جمیلہ سراب کا شعری مجموعہ ۔۔۔ یاد کا سورج ڈھلتا نہیں

یاد کا سورج ڈھلتا نہیں جمیلہ سرابؔ رابطہ فون: 0300-9830966 ISBN: 978-969-7578-41-2 زیرِ مطالعہ کتاب جمیلہ سرابؔ کے ایما پر شائع کی گئی ہے اور اس کے جملہ حقوق اورمتن […]

یاد کا سورج ڈھلتا نہیں
جمیلہ سرابؔ

رابطہ فون: 0300-9830966
ISBN: 978-969-7578-41-2

زیرِ مطالعہ کتاب جمیلہ سرابؔ کے ایما پر شائع کی گئی ہے اور اس کے جملہ حقوق اورمتن کی تمام تر ذمہ داری انہی کو مستحسن ہے۔پبلشر یا پرنٹر قطعاً ذمہ دار نہیں۔ ادارہ اردو سخن ڈاٹ کام کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ قارئین تک بہترین اور اغلاط سے پاک ادبی مواد پہنچایا جائے اور اس ضمن میں ہر امکانی کوشش کو بروئے کار لایا جاتا ہے تاہم غلطی کی نشاندہی کا خیر مقدم کیا جاتا ہے تاکہ آئندہ اشاعت میں اس کی درستی کی جائے۔(ادارہ)
(مجموعہءِ کلام)

استحقاق:تمام تصرفات ’’شاعرہ جمیلہ سراب ‘‘کی تحویل میں ہیں
ناشر: اردو سخن ڈاٹ کام، پاکستان
نمودِ اول:جون 2017ء

کمپوزنگ: محمد شہریار ناصر
سروروق: ناصر ملک
طباعت: شیرِ ربانی پریس، ملتان
قیمت:300 روپے (30یورو، 35ڈالر)

انتساب

حوا کی ان بیٹیوں کے نام
جو عمر بھرسفر میں رہیں
اور
نشانِ منزل نہ پایا

جمیلہ سراب کی شاعری، ایک تازہ اورخوشبودار جھونکا

ازل سے آج تک انسان کے جذبات و احساسات وہی ہیں۔ خطا، پشیمانی، توبہ، گستاخی، محبت، چاہت، خوشی، شادمانی، غم و الم، رنج، پچھتاوا، معافیاں، ناراضیاں، کوششیں، ناکامیاں، عزم و حوصلہ، دل شکستگی، دل فریبی، خواب، عذاب، سراب۔ وہ انہی سے نمٹتا چلا آ رہا ہے۔ جنہیں وہ کبھی ادیب بن کر داستانوں میں رقم کرتا ہے اور کبھی انہی جذبات و احساسات کو شعر کے قالب میں ڈھال کر شاعر کہلاتا ہے۔ یوں کہ ہر بار ہر نئے شاعر کے اسلوب سے تخیل کے نئے دریچے کھل جاتے ہیں۔
ایک شاعر اپنے احساسات کی یوں ترجمانی کرتا ہے کہ کتاب ترتیب پا جاتا ہے۔ بظاہر چند غزلیں، نظمیں ، قطعات اور رباعیاں تخلیق پاتی ہیں لیکن درحقیقت یہ ایک انسان کی زندگی کا احوال اور شیرازہ ہوتی ہیں جن سے اہلِ دل، اہلِ قلم اور اہلِ نظر کو ان تمام دکھوں، تکلیفوں، مسرتوں اور نرم و گداز جذبوں کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے جن سے وہ شاعر گزرتا ہے۔
ان تمام احساسات سے وہ بھی اپنے دلوں کو شاعر کے کلام کے ہم آہنگ دھڑکتے ہوئے محسوس کرتے ہیں۔ احساسات کی اسی قدرِ مشترک سے کلام کو داد و تحسین حاصل ہوتی ہے۔ زیرِ نظر کتاب میں شاعرہ جمیلہ سرابؔ نے جس سادگی سے اپنے احساسات کو شاعری میں عیاں کیا ہے، وہ قابلِ ستائش و لائقِ تحسین ہے۔ شاعرہ کے الفاظ میں بھرپور نغمگی موجود ہے۔ سوزِ دروں کی پر کیف کیفیات کا احوال ان کی شاعری میں پایا جاتا ہے۔ یہ کیف دلوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔
جمیلہ سرابؔ کی شاعری بلاشبہ اردو ادب میں ایک تازہ اور خوشبودار جھونکے کی طرح وارد ہوتی ہے اور داد و تحسین کی خصوصی مستحق ہے۔
مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ زیرِ مطالعہ کتاب اہلِ دل اور اہلِ فکر اصحاب کیلئے کسی یادگار تحفے سے کم نہیں۔ ہے۔
خدا کرے زورِ قلم اور زیادہ ہو۔ آمین

صنوبر گل خان
ایڈووکیٹ، کالم نگار
لیہ (مورخہ 20 اپریل 2017ء)


یاد کا سورج ڈھلتا نہیں

میں نے بارہ سال کی عمر میں اس شعر سے اپنی دلی کیفیات کو شعر کے قالب میں ڈھالنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔
گر جھیلنی تھیں زمانے میں ذلتیں
تو اے کاش! دنیا میں آئے ہی نہ ہوتے
یہ شعر میں نے سبق نہ یاد کرنے پر امی جان کی مار کھانے کے بعد نہایت رنج کے عالم میں کہا تھا۔
لکھنے کا شوق مجھے بچپن سے ہی تھا مگر حالات نے یہ خواہش پوری نہ ہونے دی۔ گردشِ ایام کی تندی و تیزی سے نبردآزما رہ کر چند لمحے بالآخر لکھنے کیلئے حاصل کرتی رہی۔ مگر یہ سلسلہ قائم رکھنا اور کتاب کی صورت میں احبابِ ادب کے سامنے پیش کرنے کا خیال کبھی دل میں نہ آیا تھا۔
میرے نزدیک زندگی کے اتار چڑھائو ، دکھ سکھ، جذبات و احساسات صرف اپنی ذات تک محدود رکھنا ہی بہتر عمل تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ خیالاتِ انسانی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ مجھے بھی اپنے احساسات و قلبی کیفیات کو کتاب کی صورت میں محفوظ کرنے کا شوق ہوا۔ احباب نے میرے ارادے کی حوصلہ افزائی کی جس کے سبب میری تحریروں کو حتمی شکل نصیب ہوئی۔
میں نے اپنی آنکھوں سے دنیا کو اور غمِ دنیا کو جس انداز سے دیکھا ہے، یا اپنے دل میں محسوس کیا ہے، اسے اپنے الفاظ میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ شاید میرا انداز آپ کو پسند نہ آئے مگر یہ میرا اندازِ سخن ہے۔ آپ کی پسند اور آپ کا خیال و انداز آپ کے ساتھ۔ میرے پاس میرا خزانہ ہیں، یہ لفظ جو احساسات کی صورت پیشِ خدمت ہیں۔
مجھے قوی امید ہے کہ میرے ان الفاظ کو سخن کی دنیا میں قبول کیا جائے گا اور میری شاعری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کیونکہ میرے الفاظ سے حوا کی بیٹیاں اپنا دل میرے ساتھ دھڑکتا ہوا محسوس کریں گی۔
میرا ماننا ہے کہ امید کے ساتھ منزل کی جانب سفر شرط ہے، منزل ملے یا نہ ملے۔
دعا کی طالب؛ دعا گو
جمیلہ سرابؔ
لیہ (مورخہ 29اپریل 2017ء)


حمد باری تعالیٰ

کاش اتنے الفاظ ہوتے میرے پاس
میں بھی بیان کر پاتی اللہ کی ثنا

اشکوں سے دھوتی چہرے کو میں اپنے
فرض محبت کا پھر ہو جاتا ادا

میرے رب کا وعدہ ہے محبوب سے اپنے
امتِ محمدیؐ کبھی بھی نہ ہو گی فنا
میں نے دیکھا نہیں اس انسان کو مرتے
دے دیتا ہے رب جس کو دنیا میں جزا

