ایم زیڈ کنول کا شعری مجموعہ ۔۔۔ درد کی دہلیز پر

کووڈ 19 (کرونا وائرس) کے حوالے سے نظموں اورغزلوں پر مشتمل کورونا کے موضوع پر چھپنے والی اپنی نوعیت کی پہلی کتاب درد کی دہلیز پر (کووِڈ- 19 کے حوالے […]

dard ki dehleez pr

کووڈ 19 (کرونا وائرس) کے حوالے سے
نظموں اورغزلوں پر مشتمل کورونا کے موضوع پر
چھپنے والی اپنی نوعیت کی پہلی کتاب

درد کی دہلیز پر
(کووِڈ- 19 کے حوالے سے نظمیں اور غزلیں)

مسرت زہرا کنول
(ایم زیڈ کنولؔ)

ناشر: باقر پبلی کیشنز، لاہور
+92300-8073510
+92334-7751095
جملہ حقوق بحق شاعرہ محفوظ ہیں
نام کتاب : درد کی دہلیز پر
شاعرہ : ایم زیڈ کنولؔ
اشاعت اوّل: اپریل 2020ء
کمپوزنگ : راؤ شجاعت علی چاند
تزئین : التمش مبین
سرورق : حمدان خالد
تعداد : 500
صفحات : 128
ہدیہ : -/1000روپے
ناشر : باقر پبلی کیشنز، لاہور
زیر اہتمام : علمی، ادبی، سماجی و ثقافتی روایات کی امین
تنظیم، جگنو انٹرنیشنل، لاہور

تقسیم کار
فروغ ادب فائونڈیشن پاکستان
اوچ شریف بہاول پور
تہذیب انٹرنیشنل پبلی کیشنز بہاولپور، لاہور، اسلام آباد، کراچی
0300-8881836, 0333-4076188

انتساب
چار سُو بین کرتی بہاروں کے نام
موسمِ گل میں بچھڑے شگوفوں کے نام
خوں اُگلتے ہوئے سب نگینوں کے نام
آرزو کے جہاں کے دفینوں کے نام
بادِ صر صرکی ساری مرادوں کے نام
ظلمتوں کے دیئے سب اُجالوں کے نام
وقت کی قید کے قیدی لمحوں کے نام
جان سے جو گئے ان رفیقوں کے نام

گونجیں بے وقت جو اُن اذانوں کے نام
مرثیہ خوانی کرتے چناروں کے نام
جاں ہتھیلی پہ رکھے سفیروں کے نام
ابرِ کووِڈ کے بخشے شراروں کے نام
اے کورونا ترے بخشے زخموں کے نام
سازشی پیرہن کے سوالوں کے نام
امن کے پیار کے سارے نغموں کے نام
چاہتوں کے کنول ؔکے جریدوں کے نام

تعارف مصنفہ

معروف نام: یم زیڈ کنولؔ

پورا نام: مسرت زہرا کنولؔ
ولدیت: راؤ محمد باقر علی خاں
تعلیمی قابلیت: ایم اے ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ مینجمنٹ۔
ایم اے اردو۔ ایم اے پنجابی۔
گولڈ میڈل: پنجاب یونیورسٹی، لاہورماسٹر آف ایجوکیشن ، بی ایڈ،ڈپلومہ ان
انگلش لینگوئج
گولڈ میڈل : آل پاکستان بوائز اینڈ گرلز بین الکلیاتی مشاعرہ،اسلامیہ کالج
ریلوے روڈ،لاہور (دورانِ تعلیم)
ٹیلنٹ ایوارڈ: روزنامہ جنگ کی طرف سےدورانِ تعلیم دیا گیا۔
موجودہ پہچان: اردو وپنجابی شاعرہ، ادیبہ، مبصّر، ناقد، مقررہ، کمپیئر،ریسرچ،
سکالر، ماہرِتعلیم، ناشر، ناظمِ مشاعرہ و ادبی تقریبات
چیف ایگزیکٹو: علمی، ادبی، سماجی و ثقافتی روایات کی امین تنظیم ،جگنو انٹر نیشنل۔لاہور
ایڈیٹر: ادبی میگزین روزنامہ مصافحہ،وہاڑی،ملتان،بہاولپور
چیف ایڈیٹر : سہ ماہی جگنو انٹرنیشنل، لاہور
چیف جج: سٹار مشاعرہ سیلیکشن کمیٹی 2017 ءسے تا حال
ممبر: محبان اردو گروپ بیاد ڈاکٹر شجاعت سندیلوی
خطابات
اُردو ادب کا گوہرِانمول (خطاب) ۔(شریف اکیڈمی جرمنی )
فخرِ اردو۔۔اردو تحریک عالمی،لندن
شانِ محبانِ اردو (خطاب) 2017 محبان اردو گروپ بیاد ڈاکٹر شجاعت سندیلوی
(سٹار شاعرہ۔۔ خطاب)فیض محفل اسٹار مشاعرہ 2017 محبان اردو گروپ بیاد ڈاکٹر شجاعت سندیلوی
(سٹار شاعرہ۔۔ خطاب) محفل چکبست اسٹار مشاعرہ 2017 محبان اردو گروپ بیاد ڈاکٹر شجاعت سندیلوی
ایوارڈز:
2020۔گولڈ میڈل،آموور فاؤنڈیشن،لاہور
2020۔۔شیلڈ آف آنر۔۔قومی امن کمیٹی برائے بین المذاہب و سماجی ہم آہنگی پاکستان
گولڈ میڈل ۔قومی امن کمیٹی برائے بین المذاہب ہم آہنگی،پاکستان
گولڈ میڈل۔۔گھر فاؤنڈیشن ،لاہور
آسکر ایوارڈ (ادب)2019حرا فاؤنڈیشن،امریکہ
تو صیفی ایوارڈ۔۔حرا فاؤنڈیشن 2019ٹونی ٹی وی، امریکہ حسنِ کارکردگی ایوار ڈ 2019۔
نقش ہاشمی ملینیئم کما لِ فن ایوارڈ۔۔2019 نقش ہاشمی فائونڈیشن، لاہور
حسن،کارکردگی ایوارڈ۔۔۔2019۔ادارہ خیال و فن،لاہور
حسنِ کارکردگی ایوارڈ انگلش لٹریری سوسائٹی و بزمِ وارث،لاہور،2019
نشانِ ادب ایوارڈ 2019ء۔۔ریڈ نیوز چینل، گوجرانوالہ
حسنِ کارکردگی ایوارڈ 2019ء بحیثیت چیف ایگزیکٹو جگنو انٹر نیشنل۔۔الفانوس گوجرانوالہ
حسنِ کارکردگی ایوارڈ۔پنج ریڈیو ۔امریکہ
حسنِ کارکردگی ایوارڈ۔۔۔ 2018۔۔۔پریس کلب میانوالی
محافظ، پاکستان ، ایوارڈ بر موقع پیغمبر ِ امن کانفرنس،لاہور
اس کے علاوہ ان گنت ایوارڈز، شیلڈز، ٹرافیاں اور میڈلز (دورانِ تعلیم سے اب تک) الحمدللہ…!
سرگرمیاں:
پیشہ: درس و تدریس
دورانِ تعلیم سرگرمیاں:
صدر/ سیکرٹری گورنمنٹ گرلز کالج ۔سیٹلائٹ ٹاؤن ،گوجرانوالہ
صدر لِٹریری سوسائٹی، گورنمنٹ گرلز کالج ۔سیٹلائٹ ٹاؤن ،گوجرانوالہ
صدر یونین…گورنمنٹ ایجوکیشن کالج، لاہور
دورانِ تعلیم اعزازات:
بہترین شاعرہ۔مقررہ۔مضمو ن نِگار۔کھِلاڑی۔کمپیئر
ایوارڈز۔۔۔ آل راؤنڈ بیسٹ سٹوڈنٹ/گولڈ میڈل آل پاکستان مشاعرہ/مذاکرہ
بے شمار ٹرافیا ں اور میڈلز
ادبی سرگرمیاں:
ایڈیٹر۔ادبی جریدہ۔سہ ماہی، جگنوانٹرنیشنل،لاہور
ایڈیٹر،ادبی ایڈیشن روزنامہ مصافحہ،وہاڑی،ملتان، بہاولپور
مینیجنگ ڈائریکٹر۔۔۔باقر پبلیکیشنز، لاہور
ممبر: پاکستان رائیٹرز گِلڈ
ممبر: ادبی بیٹھک،الحمرا آرٹس کونسل،لاہور
جنرل سیکرٹری: ترجمانِ ادب
جنرل سیکرٹری: مجلسِ حمایتِ کشمیر
ایگزیکٹو ممبر: بزمِ خواتینِ اِقبال
صدر: ینگ موومنٹ فار نالِج
چیئر پرسن: ہسپاہ
چیف ایگزیکٹو۔جگنو انٹرنیشنل(علمی،ادبی،سماجی و ثقافتی روایات کی امین تنظیم)
(جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمام ہر ماہ ادبی تقاریب کا باقاعدگی سے انعقاد کیا جاتا ہے)
تخلیقات (مطبوعہ) :
چہرے گلاب سے (شاعری)1998
کائنات مُٹّھی میں (شاعری)سخنورفاؤنڈیشن ایوارڈ۔2013
2013) میں لکھی جانے والی شاعری کی کتابوں میں اول انعام کی حقدار اور سال کی بہترین کتاب قرار پائی(
قوسِ قزح کی زنجیریں (نظموں کا مجموعہ)
برف کا آتش فشاں ( غزلیات)
کُن فکاں (حمد، نعت، منقبت اور مناجات کا مجموعہ)
(من کُنتُ مولا ایوارڈ۔۔2019)
گویم مشکل۔۔۔ (نسائیت کے حوالے سے نظموں کا مجموعہ)
سفارت خوشبوؤں کی۔۔۔(ادبی مضامین)
دو موسموں کے درمیان۔۔(غزلوں کا مجموعہ)
جگنوؤں کے نام۔۔ ۔۔ (نظمیں،نذرِ کشتِ نو)
اب اشکبار ہے لالہ۔۔عدم سے ماورا یادوں کے وجود کی درِ دل پر دستک
نظمیں و غزلیں)
میں آج کی سوہنی ہوں۔(غزلیں۔تانیثیتی آہنگ)
(کشتِ غم) بیاد راؤ باقر علی خاں (والد ِ محترم)
THESIS:
1-Role of community in the development of Primary Education
2- Role of parents in the development of Female
Education —As perceived by Educationists

 

اپنی ذات کے قیدی۔۔۔

چالیس دن کا تھا جوچلّہ میں نے کاٹا چالیس سال
منّت پوری کرنے چلی تو وبا کا پھیلا دیکھا جال
اپنی ذات کے ہو گئے قیدی دن بھی لگنے لگے ہے رات
ہجر و وصال کے سارے قصے لگنے لگے بس ایک خیال
سوہنی کے آنچل میں گروی رکھ کے ساری دانائی
عشق نے بات نہ مانی لیکن کچے گھڑے نے بدلی چال
بدلی رُت نے سُر بکھرائے خزاں نے روکی اپنی سانس
ایک بگولہ دیکھ کے رقصاں صحرا لایا گل کا تھال
بھنور کے آنگن سے بھر کر سب انگاروں کودامن میں
سسّی کے پیروں نے ریت پہ لکھّا ا پنے دل کا حال
خوشبووَںکے جھونکے نے کیاسر گوشی کی گلبن میں
آب نگر بتلانے آیا کنول ؔکو وہ سارا احوال

