میں نے آواز کو آتے دیکھا ۔۔۔۔ از: زبیر قیصر

زبیر قیصر موبائل: 5757547-0332 ای میل : zubi575@gmail.com پتا: ڈاکخانہ باہتر ، براستہ حسن ابدال، تحصیل فتح جنگ ضلع اٹک   کتاب بہترین ساتھی ہے، اس کی حفاظت کیجئے ISBN: […]

زبیر قیصر
موبائل: 5757547-0332
ای میل : zubi575@gmail.com
پتا: ڈاکخانہ باہتر ، براستہ حسن ابدال، تحصیل فتح جنگ ضلع اٹک

 


کتاب بہترین ساتھی ہے، اس کی حفاظت کیجئے
ISBN: 978-969-7578-719

اب اس سے بڑھ کے بھلا اور مفلسی کیا ہو
تمام شہر نے اک خواب پر گزارا کیا

اردو شعری مجموعہ

میں نے آوازکو آتے دیکھا

زبیرقیصر

اُردو سخن

استحقاق:تمام تصرفات ’’زبیر قیصر‘‘کی تحویل میںہیں

عنوان: میں نے آوازکو آتے دیکھا
شاعر: زبیر قیصر
ناشر: اردو سخن ڈاٹ کام، پاکستان
نمودِ اول: جنوری 2019ء
کمپوزنگ : شہر یار
سروروق: ناصر ملک
طباعت: شیرِ ربانی پریس، ملتان
قیمت: 400 روپے (20یورو، 25ڈالر)


اِنتساب

اپنی آواز کی
گم گشتہ بازگشت اور
خواب کے
نام

اس نے آنکھوں سے پکارا مجھ کو
میں نے آواز کو آتے دیکھا

 

کچھ اِس تخلیق کے بارے میں

موجود میں اردو غزل میں اپنا نام اور مقام بنانا شاید اس لئے بھی دشوار ہوگیا ہے ۔۔ کہ نئے شعرا کی ایک کثیر تعداد یا تو مکھی پہ مکھی مارنے میں مصروف ہے اور یا پھر منفرد ہونے کے چکر میں لایعنیت اور بے معنویت کے چنگل میں پھنس گئی ہے ۔بہت کم نوجوان شعرا ایسے ہیں جنہوں نے غزل کے مزاج کو سمجھا اور مروجہ شعری سسٹم میں رہتے ہوئےاپنی الگ شناخت بنا رہے ہیں۔ انہیں باحوصلہ نوجوانوں میں ایک عمدہ شاعر زبیر قیصر بھی ہیں۔ جو وقتی ہاو ہو سے مرعوب ہوئے بغیر دیر تک زندہ رہنے والی غزل کہہ رہے ہیں۔ مضمون کی سطح پر نیا پن اور تازہ کاری وہ ہتھیار ہیں جنہوں نے ان کی غزل کو مضبوط تر بنادیا ہے
قمر رضا شہزاد

زبیر قیصر کی شاعری جہاں تک میری نظر سے گزری وہ کمٹ منٹ یا کسی فنی مہارت کا مشاہدہ کرتی استادانہ رویوں کی بناوٹی دستار سر پہ رکھے اصل تصویر سے قاری کو بے خبر رکھتی دکھائی نہیں دی ، وہ اپنے قاری کو ساتھ لے کر چلتی، سانس لیتی، اپنے ہونے کا احساس جگاتی،معاشرے کی بنتی ٹوٹتی ناہمواریوں سے گزرتی، ایک من موجی فقیر کی سی کیفیت میں ڈوبے لفظوں کے اظہار کا نام ہے، جسے دورِ حاضر کے ہر اچھے برے رویے کا سامنا ہےاور اسے ہر قدم اپنے سچے،ِ پوتر جذبوں کی نیلامی سرِ بازار ہوتے بھی دیکھنے کا دکھ ، دورنِ دل روتے چیختے جذبوں کو سہلاتے محسوسات کو سچے اور سُچے موتیوں کو نظم کرنے ، غزل کے حسن کو الفاظ کی کوملتا ،مزاج کا دھیما پن ، نزاکت کی امیجری اورمہکتی کلیوں کی شرمیلی مسکراہٹ کی دبیز روشنی سے ابھرتا استعارا بھی بننا ہےجو اپنے قاری کو اپنے احساس کی سچی اور کھری محبت میں لپیٹتا اس کی حسیات کو ایک معتبر حوالہ بخشتا،اپنی طبیعت کی انکساری اور عجز کے در وا کرتا آگے نکلتا چلا جاتا ہے، زبیر کے ہاں مضامین کی فراوانی ہر گزرتے پل کو کیپچر کرتی تصویر کے ہر آہنگ پر بھرپور نظر رکھے ہوئے ہےجن کا تخاطب ہمیشہ صنفِ مخالف ہی رہی اس کے اندر کا شاعر اظہار کے کھلے اطراف میں کسی طرح کی لگی لپٹی یا مصلحت کو اپنے قلم کے قریب نہیں پھٹکنے دیتا، مزاج کے سارے مہکتے موسم نہایت پُرلطف انداز میں اپنے مخاطب کو ڈلیور کرتا آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔مجھے یہ کہنے میں کچھ عار نہیںکہ زبیر قیصر اپنے عہد کی شاعری کا ایک جیتا جاگتا خوبصورت شاعر ہے۔
یاسمین سحر
(نیو جرسی، امریکہ )

زبیر قیصر ایسا خوش نصیب شاعر ہےجس نے بہت کم وقت میںاپنی ایک پہچان بنا لی ہے،شاعری کے ساتھ ساتھ اس کے رابطوں اور محبتوں کا بھی اس میں اہم کردار رہا ہے،محبتیں اپنی تمام تر گہرائیوں کے ساتھ اس کی شاعری اور شخصیت میں رچ بس کر اس کے خون میں رواں دواں ہیں ،یہ دوسروں کو صرف محبتیں دینا جانتا ہے،خوشیاں دینا جانتا ہے،یہ جانتا ہے کہ یہی جذبے زندہ رہنے والے ہیں،اس کی شخصیت اور شاعری میں ایک خاص طرح کی بیقراری ہے جسے صرف دیکھنے والی آنکھ ہی محسوس کر سکتی ہے،میں سمجھتا ہوں یہی بیقراری اسے شعر کہنے پہ مجبور کرتی ہے، اس کی شاعری محبت کے جذبوں سے مالامال ہے اور اس کے ہاں ان جذبوں کو بیان کرنے کا سلیقہ بھی موجود ہے۔
شمشیر حیدر

(واہ کینٹ)

زبیر قیصر کا شعری سفر میرے سامنے ہے۔ اس نوجوان نے بہت کم عرصے میں تسلسل کے ساتھ عمودی پرواز کی ہے۔ اس کے پاس ششدر کر دینے والا ہنر ہے۔ وہ خیال کو محض نظم ہی نہیں کرتا، اسے تصویر بھی کرتا ہے۔ محبت کی شاعری کو نہ صرف سطحیت سے بچا لے آنا بلکہ اس کو نیا جمالیاتی اسلوب، موزوں لفظیات، فکری ترفع اور حیران کن تلازماتی نظام عطا کرنا سہل نہیں مگر اس منفرد شاعر نے یہ کر دکھایا ہے۔ وہ ایک مکمل اور کل وقتی شاعر ہے۔ نیا اور مختلف شعر کہنے والا زبیر قیصر شعر گوئی کے تمام رموز سے آشنا ہے اور اب اس ٹکسال میں اپنے نام کے سکے کامیابی اور خوبی کے ساتھ ڈھال رہا ہے۔ میں ان سکوں کو سنبھال رہا ہوں کہ آنے والے وقت کے بازار میں یہی سکے چلیں گے۔
سلمان باسط
مشی گن( امریکہ)

زبیرقیصر سے میری دوستی کا عرصہ اور زبیر کی شاعری کی عمر تقریباً برابر ہیں۔زبیر کوقدرت نے شعر گوئی میں جو توفیق اور ہنرمندی عطا کی ہے اس کا سبب زبیر قیصرکا اخلاص ہے۔اسی لیے وہ صرف اور صرف محبت کی شاعری کرتا ہے اور نفرت کے لیے اس کے پاس وقت ہی نہیں۔اپنی پہلی کتاب’ابھی کچھ کہہ نہیں سکتے‘ سے سفر آغاز کرنے والا یہ من موہنا شاعرآج آواز کو دیکھنے کے قابل ہو گیا ہے جوبلاشبہ ایک بڑی جست ہے۔’میں نے آواز کو آتے دیکھا‘ وہ خوش بخت مصرعہ ہے جوزبیر قیصر کی پہچان بنا ۔زبیر کی شاعری کااصل سمجھنا ہوتو اس ایک مصرعے یا اس شعر سے مدد لی جا سکتی ہے۔ زبیرآنکھوں کی پکار اور ان کی ’آواز‘ سننے والا شاعر ہے جو عام انسانی بصارت و سماعت کے بس کی بات نہیں۔وہ شاعر جوآواز کے تعاقب میں اپنے اندرون یعنی حواس کی بجائے احساس کو بروئے کار لا سکتا ہو اس سے ایسی ہی خوبصورت شاعری کی توقع رکھنی چاہیے۔ عشق و محبت کی واردات میں زبیر کواس طرز کے کئی مضامین سوجھتے ہیں۔ وہ انہیںزیادہ سجانے سنوارنے کی بجائے اپنے تازہ دم احساس کے ذریعے، خالص جذبوں پر بھروسہ کرتے ہوئے اور اپنے الہام پر یقین رکھتے ہوئے شعر کا روپ دیتاہے۔ اسی لیے تو وہ خوبصورت شاعری کے پہلے مجموعے سے دوسرے تک کا کامیاب سفر کرپایا ہے۔میں اس کی کامیابیوں پر مسرور ہوں !
سجاد بلوچ
لاہور

کچھ شاعر اپنی دھن میں، اپنے ہی منتخب کردہ راستوں پرکسی ان دیکھی منزل کی جانب محو سفر رہتے ہیں۔ان کا سفرکٹھن اور طویل تو ہوتا ہے لیکن ان کی سچی لگن اور اخلاص انہیں ایک دن اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ ان دیکھی منزلوں سے آنے والی آوازسننے کے قابل ہو جاتے ہیں۔زبیر قیصرکا شمار بھی انہی شاعروں میںہوتا ہے۔ اس کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ شاعری میں زندگی کے فطری آہنگ کو برقرار رکھتا ہے۔ اردو شاعری کا بنیادی موضوع تو محبت ہی رہا ہے،خاص طور پر غزل کااور اس کے لیے شعری اظہارمیں سادگی کا ہنرسونے پر سہاگے کا کام کرتا ہے۔زبیر قیصرکی شاعری میں سادگی اور خوبصورتی ہے۔ یہ شاعری عام انسانی جذبات کی ترجمان ہے اوراس سماج اور ماحول کی عکاسی کرتی ہے جس میں شاعراپنے شب وروز بسر کرتاہے ۔جہاں وہ لمحہ لمحہ ہنستا ، روتا، کھاتا پیتا اورسانس لیتا ہے۔زبیر قیصر اپنے گردوپیش میں پھیلی زندگی میں محبتوں اور ان کے رنگوں سے اپنی شاعری کشید کرتا ہے ۔زبیر قیصر کے تازہ شعری مجموعے ’میں نے آواز کو آتے دیکھا‘میں کئی بے ساختہ اشعارقرطاس پرتازہ پھولوں کی طرح کھلے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹرعنبرین صلاح الدین
لاہور

زبیر قیصر اپنے اسلوب کی تلاش میں

زبیر قیصر کی شاعری سماجی رابطے کے تار سے جُڑی مجھ تک پہنچی۔ وہ ان شعرا میں سے ہے جن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ غزل کے شعر میں کچھ بھی کہہ سکتے ہیں ۔ اس روش کو کچھ لوگ آزاد روی کہتے ہیں اور کچھ بے راہ روی کا نام دیتے ہیں ۔میرے خیال میں اس عمل کو یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ آج کے شعرا کرام خیال کو اپنے امکانات تلاش کرنے کی آزادی دیتے ہوئے غزل کی موضوعاتی اور لسانی پابندیوں میں نرمی چاہتے ہیں ۔
اس میں کوئی شک نہیں ،کسی بھی نظریے، قاعدے یا روایت کی یک سر نفی بہت سے مسائل کو جنم دیتی ہے اور شاید اسی کو شدت پسندی سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن امکانات کی تلاش میں وسعتِ بیان کی آرزوبعض اوقات سخن کے شاداب جزیروں کی طرف بھی لے جاتی ہے،جہاں سخن ور نئی زندگی دریافت کر لیتا ہے ۔زبیر قیصر بھی اپنے اسلوب کی تلاش میں ہے ۔ وہ نئے جزیروں کی کھوج میں لہروں سے نبرد آزما ہے ۔ وہ کہتا ہے
نئے مصرعے بنا لیے تم نے
بات لیکن وہی پرانی کی

کیا ہوا تجھ کو میرے شہرِ سخن
شعر اتنے ہیں ، شاعری کم ہے
یہ کہتے ہوئے دراصل وہ خود کو جگاتا اور جھنجھوڑتا ہے کہ اٹھو اور نئی دنیا کے سفر پہ نکلو۔زبیر قیصر کی شاعری کھوج کے انھی راستوں کی کہانی ہے ۔اس سفر میں اس کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ وہ نفی میں بھی اثبات کے پہلو دیکھنے کی صلاحیت سے مالا مال ہے ۔
کتنے امکان بن گئے قیصر
ایک دیوار کو بناتے ہوئے
زندگی اس پر کسی بھی طور منکشف ہوئی ہو لیکن اس کی شاعری میں جستجواور امید کی زیریں لہریں اپنے وجود کا احساس دلاتی ہیں۔یہ روش سفر جاری رکھتی ہے ۔ پڑاؤ ڈالنے والے اکثر وہیں کے ہو رہتے ہیں اور ان کا طریقہ ء اظہار بھی پڑاؤ ڈال دیتا ہے۔ وہ خود کو دہرانے لگتے ہیں اوریہ جمود ان کا سفر ہی تمام کر دیتا ہے ۔
آج کے شعری منظر نامے پر نظر ڈالیں تو کہنا پڑتا ہے کہ خود کو دہرانا دوسروں کو دہرانے سے تو کئی گنا بہتر ہے ، کیوں کہ جگالی اپنے ہی خوردہ کی ہوتی ہے اور کم تر سطح پر یہ ایک فطری عمل ہے ۔ یہ کم تر سطح کا فطری عمل کسی اور کا چبایا ہوا چبانے جیسا کراہت انگیز تو نہیں ہے ۔اپنی ذمہ داری پر قدم اٹھانے والوں کے سامنے وسیع آفاق ہوتے ہیں ۔ کیا خبرآگے بڑھتے ہوئے کہاں عمودی رہگزر آجائے اور مسافر ہمت کر کے کسی بلندی کو چھو لے۔
میں سخن کے باب میں ان لوگوں کی ہم نوا نہیں ہوں جو کائناتی حقائق کی طرف جاتے زمانے میں سخن کی وسعت اور ترفع کا امکان رد کرتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ زندگی ٹھوس حقائق کی دریافت میں تیز رفتاری سے اپنی ہی لطافتوں کو روندتی چلی جا رہی ہے لیکن غیر مادی کائنات کی اپنی وسعتیں ہیں اور ایسے اشعار جدو جہد کا، اعتماد کا اور استقلال کا استعارہ بن کر سامنے آتے ہیں۔
چند شعر ملاحظہ ہوں:
مقابلہ ختم ہو گا اب جاں سے ہی گزر کر
کوئی رعایت نہیں کروں گا ، بتا رہا ہوں
میں ترے بس کی بات ہی نہیں ہوں
عشق ہوں ، کوئی زندگی نہیں ہوں

