھوٹ جائے۔‘‘
نیاز الدین کے دل کو گھونسا لگا۔ سوچ میں پڑ گیا، ’’افسوس! یہ ویرانہ، قبرستان اور مسجد بھی اس مولوی کے دل سے دنیا کو نہیں نکال سکی۔ انسان بھی کتنی عجیب چیز ہے کہ ہر وقت غموں اور ہنگاموں کی تلاش میں رہتا ہے۔‘‘
مولوی نذرانوں اور تعویذ گنڈوں سے کافی پیسے اکٹھے کر رہا تھا۔
ایک دن نیاز الدین نے پوچھا، ’’مولوی صاحب! اتنے پیسوں کا کیا کرو گے؟ لوگ اپنے بال بچوں کیلئے مال و دولت جمع کرتے ہیں جبکہ تمہارے تو بچے بھی تمہیں مستقل طور پر چھوڑ چکے ہیں۔تم نے خود ہی بتایا تھا کہ وہ تمہاری خیر خبر تک لینے کے روادار نہیں ہیں۔‘‘
مولوی نے اس کی طرف دیکھ کر قدرے تفاخر سے کہا، ’’میں نے زمین لی ہوئی ہے۔ اس پر ایک بڑا سا ، عالی شان سا مکان بنانا چاہتا ہوں۔ ‘‘
مولوی بڑھاپے میں بھی جوان تر خواہشیں دل میں چھپائےبیٹھا تھا۔ اس نے گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے لہجے میں کہا، ’’کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میرے اندر مجھ سے جدا اور الگ مزاج کا انسان بیٹھا ہوا ہے جو مجھے ویرانوں سے نکال کر ہنگاموں اور رنگینیوں کی طرف لے کر جانا چاہتا ہے۔‘‘اس نے اپنی بات پر زور دے کر کہا، ’’ہاں! ہر انسان کے اندر ایک اور انسان چھپا ہوتا ہے۔ یہ اندر اور باہر والے انسان ایک دوسرے سے دست و گریبان رہتے ہیں۔ لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں۔نیاز الدین! مجھے بھی اپنے اندر سے ایسی آوازیں سنائی دیتی رہتی ہیں۔ ‘‘
نیاز الدین کی مایوسیاں بڑھنے لگیں۔ ایک دن وہ مولوی کو سوتا ہوا چھوڑ کر اس مسجد کی ویرانی سے بھاگ نکلا اور دوبارہ اپنے کچے گھر میں پہنچ گیا۔

پرانے دوستوں نے پھر اُسے آن تھاما۔ سمجھایا۔ پھر انہی کا مشورہ مان کر اس نے شادی کر لی۔ اس نے گریجویشن کر رکھی تھی۔ تھوڑی کوشش سے اسے ایک دفتر میں کلرک کی نوکری مل گئی۔ زندگی دوبارہ اپنی ڈگر پر چل نکلی تھی۔ ۔۔
اس کی زندگی گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ وہ اپنے باپ کے بنائے ہوئے کچے گھر میں بدستور مقیم تھا۔
ایک دن وہ اپنے باپ کی قبر پر گیا تو قبر کے کتبے کو دیکھ کر اسے اپنے باپ کی دلی خواہش یاد آ گئی، ’’دعا کرو! اس کچے گھر کو میں پکا کر لوں۔‘‘
اس کی دھندلائی ہوئی آنکھوں میں باپ کا سراپا آن ٹھہرا۔
اس نے قبر پر کھڑے ہو کر عہد کیا کہ وہ اپنے باپ کی اس خواہش کو ضرور پورا کرے گا— لیکن تنخواہ میں تو گھر ہی مشکل سے چلتا تھا، گھر کیسے بن سکتا تھا؟
اس نے گھر پکا کرنے کی خواہش میں پہلی بار رشوت کا دروازہ کھولااور مایا دیوی کا استقبال کیا— پھر یہ دروازہ اس نے کبھی بند نہیں کیا۔ مایا دیوی درشن کراتی رہی، وہ درشن کرتا رہا اور ساتھ مالامال ہوتا رہا—
دفتر میں اور دفتر کے باہر اس نے ہر جگہ دیکھا کہ عزت صرف دولت اور طاقت کی ہے۔ گھر پکا ہوتے ہی اس کی عزت اور شہرت میں اضافہ ہو گیا۔ دولت کی طاقت نے اسے دنیا دار بناکر اپنے پیچھے چلا لیا تھا۔
دنیا سے دور بھاگنے والاآخر کار دنیا کے تعاقب میں بگٹٹ بھاگنے لگا تھا۔ ایسے میں اسے تعبیریں بتانے والے کی بات یاد آ گئی، ’’آخر کار دنیا تمہیں اپنی طرف کھینچ لے گی۔‘‘
اس کے لبوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ ابھری اور پھر چند لمحوں بعد تحلیل ہو گئی۔

اس نے زیادہ طاقت کے حصول کیلئے ہاتھ پائوں مارنے شروع کر دیے۔ اسے احساس ہوا کہ اس عہدے میں اتنی کمائی کی ہی گنجائش تھی، جتنی وہ حاصل کر رہا تھا— زیادہ دولت کے حصول کے لیے اسے بڑی گنجائش والے عہدے کی ضرورت تھی۔
اس نے مقابلے کے امتحان کی تیاری شروع کر دی۔ اس کی محنت رنگ لائی اور وہ اعلیٰ پوزیشن لے کر امتحان پاس کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
پھر وہ ایک بڑی گنجائش والے اعلیٰ عہدے پر براجمان ہو گیا۔ طاقت حاصل ہوئی تو آس پاس خوشامدیوں کا ہجوم لگ گیا۔ ایک پرانے افسر نے اسے پہلے دن ہی کامیابی کا گر بتا دیا تھا،’’ اپنے سے بڑے افسر کی خوشامد کرو اور اپنے ماتحتوں کو دبا کر رکھو۔‘‘
طاقت اس کے بازئوں میں سمائی تو ایک ایک کر کے اخلاقی اصول و قواعد رخصت ہونے لگے— آخر کار دولت حاصل کرنے کے لیے اس نے تمام اخلاقیات ایک طرف سمیٹ دیں اور دونوں آستینیں سمیٹ کر دولت کے درپے ہو گیا۔

اس کی زندگی نے بہت کچھ دیکھنے کے بعد ہی پلٹا کھایا تھا۔ اس نے دیکھا تھا کہ دوسروں کو فانی دنیا کا درس دینے والے خود ہمیشہ زندہ رہنے کےلیے مال و دولت اکٹھی کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ آخرت اور ابدی زندگی کا درس دینے والے خود اپنے لیے اسی دنیا کو جنت بنانے کی تگ و دو میں مصروف تھے۔ روپ اور بہروپ کی حقیقتوں سے آشنا ہو کر وہ یہاں پہنچا تھا۔ اس نے اپنے گھر میں ایک تحریر لکھ کر لگوائی ہوئی تھی۔
’’دنیا میں اصل فلسفہ دولت اور طاقت کا ہے۔ باقی سارے فلسفے اس کے حصول کے لیے تخلیق کیے گئے ہیں۔ ‘‘
نیاز الدین کی زندگی اب خواہشوں کی تشکیل و تکمیل میں صرف ہونے لگی تھی۔ دورانِ ملازمت اس نے بہت مال و دولت اکٹھی کر لی تھی— ایک محل نما کوٹھی میں وہ رہائش پذیر تھا۔ شہر میں کئی بڑے پلازے اور وسیع زرعی زمین اس کی ملکیت بن چکی تھی۔ اس کے علاوہ اس نے ایک فیکٹری بھی قائم کر لی تھی جس میں اچھی خاصی تعداد میں مشینیں اور انسان کام کرتے تھے۔ لیکن— لیکن خواہشات تھیں کہ کہیں سستانے پر تیار نہیں تھیں۔ بگٹٹ دوڑتی چلی جا رہی تھیں اور — پھولی ہوئی سانسوں والانیاز الدین ان کے تعاقب میں تھا۔

ریٹائرمنٹ کے بعد اس کی ہوس اور بڑھ گئی تھی۔
وہ اکثر اپنے دوستوں سے شکوہ کرتا تھا، ’’افسوس! میں زندگی میں زیادہ جائیداد نہیں بنا سکا۔ میرے ساتھ اسلم صاحب تھے، انہوں نے بیرونِ ملک جائیداد اور کاروبار سیٹ کر لیا ہے۔ مجیب بھی میرے ساتھ ریٹائر ہوا ہے۔ اس کا دبئی میں پلازہ ہے۔‘‘
اس کی بے چینیاں بڑھتی جا رہی تھیں۔
ایک دن اس کو ایک عجیب و غریب رجسٹر ملا۔ رجسٹر پر ایک سفیدرنگ کی چٹ لگی ہوئی تھی جس پر لکھا تھا، ’’خواہشات کا رجسٹر— اس میں لکھی جانے والی ہر خواہش چوبیس گھنٹے میں پوری ہو جاتی ہے۔شرط یہ ہے کہ ہر خواہش دس ہزار روپے میں پوری ہونے والی ہو۔ اگر خواہش بڑی ہو تو اسے چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے درج کیا جائے۔‘‘
اس کے لبوں پر استہزائیہ مسکراہٹ اُبھری، ’’بھلا اب خواہشیں بھی رجسٹروں میں لکھنے سے پوری ہونے لگی ہیں؟‘‘
اس نے رجسٹر کو مذا ق سمجھا مگر اس کے اندر مضبوط قدم جمائے بیٹھے لالچ نے اسے رجسٹر اُٹھانے پر مجبور کر دیا۔ اس نے گھر پہنچ کر رجسٹر کو آزمانے کا فیصلہ کر لیا— اس نے رجسٹر میں چند خواہشات لکھیں جو اگلے چوبیس گھنٹوں میں پوری ہو گئیں۔
اس کی آنکھوں میں حیرت آمیز خوشی چمک اٹھی— اس نے فرطِ جذبات سے رجسٹر کو چوم کر سینے سے لگا لیا۔ وہ دوست، رشتے دار حتیٰ کہ محل نما کوٹھی کے باہر کی دنیا سے بے نیاز ہو کر رجسٹر میں خواہشات لکھنے میں ہمہ تن مشغول ہو گیا۔ ۔۔
وہ سوچتا، ’’نہ جانے کب موت کا پروانہ آ جائے، مجھے جلد از جلد تمام خواہشات کو رجسٹر میں لکھ لینا چاہیے۔‘‘لیکن رجسٹر تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا— وہ جتنے صفحات لکھتا تھا، اتنے ہی صفحات کا اگلے دن رجسٹر میں اضافہ ہو جاتا تھا— خواہشیں بھی ختم ہونے کو نہیں آ رہی تھیں۔ جتنی پوری ہوتی تھیں، اتنی مزید دل کو آماجگاہ بنا لیتی تھیں—
اسے کھانا پینا بھول چکا تھا۔ نیند آنکھوں سے اُڑ گئی تھی۔وہ تھا، خواہشیں تھی اور رجسٹر تھا۔
پھر ایک دفعہ جب رات اپنا نصف سفر طے کر چکی تھی اور نیاز الدین پورے انہماک سے سر جھکائے رجسٹر میں خواہشوں کے اندراج میں مگن تھا، دروازے پر دستک ہوئی۔
وہ پریشان ہو گیا ، ’’اس وقت کون آ سکتا ہے یہاں؟‘‘
سوچنے لگا، ’’شاید رجسٹر کا کسی کو پتہ چل گیا ہے اور وہ اسے چوری کرنے آیا ہے۔‘‘
دروازے پر زور زور سے دستک ہونے لگی۔ مجبوراً اس نے ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا تو سامنے ایک روشن ہیولاکھڑا تھا۔ ’’تم کون ہو؟‘‘ وہ سہم کر مستفسر ہوا۔
’’موت کا فرشتہ!‘‘ ایک سرسراتی ہوئی آواز بلند ہوئی۔
نیاز الدین خوف سے تھر تھر کانپنے لگا ۔ اس کے ماتھے پر سردی کے باوجود پسینہ چمکنے لگا— وہ خوف سے ہکلاتے ہوئے بولا، ’’آدھی رات کو تم یہاں کیا کرنے آئے ہو؟‘‘
وہ مسکرا یا، ’’اپنا کام! ہم تو اللہ کے حکم سے آتے ہیں اور موت نہ دن دیکھتی ہے، نہ رات۔‘‘
نیاز الدین بولا، ’’خواہشات کا رجسٹر ابھی کافی خالی پڑا ہے۔ اگر ہو سکے تو مجھے کچھ مہلت دے دو۔‘‘
فرشتہ بولا، ’’دنیا میں ہر چیز کا کنارہ ہے۔ دریا، سمندر، حتیٰ کہ آسمان کا بھی کنارہ ہے مگر خواہشات کا کوئی کنارہ نہیں ہوتا۔‘‘پھر اس نے آسمان کی طرف دیکھا ، جیسے آسمان کی لامحدود وسعتوں کا احاطہ کر رہا ہو، پھر گویا ہوا، ’’کائنات میں چاند، ستاروں کے لیے راستے محدود ہیں لیکن قدرت نے خواہشوں کو بے لگام چھوڑ رکھا ہے۔ میں تمہیں ایک ہزار سال کی مہلت بھی دے دوں تب بھی یہ رجسٹر مکمل نہیں ہو سکے گا بلکہ تمہارے آنے والی دس نسلیں بھی اسے پورا نہیں کر پائیں گی۔ اور تم کیا سمجھتے ہو کہ تم سے پہلے یہ رجسٹر کسی کو نہیں ملا تھا؟ نہیں اے بشر! یہ ہر انسانی ہاتھ سے لکھا جاتا رہا ہے۔‘‘
نیاز الدین کا حلق سوکھ چکا تھا۔ عاجز ی سے کانپتی ہوئی آواز میں بولا، ’’میں خواہشات کے چکر میں نیک اعمال کو بالکل بھول گیا تھا۔ میرے اعمال کا خانہ شاید مکمل طور پر خالی پڑا ہو۔ مجھے اپنے اعمال ٹھیک کرنے کیلئےکچھ مہلت دے دو—‘‘
خوف سے اس کا چہرہ زرد ہو چکا تھا، تمام بدن تھر تھر کانپ رہا تھا، آواز بھی— بولا، ’’اس تاریک رات اور سرسراتی ہوئی ہوا نے میرے اندر موت کا خوف بہت بڑھا دیا ہے۔ تم دن کے اجالے میں آ جانا۔‘‘
فرشتہ بولا، ’’موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ یہ اس طوفان کی طرح ہے جو نہ بادشاہ کا محل دیکھتی ہے اور نہ ہی فقیر کی جھونپڑی۔ موت بے حس ہے— یہ نہ ماں کی چیخ و پکار کو خاطر میں لاتی ہے، نہ بچے کی بے بسی اور نہ باپ کی ٹوٹتی کمر—‘‘
نیاز الدین کی حالت خراب ہو رہی تھی۔ وہ توبہ کرنے کیلئے مہلت مانگنا چاہتا تھا مگر حلق سوکھ کر کانٹا ہو چکا تھا۔ آواز ساتھ چھوڑ چکی تھی۔ وہ چکرا کر فرش پر گر گیا۔ چاروں شانے چت ہو گیا۔
فرشتے نے آگے بڑھ کر اس کی روح قبض کی اور پھر اس کی بے نور آنکھوں میں جھانک کر دیکھا۔ ایک بے عنوان سی مسکراہٹ فرشتے کے لبوں پر ایک ساعت کو ابھری، پھر اس کے وجود کے ساتھ ہی تحلیل ہو گئی—
نیاز الدین کی بے نور اَدھ کھلی آنکھوں میں ابھی بھی ہزاروں خواہشیں لکھی ہوئی تھیں!

 

 

واعظ



سلامت پرانا مَے خوار تھا۔
اس کا کوئی گھر نہیں تھا، کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، گویا وہ پیدا ہی مَے خانے میں ہوا تھا —پلا بڑھا بھی یہیں تھا۔
نہ چاہتے ہوئے بھی مَے خانے سے نکلتے ہوئے اس کا سامنا عمومی طور پر نوجوان واعظ عمر سے ہو جاتا تھا۔ عمر اس وقت مسجد سے نماز پڑھا کر نکلتا تھا۔
اس نوجوان واعظ کو آئے ہوئے ابھی کچھ ہی عرصہ ہوا تھا۔ وہ پہلے واعظ عبدللہ کی وفات کے بعد یہاں تعینات کیا گیا تھا۔
واعظ سلامت کو مسکراہٹ بھرا سلام کرتا اور خاموشی سے آگے نکل جاتا۔
سلامت اس پر طنز کرنے سے کبھی باز نہیں آتا تھا، ’’جو شراب میں سرور ہے، وہ تیری باتوں میں کہاں؟ — یہ غموں کو نچوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ تیری باتیں ڈراتی ہیں۔ جہنم کے ڈرائونے منظر دکھاتی ہیں—‘‘
نوجوان واعظ ہمیشہ اس کی باتوں کو خوش دلی سے نظر انداز کر کے گزر جایا کرتا تھا۔
سلامت اس کے ردعمل کو نہ سمجھتے ہوئے اکثر سوچا کرتا تھا، ’’یہ کیسا واعظ ہے؟ یہ نہ مجھ سے نفرت کرتا ہے نہ میری شراب سے۔‘‘
بستی کے لوگوں میں بھی اس نوجوان واعظ کے بارے میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئی تھیں، ’’بزرگ واعظ عبداللہ کی موجودگی میں تو کسی مے کش اور بدکار کو جرات نہیں ہوتی تھی کہ وہ اس کے سامنے آئے۔ سارے ہی اس کو دیکھتے ہی نظر بچا کر رفوچکر ہو جایا کرتے تھے۔ اس کا خاصا رعب و دبدبہ تھا۔ ‘‘
عبداللہ کی وفات کے بعد جب سے یہ نوجوان واعظ یہاں آیاتھا، پینے پلانے والوں اور لنڈوروں کی دیدہ دلیری میں اضافہ ہو گیا تھا۔
ایک شخص نے کہا، ’’یہ کیسا واعظ ہے جو ان پینے والے لونڈوں لپاڑوں کی سرزنش ہی نہیں کرتا۔‘‘
ایک نوجوان تفکر آمیز لہجے میں بولا، ’’اگر بدکاروں کی یہی دیدہ دلیری رہی تو ایک دن ساری بستی برائیوں سے بھر جائے گی— ہر کوئی پینے اور شغل کرنے لگے گا۔ پھر اللہ کے عذاب کو کوئی نہیں روک سکے گا۔‘‘
ایک اور آواز اُبھری ،’’ہمیں اس نوجوان واعظ کو منصب سے ہٹانے کے لیے متحد ہونا پڑے گا۔ مجھے تو یہ خود بدکاروں کا ساتھی لگتا ہے۔‘‘
شمس الدین، جو بستی کا معمر ترین شخص تھا، بولا، ’’یہ برائی اور بدکاری اچانک سے تو پیدا نہیں ہوئی۔ پہلے سے موجود چلی آ رہی ہے— یہ پینے والے بھی پہلے سے موجود ہیں۔ ہاں ! میں مانتا ہوں کہ واعظ عبداللہ کی موجودگی میں کسی بدکار کو سامنے آنے کی جرات نہیں ہوتی تھی لیکن دیواروں کے پیچھے تو یہ برائی موجود تھی—ختم نہیں ہوئی تھی۔‘‘
بزرگ نے سوالیہ انداز میں اس جوشیلے نوجوان سے پوچھا، ’’مجھے بتائو! عبداللہ کی سختی نے اس برائی کو ختم کر دیا تھا؟‘‘
نوجوان نے جواب دیا، ’’میں مانتا ہوں کہ وہ برائی کو ختم نہیں کر سکا تھا لیکن اس نے کم از کم ان کو لگام تو ڈال رکھی تھی۔ ان کی یہ مجال تو نہیں تھی کہ اس کے سامنے سے گزرتے۔‘‘
بزرگ نے فلسفیانہ انداز میں کہا، ’’خوف اور سختی سے برائی وقتی طور پر تو رک سکتی ہے لیکن ختم نہیں ہو سکتی۔ خوف برائی کو دیواروں کے پیچھے دھکیل سکتا ہے لیکن جڑ سے اکھاڑ کر پھینک نہیں سکتا۔ بیٹا! برائی کو دلیل سےشکست دی جاسکتی ہے، طاقت سے نہیں۔‘‘
نوجوان نے استہزائیہ انداز میں قہقہہ لگایا، ’’ اگر دلیل سے برائی رکتی تو یہ نوجوان واعظ ابھی تک کامیاب ہو چکا ہوتا اور مے کش بازاروں میں اس طرح گریبان کھول کر دندناتے نہ پھر رہے ہوتے۔‘‘
بزرگ بولا، ’’بیٹا! تم جوانی کے جوش میں ایسی باتیں کر رہے ہو۔ دلیل زیادہ وقت ضرور لیتی ہے لیکن ازلی کامیابی اسی کا مقدر ٹھہرتی ہے۔ جبکہ خوف اور تشدد صرف وقتی کامیابی دیتے ہیں—دیکھنا! یہ نوجوان واعظ ایک نہ ایک دن اس برائی کو ختم کرنے میں ضرور کامیاب ہو جائے گا۔‘‘
نوجوان اور بزرگ کی بحث سننے کیلئے کافی سارے لوگ اکٹھے ہو گئے تھے۔ سبھی دونوں کے درمیان ہونے والی باتوں کو غور اور دلچسپی سے سن رہے تھے۔
پھر اور لوگ بھی آہستہ آہستہ گفتگو میں شامل ہونے لگے— کچھ نوجوان کے طرف دار بن گئے تو کسی کو بزرگ کی دانش مندانہ باتیں متاثر کر رہی تھیں۔
نوجوان زچ ہو کر بولا، ’’بابا ! تم نیکی اور بدی کے فلسفے کی آڑ میں نوجوان واعظ کی ناجائز حمایت کر رہے ہو۔ مجھے تو تم اس کے ایجنٹ لگتے ہو۔‘‘
بزرگ نوجوان کی بات سن کر ایک دم غصے میں آ گیا۔
’’تم کمال الدین کے بیٹے جلال الدین ہی ہو نا؟‘‘
نوجوان نے اثبات میں سر ہلایا، ’’جی! ٹھیک پہچانے ہیں آپ مجھے!‘‘
بزرگ بولا، ’’بیٹا! میں تمہیں اور تمہارے ان دو نوجوان ساتھیوں کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ میری زندگی بستی کی انہی گلیوں میں گھومتے پھرتے گزری ہے۔ میں تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی پارسائی کی اصل حقیقت سے بھی پوری طرح واقف ہوں۔ رات کے اندھیروں میں تم لو گ جو گل کھلاتے ہو، مجھے پتہ ہے۔ لیکن چونکہ تم امیر ہو، تمہارے گھروں کی دیواریں اونچی ہیں، اس لیے تمہیں کوئی آسانی سے دیکھ نہیں سکتا۔‘‘
بزرگ غصے سے تھوک نگلتے ہوئے بولا، ’’یہی تو منافقت ہے ہمارے معاشرے کی۔ برے لوگ بھی دنیا داری کیلئے پارسائی کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔‘‘
یہ باتیں سن کر نوجوان غصے میں آ گیا، ’’تمہاری اتنی جرات کہ مجھ پر انگلی اٹھائو؟— بڑے آئے پارسا— بے غیرت انسان— بابا کہہ کر بلا رہا ہوں تو اوقات سے ہی نکل گئے ۔‘‘
نوجوان اور اس کے ساتھی ایک دم آگے بڑھے اور انہوں نے بزرگ کا گریبان پکڑ کر جھنجھوڑ ڈالا۔ ایک نے تو حد کر دی۔ اس نے آئو دیکھا نہ تائو، دو تین تھپڑ بھی بوڑھے چہرے پر جڑ دیے۔
بزرگ نوجوان ہاتھوں کی ضربیں کہاں برداشت کر سکتا تھا۔ وہ لڑکھڑا کر منہ کے بل گر گیا۔ اس کے منہ سے خون بہنے لگا۔
لوگوں نے بھاگ کر بیچ بچائو کرایا اور بزرگ کی جان ان لونڈوں سے چھڑائی— لوگوں کی اکثریت اگر چہ بزرگ کی باتوں سے متاثر تھی، بابا جی کو حق بجانب سمجھ رہی تھی، مگر بھرے مجمع میں سے کوئی بھی بزرگ کی مدد کو نہ بڑھا تھا۔ گویا سبھی لوگ اس نوجوان کے باپ کمال الدین کی امارت اور اثرو رسوخ سے ڈرے ہوئے تھے— یہی تو وہ منافقت تھی جس کا ذکر بزرگ کر رہا تھا۔
شمس الدین زمین سے اٹھا اور یہ کہتے ہوئے چل دیا ، ’’جب دلیل ختم ہو جائے تو پھر بندہ لڑائی جھگڑے پر اُتر آتا ہے۔‘‘

نوجوان واعظ کے کانوں میں لوگوں کی چہ مگوئیاں تواتر سے پہنچتی رہتی تھیں لیکن وہ سب سے بے پروا اپنے کام میں مگن تھا۔ وہ ارد گرد دیکھنے کا روادار نہیں تھا۔ نیک لوگوں میں اس کا اٹھنا بیٹھنا تھا لیکن وہ برائی اور برے لوگوں کی صحبت کو بھی برا خیال نہیں کرتا تھا۔ ان سے نفرت نہیں کرتا تھا۔

اس بستی، اور اطراف کی ملحقہ چند بستیوں پر مشتمل اس راجواڑی کا نظام راجہ اور اس کے درباری مل کر چلا رہے تھے۔ راجہ انصاف پسند تھا۔ اچھا منتظم تھا۔ اس نے اپنے ارد گرد سمجھ دار اور امورِ حکمرانی کو بخوبی سمجھنے والے لوگ جمع کر رکھے تھے۔ راجواڑی میں واعظ کا تقرر بھی راجہ کی طرف سے کیا جاتا تھا۔ واعظ کو بہت سے اختیارات تفویض کیے گئے تھے۔ ان اختیارات کے سبب واعظ کے عہدے کوبہت اہم عہدہ سمجھا جاتا تھا۔ عموماً نئے واعظ کا تقرر پیش رو واعظ ہی اپنی زندگی میں کر دیا کرتا تھا۔ عمومی طور پر راجہ واعظ کے تقرر پر ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کرتا تھا۔
راجہ کی طرف سے یہ حکم جاری کیا گیا تھا کہ ریاست میں اخلاقیات کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری راجواڑی کے واعظ پر عائد ہوتی ہے۔
رہنے سہنے، میل جول، لین دین اور خوشی غمی کے اخلاقی اصول اور نیکی اور بدی کا تعین واعظ ہی کیا کرتا تھا۔
راجواڑی میں مرکزی واعظ کے عہدے کی اہمیت راجہ کے برابر گنی جاتی تھی۔ یہاں تعینات ہونے والے واعظوں کی ایک اپنی تاریخ تھی— کوئی واعظ بہت زیادہ سخت تھا تو کوئی نسبتاً کم سخت— کوئی رعایت دینے کا قائل تھا تو کسی کے ہاں رعایت کا بالکل تصور ہی نہیں پایا جاتا تھا۔
اگرچہ ہر واعظ نے عوام کے لیے نیکی اوربدی کا معیار بہت سخت رکھا ہوا تھا لیکن راجہ اور اس کے خاص درباری ان اخلاقی اصولوں سے ایک طرح سے بری الذمہ اور مستثنیٰ تھے۔
تاریخ میں کچھ واعظ ایسے بھی گزرے تھے جنہوں نے راجہ اور اس کے خاص حواریوں کو اخلاقی دائرے میں پابند کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے اس ارادے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے یا جزوی طور پر انہیں کامیابی نصیب ہوئی تھی۔
راجہ اور واعظ کے تصادم کے نتیجے میں یا تو راجہ اپنے تخت سے محروم ہوا یا واعظ کو راجواڑی سے بے نیل ِ مرام نکلنا پڑا تھا۔ ایک دو بار تو ایسا بھی ہوا کہ راجہ اور واعظ دونوں کو ہی اپنے عہدوں سے سبکدوش ہونا پڑا —
بعد میں آنے والے واعظوں نے تاریخ سے سبق سیکھ لیا تھا ۔ وہ اپنے دائرہ ءِ اختیار کو بخوبی سمجھتے ہوئے راجہ اور اس کے درباریوں کے معاملات میں نہ تو دخل دیتے تھے اور نہ کبھی ان پر عمومی اخلاقی قوانین عائد کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

راجہ اور امرا کے علاوہ عام لوگوں کے لیے غلطی کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ کبھی کبھی تو کوئی سزا پانے والاشرابی یا بدکار جھنجھلا کر پکار اٹھتا تھا، ’’یہ کیسا انصاف ہے؟ درباری اور امرا ہر وقت نشے میں مدہوش رہتے ہیں، ان کے جو جی میں آتا ہے وہ کرتے ہیں، مگر انہیں کوئی نہیں پوچھتا جبکہ ہمیں چند گھونٹ پینے کے جرم میں اتنی بڑی سزا سنا دی جاتی ہے۔‘‘
ایسی باغیانہ آواز اُٹھانے والوں کی سزا میں اضافہ کر دیا جاتا تھا۔
سزا بڑھ جانے کے ڈر سے آہستہ آہستہ یہ باغیانہ صدائیں دم توڑ گئی تھیں۔
تاریخ میں جتنے بھی واعظ گزرے تھے، ان میں مے کشوں اور بدکاروں کے لیے سب سے سخت دور ’’واعظ عبداللہ‘‘ کا دورِ تعیناتی تھا۔
عبداللہ کو برائی اور برے لوگوں سے سخت نفرت تھی۔ وہ ایک نیک نام اور پرہیز گار خاندان میں پیدا ہوا تھا— اس کا باپ بستی کا سب سے زیادہ پرہیز گار انسان تھا۔ عبداللہ نے برائی کبھی دیکھی نہیں تھی۔ اس لیے وہ برائی اور برے لوگوں کی نفسیات سے یکسر ناآشنا تھا۔ وہ برائی کے وجود کو سرے سے مٹا دینے کا قائل تھا۔
اگر کوئی برائی کے جواز میں اپنی کوئی مجبوری یا لاعلمی پیش کرتا تو عبداللہ اس کی سزا میں اضافہ کر دیتا اور غصے سے کہتا، ’’برائی کا جواز گھڑنا اور یہ کہنا کہ مجھے اس کا علم نہیں تھا، برائی سے بھی بڑا گناہ ہے اور اس کی سزا الگ ہے۔‘‘
عبداللہ یہ بھی کہتا تھا، ’’خدا نے اجر، ثواب اور جنت نیکی کے صلے میں رکھی ہے۔ خدا کے نظام میں برائی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘‘
ایک دفعہ اس نے بزرگ شمس الدین کو مے کش سلامت کے ساتھ دیکھ لیا اور اس بات پر اسے کوڑوں کی سزا سنا دی۔ حالانکہ شمس الدین کی پرہیز گاری اور شرافت پوری بستی میں مثال کا درجہ رکھتی تھی۔
عبداللہ نے اپنی زندگی میں ہی نوجوان عمر کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا۔ ماضی میں واعظ کے عہدے پر بزرگ ہی فائز ہوتے چلے آ ئے تھے۔ عمر پہلا واعظ تھا جو جوان العمر تھا۔

عمر کےعہدہ سنبھالتے ہی خوف سے کونوں کھدروں میں چھپی برائی اچانک باہر آ گئی تھی۔ وہ عبداللہ کی طرح سختی کرنے کی بجائے دلیل سے کام لے رہا تھا۔ لیکن اتنے عرصے سے سختی کے قائل لوگ دلیل سننے کیلئے ذہنی طور پر تیار ہی نہیں تھے۔
وہ پھر بھی نہ تو مایوس ہوا تھا اور نہ ہی پریشان— اس کے چہرے پر ہمیشہ ایک مہربان اور دلآویز مسکراہٹ رہتی تھی —وہ بڑے عزم سے کہا کرتا تھا، ’’آخری فتح دلیل کی ہو گی۔‘‘
ان حالات کو دیکھ کر بستی کے اکثر لوگ کہنے لگے تھے، ’’واعظ کا کام تو برائیوں کو روکنا ہے — واعظ برائی کو نہ روک سکے تو اسے عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔‘‘
اس مخالفت میں پیش پیش وہی نوجوان جلال الدین تھا جس سے بزرگ شمس الدین کی لڑائی بھی ہو ئی تھی۔ نوجوان واعظ بستی میں سب سے زیادہ اعتماد اسی معمر شخص شمس الدین پر ہی کرتا تھا اور اکثر اس کے ساتھ نظر آتا تھا۔
بستی کے لوگ واعظ عمر کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتے تھے۔ اس کے ماضی پر پردہ پڑا ہوا تھا۔ وہ کہاں سے آیا تھا، اس کا واعظ عبداللہ سے کیا تعلق تھا، ان باتوں کا صرف شمس الدین کو ہی علم تھا۔

واعظ عمر جس گھرانے میں پیدا ہوا تھا، وہاں نیکی کا تصور ہی سرے سے ناپید تھا۔ اس کے باپ میں دنیا کی ہر برائی موجود تھی۔ وہ چور، ڈاکو، زانی اور شرابی تھا۔ اسے اپنے بیٹے سے کوئی غرض نہیں تھی اور نہ ہی وہ اس کی تعلیم و تربیت پر کوئی توجہ دیا کرتا تھا۔
باپ کے برعکس والدہ نیک اور پارسا خاتون تھی۔ وہ اپنے بیٹے کیلئے ہر وقت پریشان رہتی تھی۔ وہ اسے نیک اور اچھا انسان بنانا چاہتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ عمر کے باپ کی مرضی کے خلاف اس کی ماں نے اُسے ایک مکتب میں داخل کرا دیا تھا۔
مکتب میں جانے کے باوجود اس پر باپ کا اثر غالب رہا تھا اور وہ بھی شباب کی عمر کو پہنچتے ہی زنا اور شراب کا رسیا ہو گیا تھا۔ اپنے اس شوق کو پورا کرنے کیلئے پہلے وہ ماں اور باپ سے حیلوں بہانوں سے رقم اینٹھتا رہا پھر چوری چکاری جیسے مکروہ دھندے سے منسلک ہو گیا۔
نوجوان واعظ عمر برائیوں میں اپنے باپ سے چار قدم آگے نکل چکا تھا۔ انتہا پر پہنچ کر اچانک اسے برائی سے نفرت ہو گئی — وہ پارسا زندگی کی طرف ایسا لوٹا کہ اس جیسا پارسا اور نیکی پسند شخص معاشرے میں کوئی اور نہ رہا تھا۔
ایک دن اس نے شمس الدین سے کہا، ’’برائی ایک جسم کی طرح ہوتی ہے۔ اس کی آنکھیں ہوتی ہیں۔ وہ دیکھ سکتی ہے۔ اس کے کان ہوتے ہیں۔ وہ سن سکتی ہے۔ اس کی اپنی ناک ہوتی ہے۔ وہ سونگھ سکتی ہے۔ الغرض اس کی تمام حسیات ہوتی ہیں۔ وہ محسوس کر سکتی ہے۔ برائی کا جسم انتہائی کریہہ، غلیظ، گندہ اور بدبودار ہوتا ہے لیکن یہ اپنے آپ کو چھپانے کے لیے نت نئے خوب سے خوب تر لباس اوڑھتی رہتی ہے— انسان اس کے چمک دار ملبوسات سے دھوکہ کھا کر اس کے فریب میں آ جاتا ہے۔ میں نے برائی کی انتہا پر پہنچ کر اس کا لباس تار تار کر کے، اس کی گندگی کو اندر تک جھانک کر دیکھ لیا تھا۔ اس لیے میں نے اچانک واپسی کا راستہ پکڑا اور جہاں سے چلا تھا، وہیں آ کر رُک گیا۔‘‘
باتیں کرتے ہوئے اس پر ایک رنگ آ رہا تھا اور ایک جا رہا تھا۔ شاید وہ ماضی میں کہیں کھو گیا تھا۔ کچھ توقف کے بعد اس نے سلسلہءِ کلام جوڑا، ’’برائی کی انتہا پر پہنچ کر جو پارسائی اختیار کرتا ہے ، پھر اس جیسا پارسا کوئی نہیں ہوتا کیونکہ انتہا کے بعد بندہ آگے نہیں جا سکتا— آگےبند گلی ہے۔ بندگلی سے الٹے پیروں بھاگ کر نکلنا پڑتا ہے۔ جو نکلنے میں کامیاب ہو گیا، وہ بچ گیا اور جو الجھ گیا، وہ غرق ہو گیا۔‘‘
شمس الدین اس کی باتوں سے بہت متاثر تھا۔ وہ بولا، ’’برائی کی دلدل میں دھنسنے والے پھر نکل ہی نہیں پاتے۔ لیکن جس طرح تم نے اپنے آپ کو برائی کی اس اتھاہ دلدل سے نکالا ہے، اس پر میں تمہاری ہمت اور قوتِ ارادی کو سلام کرتا ہوں۔‘‘
واعظ کے لبوں پر ایک ہلکا سا تبسم ہویدا ہوا اور وہ گویا ہوا، ’’میں نے برائی کا ہر رنگ دیکھ لیا تھا۔ اور کوئی رنگ بچا ہی نہیں تھا جس کو دیکھنے کی طلب رہتی۔ اس لیے میرے لیے برائی میں بالکل ہی کشش ختم ہو گئی تھی۔‘‘

واعظ کا رویہ ہر ایک سے انتہائی مشفقانہ تھا۔ وہ جس تبسم اور انکساری سے پارسائوں سے ملتا تھا، اسی تبسم اور خوش اخلاقی سے مے کشوں، بدکاروں اور بھٹکے ہوئوں کو بھی ملتا تھا۔
شمس الدین نے یہی سوال واعظ سے کیا، ’’آپ بدکاروں کو سرزنش نہیں کرتے۔ سب سے خندہ پیشانی سے ملتے ہیں۔ خواہ کوئی بدکار ہو یا پارسا۔ پھر برائی کا خاتمہ کیسے ہو گا؟‘‘
وہ مسکرایا، ’’میں خالق سے محبت کرتا ہوں۔ خالق کی ہر تخلیق سے محبت کرتا ہوں۔ برائی بھی خدا نے پیدا کی ہے اور اچھائی بھی اسی کی تخلیق ہے۔ ہر انسان چاہے برا ہو یا بھلا، خدائے بزرگ و برتر کی تخلیق ہی ہے۔ ہے نا؟‘‘
شمس الدین سوچ میں پڑ گیا تھا۔ شاید وہ اس کے جواب سے مطمئن نہیں تھا۔
واعظ اس کی کیفیت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بولا، ’’خدا کوئی بھی چیز بلاضرورت پیدا نہیں کرتا۔ ہر چیز کی کوئی نہ کوئی افادیت ہوتی ہے۔ جب تک برائی نہ ہو، نیکی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اندھیرا ہے تو رو شنی کی اہمیت ہے۔ بدکار نہ ہو تو لوگ پارسا کو کیسے پہچانیں گے؟ نیکی اور بدی ازل سے ہیں اور ابد تک رہیں گے۔ پھر بدی سے نفرت کیسی؟ بدکار سے نفرت کیوں؟‘‘
شمس الدین اس کی بات کو پوری طرح سمجھ گیا تھا۔

ایک طر ف واعظ اپنے کام میں لگا ہوا تھا اور دوسری طرف نوجوان جلال الدین اپنے کام میں مگن تھا۔ وہ لوگوں کو واعظ کے خلاف اکسا رہا تھا، ’’واعظ کو برائی ختم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ یہ میخواروں کا ساتھی بنا ہوا ہے۔‘‘
وہ یہ بھی کہتا تھا، ’’لوگو! تم نے کبھی واعظ کو دیکھا ہے کہ اس نے کسی بادہ خوار کی سرزنش کی ہو؟ کسی کو سزا دی ہو؟‘‘
بزرگ شمس الدین کو واعظ سے دلی ہمدردی اور محبت تھی۔ اسے یقین تھا کہ وہ ایک نہ ایک دن بستی سے برائیوں کو جڑ سے اکھا ڑ پھینکے گا۔
وہ لوگوں کی باتیں سن کر پریشان ہو جاتا تھا۔ ایک دن اس نے یہی سوال واعظ سے کیا، ’’میں نے آپ کو کسی بدکار کو نصیحت کرتے نہیں دیکھا۔ میں خود یہ سوچ کر پریشان ہوں کہ تم بستی سے برائی ختم کرنے میں کیسے کامیاب ہو گے؟‘‘
واعظ عمر مسکرایا۔ بولا، ’’برے کو لوگوں کے سامنے نصیحت کرنا اور ٹوکنا اچھا اثر لانے کی بجائے ردعمل لاتا ہے۔ یہ عمل اس کے لیے گالی بن جاتا ہے۔ وہ برہم ہو کر باغیانہ انداز اپنا لیتا ہے۔ میں برے لوگوں کو رات کے اندھیرے میں، تنہائی میں، چھپ کر نصیحت کرتا ہوں۔ اسے لوگوں میں شرمسار نہیں کرتا— اس کا بہت اچھا نتیجہ برآمد ہو رہا ہے۔ بہت سارے لوگ آہستہ آہستہ نیکی کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔‘‘

واعظ عمر کی محنت رنگ لارہی تھی۔ لوگ آہستہ آہستہ واقعتاً نیکی کی طرف ملتف ہو رہے تھے اور برائی سے کنارہ کشی اختیار کر رہے تھے۔ برائی خوف سے دیواروں کے پیچھے دبکی ہوئی نہیں تھی بلکہ اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ختم ہو رہی تھی۔ بستی میں چند ہی بادہ خوار رہ گئے تھے۔
شمس الدین کی خوشی اس کے چہرے سے ہویدا تھی۔ وہ واعظ کی کامیابی پر بے تحاشا خوشی اور مسرت محسوس کر رہا تھا۔
دوسری طرف نوجوان جلال الدین حسدکی آگ میں جل رہا تھا۔ وہ نوجوان واعظ کی کامیابی کو محسوس کر رہا تھا اور اسے کامیابی سے باز رکھنے کیلئے اپنے تئیں ہر کوشش کر رہا تھا۔
اس نے واعظ کو بدنام کرنے کی انوکھی ترکیب سوچی۔ اس نے اپنی ایک شناسا فاحشہ عورت کو یہ سمجھا کر واعظ کے گھر بھیجا ،’’وہاں جا کر شور مچائو کہ واعظ نے میری عزت لوٹ لی ہے— میں وہاں لوگوں کو لے کر فوری طور پر پہنچ جائوں گا۔‘‘
فاحشہ عورت جو واعظ کی نصیحت سے نیکی کی طرف لوٹ رہی تھی، نے واعظ کو جا کر ساری بات بتا دی۔ واعظ پھر بھی غصے میں آنے کے بجائے مسکرا دیا، ’’اللہ جلد ہی اس کوراہِ مستقیم پر لے آئے گا۔‘‘
ایک دن شمس الدین نے اس سے کہا، ’’عمر! آپ کو نوجوان جلال الدین نے بہت دکھ دیے ہیں۔ بہت تنگ کیا ہے۔ آپ کو بدنام کرنے کی بہت کوششیں کی ہیں حالانکہ وہ اور اس کے ساتھی رات کے اندھیرے میں اپنی بڑی حویلی میں شراب و شباب کی محفلیں منعقد کرتے رہتے ہیں۔‘‘
شمس الدین کی آنکھوں میں نوجوان اور اس کے ساتھیوں کے لیے شدید نفرت موجزن تھی۔ اس نفرت کو بہ آسانی دیکھا جا سکتا تھا۔
اس نے واعظ سے کہا، ’’کسی رات اس کی حویلی میں چل کر اسے رنگے ہاتھوں پکڑتے ہیں اور سزا دیتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟‘‘
واعظ اس کی بات سن کر مسکرا رہا تھا۔ جب شمس الدین نے اصرار کیا تو اس نے رات کے اندھیرے میں جلال الدین کی حویلی پر جانے کی حامی بھر لی۔

ایک رات وہ اور شمس الدین اندھیرے میں جلال الدین کی حویلی پہنچے۔ حویلی بستی سے کچھ فاصلے پر واقع تھی۔ واعظ اور شمس الدین نے دیکھا کہ حویلی کے دالان میں شراب و شباب کی محفل اپنے پورے جوبن پر تھی۔ نوجوان، واعظ کو دیکھ کر پریشان ہو گیا اور غصے سے بولا، ’’آخر کار تم انتقام لینے میری حویلی تک آ ہی گئے ہو۔ آئو، مجھے اور میرے ساتھیوں کو کوڑے مارو۔ دُرے مارو۔ جو دل میں آئے وہ سزا دو— اپنے کلیجے میں انتقام کی بھڑکتی ہوئی آگ کو ٹھنڈا کر لو۔‘‘
واعظ اس کی باتوں سے طیش میں بالکل نہیں آیا بلکہ اس کے لبوں پر ہمیشہ فروزاں رہنے والی مسکراہٹ تیر رہی تھی۔ دل آویز اور مہربان مسکراہٹ۔
وہ بولا، ’’جلال الدین! میں انتقام لینے نہیں آیا۔ انتقام بھی برائی ہے۔ میں نے انتقام لینا ہوتا تو کب کا لے چکا ہوتا۔ میں تو تمہیں سچائی کے راستے پر لے جانے کے لیے یہاں آیا ہوں۔ میں تو تمہیں صرف اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانا چاہتا ہوں۔‘‘
جلال الدین کو اس کی باتوں اور مہربان رویے پر یقین نہیں آ رہا تھا لیکن اس کی آنکھوں میں سچائی دیکھ کر وہ اندر سے پگھلنے لگا تھا۔
وہ اچانک واعظ کے پیروں میں گر گیا اور گڑگڑاتے ہوئے بولا، ’’مجھے معاف کر دو واعظ— میں تمہیں سمجھ ہی نہیں پایا تھا۔ تم وہ نہیں جو مجھے نظر آتے تھے۔ تم وہ ہو جو مجھے نظر نہیں آتے تھے۔ آج سے میں ہر برائی سے توبہ کر کے اس راستے پر چلنے کا وعدہ کرتا ہوں جس راستے پر تم چل رہے ہو۔‘‘
واعظ نے اسے اٹھا کر سینے سے لگا لیا اور نم لہجے میں اس سے مخاطب ہوا، ’’جلال الدین! معاف کرنے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔ وہی بے نیاز اور غفور الرحیم ہے۔ وہ اپنے انسان کی توبہ کا ہر وقت انتظار کرتا ہے۔وہ کسی کی معافی کو رد نہیں کرتا— وہ تمہاری معافی کو بھی رد نہیں کرے گا۔‘‘
شمس الدین ، جو جلال الدین کو بھیانک سزا دلوانے کے لیے واعظ کو یہاں لایا تھا، اس کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے۔ اس نے کوڑا ایک طرف پھینک دیا اور فرطِ جذبات سے کہا، ’’میں تو جلال الدین کو سزا دینے کے لیے انتقام کی آگ میں تڑپ رہا تھا۔ آج مجھے پتہ چلا کہ انتقام کی آگ بھی نیکیوں کو جلا کر خاکستر کر دیتی ہے۔‘‘
اس نے جلال الدین کو بڑھ کر گلے سے لگا لیا۔ دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ نیکی اور خوشی کے منور آنسو!