2020اپنے دامن میں پھولوں کی مہکار لئے محوِ سفر تھا۔ وقت کا کارواں امن و آشتی کے نغمے اُلاپنے کے لئے نئی جہتوں کا منتظر تھا۔ خزاں نے ابھی اپنے پر سمیٹے نہ تھے۔ ابھی غنچوں نے اپنا پیرہن نہ بدلا تھا۔ ابھی گل و بلبل کے رازو نیاز بھی نہ ہو پائے تھے۔ طائروںکی سرمستی ان کی اڑان کو نیا زاویہ نہ دے پائی تھی۔بہار موسم نے پیرہن نہ بدلا تھا کہ جانے فضاؤں کو کس کی نظر کھا گئی۔ گلوں سے ان کی نکہت چھن گئی۔ سرووسمن چشمِ حیرت تھے۔ شفق کی لالی سرمگیں ہو گئی۔ بلبلوں کے چہچہے، پپیہے کی کوک، طاؤس کا رقص سب کہیں کھو گیا۔ بہار کا موسم وبا کا موسم بن گیا۔ہر طرف بس ایک ہی صدا تھی۔ ہائے کورونا۔۔ہائے کورونا۔۔۔ بس پھر محفلیں اُٹھ گئیں ۔ موسمِ وصل ، ہجر کا سندیسہ دینے آگیا۔ زندگی جامد ہو گئی۔ کائنات کی رنگینیاں اور اس کا حسن ساون کے اندھے کا خواب ہوگیا۔ بچے ماؤں کی گود میں دُبکنے لگے تو ماں نے آنچل سمیٹ لیا۔ہر طرف موت کا رقص دکھائی دینے لگا۔ جو اس افتاد سے بچ گئے ۔ کسی کو خوف نے مار دیا، کسی کو تنہائی نے، کسی کو حلال رشتوں میں بھی فاصلوں نے۔ اور تو اور جو کل تک جان سے پیارے تھے آج غسل و کفن کے بغیر دفن کے نام پر گڑھوں میں پھینکے جانے لگے ۔ کچھ قرنطینہ کے مکین ہوئے ، کچھ سیلف آئیسولیشن لے کر اپنی ہی ذات کے قیدی ہو گئے۔
کورونا وائرس، جسے کووڈ ۔19 (COVID-19)کا نام دیا گیا۔ 2019ء – 2020ء ایک عالمگیر وبادنیا بھر میں پھوٹ پڑی ۔ سارس کووی 2 نامی وائرس کادسمبر 2019ء میں چینی صوبہ ہوبئی کے شہر ووہان میںاس وبا کا ظہور ہوا اور اس برق رفتاری سے پھیلا کہ چند ہی مہینوں کے بعد 11 مارچ 2020ء کو عالمی ادارہ صحت (WHO) نے اسے عالمی وبا قرار دے دیا۔ 27 مارچ تک 190 ملکوں کے مختلف خطوں میں اس وبا کے 5 لاکھ انچاس ہزار سے زائد متاثرین کی اطلاع آچکی ہے جن میں سے 24 ہزار ایک سو افراد اس مرض سے جانبر نہ ہو سکے اور لقمۂ اجل بن گئے، جبکہ 1 لاکھ اٹھائیس ہزار متاثرین کے صحت یاب ہونے کی اطلاع ہے۔اب تک اس مرض کی کوئی ویکسین ایجاد نہیں ہوئی۔یہ وائرس ساری دنیا میں پھیلنے لگا تواس کی مزید روک تھام کے لیے اسفار پر پابندی، قرنطینہ، کرفیو، تالابندی، اجتماعات اور تقریبوں کا التوا یا منسوخی، عبادت گاہوں اور سیاحتی مقامات کو مقفل کر دینے جیسے اقدامات کیے جانے لگے۔ ان کوششوں میں ہوبئی کا قرنطینہ، اطالیہ اور یورپ کے تمام علاقوں کی مکمل تالا بندی، چین اور جنوبی کوریا میں کرفیو،[ سرحدوں کی بندش، ہوائی اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر سخت جانچ قابل ذکر ہیں۔ 124 سے زائد ملکوں میں اسکولوں اور جامعات کو بھی بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے 120 کروڑ طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی ۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس وبا نے عالمی سطح پر معاشرتی اور معاشی صورت حال کو سخت اضطراب سے دوچار کر دیا۔ ضروری اشیا کی قلت کے خوف سے خریدار بدحواس ہوگئے اور دیہاڑی مزدوروں کی روزی چھن گئی۔اس سب کے باوجود وائرس کے متعلق سازشی نظریوں اور گمراہ کن معلومات کی آن لائن اشاعت زوروں پر رہی اور ہے، جس نے چینی اور مشرقی ایشیائی قوموں کے خلاف تعصب اور نفرت کے جذبات پروان چڑھائے۔
یہ ایک کھلی حقیقت ہے کورونا وائرس نے دنیا بھر میں خوف کی لہر دوڑا دی ہے، لیکن اس کے باوجود تمام تر شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وائرس اتنا خطرناک نہیں ہے جتنا بڑااس سے پیدا ہونے والا خوف ہے۔ہم تاریخ کے صفحات پلٹتے جاتے ہیں اور ایک سے بڑھ کر ایک وبا اور اس کی ہلاکت خیزی ہمارا دل دہلا دیتی ہے ۔ان خوفناک وباوؤں نے بڑے پیمانے پر انسانی آبادی کو درہم برہم کرکے رکھ دیا ۔ 1347 سے 1351 میں طاعون کی وبا پھیلی اور اس سے اتنی ہلاکتیں ہوئیں کہ اسے سیاہ موت کہا گیااس وبا سے ساڑھے سات کروڑ تا 20 کروڑ اہلاکتیں ہوئیں۔انسانی تاریخ کبھی اتنے بڑے سانحے سے دوچار نہیں ہوئی طاعون کی اس وبا نے دنیا کو اس قدر متاثر کیا کہ کہا جاتا ہے کہ اگر یہ وبا نہ آئی ہوتی تو آج دنیا کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔ ماہرین کے مطابق طاعون کا جرثومہ مشرقی ایشیا سے ہوتا ہوا تجارتی راستوں کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ اور پھر یورپ جا پہنچا جہاں وہ 30 فیصد سے 60 فیصد آبادی کو موت کے منہ میں لے گیا۔ تباہی اس قدر بھیانک تھی کہ پورے شہر میں مُردوں کو دفنانے والا کوئی نہیں بچا۔ اس وبا کے اثرات کی وجہ سے تاریخ میں پہلی بار دنیا کی مجموعی آبادی کم ہو گئی اور دوبارہ آبادی کی اس سطح تک پہنچنے کے لیے دنیا کو دو سو سال لگ گئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب دنیا ابھی ابھی پہلی عالمی جنگ کی تباہی کے ملبے تلے دبی ہوئی تھی یعنی 1918 تا 1920۔ اس وقت دنیا کی آبادی پونے دو ارب کے قریب تھی، جب کہ ہسپانوی فلو نے تقریباً ہر چوتھے شخص کو متاثر کیا۔ اس وقت جنگ کی صورتِ حال کی وجہ سے یورپ کے بیشتر حصوں میں اس فلو سے ہونے والی ہلاکتوں کو چھپایا گیا، جب کہ اسپین چونکہ جنگ میں شامل نہیں تھا اور وہاں سے بڑی ہلاکتوں کی خبریں آنے کے بعد یہ تاثر ملا جیسے اس بیماری نے خاص طور پر اسپین کو ہدف بنایا ہے۔ عام طور پر فلو بچوں اور بوڑھوں کے لیے زیادہ مہلک ثابت ہوتا ہے، لیکن ہسپانوی فلو نے جوانوں کو خاص طور پر ہلاک کیا۔ اسی طرح ایڈز/ایچ آئی وی وجود میں آئی جس کا وائرس مغربی افریقہ میں چمپینزیوں سے انسان میں منتقل ہوا اور پھر وہاں سے بقیہ دنیا میں پھیل گیا۔ اس بیماری نے سب سے زیادہ افریقہ کو متاثر کیا ہے اور حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں ہونے والے 60 فیصد سے زیادہ مریضوں کا تعلق زیرِ صحارا افریقہ سے ہے ۔تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے ہم طاعون کی ایک اور وبا دیکھتے ہیں 541 تا 542 سٹینن طاعون جس سے ڈھائی کروڑ ہلاکتیں ہوئیں اس وبا نے دو سال کے اندر اندر بازنطینی سلطنت اور اس سے ملحقہ ساسانی سلطنتوں کو سیلاب کی طرح لپیٹ میں لے لیا۔ اس وبا کا اثر اس قدر شدید تھا کہ ماہرین کے مطابق اس نے تاریخ کا دھارا ہی بدل کر رکھ دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وبا نے ان سلطنتوں کو اتنا کمزور کر دیا تھا کہ چند عشروں بعد عرب بڑی آسانی سے دونوں کو الٹنے میں کامیاب ہو گئے۔اسی طرح کوکولزتلی نامی وبا بھی میکسیکو میں آئی تھی، اس کی وجہ بھی وہی تھی یعنی براعظم امریکا کے مقامی باشندوں میں یورپی جراثیم کے خلاف عدم مدافعت۔ لیکن اس وبا نے دوسری کے مقابلے پر کہیں زیادہ قیامت ڈھائی اور 50 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ یہ اعداد و شمار اس لحاظ سے بیحد لرزہ خیز ہیں کہ اس وقت آبادی آج کے مقابلے میںبہت کم تھی اور تصور کیا جا سکتا ہے کہ اس نے کیسے پورے ملک کو بنجر بنا کر رکھ دیا ہو گا۔ انتونین کی وبا سے 50 لاکھ سے ایک کروڑ تک ہلاکتیں ہوئیں۔یہ دہشت ناک مرض اس وقت پھیلا جب رومی سلطنت اپنے عروج پر تھی۔ 165 عیسوی سے 180 عیسوی تک جاری رہنے والی اس وبا نے یورپ کے بڑے حصے کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا۔ مشہور حکیم جالینوس اسی دور میںگزرا ہے اور اس نے مرض کی تفصیلات بیان کی ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ مرض کون سا تھا، اور اس سلسلے میں خسرہ اور چیچک دونوں کا نام لیا جاتا ہے۔ جب ہسپانوی مہم جوؤں نے براعظم امریکا پر دھاوا بولا تو اس سے انسانی تاریخ کے ایک ہولناک المیے نے جنم لیا۔ مقامی آبادی کے جسموں میں یورپی جراثیم کے خلاف کسی قسم کی مدافعت موجود نہیں تھی، اس لیے ان کی بستیوں کی بستیاں تاراج ہو گئیں۔ ایک سانحہ 1576 تا 1580 میں میکسیکو میں پیش آیا جس میں 20 لاکھ سے 25 لاکھ افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ اصل بیماری کیا تھی، لیکن مریضوں کو تیز بخار ہوتا تھا، اور بدن کے مختلف حصوں سے خون جاری ہو جاتا تھا۔ ویسے تو طاعون کی بیماری وقتاً فوفتاً سر اٹھاتی رہی ہے، لیکن 1772 میں ایران میں ایک ہیبت ناک وبا پھوٹ پڑی۔ اس زمانے میں اس موذی مرض کا کوئی علاج نہیں تھا جس کی وجہ سے اس نے پورے ملک کو لپیٹ میں لے لیا۔اس سے: 20 لاکھ سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ چین ہی سے ایک فلو اٹھا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کو لپیٹ میں لے لیا۔ بعض ماہرین کے مطابق اس کا وائرس بطخوں سے انسانوں میں منتقل ہوا تھا۔ اس وبا سے 20 لاکھ کے قریب لوگ مارے گئے، جن میں صرف امریکا میں 70 ہزار ہلاکتیں شامل ہیں۔ 1915 تا 1926 تک بھڑکنے والی اس وبا کا باعث ایک جرثومہ تھا جو دماغ کے اندر جا کر حملہ کرتا ہے۔ اس بیماری کو گردن توڑ بخار کی ایک شکل سمجھا جا سکتا ہے اور اس کے مریض پر شدید غنودگی طاری ہو جاتی ہے۔ مرض کی شدت میں مریض بت کا بت بنا رہ جاتا ہے اور ہل جُل بھی نہیں سکتا ہے۔
سال 2008 میں پوری دنیا کو مالی بحران سے نبرد ِ آزما ہونا پڑا۔ جس کے بعد دس سال سے زائد کا عرصہ بیتنے کے باوجود عالمی نظام میں بہتری کے بجائے بد تری کا مشاہدہ ہوا؛ معاشی صورتحال ایک بار پھر بگڑنے لگی۔ اور حالیہ چند برسوں سے چین اور امریکہ کے مابین تجارتی جنگ نے عالمی معیشت کو خطرات سے دوچار شروع کر دیا جس سے ایک نئے عالمی بحران کے جنم لینے کی توقعات میں بھی بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ عالمی سطح پر در پیش بحران، انتہائی دائیں بازو کے نظریات میں تیزی، بین الاقوامی اداروں کے اثرِ رسوخ میں گراوٹ اور شامی بحران کی طرح کے دیرینہ مسائل عالمی سسٹم کے مستقبل کے حوالے سے سوالیہ نشانات کھڑے کرنے کے موجب بنے ہیں۔ تا ہم کسی نے بھی ان مسائل کے عالمی نظام کو قنوطیت پسندی اور غیر یقینی کی جانب دھکیلنے کے طور پر بیان نہیں کیا۔کووڈ۔19ماہِ جنوری میں چینی صوبے وہان میں ظہور پذیر ہوتے ہوئے تین ماہ جیسے قلیل عرصے میں پوری دنیا میں سرایت کرنے والے کرونا وائرس کی عام وبا نے عالمی نظام کو گہرائیوں سے متاثر کیا ہے۔ حالیہ دس برسوں میں عالمی سیاست میں مختلف پیش رفتیں سامنے آ چکی ہیں۔نائن الیون واقعہ کے ساتھ عالمی نظام کو سیکورٹی بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا جس نے بعد ازاں داعش کے جنم لینے کے بعد مختلف ممالک میں طاقت پکڑنے سے یہ بحران مزید طول پکڑ گیا۔ لیکن کورونا وبائی مرض توقعات اور ظاہری حیثیت سے کہیں زیادہ بڑھ کر کسی سنگین بحران کی جانب بڑھنے کا اشارہ دے رہا ہے اور اس سے عالمی نظام کا مستقبل بتدریج غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہے۔