یوں تو دریا بھی دشت جیسا ہے
بات ہوتی ہے بس روانی کی
زبیر قیصر جب تک رواں دواں ہے، نئے گوشے اس کو لبیک کہنے کے لیے تیار رہیں گے۔ شعری کائنات کی وسعت ا س کو بلاتی رہے گی۔دشت و دریا کو ایک مان کر سفر کا سانس نہ توڑنا ہی اس کے لیے کلیدِ منزل ہے۔ ـ’ عشق ہوں‘ کا نعرہ لگانا ایسا بھی آسان نہیں ہے ۔حضرت سلطان باہُو نے فرمایا تھا:
جتول ویکھاں عشق دسیوے ، خالی جاہ نہ کائی ہُو
عشق اپنے ساتھ باندھ لیتا اور دوڑاتا ہے ۔ بندھے بندھے اور دوڑتے دوڑتے ہی کسی بے اختیار لمحے میں اناالعشق کا التباس ہوتا ہے ۔ اس التباس کے لاکھوں رنگ ہیں۔ انھی لاکھوں رنگوں میں کہیںحقیقت کا رنگ چھپا ہے ۔ زبیر قیصر کا وجدان پکارتا ہے :
عشق نے رنگ جمایا ہوا ہے
اس پکار کو سن کر یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی روح کا رنگ بھی پہچان لے گا کیوں کہ جو بصارت کے رموز جان لیتے ہیں انھیں بصیرت کا دروازہ کھولنے میں بہت مشقت نہیں کرنی پڑتی۔ بینائی کا ظاہرو باطن الگ الگ شناخت کر نے والوں میں تیسری آنکھ کی نمو داری زیادہ وقت نہیں لیتی۔یہ شاعر کہتا ہے :
یہ معجزہ بھی تو اندھوں کے دیس میں ہو ا تھا
جو دیکھ سکتے نہیں تھے ،ہمیں دکھا رہے تھے
میں جاگتا تھا تو کوئی ادھر نہ آتا تھا
میں سو گیا تو مجھے سب سلانے آ رہے تھے
یہ اشعار کہتے ہوئے زبیر قیصر کے شعور یا لاشعور میں یہ بات موجود رہی ہوگی کہ ـ’ہوئے کا ہونا‘ بتا دینا بیان کی پہلی سطح ہے ۔ ’ اَن ہوئے کا ہونا تصور کرنا اور دوسروں کو بتانا ‘ شاعری ہے ۔ اسی اَن ہوئے کو ہُوا دکھا دینا شاعری کو جزو یست از پیغمبری بناتا ہے۔ اس غیر مرئی ’ہونے‘ میں قاری کو کھینچ لانا شعر کا کمال ہے ۔
ہمیں خبر ہے کہ جلنا ہے آج بستی نے
تمہاری آگ اگلتی صدا سمجھتے ہیں
سمجھ کے اس مرحلہ تک آنے میں ــ’کتنی محرابیں پڑتی ہیں ، کتنے در آتے ہیں ‘ ۔۔جس تن لاگے وہ تن جانے ۔ زبیر قیصر کا کہنا ہے :
یہ لکیریں نہیں ہیں چہرے پر
وقت نے مجھ پہ دستکاری کی

ہنستا رہتا ہوں پر خوشی کم ہے
زندگی میں بھی زندگی کم ہے
وقت کی دستکاری تو ہر طرف ہے ، یہ معجزہ فقط فنونِ لطیفہ کے حصے میں آیا ہے کہ سچّا تخلیق کار ان لکیروں کا فقیر ہونے کے بجائے ان سے ایک نیا نقشہ ترتیب دیتا ہے ۔ خالقِ کائنات کی مرضی شامل ہو تو یہ نقشہ کسی خزانے کانقشہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ زبیر قیصر اپنے خزانے، اور اپنی زندگی کی تلاش میں ہے ، اس کھوج میں اس نے کئی نگینے تراشے ہیں۔ایک جھلمل ملاحظہ کیجیے
بچھڑ گیا ہے تو اب دھوپ بھی ستاتی ہے
کھُلا کہ سایہء دیوار بھی اسی کا تھا

حمیدہ شاہین

 

نعتِ رسول مقبولؐ

چراغ ِ عشق جلا ہے ہمارے سینے میں
بدن یہاں ہے مگر روح ہے مدینے میں

حضورِ پاکؐ کے قدموں کی خاک مل جائے
عطا کی کوئی نہیں ہے کمی خزینے میں

میں کربلا سے چلوں اور حرم میں جا پہنچوں
کرم ہو مجھ پہ محرم کے اس مہینے میں

سنہری جالیاں چوموں تو دم نکل جائے
پھر اس کے بعد بہت لطف آئے جینے میں
میں بحرِ عشق میں ڈوبا ہوں اس قدرقیصرؔ
جگہ بھنور کو بھی مل جائے گی سفینے میں

نبیؐ کے نام پہ سب کچھ عطا ہوا قیصرؔ
کوئی قرینہ نہیں تھا مرے قرینے میں



سلام

حسینؑ! تیرے لہو سے ہے تربتر صحرا
سو مجھ کو شہر سے لگتا ہے معتبر صحرا

میں شہر چھوڑکے نکلا ہوں بے گھری کی طرف
سو دشت ہے مری منزل تو میراگھر صحرا

فلک بھی قدموں سے جس کے لپٹ کے روتا ہے
کیا ہے عزم سے اس نے یہ کیسے سر صحرا

دہائی دیتے رہیں گے جلے ہوئے خیمے
سو اب رہے گا ابد تک یہ بے ثمر صحرا

پیامِ حق جو لہو سے رقم کیااس نے
رہے گا حشر تلک اس کا نامہ بر صحرا


سلام

کیے ہیں نذر دل و جان بھی، کلام کے ساتھ
دعا قبول ہوئی ہے مری سلام کے ساتھ

منافقین ِ محبت کے خط بھی جھوٹے تھے
انہیں بلایا گیا حسنِ اہتمام کے ساتھ

بھلا دیا گیا کوفہ نژاد لوگوں کو
حسین زندہ رہیں گے یونہی دوام کے ساتھ

یہ تخت و تاج کی جس کو لڑائی کہتے ہو
جہاد کہتا ہوں میں، ظلم کے نظام کے ساتھ

سحر ہو ،شام ہو، وردِ زباں ہوئے قیصر
علی، حسین ، رسولِ خدا کے نام کے ساتھ


اُس نے اک شام پلائی مجھے چائے ، ہائے
اور پھر شام نہ گزری مری ہائے ہائے

میرے زخموں پہ بھی تشویش کا رکھا مرہم
اور مرے شعر مجھے اس نے سنائے، ہائے

روزِ اول سے ہر اک بات عیاں تھی ہم پر
جانتے بوجھتے دھوکے بھی یہ کھائے، ہائے

گھر کی ویرانی میں لگتا ہے اضافہ سا مجھے
بڑھتے جاتے ہیں اداسی کے بھی سائے، ہائے

ویسے دنیا نے بھی کچھ اچھی نہیں کی قیصر
ہاں مگر عشق میں جو درد کمائے ، ہائے


دل و دماغ سے اترا نہ کَوملیں لہجہ
مہک رہا ہے ابھی تک وہ عَنبریں لہجہ

کہ آپ جیسی کسی اور میں نہیں ہے بات
کہ آپ جیسا کسی اور کا نہیں لہجہ

پھر اس کے بعد کٹی عمر بدگمانی میں
بس ایک بار سنا اس کا بے یقیں لہجہ

یہ کس نے کر دیا اُس کو کچھ اور بھی انمول
یہ کس نے جڑ دیا ہونٹوں پہ احمریں لہجہ
سفر میں پاوں کی زنجیر ہونے والے ہیں
کہیں کہیں تری آنکھیں کہیں کہیں لہجہ

مجھے تو اور ہی دنیا میں لے گیا کل شب
تمہارا شعر سناتا وہ خواب گیں لہجہ

میں بات سنتے ہوئے اس کی کھو سا جاتا ہوں
حسین چہرہ ہے اُس شخص کا ،حسیں لہجہ

روانی اور بھی لفظوں میں بڑھ گئی قیصر
ہوا غزل میں جو شامل وہ نغمگیں لہجہ

دو اشعار

یہ مسئلہ میں اٹھاؤں گا خواب میں کسی دن
تری وجہ سے مری نیند میں تعطل ہے
تُو آ گیا ہے تو کر تھوڑا انتظار ابھی
کہ میری خود سے ملاقات بھی معطل ہے


اُس کی آواز جب سنی جائے
روشنی، دھوپ سے پنی جائے

اُس کے لہجے کی تال، می رقصم
حال میں روح بھی دھنی جائے

اُس کی زلفوں کی کہہ رہی ہے چمک
شال بھی ریشمی بُنی جائے

چاہتا ہے یہ دل کہ آج اُس کی
ان سنی گفتگو، سنی جائے

خواب آنکھوں میں جھلملانے لگیں
نیند پلکوں سے یوں چنی جائے


اُسی کا درد ہے جس کے جگر کا لاشا ہے
میں جانتا ہوں کہ باقی تو سب تماشا ہے

میں کیا بتاؤں جو ٹوٹا ہے مجھ پہ ظلم و ستم
میں کیا لکھوں کہ مرا درد بے تحاشا ہے

بُنی ہیں سازشیں موسم نے دھوپ سے مل کر
ہوا نے میرے ہر اک پھول کو خراشا ہے

امیرِ شہر میں تجھ کو تری دہائی دوں ؟
کہ میرا تولہ بھی تیری نظر میں ماشا ہے

اُجاڑتے ہوئے وہ کانپتا تو ہوگا زبیر
وہ خواب ہاتھ نہیں خون سے تراشا ہے


عشق سے مجھ کو انحراف نہ تھا
خون لیکن مرا معاف نہ تھا

ہم ہنسے تھے کہ لفظ رونے لگے
ضبط کا شعر پر غلاف نہ تھا

اس نے دیوار پر لکھا تھا مجھے
کوئی بھی لفظ صاف صاف نہ تھا

دائرے کا تجھے رکھا مرکز
یہ مرا عشق تھا ، طواف نہ تھا
کہہ دیا اُس نے حالِ دل اک دن
ویسے یہ کوئی انکشاف نہ تھا

وقت ِرخصت کا بھیگتا منظر
کیا محبت کا اعتراف نہ تھا؟

ہم نے رکھی نہیں لگی لپٹی
موڈ اُس کا بھی آج آف نہ تھا

ویسے دنیا سے بن نہیں رہی تھی
وہ مرے غم میں اعتکاف نہ تھا

دل بھی میرا اداس تھا قیصر
اور سبب عین شین قاف نہ تھا



اُس کی آنکھوں میں کوئی خواب نہیں
یعنی اب عشق دستیاب نہیں

شہر تبدیل کر کے دیکھا ہے
میری قسمت میں انقلاب نہیں

دیکھنے والا مر گیا صاحب
آج بھی آپ بے نقاب نہیں!

شاعری بھی ہے لاجواب مگر
آپ کے حسن کا جواب نہیں
اُلٹا الزام پڑ گئے ہیں گلے
نیکیاں باعثِ ثواب نہیں

کیسے مانوں کہ غم برابر ہیں
تیرے چہرے پہ اضطراب نہیں

شاعری کس طرح ہو کم قیصر
میرے زخموں کاجب حساب نہیں

ایک شعر

روز اک چاند مرا قتل ہوا جاتا ہے
اب کسی شب کی حمایت نہیں کی جائے گی


میں ترے بس کی بات ہی نہیں ہوں
عشق ہوں کوئی زندگی نہیں ہوں

لطف لیتا ہوں اپنی حالت سے
بے رخی ہوں، میں بے بسی نہیں ہوں

تو حسیں اس جہاں میں پہلا نہیں
اورمیںعشق آخری نہیں ہوں

مجھ کودریا بہا کے لے جائے
کوئی مٹی کی جھونپڑی نہیں ہوں

میں خدا کا حمایتی ہوں یہاں
نفرتوں کا حمایتی نہیں ہوں


مرے لیے بھی رعایت تو ہو نہیں سکتی
کہ اب دوبارہ محبت تو ہو نہیں سکتی

جہاں پہ تیز ہوائوں کی حکمرانی ہو
وہاں چراغوں کی عزت تو ہو نہیں سکتی

تمھارے عشق میںباندھی ہے دھڑکنوں کی لے
اب اس سے بڑھ کے ریاضت تو ہو نہیں سکتی

اگر ہے عشق تو صحرا میں آپ آ جائیں
حضور شہر میں وحشت تو ہو نہیں سکتی
تجھے بھی ہم سے محبت ہے، برملا کہہ دو
کہ یارایسے مروت تو ہو نہیں سکتی