آہستہ آہستہ میخانہ ویران ہو رہا تھا۔ صرف سلامت اور اس کے چند اوباش ساتھی ہی رہ گئے تھے۔
ایک دن سلامت نے ازراہِ مذاق واعظ کو میخانے آنے کی دعوت دے دی۔ واعظ ہلکا سا مسکرایا اور اس کے ساتھ ہو لیا۔
سلامت کی آنکھیں مارے حیرت کے پھٹنے کو آ گئیں— کہاں واعظ اور کہاں میخانے کا راستہ —
وہ دونوں میخانے پہنچ گئے۔ دو تین بادہ خوار — ایک پر شباب ساقی کے ساتھ سلامت کے منتظر تھے۔ اس کے ساتھ واعظ کو دیکھ کر ان کی حالت غیر ہونے لگی۔
سلامت ادب کی ساری حدیں پار کر چکا تھا۔ وہ آج ہر صورت واعظ کو نیچا دکھانا چاہتا تھا۔ اس نے ساقی کے ہاتھ سے ایک بلوریں جام پکڑا اور واعظ کو بڑے ادب و احترام سے پیش کر دیا۔ صاف عیاں تھا کہ اس کا مصنوعی ادب اس کے اندر کی خباثت کا آئینہ دار تھا۔
واعظ نے اس کا ہاتھ نہ جھٹکا نہ خالی لوٹایا بلکہ جام پکڑ لیا۔ کچھ سوچا پھر منہ میں کچھ پڑھ کر جام لبوں سے لگا لیا۔ ایک گھونٹ بھرا۔ پھر حیرت سے دیدے پھیلائے کھڑے سلامت سے مخاطب ہوا، ’’چونکہ خاصا بے ذائقہ اور تلخ ہے، اس لیے بس ایک گھونٹ — ورنہ اور بھی پی لیتا۔ بہت شکریہ!‘‘
سلامت اور اس کے ساتھیوں کے منہ سے کچھ پھوٹ نہیں رہا تھا۔ کچھ توقف کے بعد اس نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا، ’’تم کیسے واعظ ہو؟ میخانے میں بھی آگئے ہو، شراب بھی پی لی اور تمہیں کوئی دکھ ملامت بھی نہیں ہے۔‘‘
وہ حسبِ عادت مسکرایا، ’’سلامت! شراب پینا بہت بڑا گناہ ہے۔ لیکن کسی کا دل توڑنا اس سے بھی بڑا گناہ ہے— میں نے آج تمہارا دل ٹوٹنے سے بچانے کے لیے شراب پینے کا کڑوا اور بدذائقہ گناہ کر لیا۔ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے۔‘‘
سلامت چند لمحے واعظ کو دیکھتا رہا۔ لہجے اور چہرے سے عیاں صداقت اور اعتماد پرکھتا رہا پھر ایک سسکی لے کر واعظ کے پیروں میں گر گیا، ’’واعظ! مجھے معاف کر دو۔ میں آج سے تمہارے راستے پر تمہارے ساتھ ہوں۔ آج تم نے مجھے خرید لیا ہے۔ مجھے گناہ اور برائی کا فلسفہ سمجھا دیا ہے۔ آج تم نے مجھے بتا دیا ہے کہ انسان کیا ہوتا ہے؟ انسانیت کیا ہوتی ہے؟ — اور گناہ کیا ہوتا ہے؟—‘‘

 

 

مقدس گائے



شہر کے دروازے پر پہنچتے ہی مسافروں اور نواردوں پر ہیبت طاری ہو جاتی تھی— داخلی دروازہ بہت بڑا اور پھاٹک نما تھا جس کے دونوں طرف خوبصورت مینارے تعمیر کیے گئے تھے۔ دروازے کے دائیں مینارے پر دیوی اور بائیں مینارے پر دیوتا کا بڑا سا مجسمہ ایستادہ تھا۔ دونوں مجسمے خالص سونے کے بنے ہوئے تھے۔ ان کی چمک دیدنی تھی۔
دیوتا کے ہاتھ میں بہت بڑی تلوار تھی۔ یہ تلوار بھی خالص سونے سے بنائی گئی تھی۔ دیوتا کی طلائی آنکھوں میں عجیب سے چمک تھی۔ یوں لگتا تھا جیسےوہ ہر آنے جانے والے شخص کی نگرانی کر رہا ہو۔
دیوی کے گلے میں سونے کا بہت بڑا ہار تھا جبکہ ہاتھ میں ایک لمبا سا گرز تھاما ہوا تھا۔
شہریوں کے نزدیک ہاتھ میں پکڑی تلوار اور گرز شہر کے لیے تحفظ کی علامت تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ یہ دیوی اور دیوتا شہر کو دشمنوں سے محفوظ رکھے ہوئے ہیں—
اس پرانے اور قدیم شہر کا نام دیوتا نگر تھا۔ یہاں ہر طرف دیوتا کے بڑے بڑے مندر تھے جن کے سنہر ےکلس دور سے ہی نظر آتے تھے۔ اکثر مندروں کے کلس سونے کے بنے ہوئے تھے۔ یہاں ہر وقت عقیدت مندوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی۔
عقیدت مندوں کی سہولت کے لیے شہر میں کثرت سے مہمان سرائے موجود تھیں۔ لوگوں کی آمد و رفت کی وجہ سے یہاں کاروبار ترقی کر رہا تھا اور لوگ نسبتاً خوش حال تھے۔
شہر میں کئی جگہوں پر سادھو سنت لوگوں کے ڈیرے تھے— گلے میں مالائیں ڈالے سادھو اکثر جگہوں پر چلتے پھرتے یا بیٹھے دکھائی دیتے تھے۔
وکرم نے اسی مقدس ماحول میں آنکھ کھولی تھی۔ اس کا باپ چمن داس بھی ایک مندر کا پجاری تھا۔ ان کے گھر میں بھی کانسی اور پیتل کے خوبصورت مجسمے تھے جن کی وہ پوجا کرتے تھے۔ وہ بچپن سے ہی اکثر باپ کے ساتھ مندر جایا کرتا تھا اور پوجا پاٹ کے سمے بھی اپنے باپ کے ساتھ ہوا کرتا تھا۔
وکرم اس شہر کے قصے کہانیاں بچپن سے ہی سنتا چلا آیا تھا۔ پجاری عقیدت مندوں کو اکثر یہ کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ وہ ان کی عقیدت میں اضافہ کرنے کے لیے کئی بار کے سنائے ہوئے قصے بیان کرنے کے بعد کہا کرتے تھے، ’’اس شہر کی ترقی اور عظمت ان دیوتائوں کی وجہ سے ہے۔ پہلے ان کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے اس شہر پر کئی عذاب آ چکے ہیں۔ کئی دفعہ بربادی اس شہر کا مقدر بن چکی ہے۔ اگر شہر کو تباہی سے بچانا ہے تو ان دیوتائوں کے غیط و غضب سے بچنا ہو گا۔ ان کی اطاعت اور خدمت ہم سب پر فرض ہے۔‘‘

وکرم اپنے باپ کے ساتھ چھوٹے سے ایک گھر میں رہتا تھا۔ وہ اکثر اپنے والد کے ساتھ بڑے پجاری کے محل نما مکان میں جایا کرتا تھا جو مندر کے ساتھ ہی واقع تھا۔ اس محل نما مکان کو دیکھ کر اس کے دل میں خواہش پیدا ہوتی تھی، ’’کاش! ہمارا گھر بھی اس محل جیسا ہو۔‘‘
ایک دن یہی سوال اپنے باپ کے سامنے اس کے لبوں پر مچل گیا۔ چمن داس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، ’’بیٹا! جو دیوتائوں اور مورتیوں کی زیادہ خدمت کرتا ہے، اسے زیادہ مرتبہ و مقام نصیب ہوتا ہے۔ بڑے پجاری دیوتائوں اور مورتیوں کی زیادہ خدمت کرتے ہیں۔ اس لیے ان کا مکان بڑا اور مرتبہ بہت بلند ہے۔ میں چھوٹا پجاری ہوں۔ میں کم خدمت کرتا ہوں۔ اس لیے میرا مقام اور مرتبہ چھوٹا ہے۔ ظاہر ہے پھر میرا گھر بھی چھوٹا ہی ہو گا۔‘‘
وکرم کے معصوم ذہن میں زندگی میں آگے بڑھنے کا یہ چھوٹا اور سادہ سا فلسفہ ثبت ہو گیا۔

وکرم جب بڑا ہوا تو اپنے باپ کے ساتھ روزانہ مندر جانے لگا تھا۔ وہ زیادہ سے زیادہ دیوتا اور دیوی کی خدمت کیا کرتا تھا۔ وہ سوچتا تھا، ’’باپ نے خدمت میں جو کسر چھوڑی ہے، وہ میں پوری کر دوں گا تاکہ دیوی اور دیوتا خوش ہو کر بڑا مکان عطا کر دیں۔‘‘
وہ صبح سویرے مندر پہنچ جایا کرتا تھا۔ پہلے صفائی کرتا پھر زائرین کو پانی پلاتا۔ گھر سے لایا ہوا دودھ دیوتا کی نذر کرنے کے بعد بتوں کے گلوں میں تازہ پھولوں کے ہار بھی ڈالا کرتا تھا۔
دیوتا اور دیوی کو خوش کرنے کے لیے وہ ہر جتن کر رہا تھا۔
اس کی آواز صاف اور سریلی تھی۔ اس نے بھجن گانا بھی سیکھ لیا تھا— روزانہ ترنم کے ساتھ بھجن گاتا تھا۔ لوگ اس کی باریک سریلی آواز سے بہت محظوظ ہوا کرتے تھے۔
بڑے پجاریوں کے علاوہ مندر میں خدمت گاروں کی ایک فوج ظفر موج موجود تھی۔ ہر خدمت گار اپنے طور پر دیوتائوں کو زیادہ سے زیادہ خوش کرنے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔
وکرم نے ایک دن سب سے پرانے خدمت گار سے پوچھا، ’’دیوتائوں کی جتنی خدمت تم نے کی ہے، اتنی خدمت کسی اور نے نہیں کی۔ لیکن پھر بھی تمہارا تو اپنا گھر تک نہیں ہے۔ یہ بڑے پجاری سوائے زبان چلانے کے کچھ بھی نہیں کرتے ہیں لیکن پھر بھی یہ بڑے بڑے محلوں میں رہتے ہیں۔‘‘
پرانا خدمت گار اس کی بات سن کر مسکرایا اور بولا، ’’تم ابھی بہت چھوٹے ہو۔ نادان ہو— آسمانی باتوں کو نہیں سمجھ سکتے۔ میرا مشورہ ہے کہ ایسی باتیں بڑے پجاریوں کے سامنے کبھی نہ کرنا — ان باتوں سے مقدس دیوتائوں کی توہین کا پہلو نکلتا ہے۔ وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔‘‘
وکرم اس کی باتیں سن کر گہری سوچ میں مستغرق ہو گیا تھا۔ چند ثانیوں بعد اس نے کہا، ’’لیکن تم تو میرے ہم راز ہو۔ میرے دوست ہو۔ اچھے آدمی ہو۔ میں تم سے پوچھ کر ہی رہوں گا کہ دیوتا یہ ناانصافی کیوں کرتے ہیں۔‘‘
پرانا خدمت گار چند لمحے سوچتا رہا، پھر بولا، ’’دیوتا کسی سے ناانصافی نہیں کرتے۔ اصل میں انسان بہت جلدباز اور ناشکرا ہے۔ کسی کو اس دنیا میں مل جاتا ہے اور کچھ لوگوں کو اگلے جہان میں ملتا ہے— اس جنم میں محروم رہنے والے اگلے جنم میں جھولیاں بھر لیتے ہیں۔‘‘
اس کی باتیں سن کر وکرم خاموش ہو گیا۔ شاید وقتی طور پر اس کا دل مطمئن ہو گیا تھا۔

عبادت گاہ چوبیس گھنٹے آباد رہتی تھی۔ یہاں دن کو بھی لوگوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ رات کو بھی بے چین لوگوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی۔
مندر میں بھانت بھانت کے لوگ آیا کرتے تھے۔ کچھ امیر اور صاحبِ ثروت لوگ جو سمجھتے تھے کہ ان کی دولت دیوتا کی نظرِ کرم کی وجہ سے تھی، وہ نذرانے دینے آیا کرتے تھے۔
کچھ ایسے لوگ بھی یہاں آیا کرتے تھے جو دنیا کو پانے کے لیے ہر طرح کا جتن کر چکے تھے لیکن پھر بھی دنیا ان کی مٹھی میں نہیں سمائی تھی۔ اب وہ دیوتا کے پاس آتے تھے تاکہ دیوتا اپنی لامحدود شکتی کو بروئے کار لاکر دنیا کو سمیٹ کر ان کی مٹھی میں دے دیں۔
یہاں مسلسل آنے والوں میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں تھی جو شباب کی بہاریں گزار چکے تھے۔زندگی کی بھاگ دوڑ نے انہیں تھکا دیا تھا ۔ اب وہ بے چینی اور ہنگامہ خیزی سے اکتا کر سکون کی تلاش میں تھے۔
وکرم اب اداس رہنے لگا تھا۔ اس نے دیوتائوں اور دیویوں کی خدمت میں رات دن ایک کر دیا تھا۔ کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا تھا مگر اس کی مرادیں پوری نہیں ہورہی تھیں۔ اس کا یقین مسلسل متزلزل رہنے لگا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ یہ آسمانی دیوتا بھی ناانصافی کر رہے ہیں — کسی کو ضرورت سے زیادہ دے رہے ہیں تو کسی کو پیٹ بھرنے کیلئے چند نوالے بھی نہیں دیتے۔ کوئی بہتات میں مر رہاہے تو کوئی انحطاط سے۔
جب کبھی اس کا یقین اور ایمان زیادہ متزلزل ہونے لگتا تو ایک انجانا سا خوف اس کے دل میں بیٹھ جاتا کہ کہیں دیوتا اس کے دل کا حال جان کر اسے سزا ہی نہ دے دیں— اسے تباہ و برباد نہ کر دیں۔
وہ اکثر بڑے پجاریوں سے نظر بچا کر گزر جاتا تھا۔ اسے ڈر لگنے لگا تھا کہ کہیں بڑے پجاری اس کی آنکھوں میں جھانک کر دل کا حال نہ پڑھ لیں۔
ایک دن بڑے پجاری نے تقریر کرتے ہوئے کہا، ’’دیوتائوں کی خدمت کرنا اور ان کو نذرانے دینا ہم سب پر فرض ہے۔ ماضی میں دیوتائوں کی نافرمائی کے نتیجے میں اس شہر پر کئی دفعہ تباہی آ چکی ہے۔ مقدس دیوتائوں کی نافرمانی کرنے والے خود بھی عذاب کا شکار ہوتے ہیں اور پورے شہر کی تباہی کا سبب بھی بنتے ہیں۔‘‘
لوگ دم سادھے پجاری کی باتیں سن رہے تھے۔ اکثر لوگوں کے چہرے خوف سے زرد ہو رہے تھے۔ شاید وہ لوگ سوچ رہے تھے کہ تھوڑی بہت نافرمانی تو وہ کرتے رہتے ہیں۔ پتہ نہیں کس وقت کوئی نافرمانی عذاب اور تباہی کا موجب بن جائے۔
تمام لوگ بڑے پجاری کی باتیں توجہ سے سن رہے تھے کہ اتنی دیر میں ایک مجہول سا شخص اُٹھا— اس کے لمبے بال دونوں شانوں پر پھیلے ہوئے تھے، گلے میں پتھروں کی ایک مالااور ایک تسبیح جھول رہی تھی، چہرے پر بے ترتیب داڑھی اس کی مفلوک الحالی کی کتھا بیان کر رہی تھی— اس کی آنکھوں میں ایک پراسرار ویرانی چھائی ہوئی تھی۔ اس نے قہقہہ لگایا اور بولا، ’’پجاری! تمہاری باتیں ٹھیک ہیں۔ میں نے بھی سنا ہے کہ دیوتا کا غیظ و غضب اس شہر پر کئی بار نازل ہوا— سب مکان تباہ ہو گئے— سارے لوگ ہلاک ہو گئے— نہ کوئی نیک بچا نہ کوئی بدکار—‘‘
اس کی دخل اندازی سے پجاری برہم ہو گیا تھا لیکن خاموش تھا۔ گویا زبان گنگ ہو گئی تھی۔
وہ مجہول شخص پجاری کی اس کیفیت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے سلسلہ کلام جوڑ کر بولا، ’’تمہارے دیوتائوں نے بھی ناانصافیاں کی ہیں— نیک لوگوں کو بھی وہی سزا دی ہے جو بدکاروں کے یے تھی۔ تمہارے دیوتا بہرے ہیں۔ عذاب لاتے ہوئے ان کو معصوموں کی چیخیں سنائی نہ دیں۔ تمہارے دیوتا اندھے ہیں۔ ان کو نیک اور بد کا فرق ہی دکھائی نہ دیا۔‘‘
ابھی وہ بہت کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن چند لوگ اُٹھے اور اسے گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے۔ پجاری کی آنکھوں سے غصے کی چنگاریاں نکل رہی تھیں۔ وہ غصے سے بولا، ’’ایسے ہی نافرمان لوگوں کی وجہ سے شہروں پر عذاب آتے ہیں۔‘‘
وکرم اس صورتِ حال کو دیکھ کر اور بوڑھے مجہول کی باتیں سن کر بہت پریشان ہو گیا تھا۔ اس نے پرانے خدمت گار سے پوچھا، ’’یہ شخص کون تھا؟‘‘
وہ بولا، ’’اس کو کوئی نہیں جانتا۔ کوئی یہ بھی نہیں جانتا کہ یہ کہاں سے آتاہے۔ لوگ اس کو دیوانہ کہتے ہیں۔ اس کے مذہب کے بارے میں بھی کسی کو معلوم نہیں۔۔کوئی نہیں جانتا کہ یہ کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے— کس کو مانتا ہے۔ یہ مسجد میں بھی جاتا ہے اور مندر میں بھی آیا کرتا ہے۔ یہ عجیب و غریب سوالات کرتا ہے۔ بڑا پجاری اس کو جواب نہیں دے سکتا تو لوگ اسے دھکے دے کر باہر نکال دیتے ہیں۔ مولوی جب اس کے سوالوں کے جواب نہیں دے سکتا تو نمازی اسے مسجد سے باہر دھکیل دیتے ہیں۔‘‘
وکرم کے ذہن میں اسے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔ اس نے پوچھا، ’’یہ رہتا کہاں ہے؟‘‘
پرانے خدمت گار نے جواب دیا، ’’اس کے ٹھکانے کا کسی کو پکا پتہ نہیں ہے۔ یہ آتا ہے اور چھلاوے کی طرح غائب ہو جاتا ہے۔ کہیں ظاہر ہوتا ہے اور پھر اچانک غائب ہو جاتا ہے۔‘‘
وکرم اب اور زیادہ اداس اور مضطرب رہنے لگا تھا۔ اس کا دل مندر میں نہیں لگتا تھا۔ وہ تو برابری کے خواب دیکھتا تھا لیکن اُسے اس عبادت گاہ میں بھی بیرونی دنیا والی درجہ بندی اور طبقاتی تقسیم دکھائی دیتی تھی— بڑا پجاری، چھوٹا پجاری، بڑا خدمت گار، چھوٹا خدمت گار— سب کے الگ الگ درجے تھے — سب کے الگ الگ رتبے تھے۔
وکرم کی بے چینیاں ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھنے لگی تھیں۔

ایک رات وہ بہت پریشان تھا۔ نیند آنکھوں سےکوسوں دور تھی— ہر طرف گہری خاموشی کا راج تھا۔ سب لوگ سوئے ہوئے تھے— صرف ایک پجاری جاگ رہا تھا جو مخصوص وقت کے بعد گھنٹہ بجا تا تھا — گھنٹہ بجنے سے وکرم کا دل اور دہل جاتا تھا— جب رات بہت زیادہ گزر گئی تو گھنٹہ بجانے والے پجاری کو بھی نیند آ گئی۔
وکرم کا خوف متجاوز ہو گیا— سارے چراغ تھک ہار کر بجھ چکے تھے۔ سوائے ایک چراغ کے جو ہلکا سا ٹمٹما رہا تھا— جیسے کوئی آخری ہچکیاں لے رہا ہو۔ اس ملگجے ماحول میں وکرم کو کئی ہیولے دکھائی دے رہے تھے۔ چلتے پھرتے — خاموش — وہ پلکیں جھپکائے بغیر ایک ٹک دیکھ رہا تھا — خوف کا آسیب اس کے دل کی دھڑکن کو تیز سے تیز تر کرنے میں مصروف تھا۔
جب خوف حد سے متجاوز ہو گیا تو وکرم کا دم گھٹنے لگا۔ وہ ایک جھٹکے سے اُٹھا اور چشمِ زدن میں کمرے سے باہر نکل آیا۔ چاند کی ہلکی ہلکی روشنی میں کھلی فضا میں اس نے چند لمبی سانسیں پھیپھڑوں میں اُتاریں تو اس کے خوف میں کسی حد تک کمی واقع ہو گئی۔
اس نے ادھر اُدھر دیکھا۔ باہر سناٹے کا راج تھا۔ وہ ایک طرف چل پڑا۔ اس کی منزل کون سی تھی؟کس طرف تھی؟ معلوم نہ تھا۔
دماغ نے کہا، ’’منزل کی کوئی خبر نہیں۔ گویا نامعلوم ہے۔‘‘
دل سے آواز آئی —’’ نہیں نہیں! منزل نامعلوم نہیں، بلکہ معلوم ہے۔ مجھے اس دیوانے کے پاس جانا ہے۔ اس کا ٹھکانہ میری منزل ہے۔‘‘
وہ دیوانے سے ملنے کے لیے بے چین تھا۔ کسی تعین کے بغیر ایک سمت چلا جا رہا تھا۔
اس کے ذہن میں پرانے خدمت گار کے الفاظ گونج رہے تھے، ’’دیوانہ تو دیوانہ ہے، سایہ ہے— اسے تلاش کرنا بے وقوفی ہے۔‘‘

وکرم کئی دنوں سے بغیر اطلاع اور اجازت کے گھر اور مندر سے غائب تھا۔ کہیں اُسے کچھ کھانے پینے کو مل جاتا تو کھا پی لیتا — وہ بھوک اور پیاس سے منزل کی تلاش میں بے نیاز ہو چکا تھا۔ ایک دن اس کی مراد برآئی— جنگل کے اُس پار، دریا کے کنارے ، ایک شخص دریا میں کنکر یاں پھینک رہا تھا۔ وکرم کی طرف اس کی پیٹھ تھی، چہرہ دکھائی نہیں دے رہا تھا، مگر وکرم نے اُسے پہچان لیا تھا۔ یہی وہ دیوانہ تھا جس کی تلاش میں وہ گھر ، مندر حتیٰ کہ اپنی ذات سے بے نیاز ہو چکا تھا۔
وکرم کا چہرہ خوشی سے تمتما اُٹھا۔ قدموں کی رفتار غیر معمولی طور پر بڑھ گئی۔
اچانک دیوانے نے اس کی طرف رُخ پھیرا اور مسکرا کر کہا، ’’تلاش سچی اور بے لوث ہو تو منزل مل ہی جاتی ہے۔ آئو بیٹھو! یہاں ، میرے پاس—‘‘
دیوانے نے دوبارہ کنکریاں اُٹھائیں اور ایک ایک کرکے دریا میں پھینکنے لگا۔ وہ بڑے انہماک سے کنکریاں پھینک رہا تھا۔ چند ثانیوں بعد گویا ہوا، ’’انسان کی حیثیت اس دنیا میں اتنی ہے جتنی ان کنکریوں کی دریا میں، لیکن پھر بھی انسان اس دنیا میں اکڑ کر چلتا ہے— بے خبر جو ہوا— بے دھیان جو ہوا —‘‘
وہ دیوانے سے مل کر بہت خوش ہوا تھا۔ اس کے پہلو میں بیٹھ کر طمانیت اور سکون محسوس کر رہا تھا۔ یکبارگی وکرم نے اس کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کے لبوں پر بہت سے سوال مچل رہے تھے مگر دیوانے نے اسے دیکھ کر پیار سے کہا، ’’ابھی نہیں— آہستہ آہستہ بہت کچھ سمجھ جائو گے— جلد بازی نہ کرو۔ویسے تو انسانوں کی عجلت نے انسانوں کو بے چین اور مضطرب کر رکھا ہے۔ شاید انسان یہ چاہتا ہے کہ جلد از جلد قیامت آ جائے۔ یہ دنیا ختم ہو جائے—‘‘

دیوانہ اکثر خاموش رہتا یا آسمان کی طرف تکتا رہتا تھا۔ کبھی کبھی وہ زمین پر آڑی ترچھی لکیریں کھینچنے لگ جاتا ، جیسے کسی چیز کا حساب کتاب کر رہا ہو، یا کچھ کاٹ رہا ہو۔
ایک دن وکرم نے اس سے پوچھا، ’’سب لوگ یہ کہتے ہیں کہ دیوانہ خدا اور بھگوان کو نہیں مانتا۔‘‘
وہ مسکرا کر بولا، ’’میں بھگوان کو مانتا ہوں لیکن بھگوان کا نام استعمال کر کے پیسہ بنانے والے پجاریوں کو نہیں مانتا۔ ان کے خلاف بولتا ہوں۔ ان بڑے پجاریوں نے بھگوان کے نام پر اپنی جیبیں تو بھر لیں لیکن چھوٹے خدمت گاروں کے لیے روٹی کا حصول بھی مشکل کر دیا ہے۔‘‘
وہ آسمان کی طرف دیکھنے لگا، جیسے کچھ تلاش کر رہا ہو۔ پھر اس نے اپنا سر جھکا لیا۔ غم زدہ لہجے میں بولا، ’’یہ پجاری بڑے ظالم لوگ ہیں۔ جب بھی کوئی قدرتی آفت یعنی زلزلہ، سیلاب یا طوفان آتا ہے تو یہ بھگوان کے عذاب کے نام پر ڈرا کر ان مصیبت زدہ لوگوں سے ان کی رہی سہی جمع پونجی بھی لُوٹ لیتے ہیں— ان کی جیبیں خالی کر دیتے ہیں— حالانکہ ایسے وقت میں برے سے برا شخص بھی ان کی مدد کرنے پر تیار ہو جاتا ہے۔ اپنی حیثیت کے مطابق ان مصیبت کے ماروں کی مالی طور پر مدد کر دیتا ہے مگر ان پجاریوں کے دل میں رحم نام کی کوئی شئے سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔‘‘
دیوانے کی باتیں اس کے دل میں گھر کرتی جا رہی تھیں۔ وہ روز بروز اس کا معتقد ہوتا جارہا تھا۔ ابھی اس نے بہت کچھ پوچھنا تھا لیکن اس کی دیوانے سے ہم سفری کا دورانیہ سمٹ گیا— ایک دن جب وہ صبح اُٹھا تو دیوانہ غائب تھا۔ اس نے دیوانے کی تلاش میں رات دن ایک کر دیا، مگر وہ کہیں نہ ملا۔
وہ مایوس اور دل گرفتہ ہو کر گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔

وکرم کافی عرصہ بعد گھر پہنچا تھا۔ اس کے والدین جو اسے ہر جگہ تلاش کر کے مایوس ہو چکے تھے، اسے دیکھ کر یک دم نہال ہو گئے۔ ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ اس کی والدہ نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا، ’’چمن داس! میں نہ کہتی تھی کہ مقدس گائے گھر لے آئو— ہماری مرادیں ضرور پوری ہوں گی۔ دیکھا ناں! میرا بیٹا واپس گھر آ گیا ہے۔‘‘
مقدس گائے کے تذکرے پر اس کے دل و دماغ میں کوئی ہلچل پیدا نہ ہوئی۔ اس کا دل تو دیوانے کی باتوں میں کھویا ہوا تھا، ’’یہ مقدس دیوتا بھی ناانصافی کرتے ہیں، جس کے پاس دولت کے ڈھیر ہوں، اس کی دولت میں اضافہ کرتے ہیں، جو بھوکے ہوں، ان سے رہی سہی رقم بھی لے لیتے ہیں۔‘‘
اس کا باپ چمن داس اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے مقدس گائے کی زیارت کے لیے لے گیا۔ گائے کیلئے وہ کمرہ مختص کیا گیا تھا جو کبھی اس کے آنجہانی دادا استعمال کیا کرتے تھے ۔ پہلے یہ کمرہ ٹوٹا پھوٹا اور ناقابلِ استعمال ہوا کرتا تھا۔ دادا کے مرنے کے بعد اس کی حالت پہلے سے بھی خستہ ہو گئی تھی۔
اس خستہ حال کمرے کی از سرِ نو زیبائش اور تزئین و آرائش کی گئی تھی۔ مقدس گائے کی رہائش کیلئے موزوں ترین انتظام کر دیا گیا تھا— چھت سے ایک خوبصورت فانوس لٹک رہا تھا۔ فرش پر لکڑی کے رنگ کا سنگِ مر مر نصب تھا جبکہ دیواریں بھی مختلف رنگوں کے نقش و نگار سے مزین تھیں۔ دیواروں پر دیوتائوں اور دیویوں کی خوب صورت تصاویر بنی ہوئی تھیں— کوئی دیوتا ہاتھ میں تلوار لیے کھڑا تھا تو کسی کے ہاتھ میں گرز پکڑا ہوا تھا۔
کمرے میں شانِ بے نیازی سے کھڑی گائے کے گلے میں تازہ پھولوں کے ہار جھول رہے تھے — پائوں میں چاندی کے بنے ہوئے گھنگرو بندھے ہوئے تھے۔ گائے کے اوپر ہلکے کالے رنگ کی چادر ڈالی ہوئی تھی جس پر رنگین دھاگوں سے پھول کاڑھے ہوئے تھے۔
اگرچہ وکرم کا دل اور روح کہیں اور تھے لیکن چمن داس اس سے بے نیاز خوشی خوشی بتا رہا تھا، ’’میں تو اکثر گھر پر نہیں ہوتا لیکن تمہاری والدہ اور بہن مقدس گائے کی بہت خدمت خاطر کرتی ہیں— روزانہ اسے خوشبو والے پانی سے نہلاتی ہیں۔ خوراک میں چارے کے علاوہ اسے اچھی سبزیاں اور پھل دیتی ہیں۔ تمہاری والدہ اس کے لیے کڑھائی والی خوبصورت چادر تیار کرنے پر دن رات محنت کر رہی ہے۔‘‘

مقدس گائے کی خدمت دن رات ہو رہی تھی۔ اس کی ماں اور بہن اس کام کو سعادت سمجھ کر کرتی تھیں جبکہ اسے مقدس گائے کی خاطر مدارات میں کوئی دلچسپی محسوس نہیں ہوتی تھی۔
ایک دن اس کے گھر والے کسی رشتے دار کے گھر گئے۔ جاتے ہوئے گائے کی خدمت کی ذمہ داری وکرم کے کاندھوں پر ڈالنا نہیں بھولے تھے۔
جب اس کا باپ شام کو واپس آیا تو پتہ چلا کہ گائے سارے دن کی بھوکی ہے — وکرم اسے چارہ ڈالنا بھول گیا تھا۔
اس کا باپ چمن داس بہت برہم ہوا، ’’وکرم! تم نے مقدس گائے کی توہین کی ہے۔ ایک دن تمہاری ان حرکتوں کی وجہ سے اس گھر پر عذاب اترے گا — ہم سب تباہ و برباد ہو جائیں گے۔‘‘
اس نے سر جھکا لیا۔

