Hafiz Muzafar Mohsin کہانی: دو خوشیاں۔۔۔از: حافظ مظفر محسن

دو خوشیاں تحریر: حافظ مظفر محسن میں نے شور او ہلا گُلا سُنا تو۔ ’’میں اچانک کمرے میں داخل ہوا۔ رُک گیا۔ اور حیرت سے ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔‘‘ارے یہ […]

دو خوشیاں
تحریر: حافظ مظفر محسن

میں نے شور او ہلا گُلا سُنا تو۔
’’میں اچانک کمرے میں داخل ہوا۔ رُک گیا۔ اور حیرت سے ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔‘‘ارے یہ کیا۔ ’’ احمد آج کارٹون نہیں دیکھ رہا۔ ‘‘ یا اللہ خیر یہ سب کیا ہے ۔ اچانک یہ کیسی تبدیلی آگئی۔ وہ تبدیلی جس کی ہم سب گھر والوں کو بڑی دیر سے آرزو تھی۔ ! میں نے احمد کے دادا کو بتایا تو وہ بھی خوشی سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور پیچھے کھڑے ہو کر دیکھنے لگے۔ ہم سب گھر والے بھی اس منظر سے محظوظ ہونے لگے۔
اصل میں ایک عرصہ سے گھر میں ایک ضدی ماحول چل رہاتھا۔ اسکول سے گھر آتے ہی احمد کارٹون چینل لگا کر بیٹھ جاتا۔ چھوٹی بہن التجاء کرتی۔ ’’ پلیز احمد مجھے جانوروں پرندوں والا چینل دیکھ لینے دو۔‘‘ نہیں ہر گز نہیں میں یہ چینل تبدیل نہیں کرونگا۔ وہ ضد کرتی یہاں تک کہ رونے لگی مگر احمد اُس سے کہیں بڑا ضدی تھا۔ اُس نے بہن کو خُوب رلایا لیکن۔ چینل نہ بدلنے دیا اور کارٹون دیکھنے میں محو ہو گیا۔
جب رات احمد سونے لگا تو دادا جان نے اُسے پیار سے بلایا اور کافی دیر تک سمجھاتے رہے۔ اُنہوں نے اُسے بتایا کہ ٹیلی ویثرن پر سب سے اہم پروگرام خبریں ہوتا ہے اورہر ذی روح کی خواہش بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے اردگرد حالات سے باخبر ہو اُسے علم ہو کہ ہمسائے میں کیا ہو رہا ہے۔ ایسے ہی ہمارے اردگرد حالات ہر لمحہ بدلتے رہتے ہیں ہمارا دشمن ہمارے خلاف نت نئی اسکیمیں بناتا رہتا ہے۔ ہمیں بہر حال اُن اسکیموں سے خبر دار اور آگاہ رہنا چاہئے۔
اس لئے احمد بیٹا ضروری ہے کہ تم خبروں کے وقت چینل کارٹون بند کرکے خبروں والا چینل لگا دیا کرو اور ویسے بھی یہ فرض نہیں کہ ہم ہر وقت ٹیلی ویثرن دیکھتے رہیں۔ اس سے تمہیں پتہ ہے ناں آنکھیں بھی خراب ہو سکتی ہیں اور گردن کے پٹھے بھی کچھاؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔احمد نے دادا جان کی باتوں پر توجہ بھی دی اور وعدہ بھی کیا کہ آئندہ وہ کارٹون چینل کے ساتھ ساتھ کچھ اور معلوماتی چینل بھی دیکھا کرئیگا مگر اگلی سہ پہر احمد ٹیوشن وغیرہ پڑھ کے فارغ ہوا تو آتے ہی اُس نے حسب عادت ٹیلی ویثرن آن کیا اور کارٹون چینل لگا کر بیٹھ گیا۔ دادا جان نے ناگواری سے دیکھا اور اپنے کمرے میں چلے گئے۔!ہمارے گھر میں بڑوں کے احترام کی روایت آج بھی موجود ہے۔
احمد کی ماما دُور سے یہ سارا سلسلہ دیکھ رہی تھیں ۔ ’’ ارے احمد احمق کہیں کا دادا جان نے کل تمہیں تفصیل سے سمجھایا تھا کہ ایک تو اس طرح لمبی مدت تک لگا تار ٹیلی ویثرن نہیں دیکھنا چائیے دوسرا ایک ہی چینل دیکھ دیکھ کر تم تو شاید بوریت محسوس نہیں کرتے لیکن باقی سبھی گھر والوں کو تو مشکل ہوتی ہے الجھن سی محسوس کرتے ہیں۔ خبر دار بدتمیز کہیں کا۔ بند کرو ٹیلی ویژن۔‘‘کافی مدت بعد احمد کی ما مانے اُس کو ڈانٹا تھا۔
احمد نے اس بات پر ناگواری کا اظہار کیا اور غصے میں ٹیلی ویثرن بند کر دیا۔ احمد کی ماما نے کان سے پکڑا اور ایک ہلکی سی چیت لگائی اور غصے میں بجلی کا پلگ نکال دیا۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔
اُدھر بسمہ باجی نے اچانک اسکول سے آتے ہی ٹیلی ویثرن آن کیا اور خبریں دیکھنے لگی۔ احمد نے پھر سے ضد شروع کر دی اور کارٹون چینل لگایا ۔ بسمہ باجی نے غصے میں خبروں والا چینل آن کیا اور ریموٹ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر بیٹھ گئی۔ احمد اُٹھا اور اُس نے پھر سے ریموٹ چھین لیا۔ اب کے احمد کی ماما کا پارا چڑھ گیا۔ اُ نہوں نے احمد کو دو عدد تھپڑ رسد کئے اور خبریں لگا دیں۔ جہاں بسمہ باجی کے اسکول میں ہونے والے ’’ قائد اعظم ؒ ڈے‘‘ کے حوالے سے تقریری مقابلہ کی جھلکیاں چل رہی تھیں۔ وہ دیکھ کر خوشی سے اچھل رہی تھی کہ۔ احمد نے کمال ہشیاری سے پھر ریموٹ چھین لیا۔
اچانک بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوئی اور ٹیلی ویثرن خود بخود بند ہوگیا۔ بچوں نے احمد کو چھیڑنے کے لئے خوب تالیاں بجائیں۔او ر خو ب اُس کا مذاق اڑایا۔
ایک دودن معاملہ ایسے ہی متنازعہ ساچلتا رہااور ضدی ماحول کے سائے گھر پر منڈلاتے رہے۔ جو مان جائے وہ بھلا ضدی بچوں میں کیسے نام کما سکتے ہیں۔ اگلی رات دس بجے کھانے پکانے کے چینل پر کوئی خاتون چائینز ڈش بنانا سکھا رہی تھیں اور احمد کی ماما اور بسمہ باجی کے لئے اس سے اہم پروگرام بھلا کیا ہو گا۔ لو جناب اُدھر چائینز ڈش بننے لگی اُدھر پھر سے چھینا جھپٹی شروع ہو گئی۔شاید ریموٹ ٹوٹ جاتا۔
ارے یہ کیا۔ میں گھر میں داخل ہو اتو جنگ کا ماحول دکھائی دیا۔ سب اک دوسرے سے ناراض تھے۔ ماحول اس قدر تناؤ کا شکار ہو تو میرا کھانے کو دل نہیں چاہتا۔ میں نے ٹیلی ویثرن اُٹھایا ۔ بڑے سے ڈبہ میں بند کیا اور سٹور میں رکھ کے تالا لگا دیا۔’’ خس کم جہاں پاک۔‘‘
آج شام میں گھر آیا تو میں نے اک عجب منظر دیکھا وہی احمد جو بڑے لڑائی جھگڑے کے بعد سب گھر والوں کو ناراض کرکے کارٹون چینل دیکھتا تھا آج بڑے انہماک سے ایک روزہ میچ دیکھ رہا تھا۔ وہ کھیل دیکھنے میں آج اتنا محو تھا کہ اُسے میری اور اپنے دادا جان کی اچانک آمد کا بالکل پتہ نہ چلا ۔ہم لوگ بھی وہیں کھڑے ہو کر پاکستان او ر کینیڈا کی ٹیموں کے درمیان میچ کا آخری حصہ دیکھنے لگے۔ پاکستان کے بلے بازوں خاص طور پر شاہد آفریدی نے پوری دل جمعی کے ساتھ کھیلتے ہوئے پاکستان کی جیت یقینی بنا دی۔ پھر بھی سب مستعد انداز میں بیٹھے کینیڈا کی ٹیم کا آخری کھلا ڑی آوٹ ہونے کا منظر دیکھ رہے تھے۔ اس دوران کینیڈا کے اک کھلاڑی نے غصے میں جذبات پر قابو نہ رکھتے ہوئے اک ہمارے کھلاڑی کو بُرا بھلا بھی کہا۔ لیکن ہمارے کپتان اور کھلا ڑیوں نے کمال ہمت سے جذبات پر قابو پاتے ہوئے معاملہ نہا یت سنجیدگی سے رفع دفع کر دیا۔
آخر کار شاہد آفریدی نے ایک بال ایسی پھینکی جو سیدھی وکٹوں میں جاکر لگی۔ اور کینیڈا کی ٹیم کا آخری کھلاڑی بھی آوٹ ہوگیا۔ اور پاکستان نے یہ کر کٹ میچ جیت لیا۔
احمد جذبات سے تالیاں بجانے لگا۔ پیچھے میں بھی کھڑا سب بچوں کے ساتھ پاکستان کی جیت کی خوشی میں زور زور سے تالیان بجانے لگا۔
احمد نے یہ منظر دیکھا تو بہت جذباتی ہوا اور خوش بھی ’’ پاپا آپ کیوں تالیاں بجا رہے تھے۔‘‘ احمد نے نہایت سنجیدگی سے پوچھا۔
’’ بیٹا تمہیں عقل آنے اور پاکستان کے جیت جانے کی خوشی میں۔‘‘ احمد کے دادا جان نے آئستہ سے کیا۔
اور ہم سب خوشی سے ہنسنے لگے۔
***

Viewers: 6693
Share