میری جاں کا تو مالک ہے پھر بھی یہ خواہش ہے
مجھے جامِ شہادت کا موقع دے خدا


نعتِ رسول مقبولﷺ

اک بار لکھ دے میرے نصیب میں زیارت مدینے کی
بدل جائے گی قسمت میرے ڈوبتے سفینے کی

آ کے رو لوں ، چوم لوں جالیاں میں روضے کی
پھر نہ مانگوں گا مہلت میں اور جینے کی

دستِ محمدؐ نے جس طرح رکھا حجرِ اسود کو
لکھوں گا میں بھی تعریف اسی قرینے کی
اسماعیل کے مبارک قدموں سے جو ابل پڑا ہے
حسرت ہے مجھے اس آبِ زم زم کے پینے کی

یا رب! ملے گی ٹھنڈک میرے سینے کو تب ہی
دیکھوں گی اپنی آنکھوں سے جب گلیاں مدینے کی

غزلیں

——

آواز دوں گا میں بھی تجھے دنیا کی بھیڑ میں
میری طرح پلٹ کر مجھے تو پکارنا

بچھڑ گئے اگر کبھی ہم حادثوں کے درمیاں
ڈھونڈیں گے ایک دوسرے کو ہمت نہ ہارنا

ابھی تو بچھے ہیں کانٹے ہر راہ میں ہماری
وعدہ رہا کہ ایک دن ضرور ہے ان کو سنوارنا

کاندھوں پہ رکھا بوجھ ہے جیسے یہ زندگی
مقروض کی مانند اسے رفتہ رفتہ اتارنا

روز بگڑ جاتی ہے تصویرِ زیست اگرچہ
ہے عزم کیا میں نے روز اس کو نکھارنا

——

جفا پر میں تیری کبھی رویا بھی نہیں
لیکن میں رات بھر کبھی سویا بھی نہیں

مانا کہ غلط سمت میں چلتا رہا لیکن
میں نے نشان واپسی کا کھویا بھی نہیں

جو داغ لگا سینے پر تمنا کا تیری
آنسوئوں سے میں نے اسے کبھی دھویا بھی نہیں

ہنستا رہا جیتا رہا کبھی کانوں کان خبر نہ دی
میں نے درد اپنی پلکوں پہ پرویا بھی نہیں

جس کی فصل ہو مانندِ وبالِ جاں سرابؔ
ایسا کوئی بیج میں نے کبھی بویا بھی نہیں

——

اپنی ہستی کو مٹا دیں گے
ہاں ! ہم تجھے بھلا دیں گے

لکھے جو خط تجھے خود پڑھیں گے ان کو
پڑھ پڑھ کے روئیں گے اور جلا دیں گے

خود ہی تجھ کو چاہا ہم کو ہی تھا پیار تجھ سے
اسی خطا پہ خود کو ہم سزا دیں گے

دل کی نہیں سننی اب جتنا بھی تڑپے
کوئی نہیں تیرا دل کو سمجھا دیں گے

اب نہ ملے گا راہ میں تجھے سراب کوئی
آنکھوں سے اب پردہ ہم اٹھا دیں گے

——

روح کی بھی غذا چاہیے مجھے
اپنی آواز تو ذرا سنائیے مجھے

آپ کے بغیر کیسے زندگی گزاروں
خدارا اپنے لفظوں میں سمجھائیے مجھے

پوچھ رہا ہوں ان کا پتہ جانے کب سے
دو قدم ساتھ چل کر بتائیے مجھے

راہِ شوق میں نکلا تھا میں تنہا ہی
اب ہاتھ تھام کر گھر مرے لے جائیے مجھے

نہ دنیا دار ہوں نہ میں دنیا شناس ہوں
کچھ رموز و اوقاف آپ ہی سکھائیے مجھے

——

وہ سمندر تھا میں پیاسا تھا
وہ غنی تھا اور میں ہی کاسہ تھا

کہکشائوں کا ہر رستہ
اس کے گھر کو جاتا تھا

جھرمٹ میں حسینوں کے مجھ کو
تیرا ہی چہرہ بھاتا تھا

تیرے نام کے ساتھ ہر شخص
میرا نام لگاتا تھا
دھوپ میں ننگے پائوں کوئی
مجھ سے ملنے آتا تھا

تیرا رویہ مجھ سے جاناں
تولہ تھا کبھی ماشہ تھا

اب اس کو میری خبر نہیں ہے
کل جو میرا درد شناسا تھا

——

میری آرزو کا دل میں تیرے قیام ہو گا
مجھے بھولنے میں ہر پل تو ناکام ہو گا

تو ہاتھ اٹھائے گا جب آئے گی میری یاد
دعا بن کے تیرے لبوں پر میرا نام ہو گا

تنہائیوں میں اس کی رنگوں کی محفلوں میں
میرا ہی تذکرہ ہر صبح و شام ہو گا

بھول نہ پائے گا میری وفائوں کو کبھی
یادوں میں گم رہنا بس تیرا کام ہو گا

ترسے گا تو بھی دیکھنا میری طرح عمر بھر
ہاتھوں میں تیرے خالی محبت کا جام ہو گا

——

ڈوب رہا ہے یہ سفینہ تو بتا کیسے
قسمت میں اس کی میں ساحل کر دوں؟

یہ جو تیری میری بے رنگ ادھوری سی کہانی ہے
کوئی ایسا رنگ بھروں کہ جھلمل کر دوں؟

تیری آنکھوں کے خالی پن کو دور کر کے
محبت میں تجھے تھوڑا سا پاگل کر دوں؟

خشک صحرا آبلہ پا لوگوں کی تمنا کیسی
اپنی دعائوں سے اس شہر پہ بادل کر دوں؟

زندگی میں تو تیری ایک خواہش بھی کر نہ سکا تمام
اور تیرا تقاضا ہے کہ تجھ کو مکمل کر دوں؟

——

آنسو کو اپنی آنکھ سے گرنے نہیں دیا
حرفوں کو تیرے نام کے بکھرنے نہیں دیا

سورج تھا تیری یاد کا یا تیرے جیسا چاند
آنکھوں کے آئینوں سے اترنے نہیں دیا

منتظر تمہاری راہ میں برسوں کھڑا رہا
غیروں کو اپنے پاس سے گزرنے نہیں دیا

آنکھوں میں یوں اتر گئے تیرے تصورات
منظر تمہارے پیار کا بگڑنے نہیں دیا
دنیا نے دی سزا جو تھی وہ موت سے بری
لیکن ترے خیال نے مرنے نہیں دیا