کچھ اس لیے بھی وفا تجھ سے چاہتے نہیں ہم
ہمارے جذبوں کی قیمت تو ہو نہیں سکتی

سمجھ سکو تو سمجھ لوہماری آنکھوں کو
اب اور ہم سے وضاحت تو ہو نہیں سکتی

خیال غیب سے آئے کہ قلب وجاں سے اٹھے
غزل بنانے میں عجلت تو ہو نہیں سکتی

ایک شعر

گماں یہی ہے کہ ہم لوگ زندہ رہ جائیں
ہمارے حصے کی قبروں کو بھر دیا گیا ہے


ترا جمال کسی دن غزل میں آئے گا
یہی کمال کسی دن غزل میں آئے گا

تراشتا ہوں میں تیرے بدن کو خوابوں میں
یہی خیال کسی دن غزل میں آئے گا

یہ روز و شب مرے کر کے اداس جاتے ہو
مرا ملال کسی دن غزل میں آئے گا

اسے میں کیسے چھپائوں گا اپنے لفظوں میں
وہ خوش خیال کسی دن غزل میں آئے گا

زبیرؔ دیکھنے والے نظر لگا دیں گے
کہ جب وہ خال کسی دن غزل میں آئے گا


ہنستا رہتا ہوںاورخوشی کم ہے
زندگی میں بھی زندگی کم ہے

کیا ہوا تجھ کو میرے شہرِ سخن
شعراتنے ہیں ، شاعری کم ہے

کتنا لمبا ہے ہجر کا رستہ
تیری یادوں کو ڈائری کم ہے

ٹھوکریں لگ رہی ہیں کیوں اتنی
آنکھ بند ہے کہ روشنی کم ہے
میں بھی عادی سا ہوگیا غم کا
تیرے چہرے پہ بھی خوشی کم ہے

کھول دے راستہ سمندر کا
دیکھ آنکھوں میں تشنگی کم ہے

منہ چھپایا ہے آئینے سے زبیر
یہ ندامت ہے عاشقی کم ہے

ایک شعر

ہمارے دل کی بربادی کا افسانہ ہے بس اتنا
بہت مصروف لوگوں سے محبت ہو گئی ہم کو


جو عکس جیسا، جہاں رکھ دیا، نہیں بدلا
کہ خواب میں بھی کبھی آئنہ نہیں بدلا

تمام عمر محبت کا شہد کھاتے رہے
سو تلخیوںنے کبھی ذائقہ نہیں بدلا

خرد نے میرے جنوں پر ہزارفتوے دیے
مری یہ سوچ ، مرا فلسفہ نہیں بدلا

وفا کی راہ گزرتی ہے ہوکے مقتل سے
میں جانتا تھا مگرراستہ نہیں بدلا

لکھا ہوا تھا لکیروں میں فاصلہ قیصرؔ
سو ہم نے عشق کیا ، فیصلہ نہیں بدلا


مری کہانی میں کردار بھی اسی کا تھا
سہا جو میں نے وہ آزار بھی اسی کا تھا

وہ جس کو ہونے کا احساس بھی دیا ہم نے
ہماری ذات سے انکار بھی اسی کا تھا

وہ ایک عہد بھی ہم سے وفا نہ کر پایا
مگر یہ دل کہ وفا دار بھی اسی کا تھا

بچھڑ گیا ہے تو اب دھوپ بھی ستاتی ہے
کھلا کہ سایہ ء دیوار بھی اسی کا تھا

گزر گئے یونہی محروم ِ مدعا ہم لوگ
گلی بھی اس کی تھی بازار بھی اسی کا تھا


اٹھا ہوں گر کے ، مرا حوصلہ کمال کا تھا
پہ منتظریہ زمانہ مرے زوال کا تھا

قریب ِ مرگ کہیں راز قربتوں کا کھلا
فریبِ چشم تھا، وہ واہمہ خیال کا تھا

تمام لوگ جو بولے تو میں بھی چیخ اٹھا
جواب جانے یہ کس شخص کے سوال کا تھا

گھٹا میں ،پھول میں ، پیڑوں میں ،چاند تاروں میں
جہان بھر میں ہی جلوہ ترے جمال کا تھا

یہ میرے دوست مجھے جانتے نہیں قیصرؔ
مگروہ ایک عدو کس قدر کمال کا تھا


ہر اک سے آنکھ ملائوگے، مارے جائو گے
زیادہ بوجھ اٹھائوگے، مارے جائو گے

کوئی نہیں ہے یہاں اعتبار کے قابل
کسی کو حال سنائو گے ،مارے جائو گے

ہر ایک شاخ پہ چھڑکا ہوا ہے زہر یہاں
شجر کو ہاتھ لگائوگے ، مارے جائو گے

دھوئیں میں ملنا مقدر ہے ان لکیروں کا
ہوا میں نقش بنائوگے مارے جائو گے

یہ بدحواس فقیہوں کا شہر ہے قیصرؔ
کوئی سوال اٹھائوگے ،مارے جائو گے


میں جتنی مشکل سے اپنا وعدہ نبھا رہا ہوں
یقین جانو یہ کوئی نیکی کما رہا ہوں

یہ میرے کمرے کا سارا منظر دھواں دھواں ہے
جلا رہا ہوں ، کبھی میں سگریٹ بجھا رہا ہوں

ترے بدن پرگڑی ہوئی ہیں کسی کی نظریں
میں ایک کتے کو اپنا کھانا کھلا رہا ہوں

مقابلہ ختم ہوگا اب جان سے گزر کر
کوئی رعایت نہیں کروں گا بتا رہا ہوں
میں اپنی مرضی سے بُن رہا ہوں بدن کی مورت
میں اپنی مرضی سے چاک اپنا گھما رہا ہوں

ہوا کے ہاتھوں بکھر چکا ہوں اگرچہ اب میں
پر اس سے پہلے گلاب بن کر کھلا رہا ہوں

زبیرنظروں سے دور ہے گرچہ اس کا چہرہ
مگر میں شعروں میں اس کا جلوہ دکھا رہا ہوں

ایک شعر

دل بھی اتنا ہی بڑا ہوتا ہے
جس قدر خواب بڑے ہوتے ہیں


قطرہ قطرہ لہو پلاتے ہوئے
میں مرا عشق کو بچاتے ہوئے

آنکھ آئینے میں گنوا آیا
تشنگی عکس کی بجھاتے ہوئے

ڈھلتے سائے میں ڈھل گئی آخر
دھوپ، سایہ مرا جلاتے ہوئے

تیری جانب رہا سفر میرا
راستہ اپنا خود بناتے ہوئے
غم کی قندیل بھی بجھا آئے
ہم ترا ظرف آزماتے ہوئے

ہاتھ اس کے بھی جل گئے ہوں گے
آشیانہمرا بچاتے ہوئے

کتنے امکان بن گئے قیصرؔ
ایک دیوار کو اٹھاتے ہوئے

ایک شعر

یہ تجربہ بھی سخن کے شمار میں آئے
تمھارے ہونٹ بنائے ہیں جب غزل نہ ہوئی


بس ایک جیسے ملے لوگ بار بار مجھے
کہ تجربہ نہ ہوا کوئی خوشگوار مجھے

بہت دنوں سے جو الجھن ہے ، مجھ کو لگتا ہے
ملے گا جاں سے گزر کر ہی اب قرار مجھے

کسی بھی شے کے مناسب جگہ نہیں کوئی
پسند آتا ہے کمرے کا انتشار مجھے

میں عمر بھر جسے پلکوں پہ لے کے پھرتا رہا
وہ چاند چہرہ نظر آئے ایک بار مجھے

تمام شہر میں ہیں میرے تذکرے قیصرؔ
بنا دیا ہے محبت نے اشتہار مجھے


تیری تصویر اٹھائی ہوئی ہے
روشنی خواب میں آئی ہوئی ہے

میں نے اس دشت کو چھانا ہوا ہے
میں نے یہ خاک اڑائی ہوئی ہے

دوست ہیں سارے زمانے والے
میں نے دشمن سے بنائی ہوئی ہے

تجھ سے امید وفاکی جیسے
آگ پانی میں لگائی ہوئی ہے

راز کی بات ہے معلوم مجھے
میں نے یہ بات اڑائی ہوئی ہے

عشق میں نام کمایا ہے بہت
اتنی بدنامی کمائی ہوئی ہے


تمھارے شہر کے بازار تک نہیں پہنچا
یہ عشق آخری آزار تک نہیں پہنچا

یہ اور بات کہ بیٹھا ہے میرے پہلو میں
ابھی بھی تو مرے معیار تک نہیں پہنچا

یہ دشت ِ عشق ہے اور اس میں دھوپ کی شدت
وہ جانتا ہے جو دیوار تک نہیں پہنچا

ہر ایک شخص ہے انجام کا تمنائی
سوکوئی مرکزی کردار تک نہیں پہنچا

میں لڑ رہا ہوں ابھی ذات کے اندھیروں سے
سو تیری صبح کے آثار تک نہیں پہنچا


اس کی تصویر جلانی پڑی ہے
رات آنکھوں میں بتانی پڑی ہے

میں ہی افسانہ نہ ہو جائوں کہیں
میرے سینے پہ کہانی پڑی ہے

ایسی حسرت کا بھلا کیا کیجے
شمع امید بجھانی پڑی ہے

ایک کاغذ کو جلانا پڑا ہے
ایک تحریر مٹانی پڑی ہے

خاک میں خود کو ملایا میں نے
خاک صحرا میں اڑانی پڑی ہے

میں اسے بھول نہیں سکتا زبیرؔ
میز پر یاد دہانی پڑی ہے


دشت میں خود کو جلایا ہوا ہے
عشق محنت سے کمایا ہوا ہے

یہ ترے ہجر کا آزار ،اعزاز
اپنے سینے سے لگایا ہوا ہے

دھوپ میں جلتا رہا ہے برسوں
تب گھنا پیڑ کا سایہ ہوا ہے

اب کوئی رنگ جمے گا کیسے
عشق نے رنگ جمایا ہوا ہے
سامنے اب نہ کوئی آئے مرے
وہ مرے سامنے آیا ہوا ہے

میں نے اک پھول اسے دینا ہے
میں نے اک بوجھ اٹھایا ہوا ہے

اب تو میری بھی جگہ بنتی نہیں
مجھ میں اتنا وہ سمایا ہوا ہے

جب سے اپنایا مجھے اس نے قیصرؔ
شہر کا شہر پرایا ہوا ہے



نظر کا بوجھ اٹھایا نہیں گیا تجھ سے
جو تو نے دیکھا، دکھایا نہیں گیا تجھ سے

وہ یاد ہوں جوتجھے بھول کر نہیں آئی
وہ عشق ہوں جو نبھایا نہیں گیا تجھ سے

نظر گنوائی ہے تجھ سے نظر ملاتے ہوئے
سو مجھ سے ہاتھ ملایا نہیں گیا ، تجھ سے

میں جانتا ہوں بلا کا زمانہ ساز ہے تو
بس ایک میں کہ منایا نہیں گیا تجھ سے

تمام کوششیں ناکام ہو گئیں قیصرؔ
وہ ایک شخص بھلایا نہیں گیا تجھ سے


جس سے امید جانثاری کی
بات اس نے بھی کاروباری کی

زندگی ناگ تھی کچل ڈالی
ایک ہی چوٹ ایسی کاری کی

یہ لکیریں نہیں ہیں چہرے پر
وقت نے مجھ پہ دستکاری کی

لازمی ہجر تھا نصاب میں سو
جو محبّت تھی اختیاری کی
موت آئی تو یہ کھلا مجھ پر
حد نہیں کوئی بے قراری کی

جس کو سر پر چڑھائے رکھتا تھا
اس نے کب پیٹھ میری بھاری کی

ایک دکھ نے لگا لیا تھا گلے
اک اداسی نے غم گساری کی

اس کے کوچے سے لوٹنا تھا عبث
اس لئے الٹی گنتی جاری کی

درج محرومیوں کے نعرے کیے
دل کی دیوار اشتہاری کی



رکھ کے خواہش نئے معانی کی
شاعری ہم نے آسمانی کی

نئے مصرعے بنا لیے تم نے
بات لیکن وہی پرانی کی

ورنہ دریا بھی دشت جیسا ہے
بات ہوتی ہے بس روانی کی

ورنہ یہ دل کہاں بہلنا تھا
یہ تو سانسوں نے مہربانی کی
ٹھیک سے ہاتھ بھی ملایا نہیں
تم نے کیا خاک میزبانی کی

کیا کہوں، کچھ ضعیف سے جذبے
آگ بھڑکا گئے جوانی کی

باغ سے پھول جھڑ گئے سارے
رہ گئی دھول رائیگانی کی

میں حقیقت میں کھو گیا قیصرؔ
بات کرتے ہوئے کہانی کی



مرے مزاج کی سادہ مزاج سی ناری
قبیلے والوں سے مجبور وہ بھی بیچاری

کوئی سمجھ نہیں سکتا یہ میری تنہائی
خود اپنی لاش پہ کرتا ہوں میں عزاداری

میں رو پڑا تھا لبوں پر ہنسی سجاتے ہوئے
کہ اور ہوتی نہ تھی مجھ سے اب اداکاری

میں دیکھ لیتا ہوں آواز اس کی آتے ہوئے
عجیب لہجہ ہے اس کا ، غضب صدا کاری

زبیرؔ بوجھ مری روح تک پڑا ہوا ہے
کسی کے عشق کا احسان تھا بہت بھاری


لوگ الجھتے رہے مداری سے
سانپ نکلا نہیں پٹاری سے

مصرعء تر نکالتا ہوں میں
دل کے پودوں کی آبیاری سے

بیچ دیں گے سبھی خسارے تک
یہ جو لہجے ہیں کاروباری سے

ہم نئی لے کے بن گئے موجد
اپنے اک غم پہ آہ وزاری سے

میرا دشمن تو ہے کھلا دشمن
مجھ کو خطرہ ہے بس حواری سے

تو مرا انتظار تھا ہی نہیں
کھل گیااب کے بیقراری سے


یہ آ گیامجھے تیرا خیال ویسے ہی
غزل کا ہونا ہواہے کمال ویسے ہی

ہمارے حسنِ نظر کا کمال کچھ بھی نہیں ؟
تو کیا ترا ہے یہ حسن و جمال ویسے ہی؟

ترا وصال کہ جس طور میرے بس میں نہیں
ہوا ہے ہجر میں جینا محال ویسے ہی

ترا جواب مرے کام کا نہیں ہے اب
کہ میں تو بھول چکا ہوں سوال ویسے ہی
کہا یہ کس نے کہ اکتا گیا جنوں سے میں
پڑا ہوں دشت میں اب تو نڈھال ویسے ہی

اُچھالتا ہے جزیروں کو جس طرح اے بحر
مری بھی لاش کو تہہ سے اچھال ویسے ہی

نکالتاہے تو جس طور رات سے سورج
ہماری شب سے ہمیں بھی نکال ویسے ہی

ایک شعر

تیرے دکھ درد بھلانے کو محبت کر لی
زہر ہی زہر کا تریاق ہوا کرتا ہے


کس خرابے میں یہ انسان چلے آتے ہیں
زندگی کرنے کو نادان چلے آتے ہیں

تم مجھے رہ سے ہٹائو گے تو پچھتائو گے
میرے سائے میں تو طوفان چلے آتے ہیں

جس طرف جلوہ نما ہوتا ہے وہ، سارے لوگ
آئنے تھام کے حیران چلے آتے ہیں

دردو غم اب مجھے تنہا نہیں ہونے دیتے
تیرے جاتے ہی یہ مہمان چلے آتے ہیں

ہنس رہا ہوں کہ مرا نقش قدم ڈھونڈتے لوگ
اپنے انجام سے انجان چلے آتے ہیں


یہ جو پھولوں میں تازگی ہے ابھی
وہ مرے خواب دیکھتی ہے ابھی

اک تو معصوم سی وہ لڑکی ہے
اور محبت نئی نئی ہے ابھی

میں تو کب کا بھلا چکا اس کو
وہ مگر مجھ کو سوچتی ہے ابھی

کوئی دل میں پکارتا ہے مجھے
ایک آواز گونجتی ہے ابھی
ترا دریا اتر چکا لیکن
میری آنکھوں میں تشنگی ہے ابھی

اس گلی میں کوئی فسوں ہے یا
کوئی دیوار بولتی ہے ابھی

ضبط ٹوٹا نہیںمرا قیصرؔ
زندگی،موت سے جڑی ہے ابھی

ایک شعر

زمانے بعد اُسے پڑھ کے مسکرا رہا ہوں
وہ ایک شعر جو میں نے کہا تھا روتے ہوئے


کوئی دلیل مرے جرم کی ،سند ،مرے دوست؟
کہ بدگمانی کی ہوتی ہے کوئی حد مرے دوست!