اس سال بارشیں بہت کم ہوئی تھیں۔ ابھی سے ہی شہر پر مہیب قحط کے خطرات منڈلانے لگے تھے۔ جانوروں کے لیے چارہ بتدریج کم ہوتا جا رہا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے کچھ ہی دنوں بعد سرے سے ناپید ہو جائے گا۔ لوگوں کے چہروں پر خوف کے آثار ابھرنا شروع ہو گئے تھے۔
دیکھتے ہی دیکھتے مندروں میں خطرہ بھانپ لینے کے گھنٹے بجنے لگے۔ قحط کو ٹالنے کے لیے بھجن گائے جانے لگے۔ عبادت گاہوں میں لوگوں کو ایک دم ہجوم بڑھ گیا تھا۔ پجاری اعلان کر رہے تھے، ’’قحط دیوتائوں کی ناراضی کے سبب آسمان سے اترنے والا عذاب ہے۔ یہ ہمارے گناہوں کی شامت ہے— ہمارے پاپ کی سزا ہے— اس کو ٹالنے کے لیے دیوتائوں کو خوش کرنا ضروری ہے — اس کے لیے دیوتائوں اور دیویوں کو بھرپور نذرانے دیے جائیں۔ دل کھول کر تحفے تحائف دیوتائوں کے چرنوں میں پیش کیے جائیں— کیا خبر کس سمے کون دیوتا ہم پاپیوں پر راضی ہو جائے اور قحط ٹل جائے۔‘‘
سمجھ دار لوگ ابھی سے خوراک ذخیرہ کرنے پر لگے ہوئے تھے۔ امیر لوگ قحط کے خوف سے اپنے اہل و عیال اور خوراک کو شہر سے دور محفوظ جگہوں پر منتقل کرنے میں ہمہ تن مشغول تھے۔ انہیں خوف تھا کہ جب قحط زیادہ ہوا تو لوگ ان پر دیوانہ وار پل پڑیں گے اور حملہ کر کے ان کی ذخیرہ شدہ خوراک اور مال و اسباب لوٹ لیں گے۔
دوسری طرف غریب اور کمزور لوگ ابھی تک قحط ٹالنے کے لیے نذرانے دینے پر لگے ہوئے تھے۔ پجاری بڑے سمجھ دار تھے۔ انہیں خود اپنے دیوتائوں پر کامل یقین نہیں تھا کہ وہ قحط ٹال دیں گے، اس لیے وہ بھی اپنی دولت اور خوراک شہر سے باہر خفیہ ٹھکانوں میں منتقل کر رہے تھے۔ دن بھر جو ہاتھ لگتا، رات کی تاریکی میں پناہ گاہوں میں منتقل ہو جاتا تھا۔ وہ غریب لوگوں کو مسلسل دلاسے دے کر لوٹ رہے تھے اور سمجھا رہے تھے، ’’دیوتائوں کی پوجا زیادہ کر دو۔ زیادہ سے زیادہ نذرانے ان کے پیروں میں ڈالو اور بنتی کرو کہ قحط ٹل جائے۔‘‘
وکرم دیکھ رہا تھا کہ پجاری بڑے خود غرض واقع ہوئے تھے۔ وہ ان قحط زدہ لوگوں کو ابھی بھی لوٹنے پر لگے ہوئے تھے جن کے چہرے خون کی کمی اور بھوک کی وجہ سے پیلے پڑ گئے تھے اور آنکھیں اندر کو دھنسنے لگی تھیں۔ اکثر لوگ ہڈیوں کے سوکھے پنجر دکھائی دینے لگے تھے۔
اس کے اپنے گھر کے حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے تھے لیکن اس کا باپ پھر بھی مقدس گائے کو خوراک کہیں نہ کہیں سے لاکر وقت پر دیا کرتا تھا جبکہ وہ اور اس کی بہن بھوکے رہ جاتے تھے۔
ان کے پڑوسی پہلے پہل مقدس گائے کے لیے چارہ اور پھل بھیجا کرتے تھے۔ اب یہ سلسلہ تھم گیا تھا کیونکہ وہ خود زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہو گئے تھے۔ گائے کو پیش کرنے کے لیے وہ خوراک کا بندوبست نہیں کر سکتے تھے۔
ہر طرف خشک سالی کا بھیانک راج قائم ہو چکا تھا۔ جانور چارے کی کمی کی وجہ سے مر رہے تھے۔ لوگ مردہ اور بدبودار جانوروں کا گوشت کھانے پر لگے ہوئے تھے۔ مگر مردار کھانے سے بھی سانسوں کی ڈور کو مہلت ملتی دکھائی نہیں دیتی تھی۔
وکرم کے اپنے گھر میں خوراک کا ذخیرہ بہت کم مقدار میں رہ گیا تھا۔ اب گائے کو خوراک ملنا بھی کم ہو گئی تھی جس کی وجہ سے وہ بتدریج کمزور ہونے لگی تھی۔ وکرم کا باپ کئی مرتبہ مقدس گائے کے لیے اناج لینے گھر سے نکلا تھا لیکن بہت کوشش کے باوجود چند پھانکیں لانے میں بھی کامیاب نہ ہو پایا تھا— شہر میں اناج سرے سے غائب ہو چکا تھا۔
قریبی شہر سے غلے کے کئی اونٹ یہاں بھیجے گئے تھے لیکن وہ قحط زدہ لوگوں نے راستے میں ہی لوٹ لیے تھے۔
پھر — وکرم کے گھر میں خوراک بالکل ختم ہو گئی۔ اس کی چھوٹی بہن بھوک کے مارے بلکنے لگی۔ اس کے آنسوئوں اور چیخ و پکار سے وکرم کا دل دہلنے لگا تھا۔ خود اس کی بھی ہڈیاں نکل آئیں تھیں۔ اس کے ماں باپ بھی ہڈیوں کے ڈھانچے بن کر رہ گئے تھے لیکن انہیں اپنے آپ سے کہیں زیادہ اپنے دونوں بچوں کی فکر دامن گیر تھی۔
چمن داس سے اپنے بچوں کی بے بسی اور بھوک دیکھی نہ گئی۔ وہ چھری اٹھا کر لایا اور وکرم سے بولا، ’’آئو بیٹا! مقدس گائے کو ذبح کرتے ہیں۔‘‘
یہ کہتے ہوئے اس کی زبان لڑکھڑا رہی تھی اور لفظ حلق میں کانٹوں کی طرح اٹک اٹک کر برآمد ہو رہے تھے۔
وکرم کی آنکھوں میں کئی سوال ابھرے جو باپ نے پڑھ لیے تھے لیکن اس میں جواب دینے کی ہمت بالکل نہیں تھی۔
وکرم کے ذہن میں یکبارگی دیوانے کے الفاظ گونجے، ’’کوئی مقدس وقدس نہیں جگ میں— سب سے مقدس بھوک ہے— بس بھوک —‘‘
گائے ذبح کرتے ہوئے چمن داس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ گائے کمزور ہونے کی وجہ سے زیادہ دیر مزاحمت تو نہ کر سکی تھی لیکن اس کی ادھ کھلی آنکھوں میں حیرت ضرور ثبت تھی— صبح شام ناز برداریاں کرنے والے ہاتھوں نے اسے کیسے کاٹ کر رکھ دیا تھا؟
گائے کا گوشت بھی کتنے دن چلتا؟ گھر میں پھر فاقے شروع ہو گئے۔ ایک دن وکرم بھوک سے تنگ آ کر خوراک کی تلاش میں نکل کھڑآ ہوا۔ وہ شہر کے حالات دیکھ کر سخت خوف زدہ ہو گیا تھا۔ ہر جگہ قحط زدہ — مرے ہوئے — پنجر بنے ہوئے لوگ — لاشیں— تعفن — لاشوں پر سے بھی بھوک کے ماروں نے ماس اُتار لیا تھا۔ جابجا ڈھانچے بکھرے ہوئے تھے۔ کچھ جگہوں پر لوگ آخری ہچکیاں لیتے انسانوں کے مرنے کا انتظار کر رہے تھے تاکہ ان کا ماس اُتار کر ایک وقت کی بھوک مٹا لی جائے۔ اسے راستے میں ایک شناسا ملاجس نے بتایا، ’’وکرم! اپنی اور اپنے گھر والوں کی جان بچا کر شہر سے بھاگ جائو۔ لوگ زندہ انسانوں کو ذبح کر کے بھی اپنی بھوک مٹا رہے ہیں۔ قتلِ عام ہو رہا ہے ہر طرف—‘‘
اسے یہ بات سن کر جھرجھری سی آ گئی۔
وہ مندر کی طرف چل دیا۔ اسے یقین تھا کہ وہاں سے کھانے کو کچھ نہ کچھ مل جائے گا کیونکہ وہاں لوگ دیوتا کے قدموں مین دان کرنے کے لیے کھانے پینے کی چیزیں لایا کرتے تھے۔
جب وہ مندر پہنچا تو حیران رہ گیا— مندر اس شہر کی مانند نظر آ رہا تھا جسے کسی فاتح بادشاہ نے فتح کرنے کے بعد لوٹا ہو — مندر میں کوئی ذی روح نظر نہیں آ رہا تھا۔ پجاری بھی غائب تھے— خدمت گار بھی دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ سارے بت اوندھے پڑے تھے۔ ان کے ساتھ لگے ہیرے، جواہرات، سونا اور چاندی لوگ لوٹ کر لے گئے تھے۔
وہ خوف زدہ ہو کر واپس گھر کی طرف پلٹا۔ وہ اپنے گھر والوں کو شہر سے باہر لے کر نکل جانا چاہتا تھا۔ مگر وہ جونہی گھر پہنچا تو اس کی آنکھوں نے انتہائی خوف ناک منظر دیکھا— اس کا باپ اس کی ماں اور بہن کو ذبح کر چکا تھا اور ان کا گوشت بنا رہا تھا۔
وکرم کے حلق سے مارےخوف کے دلدوز چیخ نکل گئی۔ چمن داس نے پلٹ کر اس کی طرف خشونت بھری نظروں سے دیکھا۔ وکرم کو یکبارگی احساس ہوا کہ اس کا باپ اپنے حواس میں نہیں تھا— وہ پاگل ہو چکا تھا یا ہونے والا تھا۔ وہ چند لمحے وکرم کو پھیلی پھیلی آنکھوں سے دیکھتا رہا پھر چھری لے کر اس کی طرف دیوانہ وار دوڑا۔
وکرم اچھل کر دو قدم پیچھے ہٹا پھر مڑ کر بگٹٹ بھاگ کھڑا ہوا۔ اس نے اپنی جان بچانے کے لیے جسم کی تمام تر توانائی دوڑنے پر صرف کر دی تھی۔

آج اس نے رشتوں کا تقدس پامال ہوتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ تقدیس کا تمام تر فلسفہ اس کی سمجھ میں آ چکا تھا — انسان کا حقیقی چہرہ بھی اس پر آشکار ہو گیا تھا۔
اس کے ذہن میں بار بار دیوانے کے الفاظ گونج رہے تھے، ’’سب سے مقدس بھوک ہے— صرف بھوک—‘‘
وہ تیزی سے شہر کے دروازے پر پہنچا۔ ہر طرف ویرانی کا راج تھا۔ شہر کی حفاظت کرنے والے دیوی اور دیوتا کے بت زمین پر ٹوٹ کر بکھرے پڑے تھے۔ ان کا سونا اور چاندی لٹ چکی تھی۔
شہر کے دروازے پر نہ محافظ تھے اور نہ کوئی ذی روح۔ وہ باہر نکلا تو اسے دور ایک شخص دوڑتا ہوا دکھائی دیا۔ وکرم نے اس کی کمر سے اسے پہچان لیا تھا۔ وہ دیوانہ تھا۔
وکرم نے اسے بہت آوازیں دیں لیکن اس نے مڑ کر نہیں دیکھا البتہ اس کے بھیانک قہقہوں اور باتوں کی بازگشت چارسو گونج رہی تھی، ’’یہ مندر— پجاری— یہ خدمت گار— سب جھوٹ— کوئی مقدس نہیں۔ سب فریب ہے۔ سب جھوٹ ہے۔ بس ایک ہی حقیقت ہے اور وہ ہے بھوک— بھوک ہی مقدس ہے، بھوک ہی قیامت ہے، بھوک ہی عذاب ہے۔انسان اصل میں حیوان ہے۔ شعور کی تہیں اس کی اصلیت کو چھپا دیتی ہیں لیکن یہ بھوک شعور کو تہہ و بالاکر دیتی ہے جس سے انسان کی حیوانیت سامنے آ جاتی ہے۔ تقدس اصل میں کچھ نہیں، صرف انسان کے شعور کا کرشمہ ہے۔ انسان صرف بھوک کا پجاری ہے، درندہ ہے۔‘‘
وکرم دیوانے کے پیچھے تیزی سے بھاگا۔ بھاگتے بھاگتے اسے بلند آواز میں پکارا، رکنے کا کہا مگر اس نے صرف ایک بار پلٹ کر دیکھا۔ وکرم کو ایسا لگا کہ وہ رک جائے گا، مگر وہ رکا نہیں بلکہ دونوں ہاتھ فضا میں بلند کر کے جنگل کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔ وہ بھاگتے ہوئے کہہ رہا تھا، ’’بھاگو! بھاگو! زندگی بچائو۔ زندگی مقدس ہے— سب بھوک کے بیٹے ہیں۔ بس بھوک ہی مقدس ہے—۔‘‘
وکرم کی سانس بری طرح پھول چکی تھی۔ دوڑنا ممکن نہیں رہا تھا۔ وہ رک کر ہانپنے لگا۔ دیوانہ جھاڑیوں میں گم ہو گیا تھا۔ عقب میں قدموں کی آہٹ ابھری۔ اس نے گردن موڑ کر اپنے پیچھے دیکھا۔ راستے پر تین چار ہڈیوں کے پنجر ہاتھوں میں برچھیاں لیے دوڑے چلے آ رہے تھے۔
وہ سمجھ گیا کہ اس کی ہڈیوں سے چپکا ہوا ماس ان قحط کے ماروں کو اپنی جانب بلا رہا ہے — اس نے رہی سہی طاقت جمع کی اور دیوانے کے نقشِ پا پر جھاڑیوں میں گھس گیا —

گدھا



ماسٹر امام دین گائوں کا ہر دلعزیز بندہ تھا۔ اگرچہ کسی نے بھی اسے سکول میں کبھی پڑھاتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ لیکن پھر بھی اس کے نام کے ساتھ لفظ ماسٹر لگا ہوا تھا۔ بقول امام دین، وہ کسی دور میں سکول میں پڑھایا کرتا تھا۔ تب سے لفظ ’’ماسٹر‘‘ اس کے نام کا مستقل طور پر حصہ بن کر رہ گیا تھا۔
ماسٹر امام دین کی گائوں میں تھوڑی بہت زمین تھی اور اس نے گزر اوقات کے لیے جانور بھی رکھے ہوئے تھے۔ جن میں بھیڑ، بکریاں اور گائے شامل تھی۔ ماسٹر صاحب کا اصل کام باربرداری کا تھا۔ جس کے لیے اس نے ایک گدھا پال رکھا تھا۔ اس نے گدھے کے پیچھے لگانے کے لیے ایک چوبی ریہڑی بھی بنوا رکھی تھی۔ اگر مال تھوڑا ہوتا تو وہ گدھے کی پیٹھ پر لاد کر لے جایا کرتا تھا اور اگر مال زیادہ مقدار میں ہوتا یا زیادہ وزنی ہوتا تو وہ گدھے کے پیچھے ریہڑی جوت لیتا تھا۔
ماسٹر نے جب باربرداری کا کام شروع کیاتو آغاز میں ہی ایک نر اور مادہ گدھے کا جوڑا خریدا تھا۔ مادہ گدھی تو پہلے بچے کی پیدائش کے دوران ہی فوت ہو گئی لیکن بچہ اب جوان تھا اور کام کرنے کے قابل ہو چکا تھا۔ وہ ماسٹر سے مانوس بھی بہت تھا۔

ماسٹر انتہائی ہنس مکھ انسان تھا۔ گائوں کے لوگوں کو ہنساتے رہنا اس کا مشغلہ تھا۔ وہ صبح سویرے اُٹھتا، جانوروں کے چارے کا بندوبست کرتا، ان کو پانی پلاتا اور کبھی کبھی ان کو نہلاتا بھی تھا۔ اس کام کاج سے فارغ ہو کر وہ گھر آتا اور ناشتہ کرتا۔ ناشتے کے بعد وہ گدھے اور اس کے بچے کو لے کر باربرداری کے لیے نکل جاتا تھا۔
وہ لوگوں کا سامان ساتھ والے گائوں میں لے جاتا اور واپسی میں لوگوں کی ضرورت کی چیزیں اور سودا سلف اٹھا لاتا تھا۔ وہ مہینے میں کم از کم دو چکر شہر کے بھی لگاتا تھا اور وہاں سے لوگوں کی ضرورت کی چیزیں اور سودا سلف لایا کرتا تھا۔
شہر سے واپسی پر لوگوں کیلئے اس کے پاس نہ صرف بہت سارا سامان ہوا کرتا تھا بلکہ انہیں بتانے کے لیے بہت سی خبریں اور چٹ پٹی باتیں بھی ہوا کرتی تھیں جو وہ شہر سے سن کر آتا تھا۔ گائوں میں کئی لوگ ایسے بھی رہائش پذیر تھے جنہوں نے آج تک شہر کی شکل تک نہیں دیکھی تھی۔
جب اس کا بیٹا بڑا ہواتو اس نے باربرداری کا کام سنبھال لیا— ماسٹر نے باربرداری کیلئے جانا بند کر دیا۔ اب زیادہ کام اس کا بیٹا ہی کرتا تھا۔ وہ کبھی کبھار ہی کام پر جاتا تھا۔
ماسٹر اب زیادہ تر گائوں میں ہی رہتا تھا اور اپنے جانوروں کی دیکھ بھال کیا کرتا تھا۔ اسے جانوروں سے دلی لگائو تھا— محبت تھی— اس نے اپنے تمام جانوروں کے الگ الگ نام رکھے ہوئے تھے۔ گدھے کا نام اس نے ’’گلو‘‘ رکھا ہوا تھا جبکہ گدھے کے بچے کا نام اس نے ’’گلدان‘‘ رکھ چھوڑا تھا۔ مزے کی بات تھی کہ اس کے تمام جانوروں کو نہ صرف اپنے نام کا پتا تھا بلکہ انہوں نے دل سے یہ نام قبول بھی کر رکھے تھے۔
ماسٹر سارے جانوروں کا بہت خیال رکھا کرتا تھا۔ جانوروں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے اسے بہت درد مند اور رحیم دل بھی عطا کر رکھا تھا، البتہ ماسٹر کو گدھے اور اس کے بچے ’’گلدان‘‘ سے اتنا پیار اور انس نہیں تھا۔ اس امتیازی سلوک کو گلدان محسوس کرتا تھا۔ ایک دن اس نے اپنے باپ سے کہا، ’’بابا! یہ ماسٹر بڑا اچھا بندہ ہے۔ سارے جانوروں سے پیار کرتا ہے۔ سب کا برابر خیال رکھتا ہے لیکن صرف ہمیں ہی کیوں گالیاں دیتا رہتا ہے؟‘‘
اس کا باپ ’’گلو‘‘ بولا، ’’پتر! انسان نے بہت ترقی کر لی ہے لیکن ابھی تک اسے یہ نہیں پتا کہ ہم اس کی زبان اور بات سمجھتے ہیں لیکن وہ ہماری ایک بات بھی نہیں سمجھ سکتا۔ بیٹا! ہم تو عمر گزار چکے ہیں۔ تم جوان ہو۔ اس لیے زیادہ جذباتی ہو کر ایسی باتیں سوچتے رہتے ہو۔ وقت کے ساتھ ساتھ تم ساری چیزیں ازخود سمجھ جائو گے۔‘‘

یہ گائوں بھی روایتی انداز کا تھا۔ یہاں کی زیادہ تر زمین چودھری منظور اور اس کے رشتہ داروں کی تھی۔ گائوں کے زیادہ تر لوگ اس کے مزارع تھے۔ ماسٹر کی البتہ تھوڑی بہت زمین تھی جس سے گھر کا اناج پورا ہو جاتا تھا جبکہ چارہ حاصل کرنے کے لیے وہ بھی چودھری کی زمین کاشت کرتا تھا۔
چودھری منظور ایک طرح سے گائوں کا بادشاہ تھا۔ گائوں کے سارے فیصلے اس کی جنبشِ ابرو سے ہوتے تھے۔ چودھری اور اس کے حواری اگرچہ کوئی کام نہیں کرتے تھے لیکن گائوں میں اچھے گھر بھی ان کے تھے اور ان کی عزت بھی زیادہ تھی— باقی لوگ غلاموں کی سی زندگی گزارتے تھے اور چودھری کی نظرِ کرم کے منتظر رہتے تھے۔
ایک دن گلو نے اپنے بیٹے گلدان سے کہا، ’’بیٹا! تم اکثر مجھ سے سوال کرتے ہو کہ انسان گدھے کو باقی جانوروں کی نسبت حقیر کیوں سمجھتا ہے؟ میرے خیال میں ابھی تم نے آس پاس کے ماحول کو غور سے دیکھا نہیں ہے کیونکہ اگر تمہیں ارد گرد کے ماحول کی سمجھ آ گئی ہوتی تو تمہیں یہ بھی پتہ چل چکا ہوتا کہ ہم کیوں حقیر سمجھے جاتے ہیں؟‘‘
گلدان نے حیرانی سے کہا، ’’نہیں بابا! میں ابھی تک کچھ سمجھ نہیں پایا ہوں۔‘‘
گلو ایک سرد آہ بھر کر بولا، ’’پتر! انسان صرف ہم جانوروں میں ہی تفریق نہیں کرتا بلکہ ان کے اندر بھی گہری تفریق موجود ہے۔‘‘
’’کیسی تفریق بابا؟‘‘ گلدان نے دلچسپی لی۔
گلو کھڑے کھڑے تنگ آ گیا تھا۔ بیٹھتے ہوئے بولا، ’’انسانوں میں بھی تو سارے برابر نہیں ہیں۔ کوئی بڑا ہے اور کوئی چھوٹا۔ کوئی زیادہ مرتبے والا ہے تو کوئی کم تر۔ کسی کی عزت زیادہ ہے تو کسی کی سرے سے عزت ہے ہی نہیں۔ کئی لوگوں کی تو ہم گدھوں سے زیادہ بے توقیری ہوتی ہے اور وہ چپ چاپ اس تذلیل کو سہتے رہتے ہیں۔‘‘
وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گیا۔ جیسے کسی گہری سوچ میں مستغرق ہو گیا تھا۔ گلدان بڑی بے چینی سے اس کے بولنے کا انتظار کر رہا تھا۔ گلو نے چند لقمے گھاس کے لیے ، پھر ایک سرد آہ بھرتے ہوئے کہا، ’’کل تم نے دیکھا ہو گا۔ فضلو موچی بڑی اچھی جوتی بنا کر چودھری کے پاس لایا تو چودھری نے اسے کیسے بے عزت کیا؟ یہ کہتے ہوئے اس کے منہ پر جوتی دے ماری کہ چودھریوں کے لیے ایسی جوتی بناتے ہیں؟— حالانکہ وہ بے چارہ چوہدری کے لیے ہر وقت اچھی سے اچھی جوتی بنا کر لاتا رہتا ہے لیکن پھر بھی اس کی عزت ہم گدھوں جیسی ہے۔ ہائے بے چارہ فضلو!—‘‘
گلدان ساری باتیں انہماک سے سن رہا تھا۔ اسے ان باتوں میں بڑی دلچسپی محسوس ہو رہی تھی۔ گلو ایک توقف کے بعد بولا، ’’کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ خادم حجام چودھری کی حجامت بنا رہا تھا کہ اچانک ہی چودھری کو اس کی کسی بات پر غصہ آ گیا۔ اس نے آئو دیکھا نہ تائو، خادم کی اچھی خاصی دھلائی کر کے رکھ دی۔ ایسی دھلائی تو آج تک ہم گدھوں کی بھی نہیں ہوئی ہو گی۔‘‘
گلدان نے اداسی سے کہا، ’’بابا! ہمارے حالات بدل بھی سکتے ہیں؟‘‘
گلو افسردگی سے بولا، ’’پتر! انسان سے بھلائی کی توقع نہ رکھو۔ جو انسان اپنے جیسے انسانوں پر ظلم سے باز نہیں آتا، اس سے ہم کیسے خیر کی توقع کر سکتے ہیں۔‘‘
گلدان کی بڑی بڑی آنکھوں میں حسرت سے دو آنسو بھر آئے۔

ماسٹر صبح سویرے ناشتہ کرنے کے بعد آ جاتا تھا۔ آتے ہی وہ آواز لگاتا، ’’چل بے گلو! اوئے گلدان! کام کے لیے تیار ہو جائو۔ بہت عیاشی کر لی تم دونوں نے۔ صرف کھا کر پیٹ نہیں بھرنا، دھندا بھی تو کرنا ہے۔‘‘
ماسٹر کے ہاتھ میں ہمیشہ ایک بڑی سی چھڑی ہوا کرتی تھی۔ وہ یہ چھڑی دوسرے جانوروں پر تو کم استعمال کرتا تھا لیکن گدھے پر تو ضرورت سے زیادہ استعمال کرتا تھا — ساتھ ساتھ گالیاں بھی دیا کرتا تھا، ’’چل ابے— الو کے پٹھے — حرام خور کہیں کے—‘‘
گائوں کے لوگ شہر اور دوسرے گائوں کو لے جانے والاسامان ایک رات پہلے ہی اس کے گھر پہنچا دیا کرتے تھے۔ وہ صبح سویرے ہی باپ بیٹے میں سے کسی ایک کو ریہڑی میں جوت دیا کرتا تھا جبکہ دوسرے کے اوپر سامان رکھنے کیلئے لانگھی رکھ دیا کرتا تھا۔
گلدان تو جوان اور مضبوط تھا لیکن گلو اب بوڑھا ہو چکا تھا۔ اس کے لیے کام کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ وہ بہت جلد تھک جاتا تھا۔ ہانپنے لگتا تھا۔ زندگی کی گاڑی کو مجبوراً کھینچ رہا تھا— گلو کو زندگی کے تجربات نے سکھا دیا تھا کہ انسان سے رحم کی توقع رکھنا فضول ہے۔ رحم کی اپیل رائیگاں جاتی ہے۔ اس کا باپ بھی اس کی آنکھوں کے سامنے سم رگڑ رگڑ کر مرا تھا۔ نحیف و نزار ہو چکا تھا اور کام کرنے کے قابل نہیں رہا تھا لیکن پھر بھی اسے ڈنڈے مار مار کر اٹھایا جاتا تھا اور ریہڑی کے آگے لگا دیا جاتا تھا— اسے شاید سکون اس دن ملا تھا جس دن اس کی روح اس کے جسم سے پرواز کر گئی تھی۔
گلو نے اپنی زندگی میں انسان سے زیادہ ظالم کوئی نہیں دیکھا تھا۔ اس نے انسان کے کئی ظالمانہ روپ دیکھ رکھے تھے— اس نے انسان کے ہاتھوں انسان پر ظلم ہوتے بھی دیکھا تھا — گائوں کے بوڑھے نحیف و نزار لوگ بھی چودھری کے ہاتھوں کام کرنے پر مجبور تھے۔ اسے وہ بوڑھا غلام رسول نہیں بھولتا تھا جو معذوری کے باوجود کام کرنے پر مجبور تھا۔ وہ جب گھاس کاٹتے ہوئے تھک جاتا تھا اور کچھ دیر آرام کرنے لگتا تو چودھری کا کارندہ اسے دو تھپڑ مارتے ہوئے کہا کرتا تھا، ’’چل! حرام خور کہیں کا!— کام کر، کام— مفت کی روٹیاں توڑتا رہتا ہے ہر وقت—‘‘
گلو کبھی کبھی اس بات پر مسکرا بھی دیتا تھا، ’’چلو! کچھ انسان بھی تو ایسے ہیں جن کا مرتبہ ہم سے بھی کم ہے، یا ہمارے جیسا ہے۔‘‘

گلو اور گلدان کی زندگی ایک دائرے میں گھوم رہی تھی۔ صبح سویرے اٹھنا، چارہ زہر مار کرنا اور پھر سامان اُٹھا کر منزل کی طرف روانہ ہو جانا— گلدان تو ابھی جوان اور مضبوط تھا لیکن گلو بوڑھا ہو چکا تھا۔ وہ اکثر اٹھنے میں دیر کر دیا کرتا تھا۔ ماسٹر اُسے آغاز میں ہی دو تین ڈنڈے رسید کر دیتا تھا۔ یہ دو تین ڈنڈے گلو کے ناشتے کا اہم حصہ بن چکے تھے۔
راستے میں بھی جب وہ تھک کر رفتار آہستہ کرتا تو اسے دو چار ڈنڈے پھر بھی پڑ جایا کرتے تھے۔ اُسے مار پڑتے دیکھ کر گلدان کو بڑا غصہ آتا تھا لیکن وہ کیا کر سکتا تھا۔ اس نے کئی بار اپنی بے عزتی پرگلدان کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو دیکھے تھے مگر ان آنسوئوں کو یہاں کون دیکھتا تھا۔ کون ان کے دکھ سکھ کی پروا کرتا تھا۔ جب انسان کو اپنے جیسے انسان کے آنسوئوں کی پروا نہیں تھی، تو گدھے کے آنسو کس شمار میں تھے، کس کھاتے میں تھے۔
گلدان جوان تھا۔ وزن بھی زیادہ اُٹھاتا تھا اور چلتا بھی زیادہ رفتار سے تھا لیکن پھر بھی دن میں دو چار ڈنڈے اسے ضرور پڑ جاتے تھے۔ وہ جوان خون تھا۔ اس لیے بے گناہ مار کھانے پر غصے کا اظہار بھی کر دیتا تھا۔ کبھی کبھار ماسٹر کو دولتیاں مارنے کی کوشش بھی کر بیٹھتا تھا۔ کبھی ایک آدھ دولتی ماسٹر کو لگ بھی جاتی تھی۔ اس جرات پر اسے دو چار ڈنڈے مزید پڑ جایا کرتے تھے۔ کبھی وہ اپنے غصے کا اظہار بلند آواز میں چیخ چلا کر بھی کیا کرتا تھا۔
گلو اپنے نادان بیٹے کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔ لیکن جوان خون زیادہ اُبل جاتا تھا اور اس کی نصیحتوں کو خاطر میں نہ لا کر اپنا جذباتی ردعمل ظاہر کر دیا کرتا تھا۔ گلو سمجھاتا، ’’پتر! اس طرح دولتیاں مارنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ الٹا زیادہ مار پڑتی ہے۔ انسان آواز اٹھانے پر اپنے جیسے انسانوں کو معاف نہیں کرتا تو ہم گدھوں کی آواز کو کیا اہمیت دے گا؟ یاد نہیں، ہمارا مالک ماسٹر خود کچھ دن پہلے ایسی باتوں پر چودھری سے مار کھا چکا ہے۔‘‘
گلدان پر ایسی باتوں کا اثر کم ہی ہوتا تھا۔ ایک طرف اس کی دولتیاں بڑھتی جا رہی تھیں، دوسری طرف اسے زیادہ ڈنڈے رسید ہونے لگے تھے۔

ماسٹر نے اپنے باڑے میں گائے، بھینس، بکریوں اور بیل کے علاوہ ایک کالے رنگ کا خوبصورت گھوڑا بھی رکھا ہوا تھا۔ بڑے زمینداروں کے علاوہ صرف اسی کے پاس گھوڑا تھا۔
اگرچہ وہ غریب بندہ تھا، اور اس کے لیے گھوڑے کے اخراجات پورے کرنا آسان نہ تھا لیکن پھر بھی وہ اپنے شوق کے ہاتھوں مجبور تھا۔ گھوڑے کی بہت زیادہ خدمت ہوتی تھی۔ ماسٹر کام پر جانے سے پہلے اسے خود نہلاتا تھا — تیل کے ساتھ اس کے پورے جسم کی مالش کیا کرتا تھا۔ اسے دودھ میں بادام ڈال کر پلایا کرتا تھا۔ کبھی کبھار اس کے لیے خاص قسم کا حلوہ بھی بنایا جاتا تھا۔ ماسٹر جب کبھی بیٹے کو کام پر بھیجتا تو خود بڑے فخر سے گھوڑے پر سواری کیا کرتا اور اسے پورے گائوں میں گھمایا کرتا تھا۔
گلدان گھوڑے کی آئو بھگت سے بہت اذیت میں مبتلا تھا۔ ایک دن اس نے اپنے باپ سے کہا، ’’ابا! یہ گھوڑا کرتا تو کچھ بھی نہیں سوائے کبھی کبھار مالک کو سواری کرانے کے لیکن اس کی آئو بھگت دیکھو۔ کبھی میوے، کبھی حلوہ اور کبھی دودھ— کام کا نہ کاج کا دشمن اناج کا— اور ایک ہمیں دیکھو۔ دن رات کام کرو اور پھر بھی مقدر میں گالیاں، ڈنڈے اور سوکھی سڑی گھاس۔‘‘
گلو ایک نظر اسے دیکھ کر مسکرایا اور بولا، ’’پتر! تم ابھی نئے نئے جوان ہوئے ہو۔ ابھی تمہیں ان انسانوں کا تجربہ نہیں ہے۔ جس طرح انسانوں نے اپنے اندر درجہ بندی کی ہوئی ہے، کوئی چھوٹا، کوئی بڑا، کوئی کم عزت والا— کوئی مقدس تو کوئی ذلیل— اسی طرح جانوروں میں بھی اس نے درجہ بندی کی ہوئی ہے۔ کوئی جانور معزز ہے جیسا کہ یہ گھوڑا— اور کوئی ذلیل تر، جیسے ہم گدھے—‘‘
گلدان لفظ ’’ذلیل‘‘ سن کر بہت افسردہ ہو گیا تھا کیونکہ یہ لفظ اس کا مالک اکثر اس کے لیے استعمال کیا کرتا تھا۔ اس نے افسردگی سے اپنے باپ سے پوچھا، ’’ابا! ہم انسان کی اتنی خدمت کرتے ہیں۔ اس کا سامان ڈھوتے ہیں لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ پھر بھی ہماری عزت کیوں نہیں ہے؟‘‘
گلو اس کے معصومانہ سوال سن کر اکثر مسکراتا تھا۔ وہ بولا، ’’پتر! یہاں عزت صرف طاقت کی ہے۔ جنگل میں شیر اور چیتا طاقت ور ہیں۔ اس لیے ان کی عزت اور قدر زیادہ ہے جبکہ ہم جیسے کمزور جانور گھٹ گھٹ کر زندگی جیتے ہیں— یہاں کام اور محنت کی بالکل عزت نہیں ہے۔ تم انسانوں میں ہی دیکھ لو۔ ۔۔فضلو موچی پورے گائوں والوں کے جوتے بناتا ہے لیکن پھر بھی اس کی کوئی عزت نہیں ہے۔ ہر وقت چودھری کے ہاتھوں بے عزت ہوتا ہے۔ خادم حجام کو ہی دیکھ لو۔ کئی دفعہ چودھری سے مار کھا چکا ہے۔‘‘
آہٹ سن کر وہ ایک لمحے کے لیے رک گیا تھا۔ ماسٹر کا بیٹا آیا اور جلدی سے ان کے سامنے پانی کی بالٹی رکھ کر چلا گیا۔ دونوں باپ بیٹا پانی پینے لگے۔
گلدان ابھی تک بے چین تھا۔ بولا، ’’بابا! بات تو درمیان میں ہی رہ گئی۔‘‘
گلو نے پانی کی بالٹی سے منہ باہر نکالا اور ایک ہنکارا بھر کر بولا، ’’پتر! چودھریوں کے مزارعوں کو ہی دیکھ لو۔ وہ بھی ہم گدھوں کی طرح ہیں۔ سارا دن محنت مشقت کرتے ہیں اور شام کو چودھری کی جھڑکیاں کھاتے ہیں۔ کھانے کیلئے ان کو بچی کچھی روٹی ملتی ہے جبکہ چودھری اور اس کے حواری سارا دن کچھ نہیں کرتے اور آخر میں سب سے اچھی خوراک ان کو ہی نصیب ہوتی ہے۔‘‘
انہیں باتیں کرتے ہوئے کافی دیر ہو گئی تھی۔ رات کافی ڈھل چکی تھی۔ تقریباً تمام جانور سو چکے تھے۔ کہیں کہیں سے کتوں کے بھونکنے یا بلیوں کے آپس میں لڑنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ گلو کو نیند آ رہی تھی لیکن گلدان کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ وہ بہت بے چین تھا۔ وہ سارے ہی سوالات کے جوابات آج ہی معلوم کر لینا چاہتا تھا۔
وہ بولا، ’’بابا! آپ کی بات مان لیتا ہوں کہ طاقت ور کی عزت ہے لیکن یہ گائے، بھینس اور بیل وغیرہ بھی تو کمزور جانور ہیں۔ ان کی عزت ہم سے کہیں زیادہ ہے۔‘‘
گلو کو اگرچہ نیند آ رہی تھی لیکن وہ اپنے بیٹے کو مایوس نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ بولا، ’’انسان ہر چیز میں اپنا فائدہ دیکھتا ہے۔ گائے اور بھینس سے دودھ حاصل کرتا ہے جبکہ بیل سے یہ ہل چلانے کا کام لیتا ہے۔ اس لیے ان کا خیال بھی زیادہ رکھتا ہے۔‘‘
’’بابا! کام تو ہم بھی کرتے ہیں۔‘‘
’’کام کام میں فرق ہے۔ بالخصوص انسان کیلئے دونوں کاموں کی حیثیت مختلف ہے۔‘‘
دونوں باپ بیٹا بہت تھک چکے تھے۔ باتیں کرتے کرتے دونوں کو نیند نے آ لیا تھا۔ انہیں سونا تھا کیونکہ آنے والی صبح ہر صبح کی طرح مشقت سے بھری ہوئی تھی۔
محنت مشقت کرنے والوں کو زندگی میں کبھی سکون نہیں ملتا۔ ہر روز ایک مشکل تر صبح ان کی منتظر ہوتی ہے۔
دونوں باپ بیٹا حسبِ معمول صبح ہوتے ہی کام پر نکل جاتے تھے اور سورج غروب ہونے کے بعد واپس آتے تھے۔ لیکن آج خلافِ معمول ماسٹر ان کو بہت جلد ہی واپس لے آیا تھا— وہ سورج غروب ہونے سے پہلے ہی اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئے تھے۔
آج ماسٹر خوشی سے گنگنا بھی رہا تھا۔ ڈیرے پر خلافِ معمول کچھ زیادہ ہی لوگ جمع تھے۔ ماسٹر اپنی ایک بوڑھی گائے اور بیل کو میدان میں لے آیا۔ لوگوں نے پہلے گائے کو پکڑ کر گرایا اور ذبح کر دیا۔ پھر بیل کو بھی زبردستی پکڑا اور اسے زمین پر گرا کر اس کا گلا سرخ کر دیا۔
گلو نے تو یہ منظر کئی بار دیکھا تھا لیکن گلدان یہ پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ اسے جھرجھری آ گئی۔ گلو نے اداسی سے اپنے بیٹے کو بتایا، ’’میں کہتا تھا نا کہ انسان سے بڑا ظالم دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ یہ بہت سنگدل ہے۔ اب تو تم نے اپنی آنکھوں سے یہ تماشا بھی دیکھ ہی لیا ہے۔ یہ بوڑھی گائے بے چاری اب دودھ دینے کے لائق نہیں رہی تو انسان نے اس کے گلے پر چھری چلا دی۔ اسی طرح یہ بوڑھا بیل بھی اب ہل چلانے کے لائق نہیں رہا تو اس سنگ دل انسان نے اس کے گلے پر تند چھری چلا دی ہے۔ واقعی یہ انسان بڑا خود غرض ہے۔‘‘
گلدان یہ سب کچھ دیکھ کر بہت خوفزدہ ہو گیا تھا۔ اس نے ڈرتے ڈرتے باپ سے پوچھا، ’’بابا! یہ ماسٹر ایک دن ہم پر بھی اسی طرح چھری چلا دے گا؟‘‘
گلو بولا، ’’اسی لیے تو میں تمہیں کہتا ہوں کہ محنت سے کام کیا کرو۔ جب تک تم کام کرتے رہو گے، انسان کو فائدہ دیتے رہو گے، یہ تمہیں نہیں مارے گا بلکہ تمہیں کھلاتا پلاتا رہے گا۔ ایک دفعہ تم بیکار ہوئے تو یہ تمہارے گلے پر چھری چلا دے گا۔‘‘
آج کی رات گلدان پر بہت بھاری تھی۔ وہ خوف سے ساری رات سو نہیں سکا تھا۔

صبح صبح ماسٹر کا بیٹا دونوں کو گھاس ڈالنے آیا تو بہت غصے میں تھا— اس نےآتے ہی دونوں باپ بیٹوں پر ڈنڈوں کی بارش کر دی۔ وہ غصے میں دونوں کو گالیاں دے رہا تھا —وہ دونوں کو ڈنڈے مار رہا تھا اور ساتھ ساتھ اپنے باپ کو بھی گالیاں دے رہا تھا۔
گلدان کو بہت غصہ آیالیکن مارے بے بسی کے سسک کر رہ گیا۔ وہ کچھ کر نہیں سکتا تھا۔ بندھا ہوا تھا۔ کھلا ہوتا، تب بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے اپنے باپ سے کہا، ’’بابا! ہماری قسمت دیکھو، یہ اپنے باپ کا غصہ ہم پر نکال رہا ہے۔بابا! اس سے تو اچھا تھا کہ ہم جنگل میں ہوتے— سنا ہے کہ سارے جانور پہلے جنگل میں ہی رہا کرتے تھے۔ بعد میں انسان ان کو اپنے پاس لے آیا۔‘‘
گلو نے اثبات میں سر ہلایا۔ جیسے اس کی بات سے متفق ہو۔ بولا، ’’ہاں! ہم بھی پہلے جنگل میں ہی رہتے تھے لیکن وہاں زندگی کون سی آسان تھی؟ وہاں بھی ہر وقت جان کے لالے پڑے رہتے تھے۔ شیر اور چیتے جیسے طاقت ور جانور موقع ملتے ہی ہمیں چیر پھاڑ دیتے تھے۔‘‘
گلدان بولا، ’’جتنے دن جنگل میں رہتے، کم از کم عزت سے اور اپنی مرضی سے تو جیتے نا— یہ ذلت اور غلامی تو ہمارے مقدر میں نہ ہوتی۔مرنا تو ہم نے ایک دن ویسے بھی ہے ۔‘‘
گلو خاموش رہا۔ صاف معلوم ہو رہا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی بات سے متفق نہیں تھا۔

