محمد اشفاق مشفق | ظہور احمد فاتح کی شخصیت اور فن | جویائے دانش

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم جویائے دانش ( ابوالبیان ظہور احمد فاتح ، شخصیت اور فن) محمد اشفاق مشفقؔ فاتح پبلی کیشنز نیو کالج روڈ تونسہ شریف اگر فاتح سا مرشد […]

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

جویائے دانش
( ابوالبیان ظہور احمد فاتح ، شخصیت اور فن)
محمد اشفاق مشفقؔ

فاتح پبلی کیشنز نیو کالج روڈ تونسہ شریف

اگر فاتح سا مرشد ہو میسر
سفر ہو سہل تر حسنِ سخن کا
(مشفقؔ)

انتساب

دبستانِ فاتح کے نام

بہ گلشن برابر دبستانِ فاتح
در الفت فزوں تر دبستانِ فاتح
تلامیذِ فاتح نجومِ درخشاں
زِاُردو معطر دبستانِ فاتح
(مشفقؔ)

جملہ حقوق بحق مؤلف محفوظ ہیں

نام کتاب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جویائے دانش
مؤلف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد اشفاق مشفقؔ
کمپوزنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زین عزیز سیال
سیٹنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طارق احمد طارقؔ
پروف ریڈنگ۔۔۔۔۔۔۔۔ رحمان رضاؔ چغتائی ، شبیر ناقدؔ
اشاعت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۲۰ء
طابع۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیفی صدیقی پرنٹنگ پریس تونسہ شریف
قیمت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۵۰۰ روپے
03471020035

 

 

پیش لفظ

خالقِ کائنات صانعِ شش جہات اللہ رب العزت بے حد مہربان ہیں ۔ حضرتِ انسان سے تو وہ بے انتہا پیار کرتے ہیں اور اُسے مختلف خوبیوں سے نوازتے رہتے ہیں ۔ایسی ہی نوازشاتِ ایزدی میں ایک سوغات قلم بھی ہے۔ آدمی کا اہلِ قلم ہو جانا گویا اُسے ایک بڑا طغرائے تکریم عطا ہو جانا ہے جب انسان کو متاعِ لوح و قلم کا وارث بنا دیا جاتا ہے تو ہر میدانِ ادب اسے اپنی طرف بلاتا ہے ۔
بجا ہے ناز تسخیرِ قمر پر بھی مجھے لیکن
حبیبی حیَّ حیَّ کہہ کے مجھ کو کہکشاں چھیڑے
برادرم محمد اشفاق مشفقؔ اس لحاظ سے خوش نصیب ہیںکہ انھیں استادِ محترم ابوالبیان ظہور احمد فاتح صاحب کی خدمت میں زیادہ دیر باقاعدہ حاضری کے مواقع میسر آتے رہتے ہیں وہ استادِ جواد کے تبحرِ علمی و ادبی سے کماحقہ مستفیض و مستفید ہوتے رہتے ہیں پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ زیادہ وقت کی مقاربت شخصیت فہمی کے زیادہ مواقع فراہم کرتی ہے ۔
خدمتِ استاد میں جہاں دیگر شعبوں میں ہم سے آگے ہیں وہاں یہ بھی اعزاز انھیں حاصل ہے کہ اپنے مرشدِ ادب کے حوالے سے کام کرنے میں پیش پیش ہیں غالباََ کتاب ہٰذا اِس سلسلے کی تیسری اہم کاوش ہے جو منظرِ عام پر آیا چاہتی ہے ۔ قبل ازیں وہ خراجِ خلوص اور دبستانِ فاتح حصہ چہارم کے نام سے دو کتابیں منصۂ شہود پر لا چکے ہیں ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ شخصیت نگاری ایک بے حد مشکل کام ہے جسے بلوچی ضرب المثل کے مطابق سیخ پر مکھن پکانے کے امر سے تعبیر کیا جا سکتا ہے پھر حضرتِ ابوالبیان کے تخلیقی آفاق و اعماق کا احاطہ کرنا گویا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ ہمارے نزدیک مشفقؔ جی ہدیۂ تبریک کا استحقاق رکھتے ہیں کہ انھوں نے نہ صرف یہ کہ بڑی خوبصورتی اور نفاست سے زبان و بیان کے قرینے نبھائے ہیں بلکہ دیگر احباب کے ذاتِ مذکور کی نسبت سے لکھے گئے مضامین کو بھی سلیقے سے شاملِ کتاب کیا ہے جس سے کتاب جویائے دانش کی وقعت اور قدر و قیمت میں اور اضافہ ہو گیا ہے ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ کتاب کا نام شخصیتِ ممدوح کے مزاج و مذاق سے سو فیصد مناسبت رکھتا ہے کیوں کہ پروفیسر ظہور احمد فاتح کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا حصولِ علم و آگہی اور اکتسابِ عرفان و دانش ہی ہے کمال یہ ہے کہ انھوں نے عذرِ بصارت کے باوجود فتوحاتِ علمی و ادبی کا سلسلہ دراز رکھامدارجِ تحقیق میں پی ایچ ڈی تک جا پہنچے اور شعر و ادب کے وہ دریا بہائے کہ ان کے موجود قلمی مواد سے دو سو سے زیادہ شعری مجموعے تیار کیے جا سکتے ہیں اُن کے مرقوم اشعار کی تعداد ایک لاکھ سے متجاوز ہے اور نگارشات یعنی غزلیات و منظومات کی تعداد دس ہزار سے زوں ہے ہمارے خیال میں اتنا بڑا شاعر صدیوں میں کبھی پیدا ہوتا ہے ان کا اپنا ایک شعر ہے
مدتوں بعد جنم لیتے ہیں وہ دشت نورد
راستے جن کی کفِ پا سے چمک جاتے ہیں
ہمیں امید ہے کہ اُن کی یہ کاوش اصحابِ تحقیق و تنقید کے لئے بھی ایک سنگِ میل ثابت ہو گی کیونکہ جنابِ فاتح جیسے عظیم شاعر کے حوالے سے یقیناََ اصحابِ علم و ادب کاوش و تحقیق ناگزیر جانیں گے اور انھیں اس کے لئے کتبِ استفادہ کی بطور مراجع و مصادر ضرورت پڑے گی چنانچہ مشفقؔ صاحب کی یہ تالیف اِس سلسلے میں ان کے لئے بطور ماخذ چراغِ راہ کا کام دے گی۔ ہماری دعا ہے کہ ان کی یہ نگارش عند الناس مشکور اور عند اللہ ماجور ٹھہرے۔آمین ثم آمین
نادرؔ صدیقی۔ وہوا
۲۶ نومبر ۲۰۱۹ء ، صبح

 

اعتراف

تمام تعریفیں اللہ رب العزت کے لئے ہیں جس نے سب جہان تخلیق فرمائے ہیں اور انھیں شان دار نظام سے چلا رہا ہے ۔ خراجِ تحسین ہے اُس کے پیغمبرِ بر حق نبیٔ ختمی مرتبت حضرت محمدِ مصطفی احمدِ مجتبیٰﷺ کے لئے جس نے اللہ تبارک و تعالیٰ کا پیغام بصورتِ اسلام بے انتہا دکھ جھیل کر بنی نوعِ انسان تک پہنچایا بلکہ پہنچانے کا حق ادا فرما دیا۔ جس کے باعث انسانیت شائستگی اور تہذیب کی معراج کو پہنچی ۔ نیز خالق و مخلوق کے درمیان کبھی نہ ٹوٹنے والے تعلقات پیدا ہوئے ۔
توصیف و ستائش ہے ایسے اہلِ قلم حضرات کے لئے جن کی تحریریں عندالناس مشکور اور عنداللہ ماجور ٹھہریں ۔ جنھوں نے حق اور سچ لکھا محبت و موانست کا پیغام دیا اور وفا و رجولیت کے فروغ کے باعث بنے ۔ وہ شاعر ہوں یا ادیب ان کی نگارشات صواب و نا صواب میں حدِ فاصل کھینچتی رہیں اور لوگوں کے لئے صحیح سمت کا تعین کرتی رہیں ۔
ہمیں اعتراف ہے کہ عزیزم محمد اشفاق مشفقؔ نے جس محنت اور محبت سے کتاب ہٰذا رقم کی ہے اُس کی نگارشات صحت و صداقت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے ۔ اس تالیف میں نہ تو بے جا مبالغات سے کام لیا گیا ہے ، نہ مجاز کی رنگ آمیزی کی گئی ہے اور نہ بے جا تعریفات سے کام لیا گیا ہے ۔ ہمیں امید ہے کہ ان کی یہ کاوش اصحابِ تحقیق و تجسس کے لئے چراغِ راہ ثابت ہو گی اور ہماری دعا ہے کہ مالکِ حقیقی انھیں ہمیشہ حقیقت نگاری کی توفیقِ عمیق عطا فرمائے۔ یہ امر بھی باعثِ مسرت ہے کہ جن احباب کے شذرات شاملِ کتاب کیے گئے ہیں انھوں نے بھی کہیں جوشِ عقیدت میں غلو سے کام نہیں لیا بلکہ قرینِ حقیقت واقعات درج فرمائے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اِنھیں بھی جزائے خیر عطا فرمائے کہ انھوں نے قدر شناسی سے کام لیتے ہوئے بہت عمدہ تحریریں کتاب کے لئے نذر کی ہیں۔
ظہور احمد فاتح
۵ نومبر ، ۲۰۱۹ء بمطابق ۷ ربیع الاول ، ۱۴۴۱ ھ

پہلی ملاقات

زندگی ایک سفر ہے دورانِ سفر لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ کچھ ملاقاتیں حسبِ برنامج ہوتی ہیں اور کچھ ملاپ اتفاقی ہوتے ہیں ۔ ملاقاتوں کے کچھ نہ کچھ نتائج مرتب ہوتے ہیں ۔ کچھ نہ کچھ اثرات لازماََ مرتسم ہوتے ہیں ۔ اپنے اِس شذرے میں ہم مسافتِ حیات کی ایسی ہی کچھ ملاقاتوں کا تذکرہ کر رہے ہیں جو تونسہ شریف کی ایک معروف علمی و ادبی شخصیت سے گاہے گاہے ہوتی رہیں اور ہنوز ہوا کرتی ہیں ۔ یہ ملاقاتیں کچھ خاص وجوہ کی بنیاد پر ہمارے لئے بے حد اہمیت کی حامل ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہمارے قارئینِ کرام کے لئے بھی خالی از دلچسپی نہ ہوں گی ۔ اُس شخصیت کا نام ابوالبیان ظہور احمد فاتح ہے۔
اُن سے ملاقات کا سلسلہ کچھ یوں ہوا کہ مجھے اوائل عمر ہی سے شاعری کا بہت شوق تھا لیکن تخلیقِ سخن کا سلسلہ میٹرک کے اختتامی مہینوں سے آغاز ہوا۔ مجھے ایک استادِ محترم کی ضرورت تھی ۔ ایک مرتبہ جب میں نے پروفیسر بشیر احمد صاحب سے اِس کا ذکر کیا جو ہمیں اسلامیات پڑھاتے تھے اور اردو میں بھی یدِطولیٰ رکھتے تھے تو اُنھوں نے فرمایا ’’ آپ ظہور احمد فاتح کے پاس کیوں نہیں چلے جاتے؟ جو بذاتِ خود ایک اچھے شاعر ہیں اور بہت سے شاعروں کے استاد بھی ہیں‘‘ میں یہ بات سن کر بے حد خوش ہوا لیکن ایک مسئلہ یہ تھا کہ میں صرف آپ کا نام جان سکا تھا ۔ میرے ایک دوست نے جس کا نام امیر حمزہ ہے مجھے بتایا کہ میں فاتح صاحب سے پڑھتا رہا ہوں ۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ آپ نابینا ہیں مگر بڑے باہمت انسان ہیں اور انھوں نے مجھے فاتح صاحب کا پتہ بتا دیا ۔ دوسرے دن جب میں اُن کے پاس آیا تو کچھ سہما سہما سا تھا ۔ وہاں چند حضرات پہلے سے موجود تھے۔ میرے خیال میں اُن میں سے ایک صاحب شبیر ناقدؔ بھی تھے ۔ لیکن مجھے ایک بات موہوم سی ہمت دلا رہی تھی کہ چلو جناب نابینا ہیں ۔ جب میں آپ سے ملا تو آپ کے بولنے کا انداز ایسا تھا کہ میں نے سوچ لیا کچھ بھی ہو جائے شاعری کا استاد آپ کو بنانا ہے ۔ میں نے آپ کو بتایا کہ میں اصلاحِ کلام کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ میری قسمت اچھی نکلی کہ آپ نے بھی مجھے اپنا شاگرد بنا لیا۔ پہلے دن تو صرف تعارف چلتا رہا اور ساتھ ہی مجھ سے کلام سنانے کی فرمائش بھی کی گئی ۔ چنانچہ چند نگارشات میں نے روزِ اول پیش کیں۔ جب میں نے جناب سے اجازت لی اور باہر آیا تو بہت خوش تھا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ۔ بغرضِ اصلاح دوسرے دن فاتح صاحب نے میرے اشعار سماعت کئے اور اِن دو دنوںمیں میں نے یہ مشاہدہ کر لیا تھا کہ آپ عام لوگوں سے بھی زیادہ دیکھتے ہیں لہٰذا میرا وہ خیال غلط تھا کہ آپ کچھ نہیں دیکھ سکتے۔
اِسی طرح ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا ۔ میں نے معمول بنا لیا کہ کالج ٹائم اور اکیڈمی کے اوقات کے درمیان جو گھنٹے ، دو گھنٹے کا وقفہ تھا وہ اوقات باقاعدگی سے آپ کی خدمت میں حاضر رہ کر گزارتا تھا ۔ اگر کوئی تازہ کلام ہوتا تھا تو اُس کی اصلاح ہو جاتی ورنہ استاد محترم کا کوئی نہ کوئی کام مثلاََ کلام درج کرنا یا کمپوزنگ کرنا ہوتا رہتا تھا ۔ اس دوران میں میرے ذہن میں جو استفسارات یا سوالات ہوتے وہ بھی دریافت کرتا رہتا تھا اور ما شاء اللہ آپ پوری شرح و بسط سے جواب دیتے رہتے ۔ اسی طرح یہ سلسلہ جاری و ساری رہا۔ حسنِ کلام کے بارے میں بھی آپ وقتاََ فوقتاََ قیمتی ہدایات سے نوازتے رہے ۔ ہر اصلاح کے موقع پر کوئی نہ کوئی نیا نکتہ مجھ پر ضرور منکشف ہوتا۔
فاتح صاحب کے اوصاف

لگتا ہے کہ کاتبِ تقدیر نے فاتح صاحب کی تقدیر بھی سوچ سوچ کر رقم فرمائی ہے۔ میں حیران ہوں کہ آپ کے کون کون سے وصف کا تذکرہ کروں تاہم چند اوصاف حسبِ ذیل ہیں۔
جہاں تک میں نے محسوس کیا آپ نے کبھی کسی سے جھوٹ نہیں بولا۔آپ ہی کہتے ہیں کہ ’’ مومن میں کوئی بھی کمی کوتاہی ہو سکتی ہے لیکن جھوٹا کبھی نہیں ہو سکتا‘‘۔ آپ کو غصہ بہت کم آتا ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ۔ ہر وقت ہنستے مسکراتے رہتے ہیں اور دوسروں کے لئے بھی فرحتِ خاطر کا سامان کرتے ہیں ۔ بقول شاعر
دل بدست آور کہ حجِ اکبر است
میں نے کبھی آپ کو پریشان ہوتے نہیں دیکھا ۔ آپ کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی بھی ہے تو خندہ پیشانی سے اُس کا حل تلاش کر لیتے ہیں ۔ جس طرح خود پریشان نہیں ہوتے اُسی طرح کسی کی پریشانی برداشت بھی نہیں کرتے اور فوراََ اُن کی پریشانی کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ آپ ہمیشہ اپنی زندگی کو قرآن مجید اور سنتِ مطہرہ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ آپ نے کبھی جلبِ زر کو تعلق داری پر ترجیح نہیں دی ۔ اِس کے بارے میں مجھ سے بہتر کون جانتا ہے؟ آپ کے احسانات میں یہ احسان بھی شامل ہے کہ دولت سے زیادہ میں آپ کی زندگی میں معنی رکھتا ہوں ۔ میں آپ کا تہِ دل سے شکر گزار ہو ۔ ’کلیاتِ اقبال‘ جو میں نے آپ سے خریدی۔ میں نے جب اِس کی قیمت پوچھی تو آپ نے ایک ہزار بتائی میرے خیال سے اِس کی قیمت زیادہ ہونی چاہئے تھی۔ میں نے کہا یہ قیمت میںایک دم ادا نہ کر سکوں گا تو آپ نے فرمایا کہ’’ یہ ہم نے کب کہا کہ آپ ہمیں اِس کی قیمت ادا کریں ؟‘‘ میں نے قیمت ادا کرنے کی ضد کی تو پھر مشکل سے مان گئے اور فرمایا کہ’’ آپ کے پاس جتنی گنجائش ہو سکے تھوڑے تھوڑے کر کے جمع کراتے رہیں۔‘‘ جب جناب نے یہ الفاظ کہے میں خوش ہو گیا ۔ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ میری خوشی اُن کے نزدیک زیادہ اہمیت رکھتی ہے ۔
آپ ہمیشہ انسانوں کے جذبات کا خیال رکھتے ہیں ۔ فاتح صاحب نماز کے بڑے پابند ہیں۔ میں نے یہ کبھی نہیں سنا یا دیکھا کہ آپ نے کبھی کوئی نماز قضا کر دی ہو۔ آپ کو شروع سے شاعری کا بہت شوق تھا آپ کی دینی شاعری کا بڑا حصہ آپ کے شعری مجموعوں’ آئینۂ دل‘ ، ’تصویرِ کائنات‘ ،’ روح تیرے مراقبے میں ہے‘ ، ’سلام کہتے ہیں‘ ، ’چہرۂ ہستی ‘، ’متاعِ احساس‘ ، ’نقدِ شعور‘ اور ’نسیمِ حجاز‘ میں موجود ہے۔ یہ سب آپ کے عہدِ شباب کی شاعری ہے۔ علاوہ ازیں آپ نے مکمل قرآنِ مجید کا ادبی زبان میں نثری ترجمہ بھی کیا ہے اور اب قرآنِ مجید کا اردو ترجمہ نظمِ آزاد کی صورت میں ’مصحفِ منظوم‘ کے نام سے کر رہے ہیں۔ آپ کے اشعار کی تعداد ایک لاکھ سے متجاوز ہے۔ اتنے اشعار کسی شاعر نے تخلیق نہیں کئے ہوں گے۔ بہت سے شعراء نے دینی شاعری کی ہے مگر جناب نے اِس قدر صراحت و وضاحت سے اسلام کے حوالے سے لکھا ہے کہ جی خوش ہو جاتا ہے۔ آپ بولتے بہت کم ہیں مگر جو کلمات ادا کرتے ہیں وہ سننے کے قابل ہوتے ہیں ۔ آپ نے کبھی کسی کو مایوس نہیں کیا نہ مالی حوالے سے اور نہ کسی اور حوالے سے ۔ لگتا ہے آ پ کی ساری زندگی علامہ اقبال کے اِس شعر کا مصداق رہی ہے۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
آپ نے ہر قسم کی شاعری کی ہے غربت پر ، مذہب پر ، سیاست پر ، مجازی محبت پر اور حقیقی محبت پر گویا ہر پہلو کو اپنی شاعری میں اجاگر کیا ہے۔ اِسی طرح قومی شاعری کے حوالے سے بھی اُن کا اچھا خاصا کلام موجود ہے ۔ اُن کی کتابیں ’دانائے راز‘ اور ’دھرتی اور سپوت‘ اُن کی اِس نوع کی شاعری کا مظہر ہیں۔ آپ نے مزاحیہ شاعری بھی فرمائی ہے اِس سلسلے میں ’موجِ تبسم‘ کے نام سے عنقریب ایک کتاب شائع ہونے والی ہے۔ اِسی طرح بچوں کے لئے بھی خوبصورت نظمیں کہی ہیں جو آپ کی کتاب ’’ حرفِ سادہ‘‘ میں شامل ہیں۔
ابوالبیان سادہ طبیعت کے مالک ایک خوش مزاج انسان ہیں ۔ آپ عذرِ بصارت سے دو چار ضرور ہیں لیکن اِس کو کبھی اپنی کمزوری نہیں بننے دیا بلکہ آپ سمجھتے ہیں کہ ساری دنیا کی آنکھیں میری آنکھیں ہیں ۔ آپ سادہ غذا ، سادہ لباس ، سادہ گفتگو اور ہر کام میں سادگی کو بے حد پسند کرتے ہیں ۔آپ کی زندگی سراپا عجز و نیاز اور صبر و شکر سے عبارت ہے ۔ آپ پوری پوری کوشش کرتے ہیں کہ سائل کو خالی ہاتھ نہ لوٹایا جائے کچھ نہ کچھ اُس کی امداد کر دی جائے۔ آپ مہمانوں کے آنے پر خوش ہوتے ہیں مہمانوں کو زحمت نہیں رحمت سمجھتے ہیں اور گھر آئے مہمان کو کچھ کھلائے پلائے بغیر جانے نہیں دیتے ۔آپ اکثر فرمایا کرتے ہیں کہ ’’غریب وہ نہیں جس کے پاس مال وزر نہیں بلکہ غریب وہ ہے جس کا کوئی دوست نہیں‘‘ آپ نے اپنی خواہشات کو منشائے الہٰی پر قربان کرنا سیکھ رکھا ہے اور آپ کی پوری کوشش رہی ہے کہ نفس کی مخالفت کی جائے ۔عذرِ بصارت کے باوجود آپ اپنے اکثر کام خود کرتے ہیں اور اِس کو بہت پسند فرماتے ہیں۔
آپ شرک و بدعت کو شروع سے ہی ناپسند کرتے ہیں اور تحقیق تو جیسے آپ کی گھٹی میں پڑی ہے آپ ہر بات کی قرآن و حدیث سے خوب تحقیق کرتے ہیں اور جب تک آپ کو اپنے مسئلے کا حل کتاب و سنت سے نہ ملے آپ مطمئن نہیں ہوتے ۔ آپ علم و ادب میں بحرِ بے کراں کا درجہ رکھتے ہیں ۔آپ کو دن رات فکرِ عقبیٰ لگی رہتی ہے اور یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ میرا معبود ، میرا خالق و مالک مجھ سے ناراض نہ ہو جائے۔ دین کے معاملے میں آپ دنیا کی پروا نہیں کرتے کہ دنیا کیا کہے گی ؟ یا دنیا کی تنقید سہنی پڑے گی بلکہ وہ کام کر گزرتے ہیں جس کا محبوبِ خدا نے حکم دیا ہے ۔ آپ نہایت شفیق طبیعت کے مالک ہیں۔
آپ ایک اچھے انسان ، اچھے بیٹے ، اچھے بھائی ، اچھے شوہر ، اچھے والد اور اچھے استاد ثابت ہوئے ہیں ۔ آپ علم و ادب میں وہ درِ نایاب ہیں جس کو دنیا بھر کی دولت صرف کرکے بھی نہیں خریدا جا سکتا ۔ آپ بہت ہی اچھے استاد ہیں اور کاروانِ شعر و ادب میں رہبر و رہنما کا درجہ رکھتے ہیں ۔ آپ کے شعر و ادب کے شاگردوں کی تعداد پچھتّر کے قریب ہو گی لیکن آپ نے اِن کو کبھی بوجھ نہیں سمجھا اور جب بھی وہ اصلاحِ کلام کے لئے آتے یا فون کرتے ہیں آپ اُسی وقت اُن کے کلام کی اصلاح کر دیتے ہیں ۔
آپ کی مثال ایک شجرِ سایہ دار کی سی ہے ۔ آپ کی زندگی دوسروں کے لئے وجہِ پریشانی نہیں بلکہ باعثِ مسرت رہی ہے ۔ آپ کے اندازِ تعلم میں کرواہٹ کی بجائے شہد کی سی مٹھاس ہے ۔ آپ کی مثال بہتے ہوئے پانی جیسی ہے جس سے کئی فصلیں سیراب ہوتی ہیں ۔ آپ اپنے شاگردوں کے لئے نیرِ تاباں کی مانند ہیں جس سے ہر شاگرد اپنی استطاعت کے مطابق تابشِ علم حاصل کر رہا ہے ۔ آپ اُن گھنے بادلوں کی طرح ہیں جو مسلسل بارش برسا رہے ہیں ۔ آپ اُس چشمۂ صافی کی طرح ہیں جس سے تشنہ لبانِ عصر آبِ سرد و شیریں پا کر خوب سیر ہو جاتے ہیں۔ آپ وہ استادِ جواد ہیں جو اپنے تلامذہ کو اُن کے ظرف سے بھی بڑھ کر نوازتے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ آپ کو ہمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھے اور دنیا و آخرت میں کامیاب و سرخرو فرمائے ۔ اللہ آپ کو عمرِ خضر عطا فرمائے تاکہ آپ اِسی طرح شعر و ادب کی خدمت کرتے رہیں۔ آمین ثم آمین
آپ کے ہم عصروں نے آپ کو قادر الکلام شاعر اور جگت گورو کے القابات سے نوازا ہے اور یہ سب باتیں بلاشبہ آپ کے شایانِ شان ہیں ۔ آپ شعر و ادب کے وہ ابرِ گوہر بار ہیں جو کھل کر برستا ہے تادیر برستا ہے اور لگاتار برستا چلا جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ تشنگانِ ادب و آگہی خوب سیر ہو جاتے ہیں ۔ آپ کے کثیر تلامذہ اور دو سو سے متجاوز کتب آپ کا وہ اثاثہ ہیں جو رہتی دنیا تک آپ کی یاد دلاتے رہیں گے۔ خود فرماتے ہیں
میں اک ستارہ ہوں آسمانِ سخن کا لیکن بلند فاتح
دکھائی دیتا ہوں کم جہاں کو مگر سدا جھلملا رہا ہوں

مذاہب اور فرقوں کے بارے میں افکارِ فاتح

آپ اہلِ سنت سے تعلق رکھتے ہیں ۔ فرقہ پرستی کو ناپسند فرماتے ہیں۔ فرقوں کے بارے میں آپ کے نظریات مندرجہ ذیل ہیں ۔
اسلام میں سب سے پہلی بات اور اہم امر عقیدۂ توحید کی پختگی ہے ۔ سورت الفاتحہ کی درمیانی آیت کے تناظر میں انسان کو چاہئے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرے اور صرف اُسی سے مدد طلب کرے یعنی نہ تو خدائے واحد کے سوا کسی کی کسی طرح کی عبادت جائز ہے اور نہ اُس ذاتِ صمد کے علاوہ کسی کو مدد کے لئے پکارنا مناسب ہے۔ قیام ، رکوع ، سجود ، قعود عبادت کی ساری صورتیں صرف ایک اللہ کے لئے ہیں ۔ اللہ کے سوا کسی اور کو پکارنا چاہے وہ کتنی ہی جلیل القدر ہستی ہی کیوں نہ ہو سراسر ناجائز ہے ۔ اِسی طرح بندۂ مومن کے اوقات ذکرِ الہٰی میں صرف ہوتے رہیں ۔
خیرات ، صدقات ، منت ، مراد ، نذر و نیاز صرف ایک اللہ کی ذات کے لئے زیبا ہے۔ اُس کے علاوہ کسی اور کے حضور یہ امور از قبیلِ شرک ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کا واسطہ ، وسیلہ یا صدقہ دے کر دعا کرنا بھی مناسب نہیں البتہ اُس کی کی ہوئی کسی بندگی یا نیکی کا واسطہ دیا جا سکتا ہے ۔ کیونکہ یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے ۔ قرآنِ مجید میں جتنی دعائیں وارد ہوئی ہیں یا حدیثِ صحیح میں جتنی دعائیں تعلیم کی گئی ہیں کسی ایک دعا میں بھی کسی ہستی کے واسطے یا طفیل کا ثبوت نہیں ملتا ۔
اتباع و اطاعت صرف اور صرف اللہ اور اُس کے رسولﷺ کی کرنی چاہئے ۔ اولوالامر کی اطاعت جو اللہ اور اُس کے رسول کے احکام سے نہ ٹکراتی ہو درجۂ جواز رکھتی ہے البتہ اولوالامر یا والدین یا اساتذہ کے ایسے احکام جو قرآن و سنت کے خلاف ہوں اُن پر عمل نہیں کرنا چاہئے ۔ رسول اللہ ﷺ کے مبارک طریقے کو مضبوطی سے تھامنا چاہئے جسے سنت کا نام دیا جاتا ہے ۔ کوئی عمل سنت ہے یا نہیں اس کا فیصلہ حدیثِ صحیحہ کی روشنی میں کیا جا سکتا ہے ۔ رسول اللہﷺ کے علاوہ کسی غیر نبی کی اتباع و اطاعت نامناسب ہے ۔ رسول اللہﷺ کے بعد جن ہستیوں کی تکریم ناگزیر ہے ان میں آل و ازواج اور صحابہ کرام کی جماعت شامل ہے ۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ساری ازواج محترمات ہمارے لئے ماں کا درجہ رکھتی ہیں اور کوئی غیرت مند بیٹا نہ ماں کی بے ادبی کر سکتا ہے اور نہ ایسا عمل برداشت کر سکتا ہے ۔ قرآنِ مجید کے منطوق اور حدیثِ صحیحہ سے یہ امر پوری طرح واضح ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی چار صاحب زادیاں تھیں ۔ لہٰذا اِن میں سے کسی کا انکار آلِ رسولﷺ سے غداری کے مترادف ہے اور کسی زوجۂ مکرمہ کی توہین اہلِ بیتِ رسولﷺ سے عناد کا مظہر ہے کیونکہ ازواج اہلِ بیت کا پہلا زینہ ہوا کرتی ہیں ۔ اِسی طرح صحابہ کرام جو رسول اللہ ﷺ کی عظیم جماعت کے ارکانِ ذی شان تھے اور اللہ اور اُس کے رسولﷺ کو اُن سے محبت تھی نیز وہ بھی اللہ اور اُس کے رسولﷺ سے محبت کرتے تھے اُن کے بارے میں زبانِ طعن دراز کرنا پرلے درجے کی گستاخی اور دریدہ دہنی ہے ۔ یہ وہ لوگ تھے کہ قرآن و حدیث میں اِن کی تعریف و توصیف وارد ہوئی ہے ۔ صحابہ میں فضیلت کا فیصلہ خود حضرت علیؓ نے اپنے بیٹے محمد بن حنفیہ کے ایک سوال کے جواب میں فرما دیا تھا کہ ’’حضرت ابوبکر صدیقؓ درجۂ اول اور حضرت عمر فاروقؓ درجۂ دوئم کے حامل ہیں ‘‘۔ اِس امر کی صراحت امیر المومنین حضرت علیؓ سے منسوب کتاب ’ نہج البلاغہ‘میں بھی پائی جاتی ہے جہاں وہ ابوبکرؓ و عمرؓ کی حضرت محمدﷺ سے گہری وابستگی اور مقاربت کی تصدیق فرماتے ہیں ۔
تقلید کے بارے میں اُن کا مؤقف واضح ہے کہ یہ ناجائز ہے ۔ ہر چند کہ تقلید عربی زبان کا لفظ ہے مگر کہیں بھی اِسے مستحسن قرار نہیں دیا گیا ۔ کیونکہ اِس کے معنی آنکھیں بند کر کے کسی کے پیچھے چلنے کے ہیں جو ایک غیر انسانی وصف ہے ۔ کیونکہ اہلِ ایمان کو بھی یہ تلقین کی گئی ہے کہ وہ خوب غور و خوض کیا کرے ۔ کسی غیرِ نبی کی تقلید حرام ہے چاہے وہ کتنی جلالتِ شان کا مالک کیوں نہ ہو ؟ پھر ایسی تقلید جو قرآن و حدیثِ صحیحہ کے صریحاََ منافی ہو ہرگز قابلِ قبول نہیں ۔ تقلید وہ بیماری ہے جس نے امتِ مسلمہ کو فرقہ در فرقہ ، تقسیم در تقسیم کر دیا ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اِس روگ سے ہماری حفاظت فرمائے ۔
ابوالبیان پروفیسر ظہور احمد فاتح جماعتِ اہلِ حدیث سے وابستگی رکھتے ہیں اور وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اہلِ حدیث کوئی فرقہ نہیں ہے بلکہ اُسی منہج کا تسلسل ہے جس پر صحابہ کرام ، آل و ازواج اور تابعینِ گرامی کار بند تھے ۔ کیونکہ مروجہ چار پانچ مسالک مثلاََ مالکی ، حنفی ، شافعی ، حنبلی اور جعفری فقہ میں سے کسی ایک سے اُن کی کوئی نسبت نہ تھی بلکہ وہ اطیعو اللہ و اطیعو الرسول کے اصول پر عمل پیرا تھے ۔ وہ قرآن و حدیث کی تعلیماتِ صریحہ پر رو بہ عمل تھے ۔ واضح رہے کہ آئمہ فقہ میں سے بھی کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ ہماری تقلید کرو بلکہ اُن کے بیانات خوب سبق آموز ہیں ۔
امام ابو حنیفہ کہا کرتے تھے ’’ کہ رسول اللہﷺ کے فرمان کے مقابلے میں میری بات کو ترک کر دینا ‘‘ ان کا مزید کہنا تھا ’’ جب صحیح حدیث مل جائے تو میرا مذہب وہی ہے ۔‘‘ اِسی طرح امام شافعی فرمایا کرتے تھے ’’ اگر میری کوئی بات ارشادِ رسولﷺ سے متصادم ہو تو اُسے دیوار پر دے مارنا ۔‘‘ امام مالک کا ارشاد ہے کہ’’ دنیا میں کسی ہستی کی کوئی بات مانی بھی جا سکتی ہے اور رد بھی کی جا سکتی ہے سوائے اِن صاحبِ قبر کے ( رسول اللہ ﷺ کے مزارِ اقدس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) کہ اِن کی ہر بات ماننی ہی ماننی ہے۔‘‘ امام احمد بن حنبل جو قرآن و حدیث کے بارے میں سختی سے تاکید فرمایا کرتے تھے ان کا یہ قول مشہور ہے ’’ لوگو میری تقلید نہ کرنا ۔‘‘
غور فرمائیے جب خود آئمہ اربع تقلید کے اِس قدر خلاف تھے اُن کے پیرو کاروں کو کیا ضرورت ہے کہ تقلید میں اِس قدر شدت روا رکھتے ہیں یہاں تک کہ تعصبات میں آ کر قرآنِ مجید کے منطوقِ صریح اور حدیث شریف کے ارشادِ بین کی خلاف ورزی کر جاتے ہیں اور اُس سے منہ موڑ لیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے آمین ثم آمین۔
جنابِ فاتح ایک معتدل مزاج اور خوش طبع انسان ہیں ۔ وہ روا داری کے بے حد قائل و مائل ہیں اُن کے شاگردوں میں ہر مسلک کے لوگ شامل ہیں اگر کوئی کسی مسئلہ کی نسبت استفسار کرتا ہے تو پوری شرح و بسط کے ساتھ مبنی برحق مسئلہ سمجھا دیتے ہیں ۔ بصورتِ دیگر کسی سے تعارض نہیں کرتے البتہ شرکیہ افعال کے بارے میں خاموش نہیں رہتے اور اپنے تلامذہ کی عاقبت بچانے کی فکر کرتے ہیں۔ اُن کے نزدیک عاملینِ تکفیر غیر مناسب لوگ ہیں بات بے بات کفر کا فتویٰ لگا دینا اور امتِ مسلمہ کی تعداد بڑھانے کی بجائے کم کرتے رہنا اُن کے نزدیک ناقابلِ قبول طرزِعمل ہے ۔بلکہ یہ انداز خود اُن کے لئے بھی شدید مضرت رساں ہے جو اِس پر عمل پیرا رہتے ہیں ۔ آپ دین میں آسانی پیدا کرنے کے فلسفے پر کاربند ہیں اور وہ حدیث جس میں فرمایا گیا ہے کہ ’’ لوگوں کو خوش خبری سناتے چلے جاؤ اُن کے لئے مشکلات پیدا مت کرو۔‘‘ وہ آرزو مند ہیں کہ کاش امتِ مسلمہ میں فکری و عملی وحدت پیدا ہو اور فرقہ وارانہ تعصبات کا خاتمہ ہو جائے۔