ابھی تلک تری الجھن نہیں سلجھ پائی
بگڑ چکے ہیں مرے دیکھ ، خال و خد مرے دوست

بھلے ڈبو دے مجھے ہجر کا چڑھا دریا
پہ مانگنی نہیں تجھ سے کوئی مدد مرے دوست

یہ آئینے میں سنورنا تجھے مبارک ہو
طلب نہیں تو بھلے خاک ہو رسد مرے دوست

زمیں سے رکھنا ہی پڑتا ہے رابطہ قیصرؔ
شجر کا اونچا ہو جتنابھی چاہے قد مرے دوست


ملی ہوئی ہے جو عزت، عطا سمجھتے ہیں
ہم ایسے لوگ خدا کو ، خدا سمجھتے ہیں

کہاں چراغ بجھانا ہے کب جلانا ہے
کہاں کہاں ہے کہاں کی ہوا سمجھتے ہیں

ہمیں خبر ہے کہ جلنا ہے آج بستی نے
تمھاری آگ اگلتی صداسمجھتے ہیں

ہوا کے سارے مراسم سے باخبر ہیں ہم
برس نہیں رہی کیوں یہ گھٹا سمجھتے ہیں

زبیر ربط ہے اپنا فقیر لوگوں سے
کچھ اس لیے بھی دعا ، بددعا سمجھتے ہیں


اک عمر میں نے یونہی خاک میں اڑا دی تھی
پھر اس کے بعد مجھے دشت نے دعا دی تھی

میں پاگلوں کی طرح ڈھونڈتا رہا باہر
کسی نے خود مرے اندرمجھے صدا دی تھی

یہ آج شہر میں چرچا ہے جس محبت کا
ذرا سی بات تھی ،جانے کسے بتا دی تھی

اب اپنے ہجر کوسوچوں تو خوف آتا ہے
مرے خیال نے جیسے مجھے سزا دی تھی

اسے نہ دی کبھی خیرات اس لیے قیصرؔ
مجھے فقیر نے جینے کی بدعا دی تھی


نگاہ بھر کے وہ دیکھے اگر مری جانب
تو پھر نظر کہاں رہتی ہے دوسری جانب

اٹھاکے پھرتارہا میں عبادتوں کا بوجھ
جدھر ہوا وہ ، خدا بھی ہوا اسی جانب

تمھاری زلف ہوائوں کا رخ بتاتی ہے
سو میں چراغ جلاتا ہوں دوسری جانب

میں آنکھ بند کیے اپنے آپ میں اترا
ملانہ جب مجھے وہ شخص ہی کسی جانب

حضور رزق کمانے دیں مجھ کو بچوں کا
کہ میں خدا کی طرف ہوں نہ آپ کی جانب

مرا شمار بھی ہوتا ہے کوفیوں میں زبیرؔ
دعا کسی کے لیے ہے تو دل کسی جانب


جلا کے ایک دیا طاقچے میں چھوڑ آیا
میں اک ہوا کو یونہی وسوسے میں چھوڑ آیا

میں لے کے آ گیا ان آبلوں کو منزل تک
میں راستے کو کہیں راستے میں چھوڑ آیا

تو چاہ کر بھی کبھی خود کو دیکھ سکتا نہیں
میں اتنے عکس ترے آئینے میں چھوڑ آیا

جب اپنے خواب الگ کر لیے کسی نے تو
میں اس کے بعد اسے رتجگے میں چھوڑ آیا

تری کتاب سے خوشبو نہ جائے گی میری
میں اپنے لفظ ترے حاشیے میں چھوڑ آیا


نیا زمانہ خدا کے لیے ضروری تھا
یہ اک چراغ ہوا کے لیے ضروری تھا

خبر تھی عشق مجھے راس آ نہیں سکتا
تمھارا ہجر دعا کے لیے ضروری تھا

تمھارا ہجر دھڑکنے لگا ہے لفظوں میں
یہ کرب سوز و صدا کے لیے ضروری تھا

اسی لیے تو محبت ہی ہم نے کی قیصرؔ
کہ ایک جرم سزا کے لیے ضروری تھا

امر ہوا مرے سینے پہ گھائو عشق کا گھائو
یہ زخم میری بقاکے لیے ضروری تھا


محبتوں کے نئے زاویے دکھا رہے تھے
کہ سنگِ راہ کو ہم آئنہ بنا رہے تھے

میں بدنصیب نے آخر یہ دن بھی دیکھنا تھا
میں مر رہا تھا مرے دوست مسکرا رہے تھے

یہ معجزہ بھی تو اندھوں کے دیس میںہوا تھا
جو دیکھ سکتے نہیں تھے، ہمیں دکھا رہے تھے

ہمارے پاس مسرت کی کوئی بات نہ تھی
کسی کے دکھ تھے یہاں اور ہم اٹھا رہے تھے
میں لکھنے بیٹھا تومیری غزل میں ڈھل گئے ہیں
وہ سارے لفظ جو پہلے مری دعا رہے تھے

میں جاگتا تھا تو کوئی ادھر نہ آتا تھا
میں سو گیاتو مجھے سب سلانے آ رہے تھے

عجیب دکھ تھا کہ میرا کلیجہ پھٹ رہا تھا
وہ لو گ میری کہانی مجھے سنا رہے تھے

ایک شعر

یہ زرد شال میں لپٹی ہوئی حسیں لڑکی
ہمارے گاوں کا موسم اداس کر دے گی


یہ نارسائی کی ڈوریں تو کٹ گئیں مجھ سے
مگروہ رونقیں کچھ دور ہٹ گئیں مجھ سے

تمہارا قرب بھی کیا چیز تھا مگر افسوس
اخیر وقت میں سانسیں بھی گھٹ گئیں مجھ سے

میں اک غبار ِتمنائے سوز ِ غم طلبی
تمام شہرکی دیواریں اٹ گئیں مجھ سے

وہ ہاتھ شرم و حیا کے سبب بندھے ہوئے تھے
سو یوں ہوا کہ وہ آنکھیں لپٹ گئیں مجھ سے
یہی ہوا کہ میں دیوار ہو گیا آخر
تمھاری یاد کی بیلیں لپٹ گئیں مجھ سے

یقین کرنا پڑا، ہو گیا ہوں میں پتھر
صدائیں چھو کے تری جب، پلٹ گئیں مجھ سے

میں ایک دشت میں غم چھوڑنے گیا تھا زبیرؔ
کسی کی چھوڑی بلائیں چمٹ گئیں مجھ سے

ایک شعر

وقت کے اس نگار خانے میں
سب تماشہ ہیں ، سب تماشائی


میرے دل کا دماغ تھا ہی نہیں
ورنہ اس کا سراغ تھا ہی نہیں

مجھ کو کب تھے پسند اندھیارے
میرے گھر میں چراغ تھا ہی نہیں

دل کی باتوں کو کوئی جانتا کیا
کوئی روشن دماغ تھا ہی نہیں

روح سے خون رس رہا تھا اور
میرے دامن پہ داغ تھا ہی نہیں
صرف تیری ہنسی میسر تھی
شہر میں کوئی باغ تھا ہی نہیں

رات بھی ہو چلی تھی گہری اور
اس پہ تیرا سراغ تھا ہی نہیں

کام کتنے رکے پڑے تھے زبیرؔ
دل کو غم سے فراغ تھا ہی نہیں

ایک شعر

بس ایک روز مجھے لوٹنا تھا گھر جلدی
بس ایک شام منانی تھی آفتاب کے ساتھ


صبح تک بے طلب میں جاگوں گا
آج تو بے سبب میں جاگوں گا

اس سے پہلے کہ نیند ٹوٹے مری
تیرے خوابوں سے اب میں جاگوں گا

اب میں سوتا ہوں آپ جاگتے ہیں
آپ سوئیں گے جب میں جاگوں گا

دوست آگے نکل چکے ہوں گے
نیند سے اپنی جب میں جاگوں گا

معتبر ہوں میں قافلے کے لئے
ڈٹ کے سوئیں گے سب، میں جاگوں گا


مرا خود سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہو رہا
ترا آئینہ ، مرا آئینہ نہیں ہو رہا

ترے ہجر میں ابھی ایک شب بھی کٹی نہیں
کہ گمان بھی مجھے جینے کا نہیں ہو رہا

کوئی خواب رکھ کے چلا گیا مری آنکھ میں
مجھے جاگنے کا بھی حوصلہ نہیں ہو رہا

میری اکھڑی اکھڑی جو سانس تھی ، وہ تو چل پڑی
تو بحال کیوں مرا حافظہ نہیں ہو رہا

میں نے جرم ِ عشق کا اعتراف تو کر لیا
تو یہ کس لیے مرا فیصلہ نہیں ہو رہا


ہو جیسے اڑتے بگولوں کا سلسلہ کوئی
گلی سے دشت کی جانب گزر گیا کوئی

میں اپنی سانس کی ترتیب ہی الٹ دوں گا
ہوا جو وقت سے درپیش معرکہ کوئی

تمھارے ہجر میں تنہا نہیں سفر اپنا
ہمارے سائے میںچلتا ہے راستہ کوئی

گئے دنوں میں اداسی سے خوب بنتی تھی
جنوں سے اپنا نہیں اب کے سلسلہ کوئی

یہ کیسا زہر اتارا ہے تو نے خوں میں مرے
کہ اب بھلا نہیں لگتا ہے ذائقہ کوئی


زمیں پہ گرتے فلک کو سنبھالتا ہوا میں
اندھیرے پھانکتا ، سورج ابھارتا ہوا میں

چمک رہا ہوں ابھی کوزہ گر کی آنکھوں میں
کسی وجود کا نقشہ ابھارتا ہوا میں

نظر میں آئینہ در آئینہ ہے خواب کوئی
بکھرتا جاتا ہوں تجھ کو پکارتا ہوا میں

نکل کے شہرسے پایاہے حوصلہ میں نے
سو آگیا سر صحرا،کراہتا ہوا میں

میں اپنی موت کی جانب رواں دواں ہوں اب
خود اپنے سینے سے مدفن نکالتا ہوا میں


کارِ دشوار کر رہا ہوں میں
عشق بیکار کر رہا ہوں میں

تیری تصویر مجھ سے لپٹے گی
خود کو دیوار کر رہا ہوں میں

اس کہانی میں تجھ کو مرنا تھا
تیرا کردار کر رہا ہوں میں

اب نہ لانا مرا حوالہ کوئی
اپنا انکار کر رہا ہوں میں
اک ملاقات اس نے مانگی ہے
خود کو تیار کر رہا ہوں میں

کردہ ، ناکردہ سب گناہوں کا
آج اقرار کر رہا ہوں میں

دار کو سر پہ رکھ لیا میں نے
خود کو سر دار کر رہا ہوں میں

خود کو پہلے رہائی دی تھی زبیرؔ
اب گرفتار کر رہا ہوں میں



مر گیا میں بھری جوانی میں
عشق تھا ہی نہیں کہانی میں

موج در موج رنگ رقصاں ہیں
عکس ٹھہرا ہوا ہے پانی میں

اب یقین و گمان کچھ بھی نہیں
سب گنوا بیٹھا بدگمانی میں

خود سے اب منہ چھپائے پھرتا ہوں
راز سب کہہ دیے روانی میں

اپنے خوابوں پہ خاک ڈالی اور
خاک لائے ہیں ہم نشانی میں

تیرا سورج غروب ہو گیا ہے
اب اندھیرے ہیں راجدھانی میں


سفرعزیز رہا گھر کبھی نہیں دیکھا
کہ ہم نے پیچھے پلٹ کر کبھی نہیں دیکھا

یہ میرا عشق تو احساس کی عنایت ہے
ترے خیال کو چھو کر کبھی نہیں دیکھا

بس ایک بار کہا تھا ،کہ دیکھ لوں گا تجھے
پہ تو نے مجھ کو ستم گر کبھی نہیں دیکھا

ترے خیال کی موجوں میں رقص کرتا ہوں
ہوا نے مجھ سا قلندر کبھی نہیں دیکھا
دلِ فگار کی ایسی تڑپ نہیں دیکھی
جو آج دیکھا ہے منظر کبھی نہیں دیکھا

