ڈاکٹر شہناز مزمل کا نعتیہ مجموعہ ۔۔۔ ثنائے عشق

ISBN : 978 969 743 009 3

حمد، نعت مبارکہ، سلام و منقبت

ثنائے عشق
(گل رنگ مجموعہءِ عقیدت)

ڈاکٹر شہناز مزمل

ثنائے عشق
ڈاکٹر شہناز مُزِّملؔ
125۔ ایف، ماڈل ٹائون، لاہور۔ (پنجاب۔ پاکستان)
رابطہ فون: 0300-4275692

استحقاق:تمام تصرفات ’’ڈاکٹر شہناز مُزَّمِلؔ‘‘کی تحویل میں ہیں
ناشر: اردو سخن پاکستان و ادب سرائے پبلیکیشن لاہور
نمودِ اول: جون 2020ء

کمپوزنگ: محمد شہریار ناصر
تدوین و تزئین:میاں وقار الاسلام
اہتمام/سرورق: ناصر ملک
طباعت: شیرِ ربانی پریس، ملتان
ہدیہ: 300 روپے

— ئ —
ڈاکٹر شہناز مزملؔ کی ادبی مسافت
چیئر پرسن ؛ ادب سرائے انٹر نیشنل لاہور —مادرِ دبستانِ ادب لاہور

ڈاکٹر شہنازمُزَّمِلؔ کی تخلیقات و تحقیقات:
1۔ ابتدائے عشق 2۔عشق تماشا ( مجموعہءِ کلام)
3۔عشق مسافت 4۔عشقِ مسلسل ( مجموعہءِ کلام)
5۔عشق دا دیوا (پنجابی مجموعہءِ کلام)
6۔عشق دا بھانبھڑ ( پنجابی مجموعہءِ کلام)
7۔عشقِ کل 8۔انتہائے عشق ( مجموعہءِ کلام)
9۔نورِ کل (مجموعہ کلام)
10۔جادہ ءِ عرفاں ( مجموعہءِ کلام)
11۔بعد تیرے 12۔قرضِ وفا ( مجموعہءِ کلام)
13۔میرے خواب ادھورے ہیں 14۔موم کے سائباں ( مجموعہءِ کلام)
15۔جراتِ اظہار 16۔جذب و حروف ( مجموعہءِ کلام)
17۔پیامِ نو 18۔ عکس ِ دیوار پہ تصویر (مجموعہءِ کلام)
19۔شہنازمُزَّمِلؔ کے منتخب اشعار (انتخابِ شعر)
20۔کھلتی کلیاں مہکتے پھول (مجموعہ کلام)
21۔Ten poets of today (تحقیق)
22۔قرآن پاک کا منظوم مفہوم (تحقیق)
23۔کتابیاتِ اقبال (تحقیق)
24۔کتابیات مقالہ جات (تحقیق)
25۔لائبریریوں کا شہر لاہور (تحقیق)
26۔فروغِ مطالعہ کے بنیادی کردار (تحقیق)
27۔عکس ِ خیال (مضامین کا مجموعہ)
28۔دوستی کا سفر (سفر نامہ)
29۔نماز (بچوں کے لیے)
30۔منتہائے عشق کلیاتِ شہنازمُزَّمِلؔ (غزلیات)
31۔ندائے عشق کلیاتِ شہنازمُزَّمِلؔ (نظمیات)
32۔کلیاتِ شہنازمُزَّمِلؔ (ادبِ اطفال)
33۔کلیاتِ شہنازمُزَّمِلؔ (پنجابی کلام)
34۔کلیاتِ عشق (تصوف)
35۔سفرِ عشق (سفرنامہ ءِ حرمین شریفین و جدہ)
36۔اجلا کون میلا کون (کالموں کا مجموعہ)
37۔بریف کیس (کہانیاں)
38۔ عشقِ مزمل مجموعہ ءِ نعتِ مبارکہ (کلام)
38۔ متاعِ عشق حمد، نعت و مدحتِ اہلِ بیت (کلام)
39۔ رمزِ عشق مجموعہءِ نعتِ مبارکہ (کلام)
40۔ ثنائے عشق حمد، نعت و منقبت (کلام)
برقی کتب:
1۔ تلاشِ حق
2۔ تلاشِ نور
3۔ تلاشِ شفا
4۔ تلاشِ جذب
ڈاکٹر شہنازمُزَّمِلؔ پر کیا جانے والاتحقیقی کام:
1۔عکسِ خیال؛ شہنازمُزَّمِلؔ ایک تعارف نعمانہ فاروق
2۔مثل ِ کلیات شاعری: ڈاکٹر شہنازمُزَّمِلؔ میاں وقار الاسلام
3۔شخصیت و فن؛ شہنازمُزَّمِلؔ(اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور) صدف رانی
4۔شہنازمُزَّمِلؔ کے سفر نامے ’’دوستی کا سفر’’ کا تجزیاتی مطالعہ (جی پی جی سی ، سمن آباد لاہور) ثنا خاور
5۔شہنازمُزَّمِلؔ کی شاعری کے مطالعات(پنجاب یونیورسٹی لاہور) مقدس ستار
6۔شہنازمُزَّمِلؔ کی اردو غزل اور نظم کا فکری و فنی مطالعہ(منہاج یونیورسٹی، لاہور) حنا نعمان

ڈاکٹر شہنازمُزَّمِلؔ کے لیے اعترافِ کمالِ فن:
1۔ ادب سرائے انٹرنیشنل پورٹ فولیو 2018ء
2۔ بک اینڈ پبلی کیشنز 2018ء
3۔ ایوارڈ اینڈ سرٹیفیکیٹس 2018ء
4۔ پریس اینڈ میڈیا 2018ء
5۔ پروگرامز اینڈ ایونٹس 2018ء

www.adabsaraae.com
www.shahnazmuzammil.com

انتساب

ثنا خوان ِ احمدِ مرسلؐ کی ثنا
محمد صلّے علیٰ کے نام

 