تعارف

تونسہ شریف کو علم و ادب میں مقامِ جلی حاصل ہے ۔ اسے پاکستان کا یونانِ صغیر بھی کہا جاتا ہے۔ جس طرح علم و ادب کے حوالے سے یونان کا کوئی ثانی نہیں اِسی طرح پاکستان کا کوئی بھی شہر تونسہ شریف کا ثانی نہیں۔علم و ادب کے حوالے سے سرِ زمینِ تونسہ کافی زرخیز ہے ۔ اِس سر زمین میں ایسی ایسی شخصیات نمودار ہوئیں جنھوں نے پورے پاکستان میں اپنا لوہا منوایا۔ ان شخصیات میں خیر شاہ ، فکرؔ تونسوی ، رشید قیصرانی ، استاد فیض اللہ فیضؔ ، ڈاکٹر نذر نذیرؔ قیصرانی، اقبالؔ سوکڑی ، فیض تبسمؔ ، طائرؔ تونسوی، دوست محمد بربطؔ ، مہینوالؔ منگڑوٹھوی ، ارشادؔ تونسوی ، ریاض عصمتؔ ، فریادؔ ہیروی اور شبیر ناقدؔ وغیرہم شعر و ادب کی دنیا میں جانے پہچانے نام ہیں۔ میدانِ تصوف میں خواجہ محمد سلیمان تونسوی عرف پیر پٹھان ، خواجہ نظام الدین تونسوی اور صوفی نذر حسین بہت مشہور ہیں ۔ تونسہ سے تعلق رکھنے والے ایک عظیم سائنسدان جنھوں نے ایٹمی ترقی کے سلسلے میں نمایاں خدمات سرانجام دیں ڈاکٹر نصراللہ خان سکھانی بھی ہیں جنھیں صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی بھی مل چکا ہے ۔ اِسی طرح علمائے دین میں مولوی خان محمد اور عبدالستار تونسوی کا نام بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ یہاں شرح خواندگی بہت بلند ہے ۔ سکولوں اور کالجوں کے نتائج بہت عمدہ ہیں اور ہر سال ڈاکٹروں ، انجینروں اور دیگر شعبوں کے ماہرین کی ایک کھیپ تونسہ شریف سے میسر آتی ہے ۔ تونسہ کے علم و ادب کی کیفیت اس امر کی متقاضی ہے کہ یہاں کے تشنگانِ علم جو معاشی طور پر قدرے کمزور ہیں ان کی پذیرائی کے لئے یہاں ایک یونی ورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔
مندرجہ بالا فرزندانِ تونسہ کی بدولت تونسہ کا نام روشن سے روشن تر ہوتا چلا گیا لیکن ایک شخصیت ایسی بھی ہے جس کے باعث وطنِ مالوف کی پہچان اور زیادہ فروغ پذیر ہو رہی ہے اور وہ شخصیت ہیں ابوالبیان پروفیسر ظہور احمد فاتح جو ایک جامع الکمالات اور نابغہ شخصیت کے مالک ہیں۔
آپ ۲۱ مارچ ۱۹۵۴ء میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد کا نام عبداللطیف خان سکھانی تھا ۔ آپ کے والد کا پیشہ زراعت تھا ۔ آپ خوش مزاج اور اچھی عادتوں کے مالک تھے ۔ آپ کا آبائی شہر اگرچہ تونسہ شریف تھا تاہم والد کا زمین دارہ تونسہ سے قریباََ ۶ یا ۷ کلو میٹر جنوب میں شیران والا کے مقام پر تھا وہیں آپ کی پیدائش ہوئی ۔ جنابِ فاتح کا بچپن قریباََ شیران میں ہی گزرا ۔ آپ کو بچپن ہی سے اسلامی تعلیمات کے حصول کا شوق تھا ۔ جب آپ تیسری جماعت میں پڑھ رہے تھے آپ نے قرآن مجید پڑھنے کی ابتدا کی ۔ خدا کی رحمت سے آپ نے ایک ماہ میں ناظرے قرآن مجید مکمل پڑھ لیا اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے دل میں حصولِ علم کے لئے شوقِ شدید موج زن تھا ۔ جب آپ نے ایک ماہ میں ناظرے قرآن مجید ختم کر لیا تو آپ کے والد ین بہت خوش ہوئے ۔ آپ کو ابتدائی تعلیم ( پہلی جماعت) سے ہی اقبال سوکڑی جیسے معلم میسر آ چکے تھے جو خود ایک عمدہ شاعر اور خوش نویس مدرس تھے ۔ وہ سرائیکی سخن میں باکمال واقع ہوئے تھے اور ان کا کلام عوام میں بہت مقبول ہو رہا تھا ۔ اِسی دوران میں جنابِ فاتح پر یہ امر منکشف ہوا کہ اُن میں تخلیقِ شعر کا جو ہر پایا جاتا ہے۔ سکول آتے یا جاتے وقت کبھی کبھی اقبال سوکڑی صاحب فاتح صاحب کو اپنے پیچھے بائیسائیکل پر بٹھا لیا کرتے تھے آپ استاد صاحب کے پسندیدہ طالبعلموں میں سے تھے۔
آپ کو دوسرے شعرا کرام کا کلام جمع کرنے اور یاد کرنے کا بھی خاصا شوق تھا اِس لئے انھوں نے ایک ڈائری خود تیار کی اور اُس کے صفحۂ اول پر سرخ قلم سے ’عشقی ڈوہڑے‘ لکھا۔ آپ کے ایک بڑے بھائی نے یہ دیکھا تو ڈائری جھپٹ لی اور اُسے والد صاحب کو دکھا کر کہنے لگا۔’’ دیکھئے حضور آپ کا شہزادہ ابھی سے کن کاموں میں پڑ گیا ہے؟‘‘ والد صاحب نے دیکھا ، مسکرائے اور ڈائری واپس کر دی ۔ دراصل والدین دونوں اہلِ ذوق تھے ۔ بطورِ خاص والدہ اَن پڑھ ہونے کے باوجود اشعار ، ڈوہڑوں اور نعتوں کی اچھی خاصی مقدار یاد رکھتی تھیں ۔ ان کی گفتگو بھی بمحاورہ اور پُر امثلہ ہوا کرتی تھی۔
میرا اپنا خیال یہ ہے کہ آپ کے والدِ محترم آپ کی صلاحیتوں پر قدغن نہیں لگانا چاہتے تھے اِس لئے انھوں نے آپ کی ڈائری کے بارے میں غصے یا ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کیا۔
آپ بچپن ہی سے علامہ اقبال کی شاعری میں دلچسپی لینے لگے ۔ تیسری جماعت سے ہی آپ علامہ اقبال کی کتاب ’بالِ جبریل‘ لہک لہک کر پڑھتے تھے جیسے۔
ہے یہی میری نماز ، ہے یہی میرا وضو
میری نواؤں میں ہے میرے جگر کا لہو
اٹھو مِری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخِ امرا کے در و دیوار ہلا دو
کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے؟
پیرانِ کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دو
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اُس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
میں ناخوش و بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے
میرے لئے مٹی کا حرم اور بنا دو
دہ خدایا یہ زمیں تیری نہیں تیری نہیں
تیرے آبا کی نہیں تیری نہیں میری نہیں
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟
یقیں محکم ، عمل پیہم ، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں
آپ اپنا کلام بھی سکول میں پڑھ کر سناتے تھے اردو نظمیں آپ ساتویں جماعت سے لکھنے لگے تھے ۔ حمد ، نعت اور رمضان المبارک جیسی نظمیں اِسی دور میں کہی تھیں۔ حالانکہ آٹھویں جماعت کے امتحان قریب تھے اُس زمانے میں آپ تپ محرکہ (ٹائیفائیڈ) کا شکار بھی ہو چکے تھے پھر بھی سکول میں اول پوزیشن حاصل کی ۶۷۱ نمبر حاصل کئے اور حکومت کی طرف سے وظیفہ ( سکالرشپ) حاصل کیا۔
نہم اور دہم کی کلاس میںبھی علم و ادب میں بھرپور دلچسپیاں برقرار رہیں حصولِ تعلیم میں بھی مکمل انہماک رہا۔سائنسی مضامین اختیار کئے البتہ ڈرائنگ اور بیالوجی کی بجائے زراعت رکھی اور جماعت کے لائق ترین طلباء میں شمار ہوتے رہے۔ واضح رہے کہ شروع میں آپ کا تخلص اظہر تھا تو اسے تبدیل کر دیا کافی غور و خوض کے بعد فاتح بطور تخلص استعمال کیا۔
ایک بار آپ کلاس میں خوش نویسی کے انداز میں کا غذ پر لفظ فاتح بار بار لکھ رہے تھے ۔کہ نائب ہیڈ ماسٹر مجیداللہ خان نے دیکھ لیا تو کہنے لگے آپ کے فاتح ہونے میں کس کو شک ہے؟ سکول کے ہیڈ ماسٹر عطا محمد خان سکھانی آپ کو رود کی کہا کرتے تھے ۔یاد رہے کہ استاد عبداللہ خان رود کی فارسی کے استاد الشعراء تھے اور آپ کو ان سے شاعری کے ساتھ ساتھ عذرِ بصارت کی بھی مشابہت تھی اسی طرح آپ انگریزی میں بھی بہت مہارت رکھتے تھے اور جماعت میں اول آتے تھے۔جماعت نہم میں اردو غزل کہنا شروع کر دیاتھااور دسویں جماعت میں انگریزی شاعری کا بھی آغاز ہو گیا تھا۔
سکو ل کے زمانے ہی سے بزمِ ادب میں حصہ لیتے تھے اور خوب تقاریر کیا کرتے تھے۔نیز اپنا کلام بھی سناتے تھے ۔آپ کے اُس دورکی دو نظمیں بہت مشہور ہیں۔ایکـــــــ’’ الودع میرے سکول ‘‘ اور دوسری ’’میرے اساتذہ ‘‘ آپ کی ان دو نظموں کے چند شعر درجہ ذیل ہیں۔
الوداع میرے سکول
اے مِرے اسکول میری درس گاہِ ذی وقار
تیری یادیں ہیں حسیں اور تیرے احساں بے شمار
ایچ(h ) نما صورت تِری جب بھی مجھے یاد آئے گی
تجھ میں جو دن ہیں گزارے ان کی یاد آ جائے گی
میں رہا تیرے چمن میں مثلِ بلبل اے سکول
میں نے تجھ سے ہی کیا ہے علم و دانش کا حصول
یہ تِری مسجد ، یہ تیرا ہال ، تیری ورکشاپ
جب بھی یاد آئیں گے بیٹھوں گا تِرے نغمے آلاپ
میرے اساتذہ
یاد آتے ہیں جو کچھ کردار مجھ کو بار بار
کتنے دلآویز ہیں اُن میں مِرے آموز گار
چاہتا ہوں میں لکھوں اک نظم اُن کے نام کی
اِس سے پہلے کہ بناؤں اُن کی یادوں کے مزار
جو بھی ہیں جیسے بھی ہیں پھر بھی مِرے استاد ہیں
قابلِ صد احترام و لائقِ صد افتخار
گلشنِ تعلیم کے یہ دلنشیں کردار ہیں
کوئی گل ہے ، کوئی بلبل ، کوئی شبنم ، کوئی خار
میٹرک کے دوران بھی شعر و ادب کے ساتھ ساتھ عملی محنت کا سلسلہ جاری رہا۔ مایۂ ناز طلبا میں شمار ہوتے رہے عذرِ بصارت کے باوجود نمبر وںکے اعتبار سے سرِفہرست رہے اور ۷۴۳ نمبرز حاصل کر کے انٹر میڈیٹ میں سکالر شپ کے مستحق قرار پائے۔
ان دنوں (۱۹۷۱ء) میں شہر تونسہ شریف میں کوئی کالج نہیں تھا لہٰذا ڈیرہ غازی خان کے گورنمنٹ کالج میں داخلہ لینا پڑا آپ چونکہ ایک حقیقت پسند انسان تھے لہٰذا سائنس میں شدید دلچسپی کے باوجود دیگر مضامین رکھنا پڑے کیونکہ نظر کا مسئلہ آڑے آ رہا تھا سائنس میں پریکٹیکل کے لئے بصارت کا ہونا لازمی تھا کیونکہ مختلف باریک ریڈنگز اور دیگر تجرباتی مشاہدات کے لئے نظر کا ٹھیک ہونا ناگزیر ہے لہٰذا عزیزہ سائنس صاحبہ کو خیر باد کہتے ہوئے انٹر میڈیٹ میں ایک اور کمبینیشن اختیار کیا جسے آج کل سائنس ہی میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ایک واقعی مشکل انتخابِ مضامین تھا یعنی اختیاری مضامین میں معاشیات ، شماریات اور ریاضیات کا کمبینیشن اختیار کیا ہر چند کہ ایک کمزور بینائی والے طالبعلم کے لئے اس میں بھی شدید مسائل ہیں مگر جنابِ فاتح کی مہم جو طبیعت کا کیا کہئے کہ بقول اقبال
خطر پسند طبیعت کو سازگار نہیں
وہ گلستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو صیاد
اسی موضوع کے حوالے سے راقم کا شعر جو نظم’ ثمرِ محنت‘ سے لیا گیا ہے
ترے سینے میں خواہش ہے سرِ افلاک اڑنے کی
لگن سچی ہو جو تیری فلک سے پار ہو جائے
چنانچہ مشکل مضامین اختیار کرتے ہوئے ہم نصابی سرگرمیوں کے پہلو بہ پہلو شعر و ادب کے جلو میں آگے بڑھتے چلے گئے بقولِ خود
فاتح سخن کے ملک میں کرتا ہوا جہاد
بڑھتا چلوں گا پرچمِ اردو لئے ہوئے
ایک طرف تعلیمی محنت کرتے ہوئے کالج میں نام پیدا کیا اور ہو نہار طالبعلموں میں شمار ہوئے تو دوسری طرف تقریبات کی شان بھی بڑھاتے رہے گیارہویں کے امتحان میں انگریزی میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے انعام پایا تو تقریبات میں بھی اول ، دو م اور سوم آکر انعام اور ٹرافیاں جیتتے رہے یہ وہ دور تھا جب پاکستان کا مشرقی بازو یعنی مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو کر بنگلہ دیش کے نام سے آزاد ہوا تاریخِ پاکستان میں اسے سکوتِ ڈھاکہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اسی نسبت سے کالج کی ایک تقریبِ مشاعرہ میں استاد صاحب نے ایک پُردرد نظم ’’خون کے آنسو ‘‘ پڑھی جو بہت رقت آمیز اور اثر انگیز تھی اخبار والوں نے اس پر سرخی لگائی جنابِ فاتح روتے ہوئے آئے اور سب کو رلا کر چلے گئے نظم کے چند شعر ہدیۂ قارئین ہیں
دل تڑپ اٹھتا ہے مسلم دیکھ کر حالت تری
خون کے آنسو رلاتی ہے مجھے غفلت تری
آہ! ناداں کھول آنکھیں اور اپنا حال دیکھ
دیکھ کیسے مل رہی ہے خاک میں عظمت تری
درد ہوتا ہے جگر میں اور پھٹتا ہے دماغ
دیکھ کر بدحالی و رسوائی و ذلت تری
تیری بربادی کا باعث ہیں تری بدکاریاں
تیری گمراہی کے باعث ہے یہ کیفیت تری
اس دور کی ایک اور نظم ’’ڈاکٹر نذیرؔ احمد ‘‘ ہے یہ ایک درویش ایم این اے تھے جن کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے تھا اور بھٹو دور میں سیاسی انتقام کا نشانہ بنا کر انھیں قتل کر دیا گیا یہ نظم بھی بہت پُر سوز ہے آپ کے پہلے مجموعۂ کلام ’’آئینۂ دل ‘‘ مطبوعہ ۱۹۸۰ء میں یہ نظم شامل ہے اس نظم کے چند شعر ملاحظہ ہوں ۔
آج ہر اک دل غم و اندوہ سے لبریز ہے
آج ہر اک آنکھ روتی اشکِ خوں آمیز ہے
آج ظلم و جور نے چھو لی ہے حدِ انتہا
آج وحشت کے سبب ہر دل کی دھڑکن تیز ہے
اک طرف محشر بپا ہے ہائے ہے کا شور ہے
اک طرف پُر غم خموشی کتنی معنی خیز ہے
موج زن ہے ایک جانب جذبۂ افضل جہاد
اک طرف ظلمِ ہلاکو ، دہشتِ چنگیز ہے
گورنمنٹ ڈگری کالج ڈیرہ غازی خان کا ادبی مجلہ جو ’الغازی‘ کے نام سے چھپا کرتا تھا اس وقت جبکہ آپ انٹر میڈیٹ میں زیرِ تعلیم تھے سال اول کے شمارے میں آپ کی اردو غزل شامل کی گئی وہ بہت مؤثر اور دل آویز تھی جسے اساتذہ و طلبا میں بہت پسند کیا گیا اس کے کچھ شعر یوں ہیں
کر رہا ہوں رات دن میں آہ کس کی جستجو
کس کی یادیں پی گئیں میرے کلیجے کا لہو
کس کی فرقت میں مسلسل رات دن روتا ہوں میں
اپنے اشکوں ہی سے ہو جاتا ہے اب میرا وضو
کون اپنے یار سے ناراض ہو کر چل دیا؟
رک گئی کس کے نہ آنے سے صبائے مشک بو
تھا مرا دلدار جس نے مجھ کو تنہا کر دیا
وہ مرا جانِ تمنا میرا جانِ آرزو
اسی طرحٔ سالِ دوم کے الغازی کے شمارے میں آپ کی ایک انگلش نظم بعنوان ’’A PAIN FULL TUNE‘‘ شامل کی گئی یہ نظم آپ کے انگریزی مجموعۂ کلام ’’Flowers of letters‘‘ مطبوعہ ۲۰۱۵ء میں شامل ہے چنانچہ کالج میں بڑی ہنگامہ خیز اور ہر دل عزیز شخصیت کی حیثیت سے وقت گزارا ۔ اگرچہ عذرِ بصارت زوروں پر تھا پھر بھی مطالعہ جاری رکھا اس سلسلے میں باریک الفاظ دیکھنے کے لئے کبھی کبھی محدب عدسہ بھی استعمال کر لیا کرتے تھے واضح رہے کہ نظر کا مسئلہ آنکھ کے ڈھیلے کے کم اور آنکھ کے پردے سے متعلق ہوتا ہے جس کا نہ علاج ممکن تھا اور نہ عینک لگ سکتی تھی بصد مشکل ایف اے کا امتحان دیا اور خیر گزری کہ اس میں کامیاب ہوگئے۔ ورنہ کمبینیشن اتنا مشکل تھا کہ بہت سے محنتی اور قابل طالبعلم بھی کئی مضامین میں فیل ہو گئے لیکن افسوس اس پر رہا کہ زندگی میں پہلی بار امتحان میں سیکنڈ ڈویژن آئی تھی ورنہ ہر بار درجۂ اول میں امتیازی حیثیت سے کامیاب ہوتے رہے اس موقع پر ماہرینِ امراضِ چشم نے یہ مشورہ دیا کہ فاتح صاحب باقاعدہ تعلیم کا سلسلہ مروج اداروں سے ترک کر کے کسی بلائینڈ کالج میں داخلہ لیں جس کے حق میں آپ کبھی نہیں تھے والد صاحب تو پہلے ہی نظر کے مسئلے کی وجہ سے تعلیم جاری رکھنے کے حق میں نہیں تھے لہٰذا۱۹۷۳ میں سلسلۂ تعلیم منقطع ہو گیا اور دلکش یادیں اور ایف اے کی سند لے کر تونسہ واپس آگئے اور والد صاحب کی گائیں ، بھینسیں کھیتوں میں چرانے لگے لیکن شاعری وہاں بھی جاری رہی اس دور کے چند ماہئے ملاحظہ ہوں۔
کھیتوں میں چریں گائیں
ہم آنکھیں بچھائیں گے
جس وقت بھی آپ آئیں
رت آئی ہے برکھا کی
ہم سادہ مزاجوں سے
اچھی نہیں چالاکی
کانٹا چبھا کیکر کا
للّٰلہ بتا قاصد
کیا حال ہے دلبر کا
رُت چیت بہار آئی
آنکھوں سے ملیں آنکھیں
دل نے بھی خوشی پائی
اقبال نے کہا تھا
فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں اپنا
یا اپنا گریباں چاک یا دامنِ یزداں چاک
استاد صاحب بھی فراغت کو غنیمت سمجھتے رہے اور شاندار طریقے سے اسے بروئے کار لاتے رہے۔ چنانچہ مال مویشی چرانے کے دوران بھی ایک طرف سے مشقِ سخن میں منہمک رہے تو دوسری طرف تدوین و ترتیبِ کلام کا سلسلہ بھی آغاز کر دیا لہٰذا گزشتہ چھ سات سالوں میں جو شاعری کر چکے تھے اسے ایک ضخیم کتاب میں منضبط کرنے لگے جس کا نام ’اقلیمِ سخن‘ رکھا اس میں پانچ کتابیں شامل کیں جن کے نام حسبِ ذیل ہیں ۔۱ آئینۂ دل ، ۲ تصویر ِکائنات ، ۳چہرۂ ہستی ، ۴ متاعِ احساس ، ۵ نقدِ شعور ۔ ان میں سے ہر کتاب حمدو نعت سے آغاز ہوتی ہے بعد ازاں کچھ دینی نظمیں ہیں پھر قومی نظمیں ہیں ان کے بعد ملی جلی نظمیں ہیں اور آخر میں رومانی نظمیں اور غزلیں ہیں ہر کتاب ڈیڑھ سو سے زیادہ صفحات پر مشتمل ہے ان میں فارسی شاعری بطورِ خاص شیخ فرید الدین عطار ، بابا طاہر عریاں اور علامہ اقبال کے فارسی کلام کا منظوم اردو ترجمہ بھی شامل ہے۔اِسی اثنا میں حسنین شاہد اخگرؔ شیرانی نے اصلاحِ کلام لینا شروع کیا اور وہ آپ کے پہلے شاگرد ٹھہرے۔ اگرچہ عذرِ بصارت کا مسئلہ درپیش تھا پھر بھی کام سے کبھی جی نہیں چرایا اور کام بھی مشقت طلب تھا کبھی کبھی جھاڑیوں اور کانٹوںمیں الجھ جاتے تھے ، کپڑے پھٹ جاتے تھے ، پاؤں زخمی ہو جاتے تھے پھر بھی راضی برضا رہتے تھے۔ کام بھی ہوتا رہتا اور شاعری بھی کرتے رہتے تھے۔بقول حسرت موہانی
ہے مشقِ سخن جاری ، چکی کی مشقت بھی
اک طرفہ تماشہ ہے حسرت کی طبیعت میں
ذوقِ عبادت بھی گھٹی میں پڑا تھا چنانچہ نمازوں اور روزوں سے کبھی غفلت نہ کی قرآن مجید کی تلاوت بھی روزانہ صبح کا معمول رہی نظر انتہائی کمزور ہو جانے کے باوجود بھی مطالعہ جاری رکھا بطورِ خاص بلدیہ تونسہ کی لائبریری سے بھرپور استفادہ کیا اور ہر موضوع پر مثلاََ دینی ، ادبی ، معاشرتی ، معاشی ، فلسفیانہ اور نفسیاتی ہر طرح کی کتب پڑھیں کیونکہ ہر کتاب انھیں دعوت دیتی تھی۔
مجھ کو بھی پڑھ کتاب ہوں مضمونِ خاص ہوں
مانا ترے نصاب میں شامل نہیں ہوں میں
وقت گزرتا چلا گیا اسی اثنا میں خوجہ خاندان کی ایک دو شیزہ خدیجہ بیگم سے شادی ہو گئی جو ایک خوش سلیقہ اور سگھڑ خاتون ثابت ہوئیں۔میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے سیانے سچ کہہ گئے ہیں کہ ’’محبوبہ اگر بیوی ہو جائے تو وہ محبوبہ نہیں رہتی لیکن اگر بیوی محبوبہ ہو جائے تو وہ دلنواز ہو جاتی ہے‘‘چنانچہ شبِ اول ہی ایک نظم ’’کلماتِ شوق ‘‘ کے عنوان سے رقم کر ڈالی جو اسی سر شاری کا مظہر ہے لیجئے کچھ شعر آپ کی ضیافتِ طبع کے لئے حاضر ہیں۔
اے مرے ہم نفس اے شریکِ سفر
تیری بے لوث چاہت کا ہے یہ اثر
رہ کے بحرِ مصائب میں شاداں ہوں میں
عالمِ نامساعد میں خنداں ہوں میں
مضطرب جس قدر بھی ہو میرا جنوں
تیری آغوش دیتی ہے اس کو سکوں
یہ دعا ہے تجھے چشمِ بد نہ لگے
تیرے اخلاص پر کوئی حد نہ لگے
باہمی ہم غیاثی نہ ٹوٹے کبھی
تیرے آنچل سے دامن نہ چھوٹے کبھی
اور فلک ڈال بھی دے جدائی اگر
تو دلوں کو نہ آئے سکوں لمحہ بھر
ہر گھڑی پھر سے ملنے کی خواہش رہے
اور مننے منانے کی کوشش رہے
یہ نظم دلہن کو بہت پسند آئی اور بعد میں اس نے کئی بار فرمائش کر کے مختلف احباب کو وہ نظم سنوائی اسی طرح ایک اور قطعہ بھی کچھ عرصہ بعد آپ نے بیگم کے حوالے سے لکھا تھا کچھ یوں ہے۔
گھربار سجانے کی بڑی فکر ہے اس کو
فیشن کے تعاقب میں یہ پُر شوق بہت ہے
ہر چند کہ دشمن ہے مِری جیب کی پھر بھی
میں خوش ہوں کہ بیوی مِری خوش ذوق بہت ہے
بے روزگاری اس وقت کچھ نہ کچھ قابلِ برداشت ہوتی ہے جب انسان تنہا ہوتا ہے لیکن جب شادی کر لیتا ہے تو گویا خاندان کی بیل پڑ جاتی ہے لیکن یہاں دو مسئلے تھے ایک تو عذرِ بصارت دوسری سرمائے کی عدم دستیابی۔ خیال یہ تھا کہ کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کیا جائے لیکن کوئی نہیں سمجھتا تھا کہ آپ کسی قسم کا کاروبار کر سکتے ہیں پھر بھی آپ نے دل میں ٹھان لی تھی کہ کچھ نہ کچھ ضرور کرنا ہے خوب سوچ سمجھ کر ایک چھوٹا سا منصوبہ ترتیب دیا جس کے مطابق چند احبا ب سے تھوڑا تھوڑا قرضِ حسنہ لے کر جو پیسے جمع ہوں ان سے ایک چھوٹا سا بک سٹال قائم کرنا تھا ۔ لہٰذا ایک تو بیوی نے سونے کے کنگنوں کی ایک جوڑی پیش کی جنھیں فروخت کر کے آپ نے لکڑی کا ایک کھوکھا (کیبن) خریدا جس میں کتاب گھر کا سامان رکھناتھا پنجاب کو آپریٹو بینک سے پانچ سو روپے کا چھ ماہ کے لئے بلا سود قرضہ حاصل کیا گیا بینک کے منیجر شبیر صاحب سسرال کی ہمسائیگی میں رہتے تھے اور ان کے کہنے پر یہ قرض حاصل ہوا علاوہ ازیں سات افراد سے دو دوسو روپے کا قرضِ حسنہ لیا گیا جو انھیں عند الطلب ادا کرنا تھا یوں ایک ہزار نو سو روپے کا سامانِ کتب خانہ خریدا گیا اور اسے فوجی پڑاؤ میں رکھے گئے کیبن میں منتقل کر دیا گیا پہلے دن پچھتر پیسے کی بِکری ہوئی بعد ازاں رفتہ رفتہ اس میں اضافہ ہوتاگیا یوں کچھ نہ کچھ کمائی کا وسیلہ بن گیا والد صاحب زمیندار تھے کھانے کا غلہ آٹا ان کی طرف سے آتا تھا باقی سبزی وغیرہ دکان سے حاصل ہونے والے منافع سے خرید لی جاتی تھی وللہ خیر الرازقین۔رفتہ رفتہ برکت پڑتی گئی کاروبار بڑھتا گیا شدہ شدہ دکان میں بچوں کی کہانیاں ، لائبریری کی کتابیں ، جلد سازی اور پینوں کی مرمت وغیرہ کا کام بھی اس میں شامل ہو گیا اور دکان کی شہرت بھی بڑھتی چلی گئی ۔شادی کے ٹھیک ایک سال بعد یعنی ۲۰ اگست ۱۹۷۷ء میں پہلی اولاد یعنی بیٹی کی ولادت ہوئی جسے طاہرہ طیبہ کا نام دیا گیا۔ اور ۱۹۸۰ء میں دو خوشیاں نصیب ہوئیں ایک تو بیٹا محمد آصف تاسین پیدا ہوا دوسرے پہلا مجموعۂ کلام ’آئینۂ دل ‘ کے نام سے شائع ہوا جسے بہت پسند کیا گیا پروفیسر حفیظ الرحمان خان نے اس پر تبصرہ لکھا جو نوائے وقت میں شائع ہوا اس میں انھوں نے اس امر پر اظہارِ تعجب کیا کہ کتاب کا انتساب بھی منظوم لکھا گیا ہے ۔
آپ بطور شاعر بھی مشہور ہو تے چلے گئے چنانچہ اسی دور میں حفیظ اللہ قلزمؔ نے شعر لکھنا آغاز کیا اور آپ کی خدمت میں زانوئے تلمذ تہ کیا اور دوسرے شاگرد قرار پائے۔ ہوتے ہوتے فاتح کتاب گھر نوجوانوں کی توجہ کا مرکز بنتا چلا گیا چنانچہ مطالعہ کے شوقین طلبا اور شعر و ادب کے رسیا لوگ اپنا فالتو وقت یہاں گزارنے لگے بک سٹال ترقی کر کے کیبن سے ایک بڑی دکان میں منتقل ہو گیا جو تجارت کے ساتھ ساتھ تہذیب و ثقافت کا بھی مرکز بن گیا آپ نے ایک فلا حی ادارہ انجمنِ فلاح و اصلاحِ معاشرہ کے نام سے قائم کیا جس کا مختصر نام ’’افام‘‘ رکھا گیا اس میں خواتین کے لئے ایک سلائی کڑھائی اور بنائی کا مرکز اور نوجوانوں کے لئے دارالمطالعہ اور سپورٹس کلب بھی قائم کیا گیا پھر کرکٹ کے شوقین نوجوان بھی یہاں آنے جانے لگے ۔ نوجوانوں کا ایک اور گروپ جو شروع میں جنتا پارٹی کہلاتا تھا یہاں وارد ہوا آپ نے اسے ایک نیا نام ’زندہ دل پارٹی‘ تفویض کیا لہٰذا زندہ دل پارٹی کے آجانے سے فاتح کتاب گھر کی رونقیں اور بھی بڑھ گئیں محمد تنویر الزماں زندہ دل پارٹی کے روحِ رواں تھے یہ خوش مزاج نوجوان خوش ذوق بھی تھے اور شعر و شاعری سے بھی بہت لگاؤ رکھتے تھے چنانچہ اس فضا میں وہ بھی شعر کہنے لگے اور آپ کے تیسرے شاگردِ رشید بن گئے اسی دور میں دکان میں کچھ مزید اضافے کئے گئے ٹافیاں اور بوتلیں بھی شامل کی گئیں کرکٹ کا سامان بھی رکھا گیا اور پرانی کتب کی خرید و فروخت کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا جس سے فاتح کتاب گھر دن دگنی رات چو گنی ترقی کرتا چلا گیا لائبریری کے قارئین میں جو اسمائے گرامی قابلِ ذکر ہیں وہ یہ ہیں اکرام الحق ، محمد رفیق کھرل ، عبدالستار غازی بلوچ ، محمد عمران ، محمد رمضان مولوی اور طارق ملک وغیرہ۔اسی طرح کچھ اور شاگردانِ ادب شاملِ دبستان ہوئے جن کے نام جلیل حیدر ، واحد بخش انجم اور صفدر علی حیدر ہیں زرعی ترقیاتی بینک کے ایک آفیسر ملک طور بھی اصلاح لینے کے لئے حاضر ہوتے رہے کچھ عرصہ بعد فاروق محرم، حامد علی جاذب ، محمود عالم ، جمیل صابر جو کبھی جمیل احمر بھی تخلص کرتے تھے علاوہ ازیں محمد علی انجم نے بھی زانوئے تلمذتہ کیا اب چونکہ شاگردوں کی تعداد خاصی ہو چکی تھی لہٰذا ایک ادبی تنظیم بزمِ فروغِ ادب تونسہ کے نام سے قائم کی گئی جس کا اجلاس ہفتہ وار یا پندرہ روزہ ہوا کرتا تھا اور اس میں دبستانِ فاتح کے ستاروں کے علاوہ مہمانوں کو بھی مدعو کیاجاتا تھا جن میں اردو کے علاوہ سرائیکی زبان کے شعراء بھی شرکت کیا کرتے تھے معروف مہمانوں کے نام کچھ یوں ہیں ۔ اقبال سوکڑی ، اقبال نصرت ، اوورنگ زیب آزردہ ، مصطفی خادم ، بشیر غمخوار ، مہینوال منگڑوٹھوی ، رشیدقیصرانی ، ڈاکٹر نذیر قیصرانی ، محمد رمضان نادار ، سعید احمد سعید ، نواز شیرانی اور دیگر احباب شامل ہیں بزمِ فروغِ ادب نے کئی مشاعرے منعقد کروائے جن میں دور دراز کے شعراء نے شرکت کی ۔