کورونا وائراس اب سے پہلے انسانی سلامتی کو براہ راست متاثر کرنے والا صحت کا ایک عالمی مسئلہ ہے۔ انسانی سلامتی کو انیس سو اسی کی دہائی سے عالمی سیاست و سلامتی کے مرکزی معاملات میں سے ایک کی حیثیت حاصل ہے۔ کورونا وائرس نے انسانی سلامتی و صحت پر وسیع پیمانے کے اثرات پیدا کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ اس کے پہلے اور سب سے اہم اثرات بلا شبہ عالمی اقتصادیات میں محسوس کئے جا رہے ہیں۔ اس مہلک مرض کے کب تک جاری رہنے، کب تک کنٹرول م، انسانی صحت پر قائم کرنے والے نقصانات اور دوبارہ سے اپنا چہرہ نمو دار کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے غیر یقینی نے عالمی معیشت کو بری طرح متاثر کرنا شروع کر دیا ہے جس کے اثرات ہم سب محسوس کرنے لگے ہیں۔
چین کی شرح نمو کے مخالف سمت پکڑنے، چینی پیداوار کے بعض شعبہ جات میں جمود کا شکار ہونے، اٹلی، فرانس، جرمنی اور اسپین کی طرح کے یورپی معیشت کے سر کردہ اداکاروں میں زندگی رک جانے نے امریکہ کی طرح کے اداکاروں کو کاروائیاں کرنے پر مجبور کیا ہے۔ امریکی مرکزی بینک فیڈ کی جانب سے سات سو ارب ڈالر کی خطیر مداخلت کے باوجود مالی منڈیوں میں اس کے اثرات تقریباً نہ ہونے کے مترادف ہیں۔ آئی ایم
ایف کی طرح کی عالمی اکانومی تنظیموں کے مشیرِ اول کے بھی فرائض ادا کرنے والے کینت ریگوف نے دعویٰ کیا ہے کہ عالمی معیشت اوپر تلے کساد بازاری کا شکار ہوتے ہوئے رسیسشن کی شکار ہو جائیگی۔ آکسفورڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے خارجہ قرضوں کے حامل ممالک کے قرضوں کی ادائیگی میں مشکلات سے دو چار ہونے اعلان کیا ہے۔دوسری جانب امریکی مرکزی بینک زیادہ عمل درآمد نہ ہونے والے مالی وسعت پالیسیوں پر عمل پیرا ہو گا۔ فرانس نے پانچ سو ارب یورو کی خطیر رقم کو کورونا کے خلاف اقدامات میں استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدامات اقتصادی جمود میں سست روی لانے سے قاصر ہیں کیونکہ عالمی معیشت اس وقت جمود کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اگر حالات اسی ڈگر پر چلتے رہے تو پھر ایسا لگتا ہے کہ آئندہ دو برسوں تک عالمی معیشت میں بہتری ممکن نہیں بن سکے گی۔ یہ صورتحال بین الاقوامی سطح پر کٹھن حالات کو جنم دے سکتی ہے اوراس سے نازک اقتصادی حالات کے حامل ممالک کا دیوالیہ بھی نکل سکتا ہے۔ لہذا کورونا وبا عالمی معیشت کو کسی بحران میں دھکیلنے سے بھی آگے بڑھتے ہوئے عالمی معیشت کے کسی نئے ڈھانچے کو وضع کیے جانے کا تقاضا پیش کر سکتا ہے۔
اس وبا کا عالمی نظام سے تعلق رکھنے والا ایک دوسرا پہلو عالمی سلامتی سے براہ راست تعلق رکھتا ہے۔ جیسا کہ جمہوریہ ترکی کا کہنا ہے کہ ”یہ مسئلہ عالمی سطح کا ہے لیکن جدوجہد قومی سطح پر محیط ہے”۔ یہ عمل تمام تر ممالک کو اپنا بچاؤ کرنے کے طرائق کو اپنانے پر مجبور کر رہا ہے۔ ہر ملک اپنے آپ کو اور اپنے شہریوں کو بچانے کے لیے سرگرم ہے۔ چین، اٹلی، فرانس، امریکہ، اسپین، امریکہ اور یورپ کے متعدد ممالک نے انتہائی سخت تدابیر پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ ترکی بھی اس حوالے سے شروع سے ہی وسیع پیمانے کی تدابیر
اٹھانے والے ممالک کی صف میں شامل ہے۔ تمام تر ممالک فضائی رابطے کو تقریباً پوری طرح بند کرچکے ہیں، فرانس نے تمام تر بری سرحدوں کو آمدورفت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے تو برطانیہ یورپ اور پوری دنیا سے ہٹ کر ایک مختلف طرز کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ تا ہم تازہ خبروں کے مطابق برطانوی عوام میں ہر گزرتے دن افراتفری کا ماحول پیدا ہونے کا مظاہرہ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب فرانس نے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کو موخر کر دیا ہے تو اسپین نے نجی اسپتالوں کے انتظامی امور کو سرکاری تحویل میں لینے کا اعلان کیا ہے۔ ہالینڈ میں سال 1973 کے تیل کے بحران کے بعد پہلی بار کسی وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کیا ہے۔ امریکہ میں وائرس کے پھیلاؤ کے بعد سے انفرادی طور پر اسلحہ کی خرید میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اگر یہ حالات جاری رہے تو افراتفری کا ماحول اولین طور پر قومی سلامتی کے مسائل کے ظہور پذیر ہونے اور بعد میں ملکوں کے اندر اور بین الالقوامی دیگر مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔
اس عالمی وبا نے عالمی اقتصادی و سلامتی کی طرح کے دو بنیادی ستونوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ دونوں ستون عالمی سسٹم کے مستقبل کے کس رخ کو اخیتار کرنے کا تعین کریں گے اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اب کے بعد رونما ہونے والے حالات تمام تر عالمی اداکاروں کو قوتِ مدافعت کی پیمائش کی آزمائش کے سلسلے میں داخل کریں گے۔
پہلی مزاحمت انفرادی سطح پر ملکی معیشت پر نظر آئے گی۔ مضبوط اقتصادیات وبا کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے لیے مالی مشکلات سے دو چار نہیں ہوں گی تا ہم منظر ِعام پر آنے والے اتار چڑھاؤسے آخر کار یہ بڑی اقتصادیات وسیع پیمانے کی مشکلات سے نبرد ِ آزما ہونے پر مجبور ہو جائیں گی۔ کمزور اقتصادیات کے پاس مزید کھونے
کو کچھ باقی نہیں بچے گا۔ دوسرا مزاحمتی ٹیسٹ سماجی و انفرادی نفسیات پر ہو گا۔ افراتفری اور کشمکش کے شکار ہونے والے انسانوں کی تعداد میں اضافہ سماجی نفسیات اور برتاؤ پر اثر انداز ہوگا جو کہ سیاسی افراتفری کا موجب بننے والے نتائج کو جنم دے گا۔ اس بنا پر سماجی مزاحمت قوی ہونے والے معاشرے کم نقصانات کے ساتھ اس دور سے نکلنے میں کامیاب رہیں گے۔ تیسرا ٹیسٹ حکومتوں پر ہوگا۔ معیاری عمل درآمد اور لائحہ عمل پر عمل پیرا ہونے والی حکومتیں اس وبا سے کم سے کم سطح پر متاثر ہوں گی۔ کمزور مملکتیں مزید لاغر بن جائینگی اور شاید انتہائی سنگین حالات کا سامنا کریں گی۔اس وبا کے خاتمے کے بعد ہم سب کو ایک ملبے کا سامنا ہو نے کا احتمال قوی ہے۔ یہ ملبہ کسی نئے عالمی نظام کے قیام کے لیے کس طرح کی زمین ہموار کرے گا ہم سب اس کا مل کا مشاہدہ کریں گے۔
کرونا وائرس کے پھیلاؤ نے ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کرائی کہ آج گلوبل ولیج میں کوئی ملک دوسرے ملکوں سے ہٹ کے گزارا نہیںکرسکتا۔ کرونا وائرس اب ایک عالمی چلینچ میں تبدیل ہوگیا ہے جس نے تمام ملکوں کو وبائی مرض کے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔کوویڈ-19 نے سب سے پہلے تین میہنے قبل چین کو متاثر کیا لیکن اب تمام ممالک اس وبائی مرض کا شکار ہوگئے ہیں۔روزانہ بہت سے افراد کرونا وائرس کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان میں سے بعض افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس صورتحال میں حکومتیں زیادہ مداخلت کیساتھ نئی پالیسیاں اپناتی ہیں، مختلف ممالک میں شہریوں پر زیادہ پابندیاں عائد ہوتی ہیں، مزید شہر قرنطینہ ہوجاتے ہیں، اسٹاک ایکسچینج کو ایک کے بعد دیگرے فروخت کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کمپنیاں، فیکٹریاں اور دفاتر بند ہونے جار رہے ہیں جبکہ بین الاقوامی نقل و حمل کا نظام بھی تقریبا روک گیا ہے۔
حالیہ دہائیوں میں بین الاقوامی نظام کو متعدد بحرانوں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان میں سے کوئی بھی کرونا وائرس کی طرح تمام ممالک بشمول چین، امریکہ، ایران، اٹلی، اسپین، یورپ، ایشیا اور افریقہ کو اپنی لپٹ میں نہیں لے سکا۔
اگرچہ سرد جنگ کے دور میں نائن الیون کے واقعات بین الاقوامی رجحانات اور نئے سکیورٹی بحرانوں میں تبدیلی کا باعث بنے۔، داعش دہشتگرد گروہ کے عروج نے مشرق وسطی سے لے کر یورپ تک سلامتی کے خدشات کو وسعت دی اور اکیسویں صدی کے پہلے عشرے میں دنیا مالی بحران سے دوچار ہوگئی، لیکن ان بحرانوں میں سے کسی نے عالمی نظم کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا۔لیکن آج کرونا وائرس کے پھیلاؤ نے صحت، سلامتی، معاشی اور معاشرتی شعبوں میں بین الاقوامی ڈھانچے کو بہت سست بنادیا ہے اور اس عالمگیر واقعے کے سامنے بین الاقوامی نظام کی کمزوری کو پہلے سے کہیں زیادہ بے نقاب کردیا ہے۔
ارنا نمائندے نے دس ممتاز پروفیسرز برائے سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات اور سینئر خارجہ پالیسی تجزیہ کاروں کیساتھ انٹرویو میں ان سے پوچھا ہے کہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ کس طرح بین الاقوامی رجحانات پر اثر پڑے گا۔ سینئر تجزیہ کار برائے خارجہ پالیسی کے امور مجید تفرشی کا کہنا ہے کہ “جب ہم کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بین الاقوامی رجحانات پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اس سے فوری، درمیانے اور طویل مدتی اثرات کیساتھ ساتھ قومی، علاقائی اور بین الاقوامی جہتیں بھی پائی جاتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کووڈ ۔19 کے فوری اثرات تو افراد کی صحت، صحت عامہ اور شہریوں کے جانوں کے تحفظ پر توجہ دینی ہے لیکن جب ہم اس فوری اثرات سے گزر جائیں گے تب بھی آئندہ ایک سال میں قدم اٹھائیں گے تو ہم پر معاشی، سماجی، سیاسی اور ثقافتی شعبوں میں اس وبائی مرض کے دیرپا اثرات مرتب ہوں گے ۔وہ مسائل جو شائد اب ہمارے لیے اہم نہ ہو ںلیکن کرونا وائرس کی روک تھام کے بعد وہ بے نقاب ہوجائیں گے۔تفرشی کا کہنا ہے کہ ایران اور دنیا میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ نے حکومتوں کے مقابلے میں لوگوں کے مطالبات کو زیادہ سنجیدہ اور شفاف بنا دیا ہے جس سے بدعنوانی اور دھڑے بندی کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کرونا وائرس سے رونما ہونے والے بحران کے انتظام میں حائل رکاوٹوں نے اس بات کا باعث بنی ہے کہ بغیر کسی تعاون، شفافیت اور قومی نگرانی کے بحران کا کنٹرول نہ ہوجائے۔سنیئر سیاسی تجزیہ کار نے کہا کہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بھی ایسا ہی ہے۔ امریکہ میں، نائن الیون سے پہلے دیئے گئے نعروں جس میں امریکہ کی تقدیر کو دنیا سے منقطع کرنے پر زور دیا گیا اور بعد میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ”فرسٹ امریکہ” کے نعرے میں مجسم ہوا، کے برعکس اب امریکہ کرونا وائرس سے متاثرہ سب سے زیادہ تر افراد کے نمبر پر ہے جس سے یہ ظاہر ہوتی ہے کہ واشنگٹن اپنی قسمت کو عالمی برادری سے الگ نہیں کرسکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ کرونا وائرس نائن الیون سے بہت زیادہ امریکہ اور بین الاقوامی نظام میں تبدیلی کا باعث بنے گا۔ ایک طرف، دنیا اور خاص طور پر بڑی طاقتیں بڑے پیمانے پر فوجی، جنگ اور ایٹمی معاملات میں سرمایہ کاری پر غور کرنے کے بجائے صحت کے انفراسٹرکچر کی تعمیر نو اور نازک معاشیوں کی حالت پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کریں گے۔تفرشی کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کا یورپی یونین پر بھی نمایاں اثر پڑ سکتا ہے اور اب سے یورپی باشندے اپنے مستقبل کے بارے میں بہت زیادہ فکر مند ہیں اور ان کے درمیان یورپی یونین کے مستقبل کے بارے میں شدید اختلافات ہیں۔”