لاہوت کا مسافر

لاہوت کی لگن عاشق کو مجنوں بنا دیتی ہے اور چین سے نہیں بیٹھنے دیتی۔ اور پھر عاشق جب دنیا و مافیہا سے بے خبر انہی کا ہو جائے، تو سب کچھ بے معنی نظر آتا ہے۔ جادہءِ عرفاں پہ سفر کر کے نورِ کل کا رستہ ملا اور عشق تماشا شروع ہو گیا۔ عرفان کی ڈگڈگی بجتی رہی جس میں مدہوش عاشق کی رسائی عشقِ مزمل تک کروا دی اور پھر رمزِ عشق کی سمجھ آئی تو متاعِ عشق نے کشکولِ گدائی تھما دیا۔ اوردل پکارا کہ
ہم نے تو تیرے عشق میں کیا کیا نہیں پایا
پہلے تو تیرے عشق تماشے نے نچایا
کشکولِ گدائی کا لیے ہاتھ میں نکلی
اندر کے قلندر نے بہت شور مچایا
اور اس کے شور میں سر کو دھنتی جذب و مستی میں کھو گئی۔ لاہوت تک پہنچنا بہت مشکل کام ہے۔ اس کے لیے ثنائے عشق کی سیڑھی پر چڑھنا پڑا جو عطائے عشق کا باعث بنے اور منزلیں طے ہوتی چلی جائیں۔
عاشق کی زباں پر ہے ہر وقت ثنا کن کی
مشہود کو ، شاہد کو ملتی ہے صدا کن کی
کر لیتا ہے طے عارف جب جادہءِ عرفاں تو
لاہوت پہ جا کر ہی آتی ہے صدا کن کی
اب یہ ثنائے عشق کس طرح لاہوت تک پہنچاتی ہے، اس کی منتظر ہوں۔ عطائے عشق کا نزول جاری ہے اور شاید اس سے منزل کا کچھ تعین ہو سکے اور مسافر اپنی منزلِ مقصود پا سکے۔
دعائوں کی طالب ہوں۔
دعا گو:
ڈاکٹر شہناز مزملؔ
ادب سرائے، 125۔ایف، ماڈل ٹائون، لاہور
فون: 0300-4275692

حمداتِ باری تعالیٰ

— ئ —

نبیؐ تیرا رب ہے غفور الرحیم
بلاوجہ کب دے عذابِ علیم

نہیں شک کہ چن لیتا ہے بندوں کو
دکھاتا ہے سب کو رہِ مستقیم

ہے کب عمر اور بانجھ پن کی بھی قید
وہ جب چاہے بخشے غلام العلیم
کوئی لاعلاج اور لاچار ہو
شفااس کو دیتا رحیم و کریم

نشانی ہے شہناؔز ہر چیز میں
اگر آپ رکھتے ہیں عقلِ سلیم

— ئ —
درود پڑھ کے سکوں دل کو تو مل جاتاہے
مگر ہم عشقِ محمد دکھا نہیں سکتے

— ئ —

مجھے ہے کس لیے بھیجا گیا یہاں مولا
مجھے تواپنابھی ملتانہیں نشاں مولا

اگر کبھی مجھے اپنا سراغ مل جائے
جو مجھ پہ ہوگا عیاں پھر نہ ہو نہاں مولا

جو دیکھوں یار کا جلوہ تو چھلکے پیمانہ
ہے چشمِ شوق نے دیکھا نیا جہاں مولا
نہیں ہے خواہش ِ دنیا کہ اس میں کھوجائوں
دوبارہ پاؤں گی خود کو بھلا کہاں مولا

رہے گی کیسے یہ شہناؔز تجھ سے دور بھلا
یقین بھی ہے مرا اور ہے گُماں مولا

— ئ —

ڈھونڈتے پھرتے ہیں تجھ کو تو ہے ہر جا کو بہ کو
لاکھ پردوں میں نہاں ہے پھر بھی ظاہر ہو بہو

الرحیمُ الخبیرُ العظیمُ الودود
عشق میں ہو کر فنا مٹ جائے فرقِ ما و تو

جانتی ہوں تیرے کُن کہنے سے دنیا بن گئی
پھر بھی جانے ہر گھڑی رہتی تری کیوں جستجو
کیا کثافت دھل کے میری کر دے گی مجھ کو لطیف
سامنا کیسے کروں گی کیسے ہوں گی رو برو؟

لب کشائی کی نہی جرات مجھے شہناؔز اب
لفظ ہیں خاموش میرے کیا کروں گی گفتگو

— ئ —

قدر کی شب میں ہےہر سو نور کا ڈیرہ لگا
سب ملائک کا زمیں پر آ ج ہے پھیرا لگا

رک گئی گردش زمیں کی عرش ساکت ہو گیا
دیکھا جلوہ قدر کا تو وقت بھی ٹھہرا لگا

معتکف جتنے بھی تھے سب کی جبینیں خم ہو ئیں
رقص ِ بسمل بھی ہوا انوار کا گھیرا لگا
چاند تاروں نے بنائی کہکشاں افلاک پر
عشق پر ہے حسن کا کتنا حسیں پہرا لگا

لب پہ ہے شہناؔز سب کے الوھابُ الرحیم
یا ودودُ میں چھپا معبود کا چہرہ لگا

— ئ —
شب ِ جائزہ

نور ہی نور ہے یہ شب ِ جائزہ
یہ ہے رب کی عطا آ رہی ہے ندا

آخری شب ہے رمضان کی مومنو!
لوٹ لو رحمتیں بانٹے رب العُلٰی

عید کے سلسلے میں جو ہے کھو گیا
فیض اس شب کاکب ہے اسے مل سکا
عرش پہ شور دیکھو یہ کیسا مچا
مانگنے والوں کا ایک تانتا بندھا