زندگی اپنی ڈگر پہ چل رہی تھی۔ دونوں باپ بیٹے کی زندگی کے وہی صبح وہی شام تھے۔ گلو نے تو وقت سے سمجھوتا کرنا سیکھ لیا تھا لیکن گلدان ابھی تک سرکش تھا۔ ایک رات جب دونوں باپ بیٹے کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی، گلدان نے اپنے باپ سے پوچھا، ’’بابا! اور بھی تو بہت سے ڈیل ڈول والے جانور تھے، پھر اس سامان ڈھونے والے مشکل کام کے لیے ہم بدنصیب ہی کیوں انسان کی نظر میں آگئے اور اس نے ہمیں باربرداری کیلئے مخصوص کر دیا۔‘‘
گلو بولا، ’’بیٹا! یہ لمبی کہانی ہے۔ جو میں نے اپنے پرکھوں سے سنا وہ آج تمہیں بتاتا ہوں۔ اگر ہمارے بزرگ جرات کرتے تو ہمیں آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا— اپنے بزرگوں کی بزدلی اور کمزوری کا نتیجہ ہم آج بھگت رہے ہیں۔‘‘
آج موسم بہت اچھا تھا۔ باہر ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی جس کی سرسراہٹ اندھیرے میں خوف ناک محسوس ہو رہی تھی۔ ماضی کو یاد کر کے گلو کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے لیکن اندھیرے کی وجہ سے گلدان دیکھ نہ سکا۔ اس نے ہنکارا بھرا اور پھر بولا، ’’باربرداری کے لیے سب سے پہلے انسان کی نظر شیر اور چیتے پر پڑی کیونکہ دونوں بہت طاقت ور تھے۔ انسان کا خیال تھا کہ یہ زیادہ سامان لے جا سکتے ہیں لیکن دونوں اپنی خونخواری اور بہادری کی وجہ سے انسان کے قابو میں نہ آ سکے۔ چند شیر اور چیتے انسان نے پکڑ کر ریڑھی کے آگے لگائے لیکن کچھ ہی دنوں بعد یہ اپنے مالک کو چیر پھاڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کے بعد انسان ان کو قابو کرنے کی جرات ہی نہیں کر سکا۔‘‘
گلدان نے آہ بھری، ’’کاش! میں بھی شیر ہوتا۔‘‘
گلو بولا، ’’بیٹا! قسمت کا لکھا کون تبدیل کر سکتا ہے‘‘
چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔ دونوں کہیں کھو گئے تھے۔ پھر گلدان نے ہی اس خاموشی کو توڑا، ’’پھر کیا ہوا؟‘‘
گلو نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بولا، ’’انسان بنیادی طور پر کمزور ہے۔ باربرداری جیسا مشکل کام وہ نہیں کر سکتا۔ وہ بے چینی سے کسی جانور کی تلاش میں تھا— ہاتھی کو دیکھ کر اس کے منہ میں پانی آتا تھا کہ اتنا ڈیل ڈول والا جانور تو بہت زیادہ وزن اٹھا سکتا ہے۔‘‘
گلدان نے بے چینی سے پوچھا، ’’پھر ہاتھی انسان کے ہاتھ کیوں نہیں آیا؟‘‘
وہ بولا، ’’انسان نے ہاتھی کو پکڑنے کی بہت کوشش کی۔ اس کوشش میں کئی انسان ہاتھی کی سونڈ سے ہلاک ہو گئے— کچھ اس کے پائوں تلے روندے گئے۔ آخر کار تھک ہار کر انسان نے ہاتھی کا پیچھا چھوڑ دیا۔ ‘‘
گلدان نے طنز کیا، ’’پھر ہم بیوقوف اور بے غیرت گدھے انسان کے ہاتھ آگئے۔‘‘
گلو اب اداسی سے نکل چکا تھا۔ اس نے قہقہہ لگایا، ’’نہیں نہیں— ہم گدھوں کی باری تو سب سے آخر میں آئی۔ ہاتھی کے بعد انسان کی نظر لومڑی پر پڑی۔ لومڑی اگرچہ بظاہر دیکھنے میں کمزور تھی لیکن اپنی پھرتی کی وجہ سے انسان کی نظروں میں آگئی — پھر انسان اسے آسانی سے قابو کرنے میں کامیاب ہو گیا۔‘‘
گلدان حیرت سے بولا، ’’اس کا مطلب ہے کہ لومڑی بی بی بھی ہمارے والا کام کرتی رہی ہے؟‘‘
گلو بولا، ’’ہاں ہاں! کچھ عرصہ یہ کام اس نے کیا لیکن پھر اپنی چالاکی کی وجہ سے جلد ہی انسان سے پیچھا چھڑانے میں کامیاب ہو گئی۔‘‘
رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔ ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ لیکن دونوں کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ گلو ایک لمحہ توقف کے بعد بولا، ’’پھر انسان کتے کو آسانی سے قابو کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ کتا اگرچہ بہادر ہے لیکن اتنا عقلمند نہیں ہے۔‘‘
گلدان نے دلچسپی سے پوچھا، ’’پھر کتے کی جان کیسے چھوٹی؟‘‘
کہانی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔
گلو مسکراتے ہوئے بولا، ’’کتا ریہڑی کے آگے تو آسانی سے جُت گیا لیکن اس نے بھونکنے والی عادت نہ چھوڑی— کبھی وہ مالک پر کاٹنے کے لیے حملہ بھی کر دیتا تھا— کبھی کبھار سامنے دکھائی دینے والے کتے پر ریہڑی اور سامان سمیت حملہ کر دیتا تھا جس سے سامان ضائع ہو جاتا تھا یا ریہڑی ٹوٹ پھوٹ جاتی تھی۔انسان نے اسے کبھی مارا پیٹا تو کبھی پیار سے قابو کرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ کتا کتا ہی رہا، مال بردار نہ بن سکا۔ تنگ آ کر انسان نے کتے کو آزاد کر دیا۔‘‘
گلدان کی دلچسپی کہانی میں بڑھ گئی تھی۔ اس نے پوچھا، ’’پھر ہم گدھوں کی باری کب آئی؟‘‘
گلو نے قہقہہ لگایا، ’’کتے کےبعد ہمارا ہی نمبر آیا تھا اور انسان کی یہ آخری کوشش کامیاب ہو گئی— شروع میں وہ ہماری جسامت سے خوف زدہ تھا لیکن پھر وہ ہماری بے وقوفی کو بھانپ گیا۔ ہم آسانی سے اس کے قابو میں آ گئے اور اس نے ہمیں ریہڑی کے آگے جوت دیا۔ کچھ گدھوں نے دولتیاں مار کر احتجاج کرنے کی کوشش کی لیکن باقی گدھوں نے ان کا ساتھ نہ دیا۔ اس نااتفاقی کی وجہ سے ہم اس انجام سے دوچار ہو ئے ہیں۔‘‘
گلدان یہ داستان سن کر نہایت رنجیدہ ہو گیا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسوئوں کا ریلا بہہ نکلا۔
باپ نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا، ’’گلدان! پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف ہم ہی کم تر نہیں، کچھ اور جانور بھی ہمارے جیسے ہیں۔‘‘
گلدان نے افسردگی سے پوچھا، ’’وہ کون سے جانور ہیں؟‘‘
گلو مسکرا کر بولا، ’’جانور تو رہے ایک طرف، کچھ انسان بھی ہماری طرح واقع ہوئے ہیں۔ تم نے دیکھا ہو گا کہ یہ فضلو موچی، خادم حجام اور مزارع ہم سے بھی زیادہ محنت، مشقت اور فرمانبرداری کرتے ہیں لیکن پھر بھی شام کو مالک سے لاتیں کھاتے ہیں، گالیاں بھی سنتے ہیں اور کبھی کبھار ان کو زمین پر گھسیٹا بھی جاتا ہے۔ ان میں سے کوئی ہماری طرح دولتیاں جھاڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب وہ دولتیاں مارنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے تو کوئی اس کا ساتھ نہیں دیتا بلکہ ایک طرف کھڑا ہو کر تماشا دیکھتا ہے۔‘‘
صبح قریب تھی۔ مرغ نے ایڑیاں اٹھا کر بانگ دینا شروع کر دی تھی۔ وہ دونوں ہی آنکھیں موند کر سو گئے کیونکہ کچھ ہی دیر بعد مشقت سے معمور نئی صبح ان کی منتظر تھی۔

اگلے دن موسم بہت خوشگوار تھا۔ ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔
آج ماسٹر کہیں گیا ہوا تھا۔ اس کا بیٹا ان کے ساتھ تھا۔ راستے میں بارش کی وجہ سے گلدان کا پائوں پھسلا تو وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور سامان سمیت نشیبی جگہ پر جا گرا۔ سامان گر کر بکھر گیا۔
ماسٹر کا بیٹا آگ بگولا ہو گیا۔ اس نے گلدان پر ڈنڈوں کی بارش کر دی۔
چند ہی منٹوں میں اس کے سارے جسم پر زخموں کے سرخ نشان اور نیل پڑ گئے۔ ماسٹر کا بیٹا ہانپتے ہوئے اسے گالیاں دینے لگا۔
گلدان بھیگی آنکھوں سے کبھی اپنے باپ کو دیکھتا تھا تو کبھی اپنے مالک کو۔ اس کا کوئی قصور نہیں تھا مگر اسے سخت ترین سزا دے دی گئی تھی۔ وہ گرا تھا۔ اس سے ہمدردی کرنے کی بجائے اس پر ظلم کا پہاڑ گرا دیا گیا تھا مگر وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ بے بسی کے شدید احساس سے اس کی آنکھیں بہہ نکلیں۔
بقیہ راستہ اس کیلئے عذاب بن گیا۔ گرنے سے چوٹ لگی تھی— ماسٹر کے بیٹے کے ڈنڈے نے پورے جسم کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا تھا، اس لیے اب قدم اٹھانا بھی محال ہو رہا تھا۔ اس سے چلا نہیں جا رہا تھا لیکن سفر کاٹنا تھا۔ رفتار کم ہونے پر ماسٹر کا بیٹا پھر اس کی کمر پرزور سے ڈنڈا مارتا تھا۔ وہ رک کر اس کے غیظ و غضب کا نشانہ نہیں بننا چاہتا تھا— وہ بڑی مشکل سے منزل پر پہنچا۔
آج گلدان بہت اداس تھا۔ اس کا پورا جسم دکھ رہا تھا۔ وہ بے چینی سے اپنی جگہیں بدل رہا تھا۔ کبھی بیٹھتا تو کبھی کھڑا ہو جاتا تھا۔
اس نے اپنے باپ سے کہا، ’’بابا! اس ذلت اور بے عزتی کی زندگی سے تو موت ہی بہتر ہے— یہ روز روز کی ذلتیں اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتیں۔‘‘
گلو بیٹے کی بات سن کر دل تھام کر رہ گیا۔ اس کا ایک ایک لفظ دکھ میں ڈوبا ہوا تھا۔ سچ تھا۔ اس کی کسی بات کو جھٹلایا نہیں جا سکتا تھا۔
وہ بولا، ’’گلدان پتر! ایسی باتیں نہیں کرتے۔ پہلے تمہاری ماں کا صدمہ ہی میری جان کا دکھ بنا ہوا ہے۔ تم ایسی باتیں کر کے میرا کلیجہ چھلنی نہ کرو۔‘‘
دونوں باپ بیٹا ماضی کو کرید کر، ایک دوسرے کو تسلیاں دلاسے دے کر سو گئے۔

صبح سویرے دونوں کو کام پر لے جانے کے لیے ماسٹر کا بیٹا پہنچ گیا تھا۔ اس نے آتے ہی دونوں کو غلیظ گالیاں دینے کے علاوہ دو دو ڈنڈے بھی جڑ دیے۔ اس کے ساتھ آنے والے اس کے دوست نے اسے ٹوکا، ’’کیوں بے زبانوں کو نہار منہ مار پیٹ رہے ہو؟‘‘
اس کا ہاتھ رک گیا۔ زبان چل پڑی۔ بولا، ’’تمہیں علم نہیں ہے۔ صبح سویرے گدھوں میں سستی پڑی ہوتی ہے۔ ان کی سستی دور کرنے اور ان میں طاقت بھرنے کے لیے گالیاں اور ڈنڈے ضروری ہوتے ہیں۔‘‘
گلدان آج ماسٹر کے بیٹے کی کسی بات پر دھیان نہیں دے رہا تھا۔ لگتا تھا آج وہ کسی اور دنیا میں پہنچ چکا تھا۔
دونوں باپ بیٹا سامان اٹھائے منزل کو رواں دواں تھے۔ ان کے راستے میں ایک گہری ندی آتی تھی جس کے اوپر چھوٹا سا پل بنا ہوا تھا۔
پل پر سے گزرتے ہوئے اس نے اپنے باپ کو نظر بھر کر دیکھا اور مدھم آواز میں الوداع کہا۔ اس سے پہلے کہ گلو کچھ سمجھتا، گلدان نے اچانک سامان سمیت ندی میں چھلانگ لگا دی۔ ’’چھپاک‘‘ کی زور دار آواز فضا میں گونجی۔ پانی کے چند چھینٹے پل پر، گلو اور ماسٹر کے بیٹے پر گرے۔
گلو نے دیکھا کہ گلدان سامان سمیت پانی میں ڈوبا، ابھرا، پھر ڈوبا — بپھری ہوئی ندی میں کچھ آگے جا کر اس نے گردن نکالی۔ دیکھتے ہی دیکھتے گلدان اور اس کی کمر پر بندھا ہوا سامان ڈوب کر نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
ماسٹر کا بیٹا پل کے وسط میں کھڑا پہلوئوں پر ہاتھ رکھے لمبی لمبی سانسیں لے رہا تھا جبکہ گلو کے جھولتے ہوئے کانوں میں گلدان کی دکھ بھری آواز گونج رہی تھی، ’’بابا! اس ذلت اور غلامی کی زندگی سے تو موت بہتر ہے۔‘‘

 

درِ زنداں



شہر بار گرد کی ترقی اور خوش حالی کی شہرت پوری دنیا میں پھیلی ہوئی تھی۔ لوگ دور دور سے اس کی خوب صورتی کا نظارہ کرنے آتے تھے۔شہر میں خوب صورت، بلند و بالا اور صاف ستھری عمارتیں ایستادہ تھیں جن پر سنگ مرمر کا کام خوبصورتی سے کیا گیا تھا۔
اکثر عمارتیں خوبصورت رنگوں سے مزین تھیں جن پر دیدہ زیب نقش و نگار بنے تھے۔ پرانے بادشاہوں کی تصویریں بڑی دیواروں پر جگمگاتی تھیں— کسی تصویر میں بادشاہ تخت پر جلوہ افروز تھے تو کسی میں فتح یاب جنگوں کی منظر کشی کی گئی تھی۔کسی تصویر میں بادشاہ کی سخاوت کا احوال پیش کیا گیا تھا تو کسی میں بادشاہ سے عوام کی محبت کو ظاہر کیا گیا تھا۔ کئی تصویریں ایسی بھی تھیں جن میں خوب صورت شہزادوں اور شہزادیوں کی محبت بھری کہانیوں کا احوال ظاہر تھا۔
شہر کے وسط سے ایک بڑی نہر گزرتی تھی جو دریا کو کاٹ کر بنائی گئی تھی۔ اس وجہ سے یہاں کی زمینیں بڑی زرخیز تھیں اور یہاں ہر سال وافر مقدار میں غلہ اگتا تھا۔
شہر میں جابجا خوبصورت باغوں کا جال بچھا ہوا تھا۔ خوبصورت چشموں اور فواروں کی بہتات تھی۔ زیبائشی پودے اور پھول شہر کی خوب صورتی میں بے حد اضافہ کرتے تھے۔
یہ شہر وسیع میدانی علاقے میں واقع تھا، اس لیے شہر کے عین وسط میں مختلف رنگ دار پتھروں اور مٹی سے بنائی گئی مصنوعی پہاڑی قریب سے گزرنے والوں کو روک لیا کرتی تھی۔ اس پر مختلف رنگوں اور قسموں کے پھول پودے لگائے گئے تھے۔ بیلیں اور چشمے دیکھنے والوں کی آنکھیں تھام لیتے تھے۔آنے والے مسافر اس حسین نظارے کو دیکھ کر مبہوت ہو جایا کرتے تھے۔
شہر بار گرد میں غلہ اور پھل وافر مقدار میں پائے جاتے تھے۔ اس لیے کچھ ہی عرصہ میں یہ شہر اہم تجارتی منڈی کا درجہ بھی حاصل کر چکا تھا۔ دور دراز ملکوں سے لوگ یہاں تجارت کی غرض سے آیا کرتا تھے— کچھ اس شہر میں بیچ دیا کرتے تھے، کچھ یہاں سے خرید لیا کرتے تھے، اس طرح گہما گہمی کا عالم برپا رہتا تھا۔ تاجروں کی آمد اور قیام کے سبب یہاں بہت سی سرائیں موجود تھیں جہاں ہر وقت تاجروں اور مسافروں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔
اس شہر کی ایک وجہِ شہرت غلاموں کی تجارت بھی تھی۔ یہاں ہر ہفتے غلاموں کی ایک بڑی منڈی لگتی تھی جس میں خرید و فروخت کے لیے دور دراز سے لوگ آیا کرتے تھے۔ یہاں کے غلاموں کی کام کرنے کی استعداد اور وفاداری ضرب المثل تھی۔

یمنی تاجر یحییٰ نے تجارت میں نیا نیا قدم رکھا تھا۔ دوسرے تاجروں کے منہ سے بار بار شہر بار گرد کا تذکرہ سن کر اس کے دل میں بھی اس شہر کو دیکھنے کی آرزو مچل رہی تھی۔ اس نے اس شہر کی تعریف اپنے باپ کے منہ سے بھی سن رکھی تھی۔
اس کا بچپن کا دوست صالح اسی شہر میں مقیم تھا۔ اس نے ایک بہترین سرائے بنا رکھی تھی جس کی وجہ سے وہ خاصا خوشحال ہو گیا تھا۔
یحییٰ کافی دنوں سے انتظار میں تھا کہ کوئی تجارتی قافلہ شہر بار گرد کو جائے تو وہ بھی قافلے کے ساتھ ہو جائے۔ اس سلسلے میں سن گن لینے کے لیے وہ عمومی طور پر شہر کا چکر لگایا کرتا تھا۔
ایک دن اسے پتہ چلا کہ یہاں سے ایک تجارتی قافلہ شہربار گرد کو جانے والاہے۔ وہ بھی اپنا مختصر تجارتی سامان لے کر قافلے میں شامل ہو گیا۔ اس کے ہمراہ اس کا نو خرید غلام بھی تھا جو اس نے چند دن قبل خریدا تھا۔ بظاہر توانا اور مضبوط دکھائی دینے والایہ غلام نہایت سست، کاہل اور ہڈ حرام واقع ہوا تھا۔ یحییٰ چند دنوں میں ہی اس غلام سے اکتا گیا تھا۔ وہ غلام نہ تو تندہی سے کام کرتا تھا، نہ آقا کا حکم پوری طرح بجا لاتا تھا — اس پر کسی ڈانٹ ڈپٹ کا اثر بھی نہیں ہوتا تھا۔ یحییٰ نے اس پر سختی کر کے دیکھ لیا تھالیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوتا تھا۔ یہاں تک وہ اپنا نام بھی نہ بتاتا تھا۔ نام پوچھنے پر پوری ڈھٹائی سے کندھے اچکا کر کہتا تھا، ’’مجھے سائیں کہہ لیا کرو۔‘‘
یحییٰ نے اپنے ساتھ اس لیے غلام کو بھی لے لیا تھا کہ شہر بار گرد کی مشہور غلاموں کی منڈی میں اس کے اچھے دام مل جائیں گے۔ وہ ہر حال میں اس سائیں سے جان چھڑانا چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کو فروخت کر کے وہاں سے کوئی اچھا سا غلام خرید لائے جو اس کے کام دھندے میں اس کی بھرپور معاونت کرے ۔ اسے یقین تھا کہ وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو جائے گا کیونکہ شہر بار گرد کی غلاموں کی منڈی سے خریدے جانے والے غلام تمام قریبی علاقوں میں مضبوط اور صاف نیت مشہور تھے۔

تاجر یحییٰ نے نے روانہ ہونے سے پہلے سائیں سے کہا، ’’کل میں تجارتی قافلے کے ساتھ شہر بار گرد جا رہا ہوں۔ تم بھی میرے ساتھ چلو گے۔ تمہیں پہلے بتا رہا ہوں تاکہ تم تیاری کر رکھو۔ میں وہاں کی منڈی میں تمہیں فروخت کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
سائیں خاموش بیٹھا اپنے مالک کی بات سن رہا تھا۔ وہ کسی گہری سوچ میں مستغرق تھا۔
یہ سنتے ہی اس کے ہونٹوں پر پھیکی اور بے جان سی مسکراہٹ پھیل گئی، ’’آقا! ابھی سے تنگ آ گئے ہو مجھ سے؟ کچھ دن اور آزما لو۔‘‘
یحییٰ غصے سے بولا، ’’بہت آزما لیا تمہیں۔ بہت نافرمان اور احسان فراموش ہو تم۔ تمہیں اچھا کھانا ، اچھا لباس اور آرام کیلئے اچھی جگہ دی لیکن تم اپنے آقا کی مسلسل نافرمانی کرتے رہے— میرا کام چستی اور نیک نیتی سے نہیں کیا مگر خیر، میں پھر بھی چاہتا ہوں کہ تمہیں اس  کے ہاتھ بیچوں جو تم سے زیادہ شفقت کرے۔ میں چاہتا ہوں کہ تمہیں مجھ سے بہتر مالک ملے۔‘‘
سائیں تھوڑی دیر خاموش رہا جیسے کسی گہری سوچ میں غرق ہو۔ اس دوران وہ مسلسل زمین کو گھورے جا رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے سر اٹھایا اور لمبی سانس حلق میں اُتار کر بولا، ’’میرے آقا! میں مانتا ہوں کہ میں ایک کچے گھر میں رہتا تھا، پھٹے پرانے کپڑے پہنتا تھا، لیکن تم نے مجھے اپنے محل میں رکھا۔ پہننے کو اچھی پوشاک دی لیکن میرے آقا! تم غلامی کی اذیت کو نہیں جانتے ہو۔ غلامی انسان سے اس کی روح چھین کر اسے ایک بے جان جسم بنا دیتی ہے — بے جان جسم کے لیے کسی چیز میں لذت نہیں ہوتی۔ چاہے وہ محل ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
یحییٰ کو اس کی باتوں پر بہت غصہ آ رہا تھا لیکن وہ صبر کے گھونٹ پی گیا۔ اس نے سوچا، ’’جس کو کچھ دن بعد بیچ دینا ہے، اس پر وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔‘‘ بجائے تلخی کے، وہ کمال تحمل سے بولا، ‘‘میرے پاس اور بھی غلام رہے ہیں۔ میں انہیں اچھا کھانا اور اچھے کپڑے دیا کرتا تھا۔ وہ ہمیشہ مجھ سے خوش رہے۔‘‘
یحییٰ کی بات پر سائیں نے کہا، ’’آقا! ان غلاموں کا آپ نے جسم اور روح دونوں خریدے ہوں گے لیکن میرا آپ نے جسم خریدا ہے ، روح نہیں۔ جس انسان کے اندر روح زندہ ہو، وہ غلامی کو قبول نہیں کرسکتا۔ یہ محل، یہ زرق برق لباس، یہ ست رنگے دسترخوان اس آزادی کا نعم البدل نہیں ہو سکتے ۔‘‘
یحییٰ اس کی باتوں سے بہت تنگ ہو رہا تھا۔ اضطراب اس کے چہرے پر نمایاں تھا۔
وہ بولا، ’’اگرچہ تم بہت نافرمان ہو، لیکن میں پھر بھی چاہتا ہوں کہ تمہیں کسی اچھے بندے کے ہاتھ بیچوں — تمہیں کوئی رحم دل آقا ملے۔‘‘
خاموش اور اداس رہنے والاسائیں اس بات پر ہنس پڑا، ’’میں آپ کی اخلاقیات سمجھ نہیں سکا— کبھی انسانوں کو غلام بنانے والابھی رحم دل ہوسکتا ہے؟ دوسروں کی روح اور جسم کو بیچ کر اپنے لیے آسانیاں پیدا کرنے والاانسان اچھا کیسے ہو سکتا ہے؟ ہر آقا اپنے غلاموں کا سارا خون نچوڑ لیتا ہے اور پھر چند قطرے اس کے جسم میں لوٹا کر رحمدلی اور سخاوت کی داد حاصل کرتا ہے۔ میرے آقا! میں سمجھتا ہوں کہ اپنے جیسے انسانوں کو غلام بنانے والااور ان پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والاانسان ہو ہی نہیں سکتا۔‘‘
اس کی باتیں سن کر یحییٰ کے تن بدن میں آ گ لگ گئی ۔ اس نے بے قابو ہو کر اسے ایک تھپڑ جڑ دیا، ’’بند کرو یہ بکواس!‘‘
اس زوردارتھپڑ کا سائیں پر خاطر خواہ اثر نہ ہوا۔ اس کے چہرے پر لمحہ بھر کو برہمی کا تاثر ابھرا جو فوراً معدوم ہو گیا۔ چہرہ پہلے کی طرح اسپاٹ تھا —ایک بے جان مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر تھی۔
چند لمحے لاتعلق سا رہ کر اپنے آقا سے مخاطب ہوا، ’’کسی آقا کے پاس انسان کو غلام بنانے کی کوئی دلیل نہیں ہوتی— کوئی جواز نہیں ہوتا— اس لیے وہ تشدد پر اتر آتا ہے۔‘‘
یحییٰ کا غصہ فزوں تر ہو گیا۔ اس نے سائیں کو گلے سے پکڑ کر تھپڑوں کی بارش کر دی۔ جاتے جاتے اس پر نفرت سے تھوک دیا۔ کہا، ’’حرامی کے بچے! تیار رہنا۔ ہم کل صبح سویرے ہی شہر بار گرد کے لیے نکل جائیں گے۔‘‘
سائیں نے سرد، بے تاثر اور لاتعلق نظروں سے اسے دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا۔

سائیں اداس تھا۔ رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی لیکن اسے نیند نہیں آ رہی تھی۔ اسے پھر ایک سفر درپیش تھا۔ غلامی سے غلامی تک کا سفر۔ ایک آقا سے دوسرے آقا کے ہاتھ تک کا سفر۔ وہ اپنے آپ ہی ہنسا، ’’ہا ہا! رحم دل آقا کی تلاش میں آزادی کا سفر—‘‘ کمرے میں اس کا یکبارگی دم گھٹنے لگا تو وہ باہر آ گیا۔ ہر طرف چاندنی پھیلی ہوئی تھی۔ لیکن اس کے دل میں گھپ اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ اس کا ماضی اس کے سامنے گھومنے لگا تھا۔

سائیں ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے باپ نے اس کی اچھی تعلیم و تربیت کی تھی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ شاہی فوج میں بھرتی ہو گیا اور اپنی محنت سے تھوڑے ہی عرصے میں اہم عہدے پر فائز ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
اس نے کئی جنگیں کامیابی کے ساتھ لڑیں لیکن پھر ایک جنگ میں شاہی فوج کو شکست ہو گئی۔ وہ دشمن کے نرغے میں آ گیا— بہادری سے لڑا۔ وہ لڑتے لڑتے مر جانا چاہتا تھا کیونکہ اسے علم تھا کہ اس کی فوج کو شکست ہو چکی ہے اور گرفتاری کے بعد اسے غلام بنا لیا جائے گا۔وہ غلامی پر موت کو ترجیح دیتا تھا۔ چونکہ دشمن کو اس کی قدر و قیمت کا اندازہ تھا، اس لیے سپاہیوں نے اسے زخمی کر کے زندہ گرفتار کر لیا۔ وہ کچھ عرصہ پابہ زنجیر رہا، پھر زخموں کے بھرنے پر غلاموں کی منڈی میں اچھے داموں بیچ دیا گیا۔

یحییٰ سائیں کو لیے علی الصباح تجارتی قافلے میں شریک ہو کر شہر بار گرد کی طرف روانہ ہو گیا۔ سائیں اپنی روایتی خاموشی کے ساتھ اس کے ہمراہ چل رہا تھا۔ باقی تاجروں نے بھی اپنے اپنے غلام ساتھ لیے ہوئے تھے جو سفر سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ آپس میں بات چیت بھی کر رہے تھے اور اپنے آقائوں کی باتیں بھی توجہ سے سن کر ان پر عمل کر رہے تھے۔
لیکن سائیں خاموش تھا۔ اس کا چہرہ تاثرات سے یکسر آزاد تھا۔
اس قافلے میں شامل کچھ تاجر جن میں اس کا آقا بھی شامل تھا، پہلی مرتبہ شہر بار گرد جا رہے تھے۔ انہیں منزل پر جلدی سے جلدی پہنچنے کا اشتیاق تھا۔ قافلے میں شامل پرانے تاجر کئی دفعہ شہر بار گرد جا چکے تھے — وہ نوجوان تاجروں کو شہر کے دلچسپ قصے سنا رہے تھے— کوئی شہر کے خوب صورت باغوں اور پھولوں کا تذکرہ کر رہا تھا تو کوئی خوبصورت ندی نالوں کا۔ اکثر غلام بھی اس شہر کی یاترا پہلے سے کر چکے تھے۔وہ وہاں کے غلاموں اور غلاموں کی منڈی کی بڑی تعریفیں کر رہے تھے، ’’ہم تو اپنے آقا کی اتنی نمک حلالی نہیں کرتے جتنی شہر بار گرد کے غلام کرتے ہیں۔ وہ بہت محنتی اور ایماندار ہیں۔‘‘
سائیں ان ساری باتوں سے بے نیاز سر جھکائے چل رہا تھا۔ اس کے لیے سارے راستے اور سارے لوگ اجنبی تھے۔ اس کے لیے نہ منزل آشنا تھی نہ راستے۔
شام ہونے سے پہلے ہی قافلہ شہر میں داخل ہو چکا تھا۔ شہر کی ترقی دیکھنے کے لائق تھی— ہر طرف خوب صورت چشمے، فوارے، روشنیاں، ندی نالے اور بلند و بالاعمارات ایستادہ تھیں۔ ڈوبتے سورج کی زرد روشنی نے شہر کے حسن میں اضافہ کر دیا تھا۔ ہر طرف نوجوان خوش گپیاں کرتے ہوئے چلتے پھرتے نظر آ رہے تھے۔ قافلے نے شہر کے مضافات میں پڑائو کیا۔

یحییٰ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد اپنے دوست صالح کی سرائے کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ اس کی سرائے شہر کی بڑی سرائوں میں شمار کی جاتی تھی۔ اس لیے یحییٰ کو آسانی سے مل گئی۔
صالح اپنے پرانے دوست سے مل کر بہت خوش ہوا۔ یحییٰ سرائے کی رونق دیکھ کر بہت متاثر ہواتھا۔ ادھر اُدھر نوجوان کے جتھے گپیں لگا رہے تھے۔ چائے اور قہوے کے دور چل رہے تھے۔ کچھ لوگ کھانا کھانے میں مصروف تھے۔ چراغوں کی روشنی اور ہلکے دھوئیں نے ماحول کو سحر زدہ بنا دیا تھا۔ یحییٰ نے صالح سے کہا، ’’ماشاء اللہ — تمہاری سرائے بہت اچھی ہے۔ لوگوں کا رش دیکھ کر لگتا ہے کہ تم خوب کمائی کر رہے ہو۔‘‘
صالح نے جواب دیا، ’’اللہ کا شکر ہے۔ بہت اچھی گزر بسر ہو رہی ہے۔ میری اپنی ذاتی بڑی حویلی ہے— سواری کے لیے میں نے خوبصورت گھوڑے بھی رکھے ہوئے ہیں۔‘‘
یحییٰ کے ذہن میںبہت زیادہ سوال مچل رہے تھے۔ اس نے پوچھا، ’’صالح! شہر کی ترقی دیکھ کر لگتا ہے کہ یہاں کے لوگ بہت محنتی ،ہنر منداوربہت باکمال ہیں۔‘‘
صالح نے اس کی بات سن کر ایک بلند قہقہہ لگایا اور کہا، ’’یہاں کے لوگ تو بہت نکمے اور نااہل ہیں۔ ان کو کوئی ہنر بھی نہیں آتا ہے— یہ لوگ کاشتکاری اور باغبانی بھی نہیں کر سکتے۔ یہاں کے نوجوان دن چڑھے اٹھتے ہیں اور پھر شام تک باغوں اورسرائوں میں آوارہ گردی کرتے رہتے ہیں— چائے قہوہ پیتے ہیں۔ کوئی کام نہیں کرتے۔‘‘
یحییٰ نے حیرانی سے کہا، ’’تم مذاق تو نہیں کر رہے ہو؟ لوگ اتنے نکمے ہیں تو پھر شہر نے ترقی کیسے کی؟‘‘
صالح نے جواب دیا، ’’یہاں کے غلام بہت محنتی، فرمانبردار اور ہنر مند ہیں۔ یہ بے چارے دن رات آقائوں کی خدمت کرتے رہتے ہیں۔ تمہیں تو پتا ہو گا کہ شہر بار گرد پوری دنیا میں اچھے غلاموں کیلئے مشہور ہے۔‘‘
وہ دونوں باتیں بھی کر رہے تھے اور کھانا بھی کھا رہے تھے۔ اسی دوران سرائے والا لڑکاچائے لے آیا تھا۔ یحییٰ نے ایک گھونٹ چائے حلق میں اُتارتے ہوئے کہا، ’’غلام تو ہمارے ہاں بھی بہت ہیں۔ ہم ان پر سختی بھی کرتے ہیں۔ بوقتِ ضرورت جسمانی تشدد بھی کرتے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ کرنے کے باوجود وہ نہ تو اتنا کام کرتے ہیں اور نہ ہی فرمانبرداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ عجیب سی ہڈ حرامی اور سرکشی ان غلاموں میں پائی جاتی ہے۔‘‘
صالح اس کی باتیں سن کر زیرِ لب مسکرا رہا تھا۔ اس نے چائے کا گھونٹ بھرا اور کہا، ’’یہاں کے لوگوں نے چند دانشور پالے ہوئے ہیں جو ہنر تو کوئی نہیں جانتے، لیکن چکنی چپڑی باتیں کرنے کے ماہر ہیں۔ یہاں مذہبی پیشوائوں کا بھی ایک گروپ ہے جو چالاکی میں اپنی مثال آپ ہے۔ ان دانش وروں اور مذہبی پیشوائوں نے مکر و فریب کا ایک جال بن رکھا ہے جس سے یہ غلام نہیں نکل سکتے۔‘‘
یحییٰ کو اس کی باتوں میں دلچسپی محسوس ہو رہی تھی۔ ابھی بھی اس کے ذہن میں یہ سوال مچل رہا تھا، ’’سختی کیے بغیر بھی غلاموں سے کام لیا جا سکتا ہے؟‘‘
صالح نے بھی اس کے ہونٹوں پر مچلتا ہوا سوال پڑھ لیا اور بولا، ’’سختی کرنے سے آپ غلاموں سے کچھ وقت کے لیے تو کام لے سکتے ہیں، لیکن مستقل طور پر کام لینے کے لیے مکر و فریب بہت ضروری ہے۔‘‘
سرائے میں لوگوں کا رش بڑھ چکا تھا۔ ہر طرف سے بھانت بھانت کی آوازیں آ رہیں تھیں۔ وہ دونوں اُٹھ کر سرائے کے عقبی طرف والے باغیچے میں آ گئے تھے۔ یہاں تنہائی اور مدھم چاندنی میں وہ دونوں سکون سے باتیں کر سکتے تھے— صالح نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، ’’یہاں کے دانشور بہت چالاک ہیں۔ انہوں نے غلاموں کو بے وقوف بنانے کے لیے جھوٹے فلسفے بنائے ہوئے ہیں۔ خود محنت نہیں کرتے لیکن غلاموں کو محنت کی عظمت کے جھوٹے قصے سناتے ہیں۔ آقا کی فرمانبرداری اور اطاعت کے قصے مسلسل غلاموں کے ذہن میں ڈالتے رہتے ہیں۔ آقا کی فرمانبرداری پر غلاموں کو ملنے والے انعامات کے ہزاروں قصے ان کو ازبر ہیں جبکہ دوسری طرف محنت، مشقت سے دور مذہبی پیشوا ان سے بھی زیادہ چالاک ہیں۔‘‘
یحییٰ نے ایسی باتیں پہلی دفعہ سنی تھیں۔ اس نے تجسس سے پوچھا، ’’مذہبی پیشوا کیسے چالاکی کرتے ہیں؟‘‘
صالح نے ایک زیرِ لب تبسم سے اسے دیکھا اور بولا، ’’وہ آقا کی اطاعت اور فرمانبرداری کو اوپر والے کا حکم بتاتے ہیں— آقا کی نافرمانی کو اوپر والے کی نافرمانی کہتے ہیں۔ آقا کی فرماں برداری کو وہ ثواب کا درجہ دیتے ہیں۔ آقا کی فرمانبرداری اور اطاعت پر ملنے والے انعامات کا ذکر وہ تواتر سے کرتے رہتے ہیں۔‘‘
باہر باغیچے میں فرحت بخش ہوا چل رہی تھی۔ پھولوں کی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ تھوڑی دیر میں ایک ملازم ان کے لیے قہوہ لے آیا تھا۔ یحییٰ نے قہوہ کی چسکی لیتے ہوئے کہا، ’’لیکن ان غلاموں میں کوئی تو اس مکر و فریب کو سمجھتا ہو گا؟‘‘
صالح نے جواب دیا، ’’ہاں! کچھ ایسے غلام ہوتے ہیں۔ وہ آواز اٹھاتے بھی ہیں لیکن مذہبی پیشوا ایسے غلاموں کو اوپر والے کا نافرمان کہہ کر سزا دیتے ہیں۔ جب ایک کو عبرت ناک سزا ملتی ہے تو پھر کئی کئی سال شہر میں کوئی آواز نہیں اٹھتی۔‘‘
دونوں کوباتیں کرتے ہوئے وقت کے گزرنے کا مطلق احساس نہیں ہواتھا۔ رات کافی بیت چکی تھی۔ اکثر لوگ سرائے سے اُٹھ کر واپس گھروں کو جا رہے تھے۔ یحییٰ اصل بات زبان پر لے آیا، ’’میں بھی ایک سرکش اور نافرمان غلام فروخت کرنے کے لیے ساتھ لایا ہوں تاکہ یہاں سے کوئی اچھا اور فرمانبردار غلام خرید سکوں۔ اسی سلسلے میں تمہارا مشورہ بھی مجھے درکار ہے۔‘‘
صالح کسی گہری سوچ میں تھا۔ بولا، ’’میں فرمانبردار اور محنتی غلام تو تمہیں خرید دوں گا لیکن یہی غلام تمہارے ہاں جا کر کچھ عرصے بعد سرکش ہو جائے گا — تمہارے پاس ایسے چالاک اور مکر و فریب دینے والے دانشور اور مذہبی پیشوا نہیں ہیں۔‘‘
یحییٰ نے اثبات میں سر ہلایا جیسے اس کی بات سے متفق ہو۔ رات کافی گزر چکی تھی — وہ دونوں سرائے کے ساتھ متصل کمرے میں باتیں کرتے کرتے سو گئے تھے۔

اگلے دن وہ سائیں کو لے کر غلاموں کی منڈی میں پہنچ گیا۔ ہر طرف بکنے والے اور خریدے جانے والے غلاموں کا ہجوم تھا۔ کچھ دیر کے لیے اسے اس کام سے گھن آنے لگی — اسے غلاموں پر ترس آنے لگا لیکن تھوڑی دیر بعد ہی اس کے اندر کا تاجر اس کے ضمیر پر غالب آ گیا تھا۔ اس کے ذہن میں اس کے مرحوم باپ کے الفاظ گونجنے لگے، ’’منافع کمانے کے لیے انسانوں پر رحم کرنے کی نہیں بلکہ مکر و فریب کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘
اس نے منڈی میں سائیں کو اچھے داموں کے عوض فروخت کردیا ۔ سائیں کے نئے آقا نے یحییٰ سے کہا، ’’مجھے یہ غلام سرکش اور باغی لگتا ہے۔ مگر کوئی بات نہیں ہے۔میں ایسے لوگوں کو فرماں بردار بنانے میں مہارت رکھتا ہوں۔ میں اسے سیدھا کر لوں گا۔‘‘
سائیں نئے آقا کے پہلو میں کھڑ ا اس کی باتیں سن رہا تھا۔وہ خاموشی سے سر جھکائے کھڑا تھا۔ اس کی آنکھوں میں نہ کوئی چمک تھی اور نہ چہرے پر کوئی ملال— وہ دور خلائوں میں ایک چڑیا کو آزادی سے اُڑتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔
وہاں سے روانہ ہوتے وقت یحییٰ بھی اداس تھا۔ اس نے سائیں سے کہا، ’’زندگی موت کا کوئی پتہ نہیں۔ کوئی غلطی ہو تو معاف کر دینا۔ میری دعا ہے کہ تم نئے آقا کے ساتھ خوش رہو۔‘‘
سائیں کی آنکھ سے آنسو ٹپکا اور بے رحم مٹی میں جذب ہو گیا۔ ایک پھیکی مسکراہٹ سے اس نے کہا، ’’میرے آقا! مجھے کسی سے گلہ نہیں۔ بس اپنے آپ سے گلہ ہے۔ آپ اپنے گھر، اپنی منزل کو جا رہے ہیں، اللہ خیریت سے آپ کو پہنچائے— ہم غلاموں کی تو کوئی منزل نہیں ہوتی۔ ساری زندگی سفر اور راستوں میں طے ہوتی ہے— ایک اذیت ناک سفر ۔پھر ایک دن ہم جیسے غلام کسی تاریک غلام گردش میں مارے جاتے ہیں اور ایک بے نام قبر میں دفن ہو جاتے ہیں— نہ کوئی نام ہوتا ہے اور نہ نشان۔ مزار تو آقائوں کے بنتے ہیں۔ چراغاں تو انہی کی قبروں پر ہوتا ہے۔‘‘
اس کی آنکھوں میں رکے آنسو ٹپ ٹپ نیچے گرنے لگے تھے۔ آنسوئوں سے مٹی نم ہو گئی لیکن کوئی آگ نہیں لگی تھی کیونکہ یہ ایک غلام کے آنسو تھے، کسی آقا کے نہیں۔ کسی آقا کے آنسو ہوتے تو ہر طرف ہلچل مچ جاتی۔

سائیں کی زندگی کا نیا دور شروع ہو گیا تھا۔ بس صرف آقا بدلا تھا۔ باقی شب و روز وہی تھے۔ وہی زنجیریں۔ وہی غلامی کی اذیت۔
پرندوں کو آزاد فضائوں میں اُڑتے ہوئے دیکھ کر اس کی آنکھیں نم ہو جاتی تھیں۔ بلبل کی چہچہاہٹ اسے اداس کر دیتی تھی۔
زندگی ایک ڈگر پر چل رہی تھی۔ روزانہ محنت، مشقت، آقا کی خدمت، تین وقت کا کھانا اور رات کو سو جانا۔ بس پہلے سے صرف فرق اتنا تھا کہ کام کےدوران کچھ دیر غلاموں کو آرام دیا جاتا تھا جس میں چند واعظ درس دیتے تھے۔ چکنی چپڑی باتیں کرنے والے چند دانش ور جو تھوڑی دیر بھی دھوپ برداشت نہیں کر سکتے تھے، وہ غلاموں کو محنت کی عظمت پر درس دیتے تھے۔ خوبصورت زندگی کے خواب دکھاتے تھے۔ وہ چالاک لوگ سیاہ کو سفید دکھانے کے ماہر تھے۔
آقا کے کارندے غلاموں کی نگرانی کرتے تھے جبکہ آقا کبھی کبھی خود آتا تھا۔ وہ بھی انتہائی چالاک تھا۔کسی دن وہ ایک غلام کو معمولی انعام دیتا اور کہتا، ’’تم میرے لیے انتہائی قیمتی ہو۔ تمہاری محنت اور فرمانبرداری پر مجھے فخر ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ باقی لوگ بھی اسی طرح کام کریں اور انعام لیں۔‘‘
بس پھر کیا ہوتا تھا، اس انعام کے لالچ اور آقا کی خوشنودی کے حصول میں باقی غلام اپنی محنت و مشقت بڑھا دیا کرتے تھے۔

سائیں کوئی پیدائشی غلام نہیں تھا بلکہ اسے حالات کی ستم ظریفی نے غلام بنایا تھا۔ وہ تو بادشاہوں کے ساتھ رہا تھا۔ اس نے آزادی دیکھ رکھی تھی۔ وہ آقا، دانش وروں اور مذہبی پیشوائوں کی ساری چالاکیوں کو سمجھتا تھا جبکہ اس کے ساتھی غلام نسلوں سے غلام چلے آ رہے تھے۔ انہوں نے آزادی کبھی دیکھی ہی نہیں تھی اور نہ ہی وہ آزادی کا مطلب سمجھتے تھے۔ وہ آقا کی باتوں اور خوابوں پر بڑے خوش ہوتے اور پھر انہی باتوں پر بحث و مباحثہ کرتے تھے۔ نئی سوچ اور نئی باتیں ان کے ذہن میں آتی ہی نہیں تھیں۔
مذہبی پیشوا بھی باقاعدگی سے واعظ کرنے آیا کرتے تھے— وہ آقا کی نافرمانی پر ملنے والی سزائوں کا ذکرکرتے جس سے غلاموں کے چہرے خوف سے زرد ہو جاتے جبکہ سائیں ان باتوں پر مسکراتا رہتا۔ آقا کے نافرمانوں کو وہ خدا کے عذاب سے بھی ڈراتے تھے، ’’اپنے آقا کی نافرمانی کرنے والوں کے جسموں میں اللہ قیامت کے دن تیز کیل ٹھونکے گا۔ ان پر نہ ختم ہونے والاعذاب ہو گا۔‘‘
ایسی باتوں پر غلاموں کے چہروں پر خوف سے پسینہ چمکنے لگتا تھا۔