وہ تو کوئی سراب تھا ، چشمہ لگا مجھے
حسرت کی مشک کو مری بھرنے نہیں دیا

——

جھوٹا ہی کیا ہوتا، وعدہ تو کیا ہوتا
کچھ دیر سہی لیکن ہم کچھ تو بہل جاتے

ہم راہ طلب کے وہ سچے مسافر ہیں
اک آہ ہماری سے پتھر بھی پگھل جاتے

چن لیتے ہم تیری راہوں سے سب کانٹے
قدموں میں ترے بچھائے کنول جاتے

آنسو بھی ہماری عادت سے ہیں خوب واقف
آنکھوں میں نہیں آتے دل کی جانب نکل جاتے

تیرا ساتھ اگر ہوتا جاں دیتے وفا میں یوں
جلا زمانے کے پھر ہم سے دہل جاتے

——

میں تیرے ہر درد کی دوا بن جائوں گا
دیکھنا ایک دن تیرا حرفِ دعا بن جائوں گا

جو برستی رہے تیرے آنگن میں بوندوں کی طرح
خوشیوں کی تیرے لیے گھٹا بن جائوں گا

چھو نہ پائیں گی مجھے کبھی گرم ہوائیں
تیرے لیے میں بادِ صبا بن جائوں گا

نام دے گا تو مجھے حاصل ِ زیست
تیری زندگی کا ایسا لمحہ بن جائوں گا

سوئے ہوئے ضمیر کو بھی جو جگا دیتی ہے پل میں
تیرے لیے میں ایسی صدا بن جائوں گا

——

میرے محبوب مجھ سے سب اپنا مال بھی لے جا
اپنی یاد بھی لے جا، اپنا خیال بھی لے جا

بنتا رہا تھا بیٹھ کر جو ساتھ تو میرے
اپنے وہ حسین خوابوں کے سبھی جال بھی لے جا

میرے ساتھ گزارے تھے جو لمحوں کی طرح
وہ بیتے ہوئے سبھی ماہ و سال بھی لے جا

نہ اب وہ تو ہے نہ اب میں وہ رہا ہوں
اپنا ماضی بھی لے جا، میرا حال بھی لے جا

جینے کے فن کی مجھے اب ضرورت نہیں رہی
چین لوٹنے والے میرا فن و کمال بھی لے جا

——

جا کہ غم میرے ساتھی
اور ہر خوشی تیری سہیلی

تو قافلوں کے سنگ چل
رہ جائے میری ذات اکیلی

تجھے چاہا میرا یہ جرم
سزا لازم خبر ہرسو پھیلی

کب کا وہ پیڑ سوکھ چکا
جس میں چاہت کی چڑیا کھیلی

کسی اور کی قسمت پیار ترا
مرجھا گئے گجرے اور چنبیلی

——

جسے سن کر کب کا بھلا چکا زمانہ
ہم تو میرے دوست وہ قصہ پرانا ہیں

کل جس کی چاہت کا سبب تھا ہر عمل
آج اسی کے لیے ہنسنے کا بہانہ ہیں

منافقت کا کاروبار نہ کبھی ہو سکا ہم سے
ہاں بے لوث وفائوں کا اک خزانہ ہیں

مدت ہوئی خوشیوں کو رخصت ہوئے
اب غموں کا ہی مستقل ٹھکانہ ہیں

مسلسل جو جل رہا ہے کڑی دھوپ میں سرابؔ
نازک سی شاخ پہ رکھا وہ آشیانہ ہیں

——

آئے ہیں اس جہاں میں ہم مثالوں کی طرح
بگڑے ہوئے نصیب کے حوالوں کی طرح

نہ مل سکا رستہ کوئی جس سمت بھی گئے
اُلجھے ہوئے عجیب سے جالوں کی طرح

دیکھے ہیں ہم نے خواب بھی عمر بھر مگر
تعبیر مل سکی نہ خوابوں خیالوں کی طرح

ہم نے ضروری سمجھا رشتوں کے ساتھ چلنا
برتے گئے مگر شطرنج کی چالوں کی طرح

کتابِ زیست میں کہیں کوئی مقام نہ پایا
پڑھا نہ کسی نے ہمیں غیر نصابی سوالوں کی طرح

——

چھو نہ پائیں تجھے دکھ کے سائے کبھی
اور تجھ پر شبِ غم نہ آئے کبھی

جو بھی تجھ کو ضرر دینے کا سوچے اگر
ہے دعا تیرا سراغ نہ پائے کبھی

ہم دعا کے علاوہ تجھے کچھ نہیں دے سکتے
کوئی فصیل ِ جاں نہ تری گرائے کبھی

تیری آہٹ نشان تک ملے نہ اُسے
جو کوئی ارادہ کرے تجھے ستائے کبھی

ہم نہ بھولے تجھے نہ ہی بھولیں گے کبھی
ہے تو وہ کسک جو نہ جائے کبھی

——

یہ زندگی بس اک خواب ہے
چلتا پھرتا ہوا سراب ہے

تیری یاد کی اک خوشی کے سوا
جینا تو ایک مسلسل عذاب ہے

تجھ سے بچھڑے ہوا زمانہ مگر
دلِ ناداں آج بھی بیتاب ہے

ملے تھے ہمارے دلوں کے تار مگر
ہماری قسمت کا ہی خانہ خراب ہے
خلوص و وفا کے بدلے ملتے رہے ہیں غم
ترے ان کہے سوال کا یہی جواب ہے

مرے ہم سفر ہیں چاروں طرف اندھیرے
اور تیرے آنگن میں کھلا ماہتاب ہے

——

سمندر ہے زندگی وہ جس کا کنارہ نہیں ملا
جو گھِر گیا بھنور میں اسے پھر سہارا نہیں ملا

اک بار کھو گیا جو دنیا کی بھیڑ میں
پھر ڈھونڈنے سے کبھی دوبارہ نہیں ملا

رہتے ہیں جو ہمیشہ غم کے کہر میں لوگ
ان کو کبھی خوشی کا اشارہ نہیں ملا

کہتے ہوئے سنا کل لوگوں سے میں نے یہ
رہتا تھا جو یہیں کہیں بے چارہ نہیں ملا
میں ڈھونڈتا رہا اسے تاروں کے درمیان
مجھ کو مرے نصیب کا تارا نہیں ملا

شاید وہ اک سرابؔ تھا ، سراب ہو گیا
لوگوں کو پھر کبھی وہ آوارہ نہیں ملا

——

آج بس ہم ایک کام کریں گے
پل پل کو تیرے نام کریں گے

صبح سے نکلیں گے تجھے ڈھونڈنے ہم
گلی گلی گھوم پھر کر شام کریں گے

کوئی کیا کہے گا ہمیں یہ ہوش کہاں
لوگ تو یوں بھی بدنام کریں گے

جھانکیں گے ہر اک آنکھ میں اب کے
یہ گستاخی تو سرِ عام کریں گے

گوہرِ تمنا مل نہ سکے گا یہ معلوم ہمیں
سرابؔ کے تعاقب میں عمر تمام کریں گے

——

روز پڑتی رہی اوس تیری نفرت کی مجھ پر
میں مہکتا رہا کانٹوں میں گھرےگلابوں کی طرح

ایک سطر بھی تو کبھی مجھے پڑھ نہ پایا
کسی دوسرے مذہب کی کتابوں کی طرح

میں نے سمجھا تھا ابرِ رحمت تجھ کو
تو برستا رہا مجھ پہ عذابوں کی طرح

میں نے دل میں تجھے حکومت بخشی
تو نے برتا مجھے ہی پیادوں کی طرح
میرے احساس کی جاگیر کو تو سمجھا نہیں
تبصرے کرتے رہا مجھ پہ نقادوں کی طرح

بُنتا رہا میں تجھے ایک حسیں خواب کی طرح
تو مگر دور رہا مجھ سے سرابوں کی طرح

——

الفاظ ہی نہیں رہے یا پھر میرا احساس مر گیا
خاموش تھے نظارے میں جہاں سے بھی گزر گیا

میرے ساتھ چلتا تھا بن کے خوشبو کا جو خیال
وہ پھول جانے کب کس کے گجرے میں سنور گیا

مجھ کو بھرے جہان میں ایک وہی اپنا لگا تھا
اوجھل ہوا جو آنکھ سے نہ جانے کدھر گیا

پتھر تھا میں جب تک اس سے نہ ملا تھا
کھویا اسے تو ریت کے مانند بکھر گیا
وہ ساتھ چلا میرے ہیں یہ راستے گواہ
لیکن وہ ہی اس بات سے کب کا مکر گیا

سرابؔ تھا کوئی یا پھر کوئی دریا چڑھا ہوا
جو بھی تھا وہ میری بھی نظروں سے اتر گیا

——

یہ کیا ہوا کہ وہ دل نشیں نظارا نہیں رہا
جو صرف تھا ہمارا وہ ہمارا نہیں رہا

درد بڑھا اس قدر کہ بے حال ہو گئے
رونے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا

دامن چھڑا لیا ہے اک بے وفا نے یوں
اب دوسرا جہاں میں سہارا نہیں رہا

راتوں کو جاگ جاگ کر دیکھتے تھے جس کو
آسمان پر وہی اِک ستارا نہیں رہا

جو بہہ رہا تھا کب سے دو کناروں کے درمیاں
دریا تو رہ گیا ہے ایک کنارا نہیں رہا

——

ہم بھی نہ تھے کبھی جیسے اب ہیں
اس کے پیچھے کئی سبب ہیں

اب ہنسی آتی ہے قاتل کے لب پر
مارنے کے بھی انداز عجب ہیں

چاروں طرف ہجوم میں الجھے لیکن
خالی خالی روز و شب ہیں

ہر کوئی اپنی ذات تک محدود
ہمارے جی میں احساس عجب ہیں
اک بس مزاج شناسا نہیں کوئی
یوں تو رشتے ناطے ہمارے سب ہیں

ہم سے لوگو! کوئی گلہ نہ کرنا
ہم تو خود اپنے ہی کب ہیں

——

ہجر میرا نصیب ٹھہرا اس کے حصے میں وصال آئے
جن کا جواب ہی نہ تھا وہ میرے لب پہ سوال آئے

دیا سہارا آسماں نے مجھ کو ہوا ئوں نے بھی مجھے سنبھالا
راہ میں جب جب میری بے بسی کے بھونچال آئے

میں جی رہا تھا اسی کی خاطر میں مر رہا تھا اسی کی خاطر
بھول کر بھی جسے نہ میرا کبھی کوئی بھی خیال آئے