جس نے شہناؔز اس رات کو پا لیا
رب کو پانے کا افضل ہے یہ راستہ

— ئ —
ربِ مامتا

خدا جو مامتا خود ہے
دعا کی انتہا خود ہے

اسے جب بھی پکارا ہے
جواباً دی صدا خود ہے

غلط جانا ہے ہم نے یہ
غلط مانا ہے ہم نے یہ

ہماری ناروائی پر
ہماری بے وفائی پر
ہمیں رستے میں چھوڑے گا
وہ ہم سے ناتا توڑے گا

نہیں ایسا نہیں ہوتا
کبھی ایسا نہیں دیکھا

ہو بچہ ضد پہ آ مادہ
تو ماں مارے اسے زیادہ

تحمل سے ہے سمجھاتی
گلے سے اس کو لپٹاتی

اسے کھانے کو کچھ دیتی
بلائیں اس کی وہ لیتی

بہل جاتی جو ننھی جاں
سکوں پاتی ہے پیاری ماں
غلط تیرا رویہ تھا
گناہ نے تجھ کو گھیرا تھا

تجھے اس کو منانا ہے
ذرا نزدیک جانا ہے

تو اپنی میں کو کم کردے
سرِ تسلیم خم کردے

جھکا سجدے میں سر اپنا
سکوں پائے گا تو کتنا

وہاں ماں بھی کھڑی ہوگی
بہاروں کی گھڑی ہو گی

ویرانی لوٹ جائے گی
ندا جینے کی آئے گی

— ئ —

روبرو آ ئے ،تہجد میں ندا آ تی ہے
مانگنے والا کہاں ہے؟ یہ صدا آ تی ہے

جب بھی پھیلایا ہے دامن کو درِ اقدس پر
اس نے بھر ڈالا ہے کہ اس کو حیا آ تی ہے

کس قدر پیار سے اس لمحے بلاتا ہم کو
ایسی آ واز ہے جو دل میں اتر جاتی ہے
جو بھی ہے مانگنا بن سو چے تقاضا کر لے
کیسی سرگوشی سماعت سے یہ ٹکراتی ہے

کس قدر دیتا خزانہ کہ اٹھانا مشکل
نور کے وقت یہ جھولی خود ہی بھر جاتی ہے

حمد کو دیتا صدا ہے جو مزمل ِ شہناؔز
وجد میں ڈوبی ہوئی دوڑتی آ جاتی ہے

— ئ —

جو بھی عاشق ہیں محبت سے دعا کرتے ہیں
کب برا سوچتے اور کچھ بھی برا کہتے ہیں

منفی سوچوں سے نکل آتے ہیں عاشق جب بھی
بات کہنے کے کیلئے لفظ چنا کرتے ہیں

شکر صد شکر ہوئے” میں” کی لطافت سے بری
کوئی کچھ بھی کہے چپ چاپ سنا کرتے ہیں
ہے کرم اس کا کہ رتبہ دیا ماں کا تجھ کو
ایسے رتبے تو مقدر سے ملا کرتے ہیں

خود خدا بھرتا مرادوں سے ہے جھولی شہناؔز
جو بزرگوں کے لئے لاٹھی بنا کرتے ہیں

— ئ —

نظر میں ہیں اس کے سبھی متقین
وہ چن لیتا ان میں سے ہے عابدین

ناممکن کو ممکن بناتا ہے وہ
ہر اک کام اس کا ہے صد آ فرین

نہ اعمالِ بد کو چھپا پاؤ گے
پکڑ لے گا پیشانی سے مجرمین
جو تسبیح رب العلی کی کرو
توشامل ہواس میں جو ہیں ساجدین

وہ واحد ہے اس کو احد مانو تم
یہ پیغام لائے سبھی مرسلینؑ

پھر حق سچ کو پالے گی شہناؔز تو
اگر تیرا اس پر ہے کامل یقین

— ئ —

جھکا کر سر بہ چشمِ نم میں تیرے در پہ حاضر ہوں
لبوں پر آ گیا ہے دم میں تیرے در پہ حاضر ہوں

حطیم و ملتزم کو دیکھ کر بے تاب ہیں سجدے
جبیں کو کر رہی ہوں خم میں تیرےدر پہ حاضر ہوں

بہت ہے اوج پر قسمت کہ میرا میزباں تو ہے
عطا کی بارشیںشاہم میں تیرے در پہ حاضر ہوں
احد ہے تو مرے آ قا کہ الااللہ بھی توہے
تو کردے مجھ کو اس میں ضم میں تیرے در پہ حاضر ہوں

طلب شہناؔز کو ہے دید کی نورِ بصیرت دے
نہیں ہے کوئی بھی اب غم میں تیرے در پہ حاضر ہوں

— ئ —

کیوں ڈر گئے ہیں ناگہانی ان وباؤں سے
کیا آپ کو لگتی ہیں بڑی یہ خداؤں سے

اللہ تو احد بھی ہے اور صمد بھی
وہ ہم کو دور رکھے گا ساری بلاؤں سے

سجدے میں سر جھکائیں ذرا مانگ کے دیکھیں
توبہ کریں کہ دور رہیں گے خطاؤں سے
آ قا اٹھائے ہاتھ ترے در پہ کھڑے ہیں
بدلے گا تو نصیب ہمارے دعاؤں سے