آپ کے دل میں تعلیمی استعداد بڑھانے کا بہت شوق تھا چنانچہ بی۔اے کی تیاری شروع کر دی دکان میں پڑھے لکھے لوگ آتے جاتے رہتے تھے انھیں کوئی نہ کوئی کتاب نصاب کی پکڑوا دیتے اور سماعت کرتے تھے اسی طرح چند ماہ کی تیاری کے بعد بی اے کا امتحان ایک کاتب کی مدد سے دیا اور اللہ کے فضل سے درجۂ اول میں کامیابی حاصل کی بالکل اسی طرح ایم اے اسلامیات کا امتحان بھی درجۂ اول میں پاس کیا اُن دنوں جب بی اے کا امتحان دے رہے تھے گورنمنٹ ڈگری کالج میں ایک مشاعرہ ہوا جس کی صدارت اس وقت کے ڈپٹی کمشنر سید آفتا ب احمد شاہ کر رہے تھے جو خود ایک بہت اچھے شاعر بھی تھے جنابِ فاتح بھی اس مشاعرے میں مدعو تھے عین اس وقت جب صدرِ مجلس تشریف لائے بجلی چلی گئی جب جناب ظہور احمد فاتح کو کلام سنانے کے لئے بلایا گیا تو آپ نے اپنی غزل سناتے ہوئے اس کا یہ شعر صاحبِ صدر کی نذر کیا۔
ایسا مانوس ہوا ہوں شبِ تاریک سے میں
تیری آمد پہ بھی قندیل جلائی نہ گئی
شعر کا خاطر خواہ اثر ہوا شاہ صاحب نے پرنسپل شریف اشرف سے پوچھا کہ یہ نوجوان کیا کرتے ہیں انھوں نے بتایا کہ ان کا ایک چھوٹا سا کتاب گھر ہے اُنھوں نے کہا پھر تو گزارا مشکل سے ہوتا ہوگا میں ان کے آرڈر مکتب سکول میں بطور ٹیچر کیے دیتا ہوں یہ اسے ایک سکالر شپ سمجھیں چاہے حاضری دیں یا نہ دیں چنانچہ ڈیرہ غازی خان کے قریب بستی گیدڑ والا میں آپ کو بطور ٹیچر مکتب سکول میں تعینات کیا گیا اور کم و بیش دو سال تک آپ وہاں بچوں کو پڑھاتے رہے بعد ازاں پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر کے گورنمنٹ کمرشل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ بھکر میں ۱۹۸۶ء میں بطور انسٹریکٹر اسلامیات (لیکچرر)تعینات ہوئے اور ایک سال تک وہاں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے بھکر جانے سے پہلے فاتح کتاب گھر میں ایک ساجھے دار بنایا جن کا نام عبد الکریم ہے تاکہ دکان جاری رہے اور احباب کی سر گرمیاں بھی جاری رہیں والد صاحب تعلیمی ترقی اور ملازمت ہو جانے سے بہت خوش تھے اور اکثر آپ کی تعریفیں دوست احباب میں کیا کرتے تھے اسی طرح والدہ صاحبہ بھی بہت خوش تھیں بھکر تعیناتی کے زمانے میں وقت بہت اچھا گزرا۔ ابتدائی دو مہینے باہر کے پروفیسروں کے ساتھ ایک مکان میں رہے جہاں باقاعدہ ایک باورچی رکھا ہو ا تھا پھر گرمیوں کی تعطیلات ہو گئیں اور واپس گھر تونسہ آگئے ماشأا للہ وقت بہت اچھا گزر رہا تھا جب چھٹیاں ختم ہوئیں تو نئی کلاسز اور نئے سلسلے آغاز ہو گئے۔ بھکر کالج میں انچارج تقریبات بنا دیے گئے شاعری کے چرچے ہونے لگے۔ اردو کے پروفیسر طارق جامی تھے جو اسی اثناء میں کشتی الٹ جانے کے باعث اللہ کو پیارے ہو گئے چنانچہ اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کے پیریڈ دیگر احباب کو دے کر ان کے بدلے میں اردو کی کلاسز آپ کے ذمہ لگائی گئیں تقریبات میں سرگرمی سے حصہ لیا اور ذاتی قابلیت سے انھیں کامیاب بنایا بھکر ملازمت کے دوران وہاں کے کئی نوجوان شاگرد بھی بنے جن میں ساجد حسین ساجد ، عابد حسین عابد اور تنویر زائر کے نام قابلِ ذکر ہیں وہاں ایک بڑے مشاعرے میں بھی حصہ لیا جس میں ڈاکٹر خیال امروہی اور بے دل حیدری سے بھی ملاقات ہوئی۔ بے دل حیدری کے دو شعر اس ملاقات کا حاصل ہیں۔
گرمی لگی تو خود سے الگ ہو کے سو گئے
سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا
بے دل لباسِ زیست بڑا دیدہ زیب تھا
ہم نے ہی اس لباس کو الٹا پہن لیا
اسی طرح کم و بیش سال سوا سال بھکر میں گزارا اپنا کنبہ بھی وہاں ساتھ لے گئے تھے منڈی ٹا ؤن میں ایک مکان کرائے پر لے کر رہتے رہے اسی اثناء میں تونسہ کی طرف تبادلہ کرانے کی کوشش بھی جاری رہی۱۹۸۷ء کو گرمیوں کی تعطیلات پر واپس آگئے ۱۹۸۴ء میں دوسرا بیٹا محمد واصف یٰسین پیدا ہوا اور ۱۹۸۶ء میں دوسری بیٹی قاہرہ قدسیہ متولد ہوئی چنانچہ چاروں بچے بھکر میں کھیلتے کودتے رہے وہاں ایک پٹھان دکان دار لقمان خان سے بھی دوستی ہو گئی اور سودا سلف لیتے ہوئے اس سے دلچسپ گفتگو ہوا کرتی تھی ۔بھکر کالج کا زمانہ بہت عمدگی سے گزرا صرف ایک آدھ موقع پر ہلکی سی بد مزگی ضرور ہوئی تمام سٹاف محبت اور عزت کرنے والا تھا طلبا گرویدہ تھے تونسہ کے مہمان اور رشتہ دار بھی وہاں آتے جاتے رہتے تھے گرمیوں کی چھٹیوں میں جماعت کے ساتھ چِلہ (چالیس دن) لگانے کا پروگرام بنا ۔رائے ونڈ پہنچے تبلیغی جماعت کے وہاں کے مرکز میں تین چار یوم گزارے اور پھر ہری پور ہزارہ کی طرف تشکیل کر دی گئی جماعت کے ساتھ بھی ما شاء اللہ بہت اچھا وقت گزرا دعوت کے ساتھ ساتھ سیکھنے سکھانے کا عمل بھی جاری رہا لوگوں سے ملاقاتیں بھی ہوتی رہیں اور بہت کچھ کہنے اور سننے کا موقع بھی ملتا رہا۔ چلے کے اختتام پر پھر رائے ونڈ مرکز پہنچے اور وہاں سے اجازت لے کر لاہور پہنچ گئے تا کہ اپنا تبادلہ کرا سکیں امریکن سنٹر لاہور میں اپنا ایک چچا زاد بھائی خالد کریم خان آفیسر تھا ان سے ملے تو انھوں نے لاہور آمد کا سبب دریافت کیا تو آپ نے بتایا کہ بھکر سے تونسہ تبادلہ کرانے کی کوشش کر رہے ہیں اس سلسلے میں حاضری ہوئی ہے انھوں نے پوچھا کیا آپ نے سیکریٹریٹ میں درخواست جمع کرادی ہے بتایا کہ جی ہاں وہ بولے کہ آپ کے محکمہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر امریکا جا رہے ہیں جن کا تمام انتظام ہمارے ذمہ ہے آپ چائے نوش کریں ہم اتنی دیر میں آپ کے تبادلے کے آرڈر ان سے کراتے ہیں چنانچہ انھوں نے فون کر کے اپنا نائب قاصد آرڈر لینے کے لئے سیکریٹریٹ روانہ کر دیا ارے بھائی کمال ہو گیا ابھی آپ چائے بسکٹ تناول فرما رہے تھے کہ نائب قاصد آرڈر لے کر آگیا بے حد مسرت ہوئی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان تنصرو اللہ ینصرو کم یعنی تم اللہ کی مدد کرو گے اللہ تمھاری مدد کرے گا دراصل اللہ کے دین کی نصرت کرنا اللہ کی مدد کرنے کے مترادف ہے اور اللہ نے اپنی مدد کا وعدہ یوں پورا کیا ایک کام جو خاصا مشکل تھا کیونکہ دوہرا تبادلہ کرانا تھے تونسہ کالج کے پروفیسر حامد فریدی صاحب کو ان کے قریب ترین کالج کوٹ ادو میں ٹرانسفر کرانا تھا اوروہ بھی ٹی۔اے۔ڈی۔اے کے ساتھ اور پھر ان کی جگہ بھکر سے تونسہ آپ نے اپنا تبادلہ کرانا تھا لیکن یہ سب کچھ تھوڑی ہی دیر میں تائیدِایزدی کے باعث خوشی خوشی ممکن ہو گیا ۔تبادلے کے احکام لے کر خوشی خوشی بھکرپہنچے وہاں سے ریلیونگ یعنی فراغت نامہ لے کر اور الوداعی پارٹی سے محظوظ ہو کر اپنے شاگردوں کے جلوس میں ریلوے سٹیشن بھکر پہنچے سامان اٹھوانے ، لدوانے اور سٹیشن پر بکنگ کرانے کی ساری خدمت شاگردوں نے کی چنانچہ اپنے خاندان کو واپس لے کر تونسہ روانہ ہو گئے۔ تونسہ میں گورنمٹ انسٹی ٹیوٹ آف کامرس میں جائیننگ ہوئی تو سب احباب بہت خوش ہوئے خیر مقدمی دعوت کے بعد طلبا سے تعارف ہوا اور سلسلۂ تدریس آغاز ہو گیا یہاں بڑی محبت اور خوب لگن سے پڑھاتے رہے انچارج تقریبات بھی آپ کو نامزد کیا گیا اور مسجد کمیٹی کے چیئر مین بھی مقرر ہوئے۔ ادارہ کے بالکل سامنے سڑک کے عقب میں والد صاحب سے ایک سکنی پلاٹ مناسب قیمت پر خریدا اور وہیں مسکن بنا لیا پلاٹ مفت میں بھی مل سکتا تھا بلکہ اس کی پیش کش بھی کی گئی لیکن آپ نے قبول نہ کی کیونکہ اس سے دیگر بہن بھائیوں کی حق تلفی کا امکان تھا یہیں ایک اپنی دکان بھی بنوائی اور فاتح کتاب گھر کو اس میں منتقل کیا پھر یوں ہوتا کہ پیریڈ پڑھانے کے بعد یا اس سے پہلے جو زائد وقت ہوتا دکان میں گزرتا یہاں محفلیں لگنے لگیں پرانے اور نئے شاگرد یہاں آنے لگے اب کی بار جو نو جوان حلقۂ شاگردان میں داخل ہوئے ان میں جاوید امجد ، شبیر ناقد ، کاہش کشفی اور تنویر مونس کے نام قابلِ ذکر ہیں کچھ عرصہ بعد بی،ایم۔پی کے جمعدار غلام قادر بزدار صاحب جن کا شمار عظیم دانشوروں میں ہوتا ہے بھی آنے جانے لگے پہلے ان کے مشورے پر معروف بلوچ شاعر علی محمد چگھا بزدار کے بلوچی کلام کا منظوم اردو ترجمہ ’عکاسِ فطرت‘ کے نام سے کیا جسے انھوں نے ۱۹۹۶ء میں شائع کرایا پھر ’ہفت رنگ‘ کے نام سے سات بلوچ شعراء کی مختلف اصناف کا منظوم اردو ترجمہ کیا اسے بھی ۱۹۹۸ء میں غلام قادر خان بزدار نے شائع کرایا اور کچھ عرصہ بعد غلام قادر بزدار بھی شاعری کرنے لگے اور پروفیسر صاحب کی باقاعدہ شاگردی اختیار کر لی انھیں آپ شاگردِ بزرگ کے نام سے یاد کرتے ہیںکیونکہ وہ عمر میںآپ سے دس بارہ سال بڑے ہیں لیکن انھوں نے استاد کی خدمت میں کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔
تدریسی اور ادبی کاوشوں کے ساتھ ساتھ رفاہی کاموں میں بھی حصہ لیتے رہے ۱۹۸۸ء میں ایک اور رفاہی ادارہ تنظیم انسدادِ مظالم کے نام سے قائم کیا جو اکثر و بیشتر نوجوانوں پر مشتمل تھا اس میں حمیداللہ سکھانی ، محمد اشرف مچھلی والے ، سیف اللہ سکھانی اور دیگر کئی متحرک نوجوان شامل تھے جہاں کہیں کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہوتی یہ تنظیم اس کی مدد کرنا اپنے لیے ضروری سمجھتی اس کے باعث کئی بد عنوان افسروں کے تبادلے ہوئے ایک نا جائز چوکی ختم کی گئی جو لوگوں سے ناجائز ٹیکس وصول کرتی تھی اور لوگ اس کی کارستانیوں سے تنگ تھے۔فاتح کتاب گھر میں بھی علمی و ادبی سرگرمیاں جاری رہیں مستحق طلبا جو پڑھنے کے شوقین تھے انھیں فری ٹیوشن بھی پڑھائی جاتی تھی اس کارِ خیر سے کئی نوجوانوں نے استفادہ کیا اور پڑھ لکھ کر روزگار کے قابل ٹھہرے ۔
بزمِ فروغ ِ ادب کی سرگرمیاں بھی جاری رہیں کئی نئے شاگرد بھی حلقۂ شاگردی میں شامل ہوئے جن میں اشرف اقبال ، اشرف سکھانی ، اشرف مغل ، محمد شکیل احمد ، محمد اسماعیل معتوب ، یاسر الطاف یاسر ، غضنفرعباس ریحان ، غضنفر علی ضیغم ، عبدالمجید مضروب ، شاہد ماکلی اور کاہش کشفی وغیرہ شامل ہیں ۔
شاہد ماکلی ایک بڑے باصلاحیت نوجوان ہیں انھوں نے بہت جلد بہت کچھ سیکھ لیا وہ اس زمانے میں یو نیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں بی ایس سی انجنیئرنگ کر رہے تھے وہاں کے حلقۂ شعرو ادب سے بھی انھوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور مقبولیت حاصل کر لی اپنی یونیورسٹی کے میگزین کی ادارت سنبھالی اور اسے احسن انداز میں شائع کرایا اسی دور میں ان کا اپنا شاعری مجموعہ ’’موج‘‘ کے نام سے شائع ہوا جس کی مالی معاونت ان کے اہلِ شعبہ نے بھی کی شاہد ماکلی کی تحریک پر استاد صاحب نے اپنی چوتھی کتاب ’’ساری بھول ہماری تھی‘‘ چھپوائی جس کی ترتیب و تدوین ، انتخاب اور پیش لفظ لکھوانے نیز چھپوانے کا سارا انتظام خود شاہد ماکلی نے سنبھالا یہ کتاب نہایت پسندیدہ ٹھہری اور عوام و خواص میں بہت مقبول ہوئی اس کے بعد تو گویا کتابوں کے سلسلے شروع ہو گئے۔
آپ کی ایک اور کتاب ’ سنہرے خواب مت دیکھو‘ ۲۰۰۴ء میں لاہور سے شائع ہوئی جس کا انتخاب اکثر و بیشتر سنئیر شاگرد حفیظ اللہ قلزم کی محنت کا ثمرہ رہا۔ شاگردوں میں محمد شکیل احمدؔ کی کتاب ’ دھوپ سروں تک آ پہنچی‘ محمد تنویرالزمان کی کتاب ’ پلٹ کر دیکھنا ہو گا‘ اور شبیر ناقد کا شعری مجموعہ ’ صلیبِ شعور‘ اِسی دور میں منصۂ شہود پر آئیں۔
بعد ازاں فاتح صاحب کے حمدیہ کلام پر مشتمل کتاب ’روح تیرے مراقبے میں ہے‘ شائع ہوئی اور پھر نعتیہ کلام پر مشتمل کتاب ’ سلام کہتے ہیں ‘ طباعت پذیر ہوئی ۔ یہ دونوں کتابیں ریشمی کاغذ اور اسفنجی جلد کے ساتھ لاہور سے چھپوائیں گئیں ۔
منگڑوٹھہ سے تعلق رکھنے والے عطا الرحمان عرف رحمان رضا چغتائی اور مالک اشتر نے بھی زانوئے تلمذ تہ کیا اور پھر ان دونوں کے اردو شعری مجموعے ’اور پھر بیاں اپنا ‘ اور ’ ہاتھ ہمارے قلم ہوئے‘ شائع ہوئے۔ ان کے بعد شبیر ناقدؔ کی مزید کتابیں ’ من دی مسجد‘ سرائیکی مجموعۂ کلام اور ’ جادۂ فکر‘ اردو مجموعۂ کلام منظرِ عام پر آئیں۔
۲۰۰۵ء میں والد کا انتقال ہوا اور اُس سے اگلے سال والدہ کی رحلت ہوئی۔ ۲۰۰۷ء میں فاتح صاحب کا اردو شعری مجموعہ ’ کچھ دیر پہلے وصل سے‘ شائع ہوا اور ۲۰۰۸ء میں سرائیکی شعری مجموعہ ’ اساں بہوں دور ونجنڑاں ہے‘ منظرِ عام پر آیا ۔ ۲۰۰۹ء میں اردو غزلوں کا مجموعہ ’ محرابِ افق‘ کے نام سے چھپوایا ۔ اِسی اثنا میں محمد اسماعیل فیض ہادیؔ نے بھی شعر کہنا آغاز کیا اور استاد صاحب کی شاگردی اختیار کی ۔ اسماعیل ہادی کے کئی شعری مجموعے بھی منظرِ عام پر آئے۔ جن میں ’ قافلے مدینے کے (نعتیہ کلام)‘ ، ’سبحان اللہ سبحان اللہ( حمدیہ کلام)، اور ’ہر دم تِرے خلوص کی خوشبو رہے علی‘ منقبتِ علی مشہور ہیں ۔
علاوہ ازیں غلام قادر خان کی شخصیت اور فن پر کتابِ منظوم ’ کہسارِ ادب‘ اور پروفیسر جناب ظہور احمد فاتح کی شخصیت اور فن کے بارے میں منظوم مجموعۂ کلام ’ نازشِ اربابِ ادب ‘ شائع ہوا ۔ تونسہ کے ایک اور نوجوان شاعر شفیق احمد آرزوؔ بھی دبستان کا حصہ بنے ۔ یوں آپ درجنوں شاگردوں کو اصلاح سے مستفید فرماتے رہے ۔ آپ کی شہرت چہار دانگ بڑھتی چلی گئی ۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان شاعر ۲۰۱۰ء سے آپ کے حلقۂ شاگردان میں شامل ہوئے ان کے نام محمد اقبال جعفر ( موسیٰ خیل) سے اور عادل حسین عادل (پنج گور) سے ہیں ۔ محمد اقبال جعفر کا شعری مجموعہ ’ خیمۂ جاں ‘ کے نام سے منظرِ عام پر آ چکا ہے ۔ کوٹ ادو سے تین شعراء نے بھی شاگردی اختیار کی جن میںپروفیسر عطا محمد عطاؔ ، قاضی راشد اور مہدی حسن مہدی ہیں ۔ کوٹ ادو کے ایک اور شاعر انجم صاحب بھی دبستانِ فاتح کا حصہ بنے۔ ۲۰۱۲ء میں کوٹ قیصرانی سے تعلق رکھنے والے نوجوان نعیم نازش جو بورڈ آف ایجوکیشن ڈیرہ غازی خان میں ملازمت کرتے ہیں اور زیادہ تر اردو میں لکھتے ہیں فاتح صاحب سے اصلاح لینے لگے اسی اثنا میں استاد فاتح کی ۱۸ گریڈ میں ترقی بھی ہو گئی ۔ نئے شاگردوں میں واجد درانی اور ایک دو مزید تلامذہ کا اضافہ ہوا۔
اِسی طرح مستورات میں جن خواتین نے آپ سے اصلاح لی ان کی فہرست حسب ذیل ہے۔
۱۔ رضیہ یقین ۲۔ آمنہ امر ۳۔ بلقیس زیب
۴۔شگفتہ ہما ۵۔طاہرہ طیبہ ۶۔قاہرہ قدسیہ
۷۔سدرۃالمنتہیٰ ۸۔ افشاں حنا ۹۔ مہک حبیب
۱۰۔شبنم اعوان ۱۱۔ ایمان قیصرانی
شائستہ سحر کے کلام کی اصلاح بھی ان کے استادشبیر ناقدؔ کے توسط سے فرماتے رہے۔ فاتح کتاب گھر اپنی جملہ علمی ، ادبی اور سماجی رفاہی سرگرمیوں سمیت مصروفِ کار رہا۔ اِسی اثنا میں آپ نے اسلامیات میں ایم ۔ فل بھی کر لی۔ بطور پرنسپل آپ کی ترقی ہوئی تو ادارے کا انتظام مزید بہتر ہو گیا ایسے چند حضرات سٹاف میں سے جو ڈیوٹی سے جی چرانے والے تھے وہ بھی اچھے طریقے سے ڈیوٹی دینے لگے ۔ اُس وقت ریجنل ڈائریکٹر نے آپ کے پرنسپل بننے کی مخالفت کی اور دھونس جمانے کی کوشش کی مگر آپ نے اُسے بری طرح ڈانٹ دیا۔ آپ نے فرمایا وزیرِ اعلیٰ کے دستخطوں سے جاری ہونے والے آرڈرز کی خلاف ورزی کرانے والے آپ کون ہوتے ہیں ؟ اِس پر وہ جھینپ گیا ۔ چھ ماہ بعد سیکریٹری ٹیپٹا کا کوئی ہم پیالہ و ہم نوالا اپنے نالائق بیٹے کی ملازمت کے لئے آپہنچا اور سیکریٹری ٹیپٹا کا حوالہ بھی دیا مگر آپ نے اُس کی بات ماننے سے انکار کر دیا ۔ لہٰذا وہ جل بھن کر اپنے یار کے پاس پہنچا اور بری طرح شکایت کی جس کے باعث سیکریٹری ٹیپٹا نے بطورِ چیف انسٹریکٹر آپ کا تبادلہ ڈیرہ غازی خان کر دیا۔ آپ عدالتِ عالیہ چلے گئے اور سیکریٹری ٹیپٹا کے خلاف مقدمہ کر دیا جس کے نتیجے میں اس کی طلبی ہوئی وہ تبادلہ منسوخ کرنے پر مجبور ہو گیا۔ البتہ اس نے اس میں ترمیم یہ کی کہ چیف انسٹریکٹر والی ڈیرہ غازی خان والی سیٹ جس پر آپ کا تبادلہ ہوا تھا۔ جی ۔ سی ٹی ۔ آئی تونسہ میں منتقل کر دی یوں انیسویں گریڈ میں آپ خدمات انجام دینے لگے۔ اِسی اثنا میں ہمشیرہ کی درخواست پر فاتح کتاب گھر اُن کے بیٹے کو دے دیا جسے وہ نااہل سنبھال نہ سکا اور تھوڑے ہی عرصے میں ربع صدی قائم رہنے والا ایک شاندار ادارہ ختم ہو کے رہ گیا ۔ آپ نے پی۔ ایچ۔ ڈی میں داخلہ لے لیا اور اوقاتِ فراغت کارِ تحقیق میں صرف ہونے لگے۔
اسی اثنا میں ارشد تونسوی نے بھی زانوئے تلمذ تہ کیا ۔ وہ پہلے سرائیکی زبان میں لکھا کرتے تھے اور ریاض عصمت سے اصلاح لیتے تھے ۔ اب اردو کی رہنمائی کے لئے انھوں نے استادِ محترم کا انتخاب کیا ۔ غلام محمد عادل بھی اِس عہد میں دبستانِ فاتح کا حصہ بنے۔ دو اور نوجوان شاعر جو آپس میں بھائی تھے یعنی فاروقِ اعظم کنول اور عبد الشکور انجم بھی اصلاحِ کلام کے لئے شاملِ دبستان ہوئے۔ یہ دونوں نوجوان سرائیکی زبان میں زیادہ تر ڈوہڑے وغیرہ لکھنے والے ہیں ۔ بڑے بھائی عبد الشکور انجم تھوڑے عرصے بعد راہیٔ ملکِ عدم ہو گئے اور فاروقِ اعظم حصولِ تعلیم کے لئے کراچی چلے گئے ۔ کم و بیش ۲۰۱۴ء میں راقم الحروف یعنی محمد اشفاق مشفقؔ دبستانِ فاتح کا حصہ بنے ۔ افتادِ طبع زیادہ تر اقبال کے رنگ کی طرف مائل تھی ۔ چنانچہ مزاجی موافقت کے باعث جنابِ فاتح نے بھرپور حوصلہ افزائی اور پذیرائی فرمائی۔ ۲۰۱۴ء میں جناب نے ریٹائرمنٹ حاصل کی اور گھر ہی میں خدمتِ حرف پر کمربستہ رہے۔ پہلے سے موجود کلام کی کمپوزنگ کئی افراد کے ذمہ رہی پھر پروف ریڈنگ اور ایڈیٹنگ کی ذمہ داری بھی سنبھال لی۔ کم و بیش چھ کتب ایسی ہوں گی جنھیں راقم نے تیار کیا اور کچھ اردو سخن ڈاٹ کام پر آن لائن جا چکی ہیں۔ ان کتابوں کے نام حسب ذیل ہیں۔
۱۔ اب پچھتائے کیا ہووت ہے( ہندی کویتا) ۲۔ گلاں گوڑیاں( پنجابی کلام)
۳۔ نسیمِ حجاز ( دینی شاعری) ۴۔ سرودِ رفتہ ( فارسی شاعری)
۵۔ دانائے راز( قومی شاعری) ۶۔ شمیم الوفا( عربی شاعری)
واضح رہے کہ ابوالبیان ظہور احمد فاتح نے سات زبانوں میں شاعری فرمائی ہے ۔ سب سے زیادہ اردو میں ، اس کے بعد سرائیکی میں اور ایک ایک مجموعۂ کلام عربی ، فارسی ، ہندی ، پنجابی اور انگریزی میں رقم کیا ہے۔
۲۰۱۵ء میں منگڑوٹھہ شرقی کے ایک شاعرعمر فاروق عمرؔ نے زانوئے تلمذ تہ کیا جو اردو زبان میں شاعری کرتے ہیں ۔ اِسی سال ہی ڈیرہ غازی خان کے ایک سرائیکی کے شاعر اکرم زروؔ بھی حلقۂ شاگردان میں شامل ہوئے ۔ اِسی سال فاتح صاحب کے ایک اور شاگرد زین عزیز سیال جو تقریر لکھوانے کے حوالے سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کی شخصیت سے اتنے متاثر ہو کر روزانہ باقاعدگی کے ساتھ آپ سے حصولِ علم کے لئے آتے اور احادیث و ادبی کتب کا مطالعہ کرتے، یہ ایک بہت ہی اچھے نعت خوان ہیں۔ اِن کی آواز بہت سریلی ہے یہ بزمِ فروغِ ادب تونسہ شریف کے اجلاس میں بھی شرکت کرتے اور راقم الحروف اور فاتح صاحب کی غزل گا کر سناتے رہے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم محمد ارسلان ساحل بھی دبستانِ فاتح کا حصہ بنے ۔ یہ اردو میں شاعری کرتے ہیں اور علامہ اقبال کے رنگ میں شعر کہنا انھیں بہت پسند ہے۔ انھوں نے اردو نثر بھی لکھی ہے اور اُن کی کتاب ’’ اس راہ پر میں کیوں چلوں؟‘‘ ان کے اردو شذرات کا مجموعہ ہے۔
۲۰۱۵ء میں جناب فاتح صاحب اپنی چھوٹی بیٹی سے ملنے لاہور تشریف لے گئے وہاں پی ٹی وی کے پروگراموں میں بھی شرکت کی جن میں پنجاب رنگ اور نیلام گھر شامل ہیں ۔ قبل ازیں ۲۰۱۴ء میں پی ٹی وی کے ایک پروگرام ’ رات گئے‘میں وصی شاہ نے آپ سے ایک تفصیلی انٹرویو لیا تھا ۔ یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ متعدد مواقع پر اِس سے پہلے بھی ریڈیو اور ٹی وی کے پروگراموں میں شرکت فرماتے رہے مثلاََ ریڈیو پاکستان اسلام آباد کے پروگرام ’’ عزمِ جواں ‘‘ میں انٹرویو دیا تھا ۔ اِسی طرح ریڈیو پاکستان ملتان والوں نے بھی یہاں تونسہ آ کر اپنے ایک ثقافتی میلے میں آپ کا انٹر ویو ریکارڈ کیا تھا ۔ بعد ازاں پی ٹی وی کوئٹہ ، روہی چینل ملتان میں بھی آپ کا مفصل انٹر ویو لیا گیا تھا۔
لاہور میں قیام نے جب ذرا طول کھینچا تو راقم آپ کے بغیر اداس رہنے لگا اور اِسی اداسی کی یادگار یہ ایک نظم ہے۔
سر ظہور احمد فاتح کی یاد میں
اگرچہ دور ہو ہم سے تمھاری یاد ہے دل میں
تمھیں میں لا نہیں سکتا مگر فریاد ہے دل میں
مرے صاحب ، مرے فاتح ہوکیسے ہم نشیں میرے
جہاں اتنی رفاقت ہے تو رستے ہیں جدا کیسے
گریزاں میں ہوں دوری سے مگر تم دور بیٹھے ہو
کہو تم بھی مِری صورت برہ کا جام پیتے ہو
ذرا جلدی چلے آؤ کہ میں بے چین بیٹھا ہوں
چھلکتے اشک اپنے اور آہیں روک لیتا ہوں
نظر کو کچھ نہیں بھاتا ، زباں سے کچھ نہیں کہتا
میں تنہائی میں رہتا ہوں کسی کی کچھ نہیں سنتا
ہواؤں سے گزارش ہے مِرا پیغام دیں تم کو
گزرتا ہے جو دل پر حال سارا وہ کہیں تم کو
استاد صاحب نے بتایا تھا کہ وہ یہ نظم سن کر خود بھی آبدیدہ ہو گئے تھے۔
راقم الحروف کو یہ شوقِ شدید رہا کہ استاد صاحب کی کتب کی کمپوزنگ خود کروں چنانچہ ۲۰۱۵ء میں راقم کی کمپوز کی ہوئی پہلی کتاب ’ نسیمِ حجاز‘ زیورِ اشاعت سے آراستہ ہوئی تو یہ کسی سرمایۂ مسرت سے کم نہ تھا۔ ۲۰۱۵ میں ہی آپ نے تین مکانات تبدیل کیے جن میں سے دو کا سودا لگ گیا تھا ۔ دراصل استاد صاحب کا یہ بھی دلچسپ مشغلہ رہا ہے کہ جب رہائشی مکان کے اچھے دام ملنے لگتے تو آپ اُسے فروخت کر دیتے اور ایک نیا مکان تعمیر کر کے اُس میں رہائش پذیر ہو جاتے ۔ راقم کی ذاتی معلومات کے مطابق آپ نے چھ مکانات اس طرح بنوا کر فروخت کیے ہیں ایک دو نئے مکانوں میں تو منتقل ہونے کی نوبت ہی نہ آئی تھی کہ ان کا سودا لگ گیا۔ جائیداد کی خرید و فروخت آپ کا ذیلی کاروبار رہی ہے۔
۲۰۱۶ء میں تعمیرِ نو اکیڈمی کے سامنے واقع مکان میں منتقل ہو گئے اور یہاں کم و بیش ایک سال کا عرصہ گزارا ۔ اِسی اثنا میں پی ایچ ڈی کا اپنا مقالہ جمع کرانے کے لئے کوئٹہ تشریف لے گئے اور ہفتہ سے زیادہ کا عرصہ وہاں رہ گئے یہ دور بھی راقم کو بہت شاق گزرا اور اداسی نے یہاں بھی ایک نظم لکھوا دی۔
اسی سال عید الفطر اور عید الاضحی کے مواقع پر راقم نے دو مختلف غزلیں رقم کی تھیں اور ان کی اصلاح برموقع حاصل کی تھی۔ عید الفطر کے موقع پر لکھی گئی نظم پیش کیے دیتے ہیں۔