شکل نہ بدلی مری غموں نے نہ ان کی صورت نکھر سکی ہے
وگرنہ ہم تو کہاں کہاں سے یہ نسخہءِ جمال لائے

دریا تو بہے گا کناروں کے سنگ صحرا میں اب تو سراب ہو گا
وہ عہدِ وفا ہوا ہوئے جن پر ہم یقین کرتے کمال آئے

——

میں صدائوں پر پلٹ کر اب دیکھتا نہیں ہوں
مرا کون تھا، میں کس کی تھی، یہ سوچتا نہیں ہوں

دور نکل گئی ہوں اس کی حدوں سے میں
راستہ کدھر جاتا ہے یہ کھوجتا نہیں ہوں

جھانکیں گے اک روز سب اپنے گریبانوں میں
مجھے کس نے کیا دیا ہے، خود بولتا نہیں ہوں

جس دیوار کے سائے میں میں نے آہ و زاری کی
کس کس کے کان لگے تھے راز یہ کھولتا نہیں ہوں

میری خاموشی سے خوفزدہ ہیں دشمن بھی احباب بھی
میں کسی کے بھی ستم پر کچھ پوچھتا نہیں ہوں

——

ہے سماں کوئی اور
ہے وہاں کوئی اور

یہ جہاں کوئی اور
وہ جہاں کوئی اور

ہم نے ڈھونڈا سارے جہاں میں
نہ ملا ہم کو تیرا نشاں کوئی اور

ربط تجھ سے جو تھا وہ خلا بن گیا
تیری کمی دور کر سکا نہ یہاں کوئی اور
دل کی زمین پر چھا گیا
غم کا اب آسماں کوئی اور

بظاہر اس کی موت پر ہوئی ہر آنکھ پرنم
سب کے سینوں میں تھا درد نہاں کوئی اور

اپنی اپنی غرض میں سارے لوگ
ڈھونڈ رہے ستاروں سے آگے کہکشاں کوئی اور

حیوان تو ازل سے رہا حیوان
ابن ِ آدم بن گیا انساں کوئی اور

——

جب میں نے اسے کھویا وہ دن تھا یا قیامت کی گھڑی تھی
مت پوچھ پھر اس کے بعد کتنی ہر رات کڑی تھی

میں پلٹ کر آیا تھا کسی کی صدائوں پر
پر میرے آگے میری انا کی اک دیوار کھڑی تھی

چل دیا پھر اس کو بھی میں کاندھے پر اٹھائے
زمین پر میری وفائوں کی تڑپتی لاش پڑی تھی

رویا میں لپٹ کر اس سے جی بھر کے میں تڑپا
بدنصیبی میری ہم سفر تھی راہ میں ہر گام کھڑی تھی

میرے دل سے تیری تمنا کبھی نہ ختم ہو سکی
میری ذات میں جیسے ستون سی گڑی تھی

——

تجھے دیکھنے کی آرزو میں دل سے کبھی نہ مٹا سکا
میں کسی کا نہ ہو سکا نہ کسی طرف کو میں جا سکا

حسرت تجھے پانے کی نکل سکی نہ دل سے
نہ مل سکا کبھی تو اور نہ میں تجھے بھلا سکا

تو چلا گیا میرے شہر سے میری حدوں سے دور
تیرے بعد پھر کبھی نہ سکون کہیں میں پا سکا

اختیار میں ہونے کے باوجود عجب بے اختیاری ہے
نہ تو میری جانب نہ میں تیری اور کبھی آ سکا

آواز تو مجھے دی تھی ہر گام دل نے مگر
شاید تو نہ سن سکا شاید نہ میں ہی بلا سکا

——

رفتہ رفتہ یہ دریا اتر رہا ہے کیوں؟
تیری چاہت کا جذبہ مر رہا ہے کیوں؟

اے قاصد! اس سے یہ بھی پوچھنا
اب زمانے سے تو ڈر رہا ہے کیوں؟

میکدے میں جام خالی تھے سبھی
آتا مجھے دیکھ کر ساقی بھر رہا ہے کیوں؟

کاغذی پھولوں پہ یہ بھنورے کیسے
قافلہ ستاروں کا گزر رہا ہے کیوں؟
جانتا ہے میرے دل کی بات بخوبی
پھر بھی صرفِ نظر مجھ سے کر رہا ہے کیوں؟

حق کی بات کرنے والے کو کیوں مٹا دیا
سچے لوگوں پر ہی خنجر رہا ہے کیوں؟

نظمیں


آ بیٹھ میرے سامنے

آ بیٹھ میرے سامنے
لکھوں کوئی غزل
آنکھوں کوتیری لکھوں
کھلتا ہوا کنول
جانتا ہوں تو اک روز آئے گا
دھک دھک نہ کر
میرے دل ذرا سنبھل!
پہلو میں تیرے میں
اور پاس تو میرے
اے زندگی کی رات ذرا
دھیرے دھیرے ڈھل
آنکھوں سے تیری امرت
کچھ اور پی تو لوں
کچھ دیر کو ٹھہر جا
اے میری اجل
آنکھوں کو تیری لکھ دوں
کھلتا ہوا کنول
آ بیٹھ میرے سامنے
لکھوں کوئی غزل


احتساب

لکھ دی آج اپنی داستاں میں نے
فرصت ملے تو کبھی پڑھ لینا
ذکر آئے گا تیری کج ادائی کا
تیری بے وفائی کا
ہو سکے تو اپنا احتساب کر لینا
قدم قدم پر تیرے قربانیاں دیں
تو نے ہمیں غم کی نشانیاں دیں
ترازو بھی ترے ہاتھ دیا
خود ہی سارے حساب کر لینا
لکھ دی آج اپنی داستاں میں
فرصت ملے تو کبھی پڑھ لینا۔۔۔


مجھے بھولتا بھی نہیں

یہ مانتا بھی ہے مجھ سا چاہنے والا
دنیا میں کوئی اور نہیں
مگر وہ کبھی مجھ کو خدا سے مانگتا بھی نہیں
بادل کی طرح میری زندگی پہ چھایا تو ہے
وہ بارش کی طرح لیکن برستا بھی نہیں
چل رہے ہیں ساتھ دو کناروں کی طرح
بن کر ایسا دریا جو کبھی بہتا بھی نہیں
میرے خیال میں جو ہے وہ اس کا بھی تصور ہے
یاد کرتا ہے ہر لمحہ مجھے بھولتا بھی نہیں


مجھے بچھڑے ہوئے یاد آئے

یہ بارش کی رم جھم کہانی سنائے
مجھے بچھڑے ہوئے یاد آئے
یہ بادل کی کڑک یہ بجلی کی چمک
دل کو میرے کیوں ڈرائے
مجھے بچھڑے ہوئے یاد آئے
رک رک کر برستی یہ بارش
دن ہو بچپن کے یاد دلائے
مجھے بچھڑے ہوئے یاد آئے
میں جائوں کہاں اور کس کو پکاروں
کوئی میری ماں کو واپس جہاں تو لائے
مجھے بچھڑے ہوئے یاد آئے
وہ بھائی، وہ بہنیں، کہاں رہ گئی ہیں
بات یہ اتنی کوئی تو مجھے بتائے
مجھے بچھڑے ہوئے یاد آئے
یہ بارش کی رم جھم کہانی سنائے
مجھے بچھڑے ہوئے یاد آئے


اگر بھول جانا آسان ہوتا

محبت کا نام پھر محبت نہ ہوتا
اگر بھول جانا آسان ہوتا
دل لگی کرتے رہتے یونہی چلتے رہتے
ہر روز اپنا یہی کام ہوتا
اگر بھول جانا آسان ہوتا
نہ یاد تیری مجھے آ ستاتی
نہ تجھ کو کبھی بھی میری یاد آتی
نہ صبح شام ہونٹوں پہ تیرا نام ہوتا
اگر بھول جانا آسان ہوتا
ہوتے اگر ہم دونوں دیوانے
دنیا میں ہوتے ہمارے فسانے
یقیناً مرا پھر نہ یہ انجام ہوتا
اگر بھول جانا آسان ہوتا
نہ آنکھیں برستیں یوں بن کے بادل
میں پھرتا نہ گلیوں میں بن کے یوں پاگل
ہوا میں اگر تیرا کوئی پیغام ہوتا
اگر بھول جانا آسان ہوتا
محبت کا نام پھر محبت نہ ہوتا
اگر بھول جانا آسان ہوتا