شہناؔز دل میں نورِ مزمل اترگیا
محسوس شرم کرتے ہیں یارب گناہوں سے

— ئ —

تو ہی خالق تو ہی مالک ہےتو ہی رب الّعلی
معاف کر سب کی خطادے نا سزا لےنا بچا

ذات ارفع ہے تری تو ہے ستار الّعیوب
سر جھکائے ہیں کھڑے سب کے گناہوں کو چھپا

ہاتھ پھیلائے ترے در پہ چلے آ ئے ہیں
پھرتے کشکول اٹھائے تجھے دیتے ہیں صدا
ہم تو بندے ہیں ترےمان بہت ہے تجھ پر
لے کے جائیں گے نہیں آج یہ خالی کاسہ

تو ہی کہتا ہے پکارو مجھے سب کچھ دوں گا
تیرے وعدے پہ یقیں اپنا بھی الحمد بنا

کن فیکون کا مالک مرے مولا تو ہے
بخش شہناؔز کو تو نورِ مزمل کی ضیاء

— ئ —

رابطہ تھوڑا سا ٹوٹا ہے اعادہ کرلیں
اک دفعہ اور حضوری کا ارادہ کرلیں

خود ہی بھیجیں گے وہ پیغام بلانے کا ہمیں
دردِ الفت کو عقیدت کو زیادہ کرلیں

مدحتِ صل ِ علیٰ لکھتا رہے خامہ مرا
فکر کی دنیا کو کچھ اور کشادہ کرلیں
ذات کی اپنی نفی کر کے مٹادیں خود کو
معافی نامے کو ہی اب اپنا لبادہ کرلیں

اب برا کام کوئی بھی نہ کریں گے شہناؔز
کعبے میں جا کے یہ رحمان سے وعدہ کر لیں

— ئ —

پہلے تو خامشی سے وہ سب دیکھتا رہا
مخلوق نے جب عقل کے گھوڑے دوڑا دیے

غیرت پھر اس کی غیض وغضب سے بپھر گئی
اور اس نے ہر انسان کے چھکے چھڑا دیے

کب تاب اس کے جوش کی نادان لاسکے
بس سر جھکا کہ نامے اسی کو تھما دیے
رحمان کی رحمت کی گھٹا جھوم کے برسی
اور داغ سارے چہروں کے اس نے مٹا دیے

چمکا سبھی کی راہوں میں جب نورِ مزمل
شہناؔز نے بھی ہاتھ دعا کو اٹھا دیے

— ئ —

کڑا ہے وقت تو اس سے ذرا نہ گھبرائیں
خدا کے سامنے ہی ہاتھ اپنے پھیلائیں

کیوں لے کے پھرتے ہیں کشکول اپنے ہاتھوں میں
پٹخ کے توڑیں اسے دور پھینک کر آ ئیں

خدایا روک دے بڑھتی ہوئی یہ بادِ سموم
یہ کھلتے پھول یہ کلیاں کبھی نہ مرجھائیں
بھلا سبھی کے لئے مانگو گر ہو انساں تم
نہ تپتی تیز ہوا سے بشر یہ کمھلائیں

ہے درپہ آگئی شہناؔز اقا سب کے ساتھ
ہیں سب کے ساتھ مزمل ندائیں یہ آ ئیں

— ئ —

یہ کس نے کہہ دیا تم سے کہ عید آ ئی تھی
یہ عید کیسی تھی رب الٌعُلٰی جدائی تھی

نہ کعبہ ہم کو میسر نہ گنبدِ خضرا
عجب طرح سے سجائی گئی خدائی تھی

یہ دل کا آ ئینہ روشن تھا نور سے ان کے
اسی نے آس ملاقات کی دلائی تھی
اٹھاکے ہاتھ دعا کے لئے میں بیٹھی رہی
صدا لبیک کی دل نے مجھے سنائی تھی

پروتی موتی رہی میری چشمِ تر شہناؔز
تمام عمر کی یہ ہی مری کمائی تھی

— ئ —
عید

ہیں چار سو خموشیاں عجیب سی یہ عید ہے
نہ مسجدوں میں رونقیں خدا کی یہ وعید ہے

نہ منتظر کسی کے ہم نہ اپنا کوئی منتظر
نہ کوئی ہم جلیس ہے نہ دوستوں کی دید ہے

نہ قمقمے نہ زمزمے نہ خوشبوئیں نہ رت جگے
گلے نہ مل سکیں گے ہم وبا بڑی شدید ہے
پکوان میں ہے پھیکا پن فضا بھی پھیکی لگ رہی
جو بھی ہے کافی ہو گیا کب چاھتِ مزید ہے

مزاج ہیں بدل گئے کہ دورِ رفتہ آ گیا
کثافتیں ہیں دھل گئیں شہناؔز یہ شنید ہے

 

 

نعتِ رسول مقبول ﷺ

— ئ —

مرے حق میں محمدؐ کا غلام ہونا بہت کافی
نگر میں میرے آ قا کے قیام ہونا بہت کافی

مرے صل ِعلیٰ کا معجزہ قرآنِ ربانی
عمل کا فلسفہ ہے یہ پیام ہونا بہت کافی

ہمیں در پہ بلاتے ہیں ہمیں جلوہ دکھاتے ہیں
مؤذن اس فضا میں ہم کلام ہونا بہت کافی
ہے کتنا فخر کہ نسبت محمد مصطفیٰ ؐسے ہے
نظر میں انؐ کے ذرے کا مقام ہونا بہت کافی

سکوں شہناؔز کو ملتا درودِ پاک پڑھنے سے
ملے اذنِ حضوری تو سلام ہونا بہت کافی

— ئ —

ہیں عرش سے آ تی یہ ندائیں حضوؐر آ ئے حضوؐر آئے
سنی ہیں عشاق نے صدائیں حضوؐر آ ئے حضوؐر آ ئے