لقائے عید
جو عید کا لطفِ عام آیا
میں پیش کرنے سلام آیا
گلے سے مجھ کو لگا لو فاتح
میں دل سے کرنے کلام آیا
مجھے ہے تجھ سے ملی محبت
نہ بھول پاؤں گا کوئی ساعت
یہ کیسا جذبہ ہے تُو نے بخشا
کہ بڑھتی جائے مِری محبت
ہزار عیدیں تجھے مبارک
جہان سارا کہے مبارک
ہے تیرا گلشن بہار ساماں
بہار تجھ کو رہے مبارک
اِسی سال ہی عارف ملغانی کی دعوت پر وسیب چینل میں انٹر ویو دینے کے لئے کچھ اور شعراء کے ہمراہ ملتان تشریف لے گئے تھے اور وہاں بھی کلام سنانے کے ساتھ ساتھ جامع انٹر ویو بھی ہوا تھا جسے ناظرین کرام نے بہت پسند کیا تھا ۔ اِسی سال کے آخر میں ایک طالب علم یاسر جنجوعہ یاسر راقم الحروف کا شاگرد بنا تھا ۔ یہ راقم الحروف کا وہ شاگرد ہے جس نے سب سے پہلے اصلاحِ کلام کے لئے شاگردی اختیار کر لی ۔ اس کے کلام کی اصلاح کرنے کے بعد راقم اُسے استاد صاحب سے نظر ثانی کرایا کرتا ہے۔ اِسی سال آپ کے شاگردِ رشید کاہش کشفی نے ایک ادبی تنظیم ’ادب آموز عالمی‘ کی داغ بیل ڈالی جو کم و بیش ایک سال تک بحال رہی ۔ایک اور سنگِ میل ۲۰۱۶ء کی یاد گار کے طور پر کتاب ’خراجِ خلوص‘ ہے یہ کتاب استاد محترم پر لکھے گئے مختلف ادبا و شعرا کے شذرات و منظومات پر مشتمل ہے جنھیں راقم نے مدون کیا ہے اور یہ ایک دو خواندگی کے بعد اردو سخن ڈاٹ کام پر برقی کتاب کی صورت میں لگا دی گئی ۔ یہ کتاب استاد صاحب کی نسبت سے ایک شاندار کتابِ حوالہ ہے جس سے محقیقین اور دیگر شائقینِ مطالعہ خاصا استفادہ کر سکتے ہیں ۔ اِس کتاب کے علاوہ اور بھی بہت سی کتبِ حوالہ آپ کی نسبت سے موجود ہیں ۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے میں یہاں ان کا ذکر کرنا ضروری خیال کرتا ہوں۔
۱ ابوالبیان ظہور احمد فاتح کا کیفِ غزل ( شبیر ناقدؔ)
۲ دبستانِ فاتح حصہ اول ( غلام قادر خان بزدار)
۳ نازشِ اربابِ ادب ، منظوم( محمد اسماعیل فیض ہادیؔ)
۴ وسیبی سخن ور جلد سوئم( دلبر مولائی)
۵ لائف از سٹرگل ناٹ کمپلینٹ، مقالہ ( شازیہ عطا)
۷ دبستانِ فاتح حصہ دوئم ( غلام قادر خان بزدار)
۸ تین نابینا شاعر، مقالہ ( ڈاکٹر راشدہ قاضی)
۹ تذکرہ شعرائے تونسہ ( جسارت خیالی)
۱۰ نقدِ فن( شبیر ناقدؔ)
۱۱ ابوالبیان ظہور احمد فاتح کا منشورِ نظم( شبیر ناقد)
۱۲ دبستانِ فاتح حصہ سوئم ( غلام قادر خان بزدار)
۱۳ مردِ سخن ساز ، زیرِ طبع ( رحمان رضا چغتائی)
۱۴ میزانِ تنقید( شبیر ناقدؔ)
۱۵ تنقیدات ( شبیر ناقدؔ)
۱۶ دبستانِ فاتح حصہ چہارم( محمد اشفاق مشفقؔ)
۱۷ جویائے دانش( محمد اشفاق مشفقؔ)
۱۸ زندگی ہے سعیِ پیہم، مقالہ( شمع نورین)
۱۹ ظہور احمد فاتح کی شعری خدمات ، مقالہ ایم فِل ( عبداللطیف قیصرانی)
۲۰ تنقیدی آئینے ( شاعر علی شاعر)
۲۱ شبیر ناقد کی اردو تنقید نگاری کا جائزہ (غلام عباس)
بزمِ فروغِ ادب تونسہ شریف جس کا حوالہ قبل ازیں آ چکا ہے ربع صدی روبکار رہنے کے بعد عملاََ ایک عرصے کے لئے غیر فعال ہو کر جمود کا شکار ہو گئی تھی اِس کی بحالی کا مسئلہ کئی بار تلامذہ میں زیرِ بحث آیا یہ بزم استادِ مکرم کو تو ویسے بھی بہت عزیز تھی کیونکہ آپ اِس کے بانی و سرپرست رہے تھے۔ شکیل احمد سکھانی اور محمد اسماعیل فیض ہادی بھی بزم کو پھر سے فعال بنانے کے لئے فکر مند تھے چنانچہ ۲۰۱۷ ء کے آغاز میں ایک اجلاس بسلسلہ ہٰذا ابوالبیان ظہور احمد فاتح کے ہاں منعقد ہوا جس میں استاد صاحب کے علاوہ شکیل احمد سکھانی ، شبیر ناقد ، محمد اسماعیل فیض ہادی ، رحمان رضا چغتائی ، جمیل رضا قاسم ، زین عزیز سیال اور فاروقِ اعظم کنول نے شرکت کی اور آئندہ کے لائحۂ عمل کے بارے میں غور و خوض کیا ۔ چنانچہ یہ طے پایا گیا کہ آئندہ بزمِ فروغِ ادب تونسہ کے اجلاس بضابطہ ۱۵ روزہ شعری نشستوں کی صورت میں ضرور جاری رکھے جائیں گے اور عزم بالجزم کیا گیا کہ اِس کے لئے ہر شریک ممبر پوری پوری کوشش کرے گا۔ چنانچہ مقررہ تواریخ پر یہ اجلاس جاری و ساری ہو گئے اور ہر اجلاس پہلے سے بہتر انداز میں انجام پانے لگا۔ پروفیسر ظہور احمد فاتح بزم کے تاحیات سرپرستِ اعلیٰ قرار پائے اور مشاورت کے ساتھ شکیل احمد سکھانی بزم کے نئے صدر مقرر ہوئے اِس طرح جنرل سیکریٹری کی ذمہ داری محمد اسماعیل فیض ہادی نے سنبھال لی اور جمیل رضا قاسم سیکریٹری نشر و اشاعت قرار پائے ۔ رحمان رضا چغتائی نائب صدر اول اور فیض محمد فیض نائب صدر دوئم منتخب ہوئے ۔ یہ بھی قرار پایا کہ قومی تقاریر اور شعراء کے یادگار ایام کے مواقع کی نسبت سے بھی بفا یعنی بزمِ فروغِ ادب اپنی ذمہ داریاں نبھاتی رہے گی ۔ زین عزیز سیال اور جمیل رضا قاسم بطور گلوکار و نعت خوان اجلاسوں کی زینت بڑھاتے رہے ۔ کبھی حمد و نعت اور کبھی غزل و ترانہ سنا کر سامعین سے داد و تحسین پاتے رہے ۔ علاوہ ازیں ہر اجلاس میں مہمان شعرا اور نو واردانِ ادب کی بھی شرکت جاری رہی۔
ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن نے بھی ایک اجلاس میں اپنے ساتھی محبوب جھنگوی کے ہمراہ ڈیرہ غازی خان سے آ کر ہماری ایک محفل میں شمولیت کی اور بزمِ فروغِ ادب کی کارروائی سے بہت متاثر ہوئے ۔ بزم ہٰذا کے ایک اور رکن استادِ محترم کے شاگردِ رشید کرامت حسین کششؔ نے بھی اپنی خوش نوائی کے ساتھ مختلف پروگراموں میں نظمیں پڑھ کر خوب داد وصول کی اور بزم کی رونق بڑھائی۔ چنانچہ ایک اجلاس میں جناب فاتح صاحب نے انھیں بلبلِ بزمِ فروغِ ادب کا خطاب عطا فرمایا۔ بزم کے ایک اجلاس میںعلامہ اقبال اور جون ایلیا کی نسبت سے مضامین پڑھے گئے ۔ کلامِ اقبال ترنم سے ادا کیا گیا ۔ بطورِ خاص ان کی نظم خودی کا سرِ نہاں لا الہٰ الا اللہ دو مختلف حضرات نے ایسی وجد آفرین کیفیت سے ادا کیا کہ پوری بزم جھوم اٹھی اور ساتھ ہی لا الہٰ الا اللہ میں ہمنوائی کرنے لگی۔بزم کے اجلاسوں کی کارروائی مختلف اخباروں کی زیت بنتی رہی ہے ۔ خصوصاََ اخبار روز نامہ المنظور تونسہ اسے خصوصی کوریج دیتا رہا ہے جس میں شعرا کی تصاویر اور ان کا نمونۂ کلام بھی شامل کیا جاتا رہا ہے۔ بزمِ فروغِ ادب کے کچھ ابتدائی اجلاس شکیل احمد سکھانی کے ہاں ہوئے ۔ ایک دو سٹی فوڈ کلب میں بھی ہوئے اور اس کے بعد باقاعدہ دفتر المنظور تونسہ میں اجلاس ہوتے رہے ۔ ایک مرتبہ یہ اجلاس ایڈووکیٹ غلام اصغر لنگراہ کے چیمبر میں بھی ہوا ۔ گزشتہ دنوں یہ بھی غور کیا گیا کہ شرکا کی تعداد بڑھ جانے کی صورت میں بزم کے اجلاس کہاں ہوں گے؟ اِس سلسلے میں بلدیہ تونسہ کا جناح ہال، وکلا کا میٹنگ ہال اور عبدالرحمان سیال کے رحمان ٹریول کے قریبی ہال امکانی طور پر زیرِ بحث لائے گئے ۔ بزمِ فروغِ ادب کی آن لائن اپروچ کے سلسلے میں راقم الحروف محمد اشفاق مشفق نے بزمِ فروغِ ادب تونسہ شریف کا ایک میسنجر گروپ قائم کیا گیا۔ جسے اب فیس بک گروب میں منتقل کر دیا گیا ہے جس میں بہت سے شعرا کی شرکت رہتی ہے جس کی ذمہ داری راقم الحروف نے سنبھال رکھی ہے اِس میں بھی بزم کے پروگراموں سے تعلق جڑا رہتا ہے اور راقم الحروف نے یوٹیوب پر بھی بزمِ فروغِ ادب کا چینل بنایا ہوا ہے
راقم الحروف کو یہ سعادت حاصل ہے کہ تدریسی اوقات کے علاوہ شام تک جتنا وقت بھی ممکن ہوتا ہے استادِ محترم پروفیسر ظہور احمد فاتح کے ہاں ان کی معیت میں گزرتا ہے ۔ یہاں زیادہ تر ان کے ہی متعلقہ امور و کار ہائے خدمت انجام دیے جاتے ہیں مثلاََ کمپوزنگ ، پروف ریڈنگ ، کتابوں کی سیٹنگ اور فہرست و ترتیب وغیرہ ۔ یہ راقم کی خوش نصیبی ہے کہ اپنے مرشدِ ادب سے زیادہ سے زیادہ فیض یاب ہونے کے مواقع حاصل ہیں ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ معلمِ سخن کے دوسرے تلامذہ اِس معاملے میں رشک محسوس کرتے ہیں اور کہتے ہیں کاش! ہمیں بھی قربت و خدمت کے یہ مواقع میسر ہوتے ۔
بعض ناگزیر وجوہ کی بِنا پر بزمِ فروغِ ادب کی تشکیلِ نَو کرنا پڑی کیونکہ شکیل احمد بوجہ ذاتی رنجش بزم کی صدارت سے مستعفی ہو گئے اُن کی جگہ ارشد تونسوی نئے صدرِ بزم کے طور پر منتخب کیے گئے وہ بھی بڑے بھرپور انداز میں بزم کو چلا رہے ہیں اور باقاعدہ پندرہ روزہ اجلاس ہوتے رہتے ہیں جن میں مہمان شعرا کی شرکت بھی ہوتی رہتی ہے۔
شخصی اعتبار سے راقم نے ابوالبیان ظہور احمد فاتح کو ایک ہنستا مسکراتا پُر بہار انسان پایا ہے لیکن گاہے گاہے وہ ہماری فروگزاشتوں پر برہم بھی ہوتے ہیں اور زجر و توبیخ کی نوبت بھی آتی ہے مگر یہ کیفیت چند ثانیوں سے زیادہ نہیں ہوتی۔ وہ شعر و ادب کا ایک بحرِ عمیق ہیں اور ساعت بساعت خوشہ چینی کا موقع فراہم کرتے رہتے ہیں ۔ وہ اپنے تلامذہ کی تربیت پوری فکر مندی سے کرتے ہیں ۔ صرف فکری و فنی لحاظ سے نہیںبلکہ فلاحی و اصلاحی پہلو بھی ضرور مدِ نظر رکھتے ہیں ۔ ان کے قیمتی مشورے اور دلنشیں نصائح ہمارے لئے سرمایۂ جاں ہیں ۔
۲۰۱۷ء میں دبستانِ فاتح میں ایک اور اضافہ ہوا دراصل فیس بک کے ذریعے ایک دوشیزہ اریبہ فاطمہ راقم الحروف کے حلقۂ شاگردان میں شامل ہوئیں ۔ ان کا تعلق اقبال و فیض کی نگری سیالکوٹ سے ہے ۔ اریبہ فاطمہ ایک کتاب ’کامیابی کی طرف‘ کے نام سے تیار کر رہی تھیں جس کی اصلاح میں راقم نے خوب توجہ کی ۔ اسی سال انابیہ کنول بھی راقم الحروف کے حلقۂ شاگردان میں شامل ہوئیں جو کراچی سے تعلق رکھتی ہیں ۔
۲۰۱۸ء میں ایک اور باصلاحیت نوجوان فخرِ عباس فخر ابوالبیان ظہور احمد فاتح کے تلامذۂ شعر و ادب میں شامل ہوئے ۔ ان کا تعلق تحصیل تونسہ شریف سے ہے اور شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں ۔ آناََ فاناََ ان کا ایک مجموعۂ کلام ’ کرب‘ کے نام سے اشاعت کے لئے تیار ہو گیا جو کچھ عرصہ میں چھپ کر منظرِ عام آ گیا اور بزمِ فروغِ ادب کے اجلاس میں اس کی رونمائی کی گئی ۔ واضح رہے کہ بزم کے پندرہ روزہ اجلاس باقاعدگی سے ہوتے رہے جن میں کئی کتابوں کی تقریبِ رونمائی بھی ہوئی ۔
ایک خاتون شاعرہ حسینہ حرمتؔ بھی استادِ محترم کے حلقۂ شاگردان میں داخل ہوئی جس کا تعلق شہر تونسہ سے ہی ہے ۔ اسی سال راقم الحروف کی پہلی کتاب ’ نورِ حق‘ کے نام سے منصۂ شہود پر آئی جو ان کے چار سال کی اَن تھک کاوشوں کا ثمر تھی ۔ اِس کی تقریبِ رونمائی بزمِ فروغِ ادب کی طرف سے کرائی گئی۔ اِسی سال راقم الحروف کے حلقۂ شاگردان میں اضافہ ہوا جس میں سید کامران شیرازی جو بی۔ اے کا طالبعلم ہے اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھتا ہے زانوئے تلمذ تہ کیا۔
لبنیٰ سعید لبنیٰؔ ایک پاکستان نژاد خاتون ہیں جو امریکہ میں مقیم ہیں وہ فیس بک کے ذریعے راقم الحروف کی شاگردی میں آ گئیں ۔ یہ سال بندہ کے لئے بے حد اہمیت کا حامل ہے کیونکہ امسال پہلا مجموعۂ کلام شائع ہوا اور کئی شاگردانِ عزیز بھی حلقۂ تلامذہ میں شامل ہوئے ۔
۲۰۱۸ء میں دبستانِ فاتح میں ایک اور پیش رفت ہوئی حافظ خادم حسین جن کا تعلق ہیرو شرقی سے ہے اور بسلسلہ ملازمت اسلام آباد میں رہائش گزیں ہیں ۔ محترم فاتح جی کے تلامذہ میں شریک ہوئے ۔ یہ ایک مستقل نعت گو شاعر ہیں اور اصلاحِ کلام کے بعد اِس حد تک حوصلہ افزائی ہوئی کہ اپنا پہلا شعری مجموعہ ’ جواہرِ عقیدت‘ کے نام سے شائع کرایا چاہتے ہیں ۔ ایک اور باصلاحیت نوجوان طارق احمد طارقؔ جو چارٹرڈ اکاؤٹنگ میں لاہور میں زیرِ تعلیم ہے مگر جس کا وطن مالوف تونسہ شریف ہی ہے استادِ گرامی قدر کے تلامذۂ شعر و ادب میں شامل ہوا۔
اسی سال استادِ مکرم کے تین شعری مجموعے بھی منظرِ عام پر آئے جن کے نام ’ دھرتی اور سپوت‘ ، ’ نقشِ ثابت‘ اور ’سنجان ساکوں‘ ہیں مؤخر الذکر سرائیکی مجموعۂ کلام ہے۔
۲۰۱۹ء کا آغاز ہوا تو چند مزید نئے چہرے دبستانِ فاتح کا حصہ بنے ان میں سے ایک کا نام تیمور ضابط ہے جس کا تعلق تحصیل تونسہ سے ہے اور یہ انٹرمیڈیٹ کا طالب علم ہے ۔ اِسی طرح ایک اور نوجوان شاعر شکیل احمد حیدرؔ نے بھی فاتح صاحب کے حضور زانوئے تلمذ تہ کیا ۔ یہ دینی فکر رکھنے والا نوجوان ہنوز طالب علمی کے مراحل سے گزر رہا ہے ۔ یوں تلامیذِ ادب جو براہِ راست جناب ظہور احمد فاتح سے حصولِ فیض کر رہے ہیں ان کی تعداد ۷۵ کو پہنچ رہی ہے۔
۲۰۱۹ء کی پہلی ششماہی میں جو کتب دبستانِ فاتح کے حوالے سے منظرِ عام پر آئی ہیں ان میں سے ایک ’ دبستانِ فاتح حصہ چہارم‘ ہے جسے راقم الحروف نے مرتب و شائع کرنے کی سعادت حاصل کی ہے ۔ کتاب ہٰذا میں استاد صاحب کی نسبت سے ایک مکمل شذرہ شامل ہے ۔ اُن کے ایک شاگردِ رشید شبیر ناقدؔ کے حوالے سے بھی ایک تبصرہ زیبِ کتاب ہے جو بہت سی کتابیں لکھنے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ علاوہ ازیں استادِ مکرم کے تیرہ مزید شاگردوں کے تعارف و نمونہ ہائے کلام شامل ہیں ۔ اِس فقیر کے چھ تلامذہ کے تعارف و شعری نمونے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ کتاب ہٰذا عوامی ادبی حلقوں میں بے حد پسند کی گئی ہے ۔ ’دبستانِ فاتح حصہ چہارم‘ کی تقریبِ رونمائی کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔ اِس سلسلے میں مقالات بھی پڑھے گئے اور ایک مشاعرہ بھی ہوا جس میں دور و نزدیک سے بہت سے شعرا و ادبا نے شرکت فرمائی۔ دوسری کتاب ’ کنول کنول کھلا رہے ‘ کے نام سے ابوالبیان ظہور احمد فاتح کا اکتیسواں شعری و ادبی کارنامہ ہے جو ۱۶۰ صفحات پر مشتمل ہے ۔ تیسری کتاب استادِ محترم کا بتیسواں مجموعۂ کلام ’نقدِ شعور‘ کے نام سے منصۂ شعود پر آیا ہے اس میں اردو نظمیں اور غزلیں شامل کی گئی ہیں۔ چوتھی کتاب جو آپ کے خوبصورت ہاتھوں میں ہے ’جویائے دانش‘ ہے ۔ جو راقم کی تیسری کاوش ہے۔ اِس کتاب میں پوری شرح و بسط کے ساتھ استادِ مکرم پروفیسر ظہور احمد فاتح کے حالاتِ حیات اور شعری و ادبی خدمات کے حوالے سے کافی و شافی معلومات بہم پہنچائی گئی ہیں ۔
کتاب ہٰذا میں دبستانِ فاتح کے روشن ستاروں کے بارے میں تعارف شامل کئے گئے ہیں اور مختلف حضرات نے استادِ گرامی قدر کی نسبت جو شذرات و مقالات رقم کیے ہیں ۔ انھیں بھی شامل کیا گیا ہے ۔ یوں یہ راقم الحروف کی ترتیب کی حامل ایک وقیع کاوش ہے۔ استادِ محترم کو جہانِ شعر و ادب میں جو جلالتِ شان حاصل ہے اُس کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہم نے تین القاب اُن کے حسبِ حال تجویز کیے ہیں جو درج ذیل ہیں۔
۱۔ معراجِ اردوئے معلی
۲۔ امامِ ریختہ
۳۔ مُشکِ ادبِ اردو
واقعہ یہ ہے کہ استادِ مکرم کے شعر و ادب کے سلسلے میں کارِ بسیط اور شاگردانِ ادب کی وسیع جماعت کے تناظر میں ان کی جتنی بھی تعریف و توصیف اور قدر و منزلت کی جائے کم ہے ۔
ابوالبیان ظہور احمد فاتح ذرائع ابلاغ سے دوری کے باعث اور تونسہ جیسے دور افتادہ علاقے کے مکین ہونے کی وجہ سے مناسب قدر شناسی سے ہنوز محروم ہیں ۔ اگر لاہور ، کراچی یا کسی اور بڑے شہر میں اقامت گزیں ہوتے تو آج ہر طرف اُن کا طوطی بولتا ۔ بہر حال جلد یا بدیر نگارِ اردو کے شیدائی اِن کی فنی عظمت اور ادبی ریاض سے ضرور باخبر ہوں گے ۔
پروفیسر جاوید عباس جاویدؔ ۔بھکر

جنوبی پنجاب کے نام ور محقق اور شاعر

جنوبی پنجاب کا شہر تونسہ شریف علمی و ادبی اور مذہبی شخصیات کے حوالے سے نمایاں مقام کا حامل ہے۔ اِس شہر سے جنم لینے والی ایک نام ور اور قابل شخصیت جناب پروفیسر ظہور احمد فاتح صاحب ہیں جو اردو اور اسلامیات کے میدان میں نمایاں ادبی و علمی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ اُن کی داستانِ حیات اور علمی کارنامے علم شناس لوگوں اور آنے والی نسلوں کے لئے قابلِ تعریف و تقلید ہیں ۔ اُن کی زندگی ایک مسلسل جد و جہد اور فکر و فن کا نمونہ ہے۔
آپ ۱۹۵۴ء میں تونسہ شریف میں پیدا ہوئے۔ والد کانام عبداللطیف خان سکھانی تھا ۔ آپ کا گھرانہ دینی اور علمی ماحول کا حامل تھا چنانچہ بچپن سے ہی علم اور شاعری کی طرف توجہ مرکوز رہی ۔ بد قسمتی سے آپ کی بینائی بے حد کمزور تھی جو آہستہ آہستہ ختم ہوتی چلی گئی۔ عذرِ بصارت کے باوجود آپ نے تعلیم جاری رکھی اور میٹرک کا امتحان درجہ اول میں پاس کیا۔ چونکہ آپ بینائی سے محروم ہو گئے تھے لہٰذا انٹرمیڈیٹ کے بعد آئندہ تمام امتحانات کے پرچے اور تحریری کام بذریعہ کاتب انجام دیا جاتا رہا جس کی باقاعدہ اجازت لینی پڑتی تھی۔ آپ نے ساتویں جماعت سے اشعار کہنے شروع کر دیے تھے۔ دسویں جماعت میں آپ نے کئی نظمیں لکھیں تھیں جو پسند کی گئیں ۔ کالج کے دور میں تقاریر اور مشاعروں میں باقاعدگی سے حصہ لیتے رہے۔ ایف اے ، بی اے اور ایم اے اسلامیات کرنے کے بعد پہلے آپ مسجد مکتب ٹیچر رہے جس کے ساتھ ہی آپ نے کتابوں کی دکان بھی بنائی اور ساری زندگی کتابوں اور علم و ادب سے منسلک رہے ہیں ۔ ۱۹۸۶ء میں کامرس کالج کے انسٹرکٹر اسلامیات کی آسامی کے لئے انٹر ویو دیا جس میں کامیاب ہوئے کامرس کالج بھکر میں تعیناتی رہی ۔ بھکر میں ایک سال خدمات سرانجام دینے کے بعد آپ کا تبادلہ تونسہ شریف کامرس کالج میں ہوا جہاں آپ نے باقی تمام سروس گزاری اور یہیں سے ۲۰۱۴ء میں ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔
آپ نے گریڈ اٹھارہ ملنے کے بعد گریڈ انیس میں بطور چیف انسٹرکٹر اور پرنسپل بھی خدمات سرانجام دی ہیں ۔ آپ نے تونسہ میں ادبی تنظیم بزمِ فروغِ ادب اور ایک سماجی ادارہ انجمن فلاح و اصلاحِ معاشرہ بھی قائم کیا ۔ آپ کے شاگردوں اور عقیدت مندوں کی بہت بڑی تعداد ہے جو آپ سے اکتساب فیض کرتے ہیں۔ ایک ادارہ انسدادِ مظالم بھی قائم کیااور تونسہ میں بڑے بڑے مشاعروں کا اہتمام بھی کیا۔ پہلے آپ نے اسلامیات میں ’’ اردو کتبِ سیرت کا تقابلی جائزہ ‘‘ کے نام سے مقالہ لکھ کر ایم فل کی ڈگری حاصل کی جس کے بعد ’’خطباتِ احمدیہ کا ناقدانہ جائزہ‘‘ کے نام سے پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا اور ڈاکٹر کہلانے کے حق دار ٹھہرے۔ آپ کی شاعری اور حیات پر ایم اے کی سطح کے دو تحقیق مقالے لکھے جا چکے ہیں اور ایم فِل کے بھی تین مقالات رقم کیے جا چکے ہیں ۔
جناب ظہور احمد فاتح صاحب کی شاعری کا کام بے حد وسیع و عریض کینوس پر پھیلا ہوا ہے ۔ انھوں نے مختلف اصنافِ ادب میں شاعری کے علاوہ تراجم اور دیگر زبانوں کے ادب کو بھی اردو اور سرائیکی میں منتقل کرنے کا کام کیا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق آپ کے کہے گئے اشعار کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ آپ نے آٹھویں جماعت میںاپنی شاعری کا پہلا مجموعہ جمع کیا تھا جس کا نام گلزارِ خیالات نمبر ایک تھا ، کالج میں گئے تو دوسرا مجموعہ گلزارِ خیالات نمبر ۲ جمع کر چکے تھے، چنانچہ گلزارِ خیالات کا سلسلہ جاری رہا اور اس وقت تک ۱۵۱ گلزارِ خیالات بن چکے ہیں جن میں سے بہت کم حصہ آپ کے مجموعوں کی شکل میں چھپ چکا ہے جب کہ ابھی بہت بڑا حصہ کاپیوں میں لکھا ہوا اشاعت کا منتظر ہے ۔ آپ کی اس بسیار نویسی سے آپ کے اندر چھپے شاعر اور آپ کے خیالات کی وسعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
آپ کاپہلا مجموعۂ کلام ۱۹۸۰ء میں ’آئینۂ دل‘ کے نام سے شائع ہوا اور آپ تونسہ کے پہلے صاحبِ دیوان شاعر قرار پائے۔ اِس کے بعد’’ عکاسِ فطرت‘‘ اور’’ ہفت رنگ‘‘ کے نام سے دو کتابیں شائع ہوئیں۔ ان کتابوں میں آپ نے بلوچی شعراء کے کلام کا منظوم اردو ترجمہ کیا ہے ۔ اس کے بعدآپ کے جو شعری مجموعے شائع ہوئے ان کے نام ’ساری بھول ہماری تھی‘ ،’ سنہرے خواب مت دیکھو‘ اور’ محرابِ افق‘ ہیں ۔ حمدیہ شاعری کا مجموعہ ’ روح تیرے مراقبے میں ہے‘اور نعتیہ شاعری کا مجموعہ ’ سلام کہتے ہیں‘ بھی شائع ہو چکا ہے۔ آپ کا پہلا سرائیکی مجموعۂ کلام ’’ اساں بہوں دور ونجنڑا ہے‘‘ ۲۰۰۹ء میں شائع ہوا۔
ڈاکٹر ظہور احمد فاتح نے اپنی بصارت سے محرومی کو بھی زندگی کی دشواری نہیں جانا بلکہ اندھیروں میں رہتے ہوئے روشنی اور اجالے کے گیت گائے ہیں۔ مایوسی اور بے یقینی اُن کے قریب سے نہیں گزری۔ انھوں نے نہ صرف ایک بھرپور اور کامیاب زندگی بسر کی ہے بلکہ اردو ادب کو نمایاں ، وقیع اور پُر تاثیر شاعری سے بھی مالامال کیا ہے ۔ آپ شاعری کی روح اور شاعری کے مزاج سے اچھی طرح واقف ہیں اور شاعری آ پ کے تخیل اور کردار کا حصہ بن چکی ہے۔ آپ کی شاعری میں تغزل کی ساری خوبیاں موجود ہیں اور آپ نے اپنی شاعری میں قدیم اور جدید ، ہر طرح کے مضامین و اسالیب پر تجربے کرتے ہوئے نئی نئی باتیں عوام تک پہنچانے کی بھر پور سعی کی ہے ۔ اُن کا کلام تر و تازہ ، برجستہ اور دل خوش کن ہے۔ اندازِ بیان کہیں خطیبانہ ہے ، کہیں شاعرانہ ہے ، کہیں ظریفانہ ہے اور کہیں عالمانہ ہے ۔ ظہور احمد فاتح کے اشعار میں شیرینی اور لطافت بدرجہ غایت موجود ہے اور اُن کے کلام کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ شاعر نے محض لفاظی سے کام نہیں لیا ہے بلکہ دل تک پہنچنے والے جذبات اور خیالات کا ایک سلسلہ تخلیق کیا ہے۔ فاتح کے کچھ خوبصورت اشعار مندرجہ ذیل ہیں۔
خندہ بلب ہے آج اک خنجر بدست شخص
جس ہاتھ میں قلم تھا ، قلم ہو گیا وہ ہاتھ

یقینا انقلابِ حال میں کچھ دیر لگتی ہے
مگر سچ ہے زمانہ محتسب ہے اور عادل ہے
گہنا تو گیا ہے یہ تِرے طرزِ عمل سے
سورج مِرے اخلاص کا ڈوبا تو نہیں ہے

مجھے ہے منزلِ جاناں کی جستجو فاتح
غمِ جہاں سے کہو راستے سے ہٹ جائے

مشتاق تھے ہم کوئی ہوس پیشہ نہیں تھے
حیرت ہے کہ روکی گئی کیوں بھیک ہماری

کتنے نادان ہیں وہ لوگ تِری نگری کے
خود ہی جو آگ لگا دیتے ہیں کاشانے کو

وہ جو مجرم تھے اُن کو رہائی ملی
قید خانے میں اک بے خطا رہ گیا

شکستہ دل ہیں جو فاتح سنیں ہمارا بیاں
ہمارے شعر کو غم کی دوا کہا جائے

محفلیں بیگانہ کر دیتی ہیں تیری یاد سے
تیرے دیوانے کو ہے مرغوب تنہائی بہت

فاتح ہماری شاعری آوازِ وقت ہے
ہم ترجمانِ دل ہیں توجہ سے سن ہمیں

ہم ہیں فاتح تو فتوحات کا باعث یہ ہے
جو عمل کرنا وہ تاحدِ نہایت کرنا

اک شناسا نے کہا تو ہے وہ پارس فاتح
خود جو پتھر ہی رہے اوروں کو سونا کر دے

بے سبب اہلِ جہاں نے نہیں مانا فاتح
ہم نے ٹکرایا ہے سر آہنی دیواروں سے

ایک عالم زندگی بھر معترف جس کا رہا
مر گیا ہے وہ تو اُس کا نوحہ خواں کوئی نہیں

پانے والے ہیں حقیقی دادِ فن اہلِ سخن
آج فاتح معتبر اپنا ہنر ہو جائے گا
ابوالبیان ظہور احمد فاتح کا فنِ شاعری ان کی ذات کا حوالہ بن چکا ہے وہ جنوبی پنجاب سے جنم لینے والے اور پاکستان کے دیگر شعرا میں ایک ممتاز اور نمایاں مقام کے حامل ہیں۔
انھوں نے اپنی شاعری کو دلکش اور پُراثر بنانے کے لئے خوبصورت الفاظ اور تراکیب کے ساتھ ساتھ علمِ بیان کے مروجہ ہتھیار بھی خوبصورتی سے استعمال کئے ہیں۔ مثلاََ استعارہ ، تشبیہہ اور تلمیح کی چند خوبصورت مثالیں پیش ہیں۔
میں بے قرار ہوں تِرے ملنے کو اے حبیب
آ جا ہلالِ عید سا ابرو لئے ہوئے

کھِلا جاتا ہے تُو اے غنچۂِ گل کس تغافل سے
تجھے معلوم بھی ہے چار دن ہے زندگی تیری

اک سمت ہم تھے نقشِ کفِ پا بنے ہوئے
اک سمت وہ تھے حشر سا برپا کئے ہوئے

سنا اے داستاں گو ، داستانِ حضرتِ فاتح
حدیثِ عشقِ قیس و وامق و فرہاد رہنے دے
استاد ظہور احمد فاتح نے شاعری کا جو عظیم الشان اور وسیع و عریض سرمایہ تخلیق کیا ہے اس کے زرو جواہر ابھی تک فیضِ عام سے محروم ہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ ظہور احمد فاتح کی جملہ شاعرانہ فتوحات سے کما حقہ آشنائی حاصل کی جائے۔
وہ میدانِ علمِ بیاں کا ہے فاتح
خدا اُس کے زورِ قلم کو بڑھائے