سائیں بہت ہی کم بولتا تھا البتہ وہ ساتھی غلاموں کی سوچ اور باتوں پر کڑھتا رہتا تھا۔ جب کوئی اس سے نام پوچھتا تھا تو وہ کہتا، ’’غلاموں کا کوئی نام و نسب نہیں ہوتا۔ ان کی کوئی پہچان نہیں ہوتی۔ وہ بس غلام ابن غلام ابن غلام ہوتے ہیں۔‘‘
سائیں اپنی دنیا میں مگن رہتا تھا۔ اس نے بال کٹوانے بھی چھوڑ دیے تھے۔ اسی وجہ سے کانوں کے نیچے تک اس کے بڑے بڑے بال تھے جو ہمیشہ الجھے رہتے تھے۔ اس کی سمندر جیسی گہری نیلگوں آنکھوں میں ہمیشہ اداسی ثبت رہتی تھی۔
شام کو جب کام کاج کے بعد سارے غلام اکٹھے ہوتے تو آپس میں بہت خوش گپیاں کرتے لیکن سائیں ان کی باتوں میں کم ہی دلچسپی لیا کرتا تھا۔ ان غلاموں کی ساری باتیں آقا اور ان کے زر خرید دانشوروں کے فلسفے کے گرد گھومتی تھیں جن کو وہ جھوٹ اور فریب کے علاوہ کچھ نہیں سمجھتا تھا۔
کبھی کبھار وہ اپنے ساتھیوں کو آزادی کا سبق سمجھانے کی کوشش ضرور کرتا تھا جس پر وہ سب مل کر اس کا خوب مذاق اڑایا کرتے تھے۔
کافی عرصہ گزر گیا تھا کہ وہ ہنسا ہی نہیں تھا۔ یہی سوال ایک ساتھی نے اس سے پوچھا تو اس نے جواب دیا، ’’آزادی کی تڑپ مجھے بے چین اور اداس رکھتی ہے۔ میں نے قسم کھائی ہے کہ جب تک آزاد نہیں ہوتا تب تک ہنسوں گا نہیں۔‘‘
ایک ساتھی نے از راہِ مذاق کہا، ’’جب آزادی ملے تو ہمیں اپنے ساتھ ضرور لے جانا۔‘‘
پورے کمرے میں اس بات پر سب کے قہقہے گونج اٹھے۔ وہ سارے آزادی اور غلامی کے فلسفے سے ہی ناآشنا تھے۔ آقا اور اس کے دانشوروں نے ان کے ذہنوں میں آقا کی محبت اور فرماں برداری کے وہ سبق بھر دیے تھے جو کسی اور سوچ کو جگہ ہی نہیں دیتے تھے۔
ایک بوڑھے غلام نے کہا، ’’سائیں نیا آیا ہے، اس لیے ایسی باتیں کرتا ہے۔ اسے دنیا کی سمجھ ہی نہیں ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم آزاد ہیں۔ ہمارا آقا بہت اچھا ہے۔ ہم اچھا کھانا کھاتے ہیں ۔ اچھا لباس پہنتے ہیں۔ آقا نے ہمیں رہنے کو بہترین جگہ دی ہوئی ہے۔ جب کوئی اچھا کام کرے تو انعام بھی دیتا ہے۔ ہاں! اگر کوئی نافرمانی کرے تو سزا تو اسے ملنی ہی چاہیے۔‘‘
اس بات پر سائیں سر پیٹ کر رہ گیا۔ اس نے دل میں سوچا، ’’یہ لوگ کپڑے، جوتے، انعام اور روٹی ملنے کو ہی آزادی سمجھتے ہیں۔ لعنت ہے ان کی سوچ پر۔‘‘

اکثر ساتھی غلام اس کی باتوں کا کم ہی اثر لیا کرتے تھے بلکہ جہاں تک ہو سکتا، اسے مذاق کا نشانہ ہی بنایا کرتے تھے— وہ اس کی تضحیک کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ وہ ان کے ردعمل کو دیکھ کر اکثر سوچا کرتا ، ’’بے شعوری اور لاعلمی بھی کتنی بڑی نعمت ہے۔ ان لوگوں کو آزادی اور غلامی کے فرق کا سرے سے علم ہی نہیں ہے، اس لیے ہر وقت خوش رہتے ہیں۔‘‘

بس زندگی ایک ڈگر پر چل رہی تھی۔ کولہو کے بیل کی طرح — صبح سے شام تک— آقا کی خدمت اور اس کی نازبرداریاں اٹھانا ، پھر رات کو تھکے ہارے سو جانا— کچھ دنوں سے تو رات کا سکون بھی ختم ہو کر رہ گیا تھا۔ اکثر آقا کی نازک اندام بیٹی رات کو ٹھنڈی ہوا میں بگھی کی سیر کو نکلا کرتی تھی۔کچھ غلاموں کو نیند سے بیدار کر دیا جاتا تھا۔ یہ غلام بگھی کے ساتھ شہر میں آقا زادی کو سیر کرانے جایا کرتے تھے۔ غلام اس پر بہت خوش تھے۔ رات کو جب یہ غلام خدمت بجا لانے کے بعد واپس اپنے مستقر میں آتے تو فخر سے کہتے ، ’’آقا زادی نے خوش ہو کر ہمیں شاباش دی۔‘‘
غلاموں کو کھانا اور کپڑے آقا کے مقابلے میں معمولی ملا کرتے تھے لیکن پھر بھی وہ بہت فخر سے کہتے، ’’یہ تو خدا کی تقسیم ہے۔ آقا اور غلام کبھی برابر نہیں ہو سکتے ۔ نہ غلام آقا جیسے کپڑے پہن سکتا ہے اور نہ اس جیسا کھانا کھا سکتا ہے۔ آخر احترامِ انسانیت بھی کوئی چیز ہے۔‘‘
وہ غلاموں کو سمجھا سمجھا کر تھک گیا تھا لیکن ابھی تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا تھا۔پھر بھی وہ اپنی سی کوشش کرتا رہتا تھا۔ وہ سمجھاتا، ’’آقا کی یہ ساری عیاشیاں ہماری محنت کی وجہ سے ہیں۔ہمیں محنت کا صلہ کچھ بھی نہیں ملتا — ہماری محنت کا پھل تو آقا کھا جاتا ہے۔‘‘
اس کا سمجھایا بے کار جاتا تھا کیونکہ ساتھی غلاموں کی سوچ ٹس سے مس نہیں ہوتی تھی۔

سائیں اکثر افسردہ رہا کرتا تھا۔ کوئی بھی اس کی بات سمجھنے والانہیں تھا۔ سوائے ایک نوجوان غلام ارجمند کے جس میں آزادی کی تڑپ کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔
ایک دن ارجمند نے اس سے پوچھا، ’’سائیں! ہم کبھی آزادی حاصل کر بھی سکتے ہیں؟‘‘
سائیں اس کے سوال پر گہری سوچ سے چونکا تھا۔ ایک لحظہ توقف کے بعد اس سے مخاطب ہوا، ’’آقائوں اور کارندوں کی تعداد تو تھوڑی سی ہے جبکہ ہم سیکڑوں کی تعداد میں ہیں۔ طاقت کے زور پر تو وہ ہمیں اپنا ماتحت نہیں رکھ سکتا۔ ہم پر قابو نہیں پا سکتا۔ اگر ہم بپھر جائیں، باغی ہو جائیں تو اس کے بازوئوں میں اتنا دم نہیں ہے کہ وہ ہمیں جانے سے روک لے کیونکہ ہم طاقت میں ان سے کہیں زیادہ ہیں۔‘‘
ارجمند نے پوچھا، ’’پھر ہم ان کو زیر کیوں نہیں کرتے؟‘‘
سائیں بولا، ’’آقا بڑا چالاک ہے۔ وہ ہم غلاموں کو اکٹھا نہیں ہونے دیتا بلکہ تقسیم کرتا رہتا ہے۔ شہر کے سب آقا ہماری سوچوں کو اپنا غلام رکھتے ہیں۔‘‘
ارجمند نے ایک آہ بھری اور کہا، ’’پھر ہم آقا کے فریب سے کیسے نکل سکتے ہیں؟‘‘
ایک دلفریب مسکراہٹ سائیں کے چہرے پر پھیل گئی۔ وہ بولا، ’’ہم وہی سوچتے ہیں جو آقا ہمیں کہتا ہے۔ روز اس کے قصیدے گاتے ہیں اور اس کی اچھائیوں کی تعریف کرتے ہیں۔ ہم اس کی سوچ کے دائرے میں قید رہتے ہیں۔ یہ سارے فلسفے، گانے، ترانے، ہمارے آقا نے ہمیں بے وقوف بنانے کیلئے بنا رکھے ہیں۔ یاد رکھو! جب تک ہم آقا سے مختلف نہیں سوچتے، آزادی حاصل نہیں کر سکتے۔‘‘
ارجمند کی صورت میں سائیں کو ایک اچھا دوست اور ہم خیال ساتھی مل گیا تھا۔ وہ اس کی باتوں کو سمجھتا تھا جبکہ دیگر غلام اپنی سوچ اور ڈگر سے ہٹنے کے لیے بالکل تیار نہیں تھے۔ وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے تھے۔
یہ سوچ، گانے، ترانے، فلسفے تو صدیوں کا سفر طے کر چکے تھے۔ یہ نسل در نسل ایک آقا سے دوسرے آقا کو منتقل ہو رہے تھے — چالاک آقا یہی فلسفے، وفاداری کے ترانے، انعام و اکرام کی بخششیں اور تقسیم کے فارمولے ان کے محکوم ذہنوں میں انڈیل دیتے تھے۔
غلام مرتے دم تک اس فریب اور سحر سے نکل نہیں پاتے تھے اور کولہو کے بیل کی طرح چکراتے ہوئے کسی تاریک غلام گردش میں مارے جاتے تھے— کچھ بوڑھے غلام آخری عمر میں آقا کے اس فریب کو ضرور سمجھ جاتے تھے لیکن اس وقت وہ کچھ کرنے کے قابل نہیں ہوتے تھے۔ ان کی ہمتیں جواب دے چکی ہوتی تھیں۔

سائیں کی نیند کافی کم ہو چکی تھی ۔ اس کا وزن بھی دن بدن کم ہوتا جا رہا تھا۔ وہ آنکھیں بند کیے ایک کونے میں پڑا رہتا تھا۔
اکثر غلام رات کو آنکھیں بند کر کے مسکراتے رہتے تھے۔ ایک دن سائیں نے ایک غلام سے اس کی وجہ پوچھی تو وہ مسکرا کر بولا، ’’آقا جو خواب دکھاتا ہے، میں اس کو آنکھوں میں بسائے رکھتا ہوں۔ تم نے بھی سنا ہو گا کہ آقا نے انعام کا اعلان کیا ہے۔ میں بھی اس انعام کا خواب آنکھوں میں سجائے پھرتا ہوں۔ اس خواب کو جاگتی آنکھوں دیکھ کر مسکرانے لگتا ہوں۔‘‘
سائیں نے اس پر ایک ترحم آمیز نگاہ ڈالی اور خاموش ہو گیا—

اس کی آزادی کیلئے تڑپ بڑھ رہی تھی لیکن کوئی شخص اس کا ساتھ دینے کو تیار نہیں تھا۔ سب آقا، شہزادے اور شہزادیوں کی مدح سرائی پر ہمہ وقت لگے ہوئے تھے— کوئی کسی شہزادی کا پرستار تھا تو کسی کی آنکھوں میں کوئی شہزادہ بسا ہوا تھا۔ وہ ان کی باتیں دہراتے رہتے تھے اور ان کی تعریف کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔
سائیں یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا اور دل ہی دل میں کڑھ رہا تھا۔ اس کا اضطراب بہت بڑھ گیا تھا۔ اس کے کان دوسرے غلاموں کی باتوں پر لگے رہتے تھے۔ وہ ان کی سوچ میں تبدیلی کے انتظار میں تھا لیکن غلام ابھی تک وہی سوچ رہے تھے جو آقا انہیں کہتا تھا۔ آزادی ابھی کوسوں دور تھی—

سائیں اب بہت مایوس رہنے لگا تھا۔ وہ کسی سے بات نہیں کرتا تھا۔ بس ایک کونے میں خاموش پڑا رہتا تھا۔ اکثر آدھی رات کو جب سارے بے خبر نیند کے مزے لوٹ رہے ہوتے تو اس کی مدھم مدھم سسکیاں رات کے سناٹے کی چھاتی پر دستک دیا کرتی تھیں—
لیکن دستکیں بیدار ذہنوں پر تاثر ثبت کیا کرتی ہیں—
خوابیدہ مسکراہٹوں پر نہیں ۔

 

 

گناہوں کی واپسی



صالح آباد کا پرانا نام اکثر لوگ بھول چکے تھے۔ اب یہ شہر صالح آباد، یعنی نیک اور صالح لوگوں کے رہنے کی جگہ کہلاتا تھا۔ حاکمِ شہر کی شہرت بھی ایک صالح اور نیک آدمی کی تھی۔ حاکمِ شہر بننے کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ صالح، نیک اور دیانت دار شخص ہو۔ شہر میں ایک مفتی کی سربراہی میں سزا و جزا کا محکمہ قائم تھا جو گناہوں کی روک تھام کیلئے کام کیا کرتا تھا۔
گناہ اور ثواب کا فلسفہ بھی عجیب ہے۔ ہر ایک کا وجود دوسرے کے لیے لازم ہے۔ گناہ کی غیر موجودگی میں ثواب کے فلسفے کو نہ تو سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
گناہ و ثواب کا ایک فلسفہ مفتی صاحب بیان کرتے تھے جبکہ دوسرا فلسفہ نجم الدین پیش کیا کرتا تھا۔

نجم الدین اس شہر کا سب سے پرانا بلکہ اکلوتا مے خوار تھا۔ اسے محکمہ سزا و جزا نے بہت سزائیں دیں، کوڑے مارے، نظر بند کیا، پابندِ سلاسل رکھا، تضحیک کی، تماشا بنایا مگر وہ مے کشی سے باز نہ آیا۔ مفتی نے اس پر کئی بار فتوے لگائے لیکن اس کے پایہءِ استقلال میں رتی بھر جنبش بھی نہ آئی۔
بظاہر وہ صالح آباد کا واحد بادہ خوار تھا جو سزائوں کے بعد بھی بچا ہوا تھا، لیکن اور بھی بہت سے بادہ کش تھے جو رات کے اندھیرے میں اس کے پاس آیا کرتے تھے۔ خاص طور پر اماوس کی چاند راتوں میں جب گھپ اندھیرے کا راج ہوتا— شہر کے محافظ سو چکے ہوتے اور کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا تھا، سب مے کش نجم الدین کے پاس مجتمع ہوا کرتے تھے۔
نجم الدین بہت نرم دل انسان تھا۔ وہ کسی کو مایوس نہیں کرتا تھا۔ ہر آنے والے مہمان کی خاطر داری کرتا تھا۔ وہ ان چند گھونٹ کو ترسے ہوئے مے کشوں کا حوصلہ بڑھاتا تھا، ’’اگر شوقِ گناہ ہے تو گناہ کا بوجھ اٹھانے کی ہمت بھی دل میں پیدا کرو۔‘‘

نجم الدین کے بے ضابطہ مے کدے کا سب سے پرانا ساتھی کامل بھی اکثر رات کے اندھیرے میں اپنی پیاس بجھانے آ یا کرتا تھا— کامل کافی عرصہ چھپ چھپا کر پیتا رہا لیکن ایک دن وہ پکڑا گیا اور چند کوڑے بھی نہ سہہ سکا۔ اس نے فوراً مے نوشی سے توبہ کرتے ہوئے تائب ہونے کا اعلان کر دیا۔ خوف نے اسے کچھ عرصہ کے لیے مے کشی سے روکے رکھا— کوڑوں نے اسے شراب پینے سے دور رکھا لیکن اس کے جسم سے لطف و سرور نہ نکال سکے— پھر اسی لطف و سرور کی تلاش اسے دوبارہ نجم الدین کے پاس لے آئی تھی۔ وہ اکثر رات کو جنگل والے ٹھکانے پر آتا اور اپنی پیاس بجھا کر واپس چلا جاتا تھا۔
ایک رات کامل آیا تو بہت اداس اور خاموش تھا۔ اس نے معمول سے کچھ زیادہ ہی پی لی تھی— چاندنی رات تھی— ہر سو خاموشی طاری تھی۔
نجم الدین نے پوچھا، ’’کامل! کیا بات ہے؟ آج پریشان لگ رہے ہو۔ گھر میں کوئی مسئلہ ہے کیا؟‘‘
کامل نے شراب کے چند گھونٹ حلق سے اُتارے اور کہا، ’’میں دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر شراب پینے آ تو جاتا ہوں لیکن مے کشی کے بعد مجھے بہت ندامت محسوس ہوتی ہے۔ جب تک لطف و سرور ذہن پر چھایا رہتا ہے، گناہ کا احساس نہیں ہوتا مگر جب بدن ٹوٹنے لگتا ہے تو احساسِ گناہ بہت بڑھ جاتا ہے۔‘‘
بات کرتے ہوئے اسے ہچکی لگ گئی، چند آنسو اس کی آنکھوں سے نکلے اور نرم مٹی میں جذب ہو گئے—
نجم الدین نے اسے تسلی دی، اس کے آنسو پونچھے اور جام بھر دیا۔ وہ غٹا غٹ سارا جام خالی کر گیا۔
نجم الدین مسکرایا، ’’ابھی تمہاری ندامت ختم ہو گئی ہو گی— نشہ جب تک پورا نہ ہو، ندامت کا احساس باقی رہتا ہے۔‘‘
کامل دوسرا جام چڑھانے کے بعد کچھ مطمئن سا دکھائی دینے لگا تھا۔ بولا، ’’نجم الدین! تم اتنی مے نوشی کرتے ہو۔ اتنا گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہو لیکن پھر بھی میں نے ہمیشہ تمہارے چہرے پر سکون اور خوشی دیکھی ہے۔ تمہارے چہرے پر کبھی ندامت کا عکس نہیں دیکھا۔‘‘
یہ سن کر نجم الدین کی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہو گئی۔ ہاتھ لہرا کر بولا، ’’میں یہ نہیں کہتا کہ میں گناہ گار نہیں ہوں۔ نہ میں یہ کہتا ہوں کہ شراب پینا گناہ نہیں ہے۔ لیکن میں پھر بھی مطمئن ہوں کہ میرے اس گناہ سے تکلیف صرف میرے جسم کو ہوتی ہے۔ میرا جسم گھلتا ہے۔ میرا یہ گناہ کسی اور کو تکلیف دینے کا سبب نہیں بنتا۔‘‘
کچھ دیر خاموشی چھا گئی۔ گہری خاموشی— جنگل مکمل پرسکون ہو گیا تھا۔
کامل نے اس گہری خاموشی کا طلسم توڑا، ’’مجھے تمہارے اس گناہ و ثواب کے فلسفے کی سمجھ نہیں آئی۔‘‘
نجم الدین نے جواب دیا، ’’ہاں! میں کسی کا خون نہیں پیتا— کسی کا حق نہیں کھاتا — کسی کی محنت پر قبضہ نہیں جماتا— کسی کا دل نہیں دکھاتا اور نہ ہی کسی کو اپنے ہاتھ، زبان اور عمل سے تکلیف پہنچاتا ہوں۔ ہاں! میں اپنا جسم ضرور جلاتا ہوں، کسی کا گھر نہیں جلاتا۔‘‘
نجم الدین نے ایک جام اپنے لیے بھرا اور ایک اسے بھر دیا۔ ہلکی ہلکی ہوا چلنے لگی تھی — درختوں کی سرسراہٹ سے پیدا ہونے والی موسیقی نے ماحول میں کیف و سرور بھر دیا تھا۔ چاروں طرف پھیلی ہوئی ہلکی ہلکی چاندنی کے نور نے ماحول کو خواب ناک بنا دیا تھا۔
کامل نے اس بارے میں پھر کوئی سوال نہیں کیا تھا۔ لگتا تھا کہ وہ نجم الدین کے فلسفے سے مطمئن ہو گیا تھا۔
کامل نے ادھر اُدھر دیکھا۔ گویا یہ تسلی کرنا چاہتا ہو کہ کوئی ان کو پیتے پلاتے ہوئے دیکھ تونہیں رہا۔ پھر بولا، ’’میں تمہاری طرف آتے ہوئے شہر کے محافظوں سے بہت ڈرتا ہوں۔ ایک دفعہ انہوں نے روک کر پوچھا بھی تھا کہ کہاں جا رہے ہو؟ میں نے تمہارا نام لیا تو وہ مسکرا کر خاموش ہو گئے اور مجھے جانے دیا۔‘‘
جنگل کے اس حصے میں جہاں دونوں بیٹھے ہوئے تھے، مکمل خاموشی تھی ۔زیادہ تر جانور جنگل کے گھنے حصے میں رات کا یہ پہر گزارتے تھے۔ کبھی کوئی ہرن کلانچیں بھرتا ہوا نزدیک سے گزرتا تو خشک پتوں کی چرچراہٹ فضا میں عجیب سا تاثر پیدا کر دیتی تھی۔
کامل نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا، ’’مجھے تو ان محافظوں سے بہت ڈر لگتا ہے— آج کل محکمہ سزا و جزا بھی بہت سختی کر رہا ہے— دو دن پہلے نماز نہ پڑھنے پرایک شخص کو کوڑوں کی سزا دی گئی ہے۔‘‘
نجم الدین نے ایک گہری سانس لی اور کہا، ’’میں تو بے خوف ہو گیا ہوں۔ مجھے سزا دینے والے اب خود تھک گئے ہیں۔ اور ہاں! ان محافظوں سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ سب میرے دوست ہیں۔‘‘
اس نے تجسس سے پوچھا، ’’ہائیں؟ کیا سچ کہہ رہے ہو؟ یہ تمہارے دوست کیسے بنے؟‘‘
نجم الدین نے کہا، ’’ان کی آنکھوں میں بھی خواہشیں سر ابھارتی رہتی ہیں۔ سرور کی طلب جاگتی رہتی ہے۔ میں نے ان کی آنکھیں پڑھ لیں۔ مجھے گزرتے دیکھ کر ان کے لبوں پر ایک خاموش سی التجا ابھر آتی تھی۔ میں نے انہیں جام کی پیشکش کی۔ وہ سزا سے ڈرتے تھے۔ اس لیے ہچکچانے لگے۔ پھر دو محافظوں نے ہمت کی اور میرے یار بن گئے، یعنی مے کش بن گئے۔ سرور کی خواہش سزا پر غالب آ گئی تھی۔ بس پھر کیا تھا، ان دونوں کی دیکھا دیکھی اور محافظ بھی میرے یار بنتے گئے۔ پینے لگے۔ جینے لگے۔ قافلے اسی طرح بنا کرتے ہیں۔ بغاوت تو اسی طرح ہوا کرتی ہے۔ چراغ سے چراغ جلتا ہے۔‘‘
وہ دونوں تین تین جام لڑھکا چکے تھے لیکن طلب ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ جنگل، تنہائی، دور تک پھیلا ہوا آسماں — اس پر بکھری ہوئی چاند کی روشنی نے سرور کو دوبالا کر دیا تھا۔ دونوں کی محویت دور کہیں سے آتے قدموں کی چاپ سے ٹوٹ گئی۔
قدموں کی چاپ میں ایک ترتیب تھی۔ ٹھہرائو تھا۔ چاند کی روشنی میں دور ہی سے دو محافظ آتے ہوئے نظر آئے۔ انہیں آتا دیکھ کر نجم الدین دو جام بھرنے لگا اور بولا، ’’دیکھو! میرے دونوں ساتھی ادھر آ نکلے ہیں۔‘‘
محافظ کامل کو دیکھ کر ٹھٹکے لیکن نجم الدین نے آنکھ کے اشارے سے انہیں بتا دیا کہ یہ اپنا ہی بندہ ہے۔ مے خوار ہے۔ پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔
دونوں محافظ غٹا غٹ جام چڑھا گئے۔ لگتا تھا کئی دنوں کے پیاسے تھے۔
نجم الدین نے ایک محافظ سے پوچھا، ’’کافی دنوں سے میں شہر میں نہیں گیا۔ سنائو! آج کل کیا حالات ہیں شہر کے؟‘‘
محافظ بولا، ’’میرا ایک دوست ابھی محکمہ سزا و جزا میں ڈیوٹی کر کے آیا ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ آج کل بہت زیادہ سختی ہے۔ شہر میں سخت خوف کی فضا طاری ہے۔‘‘
نجم الدین نے حیرانی سے دریافت کیا، ’’وہ کیوں؟‘‘
محافظ نے کہا، ’’کچھ دن پہلے میرے پڑوسی سلامت درزی کا بیٹا ایک لڑکی کے ساتھ باغ میں چہل قدمی کر رہا تھا کہ محکمہ سزا و جزا نے انہیں پکڑ لیا، کوڑے مارے اور دونوں کو قید خانے میں بند کر دیا۔دونوں ابھی تک پابندِ سلاسل ہیں— کل ہی شرقی دروازے کے قریب ایک شخص کو نماز نہ پڑھنے کے جرم میں کوڑوں کی سزا دی گئی ہے۔‘‘
نجم الدین اور کامل یہ باتیں سن کر خوف زدہ ہو گئے۔ نجم الدین نے ایک جام اپنے اور کامل کے لیے تیار کیا، ایک ایک جام محافظوں کو تھمایا۔ چند گھونٹ بھرنے کے بعد نجم الدین اور کامل کا خوف کچھ کم ہوا۔ وہ پرسکون ہو گئے۔
محافظ نے گھونٹ حلق سے اُتارا، ’’تمہارا دوست ناصر— وہ لمبے قد والا — وہ بھی کئی دنوں سے قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہا ہے۔‘‘
نجم الدین پریشانی سے بولا، ’’وہ کیوں؟‘‘
محافظ بولا، ’’نہ ماننے کے جرم میں۔‘‘
نجم الدین چونکا، ’’میں کچھ سمجھا نہیں۔‘‘
محافظ نے بتایا، ’’مفتی صاحب خطبہ دے رہے تھےکہ یہ غربت اور امارت خدا کی تقسیم ہے۔ خدا کی مرضی ہے کہ وہ کسی کو بہت زیادہ مال و دولت سے نواز دےاور کسی کو دو نوالوں کا محتاج کر دے۔ یہ سنتے ہی ناصر کھڑا ہو گیا اوربولا کہ مفتی صاحب! آپ غلط کہہ رہے ہیں۔ یہ غربت اور امارت خدا کی نہیں، بلکہ انسان کی پیدا کردہ ہے۔ یہ سننا تھا کہ مفتی صاحب بپھر گئے اور اسے پکڑوا کر قید خانے میں ڈال دیا۔‘‘
نجم الدین کو ناصر کے بارے جان کر بہت افسوس ہوا۔ دونوں بچپن کے دوست تھے — محکمہ سزا و جزا بننے سے پہلے اکٹھے مے خانے جایا کرتے تھے۔ بعد میں وہ توبہ تائب ہو گیا تھا۔ باقاعدگی سے مسجد جاکر نماز پڑھنے لگا تھا۔ آج اسے صرف مفتی کا بیان کردہ فلسفہ نہ ماننے پر قید کی سزا دے دی گئی تھی۔
باتوں اور مے کشی کے سرور میں انہیں وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا تھا۔ احساس ہی نہ ہوا کہ کب مہیب رات گزر گئی اور سورج کی زرد روپہلی کرنیں زمین کا ماتھا چومنے آ گئیں۔ جنگل میں کرنوں کا استقبال کیا جانے لگا تھا۔
پرندوں کے غول رزق کی تلاش میں نکل رہے تھے۔ سورج کی کرنوں نے جنگل کی پراسراریت کا طلسم ختم کر دیا تھا۔
سورج کی روپہلی کرنیں اور صبح کا اجالا— جس پر شاعروں نے نظمیں کہی تھیں، جسے ظلم کے خاتمے کا استعارہ قرار دیا تھا، نے کامل کو پریشان کر دیا تھا۔
اسے وہ سیاہ رات قبول تھی جس میں دوستوں کا ساتھ قائم تھا۔ جدائی نہیں تھی— خوف نہیں تھا— سرور ہی سرور تھا— کیف تھا—
اس کی محویت اس وقت ٹوٹی جب ایک ہرن کلانچیں بھرتا ہوا اس کے سامنے سے گزرا اور جھاڑیوں میں غائب ہو گیا۔ ہرن کو دیکھ کر اس نے ایک سرد آہ بھری اور کہا، ’’ہم سے تو یہ ہرن اچھا ہے جس کے لیے نہ کوئی محکمہ سزا و جزا ہے، نہ کوئی محافظ اور نہ بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے محنت مزدوری پر نکلنا پڑتا ہے۔‘‘
کامل نے دوستوں سے رخصت لی اور بوجھل قدموں سے شہر کو چل پڑا۔ اس نے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے دھندے پر جانا تھا۔

کہنے کی حد تک محکمہ سزا و جزا کے قیام کے بعد گناہوں میں کافی کمی واقع ہو گئی تھی۔ شراب پینے، نماز نہ پڑھنے، روزہ نہ رکھنے، فحاشی اور بے حیائی پر سخت سزائیں مقرر تھیں۔ نماز کے وقت اگر کسی تاجر کی دکان کھلی ہوتی تو اس کا مال ضبط کر لیا جاتا تھا۔ روزہ نہ رکھنے پر ایک مہینہ قید کی سزا تھی لیکن پھر بھی دیواروں کے پیچھے گناہ کا کھیل چوری چھپے جاری تھا۔
امیرِ شہر، درباری، سرکاری حکام اور بڑے تاجروں کی ایک الگ دنیا قائم تھی جو غریبوں سے جدا تھی۔ جس طرح ان کا رہن سہن، کھانا پینا اور رہائشیں غریبوں سے جدا تھیں، اس طرح ان کا سزا و جزا کا نظریہ بھی غریبوں سے مختلف تھا— یہ لوگوں کے سامنے نماز پڑھا کرتے ، روزے رکھتے اور اچھی اچھی باتیں کرتے تھے لیکن شام ڈھلتے ہی دیواروں کے عقب میں اپنی دنیا سجا لیتے تھے جو گناہوں سے اٹی ہوئی تھی۔
رات ہوتے ہی محلات میں حسینائوں کی آمد شروع ہو جایا کرتی تھی۔ حسینائیں مکمل اور باپردہ لباس میں آیا کرتی تھیں تاکہ راستے میں ان پر کسی غریب کی گناہ آلود نظر نہ پڑے۔ لوگ ان کی آمد و رفت کے کھیل کو بخوبی جانتے تھے، لیکن خوف سے بڑوں کا نام نہیں لیتے تھے۔ اگر کوئی غلطی سے اس پر آواز بلند کرتا تو اسے کسی نہ کسی حیلے اگلے دن سزا بھگتنا پڑتی تھی۔ سرکار کے درباری اکثر حسینائوں کی آمد کی توجیہہ پیش کیا کرتے تھے ،’’یہ بے چاری عورتیں سائل ہیں جو اکثر رات کے اندھیرے میں اس لیے محلات میں آتی ہیں کہ دن میں کوئی ان کی مجبوری نہ دیکھ سکے۔‘‘
ہر کوئی جانتا تھا کہ یہ جھوٹ ہے مگرکسی میں یہ دم نہ تھا کہ وہ اس جھوٹ کو ماننے سے انکار کرتا یا اس سرکاری بیان سے اختلاف کرتا۔
رات کا اندھیرا چھاتے ہی جب سرکاری محافظ بو سونگھ رہے ہوتے تھے کہ شہر میں کوئی محرم اور نامحرم کہیں اکٹھے تو نہیں بیٹھے ہوئے، اس وقت محلات میں شراب و شباب کی محفلیں عروج پر ہوتی تھیں۔
کچھ سرپھرے لوگ اس بات کی شکایت لے کر مفتیءِ شہر کے پاس گئے تو اس نے جواب دیا، ’’کارِ حکومت کوئی آسان کام نہیں ہے۔ منشیوں اور درباریوں کو ہمیشہ شراب و شباب کی ضرورت رہتی ہے۔‘‘
کچھ لوگوں نے کہا، ’’حضور! محنت اور مشقت تو غریب بھی کیا کرتے ہیں۔ پھر ان کے لیے بھی یہ چیزیں بہت ضروری ہیں۔‘‘
مفتی نے مسکرا کر کہا، ’’غریب ذہنی سے زیادہ جسمانی کام کرتا ہے۔ وہ تھک ہار کر گھر جاتا ہے۔ اسے اس کام سے زیادہ نیند اور آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘
حاکم سے کون بحث کر سکتا ہے؟ —
طاقت ہی سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے جسے صالح آباد کے غریب باسیوں نے مان رکھا تھا۔

شہر میں شاید ملاوٹ کو سرے سے گناہ سمجھا ہی نہیں جاتا تھا۔ لوگ ملاوٹ والی چیزیں کھانے پر مجبور تھے۔ کبھی کبھی چھوٹے دکانداروں کو ملاوٹ پر سزائیں ملتی تھیں لیکن بڑے دکاندار ان سزائوں اور پوچھ تاچھ سے مبرا تھے۔ واقفانِ حال کے مطابق کچھ بڑے تاجر جو چھوٹے دکانداروں کو مال سپلائی کرتے تھے— وہ سر تا پا ملاوٹ میں ملوث تھے— وہ ملاوٹ شدہ مال دکانداروں کے ہاتھ بیچ کر زیادہ منافع کما لیتے تھے۔
بڑے تاجر امیرِ شہر اور درباریوں کے ہم نوالہ و ہم پیالہ تھے— ان کو بہت بڑی بڑی رقم ٹیکس اور تحفوں کی صورت میں پیش کیا کرتے تھے۔ اس لیے وہ ہر قسم کی سزا سے محفوظ تھے۔ یہ بڑے تاجر ناپ تول کی کمی میں بھی ملوث تھے لیکن ان کو پوچھنے والا کوئی نہ تھا۔
شہر میں بظاہر امن قائم تھا۔ کبھی کبھی چند لوگ نامعلوم افرادکے ہاتھوں قتل ہوجاتے تھے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو امیرِ شہر کی دوغلی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاتے تھے۔
شہر میں سارے لوگ ہی صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے نظر آتے تھے۔ اکثر قرآن خوانی اور میلاد کی محفلیں بھی منعقد ہوتی رہتی تھیں— خدا کے نام پر خیرات اور لنگر کی تقسیم بھی بڑے اہتمام کے ساتھ ہوا کرتی تھی۔ ۔۔

شہر میں چونکہ اب آواز اٹھانے والا کوئی نہیں بچا تھا، اس لیے امن ہی امن تھا۔ نجم الدین اور کامل کے علاوہ کوئی بھی گناہ گار صالح آباد میں نہیں رہا تھا۔ دو دن قبل لنگر کی تقسیم کے دوران نجم الدین اور کامل کوتوالِ شہر کے ہاتھوں کوڑوں کی سزا بھگت چکے تھے۔ ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے لنگر کھاتے ہوئے کوتوال سے کہا تھا، ’’ہم سے لوٹے گئے پیسوں میں سے تھوڑا بہت پیسہ لگا کر لنگر بانٹ دیا جاتا ہے اور ہم پر اپنی سخاوت اور احسان کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے۔‘‘
یہ سنتے ہی کوتوال آپے سے باہر ہو گیا اور اس نے ان دونوں پر کوڑوں کی بارش کر دی، ’’حرام خورو! ہمارا کھاتے ہو اور ہم پر ہی بھونکتے ہو؟‘‘

قدرت بھی ایک حد تک ناانصافی برداشت کرتی ہے۔ جب ظلم مظلوموں کی استطاعت سے بڑھ جائے تو پھر قدرت کا نظامِ انصاف ازخود حرکت میں آ جاتا ہے۔ ماضی میں ظلم اور ناانصافی پر اللہ کے غضب نے شہروں کے شہر تباہ و برباد کر دیے تھے لیکن اس شہر پر اچانک عجیب سی آفت نازل کر دی گئی۔ عذاب صرف ظالموں پر نازل ہو رہا تھا۔ الامان و الحفیظ!
شہر پر ایسا عذاب نازل ہوا تھاجو آج تک روئے زمین پر کسی نے نازل ہوتے نہیں دیکھا ہو گا— صالح آباد شہر میں گناہوں کی واپسی اچانک شروع ہو گئی تھی۔ شہر کے اکثر گھروں سے رونے اور چیخ و پکار کی آوازیں برآمد ہونے لگی تھیں۔ بستی کے کچھ مکین روز ہی سڑکوں پر واویلا کرتے اور اِدھر اُدھر بھاگتے ہوئے دکھائی دیتے تھے— شہر والے اس مصیبت سے نجات کے لیے ایک بزرگ عامل کو یہاں لے آئے تھے۔
عامل نے تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد بتایا، ’’شہر والوں نے جو گناہ کیے ہیں، وہ واپس آ کر ان کو اذیت دے رہے ہیں۔‘‘
یہ بات سن کر سب شہر والوں کے چہرے خوف سے زرد ہو گئے کیونکہ ہر کسی نے کوئی نہ کوئی جرم سرزد کر رکھا تھا۔ وہ جانے انجانے میں کئی چھوٹے بڑے گناہوں کے مرتکب ہوئے تھے۔
ایک شہری نے عامل سے دریافت کیا، ’’محترم! اس مصیبت سے بچائو کا کوئی طریقہ بھی ہوگا۔ کوئی حل ہو گا اس عذاب کو پلٹانے کا؟‘‘
عامل بولا، ’’بس خدا سے توبہ کرو۔ خیرات، صدقہ اور عبادات میں اضافہ کرو۔‘‘
امیرِ شہر کے حکم سے مخیر حضرات نے غریبوں کے لیے لنگر خانے قائم کر دیےتھے— گناہوں کی واپسی سے کم از کم غریبوں کو یہ فائدہ تو ضرور ہوا تھا کہ وہ پیٹ بھر کر اچھا کھانا کھانے لگے تھے— غریب جو بڑی مشکل سے روکھی سوکھی کھا کر پیٹ بھرتے تھے، وہ اب اچھی سے اچھی ضیافتیں اڑا رہے تھے۔
لوگوں نے عبادات میں بھی اضافہ کر دیا تھا— عذاب سے نجات کے لیے خصوصی نوافل ادا کیے جا رہے تھے— ہر نماز کے بعد خصوصی دعائیں بھی مانگی جا رہی تھیں۔
اس عذاب سے شہر میں ہر بندہ خوفزدہ تھا۔ ہر کسی کو دھڑکا لگا رہتا تھا کہ ان کا گناہ کسی بھی وقت واپس آ سکتا ہے— کسی کو خوف تھا کہ اس نے جو نمازیں قضا کی ہیں، وہ عذاب کی صورت میں واپس آئیں گی— کسی کو روزہ نہ رکھنے کا گناہ مضطرب کر رہا تھا— کچھ پرانے مے کش اپنے گناہوں کی واپسی سے ڈرے ہوئے تھے۔
اگر شہر میں کوئی بندہ پرسکون تھا تو وہ نجم الدین تھا۔ اس کی دیکھا دیکھی اس کا مے کش ساتھی کامل بھی بے خوف پھر رہا تھا۔ اب تو دونوں نے کھلے عام شراب پینی شروع کر دی تھی ۔ اب انہیں سزا دینے والے سرکاری حکام اپنے گناہوں کی واپسی میں پھنسے ہوئے تھے۔ ایسے لگتا تھا اب شہر پر کوئی حاکم ہی نہیں رہا— بس ایک انجانے خوف کی ہر سو حکومت قائم تھی۔
نجم الدین کی بے فکری اور سرِ عام شراب نوشی کو دیکھ کر اکثر لوگ بڑبڑاتے تھے، ’’اس جیسا ڈھیٹ گناہ گار ہم نے زندگی میں کہیں نہیں دیکھا۔ اسے اپنے گناہوں کی واپسی کا کوئی خوف نہیں؟ خدا جانے اس کے گناہوں کی واپسی کب ہوگی؟‘‘