زمیں کے سینے پہ نور چمکا سحاب رحمت کے چھا گئے ہیں
چھٹے یہ ظلمت کرو دعائیں حضوؐر آ ئے حضوؐر آ ئے

برس رہے ہیں چمکتے موتی یہ حجرہءِ دل سجا ہوا ہے
درود پڑھتی ہیں سب فضائیں حضوؐر آ ئے حضوؐر آئے
ہر ایک عاشق چمکتی شب میں چراغ تھامے پکارتا ہے
محبتوں کے دیے جلائیں حضوؐر آ ئے حضوؐر آئے

لیے سلاموں کے مہکے گجرے کھڑی ہے شہناؔز کب سے آقاؐ
ہوائیں یہ جھوم کر بتائیں حضوؐر آ ئے حضوؐر آ ئے

— ئ —

ہیں دعا ہی دعا میرے صل علیٰ
رحمتوں کی ندا میرےصل علیٰ

جب بھی آ نکھیں ہوں نم شوقِ دیدار سے
دھڑ کنیں دیں صدا میرے صل علی ٰ

ورد جب بھی کروں اسمِ احمدؐ کامیں
در پہ لیتے بلا میرے صل علی ٰ
روضہء پاک پہ آ کے سجدے کروں
ہو مؤذن ہوا میرے صل علیٰ

ناز شہناؔز کو تو مزمل پہ ہے
رستے دیں گے بنا میرے صل علیٰ

— ئ —

عشق کی ابتدا خاتم الانبیاءؐ
عشق کی انتہا خاتم الانبیاءؐ

آ پ خیرا لووریٰ آپ نورالھُدٰیؐ
آپ صلی علٰی خاتم الانبیاءؐ

جو بھی حاضر ہوا اور سوالی بنا
کرتے جود و سخا خاتم الانبیاءؐ
چار سو نور ہی نور پھیلا ہوا
ضوفشاں ہے فضا خاتم الانبیاءؐ

دیکھو دنیا میں فخرِ مبیں آگیا
دیں ملائک ندا خاتم الانبیاءؐ

رب جو راضی ہوا روضہ دکھلا دیا
دل پکارا مرا خاتم الانبیاءؐ

جب مزمل ملے معجزہ ہو گیا
عشق شہناؔز کا خاتم الانبیاءؐ

— ئ —

حضوؐر آپ کا اسوہ جہانِ رحمت ہے
یقین آپ کا اپنا گمانِ رحمت ہے

ہر ایک پل ہے درود و سلام ہونٹوں پر
جو کلمہ جاری ہے وردِ زبانِ رحمت ہے

تجلیات کی انوار کی ہیں برساتیں
نبیؐ کا روضہء اقد س تو شانِ رحمت ہے
کب ایسا معجزہ دیکھا تھا چشمِ حیراں نے
یہاں کا ذرہ بھی رطب للسانِ رحمت ہے

ہے سب کو فیض ہی شہناؔز پنجتنؑ سے ملا
یہ خانوادہ پیمبر کا جانِ رحمت ہے

— ئ —

مرے آقاؐ ترستی ہوں دکھا دیں نور کا جلوہ
بلا لیں در پہ اب اپنےسجا دیں نور کا جلوہ

ہر اک سو روشنی پھیلے نظر جب آپؐ آ جائیں
درِ اقدس پہ حاضر ہوں بہا دیں نور کا جلوہ

مرے صل ِ علیٰ شاہا میں ذرہ خاکِ پا کا ہوں
بنا دیں اک مجھے تارا پہنا دیں نور کا جلوہ
ہوائیں بھی موذٌن ہیں یہ کیسا رقص ِ بسمل ہے
کریں ظلمت بھی تھوڑی کم بنادیں نور کا جلوہ

مکمل کیفیت وجدان کی شہناؔز پر طاری
عجب نورِ مزمل ہے بڑھا لیں نور کا جلوہ

— ئ —

کرم کی منتظر آقا یہ میری گریہ و زاری
کبھی تو رنگ لائے گی مری توبہ شرمساری

جھکا کر سر میں روضے پر کھڑی ہوں احمدِ مرسلؐ !
میں حاضر کب سے ہوں در پر کہ ہوگی اب مری باری

اٹھا کر گٹھڑیاں اعمال کی کاندھوں پہ لائی ہوں
ہے مجھ کو علم زادِ راہ میرا ہے بہت بھاری
مگر مجھ کو یقیں ہے بوجھ یہ میرا بھی کم ہو گا
کثافت ابرِ رحمت سے مری دھل جائے گی ساری

عطا جودو سخا کا کیا ہے کہنا ان فضاؤں میں
درودِ پاک ہے شہناؔز کے ہونٹوں پہ اب جاری

— ئ —

مرا کامل یقیں وہ ہیں مرا کامل گماں وہ ہیں
کڑی دھوپوں میں میری چھاؤں میرا سائباں وہ ہیں

تلاشِ نور میں نکلے ہو کتنے قافلے لے کر
بھٹکتے پھر رہے کیوں جا بجا منزل نشاں وہ ہیں

کہاں پر کھو گئے عرفان کے روشن منارے سب
کر ے گی تیرگی نہ کچھ کہ نورِ جاوداں وہ ہیں
کروں صل ِعلیٰ کا ورد تو گونجے جہاں سارا
مزمل ہی مرے مرشد مرے وجہء بیاں وہ ہیں

ملے شہناؔز کو رستہ سراجِ ہادی عالمؐ
وہی منزل ہیں میری اور میرِ کارواں وہ ہیں

— ئ —

کہہ سکوں کب قصیدہ میں شاہِ زمن
سر جھکائے کھڑے سارے ہی اہلِ فن

فکر بنجر ہوئی لفظ خاموش ہیں
اب کہاں مجھ میں باقی ہے تابِ سخن

ہیں معطر ہوائیں مؤذن جہاں
ہے درودوں سے ساری فضا نغمہ زن
گل و لالہ سے روشن زمیں طیبہ کی
بدلی سب نے قبا بدلے ہیں پیرہن