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس اس خطے میں مشترکہ معاشرتی اور معاشی رکاوٹوں کی وجہ سے اتحاد کو مزید متحد کرسکتاہے اور نازک معیشت والے ملکوں خصوصا اٹلی اور اسپین سے وسوسے اور شکایات یونین کے دوسرے ممبروں سے سنی جاسکتی ہیں۔ان کا خیال ہے کہ اگر وہ برطانیہ کی طرح یورپی یونین سے علیحدہ ہوجاتے تھے تو ان کی پریشانی کم ہوتی اور غریب ممالک کے اخراجات میں انھیں حصہ نہیں لینا پڑتا۔لیکن یہاں دوسروں کی مدد دینے اور یورپی یونین کے تحفط کرنے کیلئے فرانس اور جرمنی بحیثیت یورپی یونین کے قائدیں کا اپناتے ہوئے موقف کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
تہران یورنیورسٹی کے پروفیسر برائے روسی علوم جہانگیرکرمی کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی رجحانات پر کرونا وائرس کے اثرات کا جائزہ لینے کے لئے ہمیں کوویڈ-19 کے بارے میں حکومت کے رد عمل کے نتائج کا انتظار کرنا ہے۔ اس بیماری کا دائرہ کس حد تک پھیلتا ہے اور مختلف ممالک میں اموات کی شرح کیا ہوگی یہ مستقبل کے بین الاقوامی رجحانات کے نتائج کا ایک پیمانہ ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی اس وبائی مرض کے پھیلاؤ سے چار مہینے گزر چکے ہیں جس سے رونمما ہونے والی صورتحال شرح ذیل ہے:
پہلا؛ شہری سلامتی کے خطرات کی بین الاقوامی نوعیت اور ان کے تباہ کن اثرات کو اقوام ِعالم کی سلامتی اور صحت پر زیادہ توجہ دینا جو قدرتی طور پر بین الاقوامی تعاون کی ضرورت کو بڑھاتا ہے اور قومی اور بین الاقوامی سلامتی میں سویلین رجحانات پر توجہ دیتا ہے۔
دوسرا؛ عوام کی حفاظت کیلئے حکومت، قومی خودمختاری اور بین الاقوامی سرحدوں کے تصور کو تقویت دیں اور لوگوں کی توجہ اپنی صحت و سلامتی کے تحفظ کیلئے حکومتوں کی اہمیت اور ضرورت کی طرف مبذول کروائیں۔یقینا اس سے عالمگیریت کے عمل کو نقصان پہنچتا ہے
لیکن یہ صورتحال طویل عرصے تک جاری رہے گی یا عالمگیریت کا عمل کچھ عرصے کے بعد بھی جاری رہے گا یا نہیں تو وہ آنے والے مہینوں تک اس بیماری کی حالت سے وابستہ ہے۔
تیسرا؛ ریاستوں کے کردار اور قوم پرستی کی اہمیت کو تقویت دینے کے ساتھ ساتھ عالمگیریت کے رجحانات میں کمروزی؛ یقینا مسابقتی جہتوں کے مقابلے میں بین الاقوامی تعاون کو کم کیا جاسکتا ہے اور آنے والے مہینوں کے حالات کے پیش نظر یہ شدت اختیار کرسکتا ہے۔
چوتھا؛ سیاسی، معاشی اور سلامتی کے شعبوں میں بین الاقوامی نظام کے ڈھانچے اور اصولوں میں تبدیلی لانے کا باعث بن جاتا ہے مثلاـ” ممالک کے درمیان تعلقات مسابقتی ہونے کیساتھ ساتھ عالمی معاشی اور تجارتی پیداوار اور تقسیم کے رجحانات میں خود کفیل رجحانات پیدا ہوسکتے ہیں اور اس کے زیادہ دیرپا نتائج برآمد ہوں گے کیونکہ بنیادی طور پر حالیہ صدیوں میں عالمی نظام، پیداوار اور تجارت کے رجحانات سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
پانچواں؛ بڑی طاقتوں بالخصوص امریکہ اور چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے کردار کی دوبارہ وضاحت ہوجائے گی ۔خاص طور پر اگر موجودہ صحت کے نتائج ویسے ہی رہیں تو امریکہ کے مقابلے میں چین کی بین الاقوامی پوزیشن میں اضافہ ہوگا۔
اقوام متحدہ، جینوا اور نیویارک میں ایرانی سابق سفارتکار کوروش احمدی کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس نے دنیا کے بہت سارے ممالک کو معاشی مشکلات کا شکار کیا ہے مارچ کے آخری دنوں کے دوران امریکہ 3۔3 ملین افراد بے روزگار ہوگئے ہیں اور یہ در اصل تمام ممالک میں رونما ہونے والے معاشی بحران کی ایک مثال ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 2020 اور 2021 میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری جو بہت سارے ترقی پذیر ممالک
کی معیشت ان سے وابستہ ہے، میں 5 سے 15 فیصد کمی ہوگی اس کے علاوہ 5 ہزار بڑی بین الاقوامی کمپنیوں نے اپنی آمدنی میں 9 فیصد کی کمی کا اندازہ لگایا ہے اور اس بات کی بنا پر 2020 کی منصوبہ بندیوں پر نظر ثانی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کی آمدنی میں -16 فیصد کی کمی آئے گی اور کاروں کی صنعت، ہوایی جہاز کی صنعت اور توانائی کے شعبوں کی آمدنی میں بھی بالترتیب -44، -42 اور -13 کی کمی ہوگی۔احمدی نے کہا کہ اگرچہ بے روزگار ہونے والے افراد، بحران کے اختتام پر اپنے کام پر واپس جائیں گے لیکن معمول کی حالات پر لوٹنے کیساتھ وسیع اور کبھی کبھی تکلیف دہ تنظیم نو بھی ہوگی اور ان عوامل کے نتیجے میں معاون رجحانات میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کورونا بحران کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے، وائرس پر قابو پانے کے بعد وسیع پیمانے پر معاشی اور معاشرتی تنظیم نو کے علاوہ کچھ ممالک کے سیاسی ڈھانچے جو بحران کے انتظام میں کم کامیاب رہے ہیں، میں تبدیلی آئے گی۔احمدی نے کہا کہ مزید اہم بات یہ ہے کہ جس طرح طاعون یا ”کالی موت” نے 1347ء میں تقریبا 50 ملین افراد کی جان لے لی، چرچ کو کمزور کیا اور نشا۰ٌ ثانیہ کی تشکیل کو تیز کیا اسی طرح کرونا وائرس بھی انسانی معاشروں میں نئے طرز عمل اور اعتقادات کا باعث بن سکتی ہے۔
بین الاقوامی بحران گروہ کے ڈائریکٹر برائے ایرانی منصوبہ علی واعظ نے کہا کہ میرے خیال میں کوویڈ-19 کی بیماری اور اس کے پوری دنیا میں تیزی سے پھیل جانے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ عالمگیریت چاہے ہم اس سے متفق ہوں یا متفق نہ ہوں – ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔لیکن عالمی قیادت کو بڑی خامیوں کا سامنا ہے؛ اقوام متحدہ کی نظام میں خامیوں، سلامتی کونسل میں ڈیڈلاک، عالمی ادارہ صحت کی کمزوری اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں پالیسی کا شکار ہونے کو سدھارنے کی بہت ضرورت ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ بیماری کچھ عرصے کیلئے پاپولزم کے خاتمہ کا باعث ہوگا کیونکہ اس نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے ماہرین کی قدر کو بے نقاب کردیا ہے۔
نیویارک میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر برائے ایران کے ترجمان سید علی رضا میر یوسفی نے کہا کہ ابھی کرونا وائرس بحران کے خاتمے کے بعد نظام دنیا پر مرتب ہونے والے اثرات سے متعلق بات نہیں کرسکتے کیونکہ ابھی ہم بحران کے بیچ میں ہیں اور صورتحال میں شدت سے تبدیلی رونماہور رہی ہے اور ہم ایک انتہائی غیر مستحکم صورتحال میں ہیں۔انہوں نے کہا تاہم اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ یہ عالمی بحران اگلے چند مہینوں میں کنٹرول ہوجائے گا اور اس کے معاشی انجام پر توجہ مرکوز کریں گے تو ہم بحرانی دور کے بعد کے بارے میں قیاس آرائیاں کر سکتے ہیں۔اس حوالے سے اکثر لکھے گئے آرٹیکلز میں بحران کے بعد قوم پرستی کو مضبوط بنانا، لبرل ازم کو کمزور کرنا، امریکی طاقت کے زوال کو تیز کرنا، نئی عالمی پولرائزیشن اور چین کی پوزیشن کو مزید بڑھانا، دیوالیہ حکومتوں کی تعداد میں اضافہ، تیل اور توانائی کی کم قیمتوں میں اضافہ اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کے بڑے نقصانات اور ریموٹ لیبر مارکیٹ اور آن لائن خریداریوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بہت بڑے معاشی بحرانوں بشمول 1929ء اور 2008ء کے دو بحرانوں کے جائزہ لینے سے ہم اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ کرونا وائرس کی وجہ سے 2020 میں رونما ہونے مالی بحران، عالمی طاقتوں کی تبدیلی کا باعث ہوگا۔اس تبدیلی میں ان ممالک کا فائدہ ہوگا جو زیادہ لچک، موافقت اور معاشرتی نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں اور ایک متنوع انسانی اور معاشرتی ڈھانچے کی بنیاد رکھیں۔
ایرانی اسٹریٹجک اسٹڈیز مرکز کے ڈائریکٹر برائے گلوبل اسٹڈیز پروگرام دیاکو حسینی کا کہنا ہے کہ عالمی پالیسیوں پر کرونا وائرس وبا کے اثرات کے بارے میں پیش گوئی کرنا ابھی جلد بازی ہے۔ ان کے اثرات کی گہرائی کا دارومدار بحران کے دورانیے پر ہے خاص طور پر دنیا کی معروف معیشتوں میں۔انہوں نے مزید کہا کہ اب تک اس بیماری نے عالمی معیشت کو کئی کھرب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے اور اس سے نسبتا ـ”کساد بازاری کا سبب بنی ہے، لیکن صورتحال اب بھی خراب تر ہوسکتی ہے۔ اس کے برعکس جو کوویڈ-19 کیخلاف عالمی اتحاد کی طرح لگتا ہے ان میں عظیم طاقتوں اور حکومت کے مختلف نظاموں کی حیثیت اور اہلیت کے تعین کیلئے مقابلہ ہے۔حسینی نے کہا کہ وہ ممالک جو وائرس کو کنٹرول کرنے اور اس پر قابو پانے میں تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ موثر ممالک کی حیثیت سے بہتر پوزیشن حاصل کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں علاج معالجے اور ویکسینوں کی دریافت کا بھی مقابلہ ہے، جس سے ممالک کی حیثیت کا تعین کرنے میں مدد ملے گی۔
واشنگٹن کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی خاتون پروفیسر شیریںہانتر کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سیاسی نظام پرکورونا بحران کے اثرات واضح ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔ ان اثرات کی نوعیت کا انحصار اس وقت ممالک کے طرز عمل پر ہے۔اگر ممالک خود غرض برتاؤ کرتے ہیں تو خامیوں میں یقینا مزید وسعت آئے گی۔ ابھی تک دوسرے یوروپی ممالک کیجانب سے اٹلی اور اسپین کے لئے خاطر خواہ امداد کی کمی نے یورپی یونین کو کسی حد تک کمزور کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ا گر ممالک اپنے اتحادیوں پر اعتماد کرنے میں ناکام رہے تو یورپی یونین کی بنیادی منطق کا خاتمہ ہوگا اور یقینا عالمگیریت میں کمی ہوگی اور قوم پرست
جذبات میں اضافہ ہوگا۔
ایران کی شہید بہشتی یونیورسٹی کے پروفیسر حسین والہ کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس جیسی وبائی مرض کے نتائج کثیر الجہتی ہیں۔ معاشی طور پر21ویں صدی کی سب سے مہلک وبا 2013 تا 2016 مغربی افریقہ میں پھیلنے والے ایبولا وائرس سے 11300 افراد ہلاک ہو گئے تھے، اور اس طرح یہ رواں صدی کی اب تک کی سب سے مہلک وبا ہے۔
یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ اس وائرس نے زندگی کا پہیہ عالمی سطح پر مفلوج کر دیا ہے ۔ لیکن ہمارا صبر، احتیاط اورحفظانِ صحت کے اصولوں پرسختی سے پابندی ہمیں بہت جلد اس وائرس پر قابو پانے میں ممد ہوگی۔جس طرح ہم نے ماضی کی تباہ کن وباؤں پر قابوپا کر زندگی کے پہیے کو رواں کیا ہے۔ اسی طرح یہ وبائی موسم بھی ضرورنویدِ بہارکا پیامبرہو گا۔ بس تھوڑا سا انتظار…اس وبا کے موسم نے’’ درد کی دہلیزپر ‘‘ جس نفسیاتی اور ذہنی کشمکش اور ہیجان انگیز اضطراب میں مقید رکھا وہ کسی قرنطینہ سے کم نہیں۔لیکن یہ قرنطینہ ہمارے حوصلوں کو پست نہیں کر سکتا۔
ہم تو محصور سدا سے ہیں ہمیں کیا ڈر ہو
تُو نے ہی ہارنی بازی ہے قرنطینہ میں
قید یہ چودہ دنوں کی لگے بھاری نہ ہمیں
ہم نے تو عُمر گزاری ہے قرنطینہ میں
رقصِ وحشت نے کہا آنکھ میں آنسو بھر کے
کیسی سازش یہ ہماری ہے قرنطینہ میں
کل تلک اپنی ہی اُلفت کے پجاری تھے کنولؔ
آج کل اپنوں سے یاری ہے قرنطینہ میں
ایم زیڈ کنول
لاہور

