Amazing Eid Poetry | مختلف شعراء کے ہاں عید کی خوشگوار شاعری

محترم قارئین ۔۔۔ السلام علیکم۔ دنیائے شعر میں بہت سے موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ شاعر جہاں دکھوں، محرومیوں اور سماجی اضطراب کو ضابطہءِ شعر میں لاتا ہے، وہاں […]

محترم قارئین ۔۔۔ السلام علیکم۔
دنیائے شعر میں بہت سے موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ شاعر جہاں دکھوں، محرومیوں اور سماجی اضطراب کو ضابطہءِ شعر میں لاتا ہے، وہاں خوشی، امید اور تمنائوں کو بھی خوبصورت لفظوں کا پیرہن دے کر قارئین کے سامنے رکھتا ہے۔ خوشیوں بھرے دیگر تہوار بالخصوص عیدجیسا موقع اردو ادب میں کیسے نظر انداز کیا جا سکتا تھا۔ زمانہ قدیم سے عصرِ نو تک شاعروں نے عید کے خوشی آمیز موضوع کو مختلف زاویوں سے جزوِ ادب کیا۔ کسی نے عید کو امید، کسی نے انتظار، کسی نے مایوسی تو کسی نے ملاقات کے جواز کے طور پر اپنے سخن کا حصہ بنایا۔ آئیے مختلف شعراء کے ہاں عید سے متعلقہ شعر تلاش کرتے ہیں اور اپنی عید کو ان مختلف خیالات کے تحت دیکھتے ہیں۔

قمر بدایونی
عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالم
رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے

ظفر اقبال
تجھ کو میری نہ مجھے تیری خبر جائے گی
عید اب کے بھی دبے پاؤں گزر جائے گی

دیا جیم
عمر تیرے بغیر گزری ہے
بیت جائے گا عید کا دن بھی

امجد اسلام امجد
جس طرف تو ہے ادھر ہوں گی سبھی کی نظریں
عید کے چاند کا دیدار بہانہ ہی سہی

ابرار حسین اکبر
کدی یار میں تیری دید کراں
میرا دل ہے میں وی عید کراں

دلاور علی آزر
اس سے ملنا تو اسے عید مبارک کہنا
یہ بھی کہنا کہ مری عید مبارک کر دے

مصحفی غلام ہمدانی
وعدوں ہی پہ ہر روز مری جان نہ ٹالو
ہے عید کا دن اب تو گلے ہم کو لگا لو

صغیر احمد صغیر
میں اب کے سال اپنے گاؤں عید پر نہیں گیا
وہ شدتوں سے منتظر کبھی جو تھی، نہیں رہی

عابد کمالوی
لوگ کہتے ہیں عید کارڈ جسے
یہ تو اک رسم ہے زمانے کی
ایک دستک ہے ان کے ذہنوں پر
جن کو عادت ہے بھول جانے کی

اسلم کولسری
عید کا دن ہے سو کمرے میں پڑا ہوں اسلمؔ
اپنے دروازے کو باہر سے مقفل کر کے

جلیل نظامی
ماہ نو دیکھنے تم چھت پہ نہ جانا ہرگز
شہر میں عید کی تاریخ بدل جائے گی

زبیر قیصر
کہہ دیا عید مبارک اس نے
اور مری عید مبارک کر دی

پروین شاکر
گل نہ ہوگا تو جشن خوشبو کیا
تم نہ ہوگے تو عید کیا ہوگی

منیر نیازی
آج کے دن صاف ہوجاتا ہے دل اغیار کا
آؤ مل لو عید یہ موقع نہیں تکرار کا

عرفان محمود عُرفی
ٹوٹنے کو ہے آنکھ کا روزہ
نظر آؤ کہ عید ہو جائے

امیر مینائی
نصیب جن کو تیرے رخ کی دید ہوتی ہے
وہ خوش نصیب ہیں خوب انکی عید ہوتی ہے

جاوید ڈینی ایل
یہی اُمید ہو جائے تمہاری دید ہو جائے
کبھی جاوید ؔ آئے تو ہماری عید ہو جائے