کیسی ہے کیفیت جب سے آئی یہاں
کملی والے کی کملی دریدہ دہن

بندگی کا قرینہ کب آتا اسے
کیسے بتلائے شہناؔز اب حالِ من

— ئ —

حقیقت معرفت کی علم و عرفاں سے ہی کھلتی ہے
بشر کو آگہی خود کو پرکھنے سے ہی ملتی ہے

عجب سی اک طلب ہے جو حقیقت کھولتی مجھ پر
درِ اقدس پہ جانے سے نئی تعبیر بنتی ہے

خدا جانے وہ ساحر ہیں یا کامل ذات ہے ان کی
پڑھیں صل ِعلیٰ تو ہر کڑی مشکل بھی ٹلتی ہے
ستارے ماند پڑ جاتے ہیں کرنیں منہ چھپاتی ہیں
کہ جب کون و مکاں میں روشنی ان کی اترتی ہے

مثال اس کی نہیں ملتی عطا جب ان کی ہوتی ہے
ادھوری فکر پھر شہناؔز کی لفظوں میں ڈھلتی ہے

— ئ —

بلا لیں ہم کو آقا جی مدینہ یاد آتا ہے
وہاں گزرا وہ رمضاں کا مہینہ یاد آتا ہے

بہت ہی بیقراری ہے عجب بے کیف سے ہیں دن
مدینے میں سجایا ہر شبینہ یاد آتا ہے

تصور سے ہوئی کب دور آ قاؐ مسجدِ نبوی
جڑا صحنِ حرم میں اک نگینہ یاد آتا ہے
تمنا ہر گھڑی رہتی زیارت کے لئے پہنچیں
مجھے وہ جالیاں منبر ، وہ زینہ یاد آ تاہے

مرے شاہِ زمن شہناؔز کو پھر سے بلا لیجئے
حضوری حاضری کا وہ قرینہ یاد آتا ہے

— ئ —

اک عجب کیف و نور طاری ہے
بس درود و سلام جاری ہے

ہر گھڑی دید کی ہی چاہت میں
میں نے تو زندگی گزاری ہے

دیکھ کر مکے اور مدینے کو
روح میں اک کرن اتاری ہے
جب بھی ہے اذنِ حاضری پایا
اس نے جیون کی راہ سنواری ہے

کیا ندا ہے مرے مزمل کی
ہم کو شہناؔز بیٹی پیاری ہے

— ئ —

سلام آلِ نبی پر جنہوں نے بخشی حیات
سلام آ ل نبیؐ ، بنے جو سب کی نجات

کوئی بھی لفظ نہ بزمِ خیال میں اترا
سلام آ لِ نبیؐ پر ملا ہےحرفِ ثبات

فقیر ہوں نہ قلندر نہ سالک و عارف
سلا م آ ل نبیؐ پر دی عشق کی سوغات
نہ زادِراہ کوئی اور متاعِ دنیا بھی
سلام الِ نبیؐ پر عطا کی ہے برسات

سمجھ میں کچھ نہیں آتاتھاعشق سے پہلے
سلام آل نبیؐ پر سکھایا اسم ذات

— ئ —

نوری پیکر جب اس میں آ تا ہے
آئینہ خانہ جگمگاتا ہے

جب سے صیقل ہوا محبت سے
عکس ِ احمدؐ مجھے دکھاتا ہے

جو مرے جسم و جاں کا محور ہے
حجرہء دل میں آ تا جاتا ہے
کس نے پھر پیار سے پکارا ہے
کوئی طیبہ میں پھر بلاتا ہے

خوب قسمت نے یاوری کی ہے
قافلہ پھر مدینے جاتاہے

پر ہیں اڑنے کو تولتی شہناؔز
عشق پروانہ پھر بناتاہے

— ئ —

انہی کے نام سے سجتا رہا سخن میرا
انہی کے نام سے شیریں رہا د ہن میرا

نہ لفظ پاس مرے اور نہ جرات اظہار
بنا ہے اسمِ محمدؐ کمالِ فن میرا

نبیؐ کا فیض ہے پھیلا ہوا زمانے میں
وہی خزینہ مرا، وہ ہی مال و دھن میرا
نہ سوز و ساز نہ آ واز نہ ریاضت ہے
شگفتہ ان کے ہی دم سے ہوا لحن میرا

مجھے بلاتے ہیں اکثر بہت ہی چاہت سے
خیال رکھتے ہیں کتنا شہِ زمنؐ میرا

مجھے شہناؔز حضوری کا نامہ جب بھی ملا
سجا درودوں سلاموں سے پیراہن میرا

— ئ —

بھیجی ہے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا صحنِ حرم سے
محظوظ ہو رہے ہیں محمد ؐکے کرم سے

کامل ہے یقیں ساتھ ہے معبود ہمارا
مل جائے گی نجات بھی پل میں ہمیں غم سے

طیبہ میں شب و روز ہے انوار کی بارش
آراستہ ہیں محفلیں بس آپ ؐکے دم سے
ہے نعمتِ عظمیٰ یہاں جنت کا وہ گوشہ
تحفہ جو ہے امت کوملاباغِ ارم سے

در چھوڑ کے ہے آپؐ کا جاناہوا دشوار
شہناؔز کو ہے عشق بہت شاہِ اُممؐ سے

— ئ —

مجھ کو بنادے مولا ثنا خوانِ مصطفیٰ ؐ
اک نور دل میں اترے دکھا شانِ مصطفیٰ ؐ

جبریل ِ امیں ساتھ گئے فخرِ مبیں کے
کرتے رہے ملائکہ ارمانِ مصطفیٰ ؐ

عشقِ نبیؐ میں کھو گیا جو بھی بشر یہاں
بیشک نظر میں اس کی ہے عرفانِ مصطفیٰ ؐ
پڑھتے درود ہر گھڑی احمد ؐکے امتی
بھولے کبھی نہیں وہ فرمانِ مصطفیٰ ؐ