منظوم تاثرات
ڈاکٹراحمد علی برقی اعظمی (دہلی۔انڈیا)

درد کی دہلیز پر کورونا پہ ہے پہلی کتاب
ہے جو اک ایم زیڈ کنولؔ کا کارنامہ لاجواب
عہدِ حاضر کا ہے ذہنی کرب اس سے آشکار
نوع ِانساں کھا رہی ہے جس سے ہر سو پیچ و تاب
یہ وبا ہے کس طرح سب کے لئے سوہانِ روح
اس حقیقت کو کیا ہے شاعرہ نے بے نقاب

جو جہاں ہے اپنے گھر میں وہ مقید ہے وہاں
اس کی اک منظرکشی اشعار میں ہے کامیاب
اس وبائے ناگہاں سے ہرکوئی ہے مضطرب
جانے کب ہوگا جہاں سے اس بلا کا سد باب
پیش کرتا ہے مبارکباد برقی اعظمی
ہے دعاگو سب کی منظور نظر ہو یہ کتاب

……٭{}٭……

 

کورونا۔۔۔
یہ ہے ربّ ِ عُلیٰ کی مشیّت
اس نے بخشی ہے تم کو فضیلت
کر کے تم بھی اب اُس کی اطاعت
اپنے ایمان سے لے کے طاقت
حق کے رستے پہ سیدھا چلو نا
اپنے ربّ پہ بھروسہ کرو نا

……٭{}٭……

خدا سب دیکھتا ہے
وبائیں جب بھی آتی ہیں
بلائیں ساتھ لاتی ہیں
دعا کے ہاتھ سارے ضابطوں
کو بھول جاتے ہیں
دعائیںروٹھ جاتی ہیں
ندائیں تھر تھراتی ہیں
لبوں پہ بلبلاتی ہیں
مگر لفظوں کے گنبد میں
کوئی جنبش نہیں ہوتی
خدا سب دیکھتا،سنتا ہے
پر خاموش رہتا ہے

مگر کیوں ایسا ہوتا ہے؟
یہی سب سوچتے
میں نیند کی دادی میں جا پہنچی
وہاں دیکھا
زمیں پہ برپااس اُفتاد کے ہاتھوں
فرشتے بھی پریشاں ہیں
میں زخمی دل سنبھالے
سانس روکے چشمِ حیراں ہوں
اچانک دیکھتی ہوںکیا
فرشتے کانوں میں ربّ کے
کوئی سرگوشی کرتے ہیں
مگر یہ کیا
یکایک سامنے اُن کے
ہیولا سا اُبھرتا ہے

ارے یہ تو وہی ابلیس ہے
جو راندہ ٔ درگاہ ہوا ربّ کی عدالت سے
یہ کیوں کر اب چلا آیا ہے؟
مولاماجراکیا ہے؟
جھکا کر سر لگا ابلیس کہنے
معاف اب کر دے مجھے
میرے خدامیں باز اب آیا
زمیں والوں کو اب
میری ضرورت ہی نہیں کوئی
وہ بندے ،تیرے بندے
جو بہت ہیں لاڈلے تیرے
جنہیں تو نے محبت کا صحیفہ دان کر ڈالا
مگر ان سب صحیفوں کو
انہوں نے گروی رکھ ڈالا

مرے مولا!
قیامت سے بہت پہلے
میں بتلانے یہ آیا ہوں
تو دیکھ اپنے چہیتوں کو
انہوں نے تو مجھے بھی مات کر ڈالا
یہ کیسا وائرس چھوڑا
تری ساری عبادت گاہوں کو ویران کر ڈالا
مساجد میں، منادر میں ،کلیسامیں
غرض ہر جا لگے تالے
میں کس کو ورغلاؤں اب
کسے بہکانے میں جاؤں
ترا گھراور روضے
سب ترے محبوب بندوں کے
ہوئے سنسان ایسے ہیں
کہ میرا دل دہلتا ہے

اسی کارن چلا آیا ہوں
میں تیری عدالت میں
خدا کہتا ہے تو سمجھا کہ یہ ہے عالمِ برزخ
یہ سب تیرا کیا ہے سب
مگر اب بن کے یوں معصوم آیا ہے
کہ جیسے مجھ سے ہیں مستور ابلیسی تری چالیں
بنائی فوج تو نے ہے زمیں پر جانتا ہو ں میں
مگر میں نے کہا تھا نا
تجھے مہلت میں یوں دوں گا
یہی مہلت ہے اب تو دیکھنا
چالیںتری خاشاک ہوں گی سب
مرے بندے سمجھ جائیں گے
تیری اس سیاست کو
بہت ہی جلد
پھر تو دیکھنا آباد ہوں گے

مسجدیں،مندر کلیسا اور سب روضے
فرشتے چپ ہوئے سن کر
لگے فریاد کرنے
ربّ سے اس کے ابرِ رحمت کی
کہ جس کا نہ زُبان ورنگ ہے
نہ مذہب ومسلک
خدا کچھ بھی نہ بولا
دھیرے دھیرے مسکرایا بس
یہ دیکھا ماجرا تو
’’کن‘‘ نے اس کو اِذنِ ربّ جانا
دعائیں بھول بیٹھی تھیں جو رستہ
پھر سے خضرِ راہ ہو کے
موسٰی ؑ ،عیسیٰ ؑکی شریعت لے کے پہنچیں
رحمت للعالمیںﷺ کے آستانے پر
یہ بولیں

آپﷺ رحمت ہیںجہانوں کے
ہم اتنا جانتے ہیں آپﷺ کے در سے
کوئی خالی نہیں لوٹا
کرم کیجئے خدا راہم پہ اپنی آل ؑکے صدقے
سفارش ربّ سے کیجئے
ہم گناہ میں لتھڑے بندوں کی
وہ ربّ ہے مان جائے گا
یہی ایمان اپنا ہے
یہی ایقان اپنا ہے
بچا لے گا وبا سے
اس زمیں پر بسنے والے
سارے بندوں کو
زمیں والوں کے ہی شر سے
……٭{}٭……

لاک ڈاؤن
دوستی کو آزمانے لاک ڈاؤن آ گیا
سرحدیں دل کی ملانے لاک ڈاؤن آ گیا
سب ادھورے کام کر لو اپنے گھر میں بیٹھ کر
یہ خبر سب کو سُنانے لاک ڈاؤن آ گیا
صبر کا پیمانہ بھر کے حسرتوں کے باب میں
دل کی دنیا کو ہرانے لاک ڈاؤن آ گیا

……٭{}٭……

یہ کب اَن لاک ہوگا لاک ڈاؤن
کورونا سے یہ میں نے جا کے پوچھا
ارادے کیا ہیں تیرے یہ تو بتلا!
تو منڈلائے گاکب تک بن کے خطرہ
بہت مفلوج ہو کے رہ گئے ہم
بہت اپنوں کو کھو کے رہ گئے ہم
ہمارے ڈیلی ویجیز والے بھائی
دہاڑی دار دیتے ہیں دہائی
ہمیں تو بھوک نے بھی مار ڈالا