کسی لکیر کا بننا نہیں فقیر مجھے
سو میں نے اپنا مقدر کبھی نہیں دیکھا

عجیب دشت ہے یہ دشت ِ آرزو قیصرؔ
کسی کو اپنے برابر کبھی نہیں دیکھا

ایک شعر

نیکیاں ! اپنی اپنی لے آؤ
میں نے دریا سے بات کر لی ہے


اس لیے عشق کے احسان سے ڈر لگتا ہے
اب کسی خواب کے اعلان سے ڈرلگتا ہے

لطف وہ لذتِ ہجراں میں ملا ہے مجھ کو
اب ترے وصل کے امکان سے ڈر لگتا ہے

یہ جمع پونجی کمائی ہے مری چاہت کی
اس لئے بھی مجھے نقصان سے ڈر لگتا ہے

کوزہ گر میں ہوں ترے چاک سے اترا ہوا وقت
جس کو تشہیر سے ، پہچان سے ڈر لگتا ہے

دل ،یہ پہلے بھی مری جان کو آیا ہوا ہے
ہاں مجھے اب اسی نادان سے ڈر لگتا ہے


ابھی تمہارے زمانے تلک نہیں پہنچا
میں یعنی اپنے ٹھکانے تلک نہیں پہنچا

فریب ِ عشق کی ہر رہ گزر ہے الجھی ہوئی
ترے کسی بھی بہانے تلک نہیں پہنچا

جوبات دل میں تھی اس کے رہی دل میں
کہ تیر اپنے نشانے تلک نہیں پہنچا

قلم سے میں نے زمیں آسماں ملائے پر
یہ آسمان گرانے تلک نہیں پہنچا

ابھی تو دھول اڑانی ہے راستوں کی زبیرؔ
سفر میں ہوں میں ٹھکانے تلک نہیں پہنچا


میں اپنی سمت تمھارے ہی دھیان جیسا ہوں
یقیں کرو مرا ،گرچہ گمان جیسا ہوں

مجھے سلام کرے گی ہوا سمندر کی
میں تیری نائومیں اک بادبان جیسا ہوں

ڈھلے گا دن تو تجھے مجھ میں ڈوبنا ہو گا
تْو آفتاب تو میں آسمان جیسا ہوں

ہزار درد مرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں
میں اپنی ذات میں اک کاروان جیسا ہوں

ہر ایک درد کی بارش ٹپکتی ہے مجھ میں
میں اک غریب کے کچے مکان جیسا ہوں

ہوا سے کوئی شناسائی ہی نہیں قیصرؔ
کسی پرندے کی پہلی اْڑان جیسا ہوں


مرے نصیب میں محفل کی میزبانی ہے
مجھے خبر ہے کہ اْسی نے غزل سنانی ہے

فقیر لوگ تھے دریا اٹھا کے لے آئے
اگرچہ اس نے کہا تھا کہ آگ لانی ہے

یہ لڑکھڑانا کوئی لڑکھڑانا تھوڑی ہے
میں جانتاہوں ہزیمت کسے اٹھانی ہے

یہ کیا کہ آنکھ بیاں کر رہی ہے حالِ دل
یہ ترجمانی بھلا کوئی ترجمانی ہے

اگر یقین ہے تجھ کو مری محبت کا
تو کس لیے تری باتوں میں بدگمانی ہے


دشت جنوں کی خاک کہاں تک اڑائوں میں
جی چاہتا ہے اپنی طرف لوٹ جائوں میں

ہر اک سے پوچھتا ہوں غمِ ہجر کا علاج
ہر کوئی کہہ رہا ہے تجھے بھول جائوں میں

میں خوب جانتا ہوں نئے چارہ گر کی چال
وہ مجھ سے کہہ رہا ہے تجھے بھول جائوں میں

دیکھوں توہم سفر ہے ترا کون میرے بعد
اپنے ان حوصلوں کو زرا آزمائوں میں

اس نے کیا تھا عہد مرا ساتھ دینے کا
خود کو یقین خواب کا کیسے دلائوں میں

سنتے ہیں اس نگر میں بھی اب کے خزاں ہے تیز
شاید کہ اس بہار اسے یاد آئوں میں


یار سب غمگسار کب ہوئے ہیں
سب شجر سایہ دار کب ہوئے ہیں

ہم ازل کے ہیں بے قرار مگر
اس قدر بے قرار کب ہوئے ہیں

آپ رہتے ہیں کہکشائوں میں
آپ میں ہم شمار کب ہوئے ہیں

کیسے حالات کا بہانہ کریں
یہ بھلا سازگار کب ہوئے ہیں

کب کھلے ہیں خرد پہ آئینے
راز سب آشکار کب ہوئے ہیں

اب جنہیں یاد کر رہا ہوں میں
وہ مرے سوگوار کب ہوئے ہیں


دل نے امیدیں عبث پالی ہوئی ہیں
یہ شبیں تو اور بھی کالی ہوئی ہیں

جھانکتی ہیں دن کی خوشیاں کھڑکیوں سے
ہم نے ساری رات پر ٹالی ہوئی ہیں

نغمہء کہنہ میں اے حیران سامع
میں نے کچھ تانیں نئی ڈالی ہوئی ہیں

بھولی بھالی خواہشوں کی فاختائیں
سب اسیرِ بے پر و بالی ہوئی ہیں

آرزوئیں آنکھ سے بہتی ہیں کیسے
دل کے سانچے میں اگر ڈھالی ہوئی ہیں

اے مرے خامے سفر کو تیز کر اب
مسندیں احساس کی خالی ہوئی ہیں


مجھ میں کچھ تجھ سوا بھی شامل ہے
آسماں میں خلا بھی شامل ہے

موت کی چاپ میں دمِ وقفہ
زندگی کی صدا بھی شامل ہے

زندگی یوں بھی کچھ عزیز نہ تھی
اب ترا مدعا بھی شامل ہے

میری بربادیوں میں اے ناصح!
کوئی میرے سوا بھی شامل ہے

اے عدو! اب مرے رجز میں تو
نوحہءِ کربلا بھی شامل ہے


یوں لگا مجھ کو جہانوں کی خدائی دی تھی
اس نے کل اپنے رویے کی صفائی دی تھی

اس لیے دور ہوا دنیا کی ہائوہو سے
مجھ سماعت کو مری سانس سنائی دی تھی

خواب تک لے گئی ان آنکھوں سے جاتے جاتے
ثانیہ بھر وہ کرن مجھ کو دکھائی دی تھی

اس نے بیگانئہ ہنگامئہ ہستی کر کے
دل ہی مانگا تھا نہ جاں تک ہی رسائی دی تھی

یہ تو سب رونا ہے ساحل پہ کھڑے لوگوں کا
ڈوبنے والے نے کب کوئی دہائی دی تھی


یہ وحشتوں کی جو تاثیر میری آنکھ میں ہے
کسی سراب کی تصویر میری آنکھ میں ہے

تو اپنے خواب کو آئینہ عدو میں نہ بو
کہ تیرا خطہءِ تعبیر میری آنکھ میں ہے

ہنسا جو تجھ پہ کبھی آئینہ ، مجھے ملنا
ترے جمال کی توقیر میری آنکھ میں ہے

اسی لیے کوئی منظر مجھے نہیں بھاتا
کسی نظر کا بجھا تیر میری آنکھ میں ہے

وہ اک سخن جو کبھی تھا تمہارے ہونٹوں پر
اسی کی آج یہ تفسیر میری آنکھ میں ہے

ہے اپناکلیہءِ تطہیر بھی خرد افزوں
اگر وہ خواب کی تاثیر میری آنکھ میں ہے


خیر اب تو ہے ہمارا رابطہ ٹوٹا ہوا
تھا بھی جب تو یہ دلِ بے زار تھا ٹوٹا ہوا

جانے کس منزل کی جانب جا رہا ہوں آج کل
چل رہا ہوں مضمحل ، افتادہ پا ، ٹوٹا ہوا

موڑ آ سکتا ہے پھر اس کے بھی خیالوں میں وہی
جڑ بھی سکتا ہے ہمارا سلسلہ ٹوٹا ہوا

ایک بت کے وار سے میں تو مکمل ہو گیا
میرے اندر جی اٹھا میں بے صدا ٹوٹا ہوا

چند لمحوں کے لیے بیمار کو نیند آئی ہے
اور سرہانے رو رہا ہے رتجگا توٹا ہوا


آج بھی ہے مرا ہم سفر آئینہ
مدتوں سے یہ نامعتبر آئینہ

کیسا منظر گرا وقت کے ہاتھ سے
میں پڑا ہوں ادھر اور ادھر آئینہ

کون نظریں ملائے مرے خواب سے
آئینہ بھی یونہی ، ہاں مگر آئینہ

معجزہ ہے یہ سب اک دُر اشک کا
ہے مجھے زرہ ءِ رہ گزر آئینہ

ڈر رہا ہوں بہت اس کی صورت سے میں
ہنس رہا ہے مرے حال پر آئینہ

کوئی مجھ سے اسے دور لے جائے اب
کر رہا ہے مجھے دربدر آئینہ


اُٹھو یہ دامنِ دل و دیدہ سمیٹ کر
وہ لوگ جا چکے ہیں تماشا سمیٹ کر

اک بار کھل کے رئووں لپٹ کر میں تجھ سے پھر
رکھ آئوں تیرے دل میں یہ دریا سمیٹ کر

میرا تو اعتراض فقط ایک رخ پہ تھا
تو جا رہا ہے خواب ہی سارا سمیٹ کر

جانا تھا اس کو نیلے حسیں پانیوں کی اور
میری نظر میں رکھ گیا صحرا سمیٹ کر

پل بھر میں پھر ہوا کی حدوں تک بکھر گیا
پہلو میں لمحہ بھر ہی رکھا تھا سمیٹ کر

میری ضرورتوں کے تو رستے میں اب نہ آ
جاتا ہوں میں کوئی تری دنیا سمیٹ کر


میرا جنوں خیال سے آگے نہ جا سکا
میں ہجر تجھ وصال سے آگے نہ جا سکا

وہ خوش خرام لمحہءِ آئیندہ میں گیا
اور میں رہ ملال سے آگے نہ جا سکا

دل تک پہنچ کے رہ گیا سب دشتِ آرزو
اس شہرِ پائمال سے آگے نہ جا سکا

اتنے جواب آئے کہ سمجھا ہی کچھ نہیں
میں تو اس اک سوال سے آگے نہ جا سکا

سورج مرے لیے کہاں آیا ہے لوٹ کر
اپنی حدِ زوال سے آگے نہ جا سکا


مزاجِ یار کیوں برہم ہے میں کچھ کہہ نہیں سکتا
مرا بھی حوصلہ کچھ کم ہے میں کچھ کہہ نہیں سکتا

ضرورت ہوں تو آ کر جلد اپنے خواب لے جانا
کہ پھر برسات کا موسم ہے میں کچھ کہہ نہیں سکتا

بہت شدھ راگ، دھن نایاب اور بیتار تانیں ہیں
یہ کیسی تال ہے، کیا سم ہے میں کچھ کہہ نہیں سکتا

مرے سیدھے سوالوں پر تاسف سے کہا اس نے
تمہاری بات ہی مبہم ہے میں کچھ کہہ نہیں سکتا

نجانے پیڑ کی چیخیں ہیں یا ہے شور آندھی کا
ہوا کا حلقہءِ ماتم ہے میں کچھ کہہ نہیں سکتا


عقل تو خوش ہے مری تردید پر
دل کھڑا ہے پر رہِ توحید پر

بات نے آخر پہنچنا ہے وہیں
ہنس رہا ہوں میں تری تمہید پر

سارے بچوں میں مرا بچپن ہی ہے
جھنجھلاتے ہیں مری تاکید پر

سامنا اس سے ہوا ہے آج پھر
جی اٹھا ہوں درد کی تجدید پر

جائیے تو اب کدھر کو جائیے
بیٹھیے تو کس درِ امید پر

جھلملاتے ہیں کئی یادوں کے دیپ
اک چراغاں ہے مزارِ دید پر


اس کے پہلو میں بھی نہ آئی نیند
ہم کو بھائی نہیں پرائی نیند

مجھ کو کس خواب نے جگایا تھا
میری کس خواب نے اڑائی نیند

ہجرت و ہجر کی چتائوں میں
ہم نے اک عمر تک جلائی نیند

اک اندھیرے میں چاند لہرایا
اور آنکھوں میں مسکرائی نیند

جانے کس وقت سو گیا تھا میں
جانے کس کیفیت میں آئی نیند


نہ سوچا تھا کہ یوں دیوار ہو گا
یہ رستہ اس قدر دشوار ہو گا

خبر کیا تھی کہ سایہ چھین کر وہ
شجر بھی صورتِ دیوار ہو گا

لبِ دریائے وحشت دل کھڑا ہے
مری انگلی پکڑ کر پار ہو گا

ابھرتی رہ تمنائے محبت
وہ منظر اب کہاں بیدار ہو گا
میں جب آزاد ہوں گا اس گماں سے
یقیناً تو مرا پندار ہو گا

کہانی بڑھ رہی ہے اس طرف اب
جہاں اپنا نیا کردار ہو گا

خرابی ہے یہی خواہش میں اپنی
اگر نکلی نہیں ، آزار ہو گا

بتانا تھا مجھے بِکنے سے پہلے
ترا آخر کوئی میعار ہو گا

مری تو ساری دنیا ایک دل ہے
ترا تو دل بھی دنیا دار ہو گا



ایک صاحب سے دوستی یوں ہے
میں سمجھتا ہوں ، دشمنی یوں ہے

چھوڑیے بحث ، سب یونہی یوں ہے
کیا یہی ایک آدمی یوں ہے

کشمکش میں ہے میرا ہر ناقد
میری تصویر میں کمی یوں ہے

میں اسے یاد ہی نہیں ہوں اب
میری ہر بات ان کہی یوں ہے
اس اذیت سے زخم ہی اچھے
صاحبو! کیا رفو گری یوں ہے

جھوٹ کہتا تو کچھ نہیں رہتا
سچ یہی ہے ، یہ روشنی یوں ہے

آ گئی تھی قرار کی منزل
وہ مرے ہاتھ سے گری ، یوں ہے

جو بھی کچھ ہے ، نہیں یہی سب کچھ
کچھ نہیں ہے یہ آگہی یوں ہے



یقیں کو اک گماں سا کھا رہا ہے
مری منزل کو رستہ کھا رہا ہے

پرندے سوچتے ہیں کیا بنے گا
شجر کو اس کا سایہ کھا رہا ہے

محبت ہے محبت کے مقابل
مجھے انسان ہونا کھا رہا ہے

جدائی کا تو صدمہ کچھ نہیں تھا
مجھے تیرا دلاسہ کھا رہا ہے
مری بستی بھی اس کے پیٹ میں تھی
سمندر تو جو دریا کھا رہا ہے

مری بنیاد میں اک خوف ہے جو
مرا سارا اثاثہ کھا رہا ہے

عجب غم ہے ادھوری داستاں کا
یہ غم تو مجھ کو سارا کھا رہا ہے

ایک شعر

نظر چُرا کے کہا بس یہی مقدر تھا
بچھڑنے والے نے ملبہ خدا پہ ڈال دیا


سمجھ رہے ہیں کسی آسماں میں رہتے ہیں
یہ خوش گمان جو تیرے گماں میں رہتے ہیں

ترے خیال میں پل بھر ٹھہر گئے تو بہت
ہم ایسے لوگ کہاں داستاں میں رہتے ہیں

عجب جنوں ہے ، عجب نارسائی ہے اپنی
کہ دشت زاد ہیں ، شہرِ بتاں میں رہتے ہیں

جو دن سے تھک کے پہنچتے ہیں گھر تو ساری رات
درِ شکستہ سے لگ کر مکاں میں رہتے ہیں
ہم اپنے آپ سے کرتے ہیں اک سوال اور پھر
تمام عمر کسی امتحاں میں رہتے ہیں