گناہوں کی واپسی کا عمل آہستہ آہستہ تیز ہوتا جا رہا تھا۔ امرا، درباریوں اور تاجروں کے گھروں سے صبح و شام چیخ و پکار کی اذیت ناک اور ڈرائونی آوازیں برآمد ہونے کا سلسلہ تیز تر ہوتا جا رہا تھا۔ زیادہ تر گناہوں کی واپسی کا عمل شام کو ہوتا تھا یا صبح کو۔ ان دونوں اوقات میں کھیلے جانے والے قدرت کے کھیل نے صالح آباد کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی تھی۔
جن لوگوں پر گناہوں کی واپسی کا عمل ابھی شروع نہیں ہوا تھا، وہ بھی سخت خوف زدہ تھے لیکن نجم الدین اور کامل کی پرسکون نشست و برخاست دیکھ کر انہیں کچھ حوصلہ ملتا تھا۔ وہ اپنی قسمت کا حال جاننے کے لیے خاصے بے چین اور مضطرب تھے۔ شہر کے چند لوگوں نے نجم الدین اور کامل کو ساتھ لیا اور دوسرے شہر میں مقیم اسی عامل کے پاس جا پہنچے جسے پہلے صالح آباد بلایا گیا تھا۔
عامل نے لوگوں کی پوری بات بڑی توجہ اور انہماک سے سنی۔ پھر بولا، ’’ابھی تک گناہوں کی واپسی صرف ان لوگوں پر ہوئی ہے جنہوں نے دوسروں پر ظلم کیے ہیں— جہاں تک نماز نہ پڑھنے، روزہ چھوڑنے اور شراب پینے والوں کے گناہوں کا تعلق ہے توایسے لوگ ابھی تک محفوظ ہیں۔ ان کے گناہوں سے کسی دوسرے انسان کا کوئی واسطہ یاتعلق نہیں ہے۔ ان کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے — ایسے گناہوں کی واپسی کی کوئی امید نہیں لگتی۔‘‘
ایک نوجوان نے عامل سے پوچھا، ’’حضور! میرے ایک لڑکی کے ساتھ تعلقات رہے ہیں۔ میرے گناہ کی واپسی کس شکل میں ہو سکتی ہے؟‘‘
بزرگ نے جواب دیا، ’’اگر تم نے لڑکی کے ساتھ زبردستی اور ظلم نہیں کیا، تو تمہارا گناہ واپس نہیں آئے گا۔ لیکن اللہ تمہیں اس گناہ کی سزا ضرور دے گا۔ اللہ سے توبہ و استغفار کیا کرو۔‘‘

گناہوں کی واپسی کا عمل تیز ہوتا جا رہا تھا۔ پہلے گناہوں کی واپسی گھروں کے اندر تھی— اب سرِ بازار شروع ہو گئی تھی۔ غلام رسول کو جو شہر کا سب سے بڑا تاجر تھا، روز شام کو کوئی شخص آگ لگا کر بھاگ جاتا تھا— وہ چیختا ہوا سڑکوں پر دوڑتا اور لوگ پانی سے اس کی آگ بجھاتے۔
یہ عمل مسلسل کئی دنوں سے روز سرانجام پا رہا تھا۔ آگ لگانے والا شخص کوئی بھوت یا آسیب معلوم ہوتا تھا— اسے کوشش کے باوجود صالح آباد والے نہ تو پکڑ پائے اور نہ ہی اس کا چہرہ دیکھ سکے تھے۔ وہ چھلاوے کی طرح آتا اور کسی کی گرفت میں آئے بغیر نظروں سے اوجھل ہو جاتا تھا۔ ایک دو جوانوں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ ہاتھوں کے بیچ سے سائے کی طرح تحلیل ہو کر نکل گیا—
غلام رسول شام ہونے سے قبل ہی خوف سے زرد پڑ جایا کرتا تھا— اس کا پورا بدن خوف سے کانپنے لگتا تھا— ایک دن اس نے لوگوں کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا، ’’میں نے دولت کے لالچ میں ایک یتیم لڑکے کو آگ لگا کر جلا دیا تھا۔ خاک کر دیا تھا۔ آج اسی گناہ کی اذیت بھگت رہا ہوں۔‘‘
غلام رسول کی سزا ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ مفتیءِ شہر بھی عذاب کا شکار ہو گیا۔
اتنے پارسا شخص کی پکڑ دیکھ کر شہر کے لوگ اور زیادہ خوف زدہ ہو گئے تھے— ہر کوئی یہ سوچنے لگا تھا کہ اگر مفتیءِ شہر پر عذاب اُتر سکتا ہے تو پھر وہ کس شمار میں ہے؟— ہر کوئی اب اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔
مفتیءِ شہر پر عجیب و غریب عذاب آیا تھا۔ روز شام کو ایک شخص آ کرپہلے اُسے باندھتا پھر اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی بیٹی کی عزت کی دھجیاں اُڑا کر رکھ دیتا تھا۔ وہ بے بسی سے بندھا ہوا یہ دل فگار تماشا دیکھتا رہتا اور گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتا رہتا تھا۔ وہ اس شرمناک منظر کو نہیں دیکھنا چاہتا تھا—آنکھیں بند کر لینا چاہتا تھا مگر بسیار کوشش کے وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتا تھا۔
بیٹی کی چیخیں سن کر اس کا دل ڈوب جاتا تھا۔ وہ لوگوں کو مدد کیلئے پکارتا مگر آنے والا انسان ہوتا تو پکڑا جاتا— وہ کسی کے قابو میں نہیں آتا تھا۔ اب تو لوگ اس سے ڈر کر دور ہی کھڑے رہتے تھے— نزدیک نہیں آتے تھے۔ آنے والا پوری طاقت کے ساتھ سب کے سامنے آتا اور مفتیءِ شہر کی عزت کی سرِ عام دھجیاں اڑا کر واپس چلا جاتا تھا۔
مفتیءِ شہر نے بھی ایک دن لوگوں کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا، ’’میں نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھایا— اپنی پارسائی کی آڑ میں غریب اور بے بس لڑکیوں کی عزتیں لوٹتا رہا— واقعی میں اسی سزا کا مستحق ہوں—‘‘
مفتیءِ شہر کے بعد درباریوں، امرا اور امیرِشہر کی باری آ گئی۔ ان کی بیٹیوں کی عزتیں بھی سرِ عام لوٹی جانے لگیں ۔ وہ بے بسی سے اپنی بربادی کا تماشا دیکھنے کے علاوہ کچھ نہ کر پائے— ان طاقت ور لوگوں کی بے بسی اور ذلالت غریب لوگوں نے پہلی مرتبہ دیکھی تھی۔
کوتوالِ شہر جو بہت ظالم، رشوت خور اور طاقت ور مشہور تھا، اس کے ساتھ تو معاملہ عجیب نوعیت اختیار کر گیا تھا۔ جب بھی وہ بازار نکلتا، کچھ خریدنے لگتاتو پیسے خود بخود اس کی جیب سے نکل جاتے اور اس کے پکڑتے پکڑتے ہوا میں تحلیل ہو جاتے تھے۔ اسے ناچار خالی ہاتھ لوٹنا پڑتا تھا۔ مجبور لوگوں کی جیبیں خالی کرنے والے کی اپنی جیبیں خالی ہو گئی تھیں— پھر ایک دن وہ بازار میں چھوٹا سا خوانچہ لگا کر بیٹھنے پر مجبور ہو گیا—
اب عذاب ملاوٹ کرے والے بڑے تاجروں تک بھی پہنچ گیا چکا تھا۔ وہ بازار سے جو بھی چیز لے کر پکاتے یا کھانے کی کوشش کرتے تو وہ اس قدر کڑوی اور بدبو دار ہو جاتی کہ کھانے کے لائق ہی نہیں رہتی تھی— وہ بکرے کا گوشت لاتے تو اس میں سے تعفن اٹھنے لگتا۔ ان کی زندگی دیکھتے ہی دیکھتے اجیرن ہو گئی تھی۔ بڑی مشکل سے انہیں پانی اور دو چار کچی سبزیاں کھانے کو نصیب ہو رہی تھیں۔ بے چارے تاجر اور ان کے گھروں والے سوکھ کر کانٹا ہو چکے تھے۔ شہر والوں نے دیکھا کہ بڑی بڑی توندوں والے اس قدر کمزور ہو گئے کہ ان سے ٹھیک طرح چلا بھی نہیں جاتا تھا۔
تمام تر کوششوں کے باوجود عذاب ٹلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا بلکہ گناہوں کی واپسی کا عمل دن بدن تیز تر ہوتا جا رہا تھا۔ عوام سے جھوٹ بولنے والے اور انہیں بے وقوف بنانے والے دانش وروں کے منہ بھی کالے ہونے لگے — وہ چادروں میں منہ چھپا کر گھروں سے نکلنے پر مجبور ہو گئے۔
پھر ایک دن امیرِ شہر اور درباری ایک مشکل میں پھنس گئے— روز کچھ آدمی آتے اور ان کے سر قلم کر دیتے۔ کچھ دیر تڑپنے اور چیخنے چلانے کے بعد وہ سر دوبارہ اپنی جگہ آ جاتے اور وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے میں کامیاب ہو جاتے— پھر وہ چیخ چیخ کر اپنے خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے لگتے تھے، ’’اے خدا! ہم نے بہت زیادہ بے گناہوں کا قتلِ عام کیا ہے۔ ہمیں بخش دے۔ ہمیں معاف کر دے۔‘‘
کچھ لوگوں نے شہر چھوڑ کر بھاگ جانے کی کوشش کی لیکن پھر بھی گناہوں کی واپسی کے عذاب آگیں عمل سے انہیں نجات نہ مل سکی۔ دوسرے شہروں میں جا کر ان پر عذاب مزید شدت سے اترنے لگا اور وہ مجبوراً لوٹ آئے۔ اس طرح جو بھی گئے تھے، وہ ایک ایک کر کے شہر واپس آ چکے تھے۔

گناہوں کی واپسی نے پارسائوں کی اصلیت کو بے نقاب کر دیا تھا۔ شہر کے وہ لوگ جو پہلے پرہیز گار بن کر گردنیں اکڑا کر چلتے تھے، اب شرم کے مارے زمین میں گڑے ہوئے تھے۔ جہاں بھی دو چار آدمیوں سے ٹکرائو ہو جاتا، سر جھکا کر گزر جانے کی کوشش کرتے تھے۔ کسی سے آنکھیں چار کرنے کی ہمت ان میں نہ رہی تھی۔ وہ غریب لوگ جو پہلے گناہ گار اور بدقسمت سمجھے جاتے تھے، اب اپنی گردنیں اکڑا کر چلتے تھے اور امیروں کی طرف استہزائیہ نظروں سے دیکھتے تھے۔ ۔۔ وقت بھی کس طرح بدلتا ہے!

عملاً شہر پر امیرِ شہر، درباریوں اور مفتی کی حکومت ختم ہو چکی تھی— اب شہر پر ان غریبوں کی غیر اعلانیہ حکومت قائم ہو گئی تھی جنہیں غریب، گناہ گار اور کمزور سمجھ کر دھتکارا جاتا تھا— جن پر نت نئے قوانین کا اطلاق کیا جاتا تھا۔
ان غریبوں کی سربراہی نجم الدین اور اس کا دوست کامل کر رہے تھے۔ اب دونوں کو مے کشی سے روکنے والا صالح آباد میں کوئی نہیں رہا تھا۔ مفتی میں سکت نہ تھی کہ انہیں کوڑے مارنے کی سزا سناتا۔ کوتوالِ شہر بھی اپنی طاقت سے محروم ہو چکا تھا۔
گناہوں کی واپسی روکنے کے تمام حربے ناکام ہو چکے تھے۔ اس عذاب کا شکار لوگ روز ہی مرتے تھے اور روز ہی جیتے تھے— اب وہ موت کی دعائیں مانگنا شروع ہو گئے تھے لیکن موت بھی ان کی بے بسی کا مذاق اڑا رہی تھی۔
بادشاہ اور امرا کے محلات جہاں شراب و شباب کی محفلیں جمتی تھیں، اب ویران ہو چکے تھے— اب وہاں رات کو بدروحوں کی مکروہ ہنسی اور چیخیں سنائی دیتی تھیں۔
بدروحیں بستی کے لوگوں کا مذاق اڑاتیں اور کہتیں، ’’گناہ کرنا بہت آسان ہے۔ گناہ میں بڑی لذت ہوتی ہے لیکن یہی گناہ جب واپس آتے ہیں تو انسان اذیت کا شکار ہو جاتا ہے۔‘‘

 

 

فقر



شہزادہ بہلول کی پیدائش پر پورے ملک میں خوشیاں منائی گئی تھیں— یہ جشن ایک ہفتہ جاری رہا تھا۔ شہزادہ بہلول کا باپ ملک سمارا کا بادشاہ تھا۔ اس ملک پر کئی صدیوں سے ان کا خاندان حکومت کرتا چلا آ رہا تھا۔
یہ بادشاہ کی پہلی نرینہ اولاد تھی، اس لیے ملک کے طول و عرض میں بھرپور انداز میں جشن منایا گیا ۔ ایک ہفتہ تک ملک کے ہر شہر میں غریبوں، فقیروں اور یتیموں کے لیے لنگر کا انتظام کیا گیا۔ محلات میں چراغاں اور رقص و سرور کی کی خصوصی محفلوں کا انعقاد کیا گیا— اس خوشی میں بادشاہ نے بذاتِ خود زندگی میں پہلی دفعہ درباریوں کے سامنے رقص کیا۔
پورے ملک میں عام شہریوں کیلئے میلوں ٹھیلوں کا انتظام کیا گیا جس میں کرتب دکھانے کیلئے بازیگر اور جادوگر دور دراز کے ملکوں سے منگوائے گئے تھے۔
شہزادے کا نام شہر کے ایک درویش بہلول کے نام پر رکھا گیا ۔ بادشاہ کے بقول شہزادے کی پیدائش اسی درویش کی دعائوں کی مرہونِ منت تھی۔
بہلول تھوڑا بڑا ہوا تو اس نے خوب رنگ و روپ نکالا— گوری رنگت، بھرے بھرے گال، ستواں ناک اور فراخ پیشانی۔ سب سے زیادہ خوبصورت تو اس کی آنکھیں تھیں۔ اس کی آنکھوں میں ایک خاص چمک تھی جو ہرایک کو بے اختیار اپنی جانب کھینچ لیتی تھی۔
بہلول کے بعد بادشاہ کے ہاں اور بھی کئی بیٹے پیدا ہوئے لیکن اسے سب سے زیادہ پیار بہلول سے تھا۔ وہ اسے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتا تھا۔ اس کی کوئی بات نہیں ٹالتا تھا۔ وہ اس کی تربیت مستقبل کے ولی عہد اور بادشاہ کے طور پر کر رہا تھا۔

بہلول کچھ بڑا ہوا تو اسے رموزِ بادشاہی اور اصولِ دنیا داری سکھانے کے لیے ایک مشہور اتالیق مقرر کیا گیا لیکن جلد ہی اسے اتالیق کی باتوں سے اکتاہٹ محسوس ہونے لگی تھی۔
وہ تھوڑا بڑا ہوا تو بادشاہ نے اسے باقاعدہ ولی عہد مقرر کر دیا اور اس کے لیے ایک حفاظتی دستہ تعینات کر دیا۔ وہ اکثر اس حفاظتی دستے کو غچہ دے کر تنہا ہی محل سے باہر نکل جایا کرتا تھا۔ وہ اس درویش کے پاس جاتا تھا جس نے اس کے پیدا ہونے کی دعا کی تھی۔ وہی درویش جس کے نام پر اس کا نام ’’بہلول‘‘ رکھا گیا تھا۔ وہ دو طرح کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ ایک طرف اتالیق کی دنیا داری کی باتیں جبکہ دوسری طرف درویش کی دنیا بیزار باتیں۔
بہلول کو درویش کی باتوں میں زیادہ کشش معلوم ہوتی تھی جبکہ اتالیق کی باتوں سے وہ اکثر بیزار ہو جایا کرتا تھا۔ اکتاہٹ میں وہ اکثرایسے چبھتے ہوئے سوالات کرنے لگتا تھا جن کے موزوں جوابات اتالیق کےپاس نہیں ہوتے تھے۔
اتالیق اس کے بیزار رویے کی شکایت بارہا بادشاہ سے کر چکا تھا، ’’بادشاہ سلامت! ولی عہدِ معظم تعلیم میں کم ہی دلچسپی لیتے ہیں۔ وہ اکثر چبھتے ہوئے طنزیہ سوالات کرتے رہتے ہیں۔‘‘
بادشاہ نے توجہ سے اس کی بات سنی۔ وہ قدرے پریشان ہو گیا تھا۔
اتالیق نے کچھ توقف سے کہا، ’’ سنا ہے کہ ولی عہدِ معظم اکثر کسی درویش کے پاس جاتے ہیں۔ ان کے ذہن پر میری باتوں سے زیادہ اس درویش کی دنیا بیزار باتوں کا اثر ہے۔‘‘

بادشاہ بھی کئی دفعہ اس کی سرزنش کر چکا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اتالیق درست کہہ رہا ہے۔ اس نے بہلول کو بلایا اور پیار سے سمجھایا، ’’بیٹا! تم سلطنت کے مستقبل کے بادشاہ ہو۔ حکومت چلانا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ اس کے لیے عیاری، چالاکی اور منافقت کی اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے جتنی کہ رحمدلی، سخاوت اور بہادری کی— یہ چیزیں تمہیں ایک قابل اتالیق ہی سکھا سکتا ہے، کوئی درویش نہیں۔‘‘
بہلول سر جھکائے اپنے باپ کی باتیں غور سے سن رہا تھا۔ باپ کے خاموش ہونے پر اس نے سر اٹھایا اور مودبانہ انداز میں کہا، ’’بادشاہ سلامت! آپ کو میرے درویش کے پاس جانے پر اعتراض ہے لیکن آپ بھی تو اس کے پاس جاتے رہتے ہیں۔ آپ اس کی دعائیں لیتے ہیں — باتیں سنتے ہیں۔‘‘
بادشاہ مسکرایا، ’’ولی عہد! بادشاہ کی درویشی بھی عیاری ہوتی ہے اور درویشوں کے پاس جانا بھی شاطرانہ چال— ابھی تم چھوٹے ہو، یہ باتیں تمہاری فہم و فراست سے ماورا ہیں۔ میں نے ایسی باتیں سکھانے کے لیے ہی تو اتنا لائق اتالیق رکھا ہے۔‘‘
وہ سر جھکائے بادشاہ کی باتیں سن رہا تھا لیکن اس کا دل ان باتوں کو تسلیم نہیں کر رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں بہت سے سوالات تھے لیکن وہ بادشاہ سے مزید بحث نہیں کرنا چاہتا تھا۔

بہلول اور اتالیق کے درمیان آنکھ مچولی کا کھیل جاری تھا۔ بظاہر وہ اس کی باتیں توجہ سے سنتا رہتا تھا— اب زیادہ تند و تیز سوالات کی یلغار بھی نہیں کرتا تھا لیکن اس دوران اپنے دماغ کے تمام راستے بندکر لیتا تھا— اب بادشاہ اور اتالیق دونوں اس کی کارکردگی سے مطمئن تھے۔ اس نے منافقت سیکھ لی تھی—وہ دل کی بات کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیتا تھا۔
شاید اتالیق اسے سمجھ گیا تھا۔ اس کی خاموشی کو پہچان چکا تھا۔ اس لیے اس کے مسلسل چپ رہنے پر اکتاہٹ کا اظہار کرنے لگا تھا۔ اس نے ایک دن بہلول سے کہا، ’’شہزادہ معظم! ہر چیز پر سوال اٹھایا کریں۔ کسی چیز پر سوال اٹھانے سے ہی اصل حقیقت آشکار ہوتی ہے۔‘‘
بہلول نے اس بات پر صرف اثبات میں سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا تھا۔

ایک دفعہ آدھی رات کو محل میں ہڑبونگ مچ گئی۔ ہر طرف شور شرابے اور رونے چیخنے کی آوازیں ابھر رہی تھیں۔ بادشاہ نے اسے اور دوسرے بہن بھائیوں کو ایک محفوظ کمرے میں بند کیا اور خود تلوار لے کر محل سرا سے نکل گیا۔ صبح تک محل میں خوفناک آوازیں گونجتی رہیں۔ بادشاہ سلامت صبح صادق کے وقت واپس آیا تھا— ان کے ہاتھ میں خون آلود تلوار دبی ہوئی تھی جس سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے تھے۔
بادشاہ اسے محفوظ کمرے سے نکال کر محل میں لے آیا اور اسے صرف اتنا بتایا کہ رات کو بغاوت ہو گئی تھی جسے کامیابی سے کچل دیا گیا تھا۔
بہلول کو بعد میں پتہ چلا کہ اس کے چچا اور چچا زاد بھائیوں نے بادشاہ کے خلاف بغاوت کی تھی۔ وہ اسے مار کر خود اقتدار پر قبصہ کرنا چاہتے تھے۔ اس سازش میں بہت سے خواجہ سرا اور درباری بھی ان کے ساتھ تھے لیکن یہ بغاوت ناکام ہو گئی ، کچھ باغی قتل ہو گئے تھے جبکہ باقیوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
اگلے دن سارے گرفتار کر لیے جانے والے باغیوں کو دربار میں پیش کیا گیا۔ بادشاہ نے ان کے لیے موت کی سزا تجویز کر دی۔ باغیوں کے چہرے خوف سے زرد پڑ گئے تھے — دو معصوم شکل خواجہ سرائوں نے تو بلند آواز میں پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا تھا۔
بہلول اس فیصلے پر آزردہ تھا۔رات کو تنہائی میں اس نے بادشاہ سے گزارش کی، ’’ابا حضور! یہ سب ہمارے اپنے ہیں، خون کا رشتہ ہے ان سے ہمارا— ان کو معاف کر دیں۔‘‘
دونوں باپ بیٹا تنہائی میں محوِ گفتگو تھے۔ چراغ کی ہلکی روشنی میں کسی کے تاثرات کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔ بادشاہ نے سر اٹھایا اور کہا، ’’بیٹا! تم ابھی بہت چھوٹے ہو— کم سن ہو— ناتجربہ کار ہو— اقتدار کا کھیل بہت بے رحم اور سفاک ہوتاہے۔ اس میں رحم کی گنجائش بالکل نہیں ہوتی۔ اگر تم رحم کرو گے تو خود مارے جائو گے کیونکہ تمہارا مقابل رحم کی خوبی سے عاری ہوتا ہے۔ اس کھیل میں کوئی رشتہ دار نہیں ہوتااور نہ ہی کوئی اپنا ہوتاہے۔ سارے رشتے مفادات کے رشتے ہوتے ہیں۔ بیٹا! تخت ایک ہے اور طلبگار ہزاروں۔ ہر طلبگار کو قبر میں دھکیل دینے کے بعد ہی تخت محفوظ ہوتا ہے۔ جب تک تخت کا ایک طلبگار بھی سلطنت میں موجود ہو، تخت محفوظ نہیں ہوتا۔‘‘
بہلول بادشاہ کی بات سن کر خاموش ہو گیا تھا۔ اسے تخت و تاج سے گھن آنے لگی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ ایک نہ ایک دن وہ بھی اس کھیل کا حصہ ہو گا—
چراغ کی ملگجی روشنی میں اس کا باپ اس کے چہرے کے بدلتے ہوئے تاثرات کو بھانپ نہیں سکا تھا۔

بہلول دو دنیائوں کا مسافر تھا۔ وہ بادشاہ سے چھپ چھپا کر گاہے گاہے درویش کے حجرے میں جایا کرتا تھا۔ درویش کی باتیں اسے فلسفے کی عجیب و غریب دنیا میں لے جایا کرتی تھیں— دوسری طرف اتالیق کی باتیں تھیں جو اسے دولت اور اقتدار حاصل کرنے اور اسے تادمِ آخر برقرار رکھنے کے طور طریقوں سے آگاہ کرتی تھیں۔
جنگی ماہر اسے تلوار بازی، نیزی بازی اور دیگر جنگی امور کی تربیت دے رہے تھے۔
اتالیق اس پر حکومت چلانے کے نت نئے طریقے، چالاکیاں، سیاستیں اور بہروپ عیاں کر رہا تھا۔ آج بھی وہ دونوں پائیں باغ میں چہل قدمی کر رہے تھے۔ ساتھ ساتھ اتالیق اسے امورِ حکومت کے بارے میں بتا رہا تھا، ’’شہزادہ حضور! اکثر بادشاہ عیش و عشرت میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ شراب و شباب ان کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے لیکن عوام کے سامنے منافقت کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ پردے کے پیچھے وہ بہت بڑے عیاش، گناہ گار اور مے نوش ہوتے ہیں مگر جب باہر نکلتے ہیں تو مذہب کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔ان کا نورانی روپ دیکھ کر ہر آدمی انہیں نیک، پاک اور متقی شخص سمجھنے لگتا ہے۔‘‘
بہلول مسکرایا، ’’استادِ محترم! میں جانتا ہوں۔ ابا حضور بھی یہی شوق و شغل کرتے رہتے ہیں۔ وہ بڑھاپے میں بھی جوان ہیں۔‘‘
اتالیق اس کی بات سن کر زیرِ لب مسکرایا اور بولا، ’’عام رعایا میں مذہب اور مذہبی پیشوائوں کا بہت اثر ورسوخ ہوتا ہے۔ مذہبی پیشوائوں کو تحفے تحائف دیتے رہنے چاہئیں— ان کی چھوٹی موٹی ضرورتوں کا بھی خیال رکھنا دانش مندی ہوتی ہے۔ اگر یہ لوگ آپ سے خوش ہوں تو منبر پر عام رعایا کے سامنے آپ کی حکومت کو مقدس ثابت کرتے رہیں گے، آپ کی حکومت کو اللہ کی رحمت کا نام دیں گے اور جب بھی عوام میں کوئی سرپھرا بغاوت کے راستے پر چل نکلتا ہے تو یہی مذہبی پیشوا اس کو باز رکھتے ہیں— باز نہ رہے تو اس پر مذہبی توہین کا الزام لگا کر عوام الناس کے ہاتھوں مروا دیتے ہیں۔ خس کم جہاں پاک۔‘‘
بہلول بڑی توجہ سے اس کی باتیں سن رہا تھا۔ وہ بولا، ’’ہاں! میں اس منافقت کو بخوبی سمجھتا ہوں۔ میں نے بادشاہ سلامت کو گھر میں کبھی نماز پڑھتے نہیں دیکھا لیکن رعایا کے سامنے وہ نماز پڑھتے ہیں، ذکر و تسبیح کرتے ہیں اور لوگوں کو نماز کی ترغیب بھی دیتے رہتے ہیں۔‘‘
آج موسم بے حد خوش گوار تھا— ہلکی ہلکی بوندا بوندی ہو رہی تھی۔ وہ دونوں چلتے چلتے آموں کے جھنڈ میں داخل ہو گئے۔ اتالیق بولا، ’’کبھی کبھی صدقہ خیرات کرنا، لنگر کا اہتمام کرنا اور غریبوں کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھ کر تحفے تحائف بانٹنا بادشاہ کے لیے ضروری ہوتا ہے — بادشاہ نے اپنی جیب سے تو دینا نہیں ہوتا— انھی لوگوں سے لیے ہوئے پیسے میں سے کچھ پیسے لوٹانے ہوتے ہیں ،اس سے سخاوت کی دھاک بیٹھ جاتی ہے۔‘‘
بہلول بادشاہوں کی منافقت کو بخوبی سمجھ چکا تھا۔ جوں جوں بادشاہی کے رموز اس پر کھل رہے تھے، توں توں تخت اور کارِ بادشاہی سے اسے نفرت ہوتی جا رہی تھی۔ عدم رغبتی کے باوجود وہ اتالیق کی باتوں پر پوری توجہ دے رہا تھا— اسے سمجھ آ گئی تھی کہ درویشی اختیار کرنے کے لیے ان عیارانہ چالوں کو سمجھنا بھی بے حد ضروری ہوتا ہے۔

کچھ غریب اور مجبور لڑکیاں بادشاہ کے حرم میں داخل کی گئی تھیں۔ اکثر ان کی سسکیاں سنائی دیتی رہتی تھیں۔ بہلول نے جب سے یہ سسکیاں سنی تھیں ، وہ بے چین رہنے لگا تھا— اکثر اسے وہم ہو جاتا تھا کہ محل کے باغ سے سسکیوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں لیکن جب وہ وہاں پہنچتا تو اسے کوئی بھی دکھائی نہ دیتا تھا۔ آن کی آن میں سسکیوں کی ابھرنے والی آوازیں بھی معدوم ہو جاتی تھیں۔
آج رات بھی اسے پائیں باغ سے سسکیوں کی آواز سنائی دی۔ وہ گھبرا کر باغ میں پہنچا۔ وہاں کوئی نہیں تھا۔ ہلکی ہلکی چاندنی میں شجر اداس دکھائی دے رہے تھے۔ اس کی بے چینی بڑھ گئی۔ اس نے محافظ کو ساتھ لیا اور درویش کے پاس پہنچ گیا۔ رات کے اس وقت ولی عہد کو سامنے دیکھ کر درویش پہلے تو حیران ہوا پھر مسکر کر بولا، ‘‘شہزادے! بے چینی سے گھبرایا نہیں کرتے۔ یہ تو انسان کی زندگی کو رواں دواں رکھتی ہے۔‘‘
بہلول نے کہا، ’’حضرت! کارِ شاہی سے میری نفرت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ محل مجھے قید خانے سے زیادہ بھیانک اور کریہہ لگنے لگا ہے۔ کیا بادشاہ بن کر بندہ عدل و انصاف کر سکتا ہے؟ کیا بادشاہی میں انسان کو سکون اور اطمینانِ قلب نصیب ہو سکتا ہے؟‘‘
درویش نے جواب دیا، ’’عدل کیا جا سکتا ہے لیکن ایک بادشاہ کے لیے انصاف کی راہ پر چلنا بے حد دشوار کام ہوتا ہے— رعایا کے ساتھ عدل کرو گے تو طاقت ور درباری اور امراء ناراض ہو جائیں گے— محلاتی سازشیں پھوٹ پڑیں گی— اگر درباریوں اور امراء کو راضی کرتے ہوئے رعایا سے بے انصافی کرو گے تو رعایا باغی ہو جائے گی۔ سب کو قابو میں رکھنے کے لیے عدل و انصاف سے کہیں زیادہ جبر و ظلم اور طاقت کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔‘‘
درویش کا ڈیرہ ایک اجڑے ہوئے مکان میں تھا۔ آس پاس کوئی مکان یا آبادی نہیں تھی۔ ہر طرف مکمل اور گہری خاموشی کا تسلط قائم تھا۔ بہلول نے اس سے کہا، ’’حضرت! آپ کی باتیں سن کر لگتا ہے کہ آپ کی رسائی درباروں تک رہی ہے۔‘‘
وہ مسکرایا، ’’تم ٹھیک کہتے ہو۔ میں نے کافی عرصہ محلاتی غلام گردشوں میں گزارا ہے۔‘‘
بہلول نے دلچسپی سے پوچھا، ’’پھر تم نے فقر کیوں اختیار کر لیا؟‘‘
اس بات پر درویش کے چہرے پر ایک رنگ آیا اور گزر گیا۔ وہ اپنے ماضی کی بھول بھلیوں میں چکرانے لگا۔ ایک لمحے کے توقف کے بعد لمبی سانس پھیپھڑوں میں اتار کر بولا، ’’میں ایک شہزادے کا اتالیق تھا ۔ اس کے ساتھ خوبصورت محل میں شان و شوکت کے ساتھ رہتا تھا۔ بادشاہ نے شہزادے کے لیے یہ محل دریا کے کنارے پر بڑے شوق اور محنت سے بنوایا تھا۔ محل میں ہر طرف سنگِ مر مر نصب تھا۔ دیواروں پر خوبصورت نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔‘‘ درویش آنکھیں موندے دل ہی دل میں کچھ بڑبڑاتا رہا۔ کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی تھی۔ پھر وہ افسردگی سے بولا،’’ ایک دن دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے لگی ۔ خبریں آئیں کہ سیلاب آنے والا ہے۔ شہزادے کی بے چینی میں اضافہ ہو گیا۔ وہ بار بار حسرت سے محل کو دیکھ رہا تھا جو کچھ دنوں بعد ڈوبنے والاتھا۔ پھر ایک دن سیلاب آگیا۔ شہزادہ اپنے محل کو ڈوبتے ہوئے دیکھتا رہا۔ میں نے اس کے بعد شہزادے کے چہرے پر کبھی مسکراہٹ نہیں دیکھی۔‘‘
چراغ کی مدھم روشنی میں اس کی آنکھوں میں ماضی کی پرچھائیاں رقص کرتی دکھائی دے رہی تھیں۔ اس نے ایک سرد آہ بھری اور کہا، ’’جس کے پاس جتنی زیادہ دولت ہوتی ہے، اسے اس کی حفاظت بھی اتنی ہی زیادہ محنت اور طاقت سے کرنی پڑتی ہے— شہزادے کے محل کے ساتھ ہی ایک فقیر کی جھونپڑی تھی۔ وہ سیلاب کی وجہ سے بالکل پریشان نہیں تھا— اس کے پاس تھا ہی کیا جس کے ڈوبنے کا اسے غم ہوتا۔ اس نے اپنا سامان کندھےپر رکھا اور ایک طرف کو چل دیا۔ اس دن مجھے محسوس ہوا کہ محل کے مقابلے میں جھونپڑی کا مالک ہونا کتنا آسان اور اچھا تھا۔اس دن مجھے دولت اور محلات سے نفرت ہو گئی۔‘‘
بہلول کےذہن میں اب فقر واضح ہوا تھا— اسے اپنے باپ کا چہرہ نظر آنے لگا جو اقتدار رکھنے کے باوجود ہر وقت پریشانیوں کی آماجگاہ بنا رہتا تھا کہ کہیں یہ بادشاہت ہاتھوں سے نکل ہی نہ جائے— کوئی شب خون ہی نہ مار دے— کہیں بغاوت کا علم ہی بلند نہ ہو جائے۔
وہ درویش کے گھر کے کھلے صحن میں بیٹھے تھے۔ گھر کی دیوار گری ہوئی تھی۔ کوئی دروازہ نہیں تھا جسے بند کرنے یا کھولنے کا اہتمام کیا جاتا ہو۔ بادشاہ نے اسے کئی مرتبہ اچھا گھر بنوا کر دینے کی پیشکش کی تھی لیکن اس نے ہر بار ٹھکرا دیا تھا۔
ولی عہد نے ادھر اُدھر دیکھا، ’’حضرت! مکان کی تھوڑی بہت مرمت ہی کروا لی جائے تو مکان بہتر حالت میں آ سکتا ہے۔‘‘
ایک پھیکی مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی، ’’ہر چیز نے فنا ہو جانا ہے۔ یہ مکان پہلے بہت اچھی حالت میں ہوا کرتا تھا۔ میں یہاں اپنی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔ ماں بوڑھی ہوئی تو زیادہ وہم کا شکار ہو گئی۔ وہ بار بار مجھے باہر بھیجا کرتی تھی کہ بیٹا! دیکھ آئو، کہیں دروازہ کھلا تو نہیں رہ گیا، ماحول بہت خراب ہے۔ آج کل حالات کا کچھ پتہ نہیں چلتا— مجھے پتہ ہوتا تھا کہ دروازہ بند ہے لیکن ماں کا دل رکھنے کے لیے بار بار دروازہ دیکھنے چلا جاتا تھا۔ نہ اسے کبھی جھڑکا، نہ باہر جانے سے انکار کیا اور نہ دل پر کوئی ملال لیا۔ بس، جب ماں نے حکم دیا، میں نے تعمیل کر دی۔ ایک دن گھر کی دیوار گر گئی تو میرے ساتھ ساتھ ماں بھی دروازے کی فکر سے آزاد ہو گئی۔ تب سمجھ میں آیا کہ گھر میں کچھ ہے ہی نہیں، جس کے چوری ہونے کا احتمال ہو۔‘‘
مکان کی خستہ حالی ہر طرف سے عیاں تھی۔ دیوار کے ساتھ اکلوتے کمرے کی چھت بھی گری ہوئی تھی۔ بہلول نے پوچھ ہی لیا، ’’چھت بھی گری ہوئی ہے۔ اس کا تو کچھ کر لیں۔‘‘
ایک تبسم اس کے چہرے پر ابھرا۔ وہ بولا،’’ ماں کو چھت کی بھی فکر لاحق رہتی تھی کہ یہ کمزور ہے، کہیں گر ہی نہ جائے، بارش میں ٹپکنے ہی نہ لگ جائے۔ پھر ایک دن چھت گر گئی۔ میں چارپائیاں صحن میں لے آیا۔ تب چھت کا خوف بھی دل سے جاتا رہا۔میں نے اس پر بھی اللہ کا شکر ادا کیا۔‘‘
درویش کی ہر بات بہلول کے ذہن میں سچ بن کر اتر رہی تھی۔
رات کافی گزر گئی تھی لیکن اس کی آنکھوں میں نیند کا شائبہ تک نہیں تھا۔ مدھم ہوتے چراغ کی روشنی میں دونوں ہیولوں کی طرح دکھائی دے رہے تھے۔ شہزادے نے خاموشی کو توڑا اور کہا، ’’حضرت! دنیا داری اور فقر میں فرق کیا ہے؟ کیا دنیا کو چھوڑ دینا فقر ہے؟‘‘
درویش نے مدھم ہوتے چراغ کی لو کو کچھ اور اونچا کیا تو روشنی زیادہ ہو گئی۔ اب اس کا چہرہ واضح نظر آنے لگا تھا۔ وہ بولا، ’’فقر ہی اصل دنیا داری ہے— فقر نام ہے اپنی زندگی کی ضرورتیں پوری کرنے کا— روٹی، کپڑا اور مکان— جبکہ اپنی ضرورت سے زیادہ جمع کرنے کا نام دنیا داری ہے۔ ہوس ہے۔ لالچ ہے۔ جو چیز آپ کے لیے ضروری نہیں ہے، وہ کسی دوسرے کو دے دیں۔ کسی اور کی ضرورت پوری ہو جائے گی۔ بس اسی کو فقر کہتے ہیں۔‘‘ وہ کچھ دیر زمین پر آڑی ترچھی لکیریں کھینچتا رہا جیسے کوئی حساب کر رہا ہو، پھر اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری، چند گھونٹ پانی پیا اور بولا، ’’اصل فقر تو میں نے جانوروں سے سیکھا ہے— کیڑے مکوڑے اپنا پیٹ بھرنے کے بعد باقی خوراک دوسروں کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ شیر جیسا درندہ بھی اپنی بھوک مٹانےکے بعد باقی ماس دوسروں کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ لیکن انسان سب سے ظالم درندہ ہے — اپنا پیٹ بھرنے کے بعد باقی بچ جانے والا مال کسی کیلئے نہیں چھوڑتا بلکہ ذخیرہ کر لیتا ہے— پھر اس ذخیرے پر بھی قناعت نہیں کرتا— دوسروں کے حلق سے نوالے کھینچنے لگتا ہے۔‘‘
باتوں باتوں میں وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا تھا۔ صبح قریب تھی۔
کہیں دور سے آذان کی صدا سنائی دی۔ دونوں نے وضو کیا، نماز ادا کی اور بہلول اجازت لے کر محل کی طرف روانہ ہو گیا۔

اب بہلول کو محل میں گھٹن محسوس ہوتی تھی— ہر بندہ سہما سہما لگتا تھا— ہر کوئی ایک انجانے خوف کا شکار تھا— کسی چیز کے کھو جانے کا خوف—
ایک دن بادشاہ کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی۔ اس کی زندگی کے لالے پڑ گئے۔ طبیبوں کو بلایا گیا۔ کچھ دن بعد اس کی طبیعت سنبھل گئی لیکن بادشاہ اب پریشان رہنے لگا تھا۔ ایک دن اس نے ولی عہد کو کچھ نصیحتیں کرنے کے لیے تنہائی میں بلوایا اور کہا، ’’بیٹا! زندگی موت کا کچھ پتہ نہیں۔ مستقبل میں تم نے ہی ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔ آج میں تمہیں کچھ باتیں بتانا چاہتا ہوں۔‘‘
بہلول بادشاہ کی بات سن کر رنجیدہ ہو گیا تھا۔ بولا، ’’بادشاہ سلامت! ایسی باتیں نہ کریں۔ اللہ آپ کا سایہ ہمارے سروں پر ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔‘‘
بادشاہ نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا، ’’بیٹا کارِ بادشاہی میں کسی پر اعتبار نہ کرنا۔ اپنے قریبی دوستوں سے بھی محتاط رہنا۔ ہماری فوج اگرچہ مضبوط ہے لیکن ملک خراسان ہمارے ملک سے کہیں بڑاہے۔ اس کی فوج بھی بڑی ہے۔ ہم اپنی بقا کے لیے ہر سال شاہِ خراسان کو خراج دیتے ہیں۔ ہم یہ خراج کچھ تو عوام پر ٹیکس لگا کر وصول کرتے ہیں اور کچھ اپنے سے کمزور ملکوں سے خراج کی شکل میں وصول کرتے ہیں۔ اس کی تفصیل تمہیں وزیرِ مالیات بتا دے گا۔‘‘ولی عہد نے کوئی سوال نہیں کیا۔ بس خاموشی سے اثبات میں سر ہلاتا رہا۔
بادشاہ پھر گویا ہوا، ’’ہم عوام سے ٹیکس کی صورت میں جو رقم وصول کرتے ہیں، اس میں امراء اور درباریوں کو بھی حصہ دینا ہوتا ہے۔ اپنی عیاشی بھی کرنی ہوتی ہے۔ محل کے اخراجات بھی پورے کرنے ہوتے ہیں۔ اس لیے عوام کے لیے پیسہ بہت تھوڑا بچتا ہے۔‘‘
ولی عہد نے پہلی دفعہ لب کشائی کی، ’’ابا حضور! اصولی طور پر ہمیں زیادہ پیسہ عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنا چاہیے۔‘‘
بادشاہ بولا، ’’خزانہ اتنی اجازت نہیں دیتا۔ ہاں! غربت کی وجہ سے عوام بغاوت کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے ہم نے دانشور رکھے ہوئے ہیں جو عوام کو فریب دیتے ہیں، جھوٹی تسلیوں اور دلاسوں پر خوش رکھتے ہیں۔ تم نے ان کا بھی خیال رکھنا ہے۔‘‘
شہزادہ بادشاہ کی باتوں سے اکتا گیا تھا۔ لیکن اس نے اپنی بیزاری کو اپنے چہرے سے عیاں نہیں ہونے دیا تھا۔ اس نے تھکاوٹ کا بہانہ کر کے بادشاہ سے اجازت لی اور اپنے کمرے میں آ گیا۔