خوشبو

یہ آج صبح کا رنگ کیوں نکھرا نکھرا ہے
یہ آج ہوائیں کون سا پیغام لائی ہیں
یہ کس کی سانسوں کی مہک لیے
یہ کس کی ہنسی کی کھنک ہے
فضائیں جھوم کر بتا رہی ہیں
یہ کیسا گیت سا سنا رہی ہیں
یہ دل کے آنگن میں چپکے سے کون آ گیا
روح کے گھر میں سما گیا
ہوا میں پھیلی اس کی خوشبو
چمن میں تتلیوں کا رقص جاری
گلوں کا رنگ لگے آج الگ سا
وہ میرے دل کی دھڑکن
خدا اس کا محافظ ہو


ہمارے سیاستدان

چارسُو ہیں کالے ناگ
ہاتھوں سے ہیں پالے ناگ
سکھ کے پیڑ کے نیچے بیٹھے
میرے دیکھے بھالے ناگ
مجھ سے مانگیں مجھ سے چاہیں
دودھ بھرے یہ پیالے ناگ
بھوک سے تو انساں مرتے ہیں
کھا گئے سب نوالے ناگ
میری نسلوں کےدشمن ہیں
کوئی آ کر ٹالے ناگ
پتلیاں ان کی جھڑنے کو ہیں
لگتے ہیں سو سالے ناگ
چنبیلی کی اوڑھ کے چادر
آدمی کو ڈسنے والے ناگ
ریشم کے بستر پر لیٹے
مفلس زاد کے لالے ناگ
کاش کہیں سے جوگی آئے
گھر سے مرے نکالے ناگ
اللہ بچائے میرے بچے
بیٹھے ہیں آل دوالے ناگ


جرمِ وفا

محبت اس قدر بے قیمت تو نہیں کہ
اسے کم ظرف پر لٹا دیا جائے
آ میرے دل ایک فیصلہ کر لیں
آج کے بعد نہ اقرار کیا جائے
ہم قابل ِ نفرت ہیں تو یونہی سہی پھر
اب ہمیں اور دھوکہ تو نہ دیا جائے
یہ ستم پر ستم ہم پر جو ہو رہے ہیں
جرمِ وفا اب اور تو نہ مزید کیا جائے


دعا

یا رب عطا تیری
میں لکھتا ہوں ثنا تیری

میری روح کرتی ہے سجدہ
صلوٰہ میں ہے ادا میری
میں امت ہوں محمدؐ کی
قیامت بھی بقا میری
مایوس میں نہیں ہوتا
تو سنتا ہے دعا میری
جاڑے کی سرد راتوں میں
دیتا ہے دل صدا تیری
لبوں پر درود ہو گا
سرابؔ وقتِ قضا میری


خمیر

سندھ ساگر کے دامن سے مٹی اٹھا کر
پنج دریا کے پانی میں گوندھ کر رب نے
میرا دل بنا دیا
وسیع و عریض دل
جس میں محبت ، بے لوث اور فراخ جذبے،
ایثار کے بھر کر
تنگ نظری کو کوسوں دور کر دیا
اس کے برعکس تمہارا دل بنانے کے لیے
سنگلاخ زمینوں کے سخت پتھروں کی مضبوطی لے کر
تمہارا خمیر اٹھایا گیا
صدیوں کی ترسی ہوئی خشک زمیںلے کر
تمہیں رب نے بنایا ہے
جسے بارشوں نے چھوا نہیں
تمہیں کیا دوش دینا
کہ تمہارے اندر کوٹ کوٹ کر
تنگ نظری بھری ہوئی ہے
تم کیا جانو کسی کو کچھ دے دینا
کتنی خوشی دے جاتا ہے
اور کسی سے کچھ مانگنا
کتنا بڑا احساسِ جرم ہے


عید کا دن

کل عید کا دن ہے اور میں خوش ہوں
کہ میرے شہر کے لوگ عید منائیں گے
گیت گائیں گے خوشی کے میرے سنگ مسکرائیں گے
ہم کچھ یوں جشن منائیں گے
دشمن بھی دیکھ کر بالآخر خوش ہو جائیں گے
سبھی غم سبھی کو بھول جائیں گے
عید منائیں گے کل ہم عید منائیں گے


زندگی کا قرینہ

کاندھوں پر فرض اٹھائے خوشی خوشی
دل میں لگن اس کے سچی سچی
دریائوں سے اب گزرنا ہے اسے
گہرے سمندروں سے بھی نہیں ڈرنا اسے
قدموں میں ہے اس کے یقین کا سفینہ
وہ جا رہی ہے منزل کی اور حسینہ
ظلم کسی پہ بھی یہ گوارا نہیں کرتی
دشمن سے کبھی یہ ہارا نہیں کرتی
دیکھے تھے اس نے بھی خواب کئی
راہ میں آئے تھے سراب کئی
مشکل نہیں سمجھا آنسوئوں کو پینا
وہ جا رہی ہے منزل کی اور حسینہ
وقت کی چال سے چال ملا کر
تقدیر سے تدبیر کا تال ملا کر
ماضی پہ کسی سے جھگڑتی نہیں ہے
شکایت کسی کسے کبھی کرتی نہیں ہے
کہاں سے سیکھا ہے اس نے زندگی کا قرینہ
وہ جا رہی ہے منزل کی اور حسینہ


گیت

یہ عشق نہیں آسان میری جان پلٹ جا
بات یہ میری مان میری جان پلٹ جا

صحرا ہے یہ تپتا ہوا اک، چلنا پڑے گا ننگے پائوں
نہ چھائے گی کوئی گھٹا نہ ملے گی کوئی چھائوں
لے لے گا یہ تیری جان میری جان پلٹ جا
بات یہ میری مان میری جان پلٹ جا
قدم قدم پر ٹھوکر ہو گی کوئی سہارا نہیں ملے گا
اجنبی اس دنیا میں کوئی تمہارا نہیں ملے گا
کہیں ملے گی نہ کوئی امان میری جان پلٹ جا
بات یہ میری مان میری جان پلٹ جا

اس دنیا میں ، اس پنگھٹ کا رستہ نہ کوئی ہموار ملے گا
ڈھونڈے گا تو نگر نگر پر تجھ کو نہ کوئی یار ملے گا
بے رحم ہو گا آسمان میری جان پلٹ جا
بات یہ میری مان میری جان پلٹ جا

رباعیات



میں تو ہوں دنیا کا غنی
میرے پاس نہیں کسی شئے کی کمی
بندھی میرے دل کو ڈھارس ہے
میرے پاس اک ایسا پارس ہے

اب نہ جھکیں گی اپنی نظریں دوسروں کی کوتاہی پر
اب کے ہم اپنی آنکھ اور سر کو اٹھا کے جئیں گے
جو ہمارے جذبوں کا احساس کرے گا
بس اس کی ہم تعظیم کریں گے

پیار کیا چیز ہے اور میں چاہتا ہوں کیا
یہ بھی تو نے ابھی تک تو جانا نہیں
کب کہاں کس لیے تو مجھے چھوڑ دے
اس لیے میں نے ہاتھ تیرا تھاما نہیں

کچھ دیر کے لیے سہی تو میرا سہارا تو ہے
اس ڈوبتی کشتی کو ملا کنارا تو ہے
کسی اور کے دھوکے میں ہی سہی
تو نے میرے دوست پکارا تو ہے

تجھے دیکھ کر میرا دل آج کیوں نہ دھڑکا
تجھ سے ملنے کو نہ جانے آج کیوں نہ تڑپا
محبت نہیں رہی یا پھر بھلا دیا تجھے
جو کچھ بھی ہوا آج اچھا لگا

تم تو سکون میں سوئے رہے ہو رات بھر
اور میں جاگتا رہا ہوں اس خیال میں
کہ تیرا یوں میرے پہلو میں سونا
جیت ہے یا پھر کوئی ہار ہے

میرے لفظ بتائیں گے شدت میری چاہت کی
تو اک بار تو کہہ مجھ سے کہ تجھ پر غزل لکھوں
ہاتھوں کو حنا لکھ دوں آنکھوں کو کنول لکھوں
لبوں کو پنکھڑی لکھوں بدن پھولوں کی منزل لکھوں

ہاں یہی تو موسم تھا جتو میرے سنگ سنگ تھا
حسین نظارے تھے ہم تمہارے تھے تم ہمارے تھے
دور تک کوئی بھی بچھڑ جانے کا غم نہیں تھا
دنیا سے تعلق بھی ہمارا اے سراب کم نہیں تھا