وہ ابتدا بھی تری تھی یہ انتہا بھی تری
کہ ہم تو ایک رہِ رائیگاں میں رہتے ہیں

نہ آئیں گے ترے اس رعب کے اثر میں کبھی
کہ ہم فقیر خود اپنی اماں میں رہتے ہیں

ایک شعر

آئینہ ٹوٹ جائے گا اور پھر
عکس چبھتا رہے گا آنکھوں میں


جب ترا عکس تخیل کی ردا تک آئے
گنگناتی ہوئی صحرا میں صبا تک آئے

تجھ کو جب یاد کیا اتنی پزیرائی ملی
پھول ہی پھول مرے دست دعا تک آئے

اے مری پہلی محبت ترے پندار کی خیر
ہم تری کھوج میں نکلے تو خدا تک آئے

پہلے چاہا تھا کسی عکس کو اک دوری سے
پاس جب آئے تو پھر اس کی صداتک آئے

تیری آواز نے خوابوں میں پکارا ہم کو
اس تعاقب میں ہی ہم کوہ نداتک آئے


میں اپنی دھوپ ترے در سے کیوں گزاروں گا
تجھے گمان ہےدیوار کو پکاروں گا؟

ابھی اتارنے جانا ہے قرض مٹی کا
میں تیری زلف کسی اور دن سنواروں گا

یہ سر پہ لادی گئی ہے جو ریت صحرا کی
میں اپنا بوجھ کسی جھیل میں اُتاروں گا

یونہی اٹھایا نہیں میں نے ہاتھ میں پتھر
اب اُس کا عکس دکھایا تو کھینچ ماروں گا

ہوا ہے، آگ ہے ، مٹی ہے اور نہ پانی ہے
میں تیرا نقش کہیں اور سے ابھاروں گا


یہ بات اپنی جگہ ایک معجزہ بھی تھا
مری نمو میں مگر میرا حوصلہ بھی تھا

یہ عشق اُن دنوں چلتا نہ تھا زیادہ دیر
سو تیرے ساتھ کوئی اور سلسلہ بھی تھا

معاف کرنا اداسی اٹھا کے لے آئے
ہمیں تو یاد نہیں گھر میں آئنہ بھی تھا

تمھارے درد بھلانے کو میں نے پی لی تھی
اگرچہ تلخ بہت اس کا ذائقہ بھی تھا

لیا تھا خود ہی بھٹکنے کا فیصلہ قیصر
ہمارے سامنے اک اور راستہ بھی تھا


کسی خیال کی لے پر تھرک رہے ہیں ہم
کہیں کہیں سے مسلسل اٹک رہے ہیں ہم

کسی کی آنکھ گئی دیکھنے دکھانے میں
کسی کی ایک نظر کی جھلک رہے ہیں ہم

فضا میں ٹوٹ کے بکھرے اور آپ آ جائیں
کسی ستارے کو مدت سے تک رہے ہیں ہم

ہر ایک رنگ سے خوشبو کو ہم نے دیکھا ہے
چمن سے تیری گلی تک سڑک رہے ہیں ہم
ہمیں کھجور کی شاخوں پہ جا کے گرنا ہے
کہ آسمان سے الٹا لٹک رہے ہیں ہم

تمہارا ہاتھ چھوا تھا ہمارے ہاتھ کے ساتھ
اسی مہک میں ابھی تک مہک رہے ہیں ہم

تمھارے خواب کی آب و ہوا ہے راس ہمیں
یہ دیکھ کیسے فضا میں لچک رہے ہیں ہم

الجھ رہی ہیں لکیریں کہیں لکیروں سے
گھنا ہے ہاتھ کا جنگل، بھٹک رہے ہیں ہم

شراب شیشے کی بوتل میں ہی دھری ہوئی ہے
نظر نظر سے ملائے چھلک رہے ہیں ہم

سلگ رہے ہیں کسی غم میں جسم و جاں قیصر
اندھیرا بڑھ رہا ہے اور چمک رہے ہیں ہم



بہت یقین سے کوئی گمان باندھوں گا
کسی پہاڑ سے میں آسمان باندھوں گا

کوئی بھی چھوڑ کے چوپال کو نہ جائے گا
کچھ اس کمال سے میں داستان باندھوں گا

پھر اس کے بعد مجھے اوڑھنی ہے گمنامی
میں ایک گٹھڑی میں نام و نشان باندھوں گا

فلک سے دیکھیں گی سب مجھ کو حیرتی آنکھیں
کھلے پروں سے میں ایسی اڑان باندھوں گا

اثاثہ یاد کا ورثے میں چھوڑ جاؤں گا
اور اب کے زاد ِ سفر میں مکان باندھوں گا


بُرا نہ مانیے معصوم سی جسارت کا
میں منتظر ہوں اگر آپ کی زیارت کا

سوال نامہ نیا ہاتھ میں تھما دے گا
میں حل نکالوں گا جب وقت کی بجھارت کا

اداسیوں کا الگ ذائقہ سہی لیکن
چھکا ہے ہم نے مزہ اک نئی شرارت کا

تمام رات ترے ساتھ جاگتا رہا ہے
ہمارا خواب ہے واقف تری بصارت کا
منافع درد کی صورت میں مل رہا ہے مجھے
بس ایک فائدہ ہے عشق کی تجارت کا

بدن میں آنکھوں کے در جابجا نکل آئے
یہ کس نے بدلا ہے نقشہ مری عمارت کا

لپٹ نہ جائیں کہیں خار میرے دامن سے
اٹھاؤں حلف اگر پھول کی طہارت کا

مگر جو سوچ نکالی کمال کی تم نے
اگرچہ اور ہی مفہوم تھا عبارت کا

تراش کر میں نے پتھر کو دھڑکنیں کیا دیں
مچا ہے شور جہاں میں مری مہارت کا



اپنے آہنگ سے جدا نہ بنا
میری تصویر کو نیا نہ بنا

غم کی ترسیل ہے بجا لیکن
میری آنکھوں کو بھیگتا نہ بنا

توبنا شوق سے مری آنکھیں
اپنی آنکھوں کو آئنہ نہ بنا

مجھ کو جلنے دے اپنی آگ میں بس
تو سرھانے مرے دیا نہ بنا
خاک رکھ دی ہے چاک پر تیرے
تیری مرضی ہے اب بنا نہ بنا

تو کسی اور دھن میں رقصاں ہے
میری وحشت کو تجربہ نہ بنا

میں نگاہوں میں آ چکا ہوں، مجھے
دائرہ کر لے ، زاویہ نہ بنا

میری منزل بس اک مسافر ہے
تو کوئی اور راستہ نہ بنا

عشق ہے ، بندگی نہیں، سو اُسے
شاہ زادی بنا ، خدا نہ بنا

مجھ کو دل چاہے آئینہ کر لے
اس میں تُو عکس دوسرا نہ بنا

سرخ یادوں کی دھوپ میں قیصر
زرد سوچوں کا زاویہ نہ بنا


کچھ حقیقت سے کچھ فسانے سے
دور ہم ہو گئے زمانے سے

نیند کوشش سے تو نہیں آتی
خواب بنتا نہیں بنانے سے

خود کو کس کر پکڑ لیا میں نے
تیر چُوکے نہیں نشانے سے

تیرا بے ساختہ لپٹ جانا
یہ سہولت ہے لڑکھرانے سے
میرا ہر خواب پھر سے جاگ اٹھا
آپ کے یوں نظر ملانے سے

آؤ مل کر اسے بدل ڈالیں
یہ زمانہ ہے اک زمانے سے

سارا منظر بدل گیا پل میں
ایک تصویر کے ہٹانے سے

میرے کچھ شعر ہوگئے لیکن
کیا ملا تجھ کو دل لگانے سے

ایک پل میں بدل گیا موسم
میری جاں تیرے مسکرانے سے

پانیوں کی روانیوں پہ زبیر
پاؤں جمتے نہیں جمانے سے



بس ایک بار ہی دیکھیں نقاب میں آنکھیں
ہر ایک رات رہیں پھر تو خواب میں آنکھیں

بس ایک خواب کے باعث ہی آ گئیں ہیں مری
کئی دنوں سے مسلسل عذاب میں آنکھیں

ہزار ایک نظر میں جنہیں سوال ملیں
خموش ہیں وہ کہیں کیا جواب میں آنکھیں

ڈر ے ڈرے سے، وہ سہمے ہوئے سے خال و خد
مجھے حسین لگیں اضطراب میں آنکھیں
نشہ جو گھر کے چراغوں میں رکھ دیا گیا ہے
ڈھلے گی شام، ملیں گی شراب میں آنکھیں

میں پڑھنے کے لئے اس سے کہانیاں لایا
تو اس نے بھیج دیں رکھ کر کتاب میں آنکھیں

جو دیکھتا ہوں اسے سوچتا ہوں میں قیصر
چھلکتی ہونگی یہ کتنی شباب میں آنکھیں

ایک شعر

میں دن ہوں ، ڈھونڈتا رہتا ہوں شام تک اس کو
وہ رات ہے ، مجھے خوابوں میں آ کے ملتی ہے


وہ بار بار مرا ظرف آزماتے ہوئے
بہت قریب سے گزرا ہے دور جاتے ہوئے

یہ بات اور اذیت سی دل کو دیتی ہے
وہ دور مجھ سے ہوا ہاتھ کو ہلاتے ہوئے

تو بے رخی سے کوئی بات کر کے بھول گیا
بہت سکون ملا دل کو چوٹ کھاتے ہوئے

ہم ایک دوسرے کو اپنے ہاتھو ں کھو دیں گے
کہاں خبر تھی ہمیں دل سے دل ملاتے ہوئے
وہ سانس لے رہا ہے آج میری سانس کے ساتھ
جھجک رہا تھا کبھی میرے پاس آتے ہوئے

میں بات بات پہ محسوس اس کو کرتا رہا
وہ یاد اور بھی آتا رہا بھلاتے ہوئے

میں اتنا محو ہوا اس سے گفتگو میں زبیر
کہ اس کو ساتھ ہی لے آیا گھر کو آتے ہوئے

ایک شعر

تمھارے گاؤں کی پچھلی طرف پہاڑی ہے؟
وہیں پہ دیکھا تھا اک روز خواب میں تم کو


سخن کے نام پہ شہرت کمانے والے لوگ
ہماری غزلوں سے مصرع اٹھانے والے لوگ

لٹا رہے ہیں زمانے میں آج بینائی
کسی کی آنکھ سےسرمہ چرانے والے لوگ

بدل چکے ہیں ترے شہر کے گلی کوچے
بھٹک بھی سکتے ہیں رستہ بتانے والے لوگ

نہ پوچھ زندگی کیسے ، گزارا کر رہے ہیں
نئے دنوں میں پرانے زمانے والے لوگ
ہم اپنے دکھ کو گلے سے لگا کے جی لیں گے
رہیں گے خوش کہاں دل کو دکھانے والے لوگ

تمہارے لفظوں نے دل پر لگائی ایسی چوٹ
بکھر گئے ہیں محبت جتانے والے لوگ

سفر کی وحشتیں تنہا نکل پڑی ہیں مگر
ٹھہر گئے ہیں مرے ساتھ جانے والے لوگ

ہماری موت کا کیوں انتظار ہے ان کو
ہماری زندگی میں تھے جو آنے والے لوگ

وہ آج لفظ کی تذلیل پر اتر آئے
کہیں غزل تو کہیں گیت گانے والے لوگ

نجانے کون زمانے میں جا بسے قیصر
ہنسی مذاق میں غم کو اڑانے والے لوگ



کوئی تو فیصلہ ہونا ہے، ہم نے رونا ہے
کہ خواب آنکھوں سے کھونا ہے، ہم نے رونا ہے

حسین آنکھوں نے سونپا ہوا ہے خواب ہمیں
یہ بوجھ درد کا ڈھونا ہے،ہم نے رونا ہے

تمھارے لمس نے ہلکا سا چھو کے توڑ دیا
یہ دل بھی ایک کھلونا ہے ,ہم نے رونا ہے

کسی خیال نے جکڑا ہوا ہے دکھتا وجود
لپٹ کے خواب سے سونا ہے،ہم نے رونا ہے

نہیں ہے فکر کی اب ایسی کوئی بات دلا
یونہی یہ تکیہ بھگونا ہے ، ہم نے رونا ہے

اک ایک کر کے مرے یار اٹھ گئے قیصر
کہ خالی کمرے کا کونہ ہے، ہم نے رونا ہے


وہ لوگ جن سے نہیں ہے مکالمہ میرا
وہی تو کرنے چلے ہیں مقابلہ میرا

تُو اپنی دنیا اٹھا اور اک طرف ہو جا
کہ اب خدا سے ہی ہوگا معاملہ میرا

کسی بھی عشق کے مضموں کو کیا کروں پڑھ کر
مرے تو ہاتھ پہ رکھا ہے تجربہ میرا

ادھورے عکس دکھاتا ہے ایک مدت سے
کہ بدگمان ہوا مجھ سے آئینہ میرا
میں ایسے ٹوٹ کے ذروں میں بٹ گیا ہوں دوست
ہوا نہ خود سے تیرے بعد رابطہ میرا

میں تیرے فیضِ محبت سے مستجاب ہوا
کھڑا ہے اب بھی مگر رہ میں مسئلہ میرا

بھٹکنے کے لئے چھوڑا ہے دشت میں قیصر
سمندروں نے بتایا نہ راستہ میرا

ایک شعر

کیا حسن اتفاق تھا اس کی گلی میں ہم
اک کام سے گئے تھے کہ ہر کام سے گئے


پری نہ تھی مرے گاؤں میں کوئی باغ نہ تھا
وہ ایک خواب کہ جس کا کوئی سراغ نہ تھا

تمھاری ٹوٹی ہوئی آس کا میں کیا کرتا
مجھے تو اپنی مرمت سے ہی فراغ نہ تھا

عجیب حبس تھا دیوار و در سے لپٹا ہوا
ہوا نہ آئی کہ گھر میں کوئی چراغ نہ تھا

گناہِ عشق سمجھتے تھے پارسا، لیکن
قبا سفید تھی اور اس پہ کوئی داغ نہ تھا

وہ تشنگی تھی کہ لب پر تھا کوئی دشت آباد
ہمارے حصے میں اک زہر کا ایاغ نہ تھا


میں بناتا رہا وفا کی لکیر
میرے ہاتھوں میں تھی دعا کی لکیر

خود کشی میں نے ملتوی کر دی
جب ابھرنے لگی قضا کی لکیر

وقت کے ہاتھ فیصلے تھے اور
پتھروں پر لکھی خدا کی لکیر

خواب کو راستہ دکھاتی گئی
آسماں تک وہ انتہا کی لکیر
جرم ثابت نہیں ہوا میرا
کھینچ دی آپ نے سزا کی لکیر