محل میں سارے معاملات حسبِ معمول چل رہے تھے۔ کوئی خاص بات نہیں تھی۔
اچانک ایک رات ہر طرف تلواروں کی جھنکار اور شور شرابے کی آوازیں گونج اٹھیں۔ محافظ نے شہزادے کو آ کر بتایا کہ بادشاہ کے خلاف بغاوت ہو گئی ہے۔
شہزادہ ساری رات پریشان رہا۔ صبح اس پر صورتِ حال واضح ہو گئی۔ اسے پتا چلا کہ امیر الامراء نے بغاوت کی تھی جسے بادشاہ کی فوج نے ناکام بنا دیا تھا۔
پھر دن چڑھے ولی عہد کی آنکھوں کے سامنے پکڑے گئے باغیوں کے سر قلم کیے گئے۔ ہر طرف خون ہی خون پھیلا ہوا تھا۔ اس واقعہ کے بعد بہلول زیادہ پریشان رہنے لگا تھا۔ اس کا محل میں دم گھٹنے لگتا تو وہ کھلی فضا میں، جنگل میں، باغ میں نکل کھڑا ہوتا تھا۔
خوف سے اس کی راتوں کی نیند بالکل اڑ چکی تھی۔ اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا۔ ایک دن وہ بادشاہ کے سامنے پیش ہوا اور کہا، ’’ابا حضور! میں ولی عہدی سے دستبردار ہونا چاہتا ہوں۔ میں اس گھٹن ، نفرت اور خون سے لتھڑے ہوئے ماحول میں زندگی نہیں گزار سکتا۔‘‘
بادشاہ نے اس کی بات توجہ سے سنی۔ اسے حیرانی نہیں ہوئی تھی کیونکہ وہ ارد گرد سے شہزادے کے متعلق سن گن لیتا رہتا تھا۔اسے معلوم تھا کہ شہزادہ درویشی کی طرف مائل ہے۔ اسے درویش سے اس کی ملاقاتوں کا علم تھا۔ اتمامِ حجت کے طور پر اس نے شہزادے کو سمجھانے، دنیا کی اونچ نیچ سے آشنا کرنے اور راہِ راست پر لانے کی کوشش کی، ’’بیٹے! تمام دنیا ہی ہمارے محل جیسی ہے۔ کہیں کم تو کہیں زیادہ، قتل و غارت ہوتی رہتی ہے۔ میں اقتدار بچانے کے لیے، امراء اقتدار لینے کے لیے، غریب روٹی کے لیے اور امیر دولت کے لیے خون بہاتے رہتے ہیں۔‘‘
ولی عہد افسردگی سے بولا، ’’ابا حضور! میری راتوں کی نیند اڑ گئی ہے۔ دل اذیت کے احساس سے بھر چکا ہے۔ مجھے اس اذیت سے نجات چاہیے۔ اس ہوس بھری دنیا سے فقر کی مختصر سی دنیا بہت بہتر ہے۔ وہاں سکون ہی سکون ہے۔‘‘
بادشاہ نے ایک طویل سانس حلق میں اُتاری، آنکھوں میں آنے والے آنسوئوں کو بمشکل روکا، اور بیٹے کو جانے کی اجازت دے دی۔ اسے معلوم تھا کہ اس کا بیٹا محل سے نکل کر درویش کی جھونپڑی کا رخ کرے گا۔

 

پاگل



شبو بڑی منتوں مرادوں کے بعد پیدا ہوا تھا۔
اس نے متوسط طبقے کے ایک گھرانے میں آنکھ کھولی تھی— اس کے والد کی لوہے کی ایک بھٹی تھی جس سے ان کی گزر اوقات اچھی ہو جایا کرتی تھی۔
شبو عجیب نام تھا۔ اس طرح کا نام لڑکیوں کا ہوا کرتا ہے۔ آس پاس کے کسی گائوں میں کسی لڑکے کا یہ نام سنا نہیں گیا تھا۔ لوگ اس کے والد سے طنزیہ لہجے میں دریافت کیا کرتے تھے، ’’تمہیں مردوں والا کوئی نام نہیں ملا تھا بیٹے کیلئے— جو یہ عورتوں والا نام رکھ دیا۔‘‘
وہ لوگوں کو اس نام کے رکھے جانے کا سبب بتایا کرتا تھا، ’’یہ آدھی رات کو پیدا ہوا تھا۔ اس لیے ’’شب‘‘ کی مناسبت سے اس کا نام ’’شبو‘‘ رکھا گیا ہے۔‘‘
وہ بچپن ہی سے دوسرے بچوں سے مختلف تھا۔
وہ جسمانی ساخت کے اعتبار سے بھی قدرے مختلف واقع ہوا تھا۔ اس کا سر دھڑ کی نسبتاً بڑا لگتا تھا جیسے کسی ڈنڈے کے اوپر تربوز رکھ دیا گیا ہو۔ اس کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی اور گول مٹول تھیں جن کے اندر پتلیاں عجیب و غریب انداز میں حرکت کرتی رہتی تھیں۔ اس کے ہونٹ بھی چہرے سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ اکثر وہ اپنے ہونٹوں کو دانتوں سے کاٹتا رہتا تھا۔ سر کے بال گھنے نہیں تھے بلکہ جزوی طور پر اس کے سر کو گنجا قرار دیا جا سکتا تھا۔
اسے آج تک کسی نے مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا تھا بلکہ ایک عجیب نوع کی سنجیدگی مستقلاً اس کے چہرے پر ڈیرہ جمائے ہوئے تھی۔ اس کے چہرے پر جابجا سلوٹیں بکھری ہوئی تھیں۔
شبو کو شلوار قمیص میں کم ہی دیکھا گیا تھا۔ وہ اکثر مختصر جانگیہ اور بنیان پہنے رکھتا تھا۔ ایک پرانی سی ٹوپی اس کے سر پر براجمان رہتی تھی۔
وہ محلے کے بچوں کے ساتھ کھیلتا تھا اور ان کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرنا اس کا معمول تھا۔ کرکٹ کھیلتے ہوئے وہ اکثر گیند اٹھا کر بھاگ جایا کرتا تھا۔ سارے لڑکے اس کے پیچھے بھاگتے اور گیند کھینچنے کی کوشش کرتے۔ وہ گیند کو دانتوں سے دبائے رکھتا اور جب دیکھتا کہ دیگر بچے اس سے گیند چھیننے میں کامیاب ہو جائیں گے، تو وہ گیند کو کسی گھر میں پھینک دیتا تھا— اسی طرح کھیل کے دوران وکٹیں اکھاڑ کر بھاگ جانا بھی اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا— بہ لفظِ دیگر وہ کھیلتا کم اور کھیلنے والوں کو زچ زیادہ کرتا تھا۔
وہ اپنی جیب میں ایک چھوٹا سا چاقو ہر وقت سنبھالے رکھتا تھا جس سے وہ ساتھی بچوں کو ڈرایا دھمکایا کرتا تھا۔ اگرچہ اس نے آج تک کسی بچے پر چاقو سے حملہ نہیں کیا تھا، لیکن اس چاقو کی مدد سے وہ کئی مرتبہ بچوں کا فٹ بال پھاڑ چکا تھا۔
محلے کے بچے اور بڑے لڑکے کئی مرتبہ شکایت لے کر اس کے باپ کے پاس گئے تھے۔ وہ ان کی بات سن کر شبو کو چند غائبانہ گالیاں دیتا اور بچوں کو یہ کہہ کر روانہ کر دیتا کہ شبو آ لے، میں اس کی ایسی کی تیسی کر دوں گا۔ وہ شبو کی ایسی کی تیسی کرتا تھا یا نہیں، البتہ یہ بات ہر ایک پر ظاہر ہو چکی تھی کہ وہ اپنے بیٹے شبو کے سامنے بے بس ہو چکا ہے۔
اس نے کئی مرتبہ شبو کو سمجھایا تھا، ڈرایا دھمکایا اور مارا پیٹا بھی تھر— مگر اس کی عادتیں ٹھیک نہ ہوئیں۔

اکثر دوپہر کو جب سارے محلے والے گرمی کی وجہ سے گھروں کے اندر دبکے ہوتے تھے، وہ دروازوں پر پتھر مار کر بھاگ جایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ اس نے ایک گھر کے اندر پتھر اور ٹوٹی ہوئی اینٹوں کے ٹکڑے پھینکے جس سے گھر کے لوگ زخمی ہو گئے۔ ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ محلے داروں نے اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ شبو کا باپ محلے داروں اور پولیس والوں کی منت سماجت کر کے، معافی مانگ کر اسے چھڑا لایا تھا۔
باپ اسے سمجھا سمجھا کر، مار پیٹ کر تھک چکا تھا۔ لیکن اس پر کسی بات کا اثر ہی نہیں ہوتا تھا۔ اب وہ اتنا ڈھیٹ اور بے شرم ہو چکا تھا کہ گاہے گاہے اپنے تمام کپڑے اُتار کر محلے داروں کے سامنے ناچنے لگتا تھا۔ محلے کی آخری نکڑ پر واقع گندے پانی کے جوہڑ میں وہ کئی مرتبہ چھلانگ لگانے کا مظاہرہ بھی کر چکا تھا۔
شبو کا باپ اپنے اکلوتے بیٹے کی حرکتوں کی وجہ سے بہت پریشان تھا۔ وہ کئی ڈاکٹروں سے اس کا علاج کروا چکا تھا۔ پیروں کے پاس لے جا کر اسے دم بھی کروا آیا تھا لیکن کوئی افاقہ نہیں ہو رہا تھا۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق شبو دن بدن برے راستوں پر آگے ہی آگے بڑھتا چلا جا رہا تھا۔
ڈاکٹروں نے اسے بتایا، ’’اس بچے کا ذہن پیدائشی طور پر کمزور ہے۔ دوائیوں کا اس پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔ البتہ اچھی تربیت اسے کسی حد تک سنوار سکتی ہے۔‘‘
ڈاکٹروں سے مایوس ہو کر وہ دم درود کرنے والوں اور پیروں فقیروں کے پاس بھی گیا۔ ایک فقیر نے تو شبو کو دیکھ کر دلچسپ پیش گوئی کی، ’’فکر نہ کرو، یہ بچہ بڑا ہوکر بادشاہ بنے گا۔ حکمران بنے گا۔‘‘
اس کے باپ نے حیرانی سے پوچھا، ’’ڈاکٹر کہتے ہیں کہ یہ پاگل ہے۔ تم کہتے ہو کہ یہ حکمران بنے گا۔‘‘
’’پاگل لوگوں کیلئے پاگل لوگ ہی حکمران بنتے ہیں۔‘‘ فقیر نے کہا۔ اس کے لبوں پر جاندار مسکراہٹ رقصاں تھی۔
دن بدن شبو کی حالت مزید خراب ہوتی چلی جا رہی تھی۔
اب اس پر پاگل پن کے دورے بھی پڑنے لگے تھے۔ ایک دن اس نے اینٹ مار کر اپنے ساتھی بچے کو شدید زخمی کر دیا۔ اس بات پر محلے والے بہت مشتعل ہو گئے اور شبو کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
چونکہ محلے والے سخت برہم تھے، اس لیے شبو کا باپ اسے تھانے سے نہ چھڑوا سکا۔ لیکن چند دنوں بعد پولیس نے شبو کو پاگل خانے بھجوا دیا۔

پاگل خانے میں شبو کا باپ باقاعدگی سے اسے ملنے جایا کرتا تھا۔ وہ اکثر انچارج سے پوچھا کرتا تھا، ’’میرا بیٹا ٹھیک ہو جائے گا نا؟‘‘
پاگل خانے کا انچارج مایوسانہ انداز میں سر ہلاتا اور کہتا، ’’شبو پاگل خانے کا سب سے مشکل مریض ہے۔ بس خدا سے دعا کرو کہ اسے ٹھیک کر دے۔‘‘
پاگل خانے میں بھی شبو کے معاملات میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔ ساتھی مریضوں کے ساتھ دنگا فساد کرنا اس کا روز کا معمول تھا۔ کئی دفعہ اس نے ڈاکٹر کے ساتھ بھی دست درازی کی تھی۔ اگر ڈاکٹر کے ساتھ پاگل خانے کے محافظ نہ ہوتے تو شاید وہ ڈاکٹر کو نقصان پہنچانے میں کامیاب بھی ہو جاتا۔
ایک دفعہ آدھی رات کو پاگل خانے کے چوکیدار کی غفلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
فرار ہونے کے بعد شبو اندھا دھند بھاگ رہا تھا۔ اس کی کوئی منزل نہیں تھی۔ اس نے مختصر سا جانگیہ اور پرانی سی بے رنگ بنیان پہن رکھی تھی۔ وہ بھاگ بھاگ کر تھک گیا تھا۔ دور دور تک کہیں آبادی کے نشانات نہیں تھے۔
صبح صادق کے وقت اسے آبادی کے آثار دکھائی دیے تو اس نے سکھ کا سانس لیا — وہ رات سے بھوکا پیاسا بھاگ رہا تھا— اب اس کی ہمت جواب دے چکی تھی۔ اسے امید تھی کہ کوئی گھر آیا تو اسے کھانے کو کچھ نہ کچھ ضرور مل جائے گا۔
وہ رات کی بھاگ دوڑ سے شدید تھک چکا تھا۔ نیند سے آنکھیں بوجھل ہو رہی تھیں۔ اس نے برگد کے ایک پرانے درخت کے تنے سے ٹیک لگائی اور آنکھیں موند لیں۔ وہ سونا نہیں چاہتا تھا مگر چند ہی منٹوں میں نیند کی وادی میں بھٹک گیا۔

یہ بستی کافی عرصہ سے خشک سالی کا شکار تھی۔ لوگ بارشوں کی دعائیں مانگ مانگ کر تھک چکے تھے۔ لیکن ان کی کوئی دعا رنگ نہیں لائی تھی۔ آسمان سے ایک بوند پانی بھی زمین پر نہیں گرا تھا۔ آج بھی بستی کے لوگ دعا مانگنے کے لیے گائوں کے کھلے میدان میں جمع تھے۔
لوگ دعائیں مانگ ہی رہے تھے کہ مشرق سے تیزی سے بادلوں کی آمد شروع ہو گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے امڈ کر آنے والے بادلوں نے امید کی دنیا آباد کر دی اور پانی کے قطرے گرنے لگے۔
کچھ ہی دیر میں بارش نے زور پکڑ لیا اور جل تھل ایک کر دیا۔ لوگ خوشی سے دیوانے ہو گئے۔ ایک دوسرے سے گلے مل کر مبارک باد دینے لگے۔
اسی دوران ایک بزرگ کی نظر شبو پر پڑی جو برگد کے درخت کے نیچے دنیا و مافیہا سے بے خبر سو رہا تھا۔ بزرگ نے شبو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لوگوں سے چیخ کر کہا، ’’لوگو! وہ دیکھو۔ اللہ نے ہماری مدد کے لیے اپنا ولی بھیجا ہے۔ میں بھی کہوں، سالوں سے خشک دھرتی پر آناً فاناً بارش کیسے ہونے لگی؟— یہ بارش بلاشبہ اسی ولی کی کرامت ہے ورنہ ہم تو دعائیں مانگ مانگ کر پاگل ہونے کو آ گئے تھے۔‘‘
ایک نوجوان نے شبو کو دیکھ کر بزرگ کی تائید کی، ’’آپ ٹھیک کہتے ہیں بزرگو! آج ہی اس ولی کی ہمارے علاقے میں آمد ہوئی ہے اور آج ہی اللہ نے ہمیں اپنی رحمت سے نواز دیا ہے۔‘‘
یہ سنتے ہی لوگ دیوانہ وار شبو کی طرف دوڑے اور اسے کاندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔ وہ ہڑبڑا کر بیدار ہو گیا اور لوگوں کو حیرت بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔
لوگوں نے اس پر سوالوں کی بوچھاڑ کر دی لیکن وہ ابھی تک نیند کے گہرے خمار میں تھا۔ وہ لوگوں کی باتوں کو پوری طرح سمجھ ہی نہیں رہا تھا۔ لوگوں کے سوالوں کے جواب میں کبھی شبو اوپر دیکھتا، کبھی نیچے اور کبھی دائیں بائیں دیکھنے لگتا۔ کبھی کندھے اچکا کر اپنی آنکھیں بند کر لیتا۔
شبو کی ان حرکتوں کو دیکھ کر ایک شخص نے کہا، ’’لوگو! اب تو اس کے ولی ہونے میں کوئی شبہ ہی نہیں رہا۔ اللہ کے نیک بندے صرف زبان سے ہی بات نہیں کرتے، بلکہ ان کا ہر عضو باتیں کرتا ہے۔‘‘
لوگ اسے دھوم دھام اور عزت و احترام سے بستی میں لے گئے۔ پوری بستی میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ بستی میں کوئی اللہ کے ولی آئے ہیں جن کی وجہ سے آج زوروں کی بارش ہوئی ہے۔ لوگ جوق در جوق اسے دیکھنے کے لیے گھروں سے نکل آئے تھے۔
بستی کے سارے لوگ خوش تھے۔ سوائے بڑی مسجد کے امام کے جو یہ سوچ کر پریشان ہو رہا تھا کہ شبو کے آنے سے اس کی اہمیت کم نہ ہو جائے— مسجد کے امام کی بستی میں بہت عزت تھی۔ لوگ اس سے دعا کروانے آتے تھے اور بدلے میں اچھے خاصے نذرانے پیش کر جایا کرتے تھے۔

ولی باکرامت کی آمد کے بعد بستی میں جشن کا سماں تھا۔ لوگ اپنے گھروں سے کھانے پینے کی مختلف چیزیں لے آئے اور اس کے سامنے ڈھیر کر دیں۔ شبو کئی دنوں سے بھوکا تھا۔ کھانے کو دیکھ کر پل پڑا۔ تھوڑی دیر میں ہی اس نے اپنا پیٹ بھر لیا۔ لوگ بڑی حیرانی سے اسے ندیدوں کی طرح کھاتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ بستی کے ایک سیانے شخص نے کہا، ’’بستی والو! اب تو ان صاحب کے ولی اللہ ہونے میں کوئی شائبہ نہیں رہا۔ تھوڑی دیر میں اتنی زیادہ چیزیں وہی شخص کھا سکتا ہے جس کے ساتھ کئی نہ نظر آنے والی مخلوقات بھی چلتی پھرتی ہوں۔‘‘
شبو کی خوب آئو بھگت ہو رہی تھی۔ اس نے اتنی عزت افزائی کا کبھی خواب میں بھی تصور نہیں کیا تھا۔ اس کی پاگلوں والی حرکتیں جاری تھیں لیکن اس کی خوش قسمتی تھی کہ لوگ ان حرکتوں کو بھی کرامات سمجھ رہے تھے۔
اس نے ایک بار بچوں سے سائیکل لے کر الٹا چلانا شروع کر دی۔ بچے اس کی حرکتوں سے خوب لطف اندوز ہورہے تھے۔ زور زور سے تالیاں بجانے لگے۔ وہ بھی تالیوں کے جواب میں خوب قہقہے لگارہا تھا—
بلیوں کا وہ خاص دشمن تھا۔ اکثر بلیوں کو دانتوں سے پکڑ کر دوڑتا رہتا تھا۔ تھوڑی دور تک بھاگنے کے بعد وہ ایک دائرے میں گھومتا اور پھر بلی کو دانتوں سے چھوڑ دیتا۔ کئی بلیاں اس کے اس مجنونانہ عمل سے موت کے منہ میں جا چکی تھیں۔
وہ کتے کو ایک ٹانگ سے پکڑ کر دائرے میں گھماتا تھا لیکن کبھی اس نے کسی کتے کو گھما کر پھینکا نہیں تھا۔
وہ اکثر بازئوں کو پر بنا کر اڑنے کی کوشش کرتا تھا۔ اس لیے لوگوں نے اسے شہباز کہنا شروع کر دیا تھا۔ اگرچہ وہ کبھی اڑنے میں کامیاب نہیں ہوا تھا، بلکہ کئی دفعہ اس کوشش میں منہ کے بل گرا بھی تھا، لیکن پھر بھی بستی کے اکثر لوگ سمجھتے تھے کہ وہ اڑ سکتا ہے۔ عقیدت اور محبت ویسے بھی انسان کو سوچنے سے دور لے جاتی ہے۔ کچھ ضعیف الاعتقاد لوگوں نے تو قسم کھا کر بستی والوں کو بتایا تھا کہ انہوں نے شہباز کو اڑتے ہوئے دیکھا ہے۔
جس کرامت نے اس کی زندگی بدل دی تھی، وہ جوہڑ سے انگوٹھی ڈھونڈ لانے والا واقعہ تھا۔ ایک دن ایک لڑکی جس کی تازہ تازہ منگنی ہوئی تھی، اس کی انگوٹھی جوہڑ میں گر گئی۔ یہ منگنی والی انگوٹھی تھی۔ لڑکی اس کے غم میں جوہڑ کے کنارے بیٹھ کر زار و قطار رونے لگی۔
بستی کے سارے لوگ جوہڑ کے کنارے اکٹھے ہوکر افسوس کرنے لگے۔ ایک بزرگ نے کہا، ’’اللہ کی رضا مان لو بیٹی! اور صبرکرو۔ اتنے بڑے جوہڑ میں سے انگوٹھی کا ملنا ممکن نہیں۔‘‘
لڑکی کا منگیتر بھی تھوڑی دیر میں پہنچ گیا۔ اپنی منگیتر کے آنسو اس سے دیکھے نہ گئے — اس نے انگوٹھی کی تلاش میں جوہڑ میں چھلانگ لگا دی لیکن کافی کوشش کے بعد ناکام باہر نکلا۔ جوہڑ کا پانی بہت گندا تھا۔ کسی اور میں اتنی ہمت نہ تھی کہ انگوٹھی کی تلاش میں اس جوہڑ میں اترتا۔
اسی اثنا میں جب سبھی لوگ مایوس ہو کر واپس جانے لگے تھے، شہباز وہاں پہنچ گیا۔ لوگوں نے اسے ساری روئیداد سنائی۔ اس نے سارا ماجرا سنا، کچھ دیر آسمان کی طرف منہ کر کے خاموش کھڑا رہا پھر جوہڑ میں کود گیا۔ لوگوں کی حیرت سے آنکھیں پھٹنے کو آ گئیں جب شبو عرف شہباز چند لمحوں بعد انگوٹھی تھامے جوہڑ سے برآمد ہوا۔ یہ بات سب کے لیے ناقابلِ یقین تھی۔ کوئی بھلا اتنے گندے پانی کے جوہڑ سے ایک ننھی سی انگوٹھی کیسے تلاش کر کے لا سکتا تھا؟
جو لوگ شبو کی کرامات کے دل سے قائل نہ تھے، آج اپنی آنکھوں اس کی روحانی طاقت کے قائل ہو گئے تھے۔ اپنی انگوٹھی دیکھ کر لڑکی کی آنکھوں میں خوشی اور تشکر کے آنسو امڈ آئے تھے۔
اس کرامت کے بعد لوگ جوق در جوق اس کے حلقہءِ ارادت میں داخل ہونے لگے اور اسے باقاعدہ طور پر بستی کا پیر اور حاکم بنا دیا گیا۔

اب تو شبو کی شان و شوکت دیکھنے کے لائق تھی۔ لوگوں نے اس کا نام ’’حاکم شہباز‘‘ رکھ دیا تھا۔ اچھے ماحول اور بے تحاشا عزت افزائی کی وجہ سے اس پر پڑنے والے دورے کم ہوتے جا رہے تھے۔ البتہ کبھی کبھار شدید غصے کی حالت میں پڑنے والے دوروں میں ابھی تک پہلی سی شدت موجود تھی۔ وہ شدید غصے کے عالم میں دیوانہ وار اچھلنے کودنے لگتا تھا— اپنے کپڑے پھاڑ دیتا تھا۔ برہنہ ہو کر رقص کرنے لگتا تھا۔ اب بھی جب اسے یہ دورہ پڑتا، لوگ اسے پاگل پن کی بجائے حالتِ وجد قرار دیتے — ان کی عقیدت میں اور اضافہ ہو جاتا۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اس حال میں حاکم شہباز سے جو بھی مانگا جائے، وہ مل جاتا ہے۔ اس لیے حالتِ وجد میں شبو عرف حاکم شہباز کے گرد لوگوں کا ایک ہجوم اکٹھا ہو جاتا تھا۔

حاکم بننے کے بعد اس کی الٹی سیدھی حرکتوں میں اضافہ ہو گیا تھا۔ ایک دفعہ بہت زیادہ بارش ہوجانے کے بعد بستی میں سیلاب کی سی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے تھے۔ سارے لوگ ٹپکتی چھتوں کی مرمت اور گرنے والی دیواروں کو چوبی ٹیکیں دینے میں مصروف تھے۔
اس دوران شبو انسانوں کی مدد کرنے کی بجائے مینڈکوں کو بچانے کے لیے پانی میں گھس گیا۔ اس نے لمبے جوتے پہنے ہوئے تھے اور وہ مینڈکوں کو پانی سے پکڑ کر اپنی جیبوں میں ڈال رہا تھا۔ لوگ بڑے حیران ہوئے— ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر عجیب و غریب سوال کرنے لگے لیکن پھر ایک بزرگ نے انہیں منع کیا اور کہا،’’تم اتنے رحم دل شخص پر کفر بک رہے ہو۔ ہم انسانوں کا خیال نہیں رکھ سکتے اور اسے دیکھو، وہ جانوروں کو بھی بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘‘
اس واقعہ کے بعد اس کی رحم دلی کے چار سو چرچے ہونے لگے۔
کچھ دن بعد اس کی رحم دلی کا ایک اور واقعہ رونما ہوا۔ ایک چڑیا کو کھمبے پر بیٹھا دیکھ کر وہ بہت پریشان ہو گیا تھا۔ چڑیا کے پائوں دھاگے میں الجھے ہوئے تھے اور دھاگہ تار سے لپٹا ہوا تھا۔ اس نے ایک اہلکار سے کہا، ’’ہم نے اس چڑیا کو بچانا ہے۔ اگر یہ کھمبے پربیٹھی رہی تو اسے کرنٹ لگ جائے گا اور یہ موت کے منہ میں چلی جائے گی۔‘‘
اہلکاروں کو چڑیا بچانے کے لیے طلب کر لیا گیا۔ جب سب لوگ اکٹھے ہو گئے تو شہباز خود کھمبے پر چڑھ گیا۔ اسے قریب آتا دیکھ کر چڑیا نے فوراً اڑنے کی کوشش کی۔ اس نے اپنی پوری طاقت لگا دی تھی جس کی وجہ سے اس کے پیروں میں الجھا ہوا دھاگہ ٹوٹ گیا اور اس کی جان تار سے چھوٹ گئی۔ ہر طرف حاکم شہباز کی ہمت اور رحم دلی کی دھاک بیٹھ گئی۔ سارے اہلکاروں نے اس کی بہادری کی تعریف کی اور چڑیا کی جان بچانے پر اسے داد و تحسین پیش کی۔

لوگ اپنے حاکم سے بہت خوش تھے۔ اکثر لوگ کہتے تھے، ’’جہاں انسانی جان کی کوئی پروا نہیں کرتا، وہاں ہمارا حاکم جانوروں کے لیے بھی پریشان ہو جاتا ہے۔‘‘
بستی کی ایک اچھی لڑکی سے اس کی شادی سرانجام پا گئی۔ وہ اسے پیار سے ملکہ رانی کہا کرتا تھا۔ اس کی بیوی بہت جلد ہی اس کی اصلیت جان گئی تھی۔ اسے پتہ چل گیا تھا کہ شہباز ولی نہیں ہے بلکہ پاگل شخص ہے۔ اسے یہ بھی علم ہو گیا تھا کہ شبو نے ولی اللہ بننے کے لیے کوئی سوانگ نہیں رچایا تھا بلکہ لوگوں نے اسے زبردستی اس مسند پر بٹھا دیا تھا۔
اسے یہ بھی علم تھا کہ اگر اس نے کسی کو یہ بات بتائی تو کوئی بھی اس کی بات ماننے پر تیار نہیں ہو گا کیونکہ بستی والے اس کی عقیدت میں ذہنی طور پر بالکل اندھے ہو چکے تھے۔ ایک دفعہ اس نے باپ سے زیرِ لب یہی گفتگو کرنے کی کوشش کی، ’’ابو! مجھے کس پاگل کے پلے باندھ دیا ہے آپ لوگوں نے؟‘‘
اس کا باپ یہ سن کر غصے میں آگ بگولہ ہو گیا، ’’بیٹی! توبہ استغفار کر، ابھی— اپنے عہد کے ولی اللہ کے بارے میں ایسی باتیں کہہ رہی ہو جو تمہارا مجازی خدا بھی ہے؟ کیوں خود پر اور اس بستی پر عذاب لانا چاہتی ہو؟‘‘
شہباز سارا دن حکومت کے کاموں میں مصروف رہتا اور شام ڈھلے گھر پہنچتا۔ ایک دن جب وہ تھکا ہارا گھر پہنچا تو بیوی نے روٹی دینے سے انکار کر دیا۔ وہ بولی، ’’میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ کسی عقیدت مند کے گھر سے جا کر روٹی کھا آئو۔‘‘
شہباز اسی وقت گھر سے باہر نکلا اور اہل کاروں کو فوراً بستی میں سرکاری تنور بنانے کا حکم صادر کیا تاکہ لوگ بیویوں کے استحصال سے محفوظ رہ سکیں۔ یہ تنور کچھ عرصہ چلے لیکن پھر بند کر دیے گئے کیونکہ حکومت کے پاس گندم ختم ہو گئی تھی۔
پاگل پن کی وجہ سے اس کی نیند کافی حد تک کم ہو گئی تھی۔ اکثر وہ آدھی رات کو گھر سے نکل جاتا اور بے مقصد گلیوں میں گھومتا رہتا تھا۔ بستی کے لوگوں نے کئی مرتبہ اسے آدھی رات کو آوارہ گھومتے دیکھا۔ پوری بستی میں یہ بات مشہور ہو گئی تھی کہ ہمارا حاکم اتنا رحم دل اور عوام سے محبت کرنے والا ہے کہ وہ رات کو بھی رعایا کی خبر گیری کے لیے گشت کرتا ہے۔
ایک بزرگ نے گلوگیر لہجے میں کہا، ’’خدا ایسا نیک حاکم سب کو دے۔‘‘
چند دیگر بزرگوں نے تائید میں’’ ’’آمین‘‘ کہا۔

اکثر وہ آدھی رات کو اہلکاروں کی میٹنگ کال کر لیتا اور کہتا، ’’میں نے آپ لوگوں کو اس وقت اس لیے زحمت دی ہے کہ بستی میں طوفان آنے والا ہے۔ فوراً حفاظتی اقدامات شروع کرو۔‘‘
ایک اہلکار نے کہا، ’’حضور! طوفان کے کوئی ایسے آثار تو دکھائی نہیں دے رہے۔‘‘
اس بات پر شہباز نے اسے غصے سے گھورا۔
ساتھی اہلکاروں کو شہباز کی ناراضی کا اندازہ ہو گیا تھا۔ انہوںنے حالات کو قابو میں کرنے کے لیے کہا، ’’حضور! ہم ابھی اقدامات شروع کرتے ہیں۔ جو کچھ آپ کی آنکھ دیکھ سکتی ہے، وہ ہم نہیں دیکھ سکتے۔‘‘
وہ طوفان سے نمٹنے کیلئے کئی دفعہ آدھی رات کو میٹنگ بلا چکا تھا لیکن خوش قسمتی سے ابھی تک ایسا کوئی طوفان نہیں آیا تھا۔
بستی کے اکثر سکولوں کی چھتیں گرنے والی تھیں۔ ہسپتال ویران پڑے تھے۔ سڑکیں ٹوٹی پھوٹی تھیں لیکن شہباز کو ان چیزوں کی بالکل پروا نہیں تھی۔ وہ سکول اور ہسپتال کو ٹھیک کرنے کی بجائے گدھا گاڑیوں کے گزرنے کے لیے گھروں کے اوپر سے راستے بنوا رہا تھا تاکہ مویشیوں تک چارہ بغیر کسی رکاوٹ کے پہنچایا جا سکے— اس بات پر اس کے حسنِ انتظام کے چرچے ہونے لگے۔
بستی میں غربت، بدامنی اور بیروزگاری بڑھ گئی تھی لیکن لوگوں کو سب کچھ ہرا ہی ہرا نظر آ رہا تھا کیونکہ اکثر لوگوں کو اس نے نیم پاگل کر دیا تھا۔ سارے لوگ کسی معجزے کی امید میں خوش رہتے تھے۔
بستی میں چند لوگ ہی عقل مند رہ گئے تھے جو شہباز کے خلاف آواز اٹھاتے تھے لیکن لوگ انہیں پاگل پاگل کہہ کر پتھر مارتے تھے۔

 

 

حوصلہ



پرندوں کی اپنی دنیا، اپنا الگ جہان ہوتا ہے۔ ان کی رنگ برنگیاں بولیاں ہوتی ہیں۔ اپنی محبتیں، اپنے قوانین اور اپنی فضائیں ہوتی ہیں۔ لیکن ان کی دنیا کو انسان سمیت کوئی اور نہیں سمجھ سکتا—
انسان تو بس اپنے فائدے کی نظر سے دیکھتا اور سوچتا ہے۔
مغربی علاقے کے جنگل میں دریا کنارے پرندوں کی ایک بھرپور دنیا آباد تھی۔ جنگل کے ایک کنارے پر دریا واقع تھا جبکہ دوسرے کنارے پر ایک خوبصورت اور وسیع پہاڑی سلسلہ سر اٹھائے کھڑا تھا۔ پہاڑوں کی چوٹیاں انواع و اقسام کے درختوں اور رنگ برنگے پھولوں سے ڈھکی ہوئی تھیں۔ جنگل کا ایک زیادہ گھنا حصہ تھا جس میں جانور رہتے تھے جبکہ دریا کنارے ایک کم گھنا حصہ تھا جہاں درختوں پر پرندوں نے گھونسلے بنائے ہوئے تھے۔
ایک طرف گھنے جنگل میں جانوروں کی دنیا آباد تھی— جہاں ہر طرف نفرت کا راج تھا— جہاں طاقت ور جانور ہر وقت کمزور جانوروں کی تاک میں رہتے تھے۔ کمزور جانور ہمیشہ خوف کا شکار رہتے تھے اور جب بھی باہر نکلتے تو غول کی شکل میں چلتے لیکن پھر بھی کچھ جانور یا ان کے معصوم بچے شیروں کی بھوک کی بھینٹ چڑھ جاتے تھے۔ جانوروں کی آپس کی لڑائیاں ہر وقت جاری رہتی تھیں— جانوروں میں ہر وقت مقابلہ جاری رہتا تھا۔ کبھی خوراک کے لیے آپس میں خونی جنگ لڑتے تو کبھی علاقے پر قبضے کا معاملہ درپیش ہوتا۔ عمومی طور پر طاقتور جانور کمزور جانوروں کے علاقوں پر قبضہ کر کے انہیں بھگا دیتے تھے۔ جانوروں کے درمیان نہ ختم ہونے والی اس لڑائی کا آغاز بہت پہلے ہوا تھا— ہزاروں سال پہلے—
دوسری طرف پرندوں کی دنیا بہت خوبصورت اور پرامن تھی۔ جہاں نہ نفرت کا کوئی گزر تھا اور نہ دشمنی کی کوئی گنجائش۔
پرندے نہ تو ایک دوسرے کا شکار کرتے تھے اور نہ ہی ایک دوسرے سے لڑائی کرتے تھے— ان کے درمیان علاقوں یا پیڑوں کی تقسیم کا بھی کوئی معاملہ درپیش نہیں تھا۔
سبھی پرندے کم و بیش برابری کے حامل تھے۔ نہ کوئی طاقت ور تھا اور نہ کوئی کمزور۔ ہر پرندہ صبح سویرے جنگل کے مختلف حصوں سے اپنی بھوک کے مطابق خوراک کھا آتا تھا اور اپنے چوزوں کے لیے اکٹھی کر لاتا تھا۔ وہ اسی پر قانع رہتا تھا۔ اگر کم پڑ جاتی تو خوراک کی تلاش میں پھر نکل کھڑا ہوتا تھا۔ کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ دانے دنکے کی تلاش میں کسی پرندے نے دوسرے کا گھونسلا ٹٹولا ہو۔
سارے پرندے مل جل کر رہتے تھے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد میں بھی شریک ہوتے تھے۔

صبح سویرے ہی پرندوں کی اٹکھیلیاں اور نغمے شروع ہو جاتے تھے۔ پرندوں کی دنیا شوخیوں سے معمور ہو جایا کرتی تھی۔ اوپر نیلے آسمان کی چھت، ہرے ہرے درخت، چاروں طرف مختلف رنگوں کے پھولوں کی بہار اور ان سے کھیلتی رنگ برنگی تتلیاں—
پرندوں کی اس دنیا میں محبت ہی محبت تھی۔ سارے پرندے مل کر گھونسلے بناتے تھے۔ جب کوئی پرندہ بیمار یا لاغر پڑ جاتا تو باقی پرندے اس کے لیے خوراک اکٹھی کر لایا کرتے تھے۔ جب تک وہ ٹھیک طرح سے اڑنے کے قابل نہیں ہوتا تھا، اس کے حصے کی خوراک اسے گھونسلے میں ہی ملتی رہتی تھی۔
پرندوں کی اس بستی کی خوش قسمتی تھی کہ وہ انسانوں کے شر سے بچے ہوئے تھے۔ انسان اس طرف شاذ و نادر ہی آتے تھے کیونکہ راستے میں گھنا جنگل پڑتا تھا جس میں خونخوار درندے رہتے تھے۔ کبھی کبھی جنگل سے فائرنگ کی خوفناک آوازیں آیا کرتی تھیں۔ ان آوازوں کی گونج سے تمام پرندے خوف زدہ ہو کر گھونسلوں میں گھس جایا کرتے تھے۔