کہانی میری عجیب تھی یارا
میں نے کبھی نہ کسی کو پکارا
خدا ہی فقط تھا میرا سہارا
نظر آ گیا مجھ کو آخر کنارا

سوال میرے دھرے رہے
جواب میں اس نے یہ کہا
یہ دل تو میں نے کب سے
کسی کے نام لگا دیا

ابھی تو آغازِ محبت ہے موسم تو بدلے گا زمانے کا
چاروں طرف سے نفرت کی آندھیاں چلیں گی
لیکن یہ دنیا کیا جانے اس سے محبت کے شعلے اور بھڑکیں گے
محبت کے پھول کھلیں گے اور ہم تم روز ملیں گے

اس نے بڑھا لیا فاصلہ
میں نے بھی کر لیا ہے فیصلہ
بات اب صرف تعلق کی رہ گئی ہے
ایک دھاگہ ہے جس کو توڑنا باقی ہے

یاد کا سورج ڈھلتا نہیں
دل میرا کہیں اب بہلتا نہیں
جس کے لیے پھرتا ہوں ہو کر پاگل
وہ راہ میں بھی مجھے ملتا نہیں

اگر میری یاد تجھ کو کبھی بے پناہ ستائے
میری جان لوٹ آنا
میں یہاں ہی ملوں گا
جہاں چھوڑ کے چلے ہو

پر شوق نگاہیں لائو گے کہاں سے
ہر ذوق نگاہیں پائو گے کہاں سے
کہاں سے لائو گے اس دنیا میں
ہم سا کوئی چاہنے والا

کسی کو پایا نہیں کسی کو چاہا نہیں
یہ زندگی بھی عجیب کھیل ہے
کسی کو مانگا نہیں اور کوئی ملا نہیں
محبت کا حاصل صلہ نہیں لیکن کوئی گلہ نہیں

نظارے بھی گواہ ہیں یہ ستارے بھی گواہ
ہیں یوں تو سارے کے سارے ہی گواہ
توڑ کے رشتہ دنیا سے ہم نے تو تجھ سنگ موڑا
دیکھ لو لوگوں کی آنکھوں کے ہیں انگارے بھی گواہ

متفرق اشعار

——

بدلا جو سال تو پھر میں بھی بدل گیا
تو مجھ سا ہو سکا نہ تو میں تجھ سا ہو گیا

بارش کا تھا سماں اور ہوائوں میں خوشبو بھینی بھینی تھی
کیا تجھے یاد ہے آج کے دن تجھ سے ملاقات یقینی تھی

مضبوط ہو گیا تب سے اور بھی رشتہ میرا
جب سے میرا اس سے پھر رابطہ ٹوٹا

مجھ پہ حیران ہیں قافلے والے
کہ منزل پہ پہنچ گیا تنہا کیسے؟
دل توڑ دیا تو نے کیا اتنا برا تھا
رات ڈھل جاتی ہے اب تو یہ سوچتے سوچتے

کیا زمانہ تھا وہ بھی جب یاد تیری آتی تھی
اب تو جاتی بھی نہیں ہے آتی بھی نہیں ہے

ہم سا کوئی اور نہ ملے گا تجھ کو یقیناً
تجھ سے ملیں گے لیکن ہم کو قدم قدم پر

خاموش سا جو ایک طرف بیٹھا ہوا ہے آج
اس شخص کے قہقہوں سے کبھی محفل جوان تھی

وہ تو کر رہا تھا دل لگی ہم سے
ہم نے دل میں اسے اتار لیا

سنا ہے درد کسی کی برداشت سے زیادہ نہیں ملتا
یعنی میری برداشت کی گویا حد ہی نہیں کوئی؟
کیچڑ اچھل کے آئی بدلے میں خلوص کے
ہم ہی ٹھہرے مستحق کیوں اس حسنِ سلوک کے؟

آج مر گیا ہے دکھوں کو سینے میں لیے ہوئے
جو شخص روتے ہوئوں کو ہنسنا سکھا گیا

آج شہر والوں کی خیر ہو خدا کرے
میری جھونپڑی کی طرف کوئی پتھر نہیں آیا

دوا سمجھ کے پی لیا میں نے آخر درد کو
دعا میں جب میری کوئی اثر ہی نہ رہا

ڈھونڈ لینے سے گر مل جاتا کوئی
تو لفظ “کھونے” کا مطلب پھر کیا ہوتا؟

آج کمزور سوکھے پتے سا لرز رہا ہے
جس کی طاقت کے جہاں میں چرچے تھے
زندگی میں جس باپ کی ایک روٹی مسئلہ بنی رہی
آج مر گیا ہے تو بیٹے کے گھر دعوتِ عام ہے

میرے احباب نے جب میرے خلوص پہ سنگباری کی
میرے ساتھ ساتھ روئے تھے وہ سنگ بھی سبھی

اپنا سمجھ کے میں نے جس کو بھی پکارا
اس نے ہی مجھے ایک پتھر اٹھا کے مارا

منزل کی بات کرنا منزل پہ جا کے دوست
رستے بتا رہے ہیں دشواریاں ہیں آگے

رِس رہا ہے میری انگلیوں سے لہو
کرچیاں ٹوٹے ہوئے رشتوں کی چنتے ہوئے

یہ کیا ہے مقدر کا نظام حیران ہوں میں
مسیحا بھی تو ہے وجہِ علالت بھی ہے تو
اے غم اب تو ہی راس آ جا مجھے
خوشیوں کی قیمت تو میں دے نہیں سکتا

پوری نہ ہو سکی میری کوئی بھی آرزو
مگر زندگی کے دن جیسے پورے ہو گئے

آنکھیں حسین اس لیے ہو گئیں میری
بسیرا جو کر لیا ہے ان میں تیرے خیال نے

اے بارش تو نے میرے گھر آ کر اچھا نہیں کیا
آنا تو اس نے تھا نہیں الزام تجھ پہ آ گیا

دل تو خوش رہتا ہے یادوں سے تیری
مگر آنکھیں کرتی ہیں شکایت مجھ سے

کر لیں گے بعد تیرے بغیر بھی ہم
اب اس کے سوا چارہ بھی نہیں ہے
نفرت سے کرو کہانی شروع تو شاید محبت پہ ختم ہو
آغاز میں محبت ہو گی تو انجام پھر نفرت ہو گا

محبت تو نہیں رہی اس سے نفرت بھی نہیں رہی
شاید زندگی میں اب مجھے فرصت نہیں رہی

وہ تو پانی تھا اتر گیا زمین کی تہہ میں
میں کنارا تھا وہیں موجود ہوں اب تک

دل کی زمین جب سے تیرے نام ہے لگا دی
میں زد میں آ گیا ہوں زمانے کی ٹھوکروں کی

اب کے انا کی دیوار کو گرنے سے بچایا ضبط کے سہارے
چھوڑ کر جاتا دیکھا اسے تو میں نے آواز ہی نہ دی

بگڑ بھی جاتا ہے سنور بھی جاتا ہے
میری آنکھوں کے پانی میں چہرہ تیرا
محبت ہوتی ہے اس شخص سے کیوں
جس کو احساس بھی نہیں ہوتا

غم سے لپٹ کے سو گئے ہم ، ہم سے لپٹ کے غم
نہ ان کا کوئی اور تھا نہ اپنا کوئی اور

وہ تو ساحل سے فقط مجھے دیکھ رہا تھا
میں نے سمجھا کہ وہ آیا ہے مدد کو میری

جب رنگ بھرے تھے خوابوں کے تو مقدر میں سیاہی تھی
اب رنگ بکھر گئے ہیں تو اندھیرے بھی چھٹ گئے

مجھ سے جو روح نے چاہا میں اس کو نہ دے سکا
جسم نے تو مجھ سے کبھی کچھ مانگا ہی نہیں

یوں اس کی بے وفائی کا بھرم بھی مجھے ہی رکھنا پڑا
کہ تعلق توڑنے میں بھی پہل میں نے کر دی
کسی نے آ کر تیرا بتایا دل اچھل کے حلق میں آیا
بڑی مشکلوں سے تجھے بھلایا نہ جانے پھر تو کیوں یاد آیا