کون سے موسموں کی آمد ہے
بن رہی ہے یہ کس فضا کی لکیر؟

دیجیے ہاتھ میرے ہاتھوں میں
دور تک کھینچئے ہوا کی لکیر

عشق میں ذات کی نفی سے قبل
کاٹنی تھی ہمیں انا کی لکیر

ہم نے دیکھی تھی اس کی آنکھوں میں
دلِ کافر تری ادا کی لکیر

ایک جانب تھی میری کھینچی ہوئی
دوسری سمت دلربا کی لکیر



ہزار لوگوں میں دو چار بھی نہیں نکلے
مری طرف تو مرے یار بھی نہیں نکلے

ہمارے لفظوں کی حرمت کو پائمال کرو
کہ تم سے بھرتی کے اشعار بھی نہیں نکلے

وہ جن کے مشورے پر سارے پیڑ کاٹ دیے
وہ لوگ سایہء دیوار ،بھی نہیں نکلے

انہیں یقین کسی بے یقین پر آیا
ہم ایسے لوگ اداکار بھی نہیں نکلے

تمام عمر میں بُنتا رہا جنھیں قیصر
مری کہا نی ، وہ کردار بھی نہیں نکلے


بنا رہے ہو جو نقش و نگار شیشے پر
کہ بال آنے لگے ہیں ہزار شیشے پر

سنور رہا تھا عجب بے خودی میں دیر تلک
وہ شخص چھوڑ گیا ہے خمار شیشے پر

دکھائی دے رہا تھا ٹہنیوں پہ ایک ہی پھول
اتر رہی تھی عجب سی بہار شیشےپر

بہت سے چہروں میں الجھا ہوا ہے اک چہرہ
میں دیکھتا ہوں کوئی انتشار شیشے پر
لکیر کھینچی تھی شفا ف پانیو ں پہ کہیں
میں عکس ڈھونڈتا ہوں داغدار شیشے پر

دھواں دھواں ہے فضا روشنی کے ھاتھوں سے
بنا دیاگیا ہے شاہکار شیشے پر

میں راستو ں میں کہیں خود کو چھوڑ آیا مگر
لکھا ہوا تھا ترا انتظار شیشے پر

پڑا ہوا ہوں زمیں کی سنہری مٹی میں
میں سنگ ہوں نہ مجھے اعتبار شیشے پر

وہ ٹوٹتی ہوئی آواز جانے کس کی تھی
خراشیں پڑنے لگیں بے شمار شیشےپر

زبیر اُس نے یہ دیکھا ہے کس محبت سے
نگاہ اٹھ رہی ہے باربار شیشے پر



تیرا اقرار چاہیے ہے مجھے
اور ہر بار چاہیے ہے مجھے

تیری تصویر ٹانگنے کے لیے
ایک دیوار چاہیے ہے مجھے

میں ادھورا ہوں اور کہانی میں
تیرا کردار چاہیے ہے مجھے

مجھ کو رکنا نہیں ہےاب لیکن
تیرا اصرار چاہیے ہے مجھے
چاہتیں بانٹنے کو نکلا ہوں
بس ترا پیار چاہیے ہے مجھے

باغ میں پھول کھل رہے ہوں جب
تیرا دیدار چاہیے ہے مجھے

آج کی شام کتنی بوجھل ہے
کوئی میخوار چاہیے ہے مجھے

تیری رائے سے اختلاف نہیں
کھل کے اظہار چاہیے ہے مجھے

خواب کو دیکھنا ہے پوری طرح
آنکھ بیدار چاہیے ہے مجھے

پھول کاغذ پہ خود بنا لوں گا
صرف مہکار چاہیے ہے مجھے



ہماری آنکھیں الگ تھیں ، ہمارے خواب الگ
اسی لیے ہمیں سہنے پڑے عذاب الگ

یہ لوگ سوچے بنا زندگی گزار گئے
ہمیں تو فکر کا دینا پڑا حساب الگ

تُو یار ہے، تجھے دوں گا رعایتی نمبر
مرا سوال الگ تھا، ترا جواب الگ

یہ شاہ زادے غلامی کا پڑھ رہے ہیں سبق
الگ ہیں شہر کے اسکول اور نصاب الگ

چھپا رہا ہوں میں چہرے کو تیری دہشت سے
ترا نقاب الگ ہے ، مرا نقاب الگ


اسے بھی روک لیا، خود بھی چل نہیں رہا ہوں
سفر بھی کیا ہو کہ میں خود سنبھل نہیں رہا ہوں

کوئی چراغ مری جستجو میں جل رہا ہے
میں آفتاب ہوں لیکن نکل نہیں رہا ہوں

ہزاروں مشکلیں درپیش آ رہی ہیں مجھے
مگر یہ کم ہے کہ رستہ بدل نہیں رہا ہوں

مجھے چراغوں میں کرتا نہیں شمار کوئی
دھواں تو اٹھتا ہے لیکن میں جل نہیں رہا ہوں

یہ عشق میرے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے
نگل نہیں رہا ہوں میں ، اگل نہیں رہا ہوں


مری کہانی کے کردار سانس لیتے ہیں
میں سانس لوں تو مرے یار سانس لیتے ہیں

ہم ایک دشت میں دیتے ہیں زندگی کی نوید
ہمارے سینے میں آزار سانس لیتے ہیں

کبھی تو وقت کی گردش تھکا بھی دیتی ہے
سو تھام کرتری دیوار سانس لیتے ہیں

اکھڑنے لگتی ہیں سانسیں الجھ کے سانسوں سے
پھر اس کے بعد لگاتار سانس لیتے ہیں
یہ واہمے سے مرے دل میں بے سبب تو نہیں
تری خموشی میں انکار سانس لیتے ہیں

خطوط پھٹنے لگے مٹ گئی ہیں تحریریں
سنائی دیتے ہیں افکار سانس لیتے ہیں

کہانی کار نے انکار ہی دکھایاہے
تمام لفظوں میں اظہار سانس لیتے ہیں

جو چھو کے دیکھیے تو زندگی نہیں ملتی
زبیر کس لئے بیکار سانس لیتے ہیں



بے اختیار تھا ، ناقابلِ معافی تھا
مگر یہ ہجر ترے عشق کی تلافی تھا

قدیم لوگ محبت پہ جاں چھڑکتے تھے
نیا بیانیہ پہلے سے اختلافی تھا

تمام حرف ِدعا معتبر ہوئے لیکن
مگر وہ نقطہ جو میرے لیے اضافی تھا

تمام عمر بنا دیکھے سوچنا اُس کو
تمام عمر یہی ایک درد کافی تھا

ہم ایک دوری پہ کرتے رہے سفر قیصر
یہ دائرہ بھی ہمارے لیے طوافی تھا


ملے کچھ عشق میں اتنا قرار کم از کم
ہمارے چہروں پہ آئے نکھار کم از کم

سنائی دینے لگے اُس کی دھڑکنوں سے صدا
کسی سے اتناتو ہو ہم کو پیار کم از کم

ہم اپنے خواب کی تعبیر کچھ نکالیں کیا
کہ ایک لمحہ تو ہو پائیدار کم از کم

مرے چمن میں خزاں رکھ چکی قدم لیکن
مرے خیال کو ملتی بہار کم از کم
تمام عمر کی نقدی میں دیکھئے صاحب
دو چار لمحے تو ہوں خوش گوار کم از کم

چنی وہ راہ گزر جس طرف نہیں جانا
ہو اپنے دل پہ ہمیں اختیار کم سے کم

ہم اُس کی یاد کو رکھ کر سرھانے بیٹھے ہیں
کسی طرح تو کٹے انتظار کم از کم

اک آدھ شخص اذیت پسند ہے لیکن
تمھارا ہجر کرے اعتبار کم از کم

ایک شعر

ذرا سی دیر میں آنے کا کہہ گیا تھا کوئی
ذرا سی دیر بڑی دیر سے نہیں آئی


طنابِ ذات کسی ہاتھ میں جمی ہوئی ہے
کہ جیسے وقت کی دھڑکن یہیں رکی ہوئی ہے

تجھے روا نہیں پیغام وصل کے بھیجیں
لکیر ہجر کی جب ہاتھ پر بنی ہوئی ہے

ہر اک دراڑ بدن کی نمایاں ہوگئی ہے
کہانی درد کی دیوار پر لکھی ہوئی ہے

یونہی تو خواب ہمیں دشت کے نہیں آتے
ہماری آنکھ کہیں ریت میں دبی ہوئی ہے
وہ میرے ساتھ کسی دائرے میں چل رہا ہے
گھڑی کی تیسری سوئی مگر تھمی ہوئی ہے

وہ شخص فیصلہ کرکے گیا نہیں تاحال
کہ آنے والی قیامت ابھی ٹلی ہوئی ہے

وہ آئنے میں مگن، کچھ بھی دیکھتا نہیں ہے
میں کیا بتاؤں ، مری جان پر بنی ہوئی ہے

بدن میں عشق بھی ہلکورے لے رہا ہے زبیر
ہمارے سامنے رسی کوئی تنی ہوئی ہے

ایک شعر

کم نگاہی کی معذرت جاناں !
عشق تجھ سے بھی خوبصورت ہے


کہاں سے سیکھ کے آئی ہو تم اداکاری
تمھیں تو آتی نہیں تھی کوئی بھی فنکاری

مریض ِعشق کا احوال پوچھنے والو
ہٹو تمیں کہاں آتی ہے ہم سی دل داری

کہاں طریقہ تھا کچھ ہم میں بات کرنے کا
محبتوں نے سکھائی ہمیں وضع داری

کچھ اپنے فیصلوں پر ہم بھی غور کرتے ہیں
دکھاؤ تم بھی کہیں پر ذرا سمجھداری
ہمارے جیسے کئی سادہ دل جہاں بیٹھے
وہاں پہ دیکھنے والی تھی اس کی ہشیاری

کرے گا میری محبت کا اعتراف اک دن
اسی گمان میں گزری ہے زندگی ساری

بیاں وہ کر نے چلا اپنےدل کی کیفیت
مگریہ ضرب ہمیں پڑ رہی تھی یوں کاری

دھمال ڈال قلندر کی اک صد ا پر عشق
چمک رہی ہے ترے نام کی دکاں داری

تمام زخموں کے ٹانکے ادھڑ گئے مرے دوست
یہ رات گزری ہے اس دل پہ کس قدر بھاری

جنون ِ عشق ہواؤں میں لے اڑا لیکن
فضائے دل پہ رہا کوئی خوف بھی طاری

زبیر کون سی خواہش کا قتل ہو گیا تھا
کہ دل میں تھمتی نہیں ایک پل عزاداری


ذرا جو ہوتی کہیں خواہشِ نمو مجھ میں
تو سبزہ پھوٹنے لگنا تھا چار سو مجھ میں

میں جس کو ذات سے باہر تلاش کرتا ہوں
بھٹکتی پھر رہی ہے اب بھی کوبکو مجھ میں

میں جب بھی درد کی شدت سے ٹوٹ جاتا ہوں
تمھاری شکل ابھرتی ہے ہوبہو مجھ میں

ترے شکستہ ارادوں کو میں سنبھالوں گا
معاملہ کوئی ایسا اٹھا لے تو مجھ میں
میں پانیوں میں کہیں لاش بن کے بہتا ہوں
اور ایک خاک کا ریلہ ہے جوبجو مجھ میں

چھڑے گی جنگ تو ماروں گا سب سے پہلے اُسے
چھپا ہے آخری جو ایک صلح جو مجھ میں

رگوں سے خاک بہانی پڑے گی اب شاید
کہ ایک قطرہ بھی باقی نہیں لہو مجھ میں

ہزار فتنے اٹھانے لگے ہیں سر قیصر
نماز پڑھنے لگا کوئی بے وضو مجھ میں


نذرِ جون !

فرق پڑتا ہے تیری شان میں کیا
جان دے دیں تجھے لگان میں کیا

جاں کنی سے دلا نجات ہمیں
آخری تیر تھا کمان میں کیا

خاک اڑنے لگی زمینوں کی
جھانکتا ہے تُو آسمان میں کیا

کیوں ستاتا ہے تُو مرے دل کو
بددعا رکھ لوں میں زبان میں کیا

تیرے دل سے اترنے والے ہیں
ہم کرائے کے ہیں مکان میں کیا

تیری آنکھوں کو جانچنے کے لیے
خود کو رکھ لیں کسی دکان میں کیا


وعدہ دیا تھا اُس نے، نشانی تو تھی نہیں
یادوں پہ ہم نے فلم بنانی تو تھی نہیں

بس دیکھنا تھا میں نے ہتھیلی پہ ایک نام
ورنہ تمھاری شام چرانی تو تھی نہیں

کردار کی اذیتیں کچھ پوچھئے نہ بس
بے ربط تھیں لکیریں کہانی تو تھی نہیں

ہر ایک شخص کھوجنے میں تھا لگا ہوا
میں نے کسی کو بات بتانی تو تھی نہیں
کچھ وقت بس گزارنا تھا گھر کے صحن میں
دیوار جو گرائی اٹھانی تو تھی نہیں