جہاں کی بے حسی نے مار ڈالا
بہت برباد ہو کے رہ گئے ہم
نہیں کوئی مسیحا اپنا یارا
رہے گا کب تلک مفلوج پہیہ
یہ سن کر سب لگا کہنے کورونا
تمہاری زندگی کی شورشوں کو
یہ ساری انجمن کی نازشوں کو
یہ سچ ہے ہرطرف سے میں نے گھیرا
مگر میں کون ہوں یہ میں کیا جانوں؟
تمہارے سر سے آفت کیسے ٹالوں
مجھے بس اتنا ہی کہنا ہے تم سے
مجھے خود بھی نہیں معلوم جاناں
تم انسانوں کی دنیا کا فسانہ
بنایا تم سے ہی انساں نے مجھ کو

پھر اک دن لا کے اس دنیا میں چھوڑا
ہر اک سے میں بھی جا کر پوچھتا ہوں
کھلایا گل یہ کیوں میں کھوجتا ہوں
یہ سازش کس نے کی ہے ایسی گھٹیا
چلو مل کر چلیں ہم ڈھونڈنے کو
یہاں امن و محبت بانٹنے کو
نیا سورج اُفق پہ منتظر ہے
مرادوں کے ستارے بانٹنے کو
کسی کنج ِقفس میں ٹانکنے کو
ستاروں پر کمندیں ڈالنے کو
یہ مجھ سے پوچھتے ہیں روز آکر
جہا نِ رنگ و بو سے تلملا کر
یہ کب اَن لاک ہوگا لاک ڈاؤن؟؟؟
……٭{}٭…

چلو اپنے گھر
عافیت دھوپ میں بیٹھی تھی کفن پہنے ہوئے
خیریت ہونے لگی ملنے کی اس سے خوگر
اِک بھروسے کو تھی وہ اوڑھے ہوئے کاندھے پر
جس میں امیّدچلی آتی تھی چھُپنے اکثر
یک بہ یک جانے ہوا کیا نہ ملی کوئی خبر
چپکے سے اٹھی وہاں سے وہ بہت گھبرا کر
عافیت دیتی رہی اس کو صدائیں لیکن
وہ نہ پلٹی کسی آواز کی سن کر جھانجر
سر پٹکتے ہوئے جانے کہا کیا الفت نے

دفعتاً آئی گلہ کرنے کو ٹوٹی گاگر
بین جو اُس کے سنے روتے صحیفوں نے کنولؔ
آگ سینے کی بجھانے چلاآیاساگر
وہیں امید کہیں بیٹھی تھی پھیلائے ہوئے پر
جس کے پہلو میں تھاالفت کا گھنا ایک شجر
وہیں پر عافیت تھی بیٹھے پسارے ہوئے پر
اس کے بازو پہ تھی خیریت رکھے ہوئے سر
یہ جو دیکھا تو پھر آنچل سے بھروسہ نکلا
آیا یہ کہتے
چلو چلتے ہیں سب اپنے گھر
لاک ڈاون بھری دنیا میں
ہوا ہے اَن لاک
اب مرادوں کے کنولؔ اپنے لئے دامن میں
امن اور پیار کے آؤ چلو بانٹیں گوہر
……٭{}٭……

یہ کیسا وائرس
ہر طرف چھوڑا گیا ہے وائرس
دشمنِ جاناں بنا ہے وائرس
خار وخس بھی دے رہے ہیں بددعا
کس کی غفلت کی عطا ہے وائرس
پوچھتے ہیں ڈالی ڈالی پات پات
کس لئے بھیجا گیا ہے وائرس

……٭{}٭……

احتیاط
وقت کا ہے بس تقاضا احتیاط
خود پہ لازم کرنا یارا احتیاط
طب کی ہے تاریخ میں لکھا ہوا
ہر دوا سے اچھا کرنا احتیاط
یہ کورونا بھی کنول ؔہے وائرس
اس سے لڑنا ہے تو کرنا احتیاط

……٭{}٭……

بے بسی
ہم سے تو دیکھا جائے نہ خاروں کا پیرہن
کیوں رو رہے ہو دیکھ کے تدبیر کا چلن
ہر گلبدن ہے پہنے ہوئے یاس کی قبا
کس نے کہا تھا گروی رکھو اپنی انجمن

……٭{}٭……

نہیں اچھّی
کورونا اتنی سفّاکی نہیں اچھی
جہاں میں اتنی بربادی نہیں اچھی
تُو اپنا گول کر لے بوریا بستر
کنول ؔسے دشمنی اتنی نہیں اچھی

……٭{}٭……

ندائے وقت
فاصلہ تو رکھنا ہے وقت کی ضرورت ہے
وائرس سے لڑنا ہے وقت کی ضرورت ہے
کام سب ادھورے ہیں خوف کے جزیرے ہیں
سوچ لو سنبھلنا ہے وقت کی ضرورت ہے

……٭{}٭……

فاصلہ ضروری ہے
صبر کی صلیبوں پر منزلوں کے آنگن کے
راستے میں لکھنا ہے فاصلہ ضروری ہے
موت کے شکاری کی ہے گرفت بھی کاری
ذہن میں یہ رکھنا ہے فاصلہ ضروری ہے
خاک کے جھروکے سے یہ کنولؔ لگے کہنے
گل بنوں سے کہنا ہے فاصلہ ضروری ہے

……٭{}٭……

Self Isolation
ہم اپنا سب اثاثہ چھوڑ آئے ہیں
ادھورا وہ فسانہ چھوڑ آئے ہیں
جسے آتی تھیں لکھنے چاندنی راتیں
ہماری انجمن کی گلبدن باتیں
وہ باتیں اور قصے بھول بیٹھے ہیں
وہ سب منظر سہانے بھول بیٹھے ہیں
گل و بلبل کے وہ نغمے جو ہر دم دل لُبھاتے تھے
ہمیں اپنا بناتے تھے ،خوشی سے مسکراتے تھے
وہ سب قیدی بنے ہیں اب
وہ لڑنا اور جھگڑنا،روٹھنا پھر مان بھی جانا
ہے دیوانے کا اب سپنا

وہ گلیاں راستے جن پر کبھی چل کر نہ تھکتے تھے
وہ اِک سایہ سا بن کے دن میں پلتے ہیں
جگر کی خاک اوڑھے شام ہوتے ہیں
یہی صبحیں، یہی شامیں ہماری زندگی ہیں اب
بہارِ زیست کے ماتھے کی پیشانی بنی ہیں اب
دعا کرنا محبت کی گھڑی پھر بھول کر رستہ
اُجالے ہاتھ میں لے کر صبا کا بن کے اِ ک جھونکا
کہیں سے آملے ہم کو

……٭{}٭……

پھر کوئی وعدہ ہنسا ۔۔۔
کورونا جب سے آیا ہے
وہ ساری مسکراہٹ
چہچہاہٹ
چھین لایا ہے
جو گل کے بانکپن میں تھی
نہاں سرو و سمن میں تھی
نجانے کیا ہو اپل میں
زمیں نے روپ یوں بدلا
بہاروں نے کفن پہنا
پرندوں نے لکھا
آنکھوں میں اپنی

خوف کا نوحہ
وہ جس نے بھی پڑھا
پڑھتے ہی اپنا گھونسلہ چھوڑا
کسی کوکچھ نہ سوجھا
بس اُٹھا اور چل دیا
وحشی فضاؤں میں
نجانے کیسا نغمہ تھا وہاں چھیڑا
ہواؤں نے
جسے سن کر
محبت نے چلن بدلا
سبھی غنچے ہوئے گھائل
مہک ان کی ہوئی زائل
سُنے جو بین اُس کے تو

فلک سے آفتاب اُترا
زمیں والوں کے دُکھ میں
ہونے کو شامل
جگانے خواب آنکھوں میں
کرن پھر سے سویرے کی
نئی صبحوں کے وعدوں کی
محبت کے نصابوں کی
کوئی خوشبو گلابوں کی
نئے نغموں میں ڈھلنے کو
جہانِ دل میں بسنے کو
کوئی وعدہ نبھانے کو
ہمیشہ ساتھ رہنے کو

……٭{}٭……

رقصِ تنہائی
رقص کرتی تنہائی
در بدر نظر آئی
پر سمیٹے طائرنے
اور پھر لی انگڑائی
بھر کے ایک پیمانہ
چشمِ نم چلی آئی
کھڑکیوں کے آنگن میں
دل گرفتہ شہنائی
رکھنے کو چلی آئی

اپنی ساری دانائی
جہل کے صحیفوں سے
لے کے پھر وہ دا نائی
خواب میں اتر آئی
خواب کے جزیروں میں
تھی کنول کی رعنائی
دیکھی جو یہ پھولوں نے
درد کی دل آرائی
سپنوں کی ادارت میں
گل کی آنکھ زخمائی
خوشبوؤں کے آنگن سے
جانے کیا صدا آئی
آنسوؤں کی چھاگل کی
کرنے کو پذیرائی

اِک کرن محبت کی
خاک میںچلی آئی
اپنی ہی سفارت کی
کرنے کو شکیبائی
چپکے سے چلی آئی
خوشبوؤں کی صنّاعی

……٭{}٭……

ابھی موسم نہیں بدلا۔۔۔
کہا خوشبو کے ہالوں نے
محبت کے اجالوں نے
بڑی الفت سے پالوں نے
دلوں میں بسنے والوں نے
دلوں کو کر کے سی پارا
ہمیں کیوں تنہا کر ڈالا
ابھی تو موسمِ گل نے
کوئی منظر نہ بدلا تھا
وہ دیکھو ہے پڑا اب تک
گلوں کے آستانوں پر

کسی بلبل کااک بوسہ
سجائے اپنی آنکھوں میں
ادھوراساکوئی سپنا
جو اب تک منتظر ہے
گل کے آنچل کے سنورنے کا
کسی غنچے کے کھلنے کا
کسی خوشبو کے بسنے کا
نئے پیکر میں ڈھلنے کا

……٭{}٭……

وقت کی رکابی میں
خواہشوں کا میلہ تھا وقت کی رکابی میں
وحشتوں کا ڈیرہ تھا وقت کی رکابی میں
ایک دن ہوا یوں کہ ایک ناگ چپکے سے
جانے کیسے آبیٹھا وقت کی رکابی میں
اس نے اپنے منتر سے سب کو یوں لبھاڈالا
ہر کوئی چلا آیا وقت کی رکابی میں

سادھوؤں کے منتر کا جب لگا پتہ ملنے
سب نے زائچہ کھولا وقت کی رکابی میں
زائچوں نے پھر مل کر جانے کیا فسوں پھونکا
دل سے پڑ گیا پالا وقت کی رکابی میں
دل نے سارے میلے کو دلرُبا بنا ڈالا
سازِ دل چھڑا ایسا وقت کی رکابی میں
بے کسی کا ریلا بھی ملنے آگیا سب سے
لے کے ساتھ انگارہ وقت کی رکابی میں
جس نے ایک پل میں ہی سب بدل کے نظّارا
دل کو کر دیا پارا وقت کی رکابی میں

……٭{}٭……

چالیس دن کا تھا جوچلّہ میں نے کاٹا چالیس سال
منّت پوری کرنے چلی تو وبا کا پھیلا دیکھا جال
اپنی ذات کے ہو گئے قیدی دن بھی لگنے لگے ہے رات
ہجر و وصال کے سارے قصے لگنے لگے بس ایک خیال
سوہنی کے آنچل میں گروی رکھ کے ساری دانائی
عشق نے بات نہ مانی لیکن کچے گھڑے نے بدلی چال

بدلی رُت نے سُر بکھرائے خزاں نے روکی اپنی سانس
ایک بگولہ دیکھ کے رقصاں صحرا لایا گل کا تھال
بھنور کے آنگن سے بھر کر سب اَنگاروں کودامن میں
سسّی کے پیروں نے ریت پہ لکھّا ا پنے دل کا حال
خوشبووَںکے جھونکے نے کیاسر گوشی کی گلبن میں
آب نگر بتلانے آیا کنول ؔکو وہ سارا احوال

……٭{}٭……

مضمحل پھولوں کی وادی ہے قرنطینہ میں
رکھّی خوشبو کی پِٹاری ہے قرنطینہ میں
کتنے جانباز مسیحا ہیں وطن کے میرے
حوصلے کی نگہ داری ہے قرنطینہ میں
شکریہ تیرا کرونا ہمیں اِک قوم کیا
وار تیرا تیری خواری ہے قرنطینہ میں