اک زمانہ آ رہا ہے گھر رسمِ عیادت کے لیے
ایک تم ہو کہ تم نے میرا حال تک نہ پوچھا

جب مسیحا کو ہی احساسِ بیمار نہ ہو
کھو دیتی ہے اثر ہر دوا اپنا

لو آج کھلا ہے مجھ پہ لوگو اک راز عجب
اس دل میں صنم کیسے رہے جس میں رہتا ہو صمد

مجھ سے بچھڑ کے تو بھی پچھتائے گا بہت
میں تیرا حال پوچھنے تیری طرح نہ آئوں گا

جب اس نے یہ کہا کہ تیرا رشتہ نہیں چمن سے
میں اٹھ کے چل پڑا پھر اس کی انجمن سے
میں کیوں کسی کی خاطر یہ زندگی گنوا دوں
پالا ہے مجھ کو میری ماں کی محبتوں نے

بن گئے ہیں یہ ہر دل عزیز
سانحہ پشاور کے ننھے سے شہید

اس شہرِ خموشاں کی تھی اک بات نرالی
ہر گھر میں نے دیکھا ذی روح سے خالی

ٹوٹے ہوئے آشیاں کے ملبے کے ڈھیر پر
وہ دیکھو کتنے پیار سے کوئی گھر بنا رہا ہے

ہم پستیوں میں ہر دم گرتے چلے گئے
حسرت بلندیوں کی دل میں لیے ہوئے

پا لیں گے ایک دن منزل کو اپنی ہم
اس راہِ پرخار سے مایوس نہیں ہیں
دو دن کی زندگی میں ہو بہار کس طرح
پودے لگائے ہی تھی کہ خزاں نے آ لیا

پھر کس پہ عنایت کی نظر ہے تیری
آج کل ہے کون پھر تیرے دھوکے میں

وہ شخص مل سکا نہ مجھے پھر آج تک کہیں
چھوٹا تھا جس سے ہاتھ میرا دنیا کی بھیڑ میں

میری کسی ادا سے تجھے خبر ہو نہ جائے
کہ میں آج کل ہوں گم تیرے خیال میں

تجھے دیکھنے کو ترسے میرا دل نہ جانے کب سے
اے دوست مل جا کہیں راہ میں اچانک

موتی نکال لایا سمندر سے جا کے انساں
ایک شخص نہ مل سکا مجھے دنیا کی بھیڑ سے
نفرت لکھی ہوئی تھی نہ جانے کس زبان میں
جس کی نظر پڑی مرے ماتھے کو پڑھ لیا

جو کٹ سکا نہ میرے احباب سے
میرے دوست میں وہ فاصلہ ہوں

لازم نہیں ہے شاعر کا شرابی ہونا
اصولِ میکدہ منکشف ہے اہلِ بصیرت پر

کاش وہ بھی ان کی طرح وفادار ہوتا
جیسے نکلی ہیں وفادار یادیں اس کی

وہ جو فرصت میں یاد کرتا تھا، کون سا کمال کرتا تھا
میرے بے لوث بے غرض جذبے ہی پامال کرتا تھا

کلمہءِ حق پڑھنا تھی عادت حسینؑ کی
اب قیامت تک لکھے گا قلم شہادت حسینؑ کی
اے دل مجھے جھوٹی تسلی نہ دے
مان بھی جا کہ وہ اب نہیں آنے والا

سائل تو صدا دے کے گزر جاتا ہے
جانے کیا سوچتا رہتا ہے مکیں شام تلک

ان پرندوں سے کہہ دو اب کے برس نہ جائیں کہیں
یہ چٹانیں، یہ ہوائیں، وادیاں، جھیلیں اداس رہتی ہیں

دو کشتیاں سنا ہے ڈبو ہی دیتی ہیں
اس لیے میں خود دریا میں اترنے کی سوچتا ہوں

طوفان بھی تو یہی چاہتا تھا اس لیے
لو میں نے اپنی کشتی کو خود ہی ڈبو دیا

اس سے پہلے کہ میں آجائوں طوفان کی زد میں
ساحل کو چھوڑ کر چلا جا رہا ہوں میں
دکھوں کی دیکھ بھال کی غم کا کیا خیال میں نے
احسان مند ہیں میرے یہ جاتے نہیں کہیں اب

تو نے خود ہی کیا ہے موجوں کے حوالے مجھ کو
وہ دیکھو ڈوب رہا ہے دنیا سے کہنے والے

ساری عمر ہی میری بے سکون گزری
میں نے تجھے ڈھونڈا دربدر اے دوست

ہوا نے پرانے جو نغمے سنائے
تیرے سنگ گزرے وہ دن یاد آئے

مل نہ سکا تیرا نشان مجھ کو کبھی مگر
نکل پڑا ہوں آج بھی تیری تلاش میں

سراب تھا ایک صادق نہیں تھا وہ
میں اس کے تعاقب میں کہاں تک جاتا
لازم تھا تیری دنیا کو جینے کے لیے ہنسنا
سو ہمیں جہان کے لیے تماشا بنا دیا

سنتا نہیں کوئی بھی اک ذرا سی بات بھی
اب وہ زمانہ کہاں جب سنا کرتے تھے لوگ کہانیاں

محوِ انتظار ہیں دیکھ میری نگاہیں آ جا
آ پھر سے پلٹ کے جانے کے لیے آ جا

پی رہے ہیں آنسو غم کھا رہے ہیں دوست
سہتے سہتے درد کو جی جیے جا رہے ہیں دوست

دشمن بن گیا جب شہر میرا
ویرانوں سے دوستی کر لی میں نے

سانس لیتے ہوئے پایا جب میں نے پتھر کو
اسے اٹھایا چوما اور اپنے پاس رکھ دیا
ترستا رہا زندگی میں اچھا کھانے کے لیے
آج مر گیا ہے تو گھر میں دعوتِ عام ہے

اس کو بھی ماہ یاد دلا کے آ میرے نامہ بر
جب تجھ سے بچھڑ گئے تھے ہم وہ تھا ماہِ نومبر

آنکھوں نے بدل لیا ہے اندازِ بصارت
اب اترتے ہیں دل میں لوگ سماعتوں کے رستے

میں جان کر اترا تھا خود اس کے جال میں
شکاری ہی وہ اتنا معصوم تھا لوگو

ہم نہ کبھی کھوئے پھر کسی کے خیال میں اے دوست
الجھے ہیں جب کسی کی سوچوں کے جال میں

برسوں سے انتظار ہے مجھے جس ایک شخص کا
جانے وہ اس جہاں میں ہے یا اس جہاں میں
خیر کوئی بات نہیں آج تیرا ہے
میرا ایمان ہے کل تو میرا ہے

جہاں تک تھی پہنچ میری میں نے قدم بڑھایا ہے
جس کا تھا نصیب اچھا وہ خود ہی چل کر آیا ہے

ایک لمحہ چاہیے ایک انسان کو سمجھنے کے لیے
ایک عمر لگتی ہے اس لمحے کے آتے آتے

ایسی بسی ہیں میرے چہرے پہ اداسیاں
ہنس بھی رہا ہوں تو رونے کا گماں ہوتا ہے

یہ دو آنکھیں میری پلڑے ہیں ترازو کے
اک نگاہ میں کرتی ہیں انسان کا وزن تول

جگنو کو دیکھ کر دیا تو بجھا دیا مگر
پھر میرے گھر میں کبھی اجالا نہ ہو سکا
مٹ چکا ہوں نہ جانے کب سے مگر
کوئی مانگتا ہے مجھے اب تک دعائوں میں

ہار گیا ہوں وقت سے آج پھر اے دوست
میری صاف گوئی نے مجھے رسوا کیا بہت

ہر شب گزار دی میں نے اس آس پر
شاید کوئی صبح تیرا پیغام لائے

تو مجھے بھول چکا ہے شاید فضا مجھ کو بتاتی ہے
پاگل ہو کر یہ ہوا میرا پیغام مجھ کو ہی سناتی ہے

بیان کر رہا تھا زمانے کے ستم
غیبت کا بھی مجھ پر ہی الزام آ گیا

کنارے توڑ تو جاتا ہے دریا اپنی طغیانی سے
خود بھی جا پھر گرتا ہے دریا سمندر میں
میری محبت لازوال تھی بے وفائی اس کی کمال تھی
دونوں اپنی اپنی جگہ مشہور ہوگئے

میری محبت میری چاہت کو آج اس نے
ایک قہقہے میں اڑا دیا ہے

میری بے لوث وفائوں سے منہ موڑ گیا
بدبخت ہے وہ شخص تعلق جو مجھ سے توڑ گیا

وہ خود پرست تھا میں ٹھہرا انا پرست
جدا ہو گئے یوں ہم دست بہ دست

میں خود ہی رو پڑا پھر اپنی داستانِ حیات پر
جب سن کر میری وہ داستاں خاموشی سے چل دیا