محمد اسماعیل فیض ہادیؔ تونسوی
وہ دِل کی آنکھوں سے دیکھتا ہے

اللہ رب العزت نے اِنسان کو فقط شکل و صورت اور دانش و فہم کی بُنیاد پر ہی دیگر مخلوقات سے منفرد نہیں بنایا بلکہ اسے اَن گنت ایسی خُوبیاں عطا فرمائی ہیں جن کی بدولت وہ دیگر مخلوقات سے ممتاز و ممیز ہو کراشرف المخلوقات کے درجے پر فائز ہونے کا اہل بنا۔ اِنسان ابتدا ہی سے مالک القدوس کی تخلیق کردہ لامحدود و لامتناہی کائنات کے پوشیدہ رازوں سے آشنائی کی جستجو میںرہا ہے ۔ ان رازوں سے آشنائی کے لئے ایک طبقے نے عقل و دانش اور جسمانی کاوشوں کی بدولت کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی تو دوسرے نے غور و فکر اور روحانی مشقت سے اپنی منزل کو تلاش کرنے کی بے مثال و لازوال کوشش کی۔ اِن دونوں طبقوںکی کاوشوں کی بدولت وہ علم جو اِنسان کے سامنے بحرِ بے کراںکی مانند موجود تھا ، ٹکڑوں میں سمٹ کر اس کی جسمانی ، روحانی اور قلبی تسکین کا سبب بننے لگااور وہ اپنی ضرورت کے عین مطابق علم کی مطلوبہ ا نواع سے وابستگی اختیار کرنے لگا۔ علوم و فنون کی اَن گنت شاخوںمیں سے’’ ادب‘‘ وہ شاخ ہے جو قلم کی نوک کے ذریعے ایک جانب علم و آگہی کا نور بانٹ کرادیب کی طرف سے تجسس میں مگن مسافر کی علمی و روحانی ضرورت کا سامان مہیا کرتی ہے تو دوسری جانب دِلفریب الفاظ کی صورت میں اس کی روحانی تسکین کا بھی سامان کرتی ہے ۔ علم کی اس شاخ سے وابستہ ان گنت افراد ایسے ہیں جنھوں نے تنِ تنہا اپنے روزو شب وار کر اہلِ ذوق کے لئے سکون و راحت سامان پیدا کیا تو چند ایک بیدار بخت ایسے بھی منظرِ عام پر ضرور آئے جنھوںنے اِنفرادی کوششوں کے ساتھ ساتھ اجتماعی خدمات کا فریضہ بھی سراَنجام دیا۔ انھی خوش نصیبوں میں شاعرِ ہفت زباں ابوالبیان پروفیسر ظہور احمد فاتح کی شخصیت بھی نمایاں اور منفرد مقام کی حامل ہے۔
پروفیسر ظہور احمد فاتح صاحب کی ذات اس وقت ادبی حوالے سے و ہ مقام پاچکی ہے جو ان سے قبل یقینا کسی کے حصے میں نہیں آیا ہوگا۔ یہ مقام اُنھوں نے فقط اپنی لامحدود و بے مثال شاعری کے ذریعے ہی حاصل نہیں کیا بلکہ ادب کو اَن گنت ادب دان دان فرما کر اس پر ایک احسانِ عظیم کیا ہے۔ اُنھوں نے ’’دبستانِ فاتح‘‘ کے نام سے جس ادبی مدرسے کا گزشتہ صدی کی نصف دہائی سے آغاز کیا تھا اور گلشنِ ادب میں نمو پانے والے لاتعدادگلوں کی آبیاری کرکے انھیں تناور درخت بنا نے کا حسین خواب دیکھا تھا وہ اس وقت اپنی مکمل آب و تاب کے ساتھ شرمندۂ تعبیر ہو چکا ہے اور فاتح صاحب جسے کل تک ان ادیبوں کے ادبی والدہونے کی بدولت’’بابائے ادب ‘‘ کا اعزاز حاصل تھا ، آج ان کے کئی شاگردوں کے سر پر استاد الشعراء کا تاج سجا دیکھ کرانہیں’’دادائے ادب‘‘ کاخطاب دینے کو جی چاہتا ہے۔ فاتح صاحب کے بے بہا علمی و ادبی تجربے کی بنا پر کئی شعرائے کرام انھیں ’’دریائے ادب‘‘ کا نام دیتے ہیں تو کئی انھیں ’’ادب کا بیکراں سمندر‘‘ گردانتے ہیں۔ اسی مقام پر راقم کے قلم سے یوں وارد ہواکہ:
مجھے محدود لگتا ہے اگر دریا اسے کہہ دوں
سمندر ہے ، سمندر سے کوئی پیاسا نہیں جاتا
یا پھر:
کبھی بھی علم کا پیاسا نہیں مایوس جا سکتا
بہائے علم کے دریا ادب دھرتی میں جب فاتح
فاتح صاحب واقعی علم وادب کا ایک بیکراں سمندر ہیں۔ نظم ہو یانثر ادب کی کوئی بھی صنف ان کی گرفت سے باہر نہیں ۔ اُنھوں نے ہر صنف میں کمال کے جوہر دِکھائے ہیں اور ہر صنف کو وہ نکھار عطا فرمایاکہ:
تِرے فیضان سے ھادیؔ نے پائے فن کے شہ پارے
تری نظمیں ہیں ناطق تیری غزلیں ہیں غضب فاتح
ان کے بے پناہ علمی و ادبی تجربے اور ان کی شخصیت وفن پر کئی کتب بھی لکھی جا چکی ہیں ۔جن میں سے اکثر کتب فقط انھی کی شخصیت و فن سے منسوب ہیںاور چند ایک میں ان کے حوالے سے طویل ترین مضامین لکھے گئے ہیں۔ ان کتب میں سے چند ایک کے نام بطورِ نمونہ نذرِ قارئین ہیں:
(1)ابوالبیان ظہور احمد فاتح کا کیفِ غزل ،(شبیر ناقد)
(2)دبستانِ فاتح (حصہ اوّل)،غلام قادر بُزدار بلوچ
(3) نازشِ اربابِ ادب(منظوم کاوش)،محمد اسماعیل فیض ھادیؔ تونسوی
(4)لائف اِز سٹرگل ناٹ کمپلینٹ(انگریزی مقالہ)،شازیہ عطا
(5)زِندگی ہے سعیِ پیہم( اُردو مقالہ) ،شمع نورین
(6)تین نابینا شاعر(ابوالاعلیٰ معری، جرأت اور ظہور احمد فاتح)
(ڈاکٹر قاضی راشدہ)
(7)نقدِ فن ، شبیر ناقدؔ
(8) دبستانِ فاتح (حصہ دوم) ، غلام قادرؔ بُزدار بلوچ
(9) تذکرہ شعرائے تونسہ،جسارت خیالی
(10)وسیبی سخن ور ،دِلبر مولائی
(11)ابوالبیان ظہور احمد فاتح کا منشورِ نظم ،شبیر ناقد
(12) دبستانِ فاتح (حصہ سوم) : غلام قادرؔ خان بُزدار بلوچ
(13) مردِ سخن ساز(زیرِ طبع ) ،رحمان رضاؔ چغتائی
(14) خراجِ خلوص: محمد اشفاق مشفقؔ
(۱۵) دبستانِ فاتح حصہ چہارم ، محمد اشفاق مشفق
فاتح صاحب اپنی ذات ، اپنے ادبی کارناموں اور اپنے وسیع ترین دبستان کی بدولت اس وقت کسی تعارف کے محتاج نہیں رہے اور مجھ جیسے کم علم شخص کی جانب سے ان کی زِندگی کا مکمل احاطہ کرنے کا دعویٰ سورج کو آئینہ دِکھانے کے مترادف ہوگاالبتہ ان کے مختصر حالاتِ زندگی سے گلستانِ ادب میں نمو پانے والے نئے ادباء کو آگہی بخشنے کی کوشش ضرور کروںگا۔
ابوالبیانپروفیسر ظہور احمد فاتح تونسہ شریف میںاِکیس مارچ 1954ء کو عبدالطیف خان سکھانی کے گھر میں پیدا ہوئے ۔اِن دِنوں اُن کا خاندان اِس علاقے کے قریب ایک جھوک جو کہ زرعی اَراضی پر تھی میں مقیم تھا۔اُن کے والد موصوف عبدالطیف خان سکھانی زراعت کے پیشے سے وابستہ تھے۔فاتح صاحب کی والدہ ماجدہ زہرہ بیگم قیصرانی قبیلہ کی ایک خوش مزاج خاتون تھیں ۔اُستاد صاحب فرماتے ہیں کہ مجھ میں اَدب کا چسکا اور شاعری کا ذوق اپنی اَن پڑھ والدہ کے طرزِ کلام سے پیدا ہواکیونکہ اُنھیں اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت عطا کی تھی کہ وہ وارداتِ قلبی کے بیان کو شاعری کا جامہ پہنا سکتی تھیں۔
بینائی کے مسئلہ کی وجہ سے پروفیسر صاحب کے والد اُن کو پڑھانے کے حق میں نہیں تھے لیکن پروفیسر صاحب کے ذوق اور حصولِ علم کی لگن کے سامنے اُنھیں ہتھیار ڈالنے پڑے ۔ اُستاد صاحب نے اِبتدائی تعلیم آبائی جھوک کے قریب چاہ حیدر والا کے پرائمری سکول میں حاصل کی ۔ یہ ستارۂ اَدب آج کا علم و اَدب کا آفتاب کیونکر نہ بنتا کہ جب علم کی اِبتدا میں ہی اُنھیں سرائیکی تاریخ کی نامور اَدبی ہستی اِقبال ؔسوکڑی جیسے اُستاد صاحب مل گئے ۔ جو اُن دِنوں نئے نئے تعینات ہوئے تھے اور اِقبال کمالیؔ کے نام سے شاعری کیا کرتے تھے ۔اِن دِنوں اُن( اقبالؔ سوکڑی) کے ڈوہڑے اَکثر ساربان’’جت‘‘ لوگ اونٹوں پر سفر کے دوران پڑھا کرتے تھے۔
گئے گزریے وقت دا ماتم ہیں ، اساں ہر لگدی سغراند اِچ ہیں
تیڈی اَکھ دا ڈھول اشارہ ہیں ، تیڈے ہتھ شاہکار دی شاند اِچ ہیں
تُوں جِتھ ویندیں ، جتھ جتھ ولدیں ، تیڈی ویند اِچ ہیں تیڈی آند اِچ ہیں
اقبالؔ ازل دے رول ہِسے نہ مُنڈھ اِچ ہیں نہ پاند اِچ ہیں
جماعت چہارم تک چاہ حیدر والا میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد تونسہ شریف شہر میں گورنمنٹ سکول نمبر 3جسے اُس وقت ’’کراڑیں والا سکول‘‘ کہا جاتا تھا میں داخل ہوئے جہاں اُن کے رشتہ کے دادا سردار خان سکھانی نے اُنھیں محبت و شفقت سے پڑھایا۔اِس کے بعد گورنمنٹ بوائز ہائی سکول تونسہ شریف میں داخلہ لیا۔جہاں سے میٹرک کا اِمتحان بہترین نمبروں میں پاس کیا اورایف اے کا اِمتحان ڈگری کالج ڈی جی خان سے پاس کیا۔ بصارت کے مسائل کی وجہ سے یہ سلسلہ کم و بیش دَس سال کے لئے معطل رہا۔اِسی دوران میں ایک کتاب گھر کھولا جس میںنئی نصابی کتب کے ساتھ ساتھ پُرانی کتابوں کی بھی خریدوفروخت کی جاتی تھی۔فاتح کتاب گھر کے نام سے یہ کاروباری مرکز رُبع صدی تک قائم رہا جس میں قلموں کی مرمت اور جلد سازی بھی کی جاتی تھی اور ایک لائبریری بھی شامل تھی ساتھ ہی ساتھ تلامذہ کی اِصلاح کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ چونکہ اِنسانی زندگی کاایک ناگزیر حصہ شادی بھی ہوتی ہے اور اِس میں تاخیر طبعِ رواں کے لئے ناگوار تھی چُنانچہ بائیس سال کی عمر میں 1976ء میں اپنے شہر کی خوجہ برادری میں خدیجہ بیگم سے شادی ہوگئی اور ثمرِ شادی کے طور پر چار بچے ہوئے دوبیٹے اور دو بیٹیاں۔۔۔۔۔ بیٹوں کے نام محمد آصف طاسین اور محمد واصف یٰسین جبکہ بیٹیوں کے اَسماء طاہرہ طیبہ اور قاہرہ قُدسیہ حراؔ ہیں۔ 1983ء میں بی اے اور 1985ء میں ایم اے پرائیویٹ طور پر بہائوالدین زکریا یونیورسٹی سے فرسٹ ڈویثرن میں پاس کیا۔1986ء میں پبلک سروس کمیشن کا اِمتحان پاس کیا اور اِسی سال گورنمنٹ کمرشل ٹریننگ اِنسٹی ٹیوٹ بھکر میںبطور اِنسٹرکٹر تعینات ہوئے اور 1987ء میں آپ کا ٹرانسفر تونسہ شریف میں ہوگیا۔ اسی ادارے میں بطور چیف اِنسٹرکٹر اور بطور پرنسپل اَپنے فرائضِ منصبی سراَنجام دینے کے بعد اپنے عہدے سے ریٹائر ہو چکے ہیں ۔اُنھوں نے بلوچستان یونیورسٹی (کوئٹہ ) سے ایم فِل کی ڈِگری حاصل کی اور اَب اِسلامیات میں پی ایچ ڈی بھی کر رہے ہیں ۔
نہیں ہے علم کا دریا ، سمندر ہے مرا فاتح
ہے عالم باعمل رَب کا قلندر ہے مرا فاتح
اُن کا اَدبی سفر اُن کے زمانہ طالب علمی سے ہی جبکہ وہ ساتویں جماعت میں زیرِ تعلیم تھے شروع ہوا۔زیادہ تر اُردو میں لکھا۔اِس کے علاوہ سرائیکی میں بھی بہت کچھ لکھا۔نیز پروفیسر صاحب نے ہندی، فارسی ، پنجابی،عربی اور اَنگریزی میں بھی طبع آزمائی کی ہے اور یوں شاعرِ ہفت زبان ٹھہرے۔اَدب کی خدمت کو آپ اَپنا وظیفۂ حیات قرار دیتے ہیں ۔پروفیسر ظہور احمد فاتح صاحب کے مطابق جب کسی رات آپ کچھ لکھ کر نہیں سوتے تو کہتے ہیںکہ آج میرا وظیفہ نامکمل رہ گیاہے ۔یہ آپ کی اَدب سے محبت اور مسلسل محنت کا نتیجہ ہے کہ آپ کی غیر مطبوعہ کتب کی تعداد ڈیڑھ سو سے زائد اور مطبوعہ کتب کی تعداد بتیس ہوچکی ہے۔آپ کے جواہرِادب جو منظرِ عام پر آچکے ہیں اُن میں:
1۔ آئینہ دِل (نظمیں اور غزلیں)
2۔عکاسِ فطرت(علی محمد چِگھاؔ بُزدار کی بلوچی شاعری کا منظوم اُردو ترجمہ)
3۔ ،ہفت رَنگ (مختلف بلوچ شعراء کے بلوچی کلام کا منظوم اُردو ترجمہ)
4۔ساری بھول ہماری تھی (نظمیں اور غزلیں)
5۔سنہرے خواب مت دیکھو (نظمیں اور غزلیں)
6۔روح تیرے مراقبے میں ہے (حمدیہ کلام)
7۔سلام کہتے ہیں(نعتیہ کلام)
8۔کچھ دیر پہلے وَصل سے(نظمیں اور غزلیں)
9۔اَساں بہوں دور وَنجنا ہے(نظمیں اور غزلیں)
10۔ مِحرابِ اُفق ( غزلیں)
11۔تصویرِ کائنات( اُردو نظمیں، غزلیں)
12۔ چہرۂ ہستی
(13)موسم موسم ملدے ہاسے(ظریف احسن کے اُردو کلام کا منظوم سرائیکی ترجمہ)
(14)Flowers Of Letters(انگلش شاعری)
(15)نسیمِ حجاز( دینی شاعری)
(16)ہم کہ آوارگی کے رسیا تھے(اُردو غزلیں اور نظمیں)
(17) گلاں گوڑیاں(پنجابی شاعری)
(18)سرودِ رفتہ( فارسی شاعری)
(19)شمیم الوفا( عربی شاعری)
(20)اَب پچھتائے کیا ہووت ہے؟( ہندی کویتا)
(21)دانائے راز(قومی شاعری)
(22) زیبِ قرطاس( نثری کاوش)
(23)خروشِ خامہ
(24)ادراک
(25)دھرتی اور سپوت
(26)سنجان ساکوں
(27)نقشِ ثابت
(28)متاعِ احساس
(29)کنول کنول کھلا رہے
(30)نقدِ شعور
(31)موسم موسم ملدے ساں
(32)تروینیاں( سرائیکی ترجمہ)
شامل ہیں آپ کے دبستان سے فیض پانے والے کئی شعرا کی بھی کئی کتابیں منظرِ عام پر آچکی ہیں ۔جن میں {1۔کلامِ چگھاؔ (بلوچی مع اُردو نثری ترجمہ )2۔عکاسِ فطرت( چگھاؔ بزدار کے بلوچی کلام کا اُردو منظوم ترجمہ)3۔ہفت رَنگ( بلوچی شعراء کی ہفت اَصنافِ سخن کا اُردو ترجمہ)4شعرائے کوہ سلیمان (حصہ اَوّل)معروف وغیر معروف شعراء کے کلام کا منظوم اُردو ترجمہ 5۔نورِ آگہی (اَخلاقی مضامین کا گلدستہ منظوم) 6۔مرج البحرین (بلوچی میں حمدیہ نعتیہ کلام)7۔حسنِ عمل (اَخلاقی مضامین کا گلدستہ منظوم)8اُصولِ فطرت (معاشرتی کہانیاں۔اُردو)9۔آموز گارِ بلوچی(بلوچی اُردو ۔منظوم)10۔اَندازِ سیاست( اُردو)11۔پھلواڑی (مختلف اَصنافِ سخن ۔منظوم)12۔حان بند(۲اَنگریزوں اور بزداروں کے مابین لڑائی کی تصویری کہانی۔اُردو)13۔اَفکارِ درخشندہ(غلام قادرؔ بزدار کی نگارشات سے اِنتخاب) پیش کش:سید چراغ الدین شاہ)14۔بزدار تاریخ کے آئینے میں (بلوچ رِند قبیلہ بزدار کی سچی داستان)15صانع و شاہکار(حمدو نعت)بلوچی اُردو منظوم16۔شرّیں گال(سنہرے بول) بلوچی اُردو منظوم17۔ناخواندہ معلمِ اَخلاق(کو ہ سلیمان کا نادر البیان شاعرعلی محمد بُزدار کے حالاتِ زندگی)18زادِ روح(غلام قادرؔ بزدار کی اَخلاقی نگارشات سے اِنتخاب) ترتیب و پیشکش :محمد رمضان رُستمانی ،محمد رمضان شفیقؔ19۔کوہ سارِ گوہر بار(کوہ سلیمان کے بلوچ قبائل کی منظوم داستان)20۔وحشیں تھران(بلوچی منظوم)21۔شعرائے کوہ سلیمان(حصہ دوئم)22۔مرقعِ اَخلاق (اُردو، بلوچی ،سرائیکی منظوم)23۔دبستانِ فاتح(دبستانِ فاتح کے شعراء کا تعارف اور نمونہ کلام)24۔رموزِ حیات ( قرآنی تعلیمات کا بلوچی اُردو منظوم ترجمہ)25 ۔ شعرائے کوہ سلیمان ( حصہ سوم ) 26 ۔ گوئشتین (کہاوتیں) 27 ۔ متاعِ ثمین 28۔شعرائے کوہ سلیمان حصہ چہارم 29 ۔ جواہرِ تاباں 30 ۔ چہار بند 31 ۔قومِ بلوچ(غلام قادرؔ خان بُزدار بلوچ کی اپنی قوم سے اُلفت کی تصویر، ترتیب و پیشکش:صابر حسین مری بلوچ 32۔ضیائے آفتاب(سیّد آفتاب احمد شاہ کی شاعری سے منتخب کلام) 33۔بارڈر ملٹری پولیس(ڈیرہ غازی خان کی قبائلی اِنتظامیہ)34۔ غلام فریدؔ خان لدوانی(نامور بلوچ شاعر کے کلام سے اِنتخاب)35۔ حاجی اللہ بخش خان لدوانی بُزدار(نامور بلوچ شاعر کے کلام سے اِنتخاب)36۔ عرفانِ حقیقت(غلام قادرؔ خان بُزدار بلوچ کے عارفانہ کلام سے اِنتخاب ، ترتیب و پیشکش:سردار سہراب خان بُزدار بلوچ ایڈوکیٹ)37۔ بُستانِ چہار گل(بلوچی، سرائیکی ، ہندی اور اُردو زبانوں میں اخلاقی سخنوری)38۔ دبستانِ فاتح حصہ دوم39۔قیصر نامہ( بلوچ رند قبیلہ قیصرانی کی تاریخی داستان)40۔ حق دا سوجھلا(اسلامی ، اصلاحی تے اخلاقی نظمیں دا گلدستہ) ،41۔اشجارِ سایہ دار،42۔عشقِ نامور(بلوچی شعرائے کرام کے بلوچی کلام کا منظوم اُردو ترجمہ) اور اَب ’دبستانِ فاتح حصہ سوم‘ کے مصنف بن چکے ہیں ۔ استاد صاحب کے ایک اور شاگردِ رشیدشبیر ناقدؔ ہیروی کی شائع شدہ کتب میں ۱۔صلیبِ شعور (غزلیات و نظمیات)،۲۔ من دی مسجد(سرائیکی شاعری)، ۳۔آہنگِ خاطر( غزلیات و نظمیات ، گیت ، قطعات)، ۴۔جادۂ فکر( غزلیات و نظمیات)، ۵۔ صبحِ کاوش(غزلیات و نظمیات) ، ۶۔دل سے دور نہیں ہو تم(غزلیات و نظمیات)، ۷۔ کتابِ وفا (مجموعہ غزل)، ۸۔ گنجِ آگہی(مجموعۂ غزل) ، ۹۔ روح دی روحی(سرائیکی شاعری)،۱۰۔ جہانِ عقل و جنوں ( اردو شاعری)، ۱۱۔ زادِ سخن (اردو شاعری)،۱۲۔ حسنِ خیال( اردو شاعری)، ۱۳۔رتجگوں کا سفر ( اردو شاعری) ، ۱۴ ۔ طرزِ بیاں (اردو شاعری)، ۱۵۔ عکاسِ احساس( اردو شاعری) ، ۱۶۔ نقدِ فکر و فن ( غزل و نظم)، ۱۷۔ ریاضِ دانش(مجموعۂ غزل)، ۱۸۔ ضیافتِ اطفال ( بچوں کے لئے نظمیں)، ۱۹۔ شہرِ سخن( اردو شاعری)، ۲۰۔ ابوالبیان ظہور احمد فاتح کا کیفِ غزل ( شخصیت اور فن) ، ۲۱۔ شاعراتِ ارضِ پاک حصہ اول (تنقیدی مضامینن و منتخب کلام)، ۲۲۔شاعراتِ ارضِ پاک حصہ دوم( تنقیدی مضامین و منتخب کلام)، ۲۳۔ شاعراتِ ارضِ پاک حصہ سوم( تنقیدی مضامین و منتخب کلام) ، ۲۴۔ نقدِ فن (تنقیدی مضامین)، ۲۵۔ شاعراتِ ارضِ پاک حصہ چہارم( تنقیدی مضامین و منتخب کلام) ، ۲۶۔ شاعراتِ ارضِ پاک حصہ پنجم( تنقیدی مضامین و منتخب کلام)،۲۷۔ شاعراتِ ارضِ پاک حصہ ششم ( تنقیدی مضامین و منتخب کلام)، ۲۸۔ شاعراتِ ارضِ پاک حصہ ہفتم ( تنقیدی مضامین و منتخب کلام) ، ۲۹۔ تلمیحاتِ فضاؔ اعظمی( تنقید و تحقیق) ، ۳۰ ۔ شاعراتِ ارضِ پاک جامع ایڈیشن (حصہ اول)، ۳۱۔ ابوالبیان ظہور احمد فاتح کا منشورِ نظم ( نظمیاتی تجزیہ)، ۳۲۔میزانِ تنقید ( تنقیدی مضامین) ، ۳۳۔ تنقیدات ( تنقیدی مضامین) ، ۳۴۔ سفر نامہ نگاری کے انتقادی امکانات ( حصہ اول)۔ ۳۵۔ شاعراتِ ارضِ پاک جلد دوم ( جامع ایڈیشن)، ۳۶۔ فضا اعظمی کی شاعری ( تلمیحات کے آئینے میں) شامل ہیں۔ شبیر ناقدؔ کی ایک شاگرد شائستہ پروین سحرؔ کے دو شعری مجموعے(عذابِ آگہی اور متاعِ فکر) بھی منظرِ عام پر آچکے ہیں، موصوف کے ایک اور شاگرد غلام عباس شاکی بھی اچھے لکھاریوں میں شمار ہوتے ہیںنیز ان کی ایک شاگرد شبنم اعوان کے تین شعری مجموعے ’عشق کس کو کہتے ہیں؟‘ ،’اے مونجھ شالا مک ونجے‘ اور ’بوچھن‘ بھی منظرِ عام پر آچکے ہیں۔ محمد اِسماعیل فیض ھادیؔ تونسوی(راقم) کی پانچ کتب(قافلے مدینے کے نعتیہ کلام،سُبحان اللہ سبحان اللہ حمدیہ کلام اور ہردم ترے خلوص کی خوشبو رہے علیؓ شانِ علی المرتضیٰؓ ،کوہسارِ ادب اورنازشِ اربابِ ادب) شائع ہو چکی ہیں۔ علاوہ ازیں راقم کے شاگردان میں علینا زہرہ(کوئٹہ)،فرحانہ بانو فائقہؔ(بہاروالی)،ثمرہ ستار سحرشؔ، ماہم ندیم ماہ رُخؔ،کائنات نور(تونسہ)، بسمہ ندیم، عائشہؔ حنیف(تونسہ) اور حسنین بادشاہ (تونسہ )بھی میدانِ ادب میں طبع آزمائی کررہے ہیں ۔شکیل ؔاحمد کی دو کتب ’’دھوپ سروں تک آپہنچی ‘‘ اور ’’پنکھ‘‘ بھی منظرِ عام پر آچکی ہیں نیز موصوف کے ایک شاگردآصف شہزاد کا ایک شعری مجموعہ’’تمھارا مان رہ جائے‘‘ بھی شائع ہو چکا ہے نیز ان کے ایک اور شاگرد ابرار احمد(راولپنڈی) بھی فروغِ ادب میں اپنا حصہ ڈالنے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔ شاہدؔ ماکلی کے شعری مجموعے ’’موج‘‘ اور’’تناظر‘‘ بھی طبع ہو چکے ہیں نیز وہ اپنے بھائی زوہیب اقبال زوہیب کی بھی ادبی راہنمائی کر رہے ہیں جو اس وقت اپنے دِلفریب انداز اور لفاظی کی بدولت خاصا نام پیدا کر رہے ہیں ۔ موصوف زوہیب اقبال زوہیب خود بھی ایک شاعر عبدالمناف واقف کی ادبی راہنمائی کر رہے ہیں۔محمد تنویرالزماںتونسوی کی دو کتابیں (پلٹ کر دیکھنا ہوگا اور نگر نگر تجھ کو ڈھونڈتا ہوں ) ، محبوب فریادؔ ہیروی کی کتابوں کے نام تس، ذات دا محشر، گزردی شام، تیڈے شہر وِچ ، مصر دا بازار، جاگدی رُت ، کوئی آسمان تے کلہا ہوسی اور اُشا کے مؤلف بن چکے ہیں ۔ کرامت حسین کشش ؔ کی دو کتب ’’کمینوں کی کمیں گاہ پاکستان زِندہ باد اور ٹانکا پنا کے مصنف بن چکے ہیں ۔مالکؔ اُشترکی چار کتب (ہوادے ہتھ، سرور کربلائی شخصیت و فن، ہاتھ ہمارے قلم ہوئے اور سندھو دیش)۔ رحمن رضا چغتائی کی دو کتابیں (اور پھر بیاں اپنا اور عجب سنجوگ ہے جاناں ) شائع کرا چکے ہیں۔ فاتح صاحب کے ایک اور شاگردِ رشید درگ سے تعلق رکھنے والے محمد اقبال جعفرؔ بھی اَچھے لکھاریوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ان کا شائع شدہ شعری مجموعہ (کچھ پھول جل گئے ہیں ، سحابِ الم اور میں نے لفظوں میںخوشبو بھری ہے) دادِ تحسین وصول کر چکا ہے۔ ایک اور شاگردِ رشید محمد اشفاق مشفقؔ کی دو کتابیں چھپ چکی ہیں جن کے نام ( نورِ حق اور دبستانِ فاتح حصہ چار) ہیں ۔ ان کے تلامذہ کے نام اریبہ فاطمہ ( سیالکوٹ) جن کی کتاب ’آؤ کامیابی کی طرف‘ طبع ہو چکی ہے، سید کامران شیرازی (آزاد کشمیر) ، محمد یاسر جنجوعہ (تونسہ شریف) ، طیبہ کنول(کراچی) لبنیٰ سعید(امریکہ) اور شاہ زیب حسن(تونسہ) ہیں۔پروفیسر صاحب کے ایک اور شاگردِ رشید ارسلان ساحل (ڈیرہ غازی خان) ہیں ۔ اُن کی کتاب ’ اس راہ پر میں کیوں چلوں‘ منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔ اِسی طرح استادِ محترم کے ایک اور شاگرد فخرِ عباس فخرہیں جن کا مجموعۂ کلام ’کرب‘ سے معنون ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کے ایک اور تلمیذِ عزیز نادر صدیقی کی ایک شعری کاوش ’ تطہیر‘ کے نام سے کتاب کا روپ دھار چکی ہے اور ایک نعتیہ کلام کا مجموعہ زیرِ ترتیب ہے۔
موصوف کے دبستان سے فیض پانے والے شعرائے کرام کی تعداد اس وقت ستر پچھتر ہو چکی ہیں جن میں حسنین شاہداَخگر ؔ،حفیظ اللہ قُلزمؔ،جاذب ؔدرانی،ڈاکٹر محمود عالمؔ، جمیل صابرؔ،فاروق محرمؔ،جاوید اَمجدؔ،تنویرزائرؔ،ملک طورؔ،واصف یٰسین،طاہرہ طیبہ،قاہرہ قُدسیہ حراؔ،سید زاہد حسین زاہدؔ،ساجد حسین ساجدؔ،شہباز فائقؔ،غضنفر عباس ریحانؔ،آمنہ اَمرؔ، بلقیس زیبؔ،واحد بخش اَنجمؔ،صفدر علی حیدرؔ،اشرفؔمغل ، رضیہ سلطانہ یقینؔ، عطا محمد عطاؔ ، قاضی راشدؔ ، یاسر الطاف یاسرؔ ، محمد علی انجمؔ ، غضنفر علی ضیغم ؔ، ارشدؔ تونسوی ، شگفتہؔ ہُما ، عبدالمجید مضروبؔ، اِسماعیل معتوبؔ ، تنویر مونسؔ ، توقیر صارمؔ ، خرم ؔجامپوری ، کاہش کشفیؔ، واجدؔ درانی، حنیفؔ ثابت ، غلام محمدعادلؔ ، نزاکت حسین نزاکتؔ، سلیم شہزاد ناچیزؔ ، شفیق احمد آرزو ؔ، مہدی حسن مہدیؔ ، حِنا اَفشاںؔ ، جمیل رضا قاسم (معطر تونسویؔ)،نادر ؔصدیقی ، شفاعت اللہ شیلاؔ، محمد اشفاق مشفقؔ ،عمر فاروق عمرؔ،عمر فاروق کنولؔ، عبد الشکور انجم ، اشرف مغل ، حسینہ حرمت ، تیمور ضابط ، محمد شکیل حیدرؔ ، عادل حسین عادلؔ اور ارسلان ساحلؔ وغیرہ شامل ہیں ۔
آپ کا دبستان اس وقت تحصیل تونسہ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ آپ کے دبستان کی شاخیں لاہور ،کوئٹہ، اِسلام آباد ، پنج گور اور راولپنڈی وغیرہ تک پھیلی ہوئی ہیں۔دور دراز سے تلامذہ حاضر ہوتے ہیں اور آکر کلام کی اِصلاح لیتے ہیں اور جو یہاں تک نہیں پہنچ پاتے وہ موبائل فون پر اِصلاح کرا لیاکرتے ہیں ۔ فاتح صاحب نے عذرِ بصارت کے باوجود بھی علم و ادب کے فروغ میں بصیرت و حکمت سے کام لیا ہے ۔ ان کی شاعری میں جہاں مہرو محبت ، وفا و جفا، ہجر و وصال ، حلم ورضا اور فکر و شعورکے موضوعات دِل میں گھر کرتے چلے جاتے ہیں وہاں مناظرِ فطرت کی عکاسی کرنے والے دِلفریب موضوعات قارئین کو فرطِ حیرت میں ڈال دیتے ہیں کہ وہ شخص جس نے عذرِ بصارت کے باعث اپنی ذات اور دُنیا کے نظاروں کے درمیان پردہ ہی پایا وہ ان نظاروں سے آگہی کیسے دے سکتا ہے ؟ اسی مقام پر راقم نے انھیں ’’وہ دِل کی آنکھوں سے دیکھتا ہے ‘‘ کے عنوان سے ایک نظم میں یوں خراجِ تحسین پیش کیا ہے:
اگرچہ ہے نورِ چشم عنقا
وہ دِل کی آنکھوں سے دیکھتا ہے
نہیں اُسے اس کادُکھ خدا نے
اسے عطا کی نہیں بصارت
مگر ہے ممنون اپنے رَبّ کا
کہ جس نے علم و ادب پہ اُن کو
کیا ہے مائل
کہ اپنے بچپن سے آج تک وہ
فروغِ علم و ادب کی رستے پہ گامزن ہے
خدا کی قدرت
نے اُس کو بخشی نہیں بصارت
مگر یہ احسان ہے خدا کا
کہ اُس کے حصے میں ہے بصیرت
جہاں سے بڑھ کر ملی ہے اُس کو
جہاںکی ہر چیز جو ہے مانگی
وہ ایک عالم ہے علم پھیلا رہا ہے یارو!
ادیب ہے وہ
ادب کی کرتا ہے وہ اِشاعت
ادب کی دُنیا میں اُس کو حاصل شرف ہوا ہے
کہ اُس کے سائے
میں پلنے والے ہیں ساٹھ شاعر
وہ ایک اُستاد علم کا ہے
ادب کا اُستاد بھی ہے فاتح
نہیں ہے آنکھوںمیں نور اُس کی
مگر نہیں ہے ملال اُس کو
جہاں کی آنکھیں ہیں اُس کی آنکھیں
وہ دِل کی آنکھوں سے دیکھتا ہے
پروفیسر صاحب نے متعدد مشاعروں میں بھی شرکت کی ہے ۔جن میں سے بعض مشاعرے قومی نوعیت کے رہے ہیں ۔جن کا سہرا ڈپٹی کمشنر سید آفتاب احمدؔ شاہ صاحب اور پاکستان اِسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے سر رہا ہے۔ پروفیسر صاحب نے جن نامور شعرائے کرام کے ساتھ مشاعرے پڑھنے کا اعزاز حاصل کیا ہے اُن میں منیر نیازیؔ ، محسنؔ نقوی،رشیدؔ قیصرانی،سید آفتاب احمدؔ شاہ ، ظفرؔ اِقبال،مرتضیٰ برلاسؔ،علی شیر جعفری،انورؔ مسعود، خالدؔ مسعود،کیفؔ انصاری ، بے دِل حیدری ؔ،خیالؔ امروہی ،انجمؔ صہبائی،امجد اسلام امجدؔ، اِظہار الحقؔ، عطا الحق قاسمیؔ ،عاصیؔ کرنالی،غافل ؔ کرنالی،ندیم ایزدؔ، وحید تابشؔ، منصور ملتانی، حسین سحرؔ، اَسلم اَنصاری،عارف معین ، ڈاکٹر نذیر قیصرانی اور اِفتخار عارفؔ وغیرہ شامل ہیں۔سرائیکی شعراء کے ساتھ بھی بہت عمدہ تال میل رہتا ہے جن شعراء کے ساتھ مشاعرے اور نشستیں آراستہ رہیں اُن میںسئیں اِقبالؔ سوکڑی، سئیںمصطفیٰ خادمؔ، سئیںعزیزشاہدؔ، سئیںمنیر آصفؔ ہیروی ، قادرؔ بلوچ ، سرور کربلائیؔ ، شاکرؔ مہروی ، بشیرغمخوارؔ،سئیں احمد خان طارق، پروفیسر شبیر نازؔ ،سئیںشاکرؔ شجاع آبادی ، مہجور ؔبُخاری ، ماہیوالؔ منگڑوٹھوی ، ریاض عصمتؔ ، الطاف حسین پروازؔ قیصرانی ، بھورل ملنگ ، منظرؔ تونسوی ، سئیںاَمان اللہ ارشدؔ ، حمید الفتؔ ملغانی ، شفقتؔ بُزدار ، سئیں شریف پردیسیؔ ، سئیں عاطفؔ بلوچ ، ڈاکٹر امان اللہ امانؔ تونسوی ، قمرؔ قریشی ، اِمداد حسین ہمدردؔ،بشیرشائقؔ ، سیدبابرؔشاہ ، سئیںریاض فاروقؔ بُزدار ، عاشقؔ بُزدار ، غفور دمساز ، احد بخش راقب ، محمد رمضان نادار ، طارق محسن اور دیگر شامل ہیں۔
علمی و اَدبی سرگرمیوں کے علاوہ دینی اور سماجی حلقوں میں بھی پروفیسر صاحب کا نمایاں کردار رہاہے۔آپ نے اَنجمن فلاح و اِصلاحِ معاشرہ تونسہ شریف کی بنیاد ڈالی ،تنظیم اِنسدادِ مظالم کے چیئرمین بھی رہے ہیں ۔آپ ایک مکمل باعمل عالم بھی ہیں اور اِس وقت جماعتِ اہلِ حدیث تونسہ شریف کے اَمیر ہیں ۔حضورﷺ کی سچی محبت اور روضہ رسولؐ کی زیارت کی تڑپ پر مدینے کی طرف سے بلاوا آیا اور 2010ء میںآپ کو حج کی سعادت نصیب ہوئی ۔شاید یہ اس شعر میں لگائی گئی صدا کا جواب تھا جس کے لئے آپ نے اَپنی کتاب ’’سلام کہتے ہیں‘‘ میں زیارتِ مدینہ کے لئے تڑپ کا اِظہار فرمایا تھا کہ:
یارب کبھی اُس ارضِ منور کو بھی دیکھیں
تقسیم جہاں کرتے رہے سرورِ دیںؐ نور
پروفیسر صاحب صرف کتب کی حد تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ ریڈیو پاکستان اِسلام آباداور ملتا ن کے علاوہ پاکستان ٹیلی ویژن ، روہی ٹی وی، پی ٹی وی کوئٹہ اور پی ٹی وی لاہور پر بھی جلوہ گر ہوچکے ہیں۔ان میں سے پاکستان ٹیلی ویژن لاہور سے معروف شاعر وصیؔ شاہ کے ساتھ نشر ہونے والا پروگرام’’رات گئے‘‘ اِنتہائی دِلچسپ رہا جس میں موصوف وصی ؔ شاہ نے فاتح صاحب کی شخصیت و فن کو بھر پور داد سے نوازا۔ آخر میں درج ذیل دعائیہ کلمات کے ساتھ اجازت چاہوں گا:۔
مؤقر عالمِ فن میں مری یہ جستجو کر دے
مرے اُستاد کی نظروں میں مجھ کو سرخرو کر دے
مکمل ہو مری کاوش جو کی اُس کے لئے میں نے
مرے مالک مرے مولا یہ پوری آرزو کر دے
مرے ہر لفظ کو حاصل ہو دُنیا میں پذیرائی
زمانے میں فروزاں میری کاوش چار سو کر دے
مرے اُستاد نے کی جو ادب کے باب میں کوشش
مؤقر ، معتبر اُس کی مؤثر گفتگو کردے
اُسے محشر میں سایہ کملی والےؐ کا میسر ہو
اُسے دونوں جہاں میں سرفرازِ آبرو کر دے
پذیرائی اسے حاصل ہو دربارِ رسالتؐ میں
مرے اُستاد کی قسمت بہشتِ رنگ و بو کر دے
لکھی ہے نعت جس آقاؐ کی ھادیؔ میرے فاتح نے
مرے فاتح کو مولا اُس نبیؐ کے روبرو کر دے