خواجہ حیدر علی آتش
ہر شب ، شب ِبرات ہے، ہرروز عید ہے
سوتا ہوں ہاتھ گردن ِ مِینا میں ڈال کر

ساغر صدیقی
چاک دامن کو جو دیکھا تو ملا عید کا چاند
اپنی تقدیر کہاں بھول گیا عید کا چاند
ان کے ابروئے خمیدہ کی طرح تیکھا ہے
اپنی آنکھوں میں بڑی دیر چبھا، عید کا چاند

مظہر نیازی
اس بار عید خوف کے مارے منائیں گے
اک دوسرے کو کیسے گلے سے لگائیں گے

بہادرشاہ ظفر
سب لوگ دیکھتے ہیں کھڑے چاند عید کا
مشتاق ہوں میں رشک قمر تیری دید کا

فیصل امام رضوی
جانے کس کس سے ملا، کتنا وہ مصروف رہا
عید پر اُس نے مجھے عید مبارک نہ کہا

علیم بابر
ہجر میں عید کے دن یاد کے منظر جاگے
تم جو آئے مرے خوابیدہ مقدر جاگے

میر تقی میر
ہم نشیں کیا کہوں اس رشکِ مہِ تاباں بِن​
صبحِ عید اپنی ہے بدتر شبِ ماتم سے بھی​
​—
یاسین یاس
اس کی عید نہ جانے کیسے گذرے گی
جس کے چاند نے چھت پہ آنا چھوڑ دیا

اسد رضا سحر
اُن سے ملن کی آس نہ کوئی نوید ہے
ہم سوختہ دلوں کی سحر کیسی عیدہے

غالب
علاوہ عید کے ملتی ہے اور دن بھی شراب
گدائے کُوچۂ مے خانہ نامراد نہیں

عبدالعزیز قائم
عید آئی تھی تم نہیں تھے اور
خوب رویا تھا عید پڑھ کر میں
پہلے بچوں میں بھوک بانٹی تھی
اور سویا تھا عید پڑھ کر میں

علامہ اقبال
پیامِ عیش و مسرّت ہمیں سنا تا ہے
ہلالِ عید ہماری ہنسی اڑاتا ہے

شہزاد ملک
اس عید پہ گر وہ نہ آیا
رہ تکتی آنکھیں کیا ہوں گی

فیض احمد فیض
دل دکھا ہے نہ وہ پہلا سا نہ جاں تڑپی ہے
ہم ہی غافل تھے کہ آئی ہی نہیں عید اب کے
اور
خود تو آیا نہیں اور عید چلی آئی ہے
عید کے روز مجھے یوں نہ ستائے کوئی

احمد ندیم قاسمی
عید کا دن ہے فضا میں گونجتے ہیں قہقہے
جھولتی ہیں لڑکیاں جھولوں پہ گاتی ہیں ملہار
میرا جھولا جس سے ہیں لپٹے ہوئے سرسوں کے پھول
دیکھتا ہے ایک نکڑ کو لپک کر بار بار

مزمل سجاد جعفری
آنکھوں میں ٹمٹماتی جھلک ہے امید کی
دل میں بھی دیپ جلتے ہیں بے جان عید پر
سب کو دعا دی، سب سے بغل گیر بھی ہوئے
لیکن رہے سبھی سے ہی انجان عید پر

احمد جہاں گیر
اٹّھی تھی حج کے باغ سے اک سوگ وار عید
غُل ہے کہ جا کے دشتِ محرّم میں مر گئی
بلال جعفری
آج میری بھی عید ہو جاتی
تم اگر مجھ سے ملنے آجاتے

افتخار شاہد
لوٹ آ ئو کہ عید کا دن ہے
مان جائو کہ عید کا دن ہے
ایک لمحے کو بھول کر تلخی
مسکرا ئو کہ عید کا دن ہے

عابد علیم سہو
مجھے واللہ تمہاری دید ہو جائے
میسر پھر عیدِ سعید ہو جائے

ہمایوں کامران
نجانے کتنی ہی عیدیں ترے بغیر گئیں
اداسیوں کا یہ موسم کوئی نیا تو نہیں