پایا بہ فیض ِصل ِ علیٰ رفعت و عروج
چھوڑے کبھی شہناؔز نہ دامانِ مصطفیٰ ؐ

— ئ —

اگر تو وعدہ کسی سے نبھا نہیں سکتے
تو زندگی میں بھلائی بھی پا نہیں سکتے

درود پڑھ کے سکوں دل کو مل تو جاتا ہے
مگر جو عشق ہے دل میں چھپا نہیں سکتے

چراغ آ پ کی چاہت کے دل میں جلتے ہیں
یہ کعبہ دل کا یونہی تو سجا نہیں سکتے
دکھائیں کیسے نبیؐ جی کو داغ ہم دل کے
گزرتی دل پہ جو ہے وہ سنا نہیں سکتے

تڑپ ہے گنبدِ خضرا کی دید کی شہناؔز
بنا بلائے وہاں پر بھی جا نہیں سکتے

— ئ —

عشق میں خود کو جب مٹاتی ہے
لیلیٰ مجنوں سی نظر آ تی ہے

کھلنے لگتے ہیں باب حیرت کے
زندگی آئینہ دکھاتی ہے

اے ہواؤں ذرا ٹھہر جاؤ
ہم کو طیبہ سے ندا آ تی ہے
کتنا مشکل ہے ہجر کا موسم
لو تمنا کی جھلملاتی ہے

تو نہاں ہوکے بھی عیاں ہو اگر
تشنگی اور بڑھتی جاتی ہے

عشق وحشت جنوں و کرب کا نام
سلسلہ یہ توقعاتی ہے

کس طرح پائی عشق کی منزل
یہ تماشا تو حادثاتی ہے

دید کا لمحہ جب ملے شہناؔز
روح کب جسم میں سماتی ہے

— ئ —

دعاؤں کا تسلسل ہے جبیں خم آ ستاں پرہے
عجب پر کیف منظر ہے نظر کون و مکاں پر ہے

مدینے کے سفر میں تیز دھوپوں کی کسے پرواہ
کہ زائر کی نظر تو چھتریوں پر ،سائباں پر ہے

درودوں کی صدائیں عرش پر اور فرش پر گونجیں
کہاں ہے فیض زیادہ فیصلہ کرو بیاں کا ہے
ہر اک بندہ کرم کے سائے میں تیرے یہاں مولا
علم امن واماں کاتیرے اس شہرِ اماں پر ہے

تحفظ ہے مزمل کا تو پھر شہناؔز کو کیا غم
محافظ اس کا اک بیٹھا ہوا عرشِ زماں پر ہے

— ئ —

مومن ہیں روشنی ہیں زمانے کو بتائیں
اس تیرگی میں شمعِ عقیدت بھی جلائیں

کتنا کرم ہوا ہے حضوری کے بعد سے
ہر سمت ہمیں آ پ ؐکے جلوے نظر آئیں

ہے کتنی خوش نصیبی کہ طیبہ میں آگئے
پڑھ کر درود حال ذرا دل کا سنائیں
تسکین ہم کو بخشے گی قربت رسول کی
قدموں میں ہم حضوؐر کے سر اپنا جھکائیں

شہناؔز ساتھ لائی ہے اک قافلہ اپنے
سحاب رحمتوں کے برسنے چلے آئیں

— ئ —

کبھی دیکھی نہیں تھی نور کی برسات کیا کہنا
مقدس پائی ہم نے رات یہ سوغات کیا کہنا

ملا ِاذنِ حضوری اور جبیں کو آ ستانہ بھی
تھمایا جس نے اپنا ہاتھ اسکی ذات کیا کہنا

— ئ —

دیکھو وہ سامنے ہے خیابانِ محمد
اس دل میں جاگزیں ہوا ارمانِ محمد

ہر دم درود بھیجتی ہوں صل علی پر
آئے نظر کبھی رخِ تابانِ محمد

جلوہ نگہ میں ہر گھڑی ہو آ پ کا شاہا
میں بھول نہ پاؤں کبھی احسانِ محمد
جس نے بھی چاہ سے ہے پکارا وہ اسی کے
سب کو ہے پیار کرنا ہی شایانِ محمد

تکلیف زندگی میں نہ آئے گی کبھی بھی
شہناز نے بھی تھاما ہے دامانِ محمد

سلام و منقبت

— ئ —
حضرت علی ؑکے یومِ پیدائش پر

ہے کتنا مقدس یہ دن آج کا
کہ تشریف لائے علی مرتضیٰ ؑ

کرم کیسا رب نے تھا اپنا کیا
نور سے ان کے روشن تھا کعبہ ہوا

دوست اک سچا پیارے نبی ؐ کو ملا
اپنی جاں کا بھی حصہ انہیں تھا دیا
ساتھ ہر جا رہے تھے علی مرتضیٰ ؑ
جاں سے پیارےانہیں تھے جو صل ِ علیٰ

مصطفیٰ ؐ مرتضیٰ ؑ کو جو اپنا لیا
ان کے صدقے سے شہناؔز کو سب ملا

— ئ —
شہادتِ علیؑ

ہے کربلا کی ابتدا شہادتِ حضرت علیؑ
ہے عاشقی کی انتہا شہادت ِحضرت علیؑ

تلاوتِ قرآن کے دوران موت کی قبول
دکھاتی کیسا زاویہ شہادتِ حضرت علیؑ

لگائی جس پہ ضرب ہے وہی نبیؐ کا پیار ہے
عدو نہیں یہ جانتا شہادتِ حضرت علیؑ
ملائکہ نے سائے میں اپنے ہے ان کو لے لیا
کہرام عرش پر بپا شہادتِ حضرت علیؑ