اسلم وارثی

ظہور احمد فاتح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔لازوال شاعر

خداکی بنائی ہوئی اس کائنات میں اِنسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ حاصل ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اِنسانی وجود میں بے شمار صلاحیتیں رکھ دی ہیں جن کو اِنسان بروئے کار لا کر دُنیا میں نمایاں مقام بنا لیتا ہے۔ مختلف شعبوں میں اپنی فکری صلاحیتوں کے بل بوتے پر اِنسان ترقی کی منازل طے کرتاچلا آرہا ہے جن میں ایک شعبہ شعر و ادب کا بھی ہے۔ اس شعبے سے جڑے ہوئے لاتعداد شاعروں ، ادیبوں اور دانشوروں نے وہ کارہائے نمایاں سراَنجام دئیے ہیں جو آسمانِ ادب پر آج بھی اپنی پوری تابندگی کے ساتھ روشن ہیں۔ عہدِ حاضر میں اس شعبے سے منسلک ایک اہم نام ابوالبیان پروفیسر ظہور احمد فاتح صاحب کا بھی ہے جو گزشتہ چار دہائیوں سے اُردو ادب کی خدمت میں وقف نظر آتے ہیں۔ جناب ظہور احمد فاتح صاحب ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں جو بیک وقت سات زبانوں میں شاعری کرتے ہیں جن میں اُردو، سرائیکی ، پنجابی ، ہندی ، عربی ، فارسی اور انگلش شامل ہیں۔ حمد، نعت ، غزل، نظم، قطعہ ، ڈوہڑہ ، ماہیہ ، گیت اگر ایک ہی شاعر میں دیکھنے ہوں توفوراً اُن(ظہور احمد فاتح) کا نام ذہن پردستک دینے لگتا ہے۔ ظہور احمد فاتح صاحب سرزمینِ تونسہ کے ایک صاحبِ اسلوب نامور استاد شاعر ہیں جو اپنی منفرد پہچان رکھتے ہیں۔ ان کی غزل میں وہ تمام شعری محاسن موجود ہیں جو ایک کامیاب شاعر کی شاعری میں پائے جاتے ہیں۔ ان کے ہاں جدید تراکیب ، منفرد لفظیات اور اچھوتے مضامین چودھویں کے چاند کی طرح روشن نظر آتے ہیں۔ ان کی شاعری نے ہر دور کے بدلتے ہوئے لہجے کا ساتھ دیا۔ جتنی گرفت ان کی غزل پر ہے اتنی ہی دیگر اصناف مثلاً حمد، نعت، نظم ، قطعہ ، ڈوہڑہ ، رباعی وغیر ہ پر بھی ہے ۔ ان کی قادر کلامی کا یہ عالم ہے کہ ادھر سے کہیں طرحی مصرعہ آیا اور اِدھر دَس منٹ میں غزل بن سنور کر قرطاس پر نمودار ہو کر کروٹیں بدلنے لگتی ہے۔ فاتح صاحب خوبصورت شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اَچھے درد مند مثالی اِنسان بھی ہیں جو کسی بھی شخص کو پریشان دیکھ کر خود پریشان ہو جاتے ہیں اور ان کا جذبۂ اخلاص تڑپنے لگتا ہے۔ ان کی طبیعت میں اِتنی سادگی اور خلوص ہے کہ کوئی بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ وہ تقریباً ہر صنفِ سخن میں شعر کہتے ہیں اور بھر پور شعر کہتے ہیں۔ وہ ادب کی ترویج و ترقی میں دِن رات کوشاں رہتے ہیں۔ اس لئے ان کے شاگردوں کی تعداد بھی لامحدود ہے ۔ ان کا ادبی مدرسہ بھی اپنی مثال آپ ہے جو’’ دبستانِ فاتح‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ ظہور احمد فاتح صاحب کی ذات ایک اکیڈمی کا درجہ رکھتی ہے ۔ ان کی شاعری کو کسی بھی اعلیٰ معیار پر پرکھا جاسکتا ہے۔ ان کا ڈکشن سب سے الگ، سب سے جدا ہے۔ ہر زبان کو اس کے خالص لہجے کے مطابق برتنا ان کا طرۂ اِمتیاز ہے جو کسی بھی شاعر کے ہاں بہت کم ملے گا۔ فاتح صاحب ایک دینی ذہن رکھنے والے شاعر ہیں جنھوں نے دین و دُنیا دونوں کو بڑے خوبصورت انداز میں ہم سفر بنا رکھا ہے ۔ وہ دُنیا داری میں بھی اِنسانی قدروں کو نبھانے کے قائل ہیں اور دین داری میں بھی خدا کو راضی رکھنے کے تمام امور پر کاربند رہنے کی ہمہ وقت کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ وہ تمام شعری اصناف کو ان کے اصولی تقاضوں کے مطابق الفاظ و خیالات کے پیکر میں ڈھالتے ہیں۔
ان کی حمد خالص حمد، ان کی نعت خالص نعت اور غزل خالص غزل ہے۔وہ حمد میں نعت کے اشعار نہیں لاتے اور نہ ہی نعت میں حمدیہ یا غزلیہ مضامین لاتے ہیں۔ اس سے ان کے علمی تجربے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ وہ حمد میں خدا کے بہت قریب نظر آتے ہیں ۔ ہر جگہ ان کا منفرد لہجہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ اُمید اور خوف کی درمیانی کیفیت میں رہتے ہیں تاکہ اُمید سے خداوند کریم کی رحمتوں سے بہرہ ور ہوں اور خوف میں رہ کر اپنی ذات کا محاسبہ کر تے رہیں۔ یعنی ’’یہی نسخہ تو نسخہ ہے خدا کے قرب کے ادراک کرنے کا‘‘ ۔ نعت میں بھی وہی اِنفرادیت برقرار ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں۔
وہ حُسن کے آنحضرت محبوبِ خدا ٹھہرے
وہ عرب کے لرزیدہ کہسار نظر آئے
جو لوگ ہوئے شامل حضرت کے غلاموں میں
وہ لوگ زمانے کے سردار نظر آئے
یارب کبھی فاتح کو دیدارِ محمدؐ ہو
پھر جامِ شہادت سے سرشار نظر آئے
غزل کے چند اشعار دیکھئے:
تبسم کی رِدا اپنے دُکھوں پر ڈال دیتا ہوں
خیالِ رازداری آنکھ نم ہونے نہیں دیتا
یہ حالت قوم کی ہے تو وطن کا حال کیا ہوگا؟
یہی احساس میرا درد کم ہونے نہیں دیتا
تری قدرت سدا میری حفاظت کرتی رہتی ہے
کرم ہے تیرا یہ بھی تُو ستم ہونے نہیں دیتا
بہت سی سازشیں اغیار نے کی ہیں مگر فاتح
مجھے نامعتبر میرا قلم ہونے نہیں دیتا
ان کی غزل تمام معاصرین سے جُدا نظر آتی ہے۔ وہ بُنیادی طور پر سلاست پسند شاعر ہیںاور اِنتہائی سادگی سے اپنے پیغام کے ابلاغ کا ملکہ رکھتے ہیں۔ ان کی غزل میں روانی اور ترنم ہے۔ اس لئے سننے والوں پر براہِ راست اثر کرتی ہے۔ بقول حسرت ؔ موہانی:
شعر دراصل وہی ہے حسرتؔ
سنتے ہی دِل میں جو اُتر جائے
ظہور احمد فاتح صاحب کی شاعری زِندہ شاعری ہے ۔ گویا ان کی شاعری کا اپنا ایک جہان ہے۔ جس میں خوبصورتی بھی ہے اور دوام بھی۔ جب یہ آپس میں جذب ہوتے ہیں تو ایک دِلکش تصویر بن جاتی ہے اور وہی تصویر فاتح صاحب کے شاعرانہ مقام و عظمت کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ ان کی مادری زبان سرائیکی ہے۔ اس لئے سرائیکی کو بھی اپنے جذبات کے اظہار کا ذریعہ بناتے ہوئے خوب کام کیا ہے۔ جس کا سب کو اعتراف ہے۔ وہ جس زبان میں جو بھی خیال لاتے ہیں اس کو تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔ اس کے بعد تشنگی کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ ان کا مشاہدہ نہایت وسیع ہے۔ اس لئے ان کے کلام میں بڑی گہرائی اور گیرائی پائی جاتی ہے۔ کوئی بھی غیر ضروری نقطہ نہیں ملتا۔ ہر لفظ کو اس کی ضرورت و کیفیت کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔ جس سے ان کی استادانہ عظمت چھلکتی ہے ۔ وہ بہت پُر گو شاعرہیں اور تقریباً روز ہی کوئی نہ کوئی نئی چیز تخلیق کرتے ہیں اوراپنی تخلیقی حس کو تسکین پہنچانے کے لئے ہمہ وقت قلم کو متحرک رکھنے کے قائل ہیں۔ جمود سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ شاعری ہر وقت ان پر مہربان رہتی ہے۔ ان کی بے شمار شعری و ادبی کتب اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی سوچ کو مزید کُشادگی سے نوازے اور ان کو عمرِ خضر عطا فرمائے۔ ایک چیز جو بطورِ خاص میں نے محسوس کی وہ یہ ہے کہ ان کے شعروں میں جو مضامین ہیں وہ تخیلاتی نہیں نہ ہی ابہام زدہ ہیں۔ بلکہ ان کا ہر شعر زِندگی کے کسی نہ کسی رُخ کا ترجمان ہے اور یہی رَنگ دِلوں کو تسخیر کرنے والا رنگ ہے۔ ظہور احمد فاتح صاحب کا شاعرانہ مقام میرے اِن الفاظ سے کہیں زیادہ ہے۔ جوں جوں وقت گزرتا جائے گا ان کی پرتیں کھلتی جائیں گی ۔ ان کے فن پر کبھی زوال نہیں آئے گا۔ ان کی شاعری اور شخصیت کے تمام پہلو قابلِ تقلید ہیں۔ ربِ ذوالجلال ان کے خیالات کو اور تابندگی سے نوازے(آمین ثم آمین!)

پروفیسر بشیر احمد خان
میرِ کارواں

دراز قد ، سرخ مہندی سے رنگی ہوئی دراز داڑھی ، قوی الجثہ ، بھاری بھرکم آواز۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہیں پروفیسر ظہور احمد فاتح!
بصارت چھن گئی لیکن بصیرت پھر بھی زندہ ہے
بظاہر نزاکتوں اور لطافتوں کی دنیا سے دوریوں کا مظہر لیکن ایک خوبصورت، حساس اور نازک دل کا حامل جس پر ذوقِ جمال کی سینکڑوں نزاکتیں نثار۔
میری ملاقاتیں ان سے کچھ زیادہ نہیں رہیں کچھ اپنے مزاج کا نکما پن اور کچھ غمِ روز گار کے جھنجھٹ ۔ لیکن جتناکچھ میں انھیں جان پایا وہ یہ کہ وہ ایسی زندہ شخصیت ہیں جنھوں نے بصارت کی محرومی کے باوجود زندگی سے نہ صرف شکست قبول کرنے سے انکار کر دیا بلکہ اپنی جہدِ پیہم سے زندگی کو بہت کچھ عطا کر دیا اور اِس حوالے سے ان کا فاتح ہونا مسلم ہے۔
تعلّی صرف شاعروں کا شیوہ ہی نہیں بلکہ شاید ہماری سماجی روایت بھی ہے۔ ہم اپنی دھرتی کے بارے میں ، دھرتی کے باسیوں کے بارے میں بہت کچھ کہہ جاتے ہیں جو درحقیقت ہم میں ہوتا نہیں ۔ تونسہ شریف کے لئے ’’یونانِ صغیر ‘‘ کی اصطلاح بھی مجھے اسی تناظر میں محسوس ہوتی ہے ۔ ’’ فرزندِ زمین‘‘ ہونے پر ہمارا احساسِ تفاخر اور زعم بھی اِسی سوچ کا عکاس ہے لیکن امرِ واقعہ یہ ہے کہ صدیوں سے ایک ہی خطے سے چمٹے رہنے کے باعث ہماری قوتِ عمل زنگ آلود اور ندرتِ فکر مفلوج ہو چکی ہے ۔ خواجہ غلام فرید کے بعد کوئی بڑا نام اس دھرتی میں جنم نہیں پا سکا جس پر بالاتفاق فخر کیا جا سکے ۔ اس کا غالباََ بڑا سبب ہجرت کی سنت سے دوری ہے۔ ہم گھر سے دس کوس بھی دور جائیں تو خود کو پردیسی کہلواتے ہیں ۔ نتیجہ فکری اور عملی بانجھ پن کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
اِس پس منظر سے یہ یقینا خوشی کی بات ہے کہ خزاؤں کے اِس دیس میں خال خال پھول کھِلتے رہتے ہیں جو ہمیں بہاروں کی مہک سے آشنا کرتے ہیں ۔ ظہور احمد فاتح بھی ایک ایسا ہی پھول ہے جو ہر چند کہ صحرا میں کھِلا ہے لیکن اس کی مہک مسحور کن ہے ۔ اِس کی نرمی شبنمی ہے اور اس کی رنگت میں سحر کی سی تازگی ہے ۔ وہ صحرا کی گرم لو سے متاثر دکھائی نہیں دیتا اور مستانہ وار امید کے گیت گائے جا رہا ہے ۔ خوشی کی بات یہ کہ وہ اِس سفر میں تنہا نہیں بلکہ ایک کارواں اس کی قیادت میں رواں دواں ہے ۔ اب وہ ایک فرد نہیں ایک انجمن ہے ۔ وہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے ۔ وہ پیاسی دھرتی کے لئے شبنم ہے اور شاعری کی دنیا میں اس کا وجود نوآموز اور نو خیز شاعروں کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں۔ میں دعا گو ہوں کہ ’’ سلامت رہے یہ رنگِ جمال‘‘۔

شبیر ناقد ؔ
مینارِ نور

ابوالبیان ظہور احمد فاتح ترسیلِ علم و دانش اور فروغِ ادب کا ایک وقیع عصری حوالہ ہیں ۔ اُن کی شخصیت بہت سے خصائص کا مرقع ہے ان کی تمام تر خصوصیات اساسی اہمیت کی حامل ہیں ۔ ان کی بتیس کتب جن میں منظوم تراجم بھی شامل ہیں منصۂ شہود پر آچکی ہیں ۔ اردو اور سرائیکی میں انھوں نے بلوچی اور فارسی کی نگارشات کے منظوم تراجم کیے ہیں جن میں فکر و فن کا حسین امتزاج کارفرما ہے ۔ وہ سخن ورِ ہفت زباں ہیں ۔ انھوں نے سرائیکی ، پنجابی ، اردو ، ہندی ، فارسی ، عربی اور انگریزی زبان میں بطریقِ احسن طبع آزمائی فرمائی ہے وہ استاد الشعرا کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اُن کے تلامذۂ ادب ملک کے طول و ارض میں ادبی خدمات بہم پہنچا رہے ہیں اُن کی حیاتِ پُر سعی کو وہ مقام حاصل ہے جو کسی ادارے کو بھی شاذ ہی میسر آیا ہو۔
فاتح صاحب زیست کے تمام شعبوں میں کامل دست گاہ رکھتے ہیں اِس لئے اُن کی ذات خود میں ہمہ گیر رہنمائی کا ساماں رکھتی ہے۔ وہ دنیا و عقبیٰ دونوں حوالوں سے یکساں سہولت سے فیض رساں ہیں۔ وہ ایک مینارِ نور کی مثیل ہیں جن سے ایک زمانہ کسبِ نور کرتا ہے نثری حوالے سے اگر بات کی جائے تو انھوں نے بہت سی منظوم و منثور ادبی تصنیفات کے دیباچہ جات اور تنقیدی شذرات رقم کیے ہیں جن سے ایک ضخیم کتاب بآسانی مرتب ہو سکتی ہے جسے مخزنِ شذراتِ تنقید کا اعتبار حاصل ہو گا۔ وہ ایک وسیع المشرب شخصیت کے مالک اور مرنجاں مرنج انسان ہیں ۔ خلوص و مروت ان کی ذات کے کلیدی استعارات ہیں۔ اُن کی فعالیت اپنی مثال آپ ہے۔ بصارت سے محرومی کے باوصف مشیت نے انھیں بے پناہ بصیرت ودیعت کی ہے ۔ ایسی نابغۂ روزگار شخصیات کے حوالے سے رائے زنی کرتے ہوئے اختصار و جامعیت کے پیمانے بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں ۔ اُن کے ہی ایک شعر پر ہم اپنے تنقیدی تاثرات موقوف کرتے ہیں ۔
نوائے وقت ہوں مجھ کو دبا دینا ہے ناممکن
میں ابھروں گا مساجد کے میناروں سے اذاں ہو کر

شہباز رسول فائقؔ
نایاب ہیں ہم

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
یہ مصرع استادِ محترم ظہور احمد فاتح جیسی عظیم ہستی پر سو فیصد پورا اترتا ہے۔ بلاشبہ وہ ایک عظیم شخصیت ہیں اور ایسی عظیم ہستیاں صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں ۔ یہاں مجھے علامہ اقبال کا شعر یاد آ رہا ہے ۔ یہ شعر بھی فاتح صاحب کی شخصیت پر پورا اترتا ہے۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
فاتح صاحب جیسی نابغۂ روز گار ہستی پر کچھ لکھنا مجھ نا چیز کے لئے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے ۔ ان پر لکھنے کے لئے مجھے ماضی کے جھرونکوں میں جھانکنا پڑ رہا ہے ۔ بات کچھ یوں ہے کہ تونسہ شریف میں انٹر کی تعلیم کے لئے بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل سے آمد سے پہلے ہی میں فاتح صاحب سے غائبانہ طور پر متعارف ہو چکا تھا۔
ان کا تعارف میرے بڑے بھائی اعجاز رسول نے کرایا جو کہ سی۔ کام اور ڈی ۔ کام کی تعلیم کے سلسلے میں کمرشل کالج تونسہ شریف کے ہاسٹل میں ۱۹۹۰ء سے ۱۹۹۱ء کے دوران قیام پذیر رہے ۔ بھائی نے مجھے اپنے کالج کی چند تصاویر دکھائیں جن میں فاتح صاحب نمایاں تھے ۔ میں ۱۹۹۹ء کے اکتوبر میں DBA میں داخلے کے لئے شاہ سلیمان کامرس کالج میں وارد ہوا تو وہاں میرا تعارف فاتح صاحب کے بھانجے غلام محمد عادل سے ہوا جو کہ خود بھی شاعری کر رہے تھے اور مجھے بھی چونکہ لکھنے لکھانے کا شوق تھا تو ان سے کافی اچھی دوستی ہو گئی ۔ DBA کی کلاس میں سارے دوست بے ذوق تھے ۔ صادق کریم بابر سرائیکی میں لکھ رہا تھا میں اور غلام محمد عادل اردو میں مشقِ سخن کر رہے تھے ۔ میں غلام محمد عادل کے توسط سے فاتح صاحب کی شاگردی میں براہِ راست آ گیا اور فیض یابی کا سلسلہ چل نکلا ۔ دو سال تک تو ان سے براہِ راست فیض حاصل کیا پھر میں مزید تعلیم کیلئے ڈیرہ غازی خان اور پھر اسلام آباد آیا تو خط و کتابت کے ذریعے ان سے رہنمائی اور اصلاح کا سلسلہ جاری رہا اور ابھی تک جاری ہے۔
اب آتے ہیں فاتح صاحب کے فن کی طرف ، فاتح صاحب قادر الکلام اور ہفت زبان شاعر ہیں ۔ اُن کے کمالات ان کے مختلف زبانوں سے شائع شدہ شعری مجموعوں میں دیکھے جا سکتے ہیں ۔ انھوں نے ہر زبان میں بڑی سہولت کے ساتھ خوبصورت کام کیا ہے ۔ اُن کی نظموں میں اصلاح کا پہلو غالب اور غزلوں میں بھی مختلف سماجی ، معاشی اور معاشرتی پہلو دیکھے جا سکتے ہیں ۔ رومان سے بھرپور شاعری ان کے جمالیاتی ذوق کی عکاس ہے۔
فاتح صاحب ادبی مرشد ہیں اور ایک ایسے ادبی صوفی ہیں جو کہ اوپن یونیورسٹی کا درجہ رکھتے ہیں ان سے کوئی بھی کسی بھی وقت فیض یاب ہو سکتا ہے ۔ اُن کے پاس ہر وقت ادبی شاگردوں کا ٹولہ حاضر رہتا ہے اور ان کے شاگرد جو ان سے دور ہیں وہ ان سے فون اور خطوط کے ذریعے اصلاح لیتے رہتے ہیں ۔ اُن کے شاگردوں کا تعارف ’ دبستانِ فاتح‘ کے عنوان سے چھپی کتابوں میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔فاتح صاحب کی شخصیت کے مختلف پہلو ہیں ۔ وہ ہفت زبان شاعر ، ایک مخلص استاد ، درد مند سماجی ورکر اور دلنواز رہنما ہیں البتہ ان کا شاعر ہونا ان کی دوسری تمام حیثیتوں پر غالب ہے ۔ اُن کے اب تک بہت سے شعری مجموعے منظرِ عام پر آ چکے ہیں ۔ ان کا ادب دوستی کا ثبوت یہ ہے کہ وہ ہر سال کئی مجموعہ ہائے کلام اپنے خرچے پر چھپواتے ہیں۔ ادب دوستی اور انسان دوستی استادِ محترم میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ان کا حلقۂ ارادت پورے پاکستان میں پھیلا ہوا ہے وہ پاکستان کے بڑے مشاعروں میں اپنا کلام سنا چکے ہیں ۔ ٹی ۔ وی پر بھی ان کا آنا جانا رہتا ہے ۔
آخر میں ، میں جنوبی پنجاب کے ادب کے باقاعدہ طالب علموں سے بالخصوص اور پاکستان بھر کے طلبا سے بالعموم ملتمس ہوں کہ وہ فاتح صاحب کی شخصیت پر کام کریں کیونکہ ان کی شخصیت کے بہت سے پہلو ابھی تشنہ ہیں اور دنیا کو ان سے متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔
فاتح صاحب کے تین اشعار حاضر ہیں
دوست ، احباب ہی اپنے ہیں نہ دلبر اپنا
اب تو روٹھا ہوا لگتا ہے مقدر اپنا
کیا بگاڑیں گے تِرا ترکِ تعلق کر کے
یوں بھی کر بیٹھیں گے نقصان سراسر اپنا
قاتل قتیل قتل پر تیرے نثار ہو
پہلے تو خوں بہا دیا پھر خوں بہا دیا

رحمان رضا چغتائی
ظہور احمد فاتح ایک شجرِ سایہ دار

جناب ڈاکٹر پروفیسر ظہور احمد فاتح کے فن اور شخصیت پر بات کرنے کے لئے جب میرے دوست محمد اشفاق مشفقؔ نے ایک فریضہ سونپا تو مجھے یہ کام مشکل اس لئے لگا کیونکہ فاتح صاحب کی جو قدر و منزلت میرے دل میں اپنے ایک استاد کی حیثیت سے ہے اس کے لئے مجھے الفاظ کا ملنا محال لگا کیونکہ فاتح صاحب ایک ایسی قد آور ہمہ جہت ادبی شخصیت ہیں جن کے خلوص و محبت اور علم و شفقت پر بات کرنا میرے لئے اس قدر سہل بات نہ تھی جتنی آسانی سے کرنے کو کہا گیا۔ جنابِ فاتح کے شاگردانِ علم و ادب کا ایک وسیع حلقہ وطنِ عزیز کے طول و عرض میں دور دراز تک پھیلا ہوا ہے اور تشنگانِ علم و ادب کی یہ تعداد سینکڑوں میں ہے جو اس چشمۂ فیض و برکت سے مستفید ہوتے ہیں اور مجھے بہت زیادہ حیرانی اس بات پر ہوتی ہے کہ اتنی زیادہ تعداد میں شاگرد ہونے کے باوجودفاتح صاحب اپنے ہر شاگرد کو اس کی ضرورت کے مطابق بہت خندہ پیشانی سے پورا پورا وقت دیتے ہیں اور اس کشادہ دلی سے ان کے علمی و ادبی مسائل کو سلجھانے میں اس شفقت سے معاونت فرماتے ہیں جو کہ عقل و دانش کے اسی پیکر ہی کا خاصہ ہے پھر اس پر ان کی ادبی کاوشیں اتنی کثرت سے ہیں جو میری اس حیرانی کو دو چند کرنے کا باعث بنتی ہیں۔
مجھے جنابِ فاتح کی شخصیت ایک ایسے شجرِ سایہ دار کی سی لگتی ہے جس کے ٹھنڈے ٹھنڈے فرحت آمیز سائے میں بیٹھا ہوا ہر شخص اس قدر مطمئن و شادمان رہتا ہے جیسے ادبی مسائل کی تند و تیز دھوپ سے اُس کا دور کا بھی واسطہ نہ ہو۔ جنابِ فاتح جیسی مشفق و مہربان ہستی کے ہوتے ہوئے جو اطمینانِ قلب خاک سار کو ہمہ وقت حاصل رہتا ہے اس کا بیان الفاظ میں ممکن نہیں یہ ایک ایسی روح پرور طمانیت ہے جو محسوسات کی ان بلندیوں کا حاصل ہے جہاں تک الفاظ کی رسائی ممکن نہیں ۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ عزوجل فاتح صاحب کو عمرِ خضر عطا فرمائے اوران کا دستِ شفقت ہمیشہ ہمارے سروں پر اسی آب و تاب کے ساتھ قائم و دائم رہے ۔ (آمین)

محمد طارق کاہش کشفی
کچھ فاتح جی کے بارے میں

پتہ نہیں یہ فاتح صاحب کی خوبی ہے یا خامی کہ وہ ہر شخص میں ادب کا ڈینوسار چھپا دیکھتے ہیں ۔ ان کا عقیدہ ہے کہ ہر شخص میں جوہرِ قابل ہوتا ہے اور میں تو تب اتنا حیران ہوتا ہوں کہ پاگل ہونے کے قریب ہو جاتا ہوں جب وہ ادب سے متضاد بلکہ متصادم لوگوں کو ادیب بنا دیتے ہیں ۔ میں کتنے ہی ایسے کاہش کشفیوں کو جانتا ہوں جن کو بات کرنے کا ڈھب بھی نہیں آتا تھا اور جن سے مل کر پہلا خیال یہی ذہن میں آتا ہے کہ ایسے خام لوگوں کا دنیا میں ہونا بے معنی ہے اور وہی اب ادیبوں کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ یہ فاتح جی کی ویمپائر کی کرشمہ سازی ہے کہ اُس نے ادھر مس کیا اور ادھر آپ شاعر و ادیب بن گئے۔ لکھنا اور لکھانا بس یہی دو کیڑے ہی ہیں ایک طرف فاتح جی کو ادب کا ہمالہ بناتے ہیں تو دوسری طرف ادیب ساز۔
فاتح جی بہت بڑا آدمی ہے اور میں بہت چھوٹا ، سو ان کی شخصیت اور فن پر میرے لئے لکھنا گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ میں سینے پر پتھر باندھ کر گرم ریت پر لیٹنے کے مماثل ہے ۔ ادب کے اس محمود غزنوی نے بے ادب بتوں پر غلبہ پانے کے لئے انھیں توڑنے کی بجائے ان کی تراش خراش کی اور انھیں ادبی کارزار میں لے آئے اور اسی لئے فاتح کہلاتے ہیں اِس بڑے آدمی کی بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس سے پہلے ملئے تو وہ پہلی نظر میں آپ کو مفتوح لگے گا ۔ اور آپ عالمِ سراسیمگی میں سوچیں گے کہ ہم توفاتح سے ملنے آئے تھے وہ کہاں چلا گیا؟ آپ کے سامنے جو شخص بیٹھا ہوا ہے آپ اس کا جو کونہ بھی ٹٹولیں گے ، کہیں بھی آپ کو فاتح نہیں ملے گا۔ بلکہ اس شخص کی آنکھوں میں ، منہ میں ، کانوں میں ، ہاتھوں اور پاؤں میں مفتوح ہی مفتوح ملے گا۔
آپ بڑے بڑے ادیبوں سے ملے ، اُن کو پڑھا سنا ، لیکن آپ عملی ادیب سے ملنا چاہیں تو فاتح جی سے ملیے ۔ ان کا اوڑھنا بچھونا ، اٹھنا بیٹھنا ، چلنا پھرنا ، سونا جاگنا ، بولنا ، خاموشی حتیٰ کہ کھانسنا اور چھینکنا بھی ادب ہے ۔ ادب کے تعین و تعبیر کی ضمن میں جتنے بھی ارشادات و اقوال وارد ہوئے ہیں ان سب کو اگر اکٹھا کر کے کوئی تصویر بنائی جائے تو اس تصویر میں بیٹھا ہوا شخص کون ہو گا؟ فاتح ، جی ہاں یقینا فاتح صاحب۔
میں شخصیتوں کے خاکے چھاننے کا عادی ہوں ۔ کئی سرخ ، سفید ، سیاہ ، اودی ، سبز ، خشک ، گیلی خاکیں چھان چکا ہوں ۔ فاتح جی کی خاک اپنے پانی سے گیلی رہتی ہے اور ہر وقت روئیدہ و سر سبز رہتی ہے ۔ اُس پر قسم قسم کے پھولوں اور پھلوں والے پودے اگے ہوئے ہیں جن سے خلق فیض یاب ہو رہی ہے۔
میں فاتح صاحب کو جانتا ہوں مگر پہچاننے کا دعوے دار ہرگز نہیں ہوں بلکہ جو بھی ان کو پہچاننے کا دعوے کرے وہ دلیل پیش نہیں کر سکے گا ۔ اگر ایک زہد و تقویٰ سے لبریز شخص ان کے پاس بیٹھا ہو اور اس ملاقات کو دور سے کوئی رند مشرب دیکھ رہا ہو تو وہ فاتح صاحب کو زاہدِ خشک سمجھ کر ان سے ملنے سے ہچکچائے گا۔ بعینہٖ فاتح صاحب سے کوئی رند ملاقات کو آیا ہو اور اس ملاقات کو زاہد و عابد دور سے ملاحظہ کر ے تو وہ فاتح جی کو رند مسلک سمجھ کر حیران رہ جائے کہ شخص کیا ہے ؟ فاتح جی کے کئی رنگ ہیں ، کئی پرتیں ، کئی جہتیں ہیں جو کم از کم مجھ جیسے شخص پر ستر یا اسی برس میں نہیں کھل سکتیں ۔ اتنی عمر تو صرف ان کی شخصیت کی ایک پرت کھولنے میں صرف ہو گی ۔ فاتح جی اپنے اندر ، باہر کی طرف اور اپنے باہر میں اندر کی طرف ڈوبے ہوئے محسوس ہوتے ہیں ۔ خشک تری اور تر خشکی صد جہت بے جہتی اور بے جہت صد جہتی کے اسرار و رموز میں چھپے ہوئے اِس واضح شخص کو پہچاننے کا دعویٰ بھلا کرے تو کون کرے؟
فاتح صاحب شعری عمل کو آسمان و زمین کے مالک کی عطا کی ہوئی ایک امانت سمجھتے ہیں اور کامل دیانت داری کے ساتھ اس امانت کی حفاظت کر رہے ہیں ۔ خدا انھیں سلا مت رکھے ( آمین)