شفیق آصف
جو ہمیشہ رتجگوں میں ساتھ رہتا تھا مِرے
بن گیا ہے چاند آصف اِن دنوں وہ عید کا

فوزیہ شیخ
جس کو مانگا ھے طاق راتوں میں
ملنے آ ئے تو عید ہو جا ئے
تیس روزوں کا یوں ثمر دے دے
آنکھ کھولوں تو دید ہو جا ئے

پـرویـز سـاحِـرؔ
مســـــــــــکراتے ہُوئے جس دَم وہ مِلا ‘ عید کے دِن
کُنج ِ دِل میں مِرے اِک پُھـــــــول کِھلا ‘ عید کے دن
کیــا خبر کل تُجھے کس بات پَہ رونا پڑ جـــــــــائے
خُوب جی بھر کے تُو خُوش ہو لے دِلا! عید کے دن

وقار احمد وقار
کرونا کے ڈر سے وہ نکلا نہ باہر
بغیر اُس کو دیکھے بھلا عید ہوگی

عتیق الرحمٰن صفی
کل رویتِ ہلال کی تردید ہو گئی
پر آ گئے وہ سامنے تو عید ہو گئی

فضل خان مروت
عید پہ چھٹی نہ مجھ کو مل سکی اس بار بھی
ماں دعاؤں سے میرے رستے سجاتی رہ گئی

اقبال طارق
عید ہے عید کی تمنا ہے
یار کب دید کی تمنا ہے

زہرا بتول
گذرے لمحے جو درمیاں دید کے تھے
جانِ جاں دن وہی مری عید کے تھے

احمد نعیم ارشد
غربت ایک چڑیل ہے اپنی بستی میں
جِس کی ہر تہوار پہ آنکھیں ہوتی ہیں

علی حسن
آج تو ضبط کو لمحے میں ہرا دیتا تُو
عید نہ ملتا مگر ہاتھ ملا لیتا تُو


شہزاد بیگ
عید کا چاند دیکھ کر شہزاد
دیر تک محوِ اضطراب رہا

ایمان قیصرانی
دل کے موسم تری تردید بھی کر سکتے ہیں
آپ مجھ سے کوئی امید بھی کر سکتے ہیں
چاند کے ساتھ نہ دیکھیں تیری صورت تو بتا !
تجھ کو لگتا ہے کہ ہم عید بھی کر سکتے ہیں؟

بچھڑوں نے جب ملنا نہیں پھر عید کیا تہوار کیا ؟
پھر دیس کیا پردیس کیا پھر دشت کیا گھر بار کیا ؟
ساحل پہ میرا منتظر کوئی نہیں ہے جب تو پھر
پتوار کیا منجدھار کیا ، اِس پار کیا اُس پار کیا؟

محمد ممتاز راشد لاہوری
بھولتی ہی نہیں وہ عید مجھے
جو گزاری تھی تیرے ساتھ کبھی

ڈاکٹر قمر خان نیازی
کجا ایسٹر و بسنت و نغمہِ بُلبل و رنگین شب راتیں
عید و دعا ھے اب کہ، نہ کہیں کوئی دیوالی ھے
رِند و واعظ ھے نہ رنگینیِ ساغر و مئےوساقی
ویرانیِ شہرِ چمن ہائےقمر دھلیزِ رُوح پہ طاری ھے

اسامہ
زمانہ کہہ رہا ہے عید ہے یہ
تمہارے بن محرم لگ رہا ہے

روپہلی اعوان
اب عید بھی گزرے گی تنہائی میں
اس وبا نے تو رونق ہی چھین لی

ناصر ملک

روزہ کھلتا نہیں مگر مزدور
عید کا دن گزار دیتا ہے

مسکرایا نہ جا سکا پھر بھی
ہر خوشی عید کی منا لی ہے

خاموش در و بام کو سینے سے لگا کر
اِس بار بھی پہلے کی طرح عید منائی

کس قدر دور ہو گئے مجھ سے
عید کی شوخ ساعتیں اور تم

اے اُجڑے ہوئے لوگو! دُکھ درد سمیٹو بھی
خوش ملنا ضروری ہے جب عید منانی ہے

Viewers: 618
Share