شہناؔز کی ہے بے بسی کہ لفظ سب خموش ہیں
یہ واقعہ ہے سانحہ شہادتِ حضرت علیؑ

— ئ —

معرفت چاہیئے تو قرب علی ؑکا پاؤ
ان کو پھر ساتھ لیے پاس نبیؐ کے جاؤ

ایک پل میں ہی بدل جاتی ہے دل کی دنیا
پھر جہاں پہنچے وہاں سے نہ پلٹ کر آؤ

فیض پالیتا ہے شہناؔز کوئی جب عارف
اس کو چاہت کےسوا رہتا نہ کوئی چاؤ

— ئ —
کربِ کربلا

کربل میں کیسا بین ہے
انّی پہ اب حسینؑ ہے

نواسہ مصطفیؐ کا ہے
علیؑ کا نورِعین ہے

یہ فاطمہؑ کا لاڈلا
حسینؑ ہے حسینؑ ہے
معراج ہی یہ عشق کی
پکارتا یہ زینؑ ہے

باطل سمجھ نہیں رہا
صدائے حق حسینؑ ہے

— ئ —
معرکہءِ کربلا

معرکہء کربلا عشق و جنوں کی داستاں
ابتلاء یہ سانحہ عشق و جنوں کی داستاں

جو بھی گزرا جو ہوارب نے تھاسب بتلا دیا
تھی یہ خالق کی رضا عشق و جنوں کی داستاں

گرتاتھالاشے پہ لاشہ اور اٹھاتے تھے حسین
صبر کی ہےانتہاعشق و جنوں کی داستاں
سب چراغوں کوبجھا کر فیصلہ اک کر دیا
بن گئی حق کی حیا، عشق و جنوں کی داستاں

حیف اک طاغوتی لشکر قتل کرنے کو بڑھا
بین کرتی تھی فضا عشق و جنوں کی داستاں

باری باری سب نمازِ حق ادا کرتے رہے
سجدے میں سر جو کٹا عشق و جنوں کی داستاں

رسیوں کے طوق میں کومل حسینہ تھی اسیر
خطبہء زینبؑ بناعشق و جنوں کی داستاں

ان شہیدوں کے لہو سے آ ج بھی روشن جہاں
آ ج بھی ہے مشعل جاں عشق و جنوں کی داستاں

— ئ —
حسینیت کی انتہا

مظلومیت کی ابتدا کربلا کربلا
حسینیت کی انتہا کربلا کربلا
العطش کی ہے صدا کربلا کربلا
مسافرت کی ہے سزا کربلا کربلا

فاقہ وہاں کیا گیا کربلا کربلا
صبر ورضا کی انتہا کربلا کربلا
عبادتوں کا دائرہ کربلا کربلا
ریاضتیں مجاہدہ کربلا کربلا
شہادتوں کا سلسلہ کربلا کربلا
عاشق ہوئے بے دست و پاکربلاکربلا
نیزے پہ شاہِ کربلا ، کربلا کربلا
سموں تلے رونداگیا کربلا کربلا

الوداع الوداع کربلا کربلا
سب نے پکار کر کہا کربلا کربلا
یہ معرکہ یہ واقعہ کربلا کربلا
تاریخ کا ہے سانحہ کربلا کربلا

— ئ —
یزیدیت کی انتہا

یزیدیت کی انتہا کربلا کربلا
طاغوت حد سے بڑھ گیا کربلا کربلا
شمر شیطان تھا بناکربلا کربلا
یزید جانور ہوا کربلا کربلا

بچوں کو پانی کب دیا کربلا کربلا
نیزوں پہ تھا چڑھا دیاکربلا کربلا
زد میں علی اصغرؑ ہوا کربلا کربلا
کٹوا کے سر حسینؑ کا کربلا کربلا
نیزے پہ تھا اٹھا لیاکربلا کربلا
زینبؑ کو بے ردا کیا کربلا کربلا
سکینہؑ کو مارا گیا کربلا کربلا
خیموں کو تھا جلا دیاکربلا کربلا

قیدی انہیں بنا لیا کربلا کربلا
اک حشر بپا تھا ہوا کربلا کربلا
سب آسماں تھا دیکھتاکربلا کربلا
فرات بھی روتا رہا کربلا کربلا

— ئ —
فاتحِ کربلا

عرش پہ گونجی صدا
آئی ملائک کی ندا
تحفہ کیا رب نے دیا
اے جانِ سرور انبیاءؐ
پسر شیرِ کبریاؑ
جگر گوشہ ءسیدہ ؑ
ہے برادرِ مجتبیٰ
شبیرؑ فاتحِ کربلا
روشنی دِیں کی بنا
ہو سلام اے کربلا

— ئ —

محورِ گردشِ دوراں کا تماشا دیکھا
فاصلہ بڑھتا گیا قرب کو ہٹتا دیکھا

غمِ جاناں نے بھی تصویر بدل لی اپنی
اس کو پہنا ِغم ہجراں کا لبادہ دیکھا

بعد مدت کے سبھی اپنوں کے چہرے دیکھے
ٹوٹنے والے تعلق کا اعا دہ دیکھا
وصل ِ یاراں کے تو قصے تھے پرانے سارے
معرفت ڈھونڈنے نکلے نیا جادہ دیکھا

رقصِ بسمل میں ہوئے گم سبھی ایسے شہناؔز
ہر قلندر کے بڑھے ہاتھ میں کاسہ دیکھا

تمت بالخیر

Viewers: 175
Share