’’ننھی‘‘ چڑیا نے اس رنگ برنگے ماحول میں آنکھ کھولی تھی۔ اس کے لیے اس کی ماں ہمیشہ پریشان رہتی تھی۔ اس کی کمزوری کی وجہ سے ہی دوسرے بچے اسے مذاق مذاق میں ’’ننھی‘‘ چڑیا کہا کرتے تھے۔ اس کی ماں اس کا بہت خیال رکھتی تھی۔ اس کے لیے دور دراز سے اچھی خوراک چن کر لاتی تھی۔ اسے سردی سے بچانے کے لیے اس نے گھونسلے کا منہ چھوٹا کر لیا تھا تاکہ ٹھنڈی ہوا کم سے کم گھونسلے میں داخل ہو۔ ماں کی مسلسل کوششوں سے اب اس کی صحت بہت بہتر ہو گئی تھی لیکن اس کے ساتھی اسے ابھی تک ننھی چڑیا ہی کہتے تھے۔
ماں اپنی ننھی چڑیا کو صحت مند دیکھ کر بہت خوش تھی لیکن اس کی یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی تھی۔ ننھی چریا اگرچہ بڑی ہو گئی تھی لیکن ابھی تک اُڑنے کے قابل نہیں تھی حالانکہ اس کی عمر کے دوسرے بچے روز اڑان بھرتے اور اپنے لیے دانہ چن کر لاتے تھے۔ ماں اس بات پر بڑی دل گرفتہ تھی۔ اس کے ذہن میں وسوسے اٹھتے، ’’ابھی تو میں زندہ ہوں۔ اس کے لیے خوراک کا بندوبست کر لیتی ہوں۔ اگر میں نہ رہی تو پتہ نہیں اس کا کیا ہو گا؟‘‘
وہ یہی سوچ کر ہلکان ہوتی رہتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ پرندے کی زندگی اڑان میں مضمر ہے اور نہ اُڑ سکنے کا مطلب ’’موت‘‘ ہوتا ہے۔ یہ اڑان اس کے لیے خوراک اکٹھا کرنے کا وسیلہ بھی تھی اور دشمن سے بچائو کا ذریعہ بھی۔
ماںاسے پیار سے ابھی تک ننھی چڑیا کہتی تھی۔اگرچہ وہ ابھی کافی بڑی ہو چکی تھی لیکن اس میں اڑنے کا حوصلہ پیدا نہیں ہو سکا تھا۔ روزانہ ماں اس کے لیے دانہ چن کر لاتی تھی— وہ دانہ دنکا کھا کر گھونسلے میں ہی پڑی رہتی تھی۔
ماں نے تو بہت خواب دیکھے تھے کہ میں جب بوڑھی ہو جائوں گی اور پرواز کے قابل نہیں رہوں گی تو میرا بچہ میرا سہارا بنے گا لیکن بچہ تو ابھی خود کسی قابل نہیں ہو سکا تھا۔
اس نے کئی دفعہ ننھی چڑیا کو اڑانے کی کوشش کی۔ تھوڑی سی بلندی پر جا کر چھوڑا لیکن وہ پر کھولے بغیر ہی زمین پر آ گری۔ اس عمل میں اسے کئی دفعہ معمولی سی چوٹیں بھی آئیں۔
پرندوں کی اس بستی میں بہت سارے تجربہ کار پرندے موجود تھے۔ ہر کسی نے اپنی بساط اور تجربے کے مطابق مشورے دیے— ایک بوڑھی فاختہ نے اسے مشورہ دیا، ’’ساتھ کی وادی میں کالے گلاب بکثرت ہیں۔ جا کر ان کی پتیاں لے آئو اور اسے کھلائو۔ امید ہے کہ اس سے افاقہ ہو گا۔‘‘
بے چاری چڑیا کئی دن کا سفر کر کے کالے گلاب کی پتیاں لے آئی اور سے کھلائیں لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا۔ کسی نے مکئی کے دانے کھلانے کا مشورہ دیا تو کسی نے آم کا رس پلانے کا کہا۔ لیکن تمام حربے ناکام ثابت ہوئے۔
ننھی چڑیا ابھی تک معذوروں کی طرح گھونسلے میں پڑی ہوئی تھی۔ اس کے ہم عمر ساتھی کبھی اس پر طنز کے تیر چلاتے تو کبھی اسے اڑنے کے لیے ترغیب دیتے، ’’دیکھو! فضا اور نیلا آسمان بہت خوبصورت ہے۔ دریا کے اوپر اڑنے کا اور کبھی ہلکی پھلکی ڈبکی لگانے کا اپنا مزا ہے۔‘‘
اپنے ہم عمر ساتھیوں کی باتوں سے ننھی چڑیا کے دل میں جوش و ولولہ ضرور پیدا ہوتا۔ وہ حسرت سے نیلے آسمان کو دیکھتی لیکن اڑنے کا حوصلہ پھر بھی اس میں پیدا نہ ہوتا۔
ایک بزرگ چڑیا ایک دن اس کے گھونسلے میں آئی اور ننھی چڑیا کا بغور معائنہ کیا۔ پھر فکر مندی سے بولی، ’’مجھے تو اس کے پر کمزور لگتے ہیں۔ تم اسے سنیاسی بابا کے پاس لے جائو۔‘‘
چڑیا نے فکرمندی سے کہا، ’’کون سے سنیاسی بابا کے پاس لے جائوں اس کو؟؟
بزرگ چڑیا نے کہا، ’’سنبل وادی میں ایک سنیاسی بابا رہتا ہے۔ سنا ہے وہ ہر طرح کی بیماری کا علاج کر کے پرندوں کو اڑنے کے قابل بنا دیتا ہے۔‘‘
وہ ننھی چڑیا کو اپنی ایک ساتھی چڑیا کی مدد سے سنبل وادی میں لے گئی اور سیدھی سنیاسی بابا کے آستانے جا پہنچی۔ سنیاسی بابا نے ننھی چڑیا کا مکمل معائنہ کیا، پر کھول کر دیکھے، ٹانگیں چیک کیں اور فضا میں چھوڑ کر بھی دیکھا۔ پھر مسکراتے ہوئے بولا، ’’اس میں جسمانی لحاظ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ پر مضبوط ہیں۔ ٹانگیں بھی صحت مند ہیں۔‘‘
چڑیا پریشانی کے عالم میں بولی، ’’بابا! اگر یہ صحت مند ہے تو پھر مسئلہ کیا ہے؟ یہ اڑتی کیوں نہیں؟‘‘
سنیاسی بابا نے کہا، ’’یہ بس خوف کا شکار ہے۔ اس کا خوف اس کی ماں ہی دور کر سکتی ہے لیکن پھر بھی ایک طاقت کی دوائی دے رہا ہوں۔ کچھ دن اسے کھلائو۔‘‘
وہ باقاعدگی سے اُسے سنیاسی بابا کی دوائی دینے لگی۔ ساتھ ساتھ وہ اور اس کے ساتھی پرندے اس میں حوصلہ پیدا کرنے کی کوشش کررہے تھے، ’’دیکھو! پرواز کے دوران آج تک کوئی پرندہ گر کر نہیں مرا البتہ بھوک سے بہت سے پرندے مر جاتے ہیں۔‘‘
لیکن یہ سب تدبیریں ناکام ہو گئیں۔ ننھی چڑیا نے بھی قسم کھا لی تھی کہ پر نہیں کھولنے۔
چڑیا اپنے بچے کی پرواز کے لیے ہر قسمی جتن کر رہی تھی۔ کوئی بھی اسے امید کی ہلکی سی کرن دکھاتا، وہ وہاں چلی جاتی۔ ایک تیتر نے اسے مشورہ دیا، ’’مجھے اس کی ٹانگیں کمزور لگتی ہیں۔ تم اسے کسی اچھے سے حکیم کے پاس لے جائو اور اس کے لیے دوائی لائو۔‘‘
وہ گرتی پڑتی ایک مشہور حکیم کے پاس ننھی کو لے کر پہنچ گئی۔ وہاں لوگوں کا کافی ہجوم تھا۔ ایک بزرگ حکیم تشریف فرما تھے— ان کی لمبی سفید داڑھی اور چمکدار بال تھے۔ آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں۔
حکیم صاحب نے ننھی کا اچھی طرح معائنہ کیا ۔ اس کے پر اور ٹانگیں ٹٹول کر دیکھنے کے بعد کہا، ’’اس کی ٹانگیں اور پر بالکل ٹھیک ہیں۔ کوئی نقص یا بیماری نہیں ہے۔ البتہ یہ ابھی تک استعمال نہیں ہوئے، اس لیے بقیہ جسم سے نسبتاً کمزور ہیں۔ اگر ان کو استعمال میں لایا جائے تو یہ درست ہو جائیں گے۔‘‘
حکیم صاحب نے سمجھا کر دوائی دی اور چڑیا کو رخصت کر دیا۔
چڑیا اپنی ننھی کو باقاعدگی سے دوائی دینے لگی۔ ساتھ ہی حکیم کے مشورے کے مطابق اس کی ورزش کرانے لگی۔
چڑیا روز لمبا سفر کر کے دور دراز کے علاقوں سے اس کے لیے حکیم کی تجویز کردہ خوراک اکٹھی کر لاتی تھی اور باقاعدگی سےاسے کھلاتی تھی۔ اس کے ساتھ ہی وہ ننھی چڑیا کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اسے پرواز کے خوب صورت واقعات اور ارد گرد کی وادیوں کے دل کش مناظر کے بارے میں بتایا کرتی تھی، ’’آج میں اُڑتے اُڑتے بادلوں میں گھس گئی تھی۔ کیا خوبصورت منظر تھا — بادلوں میں پانی کی پھوہار اور خوشبو دار ہوا سفر کر رہی تھی۔‘‘
اس دوران اس نے کئی مرتبہ ننھی چڑیا کو اڑانے کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔
ایک دن اس کا ایک دوست طوطا اس سے ملنے آیا۔ چڑیا نے اسے اپنی پریشانی سے آگاہ کیا اور اس سے مشورہ چاہا۔ طوطا بولا، ’’یہاں سے مغرب کی طرف نیلے پہاڑوں کے دامن میں ایک بزرگ رہتا ہے۔ میں کافی عرصہ اس کے ساتھ رہا ہوں۔ اس کے آستانے پر ہر وقت ضرورت مندوں کا جھمگٹا لگا رہتا ہے۔ میں نے وہاں سے کسی کو مایوس واپس جاتے نہیں دیکھا۔ میرا مشورہ ہے کہ تم اس کے پاس جائو۔‘‘
چڑیا بے چاری ننھی چڑیا کو لے کر بابا کے پاس بھی جا پہنچی۔ وہاں لوگوں کی بھیڑ لگی ہوئی تھی۔ طوطے کے تعاون سے وہ بہت جلد بزرگ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔ بزرگ نے اچھی طرح اس کی ٹانگوں اور پروں کا معائنہ شروع کیا۔ اس دوران وہ آنکھیں بند کر کے کچھ دیر کے لیے استغراق میں ڈوب گیا پھر اس نے آنکھیں کھولیں اور کچھ پڑھ کر اس پر دم کر دیا۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ بولا، ’’اس میں جسمانی طور پر کوئی بھی نقص نہیں ہے۔‘‘
چڑیا نے بے چینی سے دریافت کیا، ’’پھر مسئلہ کیا ہے؟ یہ اڑتی کیوں نہیں ہے؟‘‘
بزرگ بولا، ’’اس میں حوصلے کی کمی ہے۔ فضا میں جانے سے ڈرتی ہے۔ بلندی سے خوف کھاتی ہے۔ بس اس میں کسی طرح حوصلہ پیدا کرو۔ اس کے لیے میں نے دم بھی کر دیا ہے۔‘‘
چڑیا نے پریشانی سے کہا، ’’میں اس میں حوصلہ کیسے پیدا کر سکتی ہوں؟‘‘
بزرگ نے مسکرا کر کہا، ’’اس کا دانہ پانی بند کر دو۔ اس کو بھوکا رکھو۔ یہ زندگی بچانے کے لیے ضرور اڑنے کا حوصلہ اپنے اندر پیدا کرے گی۔‘‘
چڑیا ابھی تک مخمصے میں تھی۔ بولی، ’’اگر پھر بھی نہ اڑ سکی تو؟‘‘
بزرگ نے آنکھیں بند کیں، جیسے کچھ سوچ رہا ہو، پھر بولا، ’’بھوک ہر ذی روح کے لیے اہم ہوتی ہے۔ یہ بزدل کو بے غیرت بنا دیتی ہے جبکہ بہادر کو بے خوف کر دیتی ہے۔ تم اسے بھوکا رکھو۔ اگر پھر بھی یہ اڑنے کا حوصلہ نہ کرےتو اسے مرنے دو۔ دنیا کو ایسے بے حوصلہ پرندوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
چڑیا پریشانی میں اپنے گھونسلے میں واپس آ گئی۔ کچھ دن تو مامتا کے ہاتھوں مجبور ہو کر ننھی چڑیا کو خوراک دیتی رہی لیکن پھر اس نے بزرگ کی باتوں پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا — اسے گھونسلے میں اکیلا چھوڑ کر اس کا دانہ دنکا بند کر دیا۔
وہ اپنے اس بظاہر ظالمانہ عمل پر پریشان تو تھی لیکن مجبوری سمجھ کر ایسا کر رہی تھی۔ اپنی مامتا کے ہاتھوں مجبور ہو کر چوری چھپے ننھی چڑیا کا ردعمل دیکھ رہی تھی۔
ننھی چڑیا خوراک کی کمی کی وجہ سے بتدریج کمزور ہوتی جا رہی تھی۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر چڑیا کی مامتا تڑپی مگر دل پر قابو رکھنا ضروری تھا۔
ایک دن وہ سورج غروب ہونے سے پہلے گھونسلے میں آئی تو ننھی چریا غائب تھی۔ وہ بہت پریشان ہوئی۔ اس کے دل میں بہت سے وسوسے اٹھے۔ وہ بے چینی سے ادھر اُدھر اڑنے لگی۔
وہ اس کی تلاش میں دریا کنارے پہنچی۔ اچانک اس کی نظر ننھی چڑیا پر پڑ گئی۔
وہ اڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ تھوڑا سا اڑتی، اوپر جاتی پھر گر جاتی۔ پھر دوبارہ اڑنے کیلئے پر تولتی۔
چڑیا دلچسپی سے ننھی چڑیا کی کوششِ پرواز کو دیکھ رہی تھی اور دل ہی دل میں اس کے کامیاب ہونے کی دعائیں مانگ رہی تھی۔
ننھی چڑیا نے کئی دفعہ اڑنے کی کوشش کی۔ ہر بار تھوڑا اوپر جا کر گر جاتی۔ آخر کار وہ پرواز کرنے میں کامیاب ہو گئی۔
چڑیا کی آنکھوں میں مارے خوشی کےآنسو آ گئے۔ اس کے ذہن میں بزرگ کے یہ الفاظ گونجنے لگے، ’’بھوک بزدل کو بے غیرت اور بہادر کو بے خوف کر دیتی ہے۔‘‘
اسے خوشی تھی کہ اس کی ننھی چڑیا غیرت مند اور بہادر ثابت ہوئی تھی اور آسمان کی وسعتوں میں پرواز کرنے کے لائق ہو گئی تھی۔

 

فلسفہءِ تقسیم



کبیر والی چند گھروں پر مشتمل ایک گائوں تھا۔ گائوں کے چاروں طرف سرسبز لہلہاتے کھیت واقع تھے جبکہ آبادی اندر کی طرف تھی۔
گائوں کا داخلی راستہ اگرچہ کچا تھا لیکن پہلی دفعہ اس میں داخل ہونے والاآس پاس کے لہلہاتے کھیت دیکھ کر یہی اندازہ لگاتا تھا کہ گائوں میں بہت خوش حالی ہے۔ گائوں کی زمین بہت زرخیز تھی۔ گائوں کے گنے اور اس سے تیار کردہ گڑ کی شہرت دور دراز تک پھیلی ہوئی تھی— جابجا آم اور مالٹے کے باغات بھی لگے ہوئے تھے۔
جب بھی کوئی نیا مسافر گائوں میں آتا تو ارد گرد کی ہریالی دیکھ کر گائوں والوں کی قسمت پر بے اختیار رشک کرتا تھا۔ لیکن جوں جوں وہ اندر آبادی والے حصے کی طرف بڑھتاتو غربت کے بتدریج بڑھتے ہوئے آثار دیکھ کر حیران و پریشان ہو جاتا تھا۔
میلے کچیلے اور پھٹے پرانے کپڑے پہنے بچے جابجا کھیلتے نظر آتے۔ ننگ دھڑنگ بچوں کی نکلی ہوئی ہڈیاں اور بہتی ہوئی ناک گائوں میں رہنے والوں کی غربت کو آشکار کرتی تھی۔ کسی درخت کے نیچے کوئی مفلوک الحال بڈھ حقہ پیتا دکھائی دیتا تو کوئی بری طرح کھانستا ہوا نظر آتا۔
گائوں کی بے ترتیب گلیوں، کچے اور بوسیدہ مکانوں کی ہر چوکھٹ سے غربت جھانکتی تھی۔ اکثر گھروں کے دروازے ٹوٹے ہوئے تھے جن کی ٹین ڈبوں سے مرمت کی گئی تھی— ویسے بھی گھروں کے اندر تھا ہی کیا، جس کی حفاظت کے لیے دروازوں کی ضرورت ہوتی۔
اکثر گلیاں گھروں سے نکلنے والی غلاظت سے بھری رہتی تھیں جن میں بچے کھیل کر خوش ہوتے تھے۔ گھروں کے مکین تو عادی ہو چکے تھے لیکن باہر سے آنے والے تعفن کو محسوس کرتے تھے۔ سرخی بہت ہی کم چہروں پر دکھائی دیتی تھی۔ اکثر لوگوں کے چہرے پیلے زرد تھے جیسے زندگی کی رمق سے خالی ہوں۔
یہاں کی عورتیں بھی بہت محنتی تھیں۔ اکثر بوسیدہ دوپٹے پہنے کھیتوں میں کام کرتی دکھائی دیتی تھیں۔
یہ بھی نہیں تھا کہ گائوں میں صرف غربت تھی، ایک طرف کچے اور بوسیدہ مکانات غربت کی نمائندگی کررہے تھے تو دوسری طرف بلند و بالامحل نما مکانات امارت کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ یہ غربت اور امارت کی وہ لکیر تھی جو انسان نے خود کھینچی تھی۔ یہ لکیر دنیا میں ہر کہیں دکھائی دیتی ہے لیکن اس گائوں میں تو اس کی ستم گری دیکھنے کے لائق تھی۔
جہاں بستی کا کچا راستہ ختم ہوتا تھا، وہیں ایک خوبصورت پکی سڑک شروع ہو جاتی تھی۔ اس سڑک کے آس پاس ترتیب سے ٹاہلی اور سفیدے کے درخت لگے ہوئے تھے۔ کچھ درختوں پر خوب صورت بیلیں بھی چڑھی ہوئی تھیں۔
یہ پکی سڑک گائوں کے بلاشرکت غیرے مالک سیٹھ مجدد کے گھر کی طرف جاتی تھی۔ یہاں سیٹھ مجدد اور اس کے خاندان کے خوبصورت محل نما مکانات تعمیر شدہ تھے۔ سب سے اونچا مکان سیٹھ مجدد کا تھا جو گائوں میں دور سے ہی نظر آتا تھا۔ اس گائوں کی ساری زمینیں سیٹھ اور اس کے خاندان کی ملکیت تھیں۔
سیٹھ مجدد کا خاندان تین نسلوں سے اس گائوں کا مالک چلا آ رہا تھا۔ سیٹھ کا والد بھی بڑا جابر جاگیردار واقع ہوا تھا۔
وہ اکثر اپنے بیٹوں سے کہا کرتا تھا، ’’غریب محبت کی زبان سے ناواقف ہوتا ہے۔ وہ اس زبان کو نہ تو سمجھتا ہے نہ اس سے قابو میں آتا ہے۔ سرداری قائم رکھنے کے لیے اور غریبوں سے کام لینے کے لیے جبر بہت ضروری ہے۔‘‘
اپنے باپ کی وفات کے بعد وہ خاندان کا سربراہ بنا۔ اس نے اپنے باپ سے بھی زیادہ ترقی کی۔ اس نے شہر میں کئی فیکٹریاں لگا لی تھیں۔ ان فیکٹریوں کی وجہ سے اس کے نام کے ساتھ ’’سیٹھ‘‘ کا لفظ چپک گیا تھا۔

سیٹھ مجدد اپنے محل نما مکان میں بیوی اور دو بیٹوں کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کے محل کا داخلی دروازہ بہت بڑا تھا جس کے دونوں طرف بڑے بڑے برج بنے ہوئے تھے۔ ان برجوں پر ہر وقت محافظ بیٹھے رہتے تھے۔ وہ گائوں میں جب جلوس کی شکل میں نکلتا تو لوگوں پر ہیبت طاری ہو جاتی تھی۔
گائوں کے سبھی لوگ ہی اس کے مزارعے تھے۔ لوگوں کے کچے مکانات سیٹھ مجدد کی زمین پر بنے ہوئے تھے۔ وہ نہ صرف انہیں کسی بھی وقت اپنی زمین سے جواب دے سکتا تھا بلکہ اپنی زمین پر بنے ہوئے کچے گھروں سے نکال بھی سکتا تھا۔
سیٹھ بہت ہی عیاش بندہ تھا۔ اکثر خدمت کے نام پر غریب مزارعوں کی لڑکیوں کو طلب کر لیا کرتا تھا۔ کسی میں یہ جرات نہ تھی کہ اسے انکار کر دیتا۔
گائوں پر سیٹھ مجدد کی بلاشرکت غیرے حکومت قائم تھی اور اسے چیلنج کرنے والاکوئی نہیں تھا۔ سوائے ’’غریب نواز‘‘ کے جو گائوں کا ایک عجیب و غریب کردار تھا۔
گائوں میں غریب نواز کا والد وہ واحد شخص تھا جس کی سیٹھ کے علاوہ گائوں میں تھوڑی سی زمین تھی۔ اس وجہ سے وہ سر اٹھا کر چلتا تھا اور یہ بات سیٹھ مجدد کو بالکل پسند نہیں تھی۔
گائوں میں کوئی سکول نہیں تھا۔اس لیے اس نے اپنے بیٹے غریب نواز کو تعلیم کے حصول کے لیے شہر بھیج دیا تھا۔ اس کے اس عمل پر بھی سیٹھ بہت برہم ہوا تھا۔ اس نے غریب نواز کے والد سے کئی بار زمین ہتھیانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔
ایک دن سیٹھ نے غریب نواز کے والد کی زمین پر قبضہ کر کے اسے غائب کر دیا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اسے زمین کھا گئی تھی یا آسمان نگل گیا تھا۔ اس ناگہانی آفت کے نتیجے میں ناچار غریب نواز گائوں آ گیا۔ اب اس کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔
چونکہ وہ شہر سے پڑھ کر آیا تھا، اس لیے عجیب و غریب اور فلسفیانہ باتیں کرتا تھا جس کی گائوں کے عام لوگوں کو سرے سے سمجھ نہیں آتی تھی۔ اس وجہ سے لوگوں نے اسے پاگل کہنا شروع کر دیا تھا۔
گائوں میں سیٹھ کے خاص مصاحبین کے علاوہ کسی کی عزت نہیں تھی۔ سب مزارعے غلاموں کی سی زندگی گزارتے تھے۔
سیٹھ کے مصاحبین میں سب سے اہم ’’مولوی ابراہیم‘‘ تھا جو گائوں کی اکلوتی مسجد کا امام تھا۔ یہ منکر نکیر کا کام بھی سرانجام دیا کرتا تھا۔ مسجد کے ساتھ ہی سیٹھ نے اسے اچھا سا گھر بنا کر دیا ہوا تھا جس میں وہ ٹھاٹ باٹ سے رہتا تھا۔ اس کا تین وقت کا کھانا سیٹھ کے گھر سے آیا کرتا تھا۔
وہ گائوں میں دم درود اور تعویذ کا کام بھی کرتا تھا۔ وہ غریب مزارعوں کو روزی میں برکت کے تعویذ لکھ کر دیا کرتا تھا جس سے غریب لوگوں کی روزی میں تو خیر کیا اضافہ ہونا تھا، اس کی اپنی روزی میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا تھا۔
سیٹھ اگرچہ رنگین مزاج شخص تھا، لیکن لوگوں کے سامنے بڑا مذہبی بن کر رہا کرتا تھا۔ اس نے چھوٹی چھوٹی داڑھی بھی رکھی ہوئی تھی۔ دکھاوے کے لیے چندہ اور خیرات بھی دیتا رہتا تھا۔ وہ میلاد اور ذکر کی محفلیں بھی منعقد کراتا رہتا تھا۔ اکثر اپنے گھر پر ختمِ قرآن شریف اور لنگر کا اہتمام بھی کرتا تھا جس میں مولوی ابراہیم پیش پیش ہوا کرتا تھا۔
سیٹھ مجدد سیاست میں حصہ لیتا تھا۔ اس لیے اپنا کردار بہتر ظاہر کرنے کے لیے مولوی ابراہیم کو استعمال کرتا تھا۔
گائوں میں ہونے والے ہر قل، جنازے وغیرہ میں وہ سیٹھ کی نیکیوں اور پرہیز گاریوں کے قصے سنایا کرتا تھا۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا، ’’میں نے بہت کم دیکھا ہے کہ سیٹھ صاحب نے تہجد کی نماز چھوڑی ہو۔ چوری چھپے نہ جانے وہ کتنے یتیموں اور بیوائوں کی مدد کرتے ہیں۔‘‘
وہ گائوں میں ہونے والے پروگراموں میں بڑے رقت آمیز انداز میں سیٹھ کی درازیءِ عمر کی دعا کرتا تھا، ’’اللہ تعالیٰ سیٹھ صاحب کو لمبی عمر عطا کرے اور ان کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے۔‘‘

گائوں کے لوگوں کی زندگی میں محنت اور مشقت کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ وہ کولہو کے بیل کی طرح ایک دائرے میں عمر بھر گھومتے رہتے تھے۔ ان کی زندگی میں تفریح نام کی بھی کوئی شئے نہیں تھی۔ ان کی سب سے بڑی تفریح شام کو مسجد میں مولانا ابراہیم کی نصیحت بھری باتین سننا تھا۔
گائوں میں کوئی سکول تھا نہ گائوں والوں نے کہیں سے تعلیم حاصل کر رکھی تھی۔ ان غریبوں کے تمام تر علم کا انحصار مولوی ابراہیم کی دانش بھری گفتگو پر ہی تھا۔ اس کی باتوں اور تعویذوں سے غریبوں کی مشکلات تو کم نہیں ہوئی تھیں البتہ ان کے دل کی تسلی ضرور ہو جایا کرتی تھی۔
مولوی ابراہیم لوگوں کو خاص طور پر صبر کرنے کی تلقین کرتا تھا اور صبر کے فضائل بیان کرتا تھا۔ یہ الگ بات تھی کہ مولوی کا خود صبر سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ کھانے کے لیے ہمیشہ بے صبری کا مظاہرہ کیا کرتا تھا۔ اس کا بڑھا ہوا پیٹ اس کی بے صبری اور خوش خوراکی کی علامت تھا۔ کھانے کیلئے تو اس پر ’’پلٹنا، جھپٹنا، جھپٹ کر پلٹنا‘‘ والی مثال صادق آتی تھی۔
آج تک مولوی کے ارشادات پر کسی نے سوال نہیں اٹھایا تھا سوائے غریب نواز کے— جو اکثر مولوی کے ارشادات پر سوالیہ نشان ڈالتا رہتا تھا۔
مولوی ابراہیم غریب نواز کی ایسی باتوں پر سخت طیش میں آ جایا کرتا تھا۔ وہ کئی مرتبہ اس پر فتوے لگا چکا تھا اور سیٹھ مجدد سے بھی اس کی شکایت کر چکا تھا۔ سیٹھ مجدد بھی اپنے کارندوں کے ذریعے کسی نہ کسی بہانے سے کئی بار اس کی پھینٹی لگوا چکا تھا لیکن غریب نواز تھا کہ ٹس سے مس ہونے کا نام تک نہیں لیتا تھا۔
ایک دن مولوی ابراہیم لوگوں کے بھوک کے بارے میں بتا رہا تھا، ’’یہ بھوک بھی خدا نے خود پیدا کی ہے۔ یہ خدا کی مصلحت ہے کہ کسی کو بھوکا رکھے اور کسی کو پیٹ بھر کر دے۔‘‘
اس کے بعد وہ بزرگوں کے قصے سنانے لگا کہ کیسے بھوک مٹانے کے لیے پیٹ پر پتھر باندھ لیا کرتے تھے۔ لوگ اس کی باتوں پر سبحان اللہ کے نعرے لگا رہے تھے۔ غریب نواز بھی اس محفل میں موجود تھا۔
وہ مولوی کی باتیں سن کر مسکرایا اور بلند آواز میں بولا، ’’مولانا! آپ نے بھوک کی فضیلت بہت اچھی طرح بیان کی ہے لیکن میں نے آپ کو اس فضیلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔‘‘
مولوی ابراہیم اس کی بات سن کر آگ بگولہ ہو گیا، ’’کافر ہو تم! بھٹکا رہے ہو لوگوں کو—‘‘
غریب نواز اس کے فتوے کو نظر انداز کر کے بولا، ’’تم لوگوں کو بھٹکا رہے ہو مولانا! کیوں جھوٹ بولتے رہتے ہو کہ غربت خدا نے پیدا کی ہے۔ اس گائوں میں تو غربت سیٹھ مجدد نے پیدا کی ہے۔ وہ گائوں کی ہر چیز پر سانپ بن کر بیٹھا ہوا ہے۔ تم اس کا ساتھ دے رہے ہو۔ اپنا اور سیٹھ کا پیٹ بھرنے کیلئے اور گائوں کے سب لوگوں کو بھوک پر خوش رکھنے کیلئے جھوٹے سچے فلسفے گھڑتے رہتے ہو۔‘‘
اب معاملہ مولوی کی برداشت سے یکسر باہر ہو گیا تھا۔ اس نے چند لوگوں کی مدد سے غریب نواز کو دھکے دے کر مسجد سے نکال دیا۔
غریب نواز بڑبڑاتا ہوا چل دیا، ’’تم خدا کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہو۔ لوگوں کو خدا کے گھر سے نکالتے ہو۔‘‘
پہلے تو گائوں کے لوگ غریب نواز کے ساتھ اچھی طرح پیش آیا کرتے تھے، لیکن جب سے مولوی ابراہیم اور سیٹھ مجدد نے اس پر کفر کے فتوے لگائے تھے، تب سے لوگ اس سے شدید بدظن ہو گئے تھے۔ مڈبھیڑ ہونے پر کنی کترا کر نکل جایا کرتے تھے۔

سیٹھ مجدد ہر سال گائوں میں ایک عظیم الشان محفلِ میلاد منعقد کراتا تھا جس میں دور دراز سے علماء، ذاکرین اور نعت خواں تشریف لاتے تھے۔ یہ روایت سیٹھ کے والد کے دور سے تسلسل کے ساتھ چلی آ رہی تھی۔ سیٹھ مجدد نے اپنے باپ کی قائم کردہ اس روایت کو اسی تسلسل کے ساتھ قائم رکھا ہوا تھا۔ اس محفل کے انعقاد کی تمام تر ذمہ داریاں مولوی ابراہیم کے کندھوں پر ڈالی جاتی تھیں۔
اس دفعہ کی محفل میں تو لوگوں کا جم غفیر امڈ آیا تھا۔ پہلے نعت خوانوں نے خوب سماں باندھا۔ لوگ کیف و سرور اور جذب کی حالت میں مستغرق تھے۔ کچھ لوگوں کی تو آنکھوں میں آنسو جگمگا رہے تھے۔ حسبِ سابق آخر میں مولوی ابراہیم نے خطاب کیا۔
آج مولوی ابراہیم بھی خوب لہر میں تھا اور نیا بیان تیار کر لایا تھا۔ اس نے آج فلسفہ وحدت الوجود پر لمبا چوڑا بیان سنایا۔ خدا کی وحدانیت اس طرح بیان کی لوگ عش عش کر اٹھے۔ ہر طرف رقت انگیز مناظر تھے۔
پھر اس نے نیکی اور بدی کے فلسفے پر روشنی ڈالی اور برے لوگوں کو ان کے عبرت ناک انجام سے خبردار کیا۔ اکثر گناہ گاروں کی آنکھوں میں ندامت کے آنسو تھے۔ سیٹھ مجدد کی تو داڑھی آنسوئوں سے تر ہو گئی تھی۔ آخر میں مولوی ابراہیم نے ابدیت کا فلسفہ بیان کیا۔ جنت کی اس طرح منظر کشی کی کہ لوگ فرطِ شوق سے یکبارگی جنت کے مقدس اور دل آویز نظاروں میں کھو گئے—
سارے حاضرین مولوی کی باتوں پر سر دھن رہے تھے لیکن غریب نواز عقبی صف میں گم سم بیٹھا ہوا تھا۔ اسے مولوی ابراہیم کے وعظ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس کے گھر میں کئی دنوں سے فاقے تھے — وہ خیرات کے لالچ میں یہاں تک چلا آیا تھا۔
اچانک وہ کھڑا ہو گیا اور اس نے مولوی ابراہیم کو مخاطب کر کے بلند آواز میں کہا، ’’مولانا! پہلے تو میں آپ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ آپ نے اتنے مشکل اور خوب صورت فلسفے اس فصاحت سے بیان کیے کہ ہر کسی کی سمجھ میں آگئے۔ اسی طرح براہِ مہربانی ذرا فلسفہءِ تقسیم پر بھی روشنی ڈال دیں تاکہ ہمیں اس فلسفے کی بھی سمجھ آ جائے۔‘‘
مولوی ابراہیم نے پہلے تو اسے تیز نظروں سے گھورا پھر بولا، ’’تم نے بہت اچھا سوال کیا ہے۔ خدا کو رنگ، نسل، مذہب اور کسی بھی بنیاد پر تقسیم ناپسند ہے اور اسے ہی فلسفہ ءِ تقسیم کہا جاتا ہے۔‘‘
عیاں تھا کہ اس نے بات کو ٹالنے کی کوشش کی تھی مگر غریب نواز کا بلند قہقہہ مسجد میں گونج اٹھا۔ اس نے کہا، ’’مولانا! یہ امیروں کا فلسفہءِ تقسیم ہے، غریبوں اور بھوکوں کا فلسفہءِ تقسیم الگ ہوتا ہے۔ ہمیں اس فلسفے سے غرض ہے۔‘‘
مولوی ابراہیم کے ماتھے پر شکنوں کا جال پڑ گیا۔ وہ قدرے درشتی سے بولا، ’’پھر تم بتائو، فلسفہ ءِ تقسیم کیا ہوتا ہے؟‘‘
غریب نواز نے اسٹیج پر بیٹھے ہوئے مقررین اور حاضرین پر ایک نگاہ ڈالی، سب کے چہروں پر اس کے لیے نفرت اور استہزا عیاں تھا — یہ سب اسے کافر سمجھتے تھے، دیوانہ اور فاتر العقل خیال کرتے تھے— وہ بولا، ’’مولانا! فلسفہءِ تقسیم سے میری مراد ہے— آپ اور سیٹھ مجدد نے اندھا دھند دولت جمع کر رکھی ہے۔ عنقریب آپ دونوں کو زیادہ کھانے کے سبب بدہضمی ہونے والی ہے۔ بہتر ہے کہ کچھ مال و اسباب ان غریبوں میں بانٹ دیا جائے تاکہ نہ اپ بدہضمی کے مارے مریں اور نہ یہ بھوک کے سبب مریں۔‘‘
یہ بات سنتے ہی تمام حاضرین پر خوف آلود سناٹا طاری ہو گیا۔ یوں لگا جیسے کوئی قہرِ الٰہی نازل ہونے کو ہے۔ مولوی ابراہیم اور سیٹھ مجدد کے چہروں پر غصہ کے واضح آثار ثبت تھے۔
سیٹھ نے مولوی کے کان میں کچھ کہا۔ مولوی نے کچھ سوچا پھر بولا، ’’یہ ساری تقسیم خدا کی طرف سے ہے۔ کوئی امیر ہے، کوئی غریب— کوئی طاقت ور ہے تو کوئی کمزور— تم کون ہوتے ہو خدا کی تقسیم کی مخالفت کرنے والے؟ تم کافر ہو— مرتد ہو— تمہارا قصور بہت بڑا ہے— ناقابل ِ معافی ہے— تمہیں زمین پر رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘
مولوی ابراہیم کے منہ سے یہ نکلنا تھا کہ ہرطرف سے ’’کافر کافر‘‘ کی صدائیں ابھرنے لگیں۔ مجمع دیکھتے ہی دیکھتے بپھر گیا۔
لوگوں نے اسے مارنے پیٹنے کی کوشش کی—
کچھ نے پتھر مارے تو کچھ نے گالیوں تک اکتفا کیا۔
ایک غریب جولاہا جب اسے بڑا سا پتھر مارنے لگا تو غریب نواز نے ہاتھ اٹھا کر اسے روکا اور کہا، ’’بھائی! تم مجھے کیوں پتھر مار رہے ہو؟ میں نے سیٹھ کی دولت کی تقسیم کی بات کی ہے، تمہاری نہیں۔ سیٹھ کی دولت اگر تقسیم ہو گی تو تمہیں بھی فائدہ ہو گا۔‘‘
یہ بات سن کر جولاہے کا غصہ اور تیز ہو گیا۔ وہ چلا کر بولا، ’’نکل جائو یہاں سے— تم کافر ہو، کافر ہو اور آج میرے ہی ہاتھوں قتل ہو جائو گے۔‘‘
غریب نواز نے لوگوں کی آنکھوں میں اُترا ہوا خون دیکھ لیا تھا اس لیے اس نے عافیت اسی میں جانی کہ وہاں سے نکل جائے۔ وہ مجمع کے پتھروں سے بچتا بچاتا فصلوں کی طرف نکل کر آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔

کچھ دن بعد غریب نواز کی لاش سڑک کنارے پڑی تھی۔ اس کا بدن کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکا تھا ۔اس کی ٹکڑوں میں تقسیم شدہ لاش فلسفہءِ تقسیم کی عملی تفسیر پیش کر رہی تھی۔ اس کے مقتول جسم اور چہرے پر بھوک کی ظالم پرچھائیاں نقش تھیں۔
اس کی کھلی آنکھوں سے جھانکتی ہوئی اتھاہ غربت چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی، ’’میں کافر نہیں ہوں۔ میں بھوکا ہوں۔ میں بھوکا ہوں۔ مجھے دو وقت کی روٹی لا دو۔ مجھے فلسفہءِ تقسیم سے بھی کوئی تغرض نہیں، مجھے دو وقت کی روٹی لادو—‘‘
کافر کی لاش کے ٹکڑے اٹھانے کے لیے چند مسلمان ہاتھ آگے بڑھے اور سوال کرتی آنکھوں کو زمین برد کر آئے۔

 

روشنی



مجھے آتے ہی آقا نے اندھیرے میں دھکیل دیا تھا جہاں میرا ساتھی ایک پرانا غلام بھی موجود تھا۔
میں نے کہا، ’’یہاں بہت اندھیرا ہے۔ مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا۔ میرا دم گھٹ رہا ہے۔ میری رگِ جاں میں خوف سرایت کر گیا ہے۔ خدا کے لیے مجھے روشنی میں لے جائو— مجھے روشنی چاہیے — روشنی— روشنی—‘‘
غلام مسکرایا لیکن مجھے اندھیرے میں اس کی مسکراہٹ دکھائی نہیں دی۔
اس نے میرا خوف دور کرنے کے لیے بلند آواز میں قہقہہ لگایا اور بولا، ’’شروع میں مجھے بھی اندھیرے سے بڑا خوف آتا تھا۔ میری آنکھیں کچھ دیکھ نہیں سکتی تھیں ۔ میں ٹھوکر پر ٹھوکر کھاکر گر جاتا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ میں اندھیرے کا عادی ہو گیا— میرا خوف جاتا رہا۔ اب مجھے نہ تو ڈر لگتا ہے، نہ ٹھوکر لگتی ہے اور نہ چوٹ—‘‘
اس نےسگریٹ سلگانے کے لیے ماچس جلائی تو تھوڑی سی روشنی ہوئی جس سے مجھ میں کچھ حوصلہ پیدا ہوا۔ روشنی میں اس کا زرد، ہر طرح کے جذبات سے عاری چہرہ دکھائی دیا۔
اس نے سگریٹ کا ایک لمبا کش حلق میں اتارا اور کہا، ’’تمہیں ایک راز کی بات بتاتا ہوں۔ ابھی مجھے روشنی اچھی نہیں لگتی۔ میری آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔‘‘ اس نے ایک لمحہ توقف کیا، پھر سگریٹ کا ایک اور کش پھیپھڑوں میں اتارا اور کہا، ’’تم بھی اندھیرے کے عادی ہو جائو گے۔ میرا مشورہ ہے کہ تم روشنی کی تمنا دل سے نکال دو۔ ان روشنیوں کی خاطر زندگی تو تباہ نہیں کی جا سکتی ناں؟‘‘
میں اس کی باتیں سن کر شش و پنج میں پڑ گیا۔ میں نے سوالیہ انداز میں اسے مخاطب کیا، ’’لوگ روشنی کی تمنا کرتے ہیں۔ تم مجھے اندھیروں کا عادی ہونے کا مشورہ دے رہے ہو؟‘‘
میری بات سن کر اس نے وحشیانہ انداز میں طویل قہقہہ لگایا، ’’جلنا کوئی نہیں چاہتا، ہر کوئی جلانا چاہتا ہے۔ اس سگریٹ کی طرح— میں تمہیں اندھیروں کا عادی نہیں کرنا چاہتا لیکن وقت تمہیں ضرور اندھیروں کا عادی کر دے گا۔‘‘
اس کی باتوں نے مجھے ناامید کر دیا تھا۔ مجھ پر مایوسی اور قنوطیت چھا گئی تھی۔ وہ بھی خاموش ہو گیا تھا۔
پھر اس خاموشی کا طلسم دور سے گیدڑوں کی آنے والی صدائوں نے توڑ دیا۔ میں نے کہا، ’’ہم سے تو یہ بزدل گیدڑ اچھے ہیں۔ آزادی سے گھوم رہے ہیں۔‘‘
میری بات سن کر وہ گہری سوچ میں پڑ گیا۔ اس نے اپنا جھکا ہوا سر دفعتاً اٹھایا اور کہا، ’’یہاں قدر کسی چیز کی نہیں ہے۔ صرف منافع کی ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم مالک کے لیے منافع پیدا کر سکتے ہیں جبکہ گیدڑ کی خوش قسمتی ہے کہ وہ منافع پیدا نہیں کر سکتا۔ اگر وہ بھی منافع کا ذریعہ ہوتا تو مالک کی قید میں ہوتا۔‘‘
اس کی باتوں سے زندگی کا تجربہ جھلک رہا تھا۔
اس کے ناصحانہ انداز نے مجھے خاصا متاثر کیا تھا۔ میں نے افسردگی سے کہا، ’’جب سے مالک کی نوکری میں آیا ہوں، مجھے ذلت و رسوائی کا سامنا ہے۔ سارا دن محنت و مشقت کے بعد بھی مالک کی بک بک سننی پڑتی ہے۔ کبھی تو دو چار لاتیں بھی لگ جاتی ہیں۔ میں اس ذلت سے تنگ آ گیا ہوں۔‘‘
میری باتوں سے وہ لطف اندوز ہو رہا تھا۔ اس نے پھر اپنے مخصوص انداز میں کہا، ’’پرندہ جب نیا نیا پنجرے میں آتا ہے تو پھڑپھڑاتا ہے لیکن پھر مالک کی میٹھی میٹھی باتیں سن کر اور چوری کھا کر شانت ہو جاتا ہے— پھڑپھڑانا بھول جاتا ہے۔‘‘
اس نے تائید طلب انداز میں میری طرف دیکھا، پھر کہا، ’’تم ابھی نئے نئے پرندے ہو۔ پھڑپھڑا رہے ہو۔ مجھے بھی شروع میں بڑی ذلت محسوس ہوتی تھی لیکن اب اس کا عادی ہو گیا ہوں۔ تم بھی ایک دن عادی ہو جائو گے۔‘‘
وہ اپنی عمر کا کافی حصہ گزار چکا تھا۔ زمانے کے کئی سرد و گرم دیکھ چکا تھا جبکہ مجھ میں جوانی کا جوش سرگرداں تھا۔ جوش مار رہا تھا۔ میں نے پوچھا، ’’انسان ذلت و رسوائی کا کیسے عادی ہو سکتا ہے؟‘‘
میری بات سن کر اس نے استہزائیہ انداز میں قہقہہ لگایا، ’’جیسے غریب لوگ بھوک اور صبر کے عادی ہو جاتے ہیں— امیر ایک دن بھی بھوک برداشت نہیں کر سکتا جبکہ غریب لوگ صدیوں سے بھوک برداشت کرتے چلے آ رہے ہیں۔‘‘ وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا تھا، پھر اس نے سگریٹ سلگائی، کش لیا اور سلسلہءِ گفتگو جوڑا، ’’وقت ہر چیز کے معنی بدل دیتا ہے۔ طویل عرصہ ذلت و گمراہی میں رہنے والوں کے لیے عزت اور ذلت کا معیار بدل جاتا ہے۔ وہ اسی ذلت کو ہی عزت سمجھنے لگتے ہیں— جس کے وہ عادی کر دیے جاتے ہیں۔‘‘

تمت بالخیر

Viewers: 598

Share