حفیظ اللہ قلزم
تاثرات

بابت استاد ظہور احمد فاتح طولِ بیان سے قاصر ہوں مختصراََ اتنا عرض کروں گا کہ میرے خیال میں جناب ظہور احمد فاتح بہت عمدہ ادیب اور عظیم شاعر ہیں ۔ وہ بہت سے شعرا کے جن کی اکثریت نسلِ جدید سے تعلق رکھتی ہے استادِ جواد ہیں ۔ البتہ یہ امر باعثِ تاسف ہے کہ جدید میڈیا اور حکومت کی طرف سے ان سے بے توجہی برتی گئی ہے اور جس قدر و منزلت کے وہ حق دار ہیں اُس سے انھیں نوازا نہیں جا سکا ۔ میں دعا گو ہوں کہ رب العزت انھیں مزید ترقیات و فتوحات عطا فرمائے اور وہ زیادہ سے زیادہ شاگردانِ شعر و ادب کی اصلاح و تربیت کی خدمت سے بہرہ مند ہو سکیں۔

فاروقِ اعظم کنول
تاثرات

سات دریاؤں کی دھرتی ، سرائیکی دھرتی زرخیز ہونے کے ساتھ ساتھ مردم خیز بھی ہے ۔بلا شک اِس دھرتی ماں نے اتنے عظیم بیٹے پیدا کئے کہ انسانیت ان پر ہمیشہ فخر کرتی رہے گی ۔ انھی عظیم لوگوں میں ایک نام ابوالبیان پروفیسر ظہور احمد فاتح صاحب کا بھی ہے۔
پروفیسر ظہور احمد فاتح صاحب سر زمین پیر پٹھان حضرت خواجہ شاہ سلیمان تونسوی کے نہایت سادہ انسان ہیں ۔ آپ بالکل سادہ لباس اور سادہ گفتگو پسند کرتے ہیں آپ پُر خلوص اور ملن سار انسان ہیں۔
آپ ہمیشہ بردباری کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ آپ ہمیشہ مشفقانہ انداز اختیار کرتے ہیں آپ دوستوں سے نیاز مندی اور لبوں پر ہمیشہ مسکراہٹ رکھتے ہیں ۔
آپ ایک قادر الکلام شاعر ہیں ۔ حالانکہ آپ کی مادری زبان سرائیکی ہے مگر آپ کو سرائیکی کے ساتھ ساتھ اردو، عربی ، انگریزی ، ہندی ، فارسی اور پنجابی پر بھی عبور حاصل ہے ۔ آپ جب شاعری کر رہے ہوتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ شاعری کر نہیں رہے بلکہ شاعری ہو رہی ہے کیونکہ آپ لفظوں کے محتاج نہیں ۔
آپ کے شاگردوں کی تعداد ستر سے اسی کے درمیان ہے۔ آپ کے شاگردوں نے بھی بہت نام کمایا ۔ جن میں سے چند ایک کے نام درج ذیل ہیں۔ غلام قادر خان بزدار ، شبیر ناقدؔ ، محمد اسماعیل فیض ہادیؔ ، محمد شکیل احمدؔ، محمد تنویرؔ الزمان ، شاہد ماکلی ، راشد محمود ، محمد اشفاق مشفقؔ ۔
آپ قریباََ ۱۵۰ کتابوں کے مصنف ہیں جن میں سے ۳۲ کتب منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔ ہماری دعا ہے اللہ تعالیٰ فاتح صاحب کو مزید ادبی فتوحات سے ہمکنار کرے ۔

طاہرہ طیبہ
والدِ محترم

کعبۂ صدق تو ، میں تِرے چار سو
میرے والدِ محترم وہ خورشیدِ علم و آگہی ہیں جن کی پہلی کرن مجھ پر پڑی ۔ وہ تعلیم و تربیت ہو یا آدابِ معاشرت ، یا زندگی کا کوئی بھی پہلو ہو انھوں نے ہمیشہ میری رہنمائی کی ۔
بہن ، بھائیوں میں سب سے بڑی ہونے کی وجہ سے میں ہمیشہ ان کی توجہ کا مرکز بنی رہی ہوں ۔ والدِ محترم کے احسانات کا حق نہ تو میں اِس دنیا میں ادا کر سکتی ہوں اور نہ ہی آخرت میں ۔
والدِ محترم نے قرآن پاک کی تعلیم سے خود مجھے روشناس کیا اور قرآن پاک کا ترجمہ بھی پڑھایا ۔ اس کے علاوہ میرا ذمیہ کام بھی خود کرواتے تھے ۔ میں نے کبھی کسی اکیڈمی سے تیاری نہیں کی بلکہ والدِ محترم کی زیرِ نگرانی تعلیم حاصل کی اور ہمیشہ درجۂ اول حاصل کیا ۔ اُن کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کی تکمیل ہوئی ۔
والدِ محترم کا طرزِ تعلم ہمیشہ مشفقانہ رہا ۔ اگر پڑھائی میں سستی ہوتی تو وہ بہت سختی کرتے تھے ۔ میںتیسری جماعت میں تھی تب سے بچوں کی کہانیوں کے رسالے گھر میں آتے تھے ۔ بچپن میں تھوڑا سا ٹی وی دیکھنے دیتے تھے ۔ عشاء کی نماز کے بعد انبیاء کرام کے قصے بھی سنایا کرتے تھے ۔
والدِ محترم کی ہستی میں سنتِ رسول کے عین مطابق تمام خوبیاں موجود ہیں ۔ والدِ محترم نے سنتِ رسول کے مطابق اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت اور شادی کی اور اولاد کے تمام حقوق ادا کیے یہاں تک کہ اگر بیٹوں پر کچھ خرچ کیا تو اتنا ہی بیٹیوں کو بھی دیا چاہے وہ نقدی کی صورت میں ہو یا وہ زرعی و سکنی رقبے کے صورت میں ہو۔
والدِ محترم نہایت سادہ مزاج کے مالک ہیں ۔ لوگ والدِ محترم کی دل پذیری ، بردباری اور خوش دلی کے گرویدہ ہو جاتے ہیں ۔ ایک اور خوبی ان میں قناعت کا خزانہ ہے اور اس کی تلقین کرتے ہیں کہ قناعت و سادگی کا دامن ہمیشہ تھامے رکھو کبھی پریشانی نہیں آئے گی ۔ میں نے والدِ محترم کی اِس نصیحت کو گرہ سے باندھ لیا اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ہے ۔ جس کی وجہ سے مجھے کبھی تنگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔
والدِ محترم خود تو عبادت گزار ہیں ہی ہمیں بھی ہمیشہ عبادت کی تلقین کرتے ہیں ۔ اب بھی ہم تمام بہن بھائیوں کو صبح کی نماز کے لئے فون کے ذریعے جگاتے ہیں ۔ ان کی تربیت کا اتنا اثر ہے کہ ان کی پہلی گھنٹی پر میں نماز کی تیاری کے لئے کھڑی ہو جاتی ہوں۔ لیکن تربیت کا یہ ہنر ہمیں نہیں آیا ۔ نماز کے لئے بچوں کو بار بار کہنا پڑتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اور ہمارے بچوں کو والدِ محترم جتنا زہد و تقویٰ عطا فرمائے۔آمین
والدِ محترم کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ خوابوں کی تعبیر بھی بتاتے ہیں ۔ حضورﷺبھی صبح کی نماز کے بعد صحابہ کرام کے خواب سنا کرتے تھے اور پھر ان کی تعبیر بھی بتایا کرتے تھے ۔ والدِ محترم بھی بہت عمدہ طرز سے تعبیر بتاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ زندگی کا کوئی بھی پہلو ہو والدِ محترم بہت عمدہ مشورہ دیتے ہیں ۔ یہاں تک کہ اگر ہمیں سسرال کی طرف سے کوئی بات ناگوار گزرے تو اس میں بھی والدِ محترم مثبت پہلو ڈھونڈ نکالتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ میرے والدین اور سب کے والدین کی شفقت کا سایہ بچوں کے سروں پر سلامت رکھے ۔ آمین ثم آمین
والدِ محترم میں ایک اور خوبی رشتہ داروں کا احترام کرنا ہے ۔ میرے دادا محترم نے تین شادیاں کی ہوئی تھیں اور میری دادی محترمہ نے صرف ایک بیٹا پیدا کیا ۔ اِس لحاظ سے ہمارا خاندان سوتیلے رشتہ داروں سے بھرا ہوا ہے لیکن والدِ محترم نے نہ کبھی خود انھیں سوتیلا سمجھا اور نہ ہی کبھی ان کی اولاد نے یعنی ہم بہن بھائیوں نے انھیں سوتیلا سمجھا۔ والدِ محترم اپنے تمام رشتہ داروں اور دوست احباب پر بہت مہربان ہیں اور تمام لوگوں سے تواضع اور مروت سے پیش آتے ہیں ۔ یہاں تک کہ شدید گرمیوں کی دوپہر میں بھی کوئی دوست آ جائے تو اس کے پاس اس وقت تک بیٹھے رہتے ہیں جب تک وہ خود نہ چلا جائے۔
عبادت کا یہ عالم ہے کہ فرض نمازوں کے علاوہ نوافل کا بھی خصوصی اہتمام کرتے ہیں اور تہجد کی نماز بھی ضرور ادا کرتے ہیں اور جب بھی فارغ ہوں تلاوتِ قرآنِ پاک کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ عبادت سے فارغ ہو کر سلسلۂ سخن میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔ بزمِ فروغِ ادب میں بھی ضرور شرکت کرتے ہیں چاہے میری والدہ محترمہ کو ان کی مشاعروں میں شرکت جتنی ناگوار گزرے۔میری والدہ محترمہ انتہائی سلیقہ شعار اور محبت کرنے والی ماں اور فرمانبردار زوجہ ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ میرے والدین کی شفقت کا سایہ ہم تمام بہن بھائیوں پر اور ہمارے بچوں پر ہمیشہ سلامت رکھے ۔ آمین ثم آمین
والدِ محترم بہت خوش نصیب ہیں کہ اللہ پاک نے ان کو ایسی زوجہ سے نوازا ہے جو بہت زیادہ خدمت گزار ہیں اور والدِ محترم کی ہر چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کا خیال رکھتی ہیں اور والدِ محترم بھی ان کی ہر خواہش کا احترام کرتے ہیں اور ہمیشہ انھیں خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ میرے والدین کو سلامت رکھے۔ آمین ثم آمین
والدِ محترم کا حلقۂ احباب انتہائی وسیع ہے ۔ والدِ محترم خود بھی شگفتہ طبیعت کے مالک ہیں اور ان کی محافل بھی بہت پُر رونق ہوتی ہیں ۔ والدِ محترم حکمت اور عقل و دانش کی مثال ہیں ۔ ایک دنیا ان کے فیضِ عام سے بہرہ ور ہو رہی ہے۔یہاں تک کہ انٹر نیٹ کے ذریعے پوری دنیا ان سے متعارف ہو گئی ہے لیکن والدِ محترم میں غرور نام کی کوئی چیز نہیں بلکہ انکساری ہی انکساری ہے۔
والدِ محترم نے خود بھی ہمیشہ محنت ، شجاعت اور ہمت سے کام لیا اور ان کا پیغام بھی ہمیشہ سے محنت ، ہمت اور شجاعت رہا۔ اللہ تعالیٰ والدِ محترم کو ہمیشہ سلامت رکھے ۔ آمین ثم آمین

قاہرہ قدسیہ حراؔ
محسنِ من کے نام

السلام علیکم معزز قارئین! مجھ سے کہا گیا کہ آپ پروفیسر ظہور احمد فاتح کے بارے میں مضمون تحریر کریں میں کافی دن پریشان رہی کہ اتنے قیمتی اور مکمل الفاظ کہاں سے لاؤں جو نمایاں مقام رکھنے والی ہستی کے لئے مناسب ہوں ۔ خیر تھوڑی سی کوشش کی ہے ۔ پروفیسر ظہور احمد فاتح میرے لئے صرف میرے ابوجان نہیں بلکہ ایک ایسے رہنما ہیں جو بھٹکنے سے پہلے تھام لیتے ہیں ۔ ایسے گھنے شجر ہیں جو سدا سایہ فگن رہتے ہیں میرے ہم راز دوست ہیں وسیع سمندر ہیں جو میرے ذہن کی کشمکش اور تناؤ کو چٹکیوں میں ٹھہراؤ دیتے ہیں وہ شخصیت، وہ گوہرِ علم و ادب کہ جن سے ملنے کے بعد ہر اہلِ علم و ادب ان کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔
ابو جان نے ہمیں دکھاوے اور دھوکے کو پسِ پشت ڈال کر سادگی میں سر اٹھا کر جینا سکھایا ہے ۔والد کے فرائض پورے کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے استاد بھی ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے انھیں اخلاقِ حسنہ ، وفا اور سخاوتِ نفس ودیعت کی ہے میں بچپن سے آج تک انھیں ہر حال میں شکر ادا کرتا دیکھتی رہی ہوں ۔ خود ساختہ سوچ آ جاتی ہے اگر ابو جان کی طرح میری بصارت نہ ہوتی تو کیا میں اتنی تعلیم کا حصول کر پاتی؟ علم و ادب میں اتنی دلچسپی اور کامیابی حاصل کر پاتی ؟ نہیں ہرگز نہیں میرے لئے اور ہم سب کے لئے اعلیٰ نمونہ ہیں صبر و قناعت کا ، انتہا درجے شکر گزاری کا۔
ابو جان سراپا محبت و شفقت ہیں ۔ ان کی ذہانت کا تو کیا کہنے مجھے کوئی کتاب پڑھنے کا کہتے تو گویا وہ سنتے ہی ان کو حفظ ہو جاتی ۔ میں حیران ہو جاتی ہوں جن کتابوں کو یاد کرنے میں ہم اتنا وقت لیتے ہیں ان کو صرف ایک بار سن کر یاد ہو جاتی ہیں ۔
میرے ابو جان بہت نرم دل ہیں ۔ ان کے قریبی رشتے دار بارہا ان کا دل دکھاتے ہیں زیادتی کرتے ہیں مگر ابو جان پرکھنے نہیں دیتے بلکہ ہمیں بھی سب کو معاف کر کے رشتے جوڑے رکھنے کی تلقین کرتے رہتے ہیں
آپ کی تصانیف اور شاعری کے علم کے سمندر کے بارے میں کچھ بتانے کی میری اوقات نہیں اتنا ضرور کہنا چاہوں گی کوئی موضوع ایسا نہیں جس پر آپ نے لکھا نہ ہو اور لکھا بھی ایسا کہ انسان متاثر ہوئے بغیر نہ رہ پائے۔ابو جان کی تصانیف میں انتہا درجے کی پختگی ہے ۔ وہ تمام مضامین ، غزلیں ، نظمیں ، اشعار ، دینی و قومی شاعری کوئی بھی موضوع ہو الفاظ کی شیرینی ، مترنم بحریں اور تخلیق کا حسن خود اپنے خالق کی مہارت کا ثبوت ہیں ۔
ابو جان اپنے لئے کیا خوب لکھتے ہیں ۔
ہے زمانے میں مِری پرواز مانندِ عقاب
اپنے من میں ڈوب جاتا ہوں قلندر کی طرح
قلزمِ غم میں رہا کرتا ہوں مثلِ حوت میں
آتشِ ہجراں میں جیتا ہوں سمندر کی طرح
جستجوئے یار میں گردان ہوں آٹھوں پہر
سیتا سیتا کر رہا ہوں رام چندر کی طرح
ناچتی ہے مسکراہٹ میرے ہونٹوں میں ابھی
لال ہے دل گرچہ زخموں سے چقندر کی طرح
توڑ ڈالے ہیں سبھی میں نے بتانِ خواہشات
ہو چکا ہے دل مِرا ویران مندر کی طرح
آج اقلیمِ سخن میں اے جہاں والو سنو
ما بدولت کی حکومت ہے سکندر کی طرح
تازیانہ دیکھ کر فاتح مِرے افکار کا
چڑچڑاتے ہیں مِرے نقاد بندر کی طرح
ابو جان کی شخصیت ایسی ہے لکھنے بیٹھیں تو قلم نہ رکے مجھ میں لکھنے کا ہنر ہوتا تو یہ مضمون بہت طویل ہوتا ۔ مختصر میں اتنا لکھوں گی کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا اس قدر اعلیٰ اوصاف کا مصداق نہیں دیکھا۔
ابو جان پرہیز گار انسان ہیں میری زندگی کے خوبصورت پل تھے جب ابو جان ہم بہن بھائیوں کو جمع کرتے اور ہم اللہ رب العزت کی اجتماعی عبادت کرتے تھے۔ ابو جان نے ہم میں دین کو سمجھنے کا شوق پیدا کیا۔ ہمیں اچھی زندگی میسر کی۔ اللہ رب العزت میرے ابو جان کوصحتِ کاملہ و عاجلہ اور طویل عمر عطا فرمائے۔ آمین
ابو جان نے کیا خوبصورت لکھا
تبسم کی ردا اپنے دکھوں پر ڈال دیتا ہوں
خیالِ راز داری آنکھ نم ہونے نہیں دیتا

طارق احمد طارقؔ
استادِ جواد

ابوالبیان ظہور احمد فاتح صاحب سے میری ملاقات تو قریباََ ایک سال پہلے ہوئی لیکن ان کی شفقت اور محبت کے باعث ایسا لگتا ہے کہ ان سے شناسائی برسوں سے ہے ۔ فاتح صاحب ایک فرد نہیں بلکہ ایک ادارہ ہیں۔ جن سے بہت سے سخن وروں نے استفادہ حاصل کیا ۔ جن میں سے ایک میں بھی ہوں ۔ اُن کی صحبت میں جو وقت گزرا میرے لئے قابلِ تحسین ہے ۔ آپ نے اپنی علمی و ادبی پختگی کا لوہا منوا لیا ہے ۔ آپ کی شخصیت علم و روحانیت کا حسین مرقع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو انتہائی شاندار شخصیت اور اعلیٰ مزاج کے ساتھ پیدا کیا ہے اور آپ کو غیر معمولی خوبیوں اور بے حد عمدہ صلاحیتوں سے نوازا ہے ۔ میں فاتح صاحب کے لب و لہجہ اور اسلوب کا مداح ہوں ۔ آپ کے پاس نہ صرف ادبی ودنیوی علوم کا خزانہ موجود ہے بلکہ دینی علوم پر بھی کامل دسترس رکھتے ہیں۔ آپ سے آپ کے شاگرد نہ صرف علم و ادب بلکہ عقیدہ و عمل کے اقدار سے بھی آشنا ہو رہے ہیں۔ فاتح صاحب کی مثال ایک سمندرکی ہے جو جتنا بڑا ظرف لے کر آئے گا اتنا ہی حصہ سمیٹ لے گا ۔ جن پیمانوں پر ہم عام شعراء اور ادیبوں کو ماپتے ہیں فاتح صاحب کو اُن پیمانوں پر نہیں پرکھا جا سکتا۔آپ جو الفاظ بولتے ہیں آپ کے ہر لفظ کی ایک قیمت ہوتی ہے ۔ ہر موضوع پر مدلل گفتگو کرتے ہیں۔ آپ وہ عظیم شخصیت ہیں جن کی ذات کا لفظوں میں احاطہ کرنے سے قاصر ہوں یا یوں کہوں کہ کسی لغت میں وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعے اُن کی شخصیت کو ناپا یا تولا جا سکے ۔ مجھے ذاتی طور پر اُن کی قربت میں جو وقت گزارنے کا موقع ملا اُس میں میں نے ان سے بہت زیادہ استفادہ حاصل کیا ۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کا سایہ ہمارے اوپر قائم رکھے ۔ اُن کا وجود ہمارے لئے یقینا قابلِ فخر ہے۔

حافظ خادم حسین خادم
مرجعِ طالبانِ ادب

نوے کی دہائی کے اوائل کی بات ہے میں گورنمنٹ ڈگری کالج ڈیرہ غازیخان میں بی اے انگلش لٹریچر کا طالبعلم تھا کالج میں اچانک دو مذہبی سوچ کی حامل طلبا تنظیموں میں تصادم ہو گیا ۔ نتیجہ کالج غیر اعلانیہ اور غیر محدود مدت کے لئے بند کر دیا گیا ۔ گھر کے مخدوش مالی حالات کے پیشِ نظر میں تلاشِ روزگار میں اسلام آباد چلا گیا ۔ اسلام آباد میں مجھے ایک میڈیکل سٹور میں کام مل گیا ۔ ایک دن اچانک پروفیسر جناب ظہور احمد فاتح صاحب اپنے ایک دوست کے ہمراہ اس سٹور کے مالک سے ملنے کے لئے تشریف لائے ۔ سلام دعا کے بعد فرمانے لگے یہ ہمارے دیرینہ دوست ہیں اور ہم اسلام آباد اپنے کسی کام سے آئے ہوئے تھے تو ہم نے سوچا کہ اِس دوست سے بھی ملتے جائیں ۔
جناب فاتح صاحب وہاں سٹور پر کافی دیر تشریف فرما ہوئے۔مجھے ان سے پہلی مرتبہ قریب سے ملنے کا موقع میسر آیا۔ فاتح صاحب کو میں اپنے زمانۂ طالبعلمی سے جانتا تو تھا مگر کبھی قریب سے ملنے کا موقع نہ ملا تھا۔ ہمارے جو دوست کمرشل کالج تونسہ میں پڑھتے تھے وہ بتاتے تھے کہ وہ ایک بہت بڑی علمی و ادبی شخصیت ہیں ، نہایت خلیق و مہربان انسان ہیں۔ مگر آج مجھے ان سے قریب سے ملنے کا موقع ملا تھا جیسے ہی وہ سٹور میں داخل ہوئے تو میرے سامنے انسانیت کا ایک مسکراتا چہرہ روشن تھا ۔ نہایت ہی لطیف و دل گداز انداز میں شائستہ و شستہ کلام گویا شیریں زبانی کے حیطہ میں تاثرات کا ایک سمندر موجزن تھا۔ میں بس اُن کے بارشیں مسکراتے روشن چہرے کو دیکھے جا رہا تھا اور دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ کاش میں بھی ان کا شاگرد ہوتا۔ میں نے کمرشل کالج میں کیوں نہ داخلہ لیا۔۔۔۔۔۔۔۔ بہر حال وہ تو سب اب قصۂ دیرینہ ہو چکا تھا۔
وہ مجھ سے ایسے ملے جیسے کہ برسوں کی شناسائی ہو۔ بہت ہی اپنائیت کا انداز اور والہانہ پن ان کی گفتگو سے چھلک رہا تھا۔ میں اُن کی شخصیت کے بڑے پن اور سادہ مزاجی کے درمیان گم رہا کہ اتنی بڑی علمی و ادبی شخصیت اور اتنے سادہ مزاج و پروقار ۔۔۔۔۔۔ سبحان اللہ
میرے اسلام آباد کے دوران احسن واہگہ ، نذیر احمد قیصرانی ، میجر نصراللہ صاحب اور دیگر دوستوں کے ہاں مختلف علمی و ادبی نشستیں ہوتی تھیں ۔ جن میں پروفیسر شریف اشرف صاحب ، احمد خان طارق صاحب ، سرور کربلائی صاحب کے علاوہ کچھ اسلام آباد کے مقامی شعراء کرام کی موجودگی ہوتی تو ان محافل میں مجھے بھی حاضری کا موقع ملتا تھا۔ اِس طرح بچپن سے جو ادب سے شغف طبیعت میں موجود تھا وہ اور زیادہ ہونے لگا اور آہستہ اہستہ اندر کا شاعر کروٹ لینے لگا میں حلقۂ طالبانِ علم و ادب میں شامل ہو گیا۔
کشتیٔ وقت بہاؤ میں رہی اور ہم چار و ناچار اِس کے ہمراہ بہتے رہے ۔ یہ مجالس و محافل حادثاتِ زمانہ کی نذر ہو گئیں مذکورہ دوستوں میں سے کچھ اللہ کو پیارے ہو گئے اور کچھ اسلام آباد سے رخصت ہو گئے۔ مگر اپنے اندر کا شوقِ ادب بڑھتا رہا میں کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا مگر آسمانِ فکر پر ایک خیال گاہے گاہے کوندتا کہ کیا تم یہ جو کچھ لکھ رہے ہو صحیح بھی ہے یا نہیں ۔ تمھارا سفر تمھیں منزل پر پہنچائے گا یا نہیں؟ تو اندر سے جواب ملتا کہ یہ تمھیں کوئی رہبرِ مخلص ہی بتا سکتا ہے کہ تمھارا سفر کسی صحیح سمت میں ہے یا تمھیں سمت کی درستی کرنی ہے؟
میں اِس رہبرِ مخلص کی تلاش میں ایک عرصہ دربدر رہا اور اِسی سرگردانی میں یہاں حلقۂ اربابِ ذوق کے ڈاکٹر فرحت عباس ، پروفیسر حسن اور اس کے علاوہ اور بہت سے ادب شناس دوستوں کے ہاں حاضری دی اور اپنا مدعا بیان کیا تو تمام احباب مجھے نو آموز سمجھتے ہوئے رخ بدل لیتے ۔
سعیِ بسیار کے بعد وہوا میں جمشید ناشاد سے رابطہ کیا تو وہ فرمانے لگے کہ جناب امان اللہ کاظم صاحب کے ہاں پیش ہو جاؤ وہاں بھی گیا مگر خالی دامن رہا۔
اس پریشانی کے عالم میں تھا کہ کوئی مخلص راہنما ، کوئی استاد ، کوئی منبعِ علم و ادب مل جائے جو میری نعت لکھنے کی کوشش کو حوصلہ دے ۔ اِسی اثنا میں کسی دوست کے توسط سے ایک کتاب ’ دبستانِ فاتح حصہ دوئم‘ مجھ تک پہنچی تو اس کے مطالعہ سے پتہ چلا ایک مردِ درویش ، منبعِ علم و ادب ، مخزنِ تہذیب و ثقافت ، شمعِ انوارِ علم ، بحرِ ادب و معانی ، مرجعِ طالبانِ ادب ، لگ بھگ دو سو کتابوں کے مصنف ، ستر سے زائد تلامذہ کے معلم ، کاروانِ ادب کے رہبر اور شاعرِ ہفت زبان ہمہ تن و ہمہ وقت خدمتِ زبان و ادب میں مشغول ہیں ۔ یہ جان کر دل میں ایک خوشی کا احساس ہوا کہ اب منزل قریب ہو گئی ہے کہ میں بھی اس مردِ دررویش کے کاروانِ ادب کا حصہ بن جاؤں گا اور منزل ان شأ اللہ قریب ہو جائے گی ۔ مگر سابقہ تجربات و مشاہدات جب آنکھوں کے سامنے گھومے تو پھر ایک مایوسی سی چھا گئی کہ کہاں وہ اتنی بڑی شخصیت ، کہاں وہ بحرِ علم و ادب کا شناور اور کہاں میرے جیسا نوآموز جسے ابھی صحیح طور سے قلم بھی ہاتھ میں لینا نہیں آتا ۔ تو اِس خیال کے ڈر سے کہ کہیں وہ بھی شاید ہاتھ نہ تھامیں ، حوصلہ افزائی نہ کریں تو۔۔۔۔۔! بس دل مسوس کر کے رہ گیا ۔ مگر چند دن بعد پھر خیال آیا کہ پیاسے کا کام کنویں تک جانا ہے ۔ بھکاری کو صدا لگانی ہے ۔ مسافر کو چلنا ہے ۔ اگر انھوں نے بھی سہارا نہ دیا تو کوئی بات نہیں ۔ اس کشمکش میں رہا۔۔۔۔ ۲۰۱۷ء میں ایک دن اپنی پوری قوت مجتمع کر کے دل کو سمجھا بجھا کر ، حوصلے بلند کئے اور جناب ابوالبیان ظہور احمد فاتح سے بواسطہ فون رابطہ کیا ۔دوسری طرف سے فون اٹھایا گیا تو بہت ہی نرم و گداز لہجے میں شائستہ و شستہ انداز میں السلام علیکم و رحمت اللہ کی دعا سنائی دی۔پروفیسر ظہور احمد فاتح صاحب اس اندازِ اپنائیت سے گفتگو فرما رہے تھے کہ میرے تمام خوف و خدشات ہوا ہو گئے۔ نہایت شفیق و دلکش انداز نے ہمت بڑھائی ، حوصلہ دیا مگر بات کرنی پھر بھی نہ آ رہی تھی ۔ میں بے تکا سا سوال کیا کہ سر آج کل آپ کیا کر رہے ہیں ؟ فرمانے لگے ہم تو دن رات خدمتِ ادب میں مصروف ہیں ۔ فروغِ ادب کے لئے کوشاں ہیں ہمارا تو اوڑھنا بچھونا یہی ہے۔ طالبانِ علم و ادب کی اصلاح و رہنمائی ، اپنی تحریروں کی کمپوزنگ کروانا اور دوستوں کو علم و ادب کے جواہر بانٹنا ہمارا مشغلہ ہے ۔ اس پر جواباََ انھوں نے بھی سوال فرمایا کہ سنائیں آپ بھی کچھ لکھ رہے ہیں آج کل ؟ یہ ان کی شفقتِ خاص تھی ورنہ ان کو تو یہ پتہ بھی نہ تھا کہ میرا بھی ادب کی طرف طبعی میلان ہے۔میں نے یکدم اپنا مدعا بیان کر دیا کہ جناب کچھ کوشش تو کر رہا ہوں ۔ فرمانے لگے جی ارشاد تو میں نے اپنا ایک نعتیہ قطعہ ( سرائیکی) ان کی خدمت میں پیش کیا باوجود بہت ساری خامیوں کے انھوں نے میری دل کھول کر حوصلہ افزائی کی ۔ اس پر میں نے عرض کی جناب مجھے بھی اپنے تلامذہ کی فہرست میں شامل فرمائیں تو ذرہ نوازی ہو گی ۔ فرمانے لگے جی بالکل آپ آج سے اس کاروان میں باقاعدہ طور پر شامل کر دیے گئے ہیں ۔ یہ سن کر میں نہایت ہی حیران تھا کہ جناب یہ آپ کی اعلیٰ ظرفی کا حد درجہ کمال ہے مگر اس طرح آپ کے لئے خاصہ مشکل ہو گا۔ فرمانے لگے اللہ مدد کرے گا ۔ پہلے بھی ایسا ہی چل رہا ہے۔ دن رات بہت سے دوست فون کے ذریعے راہنمائی لے رہے ہیں اور ہم ان کا ہاتھ تھامے منزل کی طرف گامزن ہیں ۔ بس پھر تو مجھے ایک مضبوط سہارا مل چکا تھا ۔ میں انتہائی خوش تھا منزل قریب نظر آ رہی تھی ۔ رہبرِ مخلص نے ہاتھ تھام لیا تھا۔ آج سے مشکل ختم ہو چلی تھی۔
اب جناب کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہے کہ ’ دبستانِ فاتح حصہ چہارم ‘‘ طبع ۲۰۱۹ء میں میں بھی اس کاروانِ علم و ادب کا حصہ دکھائی دیتا ہوں ۔ جسے محمد اشفاق مشفقؔ نے مرتب کر کے شائع کرایا ہے۔ انھوں نے شفقت فرمائی اور میرے کچھ اشعار کو کتاب کا حصہ بنایا اور ان شأ اللہ عنقریب ’ جواہرِ عقیدت‘ کے نام سے راقم کا مجموعہ اردو نظم( نعتیہ کلام) اور ایک سرائیکی مجموعۂ کلام منصۂ شہود پر ظہور پذیر ہونے والا ہے ۔ پھر شب و روز کی بنیاد پر ڈاکٹر فاتح صاحب سے مزید تعلقات استوار ہو رہے ہیں اور پتہ چل رہا ہے کہ طالبانِ ادب کا ایک تانتا بندھا رہتا ہے ۔ کوئی فون پر تصحیح کرا رہا ہے تو کوئی حاضرِ خدمت ہو کر راہنمائی لیتا ہے ۔ ان کے شاگردان کے بھی شاگردان فیض حاصل کرنے میں مصروف ہیں ۔ وہ بزمِ فروغِ ادب کی سرپرستی بھی فرما رہے ہیں ۔ اپنی کتب (نظم و نثر ، تراجم) سرائیکی ، پنجابی ، بلوچی ، اردو ، فارسی ، انگریزی ، ہندی میں تمام اصنافِ سخن سرعت سے منظرِ عام پر لا رہے ہیں جن سے ایک زمانہ فیض حاصل کر رہا ہے اور ان کی شخصیت مرجعِ طالبانِ ادب ہے شب و روز طالبانِ علم و ادب کو بلاامتیاز مستفیض فرما رہی ہے ۔