ہم تو محصور سدا سے ہیں ہمیں کیا ڈر ہو
تُو نے ہی ہارنی بازی ہے قرنطینہ میں
قید یہ چودہ دنوں کی لگے بھاری نہ ہمیں
ہم نے تو عُمر گزاری ہے قرنطینہ میں
رقصِ وحشت نے کہا آنکھ میں آنسو بھر کے
کیسی سازش یہ ہماری ہے قرنطینہ میں
کل تلک اپنی ہی اُلفت کے پجاری تھے کنولؔ
آج کل اپنوں سے یاری ہے قرنطینہ میں

……٭{}٭……

سوکھے پتّوں پہ تکیہ کرو نا
ظلمتوں میں اُجالا کرو نا
سارے شکوے شکایت بھُلا کے
دل کو بھی آئینہ سا کرو نا
رکھ دیئے شہر کے شہر گروی
مُنصفو کچھ تو چارہ کرو نا

روتے روتے ہوئے بولا بادل
چشمِ گریہ کا سودا کرو نا
آب سے کہہ دیا ہے کنولؔ نے
خاک پہ اب تو سجدہ کرو نا

……٭{}٭……

رہزنوں کو مسیحا کرو نا
بن کے خوشبو کا جھونکا ہنسو نا
……٭{}٭……

دل نے چھیڑی ہے بپتا سنو نا
اپنے ہی آپ پر بھی ہنسو نا
چٹکلہ کل جو صرصر نے چھیڑا
آج بادِ صبا سے کہو نا
خار کی تو سنی ہے دہائی
پھول کا بھی تو شکوہ سنو نا
ہنس کے بولا یہ ہاتھوں کا کنگن
اب رِہائی کلائی کو دو نا

رکھ دیئے شہر کے شہر گروی
منصفو چارہ کچھ تو کرو نا
پیر کی جھانجنیں جھنجنائیں
اب تماشا لگانے چلو نا
خار پوشاک خوشبو کی پہنیں
کوئی تعویذ ایسا کرو نا
زندہ لمحوں کی کر کے سفارت
زندگانی کا محور بنو نا
آب سے کہہ دیا ہے کنولؔنے
گلبنوں پر بھروسہ کرو نا
……٭{}٭……

آج تک جشنِ بہاراں کا گلہ ہے ہم پر
خار زاروں کا جہاں بار بنا ہے ہم پر
نرگسی آنکھ بنی فتنہ چھپانے کے لئے
صبحدم راز یہ فطرت کا کھلاہے ہم پر
ایک آوازہ چھپا بیٹھا ہے کھڑکی میں کہیں
سوکھے پتّوں کی شرارت سے خفاہے ہم پر

اب توجادو کی چھڑی بھی ہمیں جھٹلانے لگی
دھوپ کے اَبر نے سایہ جو کیا ہے ہم پر
آب میں آ کے کنول ؔسے یہ کہا خوشبو نے
اب مرادوں کا جہاں بار ہوا ہے ہم پر

……٭{}٭……

ضرورت
اپنی ہی ذات میں رہتے ہیں کنولؔ آب نشین
اے قرنطینہ ہمیں تیری ضرورت کیا ہے
……٭{}٭……

کہکشاؤں پر ہنسی آکاس بیل
کتنی ہے یہ من چلی آکاس بیل
صبح دم کی دیکھ کر بیداریاں
ظلمتوں سے آ ملی آکاس بیل
خواہشوں کو راستہ ملتا نہ تھا
حسرتوں کے گھر چلی آکاس بیل

ہوش نے ایسے چنے چبوا دیئے
بھول بیٹھی خود کو بھی آکاس بیل
دیدۂ ترمیں کنول ؔکو پال کر
خاک دانِ دل بنی آکاس بیل

……٭{}٭……

در بدر کیا صحیفہ ہوا ہے
رنگِ عالم ہی بدلا ہوا ہے
لاشے بکھرے ہوئے جا بجا ہیں
منکا گردن کا ڈھلکا ہوا ہے
اس کی صورت چھپاؤ نہ ہم سے
یہ ہمارا پیارا رہا ہے
گرتے پتّے کا سارا فسانہ
اَدھ کھلی آنکھ نے کہہ دیا ہے

حبس آنگن کی سن کے حکایت
ایک بادل کا ٹکڑا ہنسا ہے
ایک آوارہ طائر یہ بولا
جانے تقدیر میں کیا لکھا ہے
گوش زد کیا ہوئی وہ حکایت
جسم سوچوں کا دُکھنے لگا ہے
چار سُو ایک ہی تذکرہ ہے
کیا ہوا کیا ہوا کیا ہوا ہے
اشک چشمے کے تھمتے نہیں ہیں
آب سے کیا کنولؔ نے کہا ہے

……٭{}٭……

در محبت کا مجھ سے خفا ہوگیا جانے کیا ہوگیا
ایک رکھّا تھا روزہ قضا ہوگیا جانے کیا ہوگیا
راہ چلتے ہوئے ہاتھ تھامے ہوئے دورِ شام و سحر
جانے کس راستے پر جُداہوگیا جانے کیا ہوگیا
اُلفتوں نے جسے اپنے خوں سے لکھا دھوپ کی اوس میں
نفرتوں کے مرض کی شفا ہو گیا جانے کیا ہو گیا

کوئی رسمِ دُعا معتبر نہ رہی حرف روتے رہے
لفظ و معنی میں کیسا خلا ہوگیا جانے کیا ہوگیا
آب سے آ کے کہنے لگے کیا کنولؔخاک اوڑھے ہوئے
گُلبنوں کا نگر بے رِیا ہو گیا جانے کیا ہو گیا

……٭{}٭……

ڈوبتی سانسوں کی دل آرائیاں
درد نے بخشی ہیں یہ رعنائیاں
خواب سب آنکھوں کے پتھر ہوگئے
چشمِ بینا کی ہیں یہ کٹھنائیاں
عُریاں کر کے مجھ پہ میری اصلیت
جہل کی ہنسنے لگیں دانائیاں

کارِ بد تو نا مے میں لکھّا نہ تھا
پھر بھی کیوں لکھی گئیں رُسوائیاں
آب میں پھونکا کنول ؔنے کیا فسوں
خاک نے کیں انجمن آرائیاں

……٭{}٭……

گرمیٔ صورتِ حالات پہ برہم برہم
دلِ کافر کی خرافات پہ برہم برہم
جن کے لہجے سے گلابوں کی مہک آتی تھی
وہ بھی ہونے لگے ہر بات پہ برہم برہم
جو براہین و دلائل کو بھلا بیٹھے ہیں
وہ ہیں تکرار کی اوقات پہ برہم برہم

وہ جو تھے شوخیٔ گفتار پہ اپنے نازاں
اب ہیں اپنے ہی بیانات پہ برہم برہم
جن کی مسکا ن سے پھولوں نے بکھرنا سیکھا
وہ کنولؔ دیکھے ہر اک بات پہ برہم برہم

……٭{}٭……

ہم کو وہ ساری کہانی یاد ہے
کس نے کی وہ بد گمانی یاد ہے
صبر کی دہلیز پر لکھی ہوئی
جبر کی وہ میزبانی یاد ہے
خواب زاروں کا گلہ جاتا رہا
رتجگے کی شادمانی یاد ہے

جانے کیا دیکھا تھا اس تصویر نے
اب بھی اس کی حکمرانی یاد ہے
زخمِ عریاں بولا یہ ہنستے ہوئے
درد کی وہ راجدھانی یاد ہے
جو کنول ؔنے آب آنگن سے کہا
خاک کو وہ مہربانی یاد ہے

……٭{}٭……

بلبلوں کے جس طرف نالے گئے
وہ گلوں سے دَر نہ پہچانے گئے
جانے کیا جلتی ہتھیلی نے کہا
شمع کے آنگن سے پروانے گئے
رکھ کے گروی اپنے ہی ایمان کو
اپنے جوہر اُن سے منوانے گئے
جن کو ساحل نے لکھاتھا ریت پر
جانے کس آنگن وہ افسانے گئے
خواب کی انگلی پکڑ کے دور تک
چاندنی کے کھیت میں تارے گئے

یک بہ یک بیداریوں نے آ لیا
وہ مناظر کس طرف جانے گئے
بے حسی کی نقرئی چادر لئے
جانتی ہوں کس نگر ہالے گئے
جگنوؤں کو اپنے دامن میں لئے
ظلمتوں کے راستے جانے گئے
بے صداؤں کی نوا بنتے ہوئے
اپنی ہی آواز پرچانے گئے
سو گئی خوشبو کنولؔ کو ڈھونڈتے
جانے کس آنگن وہ نظّارے گئے

……٭{}٭……

کرچیاں آنکھوں کی پتھر ہوگئیں
جانے کس گوہر کا اخگر ہو گئیں
تھک گئی ہیں گفتگو کرتے ہوئے
اب دلیلیں بارِ نشتر ہو گئیں
حد سے بڑھ کر چالیں وہ تدبیر کی
چارہ سازوں کا مقدر ہو گئیں

میرے خوابوں کی سبھی رعنائیاں
رت جگوں کے سیپ کا گھر ہو گئیں
جہل آنچل پر لکھی دانائیاں
فکر و فن کو ساری ازبر ہو گئیں
آب میں رقصاں کنول ؔکی خاک میں
خوشبوؤں کی کاوشیں سر ہو گئیں

……٭{}٭……

زندگی کا چلن آج بدلا ہے پھر
جہل نے بدلا سارا یہ نقشہ ہے پھر
خواب آنکھوں نے لکھی کہانی نئی
جس کا تعبیر نے عنواں سوچا ہے پھر
پھر سجانے کو بازارِ نفرت یہاں
کھل گیا طائروں کا دریچہ ہے پھر

جانے کیا کہہ دیا درد کی آنکھ نے
آبلہ بن گیا اِک ستارا ہے پھر
دیکھ کر آب میں اُلفتوں کے کنولؔ
گل بنوں کا نگر آب دیدہ ہے پھر

……٭{}٭……

ہم نے گزاری زندگی سب امتحان میں
جانے صبا نے کیا کہا صر صر کے کان میں
میں نے کہا تھا یہ نہیں بکنے کے واسطے
پھر بھی یہ کون آ گیا دل کے مکان میں
پوچھا ہے ہر روش سے چمن زاروں نے کنولؔ
آیا ہے آج کون مرے گلستان میں
……٭{}٭……

کسمپرسی کا بلیدان سجا ہے ہم پر
بے ریائی کا جہانبان لُٹا ہے ہم پر
اِس قرنطینہ نے احسان کیا ہے ہم پر
آج وہ بُت بھی مہربان ہوا ہے ہم پر
آئی یہ بادِ صبا ہم کو بتانے کے لئے
جھونکا صر صر کا نسیمان ہوا ہے ہم پر
درد کی سِل کو کسی طور بھی گرنے نہ دیا
دلِ نادان بھی دربان بنا ہے ہم پر

آرزو خواب میں سر کھولے ہوئے بیٹھی تھی
جھوٹی تعبیروں کا غلمان ہنسا ہے ہم پر
یاد کی آخری ہچکی نے رُلایا ہے بہت
کیسے کہہ دوں کہ اُسے مان رہا ہے ہم پر
ایک ٹوٹا سا قلم ہاتھ میں اپنے لے کر
ٰٰٰٓٓٓٓشعر و معنی کا قلم دان ہنساہے ہم پر
وہ تو شاعر ہے اُسے اور نہ سوجھا اُس پل
جاتے جاتے ہوئے دیوان لکھا ہے ہم پر
دیکھ کے درد کے ماروں کو کنولؔ کہنے لگے
وائرس کس نے یہ دربان کیا ہے ہم پر
……٭{}٭……

ہم پہ افتاد میں بھی ابرِ عنایت رکھا
اپنے مولا کا یہ فیضان ہوا ہے ہم پر
آب کو چھوڑ کے آئے جو کنولؔ گلشن میں
گل تو گل خار بھی حیران ہوا ہے ہم پر