اس سلسلے کو روکنا بھی اب یہیں پہ تھا
یہ بات ہم نے آگے چلانی تو تھی نہیں

مجنوں کے نام ایک علاقہ کیا رقم
صحرا کی خاک شہر میں لانی تو تھی نہیں

شہرت کسی کے غم کی ہوئی ہے عطا زبیر
عزت یہ شاعری سے کمانی تو تھی نہیں

ایک شعر

جتنا چھڑکا ہے تو نے زخموں پر
اتنا کھایا نہیں نمک تیرا


کسی کے ساتھ کھڑے تجھ کو دیکھنا تھامجھے
نجانے درد کہاں تک یہ جھیلنا تھا مجھے

تمھارے منہ سے سنی بات جب محبت کی
عجیب طرز کی حیرت کا سامنا تھا مجھے

چھڑا کے ہاتھ مرا جا رہی ہے تنہائی
تمھارے ہجر میں یہ دن بھی دیکھنا تھا مجھے

جو خواب دیکھ رہا ہوں وہ دیکھنا نہیں تھا
یہ سوچ ویسی نہیں ، جیسا سوچنا تھا مجھے

بدن کے ناپ پہ آئی نہ زندگی قیصر
جو سِل کے آیا وہ کُرتا، ادھیڑنا تھا مجھے


جو تیرا رنگ تھا، اس رنگ سے نہ کہہ پایا
میں دل کی بات کبھی ڈھنگ سے نہ کہہ پایا

کسی خیال میں ترتیب کوئی تھی ہی نہیں
سو شعر کوئی بھی آہنگ سے نہ کہہ پایا

برادری کے کسی فیصلے نے باندھ دیا
میں دل کی بات مری منگ سے نہ کہہ پایا

شہید ہونے سے پہلے اُسے بھی دیکھنا تھا
مگر یہ بات اسے جنگ سے،نہ کہہ پایا

عجیب سی کوئی خواہش تھی ٹوٹنے کی زبیر
میں آئینہ تھا مگر سنگ سے نہ کہہ پایا


سجا رہا ہے جو اب دل کے آئنے میں مجھے
وہ چھوڑ جائے گا اک روز راستے میں مجھے

بھلا کے اس کو میں سب کچھ ہی بھول بیٹھا تھا
سو اُس کو لانا پڑا پھر سے حافظے میں مجھے

طلسم ِشب میں گھلی جب حسیں بدن کی مہک
جدالگا تھا ترا لمس ذائقے میں مجھے

تو کیا ثبوت نہیں ہے چراغ ہونے کا
وہ شخص روز جلاتا ہے طاقچے میں مجھے

عجب خمار بدن کی حدوں میں اترا ، جب
وہ لڑکی شعر سناتی رہی مزے میں مجھے


سجایا گلشن ِ ہستی کو جن گلابوں نے
کیا ہے زرد مجھے ان کے سبز خوابوں نے

اٹھائی جا رہی ہیں انگلیاں بھی چاروں طرف
کئی سوال اٹھائے ترے جوابوں نے

تمھارے بعد بھی جاری ہیں امتحاں میرے
اکیلا چھوڑا نہیں عمر بھر عذابوں نے

اٹے ہوئے ہیں اسی دھول میں یہ شام و سحر
مجھے سفر میں رکھا ہے ترے سرابوں نے

میں چاہتا ہوں تری ذات میں اتر جاؤں
مگرپڑا ہوا ہوں جانے کن حجا بوں میں


ہر ایک آنکھ میں بستے نہیں ہیں ہم لوگو
اب اس قدر بھی تو سستے نہیں ہیں ہم لوگو

کسی کو شک ہے تو رکھے وہ آستیں میں ہمیں
کہ دودھ پی کے تو ڈستے نہیں ہیں ہم لوگو

نکل پڑے ہیں ، کہیں بھی ہمیں نہیں جانا
چلو نہ ساتھ کہ رستے نہیں ہیں ہم لوگو

ہے دنیا ایک تماشہ ، کسی مداری کا
یہ اور بات کہ ہنستے نہیں ہیں ہم لوگو

کوئی تو وصف زمانے سے ہے جدا اُس میں
بلاجواز برستے نہیں ہیں ہم لوگو


دکھائی دے تو رہےہیں ابھی قطار میں ہیں
مگر یہ لوگ کسی اور انتظار میں ہیں

طنابیں کھینچ رہا ہے کوئی پسِ پردہ
بڑے سکون سے یہ لوگ انتشار میں ہیں

یہ اہل ِ ہجر کسی سے شکست کیا کھائیں
کہ ٹوٹ پھوٹ چکے ہیں مگر وقار میں ہیں

وہ شخص یونہی سہولت سے بات کرتا ہے
تمھارے جیسے کئی لوگ خلفشار میں ہیں

ذرا سا زاویہ بدلا ہے اس کی آنکھوں نے
جو بے قرار تھے وہ لوگ اب قرار میں ہیں


میں کیسے جھیل سکوں گا بنانے والے کا دکھ
جھری جھری پہ لکھا ہے لگانے والے کا دکھ

غضب کی آنکھ اداکار تھی ، مگر ہائے!
تمھاری بات ہنسی میں اڑانے والے کا دکھ

غزل میں درد کی پہلے بھی کچھ کمی نہیں تھی
اور اُس پہ ہو گیا شامل سنانے والے کا دکھ

تجھے تو دکھ ہے فقط اپنی لامکانی کا
قیام کر تو کھلے گا ٹھکانے والے کا دکھ
بدن کے چیتھڑے اڑتے کہیں ہواؤں میں
سنانے والے سے کم تھا چھپانے والے کا دکھ

زمانے عشق کی تفہیم تو ذرا کرنا!
بے روزگار بتائے، کمانے والے کا دکھ!

گرانے والے کے احساس میں نہیں قیصر
یہ آسماں کو زمیں پر اٹھانے والے کا دکھ

ایک شعر

ہمارے شہر میں شاید ہوں منتظر آنکھیں
سو خواب رکھے ہیں دیوارِ مہربانی پر



الگ میں سب سے،کہانی بھی ہے الگ سب سے
سو مجھ کو خاک اڑانی بھی ہے الگ سب سے

بدن سے روح نکل کر سما گئی تجھ میں
مری یہ نقل مکانی بھی ہے الگ سے سب

سمندروں میں نہیں دشت کی طرف اترا
یہ میری آنکھوں کا پانی، بھی ہے الگ سب سے

ملا ہے دردِ محبت بھی اک زمانے کے بعد
مجھے خوشی یہ منانی بھی ہے الگ سب سے

ذرا سا خواب کو توڑا، خراش ڈال گیا
کہ آنکھ میں وہ نشانی بھی ہے الگ سب سے


وہی تھی کل بھی پسند اور وہی ہے آج پسند
الگ مزاج ہے میرا، الگ مزاج پسند

میں کیا کروں کہ مری سوچ مختلف ہے بہت
میں کیا کروں مجھے آیا نہیں سماج پسند

میں اپنی راہ نکالوں گا اپنی مرضی سے
مجھے نہیں ہیں زمانے، ترے رواج پسند

یہ میرا دل ، مری آنکھیں ، یہ میرے خواب عذاب
اٹھا اے عشق تجھے جو بھی ہے خراج پسند

محاذِ عشق پہ خود ہی شکست مانی ہے
زبیر دل پہ ہوا ہے کسی کا راج پسند


نہ کوئی دھول نہ منزل نہ راستہ دل کا
نظر سے پار کہیں دور سلسلہ دل کا

مرے دماغ نے مجھ کو جگا دیا لیکن
اُس ایک خواب میں چہرہ ہی رہ گیا دل کا

ایام تلخ ہیں مجھ کو سمجھ نہیں آتا
کہ درد کوئی بتائے گا ذائقہ دل کا

یہ رات کون مرے ساتھ جاگتا رہا ہے
یہ رات کس سے ہوا ہے مکالمہ دل کا

ہر ایک سمت عزاداریاں ہوئیں قیصر
کیا جو ہے میں نے جو برپا مسالمہ دل کا


میں دیکھتا ہوں وہ جتنا دکھائی دیتا ہے
پھر اس کے بعد برابر سنائی دیتا ہے

وہ سب سے پہلے بلاتا ہے بزم میں مجھ کو
کسی بھی درد کو جب رونمائی دیتا ہے

وہ دیکھتا نہیں لیکن وہ دیکھ لیتا ہے
وہ بولتا نہیں لیکن سنائی دیتا ہے

اُسے خبر ہے کہ شدت میں کون تڑپے گا
وہ باوفا ہے مگر بے وفائی دیتا ہے

وہ اپنی مرضی سے کرتا ہے وقت کی تقسیم
گھڑی کسی کو، کسی کو کلائی دیتا ہے

تمام شہر سے رکھاہے اس نے ربط زبیر
کسی کو وصل ، کسی کو جدائی دیتا ہے


وفا کے جرم میں اکثر پکارے جاتے ہیں
ہم اہل ِ عشق ، محبت میں مارے جاتے ہیں

ہماری لاش تو گرتی ہے جنگ لڑتے ہوئے
مگر جو پیٹھ پہ برچھے اُتارے جاتے ہیں

عمامہ سجتا ہے آخر امیرِ شہر کے سر
ہمارے جیسے عقیدت میں وارے جاتے ہیں

میں روک سکتا نہیں خاک کو بکھرنے سے
سمندروں کی طرف چل کے دھارے جاتے ہیں

بھلے ہو کارِ محبت یا کارِدنیا زبیر
ہمارے ساتھ ہمیشہ خسارے جاتے ہیں


کہاں سے لاتا ادائیں وہ لڑکیوں جیسی
سو آئینے میں بھی حیرت ہے پتلیوں جیسی

ہمارے بیچ اٹھائی ہے وقت نے دیوار
میں جگنوں کی طرح ہوں ، وہ تتلیوں جیسی

اور اس کے بعد کا موسم بیان سے باہر ہے
میں دھوپ سرد دنوں کی، وہ کھڑکیوں جیسی

ہوا بھی چلتی ہوئی اورچراغ جلتا ہوا
وہ بولتی ہوئی ،آواز تلخیوں جیسی

وہ لڑکی میری گلی سے گزر رہی ہے زبیر
مہک سی آنے لگی ہے چنبیلیوں جیسی


میں عشق عشق کی گردان میں پڑا ہوا تھا
پرانا جسم کہ سامان میں پڑا ہوا تھا

تمھارے ساتھ کئی دن گزارنے کے بعد
خیال رات کو دالان میں پڑا ہوا تھا

ہمارے مسئلے سارے نمٹ چکے تھے مگر
معاملہ کوئی تاوان میں پڑا ہوا تھا

میں ساری رات اسی کشمکش میں سو نہ سکا
نظارا دن کا بیابان میں پڑا ہوا تھا
قلم نے تیرے ہی اعزاز میں کہا ہوا ہے
قصیدا لکھا تری شان میں پڑا ہوا تھا

تمام کرسیاں تو بچ گئیں ہیں بارش سے
مگر وہ صوفہ جو اک لان میں پڑا ہوا تھا

تباہی کو بھی کسی سے نبھاہ کرنا تھا
ہمارا پاؤں ہی طوفان میں پڑا ہوا تھا

وہاں مکان بنانے کا ہے ارادہ مرا
پلاٹ ایک جو مردان میں پڑا ہوا تھا

معاملات کئی اور زندگی کے تھے
جو فائدہ تھا وہ نقصان میں پڑا ہوا تھا

ہزار مشکلیں جھیلیں مگر زبیر اب بھی
عجیب رخنہ مری جان میں پڑا ہوا تھا



عجیب دکھ تھا کہ اقرار ہو نہیں رہا تھا
میں چپ رہا تھا کہ انکار ہو نہیں رہا تھا

مری اور اس کی محبت کا ذکر تھا جس میں
میں اس کہانی کا کردار ہو نہیں رہا تھا

کسی کی ہلکی سی مسکان سے سلگتا دل
وہ آئنہ تھا جو دیوار ہو نہیں رہا تھا

غضب کی دھوپ تھی سلگا رہی تھی جسم وجاں
سروں پہ سایہ ء دیوار ہو نہیں رہا تھا
طبیب ِ عشق تو سب ہاتھ مل رہے تھے مگر
کسی کا حسن کہ بیمار ہو نہیں رہا تھا

تمام نقش اتارے گئے تھے پانی پر
پہ صاف دل سے وہ زنگار ہو نہیں رہا تھا

بھری ہے عشق نےجیبوں میں سانس کی نقدی
یہ کاروبار بھی بیکار ہو نہیں رہا تھا

غزل کی آنکھ میں تھے رتجگے زمانوں کے
خیال، خواب سے بیدار ہو نہیں رہا تھا

کھلونے توڑنے اور جوڑنے میں ہی لگا ہے
یہ دل ہمارا سمجھدار ہو نہیں رہا تھا

نبھا رہے تھے سبھی شور کی ادا کاری
خموش ایک بھی فنکار ہو نہیں رہا تھا

کوئی ہنسی تھی کہ دل ڈولنے لگا تھا زبیرؔ
وہ ایک اشک جو پتوار ہو نہیں رہا تھا


قطعات

شکستہ خواب مرے آئینے میں رکھے ہیں
یہ سب عذاب مرے آئینے میں رکھے ہیں
ابھی توعشق کی پرتیں کھلیں گی تہہ در تہہ
ابھی حجاب مرے آئینے میں رکھے ہیں

دل کے بہلانے کو سامان بہت رکھا ہے
ہاں مگر عشق میں نقصان بہت رکھا ہے
اب یہ بہتر ہے انہیں اور کوئی گھر لے دوں
تیرے دکھ درد کو مہمان بہت رکھا ہے
کسی لڑائی کا میں کیسے بن گیا ایندھن
کہ میں خدا کی طرف تھا نہ آدمی کی طرف
سحر سے دو ہی قدم پہلے میرا دم ٹوٹا
مجھے اندھیرے سے جانا تھاروشنی کی طرف

نگار خانہ ء ہستی میں رقص جاری ہے
تمھارے عشق کی مستی میں رقص جاری ہے
یہ سارے لوگ محبت کے لوگ ہیں صاحب
تری گلی ، مری بستی میں رقص جاری ہے



فردیات

اس شہرِبے مثال میں بس مجھ کو چھوڑ کر
ہر شخص لاجواب ہے ہر شخص باکمال

اپنی پوشاک ہی میں رہتا ہوں
خاک ہوں، خاک ہی میں رہتا ہوں

کٹ گئی عمر تو سمجھ آیا
عشق حاصل ہے ، آپ لاحاصل

چوم بیٹھا ہوں تیری آنکھوں کو
اب ترے خواب دیکھتے ہیں مجھے

کچھ اس لیے بھی دبے پاؤں چل رہا ہوں میں
تعلقات کی سڑکیں نئی نئی ہیں ابھی
کچھ اس لیے بھی مسلسل سفر میں رہتا ہوں
یہ واپسی کی تھکن مجھ کو مار ڈالے گی

اُس ایک شخص کے ہنسنے سے کام چلتا ہے
ہمارے شہر میں پھولوں کی اک دکان نہیں

تمھاری نظم کی شوخی ، سمجھ نہ پائے گی !
ہمارے شعروں میں سمٹی ہوئی اداسی کو

حملہ آور تھے کتنے درد مگر
ضبط کا مورچہ نہیں چھوڑا

یہ اور بات غلامی قبول کی تیری
ہمارے سامنے رکھی تھی حکمرانی بھی

کون زندہ ہے کون مر گیا ہے
سانس لینے سے طے نہیں ہوگا

جبین چوم کے اُس نے مجھے روانہ کیا
اب اس کے بعد تو بنتا ہے عمر بھر کا سفر

تمت بالخیر

Viewers: 726
Share