جب سے انسان کے دل پر نفرت نے ڈیرے لگائے ہیں
فاقوں کی موت مر گیا خلوص نہ جانے کب سے
بے چراغ گھر کو دیکھا میری آنکھوں نے
خود اپنے آپ ہی سے میں ڈر گیا ہوں آج

میں تجھے بھلا سکوں میرے بس میں نہیں
جا تجھ کو اجازت ہے بھلا دے مجھ کو

آج اسے دیکھا مدت کے بعد ہم نے
جیسے ملی ہو زندگی پھر زندگی میں دوست

ہونٹوں پہ فقط تیرا نام رہ گیا ہے
سراب دیکھنا ہی میرا کام رہ گیا ہے

جلتا رہتا ہے چاند بھی میری طرح سدا
تنہا ہی کاٹتا ہے سفر یہ تمام رات

یا رب تیرے جہان پہ میں نظروں کا بوجھ ہوں
اے پردہ دار تو ہی بتا میں کہا جا چھپوں
کھل رہی ہے میری محبت تیرے چہرے پر
تو خوب صورت دل نشیں انسان ہو گیا

سراب نے عمر بھر سراب کا تعاقب کیا لوگو
یوں صحرا سراب کا ٹھکانہ ہو گیا

میرا خیال تو آئے گا تجھ کو کبھی نہ کبھی
تب تک میں اس جہاں میں رہوں نہ رہوں

ویران ہو گیا پھر وہ چمن بھی لوگو
جس جس کے پیڑ نے میرا آشیانہ گرا دیا

ہر گھڑی ہر لمحہ تیرا دیدار ہوتا
شہر میں اگر رواجِ دیوار نہ ہوتا

تنہائی بھی جیسے مجھ سے بیزار ہو گئی ہے
کہتی ہے روز جا اب تو چھوڑ دے مجھے
ساقی وقت کی تقسیم سے خفا ہو گیا ہوں میں
اور وں کے جام بھر دیے میں پیاسا رہ گیا

تنہا ہی کر چھوڑا مجھے میرے خلوص نے
ورنہ پڑھا سنا تو تھا اخلاص پہ دنیا قائم ہے
ستم کروں بیان میں یہ سلیقہ نہیں رہا
بے ربط گفتگو کرنے لگا ہوں میں

کتنا زخمی ہو رہا ہے دیوانہ کبھی سوچا تم نے
ازراہِ مذاق اسے پتھر مارنے والو

میں جانتا ہوں کہ تو ایک خوبصورت سراب ہے جاناں
مگر تیرے بغیر جینا بھی اک عذاب ہے جاناں

ٹپک جاتے ہیں قطرے لہو کے میرے جگر سے
آنکھوں سے مجھے اشک بہانا نہیں آتا

تو میرا ہو ہی جائے گا ایک نہ ایک دن
لیکن یہ بتا دوں کہ میں تیرا نہیں رہوں گا

تو جو پلٹ گیا تو ہر شخص بیگانہ ہو گیا
آ دیکھ کتنا زخمی تیرا دیوانہ ہو گیا

آئو پھر سے بنیادِ چمن رکھ دیں
گرتی نہیں ہے برق دوبارہ اسی جگہ

ساتھ چھوڑ گیا ہے میرا کب سے وہ شخص
جس کا دعویٰ تھا کہ سدا ساتھ رہیں گے

چھین لی تھی موت سے ایک دن زندگی میں نے
اب دکھوں سے ہر قدم پہ خوشی کشید کرتا ہوں

کیا عجب سرور سا کیسا نشہ سا چھا گیا
میں بھی فہرست میں تیرے دیوانوں کی آ گیا
یہ سچ ہے کہ ہمراہ ہے ایک قافلہ میرے
یہ اور بات کہ میں ہم سفر کسی کا نہیں

کلی کلی منڈلایا تو ہرجائی کہلایا بھنورا
تو نے بھی تو اے شمع کئی پروانے جلا دیے

وعدہ کر کے بھولنا تو اس کی عادت ٹھہری
اور یقین کرنا جیسے بن گیا میری مجبوری

رات تو کٹ گئی تیرے انتظار میں آخر
اب یہ دکھ کا سورج ڈھلتا نظر نہیں آتا

ہوا نے یہ کیا پیغام دیا ہے
بھولا ہوا کوئی مجھے یاد آ گیا

مدت ہوئی میرے گھر سے وہ پرندے بھی اڑ گئے
جن کو کھلا رہا تھا میں اپنے منہ سے نکال کر
ہوا کی سنسناہٹ میں یہ کس کی سرگوشیاں گونجیں
میں کتنی دیر سے اسی اک سوچ میں گم ہوں

آج پھر توڑیں گے قسم اپنی
آج پھر گزریں گے تیری گلی سے

پھر وہی ہوا آئی تیرے نہ آنے کی خبر دینے
میں یہ سمجھا کہ شاید تو آگیا ہے آج

یوں اڑانا چاہتی ہے میرا گھونسلہ ہوا
جیسے چکانا ہو پرانا کوئی حساب

ہر چہرے میں ہے ڈھونڈا چہرہ تیرا
جب سے چھپایا ہے تو نے ماں چہرہ اپنا

اب محبت میں پہلے سے صادق جذبے نہیں رہے
بدلے ہو کچھ تم بھی پہلے سے ہم بھی نہیں رہے
چھوڑ کر چلے آئے تیری محفل کی رنگینی صنم
ہم رات گئے تک جاگتے بھی تو کس کے لیے

ایک شخص کھو گیا ہے اس جہاں میں کہیں
میں ڈھونڈتا ہی پھرا اسے دربدر

یارب تیری یہ حکمت دیکھ کے کانپ جاتا ہوں
سانپ نکل آتا ہے جہاں بھی گھر بناتا ہوں

خود ہم نے ہی گرا دی ہے دیوار عہدو پیماں کی
تیرے لیے اے جانِ جاں راہِ فرار کھلی ہے

پرچھائیاں نہ پڑ جائیں ہم پہ تمہارے نصیب کی
لوگ کہتے ہیں جلا دو اپنا آشیانہ بھی

ہٹ جائو میری راہ سے دونوں جہاں کی سوچو
میں اب اپنی تنہائی سے جا رہا ہوں ملنے
زندہ تھا تو مجھ سے تھا ہر شخص اجنبی
بعد مرنے کے زمانہ میرا شناسا ٹھہرا

اتنے دکھ ملے مجھے اس ایک جنم میں
دوسرے صنم کی تمنا نہیں رہی

منزل پہ آ کے اکثر ٹوٹتا ہے دم
منزل کی جستجو ہی دراصل زندگی ہے

قطعات



اچانک چلا گیا کل وہ شہر چھوڑ کر میرا
جس شخص نے وصیت کر رکھی تھی
کہ مجھے اسی شہر میں دفن کرنا

سیاہ کالی رات میں سناٹے کو چیرتی ہوئی
یہ کتوں کی آواز بھلی لگتی ہے مجھے
دور بہت دور کہیں ہنستے بستے گھر نظر آتے ہیں

چل رہا ہے چال کیسی نفرت کا قافلہ
یہ نہ سمجھے تھے کبھی نہ سمجھ پائیں گے ہم
ہم اخلاص کے پیکر محبت کے سودائی

میں نے کبھی یہ سوچا نہ تھا
کہ چھوڑنا پڑے گا وہ شہر بھی
جس میں تیری یاد جاگیر تھی میری

آیا ہوں پریم نگر سے سوداگر ہوں محبت کا
گلی گلی آواز لگا کے بدلے غموں کے
سکھ اور خوشیاں بھیج رہا ہوں

تیرے خیالوں کے تپتے ہوئے صحرا سے
جب گزرتا ہوں برستی ہیں تری یادیں
میری آنکھوں سے ساون بن کر

اے میری روح میں اترنے والے میرے دل کے سکون
میری آنکھوں کی طلب میرے جسم و جاں کی راحت
کہاں ہو ؟ آخر کہاں ہو تم؟

ہوا سے اس قدر دوستی ہے میری
چپکے سے آ کر بتا دیتی ہے مجھے
جب تو میرے شہر سے گزرتا ہے

تمت بالخیر

Viewers: 1044
Share