……٭{}٭……

کس نے رکھ دیا بادل رات کی پیشانی پر
ماہ و مہر کا کاجل رات کی پیشانی پر
پنجے گاڑھے بیٹھی تھی چار سو ہی دانائی
اس سے آملا پاگل رات کی پیشانی پر
بیٹھے ہیں کنول ؔتنہا گل بنوں کو ٹھکرا کر
خاک کی رکھے چھاگل رات کی پیشانی پر

……٭{}٭……

خواب بن کے مسکایا
زخم کا گھنا سایہ
درد کے دریچوں سے
لے کے یاد کی مایا
انگلیاں چلی آئیں
فکر کا لئے کاسہ

رکھنے آیا چپکے سے
خواہشوں کا انگارا
چھلنی کرنے آیا ہے
کون میرا اکتارا
ہنستے ہنستے آنکھوں نے
اس کو عطیہ دی مالا
سن کے بین خواہش کے
آس بولی جانے کیا
اِک کنولؔ کو خوشبو نے
پانیوں میں دفنایا

……٭{}٭……

وائرس کے وار میں مارے گئے
درد کے پندار میں مارے گئے
ناز جن کو تھا خدائی پر بہت
وہ بھرے دربار میں مارے گئے
اپنے پیروں پر کلہاڑی مار کر
اپنی ہی سرکار میں مارے گئے

سوچ کا تھا زاویہ بدلا ہوا
اپنے ہی افکار میں مارے گئے
کوچۂ دلدار میں مارے گئے
ہم کنول ؔمنجدھار میں مارے گئے

……٭{}٭……

وقت نے کس موڑ پر پہنچا دیا
زندگی نے موت سے ملوا دیا
خواب آنکھیں روتے روتے سو گئیں
رت جگوں نے نیند کو سہما دیا
خوف کی سرحد کا جو دیکھا چلن
ہمتوں کے اَبر کو کفنا دیا

ظلمتوں نے جانے کیا سرگوشی کی
اک دیئے کے دل کو بھی لرزا دیا
حال یہ دیکھا جو گل کی آنکھ نے
خار کے پہلو میں جگنو آگیا
آ ب سے جانے کنول ؔنے کیا کہا
بن کے خوشبو گل کا آنگن آ گیا

……٭{}٭……

کہانیاں کیا سنانے آیا وبا کا موسم
محبتوں کو ہرانے آیا وبا کا موسم
سُنی شکایت جو گلبنوں کی منافقت کی
تو خار آنگن بسانے آیا وبا کا موسم
چلی ہے آندھی مخاصمت کی یوں انجمن میں
دلوں کی بازی ہرانے آیا وبا کا موسم

خزاں کے آنگن میں لا کے رکھا صبا کو کس نے
وہ راز صر صر سے کہنے آیا وبا کا موسم
سمندروں کے صحیفے سے بد کلامی کر کے
یہ کون ساحل پہ رکھنے آیا وبا کا موسم
کنول ؔکی دیکھیں جو خاکداں نے سفارتیں تو
وہ خوشبوؤں کو ہرانے آیا وبا کا موسم

……٭{}٭……

صبر و رضا کا سارا نشہ ہو گیا ہرن
صَرصَر کی آندھیوں نے بھی اب اوڑھ لی تھکن
بولے یہ خار آو چلیں جانبِ چمن
بولا یہ قیس ہم کو تو جانا پڑے گا بن
جس کو اجاڑنے چلیں ظلمت کی آندھیاں
اس روشنی کے پیڑ کا دیکھو تو بانکپن

ہر گلبدن ہے پہنے ہوئے یاس کی عبا
امید کی نظر کوئی آتی نہیں کرن
کیسی بہار اتری نگارِ رباب میں
آئی صبا بھی اوڑھے ہوئے چادرِگھٹن
دن کا سکون راتوں کی نیندیں اجاڑ کر
کہنے لگے یہ خار چلو جانبِ چمن
خاکِ شفا سے بھر کے مرادوں کی جھولیاں
رکھاکنول ؔنے آب میں خوشبوؤں کا سخن

……٭{}٭……

گاڑھ آئی ہوں میں آنکھیں درد کی دہلیز پر
اپنی گروی رکھ کے سانسیں درد کی دہلیز پر
جانے کیا کہنے چلا آیا ہے ہم سے سال بیس
سب لبوں پر ہیں یہ باتیں درد کی دہلیز پر
کہتے ہیں سر جوڑے طائر نیند کا ہم کیا کریں
صبح دم دِکھتی ہیں راتیں درد کی دہلیز پر

تھک گئے صبح و مسا ہم چاکری کرتے ہوئے
بولیں شب سے کائناتیں درد کی دہلیز پر
آسماں کا رنگ بدلا یہ مناظر دیکھ کر
تھیں کرونا کی رکابیں درد کی دہلیز پر
چشمِ نم آئیں چمن میں تتلیاں کہتے ہوئے
گل بنو رکھ دو زکوٰتیں درد کی دہلیز پر
کیاکنول ؔنے کہہ دیا کہ خوشبوئیں رکھنے چلیں
پارہ پارہ دل کی یادیں درد کی دہلیز پر

……٭{}٭……

بال کھولے ہیں صحرا نے گرداب میں
کیا کہا آ کے پُروا نے گرداب میں
یہ کہانی محبت کی ہے دوستو
اس کو لکھا ہے دریا نے گرداب میں
اپنے دامن کو خاروں سے چھلنی کئے
بھیجا جھونکا نسیمہ نے گرداب میں

لے کے جلتی ہتھیلی سے ہنستی نوا
رکھ دیا آبلہ پا نے گرداب میں
بلبلیں چشم نم بولیں کیا کہہ دیا
زخمِ ہائے دریدہ نے گرداب میں
رکھ دیئے پھرکنولؔ آنکھ کے سب صدف
گُلبنوں کے شناسا نے گرداب میں

……٭{}٭……

کام ہم ایسا لا جواب کریں
چادرِ حبس کو سحاب کریں
پیدا کرنے کو ایک تازہ جہاں
پتھروں کا جہاں شہاب کریں
لے کے جگنو کو اپنی مٹھی میں
ظلمتِ شب کو آفتاب کریں
اوروں پر ہی کریں نہ ہم تنقید
کچھ تو اپنا بھی احتساب کریں

گفتگو خامشی سے کرنے کو
روزنِ فکر کو رکاب کریں
کاٹنی ہی پڑے گی تنہائی
ہجر کو وصل کی کتاب کریں
اپنے ہی آپ پر کریں تکیہ
اپنے ہر پل کو ماہتاب کریں
خواب آنکھوں سے دوستی کر کے
رت جگے کو صلیبِ خواب کریں
خاک زاروں کا مان رکھنے کو
اب کنولؔ کو جبینِ آب کریں

……٭{}٭……

دل پہ دستک کا دے کے پتہ آج پھر
بن کے خوشبو کا جھونکا ہنسا آج پھر
زخم ِدل آنسووں سے سجا آج پھر
گل کا بلبل سے جھگڑا ہوا آج پھر
آج گلبن کا آنگن ہنسا تو لگا
ایک خفیہ خزانہ ملا آج پھر

حال قسمت کا پوچھا تو بولا فلک
میرے فن کا ہے چرچا ہوا آج پھر
بے بسی کا ترانہ لکھوں کس طرح
سر بلندی نے دھوکہ دیا آج پھر
بلبلوں کا جو تازہ شگوفہ سنا
کرچی کرچی ہوا آئینہ آج پھر
دھوپ کی اوس سے کیا کنولؔ نے کہا
خاک بن کے سفینہ اڑا آج پھر

……٭{}٭……

دُھند میں لپٹی نوا کا زاویہ مسند نشین
پہلے گروی رکھا دل پھر ہو گیا مسند نشین
کیا کہوں کیا بُت کدے کا حال تھا پچھلے پہر
اِک نوا ہونٹوں پہ تھی اِک نیم وا مسند نشین
انجمن در انجمن جوجاگتی تھیں رونقیں
اب وہاں تنہائی کا آنگن ہوا مسند نشین

بڑھتے بڑھتے فاصلوں کا سلسلہ ایسا بڑھا
یہ ُکھلا عقدہ کہ اب ہے فاصلہ مسند نشین
آب میں شاداں کنول ؔتھے جانے پھر یہ کیا ہوا
سرپھری سی خاک کا ہے دائرہ مسند نشین

……٭{}٭……

کیسی یہ خزاں آئی ہے میرے گلستاں میں
ہر دل ہے سراسیمہ اس بزمِِ نگاراں میں
خوابوں نے ہے دی دستک آنکھوں کے دریچوں پر
تعبیر کا مدفن ہے اس کُنجِ بیاباں میں
سر جوڑے ہوئے بیٹھے ہیں سارے یہاں طائر
کہتے ہیں کہاں جائیں ہم دورِ پریشاں میں

بادل نے سنائی تھی بجلی کو کہانی جو
اُس کا بڑا چرچا ہے اس کوئے بیاباں میں
کس کی ہے شرارت یہ ہر گل نے دُہائی دی
پابندِ سلاسل ہے خوشبو بھی چمنستاں میں
اُلفت کے صحیفوں میں جانے کیا لکھا دیکھا
آئی ہے خرد رکھنے اب فاصلہ زنداں میں
پانی میں بسانے کو وہ لے کے کنولؔ آئے
جو خاک اُڑائی تھی میں نے دلِ ناداں میں

……٭{}٭……

خواب آنگن کو مہنگی پڑی روشنی
اپنے زخموں پہ ہنستی رہی روشنی
چار سُو ظلمتوں کا سویرا ہوا
جانے کس دیس میں جا بسی روشنی
اپنی رُسوائی پر پہلے روتی رہی
جانے کیا سوچ کر پھر ہنسی روشنی

سُن کے بلبل کے نالے وہ پچھلے پہر
گل کے دامن میں چھپتی رہی روشنی
صبر کی سل کو سینے پہ رکھے ہوئی
پہلے شکوہ کیا پھر ہنسی روشنی

……٭{}٭……

سازشی ابر ہو بھی جا خاموش
مُنصفِ جبر ہو بھی جا خاموش
توڑ بھی دے سکوتِ تنہائی
بے ریا دہر ہو بھی جا خاموش
پانیوں میں کنولؔ نہ جل جائیں
چشمۂـ صبر ہو بھی جا خاموش

……٭{}٭……

تنہائی سے یاری کرنا مجبوری ہے
اس کے ہر اک وار کو سہنا مجبوری ہے
تھوڑے دن کی اس دوری کو ہنس کے سہہ لو
ہنس لو اپنے آپ پہ تنہا مجبوری ہے
صبر کرو کچھ دن صر صر کی اوڑھے چادر
بادِ صبا کا آنگن بولا مجبوری ہے

موند لیں اپنی آنکھیں درد کی ندیا نے
زخموں کا اب جاگتے رہنا مجبوری ہے
جلتا پانی کنول ؔسے آ کے یہ بولا
کر لو اب خوشبو سے کنارا مجبوری ہے

……٭{}٭……

عجب مشکل ہے ملنا بھی ضروری فاصلہ بھی
ہمیں ہے جھیلنا یہ امتحانی سلسلہ بھی
لہو آنکھوں کا پتھر ہو گیا ہے آستیں میں
رموزِ عشق سے ہے بے گماں یہ مرحلہ بھی
وہ جوسانسوں میں بستے تھے ہوئے ہیں اجنبی سے
لکھا ہے اُلفتوں نے ہائے ایساسانحہ بھی
یہ کون آیا ہے گروی رکھ کے زندہ ساعتوں کو
چنابِ زیست نے اس کو دیا کچّا گھڑا بھی

لگائی ہجر نے کیسی عدالت جاتے جاتے
جہانِ وصل آیا دیکھنے یہ ماجرا بھی
نجانے کیا کہا خاکِ شفا نے آبلوں سے
لہو لکھنے لگا پانی پہ اپنا مدّعا بھی
کنولؔ نے بھر کے چھاگل آب سے جانے کہا کیا
بسایا اُس نے اپنے آنسوؤں میں آبلہ بھی

……٭{}٭……

dard ki dehliz par

Viewers: 2154
Share