شفقت اللہ لغاری
ظہور احمد فاتح ہمہ جہت فنکار

فیض احمد فیضؔ نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ’’ ادیب کا کام تو یہ ہے کہ امن ، دوستی ، خیر سگالی ، حسن اور تہذیب و تعلیم کی فروغ کے لئے کوشش کرے۔‘‘
ظہور احمد فاتح صاحب بلاشبہ ایک ایسی ہی شخصیت ہیں جو اِس خصوصیت سے بھی زیادہ معتبر ہیں ۔ انھوں نے ادب کی جتنی خدمت ایک دور افتادہ علاقے میں بیٹھ کر کی ہے شاید ہی ہماری نسلوں میں کوئی شخص ایسا ہو جو یہ قرض اتارے ورنہ تو ممکن ہی نظر نہیں آتا کہ ان جیسا سچا ادیب اِس پسماندہ خطے کی نمائندگی اِس حال میں کرے کہ عذرِ بصارت سے دو چار ہونے کے باوجود ادب کی پناہ گاہ کے طور پر معروف ہو ۔ اگر آپ کو تونسہ شریف کا رودکیؔ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔
میری ملاقات بحیثیت شاگرد سال دوم کامرس کالج تونسہ میں ہوئی میں بڑا حیران تھا کہ یہ نابینا شخص جس کو ہاتھ پکڑ کرکرسی پر بٹھایا گیا وہ کس طرح اردو جیسے وسیع مضمون کو پڑھائے گامگر میں انگشت بدنداں رہ گیا جب انھوں نے ہمیں فردوسِ بریں کے چند اقتباسات کو اِس رنگ میں رنگ دیا کہ ادب ، تاریخ ، سماجیات اور دینیات کا وسیع تر مطالعہ مترشح ہو رہا تھا ۔ جس وقت مجھے یہ احساس کھائے جا رہا تھا کہ گویا ہم ابھی تک کورے تھے اور اُس دن سے میں نے خواہش کی کہ عملی زندگی میں اگر میں نے مدرس کا پیشہ اختیار کیا تو مضمون اردو ہی کا عمر بھر طالب علم رہوں گا اور الحمد للّٰلہ آج ایسا ہی ہے۔
ظہور احمد فاتح رنگ ، نسل اور مذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کر ہر ادب کے طالب علم کو اپنی نوازشوں سے ایسا نوازتے ہیں کہ شعر اُس کی روح میں رچ بس جاتے ہیں مگر فاتح صاحب کی ایک خوبی جو مجھے ان کی ذات میں نمایاں لگتی ہے کہ عاجزی ان کی طبیعت کا شاخسانہ ہے حالانکہ سینکڑوں شعراء و شاعرات جو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور ایم اے اور ایم فل کے مقالے تو ثانوی بات ہے ، ہفت زبان شاعر و ہمہ جہت صلاحیتوں کے حامل ہونے کے باوجود سادگی میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں ۔وہ اپنی ذات پر ہمیشہ دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں ۔ ہنستے ، مسکراتے چہرے سے عمر کے اِس حصے میں بالکل جوان نظر آتے ہیں ۔ شاید قدرت نے ان کی بے پایاں خدمات کا صلہ انھیں اسی خوشحالی میں دیا۔ اُن کے اشعار بھی کئی ایسے ہیں جہاں وہ انسانیت کے خیر خواہ اور مصلح نظر آتے ہیں۔
امتِ مرسل کو یارب پھر ہدایت سے نواز
اور اس کی غلطیاں ، کوتاہیاں کر دے معاف
ظہور احمد فاتح نے شاعری میں ایک ایسا توازن پیدا کیا ہے جو مقام بہت ہی کم شاعروں کو حاصل ہوا ہے ۔ ہمارے شعری جمالیاتی جوہر کا بہترین اظہار غزل میں ہوا ہے ۔ مغربی شعری روایت کے پروردہ ذہنوں کے نت نئے اعتراضات کے باوجود بھی یہ صنفِ سخن ہر دور کے فکری و احساساتی تقاضوں سے پوری طرح عہدہ بر آ ہوتی چلی آ رہی ہے ۔ کسی بھی شاعر یا صنفِ سخن کے مقام و مرتبے اور امکانات کی تفہیم کے لئے اس کے بہترین فن پاروں کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ اِس ضمن میں فاتح صاحب کے اشعار غیر معمولی اشعار کی فہرست میں شامل ہیں۔
ایسا مانوس ہوا ہوں شبِ تاریک سے میں
تیری آمد پہ بھی قندیل جلائی نہ گئی
دفترِ ہستی میں اک بے حد حسیں تصویر ہے
جس کی پیشانی پہ لفظِ ’زندگی‘ تحریر ہے
ہاں پلائے جا مسلسل جام پر جامِ وصال
ملتجی ہے تجھ سے میرے ساقیا میرا خلوص
کیا خبر تھی کہ تِری بزم سے جانا ہو گا
ہجر کا زہر بھی اک دن مجھے کھانا ہو گا
بارانِ اشک سے مِری صورت نکھر گئی
سارا غبار دھل گیا رنگت نکھر گئی
پائے الزام کبھی کھائے ہیں پتھر ہم نے
عمر کاٹی ہے یہاں مثلِ پیمبر ہم نے
ان اشعار کے علاوہ بھی سینکڑوں اشعار ایسے ہیں جن کا اسلوب اور تخیل اِس بات کی واضح دلیل ہے کہ فاتح صاحب جیسا شاعر زمانے کی ضرورت تھا جو قدرت نے تونسہ شریف کو ودیعت کر دیا۔
جلیل حیدر لاشاری
ظہور احمد فاتح ۔۔۔ایک حقیقی فاتح
یہ بیسویں صدی کی اَسی کی دہائی کا تونسہ شریف ہے ۔ ملک پر مارشل لاء مسلط ہے ۔ شہر ابھی اتنا زیادہ پھیلا نہیں ہے ۔ قریباً جس کے وسط میں فوجی پڑاؤ ہے جہاں ابھی قبضہ گروپ نے اپنی کاروباری سرگرمیاں شروع نہیں کی ہیں ۔ اس پڑاؤ میں شام کو والی بال کے میچ ہوتے ہیں اور سال میں ایک آدھ بار سرکس بھی لگ جاتی ہے ۔ دیسی کیکر کے بڑے بڑے درخت گرمیوں میں دوسرے قصبات اور دیہات سے آئے لوگوں کو سستانے کے لیے چھاؤں مہیا کرتے ہیں ۔ حضرت خواجہ شاہ سلیمان تونسویؒ اور حضرت خواجہ نظام الدین تونسوی ؒکے عرسوں پر آئے ہوئے نو عمر زائرین کو سائیکل سیکھنے کا موقع بھی یہی فوجی پڑاؤ مہیا کرتا ہے ۔ اسی فوجی پڑاؤ کے جنوب میں ایک سڑک واقع ہے جسے منگڑوٹھہ روڈ کہا جاتا ہے اِس سڑک کے جنوبی کنارے پر پرانی کتابوں کی ایک دکان ہے جس کو ایک ایسا نوجوان چلا رہا ہے جس کی بینائی قریباً ختم ہو گئی ہے لیکن وہ خوش باش ہے اور زور دار قہقہے لگاتا رہتا ہے ۔ اِس کی دکان زندہ دلانِ تونسہ شریف کی آماج گاہ بنی ہوئی ہے ۔ دکان میں دکان داری کم اور زندہ دلی زیادہ ہوتی رہتی ہے ۔ اس نوجوان کوبظاہر معذوری کے باوجود علم و ادب سے بے پناہ محبت اور عشق ہے جس کی تکمیل کے لیے وہ دوستوں کے ذریعے مطالعہ کرتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے جہانِ علم و ادب پر چھا جاتا ہے ۔ اس کی دکان تشنگانِ ادب کے لیے ایک ٹھنڈے چشمے کا کام دے رہی ہے جہاں سے نہ صرف پیاسے اپنی پیاس بجھاتے ہیں بلکہ خود ایک چشمہ بن کر کئی اوروں کی پیاس بجھانے کا سامان پیدا کرتے ہیں۔
اس دکان میں ادبی نشستیں بھی ہونے لگتی ہیں اور طب ، سائنس ، مذہب، تاریخ ، فلسفہ ، سیاست غرض کہ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس پر سیر حاصل گفتگو اور بحث نہ ہوتی ہو ۔ کچھ عرصہ بعد فاتح صاحب اپنی تعلیمی سرگرمیوں کی وجہ سے اپنا یہ ’’کتاب گھر‘‘ اپنے ایک شاگرد کو سونپ دیتے ہیں ۔کچھ عرصہ تک تو وہ دکان علمی و ادبی سرگر میوں کا مر کز بنی رہتی ہے لیکن فاتح صاحب کے بغیر وہ بات کہاں ۔ بقول شخصے ’’وہ بات کہاں مولوی مدن جیسی‘‘۔
فاتح صاحب کی زندگی مسلسل جدوجہد سے عبارت ہے ۔ قدرت نے اسے بصارت کی بجائے بصیرت کی دولت سے مالامال کیا ہے اس لیے انھوں نے زندگی کو بڑے احسن طریقے سے برتا اور اس کے تمام ذائقوں سے خود کو مستفید کیا ۔ شاعری اور ادب تو خیر ان کی گھٹی میں پڑا تھا اور اس میں انھوں نے بلاشک و شبہ کمال بھی حاصل کیا ہے اور بطور شاعرِ ہفت زبان تاریخِ ادب میں خود کو امر بھی کروایا ہے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس نے اپنی تعلیمی قابلیت بڑھانے اور زمانے کے مصائب و مشکلات سے نبرد آزما ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سرکاری عہدے پر پہنچ کر نارمل انسان سے کہیں زیادہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ادارے کی نیک نامی میں اضافہ بھی کیا ۔
فاتح صاحب کی شخصیت کے دو نمایاں پہلو ہیں ۔ بحیثیت شاعر و ادیب اور بحیثیت انسان ۔ جہاں تک ان کے شاعر اور ادیب ہونے کا تعلق ہے تو وہ بلاشک و شبہ قادر الکلام شاعر ہیں ۔ انھوں نے سات زبانوں ( اردو ، سرائیکی ، پنجابی ، انگریزی ، عربی ، فارسی اور ہندی )میں شاعری کی ہے اور خوب کی ہے ۔ زود گو شاعر ہیں اور تیس سے زائد ان کے مجموعہ ہائے کلام شائع ہو چکے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ کہ سرائیکی کے علاوہ باقی چھ زبانیں ان کی مادری یا پدری زبانیں نہیں ہیں اس کے باوجود ان زبانوں میں شاعری کرنا مذکورہ زبانوں پر ان کی دسترس کو ظاہر کرتا ہے ۔ فاتح صاحب کی شاعری کی ایک بہت بڑی خاصیت ’’تعصب سے پاک‘‘ شاعر ی ہے ۔ جس طرح ان کی شخصیت میں کسی سے کوئی بغض ، عناد یا تعصب نہیں ہے اِسی طرح ان کی شاعری بھی ان قباحتوں سے پاک ہے ۔ ان کا پیغام محبت ہے اور وہ اسے اپنے قلم کے ذریعے قریہ بہ قریہ ، کوبکو پھیلا رہے ہیں ۔ فاتح صاحب کی شاعری پڑھ کر کہیں بھی محسوس نہیں ہوتا کہ یہ کسی ناامید یا بے بس انسان کی شاعری ہے بلکہ ان کی شاعری میں قدم قدم پر رجائیت اور امید کا پرچم لہرا رہا ہے اور ان کا کلام مایوس انسانوں کو امید اور روشن مستقبل کی نوید دے رہا ہے ۔ فاتح صاحب نے شاعری کی ہر صنف میں طبع آزمائی کی ہے ۔ غزل ، نظم ، دوہا ، ماہیا ، نظمِ معریٰ غرضیکہ ہر صنف میں شاعری کر کے ادب کو لازوال شہ پارے دان کیے ہیں ۔ شاعری کی مشکل سے مشکل زمین میں اپنی شاعرانہ قادرالکلامی اور مہارت کے ہل چلا کر ایسے خوش نما گل اور کلیاں کھلائیں ہیں کہ جنھیں پڑھ کر ایک گونہ تازگی ، فرحت اور مسرت کا احساس روح میں پیوست ہو جاتا ہے ۔ ان کی شاعری پڑھ کر آدمی ایک خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو جاتا ہے جو بالآخر مسرت و انبساط میں بدل کر دائمی خوشی کا باعث بنتی ہے۔ شاید اس کی وجہ ان کا مو سمِ بہار اور جشنِ نو روز کی حامل تاریخ ۲۱ مارچ کو پیدا ہو نا ہے جو عالمی یومِ شاعری بھی ہے۔
شاعری اور ادب میں فاتح صاحب شاعرِ بے فیض ہرگز نہیں ہیں بلکہ شاعری میں پچھتر شاگردوں کے استاد ہیں۔ ان میں سے بہت سے شاعر نامور اور صاحبِ دیوان بھی ہیں ۔ خواجہ شاہ سلیمان تونسوی ؒ کی نگری کے یہ شاعرِ بے بدل ایک ایسے سایہ دار شجر ہیں جن کے زیرِ سایہ کئی پودے پروان چڑھ کر خود بھی چھتنار درخت بن چکے ہیں حالانکہ دستورِ زمانہ تو یہی ہے کہ کوئی بڑا درخت اپنے زیرِ سایہ کسی پودے کو پروان نہیں چڑھنے دیتا چہ جائے کہ وہ ایک گھنا درخت بن کر اوروں میں چھاؤں بانٹتا پھرے۔
فاتح صاحب اور ان کے تمام شاگردانِ رشید میں ایک محبت اور عقیدت کا رشتہ بدرجہ اتم پایا جاتا ہے جیسے ایک مرشدیا پیر کا اپنے مریدوں کے ساتھ ہو تا ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کی اپنے شاگردوں کے ساتھ بے تکلفی نہیں ہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ وہ اپنے شاگردوں کو اپنا بہترین دوست نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ اس کا عملی مظاہرہ بھی کرتے ہیں ۔ ان کے ہر دکھ ، سکھ میں شریک ہوتے ہیں ۔ کئی ایک کی تو بغیر کسی کو بتائے مالی امداد بھی کر چکے ہیں۔
ان کی شخصیت کا دوسرا پہلو ایک شفیق ، مہربان ، انسانیت کا درد رکھنے والے اور ظلم کے خلاف لڑنے والے انسان کا ہے ۔ فلاح و بہبود کے کاموں میں انھوں نے ایک نارمل انسان سے زیادہ حصہ لیا ہے اور جہاں انھوں نے ظلم ہوتا دیکھا ہے ، انجام کی پروا کیے بغیر مظلوم کا ساتھ دیا ہے ۔ظالم خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو ، مظلوم کے ساتھ آخری حد تک ڈٹ کر کھڑے ہونے کا حوصلہ تو کوئی فاتح صاحب سے سیکھے ۔ بہت سی بیواؤں کے لیے ایسے روزگار کا بندوبست کرنا جہاں ان کی عزت اور عزتِ نفس مجروح نہ ہو ، فاتح صاحب کا ہی کمال ہے ۔ بے سہارا اور مظلوموں کی دعاؤں کا ہی نتیجہ ہے کہ تائیدِ ایزدی ہمیشہ ان کے ساتھ رہی ہے ۔ ایک مختصر وقت کے لیے اگر قدرت انھیں کچھ پریشانی عطا بھی کرتی ہے تو پھر انھیں اس پریشانی سے ایسے نکالتی ہے جیسے مکھن سے بال ۔ اُن پر غالب کا یہ شعر صادق آتا ہے۔
تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے یہ تماشا نہ ہوا
وہ بی ۔ اے کے پیپرز کے لیے کاتب کے انتظام کا مسئلہ ہو یا انٹرویو کے لیے جاتے ہوئے تیز گام کا انھیں چھوڑ جانا اور ان کا اسناد والا بیگ لے جانا ہو یا بھکر کے قنوطی پرنسپل کا جوائننگ لینے سے انکار ہو یا پھر بھکر سے تونسہ شریف تبادلے کا معاملہ ہو ۔ ان تمام میں پہلے انھیں تھوڑی بہت پریشانی ضرور ہوئی لیکن مذکورہ بالا تمام مسائل و معاملات اس طرح بحسن و خوبی سر انجام پائے کہ عقل حیران رہ گئی ۔ غیبی طاقت ہر وقت ان کی سرپرستی کے لیے ان کے ہمراہ رہتی ہے۔ وہ زندگی کے مسائل و مصائب ہوں یا شاعری کا الہام ہو ، غیبی طاقت ہمیشہ ان پر مہربان رہی ہے ۔ ایک اور بات میرے مشاہدے میں آئی ہے کہ جب فاتح صاحب نے اپنے کسی شاگرد پر اپنا دستِ شفقت رکھا ہے تو اس نے نہ صرف دنیائے شعر و ادب میں اپنا مقام بنایا ہے بلکہ دنیائے رنگ و بو میں بھی ترقی کی منازل طے کی ہیں ۔ اس کی بہترین مثالیں شبیر ناقدؔ، شاہدؔ ماکلی ، شکیل احمدؔ ، جاذبؔ درا نی ، محمود عالمؔ ، تنویر الزماں اور محمد اشفاق مشفقؔ ہیں ۔ ان میں سے بیشتر صاحبِ کتاب ہیں اور تمام ماشأاللہ آسودہ زندگی گزار رہے ہیں ۔
فاتح صاحب کی ایک نمایاں اور بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر ایک سے انتہائی خندہ پیشانی اور محبت سے پیش آتے ہیں ۔ یہ محبت اُس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب ان کا کوئی شاگرد اپنا تازہ کلام اصلاح کے لیے ان کی خدمت میں پیش کرتا ہے ۔ فاتح صاحب جتنے بھی مصروف ہوں لیکن اُسی وقت اصلاح کے لیے نہ صرف وقت نکال لیتے ہیں بلکہ اصلاح بھی کر دیتے ہیں ۔ ان کا موبائل فون ہر وقت آن رہتا ہے ۔ رات کے دو بجے بھی وہ اپنے شاگردوں کی اصلاح کی درخواست رد نہیں کرتے ۔ ایک نو آموز شاعر کے کلام کی اصلاح کرنا بہت مشکل کام ہے لیکن فاتح صاحب یہ کام بھی بحسن و خوبی کر گزرتے ہیں ۔ فاتح صاحب کو اگر کوئی شاگرد بغرضِ اصلاح اپنا شعر سنانے کی درخواست کرے تو فاتح صاحب شعر بعد میں سنتے ہیں ، دل کھول کر داد پہلے دیتے ہیں ۔ ایک دفعہ میں نے دبے لفظوں میں عرض کیا کہ آپ کے اس نیک نیتی سے کیے گئے فعل کی وجہ سے شاگرد کی حوصلہ افزائی تو ضرور ہوتی ہے لیکن شعر کا معیار گرنے کا احتمال ہو سکتا ہے ۔ فاتح صاحب اس پر بہت ہنسے اور فرمایا’’ اصل بات حوصلہ افزائی ہے ، شعر کی اصلاح ، اگر ضرورت ہوئی تو ، بعد میں ہونی ہے۔آپ کا ایک حوصلہ افزائی کا لفظ بھی بندے کو پتہ نہیں کہاں سے کہاں لے جاتا ہے ۔ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جس میں حوصلہ افزائی کے چند لفظوں نے نہ صرف اُس شخص کی زندگی بدل دی بلکہ بعض اوقات تو اُس شخص میں آئی ہوئی اس تبدیلی نے دنیا کا بھی نقشہ بدل دیا‘‘۔
ایک مرتبہ ایک نو آموز لیکن ذہین شاعر اپنے کلام کی اصلاح کے لیے ان کے پاس حاضر ہوا ۔ کلام بہت اچھا تھا لیکن اس میں وزن کے کچھ مسائل تھے۔ فاتح صاحب نے از سرِ نو کلام کی اصلاح فرمائی جس سے کلام کی پوری ہیتِ ترکیبی ہی بدل گئی ۔ اصلاح کے بعد نو آموز شاعر نے بڑی معصومیت سے فاتح صاحب سے پوچھا ’’ اب مَیں اس اصلاح شدہ کلام کو اپنا کلام کہہ سکتا ہوں؟ ‘‘ فاتح صاحب نے بڑی فراخ دلی سے کہا ’’ بالکل تم بلا خوف و خطر اِس اصلاح شدہ کلام کو اپنا کلام کہہ بھی سکتے ہو اور اسے شائع بھی کرا سکتے ہو‘‘ ۔ اس فراخ دلی کا اس پر اتنا گہرا اثر ہوا کہ وہ دن اور آج کا دن ، وہ نہ صرف فاتح صاحب کے پاس کبھی آیا بلکہ اس نے کسی اور سے بھی اصلاح لینے سے توبہ کر لی اور اپنا بے وزن کلام شائع کروا کر ادبی حلقوں سے خوب داد و تحسین وصول بھی کی!!۔دروغ بر گردن راوی ، ایک دفعہ ایک شرارتی لڑکے نے فاتح صاحب کی خدمت میں اصلاح کے لئے اسد اللہ خان غالبؔ کی ایک غیر معروف غزل اپنی کہہ کر اصلاح کے لیے پیش کر دی ۔ فاتح صاحب نے اس کی بھی اصلاح کر دی۔جب اس لڑکے نے بتایا کہ یہ غزل میری نہیں بلکہ اسد اللہ خان غالبؔ کی ہے تو فاتح صاحب نے کہا ’’ جس کی بھی ہو جو قابلِ اصلاح کلام ہو گا ، ہم ضرور اس کی اصلاح کریں گے‘‘۔لیکن فاتح صاحب بالکل مختلف کہانی سناتے ہیں ۔ ان کے بقول’’ وہ لڑکا اپنی ہی غزل لایا تھا جس میں وزن اور زبان و بیان کی غلطیاں تھیں جنھیں درست کرنا ممکن نہ تھا ۔ جس کا ا س نے شاید بُرا منایا اور مذکورہ بالا کہانی گڑھ لی ۔ اس کے بعد وہ کہنے لگا آپ تو ہر کسی کی غلطیاں نکالتے ہیں ۔ آپ تو غالب اور اقبال کی بھی غلطیاں نکالیں گے۔ اس پر میں نے کہا بالکل اگر ان کے کلام میں غلطیاں ہوئیں تو میں ضرور ان کی نشاندہی کروں گا ۔ اتنی سی بات تھی جس کو اس نے توڑ مروڑ کر پیش کیا۔‘‘
بینائی سے محروم ایک شخص کے لیے معمولاتِ زندگی بجا لانا ناممکن تو نہیں لیکن کم از کم مشکل ضرور ہے ۔ لیکن فاتح صاحب اس سلسلے میں دو لحاظ سے خوش قسمت ہیں ۔ ایک ان کی پہاڑ جیسی قوتِ ارادی اور اس سے بھی زیادہ باہمت ان کی شریکِ حیات جنھوں نے ان کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعددنیا کے مصائب اور دکھوں سے لڑنے کے لیے انھیں مزید باہمت اور شیر بلکہ ببر شیر بنا دیا ہے۔ان کے معمولاتِ زندگی میں اب معذوری نام کی کوئی شے نہیں ہے ۔ گھر کے اندر کمروں میں آنے جانے کے راستے انھیں ازبر ہیں بغیر کسی کی مدد کے وہ ان میں اپنی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں اور مطلوبہ جگہوں سے اپنی ضرورت کی اشیا مثلاً ریڈیو ، کتابیں ، ٹوپی اور کپڑے وغیرہ بغیر کسی کی مدد کے اٹھا اور استعمال کر لیتے ہیں قوتِ حافظہ اتنی کمال کی ہے کہ ایک دفعہ جس سے تعارف ہو گیا اس کی آواز اور نام کبھی نہیں بھولتے ۔ موبائل پر مخاطب کی صرف ایک ہیلو سے اسے فوراً پہچان لیتے ہیں۔گلے کی خرابی یا کسی اور وجہ سے دوسرے کی آواز میں آئی ہوئی تبدیلی کو بھی وہ فوراً بھانپ لیتے ہیں۔گھر میں ایک وسیع کتب خانہ ہے جس میں ہر موضوع پر کتب موجود ہیں اور کمال کی بات یہ ہے کہ انھوں نے ہر کتاب کا مکمل مطالعہ کر رکھا ہے اور کئی کتابیں انھیں ازبر ہیں۔ریڈیو کے کئی اسٹیشنز( بی بی سی ، وائس آف امریکہ ، وائس آف جرمنی ، ریڈیو تہران ، ریڈیو سعودیہ اور ریڈیو پاکستان وغیرہ)کے کافی عرصے سے سامع ہیں۔ان سٹیشنز پر نشر کیے جانے والے تمام پروگراموں کے نام اور نشری اوقات بھی انھیں یاد ہیں۔مزے کی بات یہ ہے مذکورہ اسٹیشنز بغیر کسی کی مدد لیے ٹیون بھی کر لیتے ہیں۔
فاتح صاحب کی زندگی کااگر بغور مطالعہ کیا جائے تو ایک بات ضرور واضح ہوتی ہے کہ کاہلی ، بے ہمتی ، مایوسی ، بزدلی اور جہالت ان کے قریب سے بھی نہیں گزری ۔ فاتح صاحب پوری زندگی ، زندگی کے ہر محاذ پر مردانہ وار لڑے ہیں اور کبھی شکست نہیں کھائی ۔ زندگی کرنے کا فن کوئی ان سے سیکھے۔زندگی کا کوئی لمحہ انھوں نے ضائع نہیں کیا ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت کیے وجود اور صلاحیتوں کو ہمیشہ مثبت سرگرمیوں اور بنی نوعِ انسان کی فلاح و اصلاح کے لیے صرف کیا ہے۔مَیں نے فاتح صاحب سے ایک دفعہ ان کی کامیابی اور ہر وقت خوش و خرم رہنے کا راز پوچھا تو حسبِ معمول انھوں نے ایک بلند اور طویل قہقہہ لگایا اور میرا ہاتھ تھام کر بولے ’’انسان سے محبت ، میری کامیابی اور خوشی کا راز ہے ۔ مَیں نے کبھی کسی کے بارے میں منفی نہیں سوچا ۔ سب کے لیے ہمیشہ مثبت ہی سوچا ہے‘‘۔ فاتح صاحب کی اس خصوصیت نے انھیں زندگی کے گوناگوں مسائل اور دکھوں پر نہ صرف فتح یاب کیا ہے بلکہ انھیں انسانیت کے بلند رتبے پر بھی فائز کیا ہے ۔ فاتح صاحب نے زندگی بھر اپنے گرد و پیش میں محبتیں اور خوشیاں بانٹی ہیں اور کبھی کسی کی دل آزاری نہیں کی اور ہمیشہ اپنا حوصلہ بلند رکھا ہے ۔ کبھی زندگی کے دکھوں سے ہار نہیں مانی ہے اور عالمِ رنگ و بو نیز عالمِ شعر و ادب میں اپنا ایک اعلیٰ اور منفرد مقام بنایا ہے۔فاتح صاحب صرف نام کے فاتح نہیں بلکہ زندگی کے دکھوں اور مسائل پر فتح حاصل کرنے والے حقیقی فاتح ہیں۔
آخر میں میری اربابِ بست و کشاد سے گذارش ہے کہ تونسہ کو جن ہستیوں نے ’’یونانِ کوچک‘‘ بنایا ہے ، ان ہستیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ان کے نام پر سرکاری اداروں اور سڑکوں کے نام رکھے جائیں یا کالجز میں ان کے نام کی چیئرز رکھی جائیں ۔ ان ہستیوں میں فکر تونسوی ، فیض تونسوی ، شاکر تونسوی،ڈاکٹر طاہر تونسوی اور ابوالبیان ظہور احمد فاتح شامل ہیں۔

عادل حسین عادل

وقارِ دانش و بینش

کچھ لوگ اتنے عظیم اور معتبر ہوتے ہیں کہ اگر اُن کی عظمت اور خدمات پر کبھی کچھ لکھنا چاہو تو پھر سمجھ نہیں آتا کہ بندہ شروع کہاں سے کرے اور کہاں ختم؟ کیونکہ ہمارے ادنیٰ اور حقیر الفاظ ان کی عظمت اور درجات بیان کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔
پروفیسر ابوالبیان ظہور احمد فاتح صاحب کا شمار بھی انھی چند لوگوں میں ہوتا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ آپ نے اپنی زندگی ادب کے لئے وقف فرمائی ہوئی ہے ۔ ہمہ وقت آپ کے اردگرد شاگردوں کی ایک بھیڑ لگی رہتی ہے اور آپ ان کی رہنمائی میں مصروف و منہمک رہتے ہیں اور جو لوگ دور دراز علاقوں میں ہوتے ہیں اور آپ کی سعادت مند صحبت تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے ان کے لئے فون کی سہولت موجود ہوتی ہے ۔اِسی طرح فون سے استفادہ کرنے والا ایک خوش قسمت شاگرد میں بھی ہوں۔ میری آج تک کبھی استاد صاحب سے دو بدوملاقات نہیں ہوئی ہے یعنی میں ابھی تک شرفِ زیارت سے محروم رہا ہوں۔ ہمارا رشتہ صرف آواز سے آواز تک کا ہی ہے لیکن اس آواز سے آواز تک کے رشتے کے اندر ایک سر سبز و شاداب دنیا بسی ہوئی ہے جس کے اندر آباد ہر شے مجھے صحیح جانب بڑھنے کا اشارہ کر رہی ہے
حالانکہ فون پر کسی بھی شعر کو سننا اور سمجھنا اتنا آسان نہیں ہوتا لیکن ماشأاللہ صد آفرین استاد فاتح صاحب کی قوتِ سماعت و تفہیم پر کہ آپ نہ صرف شعر کی گہرائی تک پہنچتے ہیں بلکہ اس میں موجود کمی یا ناپختگی کو محسوس کر کے اس کی صحیح معنوں میں بروقت اصلاح بھی فرماتے ہیں۔
بصارت سے محرومی کے باوجود ہر لفظ کے صحیح تلفظ ، جنس اور مفہوم سے آشنائی رکھتے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی خبر رکھتے ہیں کہ کون سا لفظ کس زبان کا ہے ۔ اگر میں یہ کہوں کہ استاد صاحب ایک زندہ چلتی پھرتی ڈکشنری ہیں تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا ۔ صرف سرائیکی یا اردو نہیں بلکہ فارسی ، عربی ، پنجابی ، ہندی اور انگلش میں بھی کمال کی مہارت رکھتے ہیں اور ان سات زبانوں کے باضابطہ مجموعہ ہائے کلام منظرِ عام پر آ چکے ہیں ۔
اکثر بڑے استادوں کی صحبت اور رسائی حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف سمجھا جاتا ہے ، بڑی منتیں اور سماجتیں کرنی پڑتی ہیں لیکن استاد فاتح صاحب تک رسائی حاصل کرنا یا تو صرف ایک دستک کی دوری پر ہوتی ہے یا ایک فون کال کی دوری پر ۔
ایک اچھے استاد ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ایک اچھے انسان بھی ہیں فون پر ہمارا یہ ادبی رابطہ کئی سالوں سے چلتا آ رہا ہے لیکن مجھے آج تک ان کی جانب سے کبھی کوئی بیزاری یا اکتاہٹ کی کیفیت محسوس نہیں ہوئی ، الٹا شکایت کرتے ہیں اگر یہ سلسلہ چند دنوں کے لئے ناغہ ہو ۔
لہجے میں اپنائیت کی مٹھاس اور ایک والد کی شفقت ہر وقت موجود رہتی ہے اور نیک نیتی سے ادبی خدمات کا عمل سر انجام دیتے رہتے ہیں ۔ خدا سے آپ کی صحت کے لئے دعا گو ہوں تا کہ تادیر تشنگانِ ادب اپنی پیاس بجھاتے رہیں اور اِس ادبی خدمت کا سلسلہ جاری و ساری رہے ۔ آمین
تم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار

عبد الرحمن اخترؔ
میرا فاتح

تجھ کو دل سے سلام کرتا ہوں
لفظ کچھ تیرے نام کرتا ہوں
ہو کے نابینا مردِ بینا ہے
تو ادب کا مگر نگینہ ہے
تیری شہرت عظیم ہے فاتح
تو نے دھرتی قلم سے جیتی ہے
تو کہ قدرت کا اک کرشمہ ہے
تو سکندر سے بھی بڑا فاتح
تیری محنت بڑی نرالی ہے
میرے سارے خراج چھوٹے ہیں
تو نے کیا کیا کمال کر ڈالے
کام سب بے مثال کر ڈالے
نام تیرا رہے گا دنیا میں
تجھ کو دنیا بھلا نہ پائے گی
میرے اختر عظیم لوگوں میں
نام تیرا ظہور فاتح ہے

’جو یائے دانش‘ ابوالبیان ظہور احمد فاتح کی شخصیت و فن کے حوالے سے محمداشفاق مشفقؔ کی مخزنِ گراں بہا تالیف ہے جس میں مؤلفِ مذکور نے انتہائی عرق ریزی و جاں فشانی سے کام لیا ہے اِس میں شامل شذرات و تاثرات اپنی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں گویا کتابِ مذکور فاتح شناسی کے حوالے سے کلیدی اہمیت کی حامل ہے علاوہ ازیں اِس میں دبستانِ فاتح کے حوالے سے بھی ایک خاطر خواہ جان کاری موجود ہے ۔ محمد اشفاق مشفقؔ اور دیگر ادبا کی تحریریں خود میں تاثیرات کے فزوں تر کوائف سموئے ہوئے ہیں ۔ کتاب ہٰذا ادب و تحقیق سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے خوانِ یغما کا درجہ رکھتی ہے ۔ محمداشفاق مشفقؔ اِس حوالے سے ہدیۂ تبریک کے مستحق ہیں دعا ہے کہ خدائے حرف و صوت انھیں ادبی خدمات کی مزید توفیقات سے نوازے ۔ (آمین ثم آمین)
شبیر ناقدؔ تونسہ شریف
۲۵ نومبر ، ۲۰۱۹ء
0333 5066967

Viewers: 1612
Share